Aanchal Dec 15

تیرے عشق نچایا(قسط نمبر3)

نگہت عبداللہ

در و دیوار کس کے منتظر
حریم جسم و جاں تک روشنی ہے
وہ گزرے ہیں ابھی اس راہ گزر سے
مکاں سے لا مکاں تک روشنی ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
احسن کے جانے کے بعد نشا محسن کی تیماداری بااحسن طریقے سے کرتی ہے۔ جبکہ اسی دوران بلال احمد اپنی بیگم اور ایک بیٹی کے ہمراہ وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ لبنیٰ بیگم کو نشا کا یوں محسن کی طرف التفات پسند نہیں آتا محسن کے ساتھ اس کی ہمدردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے جلال احمد بھی نشا کی شادی محسن سے کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں جبکہ ساجدہ بیگم محسن کے جذبات کا خیال کرکے شاکڈ رہ جاتی ہیں جبکہ اس سارے معاملے سے نشا کو بے خبر رکھا جاتا ہے بلال احمد اسے اپنے ہمراہ نئے گھر لے آتے ہیں۔ یہاں اس کے لیے ایک اور شخص کا پروپوزل بھی آتا ہے جسے اس نے اپنے کالج کے باہر بھی دیکھا تھا دوسری طرف وہ خاتون بھی نشا میں ثریا کی مشابہت سے کافی متاثر ہوتی ہیں۔ راحیلہ خاتون اپنے بہنوئی کی خراب حالت کا سن کر چند دنوں کے لیے وہاں چلی جاتی ہیں جب ہی جاذب اپنی محبت کا اظہار صبا کے لیے کرکے سلیم احمد کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی بیگم کے سامنے اس بات کا ذکر کرتے وہ بھی کتراتے ہیں۔ دوسری طرف راحیلہ خاتون اپنے بھانجے سے صبا کا رشتہ خود ہی طے کرلیتی ہیں اور اچانک گھر پہنچ کر سب کو اس بات سے آگاہ کرتی ہیں صبا کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہوتا ہے جب ہی وہ دن کا انتظار کیے بغیر رات کو ہی جاذب سے اس سارے معاملے کو ڈسکس کرتی ہے ایسے میں راحیلہ خاتون اچانک وہاں پہنچ کر سارا معاملہ بگاڑ دیتی ہیں اور صبا پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتی ہیں جبکہ جاذب اپنی بزدلانہ طبیعت کے پیش نظر خاموش رہ جاتا ہے۔ بنٹی کافی حد تک صبا سے مانوس ہوجاتا ہے جب ہی خان جنید صبا کو مستقل طور پر یہاں رکھنے کی غرض سے اسے اپنا پروپوزل پیش کرتے ہیں جبکہ ان کی اس بات پر صبا دنگ رہ جاتی ہے۔ بلال احمد کی دوسری بیٹی مریم ہوتی ہے جبکہ لبنیٰ اس کی سوتیلی ماں ہے وہ ایک کم گو اور حساس لڑکی ہے یہاں پاکستان پہنچ کر بھی اس کا یہی رویہ رہتا ہے جب ہی اس کے نمبر پر کسی انجان آدمی کی کالز کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جبکہ مریم اس صورت حال پر کافی متفکر رہتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ژ…ژ…ژ
وہ انجانے خدشوں میں گھری بے حد مضطرب پھررہی تھی اور چاہتی تھی کہ کوئی ہمدرد‘ہم نوا ہو جسے وہ اپنی بے چینیوں کا احوال سنا سکے‘ پھر اسے محسن کا خیال آیا لیکن ایک جھجک مانع آگئی تو وہ اسے فون کرنے کا خیال چھوڑ کر کچن میں آگئی۔ بی بی ٹرے میں چائے کے ساتھ دوسرے لوازمات سجارہی تھیں۔
’’یہ کس کے لیے بی بی؟‘‘ اس نے ٹرالی پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہارے تایا تائی آئے ہیں بیٹا۔‘‘ بی بی نے بتایا تو وہ حیران ہوئی۔
’’ہیں تائی امی کب آئیں؟‘‘
’’کچھ دیر ہوئی۔‘‘
’’مجھے کیوں نہیں بتایا‘ لائیے ٹی پاٹ رکھیں یہ میں لے جاتی ہوں۔‘‘ اس نے ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا تو بی بی ٹی پا ٹ اٹھا کر ٹرے کو دیکھنے لگیں جس میں جگہ نہیں تھی۔
’’چلیں‘ یہ آپ لے آئیے گا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے کچن سے نکل کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو جلال احمد کہہ رہے تھے۔
’’احسن اگلے مہینے آرہا ہے‘ میرا خیال ہے منگنی ابھی کردیتے ہیں شادی احسن کے آنے پر…‘‘ وہ جلدی سے ٹرے میز پر رکھ کر وہاں سے چلی آئی۔ زندگی میں کچھ لمحے بے پناہ خوشی سے ہم کنار کر جاتے ہیں۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ اور جو انجانے خدشے سر ابھارنے لگے تھے سب اپنی موت آپ مرگئے‘ اگر کوئی کسک رہی بھی تو وہ اس وقت دور ہوگئی جب جاتے وقت ساجدہ بیگم نے اس کے کمرے میں آکر اسے انگوٹھی پہنائی پھر اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر کتنی دیر اسے دیکھتی رہیں۔ پہلے تو وہ نظریں جھکائے رہی پھر ذرا سی پلکیں اٹھا کر دیکھا‘ ساجدہ بیگم کا وہی سپاٹ چہرہ‘ پتا نہیں انہیں اظہار کرنا نہیں آتا تھا یا وہ اظہار کرنا نہیں چاہتی تھیں‘ اب بھی وہ سمجھ نہیں سکی کہ وہ اس بندھن سے خوش ہیں یا ناخوش۔
’’سکھی رہو۔‘‘ ساجدہ بیگم کے ہونٹوں سے بس یہی دو لفظ نکلے پھر وہ اس کی پیشانی چوم کر کمرے سے نکل گئیں۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ان کے شروع سے اب تک کے رویے پر غور کرتی لیکن اب انگلی میں پڑی جگمگاتی انگوٹھی اور اس کے خیال میں جس کے حوالے سے پہنائی گئی تھی اس کا خیال ہی اتنا زور آور تھا کہ کوئی اور بات سوچی ہی نہ گئی۔ اس کا دل چاہا کوئی ہو جس سے وہ ڈھیر ساری باتیں کرے۔ وہ سارے حسین خواب جو اس نے اپنی پلکوں پہ سجائے تھے‘ وہ ساری خوب صورت باتیں جو اس کے حوالے سے سوچی تھیں اور اسے حیرت ہوئی کہ اس کی کوئی دوست نہیں تھی‘ اسکول کالج میں پڑھنے کے باوجود کسی سے اتنی دوستی نہیں ہوئی کہ اپنے دل کی بات کہی جاسکے۔
رات جب سونے لیٹی تو نیند بالکل نہیں آرہی تھی۔ کچھ دیر تک ایک میگزین کی ورق گردانی کرتی رہی پھر اکتا کر اسے سائیڈ پر رکھ دیا۔ گھڑی کی طرف دیکھا گیارہ بجنے والے تھے۔ اس کا ذہن آپ ہی آپ اس نگر کی طرف چلا گیا جہاں اسے واپس جانا تھا۔
