Naeyufaq Feb 2019

گفتگو

اقبال بھٹی

’’حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی‘ سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک امت کے۔ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) وہ کون سی امت ہے؟ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ارشادفرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘
(الترمذی‘وابودائودواحمد)

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

سال نو کا دوسرا شمارہ حاضر مطالعہ ہے۔
آج کے دور میں پرچا شائع کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے کاغذ سمیت اشاعت کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ درجنوں ادارے بند ہوچکے ہیں اور کئی ایک آخری سانس لے رہے ہیں۔ اشاعتی ادارے شدید بحران کا شکار ہیں روزانہ خبر ملتی ہے کہ آج فلاں اخبار بند ہوگیا۔ اتنے صحافی بے روزگار ہوگئے۔ اس وقت نئے افق بھی شدید بحران کی کیفیت میں ہے ہم پہلے ہی اشتہارات سے محروم تھے اب روپے کی گراوٹ اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے کاغذ اور طباعت کے اخراجات میں اضافے نے ہمارے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑا دیے ہیں۔ ہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے قارئین پر کوئی بوجھ نہ ڈالیں نئے افق واحد پرچا ہے جس نے ابھی تک قیمت میں اضافہ نہیں کیا لیکن اب قیمت میں اضافہ کر کے بھی ہمارے لیے پرچے کی اشاعت بہت مشکل نظر آرہی ہے۔ ہم پر یہ مثال صادق آرہی ہے کہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ ہماری تمام قارئین اور مصنفین سے اپیل ہے کہ وہ اللہ رب العزت سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور ہمارے ادارے کو ہمت و استقامت دے، آمین۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف سے رقم طراز ہیں۔ قابل قدر بھٹی صاحب۔ آداب عرض امید ہے آپ اور من پسند میگزین سے وابستہ سبھی احباب بخیریت ہوں گے۔ نجانے کتنے برسوں سے افقی قبیلے کی یہ ریت رہی ہے کہ وہ بہتر سے بہترین موثر اور با مقصد مواد کی سلیکشن میں کوشاں ہیں ادب کے حوالے سے رنگا رنگ تحریروں سے مزین یہ پرچہ ہر ایک کی ضرورت بن چکا ہے اس کی ٹیم دن رات اسے نکھار کی طرف گامزن رکھتی ہے تبھی یہ بازاری پرچوں سے ایک قدم آگے ترقی کے افق یہ چمکتا روشن ستارہ دکھائی دے رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمیں وقت سے پہلے مل رہا ہے اور معیار کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور قیمتاً بھی رعایت ہے تبھی من پورا ماہ اس کے انتظار میں بے چین رہتا ہے۔ جنوری کے ٹائٹل سے آغاز کرتا ہوں بلا شبہ آپ نے اس پر بیکراں محنت کی دوشیزہ کی تصویر پنچھی کی اڑان، مورتی کی سجاوٹ چیتے نے نقش و نگاری اور لان کی منظر نگاری اسے چار چاند لگانے کے لیے ناکافی ہے۔ جناب سر مشتاق احمد قریشی صاحب درخت لگانے ان کے فوائد و نقصانات اور امریکیوں کی سازشوں کا تذکرہ خوب صورتی سے کر رہے تھے بلا شبہ مضر صحت درخت ہر گز نہ لگائیں وہ پیڑ لگائیں جو صحت آمیز ہوں اور گہرا سایہ بھی میسر آئے۔ گفتگو پرچے کا وہ حصہ ہے جس سے سبھی احباب سے ہیلو ہائے ہوتے ہوئے آدھی ملاقات ہوجاتی ہے اور لکھاری احباب کی تحریروں پہ تاثرات پڑھتے ہوئے ان سبھی کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے میں سبھی احباب کو آواز دے رہا ہوں کہ ہر ماہ اس میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور ایک دوسرے میں اپنی مسرتیں شیئر کریں۔ محمد اسلم جاوید نے نئے سال کی بھرپور انداز میں مبارکباد دی جی خیر مبارک ریاض حسین نے تاریخی حوالے سے خوب صورت بات کی انہوں نے میرے تبصرے کو سراہا۔ بھائی آپ بھی عمدہ معیاری اور منفرد انداز اپناتے ہو ریاض بٹ صاحب نے بھی ہمارے آرٹیکل کو سراہا اور یاد رکھنے کی یقین دہانی کرائی پرنس صاحب بھی پرچے کا نچوڑ پیش کر رہے تھے نیر رضوی جی آدھے پرچے پر رقم طراز تھے۔ ملک عارف صاحب عرصے بعد آمد کا کہہ رہے تھے تو جناب ہر ماہ آتے رہیے جاوید احمد صدیقی بھائی عرق ریزی سے پرچہ پہ مغز ماری کر رہے تھے انہوں نے قبولہ شریف کا حدود و اربعہ پوچھا ہے۔ سر قبولہ شریف قصبہ کی صورت ہے اس کی تاریخ تقریبا دس صدیاں پرانی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہیر رانجھا کا فیصلہ یہاں کے راجہ عدلی کے پاس آیا تھا وہ عشق کی حقیقت کو نہ سمجھ سکا اور فیصلہ کیدو خاندان کے حق میں دیا جس سے پورے شہر کو آگ لگ گئی انہیں واپس بلانے پر دوبارہ فیصلہ کیا گیا۔ آگ تو ہیر رانجھا کی دعا سے بجھ گئی مگر سالہا سال گزرنے پر اب بھی دھواں کہیں نہ کہیں اٹھتا رہتا ہے۔ قصبہ قبولہ شریف بہاولنگر سے چالیس کلو میٹر دور عارف والا روڈ پر واقع ہے مشرق میں چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر پاک پتن شریف ہے اور جنوب میں تقریبا پینتالیس کلو میٹر پر حاجی شیر دیوان کی درسگاہ ہے اور ساتھ ہی بورے والا کا شہر بھی، عارف والا تحصیل ہے اور پاک پتن ضلع ہے اس شہر میں زندگی کی سبھی سہولتیں میسر ہیں۔ بات دور نکل گئی اب آتے ہیں پھر پرچے کی طرف تو طاہر قریشی صاحب ہر ماہ قرآن و سنت کے اسباق ہمیں معلم کی صورت پڑھاتے ہیں اور ان پر بہت ہی باریک بینی سے روشنی ڈالتے ہیں بہت خوب جی خون ریز کی تیسری کڑی منفرد انداز میں نمایاں ہوئی انہوں نے معاشرہ کے نجی رویوں سے پردہ اٹھایا۔ خلیل جبار نے بھی اچھا تاثر دیا یقینا مظلوم کی آہ ساتویں آسمان تک جا پہنچتی ہے اور پھر وہ ہو کر رہتا ہے جو مظلوم چاہتا ہے اس تحریر پر مصنف کا نام نہیں لکھا گیا۔ محمد سلیم اختر نے بھی زندگی کے بہت سے پہلوئوں سے پردہ اٹھایا نیلم نے برا دھندا چھوڑا یہ خوشی کا باعث ہے عمارہ خان بھی آٹھویں سیڑھی پر خوب سے خوب تر کی طرف گامزن پائیں۔ ایم زیڈ شیخ نے بھی اچھا لکھا اور بنٹی میں آنے والی تبدیلی نے زمرد کے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ ذیشان فاروقی نے عشق کا احوال بڑی باریک بینی سے بیان کیا اور سچی محبت سرخرو ہوئی ویلڈن جی، زرین قمر صاحبہ بھی ہمیشہ کی طرح اچھوتا خیال لائیں جو عمدہ تاثر دے گیا۔ رانا زاہد حسین نے بھی اچھا لکھا منیر نے مضحکہ خیز حرکت کرتے ہوئے قتل کر کے پوری دنیا کے خانساموں کا سر شرم سے جھکا دیا انہوں نے ثابت کردیا کہ نوکر جوان نہیں رکھنا چاہیے۔ فن پارے کے سبھی رائٹرز ایک دوسرے سے سبقت پر تھے ذوق آگاہی میں سبھی احباب بھرپور حصہ لے رہے ہیں خوش بوئے سخن کی شاعری دل کو بھا گئی۔ ساحر جمیل سید بھی برق رفتاری اور چابکدستی سے اپنے الفاظ کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں حجاب اپنے گھر اپنے آشیانے پہنچی گھر اور در بھلا کتنے عزیز ہوا کرتے ہیں۔ آخر میں اپنے من پسند منفرد اور انمول لکھاری ابن صفی کے حوالے سے نئے لکھاریوں کے تاثرات انہی کے لفظوں، فقروں اور انداز میں پڑھتے ہوئے بہت سے اصلاحی پہلو اجاگر ہوئے خدا ہمارے من پسند میگزین کو یونہی افق پر سدا جگمگتا رہے۔
بہاولنگر سے پرنس افضل شاہین کا نامہ آپ لکھتے ہیں۔ اس بار نئے افق کا پہلا شمارہ چوبیس دسمبر کو ملا اور چھبیس دسمبر کو خط تحریر کر رہا ہوں سرورق دیکھ کر یہ قطعہ ہونٹوں پر مچلنے لگا۔
تعلق ہے میرا خانہ بدوشوں کے قبیلے سے
جہاں رشتہ ٹھہر جائے وہیں پرگھر سا لگتا ہے
کہیں ایسا نہ ہو جائے تیرے پروں کو نوچ لے کوئی
تیری اونچی اڑانوں سے مجھے تو ڈر سا لگتا ہے
دستک میں مشتاق انکل درختوں کی اہمیت اور ان کے نقصان کے بارے میں فرما رہے تھے بالکل کراچی کا درجہ حرارت 1947ء میں تیس پینتیس درجہ تک ہوتا ہوگا اب تو سارے پاکستان میں ہی ماحول دشمن پودے لگائے جا رہے ہیں جو کہ پانی بھی زیادہ پیتے ہیں اور ماحول بھی خراب کرتے ہیں ان ہی کی وجہ سے انسان سستی کاہلی بے پروائی کی طرف گامزن ہو رہا ہے ہوا میں آکسیجن کی کمی کا باعث بھی یہ درخت بن رہے ہیں ہمیں اور حکومت کو چاہیے کہ دیسی درخت جن میں پیپل، کیکر، گوندی، شیشم، چیڑ، برگد لگائیں تاکہ پاکستان بھر کا درجہ حرارت 35 سے زیادہ نہ بڑھنے پائے اقرا میں طاہر بھائی اللہ تعالیٰ کے ایک صفاتی نام الواسع کے بارے میں بتا رہے تھے اللہ تعالیٰ کا ہر اسم باعث شفا ہے ہمیں چاہیے کہ اللہ کے ہر اسم کو زبان پر جاری رکھیں۔ گفتگو میں پہنچنے کے لیے صفحہ پلٹا تو اقبال بھائی آپ نے تمام مسیحی بھائیوں کو کرسمس اور نیا سال مبارک ہو کہا جبکہ آپ کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تمام مسیحی بھائیوں کو کرسمس اور تمام پاکستانیوں کو نیا سال مبارک ہو اگر میں نے گستاخی کردی ہے تو معافی چاہتا ہوں، ہماری بھی دعا ہے اللہ تعالیٰ ساحر جمیل کو مکمل صحت یابی دے کرسی صدارت پر محمد اسلم جاوید براجمان تھے بھیا ہماری طرف سے بھی آپ کو نیا سال مبارک ہو آگے بڑھے تو ریاض حسین قمر تشریف فرما تھے آپ نے بادشاہ اور درزی کی خوب مثال دی کہ حکمرانوں کی نیت جیسی ہو گی ملک ویسے چلے گا۔ آگے بڑھے تو ریاض بٹ کا محبت نامہ پایا۔ واقعی بھیا نئے افق واحد پاکستانی ماہنامہ ہے جس کی قیمت نہیں بڑھی ہے میری تحریر پسند فرمانے کا شکریہ، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے شکر ہے دو ماہ میرے خطوط ردی کی ٹوکری کی نذر ہونے کے بعد آج تیسرا خط شامل اشاعت ہے نیئر رضوی بے روزگاروں کو ضرور روزگار ملنا چاہیے جو کہ کراچی میں توڑ پھوڑ کے بعد بے روزگار ہوئے ہیں تجاوزات کے خلاف آپریشن اچھا اقدام ہے یہ اقدام حکومت نے سپریم کورٹ کے آرڈر پر کیا ہے ایم حسن نظامی ہماری بھی خواہش ہے کہ گفتگو میں خطوط نئے پرانے تمام لکھاری لکھیں جیسا کہ اس بار ملک عارف اعوان نے کافی سالوں بعد اس میں خط لکھا عارف بھائی ہم آپ کو نئے افق میں خوش آمدید کہتے ہیں وعدے کے مطابق ہر ماہ خط لکھا کریں جاوید احمد صدیقی آپ نئے افق پر مفصل تبصرہ لکھتے ہیں بھیا قبولہ ہمارے شہر بہاولنگر اور عارف والا کے درمیان میں واقع ہے اس کے باقی قریبی شہروں میں پاکپتن اور بورے والا بھی شامل ہے۔ ذوق آگہی میں شبیر احمد، سیدہ فوزیہ رضوی، غلام فاطمہ، امجد علی، خوش بوئے سخن میں افضل گوہر، ریاض حسین قمر، حافظہ رضیہ، کرن مشتاق، عمیر نجمی، مالا راجپوت، فرح بھٹو چھائے رہے۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ سے لکھتے ہیں۔ محترم جناب اقبال بھٹی صاحب اور تمام اسٹاف کو میرا سلام قبول ہو۔ نئے سال کا شمارہ جنوری کا بھی آگیا اور اس طرح 2018ء بھی اپنے اختتام کو پہنچا 2018ء کے سب ہی رسالے نئے افق کے اچھے تھے اگر اس میں سالگرہ نمبر ہوتا تو بات اور بھی اچھی ہوجاتی۔ اس دفعہ کا نئے افق مجھے بہت اداس کرگیا یہ بات نہیں کہ رسالہ اچھا نہیں تھا رسالہ تو اپنی جگہ بہت ہی شاندار تھا اور اس کے سب ہی سلسلے بھی رسالے کی شان میں اضافہ کر رہے تھے جن میں ذوق آگہی، خوش بوئے سخن اور سب سے بڑھ کر ابن صفی کے رسالے کی رونق اور بھی بڑھا دی ہے۔ دوستوں کے خط بھی بہت اچھے انداز میں تحریر کیے ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر دل خوش ہوجاتا ہے محمد اسلم جاوید، ریاض حسین قمر، ریاض بٹ، پرنس افضل شاہین، نیئر رضوی، ایم حسن نظامی، ملک عارف اعوان، جاوید احمد صدیقی صاحب نے تو کمال کردیا اور بہت ہی تفصیل سے خط لکھا مبارک باد قبول ہو اب میں اداسی کی وجہ بتا دیتا ہوں کہ میں نے خط رجسٹری کیا مگر میرا خط شامل نہیں تھا امید ہے کہ اس دفعہ ضرور شامل کریں گے اجازت، اللہ حافظ۔
