Hijaab Jan-16

سروے

ادارہ

آمنہ حبیب اختر… جہلم
2015ء میں بھی اک ایسی تبدیلی ہے جس نے میری ذات کو بدل کر رکھ دیا لیکن 2013ء میں میرے بابا جان کی وفات نے میری ذات کو آسمان سے زمین پر پٹخا… لیکن خیر اللہ تبارک و تعالیٰ جو کرتا ہے انسان کے اچھے کے لیے کرتا ہے۔
٭ اس سال تو کچھ خاص نہیں اور نہ ہی نوٹ کیا ایسا کوئی واقعہ ہاں جب پاپا تھے تب کی تو پوچھو ہی نہ ‘ جن واقعات کو آج بھی یاد کرکے مسکراتی ہوں بہت اچھا بچپن گزارا پاپا کے ساتھ‘ اللہ تبارک و تعالیٰ میرے بابا جان کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘ آمین۔
٭ جی… اپنے بابا جان کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جو اب ہر تہواروں پر محسوس ہوگی۔
٭آنچل کی رائٹرز نے ماشاء اللہ بہت مطمئن کیا کیونکہ ہر تحریر میں کوئی نہ کوئی سبق ضرور تھا اور میں نے ان تحریروں سے کافی سبق بھی حاصل کیا‘ جس طرح فرحین اظفر کی ہر تحریر میں کوئی نہ کوئی سبق ضرور ہوتا ہے۔
٭ ہاہاہا… اپنی جھلک… جی ہاں بہت!
٭ گزشتہ سال تو سب سے پہلے اسکول کی کتابیں‘ ہاہاہا… پھر اور بہت بہت ساری کتابیں‘ اسلام کی میٹھی میٹھی پیاری پیاری کتابیں جنہیں پڑھ کر دل کو بہت سکون ملا‘ ساتھ ہی آج کے مسلمانوں‘ انسانوں کے لیے دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سب کو صراط مستقیم پر چلائے‘ آمین۔ ان کے بعد بہت سے رائٹرز کے بہت سے ناولز پڑھے‘ عمیرہ احمد‘ نمرہ احمد‘ سارہ‘ فرحت اشتیاق کے توحد سے زیادہ۔
٭کیا سوال پوچھا… واہ! جب تھوڑی فضول خرچی کریں تو‘ ویسے جہاں تک میرا خیال ہے اتنی فضول خرچی تو ہونی چاہیے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ میری ان ضروریات میں گھر والوں کو فضول خرچی کیوں لگتی ہے‘ ہاہاہا۔
٭جی… اپنی ذات کو کہاں دیکھنا ہے بھلا؟ بس دیکھتی ہوں تو یہی کہ دوسروں کے کام آنا ہے‘ سب کا خیال رکھنا ہے اور بھی بہت کچھ… بس اپنے لیے میرے پاس کچھ خاص بات نہیں۔
٭ بہت گہرا سوال پوچھ لیا… لمحہ کوئی کیا بتائوں میرے رب نے بچپن سے لے کر آج تک جو میں نے مانگا مجھے دیا‘ جس سے پناہ چاہی دی۔ تو کیا میرا فرص نہیں کہ جو رب میری ہر دعا قبول کرتا ہے اس کی ہر بات مانوں؟ بس اپنے رب سے محبت اور اپنے رب سے قریب ہونا سب اس کی محبت کا نتیجہ اور اسی کی وجہ سے ہے۔
سمیہ کنول… بھیر کنڈ‘ مانسہرہ
٭ 2015ء میں اپنی ذات میں رونما ہونے والی تبدیلی جو میں نے اور دوسروں نے بھی بہت محسوس کی کہ میں بہت سنجیدہ ہوگئی ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں سوچنے بیٹھ جاتی ہوں‘ بہت زیادہ حساس ہوں۔ مذاق میں کی گئی باتوں کا بھی برا مان جاتی ہوں اگر مجھے کوئی بُرا کہے تو اپنے آپ سے روٹھ جاتی ہوں۔
حساس دلوں کو توڑنے کے لیے ضرورت نہیں پتھروں کی
یہ دل تو بکھر جاتے ہیں لفظوں کی چوٹ سے
٭بہت سے ایسے واقعے ہیں جنہیں یاد کرکے مسکراتی ہوں لیکن جو سب سے زیادہ بیسٹ ہے وہ میرا کان پکڑ کر کالج کے گیٹ تک آنے کا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ بریک ٹائم میں اپنی کالج فرینڈ ایمن عروسہ کے ساتھ باہر گرائونڈ میں آگئی‘ ہم لوگوں نے گپ شپ کی بریک کے بعد میں جیسے ہی کلاس میں انٹر ہوئی‘ خدیجہ نے مجھے اتنا برا بھلا کہاکہ مجھے چھوڑ کر کیوں گئی تھیں؟‘‘ ناراض ہوگئی‘ بہت منایا پر نہ جی‘ چھٹی کے ٹائم کلاس سے لے کر کالج کے گیٹ تک کان پکڑے تب جاکر وہ مانی‘ سارے کالج نے تماشہ دیکھا اور ہم پاگلوں کی طرح ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔
٭ تہوار چاہے جو بھی ہو دور جانے والے شدت سے یاد آتے ہیں۔ مجھے ہر تہوار ہر وقت جو سب سے زیادہ یاد آتے ہیں وہ میرے بابا جی (دادا) ہیں۔ عید پر سب سے پہلے ان سے عیدی لیتے ان سے ملتے اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ان کی کمی بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
آئی مس یو آل ٹائم۔
٭آنچل کی رائٹرز نے کافی حد تک مطمئن کیا ہر کہانی زبردست تھی۔ آنچل کی ہر تحریر ہی سبق آموز ہوتی ہے اگر اس سے کوئی سبق حاصل کرنا چاہے تو میں نے تو یہ سبق حاصل کیا کہ چاہے لڑکیوں پر ہزاروں مصیبتیں آئیں انہیں ثابت قد م رہنا ہے۔ ہر حال میں اپنی عزت و وقار کا خیال رکھنا ہے ہر کسی پر اعتبار کرنا اور سب سے بڑی بات کہ تعلیم ضرور حاصل کرنی ہے تاکہ اگر کوئی مشکل آئے تو وہ اسے اپنی تعلیمی قابلیت کی بناء پر حل کریں۔
٭ پرانے ڈائجسٹ دوسروں کو دے دیتی ہوں پڑھنے کے لیے جمع نہیں کرتی اور مجھے کہانیاں بھی یاد نہیں رہتیں سوائے چند ایک کے۔ اپنی جھلک ان کہانیوں میں نظر آتی ہے جن کی ہیروئن اچھلتی کودتی‘ شرارتیں کرتی‘ دوسروں کا منہ چراتی اور کھیلتی رہتی ہیں۔ میں بھی ویسی ہی تھی اب کچھ سنجیدہ ہوگئی ہوں۔
٭ میرے پاس بہت سی کتابیں تونہیں ہوتیں لیکن پڑھتی میں سب کچھ ہوں‘ چاہے اخبار کا ٹکڑا ہو یا سلیبس کی کتاب یا کہانیوں کی کتاب ‘چھوڑتی کچھ نہیں۔ اخبار جہاں‘ آنچل ‘ کرن‘ شعاع‘ خواتین ڈائجسٹ‘ نونہال‘ تعلیم و تربیت‘ بچوں کا اسلام‘ خواتین کا اسلام‘ حنا یہ ساری کتابیں میں پڑھتی رہی ہوں اور سب سے اچھی اور سچی کتاب قرآن مجید۔
٭میری امی مجھے زیادہ سستی کی وجہ سے ڈانٹتی ہیں اور زیادہ اچھل کود کی وجہ سے۔ تعریفی کلمات کبھی کبھی سننے کو ملتے ہیں‘ کوکنگ اچھی کرتی ہوں اور اگر کوئی اچھا کام نہ کروں تو پھر زیادہ تنقید ہی ہوتی ہے۔
مجھے اتنی پروا نہیں ہوتی کہ کب نیا سال شروع ہوگا نہ تو مجھے سال کے آغاز کا پتا ہوتا ہے نہ اختتام کا۔ دوستوں کے میسجز سے پتا چلتا ہے کہ نیا سال شروع ہوا اور ختم ہوا۔
٭ہر اس لمحے میں اپنے رب کے قریب ہوتی ہوں جب میں دکھی ہوتی ہوں اداس ہوتی ہوں اور جب میں دعا کرتی ہوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے‘سن رہا ہے وہ میری التجائیں‘ میری دعائیں۔
شازیہ اختر شازی… نور پور
٭ ویسے تو ہر انسان میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں لیکن کچھ تبدیلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو میں ہر وقت جو وقت ہنسی مذاق اور کھیل کود میں گزارتی تھی لیکن امی کی بیماری اور آپی کی شادی کے بعد کچھ اس طرح ذمہ داریوں میں گھری کہ اپنا آپ بھول گئی بس یاد رہا اتنا کہ ابو اور بھائیوںکو کوئی کمی محسوس نہ ہو اور کچھ لوگوں کے رویوں نے اور حالات نے وقت سے پہلے ہی سمجھ دار بنادیا تھا۔ کبھی کبھی میں خود حیران رہ جاتی ہوں کہ میں واقعی اتنی بہادر ہوں کہ حالات کا مقابلہ خوش دلی سے کررہی ہوں۔ میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں‘ اتنا ہی کم ہے کہ اب تک جو حالات سے لڑرہی ہوں تو یہ اللہ کی طرف سے دیا ہوا حوصلہ اور ہمت ہے جو میرے کام آیا۔
٭ کچھ خاص تو نہیں لیکن کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو تنہائی میں یاد آئیں تو لب اپنے آپ ہی مسکرا اٹھتے ہیں کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جب یاد کرتی ہوں تو اکثر مسکرادیتی ہوں۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک رات کو میں اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی کہ ایک چوہیا میرے بستر میں گھس آئی‘ میں گہری نیند میں تھی جب وہ میرے ہاتھ پر چڑھی تو میں ڈر کر جاگ گئی اور جلدی سے بستر سے اتر گئی۔ اب سوچ رہی تھی کہ اس کو کیسے ماروں ساتھ میں ڈر بھی لگ رہا تھا جب اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو جھاڑو اٹھائی چوہیا بھی ایسی تیز کہ کبھی بستر میں گھس جاتی اورکبھی کسی اور چیز پر چڑھ جاتی اور میں پورے کمرے میں جھاڑو اٹھا کر گھوم رہی تھی اور چوہیا بی بی چہرہ دکھا کر پھر غائب… چوہیا آگے آگے اور میں پیچھے پیچھے… آخرکار ایک ترکیب ذہن میں آئی کیوں نا تھوڑی سی روٹی ڈال دوں کیا پتا وہ اٹھانے آئے تو میں اسے ماردوں جب میں نے روٹی رکھی تو وہ روٹی اٹھانے آئی اور میں نے اوپر سے زور سے جھاڑو ماری اور چوہیا بی بی وہیں پر دم توڑ گئیں اور ہم نے ایسے ہاتھ جھاڑے جیسے بہت بڑا معرکہ سر انجام دیا ہو اور اپنا یہ کارنامہ سب کو بڑے فخر سے بتایا۔
٭ کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں لیکن سب سے زیادہ میں نے اپنی امی کی کمی کو بہت محسوس کیا جب باقی لڑکیوں کو اپنی مائوں کے ساتھ دیکھتی ہوں تو دل میں ایک خواہش ضرور جاگتی کہ کاش میری امی بھی میرے ساتھ بیٹھتیں‘ کھانا ہمارے ساتھ کھاتیں لیکن ایسا تب ہوتا جب میری امی کو اس بیماری سے نجات ملے۔ میری امی کو اور بیماری کوئی نہیں بس وہ سارا دن صحن میں گھومتی رہتی ہیں اور کسی سے بات نہیں کرتیں‘ میرے ساتھ بھی کبھی کبھی بات کرتی ہیں۔ نجانے ان کے اندر کون سی ٹینشن ہے جو اُن کو ہمارا بات کرنا یا ان سے بولنا انہیں اچھا نہیں لگتا۔ ان کا ذہنی توازن بالکل ٹھیک ٹھاک ہے بس وہ اپنے خول میں بند ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان سے کوئی ہم کلام نہ ہو اور ان سے کوئی بات نہ کرے لیکن میں جان بوجھ کر ان کو بولنے پر اکساتی ہوں تاکہ وہ ہمارے ساتھ گھل مل جائیں‘ جسے دو سال پہلے تھیں۔ بس سب بہنوں سے التجا ہے کہ وہ میری امی کے لیے دعا کریں کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں اور انہیں اس آنجانی بیماری سے نجات مل جائے۔بس اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے والدین کا سایہ تاقیامت ہمارے سروں پر قائم رکھے‘ آمین۔
