Hijaab Feb-16

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر4)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
خاور صاف الفاظ میں حورین سے اپنی محبت کا اظہار کرکے اسے شدید حیرت میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ جان کر اسے بے حد رنج ہوتا ہے کہ اسے فون کالز کرنے والا شخص بھی خاور ہی تھا۔ دوسری طرف احتشام کی بے رخی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس کے باہر جانے کے تمام راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور تمام رقم بھی ڈوب جاتی ہے۔ ایسے میں سمیر اس کی اس گھٹیا حرکت پر اسے لعن طعن کرتا ہے۔ دوسری طرف خاور اس کے باہر جانے کے تمام انتظامات مکمل کرکے اپنی راہ میں حائل احتشام کو ہٹانا چاہتا ہے تاکہ وہ حورین کو اپنا سکے جبکہ سمیر یہ سب جان کر دنگ رہ جاتا ہے کہ خاور صرف اپنے مطلب کے لیے یہ سب کررہا ہے۔ جلد ہی احتشام اپنے والدین اور حورین کو تنہا چھوڑ کر انگلینڈ چلا جاتا ہے جہاں ایک سخت اور اذیت بھری زندگی اس کی منتظر تھی۔ دوسری طرف خاور اپنی سرگرمیاں مزید تیز کرتے ہوئے حورین کو احتشام کی خود غرضی اور چند روپوں کے عوض حاصل کرنے کی تمام داستان سنا کر اسے اپنی طرف مائل کرنا چاہتا ہے لیکن حورین احتشام کی ہونے والی اولاد کا بتا کر اسے حیران کردیتی ہے۔ ننھی لالہ رخ کی آمد ان سب کی زندگی میں خوشی کی لہر لے کر آتی ہے لیکن احتشام اب بھی اس سے لاتعلق رہتا ہے اور کچھ عرصہ بعد ہی وہ حورین کو طلاق نامہ بھیج دیتا ہے یہ صدمہ حورین کے لیے بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہی حاکم دین اس صدمے سے نڈھال داغ مفارقت دے جاتے ہیں ایسے میں حورین اور کبریٰ بیگم ایک بار پھر تنہا اور بے بس رہ جاتے ہیں۔ گزرتے وقت کے سنگ خاور یہ بات جان لیتا ہے کہ حورین کو اپنانے کے لیے اسے اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی جب ہی وہ حورین سے اپنے گزشتہ رویوں پر معافی مانگ لیتا ہے ایسے میں کبریٰ بیگم اس کے سامنے حورین کا پروپوزل رکھتی ہیں۔ جس پر خاور بے حد خوش ہوتا ہے حورین بھی کبریٰ بیگم کے خاموش احتجاج پر ہار مان کر اقرار کرلیتی ہے اور یوں وہ حورین احتشام سے حورین خاور بن جاتی ہے لیکن شادی کے کچھ عرصے بعد ہی خاور کا مکروہ چہرہ حورین کے سامنے آجاتا ہے جب وہ احتشام سے اپنی نفرت کا واضح اظہار کرکے اس کی بیٹی لالہ رخ کو اپنانے سے صاف انکار کردیتا ہے ایسے میں حورین اپنی بیٹی کو فیروزہ بی بی کے حوالے کردیتی ہے اور یوں لالہ رخ مری میں اپنی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔ گزرے ماہ و سال میں بائیس سال کا طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔ لیکن خاور کی محبت حورین سے برقرار رہتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
…٭٭٭…
’’اتنے قیمتی تحفے کی بھلا کیا ضرورت تھی خاور!‘‘ حورین آئینے پر ابھرتے خاور کے عکس کو دیکھتے ہوئے انتہائی دلنشیں مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتے ہوئے نزاکت سے بولی۔ بے حد خوب صورت اور نفیس ہار سے اٹھتی روشنیاں حورین کے چہرے پر منعکس ہوکر اسے مزید حسین و دلربا بناگئیں۔ خاور نے اسے اپنی نگاہوں میں جذب کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’جو بیش قیمت اور انمول تحفہ تم نے مجھے آج کے دن دیا تھا اس کے عوض اگر میں تمہارے قدموں میں دنیا بھر کی دولت ڈھیر کردوں تب بھی اس کا خراج ادا نہ کرسکوں۔‘‘
’’آپ تو مجھے مغرور بنا رہے ہیں۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں بولی تو خاور نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔
’’مغرر تو تمہیں ہونا چاہیے مسز خاور! چاند کو شرما دینے والے حسن کی مالک ہو پھر ایک جوان ہینڈسم بیٹے کی ماں ہو اور تمہارا جو شوہر ہے وہ تمہارا دیوانہ ہے جو تمہاری ایک نگاہ التفات پر تمہارے قدموں میں بیٹھا رہتا ہے غرور تو تم پر سجتا ہے میری جان۔‘‘
’’اُف خاور! حْد ہوگئی مبالغہ آرائی کی بھلا آپ کب میرے قدموں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ بزنس اور آفس کے کاموں سے بھلا آپ کو وقت ہی کہاں ملتا ہے اور پھر ورلڈ ٹورز الگ۔‘‘ حورین اپنے چمک دار بالوں کو ایک جھٹکا دے کر بولی تو خاور مسکین سی صورت بناکر گویا ہوا۔
’’غم روزگار بیگم صاحبہ! اب پیٹ کا ایندھن بھی تو بھرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’ہائے یہ مجبوری یہ بے چارگی‘ بہت ڈرامے باز ہوگئے ہیں آپ۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی تو اچانک خاور کو وقت گزرنے کا احساس ہوا۔
’’میرے خیال میں اب ہمیں باہر چلنا چاہیے سب ہمارا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ وہ اپنی کلائی پر بندھی بیش قیمت رسٹ واچ پر نگاہ دوڑا کر گویا ہوا۔
’’واقعی باتوں باتوں میں ہم نے دیر لگادی‘ چلئے باہر چلتے ہیں۔‘‘ حورین جلدی سے اٹھ کر بولی پھر دونوں نے باہر کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
ء…/…ء
ماریہ کلاس لے کر باہر نکلی تو موسم یک لخت بدل چکا تھا ہلکی ہلکی پھورا کے ساتھ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اس نے اپنے گرم فر کے اوور کوٹ کے بٹن بند کیے اور اسکارف کو اچھی طرح سیٹ کرکے اپنے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ٹھوس لیے اس پل اس نے سیدھا گھر جانے کا ارادہ کیا وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی معاً اسے احساس ہوا کہ کوئی اسے پکار رہا ہے اس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے سے جیسکا بھاگتی ہوئی اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی۔
’’اوہ ماریہ تھینک گاڈ کے تم مجھے مل گئیں۔‘‘ جیسکا اپنی پھولی پھولی سانسوں سمیت تشکر آمیز لہجے میں شستہ انگریزی میں بولی تو ماریہ نے اسے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا ڈیپ ریڈ رنگ کی جیکٹ اور بلیک جینز پر وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی ماریہ کو اس کی آنکھیں بے حد پسند تھیں جو نیلگوں مائل اور انتہائی خمار آلود تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ آنکھیں ابھی ابھی نیند سے جاگی ہوں۔
’’کیوں مجھ سے کوئی خاص کام تھا ڈئیر!‘‘ ماریہ مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تو جیسکا نے کچھ خفا ہوکر دیکھا۔
’’بننے کی ضرورت نہیں ہے ماریہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے کیا کام ہے۔‘‘
’’اگر تمہارا اشارہ اس کام کی طرف ہے تو وہ کام تم چھوڑ ہی دو تو اچھا ہے۔ میرا بھائی اس دنیا کا سب سے منفرد اور الگ انسان ہے‘ فضول میں اپنا ٹائم اور انرجی ویسٹ کررہی ہو میری جان!‘‘ ماریہ انگریزی میں اسے سمجھانے والے انداز میں بولی تو جیسکا بے پروائی سے کندھے اچکا کر گویا ہوئی۔
’’مجھے کون سا مائونٹ ایورسٹ فتح کرنا ہے یا کوئی ملک دریافت کرنا ہے میرے پاس ٹائم ہی ٹائم ہے ڈئیر!‘‘
’’اوکے ڈئیر لگی رہو‘ جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ یہ کہہ کر ماریہ جانے کو پلٹی تو پیچھے سے جیسکا کی تیز آواز ابھری۔
’’پلیز ماریہ تم اپنے بھائی کو میرے لیے کنوینس کرنا اس سے کہنا کہ خوب صورت لڑکیوں کی بد دعائیں لے گا تو کہیں چین نہیں ملے گا۔‘‘ ماریہ کے ہونٹوں پر جیسکا کی بات پر مسکراہٹ دوڑ گئی وہ مڑے بنا اونچی آواز میں بولی۔
’’اوکے ڈئیر! کہہ دوں گی۔‘‘ پھر ماریہ نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کرلی تاکہ جلد از جلد وہ گھر پہنچ سکے۔
ء…/…ء
اس کا کام تقریباً ختم ہوچکا تھا آج اسے بے حد تھکن محسوس ہورہی تھی۔ سامنے دیوار پر لگے قد آور وال کلاک کی جانب اس نے دیکھا جو اس پل شام چھ بجے کا عندیہ دے رہی تھی جب کہ اس لمحے ماحول پر چھایا گمبھیر اور جامد اندھیرا رات بارہ بجے کا سماں پیش کررہا تھا۔ سیزن نہ ہونے کی وجہ سے ریسٹ ہائوس میں زیادہ چہل پہل بھی نہیں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔ لالہ رخ اپنی سیٹ سے اٹھنے کا قصد کر ہی رہی تھی کہ داخلی دروازے سے انتہائی تیز رفتاری سے مہرینہ کی انٹری ہوئی لالہ رخ اس وقت اسے یہاں دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ قدرے برہم بھی ہوئی۔
’’مہرینہ کی بچی کچھ تو عقل کے ناخن لو‘ یہ تم اس وقت شتر بے مہار کی طرح کہاں منہ اٹھائے گھومتی پھر رہی ہو۔‘‘ وہ اس کی اچھی خاصی کلاس لیتے ہوئے بولی تو مہرینہ حسب معمول فوراً سے پیشتر گویا ہوئی۔
’’یار لالہ! ناخن تو میں نے آج ہی کاٹ لیے وہ بھی اماں کی ڈانٹ سے مجبور ہوکر دراصل ان کا سر دباتے ہوئے ان کی ناک پر لگ گیا تھا نا اور تم سے میں نے کتنی بار کہا ہے کہ مہرینہ کی بچی مت بولا کرو‘ مجھے پہلا بیٹا چاہیے۔‘‘ وہ شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے دوپٹے کا کونہ دانتوں میں دباتے ہوئے بولی تو لالہ رخ اسے تادیبی نگاہوں سے گھورتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’شرم تو تمہارے پاس سے چھو کر بھی نہیں گزری۔‘‘
’’لو پھر یہ میں اس وقت کتھک ڈانس کررہی ہوں شرما ہی تو رہی ہوں۔‘‘ وہ باقاعدہ آنکھیں ٹپٹپاتے ہوئے بولی تو لالہ رخ نے خاموش رہنے میں عافیت جانی وگرنہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ مہرینہ کی طرف سے ایسے ہی اوٹ پٹانگ جواب آنے ہیں وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ ساتھ ساتھ مہرینہ بھی تھی قدموں کے ساتھ ساتھ زبان بھی نان اسٹاپ چل رہی تھی۔
’’بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے ایک تو میں اتنی رات کو سخت سردی میں اپنی قلفی جمانے اور اپنی عزیز جان سہیلی کو لینے یہاں چلی آئی اور یہاں دیکھو لوگوں کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے۔‘‘
’’تو تمہیں کس عقل مند نے مشورہ دیا تھا کہ اتنی شدید سردی میں ٹارزن بن کر مجھے لینے پہنچ جائو وہ بھی اکیلی… حد کرتی ہو مہرینہ تم بھی‘ اتنی بے پروائی اور دلیری اچھی نہیں ہوتی۔‘‘
’’تو تم بھی تو اکیلی ہی گھر آتیں یا پوری بارات کے ساتھ آرہی تھیں؟‘‘ وہ طنزاً بولی تو اچانک لالہ رخ کو اپنی اس دوست پر بے پناہ پیار آگیا۔
’’بالکل پاگل تو تم مامی ٹھیک کہتی ہیں کہ یقینا بچپن پر لگی چوٹ نے تمہارا دماغ کھسکا دیا ہے۔ آج چوکیدار نہیں آیا ورنہ وہی مجھے گھر تک چھوڑتا ہے۔‘‘
’’ہاں معلوم ہوگیا تھا مجھے بستر پر پڑا پیٹ پکڑے ہائے اوئی کررہا تھا۔‘‘ دونوں اس پل پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے زور وشور سے باتوں میں مصروف تھیں جبکہ اطراف میں ہوکا عالم تھا۔
’’تمہیں کیسے معلوم ہوا۔‘‘ لالہ رخ اسے اندھیرے میں گھورتے ہوئے استفہامیہ لہجے میں بولی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوئی۔
’’بھئی میں اس کی بیوی سے ملنے گئی تھی بلکہ اس نے مجھے خود بلایا تھا میری پکی مرید ہوگئی ہے وہ۔‘‘
’’مہرینہ تم باز نہیں آئو گی نا۔‘‘
’’جائو تمہارا گھر آگیا میں یہیں کھڑی ہوں تم اندر جائو شاباش۔‘‘ لالہ رخ کا گھر آچکا تھا مہرینہ رعب دار لہجے میں بولی تو لالہ رخ تپ گئی۔
’’میں چھوٹی بچی نہیں ہوں چلی جائوں گی اندر۔‘‘
’’نہیں فوراً میری آنکھوں کے سامنے اندر جائو۔‘‘ مہرینہ نے اسے آگے کی جانب دھکیلا اور پھر جب لالہ رخ گھر میں داخل ہوگئی تو مہرینہ بھی اپنے گھر کے جانب چل دی جو چند فرلانگ پر تھا۔
ء…/…ء
باسل پیلس میں اس وقت جشن کا سماں تھا انتہائی پرشکوہ و بلند وبالا عمارت کے وسیع وعریض لان میں گویا دن نکلا تھا رنگ و بوکا گویا سیلاب سا امڈ آیا تھا۔ شہر کی معروف شخصیات اور خوب صورت لڑکیوں کے قہقہوں سے سجی محفل گزرتی رات کے ساتھ ساتھ مزید جم رہی تھی آرکسٹرا پر انتہائی دلکش دھن اور بیش قیمت گلاسوں کے ردھم نے عجیب سا سماں باندھ دیا تھا۔ آج ملک کے معروف بزنس ٹائیکون خاور حیات کے اکلوتے بیٹے باسل حیات کی سال گرہ تھی خاور نے شہر کے انتہائی پوش علاقے میں یہ جدید اور منفرد طرز کا پیلس اپنے بیٹے کے لیے بنوایا تھا جو اس کی زندگی کا محور و مرکز تھا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا اس کے ایک اشارے پر پوری کائنات اس پر لٹانے کو تیار باسل اپنے باپ کے برعکس انتہائی پُرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ قد و قامت اس نے اپنے دادا کا لیا تھا جب کہ رنگت و خوب صورتی اس نے اپنی ماں حورین سے چرائی تھی وہ محض بائیس سال کا تھا مگر اپنی اٹھان کے سبب وہ ستائیس اٹھائیس سال کا بھرپور مرد لگتا تھا۔ خاور حیات کو اپنے بیٹے پر بے حد ناز تھا وہ اس کا فخر اس کا غرور تھا۔
