Hijaab Jun-16

رخ سخن

سباس گل

عفت سحر طاہر
اسلام علیکم !
آج میں بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہوں کیونکہ آج ہمارے ساتھ جو رائٹر موجود ہیں ان سے دلی وابستگی اس لیے بھی ہے کہ جب میں نے ناولز پڑھنا شروع کیا تو وہ ان کے ناول سے کیا۔ مجھے یاد ہے کہ آنچل ڈائجسٹ میں اس وقت ’’محبت دل پہ دستک‘‘ چل رہا تھا اور میں نے جب وہ پڑھا تو پتا چلا کے یہ سلسلے وار ہے اور اس کی قسط نہ صرف آئندہ ماہ ہو گی بلکہ کچھ اقساط ہو بھی گئی ہیں پھر تو ہر ماہ ہی خوب خوب انتظار کیا اور رہ جانے والی اقساط میں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے پڑھی تو میرے دل پہ دستک اسی نے دی ناول کے نام سے آپ جان گئے ہوں گے ہمارے ساتھ عفت سحر طاہر موجود ہیں۔
٭ السلام علیکم ڈئیر! کیسی ہیں آپ؟
جواب: وعلیکم السلام اللہ کا خاص کرم اور آپ سب کی محبت۔
٭ اپنے اور اپنی فیملی کے بارے میں اپنے فینز کو کچھ بتائیں؟ ( نام‘ تعلیم‘ بچپن‘ شادی‘ ملازمت وغیرہ)
جواب: نام سے تو آپ سب واقف ہی ہیں شادی سے پہلے عفت سحر پاشا تھا اور اب عفت سحر طاہر ہو گئی ہوں تعلیم اتنی خاص نہیں کے یوں کھلے عام بتائی جائے لیکن جاہل ہونے سے بہتر ہے یعنی گریجویشن بچپن اللہ کا شکر بہت اچھا گزرا بتانے بیٹھوں تو انٹرویو اسی سے بھر جائے جاب کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کبھی کیونکہ شادی ہو گئی تو طاہر کی صورت میں ایک اچھا انسان ملا بائے فیس تو بہت سے انسان پیارے ہوتے ہیں لیکن یہ بندہ جو اللہ نے میرے نصیب میں لکھا ہے دل کا بھی بہت اچھا ہے اللہ نظر بد سے بچائے ہماری ارینج میرج کم لو میرج زیادہ لگتی ہے۔
٭ مزاجاً کیسی ہیں؟
جواب: مزاج… میری تحریروں سے جو ہلکا پھلکا فریش سا تاثر ملتا ہے میں بھی ایسی ہی ہوں ہاں حساس بھی بہت ہوں‘ شادی کے بعد میاں کے لاڈ پیار نے بگارڑدیا ہے شاید ۔
٭ سادگی پسند ہیں یا بننا سنورنا اچھا لگتا ہے؟
جواب: بہت زیادہ فیشن نہیں کرتی جو دل کو اچھا لگے۔
٭لکھنا کب شروع کیا کیا بچپن سے شوق تھا یا اتفاقاً اس فیلڈ کی طرف آئیں؟
جواب: پہلے تو پڑھنے کا عشق لگا پانچویں کلاس میں سارے ڈائجسٹ پڑھتی تھی لکھنے کا جنون ایف اے کے دوران ہوا۔ بی اے کے رزلٹ کے بعد آنچل ڈائجسٹ میں افسانہ شائع ہوا تو پھر ریڈرز کی محبتوں نے ہاتھ سے قلم رکھنے ہی نہیں دیا۔
٭فیملی نے سپورٹ کیا یا مخالفت کی؟
جواب: اللہ کا کرم ہے فیملی میں سے کسی نے مخالفت نہیں کی تھی کسی نے تنقید نہیں کی ہے سبھی کے لیے اسٹارٹ سے ہی نارمل سا ہے میرا لکھنا کیونکہ میں پڑھتی بھی بہت تھی ایک سے ایک بد ذوق بھرا ہوا تھا گھر میں۔ بھائی کو رشوت دے کے اپنا افسانہ پڑھانے کی کوشش کی تو بھی اس نے نہیں پڑھا تھا یعنی گھر کی مرغی دال برابر ۔
٭ سب سے پہلا ناول افسانہ یا ناولٹ کون سا تھا اور کس ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا ؟
جواب: سب سے پہلا افسانہ آنچل ڈائجسٹ میں ’’یار ڈاڈی عشق آتش‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔
٭ پہلی تحریر شائع ہوئی تو کیا فیلنگز تھیں؟
جواب: پہلا افسانہ بھیجتے ہی شائع ہو گیا تھا تو خوشی کی انتہا نہیں تھی۔
٭ اپنے ناولز میں سے کوئی ایسا ناول جو زیادہ دل کے قریب ہو؟
جواب: میری محبت بھی ’’محبت دل پہ دستک‘‘ ہی ہے۔
٭کبھی کوئی تحریر مسترد ہوئی؟
جواب: اللہ کا شکر ہے پہلی تحریر ہی شائع ہو گئی تھی آنچل میں۔ جب خواتین میں پہلا ناول ازمیر بٹ والا بھیجا تو وہ وہاں پہلی تحریر تھی وہ بھی شائع ہو گئی تھی۔
