Hijaab Feb-16

آغوش مادر

سمیہ عثمان

ہر کوئی ایک ہی بات ہمیشہ لکھتا ہے کہ ماں کے بارے میں کیا لکھیں لیکن جب میں نے قلم اٹھایا تو میرے احساسات کچھ الگ تو نہیں مگر تھوڑے مختلف ضرور تھے کیوں کہ میں اس ہستی کے بارے میں لکھنے لگی ہوں جس سے میں نے دنیا میں آنے کے بعد صرف محبت پائی ہے بے لوث و بے غرض محبت‘ پاکیزہ محبت‘ انمول محبت‘ ایسی محبت جس کے لیے الفاظ نہیں یا اگر یوں کہوں کہ قلم کو لگام دے کر لکھ رہی ہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ نجانے کون سی بات انہیں ناگوار گزر جائے اور وہ مجھ سے خفا ہوجائیں گوکہ ناراض ہوکر وہ زیادہ کچھ نہیں کہتیں بس خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور ان کی طرف سے ہمارے لیے یہ سزا بہت بڑی ہے۔
ایسی سزا جس میں مما کو منانے کے لیے ہمیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھنی پڑتی ہے اور ایسے میں پاپا ہماری مدد کرنے سے صاف انکاری ہوجاتے بلکہ الٹا وہ مما کی سائیڈ لیتے کہ آپ لوگوں کی غلطی ہے آپ سب مل کر انہیں تنگ کرتے ہو۔ میں نے پاپا کو بھی مما سے ناراض ہوتے کم ہی دیکھا کیونکہ مما ضد‘ بحث یا شور شرابا نہیں کرتی تھیں بلکہ جہاں کوئی بات انہیں ناگوار گزرتی وہ خاموش ہوجاتی تھیں وہ چاہے ہم ہوں یا پاپا۔
میری پیدائش کراچی کی ہے لیکن تعلیم ملتان سے حاصل کی‘ مما کی شادی ملتان میں ہوئی اور غم روزگار پاپا کو کراچی لے آیا تھا لیکن میری پیدائش پر واپس ملتان شفٹ ہوگئے ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ بھائی سب سے چھوٹا ہے اور میں دوسرے نمبر پر ہوں یوں تو میں زیادہ اپنے پاپا سے اٹیچ رہی اپنی ہر بات بلا جھجک کہہ دیا کرتی جبکہ مما کے مقابلے میں پاپا زیادہ غصہ ور تھے۔
میں پڑھائی میں کیونکہ اچھی تھی اور شکل و صورت میں بھی پاپا سے ملتی تھی پر گئی اس لیے ان کے قریب آگئی۔ پاپا کی خواہش تھی کہ میں میڈیکل میں جائوں اور ان کی خواہش دیکھتے ہوئے میں نے کوشش بھی کی لیکن آگے میری قسمت کہ میتھس میں نمبر اچھے آگئے گوکہ دلچسپی تھی میری اس لیے مما نے بھی وہی سبجیکٹ لینے کے لیے کہا جس میں میری دلچسپی زیادہ تھی سو پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی اور بی ایس سی ڈبل میتھس اور فزکس کے ساتھ مما کی خواہش کے مطابق اپنے تعلیمی مراحل مکمل کیے۔
میں نے اپنی مما کو محنت کرتے دیکھا وہ ایک گھریلو خاتون ہیں لیکن ہر انسان کی زندگی میں کرائسز آتے ہیں تب جہاں مما نے پاپا کا ساتھ دیا وہاں ہمارے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرنے لگیں‘ گھر کے حالات دیکھتے ہوئے مما سے ضد بھی کرتی جبکہ اب آکر احساس ہوتا ہے کہ میں نے غلط کیا جبکہ میرے باقی تینوں بہن بھائی صبر والے تھے۔ بڑی بہن مجھے سمجھانے کی کوشش بھی کرتیں لیکن نادانی کا وقت تھا اس لیے کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ اسی دوران میرے پاپا کو فالج کا اٹیک ہوا اور جیسے میری ضد میری خواہشات میں ٹھہرائو سا آگیا کیونکہ کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا کہ یہ سب بھی ہوسکتا ہے۔ وہ ہستی جس سے میں سب سے زیادہ محبت کرتی تھی بستر کے ہو کر رہ گئے تھے۔ میں نے خوفزدہ ہوکر اپنی توجہ پڑھائی کی طرف کرلی اور ساتھ ہی اسکول میں جاب کے ساتھ ٹیوشن پڑھانے لگی اور ساتھ ساتھ چھپ کر اپنی کتاب یا کبھی ڈائری میں کچھ لکھنے بھی لگی یوں ہی بے ترتیب… پھر لکھنے کا شوق ہوا تو اخبار میں کالم لکھے یہاں سے لکھنا شروع کیا بعد میں مما کو اپنی فرینڈ سے معلوم ہوا تو ناراض ہوئیں جبکہ پاپا خوش ہوئے اس کے بعد لکھنا ہی چھوڑ دیامما کی ناراضگی کی وجہ سے۔