ریاض بٹ… حسن ابدال سے فرماتے ہیں۔ السلام علیکم نئے سال 2019ء کا پہلا شمارہ دیدہ زیب سرورق لیے 22 دسمبر کو بک اسٹال سے خریدا فہرست پر نظر ڈالی تو اس بار بھی اپنی کہانی کو گم پایا وجہ سمجھ نہیں آئی میں نے محسوس کیا ہے کہ ادارے نے اب مجھے نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے خیر صبر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے جن بہن بھائیوں کو میری کہانی کا انتظار رہتا ہے وہ بھی صبر کریں اب بڑھتے ہیں اپنی پسندیدہ محفل گفتگو کی طرف پہلا خط ہے جناب محمد اسلم جاوید صاحب کا بھائی کرسی صدارت مبارک ہو آپ کا خط قابل تعریف ہے واقعی نئے افق کی قیمت باقی رسالوں کی نسبت بہت کم ہے ریاض حسین قمر بھائی منگلا ڈیم سے خط لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں بھائی آپ نے درزی والی بات خوب لکھی ہے جنہوںہیرا پھیری کرنی ہوتی ہے وہ یہ کام لاکھ پہروں میں بھی کر گزرتے ہیں آپ تو محفل کی جان ہیں آپ کی ایک ماہ کی غیر حاضری بھی ہمیں گراں گزرتی ہے آپ نے وہ نغمہ تو سنا ہی ہوگا تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں پرنس افضل شاہین بھائی کیسے ہو آپ کا تبصرہ بھی شاندار ہوتا ہے بھائی جب عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو پتا چل جاتا ہے کہ عمارت کس طرف جائے گی؟ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن مزید کئی کروڑ کو بے روزگار کردیا ہے آپ کا قطعہ اور شعر لا جواب ہے نیر رضوی میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ غریبوں کو روزگار دینا چاہیے ایم حسن نظامی آپ کا تبصرہ بھی پسند آیا آپ نے جو بات کی ہے وہ قابل توجہ ہے جو لوگ غائب ہیں محفل سے ان کو جلد از جلد حاضر لگوانی چاہیے ہم سب منتظر ہیں چوا سیدن والے بھائی ملک عارف اعوان آپ کی حاضری اچھی لگی، اب باقاعدگی سے آتے رہیے گا اگلا خط ہے جناب جاوید احمد صدیقی صاحب کا حسب معمول بھرپور اور مدلل خط ہے بھائی میں تو ہر ماہ ایک کہانی لکھ کر ارسال کردیتا ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ آپ لوگ میری کہانی کے منتظر رہتے ہیں بہرحال آپ کا تبصرہ اور خط محفل میں دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے خوش رہیں اور خوش رکھیں پیار بانٹیں یہی زندگی ہے کیونکہ
پیار کی جوت سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ
ایک بھی شمع نہ روشن ہو ہَوا کے ڈر سے
موبائل نمبر امید ہے آپ نے نوٹ کرلیے ہوں گے اب بڑھتے ہیں باقی سلسلوں کی طرف اس بار ذوق آگہی میں میرا انتخاب شائع نہیں کیا گیا ویسے ذوق کا سارا انتخاب لا جواب ہے۔ محفل خوش بوئے سخن میں پرنس افضل شاہین، ریاض حسین قمر، منزہ ہاشمی، نیئر رضوی، محمد اسلم جاوید، ایم حسن نظامی کا انتخاب لاجواب ہے۔ باقی انتخاب بھی اچھا ہے اب چلتے ہیں گوشہ ابن صفی میں یہاں پر اس بار ڈاکٹر حامد حسن حامی چھائے ہوئے ہیں انہوں نے بہت اچھا لکھا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ لکھنے کا حق ادا کردیا زیرو لینڈ، علی عمران میری نظری میں، تھریسیا میری نظر میں، زہریلا آدمی، صفر بٹا صفر کی کہانی تعریف کے قابل ہیں البتہ ایک اضافہ میں کرنا چاہوں گا کہ عمران کو جوزف ایک کیس کے سلسلے میں ملا تھا اور عمران نے باقاعدہ فائٹ کر کے جوزف کو حاصل کیا تھا اور