Hijaab May-16

ملاقات

حنا مہر/فہیم انجم/وشمہ چوہدری

ایک ملاقات ام مریم کے ساتھ
السلام علیکم۔
یوں تو لکھاری و ادیب آج کل بہت کچھ لکھ رہے ہیں اور اکثر بہت عمدہ بھی لکھ رہے ہیں مگر کچھ لکھاری ایسے بھی آپ نے دیکھے ہوں گے جن کے قلم سے نکلے الفاظ آپ کے دل کے نہاں خانوں میں سرائیت کر جاتے ہیں اور آپ کی روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ان کے مختلف خیالات و نظریات آپ کو چونکا دیتے ہیں اور ان کے الفاظ خوشبو بن کر سرشار رکھتے‘ یہی لکھاری پسندیدہ ترین شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک لکھاری ’’ام مریم‘‘ ہیں جن کے الفاظ کا سحر ان کے شاہکار ناولوں کو پڑھنے سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔
آنچل ڈائجسٹ سے لکھنے کا آغاز کرنے والی یہ رائٹر بہت جلد ہی اپنے قارئین کے دلوںمیں خاص مقام حاصل کر گئیں ’’بس ایک سجن ہرجائی‘‘ کے نام سے ان کا پہلا ناول آنچل ڈائجسٹ میں شائع ہوا اور اس کے بعد متعدد ناولز اسی ڈائجسٹ کی زینت بنے۔ انہیں دوشیزہ ڈائجسٹ کی طرف سے ناول ’’رحمن رحیم سدا سائیں‘‘پہ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ بے شمار تحریریں مختلف رسالوں میں لکھنے کے ساتھ اب ان کے بہت سے ناولز کتابی شکل کی صورت مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ جن میں سر فہرست ’’صبح کا نور ہمارا ہے‘ تیری چاہ میں تیری راہ میں‘ بس ایک سجن ہرجائی‘ زندگی خاک نہ تھی‘ شہر دل‘ دل ناداں‘ میرے گمشدہ‘ دردگر‘‘ وغیرہ شامل ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی کچھ اور کتابیں بھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔
آئیے اب چلتے ہیں قارئین کے سوالات اور ام مریم کے جوابات کی طرف۔
٭ فیم انجم: السلام علیکم مریم کیسی ہیں آپ؟ میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں اور آپ کے فینز بھی آپ کا پوچھتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بتائیں کیا فیس بک دوبارہ جوائن کرنے کا ارادہ ہے؟
ام مریم: وعلیکم السلام! اللہ پاک کا شکربالکل ٹھیک آپ کیسی ہیں؟ مجھے بھی یاد تو آتی ہیں آپ ! انسان دو لوگوں کو نہیں بھولتا اچھوں کو یا بروں کو ، یعنی دوستوں کو یا دشمنوں کو ، خوش رہیں ہمیشہ۔ جی نہیں ہے ارادہ ایف بی پہ آنے کا چھوڑ دیا تو بس چھوڑ دیا۔ جو میرا آپ سے پوچھتے ہیں انہیں سلام کہہ دیجیے گا دعاؤں کے لیے جزاک اللہ۔ فیم! آپ بھی ہمیشہ خوش رہیں اور انتظار ترک کر دیں ڈئیر۔
٭ فیم انجم: آپ کے دو ٹاپ ناولز حال ہی میں کتابی شکل میں مارکیٹ میں آئے ہیں ’’مجھے ہے حکم اذاں‘‘ اور ’’تم آخری جزیرہ ہو‘‘ ان دونوں ناولز میں سے کس ناول کا رسپانس زیادہ ملا اور ان میں سے آپ کو کس ناول سے زیادہ امیدیں وابستہ تھیں؟ آ پ کا فیورٹ کون سا تھا؟
ام مریم: دو نہیں تینوں بڑے ناول بک فارم میں آرہے ہیں۔ ’’میرے ساحر سے کہو‘‘ بھی ساتھ ہی آ رہا ہے۔ مجھے تو تینوں کا ہی بہت اچھا رسپانس ملا ہے آخری جزیرہ کا سب سے زیادہ ملا شاید۔ مجھے خود جو امیدیں تھیں وہ حکم اذاں سے تھیں۔
٭ فیم انجم: اپنے ناول ’’ہم مصطفوی ہیں‘‘ کے حوالے سے کچھ شیئر کریں۔ یہ ناول کب اور کس میگزین میں پبلش ہو گا ؟
ام مریم: یہ ناول بھی اسلام کے موضوع پہ ہوگا کب شائع ہوگا؟ کہاں؟ اس بارے میں قبل از وقت کیسے کچھ کہہ نہیں سکتی ہوں اللہ بہتر جانتا ہے۔
٭ فیم انجم: کوئی ایسا ٹاپک جس پہ لکھنے کی خواہش ہو؟
ام مریم: وہ ناول ’’ہم مصطفوی ہیں‘‘ جسے لکھنے کی خواہش ہے۔
٭ فیم انجم: کبھی بے جا تنقید کا سامنا کرنا پڑا یا کوئی ایسا ناول جس کے ساتھ آپ کے خیال میں آپ کی طرف سے‘ کسی ادارے کی طرف سے یا فینز کی طرف سے زیادتی ہوئی ہو؟
ام مریم: جی سامنا کرنا پڑا ہے فیم! وہ بہت مشکل وقت تھا مگر گزر گیا اور اس وقت کے صبر کا اللہ نے مجھے اجر اور انعام بھی عطا فرمایا۔ صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتا جس ناول پہ میری طرف سے زیادتی ہوئی یا ادارے کی طرف سے ہوئی اس پہ دوبارہ محنت کی‘ مطلب اسے دوبارہ لکھ لیا‘ ہاں جن پہ قارئین نے زیادتی کی وہ بے جا تھی اس پہ دھیان نہیں دیا‘ کہ اس کا واحد حل یہی تھا۔
٭ سارہ خان: لکھنے کے سفر میں کس نے آپ کو ہمیشہ سپورٹ کیا؟ کوئی ایسی کہانی لکھنے کی خواہش ہو جو لکھ نہیں پائی ہوں؟
ام مریم: سارہ ڈئیر ہمارے خاندان میں دور دور تک کوئی نہیں لکھتا تھا تو میری اس چیز کو وہ بھی ہر کام کو ترک کرکے لکھنا‘ میرے گھر والوں اور امی کو پسند نہیں آسکا۔ شروع میں جنون بہت تھا تو مخالفت بھی تھی مگر میں نے نہیں چھوڑا مگر جب چھپوانے کا وقت آیا تو امی کی اجازت سے یہ کام کیا یہی وجہ ہے کہ آج کامیابی اللہ تعالی نے دی ہے باقی آغاز کے علاوہ مخالفت نہیں ہوئی ہمیشہ سب نے ساتھ دیا۔ ایک ناول ہے جس کا نام ’’ہم مصطفوی ہیں‘‘ لکھنے کی خواہش ہے اور وہ میرا آخری ناول ہوگا ان شاء اللہ لکھ لوں گی مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے۔ باقی جو چاہا ہے لکھا ہے ایسا کچھ نہیں کہ لکھنا چاہا ہو اور نہ لکھ پائی ۔
٭ فاطمہ زرین: آپ کا کوئی فیورٹ ناول جو آپ سب سے زیادہ پسند کرتی ہوں؟ آپ کا نیا ناول کب آئے گا تم آخری جزیرہ ہو جیسا؟
ام مریم: ’’رحمن رحیم سدا سائیں‘‘ زیادہ پسند ہیں۔ میرا نیا ناول آ چکا ہے ’’آخری جزیرہ‘‘ سے بھی زیادہ اچھا ہو گا مجھے یقین ہے۔
٭ سحاب عاشو: سب سے پہلے تو ’’حکم اذاں‘‘ سپرب ناول لکھنے پر مبارک باد‘ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔
ام مریم: بہت شکریہ۔ ’’حکم اذاں‘‘ میرا فیورٹ ناول ہے پسندیدگی کے لیے شکریہ۔
٭ سحاب عاشو: آپ نے نندنی کا کردار بہت اچھا لکھا کیا یہ کردار آپ کے ذہن کی تخلیق ہے یا آپ نے یہ کردار یا اس سے ملتا جلتا اپنے اردگرد دیکھا؟
ام مریم: نہیں سحاب! یہ کردار خالصتاً میرے ذہن کی تخلیق ہی تھا۔ اردگرد کہیں نہیں دیکھا بس خواہش تھی کہ ایسا کردار تخلیق کروں جو منفرد ہو‘ ہو بھی ہندو لڑکی کا پورے ناول میں عباس اور نندنی کے کردار میرے سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔
٭ سحاب عاشو: آپ کے پسندیدہ شاعر‘ افسانہ نگار‘ ناول نگار کون ہیں جن سے آپ متاثر ہیں؟
ام مریم: پسندیدہ شاعر فرحت عباس شاہ‘ افسانہ نگار آمنہ مفتی‘ ناول نگار ہاشم ندیم‘ مستنصرحسین تارڑ۔
٭ سحاب عاشو: کس کی تحریریں بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے؟
ام مریم: ایسی رائٹر تو بس ایک ہیں رفعت سراج ان کا ’’دل دیا دہلیز‘‘ اور طائر لاہوتی بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے۔
٭ سحاب عاشو: پاکستان کے علاوہ کون سا ملک پسند ہے اور کیوں؟ اپنے ملک کی کون سی جگہ آپ کو دلکش لگی جہاں دل چاہے یہیں پر ایک خوب صورت گھر ہوتا؟
ام مریم: پاکستان کے علاوہ سعودی عرب پسند ہے وجہ وہاں بیت اللہ ہے۔ اسلام آباد کے علاوہ کشمیر اتنا خوب صورت ہے کہ وہاں گھر بنانے کو دل کرتا ہے۔
٭ سحاب عاشو: محبت کے پاکیزہ جذبے کے بارے میں آپ کے خیالات؟
ام مریم: آپ نے خود کہہ دیا پاکیزہ! محبت پاکیزہ جذبہ ہی ہے میرے نزدیک بہت پاکیزہ۔ اس جذبے کو میں حکم اذاں میں نندنی کے کردار میں بیان کرچکی ہوں وہی خیالات ہیں۔
٭ سحاب عاشو: ڈپریشن کے وقت آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
ام مریم: بہت مختلف ردعمل ہوتا ہے‘ کبھی غصے میں بولتی ہوں کبھی لڑ پڑتی ہوں۔
٭ حناء اشرف: پسندیدہ شاعری جو آپ اکثر گنگناتی ہوں؟
ام مریم: اداس شامیں اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
٭ حناء اشرف: آپ اپنی تحریروں میں شاعری کا استعمال زیادہ کرتی ہیں اتنی زبردست شاعری آخر ڈھونڈھتی کہاں سے ہیں؟
ام مریم: ہاں زیادہ کرتی ہوں شاعری کا استعمال‘ اچھا ذوق ہے تو مل جاتی جو ناولز کے حساب سے محنت کرکے بھی ڈھونڈھنا پڑتی ہے۔
٭ حناء اشرف: ژالے آفریدی بلاشبہ ایک بہترین کردار، میری خواہش تھی کہ آپ کوئی اور ایسا ناول لکھتیں جہاں جہان صرف ژالے کا ہوتا مگر ہر خواہش پوری ہو یہ ضروری نہیں سو میں نے بھی صبر کیا۔ آپ کی ہیروئنز میں سب سے زیادہ مجھے ژالے پسند اور اسے دیکھ کر میں اکثر سوچتی ہوں کاش میں بھی ژالے ہوتی (ہاہاہاہا) کتنا کیوٹ نام ہے نا اس کا؟ میں بھی اسی کے جیسی ہوں محبت کرنے والی آہم آہم! آخر یہ کردار ملا کہاں سے آپ کو؟ آپ کا آخری جزیرہ مجھے صرف ژالے کی وجہ سے پسند اگرچہ زینب بھی بری نہ تھی مگر ژالے جیسا کوئی نہیں۔
ام مریم: ژالے کو آپ نے خراج تحسین پیش کیا یقین کریں وہ اس کی حق دار ہے مجھے خود وہ بہت پسند اور میں خود ایسی بننا چاہتی ہوں حناء اور یہ بھی چاہتی ہوں ہر لڑکی ایسی بن جائے جبھی یہ کردار لکھا‘ ژالے بھی وہیں سے ملی جہاں سے نندنی اور پریشے ملی تھیں۔
٭ حناء اشرف: ’’مجھے ہے حکم اذاں‘‘ میں لاریب اور سکندراعظم میرے پسندیدہ کردار تھے آپ کو اس ناول میں سب سے زیادہ کون پسند؟
ام مریم: ’’حکم اذاں‘‘ میرا بھی فیورٹ ناول ہے۔ اب دوبارہ اسے انہی دنوں لکھا ہے تو پھر اس ناول پہ مجھے پیار آنے لگا ہے۔ اس ناول میں میرا پسندیدہ کردار نندنی تھا‘ اسی کردار کی وجہ سے یہ ناول لکھا آپ سمجھ لیں۔
٭ کنول خان: ایک لکھاری کے لیے کیا چیز ذہن میں رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے ؟
ام مریم: ایک عام انسان کو جب قلم کا ہنر عطا ہوتا ہے تو ساتھ ہی قدرتی طور پر اس پہ بھاری ذمہ دار یہ بھی عائد ہوجاتی ہیں مثلا اصلاح کا بیڑہ اٹھانا پڑتا ہے، قلم سے جہاد کرنا پڑتا ہے تبلیغ کرنا پڑتی ہے ۔ میں نے آغاز میں کیونکہ عمر چھوٹی تھی تو یہ کام شعوری طور پر نہیں کیا لیکن الحمداللہ قدرت نے غیر شعوری طور پہ مجھ سے یہ کام لے لیا جس کا ثبوت میرے پہلے ناول بس ایک سجن ہرجائی میں نمایاں ہے گو کہ انداز تب پختہ نہیں تھا مگر اصلاح کا رنگ پھر بھی نظر آتا ہے بعد میں یہ تاثر شعوری طور پہ بھی ابھارا‘ اللہ کی مدد شامل حال رہی کہ میں نے ایسے کئی ناول لکھے ’’مجھے ہے حکم اذاں‘ صبح کا نور ہمارا ہے ‘ رحمن رحیم سداسائیں‘ تیری چاہ میں تیری راہ میں‘ یہ راہ مشکل نہیں‘ وعدہ اور وفائیں‘ وطن کی مٹی گواہ رہنا‘‘ کے علاوہ باقی تحریروں میں بھی اصلاحی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ کنول خان یہی ایک لکھاری کے لیے میرے خیال میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔
٭ کنول خان: کیا کبھی کسی نے حد سے زیادہ آپ کو یا کسی تحریر کو نشانہ بنایا؟
ام مریم جی مجھے اور میری تحریروں کو حد سے زیادہ اور ناجائز نشانہ بنایا گیا اور میں سمجھتی ہوں ایسا کر کے ایسے لوگوں نے صرف اپنی ذہنیت اور تنگ سوچ کو آشکار کیا ان کے ایسے پروپیگنڈے سے مجھے یا میری تحریروں کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
٭ دلکش مریم: آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ پلیز آپ اچھی سی اسٹوری کے ساتھ حاضر ہو جائیں نا؟
ام مریم: میں نے ابھی لکھنا نہیں چھوڑا مریم! جس کا ثبوت دوشیزہ اور حنا میں چھپنے والے میرے ناول ہیں۔ میں آپ کا حکم مان چکی حنا میں میرا ناول شروع ہو چکا ہے۔
