Hijaab Mar 2019

عشق دی بازی(قسط ۱۵)

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

نرمین کی بات پر صہبا تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ ایک طرف ان کی آزاد خیال بیٹی تو دوسری طرف گائوں کا ماحول ان کی پریشانی کا باعث ہے، نرمین شادی کے بعد سمہان کو شہر لانے کی بات کر کے انہیں مطمئن کرتی ہے۔ شنائیہ حویلی میں کوفت کا شکار ہوتی ہے۔ حویلی کی لڑکیاں تفریح کا پروگرام بناتی ہیں۔ چودھری حشمت سے اجازت لینے کے لیے تمام لڑکیاں سمہان کا سہارا لیتی ہیں۔ اسپتال سے لوٹنے کے بعد منزہ خاموش ہوتی ہے۔ ایشان جاہ انہیں گھر چھوڑنے کی پیش کش کرتا ہے لیکن منزہ انکار کردیتی ہے۔ تب وہ انہیں رکشہ میں سوار کرنے کے ساتھ کرایہ بھی دے دیتا ہے اور اس بات کی خبر منزہ کو گھر آکر ہوتی ہے۔ انوشہ‘ ایشان جاہ سے مل کر متاثر ہوتی ہے جو نقشہ اس کے سامنے ماورا نے کھینچا تھا وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ شنائیہ کی تیاری کو شاہ زر شمعون تنقیدی نظروں سے دیکھتا ہوااسے اپنی شال دیتا ہے تاکہ وہ اس سے حجاب کرسکے، سمہان کے کہنے پر شاہ زر شمعون بھی تفریح کے لیے ساتھ جاتا ہے۔ چودھری بخت چھٹی سے واپس آتے ہی کام میں مصروف ہوجاتے ہیں ایسے میں ان کا پی اے انہیں ماورا یحییٰ کا بتاتا ہے کہ وہ مسلسل فون کرکے ان کی آمد کے متعلق پوچھتی ہے جس پر چودھری بخت ماورا کو ٹائم دے دیتے ہیں۔ صہبا‘ چودھری جہانگیر سے نرمین اور سمہان کی شادی کی بات کرتی ہیں۔ وہ نرمین کی رضا مندی پوچھتے ہیں جس پر صہبا اس کی خواہش بتا کر جہیز میں نرمین کو بنگلہ دینے کا بھی کہہ دیتی ہیں۔ چودھری جہانگیر چودھری حشمت کو فون کرکے نرمین اور سمہان کے رشتے کی بات کرتے ہیں۔ چودھری حشمت‘ سمہان اور عیشال کے حوالے سے دی جان کی بات دہراتے ہیں دونوں ان کی کی بیٹیاں ہیں لیکن چودھری جہانگیر کسی بھی صورت عیشال کو حویلی میں بیاہنے پر رضا مند نہیں ہوتے ان کے خیالات جان کر چودھری حشمت سوچ میں پڑجاتے ہیں۔ منزہ ‘ماورا کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دے دیتی ہے اور اس اچانک تبدیلی پر ماورا اور انوشہ حیران رہ جاتی ہیں، حویلی کی لڑکیاں جس خوشی سے تفریح کے لیے گئی تھیں۔ واپسی اتنی ہی دل شکن تھی۔ چادر میں الجھ کر شنائیہ گر جاتی ہے اس کی کمر پر چوٹ لگ جاتی ہے اور وہ اسی وجہ سے لاہور سے کراچی آجاتی ہے۔ حویلی میں سب پریشان ہوتے ہیں اور کراچی ائر پورٹ پر بھی دیا اور چودھری بخت فکر مندی سے اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اسے ٹھیک ٹھاک دیکھ کر دونوں ہی غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ شاہ زر شمعون شنائیہ کو ان کے حوالے کرکے ہوٹل چلا جاتا ہے، یہ اس کے غصے کا اظہار ہوتا ہے۔ چودھری حشمت حویلی والوں کے سامنے نرمین اور سمہان کے رشتے کی بات کرتے ہیں۔ جس پر سمہان عیشال جہانگیر سے نظریں چرا لیتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

اس کی بے فکری پہ دیا کو بلا کا غصہ آیا تھا اور انہوں نے اظہار بھی کردیا تھا پیچھے وہ ماہم کا منہ تکتی رہ گئی تھی۔
’’اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں اور اب پچھتاوے کیا ہوت جیسے ضربُ المثل غالباً آپ کے لیے ہیں۔‘‘ ماہم نے بے چارگی سے کہا تو وہ ہونٹ دبائے رونی صورت بنا گئی۔
’’اس سڑیل انسان نے میرے حقیقی ماں، باپ کو بھی سوتیلا بنا دیا۔‘‘ اس حال میں بھی اس کی نظر میں سارا قصور شاہ زرشمعون کا تھا۔ اس کی دُہائی پہ ماہم کو ہنسی تو بُہت آئی لیکن ضبط کر گئی تھی۔
…/…ؤ …/ …

کہتے ہیں جسے شہر کے سب لوگ مسیحا
وہ شخص میرے درد سے انجان سا کیوں ہے
مٹی کا بنا ہے تو گھل کیوں نہیں جاتا
پتھر کا صنم ہے تو وہ انسان سا کیوں ہے

عیشال کا دل شدت سے چاہا کہ وہ کہیں گم ہوجائے اور اس کا وجود ڈھونڈے سے بھی نا ملے… کبھی کبھی ایک حاصل کی امید پہ زندگی ٹکی رہتی ہے اور جب وہی حاصل، لاحاصل کی حر پر پہنچ کر خود سے دور محسوس ہو تو زندگی ختم ہونے لگتی ہے۔ اس کے لیے بھی سب کچھ ختم ہوچُکا تھا لیکن اسے اپنے اندر کے سکوت سے وحشت ہونے لگی تھی اور یہی ڈر اسے سمہان آفندی کی آنکھوں سے بھی جھلکتا نظر آیا تھا۔
وہ بھی اس کی خاموشی پہ حیران ہوا تھا۔ شاید وہ بھی منتظر تھا کہ وہ چیخے گی، چلائے گی حویلی سر پہ اُٹھالے گی لیکن وہ بھول گیا تھا کہ ایسا وہ اس صورت میں کرسکتی تھی جب وہ اس سے اظہار محبت کرتا۔ جب محبت کا اقرار کسی سمت سے ہوا ہی نہیں تھا تو وہ کس برتے پہ اس کا گریبان پکڑتی، کس حق سے گلہ کرتی‘ اس کے پہلو تہی کے بعد وہ کیوں کر اپنی انا، پندار کو ٹھیس پہنچا کر اس کے سامنے تماشا کرتی…؟ کیونکر خود کو اس کے سامنے چھوٹا ثابت کرتی۔ عورت کو مرد کے ساتھ کا ذرا سا بھی یقین ہو تو وہ زمانے سے لڑ جاتی ہے… اور یہی اک ڈر تھا جو سمہان آفندی آج تک اس کے سامنے مکمل کھلا نہیں تھا۔ بڑوں کے آگے اس کی آزادی گروی تھی۔ وہ بغاوت کرکے جنگ کا خواہان نہیں تھا کہ بغاوت، جنگ اپنوں سے کب ہوتی ہے۔ اپنوں پر تو اپنی زندگی تک وار دی جاتی ہے اور وہ یہی کررہا تھا لیکن شاید عیشال ایسا نہیں کرسکتی تھی تب ہی اس کی خاموشی سے اسے خوف آرہا تھا۔
جھکڑ چلنے کے بعد تیز بارش شروع ہوچکی تھی۔ آدھی رات کو شروع ہوئی بارش اندھیری رات کو خاصا خوفناک بنا دیتی تھی۔ ہوا دار بالکنی سے اُڑتا سفید باریک پردہ، کمرے کی خوابناک روشنی سے اتنی گھٹن ہونے لگی کہ اس کے قدم کھلی چھت کی طرف بڑھنے لگے۔
فرش پہ بوندوں کا رقص، بادلوں کی گرج اور ہواؤں کے شور سے تاریک رات مزید دہشت زدہ لگ رہی تھی۔ سلگتے وجود پہ بوندوں نے گر کر اسے اپنا اسیر کرنا چاہا تھا لیکن ان کی کوشش بے کار گئی تھی۔ بجلی کی چمک نے ایک لمحے کو سارا منظر واضح کردیا تھا۔ اس کی نظر بے ساختہ جھولے کی طرف گئی تھیں۔ اس برستی رات میں ہر ڈر و خوف سے بے نیاز بُری طرح آندھیوں کی زد میںگھری بلاشبہ وہ عیشال جہانگیر ہی تھی۔ دل میں جیسے سوئیاں سی چُبھنے لگی تھیں۔ وہ واپس پلٹنا چاہتا تھا لیکن قدم ہلنے سے انکاری تھے۔ اسے اس بری طرح روتے دیکھ کر اپنے آپ سے پہلی بار نفرت سی محسوس ہوئی… یہ دھان، پان سی لڑکی رات کے اس پہر اس اجنبی، گم گشتہ محبت پر ہی تو بین کررہی تھی جو ملنے سے پہلے ہی کسی اور کے نام ہونے جارہی تھی۔ وہ محبت جو دونوں کے سامنے کبھی بیان نہیں ہوئی تھی لیکن دونوں کی زندگی میں اس بن کہی محبت کے باعث ہی رنگ تھے۔ اس کے قدم بے ساختہ اس کی جانب اُٹھ رہے تھے۔ قریب جانے پہ احساس ہوا سرد برستے پانی میں شرابور اس کا وجود بُری طرح کانپ رہا تھا۔ آنکھوں کا پانی تو بارش کے پانی کے ساتھ مدغم ہوکر اپنی ہئیت ہی کھو چکایا تھا ۔
وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ وہ دیکھ چکی تھی لیکن انداز میں فرق نہیں آیا‘ ان کے بیچ صرف تیز بارش کا شور تھا۔ لب دونوں جانب ساکت تھے، نا وجاہت کی چھیڑ خانی تھی، نا ادا کی طرف سے جوابی گولہ باری۔ اپنی بلیو جیکٹ اُتارتے وہ اس کی پشت پہ آگیا اور خاموشی سے اس کے وجود پہ جیکٹ ڈال کر واپسی کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ عیشال جہانگیر نے جھٹکے سے جیکٹ کھینچ کر اس کے مُنہ پہ دے ماری۔ جیکٹ قدموں میں آپڑی تھی۔
