Hijaab Apr-16

تیرے لوٹ آنے تک(قسط نمبر6)

سلمٰی فہیم گل

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
حسن احمد بخاری کی خراب طبیعت کے باعث تورع سے ناراض ہوجاتی ہے۔ ظعینہ پچھلی باتوں سے انجان ہوتی ہے۔ وہ تورع اور حسن احمد بخاری کی ناراضگی کی وجہ نہیں جانتی ہے۔ تورع ظعینہ کو منانے کے لیے اسپتال آتا ہے وہاں اس کی ملاقات اپنی بیوی زری سے ہوجاتی ہے تورع زری کو اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا ہے لیکن زری کترا کر نکل جاتی ہے۔ زاویار ظعینہ کو اپنے ساتھ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے لے جانا چاہتا تھا لیکن ظعینہ اپنے والد (حسن احمد بخاری) کی خراب طبیعت کا بتا کر معذرت کرلیتی ہے اور کچھ رقم زاویار کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے دے دیتی ہے۔ آغامینا اپنا رات کا کھانا ایک غریب عورت کے بیمار بیٹے کو دے آئی تھی واپسی میں اس کے پیر میں کانٹا چبھ جاتا ہے زاویار اس کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن آغامینا اس کی مدد سے انکاری ہوجاتی ہے۔ سالار اور تاباں کی شادی کی تاریخ رکھی طے ہوجاتی ہے‘ زری تاباں کے مسلسل کاموں کی وجہ سے گھن چکر بنی ہوئی تھی تاباں اپنا عروسی جوڑا پسند کرنے کے لیے زری کو ساتھ لے آئی تھی آگے زری سالار کے ساتھ تورع کو دیکھ کر چونک جاتی ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد سے واپسی پر زاویار آغامینا کو گھر ڈراپ کرتا ہے آغامینا گاڑی میں زاویار سے خوف زدہ ہوجاتی ہے۔ ظعینہ تورع کو تھوڑے نخرے دکھا کر مان جاتی ہے تورع ناراضگی ختم ہونے پر ظعینہ کو آئسکریم کھلانے لے جاتا ہے۔ زاویار کو سر انجم نے بلایا تھا وہ اور ارقام لائبریری میں نوٹس بنا رہے تھے زاویار لائبریری میں نوٹس بنا رہے تھے زاویار لائبریری سے نکل جاتا ہے۔ ظعینہ ارقام سے آغامینا کا پوچھتی ہے جس پر ارقام آغامینا کی خراب طبیعت کا بتاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
r…m…r
’’کیوں…؟ میں نے کوئی بہت مشکل بات کردی کیا؟‘‘
’’تم نے کبھی آسان بات کی کب ہے؟ ہمیشہ اتنی مشکل بات کرجاتی ہو کہ سمجھتے سمجھتے ہی کئی دن لگ جاتے ہیں۔‘‘ اس کی بات کو پکڑتے ہوئے کہنی ٹیبل پر ٹکائی اور گہری نگاہوں سے اس کو دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔
ظعینہ ایک لمحے کو جھینپ سی گئی۔ دوسرے ہی لمحے بے نیازی سے گویا ہوئی۔
’’تو آپ مشکل کاموں میں ہاتھ ڈالتے ہی کیوں ہیں جب ان کا حل نہیں نکال سکتے۔ مشکلات سے ڈرتے ہیں کیا؟‘‘
’’ارے یار… ڈرتا کون ہے‘ ہم تو منتظر رہتے ہیں ایسی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے‘ کوئی کہے تو سہی‘ ہم تو ہمہ وقت تیار ہیں۔‘‘ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے قدرے جھک کر کہا۔ ظعینہ نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر رکھتے ہوئے مسکراہٹ کو روکا۔
’’تو پھر تیار رہیے جس راہ پر آپ قدم رکھ چکے ہیں‘ اس راہ میں۔ بہت ساری رکاوٹیں راہ میں حائل ہوں گی‘ تیار رہیے گا ان سے نمٹنے کے لیے۔‘‘
’’میں تیار ہوں‘ بشرطیکہ اگر اس سفر میں تم ساتھ دو تو…؟‘‘ معنی خیزی سے کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’اگر نہ دوں تو؟‘‘ مسکراہٹ دباتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے استفسار کیا۔
’’تو…؟ تو بھی سفر تو کرنا ہے یار‘ مگر زاد راہ کے طور پر کچھ تو ہونا چاہیے۔ سفر پر خالی ہاتھ تو قدم نہیں رکھتے ناں… ایم آئی رائٹ؟‘‘
’’رائٹ!‘‘ اس نے فٹ سے کہا۔
’’بالکل جو مسافر سفر کے لیے نکلتا ہے اس کے پاس کچھ تو زاد راہ ہونا چاہیے‘ کیونکہ جو مسافر خالی ہاتھ سفر پر نکلتا ہے اسے کبھی منزل نہیں ملتی۔ وہ جہاں سے سفر کی شروعات کرتا ہے‘ صدا وہیں کھڑا رہتا ہے۔ کیونکہ قدم بڑھانے کے لیے اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ میں زاد راہ کے طور پر کچھ تھمانے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’میرے خیال سے آپ انجان ہیں کیا؟‘‘ دھیمے سے لہجے میں معنی خیز انداز میں بہت گہری بات کہہ گئی۔
ارقام نے بہت چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ سر جھکائے اپنے بیگ کے اسٹریپ سے کھیل رہی تھی۔ ارقام کے لبوں پر محظوظ کن مسکراہٹ آن رکی تھی۔
’’آئی گیس!‘‘ اس نے کندھے اچکائے۔ آنکھوں میں شرارت پنہاں تھی۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟ تم چاہتی ہو کہ میں ہمیشہ اس بات سے انجان رہوں۔‘‘ اس کی بات پر اس نے بھرپور احتجاج کیا۔
’’کس بات سے؟‘‘ حیرانی سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے انجان بنی۔
’’یہی کہ تم مجھ سے… یو نو دیٹ؟‘‘ اس کی جانب دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔ بات پوری کہے بنا۔ ظعینہ جھینپتے ہوئے سٹپٹا سی گئی۔ جبکہ ارقام نے بہت پیار سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
’’ہوں… ہوں… کیا بات ہے محترمہ۔ میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا… اچانک چپ کیوں ہوگئیں؟‘‘ ظعینہ کی مسلسل خاموشی پر ارقام نے کھنکارتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔‘‘ اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگی۔
’’کوئی زاد راہ…‘‘ اس کی کلائی کو تھامتے ہوئے گہرے لہجے میں دریافت کیا۔
’’آپ کے پاس ہے تو! کہنا اتنا ضروری تو نہیں؟‘‘ جواباً کہہ کر رکی نہیں فوراً وہاں سے چلی گئی۔
ارقام خاصا محظوظ ہوا۔ چند پل اس راستے کو دیکھتا رہا جہاں سے وہ ابھی گزر کرگئی تھی اور پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے دوبارہ سے نوٹس پر جھک گیا۔
r…m…r
’’آپ اکیلی کیوں آگئیں ام‘ مجھے کال کرلیتیں میں خود آپ کو لینے آجاتی۔‘‘
’’ریلیکس بیٹا… ریلیکس‘ میں اکیلی نہیں آئی۔ ڈرائیور لے کر آیا ہے اور خود چل کر نہیں آئی‘ گاڑی میں بیٹھ کر آئی ہوں۔ بات بات پر پریشان مت ہوا کرو اور بیٹا اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اکیلی آجا سکتی ہوں۔‘‘
’’لیکن ام… آپ جانتی ہیں ناں‘ آپ کی طبیعت اچانک خراب ہوجاتی ہے۔ ایسے میں گھر کے کسی ایک فرد کا آپ کے ساتھ ہونا بے حد لازمی ہے‘ اور بائی داوے آپ کے وہ دونوں سپوت کہاں ہیں‘ کل آنے کا کہا تھا انہوں نے اور آج مایوں ہے اور محترم نظر ہی نہیں آرہے۔ حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی بھی۔‘‘ وہ بہت برہم ہورہی تھی‘ خفا خفا سی۔ منہ پھیرتے ہوئے دھیرے سے مسکرادی۔ ذری نے مصنوعی خفگی سے ان کی جانب دیکھا۔ انہوں نے فوراً مسکراہٹ روکی۔
’’اتنا بوکھلایا مت کرو ذری‘ آرام دہ حالت میں رہا کرو۔ تم جانتی ہو بوکھلاہٹ میں ہمیشہ کام خراب ہوتے ہیں اور ناچاہتے ہوئے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ اسی لیے میں تمہیں سمجھاتی رہتی ہوں‘ سکون سے اور اطمینان سے کام کیا کرو۔ سب کچھ صحیح ہوتا ہے اور پریشانی بھی نہیں ہوتی۔ جبکہ تمہارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ تم پریشان بہت جلدی ہوجاتی ہو۔ یہ اچھی بات تو نہیں ہے ناں بچے۔‘‘ ان کی بات پر وہ شرمندہ سی سر جھکا گئی۔
’’ایم سوری ام‘ آئندہ کوشش کروں گی۔‘‘
’’گڈ… لیکن میرا خیال ہے یہ ہمیشہ والی کوشش ہے‘ ہے ناں؟‘‘ شریر سے انداز میں استفسار کیا۔ وہ جھینپ سی گئی۔
’’نہیں یہ نئی والی ہے۔‘‘ جھینپ مٹاتے ہوئے ڈھٹائی سے گویا ہوئی۔
’’یہ بات بھی پرانی ہی ہے۔ خیر دیکھتے ہی اور جہاں تک بات ہے میرے سپوتوں کی تو ایک تو حسب معمول بزی ہے‘ جبکہ دوسرا بھی شاید لیٹ ہی آئے یا شاید نہ آئے۔‘‘
’’اور بابا جان۔‘‘
’’وہ تو ضرور آئیں گے بیٹا‘ ان کے نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’چلیں یہ بھی اچھا ہے‘ اور ام میں آپ کو…‘‘
’’السلام علیکم ام جان۔‘‘
’’وعلیکم السلام! میرا بچہ کیسا ہے؟‘‘ اسے گلے سے لگاتے ہوئے پیار کیا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘ ام جان لیکن مجھے آپ سے شکایت ہے۔‘‘ سینے پر بازو باندھے ہوئے منہ پھلا کر کہا۔
’’ہائیں… کیوں بھئی۔‘‘ انہوں نے مصنوعی حیرانگی سے دریافت کیا۔
’’آپ اچھی طرح جانتی ہیں کچھ دنوں میں میری رخصتی ہونے والی ہے اور آپ کو میرا کوئی خیال ہی نہیں۔ آج آرہی ہیں۔ آج اگر امی زندہ ہوتیں تو آپ کو کیا لگتا وہ یوں آتیں‘ عین مایوں والے دن اور آپ کہتیں ہیں آپ میری امی ہیں۔ جانتی ہیں میں دن میں کتنی بار روتی ہوں‘ میرا اتنا دل چاہتا ہے امی کی گود ہو اور میں ان کی گود میں سر رکھ کر بے تحاشا روئوں‘ مگر وہ نہیں ہیں ناں‘ اس لیے چھپ چھپ کر روتی ہوں یا پھر آنسو ضبط کرلیتی ہوں‘ آپ کو یاد ہے جب امی کی ڈیتھ کے بعد پہلی بار میں نے آپ کو تائی جی کہا تھا‘ تو آپ نے مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آج سے میں تمہاری تائی جی نہیں‘ بلکہ امی ہوں‘ میں آپ کو ماں کہوں ہی نہیں بلکہ سمجھوں بھی‘ جب بھی جہاں بھی مجھے آپ کی ضرورت پڑے گی آپ میرے ساتھ ہوں گی اور آج جب مجھے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے آپ آج یوں…‘‘
