Naeyufaq Feb 2019

وہ تیس دن(قسط نمبر9)

عمارہ خان

’’یہ لیجیے ، وقاص کا فون آگیا ہے، وہ اس میں بزی ہیں۔‘‘ شرمندہ سی سونیا نے سامنے سر جھکائے ہوئے شہیر کو دیکھا او ر ہاتھ میں پکڑا ہوا چیک آگے کیا۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ شہیر نے مسکراتے ہوئے سونیا کی سمت دیکھا اور آگے بڑھ کر چیک تھام لیا۔ سونیا کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھے بنا نہیں رہ سکا۔
’’آپ کی طبیعت صحیح نہیں ہے شاید۔‘‘
سونیا نے چونک کر اسے دیکھا، الجھی ہوئی نگاہوں سے شہیر کو دیکھتی رہ گئی۔
کیا اس سے پوچھا جاسکتا ہے، گھر میں کوئی آسیب ہے یا نہیں۔ تیزی سے امڈتی ہوئی سوچ نے سونیا کو بوکھلا دیا۔
’’سوری مجھے ایسے نہیں پوچھنا چاہیے تھا وہ بس۔‘‘ شہیر نے جھینپ کر معذرت طلب کی۔ اپنی بے ساختگی پر شہیر شرمندہ ہوچکا تھا۔
’’اٹس اوکے بس ایسے ہی کچھ طبیعت نڈھال سی ہے۔‘‘ سونیا نے اخلاقی طور پر جواب دیا۔جسے سن کر شہیر نے چیک اپنے وولٹ میں رکھا اور سر ہلا کر اپنی بائیک کی طرف مڑگیا۔ اس کی تسلی ہوگئی تھی اب رکنا بے کار تھا۔
اور وہ وقت آکر گزر گیا، جب سونیا گھر کے بارے میں پوچھ سکتی تھی، تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ وہ خاموشی سے گھر کے اندر کی جانب بڑھنے لگی اچانک کوئی خیال آتے ہی واپس پلٹی ، جاتے ہوئے شہیر کو دیکھا بلند آواز میں اسے مخاطب کیا۔
’’ارے ہاں میں آپ کا شکریہ ادا کرنا بھول گئی۔‘‘
شہیر نے بے ساختہ پلٹ کر سونیا کو دیکھا، ہاتھ سینے پر رکھ کے کنفرم کرنا چاہا۔
’’میرا شکریہ ، کس چیز کا۔‘‘
’’وہ آپ نے اس دن مالی بھیجا تھا نا۔ بہت اچھا کام کیا اس نے، کافی تجربہ کار لگ رہا تھا۔‘‘ سونیا نے تحمل سے مسکراتے ہوئے اپنی ذہنی الجھن دبا دی، جب اپنے شوہر اور بہن ہی میری بات کا یقین نہیں کر رہے تو یہ انجان اسٹیٹ ایجنٹ کیا سنے گا۔
شہیر الجھ سا گیا۔
’’مالی… لیکن… میں نے تو کسی کو نہیں بھیجا۔ بلکہ میں معذرت خوا ہوں اتنا چھوٹا کام نہیں کرسکا آپ کا۔‘‘ شہیر نے اٹکتے ہوئے سامنے کھڑی ہوئی حیرت زدہ سونیا کو دیکھا۔
’’مجھے بالکل یاد نہیں رہا تھا۔ سو سوری بس وہ کچھ مصروفیات آگئی تھیں ورنہ مالی کا کام کوئی ایسا مشکل تو نہیں تھا۔‘‘
سونیا کے کاٹو تو لہو نہیں والا حساب تھا۔
’’میں شرمندہ ہوں، بس ذہن سے نکل گیا۔‘‘ شہیر نے گم صم سامنے کھڑی ہوئی بیمار خاتون کو دیکھا جس کے چہرے کی شادابی ایک ہی ماہ میں نچڑ کر رہ گئی تھی۔ وہ ہنستی مسکراتی ہوئی سونیا تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی جو گھر دیکھنے آئی تھی شہیر نے ایک نظر آسیب زدہ گھر کو دیکھا دوسری نظر بت بنی ہوئی سونیا کو دیکھا۔ کچھ سمجھتے ہوئے اسے تسلی دینے لگا۔
’’ہوسکتا ہے اس گھر کا پرانا مالی گیٹ کھلا دیکھ کر آگیا ہو، آخر آپ سے پہلے بھی تو لوگ اس گھر میں رہتے ہی تھے نا پھر دیکھیں ہر طرف لوگ آباد ہیں اور سب کے ہی لان ہرے بھرے ہیں اس میں ایسی کوئی پریشانی کی تو بات نہیں ہے۔‘‘ شہیر کے دل میں چور تھا جو اسے اتنی صفائی دینے پر اکسارہا تھا۔ سونیا کے چہرے کے بدلتے تاثرات شہیر کو پریشان کر رہے تھے۔
’’اچھا مجھے اجاز ت دیجیے پھر۔‘‘ مسلسل خاموشی سے گھبراتے ہوئے شہیر نے جانے میں ہی عافیت دیکھی۔
’’جی جی بالکل۔‘‘ سونیا نے دو قدم پیچھے ہوتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دی لیکن خود جی جان سے لرز گئی تھی۔ مالی کا پتھرایا ہوا چہرہ اس کے ذو معنی جملے ایک ایک کرکے اس کی یادداشت میں دستک دینے لگے۔ ابھی شہیر گلی کے کونے تک بھی نہیں گیا تھا کہ وقاص تیز قدموں سے چلتا ہوا باہر آیا۔
’’کیا ہوا وقاص۔‘‘ سونیا نے حیرت سے وقاص کی تیزی دیکھی۔
’’وہ یار آفس سے فون آگیا ہے، کچھ ایمرجنسی ہوگئی ہے ادھر، مجھے جانا ہوگا۔‘‘ گاڑی کی چابی جیب میں تھپتھپاتے ہوئے وقاص نے شرمندہ نظروں سے سونیا کود یکھا۔
’’ڈنر کل سہی، آئی ہوپ تم انڈراسٹینڈ کرو گی۔‘‘
’’وقاص مجھے تم سے بات کرنی ہے۔‘‘ سونیا نے پھرتی سے آگے بڑھ کر وقاص کو گاڑی میں بیٹھنے سے روکنے کی کوشش کی۔
’’ابھی نہیں۔‘‘ وقاص نے تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے معذرت کی۔
’’واپس آکر تمہاری بات سنوںگا، ابھی بالکل وقت نہیں ہے۔ پکا پرامس۔‘‘ اسی وقت الماس گھر کے اندر سے بھاگتی ہوئی آئی۔
’’بھائی جان ، بھائی جان۔‘‘
’’اب کیا ہوا مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ جھنجلایا ہوا وقاص یقینا دیر ہونے سے الجھ رہا تھا، اس کے تیور دیکھ کر سونیا ایک دم چپ سی ہوگئی۔
’’مجھے آگے تک چھوڑ دیں نا۔‘‘ الماس نے بات کرتے فوراً ہی کانوں کوہاتھ لگایا۔
’’اوکے، بیٹھو۔‘‘ وقاص نے گاڑی اسٹار ٹ کی اور تیزی سے نکل گیا، پیچھے سونیا بے بسی سے زیرلب بڑبڑا کر رہ گئی۔
’’پلیز میری بات سن لو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔‘‘ سونیا نے ایک ڈری ہوئی نگاہ پورے گھر پر ڈالی، اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی جلد ہی کوئی انہونی ہونے والی ہے۔
…٭٭…
’’میں تم سے ملنا چاہتی ہوں راحیل۔‘‘ الشبہ نے جھجکتے ہوئے راحیل کو میسج کیا۔
راحیل ، روبی کے ساتھ کافی ہائوس میں بیٹھا ہوا اس سے رات کے پروگرام کی تفصیل جان رہا تھا ، الشبہ کا میسج پڑھتے ہی منہ بنا کر رہ گیا۔
’’کیا ہوا سوئٹ ہارٹ۔‘‘ روبی نے راحیل کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دلربائی انداز میں سوال پوچھا۔
’’نتھنگ اسپیشل۔‘‘ راحیل نے موبائل سائڈ میں رکھا، روبی کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگالیا۔ ’’تمہارے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہوسکتا تو پھر رات تم میرے اپارٹمنٹ آرہی ہو یا میں۔‘‘
’’ابھی تو کلب چلو پھر رات دیکھتے ہیں کیا موڈ بنتا ہے۔‘‘ روبی نے راحیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔
’’یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘
’’وہ تمہاری اس ماہ کی کھیپ کا کیا ہوا راحیل ۔کیا ہم سوئٹزر لینڈ جا سکیں گے۔‘‘ روبی نے کچھ سوچتے ہوئے راحیل کو یاد دلانا چاہا۔
’’اسی کے لیے سوچ رہا ہوں کافی وقت دے دیا چڑیا کو۔ اب جال سمیٹنے کی بار ی ہے۔ وہ کھیپ کوچنگ میں دے گی تو ہماری پے منٹ کلیئر ہوگی اس بار سختی بھی کافی ہوگئی ہے شاید انتظامیہ کو مجھ پر شک ہو رہا ہے۔‘‘
’’تو کیا اس لڑکی پر نہیں ہوگا۔‘‘
’’نہیں وہ کافی پڑھاکو ہے اور اس کی نیک نامی کی بدولت تو میں نے اسے گھاس ڈالی تھی ورنہ ابھی راحیل کا اسٹینڈرڈ اتنا نہیں گرا جو ایسی لڑکیوں کو منہ لگائے۔‘‘
’’تو راحیل کی پسند کیسی ہے۔‘‘ چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ روبی نے اس کا دھیان بٹایا۔
’’رات کو تفصیل سے بتادوں گا جان من بولو تو ابھی ٹریلر دیدوں۔‘‘ راحیل نے فورا ہی روبی کا ہاتھ ایک بار پھر تھاما۔
…٭٭…
پریشان حال سونیا سست قدموں سے گھر کے اندر داخل ہوئی۔ کن انکھیوں سے پورے گھر کا جائزہ لینے کے بعد جھجکتے ہوئے لائونج میں ہی بیٹھ گئی۔
’’مجھے پوچھ لینا چاہیے تھا شہیر سے، ہوسکتا ہے وہ اس گھر کی ہسٹری جانتا ہو۔‘‘ سونیا کو اب رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا۔
’’شاید وہی میری بات کو سیریس لے لیتا یا اس سے بات کرنے سے مجھے کوکوئی ایسا ہنٹ مل جاتا جس کی مدد سے یہ پہیلی سلجھ جاتی۔‘‘ سونیا نے دل ہی دل میں جھنجلاتے ہوئے سوچا۔ ’’کاش میں نے ہمت کرلی ہوتی تو آج یہ معاملہ کسی منطقی انجام تک پہنچ جاتا، آخر اتنے عرصے سے وہ اکیلا ہی مکان کو دیکھ رہا ہے کچھ نا کچھ تو جانتا ہی ہوگا۔‘‘
کک… کون… ہے؟‘‘ سونیا کو ایک دم اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی اس نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا لیکن سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئی گیند نے سونیا کو لمحہ بھر کے لیے ساکت کردیا تھا۔
’’ہی… ہیلو… ہیلو… الماس۔ الماس کب آئوگی تم۔‘‘ سونیا نے ڈرتے ڈرتے پاس رکھے ہوئے موبائل پر ری ڈائل دبایا۔ الماس کو کال جا لگی۔ بوکھلائے انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے سونیا نے الماس کو مدد کے لیے پکارا۔
’’ہاں باجی بولو… ہیلو…‘‘ الماس کی مصروف سی آواز سن کر سونیا بدحواس ہوگئی۔
’’باجی تمہاری آواز ٹھیک سے نہیں آرہی۔‘‘
’’تت… تم کب واپس آئوگی الماس۔ مم… مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ روہانسی سونیا کی آواز بھی کانپ رہی تھی۔
’’ہیلو۔‘‘ الما س نے ہیلو ہیلو کی گردان جاری رکھی۔
’’الماس… الماس… بات سنو… مم میں تم کو کچھ بتانا چاہ رہی ہوں الماس۔‘‘
’’بولو نا باجی۔‘‘ جھنجلائی ہوئی آواز سن کر سونیا جھجک گئی۔