’’نہیں چاہیے تمہاری ہمدردی کی بھیک‘ نہیں چاہیے دکھاوے کا اپنا پن‘ اکیلی ہوں، اکیلی ہی رہوں گی۔‘‘ بُری طرح چیختے وہ اس کے وجود کو ساکت کر گئی تھی۔
…/…ؤ …/ …
وہ آج کئی ماہ کے بعد یونیورسٹی آئی تھی اور اس کی حالت اس شخص کی طرح تھی جو ہاتھ سے نکلتی ڈور کا سرا اچانک پکڑ کر اپنی ہار کو جیت میں بدلتا دیکھتا ہے۔ اس کی آمد کو ایشان جاہ نے حیرانی سے دیکھا‘ اس کی حیرانی پہ اسے حیرانی ہوئی تھی کہ کہیں وہ اس پابندی سے تو واقف نہیں تھا…؟ لیکن ایسا کیسے ہوسکتا تھا، وہ سر جھٹکنے کے ساتھ اس کی موجودگی کو نظر انداز کر گئی، البتہ اس کے گروپ نے ایشان جاہ کے پُرسکون انداز کو دیکھتے اسے اکسایا۔
’’دیکھ… دیکھ آگئی دشمنِ اوّل۔‘‘ سعید نے متوجہ بھی کیا لیکن جب ایشان جاہ متوجہ نہیں ہوا تو وہ سب بھی سر جھٹک گئے۔
وہ جب تک کلاس میں رہی خود کو ایشان جاہ کی نظروں کی زد میں محسوس کرکے تلملاتی رہی۔
’’دماغ ٹھکانے پر ہے اس کا؟ ایک ذرا سا اماں کو ہاسپٹل لے جا کر خود کو ہیرو سمجھ رہا ہے۔‘‘ وہ جھنجلا کے انوشا سے ذکر کررہی تھی۔ اس کے یونیورسٹی اور انوشا کے اسکول سے لوٹنے کے بعد دونوں حسبِ ہدایت شاپنگ پہ چلی آئی تھیں۔ جانے منزہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی یا وہ کس موڈ میں تھیں کہ انہیں اکیلے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا انہیں اپنا وقت مختصر ہوتا محسوس ہورہا تھا اور ان کے بعد ان کی بیٹیوں نے اکیلے ہی زمانے کے سرد وگرم برداشت کرنے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی جو انہوں نے اکیلے جانے کی اجازت دے دی اور اب دونوں شاپنگ کرتی دن کا احوال ایک دوسرے کو سنا رہی تھیں کہ پھر موقع نہیں ملتا کہ ماورا کو گھر پہنچ کر کوچنگ کے لیے بھی نکلنا تھا بلکہ وہ تو بضد تھی کہ راستے سے ہی چلی جائے گی لیکن وہ تھوڑا آرام کر لے اس نیت سے انوشا جلدی جلدی چیزیں دیکھ رہی تھی۔
’’اتنی بھی ایمرجنسی نہیں ہے، تم تسلی سے چیزیں دیکھو، ایسا کریں گے کل پھر ایک چکر لگالیں گے دوسرے مال کا۔‘‘ مبادا جلدی میں انوشا کو پسندیدہ چیزیں نہیں ملتیں اس خیال سے اس نے کل کا دن بھی شاپنگ کے لیے مقرر کرلیا تو انوشا کے دل کو بھی بات لگی۔
’’ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہو‘ کل پھر آجائیں گے لیکن مجھے ایشان جاہ کی سمجھ نہیں آرہی کہیں محترم لو ایٹ فرسٹ سائیڈ کا شکار تو نہیں ہوگئے، تمہاری کل کی عزت افزائی کے بعد؟‘‘ اس کے خیال سے اتفاق کرتے انوشا نے یو ٹرن لیا تو وہ بھونچکا رہ گئی۔
’’توبہ کرو انوشا… کیسی فضول باتیں کرنے لگی ہو‘ میں لعنت بھیجنا بھی پسند نا کروں اس گھمنڈی انسان پہ۔‘‘ وہ نخوت سے اس کا تصور ہی جھٹک گئی۔
’’یہ زندگی خود بڑی فلم ہے مائے ڈیئر…‘‘
’’لیکن ولن کو ہیرو کا رول دینے کا میرا قطعاً کوئی موڈ نہیں۔‘‘ وہ منہ بنا گئی۔
’’ہائے ایسا تو نا کہو… اتنا تو ہینڈسم ہے‘ کہیں سے ولن نہیں لگتا۔‘‘ انوشا نے اختلاف کیا۔
’’اگر اماں یا یاسر بھائی نے سُن لیا ناں مار کھائو گی۔‘‘ اس نے دکان پہ نظر دوڑاتے اسے ڈرایا۔
’’لو جی… تو میں اپنے لیے کب کہہ رہی تھی‘ مجھے تو وہ تمہارے لیے بُہت اچھا لگا۔‘‘ وہ صفائی دینے لگی۔
’’خود کی شادی ہوئی نہیں کہ کنوارے تمہاری آنکھوں میں کھٹکنے لگے‘ معاف رکھو مجھے، تم شادی کرو اور چین سے اپنے گھر جاؤ، مجھے اور اماں کو ذرا آزادی کا مزا لینے دو۔‘‘ اس کی شوخی پہ انوشا نے شاپنگ بیگ اس کی طرف اُچھالا۔
’’بس یہیں روک دو بھائی۔‘‘ گھر کے آگے رکشہ رکوا کر انوشا اسے پیسے دینے لگی جبکہ ماورا تحیّر سے گھر کے کھلے دروازے کو دیکھنے لگی۔
’’یہ گھر کا گیٹ کیوں کھلا ہوا ہے… سب خیر تو ہے؟‘‘ وہ ہولتی ہوئی بڑبُڑائی‘ منزہ کی طرف سے تو ہر وقت دھڑکا ہی لگا رہتا تھا۔
’’اماں…‘‘ انوشا کا انتظار کیے بنا وہ تیزی سے منزہ کو آوازیں دیتے انداز داخل ہوئی‘ انوشا نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’اماں آپ کہاں ہیں…؟‘‘ وہ سیدھی ان کے کمرے کی طرف بڑھی‘ ان کے گھر کا دروازہ کبھی کھلا نہیں رہتا تھا پھر آج کیسے؟ ان کا چونکنا لازمی تھا۔
’’سب خیر ہے اماں… یہ گھر کا دروازہ کیوں کھلا ہوا ہے؟‘‘ بولتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئی لیکن ایک دم سے قدم وہیں تھم گئے‘ اس کے پیچھے داخل ہونے والی انوشا کو اس کا رکنا پڑا۔
’’راستے میں کیوں رُک گئیں؟ آگے بڑھو ناں۔‘‘ وہ رکاوٹ بنی کھڑی تھی اور انوشا اس کے باعث آگے نکلنے سے قاصر تھی۔ انوشا ایک طرف سے نکل کے آگے بڑھی اور اسے دیکھ کر چونک گئی۔
’’السلام علیکم! آپ…؟‘‘ انوشا، منزہ کے سامنے براجمان ایشان جاہ کو دیکھ کر حیران ہوئی۔ ابھی سارا راستہ وہ اس کی تو باتیں کرتی آئی تھیں اور وہ گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔
’’ایشان آیا تھا، میں شاید دروازہ بند کرنا بھول گئی۔‘‘ منزہ نے صفائی دی۔
’’اوکے آنٹی میں چلتا ہوں۔‘‘ ان کے ہونق انداز کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے اس نے منزہ سے اجازت طلب کی۔
’’ایسے کیسے… پہلی بار آئے ہو، چائے پی کر جانا۔‘‘ منزہ کے انداز پہ دونوں کی حیرت دیدنی تھی کہاں تو گھر میں غیر مرد کا داخلہ ممنوع تھا اور کہاں ایشان جاہ شان سے براجمان تھا اور منزہ انہیں چائے لانے کا کہہ رہی تھیں اور وہ بھی جیسے اس آفر کا منتظر تھا۔ مزید ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کے بیٹھ گیا تو انوشا کو ہنسی آنے لگی۔
’’جاؤ ماورا، چائے لے آؤ۔‘‘ منزہ نے اشارہ کیا تاکہ اس کا سکتہ ٹوٹے۔ وہ چونک کر ایک نظر اس پہ ڈال کر منزہ کو دیکھنے لگی۔ ان کے چہرے کی روشنی تر و تازگی بتا رہی تھی کہ وہ کافی خوش ہیں۔ وہ مرے ہوئے قدموں سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
’’یہ یہاں کیسے آگیا؟‘‘ وہ حیران ہوکر خالی سوسر چولہے پہ رکھ گئی۔
’’ایسی بھی کیا بدحواسی پانی تو ڈالو۔‘‘ انوشا بیگز کو دوسرے کمرے میں رکھ کر اس کی مدد کو آئی تو خالی ساسر دیکھ کر کہا۔
’’ہاں… وہ ڈالنے ہی لگی تھی۔‘‘ وہ گڑبڑا کر پانی ڈالنے لگی۔
’’یہ چائے کے ساتھ بسکٹ اور نمکو بھی رکھ دو‘ خالی چائے اچھی نہیں لگتی ناں۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں اتنی مہمان نوازی کی‘ میں تو چائے دینے کے حق میں بھی نہیں ہوں۔‘‘ ماورا نے دونوں چیزیں اپنے قبضے میں کرکے ایک طرف رکھ دیں۔ انوشا اس کی کدورت پہ سر پکڑ کر رہ گئی۔
’’تم لوگ باہر سے کچھ لے کر آئی ہو تو چائے کے ساتھ وہ بھی لے آئو۔ ورنہ کسی بچے کو بھیج کے کچھ منگوا لو، خالی چائے سامنے رکھنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ منزہ بھی وہاں آکر ہدایت دینے لگیں۔ چائے بن گئی تو انوشا ہی لے کر اندر گئی کہ اس نے صاف انکار کردیا تھا۔
’’اماں کے اُصولوں میں اتنی بڑی تبدیلی‘ ایشان جاہ کے لیے لیکن کیوں؟‘‘ وہ سوچ کے رہ گئی۔ وقفے وقفے سے تینوں کی باتوں کی آواز آرہی تھیں۔