’’مبارک ہو مسز خاور! آپ کو اپنے بیٹے کا جنم دن۔‘‘ مسز فیروز حورین کے سراپا کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے مصنوعی خوش اخلاقی سے بولیں‘ آنکھوں میں حسد و جلن کے رنگ لیے مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ مزید گویا ہوئیں۔
’’لگتا نہیں ہے مسز خاور کہ آپ ایک جوان بیٹے کی ماں ہیں۔‘‘ جواباً خاور حیات جو ایش گرے بیش قیمت ڈنر سوٹ میں ڈارک گرے ٹائی لگائے حورین کے پاس ہی کھڑا تھا قہقہہ لگا کر بولا۔
’’مسز فیروز میری سوئٹ وائف کو نظر مت لگا دیجیے گا۔‘‘
’’آہ اگر ہمیں بھی آپ جیسا لونگ ہزبینڈ ملتا تو میں آپ سے دعوے سے کہہ سکتی ہوں مسٹر خاور آپ کی وائف کو ہم پیچھے چھوڑ دیتے۔‘‘
’’اس دنیا میں کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو میری بیوی کے آگے ٹھہر سکے۔‘‘ سانولی رنگت اور عام سے نین و نقوش کی مالک مسز فیروز جو قدرے فربہی مائل تھیں ان کی بات پر خاور نے انتہائی تیقین آمیز لہجے میں کہا تو وہ انتہائی بدمزہ سی ہوگئیں۔
’’ارے حورین! سمیر اور ساحرہ بھابی آگئیں‘ آئو میرے ساتھ۔‘‘ خاور سمیر اور ساحرہ کو داخل ہوتے دیکھ کر مسز فیروز سے ایکسکیوز کرکے وہاں سے ہٹ گئے۔
’’اونہہ نجانے موصوفہ اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہیں‘ قلوپطرہ یا ملکہ الزبتھ۔‘‘ مسز فیروز انتہائی جل کر خود سے بولیں پھر چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ سجا کر دوسری جانب مڑگئیں۔
’’یہ وقت ہے تمہارے آنے کا‘ ارے تم تو گھر کے لوگ ہو اتنی دیر کیوں لگائی؟‘‘
’’بس یار تم تو جانتے ہو وہ کورین پروجیکٹ میری جان عذاب کیے ہوئے ہے کچھ کام میں الجھ گیا تھا۔‘‘ سمیر خاور کو وضاحت دیتے ہوئے بولا پھر حورین کی جانب متوجہ ہوکر گویا ہوا۔
’’بھابی ہمیشہ کی طرح آج بھی آپ ہی پوری محفل پر چھائی ہوئی ہیں۔‘‘ سمیر کے توصیفی الفاظ ساحرہ کو بری طرح جھلسا گئے ساحرہ بھی کچھ کم حسین اور وضع دار نہیں تھی مگر حورین کے سامنے اس کی دلکشی ہمیشہ ماند پڑ جاتی تھی جس طرح سونے کے سامنے پیتل اور ہیرے کے آگے کانچ کی وہ ہمیشہ ہی حورین کے بے داغ اور معصوم حسن سے خائف اور کمپلیکس کا شکار رہتی تھی اور خوامخواہ میں اس کے سامنے اپنی بڑائی اور قابلیت جھاڑنے کی کوشش کرتی تھی جب وہ بلیک بیش قیمت ساڑھی پر بلیک ہی اسٹون والا سیٹ پہن کر انتہائی دلکش میک اپ سے اپنے تیکھے نین و نقوش کو مزید خوب صورت بناکر بڑی تمکنت سے سمیر کے سنگ نکلی تو اسے اس بات کا بھرپور یقین تھا کہ اس کے قاتل حسن کا مقابلہ آج کوئی نہیں کرسکے گا مگر حورین کے حسن کی مشعل کے آگے اس کی خوب صورتی تو محض دیا سلائی کی لو ثابت ہوئی تھی۔
’’سمیر بھائی! ساحرہ بھابی بھی کچھ کم نہیں لگ رہیں‘ لگتا ہے کہ آپ کی قریب کی نظر کچھ کمزور ہوگئی ہے۔‘‘ حورین سمیر کے ریمارکس پر ہنستے ہوئے بولی تو ساحرہ کے چہرے کے نقوش تن گئے۔ حورین نے محض ایسے ہی بات کی تھی مگر ساحرہ کو لگا جیسے وہ اسے نیچا دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔
’’اونہہ صرف خوب صورتی اور حسن کس کام کا یہ تو چوک پر بھیگ مانگنے والیوں اور گھروں پر کام کرنے والی ماسیوں کے پاس بھی ہوتا ہے اصل چیز تو ذہانت اور قابلیت ہے۔‘‘ شکر تھا کہ خاور اس وقت کسی کے متوجہ کرنے پر وہاں سے چلا گیا تھا وگرنہ ساحرہ کو کرارا سا جواب دے دیتا جب کہ ساحرہ یہ کہہ کر وہاں رکی نہیں دوسری جانب مڑ گئی مگر سمیر اچھا خاصا شرمندہ ہوگیا ابھی وہ کچھ کہتا کہ یک دم حورین نے ماحول کی کثافت اور سمیر کی شرمندگی کو ختم کرنے کی غرض سے استفسار کیا۔
’’سمیر بھائی فراز اور کامیش کو تو کبھی ہمارے گھر لایئے نا‘ ماشاء اللہ بہت اچھے اور فرماں بردار بچے ہیں آپ کے۔‘‘ اپنے بیٹوں کا نام سن کر سمیر کے ہونٹوں پر بڑی دلکش مسکراہٹ دوڑ گئی۔ فراز اور کامیش شاہ دونوں سمیر کے بازو تھے۔
’’بھابی آپ کو تو پتا ہے نا آج کل کے بچوں کی اپنی ہی الگ دنیا ہوتی ہے۔ فراز کے دوست کی آج شادی ہے لہٰذا وہ وہاں گیا ہوا ہے اور کامیش اپنے کام میں مصروف تھا۔‘‘ سمیر نے اپنے بیٹوں کی بابت بتایا تو حورین مسکرانے لگی۔
’’مما پلیز کم ہیئر۔‘‘ یک دم باسل نے اسے دور سے پکارا تو حورین سمیر سے ایکسکیوز کرکے وہاں سے چل دی جب کہ سمیر شاہ بھی آگے بڑھ گیا۔
ء…/…ء
لالہ رخ جب گھر میں داخل ہوئی تو زرتاشہ کو منہ پھلائے‘ ادھر اُدھر کاموں میں مصروف پایا وہ سمجھ گئی کہ آج پھر امی سے اس کی بحث و تکرار ہوئی ہے وہ محض ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی۔
’’تم آگئیں بیٹا! جلدی سے ہاتھ منہ دھولو میں کھانا لگا رہی ہوں۔‘‘ امی نے اسے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیتے ہوئے عجلت میں کہا وہ جب تک گھر میں داخل نہیں ہوجاتی تھی انہیں پریشانی لاحق رہتی تھی۔ لالہ رخ اثبات میں سر ہلا کر اپنے اور زرتاشہ کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گئی تھوڑی دیر میں جب واپس آئی تو امی دستر خواں پر کھانا لگاچکی تھیں۔
’’امی‘ ابا نے کھانا کھا لیا کیا؟‘‘
’’ہاں آج انہوں نے جلدی کھانا کھا لیا‘ دن میں ٹھیک سے کھایا نہیں تھا۔‘‘
’’ابا کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔‘‘ وہ فکر مندی سے گویا ہوئی۔
’’اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہے بس ذرا دن میں کھانے کی خواہش نہیں ہورہی تھی تم کھانا تو شروع کرو۔‘‘
’’اور زرتاشہ…؟‘‘
’’چھوڑو اس کو‘ پتا نہیں کیا الٹا سیدھا شام کو کھالیتی ہے‘ رات کو پھر بھوک ہی نہیں لگتی اسے۔‘‘ امی خاصے تپے ہوئے لہجے میں بولیں تو لالہ رخ نے مسکرا کر کھانا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد زرتاشہ گرما گرم بھانپ اڑاتی چائے کے تین کپ ٹرے میں سجائے چلی آئی۔ ڈارک پرپل رنگ کے گرم شلوار سوٹ میں روٹھی روٹھی سی زرتاشہ لالہ رخ کو اس پل بہت پیاری لگی۔
’’تاشو تم رات کا کھانا کیوں نہیں کھاتیں۔‘‘
’’چھوڑو لالہ کھانے پینے کو اور بھی غم ہیں زمانے میں کھانے کے سوا۔‘‘ زرتاشہ چڑے ہوئے لہجے میں بولی تو امی نے اسے فہمائشی نگاہوں سے گھورا۔
’’اچھا یہ بات تجھے اس وقت یاد نہیں آتی جب تُو پکوڑے سموسے اور چپس وغیرہ سے پیٹ بھررہی ہوتی ہے۔‘‘
’’افوہ امی اب ایسا بھی کیا ہوگیا۔‘‘ زرتاشہ جزبز سی ہوکر بولی پھر لالہ رخ کی جانب دیکھتے ہوئے منہ بسور کر گویا ہوئی۔
’’لالہ تم امی کو سمجھائو نا کہ کراچی کوئی سات سمندر پار نہیں ہے صرف چند گھنٹوں کا سفر ہے جہاز میں اور ٹرین کا سفر بھی بس ایک دن کا ہے۔‘‘
’’معلوم ہے مجھے اتنی جاہل اور کم عقل نہیں ہوں میں۔‘‘
’’تو پھر امی مجھے اجازت دے دو نا۔‘‘ وہ یک دم ان کا گھٹنا تھام کر بولی تو امی نے بے بسی سے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا پھر اچانک لالہ رخ کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’دیکھ رہی ہو اس کی ضد‘ ارے اس بائولی کو یہ سمجھائو کہ یہ لڑکی ذات ہے میں بھلا اتنی دور کراچی وہ بھی تن تنہا اسے کیسے پڑھائی کے لیے بھیج دوں۔‘‘
’’امی کراچی یونیورسٹی شہر کی بہت معروف اور اچھی یونیورسٹی ہے وہاں لڑکیوں کے رہنے کے لیے گرلز ہاسٹل بھی موجود ہے۔ دور دراز علاقوں سے لڑکیاں وہاں پڑھنے آتی ہیں۔‘‘ لالہ رخ کھانے سے فارغ ہوکر چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے سہولت سے بولی تو اس بات پر زرتاشہ کی بانچھیں کھل گئیں جب کہ امی نے اسے تادیبی نظروں سے دیکھا۔
’’تم بھی اس کی ہم نوا ہوگئیں لالہ!‘‘
’’امی میں تو صرف آپ کو بتارہی ہوں کہ وہاں اور بھی بہت سی لڑکیاں اکیلی پڑھنے کے لیے آتی ہیں وہاں ان کی حفاظت اور تحفظ کا بہت اچھا انتظام ہوتا ہے اور اسی حوالے سے یونیورسٹی کی ریپوٹیشن بھی بہت اچھی ہے۔‘‘ زرتاشہ نے مری کے کالج سے ہی انٹر پاس کیا تھا اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا اور کراچی یونیورسٹی میں داخلہ اس کی زندگی کا دیرینہ خواب تھا۔ لالہ رخ زرتاشہ کی اس خواہش بلکہ اس کے جنون سے بخوبی واقف تھی وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ زرتاشہ اپنے خوابوں کو پورا کرے‘ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے وہ اسے عزیز بھی تو بے حد تھی مگر امی اسے اتنی دور وہ بھی اکیلے بھیجنے پر قطعاً راضی نہیں تھیں۔
’’لو بھلا بتائو یک نہ شد دو شد۔‘‘ امی لالہ رخ کی بات سن کر قدرے غصے سے بولیں تو لالہ رخ ان کے قریب کھسک آئی اور ان کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر محبت سے بولی۔
’’اچھا آپ اس بات کی ٹینشن مت لیں میں زرتاشہ کو سمجھائوں گی۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر زرتاشہ نے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا پھر تیزی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
’’دیکھا تم نے… دیکھا اس لڑکی کے انداز کو بھلا یہ ماننے والی ہے؟‘‘ امی زرتاشہ کے اس طرح وہاں سے چلے جانے پر لالہ رخ سے طنزاً بولیں تو اس نے ایک گہری سانس کھینچی پھر انتہائی نرمی سے گویا ہوئی۔
’’امی اس نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی خواب دیکھا ہے اور وہ یہ کہ شہر کی بڑی یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگری حاصل کرے۔‘‘
’’جانتی ہوں بیٹا! میں اسے کتنا شوق ہے آگے پڑھنے کا اور شہر کی یونیورسٹی میں جانے کا‘ مگر میں بھی کیا کروں ماں ہوں اس کی آخر‘ کیسے اتنا دور اسے اکیلے پڑھنے کے لیے بھیج دوں اگر خدانخواستہ کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہوگئی تو۔‘‘
’’امی آپ منفی باتیں مت سوچیں ان شاء اللہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
’’اپنے دل کو میں کیسے سمجھائوں میرا دل نہیں مان رہا بس۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر وہ قطعیت سے بولیں تو لالہ رخ نے بھی فی الحال اس موضوع پر مزید بات کرنا مناسب نہیں جانا سو فوراً بولی۔
’’اچھا چھوڑیں اس بات کو اب آپ آرام کریں‘ سردی بھی کافی بڑھ گئی ہے اور پھر آپ بھی صبح سویرے اٹھ کر کاموں میں لگ جاتی ہیں۔‘‘ امی نے لالہ رخ کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا جو بلیک کھدر کے شلوار سوٹ میں بادامی شال اوڑھے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
’’اللہ ہر والدین کو تمہاری جیسی نیک اور احساس رکھنے والی بیٹی عطا کرے‘ نجانے میں نے ایسی کون سی نیکی کی تھی جو قدرت نے تمہیں میری جھولی میں ڈال دیا۔‘‘ امی نے بے ساختہ اسے اپنے سینے سے لگا کر حلاوت آمیز لہجے میں کہا تو ان کے وجود سے اٹھتی ممتا کی خوش بو اور گرمی محسوس کرکے لالہ رخ مسرور سی ہوگئی۔
’’میں بھی تو کتنی خوش نصیب بیٹی ہوں جسے آپ جیسی ماں ملی ہیں جو چراغ لے کر تو کیا سورج لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہ ملے۔‘‘ وہ ان سے لپٹے لپٹے فخر سے بولی تو امی دھیرے سے مسکرادیں۔
ء…/…ء
سونیا کا ہنس ہنس کر برا حال تھا ہنستے ہنستے اس کی خوب صورت بادامی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
’’او مائی گاڈ فراز! روحیل کی آنٹی نے تو ہمیں ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیا‘ ان کی باتیں ہی اتنی فنی تھی کہ میں تمہیں کیا بتائوں اور بے چارہ روحیل کتنا جھینپ رہا تھا۔‘‘
’’ہوں ویسے اس طرح کا پیس ہر خاندان میں ایک نہ ایک تو ضرور موجود ہوتا ہے۔‘‘ فراز شاہ نے سہولت سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنے ہمراہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی سونیا کو دیکھتے ہوئے کہا جو آف وائٹ فینسی میکسی پر نازک سی جیولری پہنے چہرے پر سوفٹ سا میک اپ کیے انتہائی دلکش لگ رہی تھی۔
