Aanchal Dec 15

کام کی باتیں

حنا احمد

سبزیوں کے خواص اور ان کے فائدے
ہمارے روزمرہ کے استعمال میں جو سبزیاں آتی ہیں‘ قدرت نے ان میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی رکھی ہے اگر ہم ان سبزیوں کو متواتر اور صحیح طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہمیں بہت سی بیماریوں اور پریشانیوں سے بچاسکتی ہیں۔
غذا کا مقصد انسان کی بقا ہے‘ بھوک کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے محض پیٹ بھرنا ہی مقصد نہیں بلکہ ایسی غذا کا استعمال کرنا ضروری ہے جو ہمارے جسم کو بھرپور توانائی بخش سکے۔ خون میں اچھی غذا کی شمولیت تمام جسم کو چاق و چوبند رکھتی ہے۔
اسلامی طب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے غذا کو بنیادی اہمیت شروع سے دی گئی ہے اور غذائوں سے علاج کیا گیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ذکر ہے‘ مدینہ منورہ کے طبیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آئے کہ ہمارے پاس کوئی مریض نہیں آتا اور ہم بے کار بیٹھے رہتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’یہ لوگ اس وقت تک کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے جب تک شدت کی بھوک نہ لگے اور پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ان کی صحت مندی کا راز کم خوری میں ہے‘ غذا پر کنٹرول کرنے سے انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’انسان نے اپنے پیٹ سے بڑے کسی برتن کو نہیں بھرا۔‘‘
کھانا اس قدر کھانا چاہیے کہ کمر سیدھی رہے‘ اگر آنتوں کی وسعت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کا ایک حصہ کھانے کے لیے رکھا جائے۔دوسرا پانی کے لیے اور تیسرا ہوا کے لیے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’معدہ انسان کے جسم میں حوض کی مانند ہے اس سے جسم میں ہر طرف نالیاں جاتی ہیں اگر معدہ تندرست ہوگا تو یہ تمام نالیاں صحت مند اشیا لے کر جائیں گی اگر معدہ بیمار ہوا تو نالیاں بھی بیماری لے کر جائیں گی۔‘‘
شاید یہی وجہ ہے کہ آج کل غذا کے ماہرین کو اہمیت دی جاتی ہے‘ وہ بڑے بڑے مرض کا علاج سبزیوں سے کرتے ہیں اور کامیاب ہیں۔
گہرے سبز رنگ کی سبزیاں اہم غذائی خزانہ ہیں جو قدرت نے فیاضانہ طور پر عطا فرمایا ہے۔ ان میں دیکھا جائے تو پروٹین سے لے کر فولاد ‘ کیلشیم‘ لحمیات بھی شامل ہوتا ہے اور وہ خاص جز بھی شامل ہیں جو چربی اور تیل کو جسم میں حیاتین الف میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے آنکھیں متاثر ہوتی ہیں‘ بینائی میں کمی ہوتی جاتی ہے۔
اکثر ممالک میں ہری سبزیاں استعمال نہ کرنے سے نابینائوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین صحت اب ہری سبزیوں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔
ہماری غذا میں چند بنیادی اجزا شامل ہونا ضروری ہیں‘ ان سے ہی غذائیت کا معیار قائم کیا جاتا ہے۔ پروٹین‘ کاروبائیڈریٹ‘ وٹامن‘ روغنیات‘ نمکیات و معدنی عناصر اور پانی غذا کے اہم اجزا ہیں یہ مناسب مقدار میں غذا میں ضرور ہونا چاہئیں۔
پروٹین
ہمارے جسم کا روزانہ محنت و مشقت کے باعث خرچ ہونے والی توانائی کو پورا کرنے کے لیے کسی نہ کسی مناسب غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ غذا پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے تاکہ جسم کی ٹوٹ پھوٹ مکمل ہوسکے۔