’’اماں نے انوشا کو بھی اس کے سامنے بٹھا لیا۔‘‘ وہ حیران پریشان کمرے میں چلی آئی تھی۔
…/…ؤ …/ …
’’شنائیہ کی حرکت پر میں تم سے سخت شرمندہ ہوں شاہ‘ ناز ونعم میں پلی ہے شاید تب ہی ہر چیز کو ایڈونچر، تھرل سمجھتی ہے‘ ہوسکے تو معاف کردو اس کی بے وقوفی کو اور گھر چلو‘ اپنا گھر ہوتے تم ہوٹل میں ٹھہرو میرے لیے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ میرا بھتیجا اور داماد گھر کی بجائے ہوٹل میں رہے۔‘‘ صبح ہوتے ہی چودھری بخت اس کے سامنے موجود تھے اور اسے ساتھ چلنے پہ اصرار کررہے تھے۔
’’یقین کرو شرمندگی کے مارے پوری رات سو نہیں سکا‘ ساتھ ہی تمہارا شکر گزار بھی ہوں کہ تم نے حویلی میں ہماری عزت رکھ لی۔‘‘ چودھری بخت شرمندہ تھے۔
’’آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے چچا جان‘ یہاں ہر چیز کی سہولت ہے آپ پریشان نا ہوں ممکن ہوا تو آج، ورنہ کل ضرور حویلی چلا جاؤں گا‘ آپ کچھ محسوس نہیں کریں۔‘‘ وہ اس کا نام لیے بنا انکاری تھا۔
’’کیسے محسوس نا کروں‘ شنائیہ نے بُہت بڑی بے وقوفی کی ہے اور تم ناراض ہو تب ہی تو گھر کی بجائے یہاں موجود ہو۔‘‘ چودھری بخت نادم تھے۔ شاہ زرشمعون کو ان کا بار بار اصرار اور اپنا انکار غیر مناسب لگ رہا تھا لیکن شنائیہ نے اسے نیچا دکھانے کے لیے جو حرکت کی تھی اس پہ اسے شدید غصہ تھا۔ بات صرف اس کی ذات تک رہتی تو قابلِ برداشت تھی لیکن اس نے تو پوری حویلی حتی کہ والدین تک کو پریشان کردیا تھا اور یہ کوئی اتنی چھوٹی بات نہیں تھی جو وہ نظر انداز کرجاتا۔ اس کی نظر میں بڑوں کی بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ بس اپنی من پسند چیزوں کے حصول کے لیے ہر حد تک جاسکتی تھی۔ حالات کو اپنے لیے سازگار کرنے کے لیے کوئی بھی ڈرامہ کرسکتی تھی اور اس کی یہی منہ زور طبیعت اسے کھل رہی تھی۔
نکاح ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور اس کی بدتمیزیاں زور پکڑنے لگی تھیں، چاہتا تو سارے کس بل نکال دیتا لیکن ابھی صرف نکاح ہوا تھا اور وہ اس پہ سب کے سامنے حکم چلانے سے بھی قاصر تھا کہ وہ جس ماحول میں پلا بڑھا تھا وہاں نکاح کے بعد بھی آزادانہ میل ملاپ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسے سیدھا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ رُخصتی تک انتظار کرے لیکن شنائیہ چال پہ چال چل کے جتا رہی تھی کہ وہ بازی جیت رہی ہے جب کہ اس کی ساری چالیں ابھی باقی تھیں۔
ابھی وہ اصرار کر ہی رہے تھے کہ چودھری حشمت کی کال شاہ زرشمعون کے نمبر پہ آنے لگی۔ سلام دعا کے بعد وہ فکر مندی سے پوتی کی خیریت دریافت کررہے تھے۔
’’پریشان ہونے کی بات نہیں ہے داجان‘ ہڈی سلامت ہے بس ایک آدھ ڈسک پہ معمولی چوٹ ہے‘ چچا جان میرے ساتھ ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں تو یہ آپ کو مجھ سے زیادہ بہتر انداز میں بتا سکیں گے، بات کریں چچا جان سے۔‘‘ معاملہ سنبھال کے وہ ہوشیاری کا مُظاہرہ کرتا چودھری بخت کی مُوجودگی سے فائدہ اُٹھاتے یہ تاثر دے گیا کہ وہ ان کے ساتھ ہی ہے۔ مبادا انہیں کوئی شک ہوجائے۔ اس کی عقل مندی کی داد دیتے چودھری بخت نے سیل فون لے لیا اور شاہ کی بات کو آگے بڑھاتے وہ ڈاکٹری انداز میں انہیں مرض بتا کر فکر نا کرنے کا مشورہ دیا۔
’’الحمدُللہ‘ سن کر دل کو سکون ملا کہ بچی خیریت سے ہے، ورنہ یقین کرو ساری رات فکر سے نیند نہیں آئی کہ خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہوا تو ہم عمر بھر خود کو معاف نہیں کر پاتے کہ بچی کو ہم نے ضد کرکے روکا اور تم بھی ہمیں الزام دیتے، جیسے دیر سے ڈاکٹر کے پاس جانے پہ خفگی کا اظہار کر گئے تھے۔‘‘ سکون کی سانس لیتے چودھری حشمت کے یاد دلانے پہ چودھری بخت کو اپنے مکالمے پہ ایک بار پھر شدید ندامت ہوئی۔
’’اولاد کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی بابا جان‘ اگر آپ کی دل آزاری ہوئی تو میں ہاتھ جوڑ کے معافی مانگتا ہوں، معاف کردیں۔‘‘ چودھری بخت کو نئے سرے سے شنائیہ پہ غصّۃ آیا۔ شاہ کے لب بھی بِھنچ گئے تو اس کا اندازہ درست تھا۔ اس کی بے وقوفی سے رشتوں میں دراڑ پڑسکتی تھی لیکن اسے پروا ہی کب تھی۔
چودھری بخت سے تفصیلی بات کرکے انہوں نے شاہ کو دوبارہ فون دینے کی خواہش کی تو وہ سیل فون اسے تھما گئے۔
’’تم ابھی کچھ دن مزید بخت کے پاس ہی رُک جاؤ، بخت اکیلا ہے، ہاسپٹل دیکھے گا یا بیٹی کو‘ شہر میں جہانگیر اور ایشان تو ہیں لیکن ان کی اپنی مصروفیت ہوگی، بخت کا کوئی بیٹا ہوتا تو ہم تمہیں نا کہتے، ویسے بھی شنائیہ تمہارے نکاح میں ہے اس کی ہر ذمہ داری اب تم نے ہی اُٹھانی ہے۔ اس لیے جب تک ہماری پوتی مکمل صحت یاب نہیں ہوتی، تم وہیں شہر میں رہو‘ یہاں کی فکر نا کرنا یہاں سمہان ہے، ہم سب ہیں۔ شنائیہ ٹھیک ہوجائے تو ہم جلد ہی ایک خوشی بھی کرنے والے ہیں۔‘‘ چودھری بخت اگلا حکم سُنا کر خوش خبری کی بات کر گئے۔ جانے کیسی خوشی تھی۔ سوال کرنے کی عادت نہیں تھی سو وہ ’’جی بہتر‘‘ کہہ کے رہ گیا لیکن یہاں مزید رُکنے کا حکم اسے کسی طور پسند نہیں آیا تھا۔ وہ تو جلد سے جلد یہاں سے بھاگنے کی کررہا تھا۔
’’اب تو بابا جان نے بھی کہہ دیا… بس تم میرے ساتھ چل رہے ہو‘ میں ہوٹل کے واجبات ادا کرکے آتا ہوں۔ چچا جان کے لیے دل میں عزت و مُحبت ہے تو تم بالکل منع نہیں کرو گے بس خاموشی سے سامان سمیٹو۔‘‘ چودھری بخت حتمی انداز میں کہتے اُٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگے تو اس نے بھی جیسے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
…/…ؤ …/ …
’’گڈ ایوننگ مام…‘‘
’’آج کافی دیر تک سوتی رہی؟‘‘ دن چڑھے نرمین کی صبح ہوئی تو نیلز فائل کرتی صہبا اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے استفسار کرنے لگیں۔
’’صبح ہی سوئی تھی، ساری رات مووی دیکھتی رہی پتا ہی نہیں چلا کب صبح ہوئی۔‘‘ نرمین لاپروائی سے گویا ہوئی۔
’’رات کی نیند پوری لیا کرو۔ ورنہ بیوٹی کو نقصان پہنچنے گا، بھلے دن کو مووی دیکھ لو۔‘‘ بیوٹی کانشش صہبا نے بیٹی کو سمجھایا۔
’’آئے نو مام… بس نیند نہیں آرہی تھی تو…‘‘
’’کچھ منگواؤں تمہارے لیے۔‘‘ نیلز کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے وہ بیٹی کی صحت کے لیے بھی متفکر تھیں۔
’’آرہا ہے ناشتا، انٹرکام کرتی آئی تھی۔‘‘ وہ صہبا کے مصروف انداز کو دیکھ رہی تھی اسے لگا کہ وہ خود ہی سب بتا دیں گی لیکن انہیں مصروف دیکھ کر وہ خود ہی سوال کرنے لگی۔
’’آپ نے ڈیڈ سے بات کی مام؟‘‘
’’کون سی بات…؟‘‘ صہبا شاید غائب دماغی کا شکار تھیں یا ان کی توجہ اپنے نیلز کی طرف زیادہ تھی لیکن جب صہبا کو جواب نا ملا تو وہ اس کی طرف دیکھنے لگیں جو شکایتی نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی شکایتی نظروں کا مرکز جان کر صہبا جیسے چونکیں۔
’’اچھا وہ بات… تمہیں کہا تو تھا کہ ہاں ہی سمجھو تمہارے ڈیڈ، میری بات کو کب ٹالتے ہیں اور جب یہ خبر ہو کہ ان کی بیٹی کی پسند شامل ہے تو سمجھو، وہ ساری دنیا سے لڑ کر سمہان آفندی کو تمہارے نام کردیں گے۔‘‘ صہبا فخریہ لہجے میں اسے کل کی ساری رُداد سُنا رہی تھیں، یہاں تک کہ چودھری حشمت کا ارادہ عیشال اور سمہان کی بات پکی کرنے کا تھا، انہوں نے وہ تک گوش گزار کردیا۔