’’تم بالکل صحیح کہہ رہے ہو فراز وہ شہناز آنٹی وہ بھی تو اسی طرح کی باتیں کرتی ہیں نا۔‘‘ سونیا ایک ادا سے اپنے شہد آگیں بالوں کو جھٹکتے ہوئے بولی فراز شاہ اور سونیا خان اس وقت اپنے فرینڈ اور کلاس فیلو کی شادی کی تقریب اٹینڈ کرکے آرہے تھے۔ فراز شاہ سمیر شاہ کا بیٹا اور سونیا ساحرہ کی بھانجی تھی دونوں شہر کی معروف یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے دونوں کزن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بھی تھے۔
’’ویسے شادی کا ارینجمنٹ بہت اچھا تھا اور روحیل بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔‘‘ فراز نے گاڑی کا موڑ احتیاط سے کاٹتے ہوئے اپنی رائے دی۔
’’ہاں نو ڈائوٹ‘ فنکشن بہت فنٹاسٹک تھا مگر مجھے روحیل کی برائیڈ نے کچھ خاص اپیل نہیں کیا۔‘‘
’’کیوں مجھے تو وہ کافی ڈیسنٹ اور گریس فل سی لگی۔‘‘
’’او کم آن فراز! وہ تو بالکل پینڈو اور بے وقوف سی لگ رہی تھی‘ ماتھے تک تو اس کا دوپٹہ آرہا تھا بس گھونگھٹ نکالنے کی دیر تھی اور زمین پر نگاہیں ایسے گاڑھے ہوئے تھی جیسے دیکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو۔‘‘ فراز کی بات پر وہ منہ بناکر بولی تو فراز ہنستے ہوئے گویا ہوا۔
’’مائی ڈئیر سونیا! وہ ٹریڈیشنل دلہن تھی جب کہ آج کل کی دلہنیں کافی ماڈرن ہوگئی ہیں سر پر تو دور وہ گلے میں بھی دوپٹہ نہیں ڈالتیں اور مہمانوں سے زیادہ وہ باتیں کرتیں اور قہقہے لگاتیں دکھائی دیتی ہیں۔‘‘
’’اونہہ مگر وہ ڈپلومیٹ تو نہیں ہوتیں یہ بھی ایسے ہی پوز کررہی تھی۔ تم اسے دیکھنا اگلے دن تمہیں یہ کتنی بولڈ نظر آئے گی۔‘‘
’’تمہیں گھر چھوڑنا ہے نا؟‘‘ فراز نے سونیا کی بات پر دھیان دیئے بنا استفسار کیا۔
’’کیوں کہیں اور لے جانے کا موڈ ہے کیا؟‘‘ سونیا شرارت سے بولی‘ فراز نے یونہی پوچھ لیا تھا۔ سونیا کے جملے پر چونکا۔
’’جی نہیں میڈم کہیں لے جانے کا موڈ نہیں ہے‘ صبح کیمپس لازمی جانا ہے اور اس وقت رات کے دو بجنے والے ہیں۔‘‘ موسم سرما کی آمد ہوچکی تھی لہٰذا سڑک پر اس وقت ٹریفک بھی برائے نام تھا۔ فراز شاہ تیزی سے گاڑی دوڑا رہا تھا۔
’’اوکے باس‘ جیسے آپ کی مرضی۔‘‘ سونیا فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کندھے اچکا کر بولی تو بلیک رنگ کے ڈنر سوٹ میں بلوٹائی لگائے فراز شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
ء…/…ء
بارش کے بعد ٹھنڈ کی شدت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا تھا مگر فل ہیٹڈ اپارٹمنٹ میں اس پل بہت خوش گوار ماحول تھا ماریہ بھاپ اڑاتی کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے چینل سرچنگ میں مصروف تھی جب ہی ابرام نے لائونج میں قدم رکھا۔ ماریہ نے اپنے بڑے بھائی کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھا جو اس سلپنگ گائون میں ملبوس شاید ابھی ابھی نیند سے بیدار ہوا تھا۔ ابرام نے سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے ماریہ کو صوفے پر براجمان پایا تو سست روی سے چلتا ہوا اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔
’’لگتا ہے ابھی بھی آپ کی نیند پوری نہیں ہوئی۔‘‘
’’ہوں‘ تم ٹھیک کہہ رہی ہو ڈئیر! مجھے ابھی بھی نیند آرہی ہے۔‘‘ ابرام جمائی لیتے ہوئے بولا۔
’’تو آپ اٹھ کیوں گئے‘ آرام سے سوتے رہتے نا۔‘‘
’’اس سیل فون کی بپ نے مجھے جگادیا مائی سسٹر! جسے میں سائلنٹ پر کرنا بھول گیا تھا۔‘‘ ابرام سائمن کرسچن والدین کا بیٹا تھا مگر اس گھر میں رہنے والے لوگ زیادہ تر اردو ہی بولتے تھے۔ مغربی ناک نقشے والا ابرام روانی سے اردو بول کر لوگوں کو حیران کردیتا تھا۔ ماریہ کو اس کا انداز گفتگو بے حد پسند تھا۔
’’اوہ ویری سیڈ۔‘‘ ماریہ بخوبی جانتی تھی کہ ایک بار ابرام کی نیند خراب ہوجاتی تھی تو پھر بہت مشکل سے اسے دوبارہ نیند آتی تھی۔ ابرام صوفے کی بیک پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرکے بیٹھا تو ماریہ نے فوراً ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی کا والیوم بالکل کم کردیا۔
’’اٹس اوکے ماریہ! میں سو نہیں رہا تم والیوم بڑھا سکتی ہو۔‘‘ وہ یونہی آنکھیں بند کیے بولا تو ماریہ یک دم مسکرادی پھر استفہامیہ انداز میں بولی۔
’’آپ کے لیے مزے دار سی کافی بناکر لائوں؟‘‘ جواباً ابرام نے نفی میں سر ہلایا تو ماریہ خاموش ہوگئی پھر معاً کچھ یاد آنے پر شرارتاً گویا ہوئی۔
’’ابرام برو! آپ کے لیے ایک خوب صورت سے لڑکی کا میسج ہے۔‘‘
’’کیا میسج ہے؟‘‘ وہ ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھا گویا ہوا۔
’’اس خوب صورت سی لڑکی نے کہا ہے کہ خوب صورت لڑکیوں کی بددعا مت لو۔‘‘
’’ہوں‘ مجھے تو بددعا لینے کا بھی ٹائم نہیں ہے۔‘‘
’’افوہ برادر! ٹائم نکالنے سے ملتا ہے آپ پلیز تھوڑا سا ٹائم جیسکا کے لیے بھی نکالیے‘ وہ بہت اچھی ہے۔‘‘
’’آئی نو شی از…‘‘
’’تو آپ اسے ہرٹ کیوں کرتے ہیں؟‘‘
’’میں اسے ہرٹ نہیں کرتا ڈئیر! دراصل میرے پاس ٹائم نہیں ہے جیسکا کو دینے کے لیے۔‘‘ اس بار ابرام آنکھیں کھول کر سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے بولا ماریہ کا منہ لٹک گیا۔
’’وہ روز آپ کے بارے میں مجھ سے پوچھتی ہے آپ کو بہت لائک کرتی ہے۔ آپ کے ساتھ ٹائم گزارنا چاہتی ہے آپ پلیز تھوڑا ٹائم اس کو دیجیے نا۔‘‘ بلو جینز پر میرون لانگ کُرتی پہنے سیاہ بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل بنائے ماریہ کو ابرام نے محبت بھری نگاہوں سے دیکھا جو اسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھی اور اس وقت ملتجی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ابرام یک دم مسکرادیا۔
’’اوکے مائی لونگ سسٹر! صرف تمہاری خاطر میں جیسکا کے لیے ٹائم مینج کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
’’اوہ یو آر گریٹ برادر! آئی لو یو۔‘‘ ماریہ انتہائی خوش ہوکر اس کے بازو سے لپٹتے ہوئے بولی تو ابرام نے اس کی سر پر ہلکی سی چپت رسید کی۔
’’اب جلدی سے اٹھو اور میرے لیے بلیک کافی بناکر لائو۔‘‘
’’میں بس ابھی لائی۔‘‘ ماریہ فوراً اٹھی اور کچن کی جانب چل دی جب کہ ابرام پاس دھرے ریمورٹ کو اٹھا کر چینل سرچنگ کرنے لگا۔
ء…/…ء
حورین نے خانسا ماں کی مدد سے ناشتا تیار کیا وہ خاور اور باسل کے لیے ہمیشہ خود اپنے ہاتھوں سے ہی ناشتا بناتی تھی خانسا ماں نے جب میز سجادی تو حورین نے ایک طائرانہ نگاہ میز پر ڈالی اور پھر مطمئن ہوکر مڑی ہی تھی کہ سامنے سے خاور حیات آتا دکھائی دیا۔
’’ارے آج آپ خود ہی آگئے میں آپ کو بلانے ہی آرہی تھی۔‘‘ حورین خاور کو دیکھ کر فریش انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔
’’ہم نے سوچا کہ آج ہم خود ہی چلے جائیں اپنی وائف کو زحمت نہ دیں۔‘‘
’’خیال رکھنے کا شکریہ۔‘‘ وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے بولی تو خاور مسکرا دیا پھر ناشتے کی میز کی جانب بڑھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’آپ کے صاحب زادے ابھی تک نہیں آئے‘ کیا یونیورسٹی جانے کا پروگرام نہیں ہے موصوف کا؟‘‘
’’جی جناب کچھ ایسا ہی پروگرام ہے ان کا‘ مجھ سے رات ہی کہہ دیا تھا کہ صبح انہیں نہ جگایا جائے کل رات کی پارٹی میں کافی تھک گیا تھا۔‘‘ ڈارک گرین رنگ کے اسٹائلش سے شلوار سوٹ میں حورین کافی نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔ خاور حیات نے اسے خاص نظروں سے دیکھا۔
’’ہوں کل کا فنکشن کافی لیٹ ہوگیا تھا‘ باسل کا برتھ ڈے ورکنگ ڈیز میں جو آگیا ورنہ ہفتہ کی رات میں بے فکری ہوتی ہے۔‘‘
’’آپ بھی تو رات کافی تھک گئے تھے مگر آپ آفس کا آف نہیں کرسکتے نا۔‘‘ حورین ٹی پاٹ میں سے خاور کے لیے کپ میں چائے نکالتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی۔
’’ارے اگر آپ کہیں تو ہم بھی آج چھٹی کرلیتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے قریب جھکتے ہوئے بولا تو حورین جھینپ سی گئی۔
’’مجھے معلوم ہے کہ آپ کا آفس جانا کتنا ضروری ہے طبیعت کی خرابی میں بھی آپ آف نہیں کرتے۔‘‘
’’بس ذرا باسل تھوڑا میچور ہوجائے اور اس کی پڑھائی مکمل ہوجائے تو میں اسے اپنے بزنس میں شامل کرلوں گا پھر مجھے بھی کچھ ریلیف مل جائے گا۔‘‘ وہ چائے کا کپ اٹھا کر ایک سپ لیتے ہوئے بولا پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’میں چاہتا ہوں باسل ابروڈ جاکر مزید اسٹڈی کرے۔‘‘ خاور کی بات پر حورین نے کافی چونک کر اسے دیکھا۔
’’مگر خاور وہ یہاں بھی تو شہر کی مشہور یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے جو ابروڈ سے ہی ملحق ہے۔‘‘
’’آئی نو حورین! مگر باہر جاکر اسٹڈیز کرنے کی بات ہی دوسری ہوتی ہے۔‘‘
’’آپ جانتے ہیں خاور کہ وہ ہم دونوں سے کتنا اٹیچڈ ہے‘ میرا خیال ہے وہ کبھی اس بات کے لیے راضی نہیں ہوگا۔‘‘
’’ہوں‘ اٹیچڈ تو ہم دونوں بھی اس سے بہت ہیں مگر اس کے برائٹ فیوچر کا سوال ہے۔‘‘ حورین کی بات پر خاور پُرسوچ انداز میں بولا تو حورین پریشان سی ہوکر گویا ہوئی۔
’’خاور میں باسل کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی‘ وہ ایک آدھ مہینہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جاتا ہے تو مجھ سے ایک ایک دن کاٹنا مشکل ہوجاتا ہے نہ کہ ملک سے باہر بھجوانا۔‘‘
’’تمہاری طرح میں بھی باسل سے دور نہیں رہ سکتا مگر…‘‘ وہ بولتے بولتے رکا پھر سر جھٹک کر بولا۔
’’چلو اس بارے میں ہم بعد میں ڈسکس کریں گے ابھی تو مجھے آفس کے لیے دیر ہورہی ہے پلیز مجھے بریڈ پاس کرو۔‘‘ حورین نے خاور کی بات پر اپنی توجہ ناشتے کی جانب مبذول کرلی۔ لیکن اپنی سوچوں کو نہیں جھٹک سکی تھی۔
ء…/…ء
یخ بستہ صبح نے لالہ رخ کو لحاف کے اندر دبکنے پر مجبور کردیا‘ کل رات ہونے والی برف باری نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کردیا تھا اس وقت اس کا گرم گرم بستر سے نکلنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا وہ بلی کی طرح سکڑی سمٹی لحاف میں دبکی ہوئی تھی جب ہی کسی نے انتہائی بے دردی سے لحاف اس کے اوپر سے کھینچا تھا یک دم سردی کی تیز ترین لہر نے اسے چیخنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’کیا مصیبت ہے یہ؟‘‘ لالہ رخ نے اپنے مقابل مہرینہ کو ایستادہ پایا تو منہ بناکر بولی یہ کارستانی اسی کی تھی جواب دانت نکوس رہی تھی۔
’’مہرینہ کی بچی اندر کرو اپنے یہ خوفناک دانت سخت زہر لگ رہی ہو اس وقت مجھے لائو دو میرا لحاف۔‘‘ لالہ رخ نے تلملا کر بولتے ہوئے بستر سے اٹھ کر مہرینہ کے ہاتھوں سے لحاف جھپٹا۔
’’اور تم مجھے اس وقت شہد لگ رہی ہو بلکہ میٹھا گڑ‘ دل چاہ رہا ہے کھا جائوں۔‘‘ لالہ رخ ہنوز منہ بنائے یونہی لیٹی رہی جب کہ اسی پل مہرینہ نے دوبارہ لحاف اس کے وجود سے کھینچ لیا۔
’’مہرینہ میں تمہارا قتل کردوں گی اگر اب میرے لحاف کو تم نے ہاتھ بھی لگایا تو۔‘‘ وہ تو جیسے مرنے مارنے پر اتر آئی تھی مگر مہرینہ اس کے تیوروں سے متاثر ہوئے بناء کمر پر ہاتھ ٹکا کر بولی۔
’’تمہیں کام پر نہیں جانا کیا یا سارا دن پلنگ توڑتی رہوگی؟‘‘
’’تم میری بیوی بننے کی کوشش مت کرو سمجھی‘ ابھی صرف آٹھ بجے ہیں میں ساڑھے نو بجے تک آفس جاتی ہوں اب مزید کچھ کہنا ہے۔‘‘ وہ دانت کچکچا کر بولی۔
’’ارے بائولی اتنا سہانا موسم ہے تم یوں بستر میں گھس کر برباد کررہی ہو چلو ہوا خوری کے لیے باہر چلتے ہیں۔‘‘ مہرینہ بولتے بولتے کمرے کی کھڑکی کی جانب آئی اور تیزی سے پردے ہٹا کر اس کی جانب مڑی لالہ رخ کو اس کی دماغی حالت پر اس پل شبہ سا ہوا اس نے انتہائی اچنبھے سے اسے دیکھا۔
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئی اتنی سخت سردی میں ہم باہر ہوا خوری کے لیے جائیں گے تو سیدھا اللہ کو پیارے ہوجائیں گے‘ مہرینہ کبھی تو عقل سے کام لیا کرو۔‘‘
’’ایویں اللہ کو پیارے ہوجائیں گے‘ پہلے تو ہم اپنے میاں کو پیارے ہوں گے۔‘‘ وہ لجاتے ہوئے بولی تو لالہ رخ کو ہنسی آگئی۔
’’اُف کتنا شوق ہے تمہیں شادی کا۔‘‘ لالہ رخ گرم اونی سوئٹر جلدی جلدی پہنتے ہوئے بولی وہ جانتی تھی کہ مہرینہ اب اسے مزید سونے نہیں دے گی۔