٭ دلکش مریم: کیا آپ کبھی ناامید ہوئیں ہیں ؟ اگر آپ کی زندگی میں ایسا وقت آیا تو آپ نے کیا کیا؟
ام مریم: میں بھی عام انسانوں کی طرح ہر طرح کی کیفیات سے گزری ہوں۔ الحمداللہ مسلمان ہونے کے ناطے علم تھا کہ ’’مایوسی گناہ ہے‘‘ تو مایوسی سے ہمیشہ اللہ سے بچنے کی توفیق مانگتی رہی جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتا ہے تو دعا مانگتی ہوں اگر حسب خواہش نہیں مل رہا تو تب بھی اللہ کی رضا میں راضی ہو جاتی ہوں مطمئن بھی ہوتی ہوں ۔ مایوسی سے ہمیشہ پناہ مانگنی چاہیے۔
٭ انمول اعوان: کیا آپ نے آج تک کوئی ایسی تحریر لکھی جو آپ کی اپنی لائف کا عکس ہو؟
ام مریم: انمول ڈئیر! میں نے شعوری طور پر کبھی خود کو اپنے قلم سے اپنے کردار کو پوٹریٹ کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رائٹر کی سوچ اس کی ذات کا عکس اس کی تحریر میں ضرور جھلکتا ہے میں کسی انٹرویو میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ ہر وہ کردار چاہے وہ لڑکے کا ہو یا لڑکی کا ہو جہاں محبت کی شدت پائی جائے گی اسی میں مریم کی ذات کا رنگ اس کا عکس ہو گا۔
٭ رانیہ وجدان: آپ کا پسندیدہ ناول کون سا ہے جس پہ آپ کو فخر ہو؟
ام مریم: جی وہ ناول ’’رحمن رحیم سدا سائیں‘‘ ہے مجھے فخر ہے اس پہ ۔
٭ بشریٰ خان : آپ نے فیس بک کا استعمال کرنا کیوں چھوڑ دیا؟
ام مریم :بشریٰ! فیس بک محض وقت کو ضائع کرنے کے علاوہ مجھے کچھ نہیں لگا جبھی چھوڑ دیا۔ انسان بہت سے تعمیری کاموں سے کٹ جاتا ہے جو میں نہیں چاہتی تھی۔
٭ ملائکہ خان: آپ کی زندگی کا مقصد؟
ام مریم: میری زندگی کا وہی مقصد ہے جس کے لیے اللہ نے انسان کی تخلیق کی یعنی تبلیغ۔
٭ ملائکہ خان: کون سا ناول لکھتے وقت آپ کو رونا آیا دکھ ہوا؟
ام مریم: ’’رحمن رحیم سدا سائیں‘‘ اور ’’میرے ساحر سے ‘‘کہو میں علیزے اور پریشے کے کردار لکھتے اور بھی اکثر ناولز کو لکھتے ہوئے روئی۔
٭ نزہت مبشر: کچھ عرصہ پہلے ایک پوسٹ کی تھی آپ نے کہ آپ کو لگتا ہے لکھنا گناہ ہے جو آپ لکھتی ہیں وہ گناہ ہے تو اور کوئی ناول نہیں لکھوں گی۔ ابھی آپ کا ایک اور ناول شروع ہوا ہے تو آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا یا آپ کی سوچ بدل گئی؟
ام مریم: جی میں نے وہ پوسٹ کی تھی اور صرف یہ مجھے نہیں لگتا جو میں لکھتی ہوں وہی گناہ ہے ، میں نے کہا ناول لکھنا گناہ ہے اوریہ میں نہیں کہتی شریعت کے احکام کے مطابق ہے چاہیے ناول وہ کوئی بھی لکھے۔ دراصل جن دنوں میں نے یہ پوسٹ کی تھی ان دنوں میرا ایف بی ہمیشہ چھوڑ دینے کا ارادہ تھا ، تو ان ہی دنوں آنچل میں میرا ناول ختم ہوا تھا ، جس میں میرا وہ دو سال پرانا خط شائع کیا گیا جو میں نے اس ناول کے آغاز میں لکھا تھا تب میرے تین ناولز تھے اور میں سمجھتی تھی کہ دو سالوں میں میرے یہ ناول بھی چھپ جائیں گے تو کام ختم مگر وہ خط دو سال بعد چھپا تو اس دوران میرے باقی کے تین ناولز بھی نہیں چھپ سکے تھے اس خط کی وجہ سے سب لوگ مجھ سے اس متعلق سوال کرنے لگے میری وضاحتوں کے باوجود جو ابھی میں یہاں بھی دے چکی۔ پتا نہیں لوگ کیوں نہیں سمجھتے تھے اور سوال بار بار ہوتا تھا۔ ایف بی بھی چھوڑنے والی تھی ، جبھی میں نے سوچا ایک بار ہی تفصیل سے بتا دوں‘ جب میں نے یہ بات پوسٹ پہ بتائی ساتھ تب ہی یہ بھی بتایا تھا کہ تین ناول ابھی باقی ہیں پھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گی ان شاء اللہ۔ میں حیران ہوں لوگوں نے پوسٹ پوری تو پڑھی ، پوری بات پھر بھی نہیں سمجھے ! بس ایک بات یاد رکھی لکھنا چھوڑ رہی‘ یہ بھول گئے کہ تین ناول مزید لکھ کے چھوڑوں گی تو یہ نیا شروع ہونے والا ناول انہی تین ناولز میں سے ایک ہے۔ مجھے امید رکھنی چاہیے کہ اب تو ضرور میری بات کو سمجھ لیا جائے گا اور مجھ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ میری سوچ یا ارادہ بدل گیا۔ میری سوچ ایک نیک ارادے کی ہے جو اللہ سے دعا کرتی ہوں کبھی نہ بدلے (آمین) اور مجھے اللہ پہ مکمل بھروسہ ہے۔ آپ سے اس سلسلے میں دعا کی درخواست گزار ہوں۔ ہاں آپ نوٹ کر لیں مزید دو ناول ہیں پھر ان شاء اللہ ہمیشہ کے لی یہ کام ختم کردوں گی ۔
٭ حنین ملک: ام آپی! مجھے آپ سے پوچھنا ہے کہ آپ نے ترجمہ تفسیر کس قرآن پاک سے کیا ہوا ہے؟
ام مریم: حنین ڈئیر ہمارا قرآن پاک تو ایک ہی ہے نا تو اسی کا ترجمہ پڑھا ہے میں نے بھی ویسے ’’تفسیرنعیمی‘‘ سے تفسیر پڑھی۔
٭ حنین ملک: قلمی سفر کا آغاز کیسے اور کہاں سے شروع کیا؟ کیا رکاوٹیں پیش آئیں؟
ام مریم: پہلی تحریر شعاع کو بھیجی تھی جو رد ہو گئی۔ رکاوٹیں گھر والوں کی طرف سے نہیں غیروں کی طرف سے آئیں اور یہ فطرت ہوتی ہے ایسے لوگوں کی۔
٭ حنین ملک: کس رائٹر کو بہت زیادہ پڑھا ہے؟ کس سے امپریس ہوئی ہیں؟
ام مریم: زیادہ رفعت سراج کو ہی پڑھا ہے۔ ان ہی سے متاثر ہوں‘ مستنصرحسین تارڑ سے بھی بہت متاثر ہوں۔
٭ نورالہدیٰ : آپ نے لکھنا کیوں چھوڑا؟
ام مریم: میں نے ابھی لکھنا نہیں چھوڑا سویٹ ہارٹ ! وضاحت کرچکی ہوں نزہت صاحبہ کے سوال پر۔
٭ حمیرہ ندیم نفیس: مریم بہت مس کیا ہے آپ کو پلیز دوبارہ لکھنا شروع کر دو نا ، اصلاحی لکھو پلیز ؟
ام مریم: حمیرا جی ! آپ کا نام کچھ حوالوں سے مجھے بہت پسند اور پیارا ہے ایک حوالہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے جن کا یہ ’’لقب‘‘ تھا حمیرا تو ڈئیر آپ کی محبت کے لیے بہت جزاک اللہ‘ میں نے ابھی لکھنا نہیں چھوڑا۔ حنا ڈائجسٹ میں نیا ناول بھی شروع ہوا ہے پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجئے گا آپ کے معیار پر کس حد تک پورا اترا خوش رہیں۔
٭ بشریٰ خان :آپ دوستی کن بنیادوں پر کرتی ہیں ؟
ام مریم :دوست کن بنیادوں پہ بناتی ہوں؟ مجھے ہنسی آنے لگی ہے ، میں کیا کہوں؟ میری اوقات کیا ہے کہ میں بنیادوں کی ترجیحات پر دوست بناؤں؟ میں عام سی انسان ہوں۔ ہر سادہ مخلص‘ پرخلوص لڑکی میری دوست ہے جیسے سحرندیم ‘ حناء اشرف‘ نوشین اقبال‘ فوزیہ آپی‘ سدرہ مرتضی‘ فلاح حیدر۔
٭ مس خان: ناول لکھتے وقت ذہن میں کیا ہوتا ہے کہ کیسا ہو جس کو پڑھ کر لوگ کیسا فیل کریں؟ اور آپ کو اپنا کون سا ناول پسند ہے؟ مجھے آپ کا ہر ناول پسند ہے۔
ام مریم: لکھتے ہوئے اگر ناول اگر اسلامی یا ر وحانی نہیں تو یقین کر لیں میں ایسا ہرگز نہیں سوچتی جو آپ نے پوچھا ہے میں نے بس وہ لکھا جو دل کیا جو میری مرضی تھی ، اور لوگوں کو شکر ہے پسند بھی آیا‘ لوگ کیسی باتیں کریں گے ایسی باتوں کی طرف تو کبھی دھیان بھی نہیں دیا۔ ہاں اگر اسلامی ناول ہو تو بہت دعا کرتی ہوں‘ مدد مانگتی ہوں اللہ کی پھر لکھتی ہوں۔ مجھے رحمن رحیم سدا سائیں ناول پسند ہے۔ ’’روشنی کی خواہش میں‘‘ بھی بہت پسند ہے۔
٭ نوشین رحمانی: آپ کس سٹی سے ہیں؟ کیا آپ کی شادی ہوگئی؟
ام مریم: میں جڑانوالہ سے ہوں۔ نہیں شادی ابھی نہیں ہوئی۔
٭ عائشہ پرویز صدیقی: آپی کیا حال ہیں؟ آپ کی دیوانی محفل میں حاضر ہے آج کل کیا مصروفیات ہیں فیس بک اور آنچل میں نظر نہیں آتیں ؟
ام مریم: اللہ کا کرم ہے۔ آپ کی محبت ہے کہ آپ ایسے بات کر رہی ہیں ، خوش رہیں ہمیشہ کامران ہوں ، آنچل میں اور فیس بک پہ پھر کبھی نظر بھی نہیں آؤں گی تحریریں ہی ختم ہو گئی ہیں کہ آنچل کو دوں۔
٭ عائشہ پرویز صدیقی: آپ کی تحریریں ہمیشہ( آپٹیمسٹک) ہوتی ہیں ہمیشہ اینڈ اچھا کرتی ہیں۔ کیا آپ اپنے ریڈرز کو مایوس نہیں کرنا چاہتیں یا اس لیے کہ امید اچھی چیز ہے یا پھر حقیقی زندگی سے آپ نے مشاہدہ کیا ہے کہ مشکلات چاہیں جتنی بھی ہوں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں۔
ام مریم : اینڈ ہمیشہ اچھا نہیں کرتی عائشہ ! بس یہی کہوں گی کہ پھر آپ نے میری ساری تحریریں نہیں پڑھی ہیں۔ آپ کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ میں اینڈ ہمیشہ اچھا کرتی ہوں جیسے ’’حکم اذاں‘‘ کا کیا۔ آخری جزیرہ کا کیا یہ شعوری کوشش ہوتی ہے کہ میں ریڈرز کو مایوس نہ کروں۔ بلکہ ان کے اندر اصلاح پیدا کروں امید جگاؤں۔
٭ عائشہ پرویز صدیقی: ’’مجھے ہے حکم اذاں‘‘ کی ہیروئن لاریب کی سب سے بڑی خوبی اور خامی؟
ام مریم : حکم اذاں کی لاریب کا کردار بہت الجھا ہوا تھا وہ بری نہیں تھی لیکن لوگ اسے برا سمجھتے تھے ! اگر سمجھا جائے تو محبت کا نقصان کبھی بھی چھوٹا نہیں ہوتا ، ورنہ فرحت شاہ کبھی بھی یہ نہ کہتا
میری دیوانگی پہ اس قدر حیران ہوتے ہیں
میرا نقصان تو دیکھو محبت گمشدہ میری
تو میرے نزدیک لاریب کی سب سے بڑی خوبی ہی اس کی محبت میں شدت اور دیوانگی تھی لیکن ایک دور ہوتا ہے جنون ، دیوانگی کا وحشت کا بھی جو گزر جاتا ہے اللہ اس دور سے نکال لیتا ہے وہ بھی نکل گئی یہی اس کے کردار کا سبق تھا پڑھنے والوں کے لیے ۔ شدتیں بھی بری نہیں ہوتیں وہ بھی آپ کو نواز سکتی ہیں۔
٭ عائشہ پرویز صدیقی: ہر مصنفہ کی ہیروئن اتنی تیز اور پھرتیلی کیوں ہوتی ہے کہ جب اس کے گھر مہمان آتے ہیں تو اس کے پاس پہلے سے ہی شامی کباب ، گلا ہو اگوشت ، اور صبح کا بچا ہو دہی پڑا ہوتا ہے کیا وہ باسی اور خراب نہیں ہوتا ؟
ام مریم: دیکھیں جہاں تک میری ہیروئنز کی خوبیوں کی بات ہے تو میری ہیروئنز ایسی نہیں ہوتیں شاید اس لیے کہ میں ایسی صلاحیتوں کی مالک نہیں ہوں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ ابھی مجھ پہ یہ ساری ذمہ داریاں نہیں ہیں ورنہ اگر مصنفائیں ایسا لکھتی ہیں تو پھر غلط بھی نہیں لکھتیں۔ شادی شدہ خواتین میں واقعی یہ خوبیاں ہوتی ہیں وہ منٹوں میں بہت سے مہمانوں کو سنبھال لیتی ہیں۔ یہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی بہنوں اور امی کو کرتے دیکھا ہے ۔
٭ زینب زہرہ: اپنی فیملی میں سب سے زیادہ کس سے کلوز ہیں؟ آپ کی بیسٹ فرینڈ کون؟ دل کی باتیں کس سے شیئر کرتی ہیں؟ رائٹر بننے کے لیے کیا چیز سب سے زیادہ ضروری ہے؟
ام مریم: سب سے زیادہ قریب امی اور بہنوں کے ہوں سب سے زیادہ اچھا دوست اللہ ہے پھر بعد میں امی اور بہن۔ دل کی باتیں اللہ سے امی سے اوربہنوں سے شیئر کرتی ہوں کہ جانتی ہوں یہاں سے کبھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ رائٹر بنا نہیں جاتا زینب گڑیا رائٹر قدرتی ہوتے ہیں ، ہاں محنت فن کو سنوار دیتی ہے اور دعا نکھار دیتی ہے
٭ کشش ثنا: گھر کے کون کون سے کام کرلیتی ہیں؟
ام مریم: گھر کے تقریباً سبھی کام کرتی ہوں سوائے سالن پکانے کے وہ بھی کبھی کبھار کر لیا کرتی ہوں جب امی یا بہن گھر پر نہ ہوں۔
٭ کشش ثنا: کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک تکمیل تک نہ پہنچ پائی ہو؟
ام مریم : ایسی خواہش بس ایک ہے بہترین لوگوں میں شمار یعنی خود قرآن سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا ، یہی سب سے شدید خواہش ہے جو ابھی تک تکمیل کو نہیں پہنچی۔
٭ کشش ثنا: آپ کے کتنے ناول کتابی شکل میں آچکے ہیں اور کون سا زیادہ پسند ہے؟
ام مریم: آٹھ نو تو آچکے ہیں کچھ ابھی انڈر پراسس ہیں۔ سب سے زیادہ پسند ’’رحمن رحیم سدا سائیں‘‘ ہے۔