٭ آپ سلسلے وار ناولز بھی لکھتی ہیں کبھی ایسا ہوا کے قسط دینی ہو ادارے کو لیکن کوشش کے باوجود لکھا نہ جا رہا ہو کیسا فیل کرتی ہیں؟
جواب: بہت بار ایسا ہوا ہے یار‘ شادی کے بعد کیونکہ جب لکھنے کا بہت موڈ ہو تو ٹائم نہیں ہوتا اور جب فری ہوتی ہوں تو لکھنے کا موڈ نہیں بنتا بڑی بے بسی کی کیفیت ہوتی ہے اور پریشانی کی بھی۔
٭ اگر رائٹر نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں؟
جواب: مجھے رائٹنگ کے علاوہ کچھ نہیں آتا مجھے لکھنے سے عشق ہے میں رائٹر کے علاوہ اور کچھ نہ ہوتی ۔
٭ اگر لکھنے سے روک دیا جائے تو؟
جواب: اول تو کسی کے روکنے کا چانس نہیں اگر ایسا ہوا تو میں آدھی رہ جائوں گی۔
٭ کوئی ایسی ساتھی رائٹر جس کا کام آپ کو پسند ہو اور آپ سمجھتی ہیں وہ بہت اچھا لکھ رہی ہیں؟
جواب: آف کورس سمیرا حمید اور سائرہ رضا آر بیسٹ۔
٭کیا لگتا ہے کے افسانہ‘ ناول‘ ناولٹ یا سلسلے وار ناول کیا لکھنا زیادہ آسان ہے اور آپ کو کیا پسند ہے؟
جواب: مجھے ناول اور قسط وار لکھنا آسان لگتا ہے لمبی باتیں کرنے کی عادی جو ہوں۔
٭اب ناولز پہ ڈرامے بھی بن رہے ہیں آ پ کے خیال میں ایسا ہونا چاہئے اگر آپ کو آفر ہو تو قبول کریں گی؟
جواب: ایک ڈرامہ عبداللہ قادوانی کے لیے لکھ چکی ہوں مگر ابھی تک ہولڈ پہ ہے دیکھو کیا بنتا ہے یعنی ابھی وہ شوٹ پہ نہیں گیا اس کے بعد اے آر وائے کی ٹیم میرے گھر بھی آئی مگر میرا لکھنے کا دل ہی نہیں چاہا۔
٭ناول کیا سوچ کے لکھتی ہیں کیا کوئی ٹاپک سلیکٹ کرتی ہیں یا اچانک ہی گردوپیش کو دیکھ کے ڈیسائیڈ کرتی ہیں کے اب اس ٹاپک پہ لکھنا ہے؟
جواب: میں ہمیشہ ٹاپک لے کے لکھتی ہوں ہاں کوئی بھی چونکانے والی بات ٹاپک بن سکتی ہے۔
٭ناول لکھنے سے پہلے کمپلیٹ پلاٹ کردار اور موضوع سوچ لیتی ہیں اور اسی کو فالو کرتی ہیں یا لکھتے ہوئے فینز کی رائے کو مد نظر رکھ کے چینجز لاتی رہتی ہیں؟
جواب: فینز کی رائے پڑھتی ضرور ہوں مگر یار اتنی ساری فرمائشوں کو پورا کریں تو کہانی کہیں کی کہیں نکل جائے سو خود کی لائن پہ ہی چلتی ہوں آوٹ لائن تو بنا لیتی ہوں مگر سچویشن کے مطابق بیچ میں چینجز تو لازمی ہیں ۔
٭ آپ کے ناول ’’محبت دل پہ دستک‘‘ میں انس کی ڈیتھ ہو گئی تھی اُف بہت روئی تھی میں کیا آپ کو اپنے کرداروں سے انسیت ہو جاتی ہے؟
جواب: جی آپ لوگ جن کرداروں کو پڑھ کے روتے ہیں نا اکثر رائٹر ان کو رو کے لکھتا ہے مجھے بھی کردار اپنا آپ لگتے ہیں کیونکہ ہر کردار رائٹر کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہوتا ہے اس کا انداز اس کے الفاظ اس کا بی ہیویر یہ رائٹر خود ہوتا ہے تو پھر کسی کردار کے بچھڑنے پہ رونا کیوں نہیں آئے گا لیکن جس کردار کی ڈیتھ کو لکھتے ہوئے میں آج سے بہت سال پہلے روتی جا رہی تھی وہ ’’دل دریا سمندر ڈونگھے‘‘ کا ارقم نیازی تھا میرا یہ ناولٹ آنچل میں شائع ہوا تھا۔
٭جب پہلی تحریر شائع ہوئی تھی تو سوچا تھا کے کبھی اتنی بڑی رائٹر بن جاؤں گی؟
جواب: رائٹر بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا اچھا یا برا لکھنے والا ہوتا ہے بہت بڑے رائٹرز کی بعض تحریریں بعض اوقات پسند نہیں آتیں سو مجھے تو کم از کم اپنے بارے میں ایسی کوئی غلط فہمی نہیں 2000کے ایرا میں لوگ مجھے بہت جانتے تھے اب تو کسی کو پتا ہی نہیں کے عفت سحر طاہر کبھی عفت سحر پاشا کے نام سے لکھا کرتی تھیں کیونکہ بیچ میں آٹھ سال کا گیپ ہے۔
٭ پہلے عفت سحر پاشا کے نام سے لکھتی تھیں پھر نام چینج کر دیا اس وقت جب آپ اس نام سے کافی مشہور ہو گئیں اس سے رائٹنگ کیریر پر کوئی فرق پڑا؟