’’تمہارے ڈیڈ نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ عیشال کی شادی وہ کسی صورت سمہان سے نہیں ہونے دیں گے اور بابا جان نے حویلی میں بات کرکے تمہارے اور سمہان کے رشتے کے لیے ہاں کردی ہے۔‘‘
’’رئیلی مام…‘‘ جانے وہ بے یقینی کا ڈرامہ کیوں کررہی تھی جب کہ پتا بھی تھا کہ ان کے منہ سے نکلی بات جہانگیر کے لیے حرفِ آخر تھی۔
’’میں جھوٹ کیوں کہوںگی اپنی بیٹی سے۔‘‘ صہبا ناز سے مُسکرائیں۔
’’اور سمہان… وہ راضی ہوگیا؟ اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟‘‘ اس کے تصور میں دونوں کی نوک جھونک آگئی تھی۔
’’حویلی کے وفادار آج بھی باباجان کے کہے کو ٹالنے کی جرأت نہیں رکھتے، وہ وہی کرے گا جو باباجان کہیں گے، اور باباجان وہی کریں گے جو جہانگیر کہیں گے۔ تمہارے ڈیڈ سے بُہت محبت جو کرتے ہیں۔‘‘ صہبا استہزائیہ لہجے میں کہتے ہوئے مسکرائیں۔
’’وہ تو شنائیہ چوٹ لگوا کر واپس آگئی، تب ہی بابا جان ابھی کچھ اناؤنس نہیں کررہے۔ شاہ بھی ان دنوں کراچی میں ہے۔ سوچ رہی ہوں جاکر بخت بھائی کے گھر عیادت کر آؤں۔ تم چلو گی؟‘‘ صہبا اپنی معلومات کے ساتھ ارادہ ظاہر کرکے اس کا خیال بھی جاننے لگیں۔
’’میں تو نہیں جارہی مام بلکہ میرا موڈ تو سمہان سے بات کرنے کا ہورہا ہے۔‘‘ نرمین ایکسائیٹڈ ہوکر خواہش ظاہر کر گئی تو صہبا مسکرا دیں۔
’’اب تو تمہارا ہی ہے کرلو کس نے روکا ہے۔‘‘
’’ لائیں جلدی سے نمبر دیں سمہان کا۔‘‘
’’میرے پاس سمہان کا نمبر کہاں ہے، آج سے پہلے کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ سیو کروں۔ ایسا کرو ایشان یا اپنے ڈیڈ کو کال کرکے نمبر لے لو ان کے پاس ہوگا۔‘‘ صہبا وجہ بتا کر راہ دکھا گئیں۔
’’اتنا انتظار کون کرے، میں حویلی کے نمبر پہ ہی کال کرلیتی ہوں اسے۔‘‘
’’میں دیکھتی ہوں تمہارا ناشتا کہاں رہ گیا۔‘‘ اس کی جلد بازی پہ صہبا مسکرا کر چلی گئیں اور وہ خوشی خوشی حویلی کا نمبر ڈائل کرنے لگی تھی۔
…/…ؤ …/ …
راہداری میں رکھا فون کب سے بج رہا تھا۔ راہداری میں اس وقت سناٹا تھا۔ وہ کافی دیر تک بجتی بیل کو نظر انداز کرتی رہی لیکن جب بیل مسلسل بجتی رہی تو وہ جھنجلا کر فون اسٹینڈتک آئی۔
’’جی…‘‘ انداز لٹھ مار تھا۔
’’کیا حویلی کے سارے لوگ سوتے رہتے ہیں جو فون کی بیل کسی کو سنائی نہیں دیتی۔‘‘ دوسری طرف تُنک مزاج نرمین کال دیر سے پک ہونے پر جھنجلا کر کال ریسیو کرنے والے پہ چڑھ دوڑی۔
’’آپ کون؟‘‘ اس نے اپنا شک دور کرنا چاہا، اتنی قُربت کب رہی تھی کہ وہ اس کا نمبر یاد رکھتی یا اسے آواز سے پہچان لیتی۔
’’نرمین بات کررہی ہوں‘ حیرت ہے تم نے مجھے نہیں پہچانا عیشال جہانگیر…‘‘ نرمین کا لہجہ استہزائیہ ہوا۔
سمہان آفندی صبح کا نکلا ابھی آیا تھا اسے راہداری میں فون پہ اُلجھتے دیکھ کر اس کے قدموں کی رفتار سست ہوئی۔ جانے وہ کس سے اُلجھ رہی تھی۔
’’محترمہ یہاں کوئی آپ کی طرح فارغ نہیں ہے، جو دن رات فون سے چپکا رہے کہ کب فون کی گھنٹی بجے اور لپک کے اُٹھا لے‘ ویسے بھی زمانہ اتنی ترقی کر گیا کہ سوشل ایپس نے اتنی آسانی کردی ہے کہ اب لینڈ لائن پہ آپ جیسے عقل سے عاری لوگ کال کرکے پریشان کرتے ہیں جس کسی سے بات کرنی ہے اُس کے پرسنل نمبر پہ کال کریں۔‘‘ غیر متوقع طور پہ اس کی آواز سُن کر حیران ہونے کے ساتھ لہجہ کڑوا ہوا تھا۔
’’خیر ہے، کریلے چبا رہی ہو؟ ہاں بھئی حواس کہاں سلامت ہوں گے لوگوں کے… بڑی اُونچی اُڑان اُڑ رہے تھے لوگ ایک ہی جھٹکے میں، میں نے منہ کے بل گرا دیا‘ ایک ایئر رنگ پہ دم نکلنے لگا تھا، اب تو میں نے تم سے پورے کا پورا سمہان آفندی چھین لیا اب کیا کہو گی۔‘‘ اس کا اشارہ سمجھ کر وہ حیران ہونے کے ساتھ شعلوں میں گھر گئی۔ تو اس کا شک درست نکلا نرمین نے اسے شکست دینے کے لیے اس کی خوشیوں پہ ڈاکہ ڈالا تھا۔ وہ کوئی سخت جواب دینے ہی والی تھی جب اس کی نظر سمہان آفندی پہ گئی اور اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا، جواب دینے کے لیے اپنے کھونٹے کی مضبوطی کا ادراک ضروری تھا اور یہاں تو کھونٹا ہی اپنا نہیں تھا تو وہ کس بل بوتے پہ جواب دیتی۔
’’خیر میں نے تم سے سر کھپانے کے لیے کال نہیں کی، سمہان سے میری بات کرواؤ۔‘‘ اس حکمِ شاہی پہ اس کے سر سے لگی اور پیروں تلے بُُجھی۔
’’میں آپ کی پی اے نہیں ہوں جو پیغام رسانی کے فرائض سر انجام دوں‘ سمہان صاحب یہیں موجود ہیں، دوبارہ کال کرکے بات کرلیجیے میں فون بند کررہی ہوں۔‘‘ اس نے ریسیور پوری قُوت سے کریڈل پہ دے مارا اور وہ اس کے مُنہ سے اپنا نام سُن کر جارحانہ انداز پہ بے حد حیران رہ گیا۔
’’کون تھا دوسری طرف؟‘‘ لیکن اس نے جواب نہ دیا بلکہ اسے دیکھ کر بھی اجنبی بن کے گزر گئی‘ رات کے بعد اس کی صورت اب نظر آئی تھی، ناشتے کی میز پہ وہ خود دیر سے پہنچا تھا۔ تب تک لڑکیاں کالج، یونیورسٹی چلی گئی تھیں اور اس نے سامنا نا ہونے پہ شکر ادا کیا تھا لیکن حیرت تو اس وقت ہوئی جب وہ اجنبی لہجے میں صاحب کہہ کر فون پٹخ کر چلتی بنی، بتانا تک گوارا نہیں کیا کہ کس کی کال تھی۔ گویا وہ خود بھی بات کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔ ابھی وہ اس کے رویے پر غور ہی کررہا تھا کہ فون کی گھنٹی ایک بار پھر بجنے لگی۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے تجسس سے فون ریسیو کیا۔
’’کون سمہان؟ اس جاہل لڑکی کو بات کرنے کی تمیز بھی ہے یا نہیں‘ تمہیں فون دینے کی بجائے پٹخ کے چلی گئی‘ تمہارا نمبر ہوتا تو کبھی لینڈ لائن پہ کال کرکے اس گھٹیا لڑکی کے مُنہ نا لگتی۔ جلدی سے اپنا نمبر دو، میں اس پہ کال کرتی ہوں۔‘‘ اس کی آواز سُن کر نرمین شروع ہوگئی تھی اور عیشال کے انداز پہ سخت برہم نظر آرہی تھی۔ نرمین کی کال اس کے لیے بھی باعثِ حیرت تھی مزید اس کا فرمان سُن کر اس کا بھی جی چاہا عیشال کی طرح زور سے فون پٹخ دے لیکن ایسا کر نہ سکا۔ ریسیور آرام سے کریڈل کے پاس رکھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تاکہ پھر دوبارہ گھنٹی نا بجے۔
…/…ؤ …/ …
’’اماں صبح میں یونیورسٹی سے چُھٹی کروں گی‘ آپ میرے ساتھ ہاسپٹل چلیے گا میں نے اپائنمٹ لے لی ہے ڈاکٹر بخت سے۔‘‘ انوشا کچن سمیٹ رہی تھی۔ ماورا منزہ کو دوا دیتے صبح کے پلان سے آگاہ کررہی تھی۔
’’یہ ایشان جاہ کیسا ہے پڑھائی میں؟‘‘ وہ اُلٹا اس سے سوال کر گئیں تو ماورا یحیٰ حیران ہوئی۔ یہ کون سا مزاج تھا منزہ کا کہ وہ ایک اجنبی کے متعلق اس سے سوال کررہی تھیں۔
’’سُنا ہے اب تک کے اکیڈمک رپورٹ میں ٹاپ کرتا آیا ہے۔‘‘ حیرت پہ قابو پاکر وہ بے دلی سے جواب دے گئی۔
’’ہاں ذہانت کا اثر تو ہوگا۔‘‘
’’ کس کی ذہانت کا اثر امّاں؟‘‘ منزہ کی سرگوشی پر اس نے حیرانی سے دیکھا۔
’’خون کا ہی اثر ہوتا ہے ناں۔‘‘ منزہ گڑبڑائیں۔ اسے شک نا ہو اس لیے بات آگے بڑھائی۔
