Naeyufaq Feb 2019

خو ریز(قسط نمبر4)

امجد جاوید

گرم ہونٹوں کے لمس کے ساتھ ایسی شدت لپٹی ہوئی تھی جو میرے جسم کے ہر مسام تک جا پہنچی تھی ۔چند لمحے وہ مجھ میں یوں پیوست رہی جیسے مجھ سے الگ ہو ئی تو مر جائے گی ۔پھر وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گئی ۔اس کا چہرہ میرے سامنے تھا ۔ وہ مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے مجھے پور ے وجود کے ساتھ ہی اپنی آ نکھوں میں سمو لینا چاہتی ہو ۔اس کی آ نکھیں جیسے شور مچا رہی تھیں ۔ ان میںکہنے کے لئے اتنا کچھ تھا جن کے لئے کئی برس درکار ہو سکتے تھے ۔ اس کا ذرا سی دیر میرے چہرے پر دیکھتے رہنا، نجانے مجھ پر کتنے انکشاف کر گیا تھا ۔ شاید لمحوں میں صدیوں کا سفر اسے ہی کہتے ہیں ۔
میںاس کی وحشتوں کو دیکھ کر مسکرا دیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور اس کے گال پر رکھ دیا ۔ اس کا جسم تپ رہا تھا ۔ چند ثانیے میں اس کی طرف دیکھتا رہا ، پھر اسے گلے لگا کر موہوم سی آ واز میں اسے سمجھاتا چلا گیا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ میرے ساتھ چپکی سنتی رہی ۔سب سن کر وہ مجھ سے الگ ہوگئی ۔اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں ۔وہ میری بات سمجھ گئی تھی جس میں جہاں رہائی کی امید تھی ، وہاں اتنا ہی موت ہمارے قریب تر تھی ۔ لیکن ہم نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
ہم آ منے سامنے کی دیواروں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ سنائی دی ۔میں نے ارم کی طرف دیکھا اور تیار ہو گیا ۔آنے والا تنّی ہی تھا ۔وہ کمرے میں آ کر رک گیا ۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا ۔
’’ ہاں ، علی پھر کیا فیصلہ کیا تم نے ؟‘‘
’’ دیکھ تنّی ، اس بار تم ارم کو چھوڑ دو میں …‘‘میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولا ۔
’’ یہ میرا فیصلہ نہیں ہے جانی ، یہ سائیں محبت خان کا فیصلہ ہے ۔ وہ اسے برداشت نہیں کر رہا ہے ۔شاید اس ارم نے اُسے بہت زیادہ نقصان پہنچا دیا ہے ۔میرا معاملہ تو تیرے ساتھ ہے ۔‘‘
’’ تم جائو ، ایک بار میرا پیغام سائیں محبت خان کو دو ، اسے کہو کہ ایک بار ارم کو چھوڑ دو ، پھر اس کے بعد ساری ذمے داری میری ہے ۔میں ضمانت لیتا ہوں ہر طرح کی ۔‘‘میںنے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
’’وہ نہیں مانے گا ۔‘‘ تنّی نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’ نہیں مانے گاتو پھر جو تم کہتے ہو،وہ کر لیں گے ۔‘‘ میںنے کہا تو ایک لمحہ کو اس نے سوچا ، تبھی میںنے بات بڑھاتے ہوئے کہا،’’ یا پھر سائیں سے میری بات کروا دو۔‘‘
’’ تم کیا بات کرو گے ؟‘‘اس نے تیزی سے پوچھا ۔
’’میں اسے قائل کرنے کی کوشش کروں گا ، ظاہر ہے ، میں اسے کچھ نہ کچھ تو کہوں گا ۔‘‘میں نے سکون سے کہا ۔
’’ اوکے ، وہ اوپر موجود ہے ، ابھی آ یا ہے ۔ اسی نے مجھے کہا ہے کہ میں آخری بار تم سے پوچھ لوں ، اگر …‘‘ اس نے مزید کہنا چاہا تو میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’ یار میری بات کروا دو ، پھر دیکھتے ہیں ۔‘‘
’’ ایک منٹ ، انتظار کر ۔‘‘ اس نے کہا اور فوراً ہی واپس پلٹ گیا ۔مجھے لگا ، میں بہت حد تک کامیاب ہو گیا تھا ۔میں نے ارم کی طرف دیکھا ، وہ بے حد مطمئن تھی ۔وہ پھر میری جانب بڑھی ۔میں اس کی جانب لپکا ۔ہم ایک دوسرے بالکل قریب ہو گئے ۔ اتنے قریب کہ جیسے یک جان دو قالب ہوں ۔ اس وقت ہمارے درمیان کوئی جذباتی ربط نہیں تھا بلکہ میں ارم کے ہاتھ کھولنا چاہتا تھا ۔ میری کلائیاں اگر بندھی ہوئی تھیں تو میری انگلیاں کام کر رہی تھیں ۔ اس کی بھی کلائیاں ہی بندھی ہوئیں تھیں ۔وہ جیسے ہی میرے ساتھ لگی ، میںنے تیزی سے اس کی کلائیوں پر بندھی رسی کھولنا شروع کر دی ۔ ایک یا دو منٹ لگے ہوں گے ۔ اس کی رسیاں کھل گئیں ۔ لیکن ان رسیوں کو جدا نہیں کیا ۔ پہلی نگاہ میں یہی دکھنا چاہئے تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔
تنّی کو گئے ہوئے پانچ منٹ سے بھی زیادہ کا وقت ہو گیا تھا ۔وہ واپس نہیں پلٹا تھا ۔ میرے اندر سنسنی پھیلنے لگی تھی ۔ اس کا دیر کرنا ہی ہمارے لئے ایک اچھا شگون تھا ۔ارم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیلنے لگی تھی ۔
سیڑھیوںپر قدموں کی چاپ پھر سے ابھرنے لگی تھی ، ہم خاموش تھے ۔ تنّی پھر ہمارے سامنے آ ن کھڑا ہوا تھا ۔اس نے پہلے میری طرف اور پھر ارم کی جانب دیکھ کر کہا۔
’’ تم یہیں رہو گی ، اوپر صرف علی جائے گا ۔‘‘
ارم نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ تنّی نے مجھے اپنے ساتھ آ نے کا اشارہ کیا اور قدم بڑھا دئیے ۔اس وقت میرے بھی ہاتھ بندھے تھے ۔میںنے جان بوجھ کر تنّی کے سامنے اپنے ہاتھ کر دئیے ۔ وہ مجھ سے بہ مشکل دو قدم آ گے تھا ۔ میں اسے جکڑ سکتا تھا ۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا ۔میں سمجھ رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر مجھے موقع دے رہا ہے ۔ اس نے میرے ہاتھ کھول دئیے ۔میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اوپر جا پہنچا ۔
وہاں منظر ہی الگ تھا ۔ ایک طرف چارپائی پر سائیں محبت خان بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے سرخ و سپید چہرے پر سکوت طاری تھا ۔ پہلی نگاہ میں سمجھا ہی نہیں جا سکتاتھا کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ۔اس کی آ نکھیں ٹھہری ہوئی تھیں ، جیسے کچھ بھی سننے کی عادی ہوں ۔اس کے ڈھیلی سڑابری کی طرح ہونٹ ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے ۔ کرتا شلوار اور بڑی سی پگڑی پہنے وہ کوئی زمیندار تو لگ رہا تھا لیکن اندر سے کتنا خبیث تھا ، اس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا تھا ۔ اس کے ارد گرد کئی گن مین کھڑے تھے ۔ جن کے ہاتھوں میں جد ید گنیں تھیں۔ اس کے ایک اشارے پر وہ کئی برسٹ مار سکتے تھے ۔ میری نگاہ برآمدے میں پڑی تو وہاں بھی فور وہیل کے پاس کچھ لوگ کھڑے تھے ۔میںنے ایک ہی نگاہ میں سارا جائزہ لیا اور اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے سر سے پائوں تک مجھے دیکھا اور بڑے نرم سے لہجے میں کہا ۔
’’ بہت عرصے بعد دیکھا ہے تمہیں ، جوان ہو گئے ہو ؟‘‘
’’ بس سائیں دعاہے آ پ کی ۔‘‘ میں نے ممنونیت سے کہا تو وہ زہریلے انداز میں ہلکا سا مسکرا دیا پھر بڑے پر سکون سے لہجے میں پوچھا۔
’’ تم اسے کیوں بچاناچاہتے ہو ؟‘‘
’’ اس میں بہتری ہے ؟‘‘ میں نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
’’ یہی کہنا چاہ رہے ہو نا کہ وہ ایجنسی کی عورت ہے ؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا ۔
’’ ہاں ، یہی ،بتانا چاہ رہا تھالیکن آپ کو تو پتہ ہے ۔‘‘ میں نے کھسیانا سا ہو کر کہا ۔
’’یہ جس دن یہاں آ ئی تھی نا ، مجھے اس دن کا پتہ ہے ، میرے لوگوں نے اسی دن بتا دیا تھا ، ایجنسی والے لوگ تو اپنا پتہ ہی نہیں لگنے دیتے ۔ یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے ۔‘‘ اس نے نفرت سے کہا ۔
’’پھر بھی ایک بار اسے معاف کردیں ۔‘‘ میں نے اسے کہا تو وہ غضب ناک انداز میں بولا ۔
’’کیوں معاف کردوں ؟‘‘
’’ اس لئے کہ اگر مجھے آپ کے ساتھ کام کرنا ہے تو میں کوئی نیا محاذ نہیں کھولوں گا ۔‘‘ میںنے کہا تو اس نے چمکتی ہوئی آ نکھوں سے پوچھا ۔
’’ تو اس کا مطلب ہے ، تم ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہو ؟‘‘
’’ بالکل ، میں یہ سب کر کیوں رہا ہوں ۔کوئی تو میرا قدر دان میرے سامنے آ ئے ۔بابا نے بڑی زندگی شرافت سے گزار لی ۔ یہ وقت ہی نہیں ہے شرافت کا ۔‘‘ میںنے کمینے پن سے کہا تو وہ ہنس دیا ۔
’’ مطلب جو کچھ بھی تنّی نے کہا ، وہ کر وگے نا؟‘‘ اس نے دوبارہ وہی سوال دوسرے انداز میں کر دیا ۔
’’سائیں ایم این اے بننا کسے اچھا نہیں لگتا ۔لوگوں پر حکومت کرنا کسے پسند نہیں ۔بابا کے اصولوں پر چلتا رہا تو کبھی کونسلر نہیں بن سکتا ۔‘‘میں صاف لہجے میں کہا۔
’’اچھا ، تو یہ بات ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ذرا دم لینے کو رُکا پھر بولا ،’’ دیکھو، تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چاہیے کسی بھی ایجنسی کی ہے ، یہ جانے اور ہم ، تم جائو ، ہم تم سے رابطہ کر لیں گے ۔‘‘ اس نے جانے کے لئے ہاتھ کا اشارہ کیا۔پھر تنّی سے بولا ،’’ لائو اسے ، میں اپنے ہاتھ سے ماروں گا ، سالی نے نقصان ہی بہت کر دیا ہے ۔‘‘
مجھے پتہ تھا کہ تہہ خانے میں کوئی نہیں ہے ۔نیچے ارم بندھی ہوئی نہیں تھی ۔تنّی انتہائی تیزی سے نیچے چلا گیا ۔مجھے لگا جیسے وہ ارم کو مارنے میں جلدی دکھا رہا ہے ۔میں اس کی طرف سے اپنا دماغ ہٹاتے ہوئے سائیں محبت خان کی طرف دیکھا پھربڑی ممنونیت سے بولا ۔
’’ جیسے آپ کی مرضی سائیں ۔آپ جو کہو گے اب میں تو وہی کروں گا نا ۔ یہ لڑکی جانے اور آپ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں اس کے پیروں پر جھکا۔ اس نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا ، میں سیدھا ہوا اور دونوں ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھائے ۔ اس نے شان بے نیازی سے ایک ہاتھ آ گے بڑھا دیا ۔ میںنے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لیا ۔ ان ہاتھوں کو چومنے کی غرض سے جھکا اوراگلے ہی لمحے میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔
وہ وزن میں بہت بھاری تھا ۔ اسے پوری قوت سے کھینچتے ہوئے مجھے تارے نظر آ نے لگے تھے لیکن میں اسے کھینچ کر چار پائی سے نیچے پھینکنے میں کامیاب ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں حمائل کیا اور خود فرش پر آ ن رہا ۔ اسے اپنے اوپر لٹا کر اس کی گردن پر دبائو ڈالا۔وہ خرخرانے لگا ۔ مجھے اندازہ تھا کہ اسے بہت تکلیف ہورہی تھی ۔ وہ مچل رہا تھا ۔وہ گالیاں نکال رہا تھا لیکن وہ صحیح طرح بول نہیں پا رہا تھا۔ اوپر بھی ایک دم سے ہلچل مچ گئی تو میں تیزی سے بولا ۔
’’ رک جائو، ورنہ میں اس کی گردن یہیں توڑ دوں گا۔‘‘
اس کے ساتھ ہی ہاتھ ڈھیلا کر دیا تو اس نے تیزی سے کہا ۔
’’ رُکو …‘‘
ایک دم سے خاموشی چھا گئی ۔اس کے ساتھ ہی میںنے اپنا شکنجہ سخت کر تے ہوئے کہا ۔
’’سائیں میں اب بھی تیری بات ماننے کو تیار ہوں ، لیکن ارم کو جانے دو ۔ ‘‘
’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے فوراً ہی میری بات مان لی ۔ کیونکہ میں اس کی گردن پر دبائو بڑھاتا جا رہا تھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ میں زیادہ وقت نہیںنکال سکتا ۔ کچھ ہی دیر بعد میری گرفت ڈھیلی پر جائے گی ۔ اس طرح وہ باآ سانی میری گرفت سے نکل سکتا تھا ۔ تب پھر میرے لئے بہت مشکل ہو جانے والی تھی ۔
انہی لمحات میں تنّی تہہ خانے سے باہرآ گیا ۔ میںنے ارم کی ایک جھلک دیکھی تھی ۔شاید تنّی کے ذہن میں بھی نہیں ہوگا کہ باہر کا منظر ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔یہی وہ لمحہ تھا ، جب ارم نے پوری قوت سے چھلانگ لگائی اور ایک طرف کھڑے ہوئے گن مین پر جا پڑی ۔ اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں گن تھی ۔سبھی ایک لمحہ کے لئے ساکت ہو گئے ۔اس کے بندھے ہوئے ہاتھ کھل چکے تھے اور ان میں گن پکڑی ہوئی تھی ۔
’’ بس اب کھیل ختم ہو گیا سائیں ۔‘‘ اس نے وحشت ناک انداز میں کہا تو ہر جانب سناٹا چھا گیا ۔کسی نے کوئی آ واز نہیں نکالی یوں جیسے وہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔
سائیں جو پہلے مچل رہا تھا ، اس نے بھی مزاحمت ختم کر دی ۔ وہ مجھ پر آ رہا تھا ۔ مجھے لگا جیسے میرا سانس بند ہو جائے گا ۔ میں نے تو خود کو اس لئے نیچے گرایا تھا کہ کوئی اوپر سے مجھ پر وار نہ کر دے ۔ اب بہت حد تک خطرہ ٹل گیا تھا ۔میں نے سائیں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن دبوچے اوپر آ گیا ۔میرے سامنے تنّی تھا جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔میں نے اسے غور سے دیکھا اور پھر سائیں سے بولا ۔
’’ سائیں ، میں اب بھی تمہارے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں ۔یقین جانو ، یہ سارا علاقہ تیرے لئے غلام بنا لوںگا۔ میں اب بھی کہتا ہوں ، ارم کو جانے دے ۔‘‘
’’ جج… جائے …لیکن …‘‘اس کی آ واز نہیں نکل رہی تھی ۔ اس لئے اٹک کر بولا تھا ، میںنے اس کی گردن ذرا ڈھیلی چھوڑ دی ۔تو وہ بولا،’’ اس کی کیا گارنٹی ہے، یہ ہم سے انتقام نہیں لے گی ۔‘‘
’’ میں اس کی گارنٹی دیتا ہوں ۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’ کیا، کیسے ؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا ۔
’’میں ، آپ اور ارم ابھی دربار پر جاتے ہیں ، وہیں سب طے کر لیتے ہیں ، چلو گے ہمارے ساتھ ؟ ‘‘ میںنے کہا تو وہ ایک دم سے سہم گیا۔ میںنے بڑی خطرناک بات کہہ دی تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا ، ارم کی تیز آ واز گونجی ۔
’’ پرے ہوجا علی ، میں نے اسے اب زندہ نہیں چھوڑنا؟‘‘
’’ نہیں ارم ، ہمارے درمیان بات ہو گئی ہے ۔ تم کچھ نہیںکرو گی ۔‘‘ میںنے تیزی سے کہا ۔
’’ انہوں نے ہمیں مارنا ہے ،کیوںنا ، مرتے مرتے انہیںمار جائیں ۔‘‘ اس نے چیخ کر کہا ۔
’’ نہیں ۔ ‘‘ میں نے مزاحمت کی ، اس دوران وہ باتیں کرتی ہوئی میرے قریب آ گئی ۔ اس نے گن کی نال سائیں محبت خاں کے سینے پر رکھ دی ۔ اس کی آ نکھوں سے نفرت بھرے شعلے نکل رہے تھے ۔
’’ چل ، وہاں دربار پر چل ۔‘‘ ارم نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
’’چلو سائیں جی چلیں ۔‘‘ میں نے اسے باہر کی جانب لے جاتے ہوئے کہا ۔
میںجانتا تھا کہ وہ آسانی سے جانے والا بندہ نہیں بہت گہرا آ دمی ہے ۔ اس نے کوئی نہ کوئی بندو بست کیا ہوا ہوگا لیکن میں جانتا تھا کہ ارم اکیلی یہاں تک نہیں آ گئی تھی ۔اس کے پیچھے بھی پورا انتظام تھا ۔ وہ اب تک سامنے کیوں نہیں آئے تھے ،ارم اس بارے میں بہتر جانتی تھی ۔
ہم برآمدے سے باہر کھڑی فور وہیل کے پاس آ گئے تھے ۔میں نے کن اکھیوں سے دیکھا ، تنّی حیرت زدہ ہمیں دیکھ رہا تھا ۔میں نے اس کی طرف سے نگاہیںہٹائیں اور سائیں محبت خان سے کہا ۔
’’ سائیں جی ، ہم آپ کو بالکل نقصان نہیں پہنچائیں گے ، یہ میرا وعدہ ہے ۔لیکن اگر کوئی سامنے آیا تو معاف نہیںکریں گے ، یہ سمجھا دیں انہیں ۔‘‘
’’ تم مجھے یہیں چھوڑ دو ، اور جائو ۔‘‘ اس نے کہا تو ارم نے بھناتے ہوئے مجھے گالی دے دی ۔
’’اُوئے بہن …، اس کے ساتھ’ مذکرات‘ کر رہا ہے ، چل بٹھا اسے ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے گن مجھے دی اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھی ۔میں نے سائیں محبت خان کو پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور خود بیٹھنے لگا تھا کہ ایک فائر ہوا ، گولی سنساتی ہوئی میرے بائیں جانب سے نکل گئی ۔ میں انتہائی سرعت کے ساتھ فور وہیل میں بیٹھتے ہی سامنے دیکھا ، تنّی پسٹل تھامے کھڑا تھا ۔ اس نے تب تک دوسرا فائر کر دیا ۔
’’ یہ اعلان جنگ ہے سائیں ۔‘‘ میں نے سرد لہجے میںکہا تو وہ یوں سیٹ پر ڈھ گیا جیسے اس کی ساری مزاحمت ہی ختم ہو گئی ہو ۔اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
’’ مروا دیا اس بے غیرت نے …‘‘
لفظ اس کے منہ ہی میں تھے کہ ارم نے فور وہیل کو بیک گیئر لگایا اور پیچھے تک چلی گئی ۔ تب تک تنی فائر کرتا رہا ۔ارم نے جونہی فو ر وہیل گھمائی ۔ تبھی میں نے تاک کر فائر کیا ۔ اسے گولی نہیں لگی ۔ وہ سامنے سے ہٹ چکا تھا ۔فور وہیل پھاٹک کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ پیچھے سے زیادہ فائر ہو نے لگے ۔تقریباً ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہم پھاٹک سے باہر چلے گئے تھے ۔
تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تھا کہ ارم نے کہا ۔
’’علی ، یہاں سیٹ کے نیچے میرا سیل فون ہوگا ۔اسے نکال ۔‘‘
’’کب رکھاتھا ؟‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’ جب تیرے یار نتّی کے لوگوں نے ہمیں باندھ کر یہیں بٹھایا تھا ۔ جلدی نکال ، مجھے بات کرنی ہے ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو میںنے فون کو سیٹ کے نیچے تلاش کیا ۔ ایک جگہ وہ سیٹ میں دھنسا ہوا تھا ۔اسی وقت سائیں محبت خان کسمسانے لگا ۔اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔
’’مجھے یہیں اتار کر چلے جائو ، میں …‘‘
’’ابے چل ،احمق سمجھا ہے ہمیں ۔تجھ سے تو میں نے پورا نیٹ ورک نکالنا ہے ، فون ملا کہ نہیں۔‘‘ ارم نے انتہائی نفرت سے کہا ۔
’’ مل گیا ہے ۔‘‘ میںنے کہا۔
’’بند ہے یا …‘‘ اس نے پوچھا تو اسی لمحے بالکل سامنے سے دور ہیڈ لائیٹس دکھائی دینے لگیں ۔میں فون آن کیاتو وہ مجھے ایک نام بتا کر بولی ۔