’’الماس، اس گھر میں کچھ ہے کوئی ایسا جو مجھے مارنا چاہتا ہے۔ وہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔‘‘
’’ہیلو… ہیلو باجی۔ میں پانچ منٹ میں گھر پہنچ جائوں گی، پاس ہی شاپ تک آئی ہوں، رک جائو کچھ دیر یار۔‘‘الماس نے اکتا کر فون بند کردیا۔
سونیا جو اب ایک ٹک ہلتی ہوئی بال کو دیکھ رہی تھی ، بڑبڑانے لگی۔
’’وہ مجھے مار دے گا۔ میرے پیچھے پڑگیا ہے۔ الماس اگر میں مر گئی تو میرے بچوں کا خیال رکھنا۔‘‘ پھٹی ہوئی آنکھیں مسلسل ہلتی ہوئی گیند پہ جمی ہوئی تھی۔ ’’پلیز میرے بچوں کا خیال رکھنا۔‘‘ اسی وقت کچن سے کالی بلی چلتی ہوئی آئی اور سکون سے سونیا کے پیچھے جا بیٹھی۔ سونیا کا پورا دھیان سامنے گیند کی جانب تھا۔ الماس کی جانب سے فون بند کرنے کی ٹک کی آواز سن کر سونیا چونک گئی۔ ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل کو صوفے پر رکھتے ہوئے اس کا دھیان بچوں کی آوازوں کی طرف ہوگیا۔ اسی وقت سونیا کے پیچھے بیٹھی ہوئی کالی بلی اپنی جگہ سے اٹھ کر سونیا کے پاس آنے لگی جیسے ہی بلی نے اپنی جگہ چھوڑی اسی وقت گیند نے بھی بلی کی جانب لڑھکنا شروع کیا۔ بلی نے یہ دیکھ کر ایک نظر گم صم سونیا پر ڈالی دوسری نظر قہر برساتی ہوئی نگاہ گیند کی طرف کی۔
’’ہے ے ے ے ماما، کل آف ہے ہمارا۔‘‘
چیختے چلاتے بچوں کی آوازیں سن کر سونیا جیسے کسی ٹرانس سے نکلی۔بچوں کی مسرت بھری چیخیں سن کر اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی لیکن وہ سہم چکی تھی۔
…٭٭…
’’پتہ نہیں کیوں راحیل مجھے اگنور کر رہا ہے۔‘‘ الشبہ نے میسج کے جواب میں کافی دیر تک کوئی رپلائی نہیں پایا تو ایک بار پھر یاسیت سے سوچنے لگی۔ ’’خود ہی مجھے اپنی طرف راغب کرکے ایسے۔‘‘
الشبہ نے سامنے پھیلی ہوئی کتابوں سے نظریں چرائی، باہر بڑھتے ہوئے شام کے سائے پر نظر یں جمادیں۔
’’ راحیل ایک بار پاپا سے مل لیتا تاکہ… لیکن میں کیا کہہ کے پاپا سے اس کا تعارف کرائوں گی، راحیل تو کہہ رہا تھا اس کی ماما باہر ہیں ، جیسے ہی وہ آئے گی وہ مجھ سے ملوائے گا۔‘‘
بکھری ہوئی سوچوں کے ساتھ الشبہ جانے کب تک ایک ہی جگہ بیٹھی رہی۔
’’اویس نے اتنا بڑا الزام کیسے لگا دیا راحیل پر۔‘‘ ایک دم الشبہ کو اویس کی باتیں یاد آنے لگی۔ راحیل اور ڈرگس سپلائی کرنے والا۔ توبہ لوگ کیسے اتنا نیچے گرسکتے ہیں۔ ایسے منہ بھر کے الزام لگا دیا بیچارے پر وہ تو اتنا امیر ہے، اویس کی شکایت کرنی ہی پڑے گی اگر اس نے مجھے ایک بار اور تنگ کیا تو…!‘‘
الشبہ کی سوچوں کا رخ اس بار اویس کی جانب ہوگیا تھا، جس نے اپنی دوستی اور پسند کی لاج رکھتے ہوئے الشبہ کو خطرے سے آگاہ کرنا چاہا تھا لیکن محبت کی اندھی پٹی باندھے الشبہ کب کسی کی سن سکتی تھی۔
’’غریب سا لڑکا ہے، اسی لیے اس بار معاف کردیتی ہوں ورنہ اس جیسے تو راحیل کے گھر ملازم ہوں گے۔‘‘
الشبہ کا سارادھیان اب راحیل کی طرف ہو چکا تھا، سامنے رکھی ہوئی کتابیں اس کی ایک نظر کی منتظر تھیں لیکن جوانی ایسی ہی تو دیوانی مشہور نہیں ہے۔
…٭٭…
جہاں ایک طرف سونیا اور الشبہ اپنی اپنی سوچوں میں گم تھیں ، وہیں شہیر کی نظروں میں مرجھائی ہوئی سونیا بس چکی تھی۔ اسے شدت سے اپنے گناہ کا احساس ہونے لگا تھا، شاید بڑھتی ہوئی عمر کی بیٹی کو دیکھ کر اب اسے احساس جرم ستانے لگا تھا۔
’’میں کسی بھی طرح یہ ایگریمنٹ کینسل کرا دوں گا۔‘‘ شہیر نے اپنے ضمیر کے سامنے ہار مانتے ہوئے فیصلہ کیا۔
’’الشبہ کے کالج کی ایڈمیشن فیس کہاں سے لائوگے کون تم کو لاکھوں روپے ادھار دے گا شہیر بے وقوف مت بنو۔‘‘ شیطانی وسوسے اسے اپنی طرف کھنیچ رہے تھے۔
’’کوئی نا کوئی سبیل بن ہی جائے گی۔‘‘ بیٹی کے مستقبل کا سوچ کر شہیر کے ارادوں میں دراڑ بننے لگی۔
’’کرائے دار اپنی مرضی سے گھر لیتے ہیں ، اس میں تمہارا کیا قصور ہے۔‘‘
’’لیکن میںان کو پوری بات نہیں بتاتا، وہ آسیب زدہ گھر ہے۔‘‘ شہیر نے دبے دبے انداز میں خود کو یاد دلایا۔ ’’دھوکے سے گھر دینا بھی غلط ہے ۔‘‘
’’غلط تب ہوگا، جب تمہاری بیوی کی آخر ی خواہش پوری نہیں ہو گی۔ الشبہ ڈاکٹر نہیں بن سکے گی اس کے سارے خواب مر جائیں گے۔ پھر کیا کرو گے۔‘‘
وقاص کے بھی دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ایک بیوی ہے سالی ہے۔‘‘ ہونٹ بھینچتے ہوئے شہیر نے آنکھیں موندھی۔
’’وہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔ ان کا اپنا فیصلہ تھا گھرلینا شاہ جی نے کوشش کی ہوگی لیکن وہ خود لالچی لوگ ہیں جو سستا مکان چھوڑنا نہیں چاہتے ۔تم بے قصور ہو شہیر، بے فکر رہو۔ کوئی تم پر الزام نہیں لگاسکتا۔‘‘
’’لیکن…‘‘شہیر نے پسپائی اختیار کی۔
’’بس خاموش رہو اور اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو تم اکیلے ہی اس کاخیال رکھنے والے ہو، سب لوگ خود غرض ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی فیملی کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں تم نے بھی وہی کیا۔
’’ہوں…!‘‘ لمبی خاموشی نے ضمیر کو جتلادیا، وہ ایک بار پھر شکست حاصل کرچکا ہے۔ شہیر کے چہرے پر پھیلا ہوا تفکر اس بات کی گواہی تھے، اس کے لیے یہ بوجھ اب ناقابل برداشت ثابت ہونے والا ہے۔
…٭٭…
سونیا نے بچوں کی آوازیں سن کر اپنے اندر ان دیکھی سی توانائی محسوس کی۔ فورا ہی گہری گہری سانسیں لے کر خود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’ماما… ماما۔‘‘ عمر نے سونیا کو دیکھ کر بھاگ کر اس کے پاس جانے کے لیے پر تولے، سونیا نے فورا ہی اپنی بانہیں وا کردی ، جس میں عمر سما گیا۔
’’میں بتائوں گی۔‘‘ مہر نے بھی عمر کی دیکھا دیکھی، اپنی اسپیڈ بڑھائی اور بلند آواز میں سونیا کو مخاطب کیا۔
’’ماما کل ہمارا آف ہے، کل ہمارا آف ہے۔‘‘
’’مجھے بتانا تھا نا۔‘‘ عمر نے سونیا کے سینے سے لگی اپنی چھوٹی بہن کو گھورا۔
’’لاسٹ ٹائم آپ نے بتایا تھا۔‘‘ مہر نے بھی منہ بنا کر بھائی کو دیکھا اور منتظر نگاہوں سے سونیا کو دیکھا جو گم صم عمر کو خود سے لگائے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔
’’میں بڑا ہوں۔‘‘ عمر نے فورا ہی مہر کو یاد دلانا چاہا۔
’’کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں۔‘‘ سونیا نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن اپنے چہرے پر پھیلا ہوا تنائو وہ خود بھی محسوس کرسکتی تھی۔
’’عمر گندہ ہے۔‘‘ مہر نے ٹھنک کر سونیا کے گلے لگ کر اعتراف کیا۔
’’تم خود گندی۔‘‘ عمر نے فورا ہی جواب دے ڈالا۔
’’اوکے اوکے چلو اپنے کمرے میں جائو نہا کے واپس آئو پھر ساتھ کھانا کھائیں گے۔‘‘ سونیا نے کن انکھیوں سے آس پاس دیکھ کر بچوں کو بہلایا۔
’’کل آف ہے تو بابا سے کہیں گے، کہیں باہر لے کر چلیں اتنے دن ہوگئے کہیں باہرنہیں گئے ہم لوگ۔‘‘
’’ہرے ے ے ے۔‘‘ بچوں نے سونیا کی کہی بات پر لبیک کہی۔
’’ ارے بابا نے آج جلدی آنا تھا نا ماما۔‘‘ عمر کو بروقت یاد آیا۔
’’آئے نہیں ابھی تک۔‘‘ عمر نے کچن کے ساتھ دیوار پر لگے ہوئے کی ہولڈر پر دیکھا جہاں وقاص کی گاڑ ی کی چابی لٹکی ہوتی ہے لیکن وہ جگہ خالی تھی۔
’’آئے تھے لیکن پھر واپس چلے گئے۔‘‘ یاسیت سے کہتی ہوئی سونیا نے اداسی محسوس کی۔ ’’وہ بہت مصروف ہوتے جارہے ہیں اب۔‘‘
’’میں ونر۔‘‘ مہر نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہوکر اعلان کیا۔ جسے سن کر سونیا نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ کب سونیا کے پاس سے نکل کر چلی گئی معلوم ہی نہیں ہوا۔
’’جی نہیں میں ونر ہوں۔‘‘ عمر نے تیزی سے بھاگتے ہوئے اسے چڑایا۔
’’لوزر لوزر۔‘‘ مہر نے سیڑھیوں پر بھاگتے ہوئے بھائی کو انگوٹھا دکھایا اور اپنے کمرے کی جانب بھاگنے لگی۔
دونوں بچوں کی نوک جھونک سن کر سونیا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی، بہکتی ہوئی نگاہ لائونج سے ہوتی ہوئی لان تک گئی اور اِدھر ہی ٹھہر گئی۔
سامنے بینچ پر کالی بلی بیٹھی ہوئی اسی کو تک رہی تھی۔ سونیا کے جسم و جان میں سنسنی سی دوڑ گئی ایک دم ہی اس نے بچوں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا اور تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی۔
لیکن…
لیکن … اس کے لیے وہاں ایک اور سرپرائز تیار تھا۔
…٭٭…
’’ہرے ے ے مزہ آیا آج۔‘‘ عمر کی مستی میں ڈوبی آواز سیڑھیوں تک آرہی تھی۔ جسے سن کر نا چاہتے ہوئے بھی سونیا کے قدموں کی رفتار سست ہوگئی تھی۔
’’اب مزہ آئے گا۔ ہم خوب کھیلیں گے۔‘‘
’’پورے تین دن کا آف ہے۔‘‘ مہر نے بھی خوشی سے عمر کا ساتھ دیا۔
’’کوئی ٹیسٹ تو نہیں ہے نا۔‘‘ عمر نے مہر کو گھورتے ہوئے سوال پوچھا۔
’’ہے تو لیکن مجھے یاد ہے۔‘‘ مہر نے زبان چڑاتے ہوئے بھائی کو دیکھا۔
’’چلو پھر جلدی سے کھانا کھائیں تاکہ تینوں لوڈو کھیلیں۔ تین دن تک صرف کھیل کھیل اور کھیل ہے نا؟‘‘