’’شکل سے ہی مُہذب، پڑھے لکھے گھرانے کا لگتا ہے اور تم نے ہی تو بتایا کہ اس کے والد مشہور آدمی ہیں۔‘‘ اور وہ جو انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی سر جھٹک گئی۔
’’مجھے تو ذرا بھی گھمنڈی، بدتمیز نہیں لگا‘ اب دیکھو نا میری مدد کرنے سے پہلے وہ کب جانتا تھا کہ میں تمہاری والدہ ہوں، انسانیت کے ناتے کیسے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ درد مند دل بھی رکھتا ہے۔‘‘ منزہ کی بے وقت کی مدح سرائی کی اسے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’وہ آپ کے سامنے شریف انسان بنا بیٹھا تھا‘ آپ کو تو ایسا ہی لگے گا۔ دونوں باپ بیٹے حد درجے کا گھمنڈی ہیں بلکہ جہانگیر صاحب تو غرور اور گھمنڈ میں مجھے بیٹے سے بھی دو ہاتھ آگے ہی لگے۔‘‘ وہ بُرا سامنہ بنا گئی۔
’’نہیں وہ مغرور تو کبھی نہیں رہا، ہاں دیکھنے والے کو پہلے، پہل ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ منزہ جس روانی سے چودھری جہانگیر کے متعلق کہہ گئیں ماورا ایک بار پھر ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’میرا کہنے کا مطلب تھا کچھ لوگ اپنے رکھ رکھاؤ کے باعث مغرور لگتے ہیں لیکن ہوتے نہیں۔‘‘ وہ اس کی نظروں میں حیرت محسوس کرتے جلدی سے بات بنا گئیں۔
’’دفع کریں، ان باپ بیٹے کو… ہمیں ان سے کیا لینا دینا۔ اگلی بار عیادت کے لیے آئے تو باہر سے ہی چلتا کردیجیے گا۔ مجھے تو حیرت ہے اماں آپ نے اسے اندر آنے کیسے دیا؟‘‘ ناگواری کا اظہار کرتے وہ حیرانی سے سوال بھی کر گئی۔
’’احسان تھا اس کا، کیسے دروازے سے واپس موڑ دیتی۔‘‘ جواب خاصا بے وزن تھا لیکن اس نے جرح مناسب خیال نہیں کیا۔
’’اماں… اپنے کپڑے بھی نکال دیں تاکہ میں استری کرکے صبح کے لیے تیار کردوں۔‘‘ وہ موضوع بدل گئی۔
’’کیوں صبح کہاں جانا ہے؟‘‘ منزہ کی غائب دماغی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ سارا فسانہ کہہ گئی تھی اور انہوں نے کُچھ سُنا ہی نہیں تھا۔
’’ابھی تو بتایا آپ کو… صبح ہم ڈاکٹر بخت کے پاس جا رہے ہیں۔‘‘
’’اور میں نے بھی تمہیں کہہ دیا تھا کہ انوشا کی شادی سے پہلے میں کہیں نہیں جارہی۔‘‘ وہ آرام سے پیر پسار کے چادر درست کرنے لگیں۔
’’کیوں بچوں کی طرح ضد کررہی ہیں اماں… جانتی بھی ہیں ہر گزرتا دن آپ کی زندگی کے لیے کتنا اہم ہے۔‘‘ بیماری سے لاپروائی پہ اسے افسوس ہوا۔
’’تمہاری ساری کوشش بے کار ہے‘ موت آنے سے پہلے الہام ہوجاتا ہے، مجھے بھی یقین ہوچکا ہے کہ اب چند دنوں کی مہمان ہوں تو کیوں جاکر ہاسپٹل میں طرح، طرح کے ٹیسٹ کروا کے پیسے ضائع کروں، یہاں پہلے ہی کون سی فیکٹریاں چل رہی ہیں تمہارے باپ دادا کی۔‘‘ لبوں پہ مجروح مسکراہٹ لیے ان کا لب ولہجہ کڑوا ہو چلا تھا۔ حقیقتاً موت سے بڑھ کے کوئی کشف نہیں ہے۔ مرنے والے کو اپنے اعمال کی روشنی میں کاتبِ قدیر کے فیصلے کی سمجھ آجاتی ہے۔ وہ بھی سمجھ گئی تھیں کہ انہوں نے دوسروں کو آسانیاں کب فراہم کی تھیں۔ انہیں آسان موت نصیب ہوتی۔ انہیں پل پل موت کی گھڑیاں گننا تھیں۔ وہ ذہنی طور پہ موت کو قبول کرچکی تھیں اور اب ڈاکٹر بخت کے پاس جاکر علاج کروانا موت سے بڑھ کر درد ناک ثابت ہوتا۔
’’مجھے کوشش تو کرنے دیں شاید کوئی راہ نکل آئے۔‘‘ ان کی دل گرفتہ باتیں، اس کا دل چھلنی کرنے لگیں۔ ان تینوں کا ایک دوسرے کے سوا تھا ہی کون۔ بچپن سے آج تک ماں، بیٹی کے رشتے میں ہی زندگی گزری تھی اور ایسے میں اس تکون کا ایک حصہ خالی ہوکر ان کی زندگی بے نور کر جاتا۔
’’اب کوئی فائدہ نہیں‘ وقت پورا ہوچکا ہے۔ اب اس کے حضور جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس کے بندوں سے تو نہیں لیکن اس سے معافیاں بُہت مانگی ہیں، جانے وہ معاف بھی کرے گا یا نہیں۔‘‘ لہجہ یاسیت بھرا تھا۔ ماورا کو ان کی ذومعنی باتوں کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن آنسو تواتر سے بہنے لگے۔
’’رونے سے کُچھ حاصل نہیں ہوتا، خود کو مضبوط کرو، میرے بعد اکیلے ہی رہنا ہے، کاش کہ تمہیں بھی اپنے گھر کا کرکے جاتی لیکن چلو ایک آس تو ہے۔ اسی آس میں سکون سے دم نکل جائے گا۔‘‘ منزہ کی بہکی بہکی باتوں پہ اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آگئی تھی۔
…/…ؤ …/ …
’’جب مُنہ اُٹھا کر واپس ہی آنا تھا تو میری بے عزتی کرنے کے لیے یہ سارا ڈٖرامہ رچایا ضروری تھا۔‘‘ چودھری بخت کے ساتھ شاہ زرشمعون کو آتے دیکھ کر وہ بڑبڑا کے رہ گئی۔
’’اب تو چپ کر جاؤ آپی‘ مما پپا نے سن لیا تو پھر سے کلاس لگ جائے گی تمہاری۔‘‘ ماہم نے ٹہوکا دیتے ڈرانے کی کوشش کی۔
’’ہونہہ… چھوڑو جانے کون سے لعل جڑے نظر آتے ہیں مما پپا کو اس سڑیل میں جو بیٹی کو اتنی باتیں سنا دیں۔ مما تو مجھ سے بات ہی نہیں کررہیں‘ بی جمالو سے کچھ کم نہیں لگا مجھے ان محترم کا کردار‘ میرے والدین کو ہی میرے خلاف کردیا۔‘‘ اس کا قلق دور نہیں ہورہا تھا۔
’’ویرے شاہ نے کچھ نہیں کیا، اُلٹا انہوں نے آپ کے عزت رکھی حویلی والوں کے سامنے اور اب بھی آپ کی جھوٹ کا بھرم رکھنے کو شہر میں موجود ہیں تاکہ حویلی والوں کی نظر میں آپ کا امیج بنا رہے، جہاں آپ ساری زندگی بہو بن کر رُخصت ہوکر جائیں گی۔ اگر جو جھوٹ کھل جاتا تو سوچیں وہ سب کبھی آپ کی باتوں پر اعتبار کرتے؟ کبھی سچ میں چوٹ بھی لگ جاتی تو سب یہی کہتے ناٹک کررہی ہے۔‘‘ ماہم چھوٹی تھی لیکن مدبر بن کے سمجھا رہی تھی۔ اس نے توجہ نا دینا ہی ضروری خیال کیا۔
’’شاہ آگیا ہے… بڑی مشکلوں سے تمہارے پپا اسے منا کر لائے ہیں‘ ماہم اس سے کہہ دو یہ چائے شاہ کے کمرے میں دے آئے اور ساتھ ہی اپنے کیے کی معافی بھی مانگ لے۔‘‘ دیا اجنبی لہجے میں آکر گویا ہوئیں‘ ملازم چائے کی ٹرے رکھ گیا تھا۔ ماہم ہونقوں کی طرح دونوں کی شکل دیکھنے لگی۔ کل سے دونوں براہِ راست بات کرنے کی بجائے اسے گھسیٹ رہی تھیں۔
’’ایسا کون سا عظیم الشان شہنشاہ ہے یہ شاہ زرشمعون جو آپ مجھ سے اتنی ناراض ہیں مما کہ مجھ سے بات بھی نہیں کررہیں؟‘‘ وہ چڑ ہی تو گئی۔
’’تمہیں ابھی یہی تو پتا نہیں کہ کون کیا ہے اور میں کیوں ناراض ہوں‘ بہرحال چائے ٹھنڈی ہونے سے پہلے پہنچانے کا کام یاد دلا دینا ماہم۔‘‘ اس پہ ایک سرد سی نگاہ ڈال کر دیا چلی گئیں۔
’’اُف یہ شخص…‘‘ وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔
’’کاش کہ ابھی زہر کی بوتل ہوتی میرے پاس تو اس چائے میں اُنڈیل دیتی‘ اب میں اس سڑیل کو چائے پیش کرنے جاؤں؟‘‘ وہ پیر پٹخ رہی تھی۔
’’اور معافی بھی مانگنی ہے۔‘‘ مسکراہٹ دباتے ماہم نے اگلا ٹاسک بھی یاد دلایا۔
’’گلہ نا دبا دوں اس کا۔‘‘ وہ کوفت زدہ ہوئی لیکن مرتے کیا نا کرتے کے مصداق اس نے جھنجلاتے ہوئے کمرے کی راہ لی۔
’’دروازہ کُھلا ہے۔‘‘ دستک کے جواب میں اندر سے آواز آئی تو وہ برے برے منہ بناتی ایک ہاتھ سے بہ مشکل گیٹ وا کر کے اندر داخل ہوئی۔
’’انسان آگے بڑھ کے دروازہ ہی کھول دیتا ہے کہ ایک ہاتھ سے ٹرے سنبھال کے گیٹ کھولنا آسان نہیں ہوتا۔‘‘ اندر داخل ہوتے ہی وہ ناگواری سے جتانا نہیں بھولی۔
’’اُوہ…!‘‘ وہ ایک نظر اسے اور دوسری نظر اس کے ہاتھ میں موجود ٹرے پہ ڈال کر رہ گیا، جہاں چائے کے ساتھ دیگر لوزمات بھی تھے۔