’’مونی‘ آج تایا اور تائی امی کے ساتھ مونی نہیں آیا‘ اس نے سوچا اور اسے اپنے آپ پر حیرت ہوئی کہ اس وقت سے اس نے یہ بات محسوس کیوں نہیں کی۔ جبکہ اسے اسی وقت مونی کا پوچھنا چاہیے تھا۔ اس نے سیل فون اٹھا کر محسن کا نمبر پش کیا۔ ڈر بھی رہی تھی کہ کہیں وہ سو نہ رہا ہو لیکن پہلی بیل پر ہی محسن نے کال ریسیو کی تو اسے حیرت ہوئی۔
’’ارے مونی‘ میرا خیال تھا تم سوچکے ہوگے۔‘‘ اس نے حیرت اور اشتیاق سے کہا تو ادھر سے وہ شوخی سے بولا۔
’’اب نیند کہاں؟‘‘
’’کیا مطلب تم نے دوا نہیں لی؟‘‘ وہ یہی سوچ سکی تھی۔
’’دوا کو چھوڑو یہ بتائو اس وقت کیسے فون کیا‘ سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘ محسن نے بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا تو وہ جھجک کر بولی۔
’’ہاں بس‘ تم سے بات کرنے کو دل چاہ رہا تھا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ ہنسا۔ ’’یہی خواہش میری بھی تھی۔‘‘
’’یہ بتائو‘ تم شام میں کیوں نہیں آئے تایا ابو اور تائی امی کے ساتھ؟‘‘ اس نے پھر یاد آنے پر پوچھا۔
’’کیا مجھے بھی آنا چاہیے تھا؟‘‘ محسن الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
’’کیوں تمہیں یہاں آنا منع ہے کیا؟‘‘ سوال واضح تھے جواب مبہم۔
’’نہیں بس اب اکٹھے ہی آئوں گا تمہیں لینے۔‘‘ وہ خاموش رہی تو کہنے لگا۔
’’سنو ابھی احسن بھائی کا فون آیا تھا‘ بہت مبارک باد دے رہے تھے۔‘‘
’’کسے؟‘‘ اس نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔
’’مجھے۔‘‘
’’تمہیں کیوں؟‘‘
’’بھئی تمہیں دیں یا مجھے ایک ہی بات ہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ ہنس دی پھر بے اختیار پوچھا۔ ’’کب آرہے ہیں احسن؟‘‘
’’کہاں‘ پاکستان یا بارات کے ساتھ۔‘‘ محسن نے چھیڑا تو وہ جھینپ کر بولی۔
’’مونی‘ میں فون رکھ رہی ہوں۔‘‘
’’ایک منٹ‘ تم خوش تو ہو ناں۔‘‘ اس نے روک کر پوچھا۔
’’پتا نہیں؟‘‘
’’تمہیں نہیں پتا لیکن مجھے پتا ہے نشاء کہ میں بہت خوش ہوں۔‘‘ وہ جیسے کھو گیا تھا۔ ’’تمہیں یاد ہے ایک بار میں نے کہا تھا کہ بجھتے ہوئے دیئے کو کچھ دیر اور روشن رکھنے کی خاطر ہاتھ کی اوٹ میں لے لیا جاتا ہے اور اب مجھے لگ رہا ہے جیسے مجھے کچھ برس اور زندہ رہنے کی خاطر تمہارا…‘‘
’’مونی پلیز۔‘‘ وہ فوراً ٹوک گئی۔ ’’ایسی باتیں مت کرو‘ تمہیں زندہ رہنا ہے۔‘‘
’’ہاں اب تو خود میرے اندر بھی زندہ رہنے کی خواہش جاگنے لگی ہے اور یہ یقینا تمہاری دوائوں‘ دعائوں اور محبتوں کا اعجاز ہے کہ مجھ جیسا مایوس بندہ بھی زندگی سے پیار کرنے لگا۔‘‘
’’یہ اچھی بات ہے مونی‘ زندہ رہنے کی خواہش اور زندگی سے پیار انسان کو بہت مضبوط بنا دیتا ہے اور اب ان شاء اللہ تم اپنی بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائوگے۔‘‘
’’ہاں… احسن بھی یہی کہہ رہے تھے۔‘‘
’’اور کیا کہا انہوں نے؟‘‘ وہ اپنے حوالے سے کوئی بات سننا چاہتی تھی۔
’’زیادہ بات نہیں ہوسکی کیونکہ اچانک لائن کٹ گئی تھی۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ قدرے مایوس ہوئی پھر اسے شب بخیر کہہ کر سیل آف کردیا۔
ژ…ژ…ژ
احسن کا صرف ذہن ہی نہیں پورا وجود آندھیوں کی زد میں تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوگیا؟ نشاء ان کی محبت تھی اور یہ بات ساجدہ بیگم بھی جانتی تھیں پھر وہ محسن کے ساتھ کیسے منسوب ہوگئی۔ انہیں جلال احمد نے فون کرکے بتایا تھا۔
’’خوشی کی خبر سنو احسن‘ ابھی ہم محسن کی منگنی کرکے آرہے ہیں نشاء کے ساتھ۔ محسن بہت خوش ہے۔ تم آجائو تو پھر اس کی شادی کریں۔ ابھی تم اسے منگنی کی مبارک باد دے دو۔‘‘
’’محسن‘ نشاء…‘‘ ان کے ذہن میں جھکڑ چلنے لگے تھے۔ یقین بھی نہیں آرہا تھا پھر یقین کی خاطر ہی انہوں نے محسن کو فون کیا تو اس کی کھنکتی ہوئی آواز جسے سننے کو ان کی سماعتیں ترس گئی تھیں۔
’’بھائی آپ کو پتا چل گیا؟‘‘
’’ہاں‘ بہت مبارک ہو۔‘‘ وہ بالکل ہی ڈھے گئے۔
مونی خوش ہے اور کون جانے نشاء بھی خوش ہو۔ پھر وہ کس سے کیا کہیں۔ سینے میں دل شور مچا رہا تھا۔ احتجاج کررہا تھا اور وہ بے بسی کی تصویر بنے خود سے بے گانہ ہوگئے تھے۔
’’کتنے دن گزر گئے‘ ان کا کسی بات کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ ان کے لیے دنیا اندھیر نگری بن گئی تھی۔ سوچنے بیٹھتے تو ذہن مائوف ہوجاتا۔ سیل فون کی ٹون بجتی تو خالی خالی نظروں سے اسکرین پر روشن نام دیکھے جاتے۔ زیادہ نشاء ہی انہیں کال کررہی تھی۔ جب وہ کچھ سوچنے کے قابل ہوئے تب نشاء کی کال آنے پر انہوں نے سوچا۔
’’نشاء کیوں کال کررہی ہے‘ کیا یہ بتانے کے لیے کہ اس نے کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہن لی ہے یا اسے زبردستی پہنائی گئی ہے۔‘‘ دوسری بات پر وہ خود ہی ٹھٹکے تھے اور پھر اسی نہج پر سوچتے ہوئے انہوں نے تصدیق یا تردید کے لیے نشاء کی کال لینے کی خاطر سیل فون اٹھایا تھا کہ سماعتوں میں محسن کی کھنکتی آواز گونجنی۔
’’بھائی آپ کو پتہ چل گیا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ ان کے ہاتھ سے سیل فون چھوٹ گیا۔ ’’نشاء خوش ہے یا ناخوش مجھے مونی کی خوشی عزیز ہے۔ اس کی خاطر تو میں جان بھی دے سکتا ہوں۔‘‘ پھر کتنے دن لگے انہیں خود کو سمجھانے میں اس کے بعد بھی خود کو کڑے پہروں میں مقید کرکے انہوں نے ساجدہ بیگم کو فون کیا تھا۔
’’مونی خوش ہے ناں امی۔‘‘ انہوں نے جو باتیں ذہن میں ترتیب دیں تھیں ان میں یہ بات تو کہیں نہیں تھی۔
’’ہاں بیٹا مونی خوش ہے لیکن میں تم سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ ساجدہ بیگم کا لہجہ ان کی بات کی گواہی دے رہا تھا۔