٭ کسی ایک رائٹرز کی تعریف کرنا سراسر ناانصافی ہے کیونکہ ہر رائٹرز کی کہانی میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا ہے اور یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ کہانی کو کس انداز میں لیتا ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو میں یہ کہوں گی کہ میں نے جو کچھ بھی سیکھا ان کہانیوں سے ہی سیکھا۔ اللہ کے بعد ان رائٹرز کی وجہ سے میں نے ہر مشکل کام کا مقابلہ ہمت سے کیا اور میری شخصیت کو بنانے میں آنچل کا بہت ہاتھ ہے کیونکہ آج جو کچھ بھی ہوں اللہ کے بعد آنچل کی وجہ سے ہوں‘ میں آپ کو کیا بتائوںکہ میں نے آنچل سے وہ سیکھا جو مائیں اپنی بیٹیوں کو سکھاتی ہیں میں سب رائٹرز کی شکر گزار ہوں کہ وہ اتنا اچھا لکھتی ہیں۔
٭بہت سی رائٹرز ایسی ہیں جن کی تحریر میں مجھے محسوس ہوا جیسا کہ یہ کہانی انہوں نے میرے حالات پر لکھی ہے۔ اور بہت سے ایسے جیتے جاگتے کردار میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں‘ اپنے اردگرد جیسے انہی پر یہ کہانی لکھی گئی ہے۔
٭ ویسے تو میں ٹارزن اور عمر و عیار سے لے کر عمران سیریز تک پڑھتی ہوں بلکہ ہر قسم کا رسالہ چاٹا بچوں کا ہو چاہے ناول چاہے ڈائجسٹ جب تک مکمل چاٹ نہ لوں سکون نہیں ملتا لیکن اس سال بہت سے ناول پڑھنے کو ملے کیونکہ بھائی نے اپنی مارکیٹ بنائی ہے اس سال تو پھر مزے ہی مزے۔ ناول تو بہت سے پڑھے ہیں لیکن کچھ کے نام لکھورہی ہوں۔ ’’پیر کاملؐ، شیشے کا گھر اور پتھر کے لوگ‘ پیاسے آنسو‘ ساڈا چیڑیا دن چمبا اے‘ لاحاصل‘ یہ چاہتیں یہ شدتیں‘ محبت یقین اعتماد‘ جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘ زرد پتوں کا شجر‘ بچپن کا دسمبر… بس بہت ہیں باقی پھر کبھی بتائوں گی کیونکہ ساتھ ساتھ پیپر کی تیاری چل رہی تھی ایسا نہ ہو کہ فیل ہوجائوں اور مار پڑے‘ ہاہاہا۔
٭ (ناں جی ناں) گھر والے کیونکہ بہت پیار کرتے ہیں تو تنقید کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر کوئی بھائی جان بوجھ کر کچھ کہہ بھی دے تو (میرے ابو زندہ باد)۔ تعریف تو ہر کام پر ہوتی ہے کیونکہ ماہ بدولت کافی سگھڑ واقع ہوئی ہیں کیونکہ کافی چھوٹی عمر میں تمام کام سنبھال لیے تھے تو ہر کام میں ماہر ہیں۔ کھانا پکانے سے لے کر کھانا کھانے تک اور جھاڑو پونچھا بھی کافی اچھی طرح کرلیتی ہوں۔ اپنے ابو کی شہزادی اور بھائیوں کی لاڈلی ہوں تو پھر کہاں کی تنقید لیکن ایک جملہ جو مجھے آج تک نہیں بھول سکا جو کسی نے کہا تھا کہ تم مستقبل میں ہمیشہ کامیاب رہو گی کیونکہ غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی تم معافی مانگ لیتی ہو)۔
٭ہم تو یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اس سال میں کیا کھویا اور کیا پایا اور گزرے ہوئے سال میں کتنی نیکیاں کیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ہماری وجہ سے کسی کا دل تو نہیں دکھا کیونکہ کسی کی بد دعا سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اپنی ذات کے بارے میں کہیں تو کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہوتی ہیں‘ ہم سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی کا ایک سال اور ختم ہوگیا اور اس سال میں نے اپنے رب کو کتنا راضی رکھا‘ کبھی کبھی تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں پر کھڑے ہیں‘ اللہ ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق دے‘ آمین۔
٭ (کوئی ایک لمحہ) بلکہ کئی ایسے لمحے آئے کہ میں بہت بہادر ہوتے ہوئے بھی ہمت ہار جاتی تھی بلکہ دل کھول کر روتی بھی تھی‘ خصوصاً جب امی بیمار ہوئیں تو کچھ اپنوں کے رویوں نے بہت دکھی کردیا تھا۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں ایک طرف امی بیمار ہوگئی تھیں اور آپی کی شادی ہوگئی تھی پھر ایک دن نماز پڑھتے پڑھتے میں اتنا روئی کہ سجدے کی جگہ آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ اس دن اور آج کا دن میں نے ہمت نہیں ہاری‘ اللہ نے مجھے اتنا سکون اور برداشت سے نوازا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتی۔ آج وہی لوگ میرا دم بھرتے ہیں جنہوں نے اپنے رویوں سے مجھے بہت دکھی کیا تھا آخر میں آپ سب کو نیا سال بہت بہت مبارک ہو‘ اللہ آپ کو نئے سال کی وہ خوشیاں نصیب کرے جس کی تمنا آپ کے دل نے کی ہو ‘ فی امان اللہ‘ اللہ حافظ۔
صوبیہ شاہین
٭ میری ایک بہت پیاری سہیلی نازیہ جس کا میرے ساتھ ہر وقت کا ساتھ تھا، وہ اپنے والد کی جاب کی وجہ سے دبئی چلی گئی، مجھے اس کے جانے کا اتنا صدمہ ہوا کہ بھوک پیاس ہی اڑ گئی۔ میری ہنسی مذاق لگتا ہے کہ نازیہ اپنے ساتھ لے گئی۔
٭ میری منگنی ہوئی ہے اس سال… بس اس دن بہت بارش بھی ہوئی، منگیتر علی رانا ایسے بھیگتے ہوئے آئے کہ ساری سہیلیوں نے خوب ریکارڈ لگایا۔
٭ میری نانی جن کا انتقال 2015 فروری میں ہوا ان کو بقرعید پر بہت یاد کیا۔
٭ جی، مجھے لگتا ہے آنچل دن بہ دن نکھر کر سامنے آرہا ہے، یہاں لکھنے والی بہت ساری رائٹرز ایسی ہیں جن کی کہانیوں میں سبق ہوتا ہے‘ سچائی کا‘ ایمانداری کا‘ فرض شناسی کا۔ میں سباس گل‘ سمیرا‘ فاخرہ گل اور صدف آصف کی تعریف کرنا چاہوں گی ۔
٭ مجھے کسی ایک کہانی میں نہیںبہت ساری کہانیوں میں اپنی جھلک دکھائی دی،کبھی میں نازیہ کی کہانی کی ہیروئن بن جاتی ہوں، کبھی خود کو سباس کے کرداروں میں دیکھتی ہوں، ایک بار تو صدف آصف کے افسانے زبان دراز کی ہیروئن بھی بن گئی تھی۔
٭ عمیرہ احمد کی ’’پیر کامل‘‘ اور نمرہ کی ’’جنت کے پتے‘‘ دوبارہ پڑھی۔
٭ میں بہت منہ پھٹ ہوں تو اکثر زبان دراز کا خطاب مل جاتا ہے۔ کھانا بہت اچھا پکاتی ہوں اس پر تعریف ہوتی ہے۔
٭ میں اللہ کی شکرگزار بندی بننا چاہتی ہوں، اس سے معافی کی طلب گار ہوں۔
٭ مجھے تو اپنی زندگی کا گزرتا ہوا ہر ہر لمحہ اس کے نزدیک کرتا ہے۔
کوثر ناز… حیدر آباد
٭ میں بہت زیادہ نہیں بدلی ہوں مگر پھر بھی اس سال بہت سی کامیابیاں ملی اور تھوڑی تھوڑی اللہ کے قریب ہوگئی ہوں اب صرف نماز کا فرض ادا نہیں کرتی بلکہ ہر چیز کو بہت محسوس بھی کرنے لگی ہوں۔ غلطیاں کرنے سے ڈرنے لگی ہوں‘ دل آزاری کبھی نہیں کر سکتی غلطی کسی کی بھی ہو معاف کرنا آگیا ہے‘ کوئی بہت بڑی تبدیلی میرے اندر نہیں آئی ہے۔
٭ اس سال ایسا بہت کچھ ہوا کہ میں بہت خوش ہوئی‘ ممی بابا عمرے سے آئے تو مجھے وہ گفٹ کیا جس کی شدت سے خواہش تھی پھر مارچ میں میرا افسانہ آنچل میں لگا تو خوشی لفظوں میں بیان ہونے والی نہیں اس کے بعد دوسرا افسانہ منتخب ہوا پھر کچھ مہینے گزرے اور نئی کامیابیاں ملی فیس بک پر آنچل اور آنچل سے ریلیٹڈ پیجز پر مقابلوں کی ونر رہی شاید دو مقابلے تھے جن میں نہ جیت سکی باقی بہت سے مقابلے اپنے نام کیے (الحمد للہ) اور وہ سلسلہ بدستور جاری ہے‘ اس کے علاوہ اکتوبر میں میری ننھی سی پری ( بھائی کی بیٹی) نے ہمارے گھر میں آکر رونق بخشی وہ خوشی بھی بیان سے باہر ہے جس کا نام میں نے مانیہا رکھا سو یہ سال خوشیوں سے بھرا رہا ( الحمدللہ)۔
٭ اس بار آپی نہیں آئی تھی عیدالضحیٰ پر ورنہ شادی کے بعد وہ ہر عید پر ہمارے گھر ہوتی ہیں جبکہ بڑی آپی بھی آئی تھیں بس انہیں مس کیا۔
٭ بہت حد تک مطمئن ہوں‘ آنچل میں چھپنے والی تحریروں سے لیکن بیچ میں کچھ بور بور کہانیاں تھیں مگر اب پھر سے دلچسپ کہانیاں آنے لگی ہیں ویسے ٹھیک ہی تھا کہ کچھ حقیقت بھی لکھنی چاہئے ناں اور سبق تو مل جائے ہم وہی لے لیتے ہیں ویسے ایک کریڈٹ یہ تو ضرور دوں گی کہ آنچل والوں نے صبر کرنا سیکھا دیا ہے ( ہاہاہاہا) وہ کس سینس میں یہ آپ لوگ اخذ کر لیں۔
٭ اچھا ایسا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا کہ مجھے کسی میں اپنی جھلک نظر آئی ہو شاید ایسا اس لیے ہے کہ میں واقعی میں مختلف ہوں ( خوش فہمی ہی رہنے دیں)۔
٭ قرآن پاک کے علاوہ کتابیں بدلتی رہتی ہیں سو وہی زیرِ مطالعہ رہی۔