’’خبر نہیں تھی شہزادی وقت دروازے پہ کھڑی ہیں ورنہ ضرور قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا۔‘‘ وہ اس سے زیادہ جلے بھنے لہجے میں جواب داغ گیا۔ وہ ابھی شاور لے کے نکلا تھا اور گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑ رہا تھا۔
’’مما نے چائے بھیجی ہے اور کہا ہے آپ سے معافی بھی مانگ لوں۔‘‘ وہ رٹو طوطے کی طرح من و عن سارا سبق دہرا گئی۔
’’چچی جان نے کہا تو آپ کو معافی مانگنے کا خیال آیا، ورنہ آپ کا ایسا کوئی ارادہ تھا نہیں شاید؟‘‘ تولیہ ایک طرف رکھ کر اب وہ بال بنا رہا تھا۔ شیشے میں اس کے بگڑے نقوش بغور زیر مطالعہ تھے۔
’’معافی کس بات کی؟ جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘ ساری حقیقت بڑوں کو بتادی تو یہ بھی تو بتا دیں کہ آپ نے مجھے چیلنج کیا تھا اور جب میں نے بازی جیت لی تو آپ نے چال ہی بدل ڈالی۔‘‘ وہ بنا لگی لپٹی رکھے جتا گئی کہ معافی کی تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔
’’ذرا حافظے پر زور ڈالیں محترمہ… چیلنج بھی آپ نے کیا تھا، نکاح نا کرنے کا فیصلہ آپ کا تھا میرا نہیں۔‘‘ ٹرے اپنے قریب کرکے وہ چائے اُنڈیلنے لگا‘ حد درجہ پُرسکون انداز تھا۔
’’بالکل تھا فیصلہ اور میں ابھی تک قائم ہوں اس بات پر کہ آپ کی اور میری نہیں نبھے گی۔‘‘ وہ منہ چڑھا گئی۔
’’کوشش تو کریں۔‘‘ استہزائیہ مسکراہٹ سجا کے چڑایا۔
’’وقت برباد کرنے کی قائل نہیں ہوں۔‘‘ وہ جلبلائی۔
’’وقت اور برباد سے یاد آیا… کہاں ہوتے ہیں آپ کے صاحبِ نامدار ابھی چند دن تو میں آپ کے ہی شہر میں ہوں کسی دن ملوائیں اس تیس مار خان سے۔‘‘ کرسی پہ براجمان ہوکر وہ آرام سے چائے کی چسکی لے رہا تھا۔
’’کون صاحبِ نامدار اور تیس مار خان؟‘‘ وہ اس کی اُردو پہ حیران ہوئی‘ پلے خاک نہیں پڑا تھا۔
’’وہی جنہیں چاہنے کا آپ نے دعویٰ کیا تھا۔‘‘ اس کے استہزائیہ انداز پہ اس کا دماغ بھک سے اُڑا۔
’’چلیں آپ ملوانے میں دلچسپی نہیں لے رہیں تو چچا یا چچی جان سے کہتا ہوں، شاید وہ ہی ملوا دیں۔‘‘ اس کے ہونق انداز پہ مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
’’لو… اب یہ ایک نئی مصیبت۔‘‘ اس کا اپنا سر پیٹ لینے کو جی چاہا۔
…/…ؤ …/ …
نرمین سے ہوئی بحث و تکرار کے بعد اس کے قدم ندا کے کمرے کی طرف اُٹھ رہے تھے‘ نرمین کی باتیں، استحقاق سے سمہان کے بات کروانے کا حکم‘ اس کے اندر آتش فشاں برپا تھا۔ جی تو یہی چاہا سمہان آفندی کو اتنا سنائے کہ طبیعت صاف کردے لیکن اب تو اس سے بات کرنے کو بھی دل نہیں چاہا رہا تھا۔ تب ہی وہ ندا کے پاس آئی تھی۔ اس کے مزاج کے ٹھہراؤ سے ہمیشہ اسے کچھ سیکھنے کو ملتا تھا لیکن جانے کیوں کئی دنوں سے ندا اسے بہت پریشان لگ رہی تھی۔ طبیعت کا بہانہ بنا کر چپ چاپ رہتی۔ ایک وہی تو تھی جس سے اس کی بات چیت تھی۔ ایسے میں جب وہ خود پریشان تھی اسے ندا کی خاموشی بھی بہت محسوس ہورہی تھی۔ جانے کیا بات تھی جو وہ بتا بھی نہیں رہی تھی۔
’’عیشال…‘‘ وہ فریال کے کمرے کے پاس سے گزر رہی تھی جب اسے دیکھ کر فریال نے آواز دی۔
’’جی چچی جان۔‘‘ وہ دہلیز پہ آکھڑی ہوئی۔ فریال بیڈ پہ کپڑوں کا ڈھیر پھیلائے بیٹھی نظر آئیں۔
’’اندر آجاؤ بیٹا، اتنی بھی کیا غیریت۔‘‘ فریال نے مُحبت سے کہا تو وہ پھیکا سا مُسکرا کر اندر آگئی۔
’’کوئی کام تھا چچی جان؟‘‘ سمہان آفندی سے غصہ اور ناراضی اپنی جگہ لیکن وہ دل سے فریال کی عزت کرتی تھی۔
’’کام تو کوئی نہیں ہے بیٹا، بس آج الماری خالی کی تو اس میں سے کئی نئے جوڑے نکل آئے جو اب میرے تو آنہیں رہے، پھینکتے ہوئے بھی افسوس ہورہا ہے کہ نئے نکور ہیں‘ پہلے سوچا تھا اپنی بہو کو دے دوں گی لیکن نرمین جیسی بہو سے تو یہ آس ممکن نہیں، نئے جوڑے کو اُترن کہہ کے پھینک دے گی۔ تم تو اپنی بچی ہو یہ کُچھ جوڑے الگ کیے ہیں اگر تمہیں پسند آئیں تو تم رکھ لو۔‘‘ بیش قیمتی جوڑے فریال نے اس کی طرف بڑھائے۔
فریال کے خلوص سے انکار نہیں تھا لیکن ان کی باتوں سے دل اس بُری طرح دُکھا کہ وہ کئی ثانیے کُچھ بول ہی نہیں سکی۔ تب ہی کھلے دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی۔ نگاہ بے اختیار اُٹھی تو سمہان آفندی دروازے پر کھڑا تھا۔
’’مما… ڈیڈ نے کل لاکر میں کُچھ کیش اور فائل رکھوائی تھیں، وہ مانگ رہے ہیں۔‘‘ اس نے اندر آکر مدعا بیان کیا۔ انداز کسی قدر سنجیدہ تھا۔ فریال کی باتیں اس نے بھی سُنی تھیں۔
’’ایک تو تمہارے ڈیڈ بھی ناں مجال ہے جو کوئی کام پورا کرلیں ابھی نکلے ہیں خود ہی نکال کر لے جاتے لیکن نہیں تمہارے ہاتھ پیغام بھیج دیا… رکو ابھی نکال کے لاتی ہوں۔‘‘ فریال چودھری اسفند کی غائبانہ کلاس لیتے کپڑے چھوڑ کر روم سے ملحق چھوٹے سے اسٹور روم میں لاکر کی طرف بڑھیں۔
’’عیشال تم کپڑے دیکھو تب تک میں آتی ہوں۔‘‘ فریال اٹھ کر جاچکی تھیں۔ کمرے میں صرف اب وہ دونوں رہ گئے تھے یا ان کے بیچ سرسراتی خاموشی۔ اس کے گریز کو سمہان آفندی نے بڑی گہری نظروں سے دیکھا‘ کل کے کپڑوں میں اُلجھے کرل بالوں کے ساتھ وہ بُہت اُداس لگ رہی تھی۔ اس کی موجودگی کو سرے سے نظر انداز کیے وہ کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ پہلی غیر ارادی نگاہ کے اُٹھنے کے بعد اس نے اس پر دوسری نگاہ ڈالنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔ کہاں تو پہلے بات کرنے کے مواقع تلاش کیے جاتے تھے اور اب کہاں دونوں ایک دوسرے کی موجودگی میں لب سیے کھڑے تھے۔
’’یہ لو سمہان۔‘‘ فریال نے فائل اور کیش اس کی طرف بڑھایا۔
’’مما… جینا سے کہہ کر میرے روم میں چائے بھجوادیں۔ تھوڑی دیر آرام کروں گا۔‘‘ وہ دونوں چیزیں تھام کر فرمائش کر گیا۔
’’کھانا کھایا تھا تم نے؟‘‘ فریال کو فکر ہوئی۔
’’ابھی تو آیا ہوں، کھانے کا وقت تو نکل گیا ہے آپ بس چائے بھجوادیں۔‘‘ اس کے جھکے سر پہ ایک سرسری سی نگاہ ڈال کر وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔
’’اتنی لاپروائی اچھی نہیں ہوتی، چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی بھیجتی ہوں۔‘‘
’’اس کا آرام، اس کے کام، اس کی زندگی میں میرا وجود تو کہیں نہیں اور اب تو استحقاق سے نام لینے والی بھی آگئی ہے ایک عرصہ خود فریبی میں گنوا کر کیا ملا مجھے؟‘‘ دل بری طرح کرلانے لگا تھا۔
’’کچھ پسند آیا عیشال؟‘‘ فریال اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’یہ دو جوڑے رکھ رہی ہوں چچی جان۔‘‘ دو سوٹ الگ کرکے اس نے انہیں دکھائے تو فریال سر ہلا کر باقی کپڑے سمیٹنے لگیں۔ کمرے سے نکلتے سمہان آفندی نے اس کا چہرہ بغور دیکھا۔ یوں لگ رہا تھا وہ کسی بھی لمحے رو پڑے گی وہ تیزی سے دہلیز عُبور کر گیا تھا۔
…/…ؤ …/ …
’’چودھری جی‘ جب آپ کی اور ہماری بات ہوگئی تھی کہ آپ عیشال اور سمہان کے لیے سوچیں گے تو پھر یہ نرمین کا بکھیڑا کہاں سے آگیا بیچ میں؟‘‘ زمرد بیگم نے جب سے یہ فیصلہ سُنا تھا انہیں بے چینی ہورہی تھی۔ نرمین اور سمہان کا جوڑ انہیں کسی طور پسند نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں چودھری حشمت کو جیسے ہی فرصت ملی زمرد بیگم نے بات کرنا ضروری خیال کیا۔
