Naeyufaq Feb 2019

احترام محبت

زرین قمر

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اجالاپھیل چکاتھا۔ کھڑکی سے آنے والی سورج کی مدھم مدھم کرنیں اس کے بستر پرپڑرہی تھیں اور فضا میں پرندوں کی چہکار سنائی دے رہی تھی۔ آج اس کی گھڑی کاالارم نہیں بجاتھا کیونکہ آج اتوار تھا اور اتوار کے دن وہ دیر تک سونے کی عادی تھی۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ بستر پر اس کاشوہر رک بھی موجود ہے جو اس کی برداشت سے باہر تھا کیونکہ وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ وہ رک سے علیحدگی اختیار کرلے گی وہ اچانک ہی بستر پر بیٹھ گئی اس کے سنہرے بال سورج کی کرنوں سے مزید چمک اٹھے تھے اور وہ حیرت سے سوتے ہوئے رک کو دیکھ رہی تھی جو بڑے مزے سے خواب خرگوش کے مزے لے رہاتھا۔
’’رک! ‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ کراہ نکل گئی۔ اسے اچانک پچھلی رات کامنظر یاد آگیا تھا، جب رک رات کے وقت غیرمتوقع طور پر گھر میں داخل ہواتھااور پھر ان دونوں کی لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ کلیرل کو رک پربہت غصہ تھا۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو رک سامنے کھڑا مسکرارہاتھااوراس کی نظریں دروازے پر لگے نوٹ پر تھیں جہاں سرخ جلی حروف میں ’’Go away‘‘ لکھاتھا۔ پھربھی نہ جانے کیوں رک کودیکھ کر اسے ایک انجانی سی خوشی کااحساس ہواتھا لیکن اس کے باوجود اس کا دل چاہ رہاتھا کہ وہ ابھی 911کوفون کرے اور اسے ہتھکڑیاں لگوادے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کاشوہر رک جواس سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتاتھا، اب کسی دوسری عورت کے ساتھ ان کے اپنے گھر میں گلچھڑے اڑارہاتھا۔ وہ چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی وہ بھی اسے گھور رہاتھا۔
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کلیرل نے ناگوار لہجے میں پوچھا اور وہ مسکرانے لگا‘ وہی مسکراہٹ جس نے اسے پچھلے چھ سال سے ریم کمرشل رئیل اسٹیٹ میں ایک کامیاب سیلزمین بنارکھاتھا۔
’’ہیلو جان…‘‘ رک نے بے تکلفی سے کہااوراس کی آنکھوں کے سامنے ایک لفافہ لہرایا۔’’میراخیال ہے کہ ہمیں اس معاہدے کے سلسلے میں کچھ پوائنٹس پربات کرلینا چاہیے۔ میں اسی لیے تمہارے پاس آیاہوں۔‘‘
’’میں جانتی ہوں ۔‘‘ کلیرل نے جواب دیا وہ جانتی تھی کہ اب ان دونوں کے درمیان طے پانے کے لیے کوئی خاص شرائط نہیں بچی ہیں سوائے اس کے کہ رک اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتاہے لیکن وہ اس کی ہر شرط ماننے کوتیار تھی صر ف اس لیے کہ وہ اب اس معاملے سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔ کلیرل اس سے صرف چار چیزیں چاہتی تھی ایک تووہ گھر جس میں وہ رہتی تھی اور جواس گھر سے بہت چھوٹا تھا جہاں اس نے اپنی نئی محبت معنی بفی کورکھاہواتھا۔ جس گھر میں کلیرل رہتی تھی اس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا پورشن اور بناہواتھا جسے وہ کرائے پر دیتے تھے اور آج کل اس حصے میں کلیرل کی دوست پولا رہتی تھی جس کے ساتھ ہی کلیرک کی کافی ‘لنچ اور مٹھائیوں کی شاپ تھی جس کانام اس نے اپنی پسند پرDeath by chocolate رکھاتھا‘ اس کے علاوہ اس کے پاس ایک چھوٹی سی کارٹیوٹا سلیساتھا جووہ اپنے پاس ہی رکھنا چاہتی تھی۔
’’ٹھیک ہے اندر آجائو۔‘‘ کلیرل نے کہااور پیچھے ہٹ کررک کواندر آنے کاموقع دیا اور رک نے اندر آتے ہی کلیرل کی آنکھ بچا کر اپنے موبائل پرہی پیزا کا آرڈر دے دیا تھا جس میں ڈبل پیپرونی ڈلوانے کوکہاتھا کیونکہ یہ کلیرل کی پسند تھی اوروہ جانتی تھی کہ رک لوگوں کی کمزوریوں سے کھیلنے کا فن جانتاہے ۔
اور پھر ایک کے بعد ایک بہانے کرتے اور زبردستی کلیرل کو منانے کی کوششیں کرتے یہ نوبت آئی تھی کہ وہ اس وقت اس کے ساتھ بستر پر موجود تھا۔ کلیرل بہت آہستگی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی بھی حرکت سے رک جاگ نہ جائے اس کاخیال تھا کہ رک کے اٹھنے سے پہلے وہ اپنی پسندیدہ کافی بناکرپی لے تاکہ رک کے مقابلے کے لیے اس میں انرجی آجائے اوروہ اسے زبردستی گھر سے نکالنے میں کامیاب ہوجائے۔
پانچ سالوں کی شادی میں رک نے کبھی کسی کام میں اس کاہاتھ نہیں بٹایاتھا بلکہ ہمیشہ اس کے راستے میں رکاوٹیں ہی پیدا کی تھیں۔ اس نے جلدی سے کپڑے تبدیل کیے بال درست کرتی آہستہ قدموں سے چلتی کچن کی طرف بڑھی تو اچانک اس کی نظر بیڈ کے نیچے پڑے رک کے موبائل پرپڑی اور وہ رک کر اسے دیکھنے لگی موبائل کی لائٹ بلنک کررہی تھی جس کامطلب تھا کہ رک نے اسے وائبریٹ پر کیاہواتھا اوراب کلیرل کی سمجھ میں آیا تھا کہ پچھلی پوری رات مفی بفی کی کوئی کال کیوں نہیں آئی تھی جس کی کلیرل کوتوقع تھی کہ وہ اسے ضرور کال کرے گی ۔ کلیرل نے فون اٹھا کرچیک کیااس میںمفی کی پندرہ کالیں آئی ہوئی تھیں اس کامطلب تھا کہ جس طرح وہ کلیرل کے ساتھ دھوکا کررہاتھا اسی طرح وہ مفی بفی کے ساتھ بھی دھوکا کررہاتھا۔ کلیرل نے ایک پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ فون رک کے قریب رکھ دیا اور کمرے سے نکل گئی۔
اس گھر میں کلیرل نے سارا فرنیچر اپنی مرضی سے سجایاتھا ہرچیز اس کی پسند کی تھی اوروہ بڑے فخر سے اسے اپنا گھر کہتی تھی یہ گھر کنساس سٹی کے جنوب مشرق میں واقع پلیزنٹ گروو میں تھا چند سال پہلے جب رک کوئی جائیداد خریدنے کے بارے میں سوچ رہاتھا۔ تب کلیرل نے اس جگہ کوپسند کیاتھا‘ اسے ’’پلیزنٹ گروو‘‘ پسند تھا۔ وہ بہت سرسبز جگہ تھی اور پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھی وہ شہر کی صنعتوں کے دھوئیں سے دور کھیتوں اور ہریالی کے درمیان واقع تھی یہاں کی آب وہوا تروتازہ اور مسحور کن تھی یہاں رہنے والے لو گ بھی بہت خوش مزاج اور ذمہ دار شخصیت کے مالک تھے۔ شاید اس میں اس جگہ کے قدرتی ماحول کابھی حصہ تھا۔
کلیرل نے کافی پینے کے بعد گھر کے باہر تک لان میںکچھ دیر چہل قدمی کی تھی پھر کنساس سٹی کا اخبار ’’اسٹار‘‘ آگیاتھا اورو ہ اخبار لے کرواپس گھر میں آگئی تھی اندرآتے ہوئے اس کی نظررک کی گہرے ہرے رنگ کی جیپ پر بھی پڑی تھی جواس نے گھر سے کچھ فاصلے پرکھڑی کی ہوئی تھی اسے پھر رک کاخیال آگیا جوتقریباً چھ ہفتے بعد گھر آیا تھا اور کلیرل کواس نے اس کے حال پر چھوڑ دیاتھا وہ سخت محنت کرتی تھی اپنے گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ وہ اپنی کافی‘ کیک اور سوئیٹس کی شاپ بھی سنبھالتی تھی جس کانام اس نے بڑے پیار سےDeath by chocolate رکھاتھا یہ علاقے کی واحد بیکری تھی جو آرڈر پر بھی کیک وغیرہ تیار کرتی تھی ۔ گھر میں واپس آتے ہوئے اس کی بلی اس کے پیروں سے لپٹ گئی تھی اور وہ اسے پیار کرنے لگی تھی۔
’’کٹی!‘‘ اچانک اسے پولا کے بیٹے زیچ کی آواز سنائی دی تھی جسے پولاگود میں لیے کھڑی تھی۔
’’ہیلو زیچ کیسے ہو؟‘‘ کلیرل نے پیار سے اس کے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ‘پولااپنا بیکری میں کام کرنے کا یونیفارم پہنے ہوئی تھی۔ وہ بیکری میں کلیرل کاہاتھ بٹاتی تھی جس کی اجرت کلیرل اسے دیتی تھی پولا عادتاً بہت نفیس تھی اس کالہجہ بات کرتے ہوئے ہمیشہ نرم ر ہتاتھا‘ اس کی پہلی ملاقات پولا سے ایک سال پہلے ہوئی تھی، تب پولاان کے دیئے ہوئے اشتہار کو دیکھ کرآئی تھی جو انہوں نے کرائے کے گھر کے لیے دیاتھا وہ بہت پرانی کار میں آئی تھی جو چلتے ہوئے ڈھیروں دھواں چھوڑتی تھی اوراس کی کار کی حالت دیکھتے ہی رک نے کہہ دیاتھا کہ وہ اسے گھر کرائے پرنہیں دے گا اور کلیرل کابھی یہی خیال تھا لیکن جب پولا کار سے ایک خوبصورت سے بچے کو لیے ہوئے برآمد ہوئی تو کلیرل اسے مکان دینے سے انکار نہ کرسکی اس کابچہ بہت پیاراتھا‘ اور پولا بھی اسے ضرورتمند لگی تھی جب پولا نے اس کے قریب آکر آنکھوں سے سیاہ چشمہ اتارا تھاتو اس کی آنکھوں کی اداسی کلیرل سے نہ چھپ سکی تھی اس کے ماتھے پر ایک زخم بھی تھا جسے اس نے میک اپ سے چھپانے کی کوشش کی تھی اس کی آنکھوں میں اداسی کے ساتھ ساتھ کلیرل کوخورف کی جھلک بھی نظر آئی تھی۔ کلیرل کو اندازہ ہوگیاتھا کہ اگر اس نے پولا کوگھر کرائے پر نہ دیااوراسے مایوس واپس بھیج دیاتووہ کافی عرصے تک افسوس کرتی رہے گی اوراس ضرورتمند لڑکی کوبھلا نہیں سکے گی۔ نہ جانے کیوں کلیرل کومحسوس ہو رہاتھا کہ پولا کے ماتھے پر موجود زخم گرنے سے نہیں پڑاتھا، پھرجب وہ چاروں اس گھر کے لونگ روم میں داخل ہوئے تھے جو پولا کوکرائے پر دینا تھا تو پولا نے سب سے پہلے یہ پوچھاتھا کہ کیااس گھر سے باہر جانے کا کوئی پچھلا راستہ بھی ہے ؟ اورپولا کے اس سوال پررک نے بڑے معنی خیز انداز میں کلیرل کی طرف دیکھاتھا۔
’’ہاں کچن میں پچھلا دروازہ ہے۔‘‘ کلیرل نے اسے جواب دیاتھا۔ ’’تم نے اچھا سوال پوچھا کیونکہ آگ لگنے کی صورت میں اس کی ضرورت پڑسکتی ہے۔‘‘ کلیرل نے خود ہی وضاحت کی پھرپولانے کرائے نامے پر دستخط کیے تھے اوراس پراپنااور بچے کانام زنچ لکھاتھا اس کے علاوہ اور کچھ اندراج نہیں کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ ابھی کیلیفورنیا سے آئی ہے۔ اس کے پاس کوئی ملازمت نہیں ہے اس کے شوہر کاانتقال ہوگیاہے۔ اس کے والدین بھی فوت ہوچکے ہیں او روہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ یہ سب جاننے کے بعد رک اسے مکان کرائے پر دینے کے لیے تیار نہیں تھااس کاخیال تھا کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں لیکن کلیرل کا دل انسانی ہمدردی سے بھراہواتھااوراس نے کچھ دیر کی بحث کے بعد رک کو آمادہ کرلیاتھا کہ مکان پولا کو دے دیا جائے، پھرپولا نے انہیں ایک ماہ کاایڈوانس اور کچھ ڈپازٹ کی رقم بھی دی تھی اوراپنے بچے اور دوسوٹ کیسوں کے ساتھ گھر میں شفٹ ہوگئی تھی۔ اس نے کہاتھا کہ اس کافرنیچر بعد میں آجائے گا لیکن کلیرل کاخیال تھا کہ شاید ایسانہ ہو۔
جب پولا نے رقم ادا کی تھی تو کلیرل نے اندازہ لگایاتھا کہ اس کے پاس زیادہ رقم باقی نہیں بچی تھی‘ چنانچہ پولا کو اس نے بیکری کی ملازمت کی آفر کردی تھی جسے پولا نے فوراً ہی قبول کرلیاتھااور کلیرل نے یہ سوچ کر جاب آفر کی تھی کہ اگر پولا کوئی مجرم بھی ہوئی تب بھی اس کابچہ رحم کامستحق ہے‘ اسے خوراک کے لیے رقم کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ رک نے ملازمت دینے کی بھی مخالفت کی تھی لیکن کلیرل نے اسے خاموش کردیاتھا۔
’’ہمارا بیکر ی کا کاروبار بڑھتاجارہاہے اورمجھے ایک مددگار کی ضرورت ہے مجھے اوپر کے کام کے لیے تو کسی کورکھناہی ہوگامیں ویسے بھی اخبار میں اشتہار دینے کے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن میرے پاس بار بار لوگوں سے انٹرویو لینے کا وقت بھی نہیں ہے۔‘‘ اس کے اصرار پررک خاموش ہوگیاتھااور پھر پولا نے اتنی مہارت سے Death by chocolate کاکام سنبھالاتھا کہ وہ کچھ ہی عرصے میں بہت مشہور ہوگئی تھی اور اب لوگ وہاں صبح کاناشتہ کرنے بھی آنے لگے تھے انہیں بھی پولا ہی سنبھالتی تھی۔
کلیرل کی بیکنگ میں چاکلیٹ کے ساتھ چیزیں بنانا شامل تھا وہ زیادہ تربنیادی برائونی کی ریسپی فالو کرتی تھی اور تمام اشیاء بہت شاندار اور مزیدار بناتی تھی وہ اپنی ترکیبیں ہر کسی کو نہیں بتاتی تھی کیونکہ جب وہ خود بھی بیکنگ کررہی ہوتی تھی تو مختلف قسم کی تبدیلیاں کرتی رہتی تھی اسے لگتاتھا جیسے اس کے ہاتھوں میں جادو ہے پھرجب پولا کے آنے کے بعد Death by chocolate کوشہرت ملی تو کلیرل نے کچھ مزید آئٹم کا اور اضافہ کرلیا‘اب وہ گارمنٹ کافی اور دارچینی والے رولزبھی بنانے لگی تھی اس کی چاکلیٹ پیسٹری بھی بہت اچھی ہوتی تھی۔ لنچ کے وقت وہ سینڈوچز بھی پیش کرتی تھی اور پھراس نے خوش ہو کر پولا کو پارٹنر شپ آفر کردی تھی لیکن جب اس مقصد سے معاہدے کے کاغذات پرکرنے کی باری آئی تھی تو پولا ان پراپنے کوائف لکھتے ہوئے جھجکی تھی اور کلیرل نے موقع پر ہی اسے اس کے حصے کی آدھی ادائیگی بھی کردی تھی۔
سارا سارا دن ایک ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ کلیرل اپنی ہربات پولاکوبتاتی تھی جبکہ پولا نے اس سے اپنے سارے راز چھپائے ہوئے تھے۔ کلیرل اس کے رازوں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی لیکن اس نے کبھی پولا سے زبردستی نہیں کی تھی اوراسے اس بات کااحساس تھا کہ شاید پولااس پربھروسہ نہیں کرتی۔
آج بھی جبکہ رک اس کے بیڈ پرسورہاتھا اسے پولا کو دیکھ کرخوشی ہوئی تھی اور وہ اس سے باتیں کرنے کے لیے رک گئی تھی وہ اکثر اپنے اوررک کے معاملات پر اس کے ساتھ بات کرتی تھی اور پولا کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں۔ پولااپنے حصے سے زیادہ کام کرتی تھی اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کلیرل کاکام بھی کرلے اوراسے آرام پہنچائے۔
’’آئو زیچ ہم چلتے ہیں آنٹی کے گھر مہمان آئے ہیں۔‘‘ پولا نے اپنے بیٹے کاہاتھ پکڑ کر واپس جاتے ہوئے کہااس نے رک کی گاڑی قریب کھڑی دیکھ لی تھی۔
’’نہیں تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ کلیرل نے جلدی سے کہا۔ وہ اس وقت رک کے ساتھ تنہا رہنا نہیں چاہتی تھی۔
’’تم ٹھیک ہو؟‘‘ اس کی بات سن کر پولا رک گئی تھی اورفکرمندی سے پوچھاتھا۔
’’میں؟ہاں… میں ٹھیک ہوں… سب ٹھیک ہے… کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ کلیرل نے ہکااور جلدی سے گھر کی طرف مڑگئی۔
’’اگر چاہوتو میرے ساتھ ناشتہ کرسکتی ہو‘ میرے پاس کافی کیک ہیں۔‘‘ پولا نے جاتے جاتے کہاتھا۔
اس کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کلیرل نے اندازہ لگایاتھا کہ پولا کے بالوں کارنگ سنہرا نہیں تھابلکہ اس کے بال ہلکے برائون تھے جنہیں اس نے سنہرا ڈائی کیاہواتھااور اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسے پھر ڈائی کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اس کا برائون کلر بالوں کی جڑوں میں چمکنے لگاتھا جبکہ اس کے بیٹے کے بال واقعی سنہرے تھے۔ پولامیک اپ بھی بالکل نہیں کرتی تھی اور سادگی پسند تھی لیکن نہ جانے کیوں کلیرل کواس کی شخصیت پراسرار سی لگتی تھی۔
پولا گھر کے جس حصے میں رہتی تھی وہ بھی کلیرل کے گھر کی طرح دومنزلہ ہی تھا۔ اس پرسفید رنگ تھا اس کی چھت اونچی اور تختوں سے بنی ہوئی تھی۔ پولا نے اس گھر میں شفٹ ہونے کے بعد اس کے تمام لاکس بدلوادیئے تھے اور اچھی قسم کے اسٹیل کے بنے نئے لاک لگائے تھے وہ ہروقت گھر کی کھڑکیاں بند ہی رکھتی تھی۔ اس کاسارا فرنیچر بھی نیاتھا جواس نے یہاں شفٹ ہونے کے بعد خریداتھا اس کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے گھر میں رہنے کے بجائے اس کے پیچھے بنے لان میں زیادہ وقت گزارے۔ گھر میں جاتے ہی پولا نے جالی کادروازہ بند کرکے اندر سے لکڑ ی کادروازہ بھی بند کرلیاتھا ۔ کلیرل کو یہ بات بڑی عجیب لگتی تھی کہ وہ کنساس میں اچھا موسم ہونے کے باوجود بھی اس سے لطف اندوز ہونے کے بجائے دروازے کھڑکیاں بند رکھتی تھی اور تازہ ہواسے محروم رہتی تھی۔ وہ اسے لونگ روم میں چھوڑ کر کچن میں غائب ہوگئی تھی اور زیچ نے کھیلنے کے لیے ایک پیلے رنگ کاٹرک اٹھالیاتھا اور اپنے منہ سے انجن جیسی آوازیں نکال رہاتھا۔ وہ قالین پر آگے پیچھے بھاگتا پھررہاتھا۔ جیسے وہ خود ٹرک ہو۔ کلیرل بھی اس کے کھیل میں شامل ہوگئی تھی اور زیچ زور زور سے ہنسنے لگاتھا کچھ ہی دیر میں پولا ٹرے میں کیک رکھے لونگ روم میں آگئی تھی اور کلیرل زیچ کوگود میں اٹھائے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ پولانے ٹرے کافی ٹیبل پررکھ دی تھی جس میں بیکری کے کل کے بچے ہوئے کچھ کوکیز تھے اور ایک کوک کی بوتل تھی کیونکہ پولا جانتی تھی کلیرل کوکوک بہت پسند ہے اور وہ چائے کی جگہ کوک ہی لیتی ہے۔ حالانکہ شروع شروع میں پولا نے اسے بہت منع بھی کیاتھا کہ وہ ناشتے میں کوک اور چاکلیٹ کوکیز نہ لیا کرے لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بھی اسے وہی پیش کرنے لگی تھی۔ ٹرے میں پولا کا کافی کاکپ بھی موجود تھا اور بغیر چاکلیٹ کے کچھ بسکٹ بھی تھے جووہ اپنے اور زیچ کے لیے لائی تھی اس کے علاوہ ایک اسٹراوالا گلاس بھی تھا جو کلیرل نے زیچ کو گفٹ کیاتھااوراسے وہ بہت پسند تھا جو کچھ بھی کلیرل پیتی تھی وہ بھی اس اسٹرا والے گلاس میں وہی ڈلوا کر پیتاتھا۔