٭ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا یقین کریں میں جب بھی امی کو کہتی ہوں کہ امی سر میں درد ہے یا کہیں اور بھی تو امی کہتی ہیں ہاں یہ سب کتابوں میں گھسے رہنے کا نتیجہ ہے۔ لو جی موردِالزام میری کتابیں (افسردہ ہوں شرارت والی) خیر میں کہتی ہوں میں فارغ نہیں بیٹھ سکتی اور اماں کہتی ہیں آنکھیں گنواؤں گی بیٹا! آپ اپنی اور میں کہتی ہوں اچھا امی اب سے کم کروں گی مگر لت چھوٹتی کب ہے (ہاہاہا) اور تعریف اسی بات پر کہ بہت خوش اخلاق ہے کتنی معصوم ہے ( یہ ساری باتیں باہر والے کہتے ہیں ہاہاہا۔ گھر والے میری نماز اور ٹیلنٹ کی تعریف کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی ہے یار! یاد نہیں آرہی ہیں اور بھی بہت کچھ ابھی بس کرتی ہوں مجھے شرم آرہی ہے (ہاہاہا)۔
٭ بالکل سوچتی ہوں کہ کیا… کیا رہ گیا‘ کیا کرنا ہے آگے اگر زندگی نے مہلت دی تو اور اپنی ذات کو الحمدللہ گذشتہ سال سے ایک اور اس بار غالباً دو قدم آگے دیکھتی ہوں (الحمد للہ)۔
٭ ایسا کوئی خاص لمحہ نہیں آیا ہاں بس خود کو خدا کے مزید نزدیک پاتی ہوں اور عمل دخل پوشیدہ نظر نہیں آتا ہے باقی خدا کی حکمت عملی کو اس سے بہتر ہم نہیں جان سکتے۔
نئے سال کی بہت بہت مبارک باد‘ خدا تعالیٰ ہم سب کی جائز دعائیں قبول فرمائے اور وطن عزیز کو ہر ناگہانی آفت سے محروم رکھے آمین ثم آمین۔
ماہم علی… اٹک
سب سے پہلے آپ سب کو نئے سال کی مبارک ہو۔ دعا ہے آپ کو اس سال بھی بے پناہ خوشیاں ملیں‘ آمین۔
٭ پہلے میں کافی منہ پھٹ تھی اور کافی بے صبری بھی۔ پچھلے سال الحمد للہ یہ بہت بڑی تبدیلی مجھ میں آئی ہے کہ میں ضبط کرنا سیکھ گئی ہوں اور بلاوجہ ہر کسی سے الجھنا چھوڑ دیا۔
٭ دوستو کے ساتھ ہر وہ پل جو گزرا وہ یاد کر کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ پچھلے سال کزن کی شادی تھی جنوری میں تو بارش بھی زور شور سے برس رہی تھی۔ میں نے وہاں خوب مزے کئے۔ سردی کے باوجود بارش میں بھیگی پھر اس سے اگلے دن پنڈی خالہ کے گھر جانا ہوا وہاں بھی بے حد اچھا وقت گزرا۔
٭ جو بھی تہوار ہو چاہے شادی ہو یا عید مجھے فرینڈز بہت یاد آتی ہیںجن سے کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔
٭ ما شا اللہ آنچل کی سب لکھاری ہی اچھا لکھ رہی ہیں۔ رہی بات مطمئن ہونے کی تو وہ میں ان سب سے ہوں۔ میں نے ان سب کی لکھی تحریروں سے کافی حد تک سیکھا۔ رشتوں کو سمجھنا اور ان کا احترام یہیں سے میں نے سیکھا۔
٭ ہاہاہا مجھے تو ساری ہیروئن ہی اپنی طرح لگتی ہیں سچ کہہ رہی ہوں۔ ویسے سمیرا آپی کی انا مجھ جیسی ہے یا میں اس کی طرح ہوں۔
٭ ویسے میں زیادہ تر ڈائجسٹ ہی پڑھتی ہوں۔ باقی جو کتاب مل جائے اسے بھی رٹ لیتی ہوں۔ کرشن چندر کے افسانوں پر مبنی ایک کتاب پڑھی۔ پرانے رائٹرز کو پڑھ کے عجیب سی خوشی ملتی ہے۔
٭ ہاہاہا… اف کیا پوچھ لیا۔ تنقید تو ہر وقت ہوتی ہے مجھ غریب پر۔ زیادہ سیل فون کے استعمال پر ہوتی ہے بلکہ سارا دن وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے اور تعریفی کلمات بہت کم سننے کو ملتے ہیں کیوں کہ یہ موبائل میری تعریف کھا جاتا ہے۔ میری راز داری کی پکی عادت ہے اس وجہ سے گھر میں سب سرہاتے ہیں کہ میں کبھی کسی کی بات دوسرے کو نہیں بتاتی۔
٭ ہر سال کے آخر اور نئے سال کے شروع میں دل بہت اداس ہوتا ہے کہ یہ سال بھی یوں ہی گزر گیا بنا کچھ بہتر کیے۔ پورے سال کا سوچتی ہوں کیا اچھا کیا‘ کیا نہیں۔ اللہ سے اچھے کی امید رکھنی چاہے ان شا اللہ میں خود کو بہت بلندی کی جانب گامزن دیکھتی ہوں۔
٭ بندہ ناچیز کی ہر وقت کوشش ہوتی ہے اپنے خدا کے قریب ہونے کی۔ اپنوں کی دوری کے خوف سے میں اللہ سے بہت قریب آ جاتی ہوں۔ مجھے رشتوں کے کھونے سے بہت خوف آتا ہے۔
زینب ملک ندیم … گوجرانوالہ
٭ تبدیلیاں 2015 میرے لیے بہت سے نئے سبق سیکھنے والا سال رہا ایک اور دو بھی نہیں بہت سے ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے مجھے تبدیل کر دیا سب سے بڑا واقعہ تو میرے کالم نگار بننے کا رہا جس میں تبدیلی میری ذات میں یہ رونما ہوئی کہ میں نے چیزوں کو ذیادہ باریک بینی سے دیکھنا شروع کر دیا۔
٭ خوشگوار واقعہ ہاں اسلام آباد ٹرپ کے دوران بے حد مزا آیا تھوڑی مستی شرارتوں نے دن کو ہمیشہ یاد رہ جانے والا بنا دیا اور اس سال نے مجھے بہت اچھی رفعت، انعم، زینب، فزا، شزا، کشف، عالیہ، ہادیہ، عنادل، رخسانہ، مصباح، زرتاشہ، علینہ، فائزہ اور ہمارے پی کے گروپ کے بے حد اچھے دوست دیئے جن سے مل کے لگا کے ہاں احساس کے رشتے زیادہ خوب صورت ہیں اور بہت سی عزیز رائٹرز کا ساتھ جن میں نادیہ احمد کنول خان سحرش ان سب کا ساتھ ایک بے حد خوشگوار واقعہ ہی تو ہے ۔
٭ ماموں جان کی کمی بے حد شدت سے محسوس ہوئی کوئی ایسا شخص جو چلتا پھرتا دور چلا جائے کبھی واپس نہ آئے بہت یاد آتا ہے۔
٭ آنچل کی ہر رائٹر اللہ پاک کے کرم سے بہت اچھا لکھتی ہیں ہر تحریر سبق آموز ہوتی ہے دلوں کو چھو لینے والی اللہ تمام رائٹر کو بہت سی کامیابیاں دے‘ آمین۔
٭ مجھے تو ہر رائٹر کے کردار میں اپنی جھلک نظر آتی ہے چاہے نادان لڑکی ہو چاہے مضبوط چاہے سنجیدہ چاہے شوخ ہر کردار میں اپنی جھلک نظر آتی ہے ۔
٭ گزشتہ سال نصاب کی کتابیں ہی زیر مطالعہ رہی ہیں (ہاہاہا)
٭ مجھے زیادہ تر غصہ کرنے ہمیشہ خود کی مرضی کرنے اور ذیادہ چوٹیں کھانے پر ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس سال جتنی چوٹیں ہم نے کھائیں عالمی ریکارڈ تو قائم ہو گیا ہوگا۔ تعریفی کلمات اچھی غزل‘ نظم ‘کالم‘ آرٹیکل اور اچھی طالب علم ہونے پر ملے اللہ پاک کے کرم سے۔
٭ میں کبھی مستقبل کا نہیں سوچتی بس ہر فیصلہ اللہ کی پاک ذات پر چھوڑ دیتی ہوں بے شک اللہ جو کرتا ہے بے حد بہتر کرتا ہے۔
٭ ہاں بہت سے رشتوں نے بتایا کوئی اپنا نہیں ہوتا اور جب کوئی اپنا نہیں ہوتا تو اللہ ہوتا ہے اس سال رونما ہونے والے بڑے فیصلوں نے مجھ چھوٹی کو اللہ کے بے حد قریب کر دیا جو میری حیات کے لیے بے حد حسین زندگی ہے کیونکہ اللہ کی دی گئی زندگی بہت خوب صورت ہوتی ہے ماشااللہ سے۔
نامعلوم… ای میل
٭ 2015میں رونما ہونے والی تبدیلی‘ میں ماں کی بیٹی سے، بیٹی کی ماں بن گئی‘ یہ تبدیلی بہت خوشگوار رہی اور میری زندگی کو بدل کے رکھ دیا۔
٭ بہت سے واقعات ایسے ہیں جنہیں یاد کر کے لبوں پہ مسکراہٹ آجاتی ہے۔
٭ پچھلے اٹھارا سال سے ہر تہوار، ہر خوشی و غم میں میرے بابا کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اللہ پاک انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔
٭ بہت حد تک میں مطمئن ہوں‘ آنچل کی ہر کہانی ہی سبق آموز ہوتی ہے۔
٭ بہت سارے کرداروں میں کسی ایک میں نہیں۔
٭ ’’پیر کامل‘‘ اور بھی بہت ساری۔
٭ اپنی صحت کا خیال نا رکھنے پر امی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں‘ تعریفی کلمات تو بہت سی باتوں پہ سننے کو ملتے ہیں۔ اگر لکھوں گی تو اپنے منہ میاں مٹھو خود بن جائوں گی۔
٭ نئے سال کے آغاز و اختتام پر کیا میں ہر رات اپنا احتساب کرتی ہوں۔
٭ہاں جی صبیرا کی ولادت کا تھا وہ لمحہ،دور پہلے بھی اتنا نہیں تھی رب سے۔اس لمحے کے بعد اور قریب ہو گئی۔
صبا خان … ڈی جی خان
٭ ایسا کوئی خاص واقعہ تو نہیں مگر ملک کے حالات اور دہشت گردی نے دل کو بہت اداس کیا۔
٭ بہت سے ہیں۔
٭ اپنی امی کو جن سے اس بار بقرعید پر ملنے نہیں جاسکی۔
٭ آنچل میں لکھنے والی تقریباً تمام لکھاریوں کے افسانوں میں کچھ اچھا ہی ہوتا ہے۔ میں اقبال بانو‘ نگہت عبداللہ‘ سباس گل‘ فاخرہ گل اور صدف آصف کے لکھنے کے انداز کی تعریف کرنا چاہوں گی، ان کو پڑھ کر کچھ نہ کچھ اچھا احساس ملتا ہے ۔
٭ مجھے صدف آصف کے ناول ’’چاہت دھوپ چھائوں سی‘‘ کی رخشی میں اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے، بہت اچھا ناول تھا اور سباس کا ’’محبت دل کا سجدہ‘‘ میں رابیل کا کردار ۔
٭ شہاب نامہ اورہاشیم ندیم کو پڑھا ۔
٭ برائی تو دوسرے بتا سکتے ہیں۔ ہاں تعریف میں خود کرلوں میری شاعری کے ذوق پر دوستوں کی جانب سے بہت پذیرائی ملتی ہے۔
٭ میں اپنے پورے سال پر نگاہ ڈالوں گی اور غلطیوں کو سدھاروں گی۔
٭ میں ایک بار کافی بیمار پڑی، اس کے بعد احساس ہوا صحت کتنی بڑی نعمت ہے ۔
سحرش فاطمہ
سال در سال گزر جاتے ہیں اور ہم انسان پرانی یادوں میں اکثر کھو کر کبھی بے جا مسکرا جاتے ہیں تو کبھی آنسو چھلک پڑتے ہیں۔
٭ یہ سال کچھ کٹھن گزرا‘ زندگی کو بدلا تو نہیں پر ہاں کچھ فیصلے کرتے وقت اتنا ذہنی تناؤکا شکار رہی لیکن نجات اس پروردگار نے دی جس کی بدولت میں اس کی شکر گزار ہوں البتہ ذات پر کوئی خاص بدلاؤ نہیں آیا۔
٭ بہت سے مواقع آئے‘ اصل میں ہمیں خود پتا نہیں ہوتا اور پھر یاد کی وادی میں جب جاتے ہیں تو یاد آنے پر مسکرا اٹھتے ہیں ورنہ کہاں؟
٭ جب میری پہلی بھتیجی ہوئی جس کا نام امی پر رکھا گیا تو شدت سے ان کی یاد آئی اور یہی جب دوسری بھتیجی ہوئی تو مزید… میں اپنے گھر میں چھوٹی ہوں اور اب میرے بعد یہ دو لاڈلیاں آئی ہیں۔
