Hijaab Jul-16

ذکر اس پری وش کا

زینب احمد

السلام علیکم! تمام آنچل اسٹاف‘ رائٹرز اینڈ ریڈرزکو پرخلوص سلام‘ کیسے ہیں آپ سب؟ میں الحمدللہ فٹ اینڈ فائن ہوں جی تو پیارے دوستو! میرا نام اقراء روشی ہے گھر والوں نے تو بس اقراء ہی رکھا تھا روشی کا اضافہ خود ہی کرلیا۔ ڈئیرز 29 دسمبر کو اس دنیا کو میڈم جی نے رونق بخش ہی دی۔ تعلیمی قابلیت ایف اے ہے‘ چار بہنیں اور دو بھائی ہیں سب سے چھوٹا بھائی حسن بہت ہی لاڈلا ہے‘ اسے اپنے محلے کی ہر خبر معلوم ہوتی ہے اگر کسی بات کا نہ پتا ہو تو سب کہتے ہیں حسن آجائے سب پتا چل جائے گا ۔ 2008ء سے آنچل پڑھ رہی ہوں آنچل میرا بہت ہی پسندیدہ ڈائجسٹ ہے‘ میں نے آنچل سے بہت کچھ سیکھا ہے لیکن مزے کی بات ہے میں نے آج تک آنچل خود نہیں خریدا‘ ہمیشہ مانگ کر ہی پڑھتی ہوں باقی ناولز کی تفصیل لمبی ہے موسٹ فیورٹ ’’عشق آتش‘ درد دل‘ لاحاصل ہیں‘‘ رائٹرز میں نازیہ کنول‘ اقراء صغیر اور سمیرا شریف پسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے‘ آمین۔ جی تو میری اچھائیاں (کوئی ایک ہو تو بتائوں‘ ہاہاہا)ہر کسی کو بہت جلد معاف کردیتی ہوں اور برائیاں ماشاء اللہ سے کوئی ہے ہی نہیں (سچ میں نہیں ہے) اور میری سب سے انوکھی خواہش کاش میرے پاس ایک جن ہوتا (پھر میں بتاتی سب کو) جس سے اپنی ہر خواہش پوری کروالیتی اور جس سے بدلہ لینا ہوتا لے لیتی۔ میرا سب سے پہلا شوق دنیا گھومنا خصوصاً پیرس، ناران کاغان‘ سوات اور حج کرنا۔ گھر میں جب بھی فارغ ہوتی ہوں ڈرائنگ اور شعر و شاعری کرتی ہوں وصی شاہ اور علامہ اقبال فیورٹ شاعر ہیں۔ بارش بہت اچھی لگتی ہے اور اس میں بھیگنا اور بھی اچھا لگتا ہے ساتھ میں آئس کریم بھی ہوجائے تو کیا ہی بات ہے (لیکن مجال ہے کوئی لا کردے)۔ گیلی مٹی کی خوشبو پسند ہے‘ ساحل کی گیلی ریت پسند ہے۔ لباس میں فراک چوڑی دار پاجامہ‘ لانگ شرٹ اور بڑا سا دوپٹہ پسند ہے۔ کلرز میں جو کلر مجھے سوٹ کر جائے وہی پسندیدہ بن جاتا ہے لیکن گولڈن اور پستہ رنگ کچھ زیادہ ہی پسند ہیں‘ سادگی پسند ہوں۔ سادہ چوڑیاں ہر کلر میں بہت اچھی لگتی ہیں خاص طور پر ان کی چھن چھن۔ ہر فنکشن میں صرف کاجل اور لپ شائنرر لگانا پسند ہے‘ اپنی ذات میں آنکھیں اٹریکٹ کرتی ہیں۔ تنہائی پسند ہوں‘ سنجیدہ مزاج لوگ پسند ہیں۔ ساری سبزیاں شوق سے کھالیتی ہوں‘ دالوں اور گوشت سے پکی پکی دشمنی ہے‘ دوستی کرنا بہت اچھا لگتا ہے اور ہمیشہ پہل کرتی ہوں۔ فیورٹ کزن زنیرہ اور حدیبیہ ہیں۔ سفیرہ مریم خالہ کی اور لاریب فریحہ کالج فیلو حد سے زیادہ پسند ہیں لیکن کبھی آج تک ان پر یہ راز افشاں نہیں کیا۔ دعا ہے کہ اللہ ان تینوں کی قسمت اچھی کرے‘ آمین۔ دوستوں کی فہرست بہت شارٹ ہے‘ اقراء عارف‘ المیرا‘ ردا‘ نبیشہ ہیں۔ اگر دنیا میں مجھے ایک موقع ملے کہ ایک اختیار میرے پاس ہے تو میں پاکستان کے سب دشمنوں کو ختم کردوں‘ اس کے ساتھ ہی اجازت چاہتی ہوں دعا ہے کہ اللہ ہمارے پیارے پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہر قسم کے نقصان سے دور رکھے‘ والسلام۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! آنچل اسٹاف اور تمام پڑھنے والیوں اور لکھنے والیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام۔ مابدولت کو عائشہ دین محمد کہتے ہیںاور مزے کی بات یہ کہ مابدولت کو اپنی تاریخ پیدائش کا پتا نہیں لیکن ہم ہر کسی کو بڑے مزے سے اور جھوٹ بول کر 28 اکتوبر کا بتاتے ہیں (کیونکہ اکتوبر کا مہینہ اور مہینے کے آخر میں 28 تاریخ پسند ہیں) آپ یہ مت سمجھئے کہ ہم کو گفٹ کا لالچ ہے بلکہ کوئی ہمیں گفٹ دیتا ہی نہیں (ایک مرتبہ حمیرا ذوالفقار کا گفٹ ٹھکرایا تھا شاید اس کی سزا ہے )۔ مجھے گفٹ لینا اور دینا دونوں پسند ہیں) اچھا تو اب مزے دار سا تعارف ہوجائے۔ ہم ماشاء اللہ سے دس بہن بھائی ہیں ‘ پانچ بہنیں اور پانچ بھائی ۔ ارے آپ تو نظر لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ منہ بند کیجیے اور ماشاء للہ کہیے کیونکہ ہمیں اپنے بہن بھائیوں سے بے حدپیار ہے‘ ہم بہنوں میں سب سے چھوٹی (مگر لگتی ان سب سے بڑی ہوں) اور تین نٹ کھٹ سے شرارتی بھائیوں سے بڑی ہوں۔ میں نے اس سال فرسٹ ائر کے پیپر دیئے ہیں اور اب فارغ ہوں۔اہم ترین کام (گھر والوں کو تنگ کرنا‘ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ شرارتیں اور مزے کرنا) اور فارغ وقت میں آنچل اور بس میں۔ اس میں حکایتیں‘ نصیحتیں اور کہانیاں ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک ہے) پتا ہے میں نے فرسٹ ٹائم انٹری ماری ہے اس لیے دل میں گھنٹیاں سی بج رہی ہیں‘ کوئی بات نہیں ہم بھی ڈرنے والوں میں سے نہیں یا ردّی کی ٹوکری میں یا پھر اس پیارے شمارے میں‘ آنچل کے ساتھ وابستگی ہیں کچھ ہی ماہ میں ہوئی ہے اور ساتھ حجاب سے بھی دوستی ہوگئی اور ایسی وابستگی ہوئی کہ بس پوچھئے مت (میں اور امی کی ڈانٹ) سارا شمارہ ایک ہی دن میں پڑھ لیتی ہوں اور ڈانٹ بھی کھاتی ہوں‘ لمبی کہانی اور دکھ ہے۔ رائٹرز میں مجھے تمام لکھاریوں سے حد زیادہ پیار ہے اگر بات پسند کی ہے تو مجھے نازیہ کنول نازی آپی‘ سمیرا آپی‘ مریم آپی‘ فاخرہ گل‘ نبیلہ ابر راجا‘ سباس گل سارے ہی اچھے لگتے ہیں مگر جوقلبی لگائو اور دل ہے ناں وہ پیاری سی نازی آپی کی طرف لپکتا ہے۔ مجھے ان کا الفاظ کے چنائو اور خیالات و احساسات بہت اچھے لگتے ہیں ۔ اب متوجہ ہوتے ہیں تھوڑے سے مگر پیارے سے تعارف کی طرف‘ ہماری خوبیاں بقول اپنے حساس ہوں‘ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر یہ نادان دل بہت تڑپتاہے اور اگر ہوسکے تو مدد بھی کرتی ہوں۔ بچوں سے بے حد اور بے انتہا پیار ہے‘ میرے دو ننھے سے کیوٹ بھانجے ہیں جنہیں حد سے زیادہ چاہتی ہوں‘ محمد آذان زید اور محمد شعیب اختردونوں ہی ماشاء للہ سے بہت پیارے ہیں۔ آذان دو سال کا اور شعیب ایک سال کا ہے‘ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی‘ صحت و تندرستی اور صالح و مجاہد بنائے‘ آمین اور اب بات خامیوں کی ہوجائے‘ ضدی ہوں بقول فرینڈ کے بے پروا ہوں اپنے آپ سے اور بہت سے اسکول دوستوں کا دل توڑ چکی ہوں جنہوں نے دوستی کی آفر کی تھی (ان سب سے معذرت خواہ ہوں) سکّے جمع کرنے کا شوق ہے‘ ابو آتے ہی سکّے میرے حوالے کردیتے ہیں‘ کپڑوں میں لانگ شرٹس اور ٹرائوزر کا شوق ہے۔ کھانے میں گوبھی اور ساگ ‘ باقی جو مل جائے کھالیتی ہوں نخرہ بالکل نہیں کرتی۔ پھلوں میں انگور اور جامن پسند ہیں رنگوں میں پنک‘ وائٹ‘ بلیک پسند ہیں اور جیولری میں (چھوٹی سی بالیاں‘ چوڑیاں اور بینڈ واچ پسند ہیں۔ کرکٹرز میں محمد حفیظ اور عمر اکمل فیورٹ ہیں (اور جب پاکستان کا میچ ہو سب بھول جاتی ہوں) گانوں کا شوق نہیں (ہاں اگر لگا ہو توسن لیتی ہوں)۔ شاعری اور غزل جو اچھی لگے ڈائری کی زینت بناتی ہوں‘ سفرکرنے کا بہت شوق ہے‘ فیورٹ شخصیت پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اینڈ میں اپنے امی ابو اور بہن بھائیوں سے بے حد پیار ہے‘ جس کا اظہار کبھی نہیںکرسکتی ‘ دوستوں میں میرا اپنا گروپ ہے (شہزادی‘ حمیرا‘ فاطمہ‘ اقصیٰ‘ ماریہ‘ نمرہ‘ عطیہ‘ رابی‘سمیرا زمان ‘ فاخرہ‘ سمیرا نواب) مگر بیسٹ فرینڈ نمرہ‘ عطیہ‘ رابی ہیں‘ اچھا اب آپ کا بہت وقت لے لیا ہے‘ نیک تمنائوں کے ساتھ اللہ حافظ۔

آداب پیش کرتی ہوں تمام قارئین کو‘ والدین نے میرا نام مہ جبیں رکھا۔ اب ایک شاعرہ کی حیثیت سے اپنے قلمی نام ساحل نور سے پہچانی جاتی ہوں۔ آبائی شہر میرا ملتان ہے جہاں میں نے جنم لیا 3 ستمبر 1996ء کو لیکن اب کچھ مسائل کے تحت فیصل آباد میں قیام پذیر ہوں۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اللہ نے 70 مرتبہ نگاہِ رحمت فرمائی جس کا اثر یہ ہوا کہ میں قرآن حافظہ بن گئی۔ اب میں سیکنڈ ائر کی اسٹوڈنٹ ہوں۔ چند دن پہلے بک شاپ پر ناول خریدنے کی نیت سے جانے کا اتفاق ہوا جہاںمیری طواف بکس کرتی نگاہ اچانک آنچل پر جاکر ٹھہرگئی اور دل نے کہا یہ پڑھنا چاہیے۔2015ء کا پہلا شمارہ خریدنے پر اکتفا کیا اور پھر دل نے خیال کیا کہ اس میں شامل ہونا چاہیے۔ غم زندگی کا حصہ ہیں اس کے بغیر زندگی نا مکمل۔ شاعری میرا شوق نہیں بلکہ مجبوری کہنا بہتر ہوگا ۔ 12 دسمبر 2009ء کی صبح میرے لیے المناک ثابت ہوئی جن دنوں میں کلاس 8th کی اسٹوڈنٹ تھی اور پہلا پیپر تھا۔ جب بابا جانی کی طبیعت ناساز دیکھ کر دل کو تکلیف ہورہی تھی اور دل نہ چاہتے ہوئے بھی پیپر دینے چلی گئی جب جانے لگی تو میرا ہاتھ بابا جانی کے ہاتھ میں تھا اور منہ سے معافی کے الفاظ ادا کرنا چاہتی تھی کہ زبان کو جیسے تالا لگ گیا تھا یا پھر شاید قسمت میں میری ساری عمر پچھتاوا تھا۔ جب وقت سے پہلے بھائی کے لینے آنے کی خبر ملی تو دل کی دھڑکن جیسے رک سی گئی اور زبان گنگ ہوگئی مگر دل ایسا کچھ ماننے پر تیار نہ تھا جب گھر کے گیٹ پر بھائی نے اتار کر سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’جبیں! ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے‘‘ یہ الفاظ میری زندگی ختم کردینے کے لیے کافی تھے۔ وہ میرے صرف والد ہی نہیں بلکہ دوست بھی تھے جن کی موجودگی نے مجھے ماں کے پیار سے بھی نا سمجھ ہی رکھا سبھی دل کی باتیں کیا کرتی تھی ان سے اور اچانک ان کا یوں دنیا چھوڑ جانا کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ سب ہوا جس کا کبھی تصور نہیں کیا تھا‘ زندگی جیسے رک سی گئی تھی۔ جدائی کسے کہتے ہیں اسی روز پتا چلا‘ اکیلے جینا اس ساتھی کے بغیر جسے زندگی سمجھا ہو کسے کہتے ہیں آج دنیا نے بتادیا۔ سچ ہے وقت بہت بڑا مرہم ہے تب ایسی تھی جیسے اب جی نہیں پائوں گی مگر اب زندہ ہوں۔ سچ ہے جانے والوں کے ساتھ جان نہیں دی جاسکتی مگر حقیقت ہے کہ زندگی بھی ویسی نہیں رہتی جینے کے انداز بدل جاتے ہیں۔ یہ جدائی کی وہ دیوار مجبوری تھی جو 12 دسمبر 2009ء کو ہمارے درمیان حائل ہوئی یہ ہی وجہ بنی میری شاعری کی۔ پہلے اپنا حال دل اپنے بابا جانی سے کہا کرتی تھی مگر ان کے بعد سب کا (گھر والوں) کا پیار ملنے کے بعد بھی کوئی ایسا نہ ملا جس کو حال دل سناتی تو ایک روز 2009ء کی شب دل کی بھڑاس قلم میں موجود سیاہی کے ذریعے کورے کاغذ پر لفظوں کو چند سطروں میں سمیٹ کر بکھیرنے لگی۔ یوں اپنے دل کا کچھ بوجھ کم ہوا‘ زندگی میں جتنے لوگوں سے میرا واسطہ ہے‘ سبھی میری نیچر سے واقف ہیں ایسے کہ میں ہر ایک کی سمجھ سے باہر ہوں‘ کم لوگوں سے ملتی ہوں مگر خلوص کے ساتھ۔ تنہائی پسند ہوں‘ رش سے جی گھبراتا ہے۔ انا پرست ہوں مگر احسان فراموش نہیں‘ احسان بہت کم لیتی ہوں وہ بھی صرف گھر میں بہن‘ بھائیوں سے۔ دل کی صاف مگر غصے کی کچھ تیز ہوں۔ دوست بہت کم بناتی ہوں مگر یاد ہر اس شخص کو رکھتی ہوں جس کو سلام کیا ہو۔کچھ اچھے لفظوں میں یاد رہ جاتے ہیں مگر بُرے بہت کم ہی ملے مگر سبق لازمی سیکھ لیا ان سے۔ سچ ہے غلطی کرنا انسانیت ہے مگر بقول ’’جبیں‘‘ کے اسی غلطی کو دہرانا انسانیت نہیں‘ اسی لیے غلطی تو کرتی ہوں مگر ٹھوکر کھاکر سنبھل جاتی ہوں اور ایسے سنبھلنا زیادہ اچھا سنبھلنا ہے۔ کھانے میں کچھ خاص پسند نہیں اب مگر جینے کے لیے کھانا پڑتا ہے۔ کلرز میں سیاہ اور سفید کلر پسند ہیں‘ اپنا قومی لباس شلوار قمیص پسند ہے۔ آئینہ دیکھتی ہوں تو شکر ادا کرتی ہوں اتنے گناہوں کے باوجود سب آفتوں سے محفوظ ہوں اور ایک مکمل انسان ہوں۔ خو ش نصیب ہے وہ اولاد جن کے والدین حیات ہیں‘ اپنے والدین سبھی کو پیارے ہوتے ہیں مگر خوش نصیب ہوں میں جن کو ایسا دوست باپ کی صورت میں ملا جو بیٹی کو ساری زندگی کا پیار دے گیا۔ بہت کم عرصہ مجھے ان کے ساتھ رہنے کو ملا لیکن وہ اس کم عرصے میں مجھے اپنے بغیر جینا سکھاگیا۔ میں دعا کرتی ہوں اللہ مجھے حافظ باعمل بنائے اور اپنے والدین کے لیے بخشش کا ذریعہ بنائے اور میری ہر وہ دعا اپنے والد کے حق میں جائز ہے قبول فرمائے اور ہر مسلمان کی طرح مجھے بھی خانہ کعبہ کی زیارت نصیب فرمائے۔ میر تعارف آپ قارئین کے چہروں پر مسکراہٹ تو نہیں سجا سکا مگر ہوسکے تو اپنی انکھیں نم بھی مت ہونے دیجیے گا ‘ تمام اہل اسلام کو سلام۔

کیسی ہیں بھئی سویٹ اور اپنی اپنی سی تمام آنچل و حجاب فرینڈز کو میرا سلام۔ ماہ بدولت کو پہچان لیں یہ کیا بات ہوئی نہیں پہچانا… بھئی نہیں پہچانا تو ہم بتادیتے ہیں جی تو مجھے فوزیہ غوث کہتے ہیں نک نیم گڑیا پیاری سی بھابی الماس فوزی کہتی ہیں اور میں ان کو میشو کہتی ہوں۔ یکم اگست کو اس دنیا میں تشریف آوری ہوئی‘ ہماری چار بہنیں دوبھائی ہیں‘ تین بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اور بڑے بھیا کی ماہ بدولت اور شانی صاحب ابھی انجوائے کررہے ہیں۔ کاسٹ ہماری گجر ہے جو کہ مجھے پسند نہیں (بھئی کیوں رہنے دیں اس بات کو) اوہ اپنے پیارے سے گائوں کا تو بتایا نہیں جی تو ہم دنیا پور کے رہنے والے ہیں‘ اپنا گائوں بہت اچھا لگتا ہے۔ میٹرک کے بعد حفظ کیا اور پچھلے سال عمرہ کیا ہے‘ بہت لکی سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قابل سمجھا اور اپنے گھر کی زیارت کروائی۔ اب عالمہ کا کورس کر رہی ہوں دوسرا سال چل رہا ہے مجھے اپنی امی اور بھیا سے بہت پیار ہے اور میشو یعنی بھابی الماس سے خوب بنتی ہے لگتا ہی نہیں کہ ہم نند اور بھابی جیسا رشتہ رکھتے ہیں۔ پیارے سے بھتیجے منیب غوث عرف عبد الہادی سے بہت پیار ہے۔ پیارے سے بھیا آصف سے بھی کلرز میں بے بی پنک اور وائٹ پسند ہے۔ کھانے میں بریانی‘ روسٹ‘ فرائیڈ رائس‘ برگر اور آئس کریم بہت پسند ہے۔خوشبو میں Do it اور بلو لیڈی پسند ہے۔ کام کرنا بالکل پسند نہیں‘ ہاہاہا (کہیں الماس نہ سن لے)۔ فرینڈز بہت ساری ہیں کچھ دور کچھ پاس جن میں عالیہ‘ اقراء‘ مجاہد‘ شازیہ‘ سمیرا‘ کنزیٰ‘ نغمانہ‘ اقراء‘ الفت‘ نفیسہ‘ عمارہ اور الماس ہیں۔ موسٹ فیورٹ ڈائجسٹ آنچل خواتین‘ شعاع ہے لیکن آنچل و حجاب میرا فیورٹ ڈائجسٹ ہے‘ تمام رائٹرز اور کہانیاں اچھی لگتی ہیں۔ ویسے عمیرہ احمد‘ نمرہ احمد‘ نازیہ کنول نازی‘ فرحت اشتاق‘ ثمرہ بخاری ۔ اجی اب کچھ پسند ناپسند کے بارے میں ہوجائے ڈریسز میں شارٹ شرٹ پٹیالہ شلوار پسند ہے لانگ شرٹ بھی پہنتی ہوں‘ ساڑھی بھی اچھی لگتی ہے (دیکھو جی کب پہنتے ہیں ہاہاہا)۔ شعراء میں احمد فراز‘ وصی شاہ‘ محسن نقوی اعتبار ساجد ہیں‘ شاعری کرنا پسندیدہ مشغلہ ہے اچھی اور بری عادت (یار سوچنا پڑے گا)۔ جامعہ فرینڈز سمیرا کہتی ہے فوزی تم بہت اچھی ہو‘ نمرہ کہتی ہے بہت خوب صورت ہو دل میں کوئی بات نہیں رکھتی اب اتنے بھی خوب صورت نہیں ہیں نمرہ جی۔ ضدی بہت ہوں‘ جلدی سب پر بھروسہ کرلیتی ہوں‘ رونا بہت جلدی آتا ہے‘ کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنی دادی‘ نانی کا دور دیکھوں (جو کہ ناممکن ہے)۔ کہانیاں پڑھنے کا مجھے بہت کریز ہے‘ اتنا کہ اگر کبھی اخبار کا ٹکڑا ہاتھ میں آجائے تو وہ بھی نہیں چھوڑتی۔ پسندیدہ رائٹر راحت وفا ہیں۔ کہانیوں میں ’’پیر کاملؐ، قراقرام کا تاج محل‘ جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘ میرے ہمدم میرے دوست ہیں‘‘ تمام ناول بہت پسند ہیں۔ پروین افضل شاہین‘ انا احب‘ درخشاں بی طیبہ‘ نذیر تانی‘ ام ثمامہ کو بہت شوق سے پڑھتی ہوں‘ میں آپ لوگوں سے دوستی کرنا چاہتی ہوں اور ہاں اپنی بیسٹ فرینڈ نمرہ کے لیے تم بہت اچھی لگتی ہو جہاں بھی رہو خوش رہو۔ آخر میں ایک پیغام دعا ایک دستک ہے بار بار دو گے تو دروازہ کھل ہی جائے گا‘ کبھی بھی نا امید مت ہوں‘ ہمیشہ خوش رہیں‘ خوشیاں بانٹیں میرے ابو اس دنیا میں نہیں‘ اللہ ان کی مغفرت فرمائے دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ تعارف کیسا لگا ضرور بتایئے گا‘ والسلام جی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close