جواب: نام چینج کرنے سے کافی فرق پڑا ریڈرز کی عادت ہوتی ہے اپنے فیورٹ رائٹر کی تحریر سب سے پہلے نکال کے پڑھتے ہیں تو اب زیادہ لوگ پوچھتے ہیں کے آپ وہی عفت سحر پاشا ہی ہیں لیکن مجھے طاہر کے نام سے جانا جائے مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
٭آپ کے کتنے ناول کتابی شکل میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں؟
جواب: فیم ڈئیر میرے پانچ ناولز کتابی شکل میں آچکے ہیں اس کے بعد لکھا ہی نہیں تو یہ سلسلہ رک گیا۔
٭اپنی تحریروں کو کس ڈائجسٹ میں پبلش کروانا زیادہ پسند ہے؟
جواب: میری سب سے بڑی خواہش تھی کے خواتین میں میری کہانی شائع ہو اور اللہ کی رضا سے یہ خواہش پوری ہو گئی۔
٭زندگی کا کوئی خوب صورت اور بد صورت فیز جو آپ کو ہمیشہ یاد رہے گا؟
جواب: زندگی کا بد صورت فیز… جب میرا بھائی الگ ہوا اور خوب صورت فیزجو میں طاہر اور بچوں کے ساتھ گزار رہی ہوں ہاں اسکول اور کالج لائف تو بھلانے لائق ہے ہی نہیں۔
٭آپ کی زندگی کی کوئی خواہش؟
جواب: میری زندگی کا مقصد اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان اور مکمل مسلمان دیکھنا۔
٭عفت اگر زندگی کو اپنے لحاظ سے بیان کریں تو زندگی کیا ہے؟
جواب: زندگی محبت ہے اور صرف محبت اگر انسان محبت کرنے میں مصروف ہو جائے تو کسی کو نفرت کے لیے وقت ہی نہ ملے دھیان رہے کہ یہ اپنے محرم رشتوں والی محبت کی بات ہو رہی ہے۔
٭عفت سحر کی زندگی کن چیزوں کے گرد گھومتی ہے؟
جواب: میں میرا گھر طاہر اور بچے الحمدللہ اور ہماری محبت جو نو سال نہیں نو دن پرانی لگتی ہے۔
٭عفت کی زندگی کا سب سے عزیز رشتہ؟
جواب: رشتہ نہیں ڈئیر رشتے کہو محبتوں کو الگ الگ سانچے میں ڈال کے دیکھا جائے تو اپنی ماں سے اور بچوں سے تو روح کا رشتہ ہے نا دل کی سب تاریں طاہر کے دل سے جڑی ہیں باقی یہ کہ میں رشتوں کی رسپیکٹ کرتی ہوں۔
٭محبت پہ یقین رکھتی ہیں؟
جواب: مجھے ہمیشہ سے شادی کے بعد والی محبت پہ یقین ہے اور یقین کریں میں نے کی بھی طاہر سے ( اپنے ہیسبنڈ سے)۔
٭اپنی لائف کا کوئی فنی یا انٹرسٹنگ واقعہ جو فینز سے شئیر کرنا چاہتی ہوں؟
جواب: میرے بچپن کے اتنے مزے کے واقعات ہیں کے ختم نہ ہوں لیکن شادی کے نئے دنوں کی بات ہے میں کمرے میں تھی اور طاہر واش بیسن کے سامنے رگڑ رگڑ کے شیو بنا رہے تھے اچانک انہیں ہچکی آنا شروع ہو گئی اور اتنی دیر تک رہی کے میرا دل تنگ پڑ گیا میں نے تھوڑا ویٹ کیا پھر ان کے پاس جا کے کہا ’’ طاہر میرے پرس میں سے روپے غائب ہیں آپ نے لیے ہیں؟‘‘ میں کیوں لینے لگا وہیں ہوں گے طاہر کے لہجے میں نا گواری سی آئی تو میں نے کہا اگر آپ کو ضرورت تھی تو مجھ سے کہہ دیتے پرس میں سے نکالنے کی کیا ضرورت تھی طاہر کے چہرے پہ غصے کی لالی آ گئی بولے بڑے افسوس کی بات ہے تم میرے بارے میں ایسا سوچتی ہو پھر میری جو ہنسی نکلی میں نے کہا پانچ ہزار کو چھوڑیں یہ بتائیں آپ کی ہچکی کہاں گئی ؟ پانچ ہزار کے الزام کے بعد کون سی ہچکی اب بھی طاہر کو یاد کروا کے ہنستی ہوں اور تب سے وہ مجھے جھوٹی کہنے لگے ۔
٭کوئی ایسی بات جس پہ پچھتاوا ہو؟
جواب: اللہ کو کم یاد کرنے کا بہت پچھتاوا ہے اللہ مجھے پانچ وقت کا نمازی بنا دے سب کہو آمین۔
٭ کوئی ایسی بات جس سے چڑ ہو؟
جواب: منہ پہ کچھ اور پیچھے کچھ ایسے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔
٭اپنی اچھی یا بری عادتیں؟
جواب: اچھی عادتوں میں اپنے پیاروں کو ہر لحاظ سے سپورٹ اور ہیلپ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
بری عادتیں کافی ہیں سب سے پہلے نمبر پہ سونا (گولڈ نہیں‘ نیند والا سونا) جو اب رات کے چند گھنٹے ہی نصیب ہوتا ہے۔