’’رک نے رات ایک پیپرونی پیزا کاآرڈردیا تھا مجھے خوش کرنے کے لیے تاکہ میں اسے یہاں رکنے دوں۔‘‘کلیرل نے پولا کو بتایا جس پرپولانے اثبات میں سرہلایا وہ اپنی کافی پیتی رہی تھی۔
’’تم نے پوچھا نہیں کہ کیا ہم پھراکٹھے رہنا چاہتے ہیں؟‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’نہیں‘ میں یہ نہیں کہہ سکتی… وہ بدلے گانہیں… اگرتم دوبارہ اس کے ساتھ رہوگی تووہ تمہیں پھر دکھ ہی دے گا۔‘‘ پولا نے تجربہ کارانہ انداز میں کہا جس سے کلیرل کواندازہ ہوا کہ اس کے ماضی میں بھی شاید اسے کبھی ایسے ظالم شوہر کاسامنا رہاہو جس سے وہ خوفزدہ ہواوراسے ڈرہو کہ کہیں وہ اسے ڈھونڈ کر پھرسے تکلیف نہ پہنچائے اوراس کے چہرے پرایک اور زخم کانشان نہ ڈال دے۔ کلیرل نے سوچا نہ جانے پولا کے جسم پر ایسے اور کتنے نشان کہاں کہاں ہوں گے؟ وہ جو لمبی آستینوں کی شرٹس پہنتی ہے ان کے نیچے کیا چھپارہی ہے اور لمبے لباس کے ساتھ گھٹنوں تک موزے کیوں پہنتی ہے؟ کلیرل اس کوبغور دیکھ رہی تھی وہ اس کے چہرے پرلگے ماسک کے پیچھے دیکھنا چاہتی تھی کہ اس نے کلیرل سے کیا چھپا یاہوا ہے لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہتی تھی۔ وہ اپنے دل میں غموں کوچھپانے کے باوجود ہمیشہ اپناسرباوقار انداز میں اونچا اٹھا کررکھتی تھی۔
’’میں جانتی ہوں رک کبھی نہیں بدلے گا۔‘‘ کلیرل نے جواب دیا۔
’’کیاتم اب بھی اسے چاہتی ہو؟‘‘ پولانے پوچھا، جس کاجواب دینا کلیرل کے لیے مشکل تھا۔ اس نے خود سے بھی یہ سوال کئی بار پوچھاتھا لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ اس نے رک سے شادی کے بعد کافی عرصہ بہت خوشگوار گزارا پھروہ دونوں زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں لگ گئے اور کام کی زیادتی میں ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے لیکن اتنے مصروف بھی نہیں تھے کیونکہ رک کوپھر بھی مفی سے ملنے کاوقت مل جاتاتھا۔
’’میں اس سے اتنی محبت نہیں کرتی جتنی کہ چاکلیٹ اور کیک سے کرتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے دکھی مسکراہٹ چہرے پرسجاتے ہوئے جھوٹ بولااور اسے لگا کہ اس نے بھی تو پولا کی طرح اپنے چہرے پرایک نقاب ڈالاہوا ہے اسی وقت دروازے پردستک ہوئی اور پولا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس کاچہرہ یکایک زرد نظر آنے لگا جیسے وہ خوفزدہ ہوایسا اس کے ساتھ بیکری میں کام کرتے ہوئے بھی ہوتا تھا جب کوئی نیاگاہک بیکری میں داخل ہوتاتھا‘بیکری میں اکثر زیادہ ہی گاہک آتے تھے اوروہ کسی حد تک اس کی عادی ہوگئی تھی لیکن گھرپرآنے والوں سے وہ اب بھی خوفزدہ ہوجاتی تھی ویسے اس کے گھر کلیرل اور پوسٹ مین کے علاوہ کوئی آتابھی نہیں تھا‘ مگرآ ج اتوار تھااور اتوار کو وہاں پوسٹ مین نہیں آتا تھا‘ پولا نے اپنا کافی کاکپ ٹیبل پررکھ دیاکچھ کافی چھلک گئی تھی کیونکہ اس کاہاتھ کانپ رہاتھا۔
’’میں دروازہ کھولتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہااور زیچ کو اپنی گود سے اٹھا کراسے دے دیااور آگے بڑھ گئی پولا کچھ نہیں بولی تھی۔
کلیرل نے دروازہ کھولا تو دوپولیس آفیسرز سامنے کھڑے تھے ایک سادہ کپڑوں میں تھااور دوسرا یونی فارم میں۔ یونیفارم والا شخص دیکھنے میں بہت خوش مزاج اور کم عمر لگ رہاتھااوراس کے انداز میں کچھ شرمندگی بھی تھی جیسے کسی کی اتوار کی صبح مداخلت کرنے پرشرمندہ ہو‘ سادہ کپڑوں والے شخض نے اپنا بیج نکال کرانہیں دکھایا۔
’’پولیس؟‘‘ اس نے کہا وہ دونوں کلیرل کے بکھرے ہوئے بالوں اور ننگے پیروں کو دیکھ رہے تھے وہ بھی انہیں اسی طرح دیکھنے لگی۔
’’کیاتم پولا والٹرز ہو؟‘‘ وردی والے شخص نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ کلیرل نے کہااس کے ساتھ ہی اسے احساس ہوا کہ کمرے میں صوفے پربیٹھی پولامزید خوفزدہ ہوگئی تھی جبکہ کلیرل اپنے ذہن میں اندازے لگارہی تھی کہ پولیس کیوں آئی ہے‘ یہ تیز رفتار گاڑی چلانے کامعاملہ نہیں ہوسکتاتھا کیونکہ پولابہت محتاط ڈرائیور تھی اوراچھی ڈرائیونگ کرتی تھی۔
’’کیا پولا والٹرز یہاں ہیں؟‘‘ سادے کپڑے والے شخص نے پوچھا اس کے چہرے پر کسی حد تک کرختگی نظر آرہی تھی۔
’’ہاں۔‘‘
’’کیاہم اس سے بات کرسکتے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھااور کلیرل نے مڑ کرپولا کی طرف دیکھا جو صوفے سے کھڑی ہوچکی تھی اس نے زیچ کواتنی زور سے پکڑاہواتھا کہ اس کے ناخن سفید ہوگئے تھے چہرے پر خوف تھااور آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اچانک کلیرل کوبے بسی کااحساس ہوااور وہ سوچنے لگی کہ کاش اس نے کسی طرح پولا کواپنے راز اسے بتانے کے لیے آمادہ کرلیا ہوتا توآج وہ کسی نہ کسی طرح اس کی مدد کرسکتی تھی ایسے ہی جیسے اس نے اپنی زندگی کوریٹ کرلیاتھا پولا آہستہ آہستہ چلتی دروازے کے قریب آگئی تھی اور زیچ کوکلیرل کی گود میں دے دیاتھا۔
’’پیس…مین…‘‘ زیچ نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پولیس مین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… زیچ یہ پولیس مین ہیں… پولیس مین ہمارے دوست ہوتے ہیں۔‘‘ کلیرل نے اسے بتایا وہ ماحول کوخوشگوار بنانے کی کوشش کررہی تھی جس کی اس کے خیال میں پولا کو ضرورت تھی۔
’’میں پولا والٹرز ہوں۔‘‘ پولا نے دروازے کے سامنے آتے ہوئے کہا۔ وہ بہادری سے سیدھی کھڑی تھی لیکن اس کی آواز کمزور اورہلکی تھی۔
’’کیاایک منٹ کے لیے ہم تم سے بات کرسکتے ہیں؟‘‘ سادہ کپڑوں والے نے پوچھااور پولا نے اس کا جواب دینے کے بجائے گھبرائے ہوئے انداز میں پیچھے کی طرف دیکھا جیسے فرار کاراستہ ڈھونڈ رہی ہو۔ اسی وقت کلیرل کے دماغ میں اس کاسوال گونجا جواس نے گھر کرایئے پر لیتے ہوئے پوچھاتھا۔’کیاگھر کے پچھلے حصے میں کوئی اور راستہ ہے ؟‘‘ کلیرل کولگاجیسے اس کادل ڈوب جائے گا اس نے سوچا کہ کیا معاملہ ہے؟ کیا پولا ایک ظالم شوہر سے خوفزدہ ہے؟ کیااس کے بارے میں رک کی رائے درست تھی؟ کیاوہ کوئی مفرور ہے یا کوئی قاتلہ ہے؟ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ معصوم سی پولا یہ سب نہیں کرسکتی تھی لیکن جس انداز سے پولا پولیس والوں کے سامنے کھڑی تھی وہ کسی طرح بھی معصوم نہیں لگ رہی تھی اس نے اب بھی اسکرین ڈور نہیں کھولا تھا جالیوں میں سے باہر جھانک رہی تھی وہ خوفزدہ تھی اور شاید خود کو مجرم بھی سمجھ رہی تھی۔
’’میرانام آدم ٹرینٹ ہے۔‘‘ سادہ کپڑوں والے نے کہا۔ ’کیا ہم اندر آسکتے ہیں؟‘‘ اس کی آواز میں سختی تھی۔پولاکارنگ مزید زرد ہوگیا کلیرل کولگاجیسے پولا بے ہوش ہوجائے گی اس کادل چاہا کہ وہ ان پولیس والوں کواندر آنے سے منع کردے اورانہیں بتائے کہ وہ بغیر کسی سرچ وارنٹ کے اندر نہیں آسکتے اسے امید تھی کہ وہ وارنٹ نہیں لائے ہوں گے‘ پولیس آفیسر خاموشی سے باہر کھڑے منتظر تھے‘ آخر کار پولانے ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیااور اسکرین ڈور کھولا پھرمیکانکی اندا ز میں پیچھے ہٹتے ہوئے انہیں اندر آنے کاراستہ دیا تھااوروہ اندر آگئے تھے ۔
’’میں جاسوس آدم ٹرنیٹ ہوں۔‘‘ سادہ کپڑوں والے نے کہا۔ ’’اور یہ آفیسر ڈونالڈ گریگ ہے میں تم سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتاہوں۔‘‘ اس نے کہا تو پولا نے اثبات میں سرہلایا۔
’’تم لیسٹرمیکی کے بارے میں کیا جانتی ہو؟‘‘
’’لل…لیسٹر…؟‘‘ پولا نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
’’جی میم لیسٹر میکی۔‘‘
’’لیسٹر میکی۔‘‘ پولا نے دہرایااور پولیس افسران ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کلیرل دل ہی دل میں پولا کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی کہ وہ کوئی حماقت نہ کربیٹھے۔
’’جی میم… لیسٹر میکی…آپ ہمیں اس کے بارے میں کیا بتاسکتی ہیں؟‘‘
’’میں اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتی۔‘‘ پولا نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
’’دراصل ہم مسٹر میکی کوڈھونڈ رہے ہیں اگرتم ہمیں اس کے بارے میں کچھ بتائوگی تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘ اس کے لہجے کی سختی بڑھ گئی تھی اوراس کے انداز سے لگ رہاتھا کہ وہ سمجھ گیاتھا کہ پولا اس سے جھوٹ بول رہی ہے جبکہ کلیرل کوپولاپریقین تھا۔
’’میں لیسٹرمیکی کے نام کے کسی شخص کو نہیں جانتی۔‘‘پولا نے کہا۔
’’تم آرام سے سوچ کر بتائو ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔‘‘ ٹرینٹ نے کہا۔
’’مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے میں اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتی۔‘‘ پولا نے کہااور کلیرل نے دل ہی دل میں اس کی تعریف کی اب اس میں بہادری آرہی تھی۔
’’اگرتم لیسٹر میکی کونہیں جانتی ہو تو اس کے اپارٹمنٹ میں ایک کاغذ پر تمہارا نام اور نمبر لکھاکیوں موجود تھا؟‘‘آفیسرنے کہا اورپولا کے چہرے سے ساری بہادری غائب ہوگئی‘ کلیرل جانتی تھی کہ پولا کااپنا نمبر تھا جسے وہ کلیرل کودیتے ہوئے بھی جھجک رہی تھی پھراس کانمبر لیسٹر کے پاس کیوں تھا؟ اس کا مطلب تھا کہ وہ اسے جانتی تھی۔
’’میرے گھر کافون نمبر؟‘‘ پولانے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’پتہ نہیں اس کے پاس ہو کیوں تھایااسے وہ نمبر کہاں سے ملاتھا؟‘‘
’وہ نمبر فہرست میں نہیں ہے چنانچہ تم نے ہی اسے دیا ہوگا۔‘‘
’’میں نہیں جانتی… میں قسم کھاتی ہوں… میں نے کبھی لیسٹر میکی کے بارے میں نہیں سنا۔‘‘
’’کل رات 8بجے سے 9بجے کے درمیان تم کہاں تھیں ؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا وہ اس کی گھبراہٹ کافائدہ اٹھانا چاہتاتھا‘ کلیرل نے یہ محسوس کرتے ہی زیچ کوفرش پرکھڑا کیااورخود آگے آئی پھر وہ پولا کے آگے ٹرنیٹ کے قریب آکھڑی ہوئی تھی۔
’’کیامس والٹرز کواپنے وکیل کوکال کرنے کی اجازت ہے ؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’اس کاانحصار اس بات پر ہے کہ کیامس والٹرز نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے ؟‘ آفیسر نے کہااور کلیرل نے سوچاکہ بھلا وہ اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہے؟
’’اگر تم سمجھتے ہوکہ اس نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تو یہاں اسے تنگ کرنے کیوں آئے ہو؟‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’میں صرف ایک گمشدہ شخص کی رپورٹ چیک کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’گمشدہ شخص کی رپورٹ؟ توگویا لیسٹرمیکی گمشدہ ہے‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’اگروہ اپنے گھر میں ہوتاتومجھے اسے ڈھونڈنے کی ضرورت نہ ہوتی۔‘‘ آفیسر نے جواب دیا۔
’’تم نے پولا سے پوچھا کہ وہ کل رات 9 اور8 بجے کے درمیان کہاں تھی کیااس کامطلب یہ ہے کہ لیسٹرمیکی اس وقت غائب ہوا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔ ’’تم نے اڑتالیس گھنٹے بھی انتظار نہیں کیا؟ اور گمشدہ لوگوں کے ریکارڈ میں بھی نہیں دیکھا کہیںتم ہی تو غلطی نہیں کررہے ہو؟‘‘ کلیرل نے پوچھا وہ ایسے جاسوسی شوبہت شوق سے دیکھتی تھی اوراس طرح کی معلومات رکھتی تھی۔
’’اب سوال پوچھنے کی باری میری ہے۔‘‘ جاسوس ٹرنیٹ نے کلیرل کی بات کاجواب دیئے بغیر کہا۔
’’ٹھیک ہے پوچھو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’میں تمہارے سوال کاجواب دوں گی میں ساری رات گھر پرہی تھی ۔‘‘پولا نے بیچ میں مداخلت کی۔’’میں کام سے چار بجے کے بعد واپس آئی تھی پھرزیچ کواس کی بے بی سسٹر کے پاس سے لے کرپارک لے گئی تھی اور کل رات 6 بجے تک اپنے گھر آگئی تھی۔‘‘
’’تم اکیلی تھیں ؟‘‘
’’ہاں‘ بالکل سوائے میرے بیٹے کے میرے ساتھ کوئی نہیں تھا۔‘‘
’’تم یہ سب کیوں جاننا چاہتے ہو؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔ ’’یہ لیسٹر میکی کون ہے ؟ اوراس کے ساتھ کیا ہواہے ؟ اورتم اس کی گمشدگی کے بارے میں اتنی تحقیقات کیوں کررہے ہو؟‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘ ٹرنیٹ نے غصے میں اس سے پوچھا۔
’’میں کلیرل پائول ہوں…اس کی بہن۔‘‘ کلیرل نے پولا کی طرف اشارہ کیا۔
’’نہیں… یہ غلط ہے اس کی کوئی بہن نہیں ے۔‘‘ پولیس آفیسر نے کہااور کلیرل کوحیرت ہوئی کہ وہ پولا کے ماضی کے بارے میں بھی معلومات رکھتے تھے۔
’’بہرحال‘ میں اس کی قریبی دوست ہوں۔‘‘
’’لیسٹرمیکی کے اپارٹمنٹ سے ہمیں جو کاغذ ملا ہے جس پر پولا کانام اور فون نمبر لکھاہے اس کے نیچے کل کی تاریخ اور وقت لکھا ہے جس کے بعد مسٹر میکی کسی اپارٹمنٹ پرچلے گئے تھے اور واپس نہیں آئے ہیں اس کے اپارٹمنٹ منیجر نے کال کرکے بتایاتھا۔‘‘
’’اگر کوئی کہیں سے ٹائم پرواپس نہ پہنچے تو اس کایہ مطلب نہیں کہ اندازوں پرلوگوں کوتنگ کرنا شروع کردیاجائے۔‘‘ کلیرل نے کہااس کے ذہن میں وہ دن تھے جب رک کی وجہ سے وہ پریشان رہتی تھی‘ اور بہت آرام سے پولیس کواس کی تلاش میں لگاسکتی تھی اسی وقت زیچ نے اپنا پیلاٹرک اٹھایااور پھر کھیلنے میں مصروف ہوگیا پولا نے فوراً اسے دوسرے کمرے میں جانے کی ہدایت کی تھی۔
’’میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی نہ ہی میں لیسٹر کوجانتی ہوں اور کل رات میںاپنے گھر پرتھی مجھے افسوس ہے میںتمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی۔‘‘ پولا نے کہااور دروازے تک جاکردروازہ کھول دیا تاکہ پولیس افسران باہرچلے جائیں ‘کلیرل کواس کی بہادری پرحیرت ہوئی تھی۔
’’کیاکوئی گواہ ہے کہ تم کل ساری شام یہاں تھیں؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔ ’’تم اس بارے میں کیا کہتی ہو قریبی دوست؟‘‘ اس نے کلیرل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں… میں کل مصروف تھی۔‘‘ کلیرل نے کہا کیونکہ کل ساری شام رک اس کے ساتھ موجود تھااوراس بارے میں پولیس کوبتانے کی ضرورت نہیں تھی ان کااس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
’’اگر تمہیں کچھ یاد آجائے تو مجھے کال کرنا۔‘‘ ٹرنیٹ نے اپنے جیب میں کچھ کارڈ نکال کرا ن میں سے ایک پولا کودیتے ہوئے کہا پھراس نے ایک کارڈ کلیرل کوبھی دیاتھا۔
’’تم بھی …‘‘ اس نے کہااور کلیرل نے مسکراتے ہوئے کارڈ لے لیا۔
پولیس افسران کے جاتے ہی پولا نے پھردروازہ بند کرکے لاک لگالیے تھے۔ کلیرل صوفے پر بیٹھ کربسکٹ کھانے لگی تھی اور پولا گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
’’یہ سب کیاتھا؟‘‘ کلیرل نے اس سے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتی۔‘‘ پولانے کہااور اپنے بیٹے کی طرف مڑی۔’’زیچ؟‘‘ اس نے بیٹے کوڈانٹا جو ایک جامنی رنگ کاڈائنا سور لے کر کمرے میں بھاگتا پھررہاتھا پولا نے اسے پکڑ کر صوفے پربٹھالیا تھا پھروہ چاکلیٹ کوکی کھانے میں مصروف ہوگیاتھا۔
’’کیاتم کسی پریشانی میں ہو؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔ ’’مجھے بتائو پولامیں تمہاری دوست ہوں… میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کہالیکن پولا نے سرنفی میں ہلادیاوہ صوفے پر بیٹھی اپنی انگلی کاناخن چبارہی تھی۔