’’اسے کال ملائو، اسپیکر آن کرو ۔‘‘
میں نے نام تلاش کر کے کال ملا دی ۔لمحوں میں یوں رابطہ ہوا جیسے دوسری طرف والا کال ہی کے انتظار میں ہو ۔
’’ ہیلو ، ارم بولو ۔‘‘
’’ کہاںہو تم لوگ ؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’ یہیں اسی صحرا میں ، ایک گاڑی سامنے دکھائی دے رہی ہے ۔‘‘
’’ میں وہاں ڈیرے سے آ زاد ہو گئی ہوں اور فور وہیل میں نکل پڑی ہوں۔ اپنی لوکیشن بھیجو ۔‘‘ ارم نے تیزی سے کہا تو دوسری طرف سے اسی تیزی سے کہا گیا ۔
’’میرے پاس جو لو کیشن ہے اس کے مطابق تم بالکل سامنے والی گاڑی میں ہو ۔‘‘
’’ ٹھیک ، ہیڈ لائیٹس دو بار بند کر کے آن کرو ۔میں کرتی ہوں ۔‘‘ یہ کہتے ہی دونوں طرف سے ہیڈ لائیٹس آن آف کر کے اشارہ دیا گیا ۔ پھردو منٹ سے بھی کم وقت میں وہ ہمارے پاس تھے ۔
سامنے بھی ایک فور وہیل ہی تھی ۔ اس میں سے ایک لمبا تڑنگا سا نوجوان باہر نکلا ۔ اس کے ساتھ فور وہیل میں کچھ اور لوگ بھی تھے ۔ ارم نے اترتے ہی پوچھا۔
’’ کیا صورت حال ہے ؟‘‘
’’ میں لوکیشن کے مطابق اس ڈیرے کے پاس پچھلے ایک گھنٹے سے پہنچ چکا تھا۔ اب حرکت ہوئی تو میں سامنے آ یا ہوں ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ، اسی ڈیرے پر موجود لوگوں کو پکڑنا ہے ۔ یہ بندہ سائیں محبت خان ہے ، سمجھے تم ؟‘‘ ارم نے کہا ۔
’’ سمجھ گیا ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا اور اپنا فون نکال کر نجانے کس سے رابطہ کر نے لگا ۔
’’ علی یار ، اس بار بچا لے ، جو تم کہوگے وہی کروں گا ۔‘‘ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے سائیں محبت خان نے بڑی لجالت سے کہا تو مجھے اس پر غصہ آ نے لگا ۔مگر اپنا غصہ ظاہر کئے بنا میںنے کہا ۔
’’ سائیں جیسے آ پ کہیں ، آپ تعاون کرو ، میں آ پ کو اس معاملے سے یوں نکال لوں گا جیسے مکھن سے بال نکالتے ہیں ۔‘‘
’’ یہ ہوگا کیسے وہ تو …‘‘
’’ او سائیں جی سار اکچھ تنّی اور چوہدری سردار پر ڈال دیں گے ، فکر کیوں کرتے ہو ۔‘‘ میںنے ہنستے ہوئے کہا
’’ چل جیسے بھی کر ، اس بار مجھے بچا دے ۔‘‘ اس نے منّت بھرے انداز میں کہا ۔
’’ نکل گئے بس ۔‘‘میں نے کہا اور فور وہیل سے نیچے اتر گیا ۔ ارم مجھے دیکھ کر چونکی۔
’’اوے وہ ادھر …‘‘
’’ کچھ نہیں ہوتا ۔ سائیں ہمارا دوست ہے ۔اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔‘‘میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
’’ یہ بھڑوا کب سے تیرا دوست بن گیا ؟‘‘ اس نے نفرت سے کہا ۔
’’نہیں دوستوں کو گالی نہیں نکالتے ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے میں بالکل اس کے قریب چلا گیا ۔ میرے چہرے پر سامنے والی گاڑی کی ہیڈلائیٹس کی روشنی پڑ رہی تھی ۔ میںنے اسے آ نکھ مارتے ہوئے کہا ۔
’’ سائیں سب کچھ بتا دے گا ، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کچھ تنّی اور چوہدری سردار پر ڈالنا ہے ۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’اور اگر اس نے سب کچھ نہ بتایا تو ؟‘‘ ارم نے کہا ۔
’’ تو پھر تمہارا جو دل چاہے کرنا ۔‘‘ یہ کہہ کر میں پلٹا ۔ ہماری بات سائیں محبت خان سن رہا تھا ۔ میںنے اس سے پوچھا ،’’ بولو کیا کہتے ہو ؟‘‘
’’تم جو کہو گے میں مانو ںگا ۔‘‘ اس نے یقین دہانی کروا دی تو میںنے ارم کی طرف دیکھ کر کہا ۔
’’میرا خیال ہے اب تمہیں یقین کر نا چاہئے ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اسی نوجوان کو اپنے پاس بلایا ۔ وہ تیزی سے آگیا تو ارم نے سائیں محبت خان کی جانب اشارہ کر کے کہا ۔
’’یہ ہمارے مہمان ہیں۔انہیںعزت واحترام کے ساتھ ہیڈ کوارٹر لے جائو اور میرے حکم کا انتظار کرو ۔ ‘‘
’’ جیسے آپ کا حکم ۔‘‘ اس نے کہا اور سائیں کو فور وہیل سے باہر آ نے کا اشارہ کیا ۔ اس نے سائیں کے بندھے ہاتھ کھول دئیے ،فورا تلاشی لی اور اپنے ساتھ سامنے والی فور وہیل میں لے گیا ۔
فور وہیل ہم سے دور ہو تی چلی گئی تھی۔ وہ جب نگاہوں سے اوجھل ہوئی تو ارم نے کہا ۔
’’کیسے رام کیا تم نے اسے ؟‘‘
’’ وہ خود ہی ہو گیا ، وہ سمجھدار بندہ ہے ، پرانا کھلاڑی ہے ۔اسے یقین ہوگیاتھا کہ اب وہ بچ نہیں پائے گا ۔‘‘ میں نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا۔
’’وہ اب بھی ڈنڈی مارے گا ۔‘‘ ارم نے تبصرہ کیا ۔
’’ بالکل ، وہ باز نہیں آ ئے گا ، خود بے گنا ہ بنے گا ۔‘‘ میںنے تلخی سے کہا ۔
’’کوئی نہیںمیں دیکھ لیتی ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور فون کال ملا دی ۔ چند لمحوں بعد بولی،’’ یہ جو تیرے ساتھ ہے ، اس پر بھروسہ نہیں کرنا ۔راستے میں بھی اٹیک ہو سکتا ہے ۔ بس میرے آ نے تک …‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
اسی دوران ہمارے سامنے کافی ساری گاڑیاں آ گئی تھیں ، اب پتہ نہیں وہ دوستوں کی تھیںیا دشمنوں کی۔
٭…٭…٭
ہم پھر سے اسی ڈیرے کے پاس تھے ۔ ہمیں کمک پہنچ گئی تھی ۔ ڈیرہ چاروں طرف سے گھیرا جا چکا تھا ۔وہاں پر پہلے سے موجود نگرانی کرنے والوں نے بتا دیا تھا کہ ابھی تک یہاں سے کوئی نہیں گیا ۔یہ بہرحال حیران کرنے والی بات تھی ۔ اگر وہاں پر موجود لوگ سمجھ دار ہوتے تو ہمارے ڈیرے سے بھاگ جانے کے بعد خود بھی بھاگ گئے ہوتے ۔انہیں یہ احساس ہونا چاہئے تھا کہ اس ڈیرے پر کریک ڈائون ہو سکتا تھا ۔میری چھٹی حس مجھے بتا رہی تھی کہ جو کچھ سامنے ہے ، ویسا نہیں ہے ۔ یہ احساس جب میں نے ارم سے کیا تو وہ بھی الجھتے ہوئے بولی ۔
’’ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ، یہ لوگ اتنے بے وقوف نہیں ہو سکتے ۔‘‘
’’ تو پھر کیا خیال ہے ؟‘‘میںنے پوچھا ۔
’’ جو تم کہو ۔‘‘ اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہاتو ایک دم سے میرے ذہن میں آ یا ۔میں نے ارم سے کہا ،’’ اس لڑکے سے بات کرائو، جو سائیں کو لے کر گیا ہے ۔مجھے سائیں سے بات کر نی ہے ۔‘‘
میرے یوں کہنے پر اس کی آ نکھیں پھیل گئیں ۔ اس نے جلدی سے فون نکلا اور کال ملا کر بولی ۔
’’ سائیں سے بات کرائو ۔‘‘
چند لمحوں بعد سائیں لائین پر تھا ۔
’’ سائیں ، ڈیرے پر کوئی نہیں ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی باہر نکلا ہے ، بتا کدھر گئے ؟‘‘
’’ مجھے پتہ تھا کہ ایسے ہی ہوگا ۔اس ڈیرے سے ایک سرنگ ہے ۔جو یہاں سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر جا کر ایک دوسرے ڈیرے پر جا نکلتی ہے ۔ وہ سب ادھر چلے گئے ہوں گے ۔‘‘ اس نے بتایا ۔
’’کس طرف ہے ؟‘‘ میںنے تیزی سے پوچھا ۔
’’جنوب مشرق کی طرف ۔‘‘ اس نے بتایا ۔
’’ چل ٹھیک ہے ، میں کرتا ہوں پھر بات۔‘‘میں نے کہا اور فون واپس کر دیا ۔ تبھی ارم نے کہا ۔
’’ تیرے پاس تنّی کا فون نمبر ہے ؟‘‘
’’ بالکل ہے ؟‘‘ میںنے کہا ۔
’’وہ مجھے دے اور اس سے خود بات کر۔‘‘ ارم نے کہا
ایک منٹ بعد میں نے ارم کو نمبر دیا اور پھر تنّی سے کال ملا لی ۔ کچھ دیر اس نے کال رسیو کر لی ۔
’’ بھاگ گئے ہو ؟‘‘
’’ ہمت ہے تو تلاش کر لو۔‘‘ اس نے حقارت سے کہا ۔
’’ کب تک بھاگو گے ۔ ایک دن تو میرے سامنے آ نا ہی پڑے گا ۔‘‘ میںنے سرد لہجے میں کہا ۔
’’ اوئے یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ تم میرے سامنے آ تے ہو یا میں ۔ میں اب تمہیں زندہ چھوڑنے کی دوبارہ غلطی نہیں کروں گا ۔‘‘
’’چلو دیکھتے ہیں ۔ کون کس کے ساتھ کیا کرتا ہے ۔‘‘ میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔
ارم فون سے الجھی ہوئی تھی ۔ ذرا سی دیر بعد بولی ۔
’’ سائیں ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ وہ اسی طرف ہی ہیں ۔لیکن ابھی وہ ایک کلو میٹر بھی نہیں گئے ۔‘‘
’’ مطلب ابھی دوسرے ڈیرے تک نہیں پہنچے ۔‘‘ میں نے پر جوش لہجے میں پوچھا ۔
’’ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے، یہ لوکیشن بتا رہی ہے ۔‘‘ اس نے کاندھے اچکا کر کہا ۔
’’ ہمیں ان سے پہلے پہنچنا ہوگا ۔‘‘ میںنے کہا ۔
’’ چل پھر ۔‘‘ یہ کہتے ہیں ہم تیزی سے گاڑیوں کی جانب بڑھ گئے ۔
وہ ڈیرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔اندر کہیں کسی مدقوق بلب کی اتنی سی روشنی تھی جیسے چند دیّے جل رہے ہوں ۔ وہ بھی ڈیرے کے صحن میں تھی۔ ممکن ہے صحن میں کوئی الائو جلایا ہوا ہو ۔ لیکن وہ روشنی الائو والی نہیں تھی ۔ باہر کسی طرح کی بھی روشنی نہیں تھی ۔ ہم نے ڈیرے کے قریب پہنچنے سے پہلے ہیڈ لائیٹس بند کر دیں تھیں ۔ ہمارے ساتھ تین فور وہیل مزید تھیں ، جن میں جوان تھے ۔ ہمارے اترتے ہی وہ بھی اتر کر پھیل گئے ۔ ان کی کمانڈ ایک نہایت پھرتیلا نوجوان کر رہاتھا ۔
ارم نے سیل فون پر دیکھا۔ تنّی تھوڑے سے فاصلے پر حرکت میں تھا ۔جوانوں نے ڈیرے کو گھیر لیا تھا ۔کمانڈر کا ارم سے مسلسل رابطہ تھا۔ کمانڈر کو معلوم تھا کہ اس نے کیا کر نا ہے ۔ کچھ دیر میں وہ ڈیرے کے اندر اتر گئے ۔ہم تب تک گیٹ تک جا پہنچے ۔ ہمارے پہنچتے ہی گیٹ کھل گیا ۔ صحن میں ایک مدقوق سا بلب جل رہا تھا ۔ ہمیں وہاں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیا تھا ۔ سامنے چند کمرے بنے ہوئے تھے ۔ ایسے عموماً روہی میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ہی قطار میںکچے کمروں کے آ گے برآمدہ اور پھر بڑا سارا صحن ۔ جوان پوری طرح حرکت میں تھے ۔ وہ ایک ایک کمرے کو ٹٹول رہے تھے ۔ سوائے ایک کے سبھی کمرے خالی تھے ۔ ایک میں ایک بوڑھا آ دمی سو رہا تھا ۔ جوان اُسے باہر لے آئے ۔میں نے آ گے بڑھ کر بڑے نرم لہجے میں پوچھا ۔
’’بابا، یہاں تم اکیلے ہوتے ہو ؟‘‘
’’ جی ، میں ہی رہتا ہوں ۔‘‘ اس نے مقامی زبان میں الجھتے ہوئے انداز میں بتایا ۔
’’ کوئی اور …‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ کوئی نہیں ، کبھی کبھی کچھ لوگ آ جاتے ہیں سائیں کے مہمان ، ان کی تابع داری کر چھوڑتا ہوں ۔‘‘ اس نے بتایا ۔
’’ سائیں ، مطلب ، سائیں محبت خان ؟‘‘ میں نے تصدیق کرتے ہوئے پوچھا ۔
’’ جی ہاں سائیں ، وہی ۔‘‘ اس نے تصدیق کر دی ۔
’’ یہاں نیچے سے ، سائیں کے دوسرے ڈیرے تک کس کمرے سے راستہ جاتاہے ؟‘‘ میںنے ایک خیال کے تحت پوچھا تو بابا نے حیرت سے میری طرف دیکھا، پھر اسی اُلجھے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’ نہ سائیں ، مجھے تو پتہ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا تو مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا ۔ میںنے اپنے لہجے کو نرم رکھتے ہوئے کہا
’’ بابا ، میںنہیں چاہتا کہ تم پر ہاتھ اٹھائوں ۔ مگر تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ ابھی پتہ چل جاتا ہے ۔‘‘ میںنے کہا اور کمانڈر کو اشارہ کیا ۔
ارم مسلسل فون پر نگاہ رکھے ہوئے تھی ۔فون کی مدہم روشنی میں اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بہت پر جوش ہے ۔ چند منٹ بعد کمانڈر نے ایک راستہ تلاش کر لیا ۔ اسی لمحے ارم نے بھی کہا ۔
’’ وہ بالکل قریب ہیں ۔‘‘
سب کی توجہ اس طرف ہو گئی ۔ میرے دماغ میں نجانے کیوں ایک احساس گھس گیا تھا جیسے کوئی چیز کھو گئی ہو ۔ میں ان سب کو دیکھ رہا تھا ۔ ہم سب ان کی گھات میں تھے ۔ کمروں کو گھیرا ہوا تھا ۔ بابا کو دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا تھا ۔ تبھی کمرے میں ہلکی سی روشنی ہو ئی ، ایک شخص نے اپنا سر نکالا، اور پھر وہ کمرے میں آ گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک کے بعد ایک تہہ خانے سے نکلنے لگے۔وہ لوگ کمرے ہی میں تھے ۔ شاید باہر نہیں آ نا چاہتے تھے ۔ ہر طرف خاموشی تھی ۔تاہم ان کی بھنبھناہٹ جاری تھی ۔ بالکل آخر میں تنّی باہر آ یا ۔ اس نے آ تے ہی کہا ۔
’’ چلو ، اب باہر چلیں ۔‘‘
’’ لیکن ہم جائیں گے کہاں ؟‘‘ کسی نے پوچھا ۔
’’یہاں سے تو نکلیں ، پھر دیکھتے ہیں ۔‘‘ تنّی نے جواب دیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک بندہ باہر نکلا، پھر اس کے ساتھ ہی وہ سب نکل کر باہر صحن میں آ گئے ۔ ان کی حالت بری ہو رہی تھی ۔ وہ مٹی میں اَٹے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی وہ سارے باہر صحن میں آ ئے ۔ اچانک فائر ہونے لگا ۔ وہ اس قدر بری طرح چونکے جیسے ابھی مر جائیں گے ۔انتہائی بد حواسی میں وہ اپنے حواس کھوبیٹھے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی کمانڈر کی آ واز گونجی ۔
’’ ہلنا نہیں ۔‘‘ یہ کہ کر لمحہ بھر توقف کے بعد بولا ،’’ اگر کسی نے حرکت کی ،وہ اپنی موت کا ذمے دار خود ہو گا ۔ ہتھیار پھینکو ، ہاتھ اوپر کرو ۔‘‘
انہیں اپنے ارد گرد کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ مدقوق بلب کی روشنی میں تھے ۔ انہوں نے روبوٹ کی طرح ہاتھ اوپر اُٹھادئیے ۔ تنّی کو ہاتھ اٹھاتے ایک دو لمحے لگے ۔ وہ صورت حال سمجھنے کی کوشش میں تھا ۔اس کا چہرہ فق ہو گیا تھا ۔
’’ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر لمبے لیٹ جائو ۔‘‘ کمانڈر نے حکم دیا تو چند لمحے وہ ایک دوسرے کی جانب دیکھتے رہے ، جیسے یہ یقین کر لینا چاہتے ہوں کہ ایسا کرنا بھی چاہئے یا نہیں ۔کمانڈر ان سے کچھ زیادہ ہی نرمی برت رہا تھا ۔میں نے لمحہ بھر انتظار کیا اور پھر ایک ایسے شخص کا نشانہ بنایا جو میرے لئے انتہائی آسان تھا ۔ میں نے اس کی ٹانگوں کا نشانہ لیا تھا ۔ فائر کے ساتھ ہی اس کی کراہ بلند ہوئی ۔ ایک بلند آ واز چیخ فضا میں پھیلی اور وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ سبھی حواس باختہ زمین پر گر گئے ،ان میں تنّی بھی شامل تھا۔
اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے جوان ان کے قریب آ گئے ۔ وہ انہیں باری باری باندھنے لگے تھے ۔ زخمی کو دو جوان ایک طرف لے گئے تھے ۔ اندر کمرے میں تہہ خانے کے راستے پر دو نوجوان چلے گئے ۔ ممکن ہے کوئی پیچھے رہ گیا ہو۔ جیسے ہی وہ تنّی کو باندھنے لگے میںنے آ گے بڑھ کر زور دار انداز میں کہا ۔
’’رُک جائو ، اسے مت باندھو۔‘‘
تنّی کی روح فنا ہو گئی ۔وہ میری طرف یوں دیکھنے لگا تھا جیسے موت اس کے سر پر آ گئی ہو ۔میں آ ہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب جا پہنچا ، پھر اس کے سینے پر اپنا پائوںرکھ کر بولا ۔
’’ بول ، اب کون سی ڈیل ہے تیری ؟‘‘
’’ کک … کوئی ڈیل نہیں۔‘‘ اس نے اٹکتے ہوئے کہا تو میںنے اس کی بات نظر انداز کر کے پوچھا ۔
’’ مجھے ایم این اے بنا رہے تھے نا، اب تم بتائو، تمہیں کیا بننا ہے ؟ میں وہی بنا دیتا ہوں ۔‘‘
میرے یوں کہنے پر وہ چند لمحے میری جانب دیکھتا رہا ، اس وقت تک وہ اپنے اعصاب پر قابو پا چکا تھا ۔ اس لئے کافی حد تک اعتماد سے بولا ۔
’’ دیکھ علی ،میری اب بھی وہی ڈیل ہے ۔‘‘ اس نے کہا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔وہ موت کو دیکھ کر پاگل ہو گیا تھا ، یا اس قدر مضبوط اعصاب تھے اس کے؟ وہ موت کے منہ میں بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا ؟ اس سے پہلے میں کچھ کہتا ، ارم نے بھنا کر ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا
’’ اس کے مغز میں مار ایک گولی ، بالکل اس طرح جیسے پاگل کتے کے مارتے ہیں ۔‘‘
’’ مجھے ماردینے سے کچھ نہیں ہوگا ، میری جگہ کوئی نیا بندہ آ جائے گا ۔سسٹم وہی رہے گا۔ اگر تم زندہ لوٹ بھی گئے تو کرنا وہی پڑے گا ، جو میںنے کہا ۔‘‘
’’ اس کی بکواس سنتے رہو گے یا گولی اس کے بھیجے میں مارو گے بھی ؟‘‘ ارم نے اکتاکر کہا تو میںنے سرد لہجے میں کہا ۔
’’ اس طرح نہیں، آرام سے نہیں مارنا اسے ۔‘‘
’’ کیا کرو گے اس کے ساتھ ؟‘‘ ارم نے پوچھا
’’ تم ان بندو ں کو لے کر نکلو ۔‘‘ میں نے کہا
میں ان بندھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا جنہیں وہ فور وہیل میں ٹھونس رہے تھے ۔
’’ مجھے بتا ئو۔‘‘ ارم نے سختی سے کہا تو میںنے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا ۔
’’ میں دشمن کو تو چھوڑ سکتا ہوں لیکن منافق کو نہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر میںنے تنّی کی طرف دیکھا اور اسے اٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اٹھا تو میں نے کہا ’’ چل بھاگ ، جتنا بھاگ سکتا ہے ۔‘‘
تنّی اٹھ کر بھاگنے لگا ، میں سامنے کھڑی فور وہیل کی جانب بڑھا اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ اتنی دیر میں کافی فاصلہ طے کر چکا تھا ۔میںنے فور وہیل اس کے پیچھے لگا دی ۔ وہ ان راستوں پر بھاگنے لگا ، جہاں فور وہیل نہ پہنچ سکے ۔