٭ سحر ندیم: رحمن رحیم سدا سائیں آپ کی بہت خوب صورت تحریروں میں سے ایک ایسی تحریر ہے جو پڑھتے ہوئے ہمیشہ دل کے بہت قریب محسوس ہوتی ہے سب سے پہلے تو اتنے ہارٹ ٹچنگ ناول کو لکھنے کے لیے اور اس کے تھرڈ پارٹ کے لیے بہت مبارک باد۔ ایک رائٹر کے لیے اس کی ہر تحریر بلاشبہ بہت خاص ہوتی ہے لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ تحریر اسپیشلی آپ کے دل سے بہت قریب ہے اور بہت خاص ہے آپ کے لیے۔ سو اس ناول کو لکھنے سے متعلق پہلا خیال آپ کے دماغ میں کب اور کیسے آیا؟ اور اس خوب صورت ناول کو لکھتے ہوئے ، ناول کے حوالے سے اپنی فیلنگز ہمارے ساتھ شیئر کیجئے پلیز۔
ام مریم: آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے سحر! مجھے واقعی یہ ناول بہت پسند ہے میری ساری تخلیقات میں سب سے زیادہ پسند ہے۔ اور مجھے اس پہ فخر بھی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کے کردار عبدالغنی جیسا ساتھی ، میں بھی خواہش رکھتی تھی کہ مجھے ملے ! اس ناول کو لکھتے ہوئے میں بہت زیادہ کنفیوز تھی ، بس چند نقطے میرے ذہن میں تھے ،جن میں بریرہ ، عبدالغنی ، علیزے ، کے کردار ہی سب سے زیادہ اہم تھے ! عبدالغنی اور بریرہ کے کردار مثبت اور منفی کے طور پہ تھے تو علیزے ایسا متنازعہ کردار تھے جو رویوں سے جنم لیتے ہیں۔ یا پھر لاریب تھی ، جو عبدالغنی جیسے انعام کے طور پہ معاشرے میں ابھرتے ہیں۔ یعنی چار تصور یا خیال تھے جن کو میں نے لیا تھا اور ایک ناول تخلیق کرنا چاہا ، باقی تو سب اللہ کی مدد اور مہربانی تھی ! میرا اس میں کہیں کمال نہیں تھا ۔ آپ یقین کرو اس ناول کو لکھتے وقت مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں اس کو دوبارہ ، سہ پارہ لکھوں گی ، دوسرے حصے کے لیے دوشیزہ کے ایڈیٹر کاشی بھائی کی مشکور ہوں جنہوں نے اصرار کر کے لکھوایا کہ اس ناول کی ڈیمانڈ کافی زیادہ تھی۔
٭ ثنامسرور: آپی آپ اتنا اچھا لکھتی ہیں کم کیوں لکھتی ہیں؟ مجھے آپ کے ناولز کا رومینس اور ہیرو اچھے لگتے ہیں آپ کی لائف میں آپ کے ہیرو کی انٹری کب ہونی ہے ؟
ام مریم : کم لکھتی ہوں؟ نہیں میں نے تو بہت لکھا تھا ، آپ نے غالباً میرے سارے ناولز نہیں پڑھے رومینٹک ناولز کے ساتھ اسلامی ناولز ضرور پڑھیں مجھے یقین ہے آپ کو اس سے زیادہ پسند آئیں گے ، جی بالکل مجھے بھی میرے والدین نے پکڑ کر ایک بندے سے باندھ دیا ہے زندگی کاساتھی زندگی کا ہیرو ہی ہوتا ہے ۔
٭ سنبل بٹ: آپ کی پہلی کہانی مجھے ہے حکم اذاں میں نے پڑھی تو آپ کی فین ہوگئی ، ساتھ ہی ساتھ دکھی کہ اب پڑھ نہیں پاؤں گی۔ میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ آپ نے لکھنا کس کے کہنے پہ چھوڑا؟ کیا آپ دوسرے شاعروں کی طرح اسلام اور پاکستان پہ شاعری کر کے اپنے مداحوں کے ساتھ جڑ نہیں سکتیں؟
ام مریم : حکم اذاں پسند کرنے کا بہت شکریہ سنبل ! آپ میرے باقی اسلامک ناولز ضرور پڑھیں میں اوپر نام بتا چکی ہوں۔ دکھی نہ ہوں دو ناول چل رہے ہیں دو ابھی باقی ہیں۔ ڈئیر شاید میں دین کے متعلق کچھ خاص شخصیات پہ قلم اٹھانے کی سعادت حاصل کرسکوں ، آپ دعا کیجیے گا۔
٭ سید عبادت کاظمی: حنا میں آپ کا ناول دل گذیدہ اسٹارٹ ہو گیا ہے بہت خوشی ہوئی مجھے۔ یہ بتاؤ کہ میرے ساحر سے کہو کو لکھتے وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟ کیا آپ بھی پریشے کی موت پہ میری طرح روئی تھیں ؟
ام مریم: شکریہ عبادت کاظمی !میرے ساحر سے کہو لکھتے وقت میں جتنا جذباتی اور حساس تھی دوبارہ نہیں ہو سکی ! وجہ کم عمری بھی تھی کہ یہ دونوں احساس اس عمر میں شدت پہ ہوتے ہیں ، تب میں بہت روئی تھی اس کردار کو سوچتے ، لکھتے یہاں تک کہ پڑھتے ہوئے بھی بہت آنسو بہے میں پریشے کا ہرگز یہ انجام نہیں کرنا چاہتی تھی ! مگر مجھے اس انجام پہ مجبور کردیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ آخری جزیرہ میں اس کردار کو میں دوبارہ لائی اور وہ انجام ژالے کا کیا جو میں پریشے کا کرنا چاہتی تھی مگر اس کا ردعمل بھی آپ نے دیکھ لیا ، لوگوں نے کتنا شدید رویہ ظاہر کیا مجھے بہت افسوس ہے میں پوری کوشش کے باوجود لوگوں کی سوچ کو بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکی ، مگر میں نے اپنے قلم کا حق ضرور ادا کیا
٭ سید عبادت کاظمی: ماہ نور کو اکیلا کیوں چھوڑ دیا تھا آپ نے یہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ناں؟
ام مریم: نہیں یہ ماہ نور کے ساتھ ہرگز ظلم نہیں تھا۔ بلکہ اسے اس کی حرکتوں اور غلطیوں کی سزا ملی۔ ایسی خواتین ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہیں تنگ سوچ ، تنگ دل ، تنگ نظر، میں نے انہیں ماہ نور کے کردار میں اپنے طور پہ سمجھانے کی کوشش کی شاید کوئی عقلمند اصلاح کرلے ! کہ یہ شدید رویے ہمیشہ نقصان کا باعث ٹھہرتے ہیں۔
٭ فلاح حیدر: مایا آپی سب سے پہلے آپ کو منگنی کی بہت مبارکباد! اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
ام مریم: جزاک اللہ فلاح سویٹی ! خیر مبارک۔
٭ فلاح حیدر: یہ بتائیں آپ کو فرحان صاحب کیسے لگے؟ آپ نے انہیں دیکھا ہے؟
ام مریم: جیسے وہ ہیں ویسے ہی لگے مجھے بھی ، یعنی بہت اچھے! جی دیکھا ہے۔
٭ فلاح حیدر : دل گزیدہ کے لیے بہت شکریہ ! ابھی سے اپنے سحر میں جکڑ رہا ہے مجھے تو غانیہ پسند ہے آپ کا فیورٹ کون ہے؟
ام مریم: اس پسندیدگی کے لیے بہت سا پیار فلاح جانو! مجھے اس ناول کا کردار سلمان خان یعنی مون بہت پسند ہے۔
٭ زینب علی خان: صبح کا نور ہمارا ہے آپ نے کس انسپائریشن سے لکھا تھا ؟ مطلب کیا چیز آپ کو ایسی لگی؟ جس کی وجہ سے یہ کہانی لکھی؟
ام مریم: صبح کا نور ناول لکھنے کا اصل مقصد مسئلہ کشمیر تھا جو ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میرے دل کا بھی رستا زخم ہے دوسری وجہ قارئین کو جہاد کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔
٭ ارمین زینب: کسی رائٹر کی تحریر جو آپ سوچتی ہوں کہ کہ کاش یہ میں نے لکھی ہوتی؟
ام مریم: جی ارمین تحریر تو نہیں لیکن ایک کردار تھا عالیہ آپی کے ناول دیوار شب کا معاذ ، اس کے لیے میری خواہش تھی کاش یہ میں نے لکھا ہوتا ، رفعت ناہیدسجاد کے ناول چراغ آخرشب کے فاروق کے لیے سوچا تھا کاش یہ میں نے تخلیق کیا ہوتا۔
٭ ارمین زینب: مجھے ہے حکم اذاں اور تم آخری جزیرہ ، یہ دونوں ناول کتنے عرصے میں مکمل کیے؟
ام مریم: اب تو ٹھیک سے یاد نہیں کتنے عرصے میں لکھے مگر یہ یاد ہے تین مرتبہ لکھے تھے یہ دونوں ناول ۔
٭ ارمین زینب: آخری جزیرہ میں آپ کا فیورٹ کردار کون سا ہے؟
ام مریم:آخری جزیرہ میں فیورٹ جہان اور معاذ۔
ناولز کی کن ہیروئنز کو اصل میں دیکھا ہے؟
ام مریم: کسی ہیروئن کو رئیل میں نہیں دیکھا۔
٭ ارمین زینب: کس شخصیت سے بے حد امپریس ہیں؟
ام مریم: متاثر بہت سی شخصیات سے ہوں جو موجود ہیں ان میں سے عمران خان سے بہت متاثر ہوں۔
٭ ارمین زینب: آپ کا کرن ۲۰۰۷ میں عباس اور ہانیہ والا ناول بلاشبہ ایک یادگار ناو ل ہے۔ مجھے لگتا ہے آپ ہانیہ جیسی ہیں ! میری بات کس حد تک درست ہے؟
ام مریم: کرن میں جو ناول تھا اس کے کردار عباس اور اریبہ تھے۔ ہانیہ تو میں نے کبھی نام نہیں رکھا۔ ناول کا نام تھا ’’کیسے کہوں اپنے جیا کی‘‘ یہ ناول مجھے خود بھی بہت پسند ہے مگر میں اس ہیروئن جیسی نہیں ہوں کسی بھی لحاظ سے۔
٭ مدیحہ منہاج: میں نے سنا ہے آپ اپنے کسی ناول کا سکوئیل لکھ رہی ہیں؟ اگر ہاں تو کون سا ہے؟
ام مریم: میں نے تین ناول کے سیکوئیل لکھے ہیں ’’ رحمن رحیم سدا سائیں ، روشنی کی خواہش میں اور واپسی ، جس کا بعد میں نام زندگی خاک نہ تھی ، رکھا۔
٭ مدیحہ منہاج: آپ کے ناولز بہت اچھے ہیں لیکن ایک چیز مجھے اچھی نہیں لگتی! کہ آپ کے ناولوں میں زیادہ تر ہیرو‘ ہیروئن پہ ہاتھ ضرور اٹھاتا ہے اسپیشلی آپ کے ناول ’’دردگر‘‘ میں تو حد ہوئی تھی، بنا قصور کے ہیروئن پہ اتنا ظلم؟ لیکن اینڈ میں ہیروئن سب کچھ معاف کردیتی ہے ایسے کیسے ہو سکتا ہے اور بہت سے ناولز میں ایسا بھی لگا کہ آپ نے ہیرو کے تھپڑ مارنے کو جسٹی فائی کیا ہو۔ اس بات کو ذرا ایکسپلین کیجئے گا؟
ام مریم: شکریہ مدیحہ! آپ نے ٹھیک کہا میں نے تقریباً ہر ناول میں بے چاری لڑکی کو لڑکے سے پٹوا کر نازک دل لڑکیوں کو سہما دیا ہے جو واقع اتنا اچھا عمل بھی نہیں ، دردگر میں لڑکی پہ بہت ظلم ہوا کسی کے جرم کی سزا اسے خوامخواہ ملی ! لیکن خود سوچیں اردگرد دیکھیں ، کیا یہ ذیادتی یا یہ رویہ و بدسلوکی ہمارے معاشرے میں روا نہیں رکھا جا رہا؟ اسے المیہ کہا جائے یا کچھ بھی! رائٹر نے وہ لکھنا ہوتا ہے جو معاشرے میں ہو رہا ہے۔ جسٹی فائی اسی لیے کرنا پڑتا ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ! مثلا عورت نے معمولی غلطی بھی کی تو مرد نے تھپڑ مار دیا ، بعد میں منا لیا ، وضاحت کر دی تو عورت کو معاف کرنا پڑتا ہے۔ یہی اس کی اعلی ظرفی کا تقاضا ہے اس کی قربانی ایثار کا تقاضا ہے جبھی اللہ نے عورت کو اتنا نرم دل بنایا ہے۔ یہ رویہ یا سلوک ہمارے معاشرے میں عام ہے ہم اپنے معاشرے سے کٹ نہیں سکتے‘ جب کٹ نہیں سکتے تو اسے تبدیل کرنا ہے یا قبول کرنا ہے۔ تبدیل کرنا آسان نہیں قبول کرنا نسبتاً سہل ہے جبھی میں نے آسانی کا درس دینا مناسب سمجھا بس اتنی سی بات ہے کہ معافی کا راستہ سمجھا دیا۔ اسی معافی میں عظمت بھی ہے ورنہ ان معمولی باتوں پہ ناچاکیاں بڑھ کر گھر تباہ کر دیتی ہیں اور ہمارے معاشرے کی تنگ نظری کے باعث تو گھر پہلی بار بھی مشکلوں سے بستے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اجڑ جائیں تو پھر گھر بسانا ناممکن ہو جاتا ہے امید ہے میں آپ کو مطمئن کر پائی ہوں گی۔
٭ طوبہ زیدی: نیو ناول پھر ہم کب پڑھ رہے ہیں؟
ام مریم: نیو ناول حناڈائجسٹ میں شروع ہو چکا ہے طوبہ ڈیئر۔
٭ ام ہانی : ام مریم آپ نے جب مجھے ہے حکم اذاں لکھا تو آپ کو کس کریکٹر پر زیادہ محنت کرنی پڑی؟اور وہ آپ کے دل کے قریب ہو گیا؟
ام مریم: مجھے سب سے زیادہ محنت نندنی یعنی فاطمہ پہ کرنی پڑی‘ وہی اس ناول کا مرکزی کردار تھا۔ وہی مجھے دل سے بہت قریب محسوس ہوئی۔
٭ ام ہانی: ایف بی فرینڈز اور فینز کو کتنا مس کرتی ہیں؟ کیا کبھی دل کیا دوبارہ آنے کو؟
ام مریم: جو فرینڈز خاص تھیں انہوں نے مجھے ایف بی چھوڑنے کے باوجود بھی نہیں چھوڑا ، ہاں کچھ بہت خاص اور پیاری دوستیں تھیں جو یاد آتی ہیں جیسے انمول بٹ اور بھی کئی نام ہیں۔ دوبارہ آنا نہیں چاہتی۔
٭ صدف اسمائیل : مجھے کچھ نہیں کہنا بس اتنا کہنا ہے کہ پلیز پلیز اپنے ناولز کی تعداد بڑھا دیں پلیز… میں نے اتنے لوگوں کو پڑھا ہے مگر آپ جیسا مجھے کوئی نہیں لگا جو لفظوں کو خوب صورتی دے پائے۔
ام مریم: صدف آپ کی محبت انمول ہے ، آپ کے الفاظ بھی قابل قدر ہیں۔ خوش رہیں ڈئیر میرے دو ناول ابھی چل رہے ہیں دو ابھی باقی ہیں۔
٭ ماورہ اسد عالم: مجھے کچھ پوچھنا نہیں بٹ ایک ریکوئسٹ کرنی تھی! آپ پلیز ناول لکھنا نہ چھوڑنا۔ آپی میں آپ کے ناولز اور آپ کی بگ والی تو نہیں بٹ فین ہوں اور میں نے آپ کو اور آپ کے ناولز کو بہت مس کیا۔
ام مریم: ماورہ آپ کی محبت کا شکریہ خوش رہیں۔ ابھی لکھنا نہیں چھوڑا سویٹی ! آپ کی محبت کے لیے پھر شکریہ
٭ ہانیہ پریشے: کیا آپ حافظ قرآن ہیں؟ ایسا میں نے سنا ہے۔