’’ارے… میرا بچہ‘ میری جان نہیں بیٹا روتے نہیں‘ ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا‘ میں نے جو کہا تھا اس پر اب بھی قائم ہوں۔ میں تمہاری تائی نہیں بلکہ امی ہوں‘ ہاں یہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے تمہیں اپنی دیر سے آمد کے متعلق بتایا نہیں‘ مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں بیٹا کہ میں نے جان بوجھ کر آنے میں دیر کی ہو‘ بیٹا مائوں کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں ناں اور یہ تم جانتی ہو‘ میری طبیعت ناساز تھی‘ بیٹا اس لیے میں نہ آسکی اور پھر آج تو مایوں ہے ابھی تو رخصتی میں بہت سے دن پڑے ہیں۔ اور اتنے دن اب میں یہیں رہوں گی کہیں نہیں جائوں گی۔ جی بھر کر ماں کی گود میں سر رکھ کر رونا‘ جی بھر کر شکوے کرنا‘ اپنے دل کی ہر بات شیئر کرنا‘ ان شاء اللہ مجھے ایک اچھی ماں پائوگی۔‘‘ اسے اپنی بانہوں میں سموتے ہوئے بالکل ایک ماں کے سے انداز میں کہا۔ تاباں کی آنکھیں جھلملا سی گئیں تھیں‘ وہ بے ساختہ ان کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
’’تھینک یو ام‘ تھینک یو سو مچ اور ایم سوری۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بیٹا‘ اتنا حق تو بنتا ہے ناں بیٹی کا۔‘‘ ذری چند پل یہ ایموشنل سین ملاحظہ کرتی رہی‘ آنسو اس کی آنکھوں میں بھی جمع ہوگئے تھے جنہیں صاف کرتے ہوئے وہ بشاشت سے گویا ہوئی۔
’’بس کریں بھئی‘ ابھی کے لیے اتنے آنسو کافی ہیں‘ ویسے بھی رخصتی تک یہ سیلاب رکنے والا نہیں‘ سو پلیز رفتار ذرا کم رکھی جائے‘ نقصان کا اندیشہ ہے‘ ویسے بھی بہت نقصان ہوچکا ہے‘ مزید کا یارا نہیں۔‘‘ اس کے مضحکہ خیز انداز پر وہ دونوں مسکراتے ہوئے الگ ہوئیں تھیں‘ آنسو بھی پونچھ لیے تھے۔
’’شکر ہے مطلع صاف ہوا‘ ارے ہاں‘ ام آپ کو چچا جان بہت پوچھ چکے ہیں۔ آپ سے کچھ ڈسکشن کرنی ہے شاید انہوں نے۔‘‘ اچانک ذری کو یاد آیا تو سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔
’’پہلے کیوں نہیں بتایا بیٹا‘ اچھا خیر‘ میں دیکھتی ہوں۔‘‘
’’چلیں ام جان‘ میں آپ کو چھوڑ آتی ہوں۔‘‘ انہیں بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے تاباں نے کہا تو وہ مسکرادیں۔
’’میں خود جاسکتی ہوں بچے‘ اب اتنی بھی لاچار نہیں ہوئی۔‘‘
’’ام جان…‘‘ ان کی بات پر دونوں نے یک زبان ہوکر خفگی کے ساتھ کہا۔ وہ شریر ہوئی تھیں اور ان کے کندھے تھپتھپاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
مایوں کی رسم شروع ہوچکی تھی۔ تاباں بار بار متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھ رہی تھی۔ ذری نے خاصا چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ وہ حیران ہوئی‘ دھیرے سے چلتی ہوئی اس کے قریب آکر بیٹھ گئی۔
’’کیا بات ہے تابی‘ کسی کا انتظار ہے کیا؟‘‘
’’آں ہاں… نہیں تو کیوں؟‘‘ اس کی آواز پر وہ یکلخت چونکی۔
’’جھوٹ مت بولو‘ تم کسی کو ڈھونڈ رہی ہو‘ تمہاری متلاشی نگاہیں بار بار داخلی دروازے کی جانب اٹھ رہی ہیں۔‘‘ اس نے پورے وثوق سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں یار! ایسا کچھ تو…‘‘
’’تابی…!‘‘ ذری نے گھورا۔
’’میں تورع اور ظعینہ کا انتظار کررہی ہوں‘ وہ ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس کے تاثرات جانچنا چاہے۔
’’اچھا ہے نہیں آئے۔‘‘ لب بھینچتے ہوئے سر جھکا کر آہستگی سے گویا ہوئی۔ تابی کو ازحد دکھ ہوا۔
’’ہر بات سے قطع نظر وہ ہماری اکلوتی پھپو کے بچے ہیں ذری اور تمہارا مجھے پتا نہیں مگر میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں۔ مجھے ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔ ہماری فیملی کا وہ ایک مستحکم حصہ ہیں اور تورع کو تو چھوڑو‘ اس کے لیے تمہاری فیلنگز سمجھ میں آتی ہیں‘ لیکن اب تم ظعینہ کے لیے بھی…‘‘ گہرے ملال بھرے لہجے میں اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ ذری نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا۔
’’نہیں تابی‘ بخدا میرا ایسا مطلب ہرگز نہیں تھا۔ ظعینہ مجھے ازحد عزیز ہے۔ میں نے صرف تورع کو مائینڈ میں رکھ کر ایسی بات کہی ہے ورنہ میری بات کا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔ مجھے بھی اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ…‘‘
’’ہائے اپیا‘ ہم آگئے۔‘‘ چہکتی ہوئی پرجوش مگر مانوس سی آواز پر دونوں نے ہی چونک کر ایک ساتھ گردن موڑ کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ مسکراتا ہوا ہشاش بشاش چہرہ لیے ظعینہ کھڑی تھی۔
سنجیدہ اور کرخت سے تاثرات سجائے تورع بھی ساتھ تھا۔ اس کے تاثرات سے کوئی بھی جان سکتا تھا کہ وہ سب کچھ سن چکا ہے اور اگر اس نے سنا تھا تو کوئی شک نہیں تھا کہ ظعینہ نے بھی سب سن لیا ہوگا‘ گو ظعینہ کے انداز سے کچھ محسوس نہیں ہوا تھا مگر پھر بھی وہ دونوں اپنی اپنی جگہ شرمندہ سی ہوگئی تھیں۔
’’بڑی جلدی آگئے تم لوگ۔ ابھی بھی کیا ضرورت تھی‘ نہ آتے۔‘‘ مصنوعی خفگی سے قدرے منہ پھلا کر بڑے مان سے گلہ کیا‘ غالباً کچھ دیر پہلے والی باتوں کا اثر ذائل کرنا چاہا تھا۔ تورع کے لبوں پر بڑی طنزیہ مسکراہٹ آکر معدوم ہوئی تھی۔
’’صحیح کہہ رہی ہو‘ ایسی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی ہماری آمد لوگوں پر خاصی ناگوار گزرتی ہے۔ اگر نہ بھی آتے تو بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ خوشی ہی ہوتی‘ مگر کیا کریں‘ ہماری ماں کے ساتھ وابستہ رشتوں کو ہم چاہ کر بھی چھوڑ نہیں سکتے۔ مجبوری ہے۔ انسیت کا رنگ خاصا گہرا ہے‘ اتر ہی نہیں رہا‘ اگر باقیوں کی طرح ہم پر سے بھی اتر چکا ہوتا تو شاید ہمیں بھی کسی کی فیلنگز کی پروا نہ ہوتی۔ اور نہ ہی کوئی فرق پڑتا۔‘‘ اس کے ایک ایک لفظ میں طنز کی آمیزش تھی۔ وہاں پر موجود تینوں لڑکیاں شرمندہ سی ہوگئی تھیں۔ تابی اور ذری اپنی کہی گئی باتوں پر جبکہ ظعینہ اخ کے یوں شرمندہ کرنے والے انداز پر۔
’’ایم سوری تورع… میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میں تو بس؟‘‘
’’نو نو… ڈونٹ بی سوری۔ ہم نے بالکل مائنڈ نہیں کیا‘ کیوں ظعینہ۔ ویسے بھی تم نے کچھ غلط نہیں کہا‘ بھلے الفاظ تمہارے تھے مگر کسی کے دل کی ترجمانی کرگئے۔‘‘ ایک طنزیہ نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے تیزی سے کہا اور اجازت چاہی۔
’’ارے ایسے کیسے تورع‘ ابھی تو آئے ہو پاپا‘ بھائی اور تایا ابو وغیرہ سے تو مل لو۔‘‘ اس نے روکنا چاہا مگر جانتی تھی اب وہ نہیں رکے گا۔
’’چھوٹے ماموں سے میں مل چکا ہوں تابی‘ زوہیب سے بھی ملاقات ہوچکی ہے اور میرے خیال میں کسی اور کو مجھ سے ملنے کا کوئی شوق نہیں ہوگا۔ اس لیے…! ظعینہ کو چھوڑنے آیا تھا‘ چھوڑ کر جارہا ہوں اور ظعی بیٹا صبح مجھے کال کردینا میں پک کرلوں گا اوکے۔‘‘
’’جی اخ۔‘‘ آہستگی سے کہہ کر وہ سر جھکا گئی۔ اس کے بعد وہ رکا نہیں برق رفتاری سے وہاں سے نکلتا چلاگیا۔ ذری اور تابی کو گہرے تاسف نے آن گھیرا تھا۔ وہ شرمندہ سی سر جھکا گئی تھیں۔
r…m…r
’’اپنی اس بیٹی کو سمجھالیں امی‘ میرا کوئی کہنا نہیں مانتی‘ میری ہر بات کا الٹ کرتی ہے‘ بالکل بھی اچھی بچی نہیں ہے یہ۔‘‘ اس کے سر پر دھیرے سے تھپڑ لگاتے ہوئے اس نے شہناز خاتون سے کہا۔ جبکہ آغامینا نے اس کو گھور کر دیکھا۔
’’کیوں بھئی‘ کیا کیا ہے میری بیٹی نے؟‘‘ کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’کیا… کیا ہے… یہ پوچھیں کیا نہیں کیا؟ میری ہر بات میں انکار‘ میرے ہر فیصلے سے انحراف‘ میری ہر بات پر ہر تجویز پر انکار‘ میری ہر دلیل بیکار‘ چاہے کچھ بھی کرلوں‘ یہ اپنے فیصلے پر ہمیشہ قائم رہے گیں کبھی بھی…!‘‘
’’ایک منٹ بیٹا ایک منٹ سب باتیں چھوڑو اور اصل مقصد کی طرف آئو۔‘‘ اس کی لمبی ہوجانے والی بات پر انہوں نے فوراً ٹوکا۔ وہ خجل سا ہوگیا۔
’’آپ کو نہیں پتا؟‘‘ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی بہت بڑا راز ان سے پوشیدہ رہ گیا ہو۔
’’نہیں۔‘‘ نفی میں سرہلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’آپ کو پتا ہے یہ محترمہ جاب کرنا چاہتی ہیں۔‘‘ اس نے گویا دھماکا کیا۔
’’تو…؟‘‘ دوسری جانب کسی پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اس نے چونک کر پہلے ایک نظر شہناز خاتون کو دیکھا‘ پھر آغامینا کی طرف‘ وہ سر جھکا کر مسکراہٹ روکنے کی سعی کررہی تھی۔
’’مطلب آپ کو سب علم ہے؟‘‘ کسی قدر خفگی سے دیکھا ۔
’’ہاں‘ میں جانتی ہوں۔ اس نے مجھے بتایا تھا۔‘‘
’’لیکن امی‘ یہ آل ریڈی ایک جاب کر تو رہی ہے جو کہ میرے خیال میں اسے نہیں کرنی چاہیے اور تب بھی میں نے منع کیا تھا‘ مگر اس نے میرا کہنا نہیں مانا‘ اب ایک اور جاب‘ کیسے کرے گی یہ… پڑھنا نہیں ہے کیا؟‘‘
’’پڑھوں گی بھائی‘ پڑھائی کو میں پہلی ترجیح دیتی ہوں۔ مگر جاب بھی میرے لیے ازحد ضروری ہے‘ یہ آپ جانتے ہیں۔ ہاں اگر جانتے بوجھتے انجان بننے کی کوشش کریں تو یہ اور بات ہے اور رہی پڑھائی کی بات تو‘ میرا خیال ہے کہ پڑھائی میں اتنی لائق تو ہوں کہ بنا یونیورسٹی گئے بھی پڑھ سکتی ہوں اور مزید اگر ضرورت ہوئی تو آپ تو ہیں ہی میری ہیلپ کرنے کے لیے جبکہ جاب مجھے ہر صورت کرنی ہے‘ اور ویسے بھی… پہلے والی جاب میں چھوڑ رہی ہوں۔‘‘
’’اوکے فائن چھوڑ دو۔ لیکن اگر تمہیں جاب کرنی ہے تو آفس جوائن کرلو ناں… وہاں جاب کرنے میں تمہیں کیا پرابلم ہے؟‘‘