’’کیا تمہارا شوہر تمہیں مارتاتھا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا اور پولا نے تیزی سے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’پلیز یہ بات مت کرو کلیرل۔‘‘ پولانے دکھ سے کہا۔
’’دیکھو پولا مجھے اندازہ ہوگیاہے کہ تمہارے ماتھے پرجونشان ہے وہ تمہارے شوہر ہی نے ڈالا ہے جسے تم چھپانے کی کوشش کرتی ہو اور یہ بھی میں جان گئی ہوں کہ تم اس سے چھپ رہی ہو‘ اب باقی کہانی تم مجھے خود بتادو۔‘‘
’’میری زندگی میں آنے والی تم میر ی بہترین دوست ہو‘ میں تمہاری مشکور ہوں کہ تم نے مجھے رہنے کی جگہ کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی دی‘ تم نے میری اور زیچ کی زندگی بچائی ہے اور ہمیشہ میری مدد کی ہے میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی اور اگر تمہیں ضرورت پڑی تو تمہارا ساتھ بھی دوں گی لیکن میں تمہیں اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتی۔‘‘
’’اچھا! ٹھیک ہے… چلوتم نے پہلی بار یہ تو تسلیم کیا کہ تمہارا کوئی ماضی ہے جس سے تم پیچھا چھڑانا چاہتی ہو۔‘‘کلیرل نے کہااور پولااس کی بات کاجواب دینے کے بجائے اپنے ہونٹ چبانے لگی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور کلیرل نے اس ٹاپک پرمزید بات کرنامناسب نہیں سمجھاتھا۔
’’اچھا! میں چلتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ رک کوگھر سے نکالنے کے لیے کیا کرسکتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور زیچ پرجھک گئی۔
’’آنٹی کو پیار کرو۔‘‘ اس نے کہا اور زیچ نے جھٹ اس کے گال پر پیار کرلیا۔
’’پولا… میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں تم سے ناراض نہیں ہوں کہ تم نے مجھے اپنی زندگی کے دکھوں کا شریک نہیں کیا لیکن اگر تمہیںکبھی میری مدد کی ضرورت پڑی تو میں ضرور تمہاری مدد کروں گی۔‘‘ کلیرل نے کہا اور جانے کے لیے مڑی۔
’’اپنے سنہرے بالوں کوپھر ڈائی کرلینا ان کابرائون کلر جھانک رہا ہے۔‘‘ کلیرل نے جاتے جاتے کہا وہ پولا کو بتانا چاہتی تھی کہ اس کے بالوں کے ڈائی کرنے کی وجہ وہ جان گئی ہے۔
’’تمہارا خیال ہے انہوں نے یہ بات نوٹ کی ہوگی؟‘‘ پولا نے اس سے بے ساختہ پوچھا۔
’’میں کچھ کہہ نہیں سکتی لیکن مرد اس بارے میں خاصے بے پروا ہوتے ہیں لیکن ٹرینٹ خاصا مختلف ہے۔ تمہیں جب بھی مدد کی ضرورت ہوتم جانتی ہو میں کہاں رہتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کہااور پولا نے اثبات میں سرہلایا۔
’’شکریہ۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے کلیرل سوچ رہی تھی کہ اب اسے رک سے جان چھڑانا ہے اسے اپنی اور پولا کی کہانی ایک جیسی لگ رہی تھی اسی لیے وہ اس کی مدد بھی کرنا چاہتی تھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس کی پالتوبلی بھی اس کے ساتھ اندر داخل ہوگئی تھی رک ناصرف اٹھ چکاتھا بلکہ اس کے باتھ روم سے نہا کرتیار ہو کرنکلاتھا اس نے ناشتہ بھی کرلیاتھا اور اب اس کے دل پسند مگ سے کافی پی رہاتھا جس پرکلیرل نے اپنی پسند سے لکھوایاتھا۔’’زندگی کابھروسہ نہیں چاکلیٹ سے لطف لو۔‘‘
’’جائو…اپنے گھر جائو رک۔‘‘ کلیرل نے رک کو دیکھتے ہی کہا۔
’’ہاں بلی … جائو اپنے گھر جائو۔‘‘ وہی بات رک نے بلی سے کہہ دی وہ کلیرل کامذاق اڑارہاتھا۔
’’میں تم سے بات کررہی ہوں… رک کوئین میری پسندیدہ بلی ہے’’بلیو کوئن‘‘ یہ یہاں رہے گی اورتم جائوگے۔‘‘ کلیرل نے کہاپھر کافی دیربحث کے بعد اس نے رک کووہاںسے جانے پر مجبور کردیاتھا رک اپنا سوٹ کیس اٹھاکرچلاگیاتھا لیکن پھر آنے کااشارہ دے گیاتھا۔
کلیرل اپنی دوست پولا کے لیے بہت پریشان تھی وہ کسی ایسے شخص سے اس کے بارے میں مشورہ کرناچاہتی تھی جس پروہ اعتماد کرتی ہواوراس شخص کاپولا کے معاملے سے کوئی تعلق بھی نہ ہو جووہ جانب داری سے کوئی رائے دے‘ اچانک اس کے ذہن میں اپنے پڑوسی فریڈ کاخیال آیا جو پولا کے گھر سے آگے رہتاتھااور ہر وقت اپنے کمپیوٹر کے ساتھ مصروف رہتاتھااس کے کوئی بچے نہیں تھے اوراس کی بیوی کاانتقال ہوچکاتھا‘ کلیرل سے اس کی ملاقات اکثر وبیشتر ہوتی رہتی تھی رک کے جانے کے بعد کلیرل نے فریڈ سے ملنے کافیصلہ کیااور کوئین کو ساتھ لے کرفریڈ کے گھر پہنچی لیکن اس سے پہلے کہ وہ فریڈ کے بیرونی دروازے کی بیل بجاتی اس کی نظر فریڈ کے لان پرپڑی جو کلیرل کے لان کی طرح ویران پڑاتھا اس کے گرد احاطہ ہونے کی وجہ سے باہر سے اسے نہیں دیکھا جاسکتاتھااندرجگہ جگہ لمبی گھاس لگی تھی اورپولا کے گھر کی جانب کچھ جھاڑیاں بھی تھیں جو اس کے لان کوپولا کے لان سے جدا کررہی تھیں لیکن وہیں ایک کونے میں پیروں سے کچلی ہوئی تازہ گھاس نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی تھی اس نے قریب سے جگہ کاجائزہ لیاتھاوہاں سگریٹ کے کچھ باقی ٹوٹے پڑے ہوئے تھے جیسے نوعمر لڑکوں نے وہاں چھپ کرسگریٹ کے مزے لیے ہوں اور پی کرٹکڑے وہیں چھوڑ دیئے ہوں اس کے علاوہ ایک اور چیز اسے عجیب لگی تھی کہ وہاں موجود ایک جھاڑیوں کے سوراخ سے پولا اوراس کے گھر کی طرف دیکھا جاسکتاتھا یہ سوراخ نیاتھااور یوں لگ رہاتھا جیسے حال ہی میں اسے بنایا گیا ہوکلیرل کے ذہن میں اچانک فریڈ کا خیال آیا تھا کیونکہ وہ تنہا رہتاتھا تواسی کے لان سے اس کے علاوہ اور کون پولا یا کلیرل کوجھانک کردیکھ سکتاتھا‘ پھر بھی اس کا دل نہیں مانااوراس نے فیصلہ کیا کہ وہ فریڈ سے اس کے بارے میں ضرور بات کرے گی وہاں سے ہٹنے کے بعد اس نے فریڈ کے دروازے کی بیل بجائی تھی دروازہ چند لمحوں بعدہی کھل گیاتھا۔
’’ہیلو فریڈ۔‘‘ کلیرل نے خوش دلی سے کہا۔ ’’کیامیں کوئین کے ساتھ اندر آسکتی ہوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں؟‘‘ فریڈ نے خوش دلی سے کہا۔ ’’مجھے تمہاری بلی کوئین بہت پسند ہے اس کے مزاج بھی شاہانہ ہیں یہ تمہارے ہاتھ کے بنے چاکلیٹ ڈُنٹس بھی شوق سے کھاتی ہے۔‘‘ فریڈ نے اسے اندر آنے کاراستہ دیتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہارے لیے بھی چاکلیٹ بسکٹ اور کیک لائی ہوں کیونکہ تمہیں بھی میری بیکری کے یہ آئٹم پسند ہیں۔‘‘ کلیرل نے ہنستے ہوئے کہا پھروہ اس کے ساتھ کمرے میں آگئی تھی اور ایک ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں میں سے ایک پربیٹھ گئی تھی فریڈبھی وہیں بیٹھ گیاتھااور چاکلیٹ بسکٹ اور کیکس کاڈبہ کلیرل نے میز پررکھ دیاتھا۔
’’کیسے ہو فریڈ ؟تم سے کافی دن بعد ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ کلیرل نے گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا۔
’’تم جانتی ہو میں آفس کے بعد سارا وقت گھر پر ہی گزارتاہوں میرادوست میرا کمپیوٹر ہے یہ کبھی دھوکا نہیںدیتا۔‘ فریڈ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ کلیرل نے جواب دیا۔
’’آج صبح پولیس افسر پولاکے گھر آئے تھے؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ کلیرل نے کہااور کچھ دیر تک صبح کے واقعے کی تفصیلات فریڈ کوبتاتی رہی۔
’’میں بھی اکثر سوچتاتھا کہ ایک نوجوان لڑکی بھلااپنے برائون بالوں کو سنہرا ڈائی کیوں کرے گی؟‘‘ فریڈ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’تم نے بھی یہ بات نوٹ کی ہے ؟ جب وہ یہاں آئی تو اس نے کسی کا بھی حوالہ نہیں دیاتھااوررک اسے گھرکرائے پر دینے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن میں نے ضد کرکے اسے گھر کرائے پر دیا میرا خیال تھا کہ وہ ایک ظالم شوہر کے ظلم کاشکار ہے اوراس سے چھپنے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہی ہے تمہارا کیا خیال ہے ؟‘‘کلیرل نے پوچھا تو فریڈ نے اثبات میں سرہلایا۔
’’ہاں‘یہ بھی ممکن ہوسکتاہے… وہ خود کودوسروں سے بہت الگ تھلگ رکھتی ہے اوراپنے بچے کے بارے میِں بھی بہت محتاط ہے تم چائے لوگی؟‘‘ فریڈ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں پلیز۔‘‘ کلیرل نے کہااور جب فریڈ اس کے لیے چائے نکال رہاتھا تووہ اپنے لائے ہوئے تازہ اور گرم چاکلیٹ بسکٹس کے اوپر سے کورشیٹ اتاررہی تھی۔
’’تم بہت بہترین بسکٹ لائی ہو۔‘‘ فریڈ نے چائے کے کپ ٹیبل پررکھتے ہوئے کہااور پھربیٹھ گیا۔
’’میراخیال ہے اگرپولا چاہے تو اپنے مسئلے کے سلسلے میں ہماری مدد لینے کے لیے بات کرسکتی ہے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتی توہمیں خود سے مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ کلیرل نے کہا کچھ دیر بعد اس نے پھر فریڈ کومخاطب کیاتھا۔
’’تم نے اپنے لان میں لگی جھاڑیوں میں کوئی بات محسوس کی ہے ؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’کیابات؟‘‘
’’تمہاری لان کی جھاڑیوں میں ایک سوراخ بناہواہے جو تمہاری طرف سے خاصابڑااور دوسری طرف سے نامعلوم ساہے جیسے ادھر سے کوئی دوسری طرف نظر رکھتاہووہاں سگریٹ کے کچھ ٹکڑے بھی پڑے ہیں یہ نشانات زیادہ پرانے نہیں۔‘‘کلیرل نے کہااور فریڈ اٹھ کرکھڑکی تک گیا پھراس نے کافی دیر تک جھانک کرلان کاجائزہ لیاتھااور پھر واپس پلٹ آیا تھا۔
’’میرا خیال نہیں کہ پولیس اس کی نگرانی لان کی جھاڑیوں سے جھانک کر کرے گی یہ ان کاطریقہ کار نہیں ہے۔‘‘فریڈ نے کہا۔ ’ویسے وہ سامنے والامکان بھی خاصا مشکوک ہے جو ایک عرصے سے خالی پڑاہے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں لیکن یہ اس کے سابقہ شوہر یاکسی ایسے شخص کی حرکت ہوسکتی ہے جسے اس کوڈھونڈنے کی ذمہ داری دی گئی ہو‘ اس کا وہ فون نمبر جوبظاہر فہرست میں نہیں وہ کہیں نہ کہیں کسی فہرست میں توہوگا ورنہ وہ نمبر لیسٹرمیکی کے اپارٹمنٹ میں کاغذ پر لکھاہوا کیوں ملتا؟‘‘
’’کیاتم نے پولا کو لان کی جھاڑیوں میںموجود سوراخ کے بارے میں بتایاہے؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’ابھی تو نہیں‘ وہ ویسے ہی خوفزدہ ہے ‘میں اسے جب تک نہیں بتانا چاہتی جب تک مجھے یہ یقین نہ ہوجائے کہ واقعی اسے کسی خطرناک مقصد کے لیے بنایاگیاہے۔‘‘
’’چنانچہ جب تک ہمیں یقین نہ ہوجائے کہ وہ سوراخ خطرناک ہے ہمیں اس کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
فریڈ نے پوچھا۔’’اوراس خالی مکان کے بارے میں بھی۔‘‘
’’ہاں بالکل‘ جب تک آگ نہ لگ جائے فائر بریگیڈ کونہیں بلاناچاہیے۔‘‘
’’میراخیال ہے یہ بات بھی درست ہے۔‘‘
’’فریڈ! میں چاہتی ہوں تم اپنے کمپیوٹر پرپولا کے بارے میں چیک کرو اوراس کے بارے میں معلومات جمع کرو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’لیکن یہ اس کی زندگی میں ہماری بے جا مداخلت ہوگی۔‘‘
’’لیکن یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘
’’ممکن ہے وہ خطرے میں ہو؟ ممکن ہے کہ گھر کے اندر آگ لگ چکی ہواور جب تک وہ ظاہر ہو تب تک مدد کرنے کے لیے دیر ہوچکی ہو؟‘‘ کلیرل نے بسکٹ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’اوکے‘ میں چیک کروں گا لیکن تم وعدہ کرو کہ اس کے علاوہ کوئی حرکت نہیں کروگی۔‘‘
’’کیامطلب؟ بھلا میں اور کیا کروں گی؟‘‘
’’میں اس بات کاجواب نہیں دوں گا… میں تمہیں کوئی نیا آئیڈیا دینا نہیں چاہتا کیا تمہارے پاس پولا کا سوشل سیکیورٹی نمبراوراس کی پیدائش کی تاریخ ہے ؟‘‘
’’ہاں‘میرے گھر پرمیرے کمپیوٹر ریکارڈ میں ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’مجھے کال کرکے اس کی تفصیل دواور میں دیکھتاہوں کہ اس کے ذریعے میں کیا پتہ کرسکتاہوں لیکن قبل از وقت میں تم سے کوئی وعدہ نہیں کروں گا۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ کلیرل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
جب وہ واپس اپنے گھر میں داخل ہوئی تو کوئین اس کے ساتھ ہی لونگ روم میں آئی تھی اور اس کے صوفے پربیٹھنے کے بعد اس کے پیروں سے کھیلنے لگی تھی ۔ کلیرل نے اپنے کمپیوٹر کے ریکارڈ سے پولا کاسوشل سیکیورٹی نمبر اور تاریخ پیدائش ڈھونڈ کرفریڈ کودے دی تھی پھر سارا دن وہ اس سوراخ کے بارے میں سوچتی رہی تھی جوفریڈ کے لان میں موجود تھااور جہاں سے پولا اور کلیرل دونوں کے گھروں پرنظر رکھی جاسکتی تھی‘ اس کے دل میں رک کابھی خیال آیا لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے اس خیال کومسترد کردیا کیونکہ وہ تو اس سے علیحدگی اختیار کرنے ہی والا تھا اسے کلیرل پرنظررکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی نہ ہی کسی پرائیویٹ جاسوس کو اس مقصد کے لیے خدمات سپرد کرنے کی ضرورت تھی لیکن و ہ اس سوراخ کوبالکل اہمیت نہ دیتی اگر پولیس افسران پولا سے انکوائری کرنے نہ آتے‘ یاوہ اپنے بال ڈائی نہ کرتی ‘اگر وہ خوفزدہ نہ ہوتی تو شاید وہ سوراخ بھی اس کے لیے اہمیت نہ رکھتا۔
اس شام اس کے بیڈ پر جانے سے پہلے فریڈ اس سے ملنے آیا‘ اس کے ہاتھ میں ایک فائل فولڈ رتھااوراس کے چہرے پرعجیب سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
’’کیاتم نے کچھ ڈھونڈلیا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’کسی حد تک۔‘‘ فریڈ نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے بتائو تم نے کیامعلوم کیا؟‘‘
’’پولا والٹرز کابیس سال پہلے انتقال ہوچکاہے جب وہ دو سال کی تھی۔‘‘ فریڈ نے اسے فائل فولڈر پکڑاتے ہوئے کہااور کلیرل بے جان سی صوفے پر گرگئی۔
’’مردہ؟‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’پولامرچکی ہے؟ نہیں وہ مری نہیں ہے … تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جو پولا ہمارے ساتھ رہتی ہے وہ کوئی روح ہے ؟ تم بہت زیادہ خوفناک فلمیں دیکھنے لگے ہوفریڈ… یہ کوئی فلم نہیں ہے … پولا کوئی روح نہیں ہے …‘‘ کلیرل بولے جارہی تھی او رفریڈ اس کے سامنے بیٹھا حیرت سے اسے دیکھ رہاتھا۔
’’میں جانتا ہوں کہ وہ کوئی روح نہیں ہے۔‘ ‘ فریڈ نے ٹھنڈی اور گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔’’لیکن وہ پولا والٹرز بھی نہین ہے … میراخیال ہے کہ یہ جو بھی کوئی ہے اس نے ایک ایسی بچی کی شناخت چرائی ہے جو بہت کم عمری میں مرگئی تھی۔‘‘ فریڈ نے کلیرل کوسمجھاتے ہوئے کہا۔۰
’’اوہ…یہ ایسی ہی بات ہے جیسی تم خوفناک فلموں میں دیکھتے ہو… اصلی زندگی میں لو گ ایسا نہیں کرتے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’اصلی زندگی میں بھی لوگ ایسا کرتے ہیں وہی لوگ جو پولاجیسے ہوتے ہیں اور یاتو اس کی دوسال کی عمر میں موت کااندراج غلط ہے اور یااس نے اپنی شناخت بدلی ہے تمہاری مدد لینے کے لیے۔‘‘
’’اچھااگر میں تمہاری بات مان بھی لوں تو تم کیا کہتے ہو؟‘‘
’’اس نے تمہارے پاس آنے سے پہلے ایک پرانی کار خریدی پولا کے نام سے یہ اس کاپولاوالٹرز کی حیثیت سے پہلااندراج تھا‘ پھرتمہارا گھر کرائے پرلینے کے بعداس نام سے اس کادوسرااندراج ہوا۔‘‘ فریڈ نے کہا۔ اور کلیرل اس کی لائی ہوئی فائل کی ورق گردانی کرتی رہی۔ کاغذ ات کی رو سے پولا نے کارکنساس شہر میں خریدی تھی پھر اس نے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے اپلائی کیاتھااورکہاتھا کہ اس کے پاس پہلے کبھی کوئی ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا۔‘‘
’’تم نے بہت اچھی معلومات جمع کی ہیں کہیں تم نے کبھی پرائیویٹ جاسوس بننے کے بارے میں سوچا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’میں نے ٹیکساس‘ میوری‘کنساس‘ اوکلوہامااور قریبی ریاستوں میں بھی چیک کیااور کہیں بھی مجھے اس کے بچے زیچ والٹرز کے نا م کاپیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں ملا۔‘‘
’’تم سارا دن کیا کرتے ہو؟ میرا مطلب ہے تمہارا پیشہ کیاہے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’میں سارا دن کمپیوٹر پر کام کرتاہوں۔‘‘
’’کیاکام کرتے ہو؟‘‘