ام مریم: نہیں پریشے مجھے یہ سعادت ملتے ملتے رہ گئی میں نے کچھ پارے حفظ کیے مگر پھر ادھورا چھوڑ دیا۔
٭ لائبہ لاج: آپ کے موسٹلی ناولز رومینٹک ہوتے ہیں؟آپ کبھی سوسائٹی کی حقیقت پر کیوں نہیں لکھتیں؟ محبت کی کہانی تو عام ہوچکی ہے آپ کچھ منفرد ٹرائی کیوں نہیں کرتیں؟
ام مریم:لائبہ میرا خیال ہے آپ نے بنا پڑھے یہ بات کہہ دی ، ورنہ نیو رائٹرز میں سے جن انگلیوں پہ شمار ہونے والی رائٹرز نے محبت سے لے کر علم اور کرنٹ افیئرز پہ جنہوں نے لکھا میں سرفہرست ہوں مثلاً روشنی کی خواہش میں عمران خان کے دھرنے پہ میں نے قلم اٹھایا۔ اسلام کے حوالے سے متعدد ناول لکھے جن کے نام اوپر کہیں نہ کہیں بتا چکی ہوں۔ وطن عزیز پہ کہانیاں میں نے لکھیں ، جہاد پہ بھی قلم میں نے اٹھایا ، آپ وہ ناولز پڑھتیں تو یقینا یہ رائے قائم نہ کرتیں۔
٭ فریحہ چوہدری: افسانہ‘ ناولٹ‘ مکمل ناول یا سلسلے وار ناول‘ کون سا لکھنا زیادہ مشکل؟
ام مریم: مجھے تو سب سے زیادہ مشکل کام افسانہ لکھنا لگتا ہے جبھی افسانے گنتی کے لکھے ہیں۔
٭ فریحہ چوہدری: اپنی شارٹ اسٹوریز میں سے کون سی آپ کو زیادہ پسند؟
ام مریم: افسانوں میں مجھے اپنا ایک افسانہ ’’قافلے راہ بھول جاتے ہیں’’ سب سے زیادہ پسندہے۔
٭ شہنی خاں: آپ نے دو طویل سلسلے وار ناول میرے ساحر سے کہو اور تم آخری جزیرہ ہو لکھے اب آپ کا نیا ناول دل گزیدہ شروع ہوا ہے یہ بھی انہی کی طرح طویل ہو گا کیا؟ تینوں میں سے کون سے ناول پہ زیادہ محنت کی کون سا دل کے زیادہ قریب؟
ام مریم: دل گذیدہ طویل ناولز میں سے پانچواں ناول ہے ’’تم آخری جزیرہ‘ حکم اذاں‘ رحمن رحیم سدا سائیں‘‘ اور ’’دل گزیدہ‘‘ تو جہاں تک محنت کی بات ہے تو محنت تو سب پہ ہی کی ہے مگر حکم اذاں کے جتنی کسی پہ نہیں کی اسے میں نے اب پانچویں بار لکھا دل سے سب قریب مگر جو بات رحمن رحیم سدا سائیں اور حکم اذاں میں ہے وہ کسی اور میں کہاں۔
٭ شہنی خان: دل ناداں کا اینڈ سیڈ کرنا ضروری تھا کیا؟
ام مریم: ہاں ! دل ناداں کا یہ اینڈ نہ ہوتا تو دل ہی نادان نہ ہوتا مطلب میں یہ ناول نہ لکھتی پھر سکندر بابا نے مرنا ہی تھا جبھی اس ناول کو لکھتے میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔
٭ شبنم علی: مریم آپ کا ناول شہردل پڑھا بہت پسند آیا ہمیشہ ایسے ہی اچھا لکھتی رہو۔
ام مریم: شہر دل کی پسندیدگی کے لیے جزاک اللہ شبنم! شہر دل میں نے اتنا اچھا تو نہیں لکھا مطلب مجھے خود زیادہ پسند نہیں تھا۔
٭ شبنم علی: پہلی تحریر شائع ہونے پر کیا ردعمل تھا؟
ام مریم: جب پہلی تحریر شائع ہوئی اس دن کسی وجہ سے بہت ہرٹ تھی جب ناول دیکھا جو آنچل میں تھا تو یقین نہیں آ رہا تھا مگر بچپن سے بہت سنجیدہ مزاج ہوں ڈیسنٹ ہوں تو ہرگز شور شرابا نہیں مچایا، خوشی سے اس رات مجھے نیند نہیں آئی تھی کہ اب معروف ہستی بن جاؤں گی۔
٭ حنامہر: حجاب ڈائجسٹ کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے کیسے لگ رہا ہے مریم؟ آپ کے لیے ڈھیر ساری دعائیں سدا خوش رہیں اللہ تعالی آپ کو دنیا و آخرت دونوں جہاں میں کامیابی عطا فرمائے۔
ام مریم: ویسے ہی جیسے انٹرویو دیتے ہوئے لگتا ہے یعنی اچھا۔ دعاؤں میں یاد رکھا کریں پلیز دعاؤں کی اشد ضرورت ہے کہ اللہ دین و دنیا میں فلاح و کامرانی اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے آمین۔
آپ لوگوں کی محبت ہے کہ آپ نے انٹرویو لیا ان لوگوں کو تھینکس کہ جنہوں نے ڈیمانڈ کی میرے لیے ، جنہوں نے سوال کیے کوشش کی ہے کہ سب کو مطمئن کرسکوں جنہیں نہیں کر پائی ان سے معذرت ! آپ سب بھی خوش رہیں آمین!
( بہت شکریہ پیاری ام مریم آپ نے اپنی بے پناہ مصروفیت سے اپنے چاہنے والو ں کے لیے وقت نکالا۔ ہم آپ کی اس محبت پر بہت مشکور ہیں جہاں بھی رہیں ہمیشہ خوش رہیں ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ حافظ)۔
؟
فوزیہ وقار،چیئرپرسن آف پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن
٭میڈم فوزیہ وقار صاحبہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے قومی ڈائجسٹ کے لیے ہمیں خصوصی وقت دیا۔سب سے پہلے ہم آپ کا پرسنل پروفائل جاننا چاہیں گے۔آپ کب دنیا میں تشریف لائیں،فیملی بیک گرائونڈاور اپنے تعلیمی کیرئیر کے حوالے سے ہمیں آگاہ کیجئے؟
٭ میں ۱۹۶۴ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئی، میرے والد کا نام دلاور پرویزگیلانی ہے ۔ وہ آرمی میں تھے اور میرے دادا سید بلاول شاہ آرمی میں تھے۔یوں میرا فیملی بیک گرائونڈآرمی سے منسلک ہے۔میں نے راولپنڈی ہی میں اپنی پریزینٹیشن کنوئینٹ سے اپنی زیادہ تر تعلیم حاصل کی‘ والد صاحب کی پوسٹنگ کی وجہ سے ادھر ادھر شفٹ ہونا بھی ہوتا رہا۔اس کے بعد میں نے ماسٹرز، انٹرنیشنل ریلیشنز قائداعظم یونیورسٹی سے کیا۔اس کے بعد پہلے میں نے ایک سرکاری نوکری جوائن کی۔جو کہ نیشنل منسٹری میں تھی۔پھر وہ کچھ عرصے کے بعد میں نے چھوڑی اور لاہور شفٹ ہوگئی اور شادی کے لیے پھر یہاں میں نے ٹیچنگ کی۔ کوئی چھ سات سال میں نے او لیول اور اے لیول کو پڑھایاجس میں ہسٹری اور انٹرنیشنل پالٹکس کے مضامین شامل تھے۔ میں نے چھ سال کا عرصہ کینیڈا میںکام کیا۔انسانی حقوق کے حوالے سے،جس میں زیادہ ترجنسی تفریق،صنفی تفریق پر کام کیا اور یہ کام میں نے وہاں کی حکومت میں رہتے ہوئے ان کی مشاورت سے کیا پھر کینیڈا میں رہتے ہوئے میں نے ایک اورماسٹرز کیا،جو کہ پولیٹیکل سائنس اور پبلک پالیسی سے متعلق تھا۔پھر میں پاکستان واپس آگئی۔یہاں آکرمیں نے چار سال انسانی حقوق کے لیے ایک ’’شرکت گاہ‘‘ تنظیم کے ساتھ مل کر کام کیا۔اس کے بعد مارچ۲۰۱۴ء میں اس کمیشن میں میری تقرری ہوئی۔
٭ اس کمیشن میں آپ کی تقرری کیسے ہوئی؟
٭ ایسے ہوا تھا کہ ایک پوری سلیکشن کمیٹی بیٹھی تھی جس کو چیف سیکریٹری ہیڈ ڈیل کرتے تھے۔اس کمیٹی کے ممبرز میں حکومت اور اپوزیشن کی اپم پی اے بھی تھیں۔اس کے علاوہ اس کمیٹی میں گورنمنٹ کے کئی ہائی لیول کے سیکرٹری بھی تھے۔اس میں انہوں نے خود ڈھونڈا اور ایک فہرست تیار کی،جو کہ اس ادارے کو چلا سکتی ہو۔ اس فہرست میں سے پھر سلیکشن ہوئی اور فائنل لاز کرکے پھر مجھے اپروچ کیا گیا۔ فہرست جب تیار ہوئی تو مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں اس میں انٹرسٹڈ ہوں گی تو میں نے اپنا انٹرسٹ شو کیا تھا۔ فائنل تین نام ہوئے تھے جن میں سے میرا نام منتخب کیا گیا ۔اس سے پہلے میں ۲۰۱۰ء سے لے کر ۲۰۱۴ء کے فروری تک میں پاکستان میں خواتین کے حقوق پر کام کررہی تھی۔
٭ آپ کی شادی کب ہوئی؟
٭ میری شادی ۱۹۸۹ء میں ہوئی، میری شادی مکمل ارینج میرج تھی اور میرے شوہر کا نام وقار خان ہے۔
٭آپ کے بچے کتنے ہیں؟
٭ میرے ماشاء اللہ دوبیٹے ہیں ایک کا نام نوشیر خان ہے اور دوسرے کا اسفندیار خان ہے۔
٭ آپ کی ازدواجی زندگی کیسی ہے؟ اور خوشحال میرڈ لائف کا کیا راز ہے؟
٭ اگر آپ کو خود پر اعتماد ہو اور آپ دوسروں کو عزت دیتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ شادی شدہ زندگی خوشحال نہ بن سکے۔خوشحال شادی شدہ زندگی کے لیے عزت اور اعتماد یہ دو چیزیں ہی اس کا راز ہیں۔جہاں تک میری ذاتی زندگی کا تعلق ہے تو میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے بچپن میں اپنے والدصاحب کی طرف سے بہت سپورٹ ملی اور شادی کے بعد مجھے اپنے شوہر کی طرف سے بہت سپورٹ ملی ہے اور اب میرے دونوں بیٹے مجھ سے بھی زیادہ خواتین کے حقوق کے چمپئن ہیں۔اس خوش نصیبی میں خاندان کے افراد کا ساتھ شامل ہوتو ہی چیزیں بہترین ہوجاتی ہیں۔ ہاں کبھی کچھ کیسوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنے کنویکشن(عزم وسوچ) کے حصول کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں اور مشکلات کو فیس کرنا پڑتا ہے۔ میں شاید اتنی باہمت اور حوصلہ مند نہیں تھی مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنے خوب صورت فیملی ممبر ز سے نواز ا جن کی مجھے بے پناہ سپورٹ ملی ہے۔
٭ آج آپ اس مقام پر ہیں اس کا کریڈٹ اپنے والد صاحب کو دیتی ہیں یا اپنے شوہر کو یا اپنی کاوشوں کو؟
٭ میرے خیال سے سب سے بنیادی چیز انسان کی اپنی کمٹمنٹ ہوتی ہے اور پھر اس کے لیے انسان اپنے سپورٹرز ڈھونڈتا ہے پھر یہ کسی بھی انسان کی بڑی خوش قسمتی ہوتی ہے کہ اسے وہ مل جائیں۔ میں آج الحمد اللہ جس مقام پر ہوں اس کا کریڈٹ دونوں کو ہی دیتی ہوں۔اپنے والد کو بھی او رشوہر کو بھی اور سب سے بڑا کریڈٹ میں اپنی والدہ کو دیتی ہوں کیونکہ جب ہم چھوٹے تھے تو میری والدہ ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ تمہارے لیے پڑھنا بڑا لازمی ہے اور شادی کے لیے اتنا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شادی سب کی ہوتی ہے۔ وہ ایک ضروری امر ہے اس کی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری اصل تیاری اپنی تعلیم اور خود کو ایک مکمل انسان بنانے کے لیے ہونی چاہیے۔
٭ آپ کتنے بہن بھائی ہیں اور آپ کس نمبر پر ہیں؟
٭ ماشاء اللہ میرے دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ مجھ سے بڑی ایک بہن ہیں وہ ڈاکٹر ہیں۔میرے چھوٹے دو بھائی ہیں جو پاکستان ہی میں ہوتے ہیں اور بزنس کرتے ہیں۔
٭آپ بچپن میں کیسی تھیں؟ اور جب شعورآیا تو خود کے لیے کیا سوچا تھا کہ میںبڑی ہو کر کیا بنوں گی؟
٭ یہ جو آج میرے ساتھ ہورہا ہے یہ تمام جراثیم میرے اندر بچپن ہی سے موجود تھے۔
٭آپ کو کب اس چیز کا ادراک ہوگیا تھا؟
٭ دراصل مجھے خود سے تو کبھی اس چیز کا ادراک نہیں ہوا تھا البتہ میرے بڑوںکو یہ ادراک ضرور ہوگیا تھا کیونکہ ہر بچے کا ایک لائف اسٹائل ہوتا ہے۔ میں کھیلوںمیں بڑی دلچسپی رکھتی تھی اور میرے بھائیوں کے ساتھ میری بڑی دوستی تھی میرا بیشتر وقت بھائیوں کے ساتھ سائیکل چلانا‘ کرکٹ کھیلنے میں گزرتاتھا۔ اس کے علاوہ میں اسکول و کالج لائف میں بھی اسپورٹس میں کافی ایکٹو تھی پھر مجھے کسی پر بھی ظلم ہوتا دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی تھی خواہ وہ انسان ہو یا جانور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہمیشہ دوسروں کے درد میں کچھ نہ کچھ بولتی رہتی تھی اور کئی بار میرے گھر والے میری ایسی باتوں سے تنگ بھی پڑ جاتے تھے۔ہر خاندان میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جوکہ خوامخواہ کسی کی گوسپ کرتے ہیں۔تب میں ہمیشہ جو کہ مظلوم کے لیے آواز اٹھاتی تھی اور اس علم کو بلند کرنے میں مجھے بہت بار ڈانٹ بھی پڑتی تھی میں یہ نہیں دیکھتی تھی کہ زیادتی کرنے والا یا گوسپ کرنے والا میر اکوئی اپنا عزیز یا قریبی ہے۔ میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیتی تھی جس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہوتی تھی۔
٭ آپ مزاجاً سنجیدہ تھیں یا شرارتی ؟