’’ہاں ہم تینوں اس بار چھت پر کرکٹ بھی کھیلیں گے۔‘‘ عمر نے فورا ہی تائید کی۔
سونیا جو بچوں کے کمرے کا ادھ کھلا دروازہ پورا کھولنے والی تھی تین کا لفظ سن کر ساکت رہ گئی۔ اس کے پیروں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔
’’فرینڈ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اس بار وہ جیتے گا تو…‘‘
’’ماما… ماما…‘‘ مہر نے آہٹ پا کر سونیا کو مخاطب کیا۔
’’آپ ہمیں روکیں گی تو نہیں نا۔‘‘ سونیا نے کن انکھیوں سے کمرے کا جائزہ لیا۔
’’یس ماما۔ اب تو ہمارا مزے کا ویک اینڈ شروع ہو رہا ہے بابا سنڈے ڈنر کرانے لے جائے گے اور مزہ آئے گا۔‘‘ عمر نے مہر کو یاد کراتے ہوئے لمبا ویک اینڈ پلان کرلیا۔
سونیا چاہتے ہوئے بھی اس وقت بچوں سے اس تیسرے فرینڈ کے بارے میں کوئی سوال جواب نہ کر پائی ، خاموشی سے مہر کے بیڈ پر بیٹھ کر چاروں طرف خوف زدہ نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ اتنا تو اسے یقین ہوگیا تھا، وہ بچہ جو کوئی بھی ہے ، اس کے اپنے بچوں کے لیے خطرناک نہیں ہے ،ورنہ کب کا کوئی نقصان پہنچا چکا ہوتا لیکن یہ جو بھی ہورہا تھا یہ سب نارمل تو ہرگز نہیں تھا۔ سونیا نے بے ربط سوچوں کے ساتھ مہر اور عمر کے ہلتے ہونٹوں کو دیکھا اس کے اندر وسوسے اپنی جڑ پکڑ چکے تھے اور کب کتنی شاخیں نکلنی تھیں یہ وقت نے بتانا تھا۔
…٭٭…
الماس تھکی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، لائونج بھائیں بھائیں کر رہا تھا، اس نے آہستگی سے سونیا کے کمرے کے دروازے پر ناک کیا لیکن جواب نا پاکر وہ اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھا گئی۔ شولڈر بیگ بیڈ پر پھینک کر خود بھی وہی نیم دراز ہوگئی ایک دم اس کے کمرے کی لائٹ بند ہوئی ساتھ ہی چررر کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ کھلا۔
کون ہے۔ الماس نے لیٹے لیٹے نگاہوں کا زاویہ بدلا اور کن انکھیوں سے لائٹ کی جانب دیکھ کر اندازہ لگانا چاہا،آیا لائٹ گئی ہے یا بلب فیوز ہوا ہے اسی اثنا میں ایک دھندلا سا ہیلولا کمرے میں داخل ہو کر الماس کے پاس آبیٹھا، نرم ہاتھوں سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
’’اوہ باجی آپ تھینک کیو یار۔ جادو ہے آپ کے ہاتھوں میں۔‘‘ الماس نے سرور میں ڈوبی آواز میں بند ہوتی ہوئی آنکھوں کو بمشکل کھولا۔
’’اتنا تھک گئی ہوں یار۔ ایک تو ہائی وے مار دیتا ہے اوپر سے ہمارے کراچی کی ٹریفک توبہ ہے۔‘‘ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد الماس نے سونیا کی جانب دیکھا جس کا چہرہ اندھیرے میں نظر نہیں آرہا تھا۔
’’یہ آپ اتنی خاموش کیوں ہیں ویسے۔‘‘ ایکدم الماس کو احسا س ہوا، صرف اس کے ہی کمرے کی لائٹ بند ہے، ٹیرس کی طرف سے روشنی آرہی ہے۔
’’باجی یہ صرف میرے کمرے کی لائٹ بند ہے نا لگتا ہے سیور فیوز ہوگیا ہے۔ ہٹیں ذرا چیک کروں۔‘‘ الماس نے سونیا کی سمت دیکھے بغیر ہی اٹھ کر کمرے کے مین سوئچ بورڈ کی جانب ہاتھ بڑھایا اور سارے سوئچ آن کردیے۔
’’اوہ سوئچ ہی بند تھا تو بلب کیسے روشن ہوگا۔ میں بھی نا۔‘‘ الماس نے پلٹ کر بیڈ کی جانب دیکھا، جہاں کوئی نہیں تھا۔ پورا کمرہ خالی تھا ۔الماس نے آنکھیں سکیڑ کر سونیا کو دیکھنا چاہا۔
’’باجی کہاں گئیں وہ بھی اتنی خاموشی سے۔‘‘ کندھے اچکاتی ہوئی الماس نے مزید سوچ و بچار کرنے کی جگہ شاور لینے کو ترجیح دی۔
الماس کے باتھ روم جاتے ہی بیڈ کے نیچے سے کالی بلی نکل کر کمرے کی کھلی کھڑکی سے باہر کود گئی۔
…٭٭…
رات کے اندھیرے میں وقاص تھکا ماندا آفس سے گھرکی جانب رواں تھا۔ اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھی ، جسمانی طور پر بھی وہ انتہائی تھکن محسوس کررہا تھا۔۔جیسے ہی اپنی کالونی کی روشن لائٹس دیکھی گہری سانس لے کر اپنے اندر کچھ توانائی محسوس کی۔ اگر جو اس وقت سونیا جاگی ملی تو ایک کلاس لازمی لے گی وقاص احمد۔ دل ہی دل میں اپنے باس کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے وقاص نے گاڑی اپنی لین میں موڑی لیکن اگر وہ جاگی نہیں ملی تو کھانا اور چائے کون دے گا۔ تھکن سے چڑچڑاتے ہوئے وقاص نے زیرلب ایک بار پھر اپنے باس کی مناسب الفاظ میں گوشمالی اور اسی کے ساتھ بے ساختہ ہی بریک پہ پائوں پڑگئے۔ نظریں اپنے گھر کی سمت تھی جبکہ دل اچھل کر حلق میں آگیاتھا۔
سامنے ہی ایک انجان سا دھواں اس کے مکان کے چاروں طرٖف پھیلا ہوا تھا جیسے کسی نے حصار میں لے رکھا ہو۔
’’یہ کیا چیز ہے۔‘‘ وقاص نے فوراً ہی گاڑی روک کر نیچے اتر کر آنکھیں پھاڑتے ہوئے گھر کو بغور دیکھاجو اب نارمل ہوچکا تھا۔ وقاص نے آنکھیں مسلی اِدھر اُدھر دیکھا شاید وہ دھواں کہیں اور بھی دکھائی دے لیکن اب وہ حصار قسم کا غبار کہیں نا تھا۔
’’یقینا مجھے نیند آرہی ہے اور یہ سب اسی کی کارستانی ہے۔‘‘ سر جھٹک کر وقاص نے خود کو سرزنش کی اور گاڑی گھر کے اندر پارک کرنے کے لیے اسٹارٹ کی ۔
مرکزی دروازہ بند کرتے ہی وقاص کو یاد آیا ڈگی سے لیپ ٹاپ تو نکالا ہی نہیں سر جھٹک کے اس نے جینز کی پاکٹ سے چابی نکالی اور ڈگی کھولنے لگا۔
’’اففف کیا ہوگیا ہے ۔ لگاتار دو چار کوششوں کے بعد ڈگی بالآخر کھل گئی، لگتا ہے سروس کرانی پڑے گی اس کی، کافی تنگ کرنے لگی ہے چابی نکال کر وقاص نے اسے بغور دیکھا جس کے ایک سرے پر لال رنگ لگا ہوا تھا۔
’’اوہ یہ کیا ہے ، بچے بھی نا۔‘‘ سر جھٹک کر وقاص نے لیپ ٹاپ اٹھایا اس کا بیگ کندھے سے لٹکا کر گھر کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھا۔
خاموشی سے گھر کا دروازہ کھولا اور جھجکتا ہوا لائونج میں داخل ہوگیا۔گھر میں پھیلا ہوا سناٹا بتا رہا تھا ہر کوئی سوچکا ہے بڑبڑاتے ہوئے وقاص نے لیپ ٹاپ میز پر رکھا اور انگڑائی لیتا ہوا صوفے پر گر سا گیا۔
’’اففف ٹو مچ ٹائرڈ۔ اللہ سمجھے سر آپ کو، خود بھی اس وقت بیوی کو منا رہے ہوں گے ہمیں بھی اچھی ڈیوٹی پر لگا رکھا ہے۔ اس وقت کون چائے پانی پوچھے گا سر۔‘‘ تھکا ہوا وقاص سر دباتا ہوا کچن کی جانب بڑھا، اس کے عین پیچھے کالی بلی بھی کار پارکنگ سے چلتی ہوئی اندر آچکی تھی اور اب اس کے پیچھے پیچھے کچھ اس طرح چل رہی تھی جیسے نظر رکھے ہوئے ہو وقاص نے گہری سانس لی اور فریج سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس بھرا، اسی کے ساتھ کچھ نمکو کی تلاش میں نظریں ادھر سے ادھر دوڑانے لگا۔
’’پتا نہیں کہاں رکھے ہوتے ہیں ڈرائی فروٹس یا نمکو یہ تو حال ہے بندے کا، گھر کا ہی کچھ معلوم نہیں کون سی چیز کہاں ہے اتنی بے خبری بھی اچھی نہیں میاں۔‘‘ بڑبڑاتے ہوئے وقاص نے بوتل فریج میں رکھی اور پانی پینے کے لیے گلاس کی سمت ہاتھ بڑھایا جو بڑھتے ہی ساکت ہوگیا تھا۔
سامنے پوری سلیپ خالی تھی ، کہاں گلاس تو کہاںپانی
وقاص نے یہ دیکھ کر سر پہ ہاتھ پھیرا، ایسا بھی کیا کام کا برڈن کہ اس نے ایک بار پھر گلاس نکالا اورہاتھ میں پکڑے ہوئے پانی سے لبالب بھر کے پی گیا۔ کچن سے باہر نکلتے ہوئے اپنے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔ اس کے کچن سے نکلتے ہی چمکتی ہوئی گیند نے بھی اپنی جگہ چھوڑی اور وقاص کے پیچھے لڑھکتے ہوئے لائونج میں آگئی۔ سامنے ہی وہ بیٹھا ہوا اپنے جوتے اتار رہا تھا، جوتے اتارنے کے بعد اسی صوفے پر نیم دراز ہوکر ایک بار پھر اپنا سر دبانے لگا۔
’’لگتا ہے اس پراجیکٹ کے ختم ہوتے ہوتے میری بھی خوشگوار شادی شدہ زندگی کا اینڈ ہوجائے گا ایسا کبھی ہوا ہے کہ میں گھر آئوں اور سونیا جاگی ناہو آہ کاش تم جاگی ہوتی اور مجھے چائے ہی پلا دیتیں یار۔‘‘ آنکھیں موندے وقاص غنودگی میں جارہا تھا کہ اچانک برتن کھنکنے کی آواز سن کر وہ چوکس ہوگیا۔ ایک دم آنکھیں کھولیں لیکن نیم اندھیرے لائونج میں کوئی قابل دید چیز دکھائی نہیں دی سوائے کچن سے نکلنے والی گرم گرم دم دیتی الائچی والی چائے کی خوشبو کے۔
’’اوہ یہ جاگی ہوئی ہے۔‘‘ وقاص نے بے ساختہ سر پہ ہاتھ پھیرا۔
’’سونی مائی ڈارلنگ۔‘‘ ممکن حد تک شہد لہجے میں گھول کر وقاص نے سونیا کو پکارا۔
’’یار بے حد تھکن ہورہی ہے کیا آپ اپنے شوہر نامدار کو ایک کپ چائے کا پلانا پسند کریں گی۔‘‘
وقاص نے اپنی طرف سیز فائر کردیا، اسے علم تھا سونیا کو اگرابھی ایٹی ٹیوڈ دکھایا تو مزید خفا ہوجائے گی، اسی لیے پچھلے تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سارے گناہ اپنے سر لینا زیادہ آسان تھا، بہ نسبت رات کے اس سمے روٹھی ہوئی بیوی سے بحث کرکے باقی ماندہ رات بھی خراب کی جائے بے چاری سارا دن گھر میں رہ کر بے زار ہوجاتی ہے، اس ویک اینڈ پر ضرور ڈنر پلان کروں گا۔‘‘ وقاص نے خود سے عہد کیا۔