میں اپنی مما کے بارے میں اور کیا بتائوں کہ انہوں نے مجھے تعلیم صرف دنیا کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے دلوائی‘ میری دونوں بہنوںکی شادی مجھ سے پہلے ہوئی۔ مجھے پڑھانے کا شوق تھا جو کہ مما نے پورا کیا‘ ہر جگہ مما میرے ساتھ رہیں اور میں ان کی محبت کو کب سمجھی جب خود ماں بننے کے مراحل سے گزری۔ پاپا کی ڈیتھ میری شادی سے چند ماہ پہلے ہی ہوگئی تھی۔ گو کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی تھی لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں خود کو اکیلا تصور کررہی تھی جب ہی مما نے میری فوراً شادی کردی تھی۔ ملتان سے بیاہ کر کراچی آگئی اور مما کی نصیحتیں فون کے ذریعے ملتی رہیں اور میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن اب آکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مما کی جو شروع میں مجھ سے محبت تھی اس میں ٹھہرائو آگیا ہے۔ میرے ساتھ ساتھ جو مما لگی رہتی تھیں مجھے کچھ بنانے اور کسی مقام تک پہنچانے کے لیے وہ بات اب نہیں رہی یا شاید اولاد اور لکھنے کی مصروفیات کی وجہ سے میں خود ان سے دور ہوگئی یا پھر میں نے بہت بعد میں ان کی محبت کو سمجھایا شاید اب بھی نہیں سمجھا۔ مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں اپنی محبت کا سرا بیٹیوں کے ہاتھ میں نہیں تھماتیں اگر میری ماں مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کردیں تو میں تو مغرور ہوجائوں۔ میں نے بھی ابھی تک انہیں نہیں بتایا کہ میں ان سے بے حساب و بے لوث محبت کرتی ہوں اور اب آپ سب کے سامنے اعتراف بھی کررہی ہوں۔ مما مجھے بہت محبت ہے آپ سے‘ آپ کے لیے میرے یہ لفظ بہت چھوٹے ہیں کیونکہ جو قربانی آپ نے میرے لیے دی اس کا بدلہ میں مر کر بھی ادا نہیں کرسکتی۔
کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ محبت و رشتوں کا احساس بڑھ جاتا ہے ‘ اسی لیے مجھے ماں بننے کے بعد ہی حقیقت میں معلوم ہوا کہ جو لفظ بولنے میں آسان اور اپنے اندر چاشنی لیے ہوئے ہے اسے کس قدر مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے اور ہم ماں کے دکھ درد کو سمجھنے کے بجائے اسے ہی سمجھانے لگتے ہیں۔ مما میں نے آپ کے کہنے کے مطابق پھر سے قلم سے دوستی کرلی ہے اور اب ایک بار پھر لکھنے لگی ہوں مختلف جرائد و رسائل میں میری تحریر لگ رہی ہیں۔ گو کہ ابھی زیادہ تنقید مل رہی ہے لیکن آپ کی دعائیں ہیں ناں میرے ساتھ اس لیے ڈر نہیں ہے بلکہ ہمت و محنت سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہوں۔
میں نے کبھی اپنی مما سے باتیں شیئر نہیں کیں‘ مما خود سمجھ جاتی تھیں جبکہ پاپا کے ساتھ گھنٹوں کے حساب سے باتیں کرنے کے باوجود کہیں تشنگی رہی پتا نہیں ایسا کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے شاید وہ اب ہمارے درمیان نہیں اس لیے یا پھر محبت زیادہ تھی۔ پاپا کے جانے کے بعد مما نے ہمارے ساتھ خود کو جس طفح سنبھالا میں حیران رہی پھر حالات کا مقابلہ تو وہ پہلے ہی کررہی تھیں لیکن اب ماں کے ساتھ وہ باپ کی طرح ہمارے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ زندگی اب ہمارے سامنے نئے مسائل اور نئے انداز کے ساتھ کھڑی تھی ایسے میں چھوٹے بھائی کی تعلیم بھی مما نے ہی تقریباً مکمل کروائی تھی اب تو دو سال سے ماشاء اللہ وہ جاب کررہا ہے اور اپنی ذمہ داری نبھارہا ہے۔ اس میں ہماری مما کا ہی کمال ہے دور رہتے ہوئے ہم سب بہنوں میں آپس میں رابطہ کا ذریعہ مما ہی بنتی ہیں۔ کسی بھی بیٹی کے گھر ہوں اپنے موبائل سے ہم بہنوں کی بات ضرور کرواتی ہیں۔ شادی کے بعد مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ہم بہنیں آپس میں رابطہ نہیں کرپاتی ہیں اس لیے مما یہ کام بخوبی انجام دیتی ہیں۔
