Hijaab Dec 15

علم میں انتخاب

نزہت جبین ضیا

غزل
نہ جانے کیوں مجھے لگتی ہے وہ گمنام سی لڑکی
عجب پاگل سی لگتی ہے نہیں‘ وہ عام سے لڑکی
وہ جب بھی کھل کے ہنستی ہے تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں
بہت گہری ہے اندر سے بظاہر عام سی لڑکی
اس کی جھیل آنکھوں میں اداسی برف جیسی ہے
دسمبر جیسی لگتی ہے مجھے ہر شام وہ لڑکی

شاعرہ: نزہت جبین ضیاء
انتخاب: جویریہ ضیاء

غزل
تم ایک بار مجھ کو آزماکے تو دیکھو
اپنی زندگی میں مجھ کو سماکے تو دیکھو
میرے دل کے دروازے تیرے لیے ہیں کھلے
کبھی ہمارے دل میں آکے تو دیکھو
محبت نہیں ہے تو ہوجائے گی
دل میں شمع چاہت کی جلا کر تو دیکھو
تشنگی دید ہے تمہیں تو آجائو
دل کی چوکھٹ پر پیاس بجھا کر تو دیکھو
مانا کہ تیرے قابل نہیں مگر ہوجائیں گے
تیری روح کے در و دیوار نکھر جائیں گے ندیمؔ
کاش ہمیں دل میں کبھی سجاکر تو دیکھو

شاعر: ندیم عباس ڈھکو
انتخاب: اریبہ منہاج… کراچی

غزل
جن دنوں عشق تھا ہم آزاد ہوا کرتے تھے
ہم کسی ہجر میں سرشار ہوا کرتے تھے
ابتدا ہی سے ان آنکھوں پر ستم ہوتا تھا
خواب اس وقت بھی مسمار ہوا کرتے تھے
دھوپ جب شہر پر ناراض ہوا کرتی تھی
ہم تری راہ میں چھتنار ہوا کرتے تھے
جس جگہ تجھ کو سنورنے کی طلب ہوتی تھی
ہم وہاں آئینہ بردار ہوا کرتے تھے
جو پرندے مری شاخوں میں بسا کرتے تھے
وہ ترے لمس کا اظہار ہوا کرتے تھے
یہ جہاں خاک سی اڑتی ہوئی تم دیکھتے ہو
اس جگہ کوچہ و بازار ہوا کرتے تھے
اب تو اپنی بھی خبر ہم کو کہاں ہے اطہرؔ
ہم کبھی واقف اسرار ہوا کرتے تھے

شاعر: ممتاز اطہر
انتخاب: پروین افضل شاہین… بہاولنگر

غزل
اب کہ غم کا وہ باب لکھوں گا
جو ملے ہیں عذاب لکھوں گا
اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے پر
اک نیا انقلاب لکھوں گا
جب اندھیروں کا رقص ہوگا یہاں
میں تجھے ماہتاب لکھوں گا
جو بھی دیکھے تھے تیری چاہت میں
سارے چن چن کے خواب لکھوں گا
نام وردِ زبان ہے تیرا
میں تجھے بے حساب لکھوں گا
صبح دم گھر سے وہ نہیں نکلا
میں کسے آفتاب لکھوں گا
اس کے کھاتے میں بیٹھ کے راناؔ
اپنے سارے ثواب لکھوں گا

شاعر: قدیر رانا
انتخاب: لائبہ میر… حضرو

غزل
چراغ لے کے گیا جام و پیاس چھوڑ گیا
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس چھوڑ گیا
وہ میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں
نہ جانے کیوں مجھے بے لباس چھوڑ گیا
حیات جاگ اٹھی ہے‘ قریب پاکے اسے
گیا تو چاروں طرف ایک آس چھوڑ گیا
وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی
ذرا سا درد میرے دل کے پاس چھوڑ گیا
سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر
وہ ایک دھند میرے آس پاس چھوڑ گیا
غزل سجائوں قتیلؔ اب اسی کی باتوں سے
جو مجھ میں اپنے سخن کی مٹھاس چھوڑگیا

شاعر: قتیل شفائی
انتخاب: علیشبا ثاقب… کراچی

زندگی
میری زندگی میں بس اک کتاب ہے
ایک چراغ ہے
ایک خواب ہے اور تم ہو
یہ کتاب و خواب کے درمیاں جو منزلیں ہیں
میں چاہتا تھا
تمہارے ساتھ بسر کروں
یہی کل اثاثہ زندگی ہے اس کو زاد سفر کروں
میرے دل جادہ خوش پر بحز تمہارے
کبھی کسی کا گزر نہ ہو
مگر اس طرح کے تمہیں بھی خبر نہ ہو