٭ میں ہمیشہ ہی سے بہت سنجیدہ تھی۔ضمیر جعفری صاحب جوکہ ہمارے بہت مشہور شاعر ہیں۔ ان سے بچپن ہی سے ملاقات رہی ہے۔ وہ ہمیشہ میرے لیے یہی کہا کرتے تھے کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر کسی بہت بوڑھی عورت کی روح ہے۔جب میں چودہ سال کی تھی تو وہ کہتے تھے کہ یہ اپنی سوچ‘ باتوں کی بنا پر کوئی اسی سالہ بوڑھی خاتون لگتی ہے۔ میں اکثر کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی تھی یا پھر جسمانی سرگرمیوں، کھیلوں میں مصروف رہتی تھی۔میں نے اپنے لیے کوئی خاص گول تو نہیں سیٹ کیا تھا البتہ اگر آج میں اپنے بچپن کی کھڑکی کھول کر جھانکو تو میں یہ سوچتی تھی کہ میںفارن سروسز میں جائوں۔ یہ شاید میں نے اپنے لیے گول متعین کیا تھا لیکن فارن سروسز میں جانے کے لیے مجھے سی ایس ایس کا امتحان دینا چاہیے تھا مگر میں نے وہ نہیں کیا کیونکہ میرا دل اس طرف مائل نہیں ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے بہت زیادہ اس پر نہیں سوچا کہ میں کیا بنوں گی البتہ میں نے یہ ضرور سوچا کہ میں نے کوئی ڈاکٹر، انجینئر نہیں بننا ہے کیونکہ میری بہن ڈاکٹر بن رہی تھی۔اور بالآخر وہی ہوا کہ میں کسی میں شعبہ مین نہیں گئی انسانی حقوق کی جانب آگئی۔
٭ پنجاب جینڈر پیرٹی رپورٹ کے حوالے سے ہمیں آگاہ کریں؟
٭ اٹھاویں ترمیم کے بعد زیادہ تر خواتین اور سوشل سیکٹرزکے زیادہ تر علاقے صوبائی حکومتوں کے پاس آگئے تب ساتھ ساتھ ان کو ادارے بھی بنانے کی ضرورت پڑی پھر باقی تمام صوبوں نے بھی اور پنجاب گورنمنٹ نے بھی ادارے بنائے‘ جیسے کہ کمیشن ہے‘ پنجاب ویمن development کا شعبہ ہے۔ صوبائی خاتون محتسب کا ادارہ بنایا گیا جس میں خواتین پر جنسی تشدد سے بچائو کے لیے کام شروع کیا گیا اور خواتین کی بہتری اور خوشحالی کے لیے پنجاب حکومت نے بہت سارے اقدامات کئے جس میں ۲۰۱۲ء میں پنجاب گورنمنٹ نے ایک بہت بڑے پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے بہت ساری تبدیلیاں بھی آئیں تھیں۔ جس کی وجہ سے قوانین میں تبدیلیاں آئیں‘ خواتین کے ملازمتوں میں کوٹے بڑھے، ان کی بورڈ اور کمیٹیوں میں تعداد میں اضافہ ہوا پھر اس قانون کے تحت skill development کے مواقع کی فراہمی ،اس قانون کے تحت ہی مائنڈ سیٹ تبدیل ہوا،پھر خواتین کی ملازمتوں کی جگہوں کو بہتر کرنے پر کام ہوا، جیسا کہ آپ کو خود بھی معلوم ہے کہ کئی بار خواتین کے الگ واش رومز بھی نہیں ہوتے تھے۔پولیس کے شعبہ میں بھی یہ دیکھا گیا مجھے خود سینئرلیڈیز پولیس آفیسر نے بتایا کہ پورے جاب کیئرئیر میں انہیں الگ واش روم نہ مل سکا‘ وہ ساتھ والے چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں جا کر واش رومز استعمال کرتی رہی ہیں کیونکہ جہاں ان کی ڈیوٹی ہوتی تھی وہاں کوئی الگ باتھ روم نہیں ہوتا تھا مگر اب شکر ہے کہ حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔ یہ سب اقدامات ۲۰۱۲ء میں لیے گئے اور ۲۱۰۴ء میں پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے دوبارہ سے مزید اقدامات لیے گئے۔ وارثت میں عورت کو حصہ دلانے سے لے کر خاندان میں اس کی عزت ووقار کو بحال کروانے،اور شادی میں جو حقوق شرعاً و قانونا ایک عورت کے ہیں وہ اسے دلانے کے لیے کاوشیں کی گئی ہیں۔ مگرمجھے یہ معلوم نہیں ہو پارہا تھا کہ ان سب سے بہتری کیا آئی ہے کیونکہ کمیشن کا کام ہی یہی ہے کہ وہ مانیٹر کرے کہ پالیسیوں اور قوانین کا اطلاق ہو رہا ہے یا نہیں۔پھر جب میں نے اس بارے میں انفارمیشن اکٹھی کرنی شروع کی تو مجھے یہ پتاچلا کہ انفارمیشن پھیلی ہوئی ہے جیسا کہ اگر ورک فورس کے حوالے سے بات کی جائے تو مثال کے طور یہ کہہ دیا جاتا کہ فلاں ادارے میںہماری ورک فورس لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ ہے۔ وہاں یہ کلیئر نہیںکیا جاتا ہے کہ اس میں خواتین کی تعداد کا ریشو کیا ہے۔ جیسے ہمارے بورڈ اینڈ کمیٹیاں ہیں‘ اس میں خواتین ممبر ز کتنی ہیں۔ اس لیے جب یہ ڈیٹا اکٹھا کرنے نکلے تو بہت مشکل کا سامنا ہوا۔ اس لیے کمیشن نے یہ طے کیا کہ اس کا باقاعدہ ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔ رپورٹ تو بعد میں آتی ہے اس سے پہلے پورا ایک سوفٹ فیئر بنانا ہے‘ ایک پورا ایم آئی این بنانا ہے جس کے تحت باقاعدہ ایک طریقہ کار کے ذریعے ایک اسٹینڈڈائز سطح پرمستند ڈیٹا اکٹھا کیا جائے پھر اس کے تحت ہم نے خواتین کے حوالے سے صنفی ڈیٹا اکٹھا کیا اور پھر جو اس کے نتائج آئے،جو ٹرینڈز نظرآئے ،پھر ان کی بنا پر یہ رپورٹ تیار ہوئی ہے۔ اب یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ عورتوں کے ملازمتوں میں کیا حقوق ہیں۔اور ان کی تعدا د کیا ہے۔ ان کی بورڈ کمیٹیوں میں کیا تعداد ہے۔کتنی خواتین ذاتی جائیدا د رکھتی ہیں،کتنی عورتیں گاڑیاں اون کرتی ہیں۔ کتنی عورتیں بینک اکائونٹس رکھتی ہیں‘ اسی طرح صحت وتعلیم میں خواتین کے کیا اعدادوشمار ہیں۔یہ سب اس رپورٹ کا حصہ ہے۔
٭ کیا اس تمام اعدادوشمارکو ٹیکس ادا کرنے میں بھی معاون سمجھا جاسکتا ہے؟
٭ میرا خیال ہے کہ اس اعدادوشمار کے براہ راست ٹیکس پر کوئی اثرات نہیں ہوں گے یونکہ یہ ڈیٹا حکومت ہی سے ہم نے لیا ہے یہ ڈیٹا سرکاری ہی ہے۔ عام طورپر جو ہم خواتین کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرتے آئے ہیں وہ زیادہ تر این جی اوز کرتی تھیں۔ یہ پہلی بار حکومت خود کررہی ہے۔ حکومت نے خود اعدادوشمار اکٹھے کئے ہیں اس لیے ان کی اونرشپ ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ اعدادوشمار غلط ہیں۔
٭ کیااس ڈیٹا میں ان متاثرہ خواتین کا ڈیٹا اور نمبرز شامل ہیں جو کسی حادثہ یا زیادتی اور حق سلبی کا نشانہ بنی ہوگی؟
٭ جی ہاں! بالکل وہ بھی اعدادوشمار ہمارے پاس آئے ہیں۔ ایک بڑی سادہ سی بات ہے کہ جو کم از کم پندرہ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے اس سے آگے عورتیں خواہ پچاس فیصد آجائیں یا ساٹھ فیصد آجائیں لیکن اس وقت عورتیں پندرہ سے بہت نیچے دس فیصد پر ہیں اگر ملازمتوں میں ہمارے پاس اس وقت دس فیصد عورتیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ متاثرہ خواتین ہیں جو کہ آگے نہیں رہی ہیں اور وہ کیوں نہیں آرہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ عورتیں اس لیے نہ آرہی ہو کہ کام کی جگہ ان کی محفوظ نہ ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس وجہ سے نہ آرہی ہو کہ ہمارا ٹرانسپورٹ سسٹم محفوظ نہیں ہے اب یہ چیزیں اس میں سے مزید نکل کر سامنے آئیں گی کہ کیا وجہ ہے کہ یہ نمبرز کم ہیں۔
٭ کیا تحفظ حقوق نسواں بل اور پنجاب جینڈر پیرٹی رپورٹ کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟
٭ یہ تعلق اس طرح سے نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایسی متاثر ہ خواتین جن پر تشدد کیا گیا ہوگاان کے اعدادوشمار آئے ہیں یہ صرف ایک سیکشن ہے ۔ ہمارے پاس مزید پانچ سیکشن ہیں جن پر ہم نے اعدادوشمار اکٹھے کئے ہیں جس رپورٹ کی میں بات کررہی ہوں اس میں یقینا خواتین پر تشدد ایک سیکشن ہے۔
٭ ایک عام عورت‘ جو متاثرہ ہے جس کے حقوق کی سلبی ہوئی ہے وہ آپ کے کمیشن تک کیسے رسائی کرے اس کا طریقہ کار کیا ہے؟
٭ کمیشن حکومت پنجاب کی ہیلپ لائن رن کرتا ہے اور اس ہیلپ لائن کا ابھی ہمیں چھوٹا نمبر مل گیا ہے ،جو کہ ۱۰۴۳ ہے۔ اس کا لمبا نمبر جو کہ ابھی تک چلتا آرہا تھا وہ۰۸۰۰۹ ۳۳ تھا۔
٭کیا یہ ۱۰۴۳ہیلپ لائن نمبر چوبیس گھنٹے کا ہیلپ لائن نمبر ہے؟
٭ جی نہیں‘ یہ چوبیس گھنٹے نہیں ہے اور وہ اس لیے نہیں ہے کیونکہ یہ کمیشن براہ راست خواتین کے ساتھ زیادتی کو ڈیل نہیں کرتا ہے۔ کمیشن کا کام ایک اوور سائیڈ باڈی (over Body) کا ہوتا ہے۔ چیزوں کا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا کہ کام ہورہا ہے یا نہیں جو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین ہوتی ہیں انہیں ایک دم سے پہلے ہی مرحلے پر مدد پولیس کرتی ہے یہ پولیس کا کام ہے اور ہم پولیس کا کام نہیں لینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ ہونا شروع ہوگیا ہے کہ ادارے براہ راست مداخلت کرنا شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے جو بھی سرکاری وحکومتی ادارہ ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ پائوں چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اچھا وہ لوگ کام کررہے ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے بھاگ دوڑ کرنے کی۔ اب این جی اوز بھی یہی کررہی ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ کام کررہی ہیں۔اس لیے میں اس پر یقین رکھتی ہوں کہ ہمیں پولیس کا کام کرنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔پولیس کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور پولیس کو اپنا کام فعال طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے البتہ اگروہ کام نہیں کرتے ہیں تو پھر ہم مداخلت کریں گے۔
میں آپ کو ایک مثال دوں یہ جو ہماری ہیلپ لائن ہے یہاں بہت ساری کالز ایسی آتی ہیں،کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور میں پولیس کے پا س گئی ہوں تو وہاں میری کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔میری ایف۔آئی ۔آر نہیں کٹی ہے۔جیسے اگر کسی کے ساتھ کوئی جنسی زیادتی (ریپ ) ہوا ہو۔پھر ہم اس میں ٹیک اَپ کرتے ہیں اور آئی جی کے لیول ،اور ڈی پی او کے لیول پر ٹیک اپ کرتے ہیں۔ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ عورت آپ کے پاس آئی تھی تو اس کی ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی گئی ہے تو ان کا بڑا اچھا ہمیں فیڈ بیک ملتا ہے۔وہ ایک دم سے انویسٹی گیشن کرواتے ہیں،اور پھر وہ ایکشن کرتے ہیں۔ہم سرکاری اداروں سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے اپنا کام کیوں نہیں کیاہے۔
٭ یہ جو تحفظ حقوق نسواں کا بل پاس ہوا ہے اس کے بارے میں الیکڑانک میڈیا میں بہت ابہام پایا جاتا ہے۔ اس پر بہت سارے اعتراضات بھی اُٹھائے جارہے ہیں بہت ساری مذہبی جماعتیں بھی اس کو لے کر بہت شور مچا رہی ہیں کہ اس بل کی وجہ سے ایک مسلم گھرانے کی عورت کو باغی بننے کی ترغیب دی جارہی ہے آخر اس میں ایسا کیا ہے جو قابل اعتراض بن گیا ہے؟
٭ مجھے نہیں سمجھ آیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ کہ اس میں ابہام کیوں ہے اور یہ کیوں ایشو بنایا جارہا ہے۔اس لیے کہ اس بل کے مطابق اگر کسی عورت کو مارا جارہا ہے تو عدالت مارنے والے کو تنبیہ کرے گی کہ تم اس کو مت مارو اور اگر تم نے اس کو دوبارہ مارا تو تمہیں جیل ہوگی اور تمہیں جرمانہ بھی ہوگا۔
٭کیا اس کی پیشی ہوگی یا اس کو سمن جائے گا؟
