Hijaab Mar 2019

رواجوں کے اسیر

بشریٰ سیال

’’میزاب تم ہوش میں تو ہو؟‘‘ اس کی بات نے تو صحیح معنوں میں میرب کا دماغ گھما دیا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی بہن ایسا ارادہ رکھتی ہے۔
’’ہاں ہوش میں ہوں اور دیکھنا میں کبھی بھی ان لوگوں کے رواجوں اور رسموں کا شکار نہیں بنوں گی۔ مجھے نہیں رہنا اس گھٹن زدہ حویلی میں۔‘‘ اس کے لہجے میں نفرت اور حقارت کو محسوس کرتے میرب پریشان ہوگئی تھی۔
’’نہیں کرنی مجھے شادی شاہ میر سے۔‘‘ وہ بہت بڑی بات بہت آسانی سے کہہ رہی تھی۔ اس کی باتوں سے بغاوت کی بو آرہی تھی جو میرب کا دل دہلا رہی تھی۔
’’تم… کرو گی… تم؟‘‘ اس نے استفہامیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’انکار۔‘‘ وہ پرسکون لہجے میں بولی۔
’’گویا تم بغاوت کرو گی؟‘‘ وہ بے یقینی سے بولی۔
’’ہاں…‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اگر اس کو بغاوت کہتے ہیں تو پھر یہ ہی سمجھ لو۔‘‘ وہ جتنے سکون سے بول رہی تھی میرب کا دل اتنا ہی بے سکون ہورہا تھا۔
’’بغاوت موت کا دوسرا نام ہے‘ جو تم کرنے کا سوچ رہی ہو۔ اس سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے ذلت ورسوائی کے۔‘‘ وہ اس سے چھوٹی تھی مگر معاملے کی نزاکت کو اس سے بہتر سمجھ رہی تھی۔ ’’اور ہوسکتا ہے وہ لوگ تمہیں جان سے مار دیں۔‘‘
’’پروا نہیں۔‘‘ اس نے شانے اچکائے۔ ’’مجھے تو اس جہنم سے نجات چاہیے۔ اب تک کی زندگی یہاں قید میں گزار دی اور اب باقی عمر میں ضائع نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اتنے خطرناک عزائم ہیں تمہارے… ایسا نہ ہو نجات کے بجائے اسی حویلی کی دیواروں میں چنوا دی جائو۔‘‘ وہ اسے متوقع خطرے سے آگاہ کررہی تھی مگر اسے مطلق پروا نہ تھی۔
’’فکر مت کرو‘ میں انارکلی نہیں ہوں۔‘‘ وہ حظ اٹھاتے ہوئے بولی۔ ’’جو دیوار میں چنوا دی جائوں۔‘‘
’’تم انارکلی نہیں ہو مگر اس حویلی میں بہت سارے اکبر بادشاہ موجود ہیں۔‘‘ اس نے احساس دلایا۔
’’ڈرتی نہیں میں کسی سے۔‘‘ اس نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔
’’جو کرنے جارہی ہو اس کا انجام معلوم ہے تمہیں؟‘‘
’’مجھے کوئی فکر نہیں۔‘‘ اسے حالات کا اندازہ نہ تھا۔
’’ابھی نہیں ہے مگر جب ان رسموں کی بھینٹ چڑھوگی تو فکر بھی ہوگی اور پروا بھی مگر تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ میرا مشورہ مانو تو چپ چاپ شادی کرلو۔ شاہ میر بھائی اچھے ہیں‘ ہینڈسم‘ ایجوکیٹڈ اور میرا خیال ہے وہ تمہیں پسند بھی کرتے ہیں اور…‘‘
’’اتنا ہی اچھا ہے تو تم کرلو اس سے شادی… مجھے اس حویلی کا ایک مرد بھی پسند نہیں۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔
’’میزاب…‘‘ اس نے اتنی بڑی بات کتنی آسانی سے کہہ دی تھی۔ وہ آنکھیں پھاڑے حیرت و دکھ کے ملے جلے جذبات کا شکار ہوکر اسے دیکھتی رہی۔
’’جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہو‘ تم ایک بار پھر سوچ لو‘ تمہارے انکار سے بابا سائیں کو بہت دکھ ہوگا۔‘‘ وہ اسے بابا سائیں کی محبت و شفقت کا واسطہ دینے لگی۔
’’اور جو میرا دل دکھا ہے‘ ہر بات میں میری رائے کو اہمیت دینے والے بابا سائیں نے میری زندگی کا سب سے اہم فیصلہ میری رضا جانے بغیر کیسے کرلیا؟‘‘ وہ حیران تھی۔
’’تم یہی دیکھ لو، بابا سائیں نے پوری برادری کی مخالفت مول کر ہمیں یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلوایا۔‘‘ میرب نے احساس دلایا۔
’’تم کیوں فضول میں پریشان ہورہی ہو؟‘‘ اس کی بات کو قصداً نظر انداز کرتے ہوئے وہ استفہامیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
’’میں نہیں چاہتی تمہارے ساتھ کچھ برا ہو۔‘‘ وہ خوف زدہ تھی۔ میزاب نے محبت سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا جو اس کے لیے پریشان تھی۔
’’بابا سائیں اور ادا مراد میرا ساتھ دیں گے۔ تم دیکھ لینا۔‘‘ اس کے لہجے میں اتنا اعتماد اور یقین تھا کہ چند ثانیے کو تو میرب خاموش ہی رہ گئی۔
’’تمہاری سوچ غلط ہے۔ حویلیوں میں بہنوں‘ بیٹیوں کو محبت‘ مان‘ خلوص تب تک ملتا ہے جب تک وہ بات مانتی ہیں۔ بغاوت کرنے والی لڑکیوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ تمہارا مان ٹوٹے گا‘ مت آزمائو۔‘‘ میزاب کو اس پر ترس آنے لگا۔ اٹھ کر اس کے پاس آبیٹھی اور بازو اس کی گردن میں حمائل کردیے۔
’’ڈونٹ وری۔ میں یہاں سے نکل جائوں تو تمہیں بھی ساتھ لے جائوں گی۔‘‘ میرب تڑپ کر اس سے الگ ہوئی۔
’’سو جائو اب اور مجھے بھی سونے دو۔‘‘ میزاب لیٹ گئی اور میرب بے بسی سے اس کی جانب دیکھتی رہ گئی تھی۔
}…{٭}…{
’’میزاب سائین کرو۔‘‘ اس کی ہٹ دھرمی اماں جان اور میرب دونوں کو خوف زدہ کررہی تھی۔
’’اماں جان میں نے شادی کی تاریخ رکھتے وقت آپ کو بتایا تھا کہ مجھے شاہ میر سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ اس کی بات کمرے میں داخل ہوتے بابا سائیں نے سن لی تھی۔ میرب اور اماں جان کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی تھی۔
’’کیا کہا؟ ذرا پھر سے کہو۔‘‘ اپنے عقب میں بابا سائیں کی آواز سن کر خوف کی ایک شدید لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی۔ کوشش کے باوجود زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی۔
’’بابا سائیں… مجھے شاہ میر سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ ہمت مجتمع کرتے ہوئے بالآخر اس نے کہہ دیا۔
’’بس…‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں روک دیا۔ اماں جان اور میرب بابا سائیں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ بابا سائیں اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے نگاہیں جھکا رکھی تھیں۔ کمرے میں موت کا سا سناٹا تھا‘ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نظر آرہی تھی۔ وہ ایک دم اٹھی اور بھاگ کر اپنے کمرے میں آگئی اور دروازہ بند کرلیا۔ بیڈ پر گر کر وہ گہرے سانس لینے لگی۔ بابا سائیں کی آنکھوں میں کس قدر سرد مہری تھی۔ اسے جھرجھری آگئی۔
’’میزاب کی جگہ اب میرب کا نکاح ہوگا شاہ میر سے۔‘‘ کمرے کی خاموشی کو بابا کی آواز نے توڑا۔
’’مگر شاہ میر کی منگیتر تو میزاب ہے ناں…‘‘ اماں جان نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری‘ میرب خان تو گنگ بیٹھی تھی۔ یہ کیا ہوگیا تھا لمحوں میں، بھلا شادیاں اس طرح بھی ہوتی ہیں۔
’’تمہاری ایک لڑکی کو تو اس کے نکاح میں جانا ہے۔ بڑی نہ سہی چھوٹی سہی۔‘‘ انہوں نے ایک چبھتی ہوئی طنزیہ نگاہ چھوٹے بھائی کی بیوی پر ڈالی۔
’’دستخط کرو۔‘‘ انہوں نے کاغذ کا ٹکڑا میرب کے سامنے پھینکا۔ وہ کسی بے جان بت کی مانند ساکت بیٹھی تھی۔
’’اتنا ہی اچھا ہے تو تم کرلو شادی۔‘‘ اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا‘ وہ کہیں نہ تھی۔
’’زہرہ بیگم… لڑکی سے کہو دستخط کرے… ورنہ دونوں کا حشر ایسا ہوگا کہ…‘‘ دانستہ بات ادھوری چھوڑ کر وہ اس کی طرف دیکھنے لگے۔ اماں جان نے اسے جھنجوڑا۔ اس نے خالی خالی نظروں سے ان کی جانب دیکھا اور پھر دستخط کردیے۔
’’میزاب یہ کیا کردیا تم نے… مجھے کس بات کی سزا ملی؟‘‘ وہ بت کی مانند بیٹھی تھی۔ جب نوری (ملازمہ) تھال اٹھائے اندر داخل ہوئی۔ جس میں بیش قیمت لباس اور زیورات تھے۔ اس نے خاموشی سے سب پہن لیا۔ جب سولی چڑھنا مقدر ٹھہرا تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اسے خاموشی سے تیار ہوتا دیکھ کر اماں جان کا کلیجہ کٹ رہا تھا۔
’’مت روئیں اماں۔‘‘ قیمتی لباس اور زیورات کے ساتھ مضمحل اور اداس وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔
’’ہم لڑکیوں کی یہی قسمت ہے کیونکہ ہمارے باپ بھائی رواجوں کے اسیر جو ٹھہرے‘ آپ میزاب کے لیے دعا کریں۔ یہ لوگ اس کے ساتھ اچھا نہیں کریں گے۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی تھی۔
}…{٭}…{
’’میزاب بی بی غضب ہوگیا۔‘‘ اس کا دروازہ دھڑ دھڑایا جارہا تھا۔ آنے والی نوری تھی۔ اس نے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے دیا اور چٹخنی چڑھا دی۔
’’حاکم بابا نے میرب بی بی کا نکاح شاہ میر خان سے کروا دیا۔‘‘ اس نے بم پھوڑا۔
’’کیا…؟‘‘ اس نے دل پہ ہاتھ رکھا۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ اسے معاملے کی سنگینی کا اب اندازہ ہوا تھا۔ ’’تو کیا میری بہن میری جگہ گڑھے میں گر گئی؟‘‘ وہ جانتی تھی کہ میرب نے شاہ میر کو ہمیشہ اس کے حوالے سے دیکھا تھا۔
’’کس قدر ظالم لوگ ہیں‘ بے گناہ کے ساتھ یہ کیا ہے تو میرے ساتھ کیا کریں گے۔‘‘ اسے اب صحیح معنوں میں گھبراہٹ ہورہی تھی۔ دل تھا کہ خشک پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔ کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔
}…{٭}…{
’’میرب مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں گے۔‘‘ وہ دلہن بنی بیٹھی تھی جب میزاب اس کے پاس آکر رو دی۔ ’’مجھے معاف کردو۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ دیے‘ میرب نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر چوم لیا۔
’’میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔ تم سے خفا نہیں ہوسکتی… اب یہ سوچو کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ تم ادا مراد کو راضی کرنے کی کوشش کرو اگر وہ اور بابا سائیں تمہارا ساتھ دیں تو ٹھیک ہے‘ ورنہ جرگہ جو سزا تجویز کرے گا…‘‘ اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے‘ جرگے کو کس نے حق دیا ہے کہ فیصلہ کرے۔ مجھے شاہ میر پسند نہیں تھا تو…‘‘
’’تمہاری یہ جرأت کہ میری بیوی سے بات کرو۔‘‘ مہمانوں کو رخصت کرنے تک یہ بات چھپائی گئی تھی کہ شاہ میر کا نکاح میزاب سے نہیں میرب سے ہوا ہے۔ وہ آندھی طوفان کی طرح آیا تھا اور سامنے بیٹھی میزاب کو دیکھ کر ضبط کھو بیٹھا۔
’’نکلو یہاں سے تم۔‘‘ اس نے میزاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے کی سمت دھکا دیا‘ اس کا سر دیوار سے جا ٹکرایا اور خون بہنے لگا۔
’’میزاب…‘‘ میرب تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی۔
’’خبردار اگر یہ نام دوبارہ تمہاری زبان پر آیا… ورنہ یہیں تمہاری قبر بنادوں گا۔‘‘ شاہ میر کی بات سے اس کے پورے جسم میں پھریری دوڑ گئی‘ میزاب جاچکی تھی اور شاہ میر نے اس کا غصہ میرب پر اتارا تھا۔
}…{٭}…{