شاعر: افتخار عارف
انتخاب: مناہل علی… کراچی

غزل
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا‘ کبھی درختوں پر نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرفِ سلام لکھنا
وہ چاند چہرے‘ وہ بہکی باتیں‘ سلگتے دن تھے‘ مہکتی راتیں
وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکھنا
مرے نگر کی حسیں فضائو! کہیں جو اُن کا نشان پائو
تو پوچھنا یہ کہاں بسے ہو‘ کہاں ہے ان کا قیام لکھنا
کھلی فضائوں میں سانس لینا عبث ہے اب تو گھٹن ہے ایسی
کہ چاروں جانب شجر کھڑے ہیں صلیب صورت تمام لکھنا
گئی رتوں میں حسنؔ ہمارا بس ایک ہی تو مشغلہ تھا
کسی کے چہرے کو صبح کہنا‘ کسی کی زلفوں کو شام لکھنا

شاعر: حسن رضوی
انتخاب: حمیرا قریشی… لاہور

غزل
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
کوئی سازش چھپا رہا ہے چاند
جانے کس کی گلی سے نکلا ہے
جھینپا جھینپا سا آ رہا ہے چاند
کتنا غازہ لگایا ہے منہ
پر دھول ہی دھول اڑا رہا ہے چاند
سوکھی جامن کے پیڑ کے رستے
چھت ہی چھت پر سے جا رہا ہے چاند
کیسا بیٹھا ہے چھپ کے پتوں میں
باغباں کو ستا رہا ہے چاند
سیدھا سادا افق سے نکلا تھا
سر پہ اب چڑھتا جا رہا ہے چاند
چھو کے دیکھا تو گرم تھا ماتھا
دھوپ میں کھیلتا رہا ہے چاند

شاعر: گلزار
انتخاب: عروسہ عالم… کراچی

غزل
پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو
اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہوتا
شعلہ تیرے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
کب عشق کیا، کس سے کیا، جھوٹ ہے یارو
بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو
اب میری غزل کا بھی تقاضہ ہے یہ تجھ سے
انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

شاعر: اطہر نفیس
انتخاب: حنا… لاہور

دلِ من مسافرِ
من مرے دل، مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سرِ کو ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا
ہے شبِ غم بُری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا
مرنا اگر ایک بار ہوتا

شاعر: فیض احمد فیض
انتخاب: مہرین آفتاب… کوٹ ادو

غزل
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
کعبہ ودیر میں پتھرا گئیں دونوں آنکھیں
ایسے جلوے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
دوستی میں تری درپردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے

شاعر: داغ دہلوی
انتخاب: کنول خان… ملیر، کراچی

غزل
جان کی پروا پھر کس کو ہو جب قاتل ہو یاروں سا
باتیں ہوں دلداروں جیسی، لہجہ ہو غمخواروں سا
کس نے کہا تھا برکھا رت میں یوں بے دھیان انجان پھرو
بول پڑنے سے اور بھی جیسے بھڑکے جسم انگاروں سا
آتے جاتے سارے موسم اس سے نسبت رکھتے ہیں
اس کا ہجر خزائوں جیسا، اس کا قرب بہاروں سا
اب کے ہوائیں یوں چلتی ہیں جیسے دلوں پہ تیر چلیں
اب کے گلابوں کا موسم بھی وار کرے تلواروں سا
برسوں بعد فراز کو دیکھا اس کا حال احوال نہ پوچھ
شعر وہی دل والوں جیسے شغل وہی بنجاروں سا

شاعر: احمد فراز
انتخاب: ماریہ احمد… سیٹلائٹ ٹائون، سرگودھا

غزل
اَشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹے سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
دیکھوں جو تیرے ہاتھوں کو تو لگتا ہے
تیرے ہاتھ مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

شاعر: جانثار اختر
انتخاب: دعا فصیح… حیدر آباد

غزل
پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا
دل، جگر تشنہ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
سادگی ہائے تمنا، یعنی
پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا
عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل
نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
آہ وہ جرأتِ فریاد کہاں
دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
دلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

کلام : مرزا غالب
انتخاب: نورین افضل… کراچی

غزل
خود کو نہ دیکھنا ہے تجھے دیکھنے کی شرط
جو درمیاں حجاب ہے حائل یہی تو ہے
ہلکی سی ایک موج تبسّم میں بہہ گیا
جو بحرِ بے کنار تھا وہ دل یہی تو ہے
دل مجھ سے کہہ رہا ہے تیرے دل کی بات بھی
آئینہ آئینہ کے مقابل یہی تو ہے
دونوں جہاں کو تیری محبت میں بھولنا
اک بات یاد رکھنے کے قابل یہی تو ہے

کلام: بابا ذہین شاہ تاجی
انتخاب: نوشین ذکی… کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close