’’میں نے کب منع کیا ہے‘ کروں گی‘ لیکن تب جب کوئی سیٹ خالی ہوگی اور اس سیٹ کی میں اہل بھی ہوں گی۔‘‘
’’لیکن آغامینا ایسی بھی کیا…!!‘‘
’’بھائی پلیز… آپ سب جانتے ہیں‘ پھر بھی۔‘‘ اس نے اچھنبے سے دیکھا۔ جواباً اس نے شکایتی نظروں سے دیکھا۔ آغامینا نے شرمندگی سے سر جھکالیا۔
’’ایم سوری بھائی‘ میں آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’وہ تو تم ہمیشہ کرتی ہو۔ کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ ناراضگی سے گویا ہوا۔
’’آئندہ نہیں کروں گی‘ آئی پرامس‘ پلیز معاف کردیں۔‘‘ اب کہ اس نے کان پکڑ لیے تھے۔
’’یہ بھی تم ہمیشہ کہتی ہو۔‘‘ اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
’’اب کی بار پکا والا پرامس‘ آئندہ کبھی آپ کو ہرٹ نہیں کروں گی۔‘‘
’’میرا کہنا مانوگی؟‘‘
’’اگر آپ نے میری سوچ اور احساسات کو مدنظر رکھا تو یقینا لیکن ابھی والی بات آپ نہیں کریں گے۔‘‘
’’ڈن نہیں کروں گا۔ لیکن اگر پندرہ روز میں تمہیں جاب نہ ملی تو تم آفس جوائن کررہی ہو… اور تمہیں وہی سیٹ ملے گی جس کی تم اہل ہوگی۔‘‘
’’لیکن بھائی… پندرہ روز بہت کم ہیں۔ اتنے دنوں میں تو میں کمپنیز کے ایڈریس بھی ازبر نہ کرپائوں گی۔‘‘ اس نے بے بسی سے کہا۔
’’اوکے… ایک ماہ‘ اب اس سے زیادہ نہیں۔ اگر لک ساتھ دے تو ایک دن بھی بہت ہوتا ہے۔‘‘
’’اوکے فائن۔ لیکن آپ کو پرامس کرنا ہوگا کہ آپ کوئی چیٹنگ نہیںکریں گے۔ یہ نہ ہو کہ جہاں بھی میں انٹرویو کے لیے جائوں‘ آپ پہلے ہی جاکر ان کے کان بھر چکے ہوں۔‘‘ اس نے کسی قدر مشکوک سے انداز میں دیکھا۔ وہ گھور کر رہ گیا۔
’’کوئی چیٹنگ نہیں ہوگی‘ اب بولو۔‘‘
’’اوکے ڈن… اگر ایک ماہ میں مجھے جاب نہ ملی تو میں آفس جوائن کرلوں گی۔‘‘
’’دیٹس گڈ… امی‘ اب آپ اس معاہدے کی گواہ ہیں۔ ٹھیک ہے۔‘‘ شہناز خاتون جو ان کی باتوں کے دوران خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی تھیں اس نے انہیں فوراً مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے انہوں نے فوراً کہا۔
r…m…r
کل تاباں کی مہندی کی رسم تھی گو اس نے ظعینہ کو مایوں کے بعد گھر جانے سے منع کردیا تھا مگر وہ رکی نہیں تھی اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ مہندی سے ایک روز پہلے رہنے کے لیے آجائے گی۔ اور حسب وعدہ وہ رہنے کے لیے آگئی تھی۔ لائونج کی جانب بڑھتے ہوئے اچانک اسے احساس ہوا تھا جیسے کسی نے اس کا نام پکارا ہے‘ چونک کر مڑی۔ خود سے مخاطب شخص کو دیکھ کر اس نے گہری سانس لی۔
’’کیسی ہو ظعینہ!‘‘ ایک سنجیدہ سی نظر اس پر ڈال کر ہٹاتے ہوئے دریافت کیا۔ انداز ایسا تھا جیسے فرض ادا کررہا ہو۔
’’میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟‘‘ وہ بھی مروتاً رک گئی تھی۔
’’ہوں‘ اچھا ہوں۔‘‘ اس کے بعد کتنے ہی پل ان دونوں کے درمیان معنی خیزسی خاموشی چھائی رہی تھی۔ دونوں ہی اس ادھیڑ بن میں الجھے ہوئے تھے کہ کیا بات کریں۔
’’اسٹڈیز کیسی جارہی ہے تمہاری؟‘‘ تبھی اس نے پوچھا۔
’’جی‘ بہت اچھی۔‘‘ آہستگی سے جواب دیا۔
’’آپ…‘‘
’’تم…! ہاں تم کہو؟‘‘ وہ دونوں ایک ساتھ مخاطب ہوئے تھے۔ تبھی اس نے اسے پہلے بولنے کو کہا۔
’’نہیں آپ بات کریں‘ میں کچھ خاص تو…‘‘
’’ارے ظعینہ… کیسی ہو بیٹا؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ جملہ مکمل کرتی بڑے ماموں (ہاشم بیگ) چلے آئے اور پیار اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ مسکرا کر ان کی جانب پلٹی۔
’’السلام علیکم بڑے ماموں! کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں بیٹا… اتنے دنوں بعد آئیں؟‘‘
’’جی ماموں جان‘ ایکچوئیلی پاپا کی وجہ سے آج کل میں گھر سے باہر زیادہ نہیں رہتی‘ اس لیے میں پہلے نہ آسکی۔‘‘ حسن احمد بخاری کے ذکر پر ان کی تیوری پر بل پڑگئے تھے‘ انہوں نے بمشکل ضبط کیا۔ ظعینہ ان تاثرات کے پس منظر سے انجان نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی پاپا کا ذکر انہیں کتنا ناگوار گزرتا تھا‘ مگر وہ کیا کرتی‘ وہ اس کے باپ تھے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا ذکر آجاتا تھا۔
’’اور پھر یونیورسٹی بھی جانا ہوتا ہے‘ اس لیے بھی۔‘‘ ان کے تیور دیکھ کر اس نے فوراًً بات بدلی۔ وہ مسکرادیے۔
’’ہاں بیٹا جانتا ہوں اور سنائو پڑھائی کیسی جارہی ہے تمہاری؟‘‘
’’بہت اچھی بڑے ماموں۔‘‘ وہ آہستگی سے مسکرائی۔
’’اگر کبھی کوئی مشکل آئے تو بیٹا اس سے ہیلپ لے لیا کرو۔ یہ بھی تو وہیں ہوتا ہے؟‘‘ ان کی بات پر وہ بری طرح چونکی۔
’’کیا آپ میری یونیورسٹی میں ہیں؟‘‘ اس نے خاصی حیرانگی سے استفسار کیا۔
’’ہاں بیٹا… کیوں تمہیں نہیں پتا؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ہاشم بیگ نے مصنوعی حیرانگی سے دیکھا۔ ان کے انداز پر اس نے لب بھینچے تھے اور دوسری جانب دیکھنے لگا۔
’’نہیں ماموں جان‘ میں نہیں جانتی‘ ایکچوئیلی میں نے انہیں کبھی وہاں دیکھا نہیں۔ اس لیے شاید مجھے علم بھی نہیں ہوسکا۔‘‘ اس کی بات پر انہوں نے بڑے جتاتے ہوئے انداز میں اس کی جانب دیکھا مگر وہ ادھر متوجہ نہیں تھا۔
’’کوئی بات نہیں بیٹا… اب تو علم ہوگیا ناں؟ کوئی بھی پرابلم ہو اس سے کہہ دینا اوکے۔‘‘
’’جی ماموں جان۔‘‘
’’اور تم بھی ’’اب‘‘ خیال رکھنا۔‘‘ ان کی ’’اب‘‘ میں چھپے ہوئے معنی کو سوچ کر اس نے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔
’’کیوں؟‘‘ ظعینہ سمجھ نہیں پائی تھی۔
r…m…r
’’افوہ بھئی میں اعتراف کر تو رہی ہوں کہ غلطی میری تھی‘ اب کیا پیپر پر لکھ کر دوں تب آپ کو یقین آئے گا کیا؟‘‘ تنگ آکر اس نے کسی قدر تڑخ کر کہا۔ مگر سامنے کھڑا بندہ لگتا تھا بہت فرصت میں ہے۔
وہ کچھ ضروریات اشیاء کی خریداری کے لیے مارکیٹ آئی تھی‘ واپسی پر بے دھیانی میں ایک گاڑی کے ساتھ ٹکرا گئی‘ اس کے ہاتھ میں نائف تھی۔ جو تیز دھار تھا‘ وہ اسے شاپنگ بیگ میں ڈالنا بھول گئی تھی اور یہی اس سے غلطی ہوگئی۔ لڑکھڑانے کی وجہ سے نائف کی تیز دھار نوک گاڑی کے بونٹ پر لمبا سا نشان بنا گئی تھی۔ شومئی قسمت کہ گاڑی کا مالک بھی عین ٹائم پر پہنچ گیا اور اس کی شامت آگئی۔
وہ شخص پچھلے آدھے گھنٹے سے اس سے فضول کی بحث کررہا تھا۔ یا پھر خوامخواہ میں بات کو بڑھانا چاہ رہا تھا۔ بارہا اس نے کہا کہ یہ غلطی اس نے جان بوجھ کر نہیں کی بلکہ انجانے میں ہوئی ہے‘ مگر وہ شخص مان کے ہی نہ دے رہا تھا۔ بالآخر اس فضول لاحاصل بحث سے اکتا کر اس نے ہار مانتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ غلطی اس کی ہے‘ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
’’او میڈم آپ کے اعتراف سے میرا نقصان پورا ہوجائے گا کیا؟ یہ گاڑی آج ہی نئی خریدی ہے میں نے‘ میں ایسا رئیس زادہ تو ہوں نہیں کہ موڈ کے ساتھ ساتھ گاڑیاں چینج کرتا رہوں گا۔ یا پھر اپنی گاڑی کے نقصان کو بھول کر اٹس اوکے کہہ کر چھوڑ دوں گا۔ میرا نقصان ہوا ہے محترمہ۔ آپ جو بڑے دھڑلے سے اپنی غلطی کا اعتراف کررہی ہیں‘ آپ کے اس سوکھے اعتراف کا میں اچار ڈالوں گا کیا‘ یا پھر میرا نقصان پورا ہوجائے گا؟‘‘ وہ شخص تو جیسے جان لینے کے در پہ ہوگیا تھا۔ اس کا کوفت کے مارے براحال ہورہا تھا۔
’’تو اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیسے پورا کروں میں آپ کا نقصان؟ آپ مجھے بتائیے کتنا نقصان ہوا ہے آپ کا‘ میں آپ کو پیسے دے دوں گی۔‘‘ شاپنگ کے بعد اس کے بیگ میں گھر تک جانے کے لیے کرائے کے پیسے تھے‘ اور گھر میں بھی شاید مہینے کے اینڈ تک گزارے لائق ہی روپے ہوں گے اور ایسے میں یہ نقصان۔ مگر مجبوری تھی وہ شخص ایسے تو چھوڑنے والا نہیں لگ رہا تھا‘ اسی لیے کہہ گئی۔
’’دے دوں گی کا کیا مطلب ہوا بھئی‘ آپ کو کیا لگتا ہے میں آپ کو ایسے ہی چھوڑ دوں گا۔ مجھے ابھی پیسے چاہیں۔‘‘ اس کی بات پر وہ شخص بدکا۔
’’دیکھیے میرے پاس اس وقت روپے نہیں ہیں‘ آپ مجھے اپنا ایڈریس دے دیں میں آپ کے روپے پہنچادوں گی۔‘‘ بڑے تحمل سے گویا ہوئی تھی۔
’’ارے واہ‘ آپ کو کیا لگتا ہے آپ مجھے جھانسا دے کر بھاگ جائیں گی اور میں آپ کو ایسے ہی جانے دوں گا۔ نہ بی بی نہ میں تو اپنے بھائی پر اعتبار نہ کروں‘ آپ تو پھر غیر ہیں۔ آج کل کون کسی پر اعتبار کرتا ہے۔ زمانہ ہی ایسا ہے۔‘‘
’’آپ کو اعتبار کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘ سو پلیز۔‘‘
’’نہیں جی‘ مجھے اعتبار نہیں ہے‘ ابھی پیسے نکالیے ورنہ…‘‘
’’ورنہ کیا ہاں؟‘‘ اسے تو جیسے پتنگے لگ گئے تھے۔ چٹخ کر پوچھا۔
’’اینی پرابلم۔‘‘ بارعب اور سنجیدہ مگر مانوس سی آواز پر آغامینا چونک کر پلٹی تھی۔ اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے تاثرات تیزی سے بدلے تھے۔ چہرے پر پہلے ہی بیزاریت چھائی ہوئی تھی‘ وہ مزید گہری ہوگئی تھی۔ ناگواریت میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ وہ پہلے ہی اس جیسے ایک شخص کو جھیل رہی تھی‘ اب ایک اور آگیا تھا۔
’’کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ اس کی مسلسل خاموشی پر ناگواری سے اس پرسرسری سی نگاہ ڈالا کر اب کہ اس شخص سے پوچھا۔
’’پرابلم ہے بھائی صاحب‘ ورنہ شوق سے تو بیچ راہ میں کھڑے ہوکر مذاکرات نہیں کررہے۔‘‘ اس شخص نے قدرے برا مانتے ہوئے جواب دیا۔ غالباً اس کی مداخلت پسند نہیں آئی تھی۔