’’واہ بیوی ہوتو ایسی۔ناراضگی میں بھی اچھی چائے بنانا نہیں بھولتی۔‘‘ بند آنکھوں سے وقاص نے صاف محسوس کیا ، خوشبو میں لپٹا ہوا نسوانی وجود اس کے سامنے جھک کر چائے رکھ گیا تھا۔ تھکن نے وقاص کو آنکھیں نہیں کھولنے دیں یا شاید چاہتے ہوئے بھی وہ آنکھیں نہیں کھول پایا۔ لمحہ بھر بعد ہی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سامنے میز پر گرم گرم بھاپ اڑاتے کپ کو دیکھا جو کچن کی کھلی ہوئی لائٹ میں نمایاں انداز میں نظر آرہا تھا۔
’’سونیا سونی مائی ڈارلنگ آئی ایم ساری۔‘‘ وقاص نے مسکراتے ہوئے وہ کپ اٹھایا اور چسکی لیتے ہوئے ناراض بیو ی کا تصور کیا۔
’’چلو کوئی نہیں، اس کو پی لوں پھرمناتاہوں اپنی جان جاناں کو
آئی لو یو سونیا۔‘‘ دھیرے سے اپنی چاہت کا یقین دلانے میں مصروف وقاص کو رتی برابر اندازہ نہیں تھا، سونیا اس وقت اپنے کمرے میں بے ہوشی کی نیند سورہی ہے اور وقاص کے عین پیچھے اندھیرے میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں یقینا انسانی تو نا تھیں۔
…٭٭…
صبح کا روشن سویرا پھیل کر ہر ایک کو مایوسی کے اندھیرے سے نکالنے کی اپنی سی جستجو کرنے میں مگن تھا، سونیا نے وقاص کی خالی جگہ دیکھی اور اپنے اندر ایک ناامیدی کو محسوس کیا۔ سر جھٹک کر باتھ روم کی راہ لی فریش ہونے کے بعد ناشتہ بنانے کی غرض سے کچن کا سوچا لیکن اس سے پہلے گھر کا اندرونی دروازہ پوری طرح کھول دیا تاکہ ٹھنڈی ہوا گھر میں بھر جائے جیسے ہی پلٹ کر کچن کی سمت جانے لگی سامنے صوفے پر آڑے ترچھے لیٹے وقاص کو دیکھ کر اس کے قدم تھم گئے۔
’’اوہ…!‘‘ سونیا نے بے ساختہ ہی افسوس کے ساتھ وقاص کو دیکھا، جو موزے پہنے ہوئے بے ہوشی کی نیند سو رہا تھا، ایک پائوں تقریبا نیچے لٹک رہا تھا تو ایک ہاتھ بھی صوفے سے نیچے تھا۔
’’مجھے اٹھادیتے کم از کم کچھ کھاپی تو لیتے۔‘‘ سونیا نے دل ہی دل میں وقاص سے شکوہ کیا۔ ناراضگی اپنی جگہ سہی لیکن بھوکے پیٹ سونے سے بہتر تھا۔
’’خیر۔‘‘ سونیا نے فورا ہی بہترین ناشتا بنانے کا سوچا اور پھرتی سے کچن کی راہ لی۔
…٭٭…
’’کیا ہوا الشبہ کیوں اتنی چپ چپ ہو۔‘‘ شہیر نے رات کھانے کی میز سے صبح ناشتے تک الشبہ کی خاموشی محسوس کی اور بالآخر پوچھ ہی لیا۔ ’’کوئی مسئلہ ہے میری بچی کو توبتائو، میں ہوں نا۔‘‘
’’کک… کچھ… نہیں…کچھ بھی نہیں۔‘‘ الشبہ جو راحیل کی طرف سے کوئی جواب نا دینے پر افسردہ تھی ایک دم چونک گئی۔
’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ شہیر نے شگفتہ لہجے میں بیٹی کو چیئر اپ کرنا چاہا۔
’’پیپرز قریب ہیں نا پاپا۔ بس وہی۔‘‘ الشبہ نے بے ساختہ پرانا بہانہ ہی سنادیا۔
’’تو کوئی بات نہیں پیپر تو ہوتے ہی رہتے ہیں ، چلو آج پارک چلتے ہیں یہ روڈ پہ ایک بہت اچھا پارک کھلا ہے، جھولے بھی ہیں۔‘‘ شہیر نے ننھے بچوں کی طرح الشبہ کو بہلاتے ہوئے اسے لالچ دی۔ ’’واپسی میں بازار بھی چلیں گے تم نے کوئی کپڑے لینے ہیں تو لے لینا، کل کمیشن ملا ہے ایک۔‘‘ الشبہ نے اپنے اندر شرمندگی بھرتی ہوئی محسوس کی۔
’’سوری پاپا۔‘‘
’’کس چیز کے لیے بیٹی۔‘‘ شہیر نے حیرت سے الشبہ کو دیکھا جو نظریں جھکائے بریڈ کے پیس پہ انگلی پھیر رہی تھی۔
’’وہ میں… وہ…!‘‘ الشبہ جذبات میں سوری توبول گئی لیکن اب بات بنانی مشکل ہونے لگی تھی ’’اگر میں پاس نہیں ہوئی تو اس بار میری اتنی اچھی تیاری نہیں ہے نا آپ کو برا لگے گا میں اچھے نمبرز نہیں لائی تو۔‘‘
شہیر ایک دم ہنس پڑا۔ ’’کوئی بات نہیں اگر میری بیٹی فیل بھی ہوگئی تو دنیا میں سارے لوگ ڈاکٹر تھوڑی بن جاتے ہیں چلو چھوڑو یہ لکھنے پڑھنے کی باتیں تم تیاری پکڑو۔میں ایک دو بجے تک آجائوں گا پھر پارک چلتے ہیں۔‘‘
’’اوکے پاپا۔‘‘ الشبہ نے گہری سانس لیتے ہوئے شہیر کو دیکھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
’’یہ بات ہوئی نا۔‘‘ بس ہنستی مسکراتی رہو پاپا کو اور کچھ نہیں چاہیے۔ شہیر نے اپنی کرسی چھوڑی اور پاس بیٹھی الشبہ کے سر پر بوسہ دیا۔
…٭٭…
’’آں ہاںکیا مزے کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے بھئی۔‘‘ الماس نے اپنے کمرے سے نکل کر گہری گہری سانس لے کر پراٹھوں کی مہک اپنے اندر کی لگتا ہے باجی کا موڈ ٹھیک ہوگیا ہے۔‘‘ الماس نے خوشی سے کندھے اچکائے اور فوراہی نیچے اترنے لگی۔
سامنے ہی میز پہ وقاص کے ساتھ سونیا بیٹھی ہوئی ناشتہ لگا رہی تھی اور نارمل انداز میں بات چیت کر رہی تھی ، کل کی کسی ناراضگی کا کوئی شائبہ بھی نہیں تھا۔
’’واہ واہ باجی دل خوش کردیا واہ۔‘‘ الماس نے گرم گرم پراٹھا اپنی پلیٹ میں نکال کر سوجی کا حلوہ دیکھا ساتھ ہی بے آواز تالیاں بجا کر سونیا کو داد دی۔
’’کہہ دو کہ قیمہ بھی بھونا ہے۔‘‘ ہلتا ہوا سر دیکھ کر الماس نے باقاعدہ اپنی جگہ چھوڑی۔ ’’صبح صبح اتنی خوشی، کہیں… کہیں …‘‘
’’بس بس زیادہ اوور ری ایکٹ نہ کرو، سکون سے ناشتہ کرو۔‘‘ سونیا نے چھوٹی بہن کی خوشی اس کے چہرے پر پھوٹتی ہوئی دیکھی۔
’’اف کس قدر مزے کا ہے یار مجھے آج آفس میں بھی دے دینا۔‘‘
ندیدے پنے سے بولتی الماس سونیا کو ہنسا گئی جسے دیکھ کر وقاص نے بھی اپنے اندر سکون کی لہر دوڑتی ہوئی محسوس کی ورنہ سونیا کافی دیر سے ایک بت کی طرح ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے وقاص کا وجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہو۔
’’واقعی اتنے دنوں بعد…!‘‘
’’ہاں میں تو جیسے اتنے سالوں سے بازار کا ناشتہ ہی کرا رہی تھی آپ سب کو۔‘‘ سونیا نے تحمل سے دونوں کو ایک ہی جواب دے نوازا۔
’’مانگ کیا مانگتی ہے بچہ۔‘‘ الماس نے کسی سادھو کی طرح ایک ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کیں۔
’’ہوں… مانگو کیا مانگتی ہو بیوی۔ آج ہمارا بھی موڈ اچھا ہے۔‘‘
سونیا نے ایک سرسری سی نگاہ وقاص پر ڈالی اور برتن سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’بچوں کا لونگ ویک اینڈ ہے اور کافی وقت ہوگیا کہیں باہر گئے ہوئے میرا خیال ہے کل ہاکس بے چلنا چاہیے ، مجھے بھی کچھ بریک چاہیے تھک گئی ہوں۔‘‘ وقاص منع کرنے لگاتھا کہ الماس کی ملتجی نگاہوں کو دیکھ کر خاموش ہوگیا۔
’’اوکے اوکے لیٹس سی۔‘‘
’’ہرے ے ے ۔ میں بچوں کو خود بتائوں گی کوئی اور نہیں بتائے گا بلکہ ان کوکل ہی سرپرائز دیں گے کیسا۔‘‘ الماس نے بالکل بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بہن اور بہنوئی کو دیکھا جو اس کے چہرے پر پھیلی مسرت دیکھ کر مسکرائے جارہے تھے۔
…٭٭…
اور بالآخر ایک بھرپور ویک اینڈ گزارنے کے بعد جہاں وقاص نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا تھا اب سونیا نارمل ہوگئی ہے اور اس کے سارے وہم بھی اپنی موت مرچکے ہیں تو یہ اس کی شدید غلط فہمی تھی۔ سونیا نے بچوں کے چہرے کی خوشی اور وقاص کے ساتھ پرسکون لمحات گزارنے کے صدقے اپنی ذہنی تکلیف پر خاموشی کا پردہ رکھنا زیادہ مناسب جانا بہ نسبت اس کے کہ وہ بار بار وقاص کو اس آسیب کے بارے میں یاد دلاتی رہے لیکن سچائی یہ ہی تھی کہ وہ اب اس گھر سے ڈر چکی تھی وقاص کے ہمشکل ہیولے کی سرگوشی میں دی گئی دھمکی سماعت میں اکثر ہی گونجتی رہتی تھی۔
’’میں تمہیں لینے آئوں گا، تیار رہنا۔‘‘
سونیا کے دل میں وہم جڑ پکڑ چکا تھا کہ اس کی یہ چھوٹی سی جنت اب کچھ ہی دنوں کی مہمان ہے ، وہ مرنے والی ہے یا کسی بھی قسم کی کوئی انہونی اس کی منتظر ہے ستم تو یہ تھا کوئی بھی اس کی بات سننے کا روا دار نہیں تھا، ورنہ شاید کوئی سدباب ہوسکتا۔ اس وقت بھی بچوں کو اسکول اور وقاص و الماس کے آفس جانے کے بعد وہ روزمرہ کے باقی کام نمٹانے میں مصروف تھی لیکن گاہے بگاہے ایک چونکنی نگاہ گھر میں ڈالنا نہیں بھولتی تھی۔ لاشعوری طور پر اس نے گھر کی ساری لائٹس کھول لی تھیں، دھلے ہوئے کپڑے اٹھائے وہ لائونج میں بیٹھ گئی اور سکون سے ایک ایک کرکے کپڑے تہہ کرنے لگی۔ گہرے سناٹے میں ڈور بیل کی کرخت آواز کی گونج نے سونیا کو ایکدم ڈرا دیا تھا۔ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔
’’ک… کک …کون… ہے۔‘‘
’’بیٹی میں ہوں ، رخ تاج۔‘‘
دروازہ کھولتے ہی نرمی میں ڈوبی ہوئی آواز سن کر سونیا کی نگاہیں بے ساختہ بند کھڑکی کی جانب اٹھ گئیں۔
’’جج جی آئیں پلیز۔‘‘ ایک طرف ہوتے ہوئے سونیا نے رخ تا ج کو جگہ دی۔
’’میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا نا۔‘‘ مسکراتے ہوئے گھر کے اندر پہلا قدم رکھتے ہی رخ تاج نے اداسی میں گھری ہوئی سونیا کو دیکھ کر سوال پوچھا۔
’’نہیں نہیں۔ میں اکیلے ہی ہوتی ہوں اس وقت آئیں ادھر بیٹھ جاتے ہیں۔‘‘ بکھرے ہوئے کپڑوں کو دیکھ سونیا ایکدم شرمندہ ہوئی تیزی سے بڑھ کر انہیں سمیٹا۔
’’کوئی بات نہیں اب خاتون خانہ یہ کام نہیں کرے گی تو کیا کرے گی بھلا۔ ویسے مجھے معلوم ہوتا ہے تم اس وقت اکیلے ہوتی ہو۔‘‘ اپنی کھڑکی کی جانب اشارہ کرتی ہوئی رخ تاج نے سونیا کی طرف گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا۔’’اس دن تعارف ادھورا رہ گیا تھا، آج سو چا تفصیلی بات کی جائے۔‘‘