اماں جان اس سارے واقعہ میں خاموش تماشائی کی حیثیت رکھتی تھیں۔ صرف وہ ہی نہیں‘ حویلی کی سب عورتوں کا یہی حال تھا۔ کسی کو بھی گھر کے اور زندگی کے کسی معاملے میں بولنے کی اجازت نہ تھی۔ ان کی ایک بیٹی زبردستی شاہ میر کے نکاح میں دے دی گئی تھی اور دوسری کا انجام بھی انہیں اچھا نظر نہیں آرہا تھا کیونکہ وہ حویلی کے اصولوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔ وہ اپنے کمرے سے نکلیں‘ ان کا رخ میزاب کے کمرے کی جانب تھا۔
’’رک جائو…‘‘ شوہر کی گرج دار آواز نے ان کے قدموں کو جکڑ لیا۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے اس نافرمان کے پاس جانے کی۔‘‘ وہ بارعب آواز میں بولے۔
’’میں تو اسے…‘‘
’’اب کیا کہنا ہے اسے؟‘‘ وہ غصے سے گویا ہوئے۔ ’’تم اپنی بیٹیوں کی تربیت تو ڈھنگ سے کر نہ سکیں… بے وقوف عورت۔‘‘ وہ نفرت سے پھنکارتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں بولے تو وہ الٹے قدموں اپنے کمرے میں آگئیں۔ انہیں کسی پل چین نہیں آرہا تھا۔ ان کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بہت بڑا سیلابی ریلا ان کی بیٹی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جو اسے بہا لے جائے گا اور وہ چاہ کر بھی اپنی بیٹی کو بچا نہیں سکتی تھیں۔
}…{٭}…{
شاہ میر کپڑے تبدیل کرنے کے لیے چلا گیا تھا۔ واپس آیا تو میرب کو کسی گہری سوچ میں غرق بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے پایا۔ اس کے اندر نفرت اور غم و غصے کی ایک تیز لہر اٹھی۔
’’کس کی اجازت سے میرے بیڈ پر بیٹھی ہو؟‘‘ وہ غیظ وغضب کے عالم میں تیزی سے اس کے قریب آیا… وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’نکاح ہونے سے تم میری بیوی نہیں بن گئیں‘ اس رشتے کی حیثیت میری نظر میں ایسی ہے…‘‘ اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے ایک کاغذ اٹھایا اور لمحوں میں اسے پھاڑ کر میرب کے منہ پر مارا‘ وہ ساکت رہ گئی۔
’’میری منگ میزاب تھی‘ میں اسے حاصل کرکے رہوں گا۔ اور اسے میرے پاس آنا ہوگا۔‘‘ اس کی بات سن کر میرب کی روح فنا ہونے لگی۔ اس کے عزائم تو بہت خطرناک تھے۔ اس نے شاہ میر کا یہ روپ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’اس کی جرأت کیسے ہوئی مجھے ٹھکرانے کی‘ یہ اختیار اسے دیا کس نے‘ عورت مرد کی پراپرٹی ہوتی ہے۔ وہ اسے جب چاہے جہاں رکھے‘ جیسے چاہے استعمال کرے‘ پھر اس کے ذہن میں یہ آیا کیسے کہ وہ مجھ سے اپنی جان چھڑا سکتی ہے۔‘‘ اس کے نادر خیالات جان کر میرب کو از حد افسوس ہوا‘ وہ اسے ایسا نہیں سمجھتی تھی۔ یہ اس کی خام خیالی تھی کہ وہ دوسروں سے مختلف تھا۔ در حقیقت حویلی کے سب مرد ایک جیسے ہی تھے۔
}…{٭}…{
روایات کے مطابق یہ معاملہ جرگہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اماں جان اللہ کے حضور سجدہ ریز تھیں۔ وہ جانتی تھیں کچھ اچھا نہیں ہوگا مگر پھر بھی انہیں اللہ کی رحمت سے امید تھی۔
جرگہ نے فیصلہ دے دیا تھا۔ وہی فیصلہ جو عام طور پر ایسے معاملات میں دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے نے حویلی کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ابھی کل ہی تو حویلی کے سب سے بڑے اور لاڈلے بیٹے شاہ میر کی شادی ہوئی تھی اور آج اس کا ولیمہ تھا مگر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہاں کوئی جنازہ اٹھنے والا ہے۔ درو دیوار بین کررہے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ اس خاموشی میں محسوس کی جانے والی اداسی تھی۔
دروازہ زور دار ٹھوکر سے کھلا اور وہ تیر کی سی تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آئی۔
’’آپ مجھے کمرے میں کیوں بند کرکے گئے تھے؟‘‘ اس کا نڈر انداز اور آنکھوں میں عیاں ہوتا غصہ شاہ میر کو طیش دلا گیا۔
’’تم اسی لڑکی کی بہن ہو ناں جس نے پوری برادری کے سامنے باپ کی پگڑی اچھالی‘ مجھے کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑا۔‘‘ وہ نفرت سے پھنکارا۔
’’میری بہن نے ایسا کچھ غلط نہیں کیا‘ یہ اس کا…‘‘
’’اسٹاپ اٹ۔‘‘ وہ غصہ سے چیخا۔
’’دوبارہ میرے سامنے اس کی حمایت مت کرنا۔‘‘ اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہورہی تھیں‘ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔ وہ اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی۔
’’کہاں جارہی ہو؟‘‘ اس کی آواز نے میرب کے قدموں کو روک دیا۔ اسے کمرے میں بند کیا تھا تو کچھ بھی کرسکتا تھا۔
’’میزاب سے…‘‘
’’شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ۔‘‘ وہ دھاڑا‘ میرب دنگ رہ گئی۔
’’تم ایسے باز نہیں آئوگی۔ تمہارا علاج کرنا پڑے گا۔‘‘ اس نے اسے بازو سے دبوچا اور باہر کی جانب بڑھا۔
’’چھوڑیں مجھے۔‘‘ اس کی مضبوط گرفت میں وہ تڑپ کر رہ گئی۔ ’’کہاں لے کر جارہے ہیں مجھے؟‘‘ وہ چیخی مگر اسے تو شاید سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ کوریڈور سے گزرتے ہوئے اسے زرمینہ نے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے‘ وہ بھاگ کر اس کی اماں کے پاس گئی۔
’’چاچی… چاچی‘ ادا شاہ میر ادی میرب کو جانے کہاں لے کر جارہے ہیں۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ باہر بھاگیں مگر وہ اسے اپنی جیپ کی فرنٹ سیٹ پر دھکا دے کر خود ساتھ بیٹھ چکا تھا۔
’’شاہ میر… رک جائو پتر… کہاں لے کر جارہے ہو اسے…؟‘‘ جیپ اسٹارٹ ہوئی اور وہ اسے زن سے اڑا لے گیا۔ میرب کو جاتا دیکھ کر ان کی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھیں۔ وہ بھی انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
’’پلیز گاڑی روکیں شاہ میر۔‘‘ وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگی۔ ’’مجھے صرف ایک بار اماں جان سے ملنے دیں۔‘‘ روتی‘ ہاتھ جوڑتی‘ منتیں کرتی وہ شدت غم سے نڈھال تھی مگر وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا تھا۔
}…{٭}…{
’’کہاںگئی تھی زرمینہ؟‘‘ اسے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے قریب آئیں۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسوئوں نے انہیں بے چین کیا۔
’’بولتی کیوں نہیں؟‘‘ اس کی خاموشی انہیں ہولا رہی تھی۔
’’امی جان… ادا شاہ میر، ادی میرب کو گھسیٹتے ہوئے نہ جانے کہاں لے گئے۔ ادی بہت رو رہی تھی۔‘‘ اس کے آنسو بہنے لگے۔
’’بہت اچھا ہوا‘ میں تو کہتی ہوں اللہ کرے دونوں بہنیں روتی رہیں۔‘‘ وہ حقارت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’کچھ نہیں چھوڑا ہمارا‘ حویلی کی عزت برباد ہوگئی۔ جانے شاہ میر کہاں گیا‘ ادا مہروز‘ ادا حاکم اور تمہارے بابا اس قدر پریشان ہیں کہ…‘‘
’’اماں… جو بہنوں اور بیٹیوں کے دل اور زندگیاں اجاڑتے ہیں، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔‘‘ وہ دکھ بھرے لہجے میں بول گئی۔
’’خاموش رہو تم‘ دیکھا نہیں بیٹیوں کے بولنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اب میزاب کے ساتھ یہ نہ جانے کیا کریں گے۔‘‘
’’دنیا چاند پر پہنچ گئی مگر ہماری حویلی کے مردوں کی سوچ اب بھی صدیوں پرانی ہے۔ یہ کب بدلیں گے اپنی سوچ‘ کب ہماری قسمت بدلے گی؟‘‘ زرمینہ تاسف سے بولی۔
’’ہزاروں سال بھی گزر جائیں تب بھی ان حویلیوں میں رہنے والے کبھی اپنی سوچ نہیں بدلیں گے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا تو زرمینہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا تھا۔
}…{٭}…{
شام کے سائے گہرے ہوت رہے تھے۔ ہر سو خاموشی کا راج تھا۔ درختوں پر بیٹھے پرندے بھی خاموش تھے۔ خود اس کا اپنا دل اتنا خوف زدہ تھا کہ محسوس ہوتا تھا ابھی دھڑکنیں تھم جائیں گی۔ کوئی اس کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ اماں جان نے بھی جھانک کر نہیں دیکھا تھا۔
’’سب لوگ کہاں چلے گئے؟‘‘ اس کا دل ہول رہا تھا مگر جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ جو سوچا تھا‘ سب اس کے برعکس ہوا تھا۔
’’جانے میرب کہاں ہے؟‘‘ وہ سوچوں کے تانے بانے بن رہی تھی کہ دروازہ زور دار آواز سے کھٹکھٹایا جانے لگا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول دیا۔ اسے کسی انہونی کا احساس ہونے لگا۔ سامنے بابا سائیں‘ حاکم بابا اور بہروز بابا کھڑے تھے۔ ایک طرف ادا مراد سر جھکائے کھڑے تھے۔ وہ خوف سے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔ وہ سب لوگ کمرے میں داخل ہوگئے۔
’’بابا سائیں…‘‘ اس نے باپ کی طرف دیکھا‘ انہوں نے منہ پھیر لیا۔
’’ادا مراد۔‘‘ وہ کانپتی ہوئی آواز میں مدد طلب نظروں سے بھائی کی طرف دیکھنے لگی… وہ آگے بڑھنے لگی تو حاکم بابا نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا۔ وہ بابا سائیں کے قدموں میں جاگری۔
’’ہمارے فیصلوں کو چیلنج کرتی ہو‘ ہماری حویلی میں رہ کر‘ ہمارا کھا کر‘ ہمارے سامنے کھڑی ہوگی۔‘‘ حاکم بابا دھاڑے۔ ’’کیا کمی تھی شاہ میر میں؟‘‘
’’مم… مجھے معاف… کردیں۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے۔
’’بغاوت کی سزا تو ضرور ملتی ہے‘ آج تمہیں چھوڑا تو کل کوئی دوسری اٹھ کھڑی ہوگی‘ اس لیے بھیجا تھا تمہیں یونیورسٹی‘ یہ صلہ دیا ہے تم نے ہماری محبتوں کا۔‘‘ وہ دھاڑے اور وہ مجبور تھی اسے سننا تھا۔ وہ محکوم تھی اور وہ حاکم۔
’’نہیں حاکم بابا۔‘‘ ان کا فیصلہ سن کر وہ لرز اٹھی۔ ’’یہ مت کریں‘ میرے ساتھ۔ ادا سائیں… مجھے بچالو۔ بابا سائیں مجھ پر رحم کریں۔‘‘ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے۔ وہ اماں اور میرب کو مدد کے لیے پکار رہی تھی مگر اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔
’’حاکم بابا‘ مجھے ایک موقع دے دیں۔‘‘ وہ گڑگڑا رہی تھی مگر انہیں اپنی عزت بہت عزیز تھی۔ خود ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ بیوی کا بہت سال پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ شاہ میر ان کی اکلوتی اولاد تھا جو ان کی آنکھوں کا تارا تھا۔ میزاب کے انکار نے نہ صرف حویلی کے اصولوں کو توڑا تھا بلکہ ان کے بیٹے کی توہین بھی کی تھی۔

بیٹیاں…!
زندہ دفنائی اب بھی جاتی ہیں
سنا ہے پہلے وقتوں میں…!
بیٹی ایک ندامت تھی
پیدا ہوتے ہی
دفنا دی جاتی تھی
میں جب بھی آئینہ دیکھوں
مجھے یہ خیال آتا ہے
فقط انداز بدلے ہیں
رسمیں اب بھی باقی ہیں
فقط الفاظ بدلے ہیں
بیٹیاں زندہ دفنائی
اب بھی جاتی ہیں…!