٭ آنچل کی ہر رائٹرز مجھے عزیز ہے کیونکہ یہ سب حقیقت کے قریب تر لکھتی ہیں۔ سبق ہوتا ہے معاشرے کی اچھائی برائی کا پتا لگتا ہے۔
٭ فاخرہ گل کا لال جوڑا جو 2014ء میں آیا تھا لیکن اس کا ذکر میں اب بھی کروں گی کہ ہو بہو مجھ پر ہے بس۔
٭ عفت سحر آپی نے اپنی کتاب بھیجی تھی وہ پڑھی پورا دکھ آدھا چاند اور صائمہ اکرم کا گمشدہ جنت ویسے میں نیٹ پر ہی پڑھتی ہوں۔
٭تنقید ہوتی ہے لیکن وہ اصلاحی طرز کی ہوتی ہیں اور اگر تعریفی کلمات کی بات کی جائے تو جیسا کہ میں نے لکھنا شروع کیا ہے تو سب سے زیادہ ابو کو خوشی ہوئی اکثر وہ میری پوسٹ پڑھتے ہیں تو ذکر کرتے ہیں باقی گھر والے بھی۔ تنقید بے جا نہیں ہوتی گھر والے اصلاح ہی کرتے ہیں۔
٭ میں ہمیشہ خود کو ویسا ہی پاتی ہوں جیسی ہوں البتہ کبھی کبھار بدلاؤ آجاتا ہے جو میرے خیال سے سب میں آتا ہے اس کی اہم وجہ خود ہماری سوچ ہوتی ہے۔ اتار چڑھاؤ زندگی کے نشیب و فراز یہ سب ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ میں زیادہ تو نہیں کہوں گی لیکن کافی لوگ مجھ سے غلط رویہ اختیار کرجاتے ہیں جن پر کچھ عرصہ میں خاموش رہتی ہوں لیکن جب وہ پلٹ کر واپس آتے ہیں تو معاف کردیتی ہوں اور یہی میں دوسروں سے امید رکھتی ہوں‘ اپنے آپ کو غلط کہوں تو ایسے کہوں کہ واقعی غلطی تھی ورنہ نہیں۔
٭ رب کے قریب تو ہمیشہ ہم ہوتے ہیں‘ ہاں جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ میں کچھ فیصلوں میں ایسا گرفتار تھی جب کہ میرے اور اللہ کے درمیان بات چیت ہوچکی تھی لیکن شاید وہ میری آزمائش تھی میں نے صبر سے کام لیا اور ایسے اللہ نے مجھے نجات دی اس معاملے سے‘ اللہ اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔
صباء عیشل… بھاگووال فیصل آباد
٭ ایسا کوئی ایک واقعہ تو نہیں لیکن جو سب سے تکلیف دہ بات میرے لئے اس سال تھی وہ میرے جواں سال کزن وسیم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانا تھی۔ جو ان شخص کا ایک طویل عرصے کے لئے چل نا سکنا مجھ سمیت پوری فیملی کے لیے بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس بات نے مجھے اور بھی احساس دلایا کہ ہمارے پاس رب کائنات کی کتنی نعمتیں ہیں جن کا ہم شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد میں نے خود میں شکر کے وصف کو پہلے سے زیادہ پایا۔
٭ اہم واقعہ تو کوئی نہیں لیکن میری جب بھی اپنی بہت اچھی دوست آمنہ نسیم سے بات ہوتی ہے اس سے بات کرنے کے بعد ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ اکثر جب میں کسی وجہ سے اداس ہوتی ہوں تو وہ باتوں باتوں میں کوئی نہ کوئی ایسی بات لے آتی ہے جس سے میں ہنسنے پر مجبور ہوجاتی ہوں اور آمنہ کے ساتھ وابستہ بہت سے لمحات یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں جن کو سوچ کر بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔
٭ وقت چلتا رہتا ہے اور لوگ بچھڑتے جاتے ہیں۔ زندگی کی شاہراہ بہت بے رحم ہے‘ بہت سے ایسے لوگ جن کو ہم اپنا سب کچھ تو نہیں لیکن بہت کچھ سمجھتے ہیں۔ ہم سے بچھڑ جاتے ہیں یا اتنا دور ہو جاتے ہیں کہ پھر فاصلوں کو باٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسے بہت سے دوست ہیں جو دور ہوچکے ہیں لیکن سب سے زیادہ جس دوست کو میں نے ہر خوشی اور غم پر یاد کیا وہ ثانیہ عزیز ہے جس نے ثانیہ بشیر بن کر خود کو اتنا مصروف کرلیا کہ اسٹوڈنٹ لائف اور اس کے بعد کے کچھ سال (بارہ سال) پرانی دوستی کہیں دور اب یادوں میں بستی ہے۔
٭ ایک وقت تھا جب خواتین لکھاریوں پر بہت تنقید کی جاتی تھی لیکن اب ہماری خواتین رائٹرز ڈائجسٹ کے ساتھ ساتھ ڈرامہ انڈسٹری میں بھی اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ آنچل کی تمام ہی رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں باقاعدہ رائٹرز میں مجھے فاخرہ گل کا ’’لال جوڑا‘‘ نازیہ کنول نازی جو میری فیورٹ رائٹر ہیں ان کی تحریر ’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘‘ اور صدف آصف کی تحریر ’’مجھے رنگ دے‘‘ نے متاثر کیا ان تحاریر کے موضوعات ایسے تھے کہ رائٹرز کے نام کے ساتھ یاد رہ گئے۔ ہر تحریر خواہ اچھا اختتام ہو یا اداسی بھرا ہمیشہ کوئی نا کوئی سبق دے کر جاتی ہے اب یہ قاری کا کام ہے کہ کشید کیا کرتا ہے اچھائی یا برائی۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کہانی سے اچھا سبق ضرور سیکھوں اور اسے یاد بھی رکھوں۔
٭ صنف نازک میں سے ہونے کی وجہ سے شاید میں بھی اکثریت کی طرح خوابوں میں جینے کی عادی ہوں۔ اس لیے ہر کہانی میں ہیروئن کا کردار اپنا کردار لگتا ہے لیکن ’’مجھے رنگ دے‘‘ کی ہیروئن کا لیا دیا سا انداز بہت اچھا لگا۔ اس کردار کو پڑھ کرلگا جیسے کہیں کہیں حقیقت میں مجھ میں ایسی جھلک ہے۔
٭ بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو اس سال زیر مطالعہ رہیں ان میں زیادہ تر شاعری کی کتابیں تھی فاخرہ بتول‘ سعداللہ شاہ‘ پروین شاکر ‘ناصر کاظمی اور علامہ اقبال کی بانگ درا اور ضرب کلیم شامل فہرست رہیں۔ معارف القرآن اور کشف الباری اس برس روزانہ کے مطالعے میں شامل رہے۔ اس کے علاوہ اس برس سید ابو الاعلی مودودی کا اسلامک لٹریچر گاہے بگاہے علمی میں اضافے کا سبب بنتا رہا۔
٭ اف… مشکل ترین سوال ویسے تو مجھے لگتا ہے میرے گھر والے کسی بات پر اعتراض نہیں کرتے یا شاید میں موقع ہی نہیں دیتی۔ ہماری فیملی چھوٹی سی ہے میں میرے شوہر‘ سسر اور میری کیوٹ سی پرنسز عیشل افضل۔ شوہر نے کبھی کسی بات پر بے جا تنقید نہیں کی نہ ہی کبھی کسی بات پر برا کہا۔ ہاں بیٹی کو بہت شکایت ہوتی ہے جب کوئی فون کال آئے یا میں کسی اور سے بات چیت میں مصروف ہوں تو یہ بات اسے بہت کھلتی ہے اور وہ برملا کہتی ہے۔ ’’آپ سب کی بات غور سے سنتی ہیں اور مجھ سے بات ہی نہیں کرتی ہیں‘‘ اور گھر میں سب ایک دوسرے سے اکثر خوش ہی رہتے ہیں ہاں کسی کے لئے تعریفی کلمات کہنا یقینا بہت مشکل کام ہے مجھے بھی ایسے کلمات شاذو نادر ہی سننے کو ملتے ہیں لیکن اکثر مہمانوں کو اچھی طرح سرو کرنے یا کسی غصہ کرنے والی بات پر خاموش ہوجانے سے گھر والوں کے رویہ سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان کو اچھا لگا ہے۔
٭ خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کے لیے کبھی سال کے آغاز یا اختتام کا انتظار نہیں کیا ہاں سال کے اختتامی لمحات میں ذہن ایک بار گزرے برس کا مجموعی جائزہ لینے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ اس برس کیا کھویا کیا پایا اور آغاز پر ہر برس کی طرح خود سے عہد کرتی ہوں کہ گزشتہ سال جو غلطیاں ہوئی ان کو دوبارہ نہ دہراؤں۔ ’’خود کو کہاں دیکھتی ہوں‘‘ اس سال چونکہ میں نے لکھنے کا آغاز کیا تو یہ میرے لئے بہت خوش کن ہے اور اگر بات ہو عادت و اطوار کے لحاظ سے ظاہر ہے ہر بشر کی طرح مجھ میں بھی کچھ خامیاں ہیں جن میں سب سے بڑی خامی غصہ آنا اور اپنوں کے لیے حد سے زیادہ پوزیسو ہونا ہے تو کوشش ہوگی کہ خامیوں پر قابو پاکر خود کویسا بنا سکوں جیسا میں چاہتی ہوں۔
٭ ایسے ایک دو تو نہیں بہت سے لمحات ہیں جو مجھے رب کے قریب لے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک انتہائی خوب صورت لڑکی کو ننگے پاؤں بھیک مانگتے دیکھا تو بے اختیار اللہ کو پکارا جس نے عزت والی زندگی دی۔ ایک دوست نے اپنا بہت قریبی رشتہ کھویا جس پر میں کئی دنوں تک تکلیف میں رہی اور سوچتی رہی کہ خدا کا مجھ پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ایسے دکھ سے بچایا۔ جب جب کسی دوست‘ فیملی یا کسی انجان شخص کو کسی دکھ میں گرفتار پاتی ہوں یا کسی جسمانی خامی کا شکار دیکھتی ہوں تو بے اختیار سر بسجود ہوجاتی ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ کو شہ رگ سے بھی قریب پاتی ہوں جس نے مجھے کسی ایسے دکھ میں گرفتار نہیں کیا جو دائمی ہو۔ بے شک وہ ذات بہت بلند اور رحیم و کریم ہے۔
نزہت جبیں ضیاء… کراچی
٭ یوں تو ہر مقام پر کہیں نہ کہیں ہمیں اپنے آس پاس کے ہونے والے چھوٹے چھوٹے اور بظاہر عام سے واقعات بھی بہت بڑا سبق دے جاتے ہیں جو ہماری زندگی کو بدلنے اور ہمیں سوچنے پر ضرور مجبور کردیتے ہیں‘ ابھی پچھلے دنوں آنے والے مسلسل زلزلے کے جھٹکوں نے مجھے بھی تھوڑا سوچنے پر مجبور کردیا اگر خدانخواستہ ایسا ہوجائے اور ہمیں اللہ نہ کرے مرتے دم کلمہ طیبہ بھی نصیب نہ ہو (خدانخواستہ) بس جھرجھری لے کراللہ پاک کے اور زیادہ قریب ہونے کی کوشش کی ہے۔