ضروری نہیں کہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مختلف جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کیا جائے بلکہ یہ دالوں‘ انڈوں‘ میوئوں اور دودھ میں بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہے۔ چاول اور گیہوں میں اس کی مقدار کم ہے مگر چونکہ اسے روزانہ خوراک میں زیادہ کھایا جاتا ہے اس لیے جسم میں اچھی خاصی پروٹین پہنچ جاتی ہے۔ نباتاتی پروٹین‘ سبزیوں اور پودوں میں پائی جاتی ہے۔ گیہوں کا آٹا‘ چاول‘ دالیں اور پھلیاں وغیرہ اس میں شامل ہیں۔ ہمارے جسم میں پروٹین چار اہم کام سرانجام دیتی ہے۔
1۔ یہ خلیات کی مرمت کرتی ہے‘ جسمانی نشوونما کے لیے پروٹین زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتی ہے۔ جن بچوں کو پروٹین نہیں مل پاتی ان کا قد اور وزن نہیں بڑھتا‘ اسی طرح دیگر افراد کو بھی پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے۔
2۔ پروٹین جسم میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے جس سے صحت ٹھیک رہتی ہے۔
3۔ پروٹین کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کے جذب ہونے کی رفتار باقاعدہ رہتی ہے اس کی غیر موجودگی میں خون کے سرخ ذرات کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔
4۔ پروٹین ہمارے جسم میں ایندھن کا کام دیتی ہے‘یہ ہمارے جسم کو طاقت اور حرارت پہنچا کر قوت دیتی ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے دودھ سب سے بہتر غذا ہے ‘ اچھی قسم کی چھاچھ میں بالائی اترے دودھ سے بھی اعلیٰ قسم کی پروٹین بن جاتی ہے۔
کاربو ہائیڈریٹ
یہ چینی‘ شکر‘ گڑ‘ اناجوں اور سبزیوں کی جڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹ سب سے زیادہ شکر میں پائے جاتے ہیں۔
vانگور کی شکر کو گلوکوز کہتے ہیں۔
vپھلوں سے حاصل کی گئی شکر کرفٹوز۔
vگنے سے حاصل شدہ شکر کو اسکروز۔
vدودھ کی شکر کو لیسکٹوز۔
vسبزی کی شکر کو مالنوز کہتے ہیں۔
جب ہم کوئی نشاستہ دار غذاکھاتے ہیں تو ہمارے جسم میں جاکر کاربوہائیڈریٹ تحلیل ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور یہ خون کے ذریعے تمام جسم کے خلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جب ہم سانس لیتے ہیں تو آکسیجن ان میں شامل ہوکر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی بناتی ہے اس عمل کے نتیجے میں ہمارے جسم کو توانائی اور حرارت حاصل ہوتی ہے۔
چکنائی
مناسب مقدار میں چکنائی کھانے کا فائدہ یہ ہے کہ بہت جلد بھوک نہیں لگتی۔ جسم خشکی کا شکار نہیں ہوتا‘ روغنیات میں وٹامن اے اور ڈی موجود ہوتی ہے۔ چکنائی ٹھوس بھی ہوتی ہے اور سیال حال میں بھی‘ گھی اور مکھن ٹھوس حالت میں کھائے جاتے ہیں۔ دودھ کی بالائی میں بھی چکنائی موجود ہوتی ہے‘ زیتون کھاکر بھی چکنائی حاصل کی جاتی ہے‘ مونگ پھلی‘ بادام‘ سرسوں اور ناریل یہ سب اس طرح بھی کھائے جاتے ہیں اور ان کا تیل بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پانی
ہمارے جسم میں تقریباً 70 فیصد پانی ہوتا ہے‘ پانی بار بار پیتے رہنے سے گردوں اور خون سے زہریلے مادے نکل جاتے ہیں۔ پانی بھی جسم کے بہت سے نمکیات حل کرتا ہے اور انہیں خون میں شامل ہونے میں مدد دیتا ہے۔ پانی مناسب مقدار میں پیتے رہنے سے جلد بھی صحت مند رہتی ہے‘ معدہ اور گردے بھی ٹھیک رہتے ہیں۔ بس ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کھانے کے دوران کئی کئی گلاس پانی پینے سے گریز کریں اس کی وجہ سے معدہ جلدی ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور کھانا ٹھیک طور سے تحلیل نہیں ہوپاتا۔ معدے میں متعدد قسم کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوجاتا ہے۔
انوشہ طارق… کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close