’’جی ضرور آپ نے بہت اچھا کیا جو چلی آئیں۔‘‘ سونیا نے ان کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے دباکر چھوڑ دیا۔
’’پہلے بتائیں کیا لیں گی آپ ٹھنڈا یا…!‘‘ سونیا کو آداب میزبانی بخوبی یاد تھے۔
’’ارے کچھ نہیں، تکلفات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس ادھر بیٹھو میرے پاس۔‘‘ رخ تاج نے سونیا کے اترے ہوئے چہرے کو بغور دیکھا۔
’’میں نے سوچا تمہاری خیر خیریت پوچھ لوںاور ساتھ ہی وہ میرا مطلب ہے کہ… وہ… اس دن کے بعد سے… وہ …‘‘ رخ تاج نے جھجک کے بات ادھوری چھوڑ دی۔
سونیا کے چہرے پر ایکدم کئی رنگ آکر گزر گئے۔
’’بیٹی کچھ ہوا تو نہیں نا۔‘‘ رخ تاج نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔ ’’دیکھو کھل کر بتائو مجھے میں اس کالونی میں بہت پہلے سے رہتی ہوں تم سمجھ رہی ہوں نا۔‘‘
’’جی۔‘‘ سونیا نے سر ہلاتے ہوئے بمشکل کہا۔
’’تو مجھے بتائو، کچھ ہوا۔‘‘
’’اب تو روز ہی کچھ نہ کچھ ہونے لگا ہے، کیا کیا بتائوں آپ کو۔‘‘ سونیا نے بھرائی ہوئی آواز میں رخ تاج کو جواب دیا۔
’’ اگر مجھے غلط نہ سمجھو تو…! ‘‘رخ تاج نے سونیا کی آنکھوں میں دیکھا جہاں چھپی ہوئی دہشت اس کی بے بسی نمایاں کررہی تھی۔ ’’میرے بس میں جو ہوگا میں وہ کروں گی۔ میرا یقین کرو۔‘‘
’’وقاص اور الماس مجھے پاگل سمجھنے لگے ہیں ان کو لگتا ہے مجھے کوئی وہم لاحق ہوگیا ہے۔‘‘ خود ترسی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ رخ تاج کو دیکھتے ہوئے سونیا نے بات شروع کی۔ ’’اس گھر میں کوئی مجھ پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے اور آپ کہہ رہی ہیں میں آپ کو بتائوں آپ میری مدد کریں گی۔‘‘
’’ہاں مجھے تم پر پورا یقین ہے بچے۔‘‘
’’آپ کو میری بات پر یقین ہے۔‘‘بے یقین سونیا نے رخ تاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔’’جب میرا شوہر اور سگی بہن ہی مجھے جھٹلاچکیں تو آپ کیسے میری بات پر بھروسہ کرسکتی ہیں۔‘‘
’’ایک بار آزماکے تو دیکھ لو۔‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ رخ تاج نے اپنی نشست چھوڑی اور سونیا کے بالکل برابر بیٹھ گئیں۔ اپنے گرم ہاتھوں میں سونیا کے ٹھنڈے ہاتھ لے کر پیار سے سہلانے لگیں۔
’’تم مجھے بتائو، یقین رکھو میں تمہارا مذاق ہرگز نہیں اڑائوں گی۔‘‘
’’اگر میں آپ کو یہ کہوں کہ…!‘‘ ہلکی آواز میںسونیا نے سامنے بیٹھی وہی رخ تاج کو آزماناچاہا۔
’’اس گھر میں میرے بچوں کے علاوہ بھی کوئی ہے، جو دکھائی نہیں دیتا لیکن میرے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ، ان کے ساتھ سوتا ہے تو ان کے کمرے میں ہی رہتا ہے تو…!‘‘ سرہلاتی ہوئی رخ تاج کے چہرے کے تاثرات نے سونیا کو حیران کردیا۔
’’آپ کو حیرت نہیں ہوئی سن کر آپ مجھے سے پوچھیں گی نہیں ، ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘
’’نہیں میں کوئی سوال نہیں کروں گی۔‘‘
’’لیکن کیوں۔‘‘ تیز لہجے میں سونیا نے رخ تاج کو گھورا۔
’’کہیں آپ ہی تو نہیں اس سارے شیطانی چکر کے پیچھے آپ ہیں کون آخر۔‘‘ سونیا نے رخ تاج کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔
’’کیونکہ… میں… !‘‘ رخ تاج نے نظریں جھکائی۔ ’’میں اس بچے کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں سونیا اور اسی لیے مجھے یقین ہے وہ بچہ کم از کم تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کوئی خطرے کا باعث نہیں بن سکتا۔‘‘ سونیا کے سر پر آسمان ہی گر پڑا تھا۔
’’تم بے فکر ہوکر مجھے ساری بات بتاسکتی ہو، میں تمہاری ہربات کا یقین کرنے کو تیار ہوں۔‘‘ رخ تاج نے سونیا کی پھٹی ہوئی آنکھوں سے اپنی نظریں چرائی۔
’’کیا آپ جانتی ہیں اسے کیسے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘ گھر میں موجود پراسرار حالات کے مقابلے میں رخ تاج کی یہ بات کم حیرت انگیز نہیں تھی۔
’’تمہارے سارے سوالوں کے جوابات میں دوں گی لیکن…!‘‘ رخ تاج نے حتمی انداز اپنایا۔ ’’پہلے تم میرے چند سوالوں کے جواب دو، اجازت ہے۔‘‘ گم صم سونیا کا بے ساختہ ہی سر اثبات میں ہل گیا۔
’’کیا تم میرا مطلب ہے تم نے اس بچے کو دیکھا۔ کیا وہ تمہارے سامنے آیا تھا۔ مجھے بتائو پلیز مجھے بتائو۔‘‘ لرزتی ہوئی آواز نے سونیا کو احساس دلایا اگر وہ اس وقت اپنی زندگی کے عجیب و غریب قسم کے فیز سے گزر رہی ہے تو اس وقت سامنے بیٹھی ہوئی ادھیڑ عمر رخ تاج بھی کم جذباتی نہیں ہورہی تھیں۔
’’کیا اس بچے نے تم سے کوئی بات کی وہ ٹھیک ہے نا میرا مطلب ہے وہ… وہ… وہ…!‘‘ شایدرخ تاج کو مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے اپنے دل کی بات سونیا کو سمجھانے کے لیے وہ ہانپتی ہوئی خاموش ہو بیٹھیں۔
’’کیا آپ جانتی ہیں اس کو۔‘‘ سونیا نے سرسراتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ یہ جو بھی ہورہا تھا کسی بھی نارمل انسان کو ڈرانے کے لیے کافی تھا۔
’’پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔ دیکھو میں تمہاری منت کرتی ہوں۔‘‘ رندھے ہوئے گلے کے ساتھ رخ تاج نے اپنے آنسو پیے۔
’’نہیں میں نے اس بچے کو ابھی تک نہیں دیکھا لیکن مجھے معلوم ہے وہ میرے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ان سے باتیں کرتا ہے۔ سوتا بھی ہے اور ہر کھیل میں وہ شریک رہتا ہے۔‘‘
’’ہاںعلی… وہ… وہ… وہ بہت شرارتی تھا جب تک کھیل نہیں لیتا تھا اس کا تو کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا تھا۔‘‘ کھوئے کھوئے انداز میں رخ تاج نے سونیا کو بتادیا، ابھی خوفزدہ ہونے کے مقام اور بھی ہیں۔ ’’وہ بہت ہی پیارا بچہ تھا، خوب صورت، ذہین اور شریر سا۔‘‘
’’علی… کون علی… آپ… آپ…!‘‘
’’سونیا کیا تم اس گھر کے مالک کو جانتی ہو۔‘‘ اپنی جذباتی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے رخ تاج نے پوچھا۔ ’’کیا تم اس سے ملی ہو۔‘‘
’’نن… نہیں میں تو کسی کو نہیں جانتی لیکن ہوسکتا ہے وقاص ملے ہو اس سے لیکن کیوں آپ کا کیا تعلق ہے اس مکان سے یہ علی کون ہے ، کیا یہ وہی بچہ ہے جو… جو…!‘‘
رخ تاج نے سونیاکو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے گھر میں نظردوڑائی۔
’’علی… ہاںوہ میری جان کا ٹکڑا اس گھر کے مالک مکان کا بیٹا تھا۔ بہت پیارا معصوم ہنستا کھیلتا سا شریر سا بچہ اس پورے گھر میں اسی کے دم سے رونق تھی۔ وہ پورے گھر میں چہکتا پھرتا تھا۔ کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر۔‘‘ رخ تاج کے چہرے پر اداسی سے بھرپور مسکراہٹ جگمگا رہی تھی۔‘‘ نچلا تو بیٹھ ہی نہیں سکتا تھا وہ میں اسے آوازیں دیتی رہتی تھی لیکن وہ چھت پر جاکر جو چھپتا تو…!‘‘ رخ تاج ایکدم سسکنے لگیں۔ سونیا گم صم بیٹھی ہوئی اپنے آپ کو یقین دلا رہی تھی وہ کوئی خواب نہیں دیکھ رہی ہے۔
’’آپ کیسے جانتی ہیں یہ سب۔ کون ہیں آپ۔‘‘سرسراتی ہوئی آواز سن کر سونیا بھی حیرت زدہ رہ گئی۔
’’میں کون ہوں ہاں میں کون ہوں…میں وہ بدقسمت ہوں جس کے سامنے یہ پورا گھر بنا تھا۔ ایک ایک اینٹ میرے سامنے رکھی گئی ہے اور پھر میں نے اس گھر کو جہاں آباد ہوتے دیکھا تو بربادی کے سائے بھی دیکھے دیکھو اتنے برس گزر گئے میری ان بدقسمت آنکھوں نے کیا کیا نہیں دیکھا ادھر لوگ آتے ہیں مرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مزید لوگ آجاتے ہیں اور پھر مرتے ہیں تیس دن کا منحوس چکر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اور مجھے دیکھو ذرا اس عمر میں بھی کیا کیا دیکھ رہی ہوں زندہ بھی ہوں مگر کوئی میرے جیسا بدقسمت بھلا۔ بتائو مجھے دیکھی ہے تم نے میرے جیسی زندہ لاش۔‘‘
’’کک… کیا… مطلب ہے اس بات کا۔‘‘ سونیا بوکھلا کر کھڑی ہوگئی کیا ہوتا ہے ادھر، کون مرتا ہے کیوں اور یہ علی کون ہے۔ آپ یہ سب کیسے جانتی ہیں۔‘‘ سونیا نے رخ تاج کو گھورتے ہوئے سوال پر سوال پوچھا۔ ’’دیکھیں میں پولیس کو بلارہی ہوں، آپ سیدھی سیدھی بات کریں ایسے گھما پھرا کر بات نا کریں۔‘‘
’’گھبرائو نہیں بیٹی میں تمہیں کوئی نقصان پہنچانے نہیں آئی ہوں الٹا تمہاری مدد کرنے کے ارادے سے…!‘‘
’’تو بتاتی کیوں نہیں آپ کون سا تیس دن کا چکر، کون علی کیا ہے یہ سب۔‘‘ سونیا نے ہذیانی اندازمیں چیختے ہوئے اپنے بال نوچے۔ ’’میں پاگل ہوجائوں گی مجھے بتائیں کیا چل رہا ہے اس گھر میں۔ ’’ایسے کیسے ہوسکتا ہے لوگ مرجائیں ادھر اور پھر بھی یہ گھر قائم رہے… پولیس…!‘‘
’’پولیس کے بس کا کام نہیں ہے یہ۔‘‘ رخ تاج نے اداسی سے مسکراتے ہوئے سونیا کا حوصلہ بڑھایا۔