’’بات تو بالکل ہوئی تھی ہماری آپ کے ساتھ لیکن ہم جہانگیر سے مجبور ہیں زمرد بیگم۔ وہ عیشال کے لیے بُہت انتہا پسندی سے سوچتا ہے۔ اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ بھلے ہم نرمین کے لیے سمہان کے رشتے سے انکار کردیں لیکن وہ پھر بھی کسی صورت عیشال کی شادی حویلی میں نہیں ہونے دے گا۔‘‘ چودھری حشمت نے سچائی سے حقائق ان کے سامنے رکھ دیے۔
’’وہ کون ہوتا ہے عیشال کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے والا؟ اس نے آج تک بچی کو دیا ہی کیا ہے؟ اُلٹا وہ بچی اس کے کیے کی سزا اب تک بھگتتی آرہی اور جانے کب تک بھگتتی رہے گی۔ جب اسے صائقہ سے اتنی نفرت تھی کہ اس نفرت کی بھینٹ عیشال بھی چڑھ گئی تو بہتر ہوتا اسے پیدا ہی نہیں کرتا، کم ازکم میرا دل تو نا جلتا اس کی بے رخی پر‘ شہری بیٹا بیٹی کے لیے دُنیا کی ہر نعمت لے آتا ہے اور عیشال کے لیے دو روپے کی چیز تک نہیں‘ جائیداد اور وراثت میں حصہ تو بُہت دور کی بات ہے‘ صہبا بھی اسی کا انتخاب ہے، اسی کی طرح بے حس ہے، کبھی باپ بیٹی کے بیچ آئے فاصلے کو اس نے کم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اسے بڑھاوا ہی دیا… جہانگیر نا خود کبھی حویلی میں رکا اور نہ ہی بیوی ٹک سکی، اب کیا سوچ کر بیٹی کا رشتہ سمہان کے لیے مانگ رہا ہے؟ ابھی شاہ کے نکاح میں دیکھا نہیں آپ نے؟ کیسے غیروں کی طرح گھڑی دو گھڑی کے لیے سب آئے اور چلے گئے پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ انہیں بیٹی کے رشتے کے لیے حویلی کی یاد آگئی؟ جب ماں حویلی کو آج تک سسرال کا درجہ دے کر اہمیت نا دے سکی تو بیٹی کیا دے گی‘ پھر آپ سمہان کو شہر رخصت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘‘ چودھری جہانگیر کی بے حسی اور صہبا کا چڑچڑا مزاج زمرد بیگم کو کبھی پسند نہیں آیا تھا، ایسے میں وہ کھلی ناپسندیدگی کا اظہار کرکے سوال بھی کر گئیں۔
’’آپ کی تمام باتیں اپنی جگہ بجا ہیں زمرد بیگم لیکن جب اس خواہش کا اظہار خود جہانگیر نے اپنے منہ سے کیا تو ہم اسے انکار نا کرسکے‘ اگر شنائیہ کے ساتھ حادثہ نا ہوتا اور شاہ بھی حویلی میں ہوتا تو ممکن ہے ہم اب تک منگنی یا نکاح کا اعلان بھی کرچکے ہوتے۔‘‘ چودھری حشمت، چودھری جہانگیر کی فرمائش پہ اس کے فیصلے کو اہمیت دے رہے تھے اسے دیکھ کر زمرد بیگم کو ذرا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
’’مزید یہ کہ سمہان کو شہر رخصت کرنے کا ہمارا تو کوئی ارادہ نہیں اور ایسا ہمارے جیتے جی ممکن بھی نہیں۔‘‘ چودھری حشمت کا انداز حتمی تھا۔
’’پھر آپ ایک سرد جنگ کے لیے تیار رہیں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ نرمین کبھی حویلی میں رہ سکے گی یا جہانگیر اپنی چیتی بیٹی کو خود سے دور رہنے دے گا۔ اس سب میں سب سے زیادہ ذہنی اذیت کا جس کو سامنا ہوگا وہ سمہان ہے‘ جس پہ اپنی شہری پوتی آپ مسلط کررہے ہیں۔‘‘ زمرد بیگم کی ناگواری برقرار تھی۔
’’آپ تو بالکل روایتی ساس لگ رہی ہیں زمرد بیگم‘ شنائیہ بھی تو شہری پوتی ہے آپ کی اسے بھی تو ہم شاہ سے جوڑ کے حویلی لا رہے ہیں۔ تب تو آپ نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔‘‘ چودھری حشمت ذرا سا مسکرائے۔
’’شنائیہ بھلے شہری ماحول میں پلی بڑھی ہے لیکن اس کی پرورش دیا نے کی ہے جو برسوں سے شہر میں رہنے کے باوجود آج بھی اپنی اقدارو روایات کو یاد رکھے ہوئے ہے۔ بخت میں بھی اپنی مٹی سے وفا ہے، تب ہی تو وہ واپس آنے کی ہامی بھر گیا جب کہ جہانگیر… اس میں وفا نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ کبھی ماں باپ کو چھوڑ کر صائقہ کے ہوتے شہری بیوی لاتا؟ کیسے بولائی بولائی پھرتی تھی ان دنوں صائقہ‘ آج تک یہ قلق میرے دل سے نہیں جاتا کہ کاش اس کی شادی جہانگیر سے نہیں کرتی کم از کم یوں کلس کلس کے موذی مرض کا شکار ہوکر وہ مرتی تو نہیں اور اب عیشال کو اسی طرح پریشان دیکھ کر دل دکھتا ہے‘ اسے پیدا کرکے وہ دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ چین کی زندگی جی رہا ہے۔‘‘
’’کس بات کی پریشانی ہے عیشال کو‘ سب کچھ تو میسر ہے اسے حویلی میں۔‘‘ چودھری حشمت بھی جہانگیر کی طرح انہیں کبھی کبھی بے حس محسوس ہوتے تھے لیکن مجازی خدا ہونے کے ناتے وہ کچھ کہنے سے قاصر تھیں۔
’’حویلی میں بھلے عیشال کی بنیادی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں لیکن بنیادی ضروریات کے علاوہ بھی انسان کی سو حاجتیں ہوتی ہیں… ماں باپ کی کمی کا خلاء ہم اور آپ مل کر کبھی پورا نہیں کرسکتے۔‘‘
’’عیشال جتنی منہ زور اور گستاخ ہے اس پہ ہم نے پہلے ہی اسے بہت رعایت دی ہوئی ہے۔‘‘ چودھری حشمت ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ وہ غلطی پر ہیں۔
’’یہ منہ زوری اور گستاخی بھی تو ان ہی حالات کے باعث ہے جن میں پل کے وہ بڑی ہوئی۔ جب وہ اپنے باپ کو سوتیلے بہن بھائی سے محبت کرتے اور خود سے کھلے عام نفرت کرتے دیکھتی رہی تو سوچیں اس کے دل پہ کیا گزرتی ہوگی جب کہ اس معصوم کو تو اپنا قصور بھی نہیں معلوم کیا تھا جو جہانگیر اپنے دونوں بچوںکی طرح اسے بھی محبت سے اپنے پاس رکھتا۔ صائقہ کی زندگی میں نا سہی لیکن بعد میں تو وہ ایسا کر ہی سکتا تھا ناں‘ سچ میں کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے عیشال کے لیے، جانے کیسا نصیب لے کر آئی ہے میری بچی۔ سوچا تھا سمہان کے ساتھ سکھی رہے گی لیکن آپ نے جہانگیر کی مان کے بالکل اچھا نہیں کیا ہے چودھری جی۔‘‘ زمرد بیگم دکھی تھیں۔
’’جانے آپ کیوں اتنا دکھی ہورہی ہیں عیشال کے لیے، جب کہ ہم تو ہر گھڑی اس تشویش میں ہوتے ہیں کہ یہ لڑکی اب کون سا نیا گل کھلائے گی۔‘‘ چودھری حشمت کے ناگواری سے کہنے پہ زمرد بیگم نے ٹھنڈی سانس لی‘ مزید کچھ کہنا بے کار تھا۔ ان کی ساری کوشش بے سود گئی تھی۔ چودھری حشمت اپنے فیصلے سے ذرا پیچھے نہیں ہٹے تھے۔ جانے آنے والے دن حویلی کے لیے کیا لے کر آنے والے تھے۔ زمرد بیگم کے خدشے درست ہونے والے تھے یا چودھری حشمت کی دور اندیشی کام آنے والی تھی۔ اس کا فیصلہ تو آنے والے وقت نے ہی کرنا تھا۔
…/…ؤ …/ …

اس لیے چُپ سادھ لی میں نے
اس سے بہتر کوئی کلام تھا ہی نہیں
اس لیے خاص کر دیا گیا عشق
یہ عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں

موسم اور رشتوں کا سنگم ایک جیسا ہوتا ہے کبھی اتنے نرم کہ ان کی نرماہٹ سے زندگی حسین لگتی ہے اور کبھی اتنے سخت کہ ان کی سختی سے دم گھٹنے لگے۔ فرق تو بس اتنا ہے کہ موسم احساسات اور جسم کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور رشتے روح کو‘ کچھ رشتوں کے نام کب ہوتے ہیں وہ تو بس نام کے ہوتے ہیں اور اسی نام کے رشتے کو وہ زندگی سمجھ بیٹھی تھی۔ ساری دنیا میں ایک وہی اپنا لگتا تھا لیکن آج وہ وقت بھی آیا جب وہ اجنبی بن کے نظر چرا کے گزرنے لگا تھا۔