’’کیوں… کیوں امی؟‘‘ وہ بے چین ہوئے۔
’’کیونکہ تم مجھے اپنی خواہش بتا کر گئے تھے۔‘‘ ساجدہ بیگم نے کہا تو وہ فوراً بولے۔
’’میں ایسی ہزاروں خواہشیں مونی پر قربان کرسکتا ہوں امی‘ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’لیکن بیٹا تم…‘‘ ساجدہ بیگم جانے کیا کہنے جارہی تھیں کہ وہ بول پڑے۔
’’میں ٹھیک ہوں امی۔ مجھے کوئی ملال نہیں‘ مونی کی خوشی میری خوشی ہے۔ اور آپ بھی خوشی خوشی اس کی شادی کی تیاری کریں۔‘‘
’’تم آئوگے تو تیاری کروں گی ناں۔‘‘
’’نہیں امی‘ میں نہیں آئوں گا‘ میں نہیں آسکوں گا۔ آپ مجھے مجبور مت کیجیے گا اور ہاں ابھی مونی کو مت بتائیے گا کہ میں نہیں آسکوں گا۔ وقت پر میں خود کوئی بہانہ کردوں گا‘ آپ میری بات سمجھ رہی ہیں ناں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا اور جواب میں ساجدہ بیگم کی خاموشی کا بوجھ دل پر محسوس کرتے ہوئے فون بند کردیا تھا۔
ژ…ژ…ژ
مریم ابھی کالج سے لوٹی تھی۔ ڈریس چینج کرکے واش روم سے نکلی تو اس کا سیل بج اٹھا۔ اس کے ذہن میں اس وقت کوئی سوچ نہیں تھی جب ہی اس نے معمول کی طرح فون اٹھالیا تھا۔
’’ہیلو…‘‘
’’کیسی ہو؟‘‘ اس کی آواز سن کر وہ الجھ کر بولی۔
’’آپ ہیں کون؟‘‘
’’ریان… آئی مین میرا نام ریان ہے۔‘‘ اس نے آرام سے اپنا تعارف کرایا۔
’’میں نے آپ کا نام نہیں پوچھا۔‘‘ وہ روٹھے انداز میں بولی۔
’’پھر…؟‘‘ وہ اس کے روٹھے انداز پر محظوظ ہوا۔
’’آپ کیوں مجھے فون کرتے ہیں؟‘‘ اس نے کہا تو وہ روانی سے بولا۔
’’کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی ہو‘ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ بتائو کب مل رہی ہو؟‘‘
’’ایسا تو نہیں سوچا میں نے۔‘‘ وہ اپنی سادگی ومعصومیت سے مات کھاتی تھی۔
’’حیرت ہے‘ یعنی اتنے دنوں سے ہم بات کررہے ہیں اور تمہارے اندر ملنے کی خواہش نہیں جاگی۔‘‘ اس کے اکسانے پر وہ افسردگی سے بولی۔
’’میرے اندر کوئی خواہش نہیں ہے۔‘‘
’’عجیب لڑکی ہو‘ خواہشوں کے بغیر کیسے زندہ ہو۔‘‘
’’میں زندہ ہوں‘ پتا نہیں۔‘‘ اس نے خود کلامی کی‘ جسے سن کر ہی اس نے حیرت کا اظہار کیا۔
’’مائی گاڈ‘ کہیں میرا واسطہ کسی روح سے تو نہیں پڑ گیا۔‘‘ پھر سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔ ’’نہیں دیکھنے میں تو تم انسانوں جیسی ہی لگتی ہو۔‘‘
’’آپ نے مجھے کہاں دیکھا؟‘‘ اس نے بے اختیار پوچھا۔
’’یہ جب تم ملوگی تب بتائوں گا‘ اب بتائو کب‘ کہاں مل رہی ہو‘ کہو تو تمہارے گھر آجائوں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ اس نے گھبرا کرسیل فون آف کردیا۔ لیکن پھر بھی اس کی گھبراہٹ اور پریشانی کم نہیں ہوئی کہ کہیں وہ آتو نہیں رہا‘ ایسی ہی سہمی ہوئی وہ نشاء کے بلانے پر کھانے کی ٹیبل پر آئی تھی۔
’’اب آنٹی نے یہ میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ میں تمہیں کھانا اپنے ساتھ کھلایا کروں۔‘‘ نشاء نے اس کی پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے کہا پھر اسے دیکھ کر مسکراہٹ اس کے ہونٹوں تک آتے آتے رہ گئی۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں؟ آئی مین تم پریشان لگ رہی ہو؟‘‘
’’نن… نہیں…‘‘ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’کالج میں کوئی پرابلم ہے؟‘‘ نشاء نے نرمی سے پوچھا۔
’’نہیں…‘‘ وہ خائف تھی۔
’’اچھا چلو کھانا کھائو۔‘‘ نشاء نے کہہ کر کھانا شروع کردیا تب وہ بھی آہستہ آہستہ کھانے لگی۔
اور پھر رات کے تین بجے ریان نے فون کیا تھا۔ اس وقت وہ بے خبر سو رہی تھی۔ نیند میں ہی ادھر ادھر ہاتھ مار کر اس نے سیل فون اٹھایا تھا۔
’’ہیلو۔‘‘ اس کی آواز بھی نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔
’’سنو‘ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ ریان نے کہا۔ اس کی خاک سمجھ میں نہ آیا۔
’’کون؟‘‘
’’نیند میں ہو جب ہی معاف کرتا ہوں۔ جاگتے میں اب نہ پہچاننے کی غلطی مت کرنا۔‘‘ ریان کی وارننگ پر اس نے ایک دم آنکھیں کھولیں تو سامنے وال کلاک پر نظر پڑی۔
’’آپ… رات کے تین بجے؟‘‘
’’کیا کروں‘ بہت بھوک لگ رہی ہے۔ خالی پیٹ نیند نہیں آرہی۔‘‘ ریان نے اتنی مسکینی سے کہا کہ وہ فون بند نہیں کرسکی۔
’’تو کچھ کھالیں۔ کھانا یا کچھ اور۔‘‘
’’کچھ نہیں ہے۔ فریج خالی پڑا ہے۔ صرف دو انڈے رکھے ہیں۔‘‘ اس نے مجبوری بتائی تو وہ عاجز ہوئی۔
’’پھر میں کیا کرسکتی ہوں؟‘‘
’’کم از کم آملیٹ بنانے کا طریقہ تو بتاسکتی ہو۔‘‘ وہ جانے کیا چاہ رہا تھا۔
’’آملیٹ… مجھے نہیں پتا‘ میں نے کبھی نہیں بنایا۔‘‘ وہ بے بسی سے بولی۔
’’شٹ‘ چلو پھرمیں بھوکا ہی سو جاتا ہوں۔‘‘ ریان مایوس ہوا تو وہ فوراً بولی۔
’’نہیں نہیں میں پوچھ کر بتاتی ہوں۔‘‘
’’کس سے؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا لیکن وہ عجلت میں اٹھی اور بے خبر سوئی ہوئی بی بی کو جھنجوڑ ڈالا تھا۔
’’بی بی… بی بی اٹھیں۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ بی بی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔
’’جلدی بتائیں‘ آملیٹ کیسے بنتا ہے؟‘‘
’’بھوک لگی ہے بیٹا۔ میں ابھی بنا دیتی ہوں۔‘‘ بی بی اٹھنے لگیں کہ اس نے روک دیا۔
’’نہیں‘ بس آپ ریسپی بتادیں‘ مطلب کیسے بنتا ہے۔‘‘
’’بہت آسان ہے۔ انڈے پھینٹ لو۔‘‘ بی بی کے ساتھ ساتھ وہ دہراتی گئی اور ادھر وہ ہنس رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ
راحیلہ خاتون کو ثریا اور صبا کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے گو کہ کسی موقع کی تلاش نہیں رہتی تھی۔ وہ جب جس وقت چاہتیں انہیں ذلیل کرتی تھیں‘ لیکن اب تو ایک ٹھوس وجہ ان کے ہاتھ آگئی تھی‘ اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں۔ اس وقت وہ مکاری سے سوچ رہی تھیں کہ بات کہاں سے شروع کریں کہ ان کے میاں سلیم احمد جو بغور انہیں دیکھ رہے تھے بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھنے لگے۔
’’کیا بات ہے بیگم یہ صبح ہی صبح کس کے خلاف سازش سوچ رہی ہو؟‘‘
’’میں تو صرف سوچتی ہوں میاں‘ میری جگہ آپ ہوتے تو اسی وقت نکال باہر کرتے ماں بیٹی کو۔‘‘ وہ تنک کر بولیں تو سلیم احمد ان کا اشارہ سمجھ کر بوکھلا گئے۔
’’ہیں… یہ تم کس کی بات کررہی ہو؟‘‘
’’آپ کی چہیتی بہن اور بھانجی کی۔ بس اب میں مزید برداشت نہیں کرسکتی۔ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے سلیم احمد۔‘‘ راحیلہ خاتون کا تنفر عروج پر تھا۔ وہ زچ ہوگئے۔
’’اوہو… پتا بھی تو چلے کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کیا نہیں ہوا‘ میں چار دن گھر سے دور کیا رہی‘ ادھر ماں بیٹی کو موقع مل گیا۔ رات آپ کی بھانجی جاذب کے کمرے میں تھی۔‘‘ راحیلہ خاتون نے انہیں چکرادیا تھا۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’وہی جو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن آپ کہاں میری بات کا یقین کریں گے۔ آپ تو…‘‘ سلیم احمد جلدی سے ان کی بات کاٹ کر بولے۔
’’ساری زندگی تمہارا ہی یقین تو کیا ہے۔ جو تم نے کہا مان لیا پھر بھی تمہیں شکایت ہے۔ ابھی بتائو کیا کرنا ہے۔‘‘
’’کرنا کیا ہے‘ میں بہن کو فون کرتی ہوں چار آدمی لے کر آجائے اور دو بول پڑھا کر رخصت کریں بھانجی کو۔‘‘ راحیلہ خاتون کو اسی بات کی جلدی تھی۔
’’لیکن بیگم میں تو کچھ اور سوچ رہا ہوں۔‘‘ سلیم احمد نے کچھ ہمت باندھی۔
’’کیا… کیا سوچا ہے آپ نے؟‘‘ راحیلہ خاتون نے تیز لہجے میں ٹوکا تو وہ رک کر کہنے لگے۔
’’میں سوچ رہا ہوں بیگم کہ گھر کی لڑکی گھر میں ہی رہے تو ہمارے لیے اچھا ہے۔ میرا مطلب ہے اگر ہم باہر رشتہ ڈھونڈنے کی بجائے جاذب اور صبا کی شادی کردیں تو…؟‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ راحیلہ خاتون دھاڑی۔ ’’آپ نے یہ سوچا کیسے‘ میں جتنا اس لڑکی سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہوں آپ اتنا ہی اسے مجھ پر مسلط کرنے کی سوچ رہے ہیں۔‘‘
’’اوہو‘ تم بات سمجھو تو…‘‘ سلیم احمد جھنجلائے تھے۔
’’کیا سمجھوں۔ کیا سمجھانا چاہتے ہیں آپ مجھے۔‘‘
’’دیکھو‘ لڑکی تمہارے سامنے پلی بڑھی ہے پھر تمہارے کہنے میں بھی ہے۔ گھر داری بھی کرلیتی ہے باہر سے لڑکی لائوگی جاذب کے لیے تو جانے کس مزاج کی ہو‘ ہمیں کچھ سمجھے نہ سمجھے۔‘‘ سلیم احمد نے انہیں نئی سوچ دینی چاہی لیکن راحیلہ خاتون کہاں سننے‘ ماننے والی تھیں۔
’’ایسے ہی نہ سمجھے۔ بڑے گھروں کی لڑکیاں سلجھی ہوئی تمیز دار ہوتی ہیں۔ میں اپنے جاذب کے لیے ایسے ہی گھر سے دلہن لائوں گی۔‘‘
’’لیکن بیگم…‘‘
’’بس رہنے دیں۔ مجھے سمجھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں صبا کا رشتہ طے کر آئی ہوں اس کی شادی وہیں ہوگی۔‘‘ راحیلہ خاتون دو ٹوک انداز میں کہتے ہوئے ان کے پاس سے اٹھ آئیں۔ پتا نہیں کس مٹی سے بنی تھیں‘ شروع دن سے جو ثریا کے خلاف دل میں گرہ باندھی تو وقت اور حالات بھی اسے کھولنے میں ناکام رہے تھے۔ حالانکہ ثریا کی صورت انہیں ایک مفت کی نوکرانی مل گئی تھی۔ پھر بھی وہ اس سے اور اس سے زیادہ اب صبا سے خار کھاتی تھیں۔ کیونکہ اپنی لالچی فطرت کے باعث انہوں نے جاذب اور نگار کے لیے بڑے اونچے پلان بنائے ہوئے تھے۔ اس لیے پہلے وہ صبا کو راہ سے ہٹانا چاہتی تھیں اور اب تو انہوں نے ٹھان لی تھی کہ وہ اسے رخصت کرکے ہی دم لیں گی۔
ژ…ژ…ژ
وہ دل گرفتہ اور مایوس سی ڈھیلے ڈھیلے ہاتھوں سے منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہی تھی‘ یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے ہاتھوں وبازوئوں میں جان ہی نہ ہو۔ وہ وقت اور حالات سے لڑتے نہیں تھکی تھی‘ خود سے لڑنے میں پہلے مقام پر ہی ہار رہی تھی۔ اور کیسے نہ ہارتی‘ یہ کوئی دوچار دن کی بات تو نہیں تھی‘ لڑکپن کی عمر سے ہی جس شخص نے اس کا ہاتھ تھام کر اس کے دل میں اپنی محبت کا بیج بویا تھا وہ اپنے وعدوں اپنی قسموں میں لاکھ سچا سہی اسے تحفظ نہیں دے سکتا تھا اور وہ ہمیشہ کی عدم تحفظ کا شکار اسی ایک بات پر اسے اکساتے اکساتے تھک گئی تھی اور اب وہ جو بھی کرلے وہ اس سے بات نہیں کرے گی۔ اس نے سوچ لیا اور واش بیسن کا نل بند کرکے اس نے بہتے دھاروں کے ساتھ گویا اپنے جذبوں پر بھی بند باندھا لیا تھا۔ پھر واش روم سے نکل آئی۔
ثریا گم صم بیٹھی تھی‘ اس نے بالوں میں برش کرتے ہوئے اسے نوٹس کیا پھر برش رکھ کر اس کے سامنے آبیٹھی۔ بولیں کچھ نہیں تھی۔ ثریا چند لمحے اسے دیکھتی رہیں پھر کہنے لگیں۔
’’تم نے ٹھیک کہا تھا مجھے تمہیں بھی تمہارے باپ کے پاس چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ کم از کم وہ تمہارے ساتھ تو برا نہ کرتا۔ جو تم چاہتیں تمہیں مل جاتا۔‘‘
’’نہیں ملا تو میری قسمت۔‘‘ وہ دکھ سے بولی۔
’’تو اب جو مل رہا ہے اسے بھی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلو۔‘‘ ثریا نے اس کی بات پر گرفت کرکے منت کی تو یکلخت اس کی تمام حسیات سمٹ کر آنکھوں میں آگئی تھیں۔
’’کیا مل رہا ہے مجھے‘ کیا قبول کرلوں؟‘‘
’’وہ تمہاری مامی جی…‘‘
’’مامی جی کا نام مت لیں‘ میں ان کی کوئی بات نہیں مانوں گی۔‘‘ اس کا تنفر عود کر آیا۔