میرے سامنے صحرا تھا اور اس میں بھاگتا ہوا تنّی ۔ایک بار وہ گرا بھی لیکن وہ پھر بھاگنے لگا ۔ اسے سمجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کس جانب بھاگے ۔وہ بھاگتا رہا یہاں تک کہ وہ بے دم ہو کر گر گیا ۔میں فور وہیل اس کے بالکل پاس لے گیا ۔ اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا ، میں فور وہیل سے اتر اور اس کے سر پر جا پہنچا ۔وہ بے دم سا پڑا تھا ۔ اس کی سانسوں سے ناک کے قریب ریت اُڑ رہی تھی ۔ میں کچھ دیر اس کے اٹھنے کا انتظار کر تا رہا ۔وہ اٹھ نہ سکا۔ میں نے اسے اٹھایا ، فور وہیل کے آ گے سیف گارڈ کے اندر ڈال دیا ۔ پھر ایک رسی سے اسے باندھا اور واپس مڑ گیا ۔میںنجانے کہاںنکل آ یا تھا ۔میرے پاس فون بھی نہیںتھا میں نے اندازے سے فور وہیل کو بھگا دیا ۔ تقریبا ً بیس منٹ بعد میں ارم سے جا ملا ۔ وہ میرے لئے بہت پریشان ہو رہی تھی ۔
٭…٭…٭
صبح کی نیلگوں روشنی پھیل رہی تھی جب ہم دربار کے قریب جا پہنچے تھے ۔ہر طرف سناٹا طاری تھا۔وہ ڈرامہ بنانے والے رات ہی واپس جا چکے تھے ۔ انہیں واپس جانے کا کہہ دیا تھا ۔کیونکہ ان کا کام ختم ہو چکا تھا ۔تنّی فور وہیل کے آ گے بندھا ہوا تھا ۔ نجانے مر گیا تھا یا ابھی زندہ تھا ۔میں نے دربار کے پاس فور وہیل روکی اورنیچے اُتر کر دیکھا۔وہ زندہ تھا لیکن بے ہوش تھا ۔ میں ڈیش بورڈ پر پڑی پانی کی بوتل لی اور اس کے منہ پر پھینک دی ۔ وہ ہوش میں آ گیا ۔اس نے ادھ کھلی آ نکھوں سے میری جانب دیکھا ، چند لمحے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ، پھر بڑے دردناک انداز میں بولا ۔
’’ خدا…کے لئے …چھ… چھوڑدو۔‘‘
’’ابھی کہاں ، ذرا انتظار کرو۔‘‘ میں نے کہا اور گائوں کی جانب چل دیا ۔
ارم مجھے مسلسل کہہ رہی تھی کہ میں اسے گولی مار کر پھینک دوں لیکن میرے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔میرا فون مل گیا تھا ۔ وہ پکڑے جانے والے لوگوں میں سے ایک کے پاس تھا ۔میں نے فور وہیل اسے ڈرائیو کرنے کو کہا اور فون پر چوہدری سردار سے رابطہ کر لیا۔ پہلی بار بیل جاتی رہی لیکن فون نہ اٹھایا گیا ۔ دوسری جب کوشش کی تو فون رسیو کر لیا گیا ۔
’’ ہیلو ،‘‘نیند بھری آ واز میں چوہدری سردار بولا تو میں نے اپنے بارے میں بتا کر کہا۔
’’تنّی آپ کا آ دمی ہے ؟‘‘
’’ نہیں تو ؟ بات کیا ہے ؟‘‘اس نے تیزی سے پوچھا ۔
’’ تو پھر آپ اپنے ہاں کام کرنے والے غفورے اور چوہدری سلطان کو لے کر گائوں کے چوک میں آ جائیں ۔ ‘‘ میں نے سرد سے لہجے میں کہا۔
’’ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟‘‘ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا۔
’’میں اسے گائوں کے چوک میں گولی مارنے لگا ہوںلیکن اس سے پہلے ان لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ مجھے آپ کے نام کی دھمکی دے رہا ہے ۔‘‘ میں نے اس بار غصے میں کہا ۔
’’ دیکھو ، قانون اپنے ہاتھ میں نہ لو ۔بہت مشکل ہو جائے گی ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا ۔
’’اگر حقیقت پتہ چل گئی تو آپ خود اسے گولی مارو گے ؟‘‘ میںنے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
’’ خیر ہے ، اصل بات بتا ؟‘‘اس نے پوچھا ۔
’’ سائیں محبت خان پکڑا گیا ہے اور اس نے سب کچھ اُگل دیا ہے ۔بھاگ سکتے ہیں تو بھاگ جائیں ۔‘‘ میں نے ایک مختلف بات کہی ۔ جس کا فوری ردعمل مجھے مل گیا۔
’’ کیا کیا کہہ رہے ہو ؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا ۔
’’ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔‘‘ میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
’’ بہت برا ہوا یہ ، کس نے پکڑا؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’آپ کو بھی پتہ ہے کہ اسے کون پکڑ سکتا ہے ۔‘‘ میں نے بال اس کے کورٹ میں پھینک دی ۔
’’ دیکھو ، تم میرے بیٹے کی طرح ہو ، میں نے نہیں جانتا ، معاملہ کیا ہے اور کہاں تک ہے ۔ تم میری ایک بات مان لو ، اسے گائوں کے چوک میں مت لے جائو ۔‘‘اس نے منت بھرے انداز میں کہا ۔
میرا اندازہ درست ثابت ہوا تھا ۔میرے ذہن میں یہی خیال تھا کہ اگر وہ سائیں محبت خان کے ساتھ شامل ہے ، اس کا شریک کار ہے تو پھر وہ حتی امکان تنّی کو بچانے کی کوشش کرے گا ۔تبھی میںنے پوچھا ۔
’’ تو پھر میں کیا کروں ؟‘‘
’’ اسے لے کر میرے ڈیرے پر آ جا ، یہیں بات کرتے ہیں ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔
’’ میں ابھی تک آپ کو ’آپ ‘ اسی لئے کہہ رہا ہوں میں آپ کی عزت کرتا ہوں ۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا ، اب بھی اگر آپ مجھے بے وقوف سمجھیں تو یہ آپ کی مرضی ہے ۔‘‘
‘‘اُو نہیں، نہیں بیٹا، تم غلط سمجھے ہو ۔ میرا مطلب وہ ہر گز نہیں، جو تم سمجھ گئے ہو ۔ ‘‘ اس نے تیزی سے معذرت خو ا ہا نہ انداز میں کہا تو میںنے پوچھا ۔
’’ تو پھر میں اسے کیا سمجھوں ؟‘‘
’’ تم جہاں کہو ، میں وہیں آ جا تا ہوں ۔ لیکن یہ معاملہ عوام میں مت لائو … اور ایک بات ۔‘‘
’’ کیا بات ؟‘‘میںنے پوچھا۔
’’ چوہدری سلطان یہاں سے بھاگ گیا ہے ۔ وہ دوبئی میں ہے ۔میں اُسے فوراً نہیں لا سکتا ۔‘‘
’’ چلیں تو پھر تیار رہیں ، جہاں بلائوں ، غفورے کو ساتھ لے کر آ جائیں ۔ورنہ میں آپ سے تم پر اتر آ ئوں گا ۔‘‘ یہ کہتے ہی میں نے فون بند کر دیا ۔میں نے اس کا جواب سننے کی بھی زحمت نہیں کی ۔
ہمارا رخ ہیڈ کوارٹر کی طرف تھا۔ سائیں محبت خان وہیں تھا ۔ ارم کا جو معاملہ تھا وہ تو اس نے کرنا ہی تھا۔ وہ اس کا فرض تھا۔ لیکن میں اس معاملے سے اپنا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا ۔ارم کی ساری تو جہ ڈرائیونگ پر تھی ۔ اس نے مجھ سے پوچھنا تو کجا ، میری بات میں ہنکارا بھی نہ دیا ۔
ہم ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے جو شہر سے ملحقہ تھا ۔جیسے ہی فور وہیل پورچ میں رکی ، چند لوگ آ گے بڑھے ۔ ارم نے انہیں تنّی کو اتار کر لانے کو کہا ۔وہ اسے اتارنے لگے اور ہم اندر کی جانب بڑھ گئے ۔ جیسے ہی ہم نے راہداری پار کی ایک آفیسر اپنے کچھ ماتحت لوگوں کے ساتھ آ تا ہو ا دکھائی دیا ۔ اس نے انتہائی خوشی سے ارم کی طرف دیکھ کر کہا ۔
’’ ویلڈن ارم ، گڈ جاب ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے میری جانب دیکھا ، پھر مجھ سے ہاتھ ملاتا ہوا بولا ۔
’’ ویلڈن علی اینڈتھینک یو ۔‘‘
’’ ویلکم سر ۔‘‘ میں نے کہا تو ہم دونوں کی جانب دیکھ کر بولا ۔
’’ آپ پہلے فریش ہوں ، پھر ناشتہ کریں ، اس کے بعد ہم نے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ۔‘‘
’’ وہ تو ٹھیک ہے ۔ لیکن یہاں میں کچھ لوگوں کو بلانا چاہ رہا ہوں ۔مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ بھی اسی …‘‘ میں کہنا چاہ رہا تھا کہ وہ میری بات سمجھ کر فوراً بولا ۔
’’ گڈ ، بلائیں ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ایک ماتحت کی جانب اشارہ کر کے کہا ،’’ آپ خیال رکھیں ۔‘‘
’’ یس سر ۔‘‘ اس نے ایڑیاں جوڑتے ہوئے کہا ۔
آ فیسر آ گے نکل گیا اور ہم تینوں وہیں رک گئے ۔ وہ ہمیں اوپر منزل کے ایک کمرے میں لے گیا ۔ایک طرف لکڑی کی دیوار گیر الماری کھولتے ہوئے کہا ۔
’’ یہ مختلف سائز کے ڈریس ہیں ۔ آپ دیکھ لیں ۔ فریش ہو جائیں تو یہ گھنٹی بجا دیں ۔ میں تب تک ناشتہ لگواتا ہوں ۔‘‘ اس نے مودب لہجے میں ایک بار ہی ساری بات کر دی ۔ یہ کہہ کر وہ مڑا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔ تبھی ارم نے میری طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولی ۔
’’اب یقین آ یا ، موت کا ایک دن معین ہے ۔‘‘
’’مجھے بڑی نیند آ رہی ہے ۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں سو پائوں گا ۔‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ بولی ۔
’’ چل جا پہلے نہا لے ۔ میں تیرے لئے کوئی کپڑے دیکھتی ہوں ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے باتھ روم کی جانب اشارہ کیا ۔ میں فورا ہی اس جانب بڑھنے لگا پھر فون نکال کر چوہدری سردار کو کال کر دی ۔ اسے وہیں ہیڈ کوارٹر بلا لیا ۔ وہ اس جگہ آ نے سے کترا رہا تھا لیکن میںنے اس کی ایک بھی نہیں سنی اور فون بند کر دیا ۔
٭…٭…٭
سائیں محبت خان ایک بڑے سارے کمرے کی دیوار سے ٹیک لگائے پختہ فرش پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کی لمبی زلفیں پھیلی ہوئی تھیں ۔ سرخ چہرے پر زردی پھیل چکی تھی ۔اس کے مسلے ہوئے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ سکون سے نہیں رہا تھا ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی بولا ۔
’’ یہ اچھا نہیں کیا تم نے ؟‘‘
’’ کیا اچھا نہیں ہوا ؟‘‘ میں نے پوچھا تو وہ ایک دم سے ہذیانی لہجے میں بولا ۔
’’ میں یہاں قیدی ہو گیا ہوں سمجھتے ہو تم ؟‘‘
’’ سائیں کچھ نہیں ہوتا تمہیں ۔جو تمہیں کہا ہے وہی کر ، جو تیرے ساتھ ڈیل ہوئی ہے ، میں اس پر پورا اتروں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ارم اس کی طرف کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ انہی لمحات میں تنّی کو کمرے میں لایا گیا ۔ وہ سائیں محبت خان کو دیکھ کر چونکا نہیں ۔ وہ سمجھتا تھا کہ اب اس کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے ۔اس نے میری طرف دیکھا تو میںنے اسے سائیں محبت خان کے ساتھ بیٹھ جانے کا اشارہ کیا ۔ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ چوہدری سردار کے ساتھ چوہدری سلطان اور اس کے پیچھے غفورا اندر داخل ہوئے ۔ میں نے ان سے کوئی بات نہیںکی بلکہ انہیں بھی وہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا جہاں پہلے وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے ۔اس پر چوہدری سردار نے حیرت سے میری طرف دیکھالیکن پھر کوئی بات کئے بغیر وہ وہاں پر جا بیٹھا ۔وہ سب بیٹھ گئے اور میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ تب میں نے بڑے سرد سے لہجے میں پوچھا ۔
’’ تم میں سے کس کی دشمنی تھی میرے ساتھ ؟‘‘
میری بات کا کسی نے جواب نہیں دیا تو ارم نے حقارت سے کہا ۔
’’ اوئے علی، کہانیاں مت ڈال، سیدھی بات کر ۔‘‘
’’ تم خاموش رہو ۔‘‘ میںنے ارم کو ڈانٹ دیا ۔
’’بولو ، میں نے کس کا کیا بگاڑا تھا ۔جو مجھے پھنسانے کے لئے مجھ پر حملے کئے گئے ۔ مجھے کیوں مارنے کی کوشش کی گئی ؟‘‘ میں نے دہاڑتے ہوئے پوچھا توپھر وہی خاموشی تھی ۔ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا ۔میں ان کی طرف جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ وہی آ فیسر اندر داخل ہوا اور پورے ماحول کو دیکھا۔ میں نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا۔
’’ ان میں سے کوئی بھی جواب نہیں دے گا ۔‘‘
’’ وہ کیوں ؟‘‘ میںنے تیزی سے پوچھا ۔
’’ کیونکہ یہ سارے کسی اور کے مہرے ہیں ۔تمہارا جرم صرف یہی تھا کہ ارم تمہاری دوست بن گئی تھی ۔ یہ تمہیں تب سے نگاہوں میں رکھے ہوئے تھے ، جب تم لاہور میں پڑھ رہے تھے ۔یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ تم اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بنا سکو ۔‘‘
’’ میں تو کچھ بھی نہیں کر رہا تھا اور میرا ایسا کوئی ذہن بھی نہیں تھا ؟‘‘میں حیرت سے کہا ۔
’’ لیکن ان کے ذہن ڈال دیا گیا تھا نا ۔ انہیں باور کرایا گیا تھا کہ ایک بندہ آ رہا جو تم سب کو بے نقاب کر دے گا ۔ ہمارے لوگ ان کے اندر جا چکے تھے ۔‘‘آ فیسر نے کہا توسامنے فرش پر بیٹھے لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔ وہ عجیب سے انداز میں ہمیں دیکھنے لگے ۔
’’ تو پھر یہ …‘‘میں نے کہنا چاہا تو آفیسر نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور کہنے لگا۔
’’یہ لوگ بڑے معمولی سے ہیں ، لیکن بڑے اہم بھی ۔ یہ ایک طرح سے دربان یا گیٹ پر بیٹھنے والے ہیں ۔ ان کے دروازے پر دہشت گرد آ تے ہیں اور یہ انہیں ہمارے ملک میں داخل کر دیتے ہیں ۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کیا کر رہے ہیں ، یہ ملک کا کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں ۔ کتنی زندگیا ں ان کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہیں ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ جذباتی ہو گیا تھا ۔
’’ تو آ پ نے انہیں اسی وقت کیوںنہیں مار دیا ، جب ان کے بارے میں پتہ چلا تھا ؟‘‘ اس بار ارم نے پوچھا تھا
’’بات انہی تک ہوتی تو شاید ایسا ہی ہوتا ، لیکن انہی کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ ایک بڑے نیٹ ورک کے معمولی سے مہرے ہیں ۔‘‘
’’ بڑا نیٹ ورک ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ ہاں ، وہ دہشت گرد ہیں، اپنے مفادات کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔‘‘
’’ سر ، وہ کیسا نیٹ ورک ہو گا ، جس کے بارے میں یوں پتہ چل گیا ، وہ تو …‘‘ ارم نے طنزیہ انداز میں کہا تو آفیسر نے نرم انداز میں کہا ۔
’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن پتہ ہے تمہیں کیوں بتا رہا ہوں کیونکہ تم نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر انہیں پکڑا۔ نہ صرف پکڑا، بلکہ زندہ پکڑ کر لے آ ئی ۔ صاف لفظوں میں کہوں تو مجھے اس کی امید نہیں تھی ۔‘‘
’’ ایسا ہے سر ؟‘‘ ارم نے حیرت سے پوچھا ۔
’’ اگر تمہیں پہلے بتا دیا جاتا تو ممکن ہے تم کسی بھی طرح کے دبائو کا شکار ہو جاتیں۔ لیکن تم نے کر دکھایا۔‘‘آفیسر نے خوش ہو تے ہوئے کہا ، پھر لمحہ بھر بعد بولا ،’’ تین برس پہلے اس نیٹ ورک کے بارے میں پتہ چل گیا تھا ۔لیکن کوئی واضح شواہد نہیں مل رہے تھے ۔ہمیں تین برس کی مسلسل محنت کے بعد اتنا پتہ چلا کہ یہ صرف یہیں کام نہیں کر رہے ، دوسری بہت ساری جگہوں پر ان کی طرح مہرے پکڑے گئے ہیں اور دیکھنا اگلے گھنٹے کے دوران ا ن کی پشت پر کتنے لوگ آ جائیں گے ؟‘‘
’’ایسا ہے تو ابھی انہیں ٹھکانے لگا دیتے ہیں ؟‘‘ ارم نے کہا تو آفیسر نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا ۔
’’ تم نے انجانے میں ہی سہی ، بہت بڑا کام کیا ہے ۔تمہیں بتائے بغیر جس طرح ہم نے پلاننگ کی وہ کامیاب رہی ۔تم ان سے جو بھی پوچھوگے، یہ بتا نہیں پائیں گے ۔ لیکن میں تمہیں بتا دوں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک یہ ہے جو باقاعدہ تربیت لے کر آ یا ہے ۔‘‘
آ فیسر نے تنّی کی طرف اشارہ کر دیا ۔ تنّی کے چہرے پر شرمندگی کی بجائے ایک طرح کی حقارت پھیل گئی ۔اس سے پہلے آ فیسر کچھ کہتا وہ نفرت سے بولا ۔
’’ مجھے پتہ ہے کہ اب میں زندہ نہیں رہ سکتا ، لیکن اتنا بتا دوں ، میں جوکچھ کر چکا ہوں وہ تمہاری سوچ میں بھی نہیں آ سکتا ۔آئو مجھے چیرو ، پھاڑو اورہوا میں اُڑا د و۔میری جگہ کوئی نیا آ چکا ہوگا ۔وہ تم سب کو ملیا میٹ کر دے گا ۔‘‘
’’ہمیں اسی کاانتظار ہوگا ۔‘‘ آ فیسر نے بڑی نرمی سے کہاپھر میری جانب دیکھ کر بولا ،’’ اب تم جو چاہو ، وہ ان کے بارے میں فیصلہ کرو ، ہمارے لئے اب یہ ٹشو پیپر ہیں ، جنہیں ہم استعمال کر چکے ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے چند لمحے ان سب کو دیکھا اور پھر اپنے آ دمیوں کی جانب دیکھا۔ وہ تیزی سے آ گے بڑھے ۔ انہوں نے سائیں محبت خان اور چوہدری سردار کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے ۔ آفیسر بھی ان کے پیچھے چلا گیا۔
اس کمرے میں وہ دونوں تھے جو دیوار کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں اور ارم ان کے سامنے تھے ۔تنّی کھا جانے والی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ میں نے حقارت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر طنزیہ انداز میں کہا ۔
’’ تنّی صاحب ، کتنے ایم این اے بنانے ہیں اب ؟‘‘
میرے لفظوں کی گونج ابھی باقی تھی کہ اچانک وہ اٹھا اور اُڑتا ہوا مجھ پر آ رہا ۔ مجھے اس قدر پھرتی کی امید نہیں تھی ۔لہذا میرے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ مجھ پر وار کر گیا ۔ اس نے مجھے گردن سے پکڑ کر نیچے گرانا چاہا تھا ۔ وہ مجھے گرا تو نہ سکا لیکن میرے پائوں اکھڑ گئے تھے ۔ جب تک میں سنبھلا تب تک اس نے میرے سینے پر ٹکر مار دی تھی ۔ درد کی شدت کو سہتے ہوئے میںنے اسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تووہ مچھلی کی مانند تڑپا ، میںجانتا تھاکہ اب گر گیا تو میری موت لازمی ہے ۔ میںنے اسے وہیں گھمایا اور فرش پر پٹخ دیا ۔ وہ وہیں سکڑ گیا ۔ میںنے اسے اٹھایا ، ایک پائوں اس کے سینے پر رکھا دوسرے سے ہاتھ پکڑ کر اپنا پائوں اس کی چھاتی پر رکھ دیا ۔ میں نے ایک جھٹکا دیا اور اس کا بازو نکال دیا ۔ ایک چیخ بلند ہوئی ۔وہ بے بس سا فرش پر ڈھ گیا ۔میں نے اسے گردن سے پکڑ کر اٹھایا اور سیدھا کھڑا کر دیا ۔پھر اس کے کان کے پاس منہ لے جا کر بولا ۔
’’میں دشمن کو معاف کر تاہوں ، منافق کو نہیں ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے میں نے اسے اوپر اٹھایا اور گھما کر فرش پر دے مارا ۔ اس کا سر فرش پر لگتے ہی چٹخنے کی آ واز آ ئی ۔ اس کے منہ سے آ واز نہ نکلی ۔ خون فرش پر چھینٹوں کی مانند پھیل گیا ۔ مجھے پھر بھی قرار نہیں آ یا ۔ میں نے اسے پھر سے اٹھایا اور پوری قوت لگا کر دیوار پر دے مارا ۔دھپ کی آ واز آ ئی اور پھر وہ بے جان ہو کر فرش پر آ رہا ۔میں اسے پکڑنے کے لئے آ گے بڑھا تو ارم بولی ۔