’’میں نے آج سارا دن پولا کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں۔‘‘
’’کیاتم مجھے کبھی بتائو گے کہ تمہارا پیشہ کیاہے؟‘‘ کلیرل نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’شاید۔‘‘
’’لیکن آج نہیں؟‘‘
’’آج رات ٹی وی پر کچھ خاص نہیں آرہا۔‘‘ فریڈ نے موضوع بدلتے ہوئے کہاوہ اکثر ایسا کرتاتھا۔
’’تمہیں پتہ ہے ہمیں اب کیا کرنا چاہیے ؟ ہمیں لیسٹرمیکی کے اپارٹمنٹ جاکراس کے مالک سے ملنا چاہیے تاکہ ہمیں لیسٹر میکی کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’ہمیں ایسا کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ فریڈ نے کہااس پر کلیرل نے اس سے بحث نہیں کی تھی بلکہ وہ اسے راضی کرنے کی ترکیبیں سوچ رہی تھی دوسری صورت میں اسے اکیلے ہی یہ کام کرناتھا لیکن وہ تب ایسا کرسکتی تھی جب لیسٹر میکی کااندراج فون بک کی فہرست میں ہوتا جبکہ اسے یقین تھا کہ جاسوس ٹرنیٹ کی مدد کے بغیر اسے لیسٹر کاایڈریس ملنا ممکن نہیں تھایاپھرفریڈ اس کی مدد کرسکتاتھا۔
’’میں تمہارے لیے کوک اور مائیکرو ویوپوپ کون لائوں گی۔‘‘ اس نے فریڈ کولالچ دیا۔
اگلے روز جب پولابیکری آئی تواس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے اس نے اپنے بالوں کو ابھی تک ڈائی نہیں کیا تھا ہمیشہ کی طرح زیچ بھی اس کے ساتھ تھا کیونکہ وہ بیکری صبح چاربجے آجاتی تھی اور اتنی صبح کوبچوں کاڈے کیئر سینٹر نہیں کھلتاتھا جہاں وہ زیچ کوچھوڑتی تھی چنانچہ وہ کچھ دیر بعد بیکری ہی سے اسے ڈے کیئرسینٹر چھوڑنے جاتی تھی اورواپسی پر اسے گھر کے لیے وہیں سے پک کرتی تھی۔ بیکری آنے کے بعد اس نے ہمارے بیکری کے آفس میں ایک صوفے پر سلادیاتھا‘ وہ اٹھنے کے بعد بھی کوئی مسئلہ نہیں کرتاتھا کیونکہ ہمارے آفس میں ایک چھوٹا ٹی وی سیٹ تھا جس پراس کی پسند کاکارٹون لگادیاجاتاتھا وہاں اس کے چند کھلونے بھی تھے جن میں وہ مگن رہتاتھا جب پولا نے کلیرل کے ساتھ کام شروع کیاتھاان دنوں میں تووہ سارا دن ان کے ساتھ ہی رہتاتھا‘ کیونکہ پولا کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ ڈے کیئر سینٹر کی فیس ادا کرسکے لیکن اب اسے باقاعدگی سے مناسب تنخواہ ملتی تھی جس سے وہ تمام اخراجات پورے کرتی تھی شروع میں تووہ اسے اکیلا کہیں باہر بھی نہیں جانے دیتی تھی کیونکہ وہ بہت تنہااور خوفزدہ تھی‘ آج بھی کافی عرصے کے بعد اس کے چہرے پر وہی پہلے والا خُوف تھا وہ کلیرل کے ساتھ کام کرتے کرتے درمیان میں زیچ کوبھی دیکھ دیکھ کر آرہی تھی کہ وہ کمرے میں موجود ہے ‘کلیرل کام کے دورا ن چور نظروں سے اسے دیکھتی جارہی تھی پھرجیسے ہی گاہک آنے شروع ہوئے تھے پولا نے اپناسر خاصا نیچے جھکالیاتھااور کچن میں زیادہ وقت رکناپسند کررہی تھی ایسا شروع کے دنوں میں بھی ہوتاتھا لیکن اب بیکری میں آنے والے گاہکوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور زیادہ مستعدی سے انہیں ڈیل کرنے کی ضرورت تھی ‘کلیرل محسوس کررہی تھی کہ آج جیسے ہی کوئی گاہک آتاتھا پولا فوراً کچن میں چلی جاتی تھی اور کچھ دیر بعد واپس آتی تھی اور بہ غور نیچی نظروں سے وہاںموجود گاہکوں کاجائزہ لیتی تھی۔
جیسے ہی صبح کے گاہکوں کا رش کم ہوا‘کلیرل اور پولا نے دوپہر کے کھانے کی تیاری شروع کردی تھی‘ آج پولا زیچ کوبے بی کیئرسینٹر چھوڑنے نہیں گئی تھی اس کاکہناتھا کہ زیچ کی طبیعت خراب تھی اوراسے بخار ہو رہاتھا پھرغیر متوقع طو رپر اچانک بیکری کے دروازے کی گھنٹی بجی تھی اور پولا کے چہرے پر پھر سے خوف کی جھلک نمایاں ہوگئی تھی اس وقت کلیرل چاکلیٹ ارتھ کوسٹیک کیک بنارہی تھی اس کاخیال تھا کہ پولا گھنٹی کے جواب میں درازہ کھول دے گی لیکن ایسا نہیں ہواتھا چنانچہ کلیرل خود ہی دروازے پرگئی تھی اور جب اس نے دروازہ کھولا تھا تو ایک ڈلیوری مین ہاتھوں میں پیلے گلابوں کا گلدستہ لیے کھڑاتھا اور کلیرل کے ذہن میں رک کاخیال آیاتھا لیکن فوراً ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یہ پھول واپس کردے گی۔
’’کلیرل لینڈ سے؟‘‘ ڈلیوری مین نے پوچھااوراس نے اثبات میں سرہلایا کوئی اسے اس کے پورے نام سے نہیں جانتاتھا صرف رک ہی جانتاتھا کہ وہ کلیرل لینڈ سے ہے اوراس کے والد کانام اس کے نام کے ساتھ لگاہے اس نے رک سے شادی کے بعد بھی اپنا نام تبدیل نہیں کیاتھا ‘ اس نے پھولوں کاگلدستہ لے کرایک ٹیبل پررکھ دیاتھااوراس پر لگے کارڈ کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی پھر وہ کچن کی طرف بڑھ گئی تھی ان گلابوں کی خوشبو اس کے دل کو بہت اچھی لگی تھی۔
’’کون تھا؟‘‘ کچن کے دروازے میں کھڑی خوفزدہ پولانے پوچھا۔’’یہ کس نے بھیجے ہیں؟‘‘
’’رک نے۔‘‘کلیرل نے مختصر سا جواب دیا۔
’’کیاتمہیں یقین ہے؟ تم نے کارڈ تو نہیں پڑھا؟‘‘
’’مجھے یقین ہے ‘لوتم پڑھ لو۔‘‘ کلیرل نے پھولوں سے کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھادیا۔
’’ماریہ کانام سننے سے پہلے۔‘‘ پولا نے پڑھا ’’ اس کاکیامطلب ہے؟‘‘
’’یہ ایک گانے کے بول ہیں۔
’’ماریہ کانام سننے سے پہلے
اوراس کی سریلی آواز سننے سے پہلے
وہ میری تھی میں اس کاتھا
اور سورج چمک رہاتھا۔‘‘ کلیرل نے کہا یہ گانا رک اکثر میرے لیے گاتاتھا۔‘‘
’’اوہ!‘‘ پولانے آہستہ سے کہا اورمطمئن ہوگئی کلیرل نے کارڈ پھاڑ کرڈسٹ بن میں ڈال دیاتھااور اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی۔ شام ہوتے ہی پولا اپنے بیٹے کولے کرگھر کے لیے رخصت ہوگئی تھی اور جب کلیرل گھر پہنچی تھی تو پولا کے گھر کے دروازے کھڑکیاں ہمیشہ کی طرح یوں بند تھے جیسے وہاں کوئی موجود نہ ہو لیکن کلیرل جانتی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اندر موجود ہوگی یااسے پارک لے گئی ہوگی جب اس نے اپنے دروازے کالاک کھولا تو اس کی بلی لان کی طرف سے دوڑتی ہوئی آئی اوراس کے پیروں سے لپٹ گئی‘ کلیرل نے اندرجاکر پھول ٹیبل پررکھ دیئے تھے اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گئی تھی وہ صبح چار بجے سے اپنے کام کا آغاز کردیتی تھی اور واپس آکر آرام کرتی تھی۔ چنانچہ آرام کرنے کے بعد اس نے پولا کو فون کیاتاکہ اس سے باتوں کے دوران کچھ معلومات جمع کرسکے۔
’’ہیلو! میں بول رہی ہوں… تم ٹھیک ہو؟‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے پولا نے نیند بھری آواز میں پوچھا۔
’’پولا… میں کلیرل ہوں‘ کیابات ہے؟‘‘
’’کلیرل! ‘‘ پولا نے زور سے کہا۔ ’’اوہ میں سوگئی تھی‘ میں صوفے پرلیٹی تھی اور وہیں مجھے نیند آگئی میری گردن میں درد ہوگیاہے۔‘‘
’’چلواب اٹھ جائو… میں نے پیزا کاآرڈر دیاہے بس آدھے گھنٹے میں پہنچ جائے گا تم اور زیچ دونوں آجائو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’شکریہ‘ لیکن میں بہت تھکی ہوئی ہوں‘ ہم بیکری سے واپسی پرپارک گئے تھے اور اب رات بھرگھر پر ہی رہنا چاہتے ہیں… میں تھک گئی ہوں۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے تو میں پیزا لے کر تمہارے گھر آجاتی ہوں۔‘‘
’’کیاکبھی کسی نے تمہیں بتایا ہے کہ تم بہت ضدی ہو؟‘‘ پولا نے ہنستے ہوئے کہااور یہ پہلا اتفاق تھا جب اس نے پولا کوہنستے ہوئے سنا۔
’’ہاں… ضدی اوربہت ضدی۔‘‘ کلیرل نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔
’’اچھا میں فریش ہو کر زیچ کے ساتھ آتی ہوں شاید وہ بھی سو رہاہوگا کیونکہ خاصی خاموشی ہے ‘میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔‘‘ پولا نے کہااور فون بند کردیا لیکن چند ہی لمحے بعد فون کی گھنٹی بجی تھی۔
’کلیرل…‘‘ اسے پولا کے چیخنے کی آواز سنائی دی تھی۔
’’کیابات ہے ؟‘‘
’’وہ نہیں ہے… زیچ گھر میں نہیں ہے ۔‘‘
’’اوہ! تو پھر کہاں ہے؟ کیا تمہارے دروازے کھلے تھے؟‘‘
’’ہاں… باہر کا دروازہ کھلاتھا۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’میں آتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کہااور فون بند کردیا۔
جب پولا سارے گھر میں اوپر نیچے سارے کمروں میں دوڑتی ہوئی زیچ کوتلاش کررہی تھی اور آوازیں دے رہی تھی اسی وقت کلیرل بھی گھر پہنچی اور اگلے پچھلے صحن میں اسے ڈھونڈ رہی تھی ان دونوں کاٹکرائو پولا کے پچھلے صحن میں ہواتھا پولا بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
’’پرسکون ہوجائو پولا۔‘‘ کلیرل نے کہاوہ دل ہی دل میں خود کو بھی تسلی دے رہی تھی ۔
’’وہ کہیں نہیں ہے۔‘‘ پولانے کہااور پھر باہر کی طرف لپکی لیکن کلیرل نے اسے پکڑ لیا۔
’’پریشان مت ہو‘ وہ سو کراٹھاہوگا اور تمہیں سوتاپایاہوگاتوباہر نکل گیاہوگا وہ کہیں قریب ہی ہوگا۔‘‘ کلیرل نے سمجھایا۔ ’’اس کاپیلا ٹرک بھی نظر نہیں آرہا ہے اس کامطلب ہے وہ ٹرک بھی لے گیاہے وہ شاید فریڈ کے گھر چلاگیاہواوراس کے ساتھ کھیل رہا ہو؟‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’لیکن اگر زیچ وہاں چلاگیاہے تو فریڈ کوچاہیے تھاوہ مجھے فون کرکے بتادے۔‘‘ پولانے کہا۔
’’تم اسے کال کرلوتب تک میں ایک بار اور تمہارے گھر میں اسے تلاش کرتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کہا پھر وہ اپنے گھربھی گئی تھی وہاں بھی زیچ کوڈھونڈا تھااس کی میز پر جاسوس ٹرنیٹ کا وزیٹنگ کارڈ پڑاتھا وہ اس نے اپنی شرٹ کی جیب میں رکھ لیاتھا اوربھاگتی ہوئی پھر پولا کے گھر میں داخل ہوئی تھی اسی وقت فریڈ بھی وہاں آگیاتھا وہ بھی پریشان نظرآرہاتھا۔
’’پولا کافون آیا تھا…‘‘
’’تمہارا کیاخیال ہے؟‘‘ کلیرل نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے سوال کردیا۔
’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے وہ گھر کادروازہ کھلا کیسے چھوڑ سکتی ہے؟ وہ تو خود گھر کو کسی قید خانے کی طرح لاک رکھتی ہے۔‘‘
’’کیازیچ کنڈی کھول سکتاہے؟ وہ تو تین سال کابچہ ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’نہیں‘ وہ ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘ فریڈ نے جواب دیا گھر کی کنڈیاں اس کی پہنچ سے اونچی ہیں۔‘‘ فریڈ نے کہا۔
’’اس کامطلب ہے دروازہ پولا ہی نے کھلا چھوڑاہوگا۔‘‘
’’ہاں‘ ممکن ہے ایساہی ہوا ہو جب سے پولیس افسران اس کے گھر آئے تھے تب سے وہ بہت خوفزدہ ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا ساتھ ہی ساتھ اس کی نظریں اپنی بلی کوئین پربھی لگی تھیں جو انسانوں کی طرح گھر میں ہر کمرے میں دوڑتی پھررہی تھی جیسے وہ بھی زیچ کو تلاش کررہی ہو پھردوسرے ہی لمحے اس کے ذہن میں اس سوراخ کاخیال آیاتھا جو اس نے پولا اور فریڈ کے گھر کے درمیان جھاڑیوں میں دیکھاتھا‘ اور جہاں کسی کی موجودگی کے آثار سگریٹ کے ٹکڑوں اور مسلی ہوئی گھاس کی صورت میں موجود تھے۔ اچانک پولاباہر آئی۔
’’کیاتمہیں وہ ملا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’ہمیں محلے میں تلاش کرناچاہیے وہ یہیں کہیں ہوگا۔‘‘
’’ہمیں پولیس کوفون کرناچاہیے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’نہیں‘ وہ یہیں کہیں ہوگا… وہ چھوٹا بچہ ہے… وہ دور نہیں جاسکتا… بس ہم جلد ہی اسے ڈھونڈ لیں گے بھلا پولیس کوبلانے کی کیاضرورت ہے؟‘‘
’’ضرورت ہے پولا۔‘‘ کلیرل نے اسے گھر میں لے جاتے ہوئے کہااور فون کی طرف بڑھی۔
’’ان کے پاس لوگوں کوتلاش کرنے کے لیے ٹرینڈ ٹیمیں ہوتی ہیں انہیں زیچ کی تصویریں بھی چاہیے ہوں گی۔‘‘ کلیرل نے کہااور پولاکے جواب کاانتظار کیے بغیر پولیس اسٹیشن فون کردیاتھا فون ٹرنیٹ نے ہی ریسیو کیاتھااور وہ چند لمحوں میں پولا کے گھر پہنچ گیاتھا اوراس کے ساتھ اس کی ٹیم تھی جو ذراسی دیر میں سارے علاقے میں پھیل گئی تھی پولا نے اپنی البم سے زیچ کی تصویریں نکال کر ٹرنیٹ کو دی تھیں جن کی مدد سے اس کی ٹیم زیچ کو تلاش کررہی تھی کچھ ہی دیر میں ڈونالڈ گریگ بھی آگیاتھا۔
’’تم نے اپنے بیٹے کو آخری بار کب دیکھاتھا؟‘‘ اس نے اپنی نوٹ بک کھولتے ہوئے پولا سے پوچھا۔
’’مجھے یقین ہے میں نے دروازہ لاک کیاتھا میں ہمیشہ دروازہ لاک رکھتی ہوں۔‘‘ پولانے کہا۔
’’ہاں یہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ یہ اس کی عادت ہے۔‘‘ کلیرل نے بھی اس کی تصدیق کی۔
’’گھر میں کسی کے زبردستی داخل ہونے کی کوئی علامت نظر آئی؟‘‘ ٹرنیٹ نے ڈونالڈ سے پوچھا۔
’’نہیں‘ لیکن کہیں اس کے والد تواسے نہیں لے گئے ؟‘‘ ڈونالڈ نے پولاسے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ پولاجلدی سے بولی۔
’’تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘
’’وہ یہاں نہیں رہتا۔‘‘
تو وہ کہاں رہتاہے؟‘‘
’’وہ فوت ہوچکاہے۔‘‘ پولا نے چند لمحے سوچ کر کہااور ٹرنیٹ نے کلیرل کی طرف یوں دیکھا جیسے اس سے اس بات کی صداقت کاپتہ کرنا چاہتاہو۔
’’کیاتم اپنے بیٹے کوکبھی سیر کرانے کسی قریبی جگہ لے جاتی رہی ہو جیسے پارک وغیرہ؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں… یہاں قریبی پارک میں لے جاتی ہوں۔‘‘ پولا نے جواب دیا اور ٹرنیٹ نے فوراً ایک پولیس افسر کووہاں روانہ کردیا۔
’’کوئی اور ایسا شخص ہے جو تمہارے علاوہ بھی زیچ کاخیال رکھتاہے؟‘‘
’’نہیں… بس میں اسے بے بی کیئر سینٹر لے کرجاتی ہوں اور پھر واپس بھی خود ہی لاتی ہوں۔‘‘
’’سینٹر میں کوئی شخص جوخاص طور سے اسے پسند کرتاہو؟‘‘
’’اسے سب ہی پسند کرتے ہیں۔‘‘
’’ڈے کیئرسینٹر کاپتہ بتائو۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہااور پولا نے اسے پتہ لکھوادیا جوٹرنیٹ نے ایک خاتون پولیس افسر کو دے دیاتھا۔ اس جگہ کا پتہ کرو۔‘‘ اس نے ساتھ ہی ہدایت بھی کی۔
’’تم نے اپنے بیان میں کہاہے کہ تم سونے کے لیے نہیں لیٹی تھیں تم زیچ کودیکھ رہی تھیں کہ تمہاری آنکھ لگ گئی اور پھر کلیرل کے فون کی گھنٹی پر آنکھ کھلی تھی؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں‘ یہ ٹھیک ہے… ہم بیکری سے واپسی پر پارک گئے تھے جب واپسی گھر آئے تو میں بہت تھک چکی تھی میرے سر میں درد ہو رہاتھا میں نے زیچ کو ٹی وی پر کارٹون لگا دیااور خود درد کی گولیاں کھاکرلیٹ گئی اور پھر میری آنکھ کلیرل کے فون سے کھلی تھی۔‘‘
’’کیا تم نے درد کی گولیاں کھانے سے پہلے بھی کچھ کھایاتھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیا تم مجھے وہ گولیا دکھاسکتی ہو جو تم نے کھائی تھیں؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔’’ہاں‘ پولا نے کہااور سر درد کی گولیاں لینے چلی گئی۔
’’تم اس کے ساتھ کیا کررہے ہو؟‘‘ کلیرل نے ناراضگی سے پوچھا۔
’’میں ایک کھوئے ہوئے بچے کوڈھونڈ نے کی کوشش کررہاہوں تم کیا کررہی ہو؟‘‘ ٹرنیٹ نے غصے سے پوچھا۔
’’میں اپنی دوست کی مدد کررہی ہوں۔‘‘
’’اسے تمہاری مدد کی ضرورت کیوں ہے ؟‘‘ ٹرنیٹ نے بھی اسی لہجے میں پوچھا تھا۔
’’میں تم سے کسی خاص چیز کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘اچانک کلیرک نے بات کارخ بدل دیاتھا۔
’’کیسی بات؟‘‘
’’اس بات کابراہ راست پولا سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہوسکتا ہے۔‘‘ کلیرل نے جواب دیا ہم پھر بات کریں گے۔‘‘ اس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کیونکہ پولا کمرے میں واپس آگئی تھی اور گولیوں کی شیشی ٹرنیٹ کودے دی تھی۔
’’یہ تو وٹامن کی گولیوں کی شیشی ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے شیشی کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہم زیادہ تعداد میں اسپرین خریدتے ہیں‘ اپنی بیکری کے لیے اور پھراس میں سے کچھ گھر کے لیے بھی لے آتے ہیں۔‘‘ کلیرل نے پولا کی جگہ جواب دیا۔
’’میں ان میں سے کچھ اپنے ساتھ لے جانا چاہتاہوں۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہااور کچھ گولیاں نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیں۔
’’کیاتم کافی بناسکتی ہو؟‘‘ اچانک ٹرنیٹ نے پولا سے پوچھا۔