’’تم بیٹھو ادھر میں تم کو بتاتی ہوں لیکن دیکھو…‘‘ رخ تاج نے ہاتھ بڑھا کر سونیا کو بٹھایا۔ اس کے ہاتھ سہلاتے ہوئے ایک بار اسے تسلی دی ’’لیکن دیکھو جیسے میں تم پر یقین رکھتی ہوں اسی طرح اب تم کو میری بات دھیان سے سن کر ماننا ہوگی ورنہ… ورنہ، ورنہ تم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے وہ تم کو اپنے ساتھ لے جائے گا، اس کوکوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
’’کک… کون…!‘‘ سونیا کے ذہن میں کالا لبادہ لہرانے لگا۔
’’وہی جو تم کو وقاص کے روپ میں ملا تھا۔ وہ… وہ… وہ… حقیقت ہے سونیا، کوئی خواب نہیں نا ہی کوئی وہم وہ ایک جیتی جاگتی تلخ سچائی ہے۔‘‘ رخ تاج نے گہری سانس لے کر سونیا کے خو ف زدہ چہرے کو دیکھا۔
’’خیر اسے ابھی چھوڑو،اس کے آنے میں کچھ وقت باقی ہے میں تم کو علی کے بارے میں بتاتی ہوں تاکہ کم از کم تم اپنے بچوں کی ٹینشن سے باہر نکل آئو۔‘‘ رخ تاج کی سماعت میں گیند کے لڑھکنے کی مدہم مدہم آواز گونجی وہ بے ساختہ ہی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’علی میرے بچے، کہاں ہو تم آئو دادی کے پاس آئو۔ علی…!‘‘ دیوانوں کی طرح رخ تاج نے لائونج میں نظریں دوڑائیں اسی وقت سیڑھیوں سے گرتی ہوئی گیند نے رخ تاج کے قدموں میں آکر اپنا سفر ختم کیا۔ رخ تاج نے فورا سے پیشتر گیند اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگالی۔
’’میرا بچہ، میری جان۔‘‘ رخ تاج بہتی آنکھوں سے دیوانہ وار اس گیند کو پیار کرتے ہوئے سونیا کو حیران پر حیران کررہی تھیں۔
…٭٭…
وقاص اپنے آفس بیٹھا کام کررہا تھا، تیزی سے انگلیاں کی بورڈ پہ گھوم رہی تھی کہ اچانک اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، وقاص نے کام کرتے کرتے سرسری سا آفس میں دیکھا لیکن اس کے علاوہ اس وقت کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ کندھے اچکاتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اپنا دھیان لیپ ٹاپ کی طرف کیا لیکن وقفے وقفے سے گہری اور بھاری سانسوں کی آواز وقاص کو الجھن میں ڈال رہی تھی، جیسے کوئی بہت پاس ہو لیکن دکھائی نہیں دے رہا۔
…٭٭…
’’دادی۔‘‘ سونیا نے زیرلب دہرایا۔
’’ہاں میں بدقسمت علی کی دادی ہوں ، یہ گھر میرے ہی بیٹے کا ہے اس نے بڑے ارمانوں سے اپنی چہیتی بیوی ثمن کے لیے بنوایا تھا تاکہ وہ ادھر ر ہ سکیں پہلے یہ گھر اور وہ گھر ایک ہی تھا۔‘‘ رخ تاج نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے گھر کی جانب اشار ہ کیا۔ رخ تاج نے اداسی سے اپنی نم آنکھوں کو صاف کیا۔ علی اس گھر کے مالک کا اکلوتا بیٹا جو اپنی سالگرہ کے دن چھت… چھت سے گر کر مرگیا تھا۔‘‘ رخ تاج نے اپنی سسکیوں کو روکتے ہوئے بمشکل بات پوری کی۔
’’مر گیاتھا… مر…گیا۔‘‘ سونیا نے دہشت سے رخ تاج کی بات کو دہرایا۔
’’ہاں وہ مرگیا بس ایکدم ایسے ہی کون ایسے مرتا ہے جیسے وہ… وہ بھی اپنی سالگرہ کے دن۔‘‘رخ تاج ایکدم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ ’’وہ تو اتنا پیارا بچہ تھا راہ چلتے لوگ اس کو پیار کرتے تھے
ل… لیکن … جب وہ مر چکا تو میرے بچوں کو کیسے نظر آسکتا ہے میں نے خود دیکھا ہے عمر اس سے باتیں کرتا ہے۔‘‘ سونیا نے پتھرائی ہوئی نگاہوں سے روتی ہوئی رخ تاج کو دیکھا جن کے آنسو ان کی سچائی بتارہے تھے۔
’’وہ تم لوگوں کو بچانا چاہتا ہے۔ ہر بار ایسی ہی کوشش کرتا ہے لیکن کوئی میرے علی کی بات نہیں سنتا جیسے ہماری بات پر یقین نہیں کیا جاتا۔‘‘
’’آپ لوگوں کو کس سے بچانا چاہتے ہیں۔‘‘ سرسراتی ہوئی آواز میں سونیا نے رخ تاج سے سوال پوچھا۔ یہ الگ بات تھی کہ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو۔
’’اب بھی پوچھ رہی ہو، ہم لوگ کس سے تم کو بچانا چاہتے ہیں۔‘‘ اداسی سے بھرپور نگاہوں کو سونیا پر مرکو ز رکھتے ہوئے رخ تاج نے مایوسی سے سر ہلایا۔
’’اسی سے سونیا اسی سے جو تم کو وقاص کی شکل میں دکھائی دیا تھا اور ایک پیغام بھی دیا تھا یاد ہے نا تم کو۔‘‘
’’آپ مجھے ڈرا رہی ہیں۔‘‘ سونیا جی جان سے لرز چکی تھی۔
’’یہ نہیں ہوسکتا، ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔‘‘ سونیا اس وقت پچھلی ساری باتیں بھول چکی تھی کہ وہ کن حالات سے گزر چکی ہے۔
’’تو تم کونسی توجیہہ پیش کرو گی ان سب واقعات کے پیچھے جن کا تم نے سامنا کیا ہے۔‘‘ رخ تاج نے پرسکون ہوکر سونیا سے ہی سوال کیا۔
’’تم بتائو ایسا ممکن ہے، جو تمہارے ساتھ ہوا۔‘‘ گم صم بیٹھی سونیا کے ذہن کے پردے پر یک لخت ہی بہت سارے سین ایک ساتھ چل گئے۔
’’تمہیں میری بات کا یقین کرنا ہی ہوگا بچے۔‘‘ رخ تاج نے اپنی بات پر وزن دیتے ہوئے سونیا کو ایک بار پھر اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’تم یاد کرو، وہ کالے لباس والا آدمی تم کو کیا بول کر گیا تھا…وہ…‘‘ سونیا کی نظروں میں پتھرائی ہوئی آنکھیں گھوم گئیں جو اس کو بتاکر گئی تھیں وہ کچھ ہی دنوں میں لینے آرہا ہے۔
’’اس نے کہا تھا وہ واپس آئے گا۔‘‘ رخ تاج نے سونیا کی مشکل آسان کردی۔
’’ہاں ایسے ہی کچھ۔‘‘ سونیا نے چونک کر رخ تاج کو دیکھا۔
’’آپ کو یہ بھی معلوم ہے۔‘‘
’’مجھے کیا کچھ نہیں معلوم لیکن میری بات پر کوئی یقین نہیں کرتا۔‘‘
’’میں کروں گی میں آپ کی بات سنوںگی۔ بتائیں مجھے یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔‘‘ گھبرائی ہوئی سونیا کو دیکھ کر رخ تاج نے اپنے اندر سناٹا اترتا محسوس کیا۔
’’آہ کاش کوئی راستہ ہوتا وہ بھی بچ جاتی۔‘‘
’’پلیز میری مدد کریں میں مرنا نہیں چاہتی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں کوئی تو راستہ ہوگا نا۔‘‘ رخ تاج کی آنکھوں میں آنسو جگمگا گئے۔ کیسی بے بسی سی تھی۔
’’میں آپ کی ہر بات پر یقین کرسکتی ہوں کیونکہ گزرے ایک ماہ میں اتنا کچھ دیکھ اور سہہ لیا ہے کہ اب کوئی بات… پلیز آپ مجھے تفصیل بتادیں ورنہ میں اب پاگل ہوجائوں گی۔‘‘ سونیا نے سسکتے ہوئے رخ تاج کے آگے ہاتھ باندھ دیے۔‘‘ رخ تاج نے تیزی سے سونیا کے بندھے ہاتھ کھولے ساتھ ہی کرب سے آنکھیں میچ کر رکے ہوئے آنسو بہا دیے۔
’’سونیا… میری بات دھیان سے سنو۔ اس وقت ماضی میں جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا، میں تم کو سب بتا سکتی ہوں لیکن پرانے قصوں سے بہتر ہے تم اپنی حفاظت کی طرف دھیان دو کیونکہ…!‘‘ رخ تاج نے سونیاکا انہماک نوٹ کیا ’’کیونکہ اس وقت سب اہم بات یہ یاد رکھنی ہے کہ… کہ وہ وہ تیس دن اب ختم ہونے کو ہیں جو اس کالے سوٹ والا نے تم کو دیے تھے، وہ مہلت اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔‘‘
’’یعنی…!‘‘ سونیا کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ ’’تو کیا وہ…‘‘
’’ہاں… تمہار ے پاس وقت کم ہے اسی لیے میری بات غور سے سنو۔‘‘
’’کیا ہو رہا ہے یہ۔‘‘ وقاص کی آواز نے وہ سحر توڑ دیا جو کب سے دونوں عورتوں کو اپنے اندر جکڑے ہوئے تھا۔
’’اوہ وقاص… وقاص۔‘‘ سونیا نے سامنے کھڑے ہوئے وقاص کو دیکھ کے بے ساختہ ہی روتے ہوئے اس کا کندھا تھام لیا۔
’’یہ… یہ… یہ…!‘‘ ہچکیوں نے سونیا کو بات مکمل نہیں کرنے دی۔ وقاص جو ایک انجان عورت کو لائونج میں اتنی بے تکلفی سے بیٹھے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا، سونیا کے بری طرح رونے پر پریشان ہوگیا۔
’’ایزی سونیا ایزی… آپ کون ہیں خاتون اور اسے کیا ہوا ہے۔‘‘ سونیا کو اپنے سے لگائے ہوئے نرمی سے تھپکتے ہوئے وقاص نے پریشانی سے رخ تاج سے سوال کیا۔
’’میں آپ کے پڑوس میں رہتی ہوں۔‘‘ رخ تاج نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ ’’اور آپ کی مدد کرنے آئی ہوں۔‘‘
’’پڑوس میں۔‘‘ وقاص نے بڑبڑاتے ہوئے بغور سامنے کھڑی ہوئی نفیس کپڑوں میں ملبوس خاتون کو دیکھا جو پڑھی لکھی اور خاندانی دکھائی دیتی تھیں لیکن ان کے ہاتھوں میں تھامی ہوئی مہر کی چمکیلی گیند وقاص کو الجھارہی تھی۔
’’اوکے لیکن کیسی مدد۔‘‘ وقاص نے الجھے ہوئے انداز میں بلند آواز میں خود کلامی کی۔ ’’ہمیں کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہیں چاہیے۔‘‘ سونیا نے خود پہ قابو پایااور تیزی سے رخ تاج کا تعارف کرانے لگی۔
’’وقاص یہ ہماری مشکل آسان کرنے کے لیے آئی ہیں۔ بہت اچھی خاتون ہیں۔‘‘
’’مدد… مشکل… آسانی… کون سی، کس کے لیے…‘‘
’’وقاص… وقاص… دیکھو میں نہیں کہتی تھی اس گھر میں کچھ ہے یہ جانتی ہیں اور ہمیں بتانے آئی ہیں کہ…!‘‘
’’افف ہو تم ابھی تک اسی چکر میں پھنسی ہوئی ہو۔ ایک بات کے پیچھے پڑ گئی ہو تم سونیا۔‘‘وقاص نے سر جھٹک کر سونیا کو خود سے الگ کیا۔
’’یہ ایک بات نہیں ہے وقاص۔ مسلسل انہونیاں ہورہی ہیں تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو۔‘‘ روہانسی سونیا نے وقاص کا سرد رویہ محسوس کیا۔ اسے یقینا یہ بات پسند نہیں آئی تھی کوئی انجان عورت گھر کے معاملے میں دخل اندازی کرے۔