٭ غصہ آتا ہے اور کس بات پہ سب سے زیادہ غصہ آتا ہے؟
جواب: سب سے زیادہ غصہ اس شخص پہ آتا ہے جو چھوٹی سی بات کو بڑھا چڑھا کے آگے پہنچا کے آپ کا امیج خراب کرتا ہے ۔
٭کسی کو کوئی نصیحت کرنی ہو تو کیا کر یں گی؟
جواب: نصیحت ان لوگوں کے لیے ہے جو سامنے بہت میٹھے مگر پیٹھ پیچھے آپ کی برائی کرنے والے ہوتے ہیں وہ غیبت کے مرتکب ہیں اور غیبت کر کے نیکیاں گنواتے رہتے ہیں۔
٭موسم کون سا پسند ہے؟
جواب: مجھے سردی کا موسم پسند ہے اور پنجاب میں شدید سردی پڑتی ہے اللہ کا شکر ہے۔
٭شاعری پسند ہے ؟ فیورٹ شاعر؟
جواب: شاعری بہت پسند ہے مرزا غالب ‘فیض احمد فیض‘احمد فراز تو بہت بڑے نام ہیں کالج میں سعد اللہ شاہ‘ فرحت عباس‘ پروین شاکر اور وصی شاہ کی ہر کتاب پڑھی ۔
٭فارغ وقت میں کیا کرتی ہیں؟
جواب: فارغ وقت ملتا ہی کہاں ہے فیم ڈئیر کبھی قسمت مہربان ہو ہی جائے تو کوئی بھی ادھورا کام کمپلیٹ کر لیتی ہوں۔
٭کوئی پسندیدہ مصنف اور تصنیف؟
جواب: بہت سے پسندیدہ رائٹرز ہیں عمیرہ احمد‘ سمیرا حمید اور سائرہ رضا۔ تصنیف پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم۔
٭فیس بک گروپس اور پیجزکے بارے میں کیا کہیں گی فینز کی ایک دم سے رائے آپ تک پہنچ جاتی ہے؟
جواب: ایف بی پہ مجھے سب کچھ فیک لگتا ہے کیوں کے یہاں کسی نے بھی اپنی آئی ڈی سچ میں شو نہیں کی ہوتی اس لئے اعتبار کرنے کو دل نہیں کرتا آپ جسے ارسلہ سمجھ کے بات کریں وہ ارسلان بھی نکل سکتا ہے۔
پیجز پہ ٹاپک کے علاوہ ہر بات پہ ڈسکشن ہوتی ہے سیریسلی کسی بات کو نہیں لیا جاتا بعض بہت اچھی رائٹرز پہ اتنی فضول سی تنقید دیکھ کے میں حیران ہو جاتی ہون میرا مطلب ہے تنقید برائے اصلاح کے بجائے رائٹرز کا مذاق اڑایا جاتا ہے چاہے خود ایک لائن بھی سیدھی لکھنی نہیں آتی ہو لیکن ایسے ریڈرز بھی ہیں جو واقعی صحیح تنقید کرتے ہیں ۔
٭آٹوگراف میں کیا لکھتی ہیں؟
جواب: آٹو گراف کبھی دیا نہیں مگر بہت سی اچھی کوٹیشنز یاد ہیں کبھی آپ میں سے کوئی ہاتھ لگا تو ضرور دوں گی۔
٭فینز کے نام کوئی میسج؟
جواب: فینز کے لیے یار میں تو ہمیشہ فرینڈز کہتی ہوں کیونکہ یہ سب فرینڈ ریکویسٹ کے ذریعے آپ کی دوست بنی ہیں ان کے لیے میسج ہے کے کسی کو گرانے والے نہ بنیں ، ہاتھ پکڑ کے اٹھانے والے بنیں کیوں کے گرانے والے کو لوگ بھول جاتے ہیں مگر جو ہاتھ پکڑ کے آپ کو کھڑا کرتا ہے اسے آپ زندگی بھر نہیں بھولتے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
سباس کا بہت شکریہ کے اس نے مجھے آپ لوگوں کی فیورٹ رائٹرز میں جگہ دی اور مجھے آپ سے ملاقات کا موقع ملا آپ لوگوں کی محبتوں کا بہت شکریہ اللہ حافظ۔
عفت ڈئیر آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ نے اپنی مصروف زندگی میں سے ہمارے لیے وقت نکالا اللہ سے دعا ہے کے وہ آپ کو اسی طرح خوش و خرم رکھے اور آپ کے تمام خواب جو آپ نے اپنے کیرئیر اور گھر کے حوالے سے دیکھے ہیں پورے کرے اور آپ اسی طرح اچھا اچھا لکھتی رہیں آمین۔
٭٭٭٭
نسیم نیازی
مجھے معاف کردینا
مجھے معاف کردینا
میں تیرا سزا وار ہوں جانم
میں تیرا خطاوار ہوں جانم
ابھی تو میں نے
تیری آنکھوں میں خواب سجائے تھے
ابھی تو تیرے لبوں پر پیار کے گیت سجانے تھے
ابھی اپنی محبتوں کے جام تجھ کو پلانے تھے
اور میں نے سوچا تھا
تیری آنکھوں میں سجے خوابوں کو زندگی دوںگا
تیرے ہونٹوں کو چوم کر تیری مانگ سجا دوں گا
اپنی محبتوں سے تجھے آباد کروں گا
تیری زیست میں رہوں گا
اور تجھے شاداب کردوں گا
یہ میرا تجھ سے عہد تھا
اے میری زندگی اے میری محبت
اے میری جانے جاناں
مجھے معاف کردینا