وہ رو رہی تھی‘ گڑگڑا رہی تھی مگر ان ظالموں کو اس پر رحم نہیں آرہا تھا۔
}…{٭}…{
ہوش میں آنے کے بعد وہ خالی خالی نگاہوں سے چھت کو گھور رہی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا‘ جیسے وہ کسی گہرے خواب سے جاگی ہو لیکن پھر آہستہ آہستہ تمام مناظر واضح ہونا شروع ہوگئے‘ شاہ میر کا حویلی سے اسے ساتھ لے کر نکلنا‘ اماں کا گرنا اور اس نے چلتی جیپ سے چھلانگ لگانی چاہی تب ہی شاہ میر نے اس کا ارادہ بھانپ کر اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو ایسے میں اس کا سر پائپ سے ٹکرانے کی وجہ سے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی تھی‘ اچانک دروازہ کھلا مگر اس کی محویت نہیں ٹوٹی۔
’’کیسی طبیعت ہے تمہاری؟‘‘ آنے والا شاہ میر تھا۔ اسے سامنے دیکھ کر سب کچھ یاد آنے لگا۔ کل کے واقعات ایک ایک کرکے نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے۔ آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔ وہ بھاری قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔
’’بہت پریشان کیا ہے تم نے مجھے… بس بہت ہوگیا‘ میں ہاسپٹل کے چارجز پے کرکے آتا ہوں‘ پھر گھر چلتے ہیں۔‘‘ وہ باہر کی جانب بڑھنے لگا۔
’’میرا کوئی گھر نہیں ہے‘ نہ وہ میرا گھر تھا جہاں بغیر کسی غلطی کی مجھے سزا سنائی گئی اور نہ ہی آپ کا گھر میرا بن سکے گا‘ جس میں مجھے جبراً آپ کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ہم لڑکیوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا‘ گھر تو آپ مردوں کے ہوتے ہیں۔‘‘ شدت کرب سے اس نے آنکھیں موند لیں۔
’’زریاب خیریت‘ تم یہاں؟‘‘ وہ کمرے سے نکلا تو سامنے سے آتے زریاب خان کو دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔
’’اماں جان کی طبیعت بہت خراب ہے‘ میں انہیں لے کر اسپتال آیا ہوں۔‘‘ اس نے پریشانی کے عالم میں بتایا۔
’’اوہ… اچھا۔‘‘ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔
’’آپ یہاں کیسے؟‘‘ اسے اچانک خیال آیا تو پوچھا۔
’’ہاں… وہ… میں… بس ایک دوست کو دیکھنے آیا تھا۔‘‘ اس نے بات بنائی۔ اور زریاب خان یہ نہ جان سکا کہ اس کی پیاری بہن سامنے کمرے میں تنہا لیٹی، بے بسی سے آنسو بہار ہی ہے۔ وہ وہاں سے چلا گیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ شاہ میر خان میرب کو ساتھ لے آیا ہے۔ شاہ میر نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا‘ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’اگرچہ میں بتانا ضروری تو نہیں سمجھتا مگر پھر بھی بتا رہا ہوں۔ ہم اسلام آباد جارہے ہیں‘ وہاں میرا بزنس ہے جو کہ میرا دوست سنبھالتا ہے، اب میں خود دیکھوں گا۔‘‘ اس کی ذہنی وجسمانی کیفیت کی پروا کیے بغیر وہ پھر سے شروع ہوگیا تھا مگر وہ ہنوز خاموش تھی۔
’’تمہیں نہیں لگتا میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‘ کیوں کیا اس نے ایسا؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’آپ نے خود مجھے منع کیا تھا کہ آپ سے اس کا ذکر نہ کروں‘ تو پلیز میں بھی ریکویسٹ کرتی ہوں اس کا نام مت لیں‘ میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ اس نے التجائیہ انداز میں کہا۔
’’کیوں… کسی اور کو چاہتی تھیں تم؟‘‘ اس نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا تو وہ سناٹے میںآ گئی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’ٹھیک ہے‘ نہیں لیتا نام‘ مگر تم بھی اس گھر اور اس کے مکینوں کو بھول جائو۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا تھا۔
’’جانے اماں جان کیسی ہوں گی‘ میزاب کس حال میں ہوگی؟‘‘ وہ مسلسل ان کے متعلق سوچ رہی تھی۔
}…{٭}…{
اسے ہوش آیا تو ہر سو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اس کے منہ سے ہلکی ہلکی کراہنے کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر یکھ رہی تھی۔ رات کا وقت اور ہر سو پھیلا سناٹا۔ اس سناٹے میں کبھی کبھی مینڈک کے ٹرانے کی آوازیں ارتعاش پیدا کرنے لگتیں۔ اچانک باہر کتا زور سے بھونکا تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھی۔
’’اماں جان…‘‘ فضا اس کی چیخوں کی آواز سے گونج اٹھی۔ مینڈک کی آواز آنا بند ہوگئی تھی۔
’’میرب…‘‘ چکراتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’دروازہ کھولو‘ مجھے یہاں سے نکالو۔‘‘ مارے خوف کے اس کا دم نکل رہا تھا۔ ’’میں مر جائوں گی اماں جان۔‘‘ وہ جانتی تھی، اردگرد دور دور تک اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں مگر وہ مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ ساتھ ساتھ دروازہ بھی کھٹکھٹا رہی تھی۔ ’’میرا جرم اتنا بڑا تو نہیں ہے‘ پلیز مجھے یہاں سے نکالو۔‘‘ اس کی آہ وبکا دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھی۔
’’اتنے خطرناک عزائم ہیں تمہارے‘ ایسا نہ ہو نجات کے بجائے اسی حویلی کی دیواروں میں چنوا دی جائو۔‘‘ اسے میراب کی آواز سنائی دی۔
’’تم انار کلی نہیں مگر اس حویلی میں بہت سارے اکبر بادشاہ ہیں۔‘‘
’’میرب…‘‘ اسے اس کی باتیں یاد آرہی تھیں۔ ’’کتنا سمجھایا تھا تم نے مگر میں بے وقوف سمجھ ہی نہ سکی۔ تم مجھ سے چھوٹی ہوکر اتنی سمجھدار ہو‘ میں اتنی کم عقل کیوں ہوں۔ شاہ میر سے شادی اس قید سے تو بہتر تھی۔‘‘ وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی۔ پچھتاووں کے ناگ اسے ڈسنے لگے تھے۔
}…{٭}…{
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی۔
’’کاش خوشیوں کے پل تھم جایا کریں اور غم کی رات لمحوں میں کٹ جائے مگر درحقیقت خوشی تو وقتی ہوتی ہے اصل میں تو انسان دکھوں تکلیف میں رہنے والا ہے… کیا واقعی میں کبھی اپنوں سے نہ مل سکوں گی؟ کیا بابا سائیں اور ادا مراد اور زریاب نے میزاب کا ساتھ دیا ہوگا۔‘‘ اپنے پیاروں کو یاد کرکے وہ بے اختیار رونے لگی۔ اس سے کچھ فاصلے پر شاہ میر سکون سے سو رہا تھا‘ روتے ہوئے اچانک اس کے منہ سے سسکاری نکلی‘ اس نے تکیہ اٹھا کر منہ پر رکھ لیا اور اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے لگی۔ یکایک کمرہ روشنیوں میں نہا گیا‘ وہ گھوم کر اس کی طرف آیا‘ ہاتھ بڑھا کر تکیہ اس کے منہ سے کھینچا‘ اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ نیند سے سرخ ہوتی آنکھیں‘ اوپر سے ان میں غصہ‘ میرب کے ہوش اڑا گیا۔ وہ جلدی سے گال رگڑنے لگی۔
’’یہ شوق دن میں بھی پورا کیا جاسکتا ہے‘ یا رات کے اس پہر ماتم کرنا ضروری ہے‘ کون مر گیا ہے تمہارا؟‘‘ اس نے درشتی سے پوچھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ ’’جس نے جو کیا ہے وہ سزا بھی بھگت لے گا‘ خود کو ہلکان مت کرو اور نہ ہی مجھے مجبور کرو کہ میں تمہارے ساتھ سختی کروں‘ کیونکہ تم اس کی بہن ہو۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔
’’گویا ابھی نرمی برت رہے ہیں۔‘‘ وہ تلخی سے سوچ کر رہ گئی۔ وہ بتی بجھا کر دوبارہ لیٹ گیا مگر اس کے رونے میں تیزی آگئی تھی۔
’’اب اگر آواز آئی تمہاری تو گلا دبادوں گا۔‘‘ وہ سختی سے بولا‘ میرب اٹھ کر باہر نکل گئی۔ وہاں آکر وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ آنسو کسی سیلابی ریلے کی مانند بہنے لگے تھے۔
’’اماں جان… مجھے اپنی آغوش میں چھپا لیں۔ میں نہیں مقابلہ کرسکتی اس چٹان جیسے سخت انسان کا‘ میں اس سے سر ٹکرا ٹکرا کر مر جائوں گی‘ میرا دل اس شخص کو اپنا شوہر نہیں مانتا۔‘‘ وہیں بیٹھے سوچوں کی الجھی گتھیاں سلجھاتے اسے خبر نہ ہوئی کہ کب اس کی آنکھ لگی۔ صبح فجر کی اذان پر آنکھ کھلی۔
’’آہ…‘‘ اٹھنے لگی تو پورے جسم میں اسے ٹیسیں محسوس ہوئیں۔ تمام رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے جسم اکڑ گیا تھا۔ ’’جائے نماز کہاں ہوگی؟‘‘ وہ وضو کرکے آئی تو سوچنے لگی۔ بالآخر ہمت کرکے کمرے میں آئی اور سامنے انہماک سے نماز پڑھتے شاہ میر کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔ وہ نہایت عاجزی سے رکوع وسجود کررہا تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ حویلی کے کسی مرد کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
نماز پڑھ کر جب وہ جائے نماز تہ کررہا تھا تو اس پر نظر پڑتے ہی اس کے ہاتھ رک گئے‘ وہ نماز کے لیے دوپٹا لپیٹے کھڑی تھی۔ اسے یاد آیا کہ اس نے اسے بارہا حویلی میں نماز پڑھے دیکھا تھا۔ اس نے کئی بار اسے کہا تھا۔
’’میزاب کو بھی نماز پڑھنے کے لیے کہا کرو۔‘‘ تب وہ ہنس کر کہتی۔ ’’ادا میر‘ آپ خود شادی کے بعد اسے کہنا‘ میری نہیں سنتی۔‘‘
اسے عجیب احساسات نے گھیر لیا تھا‘ وہ جائے نماز کو وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ اسے میزاب پر اتنا غصہ تھا کہ ایک لمحے کے لیے بھی غور نہ کیا تھا کہ کتنا کچھ بدل گیا ہے۔ وہ لان میں آکر سنگی بینچ پر بیٹھ گیا۔
’’ارے میرب، یہ تم صبح صبح اتنے پھول توڑ کر کیا کرو گی؟‘‘ وہ حویلی کے لان میں سے پھول توڑ رہی تھی جب شاہ میر اس کے سر پر پہنچ کر بولا تھا۔
’’ادا میر آج میری دادی کی سالگرہ ہے‘ اس کے لیے گلدستہ بنانا ہے۔‘‘ وہ پھول توڑتی ہوئی مصروف سے انداز میں بولی تھی۔
’’تو گلاب کے پھولوں کا گلدستہ بنائو‘ یہ کیا تم نیلے پیلے پھول توڑ رہی ہو۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’گلاب کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں۔ ان پھولوں کی یہ بات اچھی ہے کہ ان کے ساتھ کانٹے نہیں ہیں۔‘‘ وہ مدبرانہ انداز سے بولی۔
’’اچھا‘ تو تم کانٹوں سے ڈرتی ہو؟‘‘ اس نے دلچسپی سے سوال کیا تھا۔
’’میں نہیں ڈرتی کسی سے‘ ادی میزاب ڈرتی ہے۔‘‘ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔
’’یہ نہیں ہونا چاہیے تھا میزاب‘ تم کتنی خود غرض ہو۔ اتنی محبت کرنے والی بہن کو تم نے یہ صلہ دیا۔‘‘ وہ اٹھ کر اندر آگیا‘ میرب آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی‘ وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
}…{٭}…{
’’بابا سائیں۔‘‘ زریاب واپس حویلی آیا تو اسے وہاں غیر معمولی خاموشی محسوس ہوئی۔ وہ سیدھا باپ کے پاس آگیا۔
’’بولو۔‘‘ وہ حقہ پی رہے تھے۔ ایک کش لگا کر ابرو چڑھا کر اس سے آنے کا مقصد پوچھنے لگے۔
’’اماں جان کومے میں چلی گئی ہیں۔‘‘ وہ دکھ سے نڈھال تھا۔
’’جس عورت کی میزاب جیسی بیٹی ہو‘ اس کے ساتھ یہ ہی ہوتا ہے۔ اسے تربیت کرنا چاہیے تھی‘ بھلا عورت کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ بے شرموں کی طرح کہے کہ اسے فلاں مرد شادی کے لیے پسند نہیں۔‘‘ وہ رعونت سے گویا ہوئے۔
’’بابا سائیں… اماں شدید نروس بریک ڈائون کے بعد کوما میں چلی گئی ہیں‘ آپ کو ان کی ذرا فکر نہیں۔‘‘ اسے ان سے اس بے حسی کی تو امید نہ تھی۔
’’تم ہو ناں اس کی فکر کرنے کے لیے۔‘‘ ان کے استہزائیہ انداز میں کہنے پر وہ تاسف سے سر ہلاتا ادا مراد کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