’’اس کابچہ کھوگیاہے‘ وہ پریشان ہے تمہیں کافی کی سوجھ رہی ہے ؟‘‘ کلیرک نے غصے سے کہا۔
’’میرے خیال میں پولا کو کافی پینا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہااور پھر ڈوناڈ کواشارہ کیااور وہ فوراً مستعد ہوگیا۔
’’اگلے کارنر پر کافی شاپ ہے میںپولا کووہاں لے جاتاہوں میں بھی کافی پی لوں گا۔‘‘ ڈونالڈ نے پولا کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
’’چلو میں بھی چلتاہوں۔‘‘ فریڈ نے بھی پولا کاساتھ دینے کے لیے کہااور پھر وہ تینوں کافی پینے چلے گئے تھے۔
’’ہاں! تم بتائو تم کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ ٹرنیٹ نے کلیرل سے مخاطب ہو کر کہا۔
’’آئو باہر لان میں چل کربات کرتے ہیں۔‘‘ کلیرل نے کہااور ٹرنیٹ بغیر کسی اعتراض کے تیار ہوگیا۔
’’میںنے اسپرین کی گولیاں وٹامن کی خالی شیشی میں ڈال کر خود پولا کودی تھیں۔‘‘ کلیرل نے وضاحت کی۔
’’تم تو مجھے کچھ اور بتانے والی تھیں؟‘‘
’’ہاں لیکن میں تمہیں تب تک نہیں بتائوں گی جب تک تم یہ نہیں بتائوگے کہ تم نے اسپرین کی گولیاں اپنی جیب میں کیوں رکھی ہیں‘ کیا تم انہیں چیک کروانا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں‘ کیونکہ یہ مجھے اسپرین کی گولیاں نہیں لگ رہی ہین ان پر اسپرین بھی نہیں لکھا ہوا۔‘‘ اس نے گولیاں کلیرل کودکھاتے ہوئے کہااور گولیاں پھرجیب میں رکھ لیں۔
’’تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا پولا نشہ کرتی ہے ؟‘‘
’’تم اپنی بات کرو تم کیا بتانا چاہتی تھیں۔‘‘ ٹرنیٹ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘ کلیرل نے کہااور پھراس نے لان میں وہ جگہ ٹرنیٹ کو دکھائی تھی جہاں فریڈ کے حصے میں کچھ گھاس مسلی ہوئی تھی اور سگریٹ کے ٹکڑے پڑے تھے اور وہ خالی گھربھی دکھایاتھا جو عین پولا کے گھر کے سامنے تھااوروہاں بھی کچھ سگریٹ کے ٹکڑے لان میں پڑے تھے۔
’’اس خالی گھر کے مالک کانام کیا ہے؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں اس کانام‘فون نمبر اور ایڈریس میرے کمپیوٹر میں محفوظ ہے تمہارا کیا خیال ہے اس کازیچ کی گمشدگی سے کوئی تعلق ہے؟کیاتم سمجھتے ہو کہ زیچ کواغوا کیاگیاہے؟‘‘
’’لیکن کوئی ایک بچے کو کیوں اغوا کرے گا؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’میں اس سلسلے میں کیا کہہ سکتی ہوں یہ پتا کرنا تو تمہارا کام ہے۔‘‘
’’تم اس بچے کے باپ کے بارے میں کیا جانتی ہو؟ وہ کیساتھا؟ وہ کیسے مرا؟‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘ کلیرل نے جواب دیا۔
’’لیکن پولا تمہاری دوست ہے‘ بہترین دوست تم اس کے ساتھ سارادن رہتی ہو او رتم اس کے شوہر اور اس کے بچے کے باپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں؟‘‘
’’پولا زیادہ باتیں نہیں کرتی ہے اس کی عادت خاموش رہنے کی ہے۔‘‘
’’کیاتم نے کبھی اسے بچے کے ساتھ برا سلوک کرتے دیکھاہے؟‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘ کلیرل نے چونک کر کہا۔ ’’وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے تم نے خود دیکھ لیا وہ کتنی نرم دل ہے۔‘‘
’’بہت سے لوگ غصے پرقابو نہیں رکھ سکتے چاہے وہ کتنے ہی شریف اور نرم مزاج ہوں۔‘‘
’’پولاایسی نہیں ہے۔‘‘ کلیرل نے کہاوہ باتیں کرتے کرتے کلیرل کے گھر آگئے تھے پھر کلیرل نے ٹرنیٹ کواپنے کمپیوٹر سے نکال کر خالی مکان کے مالک جیمس ایڈورڈ کاپتہ اور فون نمبر دے دیاتھا۔
’’تم فریڈ کو کیسا سمجھتی ہو؟‘‘
’’بہت اچھا… ہم جب سے اس علاقے میں آئے وہ یہاں رہتاہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔ ’’نہایت شریف آدمی ہے۔‘‘ کلیرل نے جواب دیااوراسی وقت گھر کے باہر شور سنائی دینے لگا وہ دونوں نکل کرباہر آگئے۔ دور سے ڈونالڈ اپنے کاندھوں پرزیچ کو بٹھائے ہنستا چلا آرہاتھا۔
’’اوہ زیچ مل گیا۔‘‘ کلیرل نے خوشی سے کہااور تیزی سے پولا کے گھر کی طرف بھاگی کیونکہ ڈونالڈ گھر میں داخل ہو رہاتھا۔ اسکرین ڈور کھول کرجب سب اندر گئے تھے تو پولا زیچ کودیکھ کر رونے لگی تھی اور ڈولڈ سے اسے لے کراپنے ساتھ چمٹا لیاتھا۔
’’اوہ… تم کہاں چلے گئے تھے زیچ؟‘‘ اس نے روتے ہوئے کہا۔
’’یہ پارک میں اپنے ٹرک سے کھیل رہاتھا۔‘ ڈونالڈ نے جواب دیااور کلیرل زیچ کی طرف بڑھی۔
’’پاک…پیس مین…‘‘ زیچ نے اسے دیکھ کر کہااور وہ ہنسنے لگی۔
’’اچھا تمہیںپارک میں پولیس مین ملے۔‘‘ اس نے زیچ کی بات سمجھتے ہوئے کہا۔
’’ اس نے جب پارک میں ہمیں دیکھا تب بھی یہی کہاتھا۔‘‘ ڈونالڈ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’آپ لوگوں کاشکریہ کہ آپ نے اسے ڈھونڈنے میں مدد دی۔‘‘ پولا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’آئیں بیٹھیں میں آپ سب کے لیے بسکٹ لاتی ہوں۔‘‘
’’نہیں شکریہ‘ اس کی ضرورت نہیں ہے ہم واپس جائیں گے۔‘ ‘ٹرنیٹ نے کہا’’اور تم دھیان رکھنا ہمیشہ اپنے دروازے لاک رکھا کرو اس بچے کی حفاظت کی خاطر۔‘‘ ٹرنیٹ نے مزید کہااور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ باہر نکل گیا کلیرل اسے الوداع کہنے دروازے تک آئی تھی۔
’’زیچ کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے جاتے جاتے کہا۔
’’کیامطلب ؟‘‘
’’لیسٹرمیکی ابھی تک لاپتہ ہے اوریہ بچہ خود پارک نہیں جاسکتا نہ ہی یہاں کوئی بڑے بچے ہیں جن کے ساتھ یہ گیاہوگااور تمہارے کہنے کے مطابق اس خالی گھر اور فریڈ کے لان سے کوئی اس طرف نظررکھے ہوئے ہے توبے خبر ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ٹرنیٹ نے وضاحت کی۔
’’کیالیسٹر میکی کہیں قریب ہی رہتاہے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’ہاں‘ لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘
’’یوں ہی کوئی خاص وجہ نہیں۔‘‘ کلیرل نے اسے مطمئن کرنے کے لیے کہا ۔’’کیاتم جانتے ہو کہ پولا والٹر اس کااصل نام نہیں ہے؟‘‘ اچانک اس نے ٹرنیٹ سے پوچھا۔
’’ہاں میں جانتاہوں۔‘‘
’’اور یہ بھی کہ اس نے کسی اور کی شناخت چرائی ہوئی ہے جس کاانتقال بیس سال پہلے ہواتھا؟‘‘
’’ہاں مجھے یہ بھی پتہ ہے… مجھے یہ بات پچھلے چوبیس گھنٹے سے پتہ ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے جواب دیا ۔ ’’لیکن کیاتم بتاسکتی ہو کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہوگا؟‘‘ ٹرنیٹ نے کلیرل سے پوچھا۔
’’ممکن ہے اس کاشوہر ظالم ہو اور وہ اس سے خوفزدہ ہو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’ہوسکتا ہے اوراس نے پولا کوڈھونڈ نکالاہو اور وہی بچے کوپارک لے گیا ہولیکن اگر ایسا ہے تو وہ بچے کو پارک میں کیوں چھوڑ گیا؟‘‘ ٹرنیٹ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’لیکن پولا کاکہناہے کہ اس کاشوہر مرچکاہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’وہ تو یہ بھی کہتی ہے کہ اس کانام پولا والٹرز ہے۔‘‘ٹرنیٹ بولا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے لیسٹر میکی کوکب پولا کی یہاں موجودگی کے بارے میں پتہ چلاہوگا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’ اس بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا ممکن ہے اسے پولا کی اصل شناخت کے بارے میں کچھ پتہ چل گیاہو اور وہ اسے اب بلیک میل کررہاہو۔‘‘
’’توپھر تم نے اتنی جلدی لیسٹرمیکی کی گمشدگی کے بارے میں تحقیقات کیوں شروع کردی؟‘‘
’’میں تمہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاسکتا۔‘‘
’’میں تمہارے سوالوں کے جواب دے رہی ہوں اور تم میرے سوالوں کے جواب نہیں دوگے یہ تو غلط ہے۔‘‘
’’یہ ہمارا اصول ہے۔‘‘
’’تمہارا اصول ہے… میرا نہیں اور میں کسی کے اصول پرنہیں چلتی۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’اچھا کیا تمہارے پاس وہ اسپرین ہیں جن میں سے کچھ تم نے پولا کو دی تھیں؟‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں‘ کیوں جو تم نے پولا سے لی ہیں کیا وہ کافی نہیں ہیں ؟‘‘
’’میں دیکھنا چاہتاہوں۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہاتو کلیرل نے اسپرین کی ایک پرانی سی شیشی لاکر اس کے ہاتھ میں رکھنے سے پہلے اس نے کلیرل کودکھایاتھا کہ وہ پولا والی گولیوں سے قدرے مختلف تھیں وہ سائز میں کچھ بڑی تھیں اور ان کے ایک سمت اسپرین لکھاہواتھا۔
’’اوہ تو پھرپولا نے جوگولیاں دی ہیں وہ کون سی ہیں … میںجانتی ہوں وہ نشہ نہیں کرتی تو پھروہ دسری گولیاں کس نے اس کی شیشی میں رکھیں اس کادروازہ بھی کھلاہواتھا؟‘‘
’’لیکن وہ خود دروازہ کھولنے سے پہلے گولیاں کھاچکی تھی۔‘‘
’’کیاتم بتاسکتے ہو کہ لیسٹرمیکی جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہے وہ کہاں ہے ؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’یہاں سے تقریباً تین میل دور سیک مور کے مقام پر یہاں سے خاصاقریب ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے جاتے جاتے بتایا۔ سیک مور ایک اسٹریٹ کانام تھا جس پرچند ہی اپارٹمنٹ تھے۔
ٹرنیٹ کے جانے کے بعد فریڈ کلیرل کے پاس آیا تھااور ٹرنیٹ سے اتنی دیر تک بات کرنے کی وجہ پوچھی تھی تب اس نے بتایاتھا کہ ٹرنیٹ بھی پولا کی دہری شناخت کے بارے میں جانتاہے۔‘‘
’’فریڈ کیا تم میرے ساتھ لیسٹر میکی کے اپارٹمنٹ کے مالک سے ملنے چلوگے؟‘‘ کلیرل نے اس سے پوچھا جس پر وہ حیرت انگیز طور پر فوراً تیار ہوگیا کچھ دیر اس کے پاس رکنے کے بعد وہ رخصت ہوگیاتھا۔
علی الصبح اس کی آنکھ کوئین کی آواز سے کھلی تھی اس وقت دوبجے تھے۔ کلیرل بیڈ سے اٹھی کوئین اپنے دونوں اگلے پنجے کھڑکی سے لگا کر کھڑی تھی اور باہر جھانک رہی تھی اس کی دم کھڑی تھی جیسے باہر اسے کچھ مشکوک نظر آرہاہو کلیرل نے بھی باہر جھانکاسامنے ویران اور خالی گھر تھا جہاں مکمل اندھیرا تھا لیکن سڑک پردور ہوتی ہوئی کار کی عقبی لال بتیاں نظر آرہی تھیں یہ ایک SUV کار کی عقبی لائٹیں تھیں اور SUV کار رک کے پاس تھی اس کار کی لائسنس پلیٹ بھی وہی تھی جو رک کی کار کی تھی کلیرل حیران تھی کہ اس وقت رک وہاں کیاکررہاتھا کیا مفی بفی نے اسے گھر سے نکال دیاتھا کلیرل کویقین تھا کہ رک نے اس کادروازہ نہیں کھٹکھٹایا تھا ورنہ اس نے آواز سنی ہوتی مگر وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا‘ پھرکلیرل نے لائٹ بند کردی تھی۔
’’چلوکوئین سوجائیں‘ ابھی صبح ہونے میں وقت ہے۔‘‘ اس نے بلی سے کہااور پھربیڈ پرلیٹ گئی۔
صبح جب وہ تیار ہو کربیکری جانے کے لیے نکلی تو اس کے دروازے پر ایک پیلے گلابوں کاگلدستہ موجود تھا اس کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹی سی ٹوکری میں تین الیسٹر کے انڈے بھی موجود تھے جن پربہت مہارت سے تصویریں بنائی گئی تھیں‘ ایک پر کسی گھرکی تصویر تھی دوسرے پر ایک لڑکا اور لڑکی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے اور تیسرے پر دل بناتھا جس میں تیر پیوست تھا کلیرل سمجھ گئی کہ یہ رک کاہی کام ہوسکتا ہے اور اس تحفے کودے کر اس نے کلیرل سے محبت کااظہار کیاہے اس نے وہ چیزیں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالیں اور کوئین کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اچانک اس کی نظر پولا کے دروازے کے باہر رکھی ہوئی کسی کالی سی چیز پرپڑیں او روہ گاڑی سے اتر کر اس طرف بڑھی وہ حیران تھی کہ اگر رک نے اس کے دروازے پر گفٹ چھوڑا ہے توپولا کے دروازے پر کیاپڑاہے ابھی وہ چند قدم دورہی تھی کہ اچانک دروازہ کھول کرپولا باہر آئی اس کے ساتھ زیچ بھی تھا۔ وہ بھی اسی وقت بیکری جاتی تھی۔
’’یہ کیاہے ؟‘‘ پولانے دروازے کے سامنے پڑی کالی سی چیز کو دیکھتے ہوئے کہا اتنی دیر میں کلیرل وہ چیز اٹھا چکی تھی وہ کالے رنگ کاایک ٹیڈی بیئر تھا جس کے دل کی جگہ سوراخ تھا جس سے خون بہہ رہاتھا پولا یہ دیکھ کرحیران رہ گئی اس کے چہرے سے پھر خوف جھلکنے لگا۔
’’اوہ خدایا اب یہ کیا ہے ؟‘‘ اس نے پریشان ہو کر کہا۔
’’میرا خیال ہے کہ یہ میرے گفٹ کاحصہ ہے۔‘‘ کلیرل نے کہااور اسے اپنی کار میں رکھا ہوا گفٹ بھی دکھایا۔
’’شاید یہ رک میرے لیے چھوڑ گیا تھااور کسی جانور وغیرہ نے اس ٹیڈی بیئر کو اس باسکٹ سے نکال لیاہوگااور پھریہاں چھوڑ کر بھاگ گیاہوگا۔‘‘ کلیرل نے وضاحت کی۔
’’اور یہ خون؟‘‘ پولا نے ٹیڈی بیئر کے سینے پر لگے خون کی طرف اشارہ کیا۔
’’نہیں یہ خون نہیں ہے یہ اسٹرابیری ساس ہے دراصل رک کو اس قسم کے مذاق کرنے میں مز ہ آتا ہے وہ مجھے بے وقت کے تحفے دے کر منانا چاہتاہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’اچھا اچھا میں بات سمجھ گئی۔‘‘ پولا نے قدرے پرسکون لہجے میں کہا۔
’’چلوتو پھر بیکری چلتے ہیں اب جب میں پھر اپنی پسند کا ڈیتھ بائی چاکلیٹ کیک اسٹرابیری ساس کے ساتھ بنائوں تو تم پھر ڈرمت جانا۔‘‘ کلیرل نے ہنستے ہوئے کہا۔
پھراس نے بیکری جاتے ہوئے رستے میں رک کے گھر کے قریب رک کر اس کے لان کے باہر لگے درختوں میں سے ایک پر وہ ٹیڈی بیئر کے گلے میں یوں رسی باندھی تھی جیسے اسے پھانسی دی گئی ہو یہ رک کے لیے اس کے غصے کااظہار تھا پھربیکری پہنچ کر اسے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ رک کا فون آگیاتھا۔ اس وقت کلیرل ڈیتھ بائی چاکلیٹ کیک بنارہی تھی اور پولا زیچ کو ڈے کیئر سینٹر چھوڑنے گئی تھی چنانچہ کلیرل نے ہی فون اٹھایا۔
’’ڈیتھ بائی چاکلیٹ… میں کلیرل بات کررہی ہوں۔‘‘
’’تم نے اچھا نہیں کیا؟
جبکہ ٹیڈی بیئر کا دل تو تم نے کاٹا ہے؟‘‘
’’تمہیں پتہ ہے کہ جب کھڑکی سے باہر ہم نے دیکھاہوگا کہ بیئر درخت سے لٹک رہاہے تو ہمیں کیسا لگا ہوگا؟‘‘ رک نے کہا۔
’’اور تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ جب صبح دوبجے میں نے تمہاری کار کو اپنے گھر کے سامنے سے جاتے دیکھا اور پھر مجھے ٹیڈی بیئر ایسی حالت میں ملا کہ اس کا دل کاٹاجاچکاتھا‘ تومجھے کیا لگا؟‘‘ کلیرل نے کہا دوسری طرف کچھ دیر خا موشی رہی پھررک کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
’’کیاجب تمہیں وہ ٹیڈی بیئر ملاتو اس کا دل کاٹاجاچکاتھا۔ میں نے اس بیئر کے سینے پراسٹرابیری سیرپ سے ایک دل بنایاتھا لیکن میں نے وہاں سوراخ نہیں کیاتھا۔‘‘
’’اوہ تم نے نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں میں نے نہیں کیا… کیا تم نے کیا؟‘‘
’’پھرمیرا خیال ہے یہ کسی جانور کا کام ہے ۔‘‘
’’اوہ… میں شرمندہ ہو ں کلیرل میرا مقصد تو تمہیں صرف گفٹ دینا اور خوش کرناتھا۔‘‘ رک نے کہا۔
’’کیاتم مجھے دوسر اٹیڈی بیئر اور کچھ پھول بھیج سکتے ہو۔‘‘ کلیرل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں یہ چیزیں پسند آئی تھیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اور انڈے ؟کیا تمہیں انڈے پسند آئے؟‘‘
’’ہاں لیکن وہ بہت زیادہ ابلے ہوئے تھے۔‘‘ کلیرل نے ہنستے ہوئے کہااور فون بند کردیا‘ اسے ٹیڈی بیئر کے سینے میں ہونے والے سوراخ پرحیرت تھی کیونکہ اس کودیکھنے سے صاف اندازہ ہو رہاتھا کہ وہ کسی تیز چاقو کی مدد سے کاٹاگیاہے اس پر کسی جانور کے تیز دانتوں کے کوئی نشان نہیں تھے‘ اگر رک نے اسے نہیں کاٹاتھاتوپھر کس نے کاٹاتھا کہیں یہ کام پولا اور لیسٹر میکی کی کہانی کا حصہ تو نہیں تھا؟
بیکری سے واپسی پر اس نے گھرجاکر لباس تبدیل کیا تھااور لیسٹر میکی کی رہائش پرجانے کے ارادے سے فریڈ کے گھر گئی تھی اس کاخیال تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ چلنے کے لیے تیار کرلے گی لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو فریڈ پہلے سے تیار تھا ‘کلیرل نے اسے صبح کے واقعے کے بارے میں بتایا پھر وہ فریڈ کے ساتھ ہی اس کی کار میں لیسٹر کے اپارٹمنٹ گئی تھی اسے حیرت تھی کہ فریڈ نے اس سے لیسٹر کے اپارٹمنٹ کاایڈریس نہیں پوچھاتھااسے سب پتہ تھا وہ وہاں جاکر اپارٹمنٹ کے مالک سے ملااور اسے اپارٹمنٹ دکھانے کے لیے آمادہ بھی کرلیا۔ کلیرل حیران تھی کہ فریڈ بہت باصلاحیت تھااور ایسا اندازہ ہو رہاتھا جیسے وہ جاسوسی کے کام کاخاصا تجربہ رکھتا ہواپارٹمنٹ کے مالک اسٹن نے انہیں بتایاتھا کہ مسٹرمیکی تین ہفتے پہلے آیا تھا اوراس نے یہ اپارٹمنٹ کرائے پر لیاتھااس نے ایک مہینے کے لیے یہ جگہ کرائے پر لی تھی ۔