٭یوں تو بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن پر بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے مگر پچھلے سال کا واقعہ ہے میں اور ضیاء اپنے بیٹے کے ولیمے کا کارڈ دینے کر ضیاء کے ایک دوست کے گھر گئے وہاں ہماری دعوت بھی تھی جب دستر خوان لگایا گیا تو ماشاء اللہ کافی اہتمام تھا‘ ہر چیز اچھی اور مزے دار بنی تھی باتوں باتوں میں ضیاء کے دوست نے مجھے مخاطب کیا کہ بھابی آپ تو حیدرآباد بریانی پکاتی ہوں گی‘ میں نے کہا ’’جی الحمد للہ کافی اچھی بناتی ہوں۔‘‘ تب انہوں نے کہا کل سنڈے میگزین (جنگ) میں میں نے حیدرآبادی بریانی کی ترکیب پڑھی ہے بھئی مجھے تو بہت اچھی لگی اور میں نے بیگم سے کہا کہ کسی دن یہ ٹرائی کرنا‘ بڑی اچھی ریسپیز بھیجتی ہیں وہ خاتون میگزین کے لیے‘ تب مجھے ہنسی آگئی میں نے کہا ’’بھائی وہ خاتون میں ہی ہوں‘‘ ’’جی آپ لکھتی ہیں؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’جی ہاں ‘‘ تب میرے ساتھ سب لوگوں کے چہرے پر بھی ہنسی آگئی‘ یہ بات یاد آتی ہے تو بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے اور خوشی بھی ہوتی ہے۔
٭جانے والے چلے جاتے ہیں اور اپنے پیچھے بس اچھی یادیں چھوڑ جاتے ہیں 2015ء مارچ میں میرے بیٹے کی شادی ہوئی ہے (الحمدللہ) تو یہ تقریب میری تائی امی (ساس) کے انتقال کے بعد پہلی تقریب تھی اس میں میں نے بہت شدت سے تائی امی کو یاد کیا اور اس لیے میں نے منہاج (بیٹے) کی سہرا بندی کی تقرب بھی ان کے کمرے میں ہی کروائی تھی گوکہ لوگ کافی تھے‘ کمرہ اتنا بڑا نہیں مگر پھر بھی میں نے وہیں ارینج کیا اور شادی سے دو دن پہلے جب منہاج کا نکاح ہوا اس لمحے بھی سب لوگ تھے اور تائی امی نہیں تھیں اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے‘ آمین۔
٭ماشاء اللہ اب تو نئی نئی رائٹرز آرہی ہیں‘ سب ہی اچھا لکھ رہی ہیں ان کے قلم میں روانی ہے اپنی بات کو پڑھنے والوں تک پہنچانا جانتی ہیں اس کے علاوہ سینئر رائٹرز کی تو بات الگ ہے وہ سبھی منجھی ہوئی اور قابل رائٹرز ہیں اس لیے تمام تحریریں اپنی اپنی جگہ اچھی رہیں۔ مختصر ہو یا طویل پڑھ کر اچھا لگا‘ سبق توہر تحریر سے نہیں ملتا لیکن بعض تحریریں دل پر نقش چھوڑ جاتی ہیں اس سال بھی بہت سی ایسی تحریریں تھیں۔
٭ہاں‘ کافی تحریریں ایسی ہوتی ہیں جس میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں ویسے مجھے اپنی تحاریر میں اپنی جھلک زیادہ نظر آتی ہے بعض اوقات جب میں پورا افسانہ مکمل کرکے پڑھتی ہوں تب مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہاں…یہاں… یہ تو بالکل میری والی سچوئشن ہے جو بے دھیانی ا ور روانی میں لکھ دیتی ہوں۔
٭کتاب تو کوئی نہیں پڑھی البتہ ڈائجسٹس‘ آنچل‘ پاکیزہ‘ کرن‘ خواتین‘ دوشیزہ‘ سچی کہانیاں‘ ریشم‘ حجاب یہ برابر پڑھتی رہی اس کے علاوہ میگزین روابط‘ بچوں کا گلستان‘ بزم برابر پڑھا ہے۔ ڈائجسٹوں کو پڑھنے اور اس میں لکھنے میں ہی سارا وقت گزر گیا اس لیے کوئی ایک کتاب پڑھنے کا وقت نہ ملا‘ الحمد للہ گزشتہ سال میری اٹھارہ تحریریں جن میں افسانے‘ ناولٹ اور ناول ہیں شائع ہوئی ہیں۔
٭تنقید تو خیر نہیں ہوتی کیوں کہ میں تنقید کرنے کا موقع ہی نہیں دیتی‘ میں نے اپنے لکھنے کا عمل اور گھریلو امور کو الگ الگ خانوں میں سیٹ کرکے رکھا ہوا ہے۔ کبھی بھی میرے لکھنے سے گھر والوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ میں نے لکھنے کے لیے وہ ٹائم رکھا ہے جب ضیاء گھر پر نہ ہوں کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں نے ضیاء کی موجودگی میں ان کو ٹائم دینے کی بجائے اپنے شوق کو ترجیح دی تو یہ بات ان کو فیل ہوگی (اور ان کو ہوتی بھی ہے)اس لیے میں خود محتاط رہتی ہوں‘ ہاں الحمدللہ! تعریف بہت ہوتی ہے میری بیٹیاں‘ میری امی‘ بہو‘ ضیاء اور خاص طور پر میری نواسی بہت خوش ہوتی ہے خصوصاً جب میرا کہیں انٹرویو لگتا ہے وہ خوشی خوشی سب کو بتاتی ہے کہ یہ میری ننا ہیں‘ میری پوٹیرز کو خاص طور پر سب بہت پسند کرتے ہیں۔
گزشتہ سال کا بند ایک اور باب کریں
چلو پھر آج گئے وقت کا حساب کریں
جو سال بیت گیا اس کو کیا دیا ہم نے
ہم آئو مل کے خود اپنا احتساب کریں
(شاعرہ: نزہت جبین ضیاء)
٭ہمارے اندر بے شمار کمیاں اور خامیاں ہیں ہم لوگوں میں ایک بہت بری عادت ہے کہ اپنے قول و فعل کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھتے ہیں‘ ہمارے اپنے قول و افعال میں بڑے تضاد ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑی اور بہت بری بیماری ہے اور ہم اہل قلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی تحریروں سے اپنے لفظوں سے معاشرے میں تھوڑا بہت بدلائو لاسکتے ہیں۔ معاشرے کو سدھارنے میں ہمارا کردار بہت اہم ہے اور الحمدللہ میری ہمیشہ سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ سادہ سے‘ عام سے لفظوں میں اپنی تحریروں سے کوئی نہ کوئی مثبت سبق سے سکوں‘ آپ لوگ خود یہ محسوس کرتے ہوں گے کہ میری تحریروں میں مشکل الفاظ اور کم پڑھی لکھی عورتوں کو نہ سمجھ میں آنے والی باتیں نہیں ہوتیں‘ میں کوشش کرتی ہوں کہ میری تحریر لوگوں کو کوئی نہ کوئی سبق دے سکے۔
٭گزشتہ سال آنے والے مسلسل زلزلوں کے جھٹکوں نے مجھے بھی خاصا پریشان کیا تھا جب رات کو بستر پر لیٹتی تب دن کے کاموں پر نظر ڈالتی ساری مصروفیات تو ہوتیں مگر اپنے رب کے لیے پانچ ٹائم ذرا سا وقت نکال کر ہم اپنا فرضی پورا کردیتے ہیں تب مجھے احساس ہواکہ ایسا نہ ہوکہ ہم رات کو سوئیں اور خدانخواستہ ایسا ہی بدترین اور جان لیوا حادثہ ہمارے ساتھ پیش آجائے تو میں کیا منہ لے کر اپنے رب کے حضور جائوں گی۔ میرے پاس تو اپنی مصروفیات کی‘ اپنے شوق کی بھرپار ہے اس میں اپنے رب کے لیے کتنا وقت نکال پائی؟ اسی ایک سوال نے مجھے ہولا کر رکھ دیا‘ میں اللہ پاک کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگی‘ اللہ پاک ہم سب کو نیکی اور ہدایت کی راہ پر چلائے‘ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو‘ آمین۔
صبا حسن… ساہیوال
٭ 2015ء میں میرے اندر جو تبدیلی آئی وہ یہ کہ میں رب کے بہت قریب ہوگئی ہوں جس سے میری زندگی میں بہت بدلائو آیا ہے میری تمام پریشانیاں ختم ہوگئی ہیں اور اللہ نے مجھے ایک اچھی اچھی پوسٹ عطا کی ہے بے شک اللہ کے قرب نے میری ذات کو پرسکون کردیا ہے۔
٭اس سال اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت نوازا لیکن ایک خوشگوار اور عجیب سا واقعہ ہے۔ ایک دفعہ ہم سب فرینڈز عابدہ‘ ارم اور میں اکٹھی تھیں ارم سے کہا چائے بنائو میں لیٹی ہوئی تھی اس نے ٹرے میرے پائوں کی طرف رکھ دی جب میں اٹھی مجھے پتا نہیں تھا اور عابدہ کے چائے والے کپ میں میری ایڑھی چلی گئی‘ میں جلن کی وجہ سے رونے لگ گئی اور عابدہ نے جب دیکھا چائے اس کی ہے تو اس نے مجھے مارنا شروع کردیا۔ مارنے کے بعد دیکھا تو میں رو رہی تھی تو وہ بڑا ہنسی کہ ایک تمہارے پائوں میں جلن تھی اور میں نے تمہیں مارا یہ واقعہ یاد کرکے ہم اکثر ہنستے ہیں۔
٭ 2015ء میں مجھے اپنے بہت اچھے دوست حسن رضا کی بہت یاد آئی جو میرا بہت اچھا دوست اور میری زندگی کا ایک اہم حصہ تھا‘ ہر تہوار پر اس کی یاد نے آنکھیں نم کردیں۔
وہ جانتا بھی تھا مجھے روشنیوں سے پیار ہے جاناں
نہ جانے پھر کیوں ہر طرف روشنی کرکے مجھے تنہا کرگیا
٭2015ء میں آنچل کی تحریریں ہر لحاظ سے مکمل تھیں اور آنچل کی ہر تحریر نے مجھے ایک نیا راستہ دکھایا اور مجھے ہر مشکل میں حل نظر آگیا۔
٭ مجھے راحت وفا کے ناول ’’موم کی محبت‘‘ میں شرمین میں اپنی جھلک نظر آتی ہے کافی چیزیں اس کی مجھ سے ملتی ہیں لیکن محبت کے معاملے میں شدت پسندی ایک جیسی ہے اور بدنصیب بھی کہ اپنا پیار پایا نہیں بلکہ اللہ نے پاس بلالیا۔
٭ گزشتہ سال میں نے تقریباً آنچل کے علاوہ صرف مکڈونلڈ کی بکس پڑھی ہیں جو ٹریننگ سے متعلق تھیں اور آج میں ایک ٹریننگ منیجر کے طور پر کام کررہی ہوں۔
٭گھر میں اماں صرف کھانے پینے میں بے پروائی پر ہمیشہ ڈانٹتی ہے ورنہ ہر معاملے میں مجھے ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔
٭میں اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے گزارتی ہوں اور اپنی غلطیوں کو درست کرتی ہوں اور میں اس سال خود کو بہت پرسکون محسوس کرتی ہوں کیونکہ میں نے اس سال اپنی کافی غلطیاں ٹھیک کی ہے۔
٭گزشتہ سال حسن کی ڈیتھ نے مجھے اپنے رب کے قریب کردیا کیونکہ اس سے پہلے جسٹ فارملیٹی تھی میری عبادتیں لیکن حسن کی ڈیتھ نے مجھے میرے رب کے قریب کردیا کیونکہ اب عبادت سے جو سکون ملتا ہے وہ پہلے نہیں ملتا ہے۔
مسرت جبین راجپوت…
٭میں نے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنا شروع کردیا ہے‘ اللہ کا شکر ہے اب زندگی پر سکون ہوگئی ہے۔