’’وہی پوچھ رہا ہوں بھئی‘ کیا پرابلم ہے؟ مجھے بتائیں میں حل کردیتا ہوں۔ یہ میرے ساتھ ہیں۔‘‘ اس نے انتہائی تحمل سے اپنے ساتھ کھڑی خاتون کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
اس کے آخری جملے پر ساتھ کھڑی خاتون نے کڑے تیوروں سے گھور کر دیکھا مگر وہ اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ لیکن اس کی نظروں کی ناگواریت سے انجان بھی قطعی نہیں تھا۔
’’دیکھیے بھائی صاحب‘ یہ گاڑی میں نے آج ہی خریدی ہے‘ بالکل نئی‘ ایک خراش بھی نہیں تھی اس پر‘ ان محترمہ نے یہ اتنا لمبا سا نشان ڈال دیا ہے اس پر۔‘‘ اس کے انداز پر آغامینا خجل سی ہوگئی۔
’’کتنے روپوں کا نقصان ہوا ہے آپ کا؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ اس مسئلے کو طول دیتا اس نے فوراً پوچھا۔ لہجہ اور انداز انتہائی سرد تھے۔
’’اب یہ تو مجھے علم نہیں ہے‘ یہ تو ورکشاپ لے کر جائوں گا تو وہیں جاکر پتا چلے گا۔ پہلی بار گاڑی خریدی ہے اب…‘‘
’’یہ لیجیے‘ میرا خیال ہے یہ اس نقصان سے بڑھ کر ہیں۔‘‘ اس آدمی کو شاید عادت تھی ہر بات تفصیل سے کرنے کی‘ جبکہ اسے ٹو دا پوائنٹ بات پسند تھی‘ اس لیے اس نے اسے ٹوکا اور وائلٹ سے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھادیے۔ اس شخص نے حیرانگی سے پہلے اس کے سرد اور کرخت سے انداز کو دیکھا اور دوسری نظر ساتھ کھڑی لڑکی پر ڈالی جو حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص روپے پکڑتا‘ آغامینا نے چھین لیے۔
’’ایکسکیوز می مسٹر‘ یہ میری پرابلم ہے اور اپنی پرابلمز سولو کرنا آتا ہے مجھے۔ میرا خیال ہے یہ آپ اب تک جان چکے ہوں گے۔ لیکن پھر بھی ہر بار مجھے پروف کرنا پڑتا ہے۔‘‘ اس کی جانب طنزیہ انداز میں دیکھتے ہوئے جتا کر کہا۔ زادیار استہزائیہ مسکرایا۔
’’جی ہاں‘ جانتاہوں‘ کہ آپ اپنی پرابلمز خود سولو کرتی ہیں اور یہ بھی جانتا ہوں کس طرح کرتی ہیں۔ لیکن آپ کی یہ پرابلمز دوسری کتنی ہی پرابلمز سے ذرا مختلف ہے سو پلیز۔ اپنا تماشا بنانے سے بہتر ہے کہ مجھے میرا کام کرنے دیجیے اور خاموش رہیے۔‘‘ لفظ تماشا پر آغامینا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
’’تماشا… میں اپنا تماشا بنارہی ہوں؟‘‘ کسی قدر بے یقینی کے ساتھ استفسار کیا۔ دوسری جانب زادیار بنا اس کی جانب دیکھے اس کے ہاتھ سے روپے لے کر اس آدمی کو تھما چکا تھا اور وہ شخص روپے لے کر ڈرائیونگ ڈور کھول رہا تھا۔ آغامینا زادیار کو ہاتھ سے پیچھے کرتی ہوئی آگے بڑھی۔
’’ایک منٹ رکیے مسٹر! آپ سے کس نے کہا ہے روپے لینے کو‘ واپس دیجیے مجھے۔‘‘ آواز میں کسی قدر سختی در آئی تھی۔
’’دیکھیے محترمہ میرے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں ہے کہ میں یہاں روڈ پر کھڑے ہوکر آپ سے بحث کروں یا پھر آپ کے ساتھ آپ کے گھر جاکر روپے لوں‘ اعتبار میں کسی پر کرتا نہیں‘ یہ میں آل ریڈی آپ کو بتاچکا ہوں۔ ان صاحب نے مجھے روپے دے دیے ہیں اور ان کے اور آپ کے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کو جانتے ہیں‘ اس لیے آپ کو جو کہنا ہے ان سے کہیے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی رکا نہیں گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی بھاگا لے گیا اور وہ بس دیکھتی رہ گئی۔ زادیار نے بڑے استہزائیہ انداز میں مسکراتے ہوئے دیکھا۔ وہ خجل سی ہوگئی۔ دوسرے ہی پل وہ بنا کچھ کہے جانے لگا۔
’’سنیں…‘‘ تبھی آغامینا نے پکارا۔
’’فرمائیے۔‘‘ بنا پلٹے سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’میں آپ کے روپے جلد ہی لوٹادوں گی۔ ڈونٹ وری۔‘‘ وہ جو سمجھ رہا تھا کہ شکریہ ومعذرت جیسے الفاظ سننے کو ملنے والے ہیں‘ کیونکہ اس کا انداز ہی کچھ ایسا تھا‘ اس کا ایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہیں تھا۔ مگر دوسری جانب تو جیسے اس کو ان الفاظ کا اہل ہی نہ سمجھا گیا تھا۔ وہ طنزاً مسکرایا۔
’’نوازش… شکریہ‘ آپ میرے روپے لوٹائیں گی تبھی تو میرا محل تعمیر ہوگا‘ ورنہ تو شاید ہی مجھے چھت نصیب ہو؟‘‘ وہ اس کے انداز پر شرمندہ سی ہوگئی۔
’’میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا‘ میں صرف اتنا کہنا چاہ رہی ہوں کہ آپ سے میں نے مجبوراً ہیلپ لی ہے‘ اگر اس وقت میرے پاس پیسے ہوتے تو ایسی غلطی کبھی نہ کرتی۔‘‘
’’جی ہاں… اچھی طرح جانتا ہوں اور جتنا جانتا ہوں اتنا کافی ہے۔ مزید کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کی بات پر طنزیہ انداز میں جواب دے کر وہ رکا نہیں تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
’’گو ٹو ہیل۔‘‘ آغامینا نے چند پل اس کی چوڑی پشت کو گھور کر دیکھا اور غصے سے کہہ کر اپنے راستے چل دی۔
r…m…r
تاباں کی مہندی تھی۔ جو ڈریس اس کے لیے تاباں اور ذری نے مل کر پسند کیا تھا وہ ٹپیکل مہندی کے فنکشن والا ڈریس تھا۔ یلو شلوار قمیص اور گرین بڑا سا دوپٹہ‘ گو اسے وہ اچھا لگا تھا کیونکہ شرٹ پر بہت نفیس سی ایمبرائیڈی بنی ہوئی تھی۔ مگر چونکہ تقریباً سبھی لڑکیوں کے ایسے ہی ڈریسز تھے اس لیے اس نے پہننے سے انکار کردیا۔ جانے کیوں اس کا دل چاہ رہا تھا مکمل گرین ڈریس پہنے کو‘ اس لیے وہ ان سب کو بنا بتائے مارکیٹ چلی آئی۔ بہت دیر تک وہ بوتیک میں گھومتی رہی‘ ایک ایک ڈریس کو دیکھتی پسند کرتی اور سلیکٹ کرکے خود ہی ریجیکٹ کرتی رہی‘ آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوگیا تھا اب وہ خود ہی اکتا سی گئی تھی۔ تبھی اچانک جب وہ وہاں سے بنا کچھ خریدے جانے لگی اسے ایک ڈریس پسند آگیا‘ گو وہ ابھی بھی اس کے معیار پر پورا نہیں اترا تھا مگر پھر بھی اس فنکشن کے لیے قابل قبول لگا تھا۔ جونہی اس نے ہینگر سے اتار کر اسے اپنے ساتھ لگا کر قد آدم آئینے میں خود کو دیکھا‘ کوئی اس کے عین پیچھے آن رکا اور اس پر ایک گہری نگاہ ڈالتے ہوئے برا سا منہ بنایا تھا۔
’’اوں… ہوں کچھ خاص نہیں ہے۔‘‘ مانوس سی آواز پر اس نے چونک کر آئینے میں دیکھا‘ ایک بازو سینے پر باندھے دوسرے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے ہوئے کچھ سوچتا ہوا سا ارقام ملک کھڑا تھا۔ ظعینہ کے لبوں پر مسکراہٹ آن رکی تھی۔ وہ فوراً پلٹی۔
’’کیوں… اس میں کیا برائی ہے؟‘‘ استفسار کیا۔
’’میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی برائی ہے اور پھر ڈریسز میں برائی کہاں سے آگئی بھئی۔‘‘ ہمیشہ کی طرح بات کو الٹ کرتے ہوئے پر سوچ انداز میں گویا ہوا۔ ظعینہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کچھ ایسا انداز اپنایا جیسے کہہ رہی ہو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
’’میں یہ کہہ رہی تھی کہ یہ ڈریس اچھا کیوں نہیں ہے؟ کلرکمبینشن اچھا ہے‘ کام بہت نفیس ہے اور دوپٹہ کتنا یونیک سا ہے ناں اور پھر…‘‘
’’تم جو کہہ رہی ہو وہ صحیح ہے اور پسند تو اپنی اپنی ہوتی ہی‘ اگر تمہیں یہ پسند ہے تو خرید لو۔ میں نے تو منع نہیں کیا۔ میں تو اپنی رائے دے رہا تھا۔ اور مجھے یہ کچھ جچا نہیں۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ اس کے کہنے پر اب کہ ظعینہ نے پھر سے تنقیدی نگاہ سے دوبارہ ڈریس کو دیکھا۔ یہ اس کے کہنے کا اثر تھا یا کچھ اور مگر اب اسے بھی وہ کچھ خاص نہ لگ رہا تھا۔
’’آپ کے خیال میں مجھے کس طرح کا ڈریس لینا چاہیے۔‘‘ ڈریس کو واپس اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے اس نے ارقام کی رائے لینا چاہی۔
’’جو ڈریس میں چوز کروں گا کیا تم وہ لوگی؟‘‘ گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ انداز کچھ خاص تھا۔
’’اگر وہ مجھے پسند آیا تو ظاہر ہے ضرور لوں گی لیکن اگر مجھے وہ پسند نہ آیا تو ایم سوری۔‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
’’یار تمہیں تو دل رکھنا بھی نہیں آتا۔‘‘ برا سامنہ بناتے ہوئے گویا ہوا۔
’’رکھا تو ہے اور کیسے رکھوں؟‘‘ بہت آہستگی سے اور معنی خیزی سے کہا ۔ وہ جھٹکے سے پلٹا۔
’’کیا کہا… پھر سے کہنا؟‘‘
’’کیا… میں نے کیا کہا ہے؟‘‘ اس نے فوراً لاعلمی سے کندھے اچکائے۔
’’ابھی تم نے کہا ناں کہ دل رکھا تو ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘ وہ بے تابی سے گویا ہوا۔ ظعینہ نے مسکراہٹ روکتے ہوئے گہری سنجیدگی سے دیکھا۔
’’ہاں تو‘ آپ نے میرے لیے ڈریس چوز کرنے کو کہا؟‘‘
’’تو…؟‘‘ اس نے کچھ حیرت اور ناسمجھی سے دیکھا۔
’’تو میں نے آپ کا دل رکھنے کے لیے ہاں کہا تو ہے‘ اس میں کیا خاص بات ہے۔‘‘ اس کے بے نیازی سے کہنے پر ارقام نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
’’واہ… کیا دل رکھا ہے‘ اینی وے‘ بتائیے کیسا ڈریس چاہیے آپ کو؟‘‘ طنزاً دیکھا۔
’’اچھا ہاں‘ تمہاری کزن کی شادی ہے ناں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کس فنکشن کے لیے ڈریس چاہیے تمہیں؟‘‘
’’مہندی کے فنکشن کے لیے‘ لیکن پلیز‘ آج کل… جو مہندی کے فنکشن میں پہنے جانے والے ڈریسز کا کونسیپیٹ چل رہا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے‘ کچھ ڈیفرینٹ سا ہونا چاہیے۔‘‘
’’یعنی منفرد نظر آنا چاہتی ہیں محترمہ۔‘‘ ارقام مسکرایا۔