میںتو بہت سے خواب سجائے تجھ تک
آنے کی چاہ میں دن گن رہا تھا
مگر وقت کے اجل ہاتھ نے
مجھ سے میرے خواب میرا عہد میرا وعدہ
چھین لیا
اورمیں کسی دہشت گرد ی ستم گری میں
ٹکڑے ٹکڑ ے ہوکر ہوائوں بکھر گیا
کسی ظالم نے مجھے مار ڈالا‘ میرا ہر خواب توڑ ڈالا
(سانحہ اقبال پارک میں مرنے والے اس شخص کی آہ وزاری جس کی عنقریب شادی تھی۔
قید
اجنبی ہمسفر
ایک چھت تلے
ایک بستر پر
کروٹیں بدلے
اپنے اپنے موبائل پر
میسج کی دنیا میں
مصروف…
ایک دوجے کے
دکھ سکھ سے
انجان…
ایک بندھن میں
قید…
زندگی کی سزا
کاٹ رہے ہیں
نسیم نیازی… لاہور
٭ وہ نام جو پہچان کا باعث بنا؟
جواب: نسیم نیازی۔
٭ وہ مقام جہاں سے آشنا ہوکر آنکھ کھولی؟
جواب: خوب صورت شاموں اور روشن دانوں کے شہر حیدرآباد۔
٭ زندگی کسی برج (اسٹار) کے زیر اثر ہے؟
جواب: سباس جی! ویسے تو برجوں پر جب یقین کرنے کی عمر تھی تب بھی ان پر یقین نہیں کیا 14 دسمبر کے حوالے سے ہم قوس ٹھہرے۔
٭ علم کی کتنی دولت کمائی اور کہاں سے؟
جواب: ویسے تو آج کے مقابلے کی دوڑ دیکھ کر خود کو عالم فاضل نہیں سمجھتی لیکن اگر ڈگری کے حو الے سے بات ہے۔ اردو میں سندھ یونیورسٹی سے ماسٹر کیا ہے مگر اب اتنے عرصے سے پڑھنے لکھنے سے دوری نے تو یہ احساس دلانا شروع کردیا ہے کہ ہم جاہل ہیں اب تو۔
٭ لکھنے کا محرک کیا رہا‘ شاعری یا نثر کہاں زیادہ نام کمایا؟
جواب: چونکہ ہمارے گھر میں پڑھنے کی حد تک سب ہی کو ڈائجسٹ پڑھنے کا خوب شوق تھا خاص کر میرے ابا جی اور بھائی اسلم کو تو ہمارے گھر بے شمار ڈائجسٹ آیا کرتے تھے۔ ابا جی اردو ڈائجسٹ‘سیارہ ڈائجسٹ‘ حکایت ڈائجسٹ کے علاوہ اسلامی کتابیں بہت جنون سے پڑھا کرتے تھے اور بھائی سسپنس ‘ سرگزشت‘ آداب عرض‘ جاسوسی ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔ تو فتھ کلاس میں آکر ہمیں بھی بچوں کی دنیا ‘ نونہال‘ تعلیم و تربیت سے آشنائی ہوئی اور تھوڑے ہی دنوں میں ایک دوست عظمیٰ کے طفیل ان کی امی کے سنبھالے ہوئے بہت پرانے زیب نساء حور کا ڈھیر ہمارے ہاتھ لگا تو مانو ہم نئی دنیا سے روشناس ہوئے اور پھر پاکیزہ‘ خواتین‘ گھرانہ‘حنا‘ آنچل‘ دوشیزہ‘ شعاع‘ کرن‘ غرض پاکستان سے نکلنے والے خواتین کے ہر پرچے سے دوستی کرلی اور نائنتھ کلاس تک آتے آتے اتنا بہت پڑھ لیا کہ دل نے کہا کہ ایسا بہت تو نہیں مگر کچھ کم تو تم بھی لکھ سکتی ہو سو ہم نے کاغذ قلم سنبھال لیا اور سب سے پہلے حنا میں ایک افسانہ لکھ بھیجا اور جب دوسرے مہینے ہی افسانہ حنا کے صفحات پر لگا دیکھا تو مانو ہم نے جی بھر کے دھمال ڈالا‘ دنوں تو میں اڑی اڑی جاواں کی تفسیر بنی رہی پھر کیا تھا ہم کمرکس کر اس میدان میں کود پڑے۔ افسانے‘ ناولٹ‘ مکمل ناول‘ تبصرے‘ انٹرویوز‘ شاعری‘ سچی کہانیاں بھی خوب لکھیں اور پھر ہمارے نام کا بھی خوب ڈنکا بجنے لگا۔ نائنتھ کلاس سے لے کر ماسٹر کے زمانے تک ہم کم ازکم دو سو کے قریب افسانے ناولٹ مکمل ناول‘ سچی کہانیاں لکھ کر خوب نام کمانے میں کامیاب ہوئے تو وہی مختلف پرچوں میں شاعری تبصرے کے حوالوں سے بھی خوب نام کمایا۔ لکھنے کا محرک وہی ازلی عورت کے دکھ محرومیاں‘ معاشرتی تلخیاں ہی رہا۔
٭ گھر والے تو آپ کی تحریریں پڑھتے ہوں گے؟
جواب: میاں جی ہمارے لکھنے پر خوش تو جی بھر کے ہوتے مگر پڑھتے نہیں ہیں کہ پڑھنے کا‘ کتاب بینی کا انہیں شوق نہیں‘ البتہ ابا جی جب تک حیات تھے انہوں نے پڑھا بھی اور سراہا بھی۔
٭ آپ کی نظر میں لکھنا خداداد صلاحیت ہے یا محض شوق؟