یہ کیس تھا چالیس ایک باون اب بات کرتے ہیں باقی کہانیوں کی خون ریز کی تیسری قسط لا جواب ہے خلیل جبار کی ناکردہ گناہ اچھی لگی عمیر آخر اپنے انجام کو پہنچا، مظلوم کی دعا تو عرش بھی ہلا دیتی ہے عمیر کو شاید یہ پتا نہیں تھا یا شاید اس نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی محمد سلیم اختر کی کہانی پارس، ایک کال گرل کی کہانی بڑے موثر انداز میں تحریر کی یہ ضمیر اور دلوں کو جھنجوڑنے والی کہانی ہے ویل ڈن باقی کہانیوں میں دائرہ عشق، بلیو وہیل، ہوس تعریف کے قابل ہیں فن پارے بھی اپنی مثال آپ ہیں عاصم شہزاد، اسحاق جنجوعہ، حمیرا قریشی اور تسنیم شریف نے بہت اچھا لکھا اسی طرح لکھتے رہیں اب اجازت ان شاء اللہ اگلے ماہ ملاقات ہوگی، خدا حافظ۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ مدیر نئے افق جناب اقبال بھٹی صاحب سلام مسنون امید واثق ہے کہ آپ مع اپنے دیگر ساتھیوں کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصار میں ہوں گے بہت ہی خوب صورت سرورق والا نئے سال 2019ء کا پہلا شمارہ میرے سامنے ہے اتنا خوب صورت سرورق بنانے پر مصور بہت ہی مبارک باد کا مستحق ہے دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے جس گمبھیر مسئلے کی نشاندہی فرمائی ہے وہ قابل غور مسئلہ ہے اور ہم ہیں کہ بے حسی کی چادر تانے بے فکری کی نیند سوئے ہوئے ہیں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اسی کیفیت کی نشان دہی شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ نے اس طرح فرمائی ہے۔
وائے ناکامی امتاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم ہر طرح سے لٹ رہے ہیں اور ہمیں لٹنے کا احساس تک نہیں یہ کیفیت قوموں کی تباہی کا باعث ہوتی ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام کی مختلف زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں رب کریم ہمیں آزادی کی نعمت عطا فرمائے آمین۔ گفتگو کے آغاز میں اقبال بھٹی صاحب نے بڑی پیاری حدیث بیان فرمائی ہے اس بار فیصل آباد کے بھائی اسلم جاوید صاحب کرسی صدارت پر متمکن ہوئے ہیں بھائی مبارکباد قبول فرمائیے آپ کا تبصرہ مختصر مگر جامع ہے حسن ابدال سے پیارے بھائی ریاض بٹ صاحب تفصیلی تبصرے کے ساتھ تشریف لائے ہیں ریاض بھائی تبصرہ پسند فرمانے کا شکریہ یہ آپ حضرات کی پسند ہی ہے جو مجھے ہر ماہ خط لکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے رب ذو الجلال آپ سب حضرات کو خوش رکھے، آمین۔ محترم پرنس افضل شاہین صاحب نے تبصرے کا آغاز ایک پیارے سے بر محل قطعہ سے کیا ہے تبصرہ خوب ہے اللہ زور قلم اور زیادہ جناب نیئر زیدی کا مختصر خط بھی خوب ہے ایم حسن نظامی صاحب تبصرہ پسند فرمانے پر دلی شکریہ قبول فرمائیے آپ کا تبصرہ لاجواب ہے ملک عارف اعوان کا تبصرہ بھی مختصر تھا جناب جاوید احمد صدیقی صاحب کا طویل تبصرہ بہت پسند آیا صدیقی بھائی آپ نے ہمیں یاد رکھا بہت بہت شکریہ خوش بوئے سخن میں میرا کلام پسند فرمانے کا شکریہ محترم جناب طاہر قریشی صاحب نے جس طرح رب ذوالجلال کے اسم مبارک الواسع کی تشریح بیان کی ہے وہ انہیں کو زیبا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے آمین، خوش بوئے سخن میں محترمہ نوشین اقبال نوشی کا اور ذوق آگہی میں محترمہ سباس گل کا انتخاب لاجواب ہے۔