}…{٭}…{
’’مجھے نکالو یہاں سے۔‘‘ وہ آوازیں دے دے کر تھک جاتی مگر کوئی اس کی نہ سنتا تھا۔ ملازمہ دو وقت کا کھانا چھوٹی سی کھڑکی کھول کر رکھ جاتی اور پھر برتن بھی لے جاتی۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ میزاب کو وحشت ہونے لگتی۔ آج بھی جب وہ کھانا لے کر آئی تو میزاب اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رو پڑی۔
’’میرب کو بلادو پلیز… اس سے کہو ایک دفعہ میری بات سن لے۔‘‘ مگر جب وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی اور پھر کان کی طرف اشارہ کرکے سر ہلانے لگی تو میزاب سمجھ گئی وہ گونگی بہری ہے‘ ملازمہ کھانا رکھ کر جاچکی تھی۔
’’اے اللہ تو بچا لے مجھے۔‘‘ بھوک سے وہ نڈھال تھی‘ ایک نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا۔
’’توبہ ہے میزاب‘ تھوڑا صبر کرلیتی‘ میرا انتظار کیے بغیر کھانے لگی۔‘‘ وہ یونیورسٹی سے ہاسٹل پہنچی اور اسے کھانا کھاتے دیکھ کر خفا ہونے لگی تھی۔
’’تم جانتی ہو مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
’’ہاں… مگر میں تمہاری خاطر سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں۔‘‘ میرب کا خیال آتے ہی نوالہ اس کے حلق میں پھنسنے لگا تھا۔
اس نے نوالہ واپس ٹرے میں رکھا اور ٹرے سائیڈ پر کھسکا کر چت لیٹ گئی۔ سامنے دیوار میں بہت اونچا روشندان تھا۔ جس میں چڑیا بڑی محبت اور محنت سے گھونسلہ بنا رہی تھی۔ وہ نہایت انہماک سے اسے دیکھنے لگی۔ چڑیا چونچ میں ایک تنکا دبا کر لاتی‘ اسے لگاتی اور پھر نیا تنکا لینے کے لیے اڑ جاتی۔
’’بالکل ایسے ہی ایک عورت بھی اپنا گھر بناتی ہے۔ تنکا تنکا جوڑ کر مگر وہ تو اس گھونسلے سے بھی زیادہ ناپائیدار ہوتا ہے۔ کتنی خوش قسمت ہے یہ چڑیا‘ اپنی مرضی سے اڑ تو سکتی ہے ناں۔‘‘ وہ اب اپنا اور اس چڑیا کا موازنہ کرنے لگی تھی۔
}…{٭}…{
شاہ میر اسے اپنے ساتھ لاکر جیسے بھول گیا تھا۔ وہ سارا سارا دن پورے گھر میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ صبح کا گیا شام کو لوٹتا‘ وہ کسی انسان سے بات کرنے کو ترس جاتی تھی۔ وہ جب بھی بولتا‘ طنز کے نشتر چلاتا‘ ایسی باتیں کرتا جو اس کی روح تک کو چھلنی کردیتیں مگر اسے پروا نہ تھی۔ وہ کیا سوچتی ہے‘ اس کی باتوں سے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے‘ اسے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ آفس سے آیا تو میرب نے آگے بڑھ کر اس کا کوٹ صوفے سے اٹھایا اور الماری میں لٹکانے لگی۔ ’’مجھے کچھ بات کرنا ہے آپ سے۔‘‘ وہ فریش ہوکر آیا تو میرب نے ڈرتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔
’’کہو۔‘‘ اس نے دایاں ابرو اوپر چڑھایا۔
’’مجھے لاہور جانا ہے۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’وہاں میں تمہیں بھی نہیں لے کر جائوں گا۔‘‘ اس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے جواب دیا۔
’’تو پھر میں خود چلی جاتی ہوں۔ آپ مت لے کر جائیں۔‘‘ وہ خفگی سے بھرپور لہجے میںَ بولی‘ اسے یہی امید تھی اس سے۔
’’نہ خود لے کر جائوں گا‘ نہ جانے دوں گا۔‘‘ اس نے واضح کیا۔
’’میرے فائنل سمسٹرز ہونے والے ہیں۔‘‘ وہ منت بھرے لہجے میں مصالحت آمیز انداز سے بولی۔
’’تمہیں پڑھنے کی ضرورت نہیں‘ گھر میں دل لگائو۔‘‘ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا‘ پرفیوم اٹھا کر خود پر اسپرے کرنے لگا۔ ’’دیکھ چکا ہوں پڑھائی کا نتیجہ… مزید کسی ذلت و رسوائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ درشتی سے بولا۔
’’پلیز شاہ میر‘ میں آپ کی ہر بات مانوں گی مگر میری اسٹڈیز میں رکاوٹ…‘‘
’’تمہاری اسٹڈی میں رکاوٹ میں نہیں تمہاری بہن بنی ہے۔‘‘ اس نے بات درمیان سے ہی اچک لی۔
’’کیا ہر بات میں میری بہن کا قصور ہے۔‘‘ وہ نگاہیں جھکائے شکستہ لہجے میں بولی۔
’’یہ تو تم خود سے سوال کرو کہ مجھ سے تمہاری شادی کیوں ہوئی‘ تم اپنوں سے دور کیوں ہو اور اب تمہاری پڑھائی…‘‘ وہ میزاب کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتی تھی اور یہی بات شاہ میر خان کو طیش دلاتی تھی۔
’’تمہیں یہ کس نے بتایا کہ تمہارے ایگزامز ہیں؟‘‘ وہ اس سے استفسار کرنے لگا۔
’’میں نے یونیورسٹی کال کی تھی۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’میری اجازت کے بغیر کیوں کال کی؟‘‘ وہ برہم ہوا۔
’’کیا آپ کی ملازمہ ہوں میں کہ ہر بات آپ سے پوچھ کر کروں۔‘‘ وہ دکھ سے بولی۔
’’میرے لیے گھر میں کام کرنے والی ملازمہ بہرحال تم سے زیادہ قابل اعتبار ہے۔‘‘ اس کی بات نے میرب کو بہت دکھ پہنچایا۔
’’حویلی کے بڑوں کا بھی یہی حکم ہے۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ خاموش رہ گئی۔
’’مجھے صرف پیپر…‘‘
’’دماغ مت خراب کرو‘ ایک بات ایک بار میں تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔‘‘ وہ خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے باہر نکل گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے سے بات چیت بند کر رکھی تھی۔ اگلے دن جب وہ آفس گیا تو میرب چادر لے کر باہر آگئی۔ گیٹ پر چوکیدار نے اسے روک لیا۔
’’بی بی… آپ باہر نہیں جاسکتیں۔‘‘ اس نے کاندھے پر بندوق درست کی۔
’’مگر کیوں؟‘‘ اسے اچنبھا ہوا‘ بغور اسے دیکھا۔
’’یہ صاحب کا حکم ہے۔‘‘ وہ پرسکون لہجے میں بولا۔
’’دیکھو مجھے ضروری کام ہے۔‘‘ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
’’بی بی، صاحب نے کہا تھا چاہے جو مرضی ہوجائے، آپ کو باہر نہیں جانے دینا۔‘‘ وہ غصے کے عالم میں اندر کی جانب بڑھی‘ فون اٹھا کر حویلی کے نمبر ڈائل کرنے لگی مگر فون بند پڑا تھا۔
’’اوہ میرے اللہ… یہ شخص مجھے کس بات کی سزا دے رہا ہے۔‘‘ شام تک غصے سے اس کا برا حال ہوچکا تھا اور جب شام میں شاہ میر آفس سے گھر آیا تو محسوس کیا کہ وہ معمول سے زیادہ خاموش اور سنجیدہ ہے۔
’’کیا بات ہے آج طبیعت ٹھیک ہے‘ لڑائی کا موڈ نہیں؟‘‘ اس نے لطیف سا طنز کیا۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے سر نفی میں ہلایا۔ ’’اب میں کبھی بھی آپ سے بحث نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
’’اچھا…!‘‘ وہ حیران ہوا۔ ’’اس اچانک تبدیلی کی وجہ؟‘‘ وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے گویا ہوا۔
’’مجھے اپنی اوقات معلوم ہوگئی ہے۔ جب باہر جانے کے لیے اپنے ہی گھر کے ملازم کی منت کرنا پڑے تو اپنی حیثیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس کا خفگی سے بھرپور انداز شاہ میر کو مزا دے گیا۔ اسے اذیت میں مبتلا کرکے وہ اس ذلت کا بدلہ لیتا تھا‘ جو اس کی بہن نے اس کی جھولی میں ڈالی تھی‘ اسے دکھی دیکھ کر اس کے اندر کے انا پرست مرد کی انا اور غرور کی تسکین ہوتی تھی۔
’’میرا اندازہ درست تھا‘ تم آج باہر جائوگی۔‘‘ اس نے سینٹرل ٹیبل سے میگزین اٹھایا اور صفحے پلٹنے لگا۔ ’’میرے سر میں درد ہورہا ہے‘ سر دبائو میرا۔‘‘ وہ تحکم بھرے لہجے میں بولا۔ میگزین واپس رکھ دیا۔
’’میں چائے کے ساتھ میڈیسن لادیتی ہوں۔‘‘ وہ پہلو تہی سے کام لینے لگی۔
’’نہیں… تم سر دبائو۔‘‘ وہ جانتی تھی کہ انکار کرنا فضول ہے اس لیے خاموشی سے سر دبانے لگی۔
’’یقینا تم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ مجھ سے شادی ہوگی تمہاری‘ سچ بتائو تم کسی کو پسند کرتی تھیں؟‘‘ اس کی بات پر اس کے ہاتھ رک گئے اور وہ حیرت سے لب نیم وا کیے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’آپ جانتے ہیں، حویلی کی لڑکیوں کو ایسی کسی بات کی اجازت نہیں اور میں شادی سے پہلے کی محبت پر یقین بھی نہیں رکھتی۔ میں نے اپنی تمام محبت اور وفا اپنے شوہر کے لیے سنبھال کر رکھی تھی۔‘‘ وہ بے خیالی میں کہہ گئی۔
’’اوہ… تو پھر اب مجھ سے محبت کرتی ہو؟‘‘ وہ صاف اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
’’جو عزت نہ کرے اس سے محبت نہیں کی جاسکتی۔‘‘ وہ کہتی ہوئی کچن میں چلی گئی‘ شاہ میر دل کھول کر ہنسا تھا۔
}…{٭}…{
’’امی جان یہ ادی میزاب کہاں ہے؟‘‘ زرمینہ جو ماں کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے اچانک سوال کیا۔
’’یہ تمہارے سوچنے کی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ چڑ گئیں۔
’’کہیں انہیں مار تو…‘‘ اسے جھرجھری آگئی۔
’’زری… میں نے کتنی بار منع کیا ہے، بڑوں کے معاملات میں مت بولا کر۔‘‘ انہوں نے اسے گھرکا۔
’’صحیح کہہ رہی ہے تمہاری ماں۔‘‘ اچانک اس کے بابا وہاں آگئے‘ ان دونوں کو کچھ خبر نہ ہوئی۔
’’سلام بابا سائیں۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی اور دوپٹہ سلیقے سے سر پر لیا۔
’’وہ وہیں ہے جہاں ایسی بیٹیوں کو ہونا چاہیے۔‘‘ اسے اس دن سے اپنے باپ سے خوف آنے لگا تھا‘ اعتبار اٹھ گیا تھا۔
’’اس کی وجہ سے باپ بھائی بے عزت ہوئے اور ماں…‘‘ انہوں نے پل بھر کو توقف کیا۔
’’چاچی کو کیا ہوا؟‘‘ وہ چپ نہ رہ سکی۔
’’وہ کومے میں چلی گئی ہے۔ اس کے بچنے کی امید نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا۔
’’یہ تو بہت افسوس کی بات ہے۔‘‘ وہ دونوں ماں بیٹی افسردہ ہوگئیں مگر وہ بالکل سنجیدہ بیٹھے تھے‘ جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو‘ اس سے زیادہ تو وہ اپنے اصطبل میں کھڑے کسی گھوڑے کی بیماری پر پریشان ہوجاتے تھے۔
}…{٭}…{
اس نے قرآن پاک کو جز دان میں لپیٹ کر واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا‘ وہ زیادہ وقت عبادت میں مصروف رہتی تھی۔ سب رشتے ناطے اس کی نظر میں بے اعتبار ٹھہرے تھے۔ اسے اماں اور میرب سے یہ امید نہ تھی۔ اس نے سب کو آوازیں دینا چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ صرف اللہ سے باتیں کرتی تھی۔ اسے آوازیں دیتی تھی‘ اس سے اپنے درد بیان کرتی تھی۔ اس نے کبھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ اللہ کو یاد نہ کیا تھا مگر جب دل ٹوٹتا ہے تو وہی یاد آتا ہے کیونکہ ایسے وقت میں صرف وہی سہارا بنتا ہے‘ اس نے تو اب جانا تھا کہ اس سے بڑھ کر بہترین دوست اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
}…{٭}…{
شاہ میر خان جانتا تھا کہ میرب کی بی بی جان کومے میں ہیں مگر اس نے دانستہ یہ بات اس سے چھپائی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں تھی جب ملازم نے اسے حاکم بابا کے آنے کی اطلاع دی۔ دوپٹہ درست کرتی وہ ڈرائنگ روم میں آگئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ سلام کرکے وہ صوفے پر جا بیٹھی۔ شاہ میر سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ دیر وہ وہیں بیٹھی رہی پھر کچن کی طرف بڑھی۔
’’یہ کیا بے ہودہ لباس پہن رکھا ہے اس نے۔‘‘ حاکم بابا کی آواز سن کر اس کے قدم باہر ہی رک گئے۔