اداس دوپہریں یوں بھی گراں گزرتی تھیں کہ کرنے کے لیے کوئی کام بھی نہیں ہوتا تھا۔ اپنے کمرے کی بے رونقی سے تنگ آکر کمرے سے نکل کر اس کا رُخ باغ کی طرف تھا لیکن باغ میں جانے سے پہلے اس کے کانوں میں کسی کے کراہنے کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ تیزی سے آگے بڑھی اور ایک پل کو وہ وہیں ٹھٹھک سی گئی‘ تھوڑی ہی دُور ندا منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں روکتی نظر آئی۔
’’ندا آپی کیا ہوا؟‘‘ وہ بھاگ کر پاس آئی۔ ندا کو اس وقت یہاں اس حال میں دیکھ کر اتنی حیران ہوئی کہ ایک پل کو وہ آواز بھی فراموش کر گئی جسے سن کر وہ یہاں تک آئی تھی۔
’’وہ…‘‘ ندا کچھ بول نا سکی بس ٹکٹکی باندھے ایک سمت دیکھتی آنسو بہاتی رہی۔ عیشال نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور جیسے اس پہ آسمان ٹوٹ پڑا۔ نیم کے مضبوط پیڑ سے چھبیس، ستائیس سالہ لڑکا بندھا ہوا تھا اور حویلی کے جلاد نما درندے اس پر تشدد کررہے تھے۔
’’ندا آپی کون ہے یہ بندہ؟‘‘ عیشال بری طرح بوکھلائی۔ تشدد کا شکار ہونے والا لڑکا بری طرح کراہ رہا تھا۔
’’وہ مر جائے گا۔‘‘ ندا کے منہ سے بہ مشکل نکلا‘ لڑکے کے سر سے خون بہنے لگا تھا۔ ندا کو اس کے حال پہ چھوڑ کر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اس مجمعے تک گئی تھی۔
’’کیا کررہے ہو تم لوگ‘ چھوڑو اسے۔‘‘ وہ قریب جاکر چلائی‘ لڑکے کا چہرہ خون میں تربتر تھا۔ اس کی دخل اندازی کا ان جلادوں پہ کوئی اثر نہیں ہوا وہ گونگے، بہرے بنے اپنا کام کرتے رہے۔
’’چھوڑو اسے… کیوں مار رہے ہو؟‘‘ لڑکے کی حالت دیکھ کر عیشال حلق پھاڑ کے چلائی۔
حویلی کے پچھلی طرف بنے باغ میں گھر کے افراد کم ہی آتے تھے۔ ایسے میں وہاں کچھ بھی ہوتا تو گھر کے لوگ انجان بن جاتے یا توجہ ہی نہیں دیتے تھے لیکن عیشال جیسی بے چین روح ہر جگہ پہنچ جاتی تھی۔
اپنے کمرے کی بالکنی سے دیکھتا سمہان آفندی عیشال کو بیچ میں آتا دیکھ کر بری طرح چونکا وہ اب اس لڑکے کے سامنے کھڑی ہوکر اسے مار کھانے سے بچانے کی کوشش کررہی تھی۔ سمہان آفندی اپنے کمرے کے عقبی دروازے کی جانب تیزی سے بھاگا جلاد محافظ اس کی موجودگی میں بھی لڑکے پہ وار کررہے تھے اور اس کی دلدوز چیخ پہ بپھر کر عیشال نے جھک کر بڑا سا پتھر اٹھا کر ان جلاد نما محافظوں کی طرف زور سے اچھالا۔
’’جاہل کے بچے… کہہ رہی ہوں ناں مت مارو اسے۔‘‘ پتھر ایک محافظ کے شانے پہ لگا تھا۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ سمہان آفندی نے اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف کھینچا۔
’’سمہان… اچھا ہوا تم آگئے‘ دیکھو یہ لوگ کس بری طرح اس بندے کو مار رہے ہیں۔‘‘ عیشال جہانگیر کو اس کی صورت دیکھ کر جیسے حوصلہ ہوا۔ اس گھڑی ساری ناراضی بھول کر وہ اس سے مدد کی درخواست کررہی تھی۔ جیسے امید ہو کہ وہ سب سنبھال لے گا۔ یہ ظلم رکوا دے گا۔
’’وہ اپنا کام کررہے ہیں… تم چلو یہاں سے کسی نے دیکھ لیا تو تمہاری شامت آجائے گی۔‘‘ ارد گرد پہ نظر دوڑاتے سمہان آفندی اسے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا لے جار ہا تھا۔ پتھر کھانے والا تیز بار نظروں سے عیشال کو گھور رہا تھا۔ عیشال جو اسے دیکھ کر پر امید ہوئی تھی اس کی بات سن کر مشتعل ہوگئی۔ تو کیا یہ سب پہلے سے اس کے علم تھا۔ وہ جانتا تھا اور اب اسے بھی چپ رہنے کو کہہ رہا تھا۔
’’تم… تم بھی ان جیسے ہو وحشی جانور… چھوڑو مجھے۔‘‘ وہ اس کی گرفت میں مچل رہی تھی۔ جلاد نما محافظ پھر سے اپنا کھیل شروع کرچکے تھے‘ لڑکے کی چیخ و پکار اسے مضطرب کررہی تھی۔
’’بزدل انسان… میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گی‘ مر جائے گا وہ۔‘‘ پورا زور لگا کر بھی جب وہ اس کی گرفت سے خود کو نا چھڑا سکی تو اپنے نیلز اس کے بازوؤں میں گاڑ دیے لیکن تب بھی گرفت کمزور نا ہوئی۔ وہ مسلسل چلا رہی تھی۔ حویلی میں کوئی بھی سن لیتا تو اس کے لیے مشکل کھڑی ہوسکتی تھی۔ وہ عقبی دروازے سے اسے اپنے روم میں لے آیا۔
’’تم جنگلی انسان۔‘‘ کمرے میں آکر اس کی گرفت سے نکلتے سائیڈ پہ رکھا گلدان اس نے سرعت سے اٹھا کر اس کی طرف اچھالا کہ اگر وہ عین وقت پہ جھکائی نا دے جاتا تو وہی گلدان ابھی اس کا سر کھول دیتا۔
’’دفع ہوجاؤ میری نظروں سے… تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو‘ کتنی بُری طرح مار رہے ہیں وہ اسے۔‘‘ وہ تھک ہار کے سسکنے لگی‘ سمہان آفندی کئی لمحے اسے اذیت سے سسکتے دیکھتا رہا۔
’’یہ حویلی نہیں ہے زندان ہے‘ جانے اس کی بنیادوں نے کتنے معصوم لوگوں کا خون پیا ہے‘ میں ابھی پولیس کو فون کرکے تم سب کو پکڑوا دوں گی۔‘‘ ہذیانی انداز میں کہتے وہ اپنے فون کو تلاش کررہی تھی جو اس سارے تماشے میں جانے کہاں گر گیا تھا۔ سیل فون کی گمشدگی کے بعد نظر اس کے کمرے میں موجود لینڈلائن پہ گئی تو وہ سرعت سے اس طرف بڑھی لیکن سمہان آفندی نے اسے آدھے راستے میں ہی جالیا۔
’’کیوں پاگل ہورہی ہو… پولیس کچھ نہیں کرسکتی ہمارا‘ کیوں چین سے نہیں رہا جاتا تم سے؟ کیوں ہر وقت حویلی کے معاملات میں ٹانگ اڑاتی ہو‘ تمہیں کیا لگتا ہے اس لڑکے کی آواز صرف تمہارے کانوں نے سنی کیونکہ تم نیک فطرت ہو؟ نہیں… حویلی کے تمام افراد نے ہی سنی ہوگی لیکن سب نے کان بند کرلیے ہوں گے، کوئی تمہاری طرح بہادر بن کے کودنے نہیں آیا۔ حویلی کے خلاف چلنے والوں کے لیے موت کی سزا ہے کیوں نہیں سمجھتیں تم۔‘‘ اس کی باتیں سنتی وہ صدمے سے گھٹنوں کے بل قالین پہ بیٹھتی چلی گئی۔
’’سب جانتے ہیں… سب نے آواز سنی‘ یعنی حویلی میں سب ظالم ہیں۔‘‘ یہ حقیقت جیسے اسے زندہ درگور کر گئی‘ حویلی کے ایک ایک مکین کا چہرہ نگاہوں میں پھرنے لگا پولیس اور اپنی کمپلین سب بھول گئی۔
’’جتنا ممکن ہو حویلی کے معاملات سے دور رہو‘ حویلی کے باقی لوگوں کی طرح آنکھیں اور کان بند کرلو اگر ابھی میں وہاں نہیں پہنچتا تو اس لڑکے کے ساتھ وہ لوگ تمہیں بھی مار دیتے۔‘‘ سمہان آفندی اس کے سامنے آبیٹھا۔
’’اس لڑکے کو شوٹ کردیں گے؟‘‘ ساری باتوں میں اسے یہی ایک بات بدحواس کرکے سوال کرنے پہ مجبور کر گئی۔ سمہان آفندی نے کوئی جواب نہیں دیا‘ بس خاموشی سے اسے بری طرح روتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اسی لمحے فضا میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجی‘ اس نے دہل کر سمہان آفندی کے دونوں شانے تھام لیے اور بھیگی سہمی پلکوں سے اس نے سمہان آفندی کی آنکھوں میں دیکھا‘ خوفزدہ وجود سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ اس کی گلابی بھیگی پلکوں سے نظر چراتے سمہان آفندی نے اس کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر نرمی سے اپنے شانے چھڑائے۔
’’تم نے کچھ نہیں دیکھا… کچھ نہیں سنا… بس یہ یاد رہے۔‘‘ وہ نظر چُراتا اٹھا اور تیزی سے اپنے کمرے کے عقبی دروازے سے ایک بار پھر باغ کی سمت چل دیا کہ ابھی اسے لاش بھی ٹھکانے لگانی تھی۔
عیشال جہانگیر ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح ڈھے گئی، دل ایک دم سے بیٹھ گیا تھا۔ فضا میں بین کی آواز گونجنے لگی اور بنا دیکھے بھی وہ بتا سکتی تھی یہ بین ندا کے تھے۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close