’’میرے شوق سے زیادہ میری ماں کو شوق ہے میرے بیاہ کا اور انہوں نے بول بول کر میرے اندر بھی شادی کا ارمان جگادیا ہے۔‘‘ مہرینہ تھوڑا بے مزہ ہوکر بولی لالہ رخ نے اس پل اسے بغور دیکھا۔ مسٹرڈ رنگ کے گرم شال والے سوٹ میں بلیک سوئٹر پہنے اپنے خوب صورت لمبے بالوں کو سلیقے سے چوٹی میں قید کیے وہ کچھ الجھی الجھی لگی۔ مہرینہ لالہ رخ کی ماموں زاد بہن ہونے کے ساتھ ساتھ بچپن کی ساتھی بھی تھی۔ معصوم سادہ سے ذہن کی مالک مخلص و ہم درد مہرینہ بھی زرتاشہ کی طرح پڑھنے کی بے حد شوقین تھی مگر اس کے والد لڑکیوں کی تعلیم کے سخت خلاف تھے لہٰذا بمشکل وہ میٹرک ہی کرسکی تھی وہ خود تو پڑھ نہیں سکی مگر چاہتی تھی کہ اس کی شادی پڑھے لکھے نوجوان سے ہو۔
’’اور تم تو جانتی ہو نا کہ میں کسی پائلٹ یا ڈاکٹر سے ہی شادی کروں گی۔‘‘ وہ لہک کر بولی تو لالہ رخ بے اختیار مسکرانے لگی۔
’’مگر مہرینہ باجی آپ کو یہ ڈاکٹر یا پائلٹ مری جیسے چھوٹے سے علاقے میں ملے گا کہاں؟‘‘ زرتاشہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ہنس کر بولی۔
’’بھئی میری شرط پائلٹ اور ڈاکٹر کی ہے مری والے کی نہیں وہ کہیں سے بھی آسکتا ہے کراچی‘ لاہور‘ سری لنکا‘ افریقہ وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’اچھا تو پھر لگے ہاتھوں یہ بھی بتادو کہ پائلٹ کس چیز کا ہو۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ لالہ رخ کی بات پر مہرینہ بھنویں اچکا کر بولی۔
’’مطلب یہ کہ بس اور ٹرک چلانے والا بھی تو پائلٹ کہلاتا ہے میرا مطلب ہے زمینی پائلٹ۔‘‘
’’اور ڈاکٹر کون سا والا ہونا چاہیے‘ جانوروں والا یا انسانوں والا۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر زرتاشہ نے مزید ٹکڑا لگایا۔
’’اُف تم دونوں بہنیں کتنی کند ذہن کی مالک ہو میرا مطلب ہوائی جہاز کے پائلٹ سے ہے اور ڈاکٹر بھی انسانوں والا ہو ویسے دانتوں والا بھی چلے گا۔‘‘
’’تو پھر ڈاکٹر اسرار کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا۔‘‘ لالہ رخ فوراً بولی تو مہرینہ نے جواباً اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا جب کہ زرتاشہ سے اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگئی۔
’’وہ… وہ ڈاکٹر اسرار بھینگا ٹھرکی بڈھا‘ دانت کے بجائے داڑھ نکال دیتا ہے۔ تکلیف سائیڈ کے دانت میں ہو وہ بائیں دانت پر ہتھوڑے برسانے لگتا ہے اور تو اور ابھی پچھلے عرصے اس نے تیسری شادی بھی رچالی ہے۔‘‘
’’چوتھی کی گنجائش ہے ابھی مہرینہ باجی ہمارے مذہب میں چار شادیوں کی اجازت…‘‘ مہرینہ کو انتہائی خطرناک تیوروں سمیت ڈریسنگ ٹیبل سے پیتل کا گل دان اٹھاتے دیکھ کر زرتاشہ نے فوراً باہر کی جانب دوڑ لگائی جب کہ لالہ رخ اچھی خاصی گھبرا گئی۔
’’مم… میں تو مذاق کررہی تھی مہرینہ جانو! تم دیکھنا میں خود اپنی سہیلی کے لیے بہت اسپیشل دلہا تلاش کروں گی۔‘‘ مہرینہ کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر لالہ رخ جلدی جلدی بولی‘ وہ تو شکر ہوا کہ اسی وقت امی نے کمرے میں قدم رکھا تو مہرینہ ان سے سلام دعا میں لگ گئی اور لالہ رخ موقع پاتے ہی جھپاک سے باتھ روم میں گھس گئی۔
ء…/…ء
کافی شاپ کے گرم و رومانوی ماحول میں اس وقت خاطر خواہ رش تھا مختلف کپلز مدھم روشنی میں آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ابرام اور جیسکا نے کھڑکی کے ساتھ موجود کونے کی میز کا انتخاب کیا تھا۔ جیسکا ابرام کی قربت میں بہت خوش و پُرجوش دکھائی دے رہی تھی۔ ابرام نے ماریہ کے کہنے پر آج جیسکا کے لیے ٹائم نکالا تھا اس کی تیاری آج خصوصی تھی وہ اپنے مقابل بیٹھے ابرام کو انتہائی نشیلی نگاہوںسے تکے جارہی تھی۔
’’ابرام تم ماریہ کو بہت زیاہ چاہتے ہو نا۔‘‘ جیسکا نے اس سے استفار کیا ابرام نے اس سوال پر جیسکا کو مسکرا کر دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا۔
’’ہاں میں ماریہ کو اس دنیا میں ہر چیز سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔‘‘
’’وہ تمہاری اکلوتی سسٹر ہے نا۔‘‘
’’ہاں وہ میری اکلوتی سسٹر ہے اور واحد دوست بھی اور مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز بھی۔‘‘
’’اوہ ماریہ تو بہت لکی ہے۔‘‘
’’نہیں لکی تو میں ہوں جسے ماریہ جیسی بہن ملی۔‘‘ جیسکا کی بات پر ابرام دلکشی سے بولا تو جیسکا نے تائیدی انداز میں سر ہلایا پھر کافی کا بڑا سا گھونٹ بھر کر کہا۔
’’میرے خیال میں ماریہ اس دنیا کی پہلی لڑکی ہے جسے تم چاہتے ہو۔‘‘
’’ہاں یہ تم کہہ سکتی ہو۔‘‘
’’ابرام میں… دراصل میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ جیسکا مناسب لفظوں کو ترتیب دیتے ہوئے ابرام کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے بولی جب کہ ابرام نے پوری توجہ سے جیسکا کی طرف دیکھا۔
’’ابرام آئی لائک یو… ان فیکٹ آئی لو یو…‘‘ اس کی بات پر ابرام دھیرے سے مسکرا اٹھا جیسکا نے اس کی سبز مائل آنکھوں میں دیکھا جہاں کسی بھی قسم کا جذبہ مفقود تھا وہ کچھ مایوس سی ہوگئی۔
’’جیسکا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تم بہت اچھی لڑکی ہو اور کسی بھی انسان کے لیے تم بہت اچھی لائف پارٹنر ثابت ہوسکتی ہو مگر… ایم سوری وہ انسان میں نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ سہولت سے بولا تو جیسکا نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’جب میں اچھی لڑکی ہوں اور اچھی لائف پارٹنر بھی ثابت ہوسکتی ہوں تو وہ انسان تم کیوں نہیں ہوسکتے ابرام۔‘‘ اس نے ابرام کے میز پر دھرے ہاتھ پر اپنا نازک مومی رکھتے ہوئے کہا۔
’’میری فیوچر پلاننگ میں شادی جیسی کوئی چیز فی الحال شامل نہیں۔‘‘ وہ کندھے اچکا کر بے پروائی سے بولا۔
’’شادی کا تو میرا بھی فی الحال کوئی پروگرام نہیں مگر میں تمہاری فرینڈ تو بن سکتی ہوں آئی مین تمہاری گرل فرینڈ۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بے باکی سے بولی مغربی معاشرے میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے رشتے میں کوئی حدود وقیود نہیں ہوتیں نہ ہی کسی قسم کی روک ٹوک ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے تعلق کو معیوب سمجھا جاتا ہے اگر دو لڑکا لڑکی کچھ عرصہ ایک دوسرے کے ہمراہ وقت گزارنا چاہیں تو فرینڈ کے طور پر گزار سکتے ہیں۔ جیسکا کی پیش کش پر ابرام انتہائی دلنشیں انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی پیاری سی ناک کھینچتے ہوئے بولا۔
’’مائی ڈئیر میں تمہارا اچھا فرینڈ بھی نہیں بن سکوں گا مجھ سے بور ہوجائو گی تم۔‘‘
’’ایسا نہیں ہوگا ابرام میں بالکل تم سے بور نہیں ہوں گی۔‘‘ وہ جلدی سے بولی۔
’’پلیز جیسکا ضد مت کرو میرے پاس اپنی ذات کے لیے وقت نہیں ہے تو تمہارے لیے ٹائم کیسے نکالوں گا۔‘‘
’’میں تم سے کسی بھی بات کا شکوہ نہیں کروں گی آئی پرامس۔‘‘ وہ اپنی گلابی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے پُرجوش لہجے میں بولی تو ابرام نے چند ثانیے اس کی آنکھوں میں دیکھا پھر اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
’’اوکے میں تمہارا فرینڈ بننے کو تیار ہوں مگر بوائے فرینڈ نہیں۔‘‘
’’مجھے منظور ہے۔‘‘ وہ تیزی سے بولی پھر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی۔
’’فرینڈز…‘‘ ابرام نے ایک پل کو جیسکا کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر ہنس کر بولا۔
’’فرینڈز۔‘‘ پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیئے۔
ء…/…ء
باسل کیمپس کے لان میں نیم دراز اپنے دوستوں کے ساتھ سردی کی دھوپ کے مزے لے رہا تھا اس وقت اسٹوڈنٹس زیادہ تر دھوپ میں بیٹھے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ کراچی میں بھی آج کل سردیاں اپنے پورے جوبن پر تھیں اور یہاں کے باسی اس موسم کی رعنائیوں سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہورہے تھے۔
’’یار! میڈم رابیل کی کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے چل اب اٹھ جا تُو نے تو نیستی پھیلادی ہے۔‘‘ باسل کا دوست احمر سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’ابے چھوڑ یار میرا اس موٹی ناک والی میڈم کی کلاس لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ باسل بے مزہ ہوکر ہنوز پوزیشن میں بیٹھے ہوئے گویا ہوا۔
’’یا اللہ میں یہ کیا سن رہا ہوں میڈم رابیل! جن کے حسن میں کل تک تُو زمین و آسمان کے قلابے ملارہا تھا وہ آج موٹی ناک والی کیسی ہوگئیں۔‘‘
’’باسل نے ناک اب غور سے دیکھی ہوگی نا۔‘‘ انس ہنستے ہوئے بولا اس وقت باسل حیات کا پورا گروپ لان میں براجمان تھا۔
’’باسل یہ وہی میڈم رابیل ہے جس کے خاطر تُو نے سیکنڈ اسٹینڈرڈ کے حمزہ زمان سے جھگڑا کیا تھا۔‘‘
’’تو… تُو کیا چاہ رہا ہے میں اپنے سے آٹھ سال بڑی میڈم رابیل سے شادی کرلوں کیا؟‘‘ باسل نے احمر کو لتاڑا۔
’’احمر تُو کیوں میڈم رابیل کے پیچھے پڑگیا وہ ماڈل اب پرانا ہوچکا ہے۔ مارکیٹ میں اب نیا ماڈل آگیا ہے یا آنے والا ہے۔‘‘ عدیل آنکھ مارتے ہوئے لوفرانہ انداز میں بولا تو احمر کے ہونٹ سیٹی کے انداز میں وا ہوئے۔
’’یہ ماڈل اگر پچھلے ہفتے وارد ہوجاتا تو باسل نے کچھ دن پہلے جو میڈم رابیل کو شاپنگ کروائی تھی اس کا خرچہ بچ جاتا۔‘‘
’’اونہہ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ احمر کی بات پر باسل حیات بے پناہ بے پروائی سے گویا ہوا۔
’’ہاں ہاں میرے چاند جب تیرے باپ کو تیری اس طرح کی شاہ خرچیوں کا پتا چلے گا نا تو وہ تیری طبیعت ہری کردیں گے سمجھے۔‘‘ انس طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا ہوں ان کی ساری جائیداد کا اکیلا وارث بھی ہوں۔ ڈیڈ میرے لیے ہی تو سب جمع کررہے ہیں مجھے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے میرے یارو۔‘‘ باسل نے مغرورانہ لہجے میں کہا ابھی وہ مزید کچھ بات ہی کرتے کہ اسی دم رطابہ ایک لڑکی کے ہمراہ آدھمکی۔
’’گائز تم سب یہاں بیٹھے ہو خیریت ہے میڈم رابیل کی کلاس آج بنک کردی۔‘‘
’’یہ تو تمہارے ہیرو سے پوچھو انہوں نے کلاس نہیں لی تو ہم نے بھی نہیں لی۔‘‘ عدیل کی بات پر رطابہ نے باسل کو بغور دیکھا پھر سر جھٹک کر بولی۔
’’چھوڑو میڈم رابیل کو باسل ان سے ملو یہ ہے میری کزن نیلم فرمان دبئی سے آئی ہے اور اس نے اسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا ہے۔‘‘ رطابہ باسل کی سابقہ گرل فرینڈ تھی دونوں نے باہمی رضا مندی اور خواہش پر دو ماہ پہلے اپنا تعلق بڑی خوش دلی سے ختم کیا تھا اب وہ دونوں صرف دوست تھے کیوں کہ رطابہ کو دوسرے ڈیپارٹمنٹ کا رامش فاروقی پسند آگیا تھا اور باسل حیات کو میڈم رابیل بھا گئی تھیں۔ باسل نے نووارد کو انتہائی گہری نظروں سے دیکھا پنک اور آف وائٹ امتزاج کے پاجامہ قمیص میں بڑا سا دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے میک اپ کے نام پر آنکھوں میں باریک سا کاجل لگائے اور نیچرل لپ اسٹک ہونٹوں پر جمائے نگاہیں نیچی کیے وہ کافی خاص لگی باسل کو۔ رنگت اور گھنیری پلکوں والی یہ لڑکی پہلی ہی نگاہ میں متوجہ کرگئی تھی۔
’’ہوں نیلم فرمان آپ کا نام تو بہت اچھا ہے۔‘‘ باسل حیات بڑی دلکشی سے گمبھیر لہجے میں بولا تو نیلم نے چند پل کے لیے اپنی پلکیں اٹھا کر باسل کو دیکھا پھر شرمگیں مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر بکھیر کر محض ’’تھینک یو‘‘ کہنے پر اکتفا کیا۔
’’گائز میرے خیال میں کینٹین چلنا چاہیے مجھے تو بہت سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ رطابہ نے جلدی سے کہا تو پورے گروپ نے اس کی تائید کی اور پھر اپنی کتابیں سمیٹ کر کینٹین کی جانب چل دیئے۔
ء…/…ء
سونیا آج یونیورسٹی لیٹ پہنچی تھی سر ابراہیم کی کلاس شروع ہوئے تقریباً دس منٹ ہوچکے تھے اس نے کلاس میں جانے کا ارادہ ترک کیا اور لائبریری کی جانب چلی آئی وہ وہاں بیٹھ کر میگزین بینی کرنے لگی اسی اثناء میں اس کی کلاس فیلو عائزہ وہاں آدھمکی۔
’’اوہ سونیا تم آج اکیلے خیریت تو ہے نا‘ فراز کہاں ہے تم تو فراز کے بغیر نظر ہی نہیں آتیں۔‘‘ عائزہ کی بات پر سونیا کے خوب صورت لب مسکرا اٹھے۔ عائزہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی وہ ہمہ وقت فراز کے ہمراہ رہتی تھی۔
’’دراصل آج میں کچھ لیٹ ہوگئی تو کلاس میں جانے کے بجائے یہاں چلی آئی۔‘‘