’’اس وقت وہ کہاں ہے ؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتا۔‘‘
’’تم نے آخری بار اسے کب دیکھاتھا؟‘‘
’’چند دن پہلے‘ وہ میرے دروازے پر آیاتھااور کہاتھا کہ اس کے باتھ روم کا سنک ٹھیک کام نہیںکررہا ہے میں اسے ٹھیک کروادوں اوروہ کسی ضروری کام سے جارہاہے‘ دوگھنٹے بعد واپس آئے گاتو مجھے کام کی اجرت اورانعام بھی دے گا لیکن وہ اب تک نہیں آیا۔‘‘
’’تمہارے خیال میں وہ کہاں جاسکتا ہے؟‘‘
’’اس نے کہاتھا کہ وہ کسی سے ملنے جارہا ہے… اس کے جانے کے ایک گھنٹے بعد اس کافون آیاتھا اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی پوری بات میری سمجھ میں نہیں آسکی تھی وہ ایسے بول رہاتھا جیسے نشے میں یانیند میں ہو۔‘‘
’’کیاتمہیں یاد ہے اس نے کیا کہاتھا؟‘‘
’’پوری طرح نہیں‘ وہ ٹکڑوں میں بات کررہاتھا۔‘‘ منحوس عورت… رقم نہیں … مررہاہوں۔ میری مدد کرو… پولیس کو کال کرو۔‘‘
’’کیاتم نے پولیس کو کال کی ؟‘‘
’’نہیں… کیونکہ بات واضح نہیں تھی میں نے سوچا کہ کل کال کروں گا…میراخیال تھا کہ میرا کوئی دوست مجھ سے مذاق کررہاہوگا لیکن جب وہ واپس نہیں آیاتو مجھے فکر ہوئی چنانچہ اتوار کی صبح میں نے پولیس کوکال کردی تھی۔‘‘
’’تمہارے خیال میں اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟‘‘
’’میں نہیں جانتا۔‘‘
’’کیا اس کی گاڑی کالائسنس نمبر تمہارے پاس ہے؟‘‘
’’ہاں…‘‘
’’مجھے وہ نمبر دے دو۔‘‘ فریڈ نے کہا جس کے بعد وہ دونوں وہاں سے واپس آگئے تھے ۔
جب کلیرل فریڈ کے ساتھ واپس پہنچی تو اس کے گھر کے سامنے رک کی کار کھڑی تھی اوررک اس کے دروازے کے سامنے بنے چبوترے پربیٹھاتھا۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ کلیرل نے اس سے پوچھا۔
’’تمہارے گھر آنے کاانتظار۔‘‘ رک نے جواب دیا پھروہ اس کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہواتھااور کلیرل نے فریج سے کوک نکال کراسے پیش کی تھی۔
رک اس کے گھر کافی دیر ٹھہرا تھااور کلیرل نے اسے پولا کے بارے میں ساری کہانی بتادی تھی یہاں تک کہ فریڈ کے ساتھ لیسٹر کے اپارٹمنٹ جانے کے بارے میں بھی بتادیاتھا۔ سب سن کررک پریشان ہوگیاتھااو ر اس نے کلیرل کومنع کیاتھا کہ وہ آئندہ پولا کے معاملے سے خود کو الگ رکھے لیکن کلیرل اس کے خلاف تھی پھراچانک ہی فریڈ کافون آیاتھا۔
’’ہیلو !تمہیں پتہ ہے کہ پولا کے دروازے کے باہر پولیس کی کار کھڑی ہے؟‘‘ فریڈ نے اسے بتایا۔
’’نہیں۔‘‘ کلیرل نے کھڑکی سے جھانک کر پولا کے گھر کی طرف دیکھا جہاں ٹرنیٹ کی کار کھڑی تھی۔
’’میں جاکر دیکھتی ہوں۔‘‘کلیرل نے کہا۔
’’میں اس لائسنس پلیٹ کے بارے میں معلومات لے رہاہوں جو اسٹن نے ہمیں دی تھی تم خود جاکر پولا کاپتہ کرو گی؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’ہاں‘ہاں میں جارہی ہوں۔‘‘ کلیرل نے جواب دیااور فون بند کردیا پھررک بھی اس کے ساتھ ہی پولا کے گھر گیاتھا وہ بار بار اسے وہاں جانے کے لیے منع بھی کررہاتھا لیکن کلیرل نے اس کی ایک بھی نہیں سنی تھی۔
جب وہ چولا کے گھر پہنچے تو ٹرنیٹ پولااور زیچ کے درمیان صوفے پر بیٹھا ہواتھااور ڈرنالڈ زیچ کے پیر میںلگے چھوٹے سے زخم کو دیکھ رہاتھا۔
’’یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اندر جاتے ہی کلیرل نے پوچھا۔
’’تم اپنے کام سے کام رکھا کرو۔‘ ‘ڈونالڈ نے اسے ٹوکا۔
’’یہ نہیں ہوسکتا ‘تمہیں آئندہ بھی میرا سامنا کرنا ہوگاتمہیں مجھ سے بات کرنا ہوگی۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’میں اپنا سرکاری کام کررہاہوں‘ اور تم اس میں مداخلت کررہی ہو تم فوراً گھر سے نکل جائو ورنہ میں تمہیں ہتھکڑیاں لگوادوں گا۔‘‘
’’ٹھہرو!‘‘ اچانک رک نے مداخلت کی۔ ’’یہ ہماری جائیداد ہے تم ہمیں یہاں سے نہیں نکال سکتے۔‘‘
’’یہ ہماری نہیں صرف میری جائیداد ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔ ’’زیادہ سے زیادہ صرف تین ہفتے میں یہ جائیداد مجھے منتقل ہونے والی ہے تم مجھ سے بات کرو اور تم معاملے سے الگ رہو۔‘‘ کلیرل نے رک سے کہا۔
’’میں اس کاشوہر ہوں۔‘‘
’’سابق شوہر۔‘‘ کلیرل نے غصے سے کہا۔
’’میں صرف تین ہفتے سے اس سے الگ ہوں۔‘‘ رک نے وضاحت کی۔
’’اگر تم زیادہ تنگ کروگے تو تم سابقہ شوہر بھی بن سکتے ہو۔‘‘
’’تم دونوں اپنے گھریلو جھگڑے کہیں اور جاکر نمٹائو۔‘‘ ٹرنیٹ نے غصے سے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اوراس کے جواب میں کلیرل وہیں کرسی گھسیٹ کر اس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی جیسے اس کاکہیں جانے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔ زیچ نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی توجہ اپنی ٹانگ پرلگے کھرونچے کی طرف کروائی تھی۔
’’بووو… بووو…‘‘ اس نے کہا۔
’’اوہ کیا ہوگیا… یہ زخم تمہیں کیسے لگا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’پاک…‘‘ زیچ نے کہا جس کامطلب تھا کہ وہ کل پارک میں گرگیا ہوگا تب اسے زخم لگاہوگا اس نے سوالیہ نظروں سے پولا کی طرف دیکھا۔
’’کسی نے فون کرکے پولیس کوشکایت کی ہے کہ میں زیچ پر ظلم کرتی ہوں اور میرے ساتھ اس کی زندگی خطرے میں ہے۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’یہ بکواس ہے؟‘‘ کلیرل نے کہااور پھر زیچ کاکھلونا ٹرک اس کودے کر اسے دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔
’’ یہ سب سے احمقانہ بات ہے جو میں نے اب تک سنی ہے پولااس کی ماں ہے وہ بھلا اس پر کیوں ظلم کرے گی‘ وہ اس کا بہت خیال رکھتی ہے وہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں دے سکتی۔‘‘ اس نے ٹرنیٹ سے کہا۔
’’میرا خیال ہے ہمیں پولیس کوصاف صاف بتادینا چاہیے کہ صبح کیا واقعہ ہوا ہے؟‘‘ رک نے کہااور کلیرل پریشان ہوگئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ پولا کویہ پتاچلے کہ اس نے رک کو سب کچھ بتادیاہے لیکن رک اس کے اشارہ کرنے کے باوجود نہیں رکااوراس نے ٹرنیٹ کوصبح والا واقعہ بتادیا۔
’’وہ ٹیڈی بیئر ابھی کہاں ہے ؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’وہ تو میں نے درخت سے اتار کر کچرے دان میں پھینک دیاتھا شاید کچرا اٹھانے والی گاڑی کچرا لے گئی ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ تم کہاں رہتے ہو۔‘‘ ٹرنیٹ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’اوکے۔‘‘ رک نے کہااور پھرکلیرل کی طرف مڑا۔ ’’میں پھر واپس آئوں گا کلیرل۔‘‘ اور پولیس افسران کے ساتھ وہاں سے چلاگیااس کے بعد کلیرل پولا کے قریب آبیٹھی تھی۔
’’دروازہ لاک کرلو مجھے تم سے کچھ بات کرنا ہے۔‘‘ اس نے پولا سے کہااور پولا نے دروازہ لاک کرلیا۔
’’تم کیسے وضاحت کروگی کہ تم نے اپنے بالوں کارنگ اور اپنا نام کیوں تبدیل کیا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’یہی سوال مجھ سے پولیس نے بھی پوچھا ہے اور میں نے انہیں یہی جواب دیا ہے کہ میں ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھی اور صرف نام اور بالوں کا کلر تبدیل کرنے پروہ مجھے گرفتار نہیں کرسکتے۔‘‘
’’لیکن اگر تم نے کسی اور کی شناخت اپنالی ہے تب بھی؟‘‘ کلیرل نے پوچھا جس پر وہ چونکی‘ لیکن خاموش تھی۔
’’پولا…بتائو اس کے بارے میں تم کیا کہوگی؟‘‘
’’تم نے کہا تھا کہ تم اس بارے میں مزید کچھ نہیں پوچھو گی۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’ہاں لیکن تم مصیبت میں ہو اوردوست کس لیے ہوتے ہیں؟‘‘
’’تم واقعی میری دوست ہو۔‘‘
’’ہاں اور میں تمہارا ساتھ دوں گی لیکن تم اپنے بارے میں مجھے سب کچھ سچ بتادو۔ کیا لیسٹر میکی تمہارا سابقہ شوہر ہے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا جس پرپولانے نفی میں سرہلایا۔
’’کیاتمہارے سابقہ شوہر نے اسے معاوضہ دے کر تمہارے پیچھے لگایاہے؟‘‘ کلیرل نے دوسرا سوال کیا۔
’’میرا کوئی سابقہ شوہر نہیں ہے میرا شوہر مرچکاہے۔‘‘
’’یہ بتائو لیسٹر میکی کون ہے؟‘‘
’’کیااس کے اپارٹمنٹ کے مالک نے اس کاحلیہ بتایاتھا؟‘‘ پولا نے پوچھا۔
’’ہاں اس نے بتایاتھا کہ میکی ایک عمررسیدہ شخص ہے اس کے بال چھوٹے اور سرمئی ہیں وہ سنہرے فریم کی عینک لیتاہے فریڈ سے قد میں کم ہے اوراس کے بائیں گال پرمسہ ہے۔‘‘
’’لیکن یہ تو میرے سسر کاحلیہ ہے اس کانام لیسٹر ہے۔‘‘
’’تمہارا سسر؟ اس کامطلب ہے کہ اس کاتعلق تمہارے سابقہ شوہر سے ہے۔‘‘
’’مجھے طلاق نہیں ہوئی ہے۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’ہاں لیکن تم نے کہا کہ تمہارا شوہر مرچکاہے۔‘‘
’’ہاں مرچکاہے اورمیں نے خود اسے قتل کیا ہے۔‘‘ پولا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتائو شروع سے اب تک۔‘‘ کلیرل نے کہااور پولا نے دھیمی آواز میں کہنا شروع کیا۔
’’میراپیدائشی نام پولا رابرٹ ہے میرے والد مذہبی پیشواتھے اور میری والدہ ان کابہت خیال رکھتی تھیں۔ وہ لوگوں کے مسائل سنتے اور انہیں حل کرتے تھے ہماری فیملی بہت پرسکون زندگی گزار رہی تھی۔ میں خوش تھی اورمیرا خیال تھا کہ دنیابہت خوبصورت جگہ ہے‘ میں نے ہائی اسکول کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا اور پھر یونیورسٹی میں‘ یونیورسٹی میرے گھر سے قریب ہی تھی میں ہر ہفتے اپنے گھر جاتی تھی پھرجب میں سیکنڈ ایئر میں تھی میرے والدین ایک مشن پرجنوبی امریکا چلے گئے اور میں اداس رہنے لگی مجھے ان کی واپسی کاشدت سے انتظار تھا لیکن وہ واپس نہیں آئے ان کاچھوٹاساجہاز کہیں جنگل میں کریش ہوگیااور جب میری دادی کابھی انتقال ہوگیا تو میں بے سہارا رہ گئی لیکن کسی نہ کسی طرح میں نے دوسال کے عرصے میں ڈگری حاصل کرکے ڈلاس کے میوزیم میں ملازمت کرلی اور وہاں میری ملاقات ڈیوڈینٹ سے ہوئی وہ ڈلاس کی پولیس میں آفیسر تھا اور سکینڈ شفٹ میں میوزیم میں بھی ملازمت کرتاتھا‘ مجھے لگا جیسے میری زندگی کوسہارا دینے والا کوئی مل گیاہے وہ مضبوط تھا وہ بھی مجھے پسند کرتاتھا ہم نے شادی کرلی اورمیری تنہائی ختم ہوگئی ہم اب ایک فیملی بن گئے تھے۔‘‘
’’توتم نے اپنی پسند سے شادی کی اورایک خوشگوار بندھن میں بندھ گئیں؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’اس نے شادی کے بعد مجھے ملازمت چھوڑنے کے لیے کہا اس کاخیال تھا کہ وہ چونکہ بہت مصروف ہے اور اس کی سروس کے اوقات بدلتے رہتے ہیں تو اگر میں ملازمت کرتی رہوں گی تو شاید ہمیں گھر پرملنے کا موقع ہی نہ ملے اور میں اپنی ماں کی زندگی سے متاثر تھی وہ ملازمت نہیں کرتی تھیں اور ایک خوشگوار گھریلوزندگی گزارتی تھیں چنانچہ میں نے اس کی باتمان لی لیکن کچھ عرصے بعد مجھے احساس ہوا کہ ڈیوڈ بدل گیا ہے میرے ساس اور سسر مجھ سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے اور ڈیوڈ بھی میرے ہر کام میں نقص نکالنے لگا تھا اور مجھے طرح طرح کے ناموں سے بلاتاتھا‘ اسے مجھ پر شک ہوگیا کہ میں اس کے علاوہ کسی کوچاہتی ہوں اوراس سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہوں‘ پھروہ مجھے مارنے بھی لگا۔‘‘ پولا نے اپنے ماتھے پر بڑا زخم کانشان چھوتے ہوئے کہااس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
’’ایک روز میری میوزیم کی ساتھی ایک لڑکی نے مجھے دوپہر کے کھانے پربلالیااورجب میںواپس آئی تو ڈیوڈ نے مجھے اپنی بیلٹ سے مارا‘میں پھر کبھی اپنی دوست سے نہیں ملی نہ ہی اس سے بات کی۔‘‘ پولا نے کہا پھراس نے اپنی آستین اور شرٹ اٹھا کراپنے زخم دکھائے تھے۔
’’کیاتم نے پولیس سے بات کی؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’وہ تو خود پولیس میں تھا۔‘‘ پولا نے کہا۔
’’یقین کرو میں نے کبھی کسی کو اس کے بارے میں شکایت کرنے کانہیں سوچا کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں اسے خوش نہیں رکھ سکی ‘یہ میری ہی غلطی تھی آہستہ آہستہ اس کارویہ خراب سے خراب تر ہوتا گیااور پھر میں امید سے ہوگئی اب میرے سامنے میرے علاوہ ایک زندگی اور تھی میں نہیں چاہتی تھی کہ اسے بھی ڈیوڈ کے ظلم کا شکار بنناپڑے چنانچہ ایک رات جب ڈیوڈ گھرپر نہیں تھا میں نے سوٹ کیس میں اپنا سامان رکھااور گھرچھوڑ دیامجھے جلد ہی ایک جگہ کلرک کی نوکری مل گئی اور میں نے ایک کمرہ کرائے پر لے لیا جب زیچ پیدا ہواتو میں نے تہیہ کرلیا کہ اس کی حفاظت کے لیے مجھ سے جو ہوسکا میں کروں گی۔‘‘
’’چاہے قتل ہی کرناپڑے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’ہاں! پھر زیچ ایک ماہ کا تھاتب ڈیوڈ نے ہمیں ڈھونڈ لیا، وہ رات میں دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوگیا وہ زور زور سے چیخ رہاتھا اس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اوراس کے ہاتھ میں گن تھی‘ اس نے کہاکہ اس نے وہ گن میرے نام سے خریدی ہے اور رجسٹرڈ کروائی ہے اور اگر میں نے اسے بچہ نہیں دیاتو وہ مجھے مار دے گااور کہہ دے گا کہ میں نے خودکشی کی ہے اور اس طرح وہ زیچ کو بھی حاصل کرلے گا۔‘‘ پولا نے کہا۔ وہ بے بسی سے کلیرل کو دیکھ رہی تھی۔
’’پھر؟ پھر کیاہوا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’پھروہ مجھ سے الجھ گیا‘ میں نے اس کا مقابلہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اس پرقابو نہ پاسکی پھراس کے ہاتھ میں موجود گن میں نے چھین لی میں کسی قیمت پربھی زیچ کو اس کے حوالے نہیں کرسکتی تھی میں نے اسے تنبیہ کی کہ وہ زیچ سے دور رہے لیکن جب وہ اسے اٹھانے کے لیے اس کی طرف بڑھاتو میں نے فائر کردیا گولی اس کے سینے میں لگی تھی۔‘‘ پولا نے کہا اس کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔
’’میں نے فوراً اپنے کپڑے اپنے سوٹ کیس میں رکھے اور زیچ کو لے کر وہاں سے نکل گئی میں نے نکلتے نکلتے فون کرکے پولیس کوبتادیاتھا کہ میں نے اپنے شوہر ڈیوڈ کوہلاک کردیاہے اور یہ میں نے اپنے دفاع میں کیاہے۔ پھراس سے پہلے کہ پولیس میری تلاش میں وہاں پہنچتی میں اپنے بچے کے ساتھ وہاں سے نکل گئی تھی‘ پھرمیں اس شہر میں آگئی اور یہاں تمہارا گھر کرائے پر لے لیا۔‘‘
’’اب تم نے کیاسوچاہے؟‘‘
’’میں یہاں سے چلی جائوں گی‘ میں ہر قیمت پر زیچ کو اس سے دور رکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں تمہارے ساتھ ہوں مل کر پروگرام بنائیں گے ابھی تم سوجائو اور دروازے اچھی طرح بند کرلو۔‘‘کلیرل نے کہاپھر وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔
گھرآنے کے بعد اس نے فریج میں رکھاہوا چاکلیٹ بائے ڈیتھ کیک نکالا تھا اور اسی سے بھوک مٹائی تھی لیکن جلد ہی اس پرغنودگی چھانے لگی تھی اوراسے پوراگھر گھومتا محسوس ہو رہاتھا وہ دوڑتی ہوئی باتھ روم میں گئی تھی اور الٹی کردی تھی پھرجب وہ باہر آئی تھی تو چکرا کر کمرے میں گر گئی تھی۔
پھراس کی آنکھ اسپتال میں کھلی تھی جہاں اس کے کمرے میں رک‘ پولا‘ ٹرنیٹ اور ڈاکٹر موجود تھے اوران کی باتوں سے اسے اندازہ ہوا تھا کہ اسے فوڈ پوائزن دیاگیاتھا وہ حیران تھی کہ کون ایسا کرسکتاہے وہ دو دن اسپتال میں رہی تھی اور جب وہاں سے ڈسچارج ہوئی تھی تو فریڈ اسے چھوڑنے اس کے گھر گیاتھا جبکہ ٹرنیٹ اوررک کی خدمات لینے سے اس نے انکار کردیاتھا۔ راستے میں فریڈ نے اسے بتایاتھا کہ اسے چاکلیٹ کیک کے ذریعے زہردیاگیاتھا کسی نے اس کے کیک میں زہر ملادیاتھا اور فریڈ کے مطابق اسے لیسٹر پر شبہ تھا اس نے کلیرل کوبتایا کہ پولا کے گھر میں بھی جگہ جگہ آلات لگے تھے جوان کی باتیں لیسٹر تک پہنچاتے تھے اوروہی جھاڑیوں کے سوراخ اور خالی مکان سے اس کی نگرانی کرتاتھا ایک اور بات جوفریڈ نے اسے بتائی وہ کلیرل کے لیے بالکل قابل یقین نہیں تھی۔