’’ان کے آتے ہی انہونیاںشروع ہوگئی ہوں گی۔‘‘ وقاص نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے خاموشی کھڑی ہوئی رخ تاج کی طرف دیکھا۔
’’کیا کیا ہوا ، ذرا مجھے بتائو، آخر مجھے بھی تو معلوم ہونا چاہیے نا کون سی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں ہم ان خاتون کو معلوم ہے اور مجھے نہیں معلوم جہاں تک میرا خیال ہے یہ ہی وہ وجہ ہے جو تم بھوت پریتوں کے چکر میں پڑ گئی ہو اگر میں ابھی فائل لینے گھر نہیں آتا ہو شاید کبھی معلوم ہی نہ ہوپاتا۔‘‘
’’اوہ وقاص ایسا نہ کہو پلیز میری بات سمجھو ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اس گھر میں۔ ’’یہ تو… یہ تو … ایک مہینے سے جو یہ سلسلہ چل رہا ہے میں اس کے متعلق بات کر رہی ہوں لیکن تم میری بات سن کب رہے ہو۔ اتنے دنوں سے بتانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن تم… تم سمجھتے ہومیں…‘‘
’’اگر میں تم کو اگنور کررہا ہوں تو تم انجان لوگوں کو گھر بلا کر ہمارے گھر کی باتیں ڈسکس کروگی۔‘‘ وقاص نے ناچاہتے ہوئے بھی سونیا کی بات کاٹ دی۔
’’تمہارے پاس وقت ہی کب ہے میرے لیے۔‘‘
’’سونیا۔‘‘
’’میری بات سمجھنے کی کوشش کرو پلیز۔‘‘
’’اوکے… اوکے بتائوکیا ہوگیا ایسا جو تم…!‘‘
’’تم سمجھتے ہو میں پاگل ہوں۔‘‘
’’تم خود یہ بات ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہو۔‘‘
’’اچھا تو میں من گھڑت قصے سنارہی ہوں۔‘‘
وقاص کندھے اچکا کے خاموش ہوگیا۔ وہ دونوں رخ تاج کی موجودگی بھلاچکے تھے ۔شادی شدہ زندگی کا یہ پہلا ایسا جھگڑا ثابت ہورہا تھا جو اس حد تک جارہا تھا۔
’’پلیز وقاص بی سیریس۔ اس گھر میں ایک ایسا بچہ ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا لیکن وہ ہمارے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے اور یہ بتا رہی ہیں وہ بچہ اس گھر کے مالک مکان کا بیٹا تھا جو چھت سے گر کے مر چکا ہے۔‘‘
وقاص نے حیرت سے نان اسٹاپ بولتے ہوئے سونیا کو دیکھ کر اندازہ لگانا چاہا، وہ کسی قسم کا مذاق تو نہیں کر رہی لیکن اس کے چہرے سے ٹپکتی وحشت وقاص کوحیران کررہی تھی۔
’’یہ وہی بچہ ہے جس کے ساتھ عمر اور مہر کھیلتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے اس بچے کو اور دیکھو انہوں نے بھی تصدیق کی ہے۔‘‘
’’ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔‘‘ بلند و بانگ قہقہے نے جہاں ایک طرف سونیا کو ایک دم خاموش کرادیا تو دوسری طرف رخ تاج بھی حیرت سے دیوانوں کی طرح قہقہے لگاتے ہوئے وقاص کو دیکھنے لگیں۔
’’پھر سے کہنا، کیا کہا تم نے ایک ایسا بچہ جو مر چکا ہے بقول تمہارے وہ دوبارہ زندہ ہوکر ہمارے گھر آگیا ہے، وہ بھی ہمارے بچوں سے کھیلنے کے لیے نہیں… نہیں ایک منٹ یہ گھر اس کا ہے۔‘‘ وقاص نے ہنستے ہوئے خاموش کھڑی سونیا کو دیکھا، ایک نظر رخ تاج پہ ڈالی۔
’’ہاں تو وہ بچہ جس کا یہ گھر ہے جہا ں ہم رہتے ہیں اور میں اس گھر کا کرایہ دے رہا ہوں وہ چھت سے گر کر مرنے کے بعد زندہ ہوکر واپس اس گھر میں آچکا ہے؟‘‘ ہنستے ہوئے وقاص نے باری باری دونوں کو دیکھا۔
’’یہ سچ بول رہی ہے بچے۔‘‘ رخ تاج نے بردباری سے اسے جواب دیا۔
’’آپ خاموش رہیں پلیز یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے اور مجھے یقین ہے یہ فضول قسم کی داستان آپ نے ہی سنائی ہوگی اسے۔‘‘ وقاص نے تنک کے رخ تاج کی طرف منہ پھیرا۔
’’یہ میرے گھر کا معاملہ ہے میرے بچے۔‘‘ گلوگیر لہجے میں بولتی ہوئی رخ تاج نے لمحہ بھر کے لیے وقاص کو چپ کرا دیا۔
’’یہ میرے ہی بیٹے کا گھر ہے جس میں تم رہ رہے ہو۔‘‘
…٭٭…
’’میں تم سے ملنا چاہتا ہوں الشبہ۔‘‘
الشبہ نے میسج پڑھتے ہی ایک انجانی سی خوشی خود میں دوڑتی ہوئی محسوس کی۔
’’اوہ، بالآخرم تم کو میری یاد آہی گئی راحیل۔میتھیس کی کلاس کے بعد پارکنگ میں مل لو۔‘‘ الشبہ نے فوراً ہی میسج ٹائپ کیا اور سینڈ کردیا۔ دونوں ہاتھوں میں موبائل تھامے وہ ٹکٹکی باندھے نظریں موبائل کی اسکرین پہ جمائے ہوئے تھی۔
’’نہیں تم کلب آجائو، ایمرجنسی ہے ۔‘‘
سنسنی بھرگئی الشبہ کے جسم میں میسج پڑھ کر اس کو کچھ دنوں پہلے کی وہ گزری ہوئی رات یاد آگئی جب وہ اپنی نسوانی فخر ختم کرآئی تھی۔
’’مشکل ہوگا راحیل۔ پلیز ٹرائی ٹو انڈراسٹینڈ۔‘‘
’’اوکے ۔پھر میں سمجھ لوں گا تمہارے نزدیک میری کوئی ویلیو ہی نہیں ہے۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے راحیل لیکن…!‘‘
’’توبس میں تمہارا انتظارکررہا ہوں۔‘‘ راحیل نے تیزی سے میسج ٹائپ کرتے ہوئے بے زار شکل بنائی۔‘‘
الشبہ نے دھندلائی ہوئی نظروں سے راحیل کا میسج دیکھا ساتھ ہی اس نے کپکپاتی ہوئی انگلیوں سے اوکے کا میسج ٹائپ کیا۔
یہ ذلتوں بھرا سفر اپنی مرضی سے ہی چنا تھا۔ کسی سے کیا شکایت کرسکتی تھی۔
…٭٭…
’’افف باجی یہ میں کیا سن رہی ہوں تم سے اس بچکانہ رویے کی امید نہیں تھی یار۔‘‘ الماس نے بے یقینی سے سونیا کو دیکھا جو غصے میں مسلسل رو رہی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کی سرخی الماس کو حیران کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ’’تم واقعی سمجھتی ہو اس زمانے میں بھی کوئی… آئی مین… سوچ بھی کیسے لیا کوئی مرا ہوا بچہ ہمارے بچوں کے ساتھ آکر رہنے لگے گا۔ کسی بھی غیر عورت کو گھر میں گھسا کیسے لیا۔ وقاص بھائی بالکل ٹھیک غصہ ہوئے تھے۔‘‘
’’کرتے رہو غصہ، لیکن یاد رکھنا اس بات کو میں کب سے کہہ رہی ہوں یہ گھر نارمل نہیں، کچھ الگ ہے اس گھر میں اور وہ مجھ لے جانے والا ہے الماس میرا یقین کرو وہ لے جائے گا مجھے پھر تم دونوں افسوس کرتے رہوگے کہ کاش سونیا کی بات سن لیتے۔‘‘
’’او ہ باجی تم کہیں نہیں جارہی ہو ہم نہیں جانے دیں گے تم کو کہیں بھی، پتہ نہیں کیوں الٹی سیدھی سوچوں کو اپنے اوپر سوار کرلیا ہے۔‘‘ الماس جھنجلاہی گئی۔
’’وہ خاتون جھوٹ نہیں بول رہی تھیں الماس۔ میں نے محسوس کیا ہے ان کا دکھ۔‘‘ سونیا کے ذہن میں دو آنسوئوں میں ڈوبی آنکھیں روشن ہوئیں۔
’’انجان عورت کیوں اتنی اہمیت پاگئی ہے مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔‘‘ الماس نے الجھتے ہوئے سونیا کو دیکھاجس کے چہرے پر اس وقت تازگی اور شادابی ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی تھی، دنوں میں ہی وہ مرجھاگئی تھی ’’حال دیکھو کیا کرلیا ہے اپنا۔‘‘
’’میری زندگی دائو پر لگی ہے اورتم کو…‘‘ سونیا نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’اچھا چلو ابھی تو اتنی رات ہوگئی ہے، کل اس پر تفصیلی بات کرتے ہیں۔‘‘ الماس نے سونیا کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’آئی پرامس میں سنوگی تمہاری بات۔‘‘
’’نہیں الماس، تم سن کر یقین نہیں کروگی کیونکہ تم اس سب کو برداشت نہیں کررہی ہو جو میں…!‘‘ گہری سانس لیتی ہوئی سونیا نے خود پر ترس کھایا۔
’’میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی زندگی میں کبھی یہ دن بھی دیکھنے کو ملیں گے جب میری اپنی سگی بہن کے نزدیک میں مشکوک ٹھہرائی جائوں گی۔‘‘ الماس نے ہونٹ بھینچ کے اپنی بہن کو دیکھا جو گم صم سی بیٹھی ہوئی تھی۔
…٭٭…
تیزی سے ڈھلتاہوا دن الشبہ کوتنگ کر رہا تھا، وہ جہاں راحیل سے ملنے کے لیے خوش تھی وہیں چوری چھپے جانے پر شرمندہ بھی تھی شام چھ بجے اس کے کوچنگ جانے کا وقت تھا وہی وقت اس نے کلب میںجانے کے لیے سوچ رکھا تھا تاکہ شہیر کو بھنک بھی نا پڑے اور وہ مل کر گھر بھی آجائے لیکن اسے علم نہیں تھا آج وہ اپنے مکافات عمل کا ایک حصہ بننے جارہی ہے جیسے شہیر نے اپنی اولاد کی خاطر نجانے کتنے لوگوں کا گھر اجاڑا تھا اسی طرح آج اس کا اپنا گھر اجڑنے والا تھا لوگوں کی بددعا اپنا رنگ دکھانے والی تھیں اور شہیر انجان تھا کہ وہ اپنے ہی اعمال کی سزا بھگتنے والا ہے۔
…٭٭…
فیصل شام ڈھلے ثمن کی رپورٹس کا پلندہ ہاتھوں میں تھامے کلینک کی لیبارٹری سے نکلتا ہوا ڈاکٹر کے روم میں جارہا تھا، اس کے بڑھتے ہوئے قدم ادھ کھلے دروازے پر ٹھٹک گئے جب اس نے اپنے نام کی پکار سنی۔
’’مجھے تو لگتا ہے فیصل چاہتا ہی نہیں اس کی بیوی ٹھیک ہو وہ روم نمبر چار والے…‘‘ سوالیہ لہجے میں کنفرم کرتا یقینا کوئی نیا بندہ تھا۔
’’ہاں وہی بے چاری کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے اوراس کے شوہر کو پروا ہی نہیں بل بھر کر سمجھ رہا ہے فرض پورا ہوگیا ہنہ۔‘‘ نرس کے لہجے میں بلا کی بے زاریت تھی۔
’’ایسے کیسے کہہ سکتی ہو تم۔‘‘ دونوں نرسیں سکون سے ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھی ہوئی چائے سے شغل کررہی تھیں ساتھ فیصل کے بخیے ادھیڑ رہی تھیں، عورت ہونے کے ناتے ان کی ہمدردیاں ثمن کے ساتھ تھیں۔ کہاں ہوتے ہیں ایسے محبت کرنے والے شوہر جو کام دھندا چھوڑ کر بیوی کے گھٹنے سے لگ بیٹھیں رہیں۔‘‘