’’ویسے ایک بات تو بتائو تم دونوں میں سے پہلے کس نے پرپوز کیا تھا۔‘‘ عائزہ اس کے پاس ہی کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے گویا ہوئی۔ عائزہ کی بات پر سونیا نے قدرے چونک کر اسے دیکھا پھر بے ساختہ ہنسنے لگی‘ عائزہ نے اسے ہنستے ہوئے تعجب سے دیکھا۔
’’تم ہنس کس بات پر رہی ہو؟‘‘
’’بس ایسے ہی ہنسی آگئی۔‘‘ وہ میگزین ایک جانب رکھتے ہوئے سہولت سے بولی۔
’’تم نے بتایا نہیں کہ فراز نے تمہیں پرپوز کیا تھا یا تم نے اسے؟‘‘
’’ہم نے ابھی تک ایک دوسرے کو پرپوز کیا ہی نہیں۔‘‘
’’کیا… مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘ سونیا کے بے پروائی سے کندھے اچکا کر جواب دینے پر عائزہ آنکھیں پھاڑ کر بے یقین لہجے میں بولی۔
’’یہ سچ ہے‘ عائزہ ان فیکٹ ہمیں ایک دوسرے کو پرپوز کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔‘‘
’’اوہ تو اتنا رومانٹک موومنٹ تم دونوں کی زندگی میں ابھی تک آیا ہی نہیں‘ کم آن یار تم لوگوں کو پرپوز تو کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ہاں تو فراز کون سا کہیں بھاگا جارہا ہے یا میں کہیں غائب ہورہی ہوں پرپوز بھی کرلیں گے۔‘‘ عائزہ کی بات پر سونیا بظاہر بے پروا انداز میں بولی مگر عائزہ کی بات اس کے دل کے کسی کونے میں چبھ سی گئی یہ حقیقت تھی کہ فراز نے اسے ابھی تک پرپوز نہیں کیا تھا۔
’’میں اب چلتی ہوں کلاس آف ہوچکی ہوگی فراز میرا انتظار کررہا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر سونیا نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور لائبریری سے باہر نکل آئی۔
ء…/…ء
سمیر شاہ اپنے لیپ ٹاپ میں آفس کا ضروری کام کررہا تھا جب ہی تھکی تھکی سی ساحرہ کمرے میں داخل ہوئی سمیر نے ایک نگاہ اٹھا کر ساحرہ کو اندر آتے دیکھا پھر دوسرے ہی پل وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر مصروف ہوگیا۔
’’او مائی گاڈ… بہت زیادہ تھک گئی ہوں میں اور سمیر مت پوچھو اتنی گندی اور بدبودار جگہ سے آج میں آرہی ہوں۔‘‘
’’میں پوچھ ہی کب رہا ہوں۔‘‘ اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کو دباتے ہوئے سمیر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا ساحرہ چونک کر گویا ہوئی۔
’’کچھ کہا تم نے…‘‘
’’نہیں میں نے تو کچھ نہیں کہا۔‘‘ سمیر ہنوز لیپ ٹاپ میں مگن ہوکر بولا سمیر اور ساحرہ ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ زندگی گزار رہے تھے مگر اپنی اپنی ذات کی دلچسپیوں میں مگن و مصروف رہ کر شادی کے کچھ ہی عرصے میں سمیر کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ زندگی اسے شریک سفر کے معاملے میں دغا دے گئی ہے وہ بہت جلد یہ جان گیا تھا کہ ساحرہ اس کے لیے کبھی بھی ایک اچھی لائف پارٹنر ثابت نہیں ہوسکتی ہے اسے صرف اپنی ذات سے پیار تھا اپنی زندگی اپنا لائف اسٹائل اپنی روٹین اور اس معاملے میں وہ کسی کی بھی دخل اندازی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔
فراز کی پیدائش پر جب ساحرہ نے خوب واویلا مچایا تھا تو سمیر شاہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ فراز محض سال بھر کا تھا جب قدرت نے ساحرہ کو دوسری بار ماں بننے کا عندیہ دیا تھا حالانکہ ساحرہ نے بھرپور کوشش کی تھی کہ اگلی بار وہ بے خبری میں نہ پھنس جائے مگر جب کسی روح کو اللہ کے حکم سے دنیا میں آنا ہوتا ہے تو وہ آکر ہی رہتی ہے۔ ساحرہ غصہ سے آگ بگولہ ہورہی تھی وہ کسی بھی صورت دوسرے بچے کو جنم دینے کے لیے تیار نہیں تھی مگر سمیر تو جیسے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا۔
’’پلیز ساحرہ میرے بچے کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش مت کرنا میں… میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آگے تم جیسا چاہو گی جیسی زندگی گزارنا چاہوگی میں کبھی بھی تمہارے معاملات میں مداخلت نہیں کروں گا۔‘‘ وہ لجاجت سے بولتا چلا گیا جب کہ ساحرہ بھی کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی اور پھر کامیش کی پیدائش کے بعد واقعی سمیر شاہ نے اسے ہر طرح کی آزادی دے دی تھی وہ جب چاہے گھر آتی جو دل چاہتا وہ کرتی سمیر بالکل روک ٹوک نہیں کرتا۔ وہ تو اپنے بچوں میں مگن تھا جو اس کا قیمتی اثاثہ تھے‘ پاکستان آکر بھی ساحرہ کے معاملات ویسے ہی تھے بچوں سے اسے کسی بھی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اب پچھلے سال اس نے ملک کی ایک نامور این جی او کو جوائن کرلیا تھا جب کہ سمیر کی اپنی الگ دنیا تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے منہ پھیرے زندگی کی شاہراہ پر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
’’اُف میرے خدایا۔ اس ملک میں کتنی غربت اور مفلسی ہے ننگ دھڑنگ بچے خوراک کی کمی کا شکار نحیف و لاغر عورتیں دھوپ اور گرمی کی شدت سے جھلسے مردوں کے سیاہ چہرے ہم جب وہاں خوراک اور گرم کپڑے لے کر گئے تو وہ لوگ اتنی بری طرح اس پر جھپٹے کہ ہمیں تو اپنی جان بچانا مشکل ہوگئی۔‘‘ ساحرہ قد آور ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے چہرے پر لگے میک اپ کو لوشن کی مدد سے صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’ہوں مگر فوٹو سیشن تو ہوگیا تھا نا۔‘‘ سمیر اپنے کام میں مصروف انداز میں بولا جب کہ اپنے آپ میں مگن ساحرہ سمیر کے لہجے میں چھپے طنز کو سمجھ نہیں سکی وہ ہنوز لہجے میں گویا ہوئی۔
’’ہاں بھئی ہم ہمیشہ فوٹو سیشن پہلے ہی کرواتے ہیں ورنہ اس چھینا جھپٹی میں تصویریں کھچوانا کس کو یاد رہتا ہے اور پھر ان تصویروں کے بغیر ہمیں فنڈز کیسے ملیں گے۔‘‘
’’ہوں یہ بات تو ہے۔‘‘ سمیر نے ہنکارا بھر کر کہا تو ساحرہ فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب چلی گئی جب کہ سمیر پوری توجہ سے اپنے کام میں محو ہوگیا۔
ء…/…ء
گیسٹ ہائوس کے کمرے میں نئے پردے لگوائے جارہے تھے لالہ رخ اپنی زیر نگرانی تمام کام کروا رہی تھی۔ وہ مری کے ایک گیسٹ ہائوس میں بطور منیجر کے فرائض انجام دے رہی تھی اپنا کام وہ انتہائی جانفشانی اور لگن سے کرتی تھی۔ گیسٹ ہائوس کا مالک لالہ رخ کے کام سے بہت خوش تھا اس لیے اس نے لالہ رخ کی تنخواہ میں بھی اضافہ کردیا تھا۔
’’میڈم وہ روم نمبر 42 کی کھڑکی کے پردے چھوٹے پڑ رہے ہیں آپ پلیز ایک بار آکر دیکھ لیں۔‘‘ ایک ملازمہ لالہ رخ کے پاس آکر بولی وہ ابھی اپنی سیٹ سے اٹھنے کا ارادہ ہی کررہی تھی کہ زرتاشہ گیسٹ رو م کے داخلی دروازے سے اندر آتی دکھائی دی وہ کچھ پریشان سی ہوگئی۔
’’سب خیریت تو ہے نا تاشو! تم اس وقت یہاں کیوں آئیں بابا کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ زرتاشہ کے قریب آتے ہی وہ عجلت میں گویا ہوئی۔
’’افوہ لالہ! تمہیں تو پریشان ہونے کا بس بہانہ چاہیے‘ گھر میں سب ٹھیک ہے مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔‘‘ زرتاشہ لالہ رخ سے پانچ سال چھوٹی تھی مگر اسے صرف لالہ ہی کہتی تھی لالہ رخ سمجھ گئی کہ وہ اس وقت یہاں کیا بات کرنے آئی ہے اس نے اسے بغور دیکھا پھر سنجیدگی سے بولی۔
’’کیا وہ بات گھر پر نہیں ہوسکتی تھی میں کچھ گھنٹوں بعد گھر ہی آنے والی تھی۔‘‘
’’نہیں لالہ وہ بات گھر پر نہیں ہوگی بلکہ یہیں ہوگی اور ابھی اور اسی وقت ہوگی۔‘‘ زرتاشہ میز پر مکا مار کر ضدی لہجے میں اپنے نتھنے پھلا کر بولی تو بے ساختہ لالہ رخ کو ہنسی آگئی۔
’’اچھا بابا زیادہ سلطان راہی بننے کی ضرورت نہیں ہے بولو کیا بات ہے۔‘‘
’’تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے تم سے کیا بات کرنی ہے۔‘‘ وہ چڑ کر بولی تو بے اختیار لالہ رخ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرالیا۔
’’میں تم دونوں کو ہی سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں تاشو! مگر ایک تم ہو جو اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہو اور امی ہیں جو اپنے دل و دماغ سے واہمے و خدشات سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپا رہیں۔ تاشو امی ایک ماں ہیں وہ تمہارے لیے فکرمند ہیں‘ تمہیں خدانخواستہ کوئی نقصان نہ پہنچ جائے اسی خوف کے پیش نظر تمہیں کراچی میں داخلے کی اجازت نہیں دے پارہیں تم امی کے جذبات و احساسات کو سمجھنے کی کوشش تو کرو۔‘‘ لالہ نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔
’’میں کون سا بارڈر پر جاکر جنگ کرنے کی اجازت مانگ رہی ہوں صرف پڑھنا ہی چاہتی ہوں اور جسے تم میری ضد کہہ رہی ہو لالہ! وہ میرا خواب و جنون ہے۔‘‘ بولتے بولتے اس کی آواز میں نمی اتر آئی جسے محسوس کرکے لالہ رخ تڑپ اٹھی۔ لالہ رخ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس رکھے صوفے پر بٹھایا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گئی جس کی آنکھوں میں اب آنسو امڈ آئے تھے۔
’’اچھا ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ لالہ رخ کے کہنے پر زرتاشہ نے روٹھے ہوئے انداز میں منہ دوسری جانب پھیرا تو وہ بے ساختہ مسکرادی پھر اس کی تھوڑی پکڑ کر رخ اپنی جانب کرکے بولی۔
’’اچھا اب رونے کی ضرورت نہیں میں امی سے بات کروں گی اور انہیں راضی کرنے کے لیے پوری کوشش کروں گی اب خوش۔‘‘
’’تم سچ کہہ رہی ہو لالہ!‘‘
’’سو فیصد سچ صرف… سچ سچ…‘‘ زرتاشہ کے غیر یقینی لہجے کو محسوس کرکے لالہ رخ لفظوں کو جما جما کر بولی تو وہ یک دم بے پناہ خوش ہوگئی۔
’’اوہ لالہ یو آر گریٹ‘ مجھے پتا تھا کہ میری بہن میرا ساتھ ضرور دے گی لالہ! تم اس دنیا کی سب سے اچھی بہن ہو۔‘‘ زرتاشہ فرط جذبات سے اس سے لپٹتے ہوئے بولی تو لالہ ہنس کر گویا ہوئی۔
’’اچھا اب زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’میری بہن تو خود ہی مکھن جیسی نرم اور میٹھی ہے پھر مجھے لگانے کی کیا ضرورت۔‘‘ وہ کھلکھلا کر بولی پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیں۔
ء…/…ء
جیسکا ابرام سے دوستی کرکے ہوائوں میں اڑ رہی تھی وہ پچھلے دو سال سے اس سے دوستی کرنے کی کوشش میں مصروف تھی مگر ابرام اس کے ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا یہ تو ماریہ کا احسان تھا جس نے اپنے بھائی کو جیسکا سے ملنے پر تیار کیا تھا۔
’’تھینکس ماریہ ڈئیر… تھینکس آلاٹ صرف تمہاری وجہ سے آج میں اور ابرام دوست ہیں۔‘‘
’’اٹس اوکے جیسکا! ان فیکٹ تم بہت اچھی ہو میرا بھائی تم سے دوستی کرکے فائدہ میں رہے گا۔‘‘ ماریہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’پتا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ میں تمہیں ٹائم نہیں دے سکوں گا مگر میں نے کہا نو پرابلم مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم مجھ سے دوستی تو کرلو۔‘‘ اس وقت وہ دونوں کلاس روم میں بیٹھی تھیں جیسکا ماریہ کی کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی دوست بھی تھی۔
’’چلو وہ دوستی پر آمادہ ہوئے آہستہ آہستہ لائن پر آہی جائیں گے مگر تمہیں محنت کافی کرنی پڑے گی۔‘‘
’’ہوں تم صحیح کہہ رہی ہو یہ بات تو ہے۔‘‘ وہ دونوں ابھی باتیں ہی کررہی تھیں کہ بیل بجنے پر مزید اسٹوڈنٹس کلاس روم میں داخل ہونے لگے ابھی تھوڑی ہی دیر میں سر پال آنے والے تھے وہ دونوں بھی الرٹ ہوکر بیٹھ گئیں۔ سر پال نے آتے ہی حاضری لی اور اپنے اسٹوڈنٹس سے اسائنمنٹ کی بابت دریافت کیا جو گزشتہ دنوں انہوں نے دیا تھا۔
ء…/…ء
سونیا بظاہر ٹی وی اسکرین پر نگاہیں مرکوز کیے بیٹھے تھی مگر اس پل اس کی سوچ کی پروازیں کہیں اور ہی اڑان بھر رہی تھیں گاہے بگاہے ڈرائی فروٹ اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے وہ مسلسل فراز شاہ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ فراز شاہ اس کی پھوپو ساحرہ کا بڑا بیٹا تھا جسے وہ بے حد پسند کرتی تھی فراز کی سحر انگیز پرسنلٹی سے وہ بے حد متاثر تھی اسے فراز کی باتیں اس کی شرارتیں غرض کہ ہر ادا پسند تھی۔ وہ میڈیکل لائن جوائن کرنا چاہتی تھی مگر صرف فراز کی خاطر اس نے بزنس لائن جوائن کی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت فراز شاہ کے ہمراہ گزار سکے آج کل وہ ایک معروف پرائیوٹ یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کررہے تھے۔ سونیا خان کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ فراز شاہ اسے پسند کرتا ہے اس کے ساتھ وقت گزارنا اسے اچھا لگتا ہے اس کی قربت اسے سکون دیتی ہے مگر یہ بھی سچ تھا کہ اب تک فراز نے اسے پرپوز نہیں کیا تھا۔ عائزہ کی باتوں نے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’فراز کو اب تک مجھے پرپوز کرلینا چاہیے تھا‘ ہوسکتا ہے اسے اس بات کی ضرور ت ہی محسوس نہیں ہوئی ہو مگر اسے پرپوز تو کرنا چاہیے تھا نا۔‘‘ وہ اندر ہی اندر خود سے سوال و جواب میں مصروف تھی جب ہی مما لائونج میں اس کی جانب چلی آئیں اور برابر میں بیٹھ گئیں جب کہ سونیا ہنوز پوزیشن میں بیٹھی رہی۔