٭ سب سے پہلے ایک پرو ٹیکشن آفیسر (protection officer) جو کہ ضلع کے لیول پر ہوگا وہ جاکر اس متاثرہ عورت کو سپورٹ کرے گااور پھر مقدمہ دائر کروائے گا۔اس کے بعد کورٹ سمن بھیجے گی۔ پہلے مرحلے پر صرف اس کو وارننگ دی جائے گی اور صلح جوئی کی کوشش کی جائے گی۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کو یہ معلوم ہو کہ مجھے چیک کیا جارہا ہے تو پھر وہ خود کو روک لیتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا اور ٹی وی پر بھی ایسی ڈاکو مینٹری وغیرہ چل رہی ہوتی ہے،اگر کوئی شوہر نشہ کرتا ہے،اس نے بیوی سے نشے کے لیے پیسے مانگے،بیوی نہ دے سکی تو اس شوہر نے پٹرول‘ مٹی کا تیل چھڑک کر اس کو آگ لگادی۔ ایسے واقعات ہمارے ملک میں بے شمار ہوتے ہیں۔اب مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اس پر اتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے۔ ا س شور کے ذریعے ہم یہ میسج دے رہے کہ کیا اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ عورتوںکو مارا پیٹا جائے،اور اسلام اجازت دیتا ہے کہ بلاوجہ عورتوں کو مارا جائے،کیا ہماری معاشرتی اقدار یہ ہیں کہ مظلوم کو مزید ظلم کا شکار بنایا جائے اور ریاست اس کے لیے کوئی قدم نہ اٹھائے۔یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ابہام کس چیز پر ہے اور کس طریقے سے یہ غیر اسلامی ہے۔ میرے خیال سے بہت زیادہ شور وہ لوگ مچا رہے ہیں جنہوں نے بل کو بالکل نہیںپڑھا ہے۔میں آپ کو ایک مثال دو‘ میں ایک ڈسکشن میں تھی،وہاں ایک خاتون تھی جوکہ یہ کہہ رہی تھی کہ اس بل کے ذریعے آپ نے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی کروانے کا سامان رکھا ہوا ہے۔ میں نے انہیں یہ کہا کہ ہمارے اس قانون میں تو بالکل کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ ظلم کرنے والا شوہر ہے،اس میں شوہر کا کہیں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ظلم کرنے والی کوئی عورت بھی ہوسکتی ہے،اس کی ساس،بہن ،ماں،کوئی میل آفیسر، شوہر، بھائی، بیٹا اور کبھی کبھار باپ بھی ہوسکتا ہے۔ متاثر ہونے والی یقینا عورت ہی ہوگی البتہ تشدد کرنے والی یا والا کوئی بھی ہوسکتا ہے۔مگر وہ خاتون مجھ سے بدستور بحث کرتی رہی کہ نہیں جو میں کہہ رہی ہوں یہ اس میں لکھا ہوا ہے۔ میں نے انہیں کہاکہ مجھے دکھائیںکہ کہاں ہے، میں نے تو بل پاس ہونے سے پہلے اس پربہت کام کیا ہے۔ جب میں نے وہ بل دیکھا جو ان خاتون کے پاس تھا تو وہ انہوں نے کسی اور صوبے کا پکڑا ہوا تھا۔اور وہ خاتون کوئی جاہل یا ان پڑھ نہیں بلکہ بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں۔
٭آپ اس قسم کے لوگوں کو کیا پیغام دیں گی،جو ابہام کو بڑھاکرکنفیوژن کو بڑھا رہے ہیں؟
٭ اس بل کو ایشو عموماً مرد بنارہے ہیں اور ایساکرنے والے لوگوں کو میر ایہ پیغام ہے کہ اسلام کے خلاف ،مظلوم آبادی میں کنفیوژن نہ پھیلائیں۔ ہم مسلمان ہونے کے ناطے یہ بتانا پسند کریں گے کہ اسلام عورتوں کو تحفظ دیتا ہے اور اسلام سب سے زیادہ عورتوں کو تحفظ دیتا ہے۔ قرآن میں ہرجگہ ذکر ہے کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں‘ تقویٰ کرنے والے مرد اور تقویٰ کرنے والی عورتیںاور حدیث شریف ہے جو کہ حدیث ترمذی ہے۔ ’’تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔‘‘
ہمارے پاس قرآن اور سنتﷺ ہے جس میں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ترغیب ہے۔تو پھر مسئلہ کیا ہے یقینا ان شور مچانے والوں نے یہ بل نہیں پڑھا ہے اور اگر پڑھا ہے تو پھر وہ پدشاہی نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اسلامی اقداما ت کے برخلاف،اپنی مرضی دکھانا چاہتے ہیں اور اپنی پسند کا اسلام چاہتے ہیں ورنہ تواسلامی ہسٹری اٹھا کر دیکھے کہ حضرت خدیجہ الکبریؓ باقاعدہ تجارت کرتی تھیں اور حضرت عائشہ ؓ سے نبی پاکﷺ مشورہ کیا کرتے تھے۔ نبی پاکﷺ نے کبھی اپنی کسی زوجہ کو اونچا بول کر جھڑکا نہیں‘ کبھی کسی برے القاب سے نہیں پکارا‘ مارنا تو بہت دور کی بات ہے تو پھر ہم کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ ہمارا اسلام یہ ہے کہ ہم عورتوں پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ریاست اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ،اور اس کے خلاف کوئی اقدامات کرے تو ہم اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ میرے خیال سے یہ ایک بڑی کنفیوژن کی طرف ہم جارہے ہیں جوکہ اسلام کے لیے بڑی ڈس سروس (big disservice) ہے۔ یہ بات اسلا م کے لیے کوئی اچھی بات‘ اچھی خدمت نہیں ہے۔یہ کوئی دین کی خدمت اور کوئی اسلامی پیرائے میں آتی بات نہیں ہے لہٰذا وہ بل کو غور سے پڑھے کہ وہ کہتا کیا ہے۔
٭اس رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے مختلف اضلاع میں ورکنگ ویمن کے لیے ہوسٹل کا اجرا کیا جارہا ہے۔اس کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیجئے؟
٭ پنجاب حکومت نے ۲۰۱۲ء میں یہ اعلان کردیا تھا کہ۱۳۶اضلاع میں ورکنگ ویمن ہوسٹل ہوں گے۔ حکومتی ہوسٹل تو پنجاب کے تمام اضلاع میں ہی ہوں گے اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی ایک رہائشی وائچرسکیم بھی ورکنگ ویمن کے لیے ہوں گی ۔جس میں حکومت ضروری نہیں ہے کہ عمارات ہی تعمیر کرے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ورکنگ ویمن کسی پرائیویٹ ہوسٹل میں رہنا چاہیے گی تو گورنمنٹ اس کو سبسڈائزڈ سروس فراہم کرے گی۔ میں اپنی ہی مثال دوں کہ اگر کل میرا کسی اور جگہ تبادلہ ہوجاتا ہے اور میں اگر کسی پرائیویٹ ہوسٹل میں رہنا چاہوں تو حکومت میرا خرچہ اٹھائے گی اور یوں وہ حکومت کی طرف سے میری مدد ہوگی۔
٭ ہوسٹل پیکیج اخراجات کے حوالے سے جن کا آپ نے ابھی بتایا ہے وہ کتنی مقدار میںہوں گے؟
٭ وہ اتنا ہوگا کہ خاتون کی کچھ مدد ہوجائے۔وہ مقدار میں تو بہت کم ہوگا مگر خاتون کے ساتھ تعاون اور اس کو رعایت دینے کی غرض سے ہوگا۔ حکومت اس خاتون کو سبسڈی دے گی۔
٭اس کا اجرا کب سے ہوگا؟
٭ اس کا اجرا شروع ہوچکا ہے اور سولہ اضلاع میں ہوسٹلز بن چکے ہیں اور ابھی باقی ۲۶ اضلاع میں بھی اس پر کام ہورہا ہے۔
٭وہ سولہ اضلاع کون سے ہیں؟
٭٭اس میں مین شہر وں میں لاہور، پنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ شامل ہیں اور اس کے علاوہ اور بھی کئی اضلاع میں بن رہے ہیں وہ مجھے ریکارڈ دیکھ کر آپ کو بتانا پڑے گا۔
٭ ایک ورکنگ ویمن گورنمنٹ ہوسٹل کے لیے اپلائی کب اور کیسے کرسکتی ہے؟
٭ اس کا طریقہ کار یوں ہے کہ ایک ادارہ ((Woman development department کے نام سے بن چکا ہے۔وہ خاتون اس ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دے گی اور پھر اس کو عملہ اس حوالے سے سہولت فراہم کرے گا۔ اس ادارے کا اَپر مال روڈ لاہور میں دفتر ہے جوہمارا بھی ایک متعلقہ ڈپارٹمنٹ ہے۔
٭ پاکستانی عورت کو کیا میسج دیں گی؟ اور مردوں کے لیے کیا کہیں گی؟
٭ پاکستانی عورت کو میں یہ پیغام دوں گی جوکہ میں پوری امانت داری سے بتارہی ہوںاور یہ میری اپنی زندگی کا نچوڑ ہے اگر آپ کو اپنے آپ پر اعتماد ہے اور آپ اپناقبلہ سیدھا رکھتے ہیں، اپنی کنویکشن (سوچ وعزم) پر قائم رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کوآپ کی توقع سے زیادہ اس کاثمر عطا کرتا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں ہے۔ اللہ پر، خود پر، اپنے ارادوں پر بھرپور یقین ہونا چاہیے۔ اپنے آپ پر اعتبار کرے، دوسروں کو عزت دے اور اپنی عزت کروائے۔اپنے آپ کو بالکل کسی سے کم تر نہ سمجھے۔اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائے۔
٭سب سے اہم نقطہ آج کا بچہ اور کل کا مرد اس کو جنم دینے والی اس کی تربیت کرنے والی عورت ہی ہے۔ اگر آج معاشرے میں مردوں کا کردار برا ہے۔ کیا اس کا سارا کریڈٹ اس عورت کو جائے گا جو سب سے پہلے اس مرد کی زندگی میں ماں کے روپ میں آئی اور اپنا کردار پوری امانت داری سے ادا نہیں کرپارہی ہے یا یہاں سسٹم ہی خراب ہے۔
٭ دیکھئے وہ ماں بھی تو آخر اسی معاشرے کی پیداوار ہے اس ماں نے اپنی ماں پر ظلم ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کو معلوم ہے کہ میری طاقت اور میرا تحفظ دونوں ہی میرے باپ کے ذریعے سے آتے ہیں اور اس کے بعد میرے بھائی کے ذریعے سے اس کے بعد شوہر کے ذریعے سے اور آخر میں بچہ وجہ سپورٹ ہے اور یوں یہ سلسلہ ہوتے ہوتے پوتے تک جاتا ہے لہٰذا وہ عورت سمجھتی ہے کہ عورتیں خود ہی کسی قابل نہیں ہیں۔ ایسے ماحول اور مائنڈ سیٹ والی خاتون جب دیگر خواتین کو کام کرتا دیکھتی ہے تو وہ یہ سمجھتی ہے کہ شاید وہ معاشرے سے بغاوت کررہیں ہیں۔ اس طرح وہ نہ تو خود حوصلہ کرتی ہے اور نہ ہی دوسری عورت کو ہمت ا وردلاسا دے پاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے بچے کی حوصلہ افزائی اور ٹھیک تربیت نہیں کرپاتی ہے۔ میں تو یہ کہوں گی کہ آج معاشرے میں عورت کسی حد تک اپنا کردار ادا کررہی ہے بھی اور نہیں بھی اگر وہ پورے طورپر اپنا مکمل کردار ادا نہیں کرپاتی تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایسا دل سے چاہتی ہے بلکہ یہ اس وجہ سے ہے چونکہ وہ اس معاشرے کا حصہ ہے جو کہ صدیوں سے ایسے ہی بتاتا‘ سیکھاتا چلا آرہا ہے کہ عورت کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ عورت کمزور ہے‘ حکومت کرنا مرد کا ہی کام ہے اور اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ پروان چڑھتے وہ اپنی انہی خطوں پر اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے کہ فیصلہ سازی تمہار اہی کام ہے اور تم نے ہی اقتدار پر آنا ہے۔ یہ سب عورت کے کام نہیں ہیں حالانکہ ایسا درحقیقت نہیں ہے جب سوچ تبدیل ہوگی تو معاشرہ بھی بدلے گا۔ میں اگر آپ کو اپنی مثال دوں،میں ایک ایسے فیملی بیک گرائونڈ سے ہوںکہ میرے والد بھی بہت مجھے سپورٹ کرتے تھے، مدد گار تھے اور پھر اسی طرح میرے دونوں بھائی بھی اور جب میری شادی ہوئی تو مجھے شوہر بھی مددگار‘ تعاون اور سپورٹ کرنے والا ہی ملا۔میرے والدین نے جب میری شادی کا فیصلہ لیا تو ان لوگوں کا انتخاب کیا جو کہ پڑھے لکھے تھے‘سلجھے ہوئے تھے اور کشادہ ذہنوں والے تھے۔
٭آپ کو شوہر کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ میں کوئی دشواری پیش آئی؟
٭ نہیں کوئی دشواری، رکاوٹ اور پرابلم نہیں ہوا اور اس کا کریڈٹ میں اپنی ساس کو دیتی ہوں ،وہ دراصل ایک پڑھی لکھی‘ سلجھی ہوئی خاتون تھیں بلکہ میرا خیال ہے کہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ کشادہ ذہن کی مالک تھیں اور میرے سسر اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے وہ بہت ہی ڈیسنٹ اور ہمیشہ ہی سپورٹ کرنے والے انسان رہے۔
٭ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اگر آپ کی ساس اتنی اچھی نہ ہوتی تو آپ کی زندگی میں دشواریاں ہوتیں،چونکہ آپ ایک ورکنگ ویمن رہی ہیں تو آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ ہم آہنگی میں ایشوز ہوتے؟
٭ جی بالکل! یقینا ایسا ہوسکتا تھا اگر میری ساس اچھی نہ ہوتی تو میری زندگی بہت زیادہ مشکل ہوسکتی تھی۔ یہاں ماں کا کردار بحیثیت ساس سامنے آتا ہے اور ماں کا کردار بحیثیت ساس نہایت اہم ترین اور حساس ہے ۔ وہ اپنے بچوں کو پرموٹ بھی کرسکتی ہے اور اگر وہ چاہیے تو انہیں بالکل زمین سے بھی لگا سکتی ہے۔ (پنجابی: کسے گل چوگا نہ چھڈے)