’’ علی ، وہ مر چکا ہے ۔‘‘
مجھے یوں لگا جیسے یہ آ واز بہت دور سے آ رہی ہو ۔ میرے دماغ میں غصہ ہی اتنا بھر گیا تھا ۔میں نے ارم کے لفظوں پر غور کیا تو لاشعوری طور پر رُک گیا ۔ارم اسے دیکھ رہی تھی ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مر چکا ہے ۔ تبھی میری نگاہ دیوار کے ساتھ لگے غفورے پر پڑی ۔ میں اس کی جانب بڑھنے لگا ۔ بلاشبہ اسے اپنی موت دکھائی دے گئی تھی ۔اس نے مجھے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تو دونو ں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا تھا ۔دوسرے لفظوں میں وہ معافی کا طلب گار تھا ۔ سر جھکا کر اس نے مجھے باور کرادیا کہ میں جو چاہوں اس کے ساتھ سلوک کروں ۔ میں نے اس کے قریب جا کر اس کی گردن پکڑی تو وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولا ۔
’’ میں سب بتا دوں گا ۔ ایک بار معافی مل جائے ۔‘‘
میں نے اسی لمحے اسے چھوڑ دیا ۔چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
میں واپس اسی کمرے میں آ گیا جہاں سے مجھے کپڑے ملے تھے ۔ میں دوبارہ نہایا ۔ وہاں سے مزید کپڑے لے کر پہنے اور بیڈ پر لیٹ گیا ۔ میں خود پر قابو پانے میں بڑی مشکل محسوس کر رہا تھا ۔
مجھے وہاں بید پر پڑے نجانے کتنا وقت گزر گیا تھا ۔ شاید میری آ نکھ لگ گئی تھی ۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا ، میرے ساتھ ارم پڑی ہوئی تھی ۔ جیسے ہی میںنے اس کی جانب دیکھا ، وہ ہولے سے بولی۔
’’ یہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں ۔ ‘‘
’’ تو پھر میں کیا کروں ۔‘‘میںنے پرسکون انداز میں کہاتو وہ ہنستے ہوئے بولی ۔
’’ یہی کہ اب اٹھو ، یہاں سے نکلیں ۔ تم اپنے گھر جائو اور میں اپنے گھر ۔‘‘
’’ مطلب کھیل ختم پیسہ ہضم ۔‘‘ میںنے مسکراتے ہوئے کہا تو قہقہہ لگا کر ہنس دی پھر بولی ۔
’’ میں نے تیرا کون سا پیسہ ہضم کیا ہے ؟‘‘
’’ کر بھی لو گی تو کیا ہوگا ۔‘‘ میںنے کہا ۔
’’ اچھا ، میں تمہیں تمہارے علاقے کے بارے میں سب بتاتی ہوں ، اب تمہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔غفورے نے جو بندے بتائے ہیں ، وہ اب فوراً تو نہیں ملیں گے لیکن بہر حال علاقے میں جو چاہے کرنا ۔‘‘ اس نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ پھر مجھے بتاتی چلی گئی ۔ میں اس کی اطلاعات بڑے غور سے سنتا رہا ۔وہ سب کہہ چکی تو بڑے خمار بھرے لہجے میں بولی ،’’ اب لاہور جلدی آ نے کی کوشش کرنا ۔ کچھ وقت تمہارے ساتھ گزارناچاہتی ہوں ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘ میں نے کہا اور بیڈ سے اُٹھ گیا ۔
دو پہر ہو چکی تھی ، جب میں حویلی پہنچا ۔ بابا اور اماں میرے لئے بہت پریشان تھے ۔ اس وقت میں ان کے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ بابا کا فون بج اٹھا ۔وہ فون سنتے رہے پھر رنجیدہ سے لہجے میں بولے ۔
’’ اُو، یار بڑی بری خبر ہے ، وہ چوہدری سردار ایک حادثے میں چل بسا ہے ۔‘‘
’’ حادثہ ، وہ کیسے ہو گیا ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ وہ کہیں سے آ رہا تھا ، غالباً شہر سے آ رہا ہوگا ، اس کی گاڑی بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی ۔اس کا ڈرائیوربھی بے چارہ فوت ہو گیا ۔‘‘ بابا نے بتایا ۔
’’ اوہ ہو ، افسوس ہوا ۔‘‘ میںنے کہا ۔
’’ آج رات جنازہ ہوگا اس کا۔میں گیا تو ٹھیک ورنہ تم ضرور جانا ۔‘‘ بابا نے مجھے ہدایت کی تو میں خاموش رہا ۔ پھر کچھ دیر باتیں کرتے رہنے کے بعد میں اٹھ گیا ۔
میں اپنے کمرے میں جا لیٹا تھا ۔ میرے بڑے سارے دشمن صاف ہو گئے تھے ، جو باقی بچے تھے ان کے بارے میں پتہ چل گیا تھا ۔اگرچہ میرے لئے اس علاقے میں اب اتنا خطرہ نہیں تھا لیکن ایک تلوار مزید لٹک گئی تھی ۔ وہ جو کوئی بھی دہشت گرد نیٹ ورک تھا ، وہ بہر حال مجھے چھوڑنے والا نہیں تھا ۔ اس علاقے میں اب ان کو نکال باہر کیا تھا ۔ اگرآ فیسر کی بات کو بھی اہمیت دی جاتی تو وہ کئی جگہوں سے نکل گئے تھے ۔تنّی کی ایک بات میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی تھی ۔ یہ بات اس نے دو تین مرتبہ کہی تھی کہ میں مر گیا تو کوئی بات نہیں میری جگہ کوئی دوسرا آ جائے گا وہ تجھے چھوڑے گا نہیں ۔ اگر یہ محض دھمکی تھی تو اس کا کوئی نتیجہ سامنے آ نے والا نہیں تھا لیکن اگر واقعی ہی ایسا ہوا تو ایک نادیدہ دشمن پیدا ہو گیا تھا ۔وہ کب میرے سامنے آ تا ہے ، مجھ پر وار کرتا ہے ، سامنے نہیں آتا ،کیا صورت ہو گی ، میں اس بارے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔یہی سوچتے ہوئے نجانے کب میری آ نکھ لگ گئی ۔
میری آ نکھ کھلی تو شام کے سائے پھیل چکے تھے ۔میں فریش ہو کر لائونج میں آیا تو بابا تیار بیٹھے تھے ۔ ان کے پاس میرا کزن اکبر بھی بیٹھا ہوا تھا ۔اس نے میری طرف دیکھ کر عام سے لہجے میں پوچھا ۔
’’ تم نہیں جائو گے ؟‘‘
’’ یار ، جب آپ دونوں جا رہے ہو تو میرا جانا کیا ضروری ہے ؟‘‘میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’ چل یار چلتے ہیں ، جنازہ پڑھ کر آ جائیں گے ۔آخر علاقے کا ایم این اے رہا ہے ۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’آپ اور بابا ہو آئیں ، میں پھر بعد میں چلا جائوں گا ۔‘‘ میں نے کہا ہی تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔ وہ انجانا نمبر تھا۔میں نے کال رسیو کی تو دوسری طرف سے انتہائی نرم انداز میں آ واز آ ئی ۔
’’ سائیں محبت خان بات کر رہا ہوں ۔‘‘
’’ ہاں جی سائیں جی ، کیسے ہیں آپ ؟‘‘میں نے خوشدلی سے پوچھا ۔
’’میں چوہدری صاحب کے جنازے پر جا رہا ہوں ، کیا ادھر ملاقات ہو گی ؟‘‘اس نے پوچھا ۔
’’کیا وہاں پر ملاقات ضروری ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’ نہیں ضروری تو نہیں … لیکن میں آپ سے ملنا چاہ رہا تھا ۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے کہا ۔
’’ اچھا مل لیں گے ۔‘‘ میں نے بے اعتنائی سے کہا ۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے سعادت مندی سے کہا تو میںنے فون بند کر دیا ۔
میرے فو ن کرنے کے دوران ہی بابا اور اکبر اٹھ کر چلے گئے تھے ۔ میں کچھ دیر یوں خالی الذہن بیٹھا رہا ۔تبھی اچانک مجھے خیال آ یا کہ چاچا فیضو کو ممکن حد تک ان حالات کے بارے میں بتا دینا چاہئے ۔وہ باخبر آ دمی تھا ۔ اس نے تنّی کو دیکھ کر مجھے تنبہہ کی تھی ۔اس کا شک بالکل درست نکلا تھا ۔ میں اٹھا ، میںنے ایک بڑی ساری چادر لی اور موٹر سائیکل نکال کر ڈیرے کی طرف چل دیا ۔
چاچا فیضو ڈیرے کے صحن ہی میں چارپائی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا ۔ اس کے پاس تھرماس بھرا پڑا تھا ۔ میں اس کے پاس ہی دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ اس نے علیک سلیک کے دوران پیالی میں ڈال کر چائے دی تو میں نے گرما گرم چائے کا سپ لے کر کہا ۔
’’ چاچا، تمہارے خیال میں کیا آج سے علاقے کی صورت حال بدل جائے گی ؟‘‘
’’ کچھ دیر کے لئے ؟‘‘ اس نے گہرے انداز میں کہا ۔
’’ کیوں ، کچھ دیر کے لئے کیوں ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ کل کوئی دوسرا چوہدری سردار پیدا ہو جائے گا ۔‘‘ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔کوئی نیا چوہدری سردار پیدا نہ ہو ، اس کے لئے کیا ہونا چاہئے ؟‘‘ میںنے ایسے ہی پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
’’ کہیں تم تو ایم این اے بننے کے خواب تو نہیں دیکھ رہے ہو ؟‘‘
’’ نہیں ، میں نہیں ، ‘‘ میں نے واضح انداز میں انکار کر دیا تو وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولا ۔
’’جب تک سیاست سے یہ جرائم پیشہ لوگ نہیں نکلتے نا ، اس وقت تک یہ ماحول ایسا ہی رہے گا ۔اسی طرح ظلم ہوتا رہے گا ، جرم بڑھتا رہے گا ۔ کیونکہ یہ عہدہ ان لوگوں نے اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ پر کس طرح ماحول بدلے ۔تیرے جیسے پڑھے لکھے لوگ جو جرم سے نفرت کرتے ہیں آ گے نہیں آئیں گے تو ماحول کیسے بدلے گا ۔‘‘اس نے دکھے ہوئے دل سے کہا ۔
’’ چاچا فیضو ، ہم اگر ایم این اے نہیں ہیں تو کیا ہوا ، اب اس علاقے میں ہماری ہی چلے گی ،بتا کرنا کیا ہوگا ؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
’’ بس پھر پتر غریبوں کے دل جیت لے ۔ ان سے ہمدردی کر ۔انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہو نے میں مدد دے ۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔بندہ ، بندے کا دارو ہوتا ہے ، اگر سمجھا جائے تو ۔‘‘ اس نے بڑی گہری بات کر دی تھی ۔میں اس کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا ۔ ساری بات بتانے کی بجائے یہ باور کرا دیا کہ اب اس علاقے کو ہم نے بدلنا ہے ۔ وہ بہت ساری باتیں کرتا رہا ۔ یہاں تک کہ اس نے کہا ۔
’’ باقی رہے بندے ، وہ دو بندے میںنے چن لئے ہیں ، بڑے کام کے ہیں ، چالاک ، ہو شیار اور سمجھ دار ، مگر لالچی نہیںہیں ۔ اگر انہیں عزت دو گے نا تو وہ تمہارے لئے جان تک دینے کو تیار ہو جائیں گے ۔‘‘
’’ کون ہیں وہ ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ میں ایک دو دن میں ملوا دیتا ہوں ۔یہیں ڈیرے پر ان سے بات ہو جائے گی ۔‘‘ اس نے کہا تو مجھے لگا وہ غافل نہیں ہے اپنے طور پرپورا کام کر رہا ہے ۔میں کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ کر حویلی واپس چلا گیا ۔ میں بڑی حد تک مطمئن ہو گیا تھا ۔
رات کافی گہری ہو گئی تھی ۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔ میں بیڈ روم میں پڑا ایک کتاب پڑھ رہا تھا ۔میں کتاب میں کھویا ہوا تھا کہ میرا فون بج اٹھا ۔اسکرین پر ارم کے نمبر جگمگا رہے تھے ۔ میںنے کال رسیو کرتے ہوئے کہا۔
’’ ہاں بولو۔‘‘
’’آ جائو کچھ دن کے لئے ۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’ مجھے یہاں کوئی کام نہیں جو تیرے پاس آ جائو ں ۔‘‘ میں نے اسے چھیڑنے کے لئے کہا ۔
’’میں دو دن بعد دوبئی جا رہی ہوں ۔ اگر آنا چاہو تو آ جائو ۔‘‘اس نے اداس لہجے میں کہا ۔
’’ واپس آ ئو گی تو آ جائوں گا ۔‘‘ میںنے کہا۔
’’ اچھا ، خیر جب مرضی آ نا ، میں تمہیں یہ بتانے لگی تھی کہ اب تمہیں سیاست میں …‘‘
وہ جو کہنا چاہ رہی تھی ، میں سمجھ گیا تھا اس لئے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا ۔
’’ ارم ، مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اور دوسرا اب مجھے اپنے معاملات میں مت گھسیٹو۔ تیرے ڈیپا ر ٹمنٹ کے معاملات تم خود جانو ۔‘‘
میرے لہجے میں شاید کچھ زیادہ ہی سختی آ گئی تھی ، جس کی وجہ سے وہ چند لمحے خاموش رہی پھر حتمی لہجے میں بولی۔
’’ اوکے ، آ ئندہ میں اس معاملے میں بات نہیں کروں گی ۔ لیکن ہماری دوستی تو رہے گی نا ۔‘‘
’’ بالکل ، رہے گی ۔‘‘ میں نے کہا تو اس نے کال ختم کر دی ۔ میںنے سکون کا سانس لیا ۔ جو بات میں اسے بڑا سوچ سمجھ کر طریقے سے کہنے والا تھا ، وہ اس جذباتی لمحے میں کہہ دی تھی ۔ ایک بوجھ میرے دماغ سے اُتر گیا تھا ۔میں نے کتاب ایک طرف رکھ کر اپنے اور اپنے علاقے کے بارے میں سوچنے لگا ۔
٭…٭…٭
علاقے میں سکون چھا گیا تھا یا میں پر سکون ہو گیا تھا ۔کئی دن تک کوئی ایسا ہنگامہ سامنے نہیں آ یا تھاجس میں میں خود کوڈ سٹرب سمجھتا ۔ان دنوں میں اپنی زمینوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ میں کاشتکاری کے نئے طریقوں کے مطابق کاشت کاری کروں ۔میں لوگوں میں رہنا چاہتا تھا ۔گائوں کے یا علاقے میں جو چھوٹے چھوٹے مسائل تھے انہیں حل کرنے کا جذبہ رکھتا تھا ۔ لوگوں کے وہ چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی کوشش کرتا، جو مختلف دفتروں میں اَڑے رہتے تھے ۔ اس کے لئے میں نے شہر والا بنگلہ بھی آ باد کر لیا تھا ۔ ہر دوسرے تیسرے دن وہاں کچھ وقت ضرور گزارتا تھا ۔
اس دن میںنے علاقے کے زراعت آ فیسر سے ملنا تھا ۔میں حویلی کے لائونج میں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایسے میں باہر سے بابا نے مجھے بلوایا ۔ میں کچھ ہی دیر میں ان کے پاس گیا تو وہاں بابا کے دوستوں کے علاوہ گائوں کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔میں جب وہاں بیٹھ گیا تو بابا نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
’’ یار علی ، ان کے درمیان وراثت کی زمین کا تنازعہ ہے ۔ یہ کئی برسوں سے چل رہا ہے ۔اب ان کے درمیان معاملات طے ہو گئے ہیں ۔ ان کی صلح بھی ہو گئی ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جو آ پس میں درخواست بازی کی تھی ، وہ تو چل رہی ہے ۔وہ سب لاہور سیکرٹریٹ میں جا کر ختم ہو گی ۔ تم ان کی مدد کرو وہ سب ختم کروا دو ۔‘‘
بابا کا مجھے یہ حکم دینا کئی باتوں کی جانب اشارہ کر رہا تھا ۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن گائوں کے لوگوں کے لئے بہر حال یہ مسئلہ تھا ۔جس چیز کے بارے میں ہم نہیں جانتے وہ ہمارے لئے مشکل ہی ہو تی ہے اور جس کے بارے میں جانتے ہیں وہ آ سان لگتی ہے ۔بابا کے اس حکم میں واضح طور پر یہ اشارہ تھا کہ وہ لوگوں کو میری طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔تاکہ میں الیکشن میں سامنے آ جائوں ۔ حالانکہ پہلے وہی یہ سب کرتے تھے ۔
’’ جیسے حکم بابا ۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’ ٹھیک ہے ، انہیں بتا دو کیا کرنا ہے ۔‘‘ انہوںنے کہا اور اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے ۔ ان آ ئے ہوئے لوگوں کو میںنے یہ کہا کہ میں ایک دو دن میں لاہور جا رہا ہوں ۔ وہاں جا کر میں انہیں فون کروں گا وہ آ جائیں اگر ان کی ضرورت پڑی تو ، ورنہ وہ مجھے اپنے سارے کاغذات دے جائیں ، میں حل کروادوں گا ۔وہ تو چلے گئے لیکن میں سوچنے لگا کہ اس الیکشن اور سیاست سے کیسے بچوں ؟
دوپہر کے کھانے کے بعد میں خود بابا کے کمرے میں چلا گیا ۔ کچھ دیر باتوں کے بعد میںنے پوچھا ۔
’’ بابا آپ کہیں مجھے الیکشن تو نہیں لڑوانا چاہ رہے ؟‘‘
’’ بالکل ، اس میں کوئی شک نہیں ؟‘‘انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تومیں نے دھیرے سے بولا۔
’’ لیکن میں سیاست میں نہیںآنا چاہتا ۔‘‘
’’ کیوں بیٹا؟‘‘ انہوںنے حیرت سے پوچھا۔
’’پتہ نہیں کیوں ، میں خود کو مطمئن نہیں کرپارہا ہوں ۔‘‘
’’ بیٹا، بہت عرصے بعد ،میری اتنی محنت کرنے کا صلہ اب جا کر کہیں ملا ہے ۔ مجھے ہر طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ میں جس پر ہاتھ رکھوں ، وہ رکن منتخب ہو جائے گا ۔سب کی نگاہیں تم پر لگی ہوئی ہیں ۔‘‘انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو میں نے کہا ۔
’’ میں نہ آپ کو مایوس کروں گا اور نہ ہی میں آپ کی محنت ضائع ہونے دوں گا ۔ اپنے ہی گھر میں یہ رکنیت رہے گی ، اگر آپ میری بات مانیں ۔‘‘
’’ بولو ،۔‘‘ انہوںنے پرسکون لہجے میں کہا۔
’’اکبر بھائی کو الیکشن لڑوائیں ۔‘‘میںنے کہا تو وہ چند لمحے سوچتے رہے ، پھر بولے ۔
’’ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔اس طرح اس کے گلے شکوے بھی ختم ہو جائیں گے لیکن …‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گئے تو میںنے تیزی سے پوچھا ۔
’’ بابا، لیکن کیا ؟‘‘
’’ لیکن اگر وہی ہم سے بدلے لینے پر اتر آیا جو، اب تک اس نے خواہ مخواہ ہم سے بد گمانی میں رکھی تو پھر کیا ہوگا میرے بیٹے ؟‘‘وہ سنجیدگی سے بولے ۔
’’بابا مولا علی ؓ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو عزت دو ، اگر ظرف والا ہواتو زیادہ عزت کرے گا اور اگر کمینہ ہوا تو اس کی اصلیت کھل جائے گی ۔ میں سنبھال لوں گا اسے ۔‘‘میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو بابا نے حتمی لہجے میں بڑے سکون سے کہا ۔
’’ ٹھیک ہو گیا ۔اب اس کے الیکشن کی تیاری کرو ۔‘‘
’’سمجھیں ابھی سے شروع ہو گئی ۔‘‘ میں نے کہا تو وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے بولے ،’’ ان کا کام کروا دو ۔‘‘
’’ جی میں ابھی نکل جاتا ہوں ۔‘‘ میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا تو وہ خوش ہو گئے ۔ میں کچھ دیر مزید ان کے پاس بیٹھ کر اپنے کمرے میں چل دیا ۔
رات نے اپنے پَر پھیلا دئیے تھے جب میں لاہور پہنچا ۔یونیورسٹی نہر پر پہنچ کر میںنے ٹرن لیا اور سیدھا ہو سٹل کی جانب مڑ گیا ۔تبھی میں نے انور کو فون کیا۔ کچھ دیر میں رابطہ ہو گیا۔
’’ اوئے کدھر ہو تم۔‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ کمرے میں ہوں ۔‘‘ اس نے بتایا ۔
’’ اچھا، اُدھر ہی رہ ،میں دس منٹ میں تیرے پاس آ یا ۔‘‘ میںنے کہا تو وہ تیزی سے بولا۔