’’سونیا آر یو فائن بیٹا!‘‘ ان کے مخاطب کرنے پر سونیا اپنے دھیان سے چونکی پھر انہیں دیکھ کر ایک گہری سانس فضا میں خارج کرتے ہوئے بولی۔
’’یس مما آئی ایم فائن! بس کچھ سوچ رہی تھی۔‘‘
’’کوئی خاص بات ہے کیا مجھ سے شیئر کرو‘ ہوسکتا ہے میں تمہاری مدد کرسکوں۔‘‘ ممی اسے بغور دیکھتے ہوئے نرمی سے بولیں۔
’’کوئی خاص بات تو نہیں ہے ممی اچھا ایک بات مجھے بتائیں۔‘‘ وہ صوفے پر سے کشن اٹھا کر اپنی گود میں رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’بولو مائی ڈارلنگ۔‘‘
’’ممی آپ کو لگتا ہے کہ فراز مجھے لائک کرتا ہے۔‘‘
’’آف کورس ڈئیر! مجھے شیور ہے کہ وہ تمہیں لائک کرتا ہے۔‘‘ ممی کے جواب پر سونیا نے اپنے دل میں اطمینان اترتا محسوس کیا۔
’’مگر تم یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ وہ قدرے حیرت سے بولیں۔
’’وہ ممی فراز نے مجھے ابھی تک پرپوز نہیں کیا‘ آئی نو وہ مجھے لائک کرتا ہے مگر…‘‘ بولتے بولتے وہ خود ہی جملہ ادھورا چھوڑ گئی جب کہ فاریہ بیگم ہنسنے لگیں۔
’’تمہاری ساحرہ آنٹی بتاتی ہیں کہ اس کا باپ بھی ایسا ہے اظہار کرنے میں بالکل کورا ہے۔‘‘
’’اوہ ممی آپ ساحرہ آنٹی کی تو بات ہی مت کریں انہوں نے کب اپنے ہزبینڈ کو لفٹ دی ہے انہیں اپنے چونچلوں سے فرصت کہاں۔‘‘ وہ ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔
’’یہ بات تو ٹھیک کہہ رہی ہو‘ خیر چھوڑو اس موضوع کو۔‘‘ وہ سر جھٹک کر پھر قدرے سوچ کر گویا ہوئیں۔
’’اگر فراز نے تمہیں پرپوز نہیں کیا تو تم پرپوز کردو۔‘‘
’’ہوں میں بھی یہی بات سوچ رہی تھی ممی!‘‘ سونیا نے فاریہ بیگم کو ایک نگاہ دیکھ کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’اوکے تو پھر بیسٹ آف لک بیٹا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ صوفے سے اٹھ کر کچن کی جانب چل دیں جب کہ سونیا اپنے سیل فون پر آتی کال کی جانب متوجہ ہوگئی۔
ء…/…ء
فراز شاہ گھر میں داخل ہوا تو ڈنر میز پر لگ چکا تھا سمیر شاہ کا اپنے دونوں بیٹوں کے لیے آرڈر تھا وہ سارا دن کہیں بھی مصروف ہوں مگر ڈنر کے وقت وہ تینوں لازمی اکٹھے ہونے چاہیے البتہ ساحرہ اکثر اوقات غائب ہوتی مگر ان تینوں کو اس بات کی ہمیشہ سے عادت تھی بلکہ ساحرہ کی موجودگی انہیں کسی اچنبھے سے کم نہیں لگتی تھی۔ فراز آج اپنے دوست کے ہمراہ اپنے پروفیسر کے گھر چلا گیا تھا لہٰذا آج گھر آتے آتے لیٹ ہوگیا تھا۔
’’اوہ آئی ایم سو سوری پاپا اینڈ کامیش پلیز مجھے پانچ منٹ دیجیے میں ابھی فریش ہوکر آپ لوگوں کو جوائن کرتا ہوں۔‘‘ فراز ان کے قریب آکر تیزی سے بولتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھا‘ سمیرشاہ اور کامیش شاہ دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ در آئی حسب معمول ساحرہ ڈنر پر موجود نہیں تھی وہ اپنی این جی او کی ایک ضروری میٹنگ میں گئی تھی جہاں ڈنر کا بھی اہتمام تھا ان کی این جی او کی میٹنگز ہمیشہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ہی منعقد ہوا کرتی تھیں تھوڑی ہی دیر میں فراز آف وائٹ ڈھیلے ڈھالے شلوار کرتے پر مسٹرڈ رنگ کی جیکٹ پہنے وہاں چلا آیا اس کے آتے ہی انہوں نے ڈنر اسٹارٹ کردیا۔
’’کامیش تمہارا آگے کا کیا پروگرام ہے مزید اسٹڈیز یہیں کرو گے یا پھر باہر جانا چاہو گے۔‘‘ سمیر شاہ چکن کا پیس منہ میں رکھتے ہوئے کامیش کی جانب متوجہ ہوکر بولے فراز بھی کامیش کی طرف دیکھنے لگا۔
’’پاپا فی الحال میرا باہر جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے آپ کو تو معلوم ہے کہ مجھے بزنس لائن میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے میں سی ایس ایس کا امتحان دینے کا سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’اوہ دیٹس گریٹ کامیش تمہارا خیال تو بہت اچھا ہے۔‘‘ فراز خوش ہوکر بولا۔
’’مگر تم سی ایس ایس کرکے کیا کرنا چاہ رہے ہو بیٹا! کون سی لائن تمہارے ذہن میں ہے جسے تم جوائن کرنا چاہو گے۔‘‘ سمیر شاہ نے استفسار کیا۔
’’پاپا میں پولیس لائن جوائن کرنا چاہوں گا۔‘‘
’’باپ رے باپ میرے بھائی یہ پولیس لائن تمہارے دماغ میں کہاں سے آگئی پھر تو سارا وقت تم چور مجرموں کے چکر میں گھرے رہو گے۔‘‘ پانی پیتے ہوئے کامیش کی بات پر فراز نے چونک کر کچھ الجھے ہوئے لہجے میں کہا جس پر سمیر شاہ نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
’’فراز ٹھیک کہہ رہا ہے کامیش بیٹا! یہ لائن تو کافی مشکل اور پُرخطر ہے اور پھر اس کی ریپوٹیشن بھی کچھ خاص اچھی نہیں۔‘‘
’’پاپا ریپوٹیشن بنانے والے ہم ہی لوگ ہوتے ہیں اور پھر ہر ڈیپارٹمنٹ میں اچھے برے لوگ تو ہوتے ہی ہیں‘ ادارے خراب نہیں ہوتے اسے لوگ برا بنادیتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو کامیش‘ مگر ہمارے یہاں کا پولیس ڈیپارٹمنٹ کچھ اچھی شہرت نہیں رکھتا‘ شراب خانے میں تم دودھ کا گلاس لے کر بھی بیٹھو گے تو لوگ تمہیں بھی شرابی ہی سمجھیں گے۔‘‘ فراز اسے سمجھانے والے انداز میں بولا۔
’’فراز اگر ہم سب اسی طرح سوچنے لگیں تو پھر بے بس مجبور اور ظلم کا شکار لوگوں کی مدد کون کرے گا‘ انہیں انصاف کون دلائے گا۔ اصل مجرم اور گناہ گار کی ناک میں نکیل کون ڈالے گا۔‘‘ کامیش سنجیدگی سے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے بولا۔
’’مگر کامیش یہ جان جوکھم میں ڈالنے والی ذمہ داری اٹھانے سے بہتر ہے کہ تم کوئی اور شعبہ اختیار کرلو اور بھی بہت سے صاف ستھرے راستے ہیں جنہیں اپنا کر تم مجبور اور لاچار لوگوں کی مدد کرسکتے ہو۔‘‘
’’بھلائی اور سچائی کا راستہ ہمیشہ کٹھن اور پُرخار ہوتا ہے میں اپنے ملک کے کام آنا چاہتا ہوں‘ اپنے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں اور یہ راستہ مجھے بالکل مناسب اور درست لگتا ہے۔‘‘ فراز اور کامیش دونوں بھائیوں کی باتیں سمیر شاہ خاموشی سے سن رہے تھے۔
’’تمہاری سوچ بہت اچھی ہے کامیش تمہارے ارادے بھی بہت مضبوط اور عزم بے مثال ہے مگر…‘‘
’’کامیش بیٹا تم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ تم پولیس ڈیپارٹمنٹ ہی جوائن کرو گے؟‘‘ سمیر شاہ جواب تک چپ چاپ دونوں کی گفتگو سن رہے تھے‘ فراز کی بات درمیان میں قطع کرتے ہوئے کامیش سے مخاطب ہوکر گویا ہوئے۔
’’یس پاپا! یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘ کامیش قطعیت بھرے لہجے میں بولا۔
’’مجھے تم پر فخر ہے‘ شاباش میرے بیٹے میں تمہاری سوچ اور باتوں سے واقعی بہت متاثر ہوا ہوں۔‘‘
’’پاپا یہ فائول ہے اب مجھے کامیش سے جلن ہورہی ہے آپ اس کی اتنی ڈھیر ساری تعریفیں کررہے ہیں‘ کچھ لفظ اپنے بڑے بیٹے کے لیے بھی ادا کردیں۔‘‘ فراز مصنوعی طور پر برا ماننے والے انداز میں بولا تو سمیر شاہ زور سے ہنس دیئے۔
’’اچھا جب پاپا تمہاری تعریف کرتے ہیں تو میں تو جیلس نہیں ہوتا۔‘‘ کامیش نے مسکرا کر کہا تو فراز اور سمیر شاہ دونوں زور سے ہنس دیئے۔
ء…/…ء
ساحرہ اپنے لگژری آفس کے روم میں بیٹھی کچھ فائلیں دیکھ رہی تھی جب ہی سونیا ہلکا سا ناک کرکے اندر چلی آئی۔
’’ہیلو آنٹی!‘‘ ڈیپ ریڈ کلر کے اسٹائلش سے شلوار سوٹ میں وہ اس پل بہت فریش لگ رہی تھی شولڈر کٹ بالوں کی اونچی سی پونی بنائے وہ ساحرہ کو بہت کیوٹ لگی۔
’’اوہ کیا حیران کن سرپرائز ہے۔‘‘ ساحرہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ ’’کم کم مائی بے بی۔‘‘
’’کیسی ہیں آپ آنٹی اور سب کیسا چل رہا ہے؟‘‘ سونیا ساحرہ کے گال پر نزاکت سے پیار کرکے اس کے مقابل کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’ایک دم فرسٹ کلاس۔‘‘
’’ویسے یہ کام ہے کافی انٹرسٹنگ۔‘‘
’’ہوں انٹرسٹنگ تو ہے مگر کچھ رسکی بھی ہے۔‘‘ وہ کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر بولی۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’وہ ایسے ڈئیر!‘‘ وہ بولتے بولتے یک دم رکی پھر ٹالنے والے لہجے میں بولی۔ ’’اس ٹاپک پر ہم پھر کسی اور وقت بات کریں گے تم سنائو اسٹڈیز کیسی چل رہی ہے اور بھائی بھابی کیسے ہیں؟‘‘
’’ممی ڈیڈی بھی سیٹ ہیں اور اسٹڈیز چل نہیں بلکہ دوڑ رہی ہے‘ دراصل سمسٹرز ہونے والے ہیں۔‘‘
’’اوکے گڈ۔ آگے تم اور فراز نے کیا پلان کیا ہے غالباً یہ لاسٹ ائیر ہے تمہاری اسٹڈیز کا پھر تو تم دونوں پریکٹیکل لائف میں آجائو گے۔‘‘ ساحرہ نزاکت سے بولی سونیا خود ہی اس موضوع پر بات کرنا چاہتی تھی وہ اپنے اور فراز کے رشتے کو مضبوط کرنے اور دوستی سے آگے بڑھانے میں ساحرہ کی سپورٹ حاصل کرنا چاہتی تھی اور اسی مقصد کے تحت آج وہ یہاں آئی تھی وہ یہ بات بخوبی جانتی تھی کہ ساحرہ اسے بہت لائک کرتی ہے وہ اسے اپنی بہو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں کرے گی بلکہ اس معاملے میں وہ اس کی بہترین معاون و مددگار ثابت ہوگی۔
’’آنٹی فراز کا تو مجھے معلوم نہیں کہ اس نے آگے کے لیے کیا سوچ رکھا ہے مگر میں تو فی الحال آرام کرنا چاہوں گی اور لائف کو بھرپور طریقے سے گزاروں گی ایم بی اے کی اتنی ٹف پڑھائی نے مجھے کافی بور کردیا ہے۔‘‘
’’ہوں یہ بات تو ہے مگر مائی ڈارلنگ کچھ عرصہ آرام کرنے کے بعد تم تو بور ہوجائو گی‘ لائف میں بزی رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے نا۔‘‘ ساحرہ بولتے ہوئے انٹر کام کی جانب متوجہ ہوئی اور پھر سونیا سے پوچھ کر دو ہاٹ کافی کا آرڈر دیا۔
’’آپ کی بات بھی ٹھیک ہے آنٹی! ممی تو یہ چاہتی ہیں کہ میں اسٹڈیز کمپلیٹ کرنے کے بعد شادی کرلوں۔‘‘ سونیا کی زبانی فاریہ کے خیالات جان کر ساحرہ کو کافی حیرت ہوئی اس کے نقطہ نظر سے تو شادی پیروں کی زنجیر تھی آزادی سلب ہوجانے کا موجب تھی لہٰذا وہ اس بندھن کے حق میں نہیں تھی۔
’’مجھے تھوڑا شاکڈ لگا بیٹا! فاریہ کی سوچ تو عام مڈل کلاس مائوں جیسی ہے بھلا اتنی جلدی شادی کی کیا تُک بنتی ہے۔ شادی تو ایک ایسا جنجال ہے جس میں پھنس کر عورت کی تمام آزادی اور زندگی ذمہ داریوں میں گھر کر ختم ہوجاتی ہے۔ شوہر کی جی حضوری کرنے میں اپنی ذات اپنی ہستی مٹ جاتی ہے۔‘‘ ساحرہ ایسے بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی جیسے اس نے ازدواجی زندگی کی تمام ذمہ داریاں بڑی خوبی سے نبھائی تھیں اور سمیر شاہ نے جیسے اس کی آزادی و خود مختاری کو معطل کردیا تھا۔
’’مگر آنٹی آپ نے بھی تو شادی کے بعد اپنی مرضی کی لائف گزاری اور گزار رہی ہیں‘ سمیر انکل نے تو آپ کو ہر معاملے میں فریڈم دیا ہے۔‘‘
’’میں نے یہ سب حاصل کرنے کے لیے سمیر سے کافی فائٹ کی ہے ورنہ وہ بھی عام مردوں جیسی سوچ رکھنے والا روایتی مرد ہے۔‘‘ سونیا کی بات پر ساحرہ کا لہجہ جواب دیتے ہوئے آخر میں نخوت آمیز ہوگیا ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ اسی دم ناک کرکے چپراسی بھاپ اڑاتی کافی کے دو مگ ٹرے میں سجائے اندر داخل ہوا اور میز پر رکھ کر واپس چلا گیا۔
’’آنٹی اب پہلے والا دور نہیں رہا جب شوہر حضرات بیویوں کو چار دیواری میں مقید رکھنا چاہتے تھے اب تو وہ خود چاہتے ہیں کہ بیویاں ان کے شانے سے شانہ ملا کر چلیں‘ سوسائٹی میں بولڈلی بی ہیو کریں۔ خاص طور پر ہماری کلاس کے مردوں کو تو میں نے ایسے ہی دیکھا ہے۔‘‘ سونیا کافی کا مگ ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے بولی تو ساحرہ مسکرا اٹھی۔
’’ایک حد تک تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ ہماری کلاس کے مرد تھینک گاڈ تنگ نظر اور دقیانوسی نہیں ہیں تو تم اپنی ممی کے خیال سے متفق ہو ڈئیر!‘‘