’’جی نہیں‘ مجھے ایسا کوئی شوق لاحق نہیں ہے اور میرا نہیں خیال کہ ڈریس اپ ہونے سے بندے میں انفرادیت نظر آجاتی ہے‘ ہاں بندہ نظر الگ سے آتا ہے لیکن بندے کی اپنی پرسنالٹی اسے منفرد بناتی ہے‘ جو کہ آل ریڈی میں ہوں۔‘‘ اپنے نادیدہ کالر اکڑاتے ہوئے خاصے فخریہ انداز میں کہا‘ ارقام خاصا محظوظ ہوا اس کے انداز پر۔
’’ہاں جی‘ یہ مجھ سے بہتر بھلا اور کون جان سکتا ہے۔ خیر‘ بتائیے آپ کو کس قسم کا منفرد ڈریس چاہیے۔‘‘
’’انفرادیت تو نظر آجاتی ہے‘ یہ تو اب آپ پر ہے کہ آپ کی نظر میں انفرادیت کسے کہتے ہیں۔ آپ پہلے سلیکٹ کریں پھر دیکھتے ہیں۔‘‘
’’اوکے… یعنی مجھے مکمل اختیار ہے‘ ہوں۔‘‘
’’پرفیکٹ‘ یہ لو‘ میری نظر میں اس پوری بوتیک میں اس سے منفرد ڈریس اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ بہت ہی خوب صورت مکمل گرین ڈریس اس کے سامنے لاتے ہوئے وہ گویا ہوا۔
’’وائو‘ اٹس بیوٹی فل۔‘‘ ڈریس کو دیکھ کر بے ساختہ اس کے منہ سے تعریفی جملہ نکلا۔ حالانکہ وہ اسے ستانا چاہتی تھی مگر ڈریس دیکھ کر وہ بھول ہی گئی تھی۔ ڈریس پر بہت نفیس سا کام بنا ہوا تھا۔ پہلی نظر میں ہی وہ اسے بھا گیا تھا۔
’’پسند آیا۔‘‘
’’بہت زیادہ…حیرت ہے مجھے پہلے یہ نظر کیوں نہیں آیا۔ یہ تو پرفیکٹ ہے۔‘‘
’’دیکھ لو‘ ہماری نظر کیسے انفرادیت کو جانچ لیتی ہے۔‘‘ اس نے کالر اکڑائے۔
’’ہوں ماننا پڑے گا۔ اینی وے تھینک یو‘ آپ نے میری بہت ہیلپ کی۔‘‘
’’ویلکم جناب‘ ویسے کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں تمہیں اس ڈریس کو پہنے ہوئے دیکھ سکتا۔‘‘ اس کے انداز میں حسرت تھی۔ ظعینہ نے چونک کر دیکھا۔
’’یہ ایسا ناممکن بھی نہیں ہے۔‘‘
’’مطلب…!‘‘ اس نے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’آپ رکیں میں بس پانچ منٹ میں آتی ہوں۔‘‘ اسے رکنے کا کہہ کر وہ ڈریس تھامے تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس نے حیرت سے کندھے اچکائے اور اس کا انتظار کرتے ہوئے یونہی اردگرد نظریں دوڑانے لگا۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ظعینہ اس کا پسند کیا ہوا ڈریس زیب تن کیے اس کے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔
’’ہوں… ہوں۔‘‘ اور گلا کھنکھارتے ہوئے اسے متوجہ کیا۔ وہ چونک کر پلٹا تھا۔ اسے اپنے چوز کیے گئے ڈریس میں دیکھ کر وہ کتنے ہی پل خاموش سا دیکھتا رہ گیا۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود کچھ بول ہی نہ پایا تھا۔ الفاظ گویا گم ہوگئے تھے۔
’’کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ بڑے اشتیاق سے استفسار کیا۔
گو پسندیدگی اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی مگر وہ اس کے منہ سے سننا چاہتی تھی۔ ارقام کو شرارت سوجھی‘ گہری سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’اوہ… بس سو سو ہے۔‘‘ اسے بغور دیکھتے ہوئے منہ بنایا۔
’’واٹ…! سو سو ہے؟‘‘ وہ گہرے صدمے سے بولی۔
’’نہیں… ٹھیک لگ رہا ہے۔‘‘
’’ٹھیک لگ رہا ہے‘ ارقام‘ صرف ٹھیک لگ رہا ہے۔‘‘ وہ خفا خفا سی لگی۔ ارقام کا دل ایک دم بے چین سا ہوا۔ مگر ظاہر نہیں کیا۔
’’سچ بولوں یا جھوٹ؟‘‘ کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں استفسار کیا۔
’’جو آپ کا دل چاہ رہا ہے وہی بول دیں۔‘‘ مصنوعی ناراضگی سے منہ پھلا کر کہا۔ ارقام چند پل گہری نظر سے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
’’اتنی حسین لگ رہی ہو کہ اگر آسمان کے چاند سے تشبیہ دوں تو کچھ غلط نہ ہوگا مگر میں تمہیں چاند نہیں کہوں گا‘ کیونکہ چاند میں داغ ہے اور تم اتنی صاف شفاف جیسے چودھویں کے چاند کی چاندنی۔‘‘ چہرہ اس کے قریب کرتے ہوئے سرگوشیانہ انداز اپنایا۔ لہجہ اتنا گہرا تھا کہ اس کے لہجے کی گہرائی کو محسوس کرتے ہوئے ظعینہ کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی تھی۔ وہ سر جھکا کر شرمائی۔ ارقام خاصا محظوظ ہوا۔
’’اتنا جھوٹ کافی ہے یا…‘‘ شرارت سے استفسار کیا۔ ظیعنہ نے سر اٹھا کر خفگی سے گھورا۔
’’کافی ہے… اتنا جھوٹ میں ہضم کرلوں گی۔ اگر سچ ہوتا تو ہضم کرنا دشوار تھا۔ اینی وے تھینکس۔ کیا اب میں چینج کرلوں۔‘‘
’’میں نے کب روکا… جائیے۔‘‘ مصنوعی حیرت سے دیکھا۔ ظعینہ گھور کر رہ گئی۔ ڈریس چینج کرکے جب وہ باہر آئی تو ارقام کہیں نہیں تھا۔ اردگرد متلاشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ کائونٹر پر چلی آئی۔
’’اسے پیک کردیجیے پلیز۔‘‘ ڈریس اسے تھما کر بیگ سے روپے نکال کر اسے تھمائے۔
’’اس ڈریس کی پیمنٹ ہوچکی ہے میم۔‘‘ اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔ ظعینہ بری طرح چونکی۔
’’پیمنٹ ہوچکی ہے‘ لیکن کس نے کی؟‘‘ اسے سمجھ تو آگئی تھی مگر جاننا ضروری سمجھا۔
’’ارقام صاحب نے اور یہ بھی آپ کے لیے چھوڑ کر گئے ہیں۔‘‘ اس نے کہہ کر چٹ اسے تھمائی۔
’’خوب صورت اور انوسینٹ گرل کے لیے‘ یہ ڈیفرینٹ سا ڈریس میری طرف سے۔ اگر یہ ڈریس آپ قبول کرلیں گی تو مجھے بہت اچھا لگے گا… ارقام۔‘‘ نوٹ پڑھتے ہوئے اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آن رکی۔ ڈریس پر مسکراتی ہوئی نظر ڈال کر وہ سرشار سی باہر نکل آئی تھی۔
r…m…r
’’آپ کو کچھ چاہیے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ کھٹ سے جواب موصول ہوا۔ وہ دل مسوس کر رہ گئی۔ وہ جتنی مرتبہ بھی کچن میں آئی تھی اسے کچھ تلاش کرتے ہوئے ہی پایا تھا۔ اب کی بار وہ رہ نہ پائی اور پوچھ لیا۔
’’اگر آپ کو کچھ چاہیے تو پلیز مجھے بتائیں۔ شاید میں آپ کی کچھ مدد کرسکوں۔‘‘ چند ثانیے وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی‘ دوبارہ سے پوچھا۔
’’یہ میری پرابلم ہے‘ اسے مجھے خود ہی سولو کرنا ہے‘ تم میری مدد نہیں کرسکتیں۔ کیونکہ تمہیں میری پروا نہیں ہے۔‘‘ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے منہ سے شکوہ نکلا‘ خود پر تائو بھی آیا۔
ہمیشہ وہ اسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا‘ اس کے گزشتہ رویے پر ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ اس سے بات نہ کرنے کا‘ کوئی گلہ شکوہ نہ کرنے کا عہد کرتا تھا‘ مگر پھر کر جاتا تھا‘ ابھی بھی بات کوئی اور چل رہی تھی اور وہ کہہ کچھ گیا تھا۔
’’آپ کی پروا ہے تبھی تو پوچھ رہی ہوں۔‘‘ جار کیبنٹ میں رکھتے ہوئے وہ آہستگی سے بڑبڑائی۔ تورع نے بمشکل اس کی بات کو سنا تھا۔
ایک پل کو اس کا دل اس کی چاہت محسوس کرکے لہک سا اٹھا تھا۔ مگر دوسرے ہی پل سچائی اس کا منہ چڑھائے تن کر آن کھڑی ہوئی تھی اور وہ طنزاً مسکرادیا۔
’’پروا… ہنہ جانے کیسی پروا ہے تمہاری‘ جس نے بیڑیوں میں قید رہ کر محض لفظوں سے دوسروں کا احساس کرنا سکھا دیا ہے تمہیں۔ یا پھر یہ سکھا دیا ہے کہ الفاظ ہی دوسروں کے لیے آپ کی پروا کو جتادیں گے۔‘‘
’’اب آپ خود غرض بن رہے ہیں۔‘‘ اس کے طنز کو نظرانداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ اس کی طرف سے ابھی بھی رخ موڑے ہوئے تھی۔
’’خود غرض‘ ہاں شاید‘ میں خود غرض ہورہا ہوں‘ تبھی تو صرف اپنے بارے میں سوچتا ہوں۔ اپنے جذبات‘ کو لے کر جذباتی ہورہا ہوں۔ ہر کسی سے لڑائی کررہا ہوں‘ یہ تو سوچ ہی نہیں رہا کہ تمہارے بھی کچھ احساسات وجذبات ہوسکتے ہیں‘ جن کا میری ذات سے کوئی تعلق واسطہ نہیں‘ ہاں مجھے یہ بھی تو سوچنا چاہیے‘ میں صرف اپنے بارے میں ہی کیوں سوچ رہا ہوں۔ اتنا خود غرض کیوں بن رہا ہوں۔‘‘ وہ طنزاً پوچھ رہا تھا۔ ذری نے سر جھکاتے ہوئے ہونٹ بھینچے تھے۔
’’آپ ہر بات کو غلط انداز میں لینے کی عادی ہوچکے ہیں تورع؟‘‘
’’کچھ غلط ہے کیا؟ جب میری ہر سوچ کی نفی ہورہی ہو‘ میری ہر بات کو غلط انداز میں لیا جارہا ہو‘ میرے جذبوں کی سچائی سے انکار کیا جارہا ہو اور اس بات کا انکار کوئی اور نہیں خود وہ انسان کرتا ہو جو میرے جذبوں کی سچائی سے واقف ہے‘ جو مجھے جانتا ہے‘ وہ ایسا کررہا ہو تو‘ مسز تورع حسن بخاری‘ تو پھر ایسا کچھ بھی سوچنا کچھ غلط ہے کیا؟‘‘
’’ہاں غلط ہے‘ کیونکہ آپ جو سوچتے ہیں وہ غلط ہے‘ جو آپ کرتے ہیں وہ غلط ہے‘ آپ جو سوچنا چاہتے ہیں وہی سوچ رہے ہیں‘ ورنہ آپ کے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے جیسے پہلے تھا‘ حقیقت یہ ہے کہ آپ خود بدل گئے ہیں۔ آپ کے سوچنے کا انداز بدل گیا ہے‘ محض ذرا سی بات کو لے کر‘ ایک چھوٹے سے فیصلے کے ردعمل کے طور پر اور سچ یہ ہے کہ آپ شروع سے ہی اس فیصلے کو ایکسپیٹ نہیں کرپائے۔ حالانکہ یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں‘ نہیں کر پارہا میں ایکسپٹ‘ اور کیوں کروں آخر؟ اور یہ کیسا فیصلہ ہے جس سے ایک نہ دو بلکہ چار چار زندگیاں تباہ ہورہی ہوں۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ جو فیصلہ ہماری زندگی کے لیے کیا گیا ہے وہ صحیح ہے‘ سچ سچ بتانا۔ تمہیں لگتا ہے کہ یہ صحیح ہورہا ہے‘ ہاں بولو ذری‘ تمہارے نزیک یہ سچ صحیح ہے۔‘‘ اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اپنے پرانے والے انداز میں اسے ذری کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا۔ اس لمحے وہ اسے پرانا والا تورع لگا تھا۔