’’ دیکھ ، دس منٹ کا مطلب دس منٹ ، میں اس کے بعد نکل جائوں گا ، مجھے کہیں جانا ہے ۔‘‘ اس نے بے رُخی سے کہا تو میں نے تیزی سے کہا۔
’’ ابے چل نومنٹ میں ۔‘‘
میں گاڑی کھڑی کر کے کمرے میں پہنچا تو وہ تیار کھڑا تھا ۔ پورا کمرہ مہنگی خوشبو سے بھرا ہوا تھا ۔ انور جدید تراش کا سیاہ سوٹ پہنے کھڑا تھا ۔اس نے بُو لگائی ہوئی تھی ۔ تازہ شیو ، سنورے بال ، ایک دم تیار ۔
’’ اوئے کدھر ؟‘‘
’’ میں جدھر بھی جا رہا ہوں ، تم اس وقت کسی کالی بلی کی مانند میرا راستہ مت کاٹواور نہ ہی میرے پروگرام کے کباب میں ہڈی بننا ۔ میں دو منٹ بعد نکلنے والاہوں تم یہاں آ رام کر و میں …‘‘
’’ بکواس ہی کرتا چلا جائے گا یا مجھے بتائے گا بھی ، کہاں جا رہا ہے ۔‘‘میںنے کہا ۔
’’اگر میںنے بتایا نا تم بھی جانے کو تیار ہو جائو گے ۔تمہاری تیاری میں کوئی ایک گھنٹہ لگ جانا ہے ۔ میں اتنی دیر افورڈ نہیں کر سکتا ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا اور باہر نکلنے لگا
’’ چل بتا، ورنہ تم ایک قدم آ گے بڑھا کر دکھائو ۔‘‘ میں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو وہ ایک دم سے رُک گیا ۔
’’ یار ایک پارٹی ہے ۔ بڑے خاص قسم کے لوگوں کی ، میں اس میں جا رہا ہوں ۔پہلے ہی دیر ہو گئی ہے ۔‘‘
’’ اوکے جائو ۔‘‘ میں ایک دم سے اُکتاتے ہوئے کہااور بیڈ پر جا بیٹھا۔میں اس کے پرگروام میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔میں سکون سے لیٹ گیا ۔میں کافی تھک گیا تھا ۔ مجھے معلوم ہوتا کہ انور نے غائب ہونا تھا تو میں ادھر آتا ہی نہ بلکہ کسی ہوٹل کا رُخ کرتا۔
’’ٹھیک ہے ، میں چلتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور پھر سے آ ئینے میں ایک نگاہ خود کو دیکھ کر باہر نکل گیا ۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ پھر سے پلٹ کر آ گیا ۔
’’وہ یار تم یہاں اکیلے رہو گے ؟‘‘اس نے دھیمے سے پوچھا تو مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا ، تبھی میںنے دھاڑتے ہوئے کہا ۔
’’ اور تیری روح میرے ساتھ رہے گی ؟‘‘
’’ نہیں، یار تم بور ہو گے ۔ میں نا اپنے میزبان سے پوچھتا ہوں ، اگر دوست کو ساتھ لانے کی …‘‘
’’ یار مجھے نہیںجانا،جائو تم ۔‘‘ میںنے اکتاہٹ میں کہا اور پر سکون ہو گیا ۔ وہ میرے باوجود جواب دینے کے فون پر بات کرنے لگا ۔مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا ۔ دو منٹ بعد اس نے کہا ۔
’’ چل آ ، میرے ساتھ چل ۔دیکھ اب منانے میں وقت نہ لگانا ۔‘‘
میں چند لمحے سوچتا رہا پھر اس کا اترا ہو ا چہرہ دیکھ کر چپ چاپ اٹھ گیا ۔
وہ لاہور کے جنوب مشرق میں ایک نیا آباد پوش علاقہ تھا ۔درمیان میں کچی بستیاں بھی آ ئیں ۔ پرانا علاقہ بھی آ یا لیکن جیسے ہی اس علاقے میں پہنچے تو لگا جیسے کسی سنسان علاقے میں آ گئے ہوں ۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ لاہور کا کوئی حصہ ہے ۔ بڑی ساری سڑک کے اطراف میں کھلی جگہیں اور پھر بڑے بڑے گھر ، جیسے کسی گائوں میںآ گئے ہوں ۔ مگر بنگلے نما گھر دیکھ کر وہاں کے مکینوں کی امارت کا احساس ہو تا تھا ۔ایک بنگلے کے سامنے انور نے کار رو ک دی ۔ پھر فون پر اپنے آنے کی اطلاع دی ۔ چند لمحے بعد گیٹ کھل گیا ۔ وہ کار پورچ میں لے گیا ۔
لائونج میں چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ان میں ادھیڑ عمر مرد ، نوجوان لڑکیاں لڑکے اور آنٹیاں بھی تھیں۔ انور کے جاتے ہی ایک آ نٹی اس کی جانب بڑھی تو مجھے انور پر بے تحاشا غصہ آ یا ۔اب اس کا معیار یہ رہ گیا تھا کہ اسے آنٹی جیسی عورتوں سے تعلق رکھنا پڑ گیا تھا ۔ آ نٹی کچھ زیادہ ہی جدید تھی ۔ انور سے گلے ملنے کے بعد اس نے خوشگوار حیرت سے میری طرف دیکھا اور مجھ سے بھی ویسے ہی گلے لگ کر ملی ۔ میری آ مد پر کافی خوشی کا اظہار کیا ۔میں ایک جانب صوفے پر بیٹھنے لگا تو اس نے سب کو متوجہ کر کے ہم دونوں کا تعارف کرایا۔ ہم وہاں بیٹھ گئے ۔
زیادہ وقت نہیں گزرا تھا ۔ ایک کے بعد ایک مہمان آ تا چلا گیا ، وہاں تقریباً بیس کے لگ بھگ لوگ ہو گئے تھے ۔ میں سب کو پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔ کسی کا تعارف ہوا اور کسی کا نہیں ۔انہی مہمانوں میں ایک لڑکی لائونج میں داخل ہوئی ۔ میں نے بہت کم ایسا حسن دیکھا تھا ۔وہ دراز قد تھی۔پتلی سی کمر کے ساتھ بھاری سینہ ،پہلی نگاہ میں اس کی اسمارٹس کو ظاہر کر رہا تھا ۔ اس نے سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی ۔ اس کے اوپر کھلے گریبان والی سلیو لیس ہلکے سبز رنگ کی شرٹ تھی ۔اس کی گردن سے ذرا سا نیچے بالکل درمیان میں ایک ہیرا جڑا نازک سا نکلس دمک رہا تھا ۔ اس نے ہلکا ہلکا میک اپ کیا ہوا تھا ۔ تیکھے نین نقش ، بڑی بڑی بھنوراآ نکھیں، جنہیں کاجل سے مزید ’قاتل‘ بنایا ہو اتھا ۔ اس کے چہرے پر اس کی آ نکھیں سب سے زیادہ دل فریب تھیں ۔ پہلی نگاہ میں اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کی گہری سیاہ آ نکھیں پر سوز ہیں یا نشیلی ۔ پہلے مجھے خیال آیا کہ اس نے لینز لگائے ہیں ، لیکن بعد میں کنفرم ہو گیا کہ یہ اس کی قدرتی آ نکھیں ہیں ۔نازک سی ناک کے نیچے پتلے پتلے ہونٹوں پر گہرے رنگ کی لپ اسٹک تھی ۔ اس کا رنگ اتنا گورا تھا ، گمان یہ ہو رہا تھا کہ کسی یورپی ملک سے آ ئی ہے ۔ ا س کے گیسو گھنے لیکن بوائے کٹ تھے ۔ اس کی ایک کلائی میں سرخ دھاگہ بندھا ہوا تھا ۔جو اس کی گلابی رنگت پر بہت جچ رہا تھا ۔ پتلی پتلی لانبی انگلیاں ، دائیں ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی میں سیاہ بڑا سا پتھر جڑا ہو اہوا تھا ۔اس کے پائوں میں ہلکے سے سلیپر تھے ۔ میںنے اسے سر سے پائوں تک بڑے غور سے دیکھا تھا ، وہ واقعی ہی غور سے دیکھنے والی شے تھی ۔اس کے آ تے ہی بقول شاعر چرا غوں میں روشنی ہی نہ رہی ۔وہ ان سب میں منفر د لگ رہی تھی ۔میں اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا کہ میرے کان کے قریب آ واز آئی ۔
’’ پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے ؟‘‘
میں نے مڑ کر دیکھا تو انور میرے پیچھے کھڑا تھا ۔
’’ یار کیا کمال کی شے ہے ؟‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلاتو وہ ہنس دیا ۔
’’ میرا خیال ہے آپ کی ساری بوریت ختم ہو گئی ہو گی۔‘‘ اس نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ۔
’’ بے شک ، بہت پیاری شے ہے ۔‘‘میں نے اس پر نگاہیں جمائے کہا۔
’’ چل آ بیٹھتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’ اور وہ تیری آ نٹی …؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’ اسے بڑا تجربہ ہے سنبھال لے گی ساری پارٹی ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑااور صوفو ں کی جانب بڑھا گیا ۔ ابھی ہم بیٹھے ہی تھے اور کوئی بات نہیں کی تھی کہ میزبان خاتون نے کہا ۔
’’ مہمان تقریباً آ چکے ہیں ۔ آ ئیں اب ہال میں چلتے ہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک دروازے کی جانب بڑھ گئی ۔ سبھی اس جانب چل دئیے ۔ ہم ہال میں آ گے پیچھے داخل ہوئے تو راستے میں آ نٹی نے اسے دھیرے سے کچھ کہا ۔ وہ وہیں رُک گیا ۔اس کے بعد وہ مجھ سے بے گانہ ہو کر آنٹی کے ساتھ ہی جڑ گیا ۔
ہال میں داخل ہوتے ہی وہ لڑکی مجھے پھر سے دکھائی دے گئی ۔بہت سارے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے ۔خاص طور پر وہ لڑکے جو ہر نئی لڑکی دیکھ کر اسے متوجہ کرنے کے خبط میں مبتلا ہو تے ہیں ۔ میں ایک صوفے پر بیٹھ کر ان کا تماشا دیکھنے لگا ۔ایسے میں آ نٹی کی آ واز گونجی ۔
’’ لیڈیز اینڈ جنٹلمین… خوش آ مدید ۔‘‘ سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے ۔’’ آج کی یہ گیٹ ٹو گیدر اس تنظیم کے بارے میں ہے جس کے متعلق ہمارے درمیان بات ہو چکی ہے ، آج ہم اسے حتمی صورت دے دیں ۔ہمارے یہاں کچھ نئے دوست بھی آ ئے ہیں ، انہیں صرف اتنا بتا دیں کہ ہماری یہ تنظیم غریبوں کے حقوق کے لئے بنائی جا رہی ہے ۔میں اس کے لئے دو نوجوان کوآرڈی نیٹر مقرر کر رہی ہوں ۔ وہی اس تنظیم کے سارے معاملات دیکھیں گے ۔ وہی آ پ کے ساتھ مشاورت کریں گے ۔ وہ ہیں ینگ مین انور جمیل اور ینگ گرل ماہ نور ۔‘‘
اس نے کہا تو انور جمیل اٹھ کر آ نٹی کے پاس چلا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی وہی لڑکی دھیمے قدموں کے ساتھ ادھر ہی بڑھ گئی ۔وہاں موجود سبھی لوگوں نے ان کے لیے تالیاں بجائیں۔اس کے ساتھ ہی محفل میں شراب سرو ہو نے لگی ۔ میں انکار کر کے ایک طرف پڑے صوفے پر جا بیٹھا ۔ میری طرح ایک لڑکی بھی وہیں میرے پاس آ بیٹھی ۔ وہ تھوڑی فربہ مائل تھی ۔ اس نے عینک لگائی ہوئی تھی ۔چہرے مہرے سے قبول صورت تھی ۔ باقی سب شراب پینے میں مست ہو گئے ۔ہلکا ہلکا میوزک شروع ہوگیا تھا۔اسی دوران ایک لڑکا اور لڑکی اس میوزک پر ہلکے ہلکے تھرکنے لگے ۔میرے دماغ میں غصہ بھرنے لگا تھا ۔ کہاں غریبوں کے حقوق کی تنظیم اور کہاں یہ محفل رقص و سرور ۔کیسی منافقت ہے یہ ؟
وہ لڑکی کچھ دیر تک میرے پاس بیٹھی خاموش رہی ، پھر ہولے ہولے باتیں کر نے لگی ۔ایسے ہی ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے ۔ تقریباً آ دھے گھنٹے بعد کئی جوڑے محو رقص تھے ۔ میں خاص طور پر ماہ نور کو دیکھ رہا تھا ۔ سبھی اس کے ساتھ رقص کرنے کی خواہش کر رہے تھے ۔اس دوران انور نے مجھے کئی بار دیکھا لیکن وہ مصروف تھا ۔ تھوڑا مزید وقت گزرا تو ماہ نور کو میںنے اپنی جانب آ تے ہوئے دیکھا ۔ وہ ہمارے قریب آ کر بڑے نرم سے معصومیت بھرے لہجے میں بولی ۔
’’سارا جہاں جھوم رہا ہے ، آپ بھی آ ئیں نا؟‘‘
’’ مجھے ناچنا نہیں آ تا اور یہ ناچ نہیں سکتیں ۔‘‘میںنے بھی نرم انداز میں کہا تو وہ ہنس دی ۔
’’ آپ آ ئیں ، ہمیں نچا دیں یا ہمارا ساتھ دے دیں ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا ۔میں اسے انکار نہیں کر سکا ۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ وہ مجھے لیتے ہوئے لوگوں کے درمیان میں آ گئی ۔ اس نے میرا ہاتھ اپنی کمر میں ڈالا دوسرا ہاتھ پکڑا اور میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہو لے ہو لے جھومنے لگی ۔
’’ میں ماہ نور ہوں اور آ پ ؟‘‘
’’ علی احسن ۔‘‘ میںنے کہا ۔
’’آپ کے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی شایدحسن پر ست نہیں ورنہ …‘‘
’’ ورنہ کیا ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ ورنہ اب تک وہ آپ کو لے کر ناچ رہی ہوتی ۔میری طرح ۔‘‘ اس نے بڑی خوبصورتی سے میری تعریف کر دی تھی ۔یہی وہ لمحہ تھا جب میں سمجھ گیا کہ اس نے اپنی تنظیم کی کوارڈی نیشن کا کام ابھی سے شروع کر دیا ہے ۔ ہم جھومتے رہے ۔ اس نے مزید بات نہیں کی لیکن اس کا انگ انگ بولنے لگا تھا ۔اس کا بدن باتیں کرنے لگا ۔جس کا اثر میرے بدن پر ہو نے لگا ۔وہ میرے ساتھ یوں جڑ گئی تھی کے اس کے بدن پر لگی مہک مجھے یوں لگنے لگی جیسے وہ میرے ہی جسم پر ہو ۔اس کے بدن کی ملائمت ، نرماہٹ ایسے نہیں تھی جیسی لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اس کا بدن یوں جیسے بہت زیادہ محنت سے نہ صرف تراشا ہوا ہو بلکہ بنایا بھی گیا ہو۔میری سانسیں تیز ہو نے لگی تھیں ۔اس وقت میری بس ہو نے لگی ، جب اس کی تیز تیز گرم سانسیں میری گردن کو مسلسل چھونے لگی تھیں ۔میںنے اسے ایک دم سے چھوڑ دیا ۔اس نے چونک کر میری جانب دیکھا ، پھر مسکرا کر مجھے جانے دیا ۔ میں واپس اسی صوفے پر آ بیٹھا ۔ مجھے اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے کچھ منٹ لگ گئے ۔میںنے دیکھا وہ لڑکی مجھے دیکھ رہی تھی ۔ میںنے کھسیانا سا ہو کر کہا ۔
’’ بہت مشکل ہے یہ ناچنا بھی ۔‘‘
’’نہیں میں دیکھ رہی تھی ، اس نے آ پ کا ناچنا بہت مشکل بنا دیا ہوا تھا ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ قہقہ لگا کر ہنس دی ۔ جس پر میں بھی ہنس دیا ۔
’’ آ ئیں باہر چلتے ہیں ۔‘‘ میںنے کہا۔
’’ ہاں ، اب جانا ہی بنتا ہے ؟‘‘ وہ اٹھ گئی ۔
ہال سے باہر لان میں کھانا لگا ہوا تھا ۔ہم ایک میز پر آ منے سامنے بیٹھ گئے ۔تب میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایسی لڑکیوں میں سے تھی جو خود پر توجہ نہیں دیتی ۔وہ مست ملنگ سی تھی ۔ کھلے اور ڈھیلے لباس میں وہ فربہ مائل لگ رہی تھی ۔ اس کا چہرہ کافیملاحت بھرا تھا ۔ ہنستی تھی تو گالوں میں گڑھے پڑتے تھے۔ اس نے اپنے گیسو کس کر باندھے ہوئے تھے ۔اپنا تعارف کراتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ ایک امپورٹ ایکسپورٹ کمپنی میں آفیسر ٹائپ کا کوئی عہدہ رکھتی تھی ۔ وہ مرے سامنے بیٹھی کافی خوشگوار لگ رہی تھی ۔
’’ کیا خیال ہے آپ کا ، یہ غریبوں کے لئے کچھ کیا جا رہا ہے یا نرا ڈرامہ ہی ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’ میرے خیال میں اس کے پیچھے کچھ دوسرے مقاصد ہوں گے ۔جو مرضی کرتے پھریں ۔‘‘ میں نے لاپرواہی میں کہا ۔
’’ پھر بھی کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ؟‘‘ اس نے اصرار کیا تو میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’جہاں دوسرے بہت کچھ کرتے پھر رہے ہیں یہ بھی کر لیں ، ہم سب کو روک نہیں سکتے ۔‘‘
’’ میرا مقصد آ پ سے صرف گپ شپ کرنا تھا ۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔ تب میں اپنا تعارف کراتے ہوئے ساتھ میں یہ دعوت نھی دے دی۔
’’ کبھی تشریف لائیں ہمارے ہاں ۔‘‘
’’ جی ضرور ،رابطہ رہے گا ۔‘‘ اس نے کہا توہم یونہی باتیں کرتے رہے ۔ اس دوران لوگ ہال سے نکل کر لان میں آ تے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ کھانا سرو کیا جانے لگا ۔
واپسی پر کار میں چلا رہا تھا ۔ انور میرے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔وہ کافی حد تک نشے میں تھا ۔ اس لئے میںنے اس سے بات کرنا مناسب خیال نہیں کیا ۔ وہ خود ہی بڑبڑانے والے انداز میں باتیں کرتا چلا گیا ۔ جسے میں ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال باہر کرتا رہا ۔
٭…٭…٭
اگلی صبح میں سول سیکرٹر یٹ چلا گیا ۔ وہاں کافی دیر وقت گزارنے کے بعد جو کام تھا ، وہ کروا لیا ۔ دو پہر ہو تے ہی میں واپس ہاسٹل آ گیا ۔ انور فریش تھا۔ مجھے دیکھتے ہی خوش ہو کر بولا ۔
’’رات تم نے پارٹی میں …‘‘
’’ یار آ نٹی کی صورت میں تجھے ایک تجوری مل گئی ہے ۔ سکون سے بیٹھ کر کھا ، تجھے کس نے روکا ہے ۔‘‘ میںنے پر سکون سے انداز میں اس کی بات کاٹ کر کہا ۔
’’وہ تو ٹھیک ہے ، میں آ نٹی کے قریب بھی اسی لئے ہوا ہوں ، لیکن ایک بات بتائوں ، وہ لڑکی تھی نا، ماہ نور ؟‘‘ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ہاں کیا ہوا ُسے ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ وہ تم سے ملنا چاہ رہی ہے ۔‘‘اس نے کہا ۔
’’ اچھا مل لیں گے ۔‘‘ میںنے بے پروائی سے کہا تو انور جیسے ہتھے ہی سے اکھڑ گیا۔ جوش سے بولا ۔
’’ ایک تم مردوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ جب کوئی لڑکی خود ملنے کی خواہش کرے تو نخرے دکھانا شروع کر دیتے ہو ورنہ ، یہی مرد ، کسی جھاڑی پر سرخ کپڑا ڈال دو تو سارا دن وہیں گزار دیں گے ۔‘‘
’’اچھا زیادہ بھاشن نہ دے۔ میرا سول سیکرٹریٹ والا کام ہو گیا ہے اور میں واپس جا رہا ہوں ۔‘‘ میں نے کہا تو وہ افسوس زدہ لہجے میں بولا ۔
’’ اوہ یار ایک رات رہ جائو ، آ ج ان کے ساتھ ڈنر کرتے ہیں ۔رات گپ شپ ماریں گے ، کل دن کے وقت چلے جانا ۔‘‘ اس نے مجھے روکا ۔
’’نہیں یار ، اکبر بھائی کو الیکشن کے لئے تیار کرنا ہے ، وہاں ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔‘‘میںنے کہا تو اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
’’ اوکے جیسے تمہاری مرضی ۔ پھر آ ئے تو ملاقات ہو جائے گی ۔‘‘
میں کچھ دیر مزید اس کے پاس بیٹھا اور واپسی کے لئے چل دیا ۔
رات کا پہلاپہر ابھی ختم نہیں ہوا تھا جب میں اپنے شہر کے مضافات میں پہنچ گیا ۔میں نے ارادہ کیا تھا کہ رات شہر والے بنگلے میں رہوں گا ۔اگرمن چاہا تو رُک جائوں گا ورنہ گائوں چلاجائوں گا ۔ میں شہر سے دو تین کلو میٹر دور تھا کہ اچانک میری ایک سائیڈسے فور وہیل نے مجھے پاس کیا اور اس کی رفتار دھیمی ہونا شروع ہو گئی ۔ مجھے مجبوراً اپنی رفتار کم کرنا پڑی۔وہ سڑک پر اس طرح جا رہا تھا کہ مجھے آ گے نکلنے کا راستہ نہیں دے رہا تھا ۔رفتار اس قدر کم ہو نے لگی کہ مجھے اپنی گاڑی روکنا پڑی ۔ کیونکہ وہ بھی رک گیا تھا ۔ جیسے ہی میری کار رکی ۔ فور وہیل سے تین چار لوگ باہر آ گئے ۔ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں ۔ میں نے ساتھ پڑا ہوا اپنا پسٹل تیزی سے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنے نیفے میں چھپا لیا ۔ایک بندہ میرے طرف والے شیشے کے پاس آ یا ۔ اس نے اندر مجھے دیکھا اور شیشہ بجایا ۔ میں نے شیشہ نیچے کر لیا تو وہ تحکمانہ لہجے میں بولا ۔