’’اس میں کیا بے ہودگی ہے بابا سائیں؟ فراک‘ پاجامہ پہنا ہے اس نے اور میں نے ہی لاکر دیا تھا۔‘‘ اس کی حمایت میں شاہ میر کا بولنا اسے خوش گوار حیرت میں مبتلا کر گیا۔
’’ابھی سے نکیل ڈالو گے تو سنبھال پائو گے اسے۔‘‘ وہ سمجھانے لگے۔
’’بابا سائیں وہ میری بیوی ہے‘ ہمارے اصطبل میں بندھی کوئی گھوڑی نہیں جسے لگام ڈالی جائے۔‘‘ اسے ان کی بات سخت بری محسوس ہوئی۔
’’دیکھ پتر عورت پیر کی جوتی ہوتی ہے‘ اسے زیادہ سر نہیں چڑھاتے۔ جوتی پیر میں ہی اچھی لگتی ہے۔‘‘ وہ مزید نہیں سن سکتی تھی کچن کی طرف چلی گئی۔ چائے پی کر وہ فوراً چلے گئے تھے۔ وہ زمین کے کسی کیس کے سلسلے میں شہر آئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد وہ اسے ڈھونڈتا ہوا کچن میں آیا اور یہ دیکھ کر بری طرح چونک گیا کہ اس نے کپڑے تبدیل کرلیے تھے‘ اور سادہ سا شلوار قمیص پہن رکھا تھا اور ساتھ بڑی سی چادر اوڑھ رکھی تھی۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ اس کی پشت کی جانب کھڑا تھا۔
’’کھانا گرم۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’تم نے کپڑے کیوں تبدیل کیے؟‘‘ وہ حیران تھا۔
’’پائوں کی جوتی کو پائوں میں ہی رہنے دیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’چھپ کر باتیں سننا غلط بات ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کا جواب نہ دے سکا۔
’’بہوئوں اور بیٹیوں کو گھوڑوں اور جوتیوں سے ملانا تو جیسے اچھی بات ہے۔‘‘ اس نے کوئی ادھار نہ رکھا اور دوبدو بولی۔
’’میں نے تو نہیں کہا‘ ان کپڑوں میں ماسی لگ رہی ہو صفائی والی۔‘‘ اس نے مذاق اڑایا۔
’’ملازم مجھ سے زیادہ قابل اعتبار تو ہیں ہی‘ چلیں خوب صورت بھی سہی۔‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’ہاہاہا…‘‘ اس نے بھرپور قہقہہ لگایا۔ ’’تم غصے میں بہت پیاری لگتی ہو۔‘‘ وہ ٹیبل سیٹ کرچکی تھی کوئی جواب نہ دیا‘ جانتی تھی اسے زچ کررہا ہے۔
’’جائو دوبارہ وہی فراک پہن کر آئو۔‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کی جانب دھکیلا۔
’’میں اب کبھی نہیں پہنوں گی۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔
’’یہ میرا حکم ہے جائو۔‘‘ وہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی اور چینج کرکے آگئی۔
’’یہ بریانی کس نے پکائی ہے؟‘‘ اس نے کھا کر فوراً پوچھا۔
’’کک نے۔‘‘
’’اور کک کا نام میرب ہے۔‘‘ وہ بولا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’اچھا کھانا پکاتی ہو۔‘‘ میرب نے پل بھر کو نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور دوبارہ نگاہیں جھکا کر اپنی پلیٹ کی جانب متوجہ ہوگئی۔ جانتی تھی یہ وقتی عنایت ہے۔
}…{٭}…{
’’مجھے کوئی بتاتا کیوں نہیں کہ ادی میزاب کہاں ہے؟‘‘ زریاب خان، ماں کی اچانک بیماری اور دونوں بہنوں سے دوری پر بے حد پریشان تھا۔ وہ شہر کے سب سے بڑے میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔ آج کل گھر آیا ہوا تھا۔
’’تم اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔‘‘ مراد خان نے اسے کہا تو وہ پھٹ پڑا۔
’’اماں کومے میں پڑی ہیں‘ ادی میرب کو ادا شاہ میر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ ادی میزاب کہیں دکھائی نہیں دیتی‘ میں کیسے اپنی پڑھائی پر توجہ دوں؟‘‘
’’میزاب کی شادی کردی ہے۔‘‘ وہ بہت آرام سے جھوٹ بول گیا۔
’’کب…! کس سے؟‘‘ وہ بے یقینی سے بولا۔
’’بس ہوگئی‘ جس سے بھی۔‘‘ مراد خان کے سکون میں کوئی فرق نہ آیا۔
’’مجھے ایڈریس دیں ان کا۔‘‘
’’بابا سائیں سے لے لو۔‘‘ اس نے جان چھڑائی۔ وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
}…{٭}…{
اس کی طبیعت کچھ اچھی نہ تھی‘ وہ لیٹی ہوئی تھی۔ شاہ میر آفس سے آیا تو اسے دیکھ کر رہ گیا۔
’’میرب ریڈی ہوجائو، ہم شاپنگ کے لیے جارہے ہیں۔‘‘ وہ فریش ہونے سے پہلے اس اسے کہنے لگا۔ کچھ شاپنگ تو یہاں آتے ہی اس کے لیے وہ خود کر لایا تھا مگر آج اسے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔
’’مجھے نہیں جانا۔‘‘ اس نے انکار کیا۔
’’میں انکار نہیں سنوں گا۔‘‘ وہ اسے کہہ کر فریش ہونے چلا گیا اور اس کی توقع کے عین مطابق وہ اس کے آنے سے پہلے تیار ہوچکی تھی۔ سوٹ کا ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے شانوں پر شال پھیلائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
’’شاباش… اسی طرح فرماں برداری دکھائوگی تو فائدے میں رہوگی۔‘‘ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وقفے وقفے سے بول رہا تھا مگر وہ خاموش تھی۔
’’تمہیں لگتا ہے میں نے تمہیں قید کر رکھا ہے۔‘‘ وہ نگاہیں گھما کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے سر نفی میں ہلایا۔
’’تمہاری یہ قید وقتی ہے‘ میں تمہیں آزاد کردوں گا۔‘‘ میرب نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا۔
’’قید کی سزا تو اسے دینی ہے جس نے مجھے رسوا کیا۔‘‘ میزاب کی بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں زہر گھل جایا کرتا تھا اور میرب اسے خوب محسوس کرتی تھی۔
’’میری تم سے کوئی دشمنی نہیں‘ ہاں اس سے دشمنی میں آخری سانس تک نبھائوں گا‘ اس کی زندگی کو عبرت کا نشان نہ بنایا تو میرا نام شاہ میر نہیں۔‘‘ وہ نفرت سے بولا۔ ’’وہ ہر روز مجھ سے معافی مانگا کرے گی‘ میں اسے معاف نہیں کروں گا‘ وہ موت کی دعائیں مانگے گی‘ میں اسے مرنے نہیں دوں گا۔‘‘ اس کے عزائم نہایت خطرناک تھے۔
’’اگر آپ کا ایسا ہی ارادہ تھا تو اسی روز اس سے شادی کرلیتے‘ آپ لوگوں کے لیے کچھ مشکل تو نہیں تھا اس سے نکاح نامے پر سائن کروانا۔‘‘ میرب کو میزاب کی فکر تھی اور ساتھ ہی یہ دکھ بھی کھائے جارہا تھا کہ شاہ میر نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ نہ ہی وہ کبھی اسے قبول کرے گا۔ وہ اٹھتے‘ بیٹھتے اسے احساس دلاتا تھا کہ اس رشتے کی اس کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
’’ہاں یہ ذرا مشکل نہیں تھا مگر اسے اس بغاوت کی سزا دینا بھی ضروری تھی۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ چند ثانیے خاموش رہی۔
’’میزاب کو اس کی نافرمانی کی سزا دینا چاہتے ہیں اور مجھے کس بات کی؟‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ گئی‘ شاہ میر نے اس کی جانب دیکھا۔
’’تو مجھ سے دور جانے کو تم سزا سمجھتی ہو۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں بولا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کہیں تمہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہوگئی؟‘‘ اس کی طرف جھک کر بولتا ہو اوہ اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔ وہ لب بھینچے بیٹھی رہی۔
’’کوئی فائدہ نہیں کیونکہ پہلے میزاب میری محبت تھی‘ صرف منگ تھی‘ اب ضد بن گئی ہے‘ اسے میرے پاس آنا ہوگا‘ میرے سامنے جھکنا ہوگا۔‘‘ نہ جانے وہ اسے ساتھ کیوں لایا تھا۔ کچھ بھی اس کی مرضی اور پسند سے لینے نہیں دیا تھا۔ وہ بس خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی تھی۔
}…{٭}…{
مراد خان اور اس کے بابا ہاسپٹل ہوئے آئے تھے۔ زریاب خان کالج سے واپسی پر وہیں آجایا کرتا تھا‘ وہ تینوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔ تینوں ہی اپنی اپنی سوچ میں گم تھے۔
’’ڈاکٹرز کہتے ہیں وقت بہت کم ہے بابا سائیں‘ میں تو کہتا ہوں ہم اماں کو باہر کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں۔ وہاں زیادہ اچھا علاج ہوگا۔‘‘ آخر کار زریاب خان نے اس چپ کے قفل کو توڑا۔ اس کی بات پر سر جھکائے گہری سوچ میں غرق مراد خان نے تیزی سے سر اوپر اٹھایا۔
’’اس کی ضرورت نہیں‘ اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہیں ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ بابا سائیں سفاکی سے بولے۔
’’باباسائیں آپ…‘‘
’’بس۔‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا۔ ’’ہمیں ابھی تمہارے مشوروں کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ دونوں چلے گئے۔ زریاب خان دکھ سے انہیں جاتا دیکھتا رہا۔ مراد خان نے ہمیشہ ہر ظلم میں باپ کا ساتھ دیا تھا۔ تاسف سے سر ہلا کر وہ اندر آگیا۔
’’اماں… میری پیاری اماں‘ کاش میں آپ کے لیے کچھ کرسکتا۔‘‘ وہ چند ثانیے کھڑا انہیں دیکھتا رہا‘ پھر ان کی فائل اٹھا کر باہر نکل گیا تھا۔
}…{٭}…{
میرب کو اماں بہت یاد آرہی تھیں۔ وہ صبح سے ہی بہت اداس تھی۔ شاہ میر آفس سے آیا تو ایک فائل لے کر بیٹھ گیا۔ اس نے چائے لاکر اس کے سامنے رکھی‘ اس نے کپ اٹھا کر لبوں سے لگالیا مگر اس کی جانب نہ دیکھا۔
’’شاہ میر…‘‘ اس نے ہمت مجتمع کرکے اس سے بات کرنے کی ٹھانی۔
’’ہوں۔‘‘ اس نے نظریں فائل پر ہی مرکوز رکھیں۔ میرب خان اسے دیکھتی رہی۔
’’آپ کی حویلی میں بات ہوتی ہے؟‘‘ اس کی بات پر شاہ میرنے تیزی سے سر اٹھایا۔
’’تمہاری سوئی ہر وقت وہیں اٹکی رہتی ہے۔‘‘ اس نے سر کو جھٹکا۔
’’کچھ دن سے اماں بہت یاد آرہی ہیں۔ وہ ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ وہ دل کا درد دباتے ہوئے اداسی سے گویا ہوئی۔
’’سب ٹھیک ہیں وہاں‘ تمہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے فائل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کومے میں ہیں مگر اسے نہیں بتایا۔
’’آپ میری ان سے فون پر بات کروا دیں۔‘‘ وہ لجاجت سے بولی۔
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے کٹھور پن کی انتہا کردی تھی۔ کچھ دیر بیٹھی وہ آس بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہی مگر جب کافی دیر گزرنے کے باوجود بھی وہ اس کی جانب متوجہ نہ ہوا تو وہ وہاں سے اٹھ کر باہر آگئی۔ دوبارہ دونوں کی ملاقات کھانے کی میز پر ہوئی تھی۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ شاہ میر نے صرف ایک نظر اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھا‘ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں‘ ناک سرخ تھی۔
’’تو روتی رہی ہو۔‘‘ اس نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا اور اس کی جانب دیکھنے لگا۔ ’’کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں تم پر جو ایسے آنسو بہا رہی ہو۔‘‘ اس کا دل ایک مرتبہ پھر بھر آیا۔ آنسو اس کے رخساروں پر پھسلنے لگے مگر شاہ میر کو مطلق پروا نہ تھی۔
’’میرا دل بہت پریشان ہے۔‘‘ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑے۔
’’میرے پاس تمہاری ان پریشانیوں کا کوئی علاج نہیں۔‘‘
’’میرے پائوں دبائو۔‘‘ وہ جائے نماز رکھ کر پلٹی تو اس کی آواز سن کر لمحہ بھر کو رک کر اس کی جانب دیکھنے لگی۔ جی تو چاہا انکار کردے مگر اس نے اول روز سے ہی اس کے ہر ظلم اور زیادتی کے سامنے ہار مان لی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