’’اس کے سوا کوئی چارہ نہیں صبا۔‘‘ ثریا نے عاجزی سے کہا۔ ’’بھابی نے تمہاری شادی طے کردی ہے۔ جمعہ کو ان کی بہن آرہی ہیں۔‘‘
’’ضرور آئیں‘ نگار بیٹھی ہے ناں اس کا نکاح کرکے رخصت کردیں بہن کے ساتھ۔‘‘ اس نے کہا تو ثریا رو دینے کو ہوگئیں۔
’’تم سمجھتی کیوں نہیں صبا۔‘‘
’’آپ کیوں نہیں سمجھتیں لیکن نہیں آپ نہیں سمجھیں گی۔ مجھے مامی جی کو ہی سمجھانا پڑے گا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے ایک دم اٹھ کر کمرے سے نکلی تھی۔
’’صبا…‘‘ ثریا پریشان ہوکر اس کے پیچھے بھاگیں‘ لیکن لائونج میں سلیم احمد‘ راحیلہ خاتون اور جاذب کو بیٹھے دیکھ کر وہیں رک گئیں‘ جبکہ صبا راحیلہ خاتون کے سر پر جاکھڑی ہوئی تھی۔
’’یہ کیا تماشا بنا رکھا ہے آپ نے مامی جی۔‘‘ اس نے سارے لحاظ بھلا دیئے تھے۔ ’’میری شادی کی اتنی فکر کیوں ہے آپ کو۔ میں کوئی یتیم لاوارث نہیں ہوں‘ نہ ہی آپ پر بوجھ ہوں‘ جسے آپ اتار پھینکنا چاہتی ہیں۔ فکر کرنی ہے تو اپنی بیٹی کی کریں۔‘‘
’’تم…‘‘ راحیلہ بیگم ایک لحظہ کو اس پر پھنکاری تھیں پھر فوراً ہی سلیم احمد سے مخاطب ہوگئیں۔ ’’دیکھ رہے ہو سلیم احمد‘ اس گز بھر کی چھوکری کی زبان‘ نیکی کا یہ صلہ دے رہی ہے۔ ذرا اس سے پوچھو کس نے اسے اتنی جرأت دی کہ یہ میرے مقابل آن کھڑی ہوئی ہے۔‘‘
’’میں بتاتی ہوں‘ مجھے یہ جرأت آپ کے بیٹے نے دی۔ اس بیٹے نے۔‘‘ وہ جاذب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بالکل ہی آپے سے باہر ہوگئی۔ ’’ پوچھئے اس سے‘ یہ جو آپ کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے‘ اس نے مجھ سے محبت کی قسمیں کھائیں‘ شادی کے وعدے کیے‘ اس کے کہنے پر میں اب تک ہر رشتے سے انکار کرتی رہی ہوں۔ پوچھیں اس سے… پوچھیں۔‘‘
’’جاذی…‘‘ راحیلہ خاتون نے کڑے تیوروں سے جاذب کو دیکھا۔ ’’یہ کیا کہہ رہی ہے؟‘‘ جاذب میں اتنی ہمت ہوتی تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔ اس کا تو حلق تک خشک ہوگیا تھا۔
’’میں کیا پوچھ رہی ہوں جواب دو۔‘‘ راحیلہ خاتون دھاڑیں تو وہ مدد کے لیے سلیم احمد کو دیکھنے لگا۔
’’کیا ہوگیا ہے بیگم۔‘‘
’’تم چپ رہو سلیم احمد‘ یہ لڑکی میرے بیٹے پر بہتان لگا رہی ہے۔‘‘ راحیلہ بیگم نے فوراً سلیم احمد کو ٹوک کر کہا تو وہ چیخ پڑی۔
’’میں بہتان نہیں لگا رہی۔ جاذی تم بولتے کیوں نہیں‘ بتائو انہیں سچ کیا ہے؟ بتائو انہیں کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو۔‘‘
’’اچھی زبردستی ہے‘ ترس کھا کر گھر میں رہنے کی جگہ کیا دی یہ تو مالک بننے کے خواب دیکھنے لگی۔ اوقات میں رہو لڑکی‘ میرا بیٹا تم جیسیوں کو گھاس نہیں ڈالنے والا۔ چلو جاذب تم اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ راحیلہ خاتون نے اسے سناتے ہوئے جاذب کو مشکل سے نکالا تھا۔ وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
’’یہ کیا گھاس ڈالے گا۔ میں خود ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں اس پر۔ اس جیسے میرے باپ کے جوتے صاف کرتے ہیں۔‘‘ محبت رسوا ہوکر نفرت کی انتہا پر جاپہنچی تھی۔ وہ جو منہ میں آیا کہتی گئی۔ بپھری ہوئی راحیلہ خاتون نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ لیا۔
’’نکل جا میرے گھر سے۔ بلا اپنی ماں کو۔ میں اب تم دونوں کو ایک منٹ برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘
’’بھابی۔‘‘ ثریا نے آکر صبا کو ان سے چھڑانا چاہا۔ ’’بھیا روکیں بھابی کو۔‘‘
’’بیگم‘ ہوش میں آئو۔‘‘ سلیم احمد نے راحیلہ خاتون کو کلائی سے پکڑ کر کھینچا لیکن ان کی زبان نہیں روک سکے۔ ہر بات کے اختتام پر وہ ثریا اور صبا کو یہاں سے نکل جانے کو کہہ رہی تھیں۔
سلیم احمد نے ثریا کو وہاں سے ہٹ جانے کا اشارا کیا تو وہ صبا کو کھینچتے ہوئے کمرے میں لے آئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا تھا۔
ژ…ژ…ژ
رات نصف سے زیادہ سفر طے کرچکی تھی اور اپنی اپنی جگہ وہ دونوں ہی جاگ رہی تھیں۔ ثریا حددرجہ خائف تھیں اور خود اس کے اندر ایسا الائو دہک رہا تھا جو سب کچھ بھسم کردینا چاہتا تھا۔ کوئی ایک دکھ نہیں تھا‘ سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کس کس بات کا ماتم کرے‘ گو کہ جاذب سے اس نے کوئی بڑی امیدیں نہیں باندھ رکھی تھیں لیکن جس طرح وہ اس کے گرد محبت کا حصار کھینچ کر اسے خود پر بھروسہ کرنے کو کہتا تھا تو وہ سچ مچ اس کا اعتبار کرلیتی تھی‘ اور اسی نے یقین دلایا تھا کہ وہ وقت آنے پر ضرور اسٹینڈ لے گا۔ اسٹینڈ لینا تو دور کی بات وہ اس کے حق میں ایک لفظ نہیں کہہ سکا تھا۔ وہ اس وقت اتنی شاکڈ تھی کہ راحیلہ خاتون کے تابڑ توڑ حملوں کا احساس تک نہیں ہوا تھا۔ اسے صرف یہ یاد تھا کہ جاذب دم دبا کر بھا گ رہا تھا۔
’’تف ہے تم پر۔‘‘ اس نے دانت پیسے پھر ایک دم اٹھ بیٹھی تو ثریا گھبرا کر اسے دیکھنے لگیں کہ وہ پھر تو کوئی تماشا کرنے نہیں جارہی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ثریا کی آواز پر اس کے بال سمیٹتے ہاتھ رک گئے۔
’’آپ سوئیں نہیں؟‘‘ جواب ندارد۔ اس نے آرام سے بال سمیٹے پھر ثریا کو دیکھ کر بولی۔
’’باپ بیٹا‘ ایک ہی جیسے ہیں۔‘‘ ثریا کا ذہن اس وقت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا جب ہی ناسمجھی میں اسے دیکھے گئی تو وہ سلگ کر بولی۔
’’ماموں اور جاذب۔‘‘ ثریا نے آنکھیں بند کرلیں تو وہ چڑ گئی۔
’’کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
’’تم چاہتی کیا ہو؟‘‘ ثریا کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔
’’آپ فکر مت کریں اب وہی ہوگا جو میں چاہوں گی۔‘‘ اس کے تنفر میں بلا کا یقین تھا۔ ثریا دہل گئیں۔
’’خدا کے لیے صبا ہمارا کوئی اور ٹھکانا نہیں ہے۔‘‘
’’تو آپ اس بات سے ڈرتی ہیں کہ مامی جی نے نکال دیا تو ہم کہاں جائیں گی۔ تو میری ماں آپ سن لیں‘ مامی جی نکالیں نہ نکالیں میں خود اب یہاں نہیں رہوں گی۔ اور یہاں والوں کو بھی چین سے اس گھر میں رہنے نہیں دوں گی‘ کیونکہ یہ صرف ان کا گھر نہیں ہے آپ برابر کی حصہ دار ہیں۔‘‘ اس کے ارادے سن کر ثریا اٹھنے لگی تھیں کہ اس نے روک لیا۔
’’بس اب سو جائیں آرام سے‘ مجھے بھی نیند آرہی ہے۔‘‘ اپنی بات کہتے ہی اس نے لیٹ کر سر تک چادر اوڑھ لی تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ سوئی نہیں‘ وہ آئندہ کی پلاننگ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کا ذہن یکسو نہیں ہو پارہا تھا۔ جب ہی وہ کسی ایک سوچ پر گرفت کر ہی نہیں سکی آخر تھک کر سوگئی۔
رات دیر سے سونے کے باوجود صبح وہ معمول سے پہلے ہی اٹھ گئی‘ کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی ماں آنکھ کھلتے ہی گھر کے بکھیڑوں میں لگ جائے۔ وہ اب اسے نوکرانی نہیں بننے دے گی‘ یہ اس نے طے کرلیا تھا۔ جب ہی اٹھتے ہی واش روم میں بند ہوگئی۔ منہ ہاتھ دھو کر نکلی تو ثریا کو اٹھتے دیکھ کر فوراً ٹوک کر بولی۔
’’کیوں اٹھ رہی ہیں‘ لیٹیں آرام سے‘ میں ناشتہ یہیں لے آئوں گی۔‘‘
’’تمہیں آفس جانا ہے۔‘‘ ثریا نے اس پر بات رکھی‘ وہ چڑ گئی۔
’’کہیں نہیں جانا مجھے۔ آپ سن لیں اگر آپ کمرے سے نکلیں تو میں کل سے بڑا ہنگامہ کروں گی۔‘‘ اس نے دھمکی دی اور ثریا کو خائف چھوڑ کر کچن میں آگئی۔
وہ جانتی تھی اس وقت ثریا سب سے پہلے چائے بنا کر سلیم احمد اور راحیلہ خاتون کے کمرے میں پہنچاتیں پھر سب کے لیے ناشتہ بنانے میں لگ جاتیں اور اس نے چائے کا پانی رکھا ضرور لیکن آنچ دھیمی کرکے اپنے اور ثریا کے لیے ناشتا بنانے لگی۔ سلائس‘ گرم کیے پھر انڈا فرائی کررہی تھی کہ راحیلہ خاتون آندھی طوفان کی طرح آن نازل ہوئیں۔ اسے دیکھ کر ایک لحظہ کو رکیں پھر پاٹ دار آواز میں بولیں۔
’’وہ مہارانی سو رہی ہے کیا ابھی تک؟‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے اپنے کام میں مصروف رہ کر سہولت سے جواب دیا۔
’’کیوں‘ ناشتا کون بنائے گا؟‘‘
’’مہارانیاں ناشتا کیا کوئی بھی کام نہیں کرتیں۔‘‘ اس نے سلائس اور انڈے کی پلیٹیں ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا پھر دو مگ رکھ کر ان میں چائے ڈالنے لگی۔
’’بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری۔‘‘ راحیلہ خاتون تیز ہوکر اس کے قریب آئیں۔ اس نے جواب نہیں دیا ٹرے اٹھا کر سیدھی کمرے میں آگئی۔
’’مجھے نہیں یاد کہ ہم نے کبھی ساتھ ناشتہ کیا ہو؟‘‘ وہ ٹرے ثریا کے سامنے رکھ کر بیٹھتے ہوئے بولی پھر ثریا کو دیکھا اس کے چہرے پر واضح ناراضگی پھیلی تھی۔
’’کیا ہوگیا ہے امی‘ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔ میں نے کچھ غلط نہیں کہا۔‘‘ اس نے ٹوک کر کہا تو ثریا پوچھنے لگیں۔
’’بھیا اور بھابی کو چائے دے دی؟‘‘
’’صرف چائے ہی نہیں ناشتا بھی دے آئی ہوں۔ کہیں تو یہ ٹرے بھی اٹھا کر دے آئوں۔‘‘ اس نے جل کر کہا پھر سر جھٹک کر پہلا نوالا لیا کہ راحیلہ خاتون کے چلا چلا کر بولنے کی آواز آنے لگی۔ ثریا ایک دم پریشان ہوگئیں جبکہ وہ آرام سے ناشتے میں مصروف رہی جیسے سدا کی بہری ہو۔ پھر چائے کا کپ لے کر اٹھتے ہوئے بولی۔
’’آپ ناشتا کریں امی‘ مامی جی تو اب یونہی چلایا کریں گی۔‘‘ ثریا نے غصے سے اسے دیکھا۔ پھر دروازے کھولنے کے ارادے سے اٹھی تھیں کہ وہ بھاگ کر دروازے سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔
’’مامی جی نے آپ کو مہارانی کا صرف خطاب دیا ہے اور میں آپ کو مہارانی بنائوں گی۔‘‘
ژ…ژ…ژ
محسن بے حد خوش تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی خوش گوار موڑ آسکتا ہے‘ وہ سوچنے بیٹھتا تو اسے لگتا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے‘ پھر وہ خود کو سرزنش کرتا اور اس میں ایک بڑی تبدیلی آئی تھی کہ وہ خود اپنا بہت خیال رکھنے لگا تھا۔ پہلے جو وہ ذرا سی تکلیف کو خود پر طاری کرلیتا تھا تو اب اس میں برداشت کی ہمت پیدا ہورہی تھی اور یہ سب نشاء کی محبت کا اعجاز تھا۔ ساجدہ بیگم نے اس سے یہی کہا تھا کہ نشاء اس سے محبت کرتی ہے اور اس کے نام کی انگوٹھی پہن کر بہت خوش ہے اور خوش تو وہ بھی تھا جب ہی تو چاہتا تھا کہ وقت کو پر لگ جائیں اور نشاء اس کے پاس آجائے۔ اس وقت اس کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسے سامنے بٹھا کر اس سے ڈھیروں باتیں کرے اور اس نے اپنی خواہش دبائی نہیں‘ اسے فون کرکے آنے کو کہا تو وہ سوچتے ہوئے بولی تھی۔
’’ابھی… ابھی کیسے آسکتی ہوں۔‘‘
’’جیسے بھی‘ بس آجائو‘ ورنہ میں ناراض ہوجائوں گا۔‘‘ اس نے کہا تو وہ فوراً بولی۔
’’ہائے نہیں مونی‘ ناراض نہ ہو۔‘‘
’’تو پھر آرہی ہو ناں؟‘‘
’’آرہی ہوں بابا آرہی ہوں۔‘‘ نشاء نے فون بند کیا تو وہ مسکراتا ہوا کچن میں آگیا‘ جہاں بوا رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔
’’کھانے میں کیا کیا ہے بوا؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ الٹا اس سے پوچھنے لگیں۔
’’تم کیا کھائو گے بیٹا؟‘‘
’’میں تو کچھ بھی کھالوں گا‘ آپ نشاء کے لیے کوئی اچھی ڈش پکالیں۔‘‘
’’نشاء آرہی ہے؟‘ بوا بھی خوش ہوگئیں۔
’’جی‘ آپ کو تو پتا ہوگا وہ کیا شوق سے کھاتی ہے۔‘‘ اس نے کہا تو بوا ہنس کر بولیں۔