’’اب آنٹی میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔‘‘ وہ خفیف سی ہوکر بولی تو ساحرہ نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔
’’اوکے مائی ڈارلنگ بے بی! تم مجھے اپنی آنٹی نہیں بلکہ فرینڈ سمجھ کر بتادینا کہ کب تم شادی کے موڈ میں ہو اور کس سے شادی کرنے کی خواہش مند ہو‘ آئی پرامس وہ کوئی بھی ہوگا میں تمہاری شادی اس سے کروائو ں گی۔‘‘
’’پرامس کررہی ہیں ناں آپ؟‘‘ وہ اسے یاددہانی کراتے ہوئے بولی۔
’’آف کورس ڈئیر۔‘‘
’’اوکے ڈن۔‘‘ سونیا ساحرہ کے جواب پر کھلکھلا کر بولی اور ابھی وہ فراز کا نام لینے ہی والی تھی کہ اسی دم چپڑاسی حواس باختہ سا دروازہ ناک کرکے جھپاک سے اندر داخل ہوا۔
’’وہ میڈم صاحبہ جی پچھلے ہفتے جو رضیہ بی بی آئی تھیں نا اس کی طبیعت بہت خراب ہورہی ہے۔‘‘ چپڑاسی کرم الٰہی کی بات پر ساحرہ کے خوب صورت چہرے پر ناگواری اور بے زاری کے رنگ بکھر گئے۔
’’تم دیکھ نہیں رہے اس وقت میرے گیسٹ آئے ہوئے ہیں تم مسز لطیف سے کہو۔‘‘
’’وہ جی بیگم صاحبہ تو آدھے گھنٹے پہلے باہر چلی گئی تھیں اور باہر وہ اخبار والی مریم بی بی بھی آئی ہوئی ہیں۔‘‘ مریم کا نام سنتے ہی ساحرہ اپنی سیٹ سے اچھل کر یوں کھڑی ہوئی جیسے سیٹ پر ببول کے کانٹے اُگ آئے ہوں۔
’’کیا… جرنلسٹ مریم نور آئی ہوئی ہے‘ ڈفر مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا‘ عقل کے اندھے ہو تم بالکل… تم جلدی سے ڈاکٹر صلاح الدین کو فون کرو کہ آکر رضیہ کا چیک اپ کرے۔‘‘ وہ کرم الٰہی کو بری طرح جھاڑت ہوئے بولی پھر تیزی سے سونیا کی طرف متوجہ ہوکر عجلت میں کہا۔
’’سوری بیٹا تھوڑی ایمرجنسی ہوگئی ہے ہم پھر بات کریں گے اس وقت مجھے باہر جانا ہے۔‘‘
’’اٹس او کے آنٹی! کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ زبردستی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا کر بولی تو ساحرہ جھپاک سے باہر نکل گئی جب کہ سونیا بھی وہاں سے جانے کے ارادے سے اٹھ گئی۔
ء…/…ء
’’لالہ میں تمہارا سر توڑ دوں گی اگر ایک لفظ بھی تم نے مجھ سے کچھ کہا تو اس وقت میں کسی سے بھی کوئی بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔‘‘
’’ہائیں مگر کیوں میں تو اتنی خوشی سے تم سے ملنے آئی ہوں‘ مہرینہ تمہیں مبارک باد دینے کے لیے اب میری پیاری سہیلی پیادیس سدھارنے والی جو ہے۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر مہرینہ کا غصے سے برا حال ہوگیا وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورتے ہوئے دانت کچکچا کر بولی۔
’’مجھے تم جیسی دشمن نما دوست ہے یہی امید تھی آخر تم نہیں خوش ہوگی تو پڑوسی ہوں گے واہ لالہ تمہارا بھی جواب نہیں۔‘‘ مہرینہ کے طنز میں ڈوبے لہجے کو سن کر لالہ بمشکل اپنی ہنسی دبا کر کچھ حیرت بھرے انداز میں بھنویں اچکا کر بولی۔
’’تم میری تعریف کررہی ہو یا پھر…!‘‘ قصداً جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’نہیں نہیں میں بھلا تمہیں برا بھلا کیوں کہنے لگی‘ تم ہی تو میری سچی خیرخواہ ہو میری ہم درد میری مخلص سہیلی۔‘‘ مہرینہ ہنوز انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’تو پھر جلدی سے مجھے مٹھائی کھلائو‘ مہرینہ میٹھا کھانے کا بہت دل چاہ رہا ہے۔‘‘ وہ مہرینہ کے بستر پر بے تکلفی سے دراز ہوتے ہوئے تکیہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر بولی۔ آج چھٹی ہونے کی بدولت وہ بڑی فرصت سے مہرینہ سے ملنے آئی تھی وگرنہ جاب اور پھر گھر کے جھمیلوں میں اسے وقت ہی کہاں ملنا تھا پہلے تو چند ثانیے مہرینہ اسے آگ برساتی نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر بے تحاشا تپ کر بولی۔
’’زہر نہ لادوں تمہارے لیے‘ کل ہی ابا چوہے مار زہریلا پائوڈر لے کر آئے ہیں۔‘‘
’’کیا ہوگیا ہے بھئی آخر کیوں اتنے انگارے چبارہی ہو‘ ویسے مامی بتارہی تھیں کہ کل رات سے تم نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے ویسے یقین نہیں آتا تم تو دو منٹ کے لیے بھی بھوکی نہ رہ سکو کجا کہ رات بھر اور…‘‘ مہرینہ کو انتہائی جارحانہ انداز میں اپنی جانب آتا دیکھ کر لالہ رخ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گئی۔
’’آج تُو میرے ہاتھوں ضائع ہوجائے گی لالہ!‘‘ یہ کہہ کر وہ اس پر جھپٹ پڑی اور تکیہ اٹھا کر اس پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیئے جب کہ لالہ ’’ارے ارے‘‘ کرتی رہ گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب مہرینہ تھک گئی تو اس نے تکیہ لالہ کے منہ پر پٹخا اور نڈھال ہوکر بستر پر ڈھے گئی۔
’’مہرینہ کی بچی میں یہ تکیوں کی بمباری کا سبب جان سکتی ہوں جو تم نے مجھ پر کی ہے۔‘‘ لالہ رخ اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹتے ہوئے بولی۔ ڈارک پرپل اور آف وائٹ امتزاج کے گرم شلوار سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
’’تم ابھی اور اسی وقت نکل جائو میرے کمرے سے چلو یہاں سے فوراً چلو شاباش چلتی پھرتی نظر آئو اب۔‘‘
’’بڑی ہی بدتمیز ہو تم ایک تو میں تمہارے گھر مہمان آئی ہوں اور تم مجھے اس طرح بھگارہی ہو۔‘‘
’’اس وقت مجھے تم سخت زہر لگ رہی ہو لالہ! وہاں میرے اماں ابا نے مجھے سولی پر چڑھانے کا ارادہ کرلیا ہے اور یہاں تم میرے ارمانوں کی بربادی کا تماشہ دیکھنے اور قہقہے لگانے آگئی ہو۔‘‘ بولتے بولتے آخر میں مہرینہ کا لہجہ بھیگ گیا تو لالہ رخ تڑپ سی گئی۔
’’مہرینہ میری جان میں تو مذاق کررہی تھی تھوڑا تنگ کررہی تھی تمہیں۔‘‘ لالہ رخ بے اختیار تیزی سے آگے بڑھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے بولی تو مہرینہ جلدی سے بولی۔
’’لالہ تم اماں ابا کو سمجھائو نا اس آٹھویں فیل راشد سے مجھے ہرگز ہرگز شادی نہیں کرنی وہ تو میری بات سننے کو تیار ہی نہیں ہیں‘ وہ کہہ رہے ہیں کہ لڑکا دیکھا بھالا ہے کمائو پوت ہے اور بھلا کیا دیکھنا۔‘‘
’’میں نے مامی سے بات کرلی ہے مہرینہ! تم ریلیکس ہوجائو اب وہ اس رشتے سے انکار کردیں گی۔‘‘ لالہ رخ اس کے سر پر چپت رسید کرتے ہوئے اسے ورطۂ حیرت میں مبتلا کرگئی۔
’’کیا… کیا مطلب لالہ!… مطلب تم نے اماں ابا سے بات بھی کرلی‘ انہیں راضی بھی کرلیا۔‘‘ وہ منہ کھولے آنکھیں پھاڑے انتہائی بے یقین لہجے میں استفہامیہ انداز میں بولی۔
’’جی جناب جہاں مہرینہ بی بی کے موکل ناکام ہوجاتے ہیں وہاں لالہ رخ کی عقل اور سمجھ داری اپنا کام دکھاتی ہے۔‘‘ لالہ رخ فرضی کالر جھاڑتے ہوئے اکڑ کر بولی تو مہرینہ نے ’’ہُرا‘‘ کا نعرہ لگایا۔
’’سچ لالہ اور کتنی گھنی ہے تُو کس طرح مجھے زچ کررہی تھی۔‘‘ وہ فرط جذبات سے لالہ رخ سے زور سے لپٹتے ہوئے بولی پھر معاً کوئی خیال ذہن میں در آیا تو سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’مگر اماں سے تم نے بات کب کی اور انہیں قائل کیسے کیا؟‘‘
’’آج صبح وہ ہمارے گھر آئی تھیں تمہاری اس نام نہاد بھوک ہڑتال سے کافی پریشان تھیں پھر امی اور میرے سمجھانے پر وہ اس رشتے سے انکار کرنے پر راضی ہوگئیں۔‘‘
’’اوہ لالہ! آئی لو یو سچ لالہ تم بہت اچھی ہو۔ پتا ہے کل ساری رات مجھے خواب میں مرغ چھولے‘ نان نہاری اور مصالحہ دار بریانی نظرآتی رہی‘ رائتے کے ساتھ اور اب صبح سے حلوہ پوری اور کچوری کا خیال بے حد ستارہا ہے۔‘‘ بولتے بولتے مہرینہ کے منہ میں پانی آگیا تھا وہ ندیدے پن سے گویا ہوئی تھی۔
’’معلوم ہے مجھے تم اتنی دیر تو بھوکی رہ ہی نہیں سکتی۔‘‘
’’مگر لالہ! یہ زیادتی ہے تم میری بھوک ہڑتال کو نام نہاد قرار دے رہی ہو‘ میں نے سچ میں کل رات سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘
’’ہاں بابا مجھے معلوم ہے اب باہر چلو مامی نے تمہارے لیے چاول اور ٹماٹر کی چٹنی بنائی ہے اور ساتھ میں گاجر کا حلوہ بھی ہے اور اب مجھے بھی سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ مہرینہ کی بات پر لالہ رخ عجلت میں بولی تو مہرینہ تیر کی تیزی سے دروازے کی جانب لپکی۔
’’تم بھی نا لالہ! مجھے بتایا کیوں نہیں کھانا تیار ہے۔‘‘ لالہ رخ اس کے دو غلے پن کو دیکھ کر ہنستے ہوئے مہرینہ کے ساتھ ہی باہر نکل گئی۔
ء…/…ء
آج اتوار تھا باسل پیلس میں لنچ پر خاصی رونق تھی خاور حیات نے اپنے چند قریبی دوستوں کو انوائٹ کیا تھا جس میں سمیر شاہ اور ساحرہ بھی شامل تھی‘ کھانے کے دوران سب ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ حورین ہمیشہ کی طرح انتہائی مستعد اور فریش سی سب کو بہت اچھی طرح ڈیل کررہی تھی رائل بلو شرٹ پر آف وائٹ دھاگے کی کڑھائی سے مزین اس پر جدید طرز کا پاجامہ اور بلو ہی بلاک پرنٹ کے دوپٹے پر وہ سب سے خاص اور منفرد لگ رہی تھی ہلکے ہلکے پنک میک اپ اور وائٹ موتیوں کی نازک سی ہلکی جیولری پہنے وہ آج بھی ساحرہ کو حسد میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہی تھی۔
’’اونہہ نجانے ایسی کون سی کشش ہے اس حورین میں کوئی اس کے سامنے ٹک ہی نہیں پاتا شاید اس کی آنکھوں کی سحر انگیزی یا چہرے کی ملاحت و معصومیت یا پھر اس کا دلفریب سراپا۔‘‘ ساحرہ اسے کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے انتہائی حاسدانہ انداز میں خود سے دل ہی دل میں بولے جارہی تھی۔ وسیع وعریض دلکش سے ڈائننگ ہال میں حورین پھرتی سے ادھر اُدھر پھر رہی تھی۔
’’اور سنائیں مسز سمیر آپ کی این جی او کیسی چل رہی ہے‘ سنا ہے وہ لڑکی مہربانو جو اندرون سندھ سے تعلق رکھتی ہے وہ آپ ہی کے ادارے میں آئی ہوئی ہے۔‘‘ ساحرہ نے مسز نعمان کے مخاطب کرنے پر قدرے چونک کر انہیں دیکھا پھر حورین کی جانب سے دھیان ہٹا کر مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر بولی۔
’’آپ نے ٹھیک سنا ہے مسز نعمان مہربانو ہمارے ہی پاس ہے۔‘‘
’’ویسے یہ مہربانو والا قصہ میڈیا میں کافی ان ہوگیا ہے‘ کل رات بھی مختلف چینلز سے مہربانو کے حوالے سے کافی نیوز آرہی تھیں۔‘‘ مسز عنایت نے بھی اپنے رائے کا اظہار کیا اسی دم حورین بھی ان سب کے درمیان آن بیٹھی تھی۔ کھانے سے فارغ ہوکر مردوں نے اپنی الگ اور خواتین نے علیحدہ بیٹھک جمالی تھی۔
’’ہاں اس کیس میں میڈیا بہت انوالو ہوگیا ہے‘ پچھلے دنوں اسی سلسلے میں میرا انٹرویو بھی لیا گیا تھا۔‘‘ ساحرہ تفاخرانہ انداز میں گردن اکڑا کر بولی اس طرح کی باتیں کرکے وہ حورین پر اپنی برتری اپنی قابلیت جتانے کی کوشش کرتی تھی وہ حورین کے حسن اس کی پر اثر شخصیت سے کچھ خائف اور حسد محسوس کرتی تھی اور اسی بدولت وہ حورین پر اکثر اوقات انتہائی سہولت سے میٹھے لہجے میں طنز کر جاتی تھی مگر جواباً حورین ہمیشہ مسکرا کر رہ جاتی تھی۔
’’ویسے مسز سمیر آپ ذرا احتیاط برتیے گا یہ کاروکاری کا معاملہ ہے مہربانو کو کاری قرار دیا ہے اس کے جرگہ نے اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم مہربانو کو سزا دے کر رہیں گے۔‘‘
’’اونہہ میں اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرانے والی نہیں ہوں مسز نعمان!‘‘ ساحرہ مغرورانہ انداز میں بولی پھر تمام خواتین ملازمہ کی ہاتھوں لائی کافی کی ٹرالی اور اس میں رکھے ڈرائی فروٹ کی جانب متوجہ ہوگئیں۔
’’سمیر یار میں باسل کو باہر بھجوانا چاہتا ہوں وہاں کی یونیورسٹیز میں وہ زیادہ اچھی ایجوکیشن حاصل کرسکے گا۔‘‘ خاور سمیر کے ہمراہ صوفے پر بیٹھا کافی کا سپ لیتے ہوئے بولا۔
’’ہوں باسل کا انٹرسٹ کس طرف ہے‘ وہ کہاں ایڈمیشں لینا چاہتا ہے۔‘‘
’’باسل کو ابروڈ صرف گھومنے پھرنے اور چھٹیاں گزارنے کی حد تک پسند ہے وہاں رہنا اسے اچھا نہیں لگتا‘ وہ پاکستان میں ہی بہت خوش ہے کہتا ہے کہ باہر کی زندگی بالکل ڈل اور مشینی ہے۔‘‘
’’یہ بات تو وہ بالکل ٹھیک کہتا ہے جو بات ہمارے ملک ہمارے کلچر کی ہے وہ باہر کے ممالک میں کہاں۔‘‘ خاور کی بات پر سمیر اپنے مخصوص انداز میں69 بولا خاور مزید کچھ بولتا کہ اسی دم مسٹر نعمان وہاں آگئے اور خاور ان کی جانب متوجہ ہوگیا۔
ء…/…ء
باسل نیلم فرمان کے گرد آج کل پروانہ بن کر گھوم رہا تھا مگر وہ آسانی سے دام میں نہیں آرہی تھی وہ کلاس لے کر باہر نکلا تو اس کا موڈ خاصا خراب تھا کیوں کہ لیکچر کے دوران باسل نے نیلم کو جو اس کے بائیں جانب مکمل اس کی نگاہوں کی رینج میں بیٹھی تھی اسے اسمائل پاس کی تھی مگر دونوں بار اس نے اسے نظر انداز کردیا تھا نیلم کی اس حرکت نے باسل کے اندر آگ سی لگادی تھی۔