’’ اُوئے باہر آ ۔‘‘
’’ خیریت ؟‘‘ میںنے سکون سے پوچھا ۔
’’اوئے باہر آ ، سنتا نہیں ۔‘‘ اس نے گن کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے انتہائی بد تمیزی سے کہا ۔ میں نے گیٹ کھولا اور باہر آ گیا ۔
’’ ہاں بول ۔‘‘ میںنے اس کی طرف دیکھ کر کہا ۔
’’ ادھر چل ۔‘‘ اس نے فور وہیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میںنے مزید کوئی بات نہیں کی اور اس طرف چل دیا ۔ فور وہیل کی پشت پر جو دروازہ تھا ، اس کے اندر ایک آ دمی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے گن کی نال باہر نکالی ہوئی تھی ۔ کسی بھی ناگہانی صورت میں وہ فائر کر سکتا تھا ۔
پسنجر سیٹ پر ایک چھریرے بدن کا سیاہ رنگ والا بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے سفید کرتا پہنا ہوا تھا ، گندمی رنگ کا چہرہ ، جس پر خباثت برس رہی تھی ، اس نے میری طرف دیکھا ۔ یونہی چند لمحے دیکھتے رہنے کے بعد حقارت بھرے لہجے میں یوں بولا جیسے گالی دے رہا ہو ۔
’’ تم علی احسن ہو نا ، چوہدری بشیر کا پتر ؟‘‘
’’ ہاں ، میں ہی ہوں ۔ بولو کیا کام ہے ۔‘‘ میںنے کہا ہی تھا کہ اس نے اندر بیٹھے ہی ہاتھ بڑھایا اور میرا گریبان پکڑ لیا ۔پھر مجھے ہلاتے ہوئے بولا ۔
’’ بہت کر لی تم نے بدمعاشی ،اب بس ۔‘‘
یہ اچانک ہوا تھا ۔ میںنے اپنا گریبان چھڑوانے کے لئے جیسے ہی اس کا ہاتھ پکڑا تو میرے ارد گرد کھڑے تینوں آ دمیوں نے گنیں تان کر ان کی نال میری پشت سے لگا دیں ۔میں ان کے حوصلے کی داد دئیے بنا نہ رہ سکا۔چلتی سڑک پر وہ مجھ پر گنیں تان کر دھمکیاں دے رہے تھے ۔
’’ گریبان چھوڑ کر بات کر ۔‘‘ میںنے بڑے سکون سے کہا تو وہ مزید حقارت سے بولا ۔
’’شکر کر تم آ رام سے میرے سامنے آ گئے ہو ، ورنہ ابھی سڑک پر لمبا لٹا کر تیرے چھتر مارنے تھے ۔زیادہ اڑل ٹٹو بنتا تو ننگا کر کے لٹا دیتا ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا گریبان چھوڑا اور مجھے پیچھے کی طرف دھکا دے دیا ۔اس کے دھکے سے میںنے کیا گرنا تھا لیکن میری جس طرح اس نے ہتک کی تھی ، میرا لہو گرم ہو گیا تھا ۔ میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا ۔
’’کون ہو تم ؟‘‘
’’ اُوئے اَش کے بھئی اَش کے ، تم نے میرے بارے میں پوچھنے کی ہمت توکی ، اب مجھے یقین آ گیا کہ تم نے بدمعاشی کی ہوگی ۔ لیکن اب نہیں ۔‘‘اس نے اسی حقارت بھرے لہجے میں کہا ۔
’’چاہتے کیا ہو ؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’ ہاں یہ تم نے کام کی بات پوچھی ہے ۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا پھر بولا ،’’اس الیکشن میں تم نے اور تیرے باپ نے کوئی بھی دلچسپی لی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ سب کچھ ختم کر دیں گے ۔‘‘
’’دیکھو تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو ۔‘‘میںنے کہا تو وہ پھر سے میرا گریبان پکڑ کر بولا ۔
’’اوئے یہ تو میں نے تیری عزت کی ہے ورنہ میں تو پہلے سر میں جوتے مارتا ہوں پھر بات کر تا ہوں ۔شکرکر ابھی تجھے پیار سے سمجھایا ہے ، دوسری بار میں جس طرح بات کرتا ہوں ، وہ کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آ تی ۔چل بھاگ اب ، شکر کر تجھے کہا کچھ نہیں ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے مجھے پھر سے دھکا دے دیا ۔ میں غصے میں بے قابو ہو رہا تھا ، اس لئے ذرا سا لڑھک گیا ۔اس پر اس کے گن مینوں نے مجھے کاندھوں سے پکڑا اور دھکے مارنے لگے ۔ یہاں تک کہ مجھے کار کے بونٹ پر لا پھینکا ۔میں گرا تو واپس مڑ گئے ۔ وہ میری آ نکھوں کے سامنے جا رہے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں ۔میں دیکھ رہا تھا کہ گاڑی میں ایک بندہ بیٹھا ہوا ہے اور اس نے میری طرف گن تانی ہوئی تھی ۔ وہ مجھے نگاہوں میں رکھے ہوئے تھا ۔ اگر میں پسٹل نکال بھی لیتا تو وہ مجھے فائر کرنے کا بھی موقع نہ دیتا، پہلے ہی مجھ پر فائر کر دیتا ۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھے خود پر قابو رکھنا تھا ۔ میرے لئے یہی لمحہ بڑا مشکل تھا ۔ان کا مقصد ہی یہی تھا ۔ میں غصے میں بے قابو ہو جاتا اور انہیں مجھ پر فائر کرنے کا بہانہ مل جاتا۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ محض مجھے ذلیل کرنا چاہتے ہیں ۔ میری انا کو کچلنا چاہتے تھے ۔ وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے فور وہیل میں بیٹھے تو چند لمحوں میں نگاہوں سے اوجھل بھی ہو گئے ۔
میں کچھ دیر تک خود پر قابو پاتا رہا ۔میں کار کے سامنے کھڑا تھا ۔میرے دائیں جانب سے ٹریفک رواں تھی ۔ تبھی میری کار کے پیچھے ہارن بجنے لگا ۔ کوئی گاڑی آ کر رکی تھی ۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور سلگتے ہوئے دماغ کے ساتھ وہاں سے چل دیا ۔
میں شہر والے بنگلے پر جا پہنچا ۔میں نے جاتے ہیں ساری فا ئلیں ایک الماری میں رکھیں اور بیڈ پر آ بیٹھا ۔چند دن پہلے آ فیسر نے مجھے سیل نمبر دیا تھا ۔ اس کے ساتھ مجھے یہ آ فر دی گئی تھی کہ اگر مجھے کوئی بھی گھمبیر مشکل پڑے یا مدد کی ضرورت ہو تو یہاں کال کر لوں ۔میں وہ نمبر سامنے لا کر چند لمحے سوچتا رہا ۔ پتہ نہیں مجھے یہ بات انہیں کہنی چاہئے یا نہیں؟ اگر کہہ بھی دوں تو کیا وہ یہ وہی کچھ کریں پائیں گے جو میں انہیں کہنا چاہتا تھا ؟ تبھی میرے دماغ میں خیال آ یا ، مجھے یہاں کال کر نی چاہئے ۔ دیکھ لوں اگر وہ مدد کر سکتے ہیں تو پتہ چل جائے گا ۔ اگر کچھ نہ ہوا تو پھر مجھے معلوم ہو جائے گا ۔ میں نے وہ نمبر ملائے اور کال کر دی ۔ چند ہی لمحوں بعد دوسری جانب سے ایک نرم سی آ واز ابھری ۔ اس نے میرا نام لے کر کہا ۔
’’ علی بھائی کیسے ہیں آ پ ؟کیسے یاد کیا ؟‘‘
’’ سوری میں آ پ کا نام نہیں جانتا لیکن …‘‘میں نے کہا تو وہ خوشگوار انداز میں میری بات کاٹتے ہوئے بولا ۔
’’ اوکے اوکے ، نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ بتائیں خیریت ہے نا؟‘‘
’’ نہیں خیریت نہیں ہے ؟‘‘ میںنے بہ مشکل کہا ۔
’’ اوہ ، تو جلدی سے بتائیں ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے انہیں کچھ دیر پہلے ہو نے والی ساری بات بتا دی ۔ وہ خاموشی سے میری بات سنتا رہا ۔میں کہہ چکا تو وہ بولا،’’ کوئی بات نہیں ، آ پ میری کال کا انتظار کریں ۔‘‘ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا ۔
میں چاہ رہا تھا کہ چاچا فیضو سے کہوں کہ وہ چند بندے لے کر پہنچے ۔میں انہیں شہر میں تلاش کر کے ان سے بدلہ لینے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔اس وقت مجھے شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ مجھے کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی فورس بنا کر رکھنی چاہئے تھی ۔ کوئی بھی اگر بد معاشی دکھائے تو اسے اس کا جواب ضرور دیا جائے ۔ میں اُن فور وہیل والوں کے گلے پڑ سکتا تھا لیکن فائدہ کوئی نہیں تھا ۔ اسلحے کے سامنے طاقتور کی بھی نہیں چلتی ۔
’’ بھول گئے ہو سارے سبق ، ایک فائٹر جب ایسا سوچنے لگے تو سمجھو وہ بزدل ہو گیا ہے ۔ فائٹر کی طاقت اس کا حوصلہ ہے ۔ ‘‘ میرے اندر سے آ واز ابھری تو نجانے کیوں مجھے شرمندگی ہو نے لگی ۔ میں نے جو بھی اپنے انسٹرکٹر سے سیکھا تھا ، مجھے لگا جیسے وہ میں بھول گیا ہوں ۔ یہی سوچتے ہوئے میرے اندر ایک ولولہ پیدا ہوا ۔
’’ چاہے جتنا بھی اسلحہ تھا ، مجھے ان کے بھڑ جانا چاہئے تھا ۔ اگر انہوںنے مجھے گولی ہی مارنی ہوتی تو ایک آ دھ فائر کر کے مجھے زخمی ضرور کیا ہوتا ۔ اگر ایسا نہیں بھی تھا تو ان کی اتنی باتیں کیسے سن لیں ۔‘‘ میرے اندر کا مرد بولا ۔
’’ نہیں جوش سے نہیں ہوش سے ۔ جس طرح لمبی چھلانگ کے لئے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ایسے ہی بعض اوقات فائٹ بھی ضرور ی نہیں ہوتی ۔‘‘ دماغ مجھے سمجھانے لگا تھا ۔ میں اسی کشمکش میں تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔ میں نے کال رسیو کی تو وہی نرم آواز ابھری ۔
’’ وہ فور وہیل اس وقت شہر کے ایک ایور سپیڈپیٹرول پمپ پر کھڑی ہے۔ فیول ڈلوانے کے بعد وہ وہاں سے نکلے گی ۔آپ اگر آ نا چاہتے ہیں تو آ جائیں ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘میںنے اسی وقت کال بند کی اور تیزی سے باہر نکلا ۔میرے ملازم نے پوچھا۔
’’ خیریت تو ہے نا ۔‘‘
’’ ہاں خیریت ہی ہے ۔‘‘ میںنے کہا اور پورچ سے کار لے کے نکل پڑا۔جس حد تک بھی تیز رفتاری سے میں جا سکتا تھا ، میں نے رفتار بڑھائی اور پندرہ منٹ کے اندر ایور سپیڈ پر پہنچ گیا ۔وہ فور وہیل ایک جانب لگی ہوئی تھی ۔ اس کے ارد گرد چار گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ بندے اترے ہوئے تھے اور وہ جو پسنجر سیٹ پر چھریرے بدن کا سیاہ رنگ والا بندہ بیٹھا تھا وہ ایک طرف سگریٹ سلگائے یوں کھڑا تھا جیسے سب سے بے نیاز ہو ۔میںنے ایک ہی نگاہ میں دیکھ لیا تھا کہ ان میں سے کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا ۔ میں جیسے ہی کار سے نکلا ، ایک نوجوان میری جانب بڑھا ۔ اس نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے پوچھا ۔
’’ یہی وہ لوگ تھے علی بھائی ؟‘‘
’’ بالکل یہی ہیں ۔‘‘ میںنے سرد لہجے میں کہا ۔
’’کیا کرنا ہے ان کے ساتھ ؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’ پہلے تو میں خود ہی کروں گا ۔‘‘ میںنے کہا اور سیدھا چھریرے بدن سیاہ رنگ والے بندے کے پاس چلا گیا ۔ بالکل اس کے سامنے جا کر پوچھا۔
’’ کیا نام ہے تمہارا، کون ہو تم ؟‘‘
اس نے گہری نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا ۔میں نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے یوں رویہ رکھا جیسے وہ میری بات ہی نہیں سن رہا۔ تبھی میں نے آ گے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا اور جھنجوڑ کر پوچھا ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا تو میںنے اسے گھمایا اور سڑک پر دے مارا۔ اس کے ارد گرد کھڑے اس کے ساتھیوں میں سے کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ آ گے بڑھ کرمجھے روکتا ۔ میں نے اس کی پسلی میں ٹھوکر ماری، وہ دہرا ہو گیا ۔میںنے اسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور دوبارہ گھما کر سڑک پر پھینک دیا ۔میں اسے ٹھو کر مارنا ہی چاہتا تھا کہ اس نے ہاتھ اٹھاکر کہا ۔
’’ بتاتا ہوں ۔‘‘
’’ لیکن اب مجھے نہیں پوچھنا ۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اس کے پسلی میں پھر سے ٹھو کر ماری دی ۔ وہ تڑپ کر دہرا ہو گیا ۔ ایک بار تو مجھے لگا جیسے وہ بے ہوش ہو گیا ہے ۔ میں نے پھر اس کے کالر پر ہاتھ ڈالا تو جلدی سے بولا ۔
’’ میں غلطی پر تھا، غلط جگہ ہاتھ ڈال دیا ۔‘‘
مگر میں نے اس کی نہیں سنی پھر سے گریبان پکڑا اور سڑک پر پھینک دیا ۔ اس بار میںنے اس کے سر پر ٹھوکر ماری تو مچھلی کی طرح تڑپنے لگا ۔میں اسے یونہی تڑپنے دیا اور باقی سب کی طرف دیکھ کر سرد لہجے میں کہا ۔
’’ سبھی لوگ یہاں ایک قطار میں آجائو ۔‘‘
وہ سب جھجکتے کھڑے رہے ، تبھی اس نوجوان نے اشارہ کیا تو اس کے ساتھ کھڑے نوجوان آ گے بڑھے ۔ ان کے ہاتھوں میں بید تھے ۔ وہ ایک دم ہی ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ سب خود کو بچانے کے لیے ادھراُدھر بھاگنے لگے ۔ جو بھی ان کے حصار سے باہرجانے کی کوشش کرتا اسے زیادہ بید پڑتے ۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھا کہ قطار بنانی کہاں ہے ؟ میںنے ایک نوجوان کے ہاتھ سے بیدلیا اور اس بندے کو اپنی طرف بلایا ، جس نے مجھے دھکے مار کر کار کے بونٹ پر گرایا تھا ۔ وہ میرے سامنے آ گیا تو میں نے بید سے زمین پر لیٹنے کا اشارہ کیا ۔ وہ رحم طلب نگاہوں سے میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ان جرائم پیشہ لوگوں کی ذہنیت بھی عجیب ہوتی ہے ۔ جب کسی کو کمزور پاتے ہیں تو شیر بن کر دہاڑتے ہیں ۔ ہر طرح کا ظلم روا رکھیں گے ۔ لیکن جونہی ان کے سامنے کوئی طاقت ور آ جاتا ہے تو پھر چھپ جاتے ہیں، بلانے پر بھی سامنے نہیں آ تے اور اگر انہیں تلاش کر کے ان تک پہنچ بھی جائیں تو پھر منتوں پر اتر آ تے ہیں۔دراصل یہ بے غیرت ہوتے ہیں ۔ ان کی غیرت ختم ہو جاتی ہے تو یہ جرائم پیشہ بنتے ہیں ۔ میںنے غصے میں اس کی طرف دیکھا تو وہ سکون سے سڑک پر لیٹ گیا ۔میں نے اسے پڑا رہنے دیا ۔باقی سب کی حالت بھی ایسے ہی ہو گئی تھی ۔
وہ چھریرے بدن والا سیاہ بندہ ہوش میں تھا ۔ میںاس کے پاس چلا گیا ۔ وہ میری جانب رحم طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ میں نے اس کے قریب جا کر کہا ۔
’’ کپڑے اُتار۔‘‘
’’ مجھے معاف کر دے ، آ ئندہ تیرے سامنے نہیں آ ئوں گا ۔‘‘
اس نے کہا تو میںایک نوجوان کو اشارہ کیا ۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کی قمیص پھاڑ دی ۔ اس نے قمیص ایک طرف پھینکی اور پھر اس کی شلوار اتار دی ۔ وہ الف ننگا ہو گیا تھا ۔ تبھی میںنے اسی نوجوان سے کہا ۔
’’ وہاں پرے بیچ سڑک پر لے جائو اور اس کے سر پر جوتے مارو ۔‘‘
وہ نوجوان اسے وہاں تک لے گیا اور دھکا دے کر سڑک پر لٹا دیا۔ پھر اس کے سر پر جوتے مارنے لگا ۔وہ درد ناک انداز میں کراہنے لگا ۔
وہ جو سڑک پر لیٹا ہوا تھا ۔ وہ میری جانب دیکھ رہا تھا ۔ میںاُ س کے پاس گیا تو وہ تیزی سے بولا ۔
’’ ہمیں جانے دے ہم پھر کبھی تمہارے سامنے نہیں آ ئیں گے ، ہمیں تو افضل سردار نے بھیجاتھا ۔‘‘
’’ وہ کون ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’چوہدری سردار کا بیٹا۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے اس نوجوان کو روک دیا جو جوتے مار رہا تھا ۔وہ اسے اٹھا کر لے آ یا ۔وہ سارے سڑک پر پڑے تھے ۔چھریرے بدن والے بندے کو میںنے کہا ۔
’’ چل اُوئے کر اُسے فون جس نے تمہیں بھیجا ہے ۔‘‘
’’ ہم نے اب اس کی طرف جانا ہی نہیں، ہمارے ساتھ بہت ہو گئی ہے ۔‘‘
’’ ایسے نہیں ، کہاں جانا ہے تم نے اب رہو ادھر ۔‘‘ میںنے کہا اور ایک نوجوان کی جانب اشارہ کیا تاکہ وہ پھٹی ہوئی قمیص اٹھائے ۔ وہ پھٹی ہوئی قمیص لایا تو اس میں فون تھا ۔اس نے فون چھریرے بدن والے کو دے دیا ۔اس نے فون پکڑ کر کال ملائی ۔
’’ اس کا اسپیکر آن کر ۔‘‘
میرے کہتے ہی دوسری جانب سے ہیلو کہا گیا ۔
’’اوئے تم لوگ ابھی تک پہنچے نہیں ہو ؟‘‘
’’ ہم پکڑے گئے ہیں ۔‘‘ اس نے ہولے سے کہا۔
’’ پکڑے گئے ،اوئے کس نے پکڑ لیا تمہیں، کون ہے جو تم جیسے اشتہاری کا سامنا کرے ۔‘‘ دوسری طرف سے قہقہہ لگانے والے انداز میں کہا گیا جیسے انہیں پکڑنے والا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔
’’ علی احسن نے …‘‘
’’ کیا بکواس کر رہے ہو ، تم نے تو کہاتھا کہ … ‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ۔تبھی فون میںنے پکڑ لیا اور طنزیہ لہجے میں بولا ۔
’’لگتا ہے کہ تم انسان کے بچے نہیں بنو گے ؟‘‘
’’ کون ہو تم ؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’ میں علی احسن بات کر رہا ہوں ، میں یہاں ایور اسپیڈ پر کھڑا ہوں ، اگر تم میں ہمت ہے تو اپنے بندے لے جا ۔‘‘ میںنے کہا تو اس نے فون ہی بند کر دیا ۔
’’ یہ ہے اوقات اس کی جس نے تمہیں بھیجا ۔‘‘ میں نے اس کے منہ پر فون مارتے ہوئے کہا۔ اس نے نگاہیں جھکا لیں ۔ وہ ننگا میرے سامنے کھڑا تھا ۔
’’ بھائی اب کیا کرنا ہے ان کا ؟‘‘ اسی نوجوان نے پوچھا جو سب سے پہلے مجھے ملا تھا ۔
’’ انہیں پولیس کے حوالے کر دو ، سنا نہیں یہ اشتہاری ہے ۔ اب دیکھتا ہوں یہ کتنا بڑا اشتہاری ہے ۔‘‘ میںنے کہا ہی تھا کہ اس کے ساتھ آ ئے جوانوں نے تقریباً دو منٹ میں انہیں اپنی گاڑیوں میں پھینکا اور وہاں سے لے کر چل دئیے ۔ دو منٹ بعد وہاں یوں ہو گیا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیںتھا ۔
اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہجوم تھا اور سڑک کچھ دیر کے لئے بند ہو گئی تھی ۔ میں اپنی کار کی جانب بڑھا اور بنگلے کی طرف چل پڑا۔ میرے اندر وہ سرور تھا جو بدلے لینے کے بعد ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بے چینی شروع ہو گئی جو مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی ۔اس بارمیں نے سوچ لیا تھا ۔ اگر رائو ظفر یا اس کے جیسے کسی بندے نے میرا سامنا کرنے کی کوشش کی تو اسے بھی پھڑکا دوں گا ۔اگر اس نے افضل سردار کے یہ بندے چھوڑے تو میں ان کا پیچھا کروں گا ۔ اب میں تھانے ہی میں افضل سردار سے ملنا چاہتا تھا ۔
٭…٭…٭