’’لو مجھے نہیں پتا ہوگا تو کسے پتا ہوگا؟‘‘
’’چلیں آپ جلدی سے کھانا پکائیں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے کچن سے نکل کر ساجدہ بیگم کے پاس آبیٹھا۔ اندرونی خوشی اس کے چہرے پر چھلک رہی تھی۔ ساجدہ بیگم نظریں چراتے چراتے بھی پوچھ گئیں۔
’’کیا بات ہے‘ بہت خوش نظر آرہے ہو؟‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ جھینپ کر ہنسا۔
’’نشاء سے بات ہوئی ہے؟‘‘ ساجدہ بیگم نے خود ہی قیاس کیا۔
’’جی اور میں نے اسے ابھی آنے کو کہا ہے۔‘‘ اس نے بتایا تو ساجدہ بیگم نے بے ساختہ ٹوکا۔
’’کیوں…‘‘ پھر یک دم سنبھلتے ہوئے کہنے لگیں۔ ’’بیٹا اب تو کچھ ہی دنوں کی بات ہے‘ تمہیں اسے نہیں بلانا چاہیے‘ بلال برا مانے گا اور لبنیٰ بھی باتیں بنائے گی۔‘‘
’’لیکن امی اب تو وہ آرہی ہے۔‘‘ وہ ان کی بات سمجھ کر قدرے خائف ہوا تھا۔
’’ٹھیک ہے لیکن اسے زیادہ دیر مت روکنا۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ ڈھیروں باتیں کرنے کی خواہش دل میں دبائے اٹھا کھڑا ہوا۔
٭ّ٭ّ٭ّ٭ّ
وہ دس منٹ میں تیار ہوکر نیچے آئی کہ لبنیٰ اسے دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
’’نشاء‘ میں مارکیٹ جارہی ہوں چلوگی؟‘‘
’’مارکیٹ تو نہیں آنٹی آپ مجھے تایا ابو کے گھر چھوڑ دیجیے گا۔‘‘ اس نے کہا تو لبنیٰ کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
’’تایا کے گھر‘ نہیں اب تمہارا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔‘‘
’’میں خود مناسب نہیں سمجھتی آنٹی لیکن مونی نے بلایا ہے‘ نہیں جائوں گی تو ناراض ہوگا۔‘‘ اس نے جزبز ہوکر کہا تو لبنیٰ ناگواری سے بولیں۔
’’چند دن صبر نہیں کرسکتا وہ‘ تو تمہیں خیال کرنا چاہیے‘ دلہن بننے والی ہو اس کی۔‘‘
’’کس کی؟‘‘ اسے جیسے سننے میں غلطی ہوئی۔
’’محسن کی اور کس کی۔‘‘
’’محسن کی؟‘‘ اس کا ذہن بری طرح چٹخا۔ ’’یہ محسن کہاں سے آگیا آنٹی؟‘‘
’’اچانک تو نہیں آیا‘ ہمیشہ سے تمہارے ساتھ ہے‘ خیر میں جارہی ہوں۔‘‘ لبنیٰ اسے زلزلوں کی زد میں چھوڑ کر چلی گئیں۔ وہ بمشکل خود کو گھسیٹتی ہوئی صوفے تک آئی کہ اس کے سیل فون کی ٹون بجنے لگی۔ خود کو صوفے پر گراتے ہوئے اس نے بلاارادہ کال ریسیو کی تھی۔
’’کتنا انتظار کروائوگی؟‘‘ ادھر محسن تھا۔
’’خدا کرے تمہارا انتظار کبھی ختم نہ ہو۔‘‘ اس نے کہہ کر ادھر سیل بند کیا ادھر آنسوئوں نے سارے بند توڑ ڈالے تھے۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ اس کے ساتھ کیا ہوگیا ہے؟ محسن کے ساتھ اس کی وابستگی کو غلط رنگ کس نے دیا… جلال احمد اور ساجدہ بیگم نے… بلال احمد اور لبنیٰ… احسن اور محسن؟ کون ہے اس کی کومل خواہشوں اور آرزوئوں کا دشمن‘ یہ سب تو اس کے اپنے تھے‘ پھر…؟ اس کے سر میں شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں جبکہ دل جیسے سہم کر خاموش ہوگیا تھا۔
اپنے کمرے میں آکر وہ ایک پل چین سے نہیں بیٹھ سکی۔ مسلسل ادھر سے ادھر چکرا رہی تھی اسی حساب سے اس کے ذہن میں ان گنت سوچیں گڈمڈ ہورہی تھیں۔ کبھی احسن کا ٹھوس لہجہ۔
’’اپنے اندر کونفیڈینس پیدا کرو نشاء‘ زندگی کوئی کھیل نہیں ہے جسے تم اس چار دیواری کے اندر آرام سے گزار دوگی‘ اگر آگے کی جستجو نہیں ہے تب بھی اپنا دفاع کرنا سیکھو یا یونہی ہر ایک کے سامنے ہتھیار ڈال کر رونے کھڑی ہوجائوگی… نہیں۔‘‘ اس نے سختی سے آنکھیں میچیں تو سماعتوں پر محسن کی آواز دستک دینے لگی۔
’’اب تو خود میرے اندر بھی زندہ رہنے کی خواہش جاگنے لگی ہے اور یہ یقینا تمہاری دوائوں‘ دعائوں اور محبتوں کا اعجاز ہے کہ مجھ جیسا مایوس بندہ بھی زندگی سے پیار کرنے لگا ہے۔‘‘ اس نے ایک دم آنکھیں کھول دیں۔ بیڈ پر رکھا اس کا سیل بج رہا تھا۔ اسے پہلا خیال یہی آیا کہ محسن کال کررہا ہوگا‘ یکلخت اس کے ذہن میں ایک سوچ ابھری تھی کہ اس نے تیر کی سی تیزی سے سیل فون اٹھالیا اور ریسیو کا بٹن پش کرتے ہی زہرخند سے بولی۔
’’تم کسی خوش فہمی میں مت رہو مونی‘ میں کبھی بھی تم سے شادی نہیں کروں گی‘ بتادو تائی امی کو کہ میں…‘‘
’’نشاء…‘‘ بھاری بوجھل پکار نے اسے مزید بولنے سے روک دیا تھا۔ وہ ابھی سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ احسن ٹوٹے لہجے میں بولے تھے۔
’’ایسا مت کرو نشاء‘ مونی مر جائے گا۔ کیا تم اسے مرتے ہوئے دیکھ سکتی ہو۔‘‘ اس کا دل کسی اتھاہ گہرائی میں ڈوبنے لگا۔
’’نہیں‘ میں جانتا ہوں تم ایسا تصور بھی نہیں کرسکتیں‘ پھر بھی تمہیں میری قسم‘ تمہیں اپنی محبت کی قسم مونی سے اس کی خوشی مت چھینو‘ تمہاری محبت کے احساس نے اس کے اندر جینے کی امنگ پیدا کی ہے‘ اس سے یہ احساس مت چھینو نشاء۔‘‘ وہ ٹوٹ کر بول رہے تھے اور وہ گم صم کھڑی تھی۔
’’مجھ سے وعدہ کرو‘ تم جیسے اب مونی کا خیال کرتی ہو‘ شادی کے بعد اس سے بھی زیادہ…‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ ہذیاتی انداز میں چیخ پڑی۔ ’’میں کوئی وعدہ نہیں کروں گی۔ میں اب کوئی وعدہ نہیں کروں گی۔‘‘
’’نشاء… نشاء… میری بات سنو۔‘‘ انہوں نے پکار کر کہا لیکن اس نے سیل فون آف کردیا تھا۔
ژ…ژ…ژ
گزشتہ دنوں وہ جتنی خوش تھی اب اسی قدر آزردگیوں میں گھر گئی تھی اور فطری بات تھی کہ اس مقام پر اسے اپنی ماں یاد آنے لگی تھی‘ کہ اگر وہ ہوتی تو کبھی اس کے ساتھ یہ ظلم نہ ہونے دیتیں۔ اس وقت اپنی ماں کے بارے میں سوچتے ہوئے اچانک اسے وہ خاتون یاد آئیں جو اس کا پرپوزل لے کر آئی تھیں اور اسے ثریا کی بیٹی کہہ رہی تھیں۔ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ لبنیٰ کے پاس آگئی۔