’’بس بھی کرو کلثوم یہ سب دکھاوا ہے بتاکیوں نہیں دیتا وہ بیوی کی ایسی حالت کیوں ہوئی۔‘‘
’’ہوں کہتی تو ٹھیک ہو۔‘‘
’’تم دیکھنا ایک دن وہ مرجائے گی اور یہ مجنوں بنا کچھ عرصے روتا رہے گا اور پھر دوسری شادی کرکے سکون کی بانسری بجائے گا۔‘‘ نرس نے انکشاف کیا۔ ’’اپنے ہی کوئی دل کاچور لگتا ہے اس کا جو یہ سب کر رہا ہے لیکن اتنی ہمت نہیں جو سچ بتا کر سب کا سامنا کرلے۔ ‘‘
باہر کھڑے فیصل کی ٹانگوں نے اس کا وجود سہارنے سے انکار کردیا، پشیمان چہرے کے ساتھ وہ ہاتھوں میں ثمن کی رپورٹس تھامے کھڑا رہا۔
…٭٭…
’’پاپا۔‘‘ الشبہ نے جھجکتے ہوئے شہیر کو دیکھا جو مگن سا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
’’ہاں بولو۔‘‘ شہیر نے فوراہی ٹی وی کی آواز بند کی اور پوری توجہ سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔
’’وہ میں… وہ…‘‘ الشبہ نے شہیر کی حرکت دیکھ کر دل ہی دل میں سخت شرمندگی محسوس کی ایسے باپ کو دھوکا دینا مشکل امر تھا۔
’’کچھ چاہیے میری بیٹی کو۔‘‘ شگفتگی سے کہتا ہوا شہیر الشبہ کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔
’’اب پاپا سے بھی اتنا سوچ سمجھ کر بات کروگی تو ہوگیا کام بھئی۔‘‘
’’مجھے جوائنٹ اسٹڈی کرنے کے لیے… وہ…‘‘ الشبہ کی زبان کی لڑکھڑاہٹ اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔
’’اگر آپ۔‘‘ شہیر نے ایکدم گھبرائی ہوئی جوان بیٹی کو دیکھا جو ہاتھ مسلتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
’’بس آخری بار، وہ پیپرز قریب ہیں نا۔ مجھے کچھ چیپڑز میں ہیلپ… وہ… پاپا…‘‘ الشبہ خاموشی سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے شہیر کو دیکھ کر سٹپٹا گئی۔
’’اوکے چلی جائو۔ لیکن مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تمہارا ایسے کسی کے گھر جانا۔‘‘ شہیر نے نیم رضامندی سے جواب د یا۔ ’’تم اپنے گھر بلالیا کرو نا ہم دو ہی تو ہوتے ہیں اس پورے گھر میں۔ کوئی بھی سکون سے آسکتا ہے ادھر۔‘‘
’’یس پاپا۔‘‘ الشبہ نے دھیرے سے جواب دیا۔
’’کب جانا ہے پھر۔‘‘
’’آج ہی پرامس میں جلدی آجائوںگی۔‘‘
’’میں چھوڑ دوں گا۔‘‘ شہیر نے تسلی دینے والے انداز میں اسے دیکھا۔
’’نہی… نہیں ۔‘‘ ایکدم گھبرائی ہوئی الشبہ نے اسے حیران کردیا۔ ’’وہ مجھے لینے آجائے گی ،جیسے پہلے…!‘‘
’’اچھا یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے شہیر نے سر ہلایا اور بے خیالی میں ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگیا۔
الشبہ نے موقع غنیمت جان کر ادھر سے رفو چکر ہونے میں ہی عافیت دیکھی۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے کچھ پل خود کو کوسا لیکن بالآخر پھر راحیل سے ملنے کی خاطر تیاری شروع کی دل ہی دل میں اپنے پاپا سے سخت شرمندہ ہوتے ہوئے اس نے تہیہ کرلیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ اس بار راحیل کو صاف منع کردے گی وہ اس طرح کلب میں آنا افورڈ نہیں کرسکتی اور جو اس نے اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیا تو۔ ہلکی سی آواز الشبہ کے اندر ابھری اگر اس نے ہمیشہ کے لیے ہی ملنے سے انکار کردیا تو…؟
الشبہ نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے ہینگر اپنے بیڈ پر رکھ دیا اگر ایسا ہوگیا تو وہ کیسے جی سکے گی۔ نہیں نہیں راحیل اب مجھے کیسے منع کرسکتا ہے ، وہ… وہ… الشبہ نے دل ہی دل میں اپنی خودی بلند کی وہ کیسے بھول سکتا ہے ہم دونوں الشبہ کے ذہن میں کچھ ہی ہفتوں پہلے وہ ملاقات تازہ ہوئی جس کے بعد الشبہ دنوں تک شہیر سے نظریں چراتی رہی تھی ایک گہری سانس لیتی ہوئی اس نے خود پر قابوپایا۔
نفس کے بے لگام گھوڑے کی ایک اور سازش کامیاب ہوگئی تھی۔
…٭٭…
اندھیرے میں ڈوبے ہوئے اس آسیب زد ہ گھرکو اس وقت جہاں انجان دھواں اپنے حصار میں لپیٹنا شروع ہو رہا تھا تو دوسری طرف ایک پراسرار ہیولہ دھیرے دھیرے اس گھر کے اطراف چکر لگانے میں مشغول تھا خونی گھر کے مکین اس بات سے قطعی انجان تھے کہ وہ موت کے دہانے پر بیٹھے ہیں۔ ہیولے کے تیس چکر لگاتے ہی کالی بلی نے منہ آسمان کی سمت کرکے غرانا شروع کردیا تھا۔ رات کے سناٹے میں غرانے کی آوازماحول کی پراسراریت میں خاطر خوا اضافہ کررہی تھی لیکن گھر میں سوئے ہوئے لوگ اس بات سے بے خبر تھے۔
…٭٭…
’’میں کل کسی ڈاکٹر کا معلوم کرتاہوں اور شرافت سے چلو میرے ساتھ۔‘‘ بلند آواز میں وقاص نے سونیا کو مخاطب کیا ساتھ ہی اپنے ٹوتھ برش پر پیسٹ لگایا۔ ’’یہ روز روز کا کھیل اب میری برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
وقاص نے سامنے لگے آئینے میں خود کا عکس دیکھا، سکون سے دانتوں پر برش پھیرنے لگا، دومنٹ بعد کلی کرنے کے لیے منہ واش بیسن پر جھکایا لیکن کالے لباس میں ملبوس ایک دوسرے وقاص کا عکس آئینے میں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
باہر کمرے میں اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی سونیا کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی خوش مزاج اور خوش شکل عورت ہے جو کچھ ہی دنوں پہلے اس گھر میں شفٹ ہوئی تھی اداس چہرے والی، ماتھے پر پڑنے والے ان گنت بل، بکھرے بال،خشک ہونٹ پر جمنے والی پپڑی کے ساتھ اندر دھنسی ہوئی آنکھیں سونیا مسکے ہوئے لباس میں بے بس لیٹی ہوئی تھی۔ آج سے پہلے اس نے اپنے آپ کو اتنا لاچار کبھی محسوس نہیں کیا تھا کہ پیار کرنے والا شوہر اور اکلوتی بہن اس کی باتوں کو سننے کے روادار نا ہوں۔ کس بری طرح رخ تاج کو بے عزت کرکے نکالاتھا وقاص نے، سونیاکو رہ رہ کر یاد آرہا تھا۔ شریف عورت تھیں جو خاموشی سے چلی گئیں لیکن وقاص۔ اپنی ہی سوچوں میں گھری ہوئی سونیا نے یاسیت سے نظریں اٹھائیں اور لمحہ بھر میں ہی وہ بت بن گئی۔
سامنے ہی کالے سوٹ میں ملبوس وقاص اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔
سونیا کا تنفس تیز سے تیز تر ہوتا گیا، اس نے باتھ روم میں موجود وقاص کو آواز دینی چاہی لیکن قوت گویائی جیسے اس سے چھن چکی تھی گلے پر ہاتھ رکھ کر سونیا نے وقاص کو مخاطب کرنے کے لیے زور لگایا اسی وقت سامنے کھڑے ہوئے وقاص نے انگلی کے اشارے سے اسے منع کردیا۔ جیسے وہ نہیں چاہتا سونیا کچھ بولے۔
’’میں سوچ رہا ہوں کہیں گھومنے چلیں یار۔‘‘ باتھ روم سے بولتا ہوا وقاص برآمد ہوا۔ ’’شاید تمہاری طبیعت پر کوئی اچھا اثر پڑے کیا کہتی ہو۔‘‘ وقاص نے اپنی ہی دھن میں بولتے ہوئے تولیہ کمرے میں رکھی ہوئی کرسی پر ڈالا اور سونے کے لیے بیڈ کا رخ کیا۔
سونیا جو گہری گہری سانس لیتی ہوئی اس وقت آکسیجن کی کمی کا شکار لگ رہی تھی ایکدم وقاص کی توجہ اپنی طرف کھینچ گئی۔
’’کک کیا ہوا سونیا کیا ہوگیا۔‘‘ وقاص نے پھرتی سے پانی کا گلاس بھرا اور اسے پلانا چاہا۔
سونیا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے وقاص کو پیچھے پلٹنے کا اشارہ کیا، وقاص تیزی کے ساتھ پلٹا لیکن وہاں کوئی نا تھا۔ سونیا کی پھٹی پھٹی ہوئی آنکھوں میں دہشت کے جو سائے تھے وہ وقاص کو حیرت میں ڈال رہے تھے۔
’’کچھ تو بولو سونیا کیا ہے ادھر۔‘‘ وقاص نے اسے جھنجوڑ ڈالا۔
سونیا منہ کھولے گہرے گہرے سانس لیتی ایک ٹک دروازے پر کھڑے کالے لباس میں ملبوس وقاص کو ہی دیکھتی رہی جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ سونیا نے اسے جاتے دیکھ کر بے بسی سے اپنے پاس کھڑے وقاص کو دیکھا جو بے حد پریشانی سے اسے ہی تک رہا تھا،گاہے بگاہے پلٹ پلٹ کر کمرے کے دروازے کو بھی دیکھ کر کندھے اچکارہا تھا،جیسے کچھ سمجھنے سے قاصر ہو۔
’’ادھر کچھ بھی تو نہیں ہے سونیا تم کیا دیکھ رہی ہو۔ بتائو نایار۔‘‘ سونیا کی پتھرائی ہوئی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہونے لگیں اور وہ بے ہوش ہوگئی لیکن اس کے ہاتھوں میں وقاص کی شرٹ بری طرح جکڑی ہوئی تھی جو اس کی دہشت کا نمایاں ثبوت تھی کہ وہ کسی چیز سے شدید خوف زدہ ہورہی تھی جس نے سونیا کی گھگھی باندھ دی تھی وقاص پرسوچ انداز میں اس کی لرزتی پلکیں دیکھتا رہا جس پر آنسوئوں کی جھلملاہٹ تھی یہ دہشت مصنوعی نہیں ہوسکتی کچھ تو ہے جو سونیا کو اتنا بے بس کر رہا ہے کہ وہ ایسے بے ہوش سونیا کو دیکھتے ہوئے وقاص نے اس مسئلے کو پہلی بار سنجیدگی سے سوچا تھا کل ہی آفس کے کسی بندے سے ڈسکس کرتاہوں ایسے تو یہ ڈر ڈر کے ہی مرجائے گی وقاص نے اپنائیت سے سونیا کے آنسو صاف کرتے ہوئے نرمی سے اسے بیڈ پہ لٹایا اور خود اپنے جاننے والے لوگوں کو یاد کرنے لگا جو اس صورت حال میں مدد کرسکتے تھے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close