بچپن میں‘میں بہت شرارتی ہوا کرتی تھی مما کے سوتے ہی ہمسایوں کے گھر کے آم کے درخت سے گرمیوں کی دوپہر میں اپنے کزن کے ساتھ مل کر کچے آم توڑ کر کھاتی اور اگلے دن اسکول کے لیے بھی سنبھال کر رکھتی تھی بس ایک دفعہ اس درخت سے گر کر سر پر چوٹ لگ گئی پھر کیا تھا وہ پہلا موقع تھا جب مما نے بہت پٹائی لگائی‘ کچے آم توڑنے پر نہیں بلکہ درخت سے گرنے کی وجہ سے۔ شرارت پر کبھی نہ ڈانٹا کیونکہ مما کہتی تھیں شرارت وہی کرتا ہے جو ذہین ہو۔ شرارت پر روک ٹوک کرنے سے ذہانت متاثر ہوگی اور بچہ پڑھائی میں کمزور ہوجائے گا‘ میں اکثر و بیشتر پاپا کے لائے ہوئے نئے پین اٹھا لیا کرتی تھی کیونکہ مجھے خوب صورت لکھائی کا بہت شوق تھا۔ پاپا کو جب بھی پین کی ضرورت پڑتی اور نہ ملتا تو وہ مما سے یہی کہتے کہ یقینا سمیہ نے اٹھایا ہوگا۔
مما نے کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ان کی زیادہ تر امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں۔ مجھے مما نے کبھی گھر کا کام نہیں کرنے دیا‘ صرف اس وجہ سے کہ کہیں پڑھائی متاثر نہ ہوجائے اور ویسے بھی مجھے گھر کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں مگر شادی کے بعد مجبوراً کرنا پڑا یا شاید ضرورتاً کیونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہے لیکن سب کھانا اپنا الگ بناتے ہیں‘ کھاتے سب ساتھ ہی ہیں تو شروع میں بہت مشکل پیش آئی اور مما کو فون کرکے کھانا بنانے کی ترکیب پوچھتی اورمما بہت آسان سی ترکیب بتاتیں۔ ساتھ یہ بھی کہتیں کہ کرو گی نہیں تو آئے گا کہاں سے۔
پچھلے سال گرمیوں میں ملتان گئی تب مما کو بتایا کہ اب مجھے حلیم‘ نہاری‘ بریانی‘ شامی کباب‘ پائے یہ سب بھی بنانا آتا ہے تو بڑی بہن کہنے لگی ’’جس نے کبھی کچن نہیں دیکھا تھا وہ آج یہ سب بنارہی ہے۔‘‘ سسرال میں نمبر تو بنانے ہی تھے اس لیے بہت جلد ہی کچن سنبھال لیا تھا گوکہ میں اپنی خالہ کے گھر بیاہ کر آئی ہوں‘ خالہ میری آپ سب کی ہر دلعزیز مصنفہ ہیں آپ سب جانتے ہی ہیں نگہت عبد اللہ۔ لکھنے میں بہت حد تک مدد مل جاتی ہے اور ساتھ نئے موضوعات بھی۔
ویسے تو ماں کے حوالے سے بہت شعرا نے بہت خوب اور بہت کچھ لکھا لیکن مجھے نزہت جبین کی ماں کے حوالے سے لکھی گئی یہ نظم بے حد پسند ہے۔
ماں کے بارے میں کیا لکھوں‘ یہ کہاں اوقات میری
بڑی مشکل سے قلم آج اٹھایا میں نے
ہم کو تحفہ زمین پر ملا ’’ماں‘‘ کی صورت
تحفہ انمول میرے رب سے یہ پایا میں نے
اس کے آگے جو کبھی سر کو جھکایا میں نے
اس کے قدموں ہی میں جنت کو پایا میں نے
گردش ایام سے گھبرا کے کبھی جو بیٹھی
اس کے لفظوں سے نیا حوصلہ پایا میں نے
جب کبھی حوصلہ ٹوٹا‘ میں پریشان ہوئی
سکون اس کی ہی آغوش میں پایا میں نے
اس کا احسان ہے‘ ہاتھ جو تھاما میرا
تھام کر ہاتھ وہی‘ قدم پہلا اٹھایا میں نے
جب کبھی خواب میں گھبرائی‘ سہم کر جاگی
اس کی بانہوں میں پھر خود کو چھپایا میں نے
شکر ہے رب مجھ کو جو ملی ہے عزت
اس کی دعائوں کا ثمر آج یہ پایا میں نے
میں ہوں جب تک میرے رب میری ماں کو سلامت رکھنا
مزا جینے کااس کے ساتھ تو پایا میں نے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close