’’تمہیں پتا ہے پولا کاشوہر ڈیوڈ ینٹ تھااوروہ زندہ ہے جبکہ اس کاسسر لیسٹرمیکی مرچکاہے اس کی موت ڈلاس کے ایک اسپتال میں حرکت قلب بند ہوجانے سے واقع ہوئی تھی۔‘‘
’’تمہارے پاس اس کاکیاثبوت ہے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’میں نے اپنے کمپیوٹر پر بہت سا ڈیٹا چیک کرنے کے دوران معلومات حاصل کی پھرمیرے پاس ایک اخبار کاتراشا بھی موجود ہے جس میں اس کی موت کی اطلاع موجود ہے۔‘‘ فریڈ نے وہ تراشا اسے دکھاتے ہوئے کہااور کلیرل تراشہ لے کرپڑھنے لگی۔
’’ڈلاس پولیس آفیسر ڈیوڈینٹ کو اس کی پاگل بیوی نے گولی مار کر زخمی کردیا‘ پولا ینٹ نے گولی مارنے کے بعد خود ہی پولیس کو فون کرکے اطلاع دی ‘ ڈیوڈ نازک حالت میں حارث میڈیکل اسپتال میں داخل ہے مسز ینٹ کوگرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کردیاگیاہے آفیسر ینٹ کے کہنے کے مطابق اس کی بیوی ذہنی مریض ہے اوراس نے اسی کیفیت میں اسے گولی کانشانہ بنایا ہے جبکہ مسز ینٹ نے بھی فون پربتایاتھا کہ اس کے شوہر نے اس سے جھگڑا کیا اور غصے کی حالت میں اس سے گولی چل گئی ایسا اس نے اپنے بچے کوبچانے کے لیے کیا۔‘‘
’’میرے خیال میں اس نے پولا کومشکوک بنانے کے لیے لیسٹر میکی کاکردار اختراع کیا جو کہ زندہ ہے اور اسے مرا ہوا ثابت کیا جارہا ہے ۔شاید وہ یہ بات ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پولا ذہنی مریض ہے تاکہ اس کے بچے کو اس کی پرورش میں نہ رہنے دیا جائے‘ تمہیں یاد ہوگا ایک شام زیچ کو بھی غائب کردیا گیاجبکہ وہ پولا کے ساتھ تھایہی بتانے کے لیے کہ وہ اسے نہیں سنبھال سکتی اوراس کی اسپرین کی گولیوں کی شیشی میں نیند کی گولیاں رکھ دی گئیں تاکہ یہ یقین کرلیاجائے کہ وہ نشہ کی عادی ہے ٹرینٹ نے بتایا ہے لیبارٹری سے گولیوں کے ٹیسٹ کی رپورٹ آگئی ہے وہ نیند کی گولیاں ہیں۔‘‘
’’اوہ میرے خدا! اس کامطلب ہے کہ ٹیڈی بیئر کا دل کاٹ کر پولا کے دروازے پر پھینکنا بھی اسی سازش کا حصہ تھا۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’ہاں بالکل۔‘‘ فریڈ نے جواب دیا۔
’’لیکن اب ہمیںکیا کرنا چاہیے پولا ساری زندگی تو بھاگتی نہیں رہے گی اور وہ شخص پولیس افسر ہے وہ جہاں بھی جائے گی وہ اسے ڈھونڈھ نکالے گا کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اسے پکڑ لیں اس کاخون حاصل کریں اور اسے لیسٹر میکی کے خون سے ملائیں وہ ایک ہی ہوں تو اسے پکڑ اجاسکتا ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’اگرمیںکبھی اسے پکڑ سکاتو اس کاخون ضرور حاصل کرلوں گا اور پھرٹیسٹ کہیں بھی کروایاجاسکتا ہے۔‘ ‘فریڈ نے کہا۔
اسی وقت فون کی گھنٹی بجی اور کلیرل نے فون اٹھایا۔
’’ہیلو! کیا پولا وہاں ہے؟‘‘ دوسری طرف سے ٹرینٹ کی آواز سنائی دی۔
’’نہیں وہ زیچ کو ڈے کیئر سینٹر سے لینے گئی ہے۔‘‘
’’میرے پاس ڈیوڈ نیٹ نامی ایک پولیس آفیسر ہے جس کاتعلق ڈلاس پولیس ڈپارٹمنٹ سے ہے اس کے پاس ثبوت ہے کہ پولا والٹر ہی پولا نیٹ ہے اور وہ اس کی بیوی ہے اوراسے ایک قتل کے سلسلے میں گرفتار کرکے اس کے بچے کو اپنی سرپرستی میں لینا چاہتاہے اس کے پاس پولا کی گرفتاری کاوارنٹ ہے۔‘‘ ٹرینٹ نے بتایا اور کلیرل حیرت سے ڈیوڈ کودیکھتی رہ گئی پھراس نے فون رکھ کر ساری بات فریڈ کوبتائی تھی اور ان دونوں نے فیصلہ کیاتھا کہ کچھ دن کے لیے پولا کو کہیں چھپا دیں پھرکلیرل بڑی عجلت میں اپنے گھر سے اپنی کار میں روانہ ہوئی تھی اور ڈے کیئر سینٹر سے پولا اور زیچ کو اپنے ساتھ لے آئی تھی لیکن جب وہ اپنے گھر میں داخل ہونے والی تھی تب ہی پولیس کی گاڑی وہاں پہنچ گئی تھی ‘کلیرل ساری صورت حال پولا کو سمجھا چکی تھی اب پولا جانتی تھی کہ ڈیوڈ زندہ ہے او رزیچ کو حاصل کرنے آرہا ہے‘ کلیرل نے کنساس کے ایک ہوٹل میں پولا اور فریڈ کے رکنے کاپروگرام بنایاتھا جہاں وہ میاں بیوی کی حیثیت سے رکنے والے تھے اور پولیس تو ایک بچے کے ساتھ ایک عورت کوتلاش کررہی تھی‘ پولیس کی کار دیکھ کر پولا اور کلیرل حیران رہ گئی تھیں اوراسی وقت فریڈ بھی اپنے گیراج سے اپنی کار نکال رہاتھا جو اسے نئے منصوبے کے بارے میں جانتاتھا اس نے بھی پولیس کار دیکھ کر صورت حال کااندازہ لگالیاتھا پولا زیچ کو لے کرگھر میں چلی گئی تھی لیکن اسی وقت ایک سفید رنگ کی پولیس کار اور آئی تھی جس میں ٹرنیٹ دو افسران کے ساتھ موجود تھا اوراس نے انہیں کلیرل کے گھر کے پچھلے حصے کی طرف بھیج دیاتھا اب کلیرل کے سامنے ٹرینٹ‘ بینٹ اور آفیسر ڈونالڈ کھڑے تھے۔
’’ہائے ٹرنیٹ‘ پولیس آفیسر ڈونالڈ میرا خیال ہے تمہارے ساتھ تمہارا جودوست ہے وہ میرے لیے اجنبی ہے میں اس سے کبھی نہیں ملی۔‘‘ کلیرل نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ اندر کے خوف کو چھپا رہی تھی اور اس نے تہیہ کرلیاتھا کہ کسی نہ کسی طرح وہ بینٹ کے خون کانمونہ حاصل کرلے گی اس کی بلی اس کے قریب کھڑی غرارہی تھی۔
’’یہ ڈیوڈبینٹ ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہا۔ ’’جیسا کہ ہم اچھے دوست ہیں تو اب ہم گھر میں چلیں؟‘‘
’’ہاں ہاں کیوں نہیں؟ کیا تم کچھ چاکلیٹ بسکٹ کھانا چاہوگے؟‘‘ کلیرل نے پوچھااور دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئی اس کے ساتھ ساتھ پولیس افسران بھی گھر میں داخل ہوئے تھے اچانک کوئین نے ایک اونچی چھلانگ لگائی تھی اور بینٹ کے سینے پرجاکررکی تھی اس اچانک حملے سے بینٹ توازن برقرار نہ رکھ سکاتھااور نیچے گر گیاتھا پھربلی نے اس کے چہرے اور گلے پر کھرونچے مارنا شروع کردیئے تھے جن سے خون نکلنے لگاتھا۔ ٹرنیٹ اور ڈونالڈ بلی کواس سے الگ کرنے لگے تھے اوراتنی دیر میں کلیرل نے ایک صاف رومال لے کر زخم صاف کیا تھا۔
’’مجھے افسوس ہے کہ اس بلی نے یہ حماقت کی۔‘‘ کلیرل نے اس کے زخموں سے مزید خون صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’میرے راستے سے ہٹو… مجھے اٹھنے دو۔‘‘ اس نے کلیرل کوپیچھے کرتے ہوئے کہا اسی وقت دو پولیس افسران پچھلے دروازے سے اندر داخل ہوئے ایک نے زیچ کواٹھایا ہواتھااوردوسرے نے پولا کے ہاتھ میں آہنی کڑیاں لگائی ہوئی تھیں۔ پولا سرجھکائے ان کے ساتھ اندر آرہی تھی بالکل مجرموں کے انداز میں۔
’’سب کچھ ٹھیک ہوجائے گاپولا۔‘‘ اچانک ڈیوڈبینٹ بولا۔ ’’میں تمہیں تمہارے بچے سے دور نہیں رکھوں گا بس تمہیں کچھ دن ذہنی توازن کے اسپتال میں رہنا ہوگا تاکہ تمہارا علاج ہوسکے میں بچے کواپنے ساتھ رکھوں گا‘ تم ہر ہفتے اس سے ملنے آتی رہوگی۔‘‘ بینٹ کی بات نے بہت کچھ واضح کردیاتھا۔ وہ پولا کو پاگل خانے میں رکھ کر زیچ کوبتانا چاہتاتھا کہ اس کی ماں ذہنی مریض ہے اس نے اچھی پلاننگ کی تھی لیکن ایک چیز کااسے اندازہ نہیں تھا کہ اب پولا کے دوست نے جو اسے تنہا نہیں چھوڑسکتے تھے اور ہرحال میں اس کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اب کلیرل اور فریڈ کے پاس ایک منصوبہ تھا اور بینٹ کاکچھ خون بھی اس نے ٹیسٹ کے لیے حاصل کرلیاتھا‘ پولیس پولا کولے کر کار کی طرف بڑھ گئی تھی اور زیچ چیخ چیخ کر رو رہاتھا۔
’’ماما… ماما…‘‘
’’فکرمت کرناپولا میں تمہیں بہت جلد واپس بلالوں گی میرے والد تمہارے لیے بہترین وکیل کاانتظام کریں گے۔‘‘ کلیرل نے پولا کوتسلی دیتے ہوئے کہا اور بنیٹ کی طرف دیکھنے لگی۔ ’’اصل مجرم جلد بے نقاب ہوں گے۔‘‘ اچانک بینٹ نے کلیرل کے ہاتھ سے خون زدہ رومال چھیننا چاہے۔
’’اس کی فکر مت کرو میں دیکھ لوں گی کہ اس کے ساتھ مجھے کیا کرنا ہے۔‘‘ کلیرل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اگرمجھ سے ڈیل کرنا چاہتے ہو تو آج رات 9 بجے سے پہلے میرے پاس آجانا ورنہ ٹھیک 9بجے میں یہ خون کانمونہ کسی پرائیویٹ لیبارٹری میں پہنچادوں گی۔‘‘ اس نے اتنے آہستہ کہاتھا کہ یہ بات صرف بینٹ ہی سن سکاتھا۔
’’ایسا نہیں ہوگا… میں نہیں آئوں گا۔‘‘ بینٹ نے کہا۔
’’تم آئوگے۔‘‘ کلیرل نے واپسی کے لیے مڑتے ہوئے رومال کوفضا میں لہرایا۔’’بائے بائے ایوری باڈی۔‘‘ اسے ایسا کرتے ہوئے مزہ آرہاتھا وہ جانتی تھی کہ اسے آج رات بہت سے کام کرنا ہیں۔DNA کے لیے ریسرچ کرناہے‘ بلڈ ٹیسٹ کرواناہے اور بہت کچھ وہ چلتی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہوگئی اس نے مڑتے ہوئے ایک بار پلٹ کربینٹ کی آنکھوں میں دیکھاتھا جو اسے گھور رہاتھااوراس کی آنکھوں میں کلیرل کے لیے نفرت تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ اسے بینٹ کے خون کاٹیسٹ کروانے کے بعد ایک ایسی ہستی کی بھی ضرورت ہوگی جو اسے گرفتار کرسکے اوراس کے انجام کو پہنچاسکے۔
کچھ ہی دیر بعد فریڈ کلیرل کے لونگ روم میں کھڑااسے سمجھارہاتھا کہ خون کے جو نمونے اس نے لیے ہیں وہ ٹیسٹ کے لیے ناکافی ہوسکتے ہیں۔
’’نہیں یہ کافی ہوں گے۔‘‘ کلیرل نے وہ رومال ایک پلاسٹک بیگ میں رکھ کر اسے دے دیااوراس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’پولا کوہوٹل میں چھپانے کاجوپروگرام ہم نے بنایا تھا وہ تو ناکام ہوگیا اب وہ جیل میں ہے اور زیچ ظالم بینٹ کے پاس ہے اور یہ ہماری ناکامی ہے۔‘‘ کلیرل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ہاں جو کچھ ہواہے وہ ہمارے پلان کے خلا ف ہوا ہے۔‘‘ فریڈ نے اس کی تائید کی‘ کوئین قریب بیٹھی بڑے پرسکون انداز میں ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’اس بلی کودیکھو بالکل محسوس نہیں ہو رہا کہ کچھ دیر پہلے اس نے بینٹ پر ایسا خوفناک حملہ کیاتھا۔‘‘ فریڈ نے کہا۔
’’ہاں‘ یہ میری پیاری محافظ ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا پھراس نے بات کارخ بینٹ کی طرف موڑ دیاتھا۔
’’میراخیال ہے آج رات بینٹ ضرور آئے گا تم نے اس کی آنکھیں دیکھی تھیں جب میں نے اس سے کہاتھا کہ میں ریسرچ کروں گی اورDNA ٹیسٹ بھی کروائوں گی تووہ مجھے کیسے خونخوار انداز میں گھور رہاتھا؟ وہ سمجھ گیاتھا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں… وہ ضرور آئے گا کیونکہ میںنے اسے یقین دلادیاہے کہ میں اس کے ساتھ کوئی ڈیل کرنا چاہتی ہوں اور میرے پاس جوثبوت ہے اس کے بدلے زیچ کو حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ہاں بالکل… اورمیرا خیال ہے کہ وہ تم سے زیچ کا سودا کرنے نہیں بلکہ تمہیں مارنے آئے گا وہ اس ثبوت کے ساتھ تمہیں بھی مٹادینا چاہے گا۔‘‘ فریڈ نے کہا۔
’’میں جانتی ہوں اوراس کے لیے مجھے زیادہ مہارت سے کام کرنا ہوگا۔‘‘
’’بالکل‘اگر تم اسے زیر کرنے میںکامیاب ہوگئیں تو تم زندہ رہوگی۔ ‘‘فریڈ نے کہا۔
’’میں نے اسے بلاتولیاہے لیکن میرے ذہن میں ابھی کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں گی؟‘‘
’’میرا خیال ہے اگراس گھر میں تمہارا قتل ہوگیاتو اس سے پڑوس کی پراپرٹی کی ویلیو کم نہیں ہوگی۔‘‘ فریڈ نے کہااس کاانداز مذاق اڑانے والا تھا۔
’’فریڈ میرا مذاق مت اڑائو بلکہ میری مدد کرو… تم ایسا کرو کہ میرے گھر میں ایساہی ٹیپ کانظام لگادو جیسا بینٹ نے پولا کے گھر میں گفتگو سننے کے لیے لگایاتھا جیسے انگریزی فلموں میں ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ مجرم کے خلاف ثبوت جمع کرلیتے ہیں۔‘‘کلیرل نے کہا۔
’’اور تمہارے خیال میں مجھے یہ سارا سامان کہاں سے ملے گا؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’مجھے پتہ ہے تمہارے پاس سب کچھ ہے۔‘‘کلیرل نے کہا جس پرفریڈ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’پھرتمہیں کوئین کواپنے گھرپر رکھناہوگا میں نہیں چاہتی کہ بینٹ اسے کوئی نقصان پہنچائے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ فریڈ نے رضامندی ظاہر کی۔
’’تیسری چیز یہ کہ تم اصلی خون والارومال اپنے پاس رکھو لیکن میں اپنے پاس ایک نقلی رومال بھی رکھوں گی شاید ہمیں اس کی ضرورت پڑے۔‘‘
’’کلیرل تمہیں اندازہ ہے تم کیا کرنے جارہی ہو؟‘‘ فریڈ نے پوچھا۔
’’نہیں… اور میں چاہتی ہوں کہ مجھے اندازہ نہ ہی ہوتو اچھا ہے ورنہ شاید میں یہ کام نہ کرسکوں… چوتھی بات یہ کہ جب وہ مجھ سے ملنے آئے تو تم نزدیک ہی کہیں موجود ہو اس کے لیے تم اپنے تمام سامان اور گن کے ساتھ میرے گھر کی اوپری منزل میں چھپ سکتے ہو۔‘‘ کلیرل نے کہا فریڈ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’بس تو پھرپلان طے ہوگیا سب کچھ ایسے ہی ہوگا۔‘‘
’’تم پاگل ہوئی ہو اگر وہ واقعی آگیا؟‘‘ فریڈ نے کہا۔
’’وہ واقعی آئے گا۔‘‘ کلیرل نے یقین سے کہا۔
’’اگر وہ آگیا تو تمہاری زندگی خطرے میں ہوگی۔‘‘
’’ہاں لیکن مجھے یقین ہے کہ تم میری حفاظت کروگے اگرتمہارے ذہن میں کوئی اور اچھا آئیڈیا ہے تو بتائو۔‘‘
’’نہیں میرے پاس کوئی آئیڈیانہیں۔‘‘ فریڈ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔
’’توپھرمیرے منصوبے پرعمل کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن میں تمہیں ایک بات بتادوں کہ گھر میں کوئی فائرنگ نہیں کروں گا اورتم اس کے ساتھ کہیںنہیں جائوگی۔ میں اوپر چھپ جائوں گا ایک بہت ہی حساس مائیکرو فون کے ساتھ جو تمہیں سن سکے گااور ریکارڈ بھی کرسکے گا اوراگر تمہیں کوئی مشکل ہوگی تو میں نیچے آکر تمہاری مدد کروں گااور اس کھیل کوانجام تک پہنچائوں گااوراگراس کھیل میں مرگئیں تومیں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔‘‘ آخری جملہ اس نے مسکراتے ہوئے کہاتھا۔
’’دیکھا‘ میں کہہ رہی تھی ناکہ تمہارے ذہن میں کوئی نہ کوئی منصوبہ ضرور ہے۔‘‘ کلیرل نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ا س کے بعد فریڈ اپنے گھر سے ضروری سامان لینے چلاگیاتھااور کلیرل نے ٹرنیٹ کوکال کی تھی لیکن وہ موجود نہیں تھا چنانچہ اس نے اپنا پیغام وہاں چھوڑ دیاتھااور اپنے گھر کے اوپری حصے میں چلی گئی تھی جہاں بیٹھ کر اس نے اپنی وصیت لکھی تھی پھر ٹرنیٹ کافون بھی آگیاتھا۔
’’میں ٹرنیٹ بول رہاہوں۔‘‘
’’میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ہاں میں بھی تم سے پوچھنا چاہتاتھاکہ رومال کاکیا چکر ہے اور زہریلی چاکلیٹ کاکیا معاملہ ہے؟ یوں لگتاہے کہ تم بینٹ کوکسی چیز میں پھنسانا چاہتی ہو؟‘‘
’’میراخیال ہے کہ میں ٹھیک تھی وہ لیسٹرمیکی ہے اور میں نے رومال میں اس کا جو خون کانمونہ لیا ہے وہ اس بات کوثابت کردے گا تمہیں صرف یہ کرنا ہوگا کہ تم اس نمونے کواس نمونے سے ملائو جوتمہیں لیسٹر کی کار سے ملاتھا اوراس کے اپارٹمنٹ سے ملاتھا۔‘‘
’’تمہیں یہ سب کیسے پتہ چلا؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔ ’’میں جانتاہوں کہ لیسٹرمیکی وہ شخص تھا جسے بینٹ نے اپنے بچے کوڈھونڈنے کاکام دیاتھا اور وہی پولا پرنظررکھے ہوئے تھااور خالی گھر میں بھی موجود تھااور وہی پولا کوتنگ کررہاتھا جس کی وجہ سے پولا نے اسے قتل کردیا یہ بینٹ کا خیال ہے اس کی لاش اور کارغائب کردی کیونکہ لیسٹرمیکی نے کئی روز سے بینٹ سے رابطہ نہیں کیا ہے۔‘‘
’’یہ سب بکواس ہے ‘میں اس بات پریقین نہیں کرسکتی اور یہ سب درست مان بھی لیاجائے تومجھے کسی نے مارنے کی کوشش کی؟ اگر بینٹ کے مطابق اس وقت تک میکی مرچکاتھا تو بتائو مجھے کس نے مارنے کی کوشش کی ؟‘‘
’’میں نہیں جانتا میراخیال ہے تمہارے زہردیے جانے کامعاملہ کچھ اور ہے۔‘‘
’’میرا معاملہ الگ نہیں ہے‘ سب کچھ واضح ہے دراصل بینٹ ہی میکی ہے تمہیں کبھی بھی میکی کی لاش نہیں ملے گی کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا تم نے کہاتھا کہ تمہیں ڈلاس کے ریکارڈ میں بھی اس کانام نہیں ملاتھا؟‘‘