’’تمہاری جگہ یہی ہے‘ میرے قدموں میں۔‘‘ وہ خاموشی سے اس کے پائوں دبا رہی تھی مگر شاہ میر کو اس کی خدمت گزاری‘ اطاعت و فرماں برداری کچھ بھی موم نہیں کرسکی‘ وہ مسلسل اسے الفاظ سے گھائو لگا رہا تھا اور وہ خاموشی سے سن رہی اور سہہ رہی تھی۔
وہ سوگیا تو میرب کی اٹھتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اس کے موبائل پر نظر گئی‘ ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح اس کے ذہن میں لپکا اور اس نے آہستگی سے سیل فون اٹھایا اور کمرے سے باہر آگئی۔ مارے خوف کے اس کے ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی۔ اس نے سیل کو ان لاک کیا اور زرمینہ کو کال کرنے لگی۔ اس نے نمبر ڈائل کیا‘ اوکے کا بٹن پریس کرنے سے پہلے غیر ارادی طور پر مڑ کر دیکھا‘ تو زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک گئی‘ دل اچھل کر حلق میں آگیا‘ بیڈ روم کے دروازے میں کھڑا شاہ میر اسے خون آشام نظروں سے گھور رہا تھا۔
’’کرو بات… ملائو نمبر‘ رک کیوں گئیں؟‘‘ وہ سرد لہجے میں بولا تو خوف کی ایک شدید لہر میرب خان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی۔ وہ جیسے پتھر کی ہوگئی تھی۔
’’تمہاری یہ جرأت کہ میری اجازت کے بغیر میرا فون استعمال کرو۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ’’منع کیا تھا ناں میں نے کہ نہیں بات کرنی کسی سے۔‘‘ اس نے سیل فون میرب کے ہاتھ سے چھینا۔
’’میں… صرف… اماں کی…‘‘
’’شٹ اپ…‘‘ اس نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زمین پر گر پڑی۔
’’میری مرضی کے بغیر سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہے تمہیں‘ سمجھیں۔‘‘ اس نے بازو سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔
’’تم بھی اپنی بہن کی طرح خود سر اور ضدی ہو‘ تمہارا علاج بھی کرنا پڑے گا۔‘‘ وہ اسے بازو سے گھسیٹتا ہوا اندر لے گیا اور اسے لے جا کر بیڈ پر پٹخ دیا۔
’’دوبارہ مجھ سے پوچھے بغیر کسی کو فون کیا تو اسی کمرے میں تمہاری قبر بنادوں گا۔‘‘ وہ سفاکی سے بولا اور کمرے سے نکل گیا‘ وہ روتی رہی۔
}…{٭}…{
مہروز خان‘ بہروز خان اور حاکم خان اس وقت اپنے فارم ہائوس پر موجود تھے‘ گونگی ملازمہ کا شوہر جو کہ ان کا خاص ملازم تھا اس نے بتایا تھا کہ میزاب کو بہت تیز بخار ہے۔
’’تو کیا کرسکتے ہیں ہم؟‘‘ حاکم خان نخوت سے بولے۔ ’’یہ سزا اس نے خود منتخب کی ہے اور اب وہ چاہتے ہوئے بھی اس کمرے سے باہر قدم نہیں نکال سکتی چاہے اسے موت بھی آجائے۔‘‘ وہ سفاکی سے بولے۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں حاکم بابا۔‘‘ مراد خان نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’حاکم بابا۔‘‘ گلاب جو کہ ان کے اصطبل اور گھوڑوں کی حفاظت پر مامور تھا ان کے سامنے نگاہیں جھکائے کھڑا۔
’’عربی نسل کا سفید گھوڑا کچھ دنوں سے سست دکھائی دے رہا ہے‘ نہ جانے کیا بات ہے۔‘‘ وہ پرتشویش لہجے میں بولا۔
’’تو تم مجھے اب بتا رہے ہو۔‘‘ وہ متفکر ہوئے۔ ’’جانتے ہو یہ گھوڑا شاہ میر کا ہے‘ اسے بے حد پسند ہے۔ فوراً ڈاکٹر کو فون کرو‘ ابھی آکر اسے دیکھے۔‘‘ وہ سب ایک دوسرے سے بڑھ کر سفاک اور فرعون تھے۔ کوئی کسی کو ایک دوسرے کی زیادتی پر ٹوکتا نہ تھا۔ حویلی کے ایک کونے میں بے بس‘ لاچار اور بے زبان بیٹی درد اور تکلیف سے کراہ رہی تھی۔ کوئی اس کا پرسان حال نہ تھا۔ یہاں گھوڑے کے لیے ڈاکٹر آرہا تھا۔
آہ… تقدیر کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھیں۔
}…{٭}…{
وہ اسے کمرے میں بند کرکے چلا گیا تھا۔ اسے تیز بخار تھا۔ پورے دن بھوکے رہنے سے اس پر نقاہت طاری ہوگئی تھی۔ بے بسی کی تصویر بنی وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
’’دروازہ کھولو۔‘‘ بہ مشکل خود کو گھسیٹتی ہوئی وہ دروازے تک آئی اور اسے پیٹتے ہوئے وہ ملازموں کو آوازیں دینے لگی تھی۔
شام کو وہ واپس آیا تو وہ بے سدھ پڑی تھی مگر اس نے توجہ نہ دی لیکن جب وہ بہت دیر تک بستر سے نہ نکلی تو وہ اس کے قریب آیا۔
’’میرب…‘‘ اس نے اسے پکارا‘ مگر جواب ندارد۔ ’’میرب… آنکھیں کھولو۔‘‘ اس نے اس کا گال تھپتھپایا۔ ’’اف…‘‘ اس کا ہاتھ گویا دہکتے انگاروں کو چھو گیا تھا۔
’’میرب…‘‘ اس نے اسے زور سے ہلایا مگر وہ شاید بے ہوش ہوچکی تھی۔ وہ پانی لے کر آیا‘ اسی وقت اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔
’’ہیلو…‘‘ اس نے کال ریسیو کی۔
’’جی بابا سائیں۔‘‘ اس نے ایک نظر میرب کے بے ہوش وجود پر ڈالی۔ ’’مائی گاڈ…‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’کب؟‘‘ کچھ ہی دیر میں اس نے فون بند کیا‘ میرب کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے کچھ دیر کے بعد وہ ہوش میں آگئی تھی۔
’’اٹھ کر تیار ہوجائو‘ ہم حویلی جارہے ہیں۔‘‘ اس کی آنکھیں بے تحاشا سرخ ہورہی تھیں۔ وہ ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔
’’جلدی کرو‘ ہم ابھی نکلیں گے۔‘‘ اسے ہدایت جاری کرکے وہ اٹھ گیا۔ بہ مشکل وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو اسے زور کا چکر آیا‘ اس نے جلدی سے شاہ میر کا بازو تھام لیا‘ وہ چند ثانیے اسے دیکھتا رہا پھر آہستگی سے اپنا بازو اس کی گرفت سے نکال لیا۔
’’یوں اچانک حویلی کیوں جارہے ہیں ہم؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’سوال جواب میں وقت ضائع نہ کرو۔‘‘ وہ اس سے نگاہیں چراتے ہوئے بولا اور پھر اس نے بھی مزید کوئی بات نہیں کی‘ حویلی جانے کا سن کر اس پر تو شادئ مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ رات تک تو وہ اسے وہاں فون بھی نہیں کرنے دے رہا تھا اور اب اچانک اس مہربانی کی وجہ وہ جان نہ سکی اور تیار ہونے چل دی۔
}…{٭}…{
حویلی میں جو قیامت اس کی منتظر تھی اس کا تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس کی اماں ہمیشہ کے لیے اس سے دور جاچکی تھیں۔ وہ زریاب خان کے گلے لگ کر خوب روئی‘ اسی نے اسے بتایا تھا کہ وہ کومے میں چلی گئی تھیں۔ اسے یہ جان کر شدید صدمہ ہوا کہ یہ بات شاہ میر نے اس سے چھپائی تھی۔
’’سلام ادا۔‘‘ اس نے مراد خان کو سلام کیا وہ سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔ دو دن اس کی طبیعت بہت خراب رہی‘ آج کچھ سنبھلی تھی۔
’’طبیعت کیسی ہے تمہاری؟‘‘ شاہ میر کمرے میں آیا‘ وہ اس کی آواز سن کر چونک گئی۔
’’کتنی منتیں کی تھیں میں نے آپ کی کہ ایک دفعہ مجھے اماں سے ملوا دیں‘ ان سے بات کروا دیں۔ آپ نے بہت ظلم کیا مجھ پر‘ مجھ سے یہ چھپائے رکھا کہ اماں کومے میں تھیں۔ میری بہن کی شادی ہوگئی اور میں بے خبر رہی۔‘‘ اس کا دل غم اور دکھ سے نڈھال تھا۔
’’ہم کل واپس جارہے ہیں۔‘‘ اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اٹھ کر باہر آگئی۔
’’زرمینہ…‘‘ سامنے سے اسے زرمینہ آتی دکھائی دی۔ ’’تم جانتی ہو میزاب کی شادی کہاں اور کس سے ہوئی ہے؟‘‘ وہ اس سے پوچھنے لگی۔
’’نہیں ادی۔‘‘ اس نے سر نفی میں ہلایا۔ ’’سچ بتائوں تو مجھے لگتا ہے ان لوگوں نے ادی میزاب کو مار دیا ہے۔‘‘
’’نہیں…‘‘ اس کا ہاتھ دل پر پڑا‘ وہ وہاں سے حویلی کے پچھلے صحن میں آگئی۔
گول کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دل اداس ہونے لگا۔ اسے ایک دفعہ اماں نے بتایا تھا کہ اس کمرے میں حویلی کی باغی لڑکیوں کو تمام عمر کے لیے قید کیا جاتا ہے مگر اب بہت سالوں سے اس میں کوئی نہیں اور یہ خالی ہے۔
’’کیا گول کمرے میں کوئی ہے؟‘‘ شاہ میر ابھی تک کمرے میں تھا‘ اس کی بات سن کر بری طرح چونکا۔
’’پتا نہیں کیوں میں اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے رک گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہاں کوئی ہے۔ باہر تالا لگا ہوا تھا مگر چڑیا اندر سے روٹی لائی تھی۔‘‘ وہ کڑی سے کڑی ملا رہی تھی۔
’’یہ بات کسی اور سے تو نہیں پوچھی؟‘‘ وہ متفکر ہوا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ کھڑکی میں جاکھڑی ہوئی۔ ’’جلدی سے ادھر آئیں، وہ دیکھیں‘ وہ گونگی ادھر کھانا لے کر جارہی ہے۔‘‘ وہ آکر اس کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔
’’مجھے بتائیں کون ہے یہاں؟ اب کسے زندہ درگور کیا ہے؟‘‘ وہ حقیقت جاننے کے لیے مضطرب تھی۔ ’’شاہ میر پلیز…‘‘ اس نے اس کا شانہ ہلایا۔
’’اندر… میزاب ہے۔‘‘ وہ بدقت تمام بول پایا۔
’’نہیں…!‘‘ اس نے دل پر ہاتھ رکھا۔
’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ شاہ میر نے اسے تمام واقعہ سنادیا۔ وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔ ایک دم مڑی اور باہر بھاگنا چاہا تھا کہ شاہ میر نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’میں ادا زریاب سے پوچھتی ہوں۔‘‘
’’ڈونٹ بی سلی۔‘‘ وہ سختی سے بولا۔ ’’وہ بھی تمہاری طرح بے خبر ہے۔‘‘
’’اندر میری بہن ہے‘ جانے دیں مجھے۔‘‘ اس نے ہاتھ چھڑانا چاہا۔
’’تم اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتیں‘ پاگل مت بنو‘ وہ لوگ تمہیں بھی سزا دیں گے اس کی حمایت کرنے کی۔‘‘ وہ اسے کچھ بھی سخت کہنے سے خود کو باز رکھتے ہوئے بولا۔
’’شاہ میر… میں اپنی ماں کو کھوچکی ہوں اور اب بہن کو نہیں کھونا چاہتی۔ پلیز اسے نکالنے میں میری مدد کریں۔ میں تمام عمر آپ کی باندی بن کر رہوں گی۔‘‘ وہ شدت سے رونے لگی تھی۔
’’اس نے جو کیا‘ اس کی سزا پالی۔ تم مسز شاہ میر ہو‘ تمہیں اس لڑکی کی حمایت کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ وہ آج بھی میزاب خان سے شدید نفرت کرتا تھا۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کس حال میں ہے۔
’’اس کا جرم اتنا بڑا نہیں۔‘‘ تمام رات وہ روتی رہی‘ اس کی منتیں کرتی رہی مگر اس نے اس کی ایک نہ سنی اور اگلے روز اسے زبردستی اپنے ساتھ شہر لے آیا تھا۔
}…{٭}…{
’’اماں…‘‘ اسے بہت تیز بخار تھا‘ اب تو وہ کھڑکی کے پاس آکر کھانا بھی نہ پکڑ سکتی تھی۔ گونگی کھانے کے ساتھ بخار کی دو گولیاں چھپا کر رکھ گئی تھی۔ اس نے لڑکھڑاتے ہوئے کھانا لیا اور واپس آبیٹھی۔ گولی کھول کر ہاتھ پر رکھی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے لگا‘ اس نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا‘ ٹارچ کی روشنی سے کمرہ روشن ہوگیا تھا‘ سامنے حاکم بابا کھڑے تھے۔
’’تمہیں یہاں ایڑیا رگڑ رگڑ کر مرنے کے لیے پھینکا ہے‘ تمہارے لاڈ اٹھانے کے لیے نہیں‘ تمہیں بخار ہوتا ہے یا جو بھی ہوتا ہے‘ ہمیں پیغام بھیجنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ نخوت سے بولے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا‘ وہ ان سے بات ہی کرنا نہیں چاہتی تھی۔
’’دو دن پہلے تمہاری ماں مر گئی تھی‘ کسی کو فرق نہیں پڑا۔‘‘ اس نے تڑپ کر ان کی طرف دیکھا۔ ’’اگر تم مر جائوگی تو کیا ہوگا؟‘‘ وہ سفاکیت کی انتہا پر پہنچے ہوئے تھے۔ واپس مڑے اور دروازہ بند کرنے لگے۔