٭میری تیاری نہیں تھی پیپرز کی‘ ایک سال ضائع کرنے کا ارادہ تھا مگر ایک ٹیوٹر نے محض 20 دن میں اچھی تیاری کرادی۔ یقین نہیں آتا میں نے پیپرز دیئے بھی ہیں۔
٭میں نے ہر فنکشن میں اپنے ننھیال والوں کی کمی محسوس کی۔
٭ساری رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں‘ ایک دو کے علاوہ خاص طورپر سمیرا شریف طور‘ نازیہ جی اور اقراء صغیر کی کہانیاں بہت زبردست ہوتی ہیں۔ ہر بات کا مثبت اثر لکھتی ہیں اور محسوس کراتی ہیں۔
٭اقراء صغیر کا ناول ’’بھیگی پلکوں پر‘‘ میں ’’پری‘‘ کے کردارمیں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں۔
٭امر بیل‘ اے محبت تیری خاطر‘ اسلامی کتب اینڈ آنچل لازم و ملزوم رہا۔
٭بہت فضول خرچ ہوں‘ کھانے پینے کی ہر چیز ہمیشہ فالتو خریدتی ہوں‘ تب تنقید ہی تنقید اور جب گھر کا کوئی کام کرلوں پھر تعریف۔
٭2007ء کے بعد میں یہ سمجھتی ہوں اب 2015 میں میں خود کو سمجھ پائی ہوں‘ مجھے لگتا ہے میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا ہے۔
٭موت کے قریب ہوگئی تھی مگر میرے رب نے مجھے زندگی کے قریب کردیا اور مجھے صراط مستقیم پر چلادیا‘ اللہ کا شکر ہے۔
عائشہ پرویز… کراچی
٭واقعی انسانی زندگی بہت سی کیفیات کا مجموعہ ہوتی ہے مگر رسالہ چاہے کوئی بھی ہو آنچل ہو یا کوئی اور میں نے تو واقعی ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور آپ اسے تبدیلی بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلے میں بہت موڈی ہوتی تھی‘ کچھ کچھ بے وقوف بھی کہہ لیں اور عجیب سے احساسات میرے دل و دماغ پر حاوی رہا کرتے تھے مگر جیسے جیسے میرا مطالعہ وسیع ہوتا گیا ویسے ویسے یوں لگا جیسے میرے دماغ کو جو گرہیں بندہیں وہ آہستہ آہستہ کھلتی چلی گئیں۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنی بہت سی جہاں خوبیوں کا ادراک ہوا وہیں میں نے اپنی خامیوں کو بھی سنوارنا شروع کردیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سب پڑھ کر کچھ اپنے کچھ بیگانے مجھ پر ہنسیں یا میرا مذاق اڑائیں مگر یہ میری زندگی کا کھرا سچ ہے‘ اپنی ذات کی تمام حقیقتوں سے سب سے پہلے انسان خود آگاہ ہوتا ہے۔
٭اس سال پیش آنے والا خوشگوار واقعہ میرے لیے تو بہت ہیں جنہیں یاد کرکے اکثر مسکراتی ہوں زندگی واقعی درد و غم اور خوشی کی راہ گز ہے۔
٭2015ء میں منائے جانے والے تہواروں میں سب اپنوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا خاص کر ’’نانا اور بڑے ابو‘‘ اللہ ان سب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے‘ آمین ثم آمین۔
٭آنچل کی رائٹرز نے 2015 میں اپنی تحریروں سے کافی حد تک مطمئن کیا‘ آنچل کی تحریریں سبق آموز اخلاقی لحاظ سے بھی مددگار ہیں۔
٭2015ء میں سمیرا آپی کی تحریر ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ میں شہوار جو اکثر سر ڈھانپے رکھتی ہے تو مجھے بھی ہر وقت سر پر دوپٹہ اوڑھنے کی عادت پختہ ہوگئی ہے کہ میں شہوار میں خود کی جھلک محسوس کرتی ہوں۔
٭گزشتہ سال میری موسٹ فیورٹ کتاب ابو یحییٰ کی ’’قسم اس وقت کی (جب زندگی شروع ہوگی)‘‘ زیر مطالعہ رہیں۔
٭گھر والوں کی جانب سے عموماً تنقید کا نشانہ ہمیشہ میرا موبائل ہی ہوتا ہے جبکہ میرے گھر والوں کو اچھے سے پتا ہے کہ میرے موبائل میں آنچل سے وابستہ تمام لوگ ہیں‘ رہی تعریفی کلمات تو مجھے یاد ہی نہیں رہتے‘ ہی ہی ہی۔
٭میں جہاں ہوتی ہوں وہاں کتابیں اردگرد بکھری رہتی ہیں اور مجھے اسی فضا میں سانس لینا اچھا لگتا ہے تو اپنی ذات کو ایک اچھی رائٹر کے روپ میں دیکھتی ہوں‘ ان شاء اللہ۔
٭گزشتہ سال بہت سے ایسے لمحے تھے جس نے مجھے اپنے رب کے قریب کردیا‘ بس یہی دعا ہے کہ پروردگار کل مومنین کو اپنی پناہ میں رکھے‘ آمین۔
صدف مختار… بوسال مصور
٭ 2015ء میں جب سے یارم پڑھا ہے‘ مذاق مذاق میں بھی دوسروں کے ہاتھ‘ پائوں‘ منہ ناک وغیرہ میں نقص نکالنے چھوڑ دیئے ہیں پہلے بھی دوسروں کو ٹربل نہیں کرتی تھی لیکن اب احترام کرنا سیکھا ہے۔ ایک بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ میرا ٹائم ٹیبل تبدیل ہوگیا ہے اور اب میں زیادہ باتیں کرنے‘ گھومنے پھرنے اور تصویریں بنانے سے قاصر ہوں۔ ایک ایکسیڈنٹ تھا اور آدمی بھی مرا گیا بس اس کے بعد زندگی پر سے اعتبار اٹھ گیا۔
٭ واقعہ نہیں بلکہ واقعات بولیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس دفعہ گرمیاں میں میں نے اپنی پیاری خالائوں اقراء خانم اور زاہدہ خانم کے ساتھ گزاری ہیں تو افطاری کے بعد میں اقو آپی کو گھسیٹ کے چھت پر لے جاتی تھی۔ میں چھت پہ ان کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور انہیں بتارہی تھی ’’اقو آپی نے کہا آپ کو پتا ہے ‘ میرا سب سے بڑا شوق بائیک چلانا ہے‘ مجھے کک ‘ گیئر‘ بریک اور کلچ وغیرہ سب کچھ آتا ہے بس عنقریب چلائوں گی۔ اقو آپی! شرم کرو‘ کوئی انسانوں والا شوق بھی ہے تمہارا‘ لڑکیاں بھی بھلا بائیک چلاتی ہیں۔ ہاں ہاں چلاتی ہیں‘ چلاتی کیوں نہیں۔ دیکھئے گا ان شاء اللہ (ہاتھ ہلاکے) عنقریب آپ کے ہوسٹل موٹر سائیکل پر بیٹھ کے آئوں گی۔ موٹر سائیکل پہ بیٹھ کے…‘‘ اقو آپی (رک کے غصے سے) پھر…
٭صدف (مسکین سا منہ بناکے فوراً) سمجھا کریں ناں۔
٭اقو آپی اور میں ہم دونوں ہنسنے لگ گئے‘ سچ میں آج بھی ہنس رہی ہوں۔
٭ ذہن کو ریفریش کیا ہے لیکن میں ناکام ٹھہری‘ غالباً میں چاہتی تھی کہ کسی کا نام ضرور لوں لیکن جو بات سچ ہے وہ یہ ہے کہ نہ تو کوئی مجھے اتنا پیارا ہے کہ میں اس کی کمی محسوس کروں اور نہ کسی کو میں۔ چاچو‘ ماموں‘ بھائی‘ پھوپو‘ نانی کوئی بھی نہیں۔ مجھے اپنی امی سے پیار ہے اور چند اور لوگوں سے جو میرے پاس ہیں البتہ عنیزہ سکندر کی کمی ضرور محسوس کی تھی عید پر۔
٭کافی حد تک لیکن سچ بتائوں تو میں پوری مطمئن نہیں خصوصاً قسط وار ناولوں سے۔ جہاں تک بات ہے سیکھنے کی تو بہت کچھ تقریباً ہر تحریر میں کچھ نہ کچھ سبق ضرور ہوتا ہے اور شکر الحمدللہ ہمیشہ مثبت پہلو پر ہی عمل کیا ہے۔ مجھے ہر چیز چاہے میتھ ہو یا انگلش یا پھر میرے نصاب سے باہر‘ سیکھنے کو دل کرتا ہے۔ مجھے کوئی سکھانے والاملے تو بس میری تو عید ہوجاتی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ان تحریروں سے کچھ نہ سیکھوں ویسے مجھے ضوباریہ ساحر سے ملنے کی بہت خواہش ہے ان سے ان کی تحریروں کے متعلق بہت کچھ پوچھنا ہے۔
٭آپ نے صرف یہ پوچھا ہے کہ کسی رائٹر کی یہ نہیں پوچھاکہ آنچل کی تو یہ سوال بہت اچھا ہے۔ سچ بتائوں تو آج تک صرف مقید خاک کے اختر میں اپنی کافی زیادہ جھلک نظر آئی اور اس کے علاوہ ہر وہ کردار جو زندہ دل‘ شرارتی زیادہ باتیں کرنے والا‘ پڑھاکو ہو اپنی طرح ہی لگتا ہے۔
٭نصاب کی باتیں اپریل تک 9th کی اور اس کے بعد سے اب مارچ 2016 تک 10th کی رہیں گی۔ البتہ ایک کتاب You Can Become Person U Want To be پڑھی ہے۔
٭تیز تیز چلنے پر‘ بچوں کے ساتھ بھاگنے دوڑنے پر اور گندے رہنے پر‘ امی کہہ رہی ہیں ’’یہ بھی بتائو میں نے آج تک یونیفارم کے سوا کچھ بھی ڈھنگ سے نہیں پہنا‘‘ (بتادیا امی شازی‘ ہاہاہا)۔ پہلے بہت بولتی تھی لیکن جب سے رزلٹ آیا بس چپ لگ گئی ہے (غم سے‘ ہاہاہا) کیونکہ اب زیادہ وقت پڑھتی رہتی ہوں‘ ارادہ ہے کہ چونکہ 9th (آرٹس) میں 518 مارکس لیے ہیں تو اب 1050 تو ضرور لوں‘ تعریف بھی صرف پڑھائی کے معاملے میں ہی ہوتی ہے۔ تنقید سے یاد آیا جو بندہ میرے ساتھ جیسا کرتا ہے میں بھی ویسا ہی کرتی ہوں جو لڑے گا‘ لڑوں گی۔ اچھے سے بولے گا‘ اچھے سے بولوں گی۔ امی کہتی ہیں بلکہ ڈانٹتی ہیں تم ہی چپ ہوجایا کرو۔‘‘ پر یہ ناممکن ہے کیونکہ مس انعم زاہرہ صاحبہ کی اسٹوڈنٹ ان کی طرح لفظوں میں تو ناراضی رکھ سکتی ہے دل میں کبھی نہیں۔ دل تو انعم زاہرہ کی طرح ہونا چاہیے شفاف اور وسیع ۔
٭پہلے میں آپ کو اپنی روٹین بتاتی ہوں‘ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب بھی کوئی سال گزرتا ہے آخری دن میں کوئی سینکڑوں دفعہ دہراتی ہوں ’’آج سال کا آخری دن ہے‘‘ پھر مجبوراً کسی کو بے عزتی کرکے چپ کروانا پڑتا ہے۔ 2013ء میں جب میں 8th میں تھی تو پہلی دفعہ نئے سال کے آغاز پر دو نوافل ادا کیے تھے اور ان نوافل کی وجہ میرا بھائی (علی حمزہ) اور کزن (فہمیدہ عمر) تھے یہ دونوں بیمار تھے اور میں نے ان کے لیے خالص دل سے دعائیں کی تھیں۔ ساتھ ساتھ نئے سال کے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے بھی‘ اب ہر سال یوں ہی کرتی ہوں۔ خود احتسابی بڑا مشکل مرحلہ ہے جناب! بہرحال اپنا احتساب بھی ضروری ہوتا ہے لیکن جب بھی اپنی ذات کو خود احتسابی کے عمل سے گزارا ہے سکون ہی سکون ملا ہے وجہ شاید اللہ کا ڈر‘ اپنی ذات کو میں… پھر کبھی سہی کیونکہ ابھی ذہن میں کچھ بھی نہیں آرہا۔