’’اونہہ سمجھتی کیا ہے خود کو شامیانہ پہن کر یونیورسٹی آجاتی ہے‘ سر سے دوپٹہ ایسا چپکا رہتا ہے جیسے گوند سے چپکایا ہو۔ ارے جب اتنی مذہبی باحیا ہے تو کسی مدرسے میں داخلہ لے لیتی‘ یہاں ایڈمیشن لینے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ وہ زمین پر اپنا دایاں پائوں زور سے پٹختے ہوئے بولا جب کہ انس‘ عدیل اور احمر حسب معمول اس کے ہمراہ تھے۔
’’ابے چھوڑ نا یار مجھے تو اس نیلم فرمان میں کوئی خاص چیز دکھائی نہیں دیتی سوائے اس کی بڑی بڑی آنکھوں کے وہ بھی جب پوری طرح کھولتی ہے تو بڑی خوفناک لگتی ہے تُو کیوں اس معمولی سی لڑکی کے پیچھے خوار ہورہا ہے چل دفع کر اسے‘ تجھے لڑکیوں کی کوئی کمی تو نہیں۔‘‘ احمر باسل کے تیور دیکھ کر بے زار کن لہجے میں بولا۔
’’ہاں یار اس نیلم سے اچھی تو میری ماسی کی بیٹی ہے جو ہمارے گھر کام پر آتی ہے۔‘‘ انس شرارتی لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہوں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو‘ نیلم کے اندر کچھ بھی ایٹی ٹیوڈ نہیں ہے مگر اسے زعم کس چیز کا ہے میں نے یعنی باسل حیات نے اسے لفٹ دی اور اس نے میری توجہ کو اگنور کردیا۔‘‘
’’ایک تو مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ تُو اس لڑکی کو اتنی اہمیت ہی کیوں دے رہا ہے۔‘‘ عدیل کی بات پر باسل نے اسے چند ثانیے دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر بھاری لہجے میں بولا۔
’’یہ حقیقت ہے کہ نہ اس کے نین نقوش پُر اثر ہیں نہ قیامت خیز سراپا ہے مگر اس کا مشرقی انداز میرے لیے نیا ہے۔‘‘
’’یو مین اس کا بہن جی اسٹائل؟‘‘
’’ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو۔‘‘ احمر کے استفسار پر باسل نے جواب دیا تو وہ کندھے اچکا کر بولا۔
’’اوکے برادر تم یہ تجربہ حاصل کرو ہم تمہیں ہرگز نہیں روکیں گے مگر پلیز اس وقت کمپیوٹر سیکشن چلو لائبہ میرا انتظار کررہی ہوگی یار۔‘‘ احمر نے اپنی گرل فرینڈ کا نام لے کر کہا تو وہ چاروں کمپیوٹر سیکشن کی جانب بڑھ گئے۔
ء…/…ء
ابرام اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ مصروف تھا جب ہی ماریہ دھیرے سے دروازہ ناک کرکے ’’یس‘‘ کی آواز پر اندر چلی آئی۔ ابرام نے اسے دیکھ کر اسمائل پاس کی وہ ابرام کے قریب رکھے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’آپ کوئی ضروری کام کررہے ہیں بھائی۔‘‘ ماریہ اسے ہنوز لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے دیکھ کر بولی۔ ابرام نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر ایک نگاہ اسکرین پر ڈالی اور اگلے ہی پل اسے سائیڈ پر رکھ کر مسکرا کر گویا ہوا۔
’’اب کوئی ضرری کام نہیں کررہا۔‘‘ ماریہ بے اختیار دھیرے سے ہنس دی‘ ابرام کو وہ بلیک رنگ کے سوٹ میں عام سے حلئے میں اس پل ڈل اور کچھ تھکی تھکی سی لگی۔
’’کیا ہوا ہنی! کوئی بات ہے کیا آج تم ہمیشہ کی طرح فریش اور ایکٹو نہیں لگ رہی‘ کوئی مسئلہ ہے تو بتائو مجھے۔‘‘ وہ یک دم پریشان سا ہوکر استفہامیہ لہجے میں بولا تو ماریہ فوراً الرٹ سی ہوکر بیٹھی۔
’’اونو… کوئی پرابلم نہیں ہے بس آج ذرا تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اور میں گھر پر بور بھی ہورہی تھی سوچا آپ سے تھوڑی گپ شپ لگالوں۔‘‘
’’ہوں تم نے بالکل ٹھیک سوچا تمہارا جب دل چاہے میرے پاس آجایا کرو۔‘‘ ابرام مسکرا کر پرخلوص لہجے میں بولا جسے محسوس کرکے ماریہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اور آپ کی اور جیسکا کی دوستی کیسی چل رہی ہے‘ وہ بہت خوش ہے آپ سے دوستی کرکے۔‘‘
’’جیسکا اچھی لڑکی ہے ہنی۔‘‘
’’ہاں وہ تو ہے مگر شاید آپ کو تھوڑی دیر میں پتا چلا۔‘‘ ماریہ شرارت سے بولی۔
’’میں اس حوالے سے کہہ رہا ہوں ڈئیر کہ وہ میری ذات میں خامیاں نہیں نکالتی اور نہ ہی میرے ٹائم نہ دینے کا شکوہ کرتی ہے میں جب بھی اس سے بات کرتا ہوں وہ مجھے چیئر اپ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘ ابرام اس کی شرارت کا مفہوم سمجھتے ہوئے وضاحت دینے والے انداز میں بولا پھر دونوں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ ابرام نے کئی بار اس کے چہرے پر ابھرتی الجھن و پریشانی کی لکیر کو دیکھا مگر قصداً خاموش رہا‘ وہ چاہتا تھا کہ ماریہ خود سے اپنی پرابلم شیئر کرے کچھ دیر بعد جب وہ اسے گڈ نائٹ کہہ کر جانے لگی تو ابرام نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
’’ماریہ تم مجھ پر اعتماد کرسکتی ہو۔‘‘
’’بھائی میں آپ پر مکمل بھروسہ کرتی ہوں اور ہمیشہ کرتی رہوں گی۔‘‘ ابرام کی آواز پر وہ تیزی سے پلٹی اور تیقین آمیز لہجے میں بولی۔
’’تو پھر وہ کیا بات ہے جو تمہیں اتنا ڈسٹرب کررہی ہے مگر زبان پر نہیں آرہی۔‘‘ ماریہ نے ابرام کو بغور دیکھا پھر پلٹ کر دوبارہ اسی صوفے پر آبیٹھی جہاں وہ پہلے بیٹھی تھی چند ثانیے وہ نگاہیں جھکائے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے خاموش سی بیٹھی رہی شاید وہ اپنے ذہن میں جملے ترتیب دے رہی تھی۔ ابرام بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا کشادہ پیشانی کے نیچے خوب صورت کالی آنکھیں گھنیری پلکیں کتابی چہرے پر ستواں کھڑی ناک اور کٹیلے دار ہونٹ سیاہ لمبے بال وہ مکمل طور پر مشرقی حسن کا نمونہ تھی۔
’’بھائی آپ تو مام کی نیچر سے واقف ہیں نا وہ جو ایک بار ٹھان لیتی ہیں وہ ہر طور کرکے رہتی ہیں۔‘‘ ماریہ کافی دیر بعد چہرہ اٹھا کر ابرام کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے بولی۔
’’یس آئی نو ویری ویل ہنی! وہ کافی منفرد شخصیت ہیں۔‘‘
’’آپ جانتے ہیں نا کہ میری اس وقت کیا عمر ہے؟‘‘ ماریہ کی اس بات پر اسے بے ساختہ ہنسی آگئی۔
’’ہاں کیوں نہیں ڈئیر! کیا تم مجھ سے اپنی عمر چھپانے کا ارادہ رکھتی ہو۔‘‘ وہ ازراہ مذاق بولا تاکہ ماریہ تھوڑی ریلیکس ہوجائے۔
’’نو وے‘ میرا یہ مطلب نہیں تھا‘ دراصل مام مجھے ولیم کے ساتھ انگیجڈ کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’ولیم کے ساتھ۔‘‘ ابرام تھوڑا چونکا پھر پُرسوچ انداز میں گویا ہوا۔
’’وہ بہت اچھا لڑکا ہے‘ آئی تھنک وہ تمہیں خوش رکھے گا۔‘‘
’’آئی نو بھائی کہ وہ اچھا لڑکا ہے مگر…‘‘ اب کی بار وہ خاصا جھنجھلا کر بولی تھی ابرام نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’تم کہیں اور انٹرسٹڈ ہو ہنی!‘‘
’’بھائی! ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ تھوڑی خفیف سی ہوئی وہ جس ماحول میں رہتی تھی جہاں کی فضائوں میں اس کی پرورش ہوئی تھی۔ وہاں آزادانہ طور طریقے تھے مگر وہاں رہنے کے باوجود ماریہ کے اندر ایک مشرقی لڑکی کی مانند فطری شرم و حیا کی روشنی اور خوش بو بدرجہ اتم موجود تھی۔ ابرام نے بے حد حیرت سے ماریہ کے چہرے پر بے اختیار در آئی سرخی کو دیکھا تھا اس پل وہ شرمائی جھینپی سی اس قدر حسین لگی کہ ابرام اسے دیکھتا رہ گیا ایسا نظارہ بھلا اس نے یہاں کی آزاد فضائوں میں کہاں دیکھا تھا۔
’’بھائی دراصل میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے۔‘‘
’’یہ بات تم نے مام سے کہی؟‘‘
’’میں نے کہی مگر انہوں نے کہا کہ فی الحال منگنی کردیتے ہیں اور پڑھائی مکمل کرنے کے بعد شادی۔‘‘
’’ہوں تو تم اس کمنٹ منٹ کے لیے بھی تیار نہیں ہو ہے نا۔‘‘ ابرام نے ماریہ کی بات سن کر کہا۔
’’جی میں اس طرح کا کوئی رشتہ ولیم سے جوڑنا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ ہموار لہجے میں ابرام کو دیکھنے کے بجائے سامنے کی دیوار کو تکتے ہوئے بولی۔
’’یو مین تمہیں ولیم پسند نہیں ہے‘ اوکے میں مام سے بات کرلوں گا تم پلیز ریلیکس ہوجائو ڈئیر۔‘‘ وہ سہولت سے بستر پر نیم دراز ہوتے ہوئے بولا تو ماریہ نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’ایک بات اور بھی ہے۔‘‘
’’ہوں بولو میں سن رہا ہوں۔‘‘ وہ آنکھیں موند کر دونوں ہاتھ سینے پر فولڈ کرتے ہوئے سستی بھرے لہجے میں بولا اور پھر جو بات اس کی زبان سے نکلی اس نے جیسے ابرام کے نرم گرم آرام دہ بستر پر جھاڑیاں اُگادیں۔
’’کیا…‘‘ وہ تیزی سے آنکھیں کھول کر اپنے بستر سے اچھل کر بیٹھا اس نے ماریہ کو انتہائی اچنبھے سے دیکھا جو اپنی بات کہہ کر نگاہیں جھکائے ساکت سی بیٹھی تھی۔
’’کیا کہا تم نے ہنی!‘‘ ابرام کو لگا جیسے اس نے سننے میں کوئی غلطی کردی ہو وہ اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوا جواباً ماریہ نے سر اٹھا کر ابرام کو دیکھا تھا۔
ء…/…ء
لالہ رخ جاب سے گھر آئی تو امی کو بستر پر سر لپیٹے محو آرام پایا اس نے ابا کے کمرے میں جھانکا تو وہ بھی غالباً سو رہے تھے۔ لالہ رخ کی چھٹی آف سیزن میں شام کو ہی ہوجاتی تھی ورنہ سیزن کے دنوں میں وہ کبھی آٹھ تو کبھی دس بجے تک گھر میں داخل ہوتی تھی جب کہ اس پل زرتاشہ ڈائجسٹ میں منہ دیئے کہانی پڑھنے میں مصروف تھی۔
’’تاشو سب خیریت تو ہے امی اس وقت کیوں لیٹی ہیں ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ لالہ رخ متفکرانہ انداز میں بولی۔
’’ہائے لالہ! تم کب آئیں؟‘‘
’’تمہیں اس ڈائجسٹ سے فرصت ملے تو تم مجھے دیکھو نا ویسے پانچ منٹ پہلے آئی ہوں۔‘‘
’’چلو میں کھانا گرم کرلیتی ہوں تمہارے انتظار میں آج کچھ نہیں کھایا میں نے۔‘‘ وہ بستر سے اٹھتے ہوئے پیروں میں چپل اڑستے ہوئے بولی تو لالہ محض سر ہلا کر امی کی جانب آگئی جو شاید ان کی باتوں سے جاگ گئی تھیں۔
’’ارے لالہ تم آگئیں۔‘‘
’’بس ابھی آئی ہوں‘ آپ ٹھیک تو ہیں نا آج اتنی جلدی کیوں سوگئی تھیں۔‘‘
’’بس بیٹا ایسے ہی سستی محسوس ہورہی تھی تو لیٹ گئی آنکھ کب لگ گئی پتا ہی نہیں چلا۔‘‘ وہ مسکرا کر گویا ہوئیں اسی اثناء میں زرتاشہ ٹرے میں کھانا سجائے گرم بیٹھک میں چلی آئی جسے انگیٹھی کی مدد سے گرم کیا ہوا تھا۔
’’تاشو ابا نے کھانا کھالیا تھا نا۔‘‘
’’ہاں بابا میں نے انہیں کھانا بھی کھلادیا تھا اور دوائی بھی دے دی تھی‘ تم فکر نہ کرو۔‘‘ وہ مصروف سے انداز میں بولی تو لالہ رخ مطمئن ہوکر کھانے کی جانب متوجہ ہوگئی پھر کھانے سے فارغ ہوکر وہ پرسکون انداز میں تخت پر نیم دراز ہوئی تو زرتاشہ نے اسے کہنی ماری یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اس کے ایڈمیشن کی بابت امی سے بات کرے۔ لالہ نے اسے ایک نگاہ دیکھا پھر کچھ سوچ کر گویا ہوئی۔
’’امی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ لالہ کی بات پر امی نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔
ء…/…ء
فراز شاہ پارکنگ لاٹ میں گاڑی پارک کرکے نکلا وہ تیزی سے کلاس روم کی جانب بڑھ رہا تھا جب ہی سامنے سے اسے سونیا آتی دکھائی دی۔
’’ریلیکس فراز! آج سر زعیم نہیں آئے۔‘‘ فراز آج تھوڑا لیٹ ہوگیا تھا لہٰذا وہ جلدی جلدی قدم بڑھتا کلاس روم کی جانب جارہا تھا۔ سونیا کا پژمردہ سن کر وہ ایک دم ڈھیلا پڑگیا۔
’’اوہ اوکے۔‘‘ وہ گہرا سانس فضا میں خارج کرتے ہوئے بولا تو سونیا اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ کر گویا ہوئی۔
’’فکر نہیں کرو فراز! اس بار بھی تم ہی ٹاپ کرو گے۔‘‘ سونیا کے جملوں پر وہ دلکشی سے مسکرا اٹھا جب کہ سونیا اس کی مسکراہٹ پر الجھ کر رہ گئی بلو جینز پر بلیک شرٹ کے اوپر بلیک ہی سلیولیس سوئٹر میں وہ ہمیشہ کی طرح اسمارٹ لگ رہا تھا۔
’’میرا خیال ہے کہ ہم لائبریری چلتے ہیں مجھے کچھ کتابیں ایشو کروانی تھی۔‘‘
’’اُف فراز! تم اتنے بور کیوں ہو اتنا رومینٹک اور حسین موسم ہے اور اس وقت تمہیں لائبریری یاد آرہی ہے میرا تو خیال ہے کہ ہم آئوٹنگ پر چلتے ہیں۔‘‘ سونیا کی بات پر فراز نے اسے اچنبھے دیکھا۔
’’او ہیلو میڈم! اگلے ہفتے سے ہمارے فائنل سمسٹر اسٹارٹ ہورہے ہیں کچھ تو ہوش کرو لڑکی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اس کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کرکے لائبریری کی جانب بڑھا تو سونیا اس کی پشت کو مسکراتی نظروں سے دیکھتی رہی پھر اچانک تیزی سے اس کے پیچھے بھاگی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close