جواب: سباس جی! ہر کام حکم خدا سے ہی انجام پاتا ہے اگر میں یہ کہتی ہوں تو اس خیال کو میرے اندر ڈالنے والا بھی میرا رب ہے ورنہ پڑھتے تو بہت سے لوگ ہیں ہر کوئی لکھاری نہیں۔ بن جاتا لکھاری صرف وہ ہی بن پاتا ہے جس سے میرا رب کچھ لکھوانا چاہتا ہے۔
٭ تعریف یا تنقید کس حد تک ہوئی؟
جواب: شکر ہے کہ بے تحاشہ بھی نہیں لکھا مگر جتنا لکھا سب کا سب جوں کا توں چھپا بھی اور تعریف زیادہ ہوئی تنقید بہت کم گو کہ میں اب تک خود کو لکھنے کے آغاز سفر میں ہی سمجھتی ہوں۔
٭ لکھنے کے لیے موڈبنانا ضروری ہے کیا؟
جواب: سباس! بالکل میرے لیے تو بہت ضروری ہے موڈ بن جائے تو میں دنوں لکھتی رہتی ہوں نہ بنے تو پھر سالوں نہیں لکھ پاتی اور آج کل بھی موڈ نہیں بن رہا تو میں اب نہ خط‘ نہ شاعری‘ نہ افسانہ یعنی ہر طرف خاموشی کا راج ہے مجھے دوست احباب اکساتے ہیں۔ شرمندہ کرتے ہیں مگر موڈ پر منوں مٹی پڑی ہے جو ہٹ ہی نہیں رہی۔ دوستوں دعا کرو کہ میرا قلم پھر سے چل پڑے۔
٭ خاتون اور مرد کے لکھنے میں بنیادی فرق کیا ہے؟
جواب: سباس جی! خواتین چونکہ خود بھی ڈھکی چھپی ہوتی ہیں تو ان کے لکھنے میں بھی ایک حیا ہوتی ہے وہ بڑی سے بڑی بات کو بھی سات پروں میں چھپا کر بیان کرتی ہیں۔ مرد ٹھہرا بے باک تو اس کا قلم بھی بعض اوقات بہت حد تک عریاں ہوجاتا ہے۔ بات یہی ہے کہ عورت اور مرد کے خیالات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ عورت نازک‘ کومل احساس کے لبادوں میں چھپی حساس جنس ہے چونکہ مردوں کے پاس ایک وسیع دنیا ہوتی ہے سو وہ کھل کر لکھتا ہے کھل کر اظہار کرتا ہے۔ عورت کی زیادہ تر دنیا گھر کی چار دیواری میں ہی گزرتی ہے سو گھریلو مسائل پر اس کی گہری نظر ہوتی ہے۔
٭ آپ کس رائٹرسے متاثر ہیں اور آغاز سفر میں کون کون پسند تھا؟
جواب: اگر پسند کی بات ڈائجسٹ رائٹر کی ہے تو میں نے آغاز سفر میں جس رائٹر کو بہت پسند کیا‘ بہت شوق سے پڑھا وہ صرف اور صرف اقبال بانو ہیں ان کی روایتی محبت میں ڈوبی تحریریں نو عمری میں دل کو بہت گدگداتی تھیں اور سچی بات کہوں میں نے شروع میں انہیں کاپی کرنے کی بھی بہت کوشش کی مگر اب وقت بدل چکا ہے اور بھی غم ہیں محبت کے سوا‘ سو اب روایتی محبت کی کہانیاں نہیں لکھی جارہیں بلکہ حقیقی کہانیاں زمانے میں لکھی جارہی ہیں سو آج کل عمیر احمد‘ عالیہ بخاری‘ فرحت اشتیاق‘ سمیرا حمید اور نمرہ احمد بہت پسند ہیں اور آج کل تو نمرہ کے نمل نے سارے پڑھے کو عام بنادیا ہے بس اگر خاص ہے تو ’’نمل‘‘
٭ کس موضوع پر آپ کو لکھنا پسند ہے؟
جواب: میری تحریریں عموماً آج کی عورت کو درپیش داخلی و خارجی مسائل کے اردگرد گھومتی ہیں۔ بے رحم تجزیہ اور زندگی سے جڑی مکمل سچائی میری تحریروں کی نمایاں خوبی ہے۔ میری کہانیوں میں آپ کو زندگی کے کئی رنگ کھلتے دکھائی دیں گے۔ ان میں محبتوں کی خوشگواریت بھی ہے اور جدائی کا دکھ بھی‘ امیدوں کے چراغ بھی قطار در قطار جلتے دکھائی دیتے ہیں تو حسرتوں نا امیدوں کی راکھ بھی جابجا اڑتی دکھائی دے گی۔
٭ لکھنے کا وہ لمحہ جو بہت خوشی کا باعث بنا؟
جواب: وہ لمحہ جب میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی صاحب کتاب ہونے کا خیال دور دور تک نہیں تھا اور میں القریش محمد علی بھائی کے پاس عالیہ بخاری کی کتاب کے لیے مواد دینے گئی تھی اور یونہی بنا سوچے سمجھے اپنی بھی چند منتخب تحریریں ساتھ لیتی گئی کہ شاید کو میں نے آج تک خود کو بہت سا لکھ کر بھی لکھاری نہیں سمجھا بس یونہی اور میرا یونہی اپنی تحریریں لے کر جانا میرے لیے کامیابی کا باعث بن گیا۔جب محمد علی بھائی نے کچھ دنوں بعد ہی مجھے اطلاع دی کہ آپ کی کتاب بھی چھپ رہی ہے وہ صبر آزما مرحلہ بہت کٹھن تھا میرے لیے اور جب کتاب چھپ کر آئی تو مانو خوشی کے مارے میں دنوں جھومتی رہی اور کئی د ن تک دن رات میں کئی بار اپنی کتاب کو دیکھتی اور جی بھر کے خوش ہوتی رہی۔ پہلی کتاب ’’دکھ دریا کے بیچ‘‘ القریش۔ دوسری ’’آئو دل برباد کریں‘‘ تیسری ’’تھک گئی آنکھیں خواب بنتے بنتے‘‘ چوتھی ’’چراغ دل جلاتے ہیں‘ خزینہ علم ادب۔ پانچویں ’’خواب آنکھوں میں۔‘‘