’’بینٹ نے بتایا تھا کہ میکی ایک فرضی نام استعمال کررہاتھا۔‘‘
’’کیاتم پولا کی کہانی سننا چاہوگے؟ تو سنو۔‘‘
’’میں پولا کی کہانی جانتاہوں۔‘‘
’’تم نہیں جانتے۔‘‘ کلیرل نے کہااور اسے پولا کی بتائی ہوئی کہانی سنائی۔
’’تم مجھے یہ سب کیوں بتارہی ہو؟ میرا کام پولا کی گرفتاری کے وارنٹ کے ساتھ ختم ہوگیاآگے کا کام پولا کے وکیل اور عدالت کرے گی۔‘‘
’’تم ایسا نہیں کرسکتے کہ ایک مظلوم عورت سے اس کابچہ چھین کر اسے ظالم کے حوالے کردواور کہو کہ تمہارا کام ختم ہوگیا؟اگر تم ایسے ہی آدمی ہو تو آئندہ میری بیکری پرچاکلیٹ کیک لینے مت آنا تم اس قابل نہیں ہو۔‘‘
’’کلیرل! میری بات سنو میرا کام قانو ن کی رکھوالی کرناہے میرے پاس ایک وارنٹ تھا مجھے پولا کوگرفتار کرناتھااور زیچ کوبینٹ کی سرپرستی میں دیناتھا یہ میری ذمہ داری تھی جومیں نے ادا کی اس میں میری مرضی کوکوئی دخل نہیں تھا۔‘‘
’’لیکن ابھی کچھ لوگ ہیں جوانصاف پریقین رکھتے ہیں قانونی پیچیدگیوں پرنہیں میں نے آج رات بینٹ کو اپنے گھربلایاہواہے اور میں تمہیں ٹیپ شدہ گفتگو فراہم کروں گی۔‘‘ کلیرل نے کہااور فون بند کردیا۔
سات بجے شام کلیرل اپنی بلی کوئین کوفریڈ کے گھر چھوڑ آئی تھی اور واپسی پر اس کے ساتھ فریڈ دو بیگوں کے ساتھ آیاتھا جس میں کچھ سامان تھا جواسے آج رات کلیرل کے گھر میں استعمال کرناتھااس کے لیے اس کے ریوالور بھی اس کے ساتھ تھا پھراس نے لونگ روم کے اوپر واقع کلیرل کے بیڈروم مین وہ سامان پہنچایا تھا کیونکہ وہیںسے بیٹھ کرا س نے ساری کارروائی ریکارڈ کرناتھی۔
’’تمہیں یقین ہے تمہارا یہ سسٹم کام کرے گا؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔’’یہ تو بہت چھوٹاہے۔‘‘
’’ہاں‘ یہ کام کرے گایہ اس وقت کی سب سے جدید ٹیکنالوجی ہے اوراس کے ذریعے میں باآسانی نیچے کمرے میں ہونے والی گفتگو اوپر تمہارے بیڈروم میں بیٹھ کر سن سکتاہوں۔‘‘
’’جب یہ کام ہوجائے گافریڈ تو تمہیں میرے کچھ سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’تم نے سنا نہیں کہ مردہ عورتیں سوال نہیں پوچھتیں؟‘‘
’’میں مذاق نہیں کررہی ہوں۔‘‘
’’اچھاجائو‘نیچے جائو اور کچھ بولوتاکہ میں چیک کرسکوں۔‘‘ فریڈ نے کہااور کلیرل نیچے چلی گئی۔
ٹھیک آٹھ بجے رات اس کے دروازے کی گھنٹی بجی تھی اوروہ اپنی جگہ سے اچھل پڑی تھی اس کا دل تیز تیز دھڑک رہاتھااورسردی کے باوجود اسے پسینہ آگیاتھا۔
’’اوکے فریڈ! شوشروع ہونے والا ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہااور دروازے کی طرف بڑھی جب س نے دروازہ کھولا تو باہر رات کے اندھیرے میں بینٹ کھڑاتھا اس کے چہرے پرخوشگوار مسکراہٹ تھی اور ایک لمحے کو کلیرل نے سوچا تھا کہ شاید وہ بینٹ کے بارے میں غلط رائے رکھتی ہے لیکن جیسے ہی اس نے گھر کے روشن لونگ روم میں قدم رکھاتھا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کلیرل کوجھرجھری آگئی تھی وہاں اس کے لیے وہی نفرت موجود تھی۔
’’بیٹھو۔‘‘ کلیرل نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’کیاتم کچھ پینا پسند کروگے؟‘‘
’’شکریہ‘ لیکن مجھے پیاس نہیں ہے۔‘‘ بینٹ نے جواب دیا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گیاتھااور کلیرل نے بیٹھنے کے لیے اس سے دور جگہ پسند کی تھی۔
’’زیچ کہاں ہے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’وہ ایک بے بی سینٹر کے پاس ہے میرا خیال تھا کہ ہم تنہائی میں بہتر گفتگو کرسکیں گے مجھے دراصل اندازہ نہیں تھا کہ تم آج رات مجھے یہاں کیوں بلارہی ہو لیکن میرا خیال ہے کہ شاید اس کاتعلق میری ذہنی مریض بیوی سے ہو کیونکہ اس نے تمہیں بہت سی جھوٹی کہانیاں سنائی ہوں گی یہ اس کی عادت ہے۔‘‘
’’دراصل میں نے اس کی جھوٹی کہانیوں اور ان زخموں پریقین کرلیاہے جو اس نے مجھے دکھائے تھے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’میں تمہاری قدر کرتاہوں تم پولا کی اچھی دوست ہومیں اب بھی اس سے محبت کرتاہوں دراصل جو بھی کچھ ہوا وہ اس کاقصور نہیں ہے وہ بیمار ہے۔‘‘
’’تم جھوٹ مت بولو تم نے برسوں اس پرظلم کیا ہے تم نے اسے گن بھی دکھائی اور ڈرایا جو غلطی سے تم پر ہی چل گئی اور تم زخمی ہوگئے پولا فرارہوگئی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ اس نے تمہیں قتل کردیاہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔ تم اس کاپیچھا کرتے ہوئے یہاں تک آگئے اور پھرتم نے لیسٹرمیکی کاکردار تخلیق کیااوراسے یہ سوچنے پرمجبور کیا کہ لیسٹرمیکی تمہارا باپ ہے اورتمہارا انتقام لینا چاہتاہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔ بینٹ ہونٹوں پرمسکراہٹ سجائے خاموشی سے اسے دیکھ رہاتھا۔
’’تم سامنے والے خالی مکان سے جھانک کراس کی نگرانی کرتے رہے تم نے اس کے گھر میں مائیکرو فون نصب کیے تاکہ اس کی گفتگو سن سکو۔‘‘ کلیرل نے کہا اوربینٹ کی مسکراہٹ غائب ہوگئی اب اس کے چہرے پرغصہ نظر آرہاتھا۔
’’تم نے پولا کی اسپرین کی گولیوں کی شیشی میں نیند کی گولیاں ڈالیں۔‘‘ کلیرل نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’اوریونیفارم میں آکر زیچ کو اٹھالے گئے یہی وہ بچہ بتارہاتھا جب وہ ’’پیس مین‘‘ کہہ رہاتھاتم نے یونیفارم اس لیے پہنا کہ کوئی تمہیں پہچان نہ سکے۔‘‘
’’مجھے افسوس ہے کہ میری بیوی کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی ان پریشانیوں سے گزرناپڑا لیکن تم اندازہ کرسکتی ہو کہ یہ کہانی کتنی بے کار اور بے مزہ ہے بھلا میں یہ سب کچھ کیوں کروں گا؟‘‘
’’کیونکہ تم پولاکوخوفزدہ کرنا چاہتے تھے اور زیچ کو اس سے چھیننا چاہتے تھے بھلا تم اسے کیوں حاصل کرنا چاہتے ہو۔ صرف پولا کو اس سے جدا کرنے کے لیے یااس پرظلم کرنے کے لیے ؟‘‘
’’میں زیچ کو اس لیے حاصل کرنا چاہتاتھا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ بینٹ نے پرسکون آواز میں کہااس نے مضبوطی سے صوفے کوپکڑاہواتھاجیسے اپنے غصے پرقابو پانے کی کوشش کررہاہو‘ اسی وقت بیرونی دروازہ کھلا اور رک تیز قدموں سے چلتاہوا گھر میں داخل ہوا۔
’’مجھے پتاتھا۔‘‘ اس نے کہااور بینٹ کی طرف بڑھا۔
’’کیاتم پاگل ہوگئے ہو؟‘‘کلیرل چیخی اور رک کے بال پکڑ کر اسے پیچھے گھسیٹا۔
’’یہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ بینٹ زور سے دہاڑااس نے رک کاہاتھ پکڑ کرپیچھے موڑدیاتھااور رک کے منہ سے کراہ نکل گئی تھی۔
’’یہ میری بیوی ہے ۔‘‘ رک نے کہا۔
’’لیکن تم اس طرح کیوں آئے ہو؟‘‘ بینٹ نے غصے سے پوچھا۔ ’’تم نے آتے ہی مجھ پرحملہ کیوں کیا؟‘‘
’’تم دونوں جو کچھ کررہے ہووہ نہیں کرسکتے۔‘‘ رک نے کہا۔ ’’میں تمہیں دیکھ لوں گا۔‘‘
’’تم کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘ کلیرل نے اسے ٹھوکرمارتے ہوئے کہا۔’ہم صرف باتیں کررہے تھے۔‘‘
’’وہ تومیں جلدی آگیا تم نے اسے یہاں کیوں بلایا ہے؟ میں شام سے تمہارے گھر کی نگرانی کررہاتھاجب یہ آیاتو میں سمجھا کہ یہ کوئی پولیس افسر ہے یہ کون ہے ؟‘‘
’’تم میری جاسوسی کررہے تھے؟‘‘ کلیرل نے ایک اور ٹھوکر رک کوماری۔ ’’میں اس شخص کوپسند نہیں کرتی یہ پولا کاشوہر ہے میں زیچ کو اس سے لینا چاہتی ہوں او ر تم نے ہماری گفتگومیں خلل ڈالاہے۔‘‘
’’ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ رک نے غیر یقینی اندا ز میں کہا۔
’’تمہیں یاد دلادوں کہ بے وفائی تو تم مجھ سے کررہے ہو تم مفی بفی کے ساتھ رہتے ہو میں اس لیے تمہیں چھوڑ کر یہاں آگئی الگ رہنے کے لیے۔‘‘
’’بفی مجھے چھوڑ گئی ہے۔‘‘ رک نے کہا۔
’’لیکن میں نہیں چاہتی کہ تم میری زندگی میں واپس آئو۔‘‘
’’آخر یہ سب کیابکواس ہے۔‘‘ بینٹ زور سے بولا۔ ’’مجھے تمہاری بکواس نہیں سننا۔‘‘
’’میں اس سے طلاق لینے والی ہوں‘ میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں جارہاہوں لیکن کل رات تمہارے والدین کے گھرتم سے ملاقات ہوگی۔‘‘ رک نے کہااور دروازہ کھول کرباہر نکل گیا۔
’’میں بھی جارہاہوں۔‘ ‘رک کے جانے کے بعد بینٹ نے کہا۔ ’’میں نے تمہی ںسچائی بتادی ہے اگر تم اس پر یقین نہ کرو تو یہ تمہارا مسئلہ ہے ۔‘‘
’’میں جس پریقین کرتی ہوں تمہیں بتادوں گی مجھے یقین ہے کہ رومال پرجو خون ہے وہ لیسٹر میکی کے خون سے میچ کرے گا۔‘‘
’’اس سے کیا ثابت ہوگا؟‘‘ بینٹ نے کہا۔
’’یہ ثابت ہوگا کہ پولا سچی ہے اور تم جھوٹے ہو اور پولا نہیں بلکہ تم ذہنی مریض ہو تمہارے باپ نے تم پر ظلم کیااور تم زیچ پر کرنا چاہتے ہو۔‘‘
’’سنو! تم نے میرا خون میری بغیراجازت لیا حالانکہ تمہارے باپ ایک بڑے وکیل ہیں تمہیں یہ معلوم ہوناچاہیے کہ کوئی کورٹ اسے نہیں مانے گی۔‘‘ بینٹ نے کلیرل کوپکڑتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں میرے لان میں زخم لگامیں نے تمہاری ہمدردی میں تمہارا زخم صاف کیااور جس لیبارٹری میں یہ ٹیسٹ ہو رہاہے وہ پولیس سے متعلق نہیں ہے کورٹ اسے تسلیم کرے گی جب میری کارروائی ختم ہوگی تو پولیس کے محکمے میں تمہارا کریئر ختم ہوچکاہوگا وہ تمہیں ایک ذہنی مریضوں کے ادارے میں داخل کردیں گے اور باقی زندگی تم وہیں سڑتے رہوگے۔‘‘ کلیرل نے کہاوہ دیکھ رہی تھی کہ بینٹ کا غصہ بتدریج بڑھتاجارہاتھا‘ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اب وہ اسے مارنے کی کوشش کرے گا تو کیا فریڈ وقت پرآکراس کی مدد کرسکے گا۔
’’جائو وہ رومال لاکرمجھے دو‘ ابھی‘ ورنہ میں تمہارا ہاتھ توڑ دوں گا۔‘‘ بینٹ نے کہا۔
’’وہ اس ڈبے میں ہے جواوپر ٹی وی پررکھاہے۔‘‘ کلیرل نے کہا اور بینٹ ٹی وی کی طرف بڑھااس نے کلیرل کوپکڑاہواتھا۔
’’جیسے تم نے مجھے پکڑاہوا ہے اگر کوئی دیکھے گا توتمہیں نہیں چھوڑے گا تمہیں پتا ہے فریڈ میرا پڑوسی ہے وہ میرا یقین کرے گا میں تمہارے بارے میں سب کوبتادوں گی سمجھو تمہارا پولیس کاکریئرختم ہوگیا۔‘‘
’’تمہیں جو کرنا ہے کرتی رہنا۔‘‘ بینٹ نے ٹی وی پررکھاہوا ڈبہ کھولتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے تمہاری پروا نہیں ہے جب میں یہاں سے جائوں گا تو تم زیادہ بات کرنے کے قابل نہیں رہوگی۔‘‘
’’کیوں؟ تم مجھے بولنے سے کیسے روک سکتے ہو؟‘‘ کلیرل نے کہا لیکن بینٹ نے اس کاجواب نہیں دیاس نے ڈبے سے نقلی خون والا رومال نکالاتھااورساتھ ہی کلیرل کابازو موڑاتھا جس سے اس کی چیخ نکل گئی تھی۔
’’میں تمہیں روک سکتاہوں آج رات تمہارے گھر میں ایک زبردست آگ لگے گی اور تم اس میں جل کربھسم ہوجائوگی اس طرح تمہار امنہ بند ہوجائے گا۔‘‘
’’تم کچھ نہیں کرسکتے تم بکواس کرتے ہو تم مجھے خوفزدہ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’میں نے تمہیں بتایاہے کہ پولا پاگل ہے میں نے اسے ستایا اس سے مزہ لیااور میں تمہارے ساتھ بھی یہی کرنے والا ہوں۔تمہیںپتہ ہے آگ بہت سی چیزوں کو جلا کرختم کرسکتی ہے لاشوں کوزخموں کوٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو۔‘‘
’’تم نے پولا کے ساتھ بھی غلط کیاتھااور تم میرے ساتھ بھی غلط کررہے ہو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’پولا کے ساتھ جو کچھ ہواوہ اسی کی حقدار تھی میں نے اسے ایک سبق پڑھایاتھااس نے میرے ساتھ جوکچھ کیااس کے بعد اس کے ساتھ وہی ہوناچاہیے تھا جوہوا۔‘‘
’’اس نے تم سے شادی کی‘ تمہارے لیے کھانابنایا‘ تمہاراگھر سنبھالا‘ بھلااس سے تمہیں کیا تکلیف پہنچی؟‘‘
’’اس نے مجھے بے وقوف بنایا مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی ہر کسی نے میرا مذاق اڑایا‘ کہ میں ایک بیوی کوبھی کنٹرول نہیں کرسکا پھراس نے مجھے گولی ماری اور بھاگ گئی ہر کوئی کہتا ہے کہ ڈیودبینٹ نے ایک پاگل عورت سے شادی کی تھی۔
’’تم نے میری چاکلیٹ کیک میں زہرملایا۔‘‘ کلیرل نے درد سے کراہتے ہوئے کہا بینٹ نے اس کاہاتھ بہت پیچھے کرکے موڑاہواتھااوردرد کی شدت سے وہ پاگل ہو رہی تھی۔ ’’تم نے مجھے مارنے کی کوشش کی تمہیں اس کی سزاملے گی۔‘‘
’’اس کے لیے تمہیںپولا کوقصور وا رکہنا چاہیے اگروہ تمہیں سب کچھ نہ بتاتی تو میں تمہیں نہ مارتا ‘میں نے کہانا کہ عورتیں پاگل ہوتی ہیں اگر وہ بھی میرے ساتھ تعاون کرتی تومیں اس کے ساتھ بھی اچھا رویہ رکھتا لیکن اب مجھے تمہیں بھی مارناپڑے گا۔‘‘ بینٹ نے کہا اور اچانک کلیرل کاہاتھ آزاد ہوگیااس نے مڑ کردیکھا بینٹ فرش پرپڑاتھا اورفریڈ اس کے اوپربیٹھاتھااس کے گھر کادروازہ پوراکھلاتھااورپولیس کے افراد اندر آچکے تھے ان کے ساتھ رک بھی تھا ٹرنیٹ نے آگے بڑھ کربینٹ کوہتھکڑیاں لگادی تھیں۔
’’ارے یہ کیا ہے؟ تم مجھے پکڑ رہے ہو میں تم میں سے ہی ایک ہوں۔‘‘ بینٹ نے ٹرنیٹ سے کہا۔ ’’اس شخص نے مجھ پرحملہ کیا میں یہاں کھڑا کلیرل سے بات کررہاتھا تاکہ اسے اپنے بچے کی نگہبانی دے سکوں اوراس نے آکر مجھ پرحملہ کردیا یہ ہتھکڑیاں میرے ہاتھوں سے کھولو اور فریڈ کو پہنائو۔‘‘
’’تمہیں جو کچھ کہنا ہے عدالت میں کہنا۔‘‘ ٹرنیٹ نے کہا۔ ’’میرے پاس تمہاری ساری گفتگو موجود ہے۔‘‘
’’کلیرل کیاتم ٹھیک ہو؟‘‘ رک نے پوچھااور پولیس کے دو افراد بینٹ کو پکڑ کرباہر لے گئے۔
’’ہاں میں ٹھیک ہوں اب تم جائو۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’ہم اچھے دوست تو رہ سکتے ہیں۔‘‘ رک نے پوچھا۔
’’یہ فیصلہ میں طلاق کے بعد کروں گی۔‘‘ اس نے جواب دیااوررک بھی کمرے سے نکل گیا۔
’’تمہارا ہاتھ کیسا ہے؟‘‘ٹرنیٹ نے کلیرل سے پوچھا جو فریڈ ک ننگے پائوں سیڑھیاں چڑھ کراوپر جاتے دیکھ رہی تھی۔
’’بہتر ہے‘ کچھ تکلیف ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے یہ ٹوٹانہیں ہے۔‘‘ ٹرنیٹ نے ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا۔
’’جوبھی کچھ ہے سب فریڈ کی ریکارڈنگ میں پتہ چل جائے گا تمہیںپتہ ہے ہماری ریکارڈنگ زیادہ اچھی اور صاف ہوگی تم سے بھی زیادہ اچھی۔‘‘
’’وہ کون ہے ؟‘‘ٹرنیٹ نے سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’د ن کے وقت اسٹاک ایکس چینج میں کام کرتا ہے۔‘‘ کلیرل نے کہا۔
’’ہوں… ایک تاجر جو کراٹے بھی جانتاہے اور جس کے پاس پولیس ڈپارٹمنٹ سے زیادہ جدید سننے کی ڈیوائسز موجود ہیں۔‘‘
’’تمہیں پتہ ہے اس خالی گھر میں بیٹھ کر تمہارے گھر پرنظر کون رکھتاتھا؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔ ’’مجھے بینٹ پرشک تھااورمیں تمہاری نہیں اس کی نگرانی کررہاتھا۔‘ ‘ٹرنیٹ نے کہااور کلیرل اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
’’میراخیال تھا کہ تم اپنی جگہ درست ہو‘ پھر جب تم نے اپنے لان میں اس سے خواہ مخواہ کی لڑائی مول لی تومیں نہیں چاہتاتھا کہ وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچائے ۔‘‘
’’کیااب تم پولا کوجیل سے چھوڑ دوگے؟‘‘ کلیرل نے پوچھا۔
’’وہ صبح کو گھر آجائے گی۔‘‘ ٹرنیٹ نے جواب دیا۔
’’اور زیچ؟‘‘
’’وہ اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے ہم کل اسے بھی پولا کے حوالے کردیں گے۔‘‘
’’اوہ!شکرہے۔‘‘
’’اگرسب معاملات طے ہوگئے ہوں تو کیا میں جاسکتاہوں؟‘‘
’’ہاں‘ تم یہ کہہ سکتے ہو لیکن Death by chocolateبنانا کوئی مذاق نہیں ہے لیکن آگ میں جل کرمرنے سے بہتر ہے کہ چاکلیٹ کیک بنالیاجائے۔‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘ ٹرنیٹ نے پوچھا۔
’’کیا کل رات تم میرے گھر پر میرے ساتھ ڈنر کرسکتے ہو؟‘‘ کلیرل نے کہا تو ٹرنیٹ مسکرانے لگا۔
’’کیوں نہیں ؟ اس میں تمہارے ہاتھ کاDeath by chocolate کیک ضرور ہوناچاہیے تم جانتی ہو یہ مجھے پسند ہے اورمیں ساری عمر تمہارے ہاتھ کی یہ سوغات کھانا پسند کروں گا۔‘‘ٹرنیٹ نے جواب دیااور کلیرل مسکرانے لگی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close