اردو بازار کراچی سے مہک زبیر رقم طراز ہیں۔ انکل جی نئے افق کے پورے اسٹاف کو سلام عرض ہے ادارے سے شائع ہونے والے تینوں پرچے آنچل، حجاب اور نئے افق ایک عرصہ سے میرے زیر مطالعہ ہیں لیکن نئے افق مجھے زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں شائع ہونے والی تحریریں بڑی موضوعاتی اور حقیقت سے قریب ہوتی ہیں اس کی مثال سلسلے وار کہانی مرشد اور خوں ریز ہیں جن میں کہانی پن پایا جاتا ہے لگتا ہے ہیرو کسی خاص مقصد کے لیے کام کر رہا ہے جبکہ فن پاروں میں شائع ہونے والے افسانے حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔ وہی عشق و محبت کے عام سے خیالی پلاٹ، آپ اس پر توجہ دیں۔ زرین قمر صاحبہ کے ناول انگریزی سے ترجمہ ہوتے ہیں لیکن ان کا انتخاب اچھا ہوتا ہے اس ماہ ان کا ناول بلیو وہیل بہت خوب صورت اور سنسنی خیز رہا۔ عمارہ خان کی ہارر اسٹوری وہ تیس دن بھی اچھی جا رہی ہے لیکن اس کے صفحات بہت کم ہوتے ہیں۔ ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن دونوں سلسلے بہت خوب صورت ہیں اللہ نئے افق کو مزید ترقی دے آمین۔
ملک عارف اعوان میر پور آزاد کشمیر سے لکھتے ہیں۔ پہلے تو وضاحت کردوں میرا تعلق چوا سیدن شاہ سے ہے میں نے پچھلا خط بھی وہیں سے تحریر کیا تھا لیکن میں روزگار کے سلسلے میں میر پور میں مقیم ہوں، میرا خط شائع کرنے کا شکریہ، میں کوشش کروں گا کہ گفتگو کی محفل میں باقاعدگی سے حاضری لگاتا رہوں۔ سال نو کے شمارے میں امجد جاوید کی خوں ریز اور ساحر جمیل سید کی مرشد نے خاصا متاثر کیا۔ دونوں مصنفین کی قلم پر گرفت خاصی مضبوط ہے وہ لکھتے ہوئے قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں کہانی پڑھتے ہوئے قاری خود کو اسی ماحول کا حصہ سمجھتا ہیں۔ زرین قمر خاصی منجھی ہوئی رائٹر ہیں ان کا انتخاب پائے کا ہوتا ہے جس کا ثبوت ان کا ناول بلیو وہیل ہے ابھی میں نے صرف یہی تین تحریریں پڑھی ہیں باقی پرچا زیر مطالعہ ہے ان شاء اللہ جلدہی سیر حاصل تبصرہ ارسال کردوں گا۔
لاڑکانہ سے زوہیب قریشی۔ تمام پڑھنے والوں کو السلام علیکم اقبال بھٹی صاحب آپ سے فیس بک پر تو ملاقات رہتی ہے آپ کے حکم کے مطابق خط لکھ رہا ہوں، گو لکھنے کی مجھے مشق اور عادت نہیں ہے میں نے پہلے بھی آپ سے شکایت کی تھی کہ نئے افق سندھ کے پس منظر میں بہت کم تحریریں ہوتی ہیں جب آپ کے پاس سندھ سے اچھے لکھنے والے ہیں سندھ کا ادب بڑا زرخیر ہے آپ اس طرف ضرور توجہ دیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close