Hijaab Jun-16

آغوش مادر

لاریب انشال

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
قلم تو اٹھا لیا ہے مگر اپنے جذبات کو لفظوں کی زباں کیسے دوں کیا میں احساسات کو رقم کرسکوں گی میرے لفظ تو تھم سے گئے ہیں مگر نہیں مجھے لکھنا ہے ضرور عیاں کرنا ہے ایک ماں کی محبت کو بیٹیوں کی چاہت کو بیٹیوں کے جذبات کو عورت ہر روپ میں عظیم ہے ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ‘ بہن ہے تو بھائیوں کی مسکراہٹ و خوشی‘ بیوی ہے تو ایک خاندان کی تربیت کرتی ہے عورت ہر روپ میں سراپا دعا ہے۔
آج میں نے ایک ماں کی محبت کو اپنے قلم سے قرطاس پر عیاں کرنے کی کوشش کی ہے مجھے ذرا بھی یقین نہیں آرہا کہ شیریں ماں (میری نانی کی بہن) ایک دم اچانک سب کو چھوڑ کر چلی گئیں وہ تو بھلی چنگی تھیں مجھے کیا کسی کو بھی یقین نہ آیا کہ وہ آخری سفر پر روانہ ہوگئی ہیں جانا تو سب کو ہے آخر ابدی زندگی تو وہی ہے۔
وہ بہت اچھی ماں تھیں انہیں اپنے بیٹوں سے بہت پیار تھا وہ پوری دنیا کہ ہر شخص کو برا کہہ سکتی تھی مگر اپنی اولاد کو نہیں ان کے بیٹے جو کہتے وہی کرتیں وہ بہت شفیق اور صابر خاتون تھیں انہوں نے تنگدستی دیکھی تو خوشحالی بھی مگر ہرحال میں صابر و شاکر، بھوکا سونا گوارا کیا مگر کبھی سگی بہن سے کچھ نہ مانگا ہر پل رب کی رضا میں راضی رہیں۔
ہر پل اولاد کے لیے مجسم دعا ان کے گھر میں اب خوشحالی تھی قدرت نے ان کے صبر کو شکر میں بدل دیا دولت ان کے گھر کی باندی بن گئی اس ماں نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی خود ان پڑھ تھیں تو ماشاء اللہ ساری اولاد کو ویل ایجوکیٹڈ ویل مینرڈ چاروں بیٹے اچھے عہدوں پر فائز تھے بیٹے جب بھی جاب پر جانے کے لیے گھر سے نکلتے تو گھر کی گلی تک ان کے ساتھ جاتیں ان کے پیچھے دعا کرتی جاتیں اللہ میری امانت تیرے سپرد، دانش ور خاتون تھیں جانتی تھیں اللہ امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا تو وہ امانت جو اللہ کے سپرد کی جائے اس میں خیانت کیسے ہوسکتی ہے بیٹے شام کو ضرور آکر اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے بیٹے بھی ماں پر ہر دم فدا ہر پکار پر ’’جی امی جی‘‘ کیسی لذت ہے اس لفظ ’’امی جی‘‘ بیٹیوں کو بھی نصیحت کرتیں ہمیشہ اپنا گھر سنبھالے رکھنا اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کرنا اور یہی نصیحت ہی تو بیٹیوں کا اصل زیور ہے۔ تربیت کی پہچان ہے وہ بہت نیک باکردار اور با حیا عورت تھی۔
وہ اپنے گھر اپنی دنیا میں خوش تھیں انہیں کسی کی کوئی پروا نہیں تھی سوائے اولاد کے وہ اس صبح تو بالکل ٹھیک تھیں اپنی نواسی کے پاس گئیں اور کہا کہ تم میری پوتی زینب کو پکڑو میں نہا کر آتی ہوں اور اپنے گھر چلی گئیں بڑے بیٹے فاروق کی وائف نے پانی کے ٹب بھر کر رکھ دیے اتنے میں شیریں ماں نے سبزی کاٹ کر دی اور کہا کہ اب میں نہا لیتی ہوں تب تک تم سالن بنا لو، پھر کپڑے اٹھا کر واش روم میں چلی گئیں ان کی بہو نے کہا کہ مجھے نہ جانے کیوں بے چینی سی ہوئی تو واش روم کے پاس چلی آئی دروازہ کھولا تو انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا میں پھر واپس آگئی کچھ دیر بعد مجھے لگا کوئی چیز گری ہے میں جلدی سے واش روم تک آئی دروازہ کھولا تو شیریں ماں گری ہوئی تھیں میں کانپ سی گئی اور بھاگ کر گھر سے کچھ فاصلے پر (جہاں سے کچھ دیر پہلے شیریں ماں آئی تھیں) کے گھر گئی اور انہیں بلا لائی ہم نے اسے باہر نکالا بڑی نواسی (فاطمہ) نے روتے ہوئے سر گود میں رکھا تو شیریں ماں نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور پھر یہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ ڈاکٹر آیا اور ان کے آخری سفر پر روانہ ہونے کی اطلاع دی تو سب جو پہلے کسی امید کا دامن تھامے ہوئے تھے ایک دم سے رونے لگے۔
کتنی معصومیت تھی چہرے پر ایسے جیسے ابھی اٹھے لگیںروتے بیٹوں کو چپ کرائیں گی۔ بیٹیوں کو سینے سے لگا لیں گی مگر نہیں اب انہیں جینا ہے ماں کے بنا ہی کہ اب یہ خوب صورت رشتہ ان سے بچھڑ گیا ہے۔ ’’ماں‘‘ کتنی مٹھاس ہے اس لفظ میں کتنی اپنائیت ہے اس رشتہ میں کتنا خوب صورت ہے یہ انمول مقدس رشتہ وہ اپنے بیٹوں سے اتنا پیار کرتی تھیں کہ ان کی محبت کو بیان کرنا میرے بس میں ہی نہیں یہ تو ایک کوشش ہے کہ شاید ان کی محبت کو میں اپنے قلم سے رقم کرسکوں عیاں کرسکوں مجھے یقین ہے کہ وہ جنت کی مسافر تھیں اپنی منزل پا گئیں رب تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے
ماں کے بنا دن کا اجالا بھی رات ہے
بے شک ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر اچانک سے کوئی پیارا بچھڑے تو دنیا میں بہت سے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی تنہائی محسوس ہوتی ہے مگر جانے والے یادیں ضرور پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور اچھے لوگ اچھی یادوں کے ساتھ بچھڑ کر بھی زندہ رہتے ہیں اور اسی طرح شیریں ماں مر کر بھی اپنی عظیم یادوں کے ساتھ زندہ ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close