’’اماں…‘‘ اس کے لب ہولے سے ہلے تھے۔ ’’اماں آپ مجھے چھوڑ گئیں۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ’’نہیں اماں۔‘‘ اس نے گولی پھینک دی تھی۔ ’’مجھے بھی زندہ نہیں رہنا۔‘‘ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔
٭…٭…٭
شہر آکر بھی میرب شاہ میر کی منتیں کرتی رہی کہ میزاب کو کسی طرح اس قید سے نکال لائے۔ اتنا وقت ساتھ گزارنے کے باوجود بھی میرب اس کے دل اور زندگی میں وہ مقام حاصل نہیں کر پائی تھی جو اس کا ہونا چاہیے تھا۔ جس پر اس کا حق تھا۔ وہ آج بھی میزاب کے متعلق سوچتا تھا‘ میرب کے بار بار کہنے سے اس کے دماغ میں بھی یہ بات آگئی کہ میزاب کو وہاں سے نکال لائے اور پھر اس سے شادی کرلے۔
’’اگر میں اسے وہاں سے لے آیا تو تمہیں چھوڑ کر اس سے شادی کرلوں گا‘ جانتی ہو یہ بات؟‘‘ وہ اس کے دل کی پروا کیے بغیر بولا۔
’’آپ بس اسے وہاں سے نکال لائیں۔‘‘ اس کے سوال کو قصداً نظر انداز کرتے ہوئے وہ بولی۔ آخرکار وہ جانے کے لیے رضا مند ہوگیا تھا۔
شام کے سائے گہرے ہورہے تھے رات نے اپنے پر پھیلانے شروع کردیے تھے۔ وہ گائوں جانے والی سڑک کے پاس جھاڑیوں کی اوٹ میں گاڑی کو چھپا کر خود آگے بڑھنے لگا‘ کچے مکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا‘ ٹیوب ویل کی آواز ماحول میں عجیب سا ارتعاش پیدا کررہی تھی۔ دل میں پکڑے جانے کا خوف بھی تھا‘ اس نے خود کو گنے کے کھیت میں چھپایا۔ فضا پر خاموشی کی گہری چادر تنی ہوئی تھی۔ دن بھر کے تھکے ہارے لوگ گھروں میں تھے۔ وہ احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے حویلی کے پچھواڑے قبرستان میں آگیا تھا۔ وہ صرف میزاب کو آزاد کروانے نہیں بلکہ اپنی منگ کو حاصل کرنے بھی آیا تھا۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی محبت واپس حاصل کرنا چاہتا تھا‘ ایسا وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے کررہا تھا۔ اس نے ایک نظر حویلی کی اونچی دیوار کو دیکھا پھر وہ ایک درخت پر چڑھا جو بالکل حویلی کے ساتھ تھا‘ وہاں سے دیوار پر چڑھ کر اندر سفیدے کے درخت سے لٹکتا ہوا حویلی کے اندر داخل ہوگیا اور پنجوں کے بل چلتا ہوا وہ اس کمرے تک آیا پھر آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔
’’میزاب…‘‘ ٹارچ کی روشنی میں دونوں کے سائے دیوار پر عجیب مناظر بنارہے تھے۔
’’آپ…!‘‘ میزاب بے یقینی کے عالم میں اٹھ کھڑی ہوئی‘ شاہ میر کا غصہ پل بھر میں غائب ہوگیا تھا۔ دل میں سوئی ہوئی محبت یک دم انگڑائی لے کر جاگ اٹھی تھی۔
’’وقت کم ہے‘ کوئی بھی آسکتا ہے‘ ہمیں نکلنا ہوگا۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا اور دروازے کو پھر سے بند کردیا‘ شاہ میر نے آہستگی سے پچھلی طرف کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا‘ وہ بھی اس کی تقلید میں نکلی مگر شومئی قسمت اس کی چادر دروازے میں پھنس گی۔ شاہ میر نے چادر کو کھینچا‘ وہ تو آزاد نہ ہوئی مگر دروازہ زور سے بجا‘ ساتھ ہی حویلی کے کتوں نے بھونکنا شروع کردیا۔
’’کون ہے؟‘‘ پہرے داروں کے بھاگنے کی آواز قریب آرہی تھی۔ وہ دونوں بھاگ کھڑے ہوئے۔
’’میزاب غائب ہے۔‘‘ اس خبر نے حاکم خان اور مراد خان کو پاگل کردیا۔ وہ اپنی بندوقیں لے کر نکل کھڑے ہوئے‘ ہر طرف گاڑیوں اور قدموں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ پورا گائوں جاگ گیا تھا مگر گھر سے نکلنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔
شاہ میر نے اسے اپنی شال اوڑھا دی تھی۔ وہ دونوں بھاگ رہے تھے۔
زریاب خان حویلی آیا ہوا تھا۔ اسے حقیقت معلوم ہوئی تو وہ بھی باہر نکل آیا۔ مہروز خان اور بہروز خان شہر گئے ہوئے تھے۔
’’حاکم بابا کچھ کریں‘ ورنہ یہ لڑکی ایک مرتبہ پھر ہمارے منہ پر کالک ملنے جارہی ہے۔‘‘ وہ دونوں کھیت میں چھپے ہوئے تھے۔ مراد خان وہیں کھڑا تھا۔
’’تم دیکھو تو سہی‘ میں کرتا کیا ہوں۔‘‘ وہ رعونت سے بولے اچانک میزاب کو چھینک آئی اور یہی وقت ان دونوں کے لیے قیامت ثابت ہوا۔ وہ سب کھیت کی جانب بھاگے۔ وہ دونوں بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔
’’ادا مراد رکیں[ حاکم بابا۔‘‘ زریاب خان چیختا ہوا ان کی طرف بھاگا مگر وہ بندوق کا ٹرائیگر دبا چکے تھے۔ وہ اندھا دھند فائرنگ کررہے تھے۔ زریاب خان کھیت کی طرف بھاگا۔
’’نہیں…‘‘ اس نے دلدوز چیخ ماری۔ ’’ظالموں… یہ کیا کردیا۔‘‘ وہ زور سے چلایا۔
’’ادی میزاب‘ آنکھیں کھولو… ادا شاہ میر۔‘‘ سناٹے کو چیرتی اس کی آواز اور حاکم بابا کی سماعتوں سے ٹکرائی تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تیز دھار آرے سے ان کا گلا کاٹ رہا ہو۔
}…{٭}…{
وہ بے چینی کے عالم میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔ اسے بری طرح گھبراہٹ ہورہی تھی۔ رہ رہ کر شاہ میر کی باتیں یاد آرہی تھیں۔
’’غصے میں تم اچھی لگتی ہو۔‘‘ اس کا شریر لہجہ میرب کے آس پاس گونجنے لگا تھا۔
’’ان کپڑوں میں تم اچھی لگ رہی تھیں۔‘‘ وہ بے چین ہوکر کمرے کی کھڑکی میں جاکھڑی ہوئی اور باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھنے لگی۔
’’اور کک کا نام میرب ہے۔‘‘ اس کی مسکراہٹ آس پاس بکھرنے لگی تھی۔ اس کا دل کٹنے لگا تھا۔
’’تو اب تم مجھ سے محبت کروگی؟‘‘ اس کا طنز سے بھرپور لہجہ اس کی سماعت میں ابھرنے لگا تھا۔
’’میں تمہیں آزاد کردوں گا۔‘‘ اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی شاہ میر کی تصویر اٹھالی۔

تمہیں کوئی شکایت تو نہ ہوگی
مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے

رات بیت گئی تھی۔ دن نکل آیا تھا مگر شاہ میر کی کوئی خیر خبر نہیں آئی تھیں۔
’’ادی میرب…‘‘ دن ڈھلے زریاب خان آیا‘ اس کی سرخ آنکھیں، شکستہ چال‘ میرب کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا۔
’’زریاب…‘‘ اسے یقین ہو چلا تھا کہ اس کے حصے میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔
’’ادی میزاب چلی گئی۔‘‘ وہ بدقت تمام بول پایا۔ ’’اور…‘‘
’’اور…‘‘ وہ دم سادھے کھڑی اس کی جانب آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک پل اس کے لیے صدیوں کے برابر تھا‘ اس ایک پل میں اس نے نہ جانے کیا کچھ سوچ لیا تھا۔
’’اور ادا شاہ میر کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ ان کے سر اور سینے میں گولیاں لگی ہے۔‘‘ وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی‘ کچھ بھی تو نہیں بچا تھا۔
حویلی میں سے ایک اور جنازہ اٹھا تھا۔ ایک اور بے بس‘ مجبور و محکوم کا جنازہ۔
}…{٭}…{
’’بابا… میں آپ کا سر دبا دوں؟‘‘ مہروز خان اپنے کمرے میں بند تھے۔ نہ وہ کھا پی رہے تھے‘ نہ ہی کسی سے بات کرتے تھے۔ انہیں مسلسل چپ لگی ہوئی تھی۔ آنکھیں موندے‘ ایزی چیئر پر بیٹھے وہ اس کو یاد کررہے تھے۔
’’بابا… آپ زمین کے جھگڑوں میں نہ پڑیں۔ اگر آپ کو کچھ ہوجاتا۔‘‘ وہ تڑپ کر سیدھے ہوئے اور آنکھیں کھول دیں۔ میزاب کہیں نہ تھی۔ ان کا زمین کا کیس چل رہا تھا۔ عدالت سے نکلتے ہوئے مخالفین نے ان پر گولیاں چلادی تھیں مگر وہ بچ گئے تھے۔ میزاب کو پتا چلا تو اس نے رو رو کر برا حال کرلیا تھا۔
’’میرے اللہ… یہ کیا ہوگیا۔‘‘ انہیں چاروں طرف سے پچھتاووں نے گھیر لیا تھا۔ کسی پل سکون نہ مل رہا تھا۔ ’’وہ میری بیٹی تھی‘ اس کی زندگی کا فیصلہ میں نے کسی اور سے کیوں کروایا۔‘‘ وقت ان کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا‘ آج تک جو ظلم انہوں نے ڈھائے‘ روایات کی پاسداری کے لیے جتنی جانوں کو قربان کیا سب کی سزا وقت نے ایک ساتھ انہیں دے دی تھی۔
’’کاش… مجھے ایک موقع مل جائے‘ میری بیٹی واپس آجائے۔‘‘ مگر وقت تو پانی کی لہر کی طرح ہے‘ ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ نہیں ملتا۔ ان کے ہاتھ سے بھی وقت نکل گیا تھا اور جاتے ہوئے انہیں پچھتاوے دے گیا تھا۔ اذیتوں کا ایسا باب کھول گیا تھا جسے بند کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔
}…{٭}…{
حاکم خان کو تین دن ہوچکے تھے ہاسپٹل میں آئی سی یو کے سامنے انتظار میں بیٹھے ہوئے سارا طنطنہ‘ رعب و دبدبہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔ خدا بن کر دوسروں کے بچوں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والے کے اپنے دل پر لگی تھی تو پتا چلا کہ درد کیا ہوتا ہے۔ جب اپنی اولاد اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتی ہے اور اسے ہزار خواہش کے باوجود بھی آپ بچانہ پارہے ہوں‘ کچھ بھی آپ کے اختیار میں نہ ہو تو دل کی کیا حالت ہوتی ہے؟ انہوں نے اب جانا تھا۔
وہ بھکاریوں کی طرح ہر ڈاکٹر سے اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے مگر انہیں کوئی بھی امید کا سرا نہیں تھما رہا تھا۔ ان کے چاروں جانب اندھیرا پھیل رہا تھا۔ آس کا کوئی ننھا سا جگنو بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
’’شاہ میر…‘‘ انہوں نے آئی سی یو کے دروازے میں بنی چھوٹی سی شیشے کی کھڑکی کو آس سے دیکھا۔ ان کا دل کٹنے لگا‘ ان کا شیر جوان پٹیوں اور مشینوں میں جکڑا بے سدھ پڑا تھا۔
’’ہائے یہ میں کیا کر بیٹھا‘ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو گولیاں مار دیں۔‘‘ انہیں کسی پل چین نہیں آرہا تھا۔ ان کا دل ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب۔‘‘ اندر سے ڈاکٹر نکلا تو وہ تیزی سے اس کی جانب لپکے۔
’’کیسا ہے میرا بیٹا؟‘‘ لہجے میں آس تھی۔
’’دیکھیں ابھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے‘ آپ دعا کریں۔‘‘ ڈاکٹر ان کا شانہ تھپتھپا کر جاچکا تھا۔ وہ بے بسی سے ان کی پشت کو گھورتے رہ گئے۔
’’کس سے مانگوں تمہاری زندگی شاہ میر۔‘‘ انہیں زندگی میں پہلی مرتبہ پتا چلا کہ بے بسی کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے جان لیا تھا کہ ان کا کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں‘ ایک لمحے میں ہزار بار پچھتائے تھے مگر سب بے سود تھا۔ وقت بند مٹھی سے ریت کی مانند سرک رہا تھا اور وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پارہے تھے۔ وہ لمحہ بہ لمحہ موت کو اپنے بیٹے کی جانب بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ دوسروں کی زندگیوں کو آگ لگانے والے کا اپنا چمن رفتہ رفتہ جل رہا تھا۔
}…{٭}…{
’’ادی میرب…‘‘ وہ بیڈ پر لیٹی اپنے خیالوں میں گم تھی جب زرمینہ دستک دے کر اندر آئی۔
’’ادی میرب‘ آپ کو پتا ہے… ادا شاہ میر کو ہوش نہیں آرہا۔‘‘ اس نے زرمینہ کی جانب دیکھا مگر کچھ بول نہیں سکی۔
’’ان کی کنڈیشن بہت کریٹیکل ہے‘ آپ ہاسپٹل نہیں جائیں گی؟‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’نہیں…‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’وہ آپ کے شوہر ہیں۔‘‘ زرمینہ کو حیرت ہوئی۔
’’گھر آجائیں گے تو تیمار داری کرلوں گی۔ میں ہاسپٹل نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ فیصلہ کن انداز میں بولی۔