٭ کیا لکھنا آسان ہے؟
جواب: شدت شوق انتہائوں پر ہو تو لکھنا بہت آسان ہوتا ہے ورنہ تو دل و دماغ کو ہلانا پڑتا ہے تو کچھ لکھا جاتا ہے۔ ورنہ تو…
یہ نشۂ یکتائی ٹوٹتا ہی نہیں
٭ زندگی کیاہے آپ کی نگاہ میں؟
جواب: دکھ سکھ کا مجموعہ ہے زندگی‘ ایک امتحان گاہ جس کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے اور ایک خسارہ ہے زندگی۔
٭ دھنک کے سات رنگوں میں سے کون سا رنگ دل کو بھاتا ہے؟
جواب: مجھے سارے شوخ کلرز بھاتے ہیں‘ پہلے بلیو کلر بہت پسند تھا۔ اب بلیک‘ میرون‘ بلیو‘ ریڈ‘ فیروزی ‘ پنک‘ لائٹ کلر مجھے پسند نہیں شاید میں بہت بوڑھی ہوکر بھی ڈل کلرز پسند نہ کروں۔
٭ لباس جگ بھاتا پہنتی ہیں یا من بھاتا؟
جواب: من بھاتا اورپیامن بھاتا۔
٭ بوریت دور کرنے کے لیے کیا کرتی ہیں؟
جواب: بہت پڑھتی ہوں اگر سردیوں کا موسم ہو تو رضائی تان کر آنکھیں موند لینا میرا من پسند مشغلہ ہے۔ میوزک سے اب لگائو نہیں رہا ہاں آج کل ٹاک شوز اورڈراموں کا شوق عروج پر ہے سو بوریت کیسی۔
٭ دن کا کون سا پہر اچھا لگتا ہے؟
جواب: صبح کا ہلکا ہلکا روشن ہونے والا اجالا بہت اچھا لگتا ہے۔
٭ تنہائی پسند ہیں یا محفل پسند؟
جواب: دونوں سمجھ لیں اولین ترجیح تو محفل پسند کو دوں گی مگر آج کل تنہائی سے بہت دوستی ہونے لگی ہے اور اچھی لگنے لگی ہے۔
٭ حساس ہیں؟
جواب: ہاں کافی حد تک۔
٭ کون سے ایسے معاشرتی رویے ہیں جو آپ کے لیے دکھ اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں؟
جواب: لوگوں کی منافقت اور دوغلا پن دل کو بہت سلگاتا اور جلاتا ہے۔
٭ دولت عزت‘ محبت ‘ شہرت‘ صحت ‘ اپنی ترجیح کے اعتبار سے ترتیب دیں؟
جواب: صرف عزت دولت۔
٭ پہلی ملاقات میں ملنے والے کی کس بات سے متاثر ہوتی ہیں؟
جواب: اخلاق‘ خلوص‘ محبت۔
٭ کرنٹ افیئر اور سیاست سے کس حد تک دلچسپی رکھتی ہیں؟
جواب: حالیہ اشوز کے بعد تو فی الحال کرنٹ افیئر سے اور سیاسی اتار چڑھائو سے دلچسپی بے حد بڑھ چکی ہے۔
٭ خود ستائشی کی کس حد تک قائل ہیں؟
جواب: بالکل بھی نہیں۔
٭ یاد کا کوئی جگنو جو تنہائی میں روشنی کا باعث بنتا ہو؟
جواب: بہت سے جگنو ہیں جن میں شادی کے بعد آرمی لائف کا پہلا پہلا دور اور اسکردو کی حسین وادی کے دلکش نظارے‘ بلند و بالا پہاڑوں کا طویل سلسلہ‘ آبشاروں کا خوب صورت ترنم اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑی سفید برف کی چادر اور تین سالہ دور میں شدید برف باری‘ میری آنکھوں میں کل کی طرح قید ہے۔ مکہ کی سرزمین کو چھوتے میرے گناہ گار قدم‘ مدینہ منورہ میں گزری ساعتیں ‘ مانو میری زندگی کا حاصل ہیں‘ جہاں بار بار جانے کی چاہ ہر دن ہر شب میری طلب میں شامل ہے۔
٭ غصے میں کیا کیفیت ہوتی ہے؟
جواب: پہلے پہل تو غصہ جسے کہتے ہیں وہ آیا ہی نہیں کرتا مگر اب بہت آنے لگا تو دکھ تکلیف کا باعث بن رہا ہے اور رب سے شرمسار ہوں کہ مجھے خسارے میں جانے سے بچالے‘ ہر لمحہ یہی دعا ہے میری آج کل۔
٭لوگوں کی نظر میں آپ کی شخصیت کیسی ہے؟
جواب: جو اچھے ہیں‘ دوست ہیں ان کے لیے بہت اچھی مگر آج کل کچھ دوست خفا ہیں تو اب زندگی کے تکلف دہ لمحات بہت سے ہیں‘ ماں باپ کی جدائی‘ کچھ رشتوںکی منافقت ‘ بدلتے حالات‘ بدلتے لہجے‘ بدلتے چہرے۔