اس کا تورع‘ ذری کا تورع‘ ذری نے سر اٹھا کر بڑی حسرت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ سب کہہ دے جو وہ سننا چاہتا ہے۔ جو وہ جاننا چاہتا ہے۔ اس کے بدلے ہوئے رویے کی ایک یہی تو بڑی وجہ تھی کہ وہ اپنے جذبوں کو زبا ں نہ دے پارہی تھی۔ وہ نہیں کہہ پارہی تھی جو وہ سننا چاہتا تھا‘ وہ اس کا ساتھ چاہتا تھا۔ مگر وہ ناچاہتے ہوئے بھی نفی کررہی تھی۔ دل کہہ رہا تھا کہہ دے اور دماغ مسلسل انکاری تھا۔ بیچ منجدھار میں کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔ شاید اس کے بازو پر اس کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت تکلیف دے رہی تھی۔ یا پھر دل اور دماغ کی مسلسل پکار سے کنفیوز ہوکر وہ بے چین ہورہی تھی۔ وہ سمجھ نہ پائی تھی۔
’’تورع میں…!!‘‘
’’ذری…!‘‘ اپنے ذہن اور دل کی بازگشت کو جھٹکتے ہوئے دانستہ نظر انداز کرتے ہوئے‘ وہ کچھ کہنے جارہی تھی۔ شاید تورع کے دل کا بوجھ کم کرنے‘ یا اسے مزید بڑھانے… مگر… اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ہاشم بیگ تیزی سے اندر داخل ہوئے اور سخت کھردرے لہجے میں اسے پکارا۔ غالباً اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
ذری نے جھٹکے سے خود کو تورع کی گرفت سے آزاد کرایا۔ انداز ایسا تھا جیسے کوئی برا خواب دیکھ رہی تھی اور ڈر کر اٹھی ہو۔ تورع نے لب بھیجتے ہوئے بے یقینی سے اس کے آنسوئوں سے تر چہرے کو دیکھا اور ایک سرد اور طنزیہ نگاہ اس پر ڈال کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔
ہاشم بیگ کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔ دوسرے ہی لمحے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ ذری نے آنسو روکتے ہوئے سر جھکا لیا۔ ہاشم بیگ ایک نظر ڈال کر دوبارہ باہر نکل گئے تھے۔ بنا کچھ کہے۔
r…m…r
بیس روز ہوچکے تھے اسے جاب تلاش کرتے ہوئے۔ کتنے ہی انٹرویو دے چکی تھی‘ ہر انٹرویو کے بعد ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا تھا۔ کیونکہ جن شرائط پر وہ جاب کرنا چاہتی تھی اس کا تصور بھی نہیں تھا کہیں بھی اور جن شرائط پر اسے رکھا جاسکتا تھا‘ وہ اس کے لیے قابل قبول نہ تھیں۔ آج بھی وہ امید وبیم کی کیفیت میں انٹرویو دینے چلی آئی تھی۔ وہاں پہنچتے ہی اسے اندازہ ہوا کہ وہ لیٹ ہوچکی ہے۔ امید کا دیا روشن ہونے سے قبل ہی بجھ گیا تھا۔ سست روی سے سر جھکائے آگے بڑھی تھی۔ اور بے خیالی میں ہی کسی سے بری طرح ٹکرا گئی۔ نتیجتاً ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل زمین بوس ہوگئی تھی۔
’’اوگاڈ…! ایم سو سوری سر۔‘‘ ٹکرانے والے کو بنا دیکھے معذرت کرتے ہوئے فائل اٹھانے کو جھکی تھی۔ فائل اٹھا کر سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھا‘ کچھ مانوس سے لگے تھے اسے۔ بے پناہ رعب ودبدبے والی شخصیت تھی۔ چہرے کے نقوش سے سختی بہت واضح معلوم ہورہی تھی۔ پہلی ملاقات میں ہی کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ خاصی غصہ ور شخصیت کے انسان ہیں۔ وہ خاصی پراعتماد تھی‘ بنا ڈرے جھجکے بات کرلیتی تھی مگر ان کی شخصیت میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ گھبرا سی گئی۔ ان کی آنکھوں کے عجیب سے تاثرات سے وہ الجھی بھی تھی۔ وہ بالکل خاموش یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے۔ آنکھوں میں حیرت وبے یقینی سی تھی۔ وہ اس کے چہرے کے خدوخال میں جانے کسے تلاش کررہے تھے۔ شاید اپنے کسی بہت ہی قریبی رشتے کو۔ وہ بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہے تھے۔ انداز ایسا تھا جیسے اگر غلطی سے بھی پلکیں جھپک گئی تو کہیں وہ کھو ناجائے۔
’’ایکسکیوز می سر!‘‘ اس نے کچھ گھبرائے ہوئے سے انداز میں پکارا۔ مگر وہ ہنوز خاموش کھڑے تھے۔
’’ہیلو سر!‘‘ جواب ندارد۔
’’کیا ہوا سر… آریو اوکے؟‘‘ اب کہ اس نے قدرے اونچی آواز میں پوچھا۔ وہ ایک دم چونکے۔
’’تم… تم…‘‘ وہ جانے کن خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ بات بھی پوری نہ کرسکے۔
’’جی میں… آغامینا ہوں سر۔ انٹرویو کے لیے آئی ہوں۔‘‘ اس نے جو سمجھا تھا‘ اس کا جواب دے دیا۔ اس کی بات پر وہ یکلخت چونکے۔ انداز ایسا تھا جیسے کسی اور خیال میں تھے۔ اس کے وجود میں کسی اور کو تلاش کررہے ہوں یا پھر اسے ہی کوئی اور سمجھ بیٹھے تھے۔ آغامینا کو ان کا ہر انداز حیرت میں مبتلا کررہا تھا۔ وہ اسے کچھ عجیب مگر مانوس سے لگے تھے۔
’’آں ہاں… اچھا اچھا۔ انٹرویو کے لیے آئی ہو؟‘‘
’’جی میں انٹرویو کے لیے آئی تھی مگر لیٹ ہوگئی۔‘‘ کسی قدر افسوس سے سرہلاتے ہوئے کہا۔
’’ہوں… آئو میرے ساتھ۔‘‘
’’جی…!‘‘ اس نے بے یقینی اور حیرت سے دیکھا۔
’’ہاں بھئی آئو… میں یہاں کا ایم ڈی ہوں۔‘‘
’’جی…‘‘ وہ ٹھٹک کر رکی۔ انہوں نے پلٹ کر دیکھا اور دوبارہ اس کے قریب آئے۔
’’کیا ہوا رک کیوں گئیں؟ آئو۔‘‘ اس سے کہہ کر وہ پھر سے آگے چلنے لگے۔ اس نے بھی اپنی حیرت کو پس پشت ڈالتے ہوئے قدم بڑھادیے۔
’’بیٹھو۔‘‘ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ اتنی حیران ہورہی تھی کہ شکریہ تک کہنا یاد نہ رہا۔
’’کیا نام بتایا تھا تم نے اپنا؟‘‘ وہ پوری طرح اس کی جانب متوجہ تھے۔
’’جی… آغامینا سر۔‘‘
’’پورا نام!‘‘ ان کے لہجے میں محسوس کی جانے والی بے چینی تھی۔
’’آغامینا احمد۔‘‘
’’کہاں رہتی ہو؟‘‘ ایک اور سوال کیا گیا۔
’’اسی شہر میں رہتی ہوں سر۔‘‘
’’کب سے؟‘‘
’’پچھلے ایک برس سے یا پھر کچھ زیادہ۔‘‘ اس نے کندھے اچکائے۔
’’اس سے پہلے کہاں رہتی تھیں؟‘‘ ان کے سوال پر اکتاہٹ کا شکار ہوئی۔
’’جی اس سے پہلے ایک قصبے میں رہتی تھی۔‘‘ یہ ایک جھوٹ تھا جو اس نے لمحے کے ہزارویں حصے میں گھڑا تھا۔
’’اکیلی ہو؟‘‘
’’جی نہیں‘ میری امی ہیں میرے ساتھ۔‘‘ اسے کوفت ہورہی تھی ان کے سوالوں پر۔
’’تمہاری امی کا نام کیا ہے؟‘‘
’’کیا یہ سوالات میری جاب سے ریلیٹڈ ہیں سر۔‘‘ اپنی جھجک کو بھاڑ میں جھونکتے ہوئے پراعتماد انداز میں پوچھا۔
’’ہاں… نہیں تو… شاید‘ بس یونہی‘ جانے کس خیال میں پوچھ بیٹھا۔‘‘ وہ ماتھے کو انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جیسے گہری سوچ میں تھے۔ اس کے بعد وہ کافی دیر یونہی خاموش بیٹھے رہے۔
’’میں جائوں سر۔‘‘ ان کی مسلسل خاموشی سے بیزار ہوکر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آں ہاں… ہاں آپ جاسکتی ہیں۔‘‘ وہ مایوسی سے پلٹ گئی۔
’’ایک منٹ رکو۔‘‘
’’جی سر۔‘‘
’’تم کل سے جاب پر آجانا۔ اپائنٹ منٹ لیٹر تمہیں مل جائے گا۔‘‘
’’جی…!‘‘ ان کی بات پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات میں بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔ جبکہ وہ دوبارہ سے سر جھکائے جانے کہاں کھوچکے تھے۔ وہ کندھے اچکاتے ہوئے باہر نکل گئی مگر ان کے پراسرار انداز کو ذہن سے جھٹک نہ پائی تھی۔
r…m…r
زینب کو انہوں نے دو تین بار آواز دی مگر وہ جانے کہاں تھی کہ ایک بار بھی ان کی آواز پر کوئی جواب نہ دیا۔ ظعینہ آج کل ان کے لیے لائبریری سے مختلف کتب ایشو کروا کر لے آئی تھی۔ ان کی تنہائی کا ساتھی ڈھونڈ لیا تھا اس نے اور یہ اچھا ہی تھا۔ پہلے وہ جو تنہا رہ کر سوچوں میں الجھے رہتے تھے‘ تو ان کو ڈپریشن ہونی لگتی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ بکس کا مطالعہ کرنے سے وہ مصروف ہوگئے تھے۔ ان کا وقت اچھا گزر جاتا تھا۔ ذہن لایعنی سوچوں سے بچا ہوا تھا۔ مطالعہ میں اتنے مستغرق ہوجاتے کہ کچھ اور سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔
آج بھی وہ ان کے لیے ایک بک لے آئی تھی‘ اسے وہ پڑھنا چاہتے تھے۔ چشمے کے بغیر انہیں نظر نہیں آتا تھا اور چشمہ انہیں مل کے نہ دے رہا تھا۔ زینب کو اسی غرض سے پکار رہے تھے مگر اس تک شاید ان کی آواز ہی نہ پہنچی تھی۔ مجبوراً انہوں نے خود ہی تلاش کرنا چاہا۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا مگر وہاں کچھ نہیں تھا سوائے پانی کے جگ اور گلاس کے۔ تھوڑا سا آگے کھسک کر دراز کھول لی اور ہاتھ اندر کرکے چشمے کو تلاش کرنے لگے۔ جسے وہ نظر انداز نہ کرپائے تھے۔ چشمے کے ساتھ ساتھ اسے بھی نکال لیا تھا۔
وہ برائون کلر کا وائلٹ تھا جو کچھ روز پہلے ہی انہوں نے وہاں رکھا تھا۔ یہ وہ وائلٹ تھا جسے وہ بائیس سالوں سے سنبھال کر رکھ رہے تھے‘ یہ وائلٹ ان کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ بہت وقعت تھی اس کی‘ بہت قیمتی تھا وہ ان کے لیے۔ یہ وائلٹ انہیں کسی نے بہت پیار سے بمعہ اپنی تصویر کے گفٹ کیا تھا۔ اس وعدے کے ساتھ کہ وہ اسے کبھی کھوئیں گے نہیں۔ دینے والے کو تو وہ کھوچکے تھے‘ مگر اسے وہ کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتے تھے۔ بہت سینت سینت کر رکھا تھا انہوں نے اسے۔ یادیں جب دل کو جکڑنے لگتیں تھیں تو وہ اسے نکال لیتے تھے۔ آج کتنے دنوں بعد وہ پھر سے ان کے ہاتھ میں تھا۔ اپنی خوب صورت یادوں سمیت۔ انہوں نے بہت پیار سے اس پر ہاتھ پھیرا تھا۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی۔ بہت آہستگی اور نرمی سے اسے کھولا تھا۔
چمکتا ہوا… مسکراتا ہوا… کھلکھلاتا سا چہرہ ان کے سامنے تھا۔
’’ناز!‘‘ بہت پیار سے‘ بہت نرمی سے‘ دھیرے سے پکارا تھا۔
دنوں بعد تمہیں دیکھا تو خیال آیا یہ
بظاہر جو کھو جاتے ہیں‘ وہ کھوتے نہیں!
نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں مگر!
درحقیقت ہوتے نہیں!
بچھڑ کر بھی بچھڑتے نہیں
دور رہ کر بھی دور لگتے نہیں
ہمیشہ پاس ہوتے ہیں!
ساتھ رہتے ہیں
اپنی یادوں کے سنگ
اپنی باتوں کے ساتھ
اپنی مسکراہٹوں کے ہمراہ
احساس دلاتے ہوئے کہ!
ہم ساتھ ہیں تمہارے
ہم پاس ہیں تمہارے
لیکن پھر بھی یہ ہوک سی اٹھتی ہے دل سے
کیوں دعا کرتا ہے یہ دل تمہارے لوٹ آنے کی
شاید!!
وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے‘ یا شاید میرے کندھوں پہ کسی کے دکھ وملال کا بوجھ ہے۔ جب تک یہ بوجھ میرے کندھوں پر ہے میں کیونکر مطمئن رہ سکتا ہوں‘ اسی بوجھ کو اتارنے تک کا وقت چاہیے مجھے‘ اسے لے کر مٹی تلے سونا نہیں چاہتا میں۔ بہت بار ہے مجھ پر ایک اس بوجھ کا اور خود اپنی ذات کا۔ میں نہیں جانتا میری خود کی ذات تمہارے دکھ کا کتنا سبب بنی ہے‘ مگر جاننا چاہتا ہوں‘ وہ سب کچھ جو مجھ سے پوشیدہ ہے۔ وہ سب بھی جو جانتا ہوں‘ مگر پھر بھی جاننا چاہتا ہوں‘ تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں‘ تمہیں بھی تو حق ہے جتنی اذیت تمہیں ملی ہے اتنی ہی مجھے بھی ملے۔ تم اکیلی ہی کیوں سب کچھ برداشت کرو‘ میں کیوں نہیں؟ غلط فہمیاں بہت بڑھ گئی ہیں ناز! ناراضگیاں طویل ہورہی ہیں۔ دیواریں مزید اونچی ہوتی جارہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت اونچی دیوار آفتاب کی روشنی بھی روک دے‘ تم آجائو ناز!!
پلیز اب لوٹ آئو۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے‘ سب کو تمہاری ضرورت ہے‘ اس سے پہلے کہ سب ختم ہوجائے پلیز لوٹ آئو ناز۔ میرے دل کا بوجھ بڑھ رہا ہے‘ بہت تکلیف ہے بہت گھٹن ہے۔
تم لوٹ آئو کہ اب سہا نہیں جاتا!!
اب برداشت نہیں ہوپارہا!
بہت سارے بوجھ ہیں میرے ناتواں کندھوں پر!
اب تھکنے لگاہوں !
لوٹ آئو ناز! اس سے پہلے کہ …!!
…٭٭٭…
’’تم ایسے نہیں جاسکتیں ذری۔‘‘ وہ اس کا راستہ مسدود کیے کھڑا تھا۔ وہ نکلنا بھی چاہتی تو نہیں نکل سکتی تھی۔
’’مجھے جانا ہے تورع‘ تابی مجھے تلاش کررہی ہوگی۔‘‘
’’تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ اگر تم نہ ہوگی تو دنیا ایک جگہ تھم جائے گی۔ لوگوں کے احساسات اور جذبات منجمد ہوجائیں گے‘ حرکات رک جائیں گی۔‘‘ اس کے ہر لفظ میں گہرا طنز پوشیدہ تھا۔ ذری نے جواباً اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں‘ کیوں تنہا نہیں چھوڑ دیتے‘ مجھ پر زندگی کا دائرہ کیوں تنگ کرنے کے در پہ ہیں۔ کیوں مجھے سکون سے جینے نہیں دیتے۔ کیوں میری ہر راہ میں آن کھڑے ہوتے ہیں… کیوں؟‘‘
’’چھوڑ دوں گا‘ تمہاری زندگی آسان کردوں گا‘ تمہیں سکون مہیا کردوں گا‘ کبھی تمہاری راہ کی رکاوٹ نہیں بنوں گا بس ایک بار میرے سوال کا جواب دے دو۔‘‘
’’آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے میرے پاس‘ کیوں مجبور کرتے ہیں آپ مجھے؟ آپ کا جو دل چاہتا ہے وہ سوچیے‘ لیکن پلیز مجھے مجبور مت کریں۔‘‘ وہ سائیڈ سے ہوکر گزرنے لگی تھی۔ تورع کا بازو بیچ میں حائل ہوگیا۔
’’نہیں‘ آج میں تمہیں یوں بنا کچھ کہے جانے نہیں دوں گا۔ تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں مجبور نہ کروں‘ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں۔ چھوڑ دوں گا‘ مگر اس کے لیے تمہیں مجھے جواب دینا ہوگا‘ میری ہر بات کا‘ میرے ہر سوال کا۔‘‘
’’میرے پاس آپ کے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔‘‘ وہ اس کے بازو کو جھٹکتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی۔
اس سے پہلے کہ وہ دروازے کی دہلیز پار کرتی‘ تورع نے ایک ہی جست میں اس کی کلائی تھام لی اور کمرے میں دوبارہ کھینچ کر دروازہ لاک کردیا۔
’’یہ کیا کررہے ہیں آپ… دروازہ کیوں لاک کیا آپ نے؟‘‘
’’صرف چند لمحوں کے لیے تاکہ تم دوبارہ باہر جانے کی غلطی نہ کرسکو۔ لیکن تمہیں کیا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ…‘‘
’’ہنہہ… اتنا ہی اعتبار رہا ہے مجھ پر؟‘‘ انداز استہزائیہ تھا۔ مگر کہیں نہ کہیں اس کے چہرے پر دکھ کی رمق دکھائی دے رہی تھی۔ شاید اسے یقین نہیں آیا تھا‘ اس کے بے اعتبار ہونے کا۔ ذری ایک پل کو شرمندہ سی ہوگئی۔
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مجھے خود پر مکمل اعتبار ہے۔‘‘ لفظ ’خود‘ پر خاصا زور دیا تھا۔ تورع زیر لب مسکرادیا۔
’’اچھا… اگر اتنا ہی اعتبار ہے خود پر تو پھر یوں گھبرا کیوں گئی تھیں۔ جیسے میں تمہیں…‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے‘ میں نے صرف اس لیے کہا تھا کہ اگر کسی نے ہمیں تنہا کمرے میں دیکھ لیا تو خوامخواہ باتیں بنانے کا موقع مل جائے گا لوگوں کو۔‘‘ وہ سر جھکائے آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’کیوں باتیں بنائیں گے لوگ؟ ہم نامحرم نہیں ہیں۔ ایک بہت ہی مستحکم رشتہ ہے ہمارے بیچ جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا‘ خود تم بھی نہیں۔‘‘
’’میں جھٹلا بھی نہیں رہی۔‘‘ وہ آہستگی سے زیرلب بڑبڑائی۔ تورر نے سن کر بھی ان سنا کردیا۔
’’لیکن اس رشتے اور اس سے وابستہ عوامل کے پیچھے کچھ اصول وضوابط بھی رائج ہوتے ہیں‘ جو کہ ابھی پورے نہیں ہوئے۔‘‘
’’تو…؟‘‘ اس نے بھنویں اچکائیں۔
’’میرے کہنے کا جو مطلب ہے وہ آپ اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ انجان بننا چاہیں تو اور بات ہے۔‘‘ سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
’’یہی بات تم پر بھی لاگو ہوتی ہے۔‘‘ جواباً تورع نے معنی خیزی سے کہا۔ ذری محض لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’کیا ارادہ ہے؟ یہاں تنہا کمرے میں میرے ساتھ اکیلے بیٹھنا ہے یا میرے سوالوں کا جواب دینا ہے۔‘‘ اسے مسلسل خاموشی سے صاف شفاف ہاتھ کی لکیروں سے الجھتے دیکھ کر تورع نے استفسار کیا۔ وہ چونکی… اس کی آنکھوں میں تحریر سوالوں کو پڑھ کر وہ سر جھکا گئی اور دھیرے سے گویا ہوئی۔
’’کیا جاننا چاہتے ہیں آپ… کن سوالوں کے جواب درکار ہیں آپ کو؟‘‘
’’محبت کرتی ہو مجھ سے؟‘‘ تورع نے آہستگی سے سرگوشیانہ انداز میں دریافت کیا۔
’’یہ بہت بے معنی سا سوال ہے تورع۔‘‘
’’شاید تمہارے لیے‘ لیکن میرے لیے یہ سوال بہت اہم ہے اور بامعنی بھی۔ تمہارے ایک صحیح جواب سے اس کے بہت سے معنی اور مطلب نکل سکتے ہیں۔ بہت سی غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔ بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں‘ ایک اسی سوال کا جواب میرے ہر سوال کا جواب ہوسکتا ہے‘ اس لیے میرے لیے اس سوال کا جواب بڑی اہمیت کا حامل ہے… اور یہ جواب مجھے ہر صورت چاہیے۔‘‘
’’آپ میرا جواب اچھی طرح جانتے ہیں تورع‘ پھر بھی پوچھ رہے ہیں‘ چہ معنی دارد؟‘‘
’’جانتا نہیں‘ جانتا تھا‘ حالات اور واقعات کے ساتھ سب کچھ بدل گیا ہے‘ میں بھی‘ جذبوں کی سچائی اور اس کی حقیقت بھی۔‘‘ وہ اس کے تاثرات جانچ رہا تھا۔ یا شاید اسے اکسا رہا تھا۔ وہ سمجھ نہ پائی تھی۔
’’جذبے کب بدلے ہیں تورع حسن بخاری۔‘‘ اس نے سوال نہیں کیا بلکہ کہا تھا۔
’’یہ کوئی افسانہ نہیں ہے‘ میں نے خود جذبوں کی بدلی ہوئی حقیقت کو دیکھا ہے۔‘‘
’’آپ نے جو دیکھا ہے وہ سچ نہیں ہے‘ سچ یہ ہے کہ آپ ازخود ایسا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی کہہ لو‘ سچائی بدل نہیں سکتی‘ تمہاری کوئی بھی وضاحت کوئی بھی دلیل اسے بدل نہیں سکتی‘ تمہاری کوڈ ورڈز میں کی گئی باتوں سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے‘ اور ہاں تم ادھر ادھر کی باتوں میں مجھے میرے سوال سے غافل نہیں کرسکتیں اور میرا سوال ابھی بھی وہی ہے۔‘‘
’’محبت کرتی ہو مجھ سے؟‘‘
’’یہ کیسا سوال ہے تورع؟ جس کا جواب آپ کو معلوم ہے۔‘‘ وہ ایک دم گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ جانتی تھی کہ تورع کیوں ایک ہی بات کو بار بار دہرا رہا ہے۔