’’مگر کیوں؟‘‘
’’میں حاکم خان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے فیصلوں نے میری ماں کی اور ان کی اولاد نے میری بہن کی جان لے لی ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں کی سطح پر نمی تیرنے لگی تھی۔ زرمینہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے، کیسے اسے تسلی دے‘ اس کا دکھ اتنا بڑا تھا کہ الفاظ کم پڑنے لگتے تھے۔ وہ اٹھ کر چلی گئی۔ میرب نے سر گھٹنوں پر رکھ لیا تھا۔
’’شاہ میر واپس آجائو‘ میں بہت اکیلی ہوگئی ہوں۔‘‘ اس کے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔
’’میں تمہیں آزاد کردوں گا۔‘‘ گمبھیر لہجہ اس کے آس پاس روشنیاں بکھیرنے لگا۔
’’مجھے آپ سے آزادی نہیں چاہیے شاہ میر‘ مجھے یہ قید دل وجان سے قبول ہے۔ روایت‘ نفرت اور انتقام کی جو زنجیر آپ نے میرے قدموں میں ڈالی ہے مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے۔ مجھے اب اس قید سے رہائی ملی تو میں مر جائوں گی۔‘‘ اس نے بہ مشکل اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا۔ اسے تو اب اندازہ ہوا تھا کہ وہ اس کی زندگی میں کیا حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
اسے کمرے میں شدید گھٹن کا احساس ہونے لگا تھا۔ وہ اٹھ کر باہر آگئی۔ اس کا رخ پچھلی طرف والے صحن کی طرف تھا۔ رات کی رانی کی مہک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ چاند کی چاندنی درختوں سے چھن کر صحن میں اتر رہی تھی۔ وہ گول کمرے کے سامنے آرکی تھی۔
’’کیسے رہی ہوگی تم اتنا عرصہ تنہا اس قبر میں۔‘‘ اس کے زخم پھر سے تازہ ہونے لگے۔
’’میں کیسی بہن ہوں، تم تنہا تڑپتی رہیں اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔‘‘ وہ زمین پر بیٹھ گئی۔ زریاب خان نے اپنے کمرے کی کھڑکی میں سے اسے دیکھا تو وہ فوراً اس کے پاس آپہنچا۔
’’ادی میرب۔‘‘ وہ پنجوں کے بل اس کے قریب بیٹھا۔
’’کیسے رہی ہوگی وہ اس قید خانے میں؟‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
’’مجھے معلوم نہ تھا کہ میری ادی یہاں قید ہے‘ ورنہ میں ایک منٹ اسے یہاں نہ چھوڑتا۔‘‘ وہ دکھ بھرے لہجے میں بولا۔
’’تم بھی اسی حویلی کے مرد ہو‘ ادا مراد کے بھائی ہو۔‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور اندر کی جانب بڑھا۔ ’’میں بے خبر تھا ادی۔‘‘ وہ خاموش رہی۔
’’اب ان باتوں کا کیا فائدہ… رونے اور پچھتانے کے لیے تو عمر پڑی ہے۔‘‘
’’ادا شاہ میر کو دیکھنے ہسپتال نہیں جائیں گی آپ؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ مختصراً بولی۔
’’میں کل شہر جارہا ہوں، میرے ساتھ چلیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’نہیں ہاسپٹل نہیں جائوں گی زریاب‘ میں انہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ وہ آنسو پیتے ہوئے بولی۔ پھر زریاب خان نے بھی اسے مجبور نہیں کیا۔
}…{٭}…{
حویلی کے درو دیوار پر محسوس کی جانے والی اداسی کی گہری چادر تن گئی تھی۔ حاکم بابا پلٹ کر حویلی نہیں آئے تھے۔ مہروز خان ہاسپٹل نہ جاتے تھے۔ البتہ بہروز خان کئی بار شاہ میر کو دیکھنے گئے تھے۔
’’شاہ میر…‘‘ وہ اکھڑی اکھڑی سانس لے رہا تھا‘ حاکم خان کے ساتھ کھڑا ان کا خاص ملازم ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بھاگا۔
اسی وقت دو ڈاکٹر بھاگتے ہوئے آئے۔ ان کے ساتھ نرس اور وارڈ بوائے بھی تھا۔ حاکم خان جیسا مضبوط اعصاب کا مالک شخص ہمت کھونے لگا تھا۔ ڈاکٹرز نے دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ وہ تڑپنے لگے۔
’’مہروز…‘‘ انہوں نے وحشت زدہ ہوکر انہیں فون کیا۔ ’’مجھے معاف کردو‘ میرے بیٹے کی زندگی ختم ہورہی ہے‘ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ ان کی بے بسی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔
’’میں تو آپ کو بددعا بھی نہیں دے سکتا کہ یہ بھی میری بیٹی کو ہی لگے گی۔‘‘ انہوں نے فون بند کردیا تھا‘ ایک گھنٹہ انہوں نے سولی پر لٹکتے ہوئے گزارا تھا۔
’’مبارک ہو آپ کے بیٹے کو ہوش آگیا ہے۔‘‘ ایک گھنٹے بعد ڈاکٹرز نے انہیں زندگی کی نوید دی تھی۔ وہ بے یقین نگاہوں سے ڈاکٹر کے منہ تکتے رہے‘ دل ابھی وہم اور اندیشوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
}…{٭}…{
وہ تین ہفتے ہاسپٹل میں رہا مگر میرب خان اسے پھر بھی دیکھتے نہیں گئی تھی۔ آج وہ گھر آرہا تھا۔ حاکم خان کے حکم پر اس کے شاندار استقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ وہ شاہ میر کا کمرہ چھوڑ کر اپنے اور میزاب کے کمرے میں آگئی تھی۔
رات گئے جب اسے یقین ہوگیا کہ اب وہ سو چکا ہوگا تو وہ اس کے بیڈ روم میں آئی مگر وہ یہ دیکھ کر ٹھٹک گئی کہ وہ جاگ رہا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے سلام کیا‘ وہ خیالوں میں گم تھا۔ اس کی آواز سن کر چونکا اور حال میں لوٹ آیا۔
’’کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟‘‘ وہ کچھ دیر کھڑی اس کے بولنے کی منتظر رہی اور جب وہ کچھ نہ بولا تو خود ہی اس کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔
’’تم سے مطلب۔‘‘ وہ خفگی سے بھرپور لہجے میں بولا تو میرب نے اسے دیکھا۔
’’میں بہت پریشان تھی آپ کے لیے۔‘‘ وہ بے خیالی میں کہہ گئی۔
’’ہاں اسی لیے ہر روز مجھے دیکھنے کے لیے آتی تھیں۔‘‘ اس نے نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ کیا۔
’’میں نے ہمیشہ کے لیے اپنی بہن کو کھودیا اور جن کی وجہ سے کھویا وہ ادھر ہاسپٹل میں ہی موجود تھے‘ میں ان کے سامنے جانا نہیں چاہتی تھی۔‘‘ اس نے برملا اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا۔
’’لائٹ آف کردو۔‘‘ اس نے بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔ میرب اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ اسے وہ ناراض دکھائی دیا۔
’’کیا آپ یہ چاہتے تھے کہ میں ہاسپٹل آئوں؟‘‘ اس کی بات پر شاہ میر نے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر اس کی جانب دیکھا۔
’’میں ایسا کیوں چاہوں گا؟‘‘
’’آپ کو کچھ چاہیے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’میں لادوں۔‘‘
’’مجھے صرف آرام چاہیے‘ سکون چاہیے‘ جو تم نہیں دے سکتیں۔‘‘ اس کا دل چھناکے سے ٹوٹا گویا یہ طے تھا کہ وہ شخص ہمیشہ اس کے دل پر گھائو ہی لگائے گا۔
اس نے آگے بڑھ کر لائٹ آف کردی اور کمرے سے باہر چلی آئی۔ وہ اتنے دنوں کے بعد گھر آیا تھا مگر اس سے بات کرتے ہوئے وہی سختی اور درشتی اس کے لہجے میں عود آئی تھی۔ اسے مزید ایک ہفتہ لگا تھا ٹھیک طرح چلنے پھرنے میں‘ اور اب وہ دونوں اسلام آباد جارہے تھے۔
}…{٭}…{
حاکم خان بیٹے سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ شاہ میر نے اسے بلوایا۔ وہ دونوں باپ بیٹا ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے‘ وہ ان کے سامنے جانا نہیں چاہتی تھی مگر شاہ میر کا حکم بھی ٹالنا نہیں چاہتی تھی‘ اس لیے چارو نا چار ڈرائنگ روم کی جانب چلی آئی۔
’’تم اس لڑکی کے ساتھ خوش نہیں ہو تو دوسری شادی کرلو۔‘‘ ان کی بات سن کر دروازے کے ہینڈل پر دھرا اس کا ہاتھ رک گیا۔ ’’یہ پڑی رہے گی گھر کے کونے میں‘ تم اپنی زندگی یوں مت خراب کرو۔‘‘ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ڈرائنگ روم کے بند دروازے کو دیکھا۔ ان کی خود غرضی اور سفاکیت نے اسے کھولا کر رکھ دیا تھا۔ وہ وہیں سے واپس مڑ گئی۔
’’بابا سائیں… میں ایسا کچھ نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کی۔ ’’وہ اچھی ہے اور میری فرماں بردار بھی۔‘‘ اس کی انا اور غیرت یہ گوارا نہیں کرتی تھی کہ کوئی اس کی بیوی کے خلاف کچھ بولے۔ کچھ دیر میں وہ چلے گئے تو وہ اٹھ کر اندر آیا‘ اسے وہ کہیں دکھائی نہیں دی۔
’’میرب…‘‘ وہ ٹیرس پر کھڑی تھی وہ اس کے قریب آگیا۔
’’بابا آئے تھے اور میں نے تمہیں بلوایا تھا‘ تم آئیں کیوں نہیں۔‘‘ وہ اس کے پاس آکر بولا۔ اس کی نظریں آسمان پر ٹکی ہوئی تھیں۔ جہاں یکایک بادل چھا گئے تھے۔ وہ خاموش تھی۔
’’میں ان سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔‘‘ شاہ میر نے بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔ جہاں پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نقوش واضح تھے۔
’’تم روتی رہی ہو؟‘‘ اس نے استفسار کیا میرب نے اس کی جانب دیکھا۔
’’آپ کو میرے رونے سے فرق پڑتا ہے؟‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں‘ اندر چلی گئی۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا‘ واپس آیا تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ وہ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھا بظاہر میگزین دیکھ رہا تھا مگر نظریں بھٹک بھٹک کر اس پر جارہی تھیں۔ دوپٹے کے ہالے میں اس کا رویا ہوا اداس چہرہ اسے بار بار اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔
’’میرب یہاں آجائو۔‘‘ وہ سونے کے لیے صوفے پر لیٹنے لگی تو اس نے پکارا۔
’’میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے قصداً اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔ بادل زور سے گرجے تھے‘ ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی تھی۔ وہ لیٹ چکی تھی اور کمبل سر تک تان لیا۔

میں نازک برف کا ایک ٹکڑا
تو رکھ کر بھول گیا مجھ کو
میں قطرہ قطرہ پگھلی ہوں
تو میری اذیت کیا جانے

’’میرب…‘‘ اس کے قریب آکر اسے پکارا مگر اس کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ ’’میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو۔‘‘ اس نے کمبل اس کے منہ سے ہٹایا‘ وہ رو رہی تھی۔ شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔ وہ بیٹھ گئی مگر اس کی طرف نہ دیکھا۔
’’میں نے تمہارے ساتھ جو بھی کیا‘ انجانے میں کیا‘ میں تمہاری بہن کی غلطی کی سزا تمہیں دیتا رہا‘ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے معاف کردو مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اس سب کو بھولنے کی کوشش کرو‘ جو تمہیں تکلیف دیتا ہے اور مجھے یقین ہے میری محبت تمہاری کھوئی ہوئی مسکراہٹ اور سکون لوٹا دے گی۔‘‘ وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا۔
’’شاہ میر…!‘‘ وہ اس کی طرف دیکھنے لگی‘ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی تھی۔ شاہ میر نے اس کا سر اپنے سینے سے ٹکا کر اسے اپنی بانہوں کے مضبوط حصار میں لے لیا تھا۔
’’بس چپ۔‘‘ وہ اس کا بازو سہلا رہا تھا‘ اس کے سینے پر سر رکھے وہ اندر کا غبار نکال رہی تھی۔ باہر بارش زور پکڑ چکی تھی اور اندر اس کے آنسو، شاہ میر کو یقین تھا کہ بارش ہر چیز کو دھو کر نیا اور صاف کردے گی‘ کل کا سورج انہیں ایک نئی زندگی کی نوید سنائے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close