دوپہر کے بعد میں حویلی کے لان میں بیٹھا ہوا تھا ۔ بابا کچھ دیر پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے تھے ۔ان کے ساتھ ہی ان کے دوستوں کی محفل بھی ختم ہو گئی تھی ۔میں جن لوگوں کا لاہور سے کام کروا کر آ یا تھا ۔ وہ اپنی فائل لے کر چلے گئے تھے ۔ میرے پاس ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اچھا خاصا لڑکا تھا ۔ اپنے حلیے سے مجھے وہ پڑھا لکھا بھی لگتا تھا ۔ میرا گمان کہہ رہا تھا کہ اسے کوئی مسئلہ ہے ۔میں چاہ رہا تھا کہ اگر اس کا کوئی مسئلہ ہے تو وہ خود ہی بتائے ۔ممکن ہے کوئی بات نہ ہو۔ میں یونہی اس سے حال احوال پوچھنے لگا ۔وہ بے چین تھا ۔ وہ شہر سے آیا تھا اور وہیں کسی محلے کا رہنے والا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
’’ سرجی آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔‘‘
’’ بولو ، کیا بات ہے ؟‘‘ میںنے اسے کہا۔
’’ وہ جی ، پتہ نہیں آپ میرے بارے میں کیا سوچیں گے ، لیکن میں ایک طرح سے مجبور بھی ہوں اور …‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گیا ۔میںنے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ۔
’’ یار جو بات بھی ہے نا،وہ کہہ دے ۔ اتنی زیادہ تمہید نہ باندھ۔‘‘
میرے کہنے پر وہ چند لمحے رکا پھر کہتا چلا گیا ۔
’’ سر جی ، ایک لڑکی ہے ۔غریب گھر کی ہے ۔اس کا والد نہیںہے ۔ماں ہے اور ایک چھوٹا بھائی ۔ان کا گزارہ اپنے والد کی پینشن پر ہوتا ہے یا پھر اس کی امی کپڑے سلائی کرتی ہے ۔ ایک دوکان سے کرایہ آ جاتا ہے ۔‘‘
’’ اچھا، اصل بات کیا ہے ؟‘‘ میںنے اسے احساس دلا یا تو وہ جلدی سے بولا ۔
’’ سر جی یہی غربت ان کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ اس علاقے کا ایک بدمعاش انہیں تنگ کرتا ہے ۔ وہ بدمعاش چاہتا ہے کہ اس لڑکی سے شادی کر لے ۔‘‘
’’ اور لڑکی کیا چاہتی ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’ وہ تو نہیں چاہتی ،اور نہ میں چاہتا ہوں ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو میں نے پوچھا ۔
’’ تم کیوں نہیںچاہتے ؟‘‘
’’ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ اس نے بڑے تحمل سے کہا تو میںنے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’پھر تم میں اوربدمعاش میں کیا فرق رہ گیا ؟‘‘
’’ یہی کہ وہ لڑکی مجھے چاہتی ہے ۔ میں اسے چاہتا ہوں ۔ اس کی امی بھی یہی چاہتی ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سانس لینے کو رُکا پھر بولا ،’’ اب آپ کہیں گے کہ کیوں نہیں کرتا شادی تو اس میں میری بے روزگاری رکاوٹ ہے ۔آج میری کہیں نوکری لگ جائے ، میں نہ صرف اس لڑکی سے شادی کرلوں بلکہ ان کا آ سرا بھی بن جائوں ۔‘‘
’’ مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ مجھے کہیں نوکری مل جائے یا پھر اس بدمعاش کو روک دیا جائے ، ان لوگوں جینے دے ۔‘‘ اس نے حتمی لہجے میں کہا تو میں چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔مجھے ارم کی کہانی یاد آ گئی تھی ۔تبھی میرے دماغ میں خیال آیا تو میںنے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’اگر دونوں کام نہیں ہوتے ، پھر تم کیا کروگے ؟‘‘
’’ میں نہیں چاہتا کہ میں کوئی جرم کروں ، پھر مجھے یا تو اس بد معاش سے لڑنا پڑے گا یا پھر کوئی نہ کوئی غلط کام تو کرنا پڑے گا۔‘‘
’’ مثلاًکون سے غلط کام ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’منشیات بیچنے سے لے کر چٹی دلالی تک ۔ قحبہ خانہ چلانے والوں سے لے کر درخواست بازی تک ، پھر سب چلتا ہے ۔ کسی کے ساتھ بھی لگ جائوں گا ۔‘‘مایوسی بھرے لہجے میں کہا۔
’’ یہ جو تم نے سارے کام بتائے ہیں، یہ سب اپنے علاقے میں چلتے ہیں ؟‘‘میںنے پوچھا ۔
’’ یہ رُکے کب ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی روک سکتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خود عوام یہ چاہتی ہے۔ بھتہ چلتا ہے ۔کرپشن ہر بندہ کرنا چاہتا ہے ۔‘‘ اس نے دکھی انداز میں کہا۔
’’ویسے ایک بات بتائوں ، زندہ وہی ہوتے ہیں ، جو خود اپنی دنیا بناتے ہیں ۔خیر وہ بدمعاش تو رُک جائے گا ، تم کیا کرو گے ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ میںنے بی اے کیا ہوا لیکن جب تک کوئی روزگار نہیںملتا ، میں کوئی ریڑھی لگا لیتا ہوں ۔ ایک طرف سے سکون ہو جائے تو …‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔
’’ اچھا تم ایسے کرو ، دو دن بعد مجھے ملنا ۔تم اپنا نمبر اور نام پتہ وغیرہ لکھ کر دے جانا ۔‘‘
’’ جی ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے کہا اور اٹھ کر مجھ سے ہاتھ ملا کر میرے پاس سے جانے لگا تو میںنے کہا ۔
’’ بیٹھو ، میں نے بھی ابھی شہر جانا ہے ۔ میرے ساتھ ہی چلے جانا ۔‘‘
یہ سن کر وہ اسی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا ۔
کچھ دیر بعد میں شہر کی طرف چل پڑا۔ وہ میرے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں اس سے شہر کے بارے میں ، اس کے علاقے کے بارے میں پوچھتا چلا گیا ۔اس نے مجھے بہت معلومات دیں ۔ شہر کے ایک چوراہے پر اسے اتار کر میں سیدھا تھا نے چلا گیا ۔ میری توقع کے مطابق رائو ظفر اپنے کمرے ہی میں تھا ۔میں اس کے سامنے گیا تو تو وہ کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا ۔مجھ سے ہاتھ ملاکر مجھے بیٹھنے کو کہا ۔ میں بیٹھ گیا تو وہ بھی اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
’’ میں تو بڑی ٹینشن میں آ گیا ہوں جی ۔ انہوں نے اوپر سے اتنا دبائو ڈالا ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا ۔‘‘
’’ وجہ ، دبائو کیوں ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ اصل میں جس بندے کو پکڑا ہے نا جی ، وہ بڑا اشتہاری ہے ۔ چھانا اس کا نام ہے ۔ وہ ایک بہت بڑے گینگ کا حصہ ہے ۔وہ تو کسی کے ہاتھ نہیں آ تا ، آ پ نے پتہ نہیںکیسے قابو کر لیا اسے ۔ اسے چھڑوانا چاہتے ہیں ۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے وہ بڑی مصیبت میں آ گیا ہو ۔
’’ دیکھ رائو ، ساری زندگی تم نے رشوت کھائی ہے ، کرپشن کی ہے ، سب سے بڑی بات اتنی منافقت کی ہے کہ پتہ نہیں تم نے بخشے بھی جاناہے کہ نہیں ۔اب اگر فرض کی بات آ گئی ہے ۔ ایک اشتہاری پکڑ کر تم انعام بھی لے سکتے ہو تمہاری جائز ترقی بھی ہو جائے گی تو گھبراتے کیوں ہو ؟‘‘ میںنے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
’’ میں کیا پھر نوکری کر سکوں گا ، کہیں نہ کہیں مجھے گولی مار دیں گے ۔‘‘ اس نے دبے ہوئے لہجے میں کہا ۔
’’ اپنا فرض نبھائو یا پھر نوکری چھوڑ دو ، یہ بھی نہیں تو اپنا تبا دلہ کروا لو ۔ اسے تم یونہی نہیں چھوڑ سکتے ۔چھوڑو گے تو اپنا انجام دیکھ لینا ۔‘‘ میںنے سخت انداز میں کہا تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ۔ میرا بد لا ہو لہجہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔
’’بہت سارے کام بس میں نہیں ہوتے ۔‘‘ اس نے کہا تو میں نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا ۔
’’ صرف مظلوموں پر ظلم کرنا ہی تم لوگوں کا کام ہے ۔اگر ذرا سی بھی غیرت ہے تو اپنا فرض نبھائو یا پھر نوکری چھوڑ جائو ۔تم جانتے ہو کہ میں یہ تم سے کیوں کہہ رہا ہوں ۔‘‘
’’ جانتا ہوں ، لیکن گمان نہیں تھا کہ یہ وقت بھی آ سکتا ہے ۔‘‘ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ۔ وہ پتہ نہیں اعتراف کر رہا تھا یا مجھے میرا ماضی یاد دلا رہا تھا ۔ جب میں اسی تھانے میں ایک اے ایس آ ئی کے تشدد کا شکار ہوا تھا ۔ میرے اندر غصہ اُبل پڑا تھا ۔میںنے خود پر قابو رکھااور کچھ دیر پہلے اس نوجوان نے جس بد معاش کے بارے میں مجھے بتایا تھا اس کا نام لے کر میںنے کہا ۔
’’ اسے ابھی بلوائو ،فوراً۔‘‘
’’ جی میں بندہ بھیجتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’ تیرے فون میں اس کا نمبر ہے ۔ اسے کال کرو ۔‘‘ میں نے یونہی ہوا میں تیر مارا تھا ۔میرے گماں میں ایک بات تھی ۔ اگلے لمحے اس کی تصدیق ہو گئی اس نے اپنا فون نکالا اور اس کا نام لے کر اسے فوراً تھانے آ نے کا کہا ۔ ظاہر ہے اس بد معاش کے آ نے میں تھوڑا وقت لگنا تھا ۔ اس لئے میں اٹھا اور حوالات کے پاس چلا گیا ۔ وہاں جاتے ہی مجھے وہ تلخ ترین راتیں یاد آ نے لگیں جو میںنے یہاں گزاری تھیں ۔مجھے وہ ادھیڑ عمر بھی یاد آ گیا جس نے بہت پتّے کی باتیں کی تھیں ۔چھانا بدمعاش دیوار کے ساتھ لگا ہوا بیٹھا تھا ۔اس کے ساتھی بھی ارد گرد موجود تھے ۔ میں چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اونچی آواز میں کہا ۔
’’اُئو ئے چھانے ، کوئی چائے وائے بھی پی ہے یا بھوکا ہی بیٹھا ہے ؟‘‘
وہ تو نہیں بولا لیکن اس کا ایک ساتھی بول پڑا۔
’’کھانا آ یا تھا ۔‘‘
’’ چائے پی ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’ نہیں وہ تو نہیں آئی جی ۔‘‘
’’تجھے افضل سردار بھول گیااب تم اس کے کام کے نہیں رہے ہو۔‘‘
’’ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ وہ بالکل ہی نیا بندہ ہے ورنہ کبھی اس کی بات نہ مانتے ۔‘‘ اسی ساتھی نے پھر کہا بالکل اسی لمحے چھانا نے دیوار چھوڑی اور میری طرف دیکھ کر بولا ۔
’’ زندگی میں پہلی بار ایسے حالات کا سامنا کیا ہے ۔اتنی جلدی بدلہ لے لیا ۔ ٹھیک ہے تم میرے دشمن ہو لیکن داد دیتا ہوں ۔مجھے خوشی ہے کہ میں ایک نَر بندے کی وجہ سے پکڑا گیا ہوں ۔ میں نے اپنے لوگوں سے کہہ دیا ہے ۔‘‘
’’ کیا کہہ دیا ہے ؟ تمہیں جلد از جلد یہاں سے نکالیں یا پھر مجھے مار ڈالیں ؟‘‘ میںنے اس کی طرف دیکھ کر تحمل سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ایسا نہیں ، بلکہ یہ کہا ہے کہ تم سے کوئی بدلہ نہیں لے گا ۔اب تیری طرف کوئی منہ نہیں کرے گا ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے اوپر پڑی چادر کو درست کیا اور پھر سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی ۔میں نے جیب سے ایک بڑا نوٹ نکالا اور قریب کھڑے ایک سنتری کو دیتے ہوئے کہا ۔
’’ یار انہیں چائے پلانے کا بندو بست کردے ۔‘‘
’’ جی ابھی آ جاتی ہے ۔‘‘ اس نے جیب سے فون نکالا اور کسی چھوٹے کو چائے کا کہنے لگا ۔میں وہاں سے ہٹ کر واپس رائو ظفر کے کمرے میں چلا گیا ۔ وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔موضوع یہی تھا کہ چھانا کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ میرے خیال میں یہ اس کے لئے ان دنوں ہاٹ ٹاپک بن گیا تھا جس پر مجھے کوئی فکر نہیں تھی ۔وہ فون پر کال ختم کرکے میرے ساتھ باتیں کر نے لگا ۔ اسی دوران ایک فربہ مائل جوان رائو ظفر کے کمرے میں داخل ہو ا۔ اس نے آتے ہی بڑے ادب سے جھک کر رائو ظفر کو سلام کیا اور مسکراتے ہوئے بڑے نرم سے لہجے میں پوچھا۔
’’ سرکار حکم ؟‘‘
اس سے پہلے کہ وہ کوئی مزید بات کرتا میںنے اس سے پوچھا ۔
’’ اوئے ، پیجالوہار تمہارا ہی نام ہے ؟‘‘
’’ جی، جی ۔‘‘ اس نے میرے طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔
’’ تم کسی پروین دلاور نام کی لڑکی کو جانتے ہو ؟‘‘
’’ جی … نن … بلکہ جانتا ہوں جی ۔‘‘ اس نے اٹکتے ہوئے انکار کرنا چاہاتھا لیکن پھر ایک دم سے سچ بول دیا ۔ اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ پختہ مجرمانہ ذہنیت رکھتا تھا
’’کیا جانتے ہو ؟شادی کرنا چاہتے ہو اس سے ؟‘‘
’’نہیںسر جی، وہ غریب ہے ، میں تو اس کی امی کو اپنی آ نٹی سمجھتا ہوں ۔میں چاہتا ہوں اس کی مدد ہو جائے ۔ ‘‘
’’ پروین سے شادی کر کے ہی تم مدد کر سکتے ہو ؟سچی بات کہو ،جو ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا ۔
’’نہیں جی ، سچی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے ۔شادی کر لے تو … ‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے اعتراف کر لیا ۔تو میںنے پوچھا ۔
’’ وہ ایک لڑکا آ صف بھی یہی چاہتا ہے ؟‘‘
’’ جی بالکل جی ، وہ پر وین بھی اسی سے شادی چاہتی ہے ۔ پر وہ ایک فقرا بندہ ہے جی ، اب آ نٹی ا س سے تو شادی نہیں کرے گی نا جی ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو جو میں چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا ۔ میںنے یہی تصدیق کرنا تھی کہ وہ نوجوان سچا تھایا محض الزام تراشی کر رہا تھا ۔
’’ اچھا بات سن ، جو ہو گیا سو ہو گیا ۔اب ، اسی وقت سے تم اس گھر کو بھول جائو ۔ان کے گھر کی طرف آ نکھ اٹھا کر دیکھنا تو کجا ان کی گلی سے بھی نہیں گزرنا ۔ورنہ بہت پچھتائو گے ۔‘‘ میںنے کہا تو وہ حیرت اور الجھن سے میری طرف دیکھنے لگا تھا ۔پھر اسی طرح اس نے رائو ظفر کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ۔
’’ میری طرف کیا دیکھ رہا ہے ، جو صاحب نے کہا ہے وہی کرنا ہوگا ورنہ لمبا ہی اندر چلا جائے گا ۔‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا جی ۔‘‘ ا س نے ماتھے پر ہاتھ لے جاتے ہوئے کہا ۔
’’ ابھی تم نے آصف کے پاس جانا ہے اسے تلاش کر کے اس سے معافی مانگنی ہے ۔اگر یہ کر لو گے تو ٹھیک رہے گا تمہارے لئے ۔‘‘ میںنے کہا تو اس نے پھر سے ماتھے پر ہاتھ لے جا کر کہا ۔
’’ جی ابھی حکم کی تعمیل ہو گی جی ۔‘‘ اس نے کہا تو میںنے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔ اس نے رائو کی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے نکل گیا ۔
’’ اچھا میں بھی چلتا ہوں ۔‘‘ میں نے کہا اور اٹھ گیا ۔ میںنے تھانے سے باہر آ کر وقت دیکھا ۔ میری اسی نوجوان سے ملاقات کا وقت متعین تھا ۔ ابھی کچھ وقت رہتا تھا ۔ میں شہر والے بنگلے کی طرف چل دیا ۔
٭…٭…٭
شام ڈھل چکی تھی ۔ میں شہر والے بنگلے کے لائونج میں بیٹھا ہوا تھا ۔میرے سامنے وہی نوجوان بیٹھا ہوا تھا جس نے رات میرا فون سنا اور پھر اس پر میری مدد کو بھی آ گیا ۔وہ گورا چٹا ، وجیہہ نوجوان تھا ۔ مضبوط کسرتی بدن والے اس نوجوان کا نام عارف منیر تھا ۔وہ اندر سے جس قدر سفاک تھا ، اس کی مسکان اتنی ہی معصومانہ تھی۔شرمگیں سی آ نکھوں والاعارف لگتا ہی نہیں تھا کہ ایک بہترین فائٹر ہوگا ۔ میرے نزدیک فائٹر کی تعریف یہ نہیں ہے کہ وہ لڑنا بہت اچھا جانتا ہو ، میں اسے فائٹر مانتا تھا جو حق کے لئے لڑے اور مظلوم کی مدد کے لیے فوراً مدد کو پہنچے ۔ورنہ بہت سارے بے غیرت اپنی بے غیرتی کے لئے لڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ضروری نہیں کہ فائٹر ہاتھوں مکوں سے لڑے ۔ فائٹر وہ بھی ہوتا ہے ، جو ذہنی طاقت سے بھی اپنے حریف کو شکست دے دے۔ بعض اوقات دشمن سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟فائٹر اپنا کام دکھا جاتا ہے ۔
’’ مجھے تم سے مل کر خوشی ہوئی ،میرا خیال ہے ہمیں تکلفات دور کر لینے چاہئیں ۔‘‘ میںنے مسکراتے ہوئے کہا تو ایک دم سے قہقہہ لگا کر ہنس دیا پھر بولا ۔
’’تم نے یار مجھے پہچانا نہیں، میں روہی میں سے اس سائیں کو اٹھا کر لایا تھا ۔ ‘‘
’’ اُوہ اچھا تو وہ تم ہو ؟‘‘میںنے خوشگوار حیرت سے کہا
’’میرا خیال ہے اس وقت اندھیرا تھا اور صورت حال بڑی گمبھیر تھی ۔ اس وجہ سے میرا چہرہ ذہن میں نہیں رہا ہوگا ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے بولا،’’ خیر ، ہم پہلے وہ بات کر لیں جس کے لئے ہم یہاں پر اکٹھے ہوئے ہیں ، بعد میں گپیں تو لگاتے ہی رہیں گے ۔‘‘
’’ ہاں بالکل ۔‘‘ میں نے کہا تو اس نے ادھر اُدھر دیکھا ، میں سمجھ گیا اس لئے اس کی تسلی کے لئے کہا ،’’ ہم یہاں تنہا ہی ہیں ۔اگر مزید …‘‘
’’ نہیں نہیں بس ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا ۔
’’آپ بے فکر ہو کر بات کریں ۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’ بات یہ ہے ، یہاں روہی میں وہ کچھ نہیں ہو رہا جس کے بارے میں تمہیں علم ہے یا اب تک جو سامنے آ یا ہے ، بلکہ کچھ ایسا چل رہا ہے ، جس کے بارے میںہم کافی حد تک سمجھ گئے ہیں۔‘‘
’’ مثلا ً کیا؟‘‘ میںنے تجسس سے پوچھا۔
’’دیکھیں ہمارا دشمن ملک بھارت ہے ، ہماری بھی اور ان کی بھی ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں چلتی رہتی ہیں ۔ یہ ایک معمول ہے ۔ لیکن یہاں جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے وہ بڑا پر اسرار ہے ۔ اس کی ہمیں سمجھ بالکل نہیں آ رہی ۔‘‘ اس نے پھر تجسس بھرے لہجے میں کہا۔
’’پراسرار،میں سمجھا نہیں ۔‘‘میںنے پھر تجسس ہی سے پوچھا تو وہ چند لمحے رُک کر بولا۔
’’حتمی طور پر ہمیں بھی نہیں معلوم کہ یہاں ہے کیا لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اس خطے میں کوئی دوسرے ہی لوگ اپنی سرگر میاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔‘‘
’’ کون ہیں وہ لوگ ؟‘‘ میںنے تیزی سے پوچھا تو وہ کہتا چلا گیا ۔