٭ آپ آئیڈیل پر یقین رکھتی ہیں؟
جواب: نہیں کیونکہ میرے نزدیک کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا جبکہ آئیڈیل کو ہم مکمل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
٭ خود آپ کسی کا آئیڈیل قرارپائیں؟
جواب: آج سے دس پندرہ سال پہلے بہت سی دوستوںکے لیے میری آنکھیں آئیڈیل ہوا کرتی تھیں۔
٭ کیا آپ اچھی راز داں ہیں؟
جواب: ہر گز نہیں‘ یہ میری امی کا خیال تھا تو یقینا درست ہوگا۔
٭ زندگی کے معاملات میں آپ تقدیر کی قائل ہیں یا تدبیر کی؟
جواب: تقدیر‘ تقدیر اور صرف تقدیر۔
٭ شریک سفر میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟
جواب: لونگ کیئرنگ اور سوبر پرسنلٹی۔
٭ کبھی زندگی سے بے زاری ہوئی؟
جواب: آج کل تو بے حد ہوتی ہوں یوں لگتا ہے زندگی ٹھہر سی گئی ہے اور میں اسٹیشن پر بیٹھے سفر آخرت کی منتظر ہوں نہ کوئی خواب نہ خیال نہ ولولہ۔
٭ کوئی ایسی دعاجو ہر وقت لبوں پر رہتی ہو؟
جواب: کرم کی رحم کی فضل کی اور ہدایت کی۔ اپنے لیے‘ اپنے میاں جی کے لیے‘ بہن بھائیوں‘ دوست احباب کے لیے ہر گھڑی ہر لمحہ ہر پل بس یہی دعا ہے
٭حرف آخر کیا کہنا چاہیں گی؟
جواب: یہی کہ دنیاوی گھر بنانے کی فکر کرنے والوں ابدی گھر کی بھی اب کچھ فکر کرلو کہ یہ زندگی چار دن کا میلہ ہے اور ہم سامان سو برس کا کیے جارہے ہیں
جبکہ زندگی تو بے وفا ہے ایک دن ٹھکرائے گی
موت محبوب ہے آکر گلے لگائے گی
٭ اپنی شاعری سے کچھ انتخاب:۔
جواب: قاری بہنوں میری اب تک مارکیٹ میںِ پانچ عدد کتابیں آچکی ہیں اور صاحب کتاب نے میرے لکھنے کے شوق کو ختم کردیا کہ میری انتہا ہے ۔
غزل
دل کو ذرا دُکھا کر دیکھو
پھر ذرا مسکرا کر دیکھو
کیسے نبھائی تم نے وفا
خود کو آئینہ بناکر دیکھو
بے لوث محبت سے منہ موڑ کر
اب عمر بھرپچھتا کر دیکھو
کیسے ہوئی ہیں ویران آنکھیں
خواب کوئی جلاکر دیکھو
میں بھولی بسری یا د سہی
نقش دل سے مٹا کر دیکھو
دیوتا کی مانند سجا کر رکھا ہے
اس دل میں کبھی آکر دیکھو
کیسے مرتے ہیں محبت میں
زخم ہجر کھاکر دیکھو
غزل
داغ دل کے دھونے تھے
ابھی بہت غمِ رونے تھے
دل ہوا اپنا ہی آوارہ
یہ سلسلے تو ہونے تھے
ٹوٹی تعبیروں کی منڈیر پر
خواب سب کے سب کھلونے تھے
پھول سے بچوں کی خواہش میں
درد دعائوں کے بھگونے تھے
یہ بھی لکھا تھا مقدر کا
سکھ سارے ہم نے کھونے تھے
غم ہی دل کی جاگیر رہا
عمر بھر کے بس یہی رونے تھے
ہر مقام پر ملی ہے تنہائی
ہم تو فقط کھلونے تھے
خوف
عجیب ہوا چل رہی ہے
خوف کی چادر تنی ہے
ہر سو
جانے کب کس لمحہ
حالات کس رخ پر چل پڑیں
اب کیا ہوگا
کب کیا ہوجائے
سوالیہ نشان
ہر ایک ذہن پر دستک دے رہا ہے
سوچ کے عذاب اترے ہیں
ہر ایک چہرے پر
ایسی ہوائوں میں
ایسی فضائوں میں
آنے والی رتوں میں
کوئی نوید کیا ہوگی
عید تو ہوگی
مگر…
اس عیدکی خوشی
کیا ہوگی
٭ اے ماں
ستارے بھی گم ہوگئے
چاند بھی ہے سوگیا
سارا جہاں
اے ماں!
تیرے بغیر اداس ہوگیا
دل لمحہ لمحہ پگھل رہا ہے
جیسے میرے اندر سب ہی
کچھ مررہا ہے
میرے چار سو
تنہائی ہے ویرانی ہے
زندگی اپنی نہیں جیسے پرائی ہے
تیرے بعد میں ہر لمحہ جیتی
ہر لمحہ مری
کوئی اسم تو مجھے بتا جاتی
کوئی ہنر تو مجھے سکھا جاتی
کہ…
جن کی مائیں مرجاتی ہیں
وہ پھر کیسے خوش رہ پاتے ہیں
وہ پھر
کیسے جی پاتے ہیں
انا کے دکھ
اب
بھرے شہر میں
مجھے کہاں
ڈھونڈنے نکلو گے
لوگوں کا ایک ہجوم ہے
اور اس ہجوم میں
ایک چہرہ
ایک وجود
تلاشنا بہت مشکل ہے
کہ…
انا کے موڑ پر
بچھڑے ساتھی
کبھی کبھار
سامنے رہ کر بھی
عمر بھر نہیں ملتے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close