مگر میں ایک بات یہ ضرور کہوں گی کہ جب آپ کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں تو پھر آگے راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ آپ کو ہر چیز ہی اچھی اور بہترین ہی ملے۔اس میں انسان کی اپنی چوائسز ہوتی ہیں۔ اپنی ترجیحات‘ پسند اور ناپسند ہوتی ہے۔جیسے میں نے آپ کو بتایا کہ میرے والد بہت اچھے تھے مگر وہ میری اپنی چوائس کے نہیں تھے یعنی والدین تو اللہ تعالیٰ ہمیں عطا کرتا ہے وہاں ہماری اپنی کوئی مرضی پسند ،ناپسند نہیں ہوتی ہے مگر جب شادی کا مرحلہ آیا تو وہاں میرے پاس چوائس کی آپشن تھی‘ میرے بہت سارے رشتے آئے ان میں سے دو فائنل لسٹ کئے گئے پھران دو میں یہ دیکھا گیا کہ ایک تو بہت امیر کبیر تھا مگر دوسرا اتنا امیر نہیں تھا مگروہ سلجھا ہوا اور اچھے فیملی بیک گرائونڈ والا تھا اب وہاں میری چوائس تھی،میں نے پیسے کو ترجیح نہیں دی تعلیم کو، کردار اور ذہنیت کو میں نے منتخب کیا۔ہر انسان پوری زندگی چوائسز کرتا ہے اور وہ چوائس اس کی اپنی کنویکشنز سے آتی ہیں اور یہ بات میں بہت کلیئرلی کہہ رہی ہوں۔ میں نے زندگی میں بہت سارے کام کئے ہیں میرے شوہر ہی سب کچھ کرتے ہیں ، سب سنبھالتے ہیں مگر میں نے پھر بھی کام کیا ،کیونکہ میرا یہ یقین ہے کہ میں نے کام کرنا ہے۔اور یہ کام میں نے صرف پیسے کمانے کے لیے ہی نہیں بلکہ سلف گرومنگ کے لیے بھی کرنا ہے۔اور اس کا مجھے سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ جب میں ملک سے باہر گئی تو مجھے کوئی مسئلہ نہیںہوا کام ملنے اور بہت زیادہ اعلیٰ کام ملنے میں،چونکہ صلاحیتیں بڑھ چکی تھیں تو پھر وہاں بھی وہ تسلیم کی گئیں اورسراہی گئیں۔ چوائسز انسان خود بناتا ہے۔اپنا حوصلے بلند رکھے اپنے اوپر اعتماد کرے اور ڈٹے رہے۔ جب یقین پختہ ہوتو پھر راستے ،وسیلے خود بخود بنتے ہیں۔
٭زندگی میں کبھی کوئی چوائس غلط ثا بت ہوئی یا کبھی مایوسی ہوئی؟
٭ ایسا بہت بار ہوا مگر مایوسیاں‘ پریشانیاں اور چیلنجز سب زندگی کا حصہ ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں کو برداشت کرے ،ان کا سامنا کرے، میرے خیال سے یہ سب چیزیں انسان کو بہت باشعور بنا دیتی ہیں۔ اس کا ویژن اوپن ہوتا ہے کبھی زندگی بہت ٹھیک ٹھاک چل رہی ہوتی ہے او رکوئی بہت بڑا سیڈ بیک آجاتا ہے یوں کہیے کہ زندگی کی گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے تب انسا ن کو یہ یاد آتا ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ہر پوزیشن کے لیے تیار ہوں۔ میرے اس شعبے میں ،انسانی حقوق کی فیلڈ میں کام کرتے ہوئے آپ ہر دو قدم پر کبھی آگے آتے ہیں اور کبھی پیچھے جاتے ہیں کیونکہ یہاں آپ کی ٹانگ بھی کھینچی جاتی ہے۔ اس لیے میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگر آج مجھے بہت شاباش مل رہی ہے تو یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے بلکہ کبھی میری مخالفت بھی ہوسکتی ہے‘ یہ بات مجھے ہمیشہ ذہن میں رہتی ہے اور اس کو بھی میں نے فیس کرنا ہے‘ برداشت کرنا ہے میں آپ کو یہ بھی واضح کروں کہ یہ جو بل پاس ہوا ہے وہ ایک آدمی نے پاس کروایا ہے۔ ہم نے اس میں ان کو اِ ن پُٹ دیا انہیں سپورٹ کیا۔ تحفظ حقوق نسواں کا بل پاس ہونا یہ دو مردوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ایک تو چیف منسٹر کے ایڈوائزر ہیں وہ ایک مرد ہوتے ہوئے بھی‘ وہ یہ سب ظلم دیکھتے تھے انہوں نے اس درد کو محسوس کیا‘ یہ ان کی کنویکشن تھی ۔تو انہوں نے اس قانون کو پاس کروایا کہ گھر کے اندر جو تشدد ہوتا ہے اس کو روکنا چاہیے اور انہیں صرف مُلائوں سے ہی نہیں بلکہ ہر طبقے کے لوگوں سے بے پناہ تنقید ملی اور تو اور سو کولڈ لبرل طبقہ سے بھی تنقید ملی کیونکہ یہ پدر شاہی کو اٹیک کرتا ہے اور دوسرا آدمی چیف منسٹر شہباز شریف صاحب خود‘ میں یہ بات بغیر کسی مبالغہ کے کہہ رہی ہوں انہوں نے اپنے قریبی حلقے میں سے بہت بھرپور تنقید کے باوجود انہوں نے یہ سٹینڈ لیا کہ یہ کام ضرور ہونا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ ان دو حضرات کو جاتا ہے، انسانی حقوق والے تو ہمیشہ ہی سے کام کررہے تھے۔ ۲۰۰۹ء سے میں اس بل پر باقاعدگی سے کام کررہی ہوں مگر آخر میں اس کا کریڈٹ ان دوآدمیوں کو جاتا ہے صرف یہی ایک مثال نہیں ہے بلکہ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ خالی صرف تنقیدہی نہیں بلکہ کئی بار آپ کو سماجی نقصان اٹھانا پڑتا‘ کبھی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
٭آپ کیسی ماں ہیں؟
٭ یہ آپ کا اچھا سوال ہے ۔میں نے بحیثیت ماں اپنے فرض کوتو بہت اچھی طرح سے نبھایا۔اس تناظر میں کہ میں نے انہیں پڑھایا‘ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈالا،بڑی محنت کرکے مگر میں ایک روایتی ماں نہیں ہوں،مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے کہ میں ایک روایتی ماں کیوں نہیں ہوں جیسے ایک مشفق ماں جو کہ گھر پر بیٹھی ہوتی ہے اولاد کے انتظا ر میں اس کوبٹھا کر کھانا کھلاتی ہے۔اس کی نظریں ہر وقت اپنے بچوں پر لگی ہوتی ہیں۔بچوں کی کردار سازی میں ،ہم دونوں میاں بیوی نے بہت زیادہ اس پر توجہ دی ہے‘ الحمد اللہ میں اپنے بچوں سے اس وقت مکمل طورپر مطمئن ہوں۔ اولاد اللہ کی دین ہے،میرے بچے ایک خدا ترس اورمنصف بچے ہیں۔ وہ ہمیشہ غریب اور مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں اگر کبھی آپ میرے گھر آکر دیکھیں تو میرے گھر میں جو ملازم موجود ہیں میرے بچے انہیں بالکل فیملی ممبر ز‘ اپنے بہن ،بھائیوں کی طرح سے ٹریٹ کرتے ہیں۔ میرے گھر میں صاحب اور ملازم کا فرق بالکل نہیں ہے۔ ایک خاتون میرے پاس بہت عرصے سے کام کرتی ہے میرے بچے اس کو بالکل اپنی بڑی بہن کی طرح سمجھتے ہیں۔میرے گھر میں کوئی تالے اور چابیوں کا اہتما م نہیں کیاجاتا ہے بلکہ میری جیولری تو سنبھالتے ہی میرے ملازم ہیں۔ میرے پیسے اوپن پڑے ہوتے ہیں، یہ صرف اس لیے ہے کہ ہمیں ان پر اعتماد ہے اگر میں اپنے بچپن میں دیکھوں تو میری والدہ جب ہم سکول سے آتے تھے تو وہ کھانا لا کر رکھتی تھیں۔وہ سب شاید میں نہیں کرپائی، میرے خیال سے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے مگر کبھی مجھے اس کا افسوس بھی ہوتا ہے جب میرے بچے چھوٹے تھے تو میں نے ایک بڑاحساس فیصلہ کیا تھا کہ میں فل ٹائم کام نہیں کروں گی جب تک میرے بچے پانچویں چھٹی جماعتوں تک نہیں پہنچ گئے تب تک میں نے فل ٹائم کام نہیں کیا ہے تب میں اسکول میں پڑھاتی تھی‘ جب میرا بڑا بیٹا آٹھویں جماعت میں اور چھوٹا بیٹا چھٹی جماعت میں تھا۔ میں نے فل ٹائم کام شروع کیا۔ اسی طرح جب کبھی وہ خدانخواستہ بیمار ہوئے تب بھی میں نے انہیں بھرپور توجہ دی۔ میرے بچوں کا یہ گلہ ہوتا ہے ماما تھوڑی سخت ہیں اور گھرپر کم وقت کے لیے ہوتی ہیں۔
٭ چیئر پرسن پنجاب انفارمیشن حقوق نسواں کی حیثیت سے آپ کے کیا فرائض ہیں اور اس ادارے کا مقاصد او رترجیحات کیا ہیں؟
میں پنجاب انفارمیشن حقوقِ نسواں کی چیئرپرسن ہوں۔ یہ ایک نیا ادارہ ہے، جسے حکومت پنجاب نے باقاعدہ قانون پاس کرنے کے بعد بنایا ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۴ میں پاس ہوا تھا اور میں اس کی پہلی چیئرپرسن ہوں اور اپنی اس حیثیت میں اس ادارے کو استحکام دینے کی کوشش میں سرگرداں ہوں۔اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار کرنے کے لیے کام کرنا اگر انہیں کوئی تکلیف ہے تو اسے دور کرنا اور اس کو فنگشنل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام مقاصد کا جائزہ لے اور بنیادی قوانین وپالیسوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر وہاں کوئی تفریق ہے تو اس کو ثابت کرنے کے بعد سفارشات پیش کرے اور اگر کسی نئی پالیسیوں یا قوانین کو وضع کرنے کی ضرورت ہے تو اس کے لیے سفارشات پیش کرے۔ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ مانیٹرکرے جو قوانین پاس ہورہے ہیں ان پر کہاں تک عمل درآمد ہورہا ہے اور ایسے ادارے جہاں متاثرہ خواتین کو رکھا جاتا ہے جیسا کہ مثال کے طورپر ہمارے دارلامان یا جیلیں ہیں وہاں خواتین کا حال کیا ہے۔ان سب چیزوں کی مانیٹرنگ کرنا شامل ہے۔اس بارے میں باقاعدہ ایک انفارمیشن سیل یونٹ قائم کیا گیا ہے۔
تیسرا مقصد یہ ہے کہ اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ خواتین ہیں کہاں پر۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک خواتین کے حقوق کے حوالے سے کیا کیا developments ہوئی ہیں۔یہ ہمارے لیے یہ دیکھنا نہایت اہم ہے کہ کیا خواتین اس مقام پر پہنچی ہیں کہ جس کے لیے کام ہوتا رہا ہے۔یا اس کے خلاف صرف تفریق کی جاتی رہی ہے خواہ وہ جمہوریت کے دوران آئیں یا آمریت کے دوران اور اس کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ نمبرز اکٹھے کریںکیونکہ ہوتا یہ ہے کہ آپ سب اپنے اطراف میں خواتین کی مشکلات بھی دیکھتے ہیں اور ان کا استحصال بھی دیکھتے ہیں اور پھر ایسی تنقید بھی سامنے آتی ہے کہ جی یہ تو آپ ویسٹ کا ایجنڈا کو پرموٹ کررہے ہیں۔ خواتین تو پاکستان میں بہت خوش ہیں یہاں تو خواتین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہورہی ہے آپ صرف دوسرے ملکوں کو خوش کرنے کے لیے کام کررہے ہیں اور گورنمنٹ بیرونِ ممالک کو خوش کرنے کے لیے ایسے ادارے قائم کررہی ہے لہٰذا احتساب کرنے کے لیے ہمارے لیے ضروری تھا کہ ہم باقاعدہ ایک ایسا managerment deta baseسسٹم بنائیں۔ ایک ایسا ڈیٹا بیس بنائیں جس میں ہم ایک ایسی انفارمیشن اکٹھی کریں جس میں جتنے عناصر خواتین کی زندگیوں کو ٹچ کرسکتے ہیں اورپھر اس کی بنیاد پر ایک رپورٹ جو کہ قانون بھی ہمیں یہی کہتا ہے کہ پہلے خواتین کا ریشو ناپاجائے گا پھر اس پر جینڈر رپورٹ مرتب کی جائے گی کہ خواتین و مردوں کے مابین برابر ی کہاں تک ہے یا نہیں ہے کیونکہ اگر پاکستان کے آئین کو دیکھیں تو اس میں تمام شہریوں کی بنیادی برابری گارنٹی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ آئین کے مطابق آرٹیکل ۲۵ سب سیکشن۳ یہ کہتا ہے کہ نہ صرف تمام شہریوں کو برابری وتحفظ دیا جائے گا بلکہ خواتین وبچوں کے لیے خصوصی قوانین بنانا بھی جائز ہے اور یہ قانون کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کچھ خصوصی قوانین بنائے جاتے ہیں یا جو چیلنجزآتے ہیں ان کا سدباب کرنا کیوں ضروری ہے اگر میں واپس آئوں ایجنڈا انفارمیشن ڈیٹا بیس کی طرف،توایک ڈیٹا بیس بن چکا ہے جس کا لانچ 7 مارچ ۲۰۱۶ء کو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا۔
٭ اس کی تفصیل سے آگاہ کریں؟