’’یہی تو پتہ نہیں ،انہیں کبھی دیکھا نہیں گیا لیکن شواہد بہت ملتے ہیں ۔ وہ جو کوئی بھی ہیں، آج تک انہوں نے کسی بندے کو نقصان نہیں پہنچایا ۔شواہد یہ ہیں کہ بہت ساری جگہوں پر جلی ہو ئی ریت ملی ہے ۔ پہلے یہ سوچا گیا تھا کہ ریوڑ چرانے والے گڈرئیے لکڑیاں وغیرہ جلاتے ہوں گے ۔ یا روہی کے خانہ بدوش کچھ وقت کے لئے جہاں ڈیرہ ڈالتے ہیں ، وہ لکڑیا ں جلاتے ہوں گے لیکن وہ لکڑیوں کی راکھ نہیں ہے ۔ بلکہ جب لیبارٹری میں اس کا تجزئیہ کیا گیا تو یہ انکشاف ہوا یہ کوئی کیمیکل ہے ،جس کے جلنے کے بعد اس کی راکھ ایسی ہو جاتی ہے جو ریت کو بھی جلا دیتی ہے ۔‘‘
’’ بہت دلچسپ …‘‘ میںنے حیرت سے کہا تو وہ میری بات پر کوئی تبصرہ کئے بنا کہنے لگا۔
’’جب یہ کیمیکل والی بات سامنے آئی تو اس پر مزید تحقیق کی گئی ۔ لیکن کچھ بھی پتہ نہیں چلا ۔اس سے زیادہ ہمیں کوئی معلومات نہیںملیں ۔تحقیق جاری ہے کہ یہ اصل میں ہے کیا؟‘‘
’’یہ معلوم کرنے کے لئے کچھ لائحہ عمل سوچا ہے ؟ کیونکہ جب تک یہ پتہ نہیں چلے گا یہ کیمیکل یہاں کیوں ہے تب تک اس کے بارے میں …‘‘میںنے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولا۔
’’ یہی بات کہنے میں آ پ کے پاس آ یا ہوں ۔ لائحہ عمل یہی ہے کہ کچھ عرصہ روہی میں رہا جائے ۔ایک خاص خطے کو طے کر کے وہاں پر پوری توجہ دی جائے ۔اسی لئے وہاں جو نیٹ ورک تھا اسے ختم کیا گیا ہے ۔اس کی جگہ اب ہم رہیں گے ۔بالکل یوں جیسے پہلے یہ سب رہتے تھے۔‘‘
’’ میں سمجھ گیا ، لوگوں کے یا کسی کی بھی نگاہوں میں آ ئے بنا وہاں مرکز بنایا جائے ۔اب یہ کوئی مشکل نہیں ہے ۔‘‘میںنے تیزی سے کہا۔
’’ بالکل ، یہ بہت اچھا ہوا ہے کہ سائیں محبت خان کو زندہ رکھا گیا ۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ اسے سامنے رکھ کر اپنا نیٹ بنائو ، اس میں ہم داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ اس نے اپنی بات سمجھا دی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔
’’ چلیں جی یہ تو ہو گیا ، اس کے لئے آج ہی سے کام شروع ہو گیا سمجھیں ۔‘‘ میں نے اسے یقین دہانی کروا دی۔
’’لیکن یہ کام ایک ہی دن میں نہیں ہوگا ، بالکل غیر محسوس انداز میں ، یوں جیسے سب معمول کے مطابق ہو ۔‘‘ اس نے مجھے احتیاط بتاتے ہوئے کہا۔
’’اب یہ میرا کام ہے میں کردوں گا ۔‘‘میں نے اسے یقین دلایاتو وہ بولا۔
’’ ظاہر ہے اب الیکشن ہیں۔ ایک گہما گہمی ہو گی ۔ تم لوگوں سے ملو گے ۔ ہم پوری طرح ساتھ دیں گے ۔اسی میں شامل ہو جائیں گے ۔لوگوں کو یہی احساس ہو کہ ہم تمہارے اردگرد ہیں ، محافظ ہیں گارڈ ہیں اور سب کچھ تمہارے کہنے پر کر رہے ہیں۔‘‘
’’ میں سمجھ گیا ۔ آئو اب کھانا کھاتے ہیں ۔‘‘ میںنے کہا تو مسکراتے ہوئے اٹھ گیا۔
کھانا کھانے کے بعد ہم باہر لان میں آ کر بیٹھ گئے ۔ وہیں ہمیں کافی سرو کر دی گئی تو میںنے فون نکالا اور سائیں محبت خان کو فون کر دیا ۔ کچھ ہی دیر بعد اس سے رابطہ ہو گیا ۔ اس نے تیزی سے سلام دعا کی اور کہا۔
’’ حکم جناب۔‘‘
’’ سائیں جی میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔اگر وقت ہو آ پ کے پاس۔‘‘ میںنے پرسکون لہجے میں کہا۔
’’ جس وقت مرضی ، اب آپ یوں وقت والی بات تو نہ کریں نا جی۔ جب چاہے جہاں چاہیں مجھے بلا لیں میں آ جاتا ہوں ۔‘‘اس نے نرم لہجے میں کہا۔
’’نہیںمیں آ تا ہوں ، کہاں دربار پر ہیں ؟‘‘ میں نے پوچھا تو وہ بولا
’’ جی میں دربار پر ہی ہوں۔‘‘
’’ اچھا ، انتظار کریں میں آ رہا ہوں ۔‘‘ میںنے کہا اور فون کال ختم کر دی۔
’’ چلو گے میرے ساتھ ؟‘‘ میںنے عارف سے پوچھا۔
’’ ہاںبالکل۔‘‘ اس نے فوراً کہا تو میں نے اپنے ملازم کو فور وہیل نکالنے کو کہا۔
رات کا پہلا پہر ختم ہو چکا تھا جب ہم دربار پر جا پہنچے۔ ہر طرف رات کا سکوت طاری تھا ۔دربار کے احاطے میں چند بلب روشن تھے جن کی روشنی چھن کر باہر تک آ رہی تھی ۔سیڑھیاں ویران تھیں ۔کوئی ایک بھی دکا ن نہیں کھلی ہوئی تھی ۔چند کتے کھانے پینے والی دوکانوں کے اردگرد پھر رہے تھے ۔ میں نے وہاں ایک طرف فور وہیل پارک کی۔ عارف نیچے اتر گیا ہم سیڑھیاںچڑھتے ہوئے دربار کے احاطے میں چلے گئے ۔سامنے ہی ایک مجاور کھڑا تھا ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی وہ تیر کی مانند میری طرف بڑھا ۔ اس نے آ تے ہی جھک کر سلام کیا اور بڑے ادب سے بولا۔
’’ سرکار ، آپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔‘‘
’’چلو پھر وہیں چلتے ہیں ۔‘‘ میںنے مجاور کے ساتھ ان کمروں کی جانب بڑھ گیا جنہیں وہ حجرے کہتے تھے ۔ ایک بڑے سارے حجرے میں داخل ہو ئے تو سائیں محبت خاں ایک گدے پر بیٹھاہوا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی اٹھ گیا ۔ ہم سے اچھی طرح ملنے کے بعد وہ بیٹھ گیا ۔ ہم بھی ایک گدے پر اس کے سامنے بیٹھ گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات شروع کرتا ، ہمارے سامنے خشک میوے ، مٹھائیاں اور دیگر لوازمات کے ساتھ مٹی کے پیالوں میں چائے آ گئی ۔کچھ دیر یونہی گپ شپ کے بعد میںنے پوچھا۔
’’سائیں جی ، روہی میں آپ جو بھی کرتے رہے ، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ، آپ کا جو بھی کالا دھندہ تھا یہاں پر اس کی ساری تفصیل معلوم ہے ۔اس وقت میں آ پ کے پاس صرف یہی پوچھنے آ یا ہوں کہ اب آپ کا کیا پروگروام ہے؟‘‘
’’آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا سارا نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے ۔ اور اچھا ہوا یہ ٹوٹ گیا ورنہ یہاں جو میری ساکھ تھی نہ صرف وہ تباہ ہو جاتی بلکہ میری اولاد کو بھی کچھ نہ ملتا۔‘‘ اس نے آرزدہ لہجے میں کہا۔
’’کیا ہوا تھا ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ وہی تنّی جیسے لوگ جو اس نیٹ ورک میں شامل ہو کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے ۔ میرے نام کو بہت غلط کیش کیا انہوں نے ۔ میں نہیں کہتا کہ میں بے گنا ہ ہوں لیکن اتنا نہیں جتنا وہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘اس نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا تو میںمسکراتے ہوئے بولا۔
’’میں آپ کی صفائی لینے نہیں آ یا ، میں تو یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب کیا پروگرام ہے؟‘‘
’’ نہیں ، میں اب کہاں کچھ کر پائوں گا۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔
’’ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ وہی کچھ کریں جو پہلے کر رہے تھے ۔ یہاں پر میں سر پرستی کروں گا ۔اس کی شروعات الیکشن میں ہمارا بھر پور ساتھ دے کر کریں۔‘‘
’’ الیکشن میں تو میں آ پ ہی کا ساتھ دوںگا ۔ جہاں چاہئیں مجھ سے اعلان کروا لیں ۔باقی اب میں کیسے کام کروں گا ؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔
’’دیکھیں سائیں جی ، سیدھی اور کھری بات ہے ۔ سارا نیٹ ورک میں بنائوں گا ۔بندے میں دوں گا ۔وہ روہی میں رہیں گے یا جیسے بھی رہیں ۔ آپ انہیں چلائیں ۔وہ سب وفا دار ثابت ہوں گے ۔اب اس سے جو کمائیں گے وہ ہوگا آ دھا آ دھا ۔‘‘ میں نے اس کے سامنے اپنی آ فر رکھی۔
’’ آپ سچ کہہ رہے ہیں یا مجھے آ زما رہے ہیں؟‘‘ اس نے بے اعتباری سے پوچھا۔
’’ میں کوئی چھوٹی بات کرنے نہیں آ یا ۔‘‘ میں نے سختی سے کہا تو وہ سوچنے لگا پھر دھیرے سے بولا۔
’’ جیسے آ پ کہیں گے وہ تو مجھے ماننا ہی پڑے گا۔‘‘
’’ ماننا نہیں پڑے گا ، یہ مجبوری ہوگی ۔ اگر آپ کا من چاہے ۔ کر سکیں تو اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ہم سب کچھ پہلے ہی طرح چلا لیں گے ۔‘‘ میںنے اس کی ہمت بندھائی ۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ وہ کرنا چاہتا ہے لیکن صرف جھجک رہا ہے ۔ اسے یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے آ زمایا تو نہیں جا رہا ہے ۔میرے حوصلہ دینے پر اس کے چہرے پر سرخی نمودار ہوئی ۔ پھر آ ہستہ سے بولا۔
’’ ٹھیک ہے ، ہم کر لیتے ہیں۔‘‘
’’ یہ ہو ئی نا بات ۔چلیں پھر ایک دو دن میںملتے ہیں ۔ میں بندے آ پ کو دوںگا۔جو کہیں بھی دھوکا نہیں دیں گے ۔‘‘ میںنے کہا تو وہ خوش ہو گیا ۔ پھر کافی دیر تک اسی موضوع پر باتیں چلتی رہیں ۔ وہ اپنے تجربات بتا تا رہا ۔ رو ہی کے حوالے سے اس نے کئی باتیں بھی بتائیں لیکن اس طرح کے کسی کیمیکل والی ریت سے وہ بے خبر تھا ۔شاید اس کے بندوں نے بھی گڈریوں یا خانہ بدوشوں ہی کی راکھ سمجھی ہو گی۔
رات کا فی بیت گئی تھی جب ہم وہاں سے اٹھے ۔سائیں حجرے کے باہر تک ہمیں چھوڑنے آ یا ۔ ہم دربار کے احاطے سے گزر کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہے تھے ۔ میں جانتا تھا کہ عار ف کوئی نہ کوئی تبصرہ ضرور کرے گا ۔ شایدوہ خاموش تھا کہ وہی مجاور ہمارے ساتھ آ رہا تھا ۔ احاطہ پار کرنے کے بعد ہم نے اپنے جوتے پہنے اور سیڑھیوں کی جانب بڑھے۔
اس وقت ہم نے سیڑھیوں پر قدم نہیں رکھا تھا ۔ اچانک ہماری فور وہیل کے عقب سے ایک کار برآمد ہوئی ۔وہ لمحہ سے بھی کم وقت میں رکی تو اس کے ٹائروں کی رگڑ نے فضا کی خاموشی کو چیر کر رکھ دیا ۔ اس کے ساتھ اس کی کھڑکیوں میں سے نکلتی ہوئی گن کی نال نے فائر اگل دیا ۔ میںنے ملجگے اندھیرے میں شعلے دیکھے ، اس کے ساتھ ہی فائرنگ کی آ واز سے فضا لرز اتھی ۔ فائر کی آواز ابھی معدوم نہیں ہوئی تھی ۔ میرے قریب ایک چیخ بلند ہوئی جس نے مجھے بد حواس کر دیا۔
میرے ساتھ کھڑا ہوا مجاور فرش پر گر چکا تھا۔ اس کا سر سیڑھیوں کے اوپر تھا اور اس کا دھڑ نیچے سرکتاچلا جا رہا تھا۔ میرے ساتھ کھڑا ہوا عارف شاید ساری صورت حال سمجھ چکا تھا ۔ اس نے مجاور کے اوپر سے چھلانگ لگائی ۔ وہ سیڑھیاں پار کرتا ہوا نیچے کی طرف چلا گیا ۔ میں نے مجاور کو سنبھالا۔ اس کے سینے میں گولی لگی تھی ۔خون سے اس کے کپڑے تر ہو چکے تھے۔ میں نے اسے پکڑا اور اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ وہ بھی زندہ تھا۔ اس کے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ دربار کے صحن میں چند ملنگ اور درویشوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔وہ بھی چونک کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے ۔ میں نے اُسے سیدھا کیا اور اس کا زخم دیکھنے لگا۔ فائرنگ کی آواز سے مختلف حجروں سے لوگ نکل چکے تھے۔ میں نے سامنے دیکھا، سائیں محبت خان باہر آ چکا تھا۔ اس نے جب باہر کی صورت حال دیکھی تو ہماری طرف بھاگا۔میں سمجھ چکا تھا کہ اب وہ مجاور کو سنبھال لے گا۔ میں نے لمحہ بھر میں فیصلہ کیا اور اپنی فور وہیل کی جانب بھاگا۔
میں دیکھ رہا تھا کہ حملہ آ وروں کی کار تھوڑے فاصلے پر جا چکی تھی ۔ جب تک میں اپنی فوروہیل کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔حملہ آ وروں کی کار ہم سے تقریبا دو فرلانگ دور جا چکی تھی۔ گاڑی سٹارٹ کرکے جب میں ان کے پیچھے لگا تو وہ ہم سے کافی دور جا چکے تھے۔ صرف اس کی بیک لائیٹس نظر آ رہی تھی۔ میرے لئے اتنا ہی کافی تھا۔
میرے اور حملہ آوروں کے درمیان کافی فاصلہ تھا ۔میں نے حد رفتار کو قابو میں رکھتے ہوئے گاڑی ان کے پیچھے لگا دی۔ ایک لمحے کو تو مجھے یوں لگا جیسے انہیں پکڑ نہیں پاؤں گا مگر میں انہیں چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں ۔ کار کا ڈرائیور خاصا ماہر نظر آتا تھالیکن میں بھی اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا۔ میرا اور اس کا فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ہم صحرا کے درمیان بنی ہوئی تارکول والی سڑک پر تھے۔ مجھے خوف بھی یہی تھا کہ وہ کہیں صحرا میں اپنی گاڑی نہ لے جائیں ورنہ ہمارے لئے مشکل ہو جاتی۔عارف اپنا پسٹل نکال چکا تھا۔ جوں جوں ہمارا فاصلہ کم ہوتا جارہا تھا میرے اندر سنسنی پھیلتی جا رہی تھی۔ میں یہی سوچ رہا تھا۔ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں؟ ممکن ہے یہ افضل سردار کے بھیجے ہوں؟ یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں ابھی کچھ دیر پہلے میں اندر کروا کر آیا تھا یا پھر سائیں محبت خاں کے بھی ہو سکتے تھے ۔وہ لوگ کون تھے اور کسے مارنے آ ئے تھے ؟اس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ پر وہ جو کوئی بھی تھے دشمن تھے۔ وہ قتل کرنے آئے ہی آئے تھے ۔وہ کسے قتل کرنے آ ئے تھے یہ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا تھا۔وہ میرے سامنے تھے اور انہیں قابو کرنا تھا؟
’’علی، تم پورے دھیان سے گاڑی اس کے قریب لے جاؤ۔ باقی میں دیکھتا ہوں ۔‘‘عارف سرد لہجے میں بولا۔میں سمجھ گیا وہ کیا چاہ رہا تھا۔
میری اور ان کی گاڑی کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان کی طرف سے ابھی تک کوئی مزاحمت نہیں ہوئی لیکن جوں ہی ہمارا فاصلہ انتہائی قریب ہوا۔ کار کی دائیں طرف والی کھڑکی سے ایک گن کی نال برآمد ہوئی ۔ اس سے پہلے کوئی فائر ہوتا، عارف نے فائر کردیا۔ اس نے یہ فائر ٹائر پر کیا تھا ۔ایک دھماکا ہوا اور آگے جانے والی کار لڑکھڑانے لگی۔ جس طرح میں سوچ رہا تھا کہ اس کا ڈرائیور بہت ماہر ہے۔ اس نے کار سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ سنبھل نہ سکی اور سڑک سے اتر کر ریت میں دھنس گئی۔ یہ لمحہ ہمارے لئے بہت ہی سنسنی خیز تھا۔
کار میں پتا نہیں کتنے لوگ تھے۔ میں نے پوری قوت سے فوروہیل کے بریک لگائے تو ٹائر چر چر ا اٹھے ، یہاں تک کہ فور وہیل رکتے رکتے ان کے اوپر جا پہنچی ۔ حیرت انگیز طور پر سامنے سے کوئی فائر نہیں ہو ا تھا ۔ یہ لمحہ بہت خوفناک تھا۔ عارف نے سمجھداری کی اور گاڑی سے باہر نہیں نکلا۔ اس نے چند لمحے انتظار کیا۔ ہمارے سامنے کار ریت میں دھنس چکی تھی۔ ابھی تک اس میں سے کوئی آدمی ہمارے سامنے نہیں آیا تھا۔ عارف نے میری طرف دیکھا اور سرسراتے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’ علی ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔‘‘
’’ ہاں ، دیکھتے ہیں ۔‘‘ میں نے اسے جواب دیا۔
دو منٹ سے بھی کم وقت میں ایک آدمی باہر نکلا۔ اس نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیئے تھے۔ عارف نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا ۔وہ اسے دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد ایک اور آدمی باہر نکلا۔ وہ شدید زخمی تھا ۔اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے کپڑے خون میں تر ہو رہے تھے ۔ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کار میں کتنے لوگ ہیں۔
فور وہیل کی جلتی ہوئی ہیڈ لائٹس میں وہ نظر آ رہے تھے۔ پہلے آدمی نے زخمی آدمی کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ کار میں تیسرا آدمی بھی سامنے آگیا ۔ممکن ہے کار میں کوئی مزید آدمی بھی ہوں۔ تبھی عارف نے سن روف کھولا اور اونچی آواز میں کہا۔
’’ خبردار، کوئی ہلنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘
وہ لوگ اپنی جگہ ساکت ہو گئے ۔ہم صرف دو تھے اور ان کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ تین تھے یا چار ۔ان کے پاس بھی بھاری اسلحہ ہوسکتا تھا۔میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ہمارے پیچھے ایک اور گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی۔ رات کے اندھیرے میں ہیڈلائٹس سے کچھ پتہ نہیں لگ سکتا تھا کہ وہ کون ہوسکتے ہیں؟
ہمارے پیچھے آنے والی گاڑی لمحہ لمحہ ہمارے قریب ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ہمارے سامنے ریت میں دھنسی ہوئی دشمن کی کار اور پیچھے سے آتی ہوئی تیزرفتار گاڑی کے درمیان ہم صرف دو ۔ یقینا عارف بھی یہی سوچ رہا ہوگا جو میں سوچ رہا تھا۔ وہ سن روف سے نیچے ہوا۔
’’ یہاں خطرہ ہے ۔‘‘ اس نے سرسراتے ہوئے کہا۔
’’ ہے تو …‘‘ میں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا تو اس نے بھی اپنی طرف کھول دروازہ کھول لیا ۔پھر ایک ساتھ ہی پورادروازہ کھول کر فور وہیل سے نکلے اور ریت کی طرف چھلانگ لگادی۔ اس طرح ہم آ نے والے لوگوں سے تو محفوظ ہو سکتے تھے۔
میں تیزی سے بھاگتا ہوا تھوڑا دور نکل گیا ۔میں ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھ گیا۔ تقریباً دو منٹ بعد ہی ایک جیپ ہماری فوروہیل کے پاس آ رُکی۔
میں دیکھ رہا تھا۔ جیپ رکتے ہی اس میں سے چار لوگ تیزی سے نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں گنیں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے آتے ہیں ہماری گاڑی میں جھانک کر دیکھا۔
’’ علی بھی گاڑی میں نہیں ہے۔‘‘ ایک شخص نے اونچی آواز میں کہا۔
’’ دیکھو، کہاں ہے ؟یہی کہیں ہوں گے دیکھو۔‘‘ دوسرے شخص نے تشویش لہجے میں کہا۔
وہ کون تھے جنہیں میری تلاش تھی ۔سامنے فور وہیل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی بجائے وہ مجھے ڈھونڈنا چاہتے تھے۔مجھے یوں لگا جیسے میں گھیرے میں آ چکا ہوں۔
(ان شاء اللہ باقی آ ئندہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close