٭مریم نواز ساقی کہہ رہی ہے‘ اب بے چاروں کی جان چھوڑو لہٰذا مختصر سا جواب دوں گی وہ لمحہ جب میری امیدیں ٹوٹیں اور میں نے جان لیاکہ وہ خدا ہی ہے جو ہمیں کبھی نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ہماری مدد کرتا ہے۔ اب میں اپریل کے بعد شرکت کروں گی اور میری طرف سے شہلا عامر سمیت سب کو نیا سال مبارک ہو۔
طیبہ حنا… تونسہ شریف
٭2015ء میں رونما ہونے والی تبدیلی میرے اندر یہ آئی کہ میں بالکل خاموش ہوگئی ہوں نہ بولنے کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو۔
٭ویسے تو میں ہر دم مسکراتی رہتی تھی مگر حادثات زندگی نے ہنسی چھین لی ہے لیکن اس بات کی بدولت مسکراہٹ خودبخود آجاتی ہے بات یہ ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں پر ہمیں آنچل نہیں ملتا جس کے لیے تونسہ جانا پڑتا ہے‘ ہر ایک کی منت کرنی پڑتی ہے تب جاکے پرچہ ملتا ہے۔ مئی کے آنچل کے لیے کافی محنت کی پھر ابو جان 22 اپریل کو لے آئے اس سے پہلے انکل اور آنٹی سے کہا جب جائیں تو آنچل لے کے آنا‘ انکل بھی اسی دن تونسہ گئے ہوئے تھے آنچل لے کے آگئے‘ آنٹی کو بات بھول گئی پھر وہ لے کے آگئیں‘ تین آنچل ہوگئے۔ بھائی 22 مئی کو تونسہ گئے‘ ہم نے کہا تازہ رسالہ لے کے آنا‘ بھائی کو چونکہ پتا نہیں تھا پھر وہ مئی کا لے کے آگئے‘ بہت ہنسی آئی ۔ اب سب کہتے ہیں طیبہ! مئی کا آنچل لے آئیں‘ تمہارے لیے‘ خوب ہنسی آتی ہے۔
٭2015ء میں منائے جانے والے تہواروں میں خاص کر عید الفطر کے تہوار پر اپنے پیارے بھانجے کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جو 28 جولائی 2014ء کو ہمیں روتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔
٭آنچل رائٹرز مطمئن کرتی ہیں تو ہم ہر ماہ خریدنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں‘ ہمارے لیے بہت سبق ہوتا ہے اس میں۔
٭ہم جس ایریا میں رہتے ہیں وہاں کتابوں کا کوئی تصور نہیں‘ بہت مشکل سے کتابیں ملتی ہیں اس سال تو کوئی کتاب بھی ہاتھ نہیں لگی۔
٭یہ کیا سوال ہے یار! ہمیں تو ہر وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر تعریف بھی ہو تو لہجہ طنزیہ تنقیدی ہوتا ہے اس لیے تعریف کے لیے ترس گئے ہیں مگر یہ ناممکن ہے اس سلسلے میں کسی شاعر نے خوب کہا ہے
لفظ کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا
لفظ سہنے والے کمال کرتے ہیں
٭ اپنا احتساب تو کرتی ہوں مگر ہر وقت کی تنقید نے کافی چڑچڑا اور منہ ‘پھٹ بنا دیا ہے جس کے لیے بہت پریشان ہوں۔
٭ یوں تو ہر لمحہ اپنے رب سے قریب کرتا ہے لیکن اپنے گناہ ہمیں رب سے دور کردیتے ہیں۔
٭ سوری ایک سوال بھول گیا تھا‘ اب یاد آیا وہ یہ ہے کہ کسی رائٹر کی تحریر میں اپنی جھلک نظر نہیں آتی بلکہ نازیہ کی طرح اداسیوں کی فاختہ ہوں۔
پروین افضل شاہین… بہاولنگر
٭ بہاولنگر میں آنے والے زلزلے کو دیکھ کر سوچا کہ اپنے آپ کو ایسا بنایا جائے کہ سب کو سکھ دیں‘ دکھ نہ دیں۔
٭ ایک مرتبہ میرے میاں جانی پرنس افضل شاین نے مجھے کہا کہ
کہہ دو سمندر سے کہ مجھے ضرورت نہیں سونامی کی
بس ایک بیوی ہی کافی ہے زندگی میں طوفان لانے کے لیے
یہ بات یاد کرکے اب بھی ہنسی آتی ہے۔
٭ عید قرباں والے دن اپنے سسر کی بہت یاد آئی کہ وہ عید قرباں سے ایک دن پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے‘ وہ میرا بہت ہی خیال رکھا کرتے تھے۔
٭ میں نے ان تحریروں سے یہ سبق حاصل کیا کہ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اسی لیے دوسروں کے لیے جیا جانا چاہیے۔
٭ ہم سے پوچھئے میں میری طرح دلچسپ سوالات کرکے مجھے ارم کمال میں اپنی جھلک نظر آئی۔
٭ ارم زہرہ‘ فریدہ جاوید فری اور حیدری علی ساحر کی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں۔
٭ کھانا پکانے پر ہاتھ میں کوئی بھی ڈائجسٹ ہوتا ہے تو میاں کہتے ہیں کتابی کیڑی کھانا پکاتے وقت تو ڈائجسٹ سائیڈ پر رکھ دیا کرو مگر میں جب اس ڈائجسٹ میں اپنی شائع شدہ تحریریں دکھاتی ہوں تو ان کے منہ سے اپنے لیے تعریفی کلمات سننے کو ملتے ہیں۔
٭ جی ہاں خود احتسابی کے عمل سے اپنے آپ کو گزارتی ہوں‘ میں نے سوچا پہلے تو دو تین بال سر کے سفید تھے مگر اب ان کی تعداد آٹھ دس ہوگئی ہے ان کا علاج کرنا چاہیے۔
٭ جب اپنے میاں کی ہیپا ٹائٹس بی کی رپورٹ دیکھی تو اسی لمحے سے اپنے رب کے اور قریب ہوگئی اور اپنے میاں جانی کی صحت یابی کی دعائیں کرنے لگی۔
نوشین جوئبہ… لودھراں
٭حق ہاہ‘ کیا بات پوچھ لی آپ نے۔ یہ دنیا مطلب کی ہے جب مطلب نکلا تو سب ختم ‘ میری ذات سے کچھ لوگوں کی حد درجہ بے وفائی جھوٹے چہروں کو بے نقاب ہونے کی وجہ جب سامنے آئی تو معلوم ہوا جن کو ہم اپنی ذات سے قریب تر قریب سمجھتے تھے ہم ان کے لیے خاک کے برابر بھی نہیں۔
٭بہت سے واقعات ایسے ہیں جو دوستوں کے درمیان ہوئے مگر یہاں ایک واقعہ بیان کروں گی‘ میری دوست ثناء جب مجھ سے ملی تو باتوں ہی باتوں میں‘ میں نے اس کو اپنے فیانسی کے بارے میں بتایا تو وہ مسکرا کر کہنے لگی ’’اچھا یاد آیا وہ تمہارے ماموں ننھے کا بیٹا ننھی‘‘ اس بات کو یاد کرکے اکثر مسکرا جاتی ہوں۔
٭2015ء میں منائے جانے والے تہواروں میں اپنے فیانسی کی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔
٭نومبر کے شمارے کی ایک کہانی جو اقبال بانو کی آزمائش ہے اس سے یہ سبق حاصل کیا کہ مرد کبھی سچی محبت نہیں کرتا اس کو ہر بچے کی طرح ایک نئی چیز کی تمنا ہوتی ہے۔ جہاں تک مطمئن ہونے کی بات ہے تو ویسے ہر کہانی اچھی تھی مگر میں اقبال بانو کی آزمائش کہانی سے مطمئن ہوئی‘ طاہرہ کی طرح۔
٭ ’’موم کی محبت‘‘ راحت وفا کی تحریر میں‘ میں نے شرمین میں خود کی جھلک دیکھی۔ شرمین کی طرح ہر بار ایک نئی محبت پر بھروسہ کرلینا سوائے جھوٹ کے کچھ حاصل نہیں ہر بار اس کا بھروسہ کے ساتھ دل بھی ٹوٹا‘ صد افسوس۔
٭ ایسی کوئی خاص کتاب نہیں۔
٭ اس سوال کاکیا جواب بنے گا‘ ہاہاہا۔ ہر بار گھر والوں کی طرف سے ایک بات پر عموماً تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ ہمیشہ الٹے کام کرنا کبھی تو عقل سے کام لو‘ اب میں خود تعریفی کلمات کیا بتائوں یہ تو میاں مٹھوں والی بات ہوگئی۔ خیر آپ پوچھتے ہیں تو بتادیتی ہوں‘ آج کھانا اچھا بنا ہے اکثر کھانا بنانے پر تعریفی کلمات سننے کو ملے۔
٭ جی ہاں‘ بہت آگے تک۔
٭ کچھ لوگوں کی بے وفائی نے ہمیں رب سے قریب کردیا‘ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے‘ آمین۔ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جن کا دل ہم توڑ رہے ہیں اس دل میں تو خدا بستا ہے اور وہی دل ہمارے پاس بھی ہے کوئی ہمارے ساتھ بھی برا کرسکتا ہے۔
ارم کمال… فیصل آباد
٭پہلے میں صرف اپنی بات کو امپورٹنس دیتی تھی دوسرے کی فیلنگز کا خیال نہیں رکھتی تھی لیکن اس سال میری ذات میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ میں دوسروں کا خیال بھی رکھتی ہوں۔چیزوں اور رویوں کو بہت گہرائی سے دیکھتی ہوں‘ اپنے سب رشتوں کے لیے حساس اور فکر مند ہوگئی ہوں۔
٭ اس سال 11 اکتوبر کو میری بیٹی کرن کمال کی شادی ہوئی جو کہ بہت اچانک ہوئی لیکن اب میں اسے یاد کرکے مسکراتی رہتی ہوں۔
٭ میں ہر سال 2010ء کے بعد ہر تہوار پر اپنے مرحوم بیٹے حمزہ کمال (جو کہ محض پانچ برس کا تھا) کو بہت شدت سے یاد کرتی ہوں اور ہر تہوار اور ہر فنکشن میں اس کی کمی محسوس کرتی ہوں۔ کسی بچے کی شکل میں اس کی شبیہ‘ کسی بچے کی ذہانت مجھے اس کی یاد دلاتی ہے تو کسی بچے کی آنکھوں کا کلر… اپنے رب کی رضا میں راضی ہوں۔
٭ 2015ء میں آنچل کی رائٹرز نے بہت حد تک مطمئن اور مسرور رکھا‘ ہاں کہیں کہیں اختلاف محسوس ہوا لیکن 80 فیصد تک رائٹرز کے خیالات اور ہمارے خیالات میں مطابقت رہی اور تمام رائٹرز سے مشترکہ اسباق حاصل کیے جو توڑے اسے جوڑو‘ صبر سے اچھے وقت کا انتظار کرو ۔ صرف اپنے حقوق حاصل کرنے کا نہ سوچو بلکہ اپنے فرائض بھی اداکرو اور سب سے بڑھ کر خدا پر توکل اور بھروسہ رکھو۔
٭ اس سال تمام تحریروں میں جہاں ہیروئن بے انتہا مروت کی ماری تھی وہاں اپنی جھلک نظر آئی‘ جہاں ہیروئن پر کاموں کا انبار پڑا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھی ہو وہاں بھی اپنی جھلک نظر آئی۔
٭ہر سال میرے زیر مطالعہ قرآن مجید کی عظیم کتاب رہتی ہے اس کے علاوہ اس سال جاوید چوہدری کی زیرو پوائنٹ اور مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں۔
٭ گھر والوں کا کچھ پتا نہیں چلتا جس بات پر تعریف کی امید ہو وہاں کھری کھری سننے کو مل جاتی ہیں‘ جہاں کام خراب ہو وہاں تو سننا ہی پڑتی ہیں۔ اگر بچوں کی بات کروں تو جس دن سارا گھر سیٹ ہو‘ بریانی پکی ہو اس دن بچے اسکول سے گھر آکر بڑی تعریف کرتے ہیں اور جس دن ان کے منشاء کھانا نہ پکا ہو اس دن ناک منہ بناکر کہتے ہیں کچھ اور نہیں پکا سکتی تھیں اگر میاں جی کی بات کروں تو سیدھی بات ہے ان کی باتیں مان لو تو بہت خوش ہوتے ہیں اور اگر نہ مانوں تو منہ پھلا لیتے ہیں۔