’’ہاں میں جانتا ہوں‘ لیکن پھر بھی سننا چاہتا ہوں‘ واضح اور صاف الفاظ میں کیونکہ اب مجھے یقین نہیں رہا۔ میں بے اعتبار ہونے لگا ہوں‘ سب سے اور شاید خود سے بھی۔‘‘
’’اتنی بے اعتباری تورع‘ اتنی بے یقینی کیوں…؟‘‘ اس نے گہرے دکھ سے اس کی جانب دیکھا۔
’’ہاں‘ میں بے اعتبار ہورہا ہوں اور پھر تم نے اعتبار دیا ہی کب ہے مجھے؟ آج تک یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں کھڑا ہوں۔ اور میرے یقین کو پختگی تمہارے الفاظ ہی دے سکتے ہیں۔ پلیز بولو ذری‘ چپ مت رہو‘ تمہاری یہ خاموشی سب کچھ ختم کردے گی‘ پلیز بولو۔‘‘
ذری کتنی ہی دیر تک اپنے سامنے کھڑے اس تورع حسن بخاری کو دیکھتی رہی تھی جو کبھی بے اعتبار نہیں ہوا تھا‘ خاص کر ذروہ بیگ کو لے کر۔ وہ اس پر خود سے بھی زیادہ یقین رکھتا تھا۔ اور آج… وہ جانتی تھی اس کے الفاظ خود اسے بھی تکلیف پہنچا رہے ہیں‘ وہ جو کہہ رہا ہے کہنا نہیں چاہتا محض اسے بولنے کے لیے اکسا رہا ہے‘ اس کے باوجود اس کے الفاظ نے اسے بہت اذیت دی تھی۔ اس نے ایک پل میں ہی فیصلہ کیا تھا‘ مجبور تھی۔
’’مجھے جانا ہے تورع…‘‘ بنا اس کی جانب دیکھے دھیرے سے کہا۔ تورع نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا۔
’’میرے سوال کا جواب دیے بنا؟‘‘
’’ہاں…‘‘ پورے اعتماد سے سر اٹھا کر کہا۔
’’سوچ لو ذری‘ اگر آج تم بنا کچھ کہے چلی گئیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہے گا۔‘‘ اس کے معنی خیز الفاظ پر اس نے سختی سے اپنے لب بھینچے تھے۔
’’مجھے جانا ہے تورع۔‘‘ دوبارہ وہی بات دوہرائی۔
تورع چند ثانیے اس کے چہرے کے خدوخال میں کچھ تلاشتا رہا اور پھر لب بھینچتے ہوئے سرد سے لہجے میں گویا ہوا۔
’’جائو۔‘‘ ذروہ فوراً آگے بڑھی تھی‘ آنکھوں میں گرم سیال امنڈ آیا تھا۔
’’ایک منٹ رکو مسز!‘‘ اس کے اس قدر بیگانہ انداز پر وہ جھٹکے سے رکی تھی۔ دکھ ہوا تھا‘ مگر سہہ گئی۔
’’آج تک جتنا بھی میں نے تمہیں تنگ کیا‘ جتنی اذیت میری ذات نے تمہیں پہنچائی‘ جتنا کرب سہا‘ اس سب کے لیے میں تم سے معذرت چاہتا ہوں‘ آج کے بعد میں کبھی تمہاری راہ میں نہیں آئوں گا‘ تم چاہتی ہو میں تمہیں اکیلا چھوڑ دوں‘ فائن چھوڑ دیا۔ آئندہ کبھی تمہیں پریشان نہیں کروں گا۔ کسی بات کے لیے مجبور نہیں کروں گا‘ مجھے تمہارا جواب چاہیے تھا‘ جو مجھے مل گیا‘ آئندہ کم از کم میری ذات تمہاری اذیت کا باعث نہیں بنے گی‘ میری ذات سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے‘ جسے میں ہر حال میں نبھائوں گا۔ بس مجھے یہی کہنا تھا‘ اب آپ جاسکتی ہیں۔‘‘ سرد اور خشک لہجہ۔ ایک ایک جملے پر زور دیتا ہوا کتنا کٹھور لگا تھا اسے۔ وہ سسکی دباتے ہوئے برق رفتاری سے وہاں سے نکلتی چلی گئی اور تورع… بے بسی سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
r…m…r
’’ارقام بھائی پلیز کرنے دیں ناں‘ اگر کیک خراب ہوگیا تو پھر آپ ہی کہیں گے کہ میں نے جان بوجھ کر خراب کیا ہے۔‘‘ لائونج میں داخل ہوتے ہی اسے کسی کی قدرے اونچی آواز سنائی دی‘ آواز کچھ مانوس سی تھی۔
’’خراب کرکے تو دیکھو۔ اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔‘‘ جواباً ارقام نے بڑے رعب سے کہا۔ دونوں آوازیں کچن سے آرہی تھیں‘ وہ آہستگی سے چلتا ہوا کچن کی جانب چلا آیا۔ یہاں وہ اکثر آتا تھا‘ اس لیے کوئی جھجک نہیں تھی۔
’’آہاہاہا! اینٹ سے اینٹ بجادیں گے‘ کس خوشی میں۔‘‘ انداز چڑانے والا تھا۔
’’میری برتھ ڈے کا کیک خراب کرنے کے غم میں۔‘‘
’’او رئیلی…‘‘ تمسخرانہ انداز میں دیکھا۔
’’بالکل۔‘‘
’’بائی داوے یہ کیک بنا کون رہا ہے؟‘‘
’’تم…‘‘ فٹ سے کہا گیا۔
’’اور اسے خراب کرنے کی بھرپور کوشش کون کررہا ہے؟‘‘ انڈہ پھینٹتے ہوئے اس نے رک کر ایک پل کو اس کی جانب دیکھا۔
’’میں۔‘‘ بڑے فخریہ انداز سے کہا… بھرپور ڈھٹائی کا مظاہرہ تھا۔ اس نے استہزائیہ ہنکارا بھرا۔
’’واہ… کیا دیدہ دلیری ہے۔ اگر ایسا ہی حال رہا تو ڈیفینٹلی کیک خراب ہوگا۔ اگر نہ بھی ہوا تو میں ضرور کروں گی۔‘‘
’’وہ کس خوشی میں۔‘‘ کڑے تیوروں سے گھورا۔
’’آپ کی ڈھٹائی کی خوشی میں۔ مطلب کہ یقین کی مہر ثبت کروں گی کہ آپ ڈھیٹ بھی ہیں‘ ڈھٹائی والا مادہ بھی پایا جاتا ہے محترم میں۔ اگر اتنے پہ آپ کو اطمینان نہ ہوا تو سرٹیفیکیٹ مہیا کردوں گی‘ کہ اگر کسی کو محض کہنے سے یقین نہ آئے تو ثبوت دکھادیجیے گا۔‘‘
’’بالکل… بالکل کیوں نہیں‘ ویسے… آغا… یار تمہارے بال کچھ زیادہ ہی لمبے نہیں ہوگئے۔‘‘ ایک دم بات کو بدلتے ہوئے اس نے اس کی چوٹی پکڑ لی اور بڑے معنی خیز انداز میں کہا۔
کچن کے دروازے میں ایستادہ زادیار کی تیوری شکن آلود ہوگئی تھی۔ اسے آغامینا پر حیرت ہورہی تھی جو اتنی بے تکلفی سے ارقام کے ساتھ اس کے گھر میں اسی کے کچن میں کھڑی تھی۔ وہ بھی بنا دوپٹے کے۔ جب ارقام نے اس کی چوٹی کو پکڑا تو زادیار کے چہرے پر ناگواریت پھیل گئی تھی۔ اسے بہت حیرت ہوئی تھی‘ آغامینا پر‘ ایک غیر اور نامحرم مرد اس کے بالوں کو ہاتھ لگا رہا ہے اور وہ بنا کسی تاثر کے آرام سے کھڑی اس کی باتوں پر محظوظ ہورہی تھی۔ اس کی رنگت میں سرخی ابھرنے لگی تھی۔
’’ہوں ہوں… کیا بات ہے بھائی۔ یہ اچانک کیک کو چھوڑ کر آپ بالوں پر کیوں جا اٹکے ہیں۔ خیریت تو ہے ناں۔‘‘ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بھنویں اچکائی تھیں‘ اندز کسی قدر مشکوک سا تھا۔
’’بس یونہی‘ حفظ ماتقدم کے طور پر تمہیں خبردار کررہا ہوں‘ وہ کیا ہے ناں کہ اکثر انسان بے خبری میں مارا جاتا ہے۔ اس لیے میں نے سوچا تمہیں پہلے ہی خبردار کردوں‘ اگر میری برتھ ڈے کا کیک خراب ہوا تو… تم سمجھ رہی ہو ناں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں اور کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ اس کی چوٹی کو گھمانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی آنکھیں بھی گھما رہا تھا۔
’’واٹ…!‘‘ وہ جھٹکے سے پلٹی۔
’’نو واٹ… اینڈ نو شٹ۔ اونلی ری ایکٹ۔‘‘ اس کا انداز اسے جوش دلانے والا تھا۔
’’آپ میرے بالوں کو ہاتھ تو لگا کر دیکھیں‘ حشر نشر کردوں گی۔‘‘
’’کس کا؟‘‘ انجان بننے کی ایکٹنگ کی۔
’’آپ کا اور آپ کے اس کیک حضرت کا۔‘‘
’’کیک انسان ہے کیا؟‘‘ معصومیت سے استفسار کیا۔
’’اگر نہیں بھی ہے تو بنادوں گی۔‘‘
’’نہیں نہیں… پلیز یار ایسا غضب مت کرنا‘ یار تمہارے ہاتھ کا کیک تو میں کسی نہ کسی طرح ہضم کرلوں گا لیکن انسان… نووے…‘‘ برا سامنہ بناتا ہوا بے چارگی سے گویا ہوا۔
’’سب سے پہلے تو مجھے آپ کو انسان بنانا چاہیے‘ آپ انسانیت کے دائرے سے نکلتے جارہے ہیں۔‘‘
’’یار مجھے انسان بعد میں بنا لینا۔ پہلے اس کیک کا کچھ کرو‘ باہر پڑے پڑے بیچارہ بور ہورہا ہے۔‘‘
’’مطلب آپ مجھے اجازت دے رہے ہیں۔‘‘ اس کی بات پر اچانک اسے شرارت سوجھی۔ ارقام چونکا۔
’’کیا مطلب… کس بات کی اجازت؟‘‘ چونک کر استفسار کیا۔
’’حشر نشر کرنے کی۔‘‘ اطمینان سے کہا۔
’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا‘ اتنی محنت سے بنایا ہے یہ کیک‘ اور تم کہہ رہی ہو کہ…!!‘‘
’’تو ابھی آپ نے ہی تو کہا ہے کہ اس کا کچھ کروں۔‘‘ وہ انجان بنتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے بولی۔
’’ہاں میں نے کہا ہے‘ مگر اس کا حشر کرنے کو نہیں‘ اسے بڑی احتیاط اور پیار سے اوون میں رکھنے کو۔ آیا کچھ سمجھ شریف میں مس آغامینا احمد۔‘‘ ارقام نے خاصے طنزیہ انداز میں تصحیح کی۔
آغامینا نے مسکراہٹ لبوں میں دبائی‘ وہیں زادیار کے چہرے پر ناگواریت بڑھتی جارہی تھی۔
’’لیجیے جناب آپ کا کیک اوون میں رکھا جاچکا ہے‘ اب ہم چلتے ہیں‘ آپ کی کافی ہیلپ کردی‘ آگے آپ جانیں اور آ پ کا کام‘ اوون سے کیک تو نکالنا آتا ہے ناں آپ کو مسٹر ارقام ملک؟‘‘ اپنا دوپٹہ اٹھاتے ہوئے وہ ایک پل کو اس کے قریب رکی اور کسی قدر شریر سے انداز میں استفسار کیا۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close