٭ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک بڑے سلسلے کی کڑی ہیں اور وہ ہیں ’’ حکومت پنجاب کا ویمن ان پاورمینٹ پیکج‘‘یہ ۲۰۱۴ء میں آیا تھا اس کے تحت بہت ساری تبدیلیاں آئیں جن میں کچھ نئے قوانین بنے کچھ قوانین تبدیل ہوئے کچھ پالیسیوں میں تبدیلیاں آئیں بہت سارے خواتین کی بااختیاری کے لیے اقدامات اٹھائے گئے جیسا کہ ’’skill development policy‘‘ پھر ہر ادارے کے بورڈاینڈ کمیٹیزمیں خواتین کا ۳۳فیصدہونا لازمی قرار دیا گیا۔ ’’آسان قرضے‘‘ اور پاکستان میں صرف پنجاب کے اندر خواتین کا کوٹہ سب سے زیادہ مختص کیا گیا ہے۔سرکاری ملازمتوں میںپندرہ فیصد خواتین کا ہونا لازمی قرار دیا گیاہے۔ اس کے علاوہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے کچھ ایسے ادارے بنائے گئے ہیں جس سے خواتین کو استحکام دیا جائے گا۔ ۲۰۱۴ء میں ہی اور بہت سارے قوانین پاس کئے گئے تھے اور بہت اچھے اقداما ت اُٹھائے گئے اور اب یہ عملی قدم اٹھایا گیا ہے کہ جو فیصلے لیے گئے تھے وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اور کہاں تک ان پر عمل درآمد ہورہا ہے۔پنجاب جینڈر مینجمنٹ انفارمیشن ڈیٹا بیس سسٹم بنا ہے اس کے لیے اربن یونٹ کے بہت زیادہ شکر گزار ہیں کیونکہ اس خواب کو اربن یونٹ نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے کیونکہ ہماری بہت مدد کی ہے جینڈر مینجمنٹ سسٹم بنانے میں اور سالانہ جینڈر پیرٹی رپورٹ بنانے میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے اور اس کے لیے میں بہت زیادہ شکرگزار گورنمنٹ کی بھی ہوں کیونکہ ہمیں حکومت کے تمام اداروں اور وزراء سے مکمل سپورٹ حاصل ہے جس کی وجہ ہی سے میرے لیے یہ کام کرنا ممکن ہوسکا ہے ورنہ یہ ناممکن تھا۔
جو مینجمنٹ سسٹم بنایا ہے یہ تین سو عناصر کو فالو کرتا ہے جس میں صحت، تعلیم، گورنینس اور فیصلوں میں اپنی رائے کا حق، معاشی طورپر حصہ داری،دیگر حقوق اور خواتین کے خلاف تشددشامل ہے۔ اس میں جو اعدادوشمار آئے ہیں کہ کون سی ایسی متاثرہ خواتین ہیں اور وہ ہیں کہاں پر۔ ہمارے ذہنوں میں کچھ غلط تاثرات موجود تھے جو کہ ان اعدادوشمار سے دور ہوگئے ہیں۔ عام تاثر یہ تھا کہ ۵۲فیصد خواتین ہیں اور ۴۸فیصد مرد ہیں لیکن جب ڈیٹا اکٹھا کیاگیا تو معلوم ہوا کہ مرد۵۲فیصد ہیں اور خواتین۴۸فیصد ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چار فیصد خواتین مسینگ ہیں یہ کہاں ہیں ؟اس کے لیے اگر ہم پسماندہ اضلاع میں جائیں تو یہ جو فرق بڑھ جاتا ہے جیسے اگر وہاں ایک سو آٹھ آدمی ہیں تو سو خواتین ہیں اور جب ترقی یافتہ علاقوں میں آئے تو وہاں یہ فرق تقریباً برابر ہوجاتا ہے اور جیسے یہ رحجان بھی ہے کہ حمل کے دوران اگر معلوم ہوجائے کہ بچی ہے تو اسے پیدا ہونے سے پہلے ہی ضائع کردیا جاتاہے یہ بہت گلوبل فنومینا ہے جو کہ اکثر پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں بھی بیشتر ایسا ہوتا ہے۔
پنجاب میں ۵۲ فیصد مرد ہیں اور ۴۸ فیصد خواتین ہیں اسی طرح لوگوں کو اسکولوں ،کالجوں میں داخلہ نوکریوں میں آسانی‘ پاسپورٹ بنوانے‘ ووٹ کاسٹ کرنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہاں پر بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ فرق موجود ہے اور اسی فرق کی بنا پر جو ووٹ بنے اور اس کے لیے ضروری ہے شناختی کارڈ کیونکہ شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ نہیں ڈالا جاسکتا ہے اور اس اعداد وشمار کے مطابق کل آبادی کے ۵۶ فیصد مرد تھے جو کہ ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل مرد ہیں اور خواتین کے کل آبادی کے۴۳فیصد ووٹ تھے۔ تیرہ فیصد کی ابھی مس پیرٹی موجود ہے۔جبکہ بالکل برابری ہونی چاہیے تھی۔ یہ اعدادوشمار ۲۰۱۳سے بہتر ہیں جو ابھی لوکل گورنمنٹ الیکشن ۲۰۱۵میں بنے ہیں۔اسی میں جو جنرل سیٹیں ہیں ان پرجب حالیہ لوکل گورنمنٹ کے الیکشن ۲۰۱۵ء میںہوئے۔ اس میں بہت ہی کم خواتین جنرل سیٹیوں پر آئیں۔ ہاں ان کے لیے پندرہ سے بیس فیصد کوٹے مختص ضرور ہیں مگر جنرل سیٹیوں پر بہت ہی کم عورتیں آئیں۔پھر جو قانون پاس ہوا تھا۲۰۱۴ء میں اس کے تحت ۳۳فیصد خواتین کا پبلک سیکٹرمیں بورڈ اینڈ کمیٹیوں میں ہونا لازمی تھا۔ وہ جو ایم آئی ایس کے لیے جو ڈیٹا اکٹھا ہوا اور جو پیرٹی رپورٹ تیا رہوئی ،اس میں یہ نظرآیا کہ خالی سات فیصد عورتیںبورڈ اور کمیٹیاںڈیل کرتی ہیں باقی ۹۳ فیصد بورڈ اینڈ کمیٹیاں مرد ہی ڈیل کرتے ہیں اور ممبرز میں بھی دو فیصد خواتین اور آٹھ فیصد مرد ہی ہوتے ہیں اگرآپ بہت ہی باعزت ،پروقار ادارے جہاں سے انصاف مہیا ہوتا ہے۔عدالتوں میں چودہ فیصد خواتین جج ہیں اور ۸۶ فیصد مرد جج ہیں اور وہ چودہ فیصد خواتین جج بھی جونیئر و سول لیول کی جج ہیں۔سینئر لیول جج میں۵۵فیصد مرد جج تعینات ہیں اور تین خواتین جج ہیں،جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج سے پانچ سال پہلے کوئی ایک بھی عورت اس لیول میں جج نہیں تھی۔ پانچ سال سے بھی پیچھے جائیں تو ایک ایسا ٹائم بھی آیا تھا کہ بیس سالوں کے دوران کوئی ایک بھی خاتون جج نہیں تھی۔اسی طرح گورنمنٹ کے ہائیسٹ گریڈ میں‘ گریڈ اکیس اور بائیس میں صرف ایک خاتون ہے۔ گریڈ انیس میں صرف پانچ فیصد خواتین ہیں ان تمام اعداد وشمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے لیے جو گورنمنٹ کام کررہی ہے وہ بالکل صحیح کررہی ہے اور ابھی جو ادارے بنائے جارہے ہیں وہ کتنے ضرور ی ہیں مگر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ حکومت خوا مخواہ میں یہ ادارے بنا رہی ہے لیکن ان اعدادوشمار اور نمبرز سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ سب جائز ہے اور بہت ضروری ہے چیزیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہورہی ہیں مگر ابھی خواتین کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کی مد میںبہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔جو اضلاع سائوتھ پنجاب میں واقع ہیں۔ وہاں صحت کے معاملات کمزور ہیں برعکس نائوتھ پنجاب کے اضلاع کے اور ذہنی صحت کے لیے پورے پنجاب میں صرف ایک ہیلتھ یونٹ موجود ہے جو کہ لاہور میں ہے اور اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی بہت جینڈر ڈسپیرٹی ( صنفی عدم مساوات )فرق پایا جاتا ہے۔خاص طورپر پرائمری اور مڈل کے لیول پر،خا ص طوپر سائوتھ پنجاب کے اضلاع بہت پسماندہ ہیں۔جیسا کہ راجن پور میں اگر چالیس فیصد لڑکیاں پڑھ رہی ہیں تو ستر فیصد لڑکے پڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمار ا شرح خواندگی کا ریٹ بھی ہمیں یہ آگاہی دیتا ہے کہ مرد وعورت کے مابین تعلیمی میدان میں بھی ایک گہرا فرق موجود ہے کیونکہ پنجاب کا شرح خواندگی ریٹ ۶۹ فیصد ہے جو کہ باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہے مگر اس میں خواتین کا خواندگی ریٹ صرف پچاس فیصد ہے۔
اس کے علاوہ کچھ روشنی اگر میں خواتین کو ملنے والی معاشی مواقعوں پر ڈالوں تو اس میں خواتین کی معاشی لیبر فورس ،کی شرکت پنجاب میں تقریبا۲۶فیصد ہے جب کہ مردوں کی ستر فیصد سے اوپر ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ خواتین کام کم کررہی ہیں ،بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہاں پر کام کررہی ہیں‘ وہ نظر نہیں آرہی ہیں بیشتر خواتین گھروں میں کام کررہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں آتی ہیں۔ وہ بحیثیت ورکرز رجسٹرڈ نہیں ہوپاتیں ہیں انہیں کوئی بھی ایک مڈل مین کام پکڑا دیتا ہے اور ان کی کوئی ڈاکومنٹ ٹیشن نہیں ہوتی ہے نہ وہ ورکرز میں شمار ہوپاتی ہیں یوں وہ محروم رہ جاتی ہیں ان فوائد سے جو کہ ورکرز کو ملتے ہیں۔ اس وقت ایک کروڑ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں،جن میں ستر فیصد خواتین ہیں۔اسی طرح جب ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تو یہ بات بھی سامنے آئی کہ پانچ ہزار ماہانہ یا اس سے بھی کم پر کام کرنے والی خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے،جو تقریبا پچاس فیصد خواتین ایسی ہیں جو کہ پانچ ہزار ماہوار سے بھی کم پر کام کررہی ہیں اور اس کے برعکس صرف ۷ء۷فیصد مرد پانچ ہزار یا اس سے کم پر کام کرتے ہیں اور جب تشدد کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تو بدقسمتی سے یہ بات سامنے آئی خواتین پر تشدد بجائے کم ہونے کے بڑھ رہا ہے ۔یہ جو شرمین عبید چنائے کو آسکرایوارڈ ملا ہے، اس نے ایک غیرت کے نام پر قتل کردی جانی والی خاتون پر دستاویزی فلم بنائی، وہ فلم ایک ایسے پہلو کی نشاندہی کررہی تھی جو کہ نہایت شرم ناک ہے جس میں ہائی لائٹ کیا گیا ہے ہمارے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کوجو کہ غیر ت کے نام پر کبھی جائیدار کی وجہ سے تو کبھی پسند کی شادی کی وجہ سے جو کہ ہر عورت کا شرعی وقانونی حق ہے اگر کوئی عورت یہ حق استعمال کرتی ہے تو اس کوغیر ت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے جو کہ سراسر ایک کھلی بے غیرتی ہے جب اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تو وہ کافی زیادہ ہے۔ پنجاب میں ۲۰۱۵ء میں۱۷۳ عورتوں کاقتل ہوا غیرت کے نام پر ان میں سے بہت سے کیسز ایسے بھی ہوں گے جو کہ رپورٹ ہی نہیں ہوئے ہوں گے۔پنجاب حکومت اس ایشو کے حوالے سے بہت زیادہ کام کررہی ہے اور غیرت کے نام پر قتل کو بالکل معاف نہیں کیا جائے گا۔مگر پھر بھی اس قسم کی فرسودہ رسمیں ہمارے کلچر میں بہت زیادہ سرایت کرچکی ہیں۔یہ غیرت کے نام پر قتل کا عمل جاری ہے اور اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔خواتین پر تشدد کے حوالے سے ،تیزاب پھینکنا،جلا دیا جانا،قتل کردیا جانا‘ خواتین کے ریپ‘ عورتوں پر جسمانی تشدد(اعضا کاٹ دئیے جانا) ان سب کیسوں کے نمبرز اگر اٹھا کر دیکھے جائیں تو وہ پنجاب میں کافی بڑی تعدار میں ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں یہ نمبرز ۵۳۹۱ تھے تو ۲۰۱۵ء میں اس میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد ۶۵۰۵ہے۔یہ میرے لیے بہت اہم ہے اس لیے نہیں کہ یہ نمبرز بڑھ رہے ہیں بلکہ اس لیے کہ اب خواتین خود کو اتنا محفوظ محسوس کرتی ہیں کہ وہ آکر اپنا کیس رپورٹ کرتی ہیں یعنی پہلے بھی یہ سب ہورہا تھا مگر عورتوں کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ جا کر اپنا کیس بتا سکیں کہ مجھے اتنی مار پڑی ہے کہ میرا بازو توڑ دیا گیا ہے۔ اب عورت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت اس کا ساتھ دے گی اور ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ۲۰۱۲ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک رحیم یار خان، وہاڑی، سرگودھا وغیر ہ کے اضلاع کے سب سے زیادہ کیسز ہیں خواتین پر تشدد کے جو رپورٹ ہوئے۔اس کے برعکس چکوال، چنیوٹ، اٹک میں ۲۰۱۲ء سے لے کر اب لو نمبرز کے کیسز آئے ہیںاور اس کے علاوہ بہت سارے اضلاع میں جہاں شرح خواندگی زیادہ ہے وہاں تشدد کے کیسوں کی تعداد اور نمبرز کم ہیں لہٰذا یہ بات میں پورے وثوق سے کہتی ہوں کہ شرخ خواندگی اور خواتین پر تشدد کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے جن علاقوں میں عام طورپر لوگ زیادہ باشعور اور پڑھے لکھے ہیںوہاں تشدد بھی خاصا کم ہے۔
گلوبل رپورٹ کے مطابق جہاں بھی خواتین پر تشدد کے کیسز کی رپورٹوں پر ریسرچ ورک کیا گیا ہے وہاں ۱۴۶ ممالک میں پاکستان کا نمبر ۱۴۵ نمبر ہے اور پاکستان کی جو سب سے بری حالت ہے وہ ہے معاشی طورپر خواتین کا اکنامک سرکل میں حصہ لینے کا عمل ہے یعنی معاشی استحکام عورت کو بالکل بھی حاصل نہیں ہے اس میں ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close