٭ہر سال کے اختتام پر اپنا جائزہ لیتی ہوں کہ اس سال جو اپنی ذات سے وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کرسکی اپنے آپ کو لعن طعن کرتی ہوں پھر اللہ تعالیٰ سے توبہ استغفار کرتی ہوں اور نئے برس صدق دل سے عہد کرتی ہوں کہ جو وعدے اپنی ذات سے کیے اللہ توفیق دے کہ وہ پورے کرسکوں۔ خود احتسابی کا عمل بڑا کڑا ہوتا ہے لیکن بندہ بہت ہی گناہ گار اور ناشکراہے‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اپنے عیبوں کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔
٭رب کا اور میرا تعلق بہت قربت کا ہے اس میں اور زیادہ مضبوطی تب آئی جب میری بیٹی کرن کی شادی کا مرحلہ آیا چونکہ رشتہ اچانک آیا تھا اور انہیں شادی فوری کرنی تھی‘ رشتہ بہت اچھا تھا لوٹانے کا بھی دل نہیں تھا لیکن تیاری کوئی نہیں تھی تب میں نے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگی کہ اے میرے اللہ تو ہی یہ مشکل آسان کرسکتا ہے ورنہ مجھ میں تو اتنی طاقت اور سکت نہیں‘ میرے اللہ کا اتنا خاص فضل و کرم ہوا کہ محض ڈیڑھ مہینے کے اندر اللہ تعالیٰ نے شادی کے جملہ اسباب کے وسائل پیدا کردیئے یوں میرا اور میرے رب کا تعلق مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوگیا۔
فاطمہ انصاری… لاہور
٭2015ء میں کوئی خاص تبدیلی تو نہیں ہوئی البتہ ایک اسلامی بہن کی اثر انگیز باتیں سن کر اور اس کے طرز زندگی نے بہت متاثر کیا تھا جسے اب بھی میں فالو کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
٭خوشگوار واقعہ یہ کہ ہمارے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی اور ہماری نانی بی کو پتا نہیں تھا وہ باہر سے گھر میں داخل ہوئیں تو مجھے کہنے لگی ’’فاطمہ جانوروں کو پانی پلادیا ہے کہ نہیں۔‘‘ تو یہ سننا تھا کہ میں اور میری کزن ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئیں بعد میں پتا چلا ان کا اشارہ بھینس بکریوں کی طرف تھا اور ہم نے سمجھا مہمانوں کو کہا ہے‘ یہ واقعہ جب بھی یاد آتا ہے ہنسی آجاتی ہے۔
٭ ہاں جی اس سال عید کے تہواروں میں اپنی آپی شاہین کی بہت کمی محسوس کی جن کی شادی ہوگئی تھی۔
٭ جی آنچل تو اس دفعہ فرسٹ ٹائم لیا ہے اور پہلی دفعہ ہی اس نے اپنا گرویدہ کرلیا ہے اس کی تمام رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں اور سبق یہ کہ جس طرح رائٹرز اپنییقلم سے نکھار پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہم اپنی زندگی جو لمحہ بہ لمحہ گزر رہی ہے اس پر نظر ثانی کرکے اس کو سنواریں اور نکھار پیدا کریں۔
٭ کوئی خاص جھلک تو نظر نہیں آئی البتہ سمیرا شریف طور‘ نازیہ کنول اور نگہت عبد اللہ نے بہت متاثر کیا۔
٭ سسپنس‘ جاسوسی‘ سرگزشت‘ روحانی ڈائجسٹ‘ بچپن کا دسمبر (ناول) اور بچوں کے مختلف میگزین اسلامی کتب اور اب ان شاء اللہ آنچل ساتھ رہے گا۔
٭ ہر وقت میگزین رسالوں میں مگن رہتی ہو‘ تنقید اور کوکنگ اچھی کرتی ہوں جس پر تعریف سننے کو ملتی ہے۔
٭ اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں اچھی زندگی کے لیے اور آئندہ کے لیے بھی نیک تمنائیں۔
٭جب بھی اللہ کے حضور نماز کے لیے کھڑی ہوتی ہوں تو بے انتہا رب کریم کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
کوثر خالد … جڑانوالہ
٭ قیصر آراء کی لفاظی نے حیران کردیا۔
٭ خطوط کے جوابات مسکراہٹ بکھیردیتے ہیں۔
٭ ہم ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔
٭ میں ہر رائٹر سے متاثر ہوں‘ ہر حال میں خوش رہنا کہانیوں سے سیکھا۔
٭ اکثر ہی آجاتی ہے ہیروز کی مثبت سوچ میں۔
٭ آنچل کے علاوہ چار ماہنامے پانچواں حجاب۔
٭ تقریب خدمتوں اور اچھے کھانے پر‘ تنقید اونچی آواز میں بولنے پر‘ مسلسل بولنے پر۔
٭ خود احتسابی ہر پل کرتی ہوں نہ کہ سال بعد‘ ماشاء اللہ پرسکون اور کامیاب ہوں مگر عبادت کی کمی محسوس کرتی ہوں۔
٭ محفل میلاد اور میت کے سرہانے اور بیماروں کے پاس اللہ جی بہت قریب ہوتے ہیں۔
ثناء عرب سنی… صوابی
٭2015ء کا سال ہر لحاظ سے میرے لیے اچھا تھا کیونکہ اگر غم ملے تھے تو پے درپے کئی خوشیاں مجھے ملیں‘ اس سال میری ذات میں سب سے بڑی تبدیلی جس نے میری زندگی بدل دی وہ یہ تھی کہ مجھ میں برداشت‘ صبر آگیا تھا‘ پہلے چھوٹی چھوٹی بات پر ‘ کسی کے دیئے گئے دکھ پر جلتی کڑھتی اور غصے میں آپے سے باہر ہوجاتی جبکہ اس سال بہت سے واقعات نے میرے اندر ایک ٹھہرائو سا پیدا کیا جس سے میں کافی حد تک بدل گئی۔
٭11 اکتوبر بروز اتوار بہت ہی خوشگوار دن تھا اس دن کا واقعہ میری فرینڈ کا میرے گھر آنا‘ بہت اچھا ٹائم ساتھ گزارا اور پتا نہین کس بات کے بنا پر اس نے مجھے کہا کہ تم نے خود کو دلہن کیوں بنا رکھا ہے حالانکہ میں بالکل سمپل تھی اور اس وقت کالج کا کام کررہی تھی‘ اس کا کہنا مجھے بھی دیکھ لو دلہن صرف کاپی کو مت دیکھو اور یہی بات آج بھی بے ساختہ مجھے مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے کہ آخر کس وجہ سے اس نے مجھے یہ کہا۔
٭2015ء میں منائے جانے والے تہواروں میں اپنے فرینڈ کی کمی ہر جگہ بہت شدت سے محسوس کی۔
٭ آنچل کی رائٹرز نے بہت اچھی طرح سے ہمیں مطمئن کیا اور ہر تحریر سے میں نے کوئی نہ کوئی سبق ضرور حاصل کیا اگر یہ کہوں کہ آنچل نے ہر راہ میں میری رہنمائی کی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ کسی اچھی دوست کی طرح ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور اپنی قیمتی اور سبق آموز تحریروں سے میری زندگی بہت حسین بنادی۔ آنچل تاریکی میں روشن ستارے کی طرح ہے جس کی تقلید غلط راہوں سے بچالیتی ہے اور اپنے آنچل تلے سایہ دے کر نیک راستے کی طرف مائل کردیتی ہے۔
٭میں ہر رائٹر کی تحریر میں خود کو تلاش کرتی ہوں مگر پایا خود کو سمیرا شریف طور کے سلسلہ وار ناول ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کے ایک کردار انا وقار میں‘ اس کی محبت کی شدت‘ حساسیت غرض یہ کہ کبھی لگتا ہے میں خود کو پڑھ رہی ہوں جیسا کہ مجھ پر ہی سمیرا آپی نے لکھا ہو۔
٭گزشتہ سال کئی کتابیں زیر مطالعہ رہیں جس میں ناولز بھی شامل تھے اور دینی کتابیں بھی اور اگست میں پھر کورس بک شامل ہوگئیں‘ ہاہاہا۔
٭گھر والوں کی جانب سے جن باتوں پر عموماً مجھے تنقید کا سامنا کرنا ہوتا ہے وہ ہے کھانا‘ یہ نہیں کہ پکانے کی وجہ سے بلکہ کھانا نہ کھانے کی وجہ سے۔ میں اکثر کھانا نہیں کھاتی کبھی کبھار دو دن تک نہیں کھاتی تو نا صرف مما بلکہ سارے گھر والے دادا سمیت سب وقتاً فوقتاً غصہ کرتے ہیں‘ مجھ پر اور بعد میں جب بھی کوئی بات ہو تو مجھ پر اور میرے کھانے پر تنقید شروع ہوجاتی ہے کہ یہ ایسی ہے یہ ویسی ہے۔ اب تو حالات کافی حد ٹھیک ہوچکے ہیں مگرپہلے حالات بہت خراب تھے باقی کسی بات پر تنقید نہیں ہوتی۔ تعریفی کلمات اکثر پڑھائی کے معاملے میں سننے کو ملتے ہیں یا کھانا پکانے کے بارے میں کہ ثناء کھانا اچھا پکاتی ہے۔ گھر کے کام میں مما کا ہاتھ بٹالیتی ہوں تو مما تعریف کرلیتی ہیں (ویسے آپس کی بات ہے مجھے اپنی تعریف بالکل اچھی نہیں لگتی)۔
٭نیا سال جب بھی شروع ہوتا ہے اور موجودہ سال جانے کی تیاری کرچکا ہوتا ہے تو ایسے میں ماضی کے لمحوں میں کھوکر میں سوچتی ہوں کہ اس سال میں نے کیا پایا‘ کیا کھویا۔ کہاں مجھ سے غلطیاں ہوئیں اور کہاں ان کو سنوارا اورکہاں نہیں‘ ایک ایک لمحہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ غلطیوں کو دیکھ کر ارادہ کرتی ہوںکہ آئندہ احتیاط کیا کروں گی جبکہ جہاں کہی اچھے کام کیے ہوں انہیں جاری رکھنے کا تہیہ کرلیتی ہوں اور ایسے میں میں خود کو ایک ایسے مقام پر دیکھتی ہوں کہ آج تک مجھے خود بھی اس کی سمجھ نہیں آئی۔ پچھلے کئی سالوں سے ایسا ہونے لگا ہے کہ سال کے آخر میں خوشیاں سمیٹتے سمیٹتے اور خوشیاں بانٹتے بانٹتے میں خود تہی دامن رہ جاتی ہوں‘ سب کو خوشیاں دے کر جانے کیوں میری جھولی میں صرف دکھ باقی رہ جاتے ہیں اور انہی دکھوں کے ساتھ میں نئے سال کو خوش آمدید کہتی ہون۔
٭چھوٹی عید کا پہلا دن اور اس دن کا پہلا لمحہ جس میں مجھے لگا کہ میں نے اپنے ہم سفر کو کھودیا اور اس ایک لمحے کا وہ قیامت خیز تصور مجھے میرے رب کے قریب کرنے کے لیے کافی تھا۔ نماز‘ روزے کی پابند‘ نوافل کی پابند میں پہلے سے تھی مگر اس کے بعد میرا اور میرے رب کا تعلق بہت گہرا ہوگیا اور آج تک ویسے ہی قائم اور مضبوط ہے۔ سب کو میری طرف سے آنے والے سال کی خوشیاں مبارک ہو۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close