’’آنٹی وہ آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔‘‘ اس نے کہا تو لبنیٰ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
’’وہ جو اس روز خاتون آئی تھیں اپنے بیٹے کا پرپوزل لے کر…‘‘ اس نے ابھی اسی قدر کہا تھا کہ لبنیٰ جانے کیا سمجھ کر بول پڑیں۔
’’ہاں انہیں تو میں نے بلال کے کہنے پر منع کردیا تھا کیونکہ اگلے روز ہی تمہارے تایا تائی آگئے تھے۔‘‘
’’آپ نے خود جاکر انہیں منع کیا تھا؟‘‘ اس نے اس خیال سے پوچھا کہ گھر کا ایڈریس معلوم کرسکے گی۔
’’نہیں… میں نے فون کردیا تھا۔‘‘ لبنیٰ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا پھر پوچھنے لگیں۔
’’تم کیوں پوچھ رہی ہو‘ کوئی کام ہے ان سے؟‘‘
’’جی‘ آپ مجھے ان کا فون نمبر دے دیں۔‘‘ اسے ڈھیٹ بننا پڑا۔
’’فون نمبر۔‘‘ لبنیٰ سوچتے ہوئے بولیں۔ ’’دیکھو شاید میں نے وہاں ڈائری میں لکھا تھا۔‘‘
’’کس نام سے؟‘‘ اس نے فوراً پوچھا۔
’’مسز شاہ‘ لیکن دیکھو کوئی ایسی حرکت مت کرنا۔‘‘ لبنیٰ نے انگلی اٹھا کر اپنی تنبیہ مکمل کی تو وہ کوئی بھی جوابی تاثر دیئے بغیر پلٹ آئی اور ڈائری سے نمبر نوٹ کرکے اپنے کمرے میں آتے ہی اس نے اپنے سیل فون سے نمبر ملایا تھا۔
تیسری بیل کے بعد خاتون کی آواز سنائی دی تھی۔
’’ہیلو…‘‘
’’آنٹی میں نشاء بول رہی ہوں۔‘‘ اس نے فوراً تعارف کرایا۔ ’’نشاء بلال احمد۔ ثریا کی بیٹی۔‘‘
’’ارے بیٹا‘ کیسی ہو۔‘‘ شفقت سے پوچھا گیا۔
’’ٹھیک ہوں‘ آپ سے ملنا چاہتی ہوں آنٹی۔‘‘ اس نے مدعا بیان کرنے میں بھی جلدی کی۔
’’ضرور بیٹا‘ جب چاہو‘ تم آسکتی ہو یا میں آجائوں۔‘‘ انہوں نے پوچھا تو اب وہ سہولت سے بولی۔
’’میں آجائوں گی آنٹی‘ آپ ایڈریس بتادیں۔‘‘ اس نے ایڈریس نوٹ کیا پھر انہیں جلدی ملنے کا کہہ کر فون بند کرتے ہی جانے کیا کچھ سوچنے لگی اور کوئی اچھی سوچ نہیں تھی‘ کیونکہ دل پر ایسی چوٹ پڑی تھی جس نے اسے سب سے متنفر کردیا تھا۔
اور پھر اگلے روز ہی وہ مسز شاہ کے پاس پہنچ گئی تھی۔ وہ اس سے بہت محبت سے ملیں تو اس نے پہلا سوال اپنی ماں کے بارے میں کیا تھا۔
’’آپ میری امی کو کیسے جانتی ہیں آنٹی؟‘‘
’’ثریا میری دوست تھی بیٹا۔‘‘ انہوں نے بتایا تو اسے دھچکا لگا۔
’’تھی مطلب؟‘‘
’’ارے بیٹا تم کچھ غلط مت سمجھو۔‘‘ انہوں نے سمجھ کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ’’میرا مطلب ہے کہ اب مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہے۔ بہت سال پہلے ہم یوں بچھڑے کہ پھر ملاقات ہی نہیں ہوئی۔‘‘
’’پھر آپ نے مجھے کیسے پہچانا کہ میں ثریا کی بیٹی ہوں؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ بے ساختہ مسکرائیں پھر کہنے لگیں۔
’’ایسا ہے بیٹا کہ تمہارے ابو کے نام سے مجھے شبہ ہوا تھا پھر تمہیں دیکھ کر تو یقین ہوگیا کہ تم ثریا کی بیٹی ہو کیونکہ تم ہوبہو اپنی ماں کی تصویر ہو۔ اب کہاں ہے تمہاری ماں؟‘‘ آخر میں انہوں نے پوچھا تو وہ مایوسی سے بولی۔
’’مجھے نہیں پتا آنٹی‘ میں تو خود آپ سے پوچھنے آئی ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ وہ حیران ہوئیں۔ ’’تمہیں تمہارے ابو نے نہیں بتایا؟‘‘
’’نہیں‘ میں نے خود ابو سے نہیں پوچھا‘ اصل میں میں ابو کے ساتھ نہیں رہی‘ ابو مجھے تایا ابو اور تائی امی کے پاس چھوڑ کر خود باہر چلے گئے تھے اور اتنے سالوں بعد اب واپس لوٹے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ پوچھنے لگیں۔
’’تمہارے تایا تائی نے تمہیں پالا؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ اپنے ناخن دیکھنے لگی۔ سمجھ میں نہیں آرہا اب کیا بات کرے تو قدرے رک کر مسز شاہ کہنے لگیں۔
’’بہرحال ثریا کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی‘ میں ان دنوں کوئٹہ میں تھی جب مجھے ثریا کا خط ملا۔ اس نے لکھا تھا کہ بلال احمد نے اسے گھر سے نکال دیا ہے اور چھوٹی بچی نشاء بھی اس سے چھین لی ہے شاید وہ صبا کو بھی چھین لیتا لیکن؟‘‘
’’صبا…‘‘ اس نے چونک کر بے اختیار پوچھا۔
’’تمہاری بہن…‘‘ مسز شاہ نے کہا تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
’’میری بہن‘ مجھے تو تائی امی نے کبھی نہیں بتایا کہ میری بہن بھی ہے۔‘‘
’’انہوں نے تو تمہیں ثریا کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔‘‘ مسز شاہ کے شاکی انداز پر وہ انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔
ژ…ژ…ژ
کتنے دن ہوگئے تھے ریان کا فون نہیں آیا تھا۔ پہلے وہ لاشعوری طور پر منتظر تھی‘ پھر باقاعدہ سوچنے لگی اور انتظار الگ۔ دن میں ہی نہیں رات میں بھی نیند سے اٹھ اٹھ کر سیل فون چیک کرتی کہ شاید اس کی کال آئی ہو۔ اس وقت اسے سوچتے ہوئے وہ رہ نہیں سکی اور خود اس کا نمبر پش کردیا تو دوسری بیل پر ہی کال ریسیو تو ہوگئی لیکن وہ بولا نہیں تھا۔
’’ہیلو۔‘‘ وہ جھجک رہی تھی‘ نروس بھی تھی اور وہ خاموش رہ کر اسے محسوس کررہا تھا۔
’’ہیلو ریان۔‘‘ اس کی خاموشی سے گھبرا کر مریم نے پکارا تب وہ بولا۔
’’سوری… میں کھوگیا تھا۔‘‘
’’کہاں کھوگئے تھے اتنے دنوں سے فون نہیں کیا؟‘‘ اس نے سادگی سے ٹوک کر کہا تو وہ جیسے انتظار میں تھا۔
’’تمہیں میرے فون کا انتظار تھا؟‘‘
’’ہاں… نہیں… آئی مین…‘‘ وہ کنفیوز ہوئی۔
’’ایک بات کہو ہاں یا ناں۔ وضاحتیں مت دو۔‘‘ ٹھہرا ہوا لہجہ تھا‘ وہ شش وپنج میں پڑگئی۔
’’میں تمہارے جواب کا انتظار کررہا ہوں۔ بتائو تمہیں میرے فون کا انتظار تھا۔‘‘ اس نے پھر پوچھا تو وہ چند لمحات بعد بولی۔
’’ہاں۔‘‘
’’تھینکس۔ تم نے مجھے زندگی دے دی۔‘‘ ریان نے لمبی سانس کھینچی تھی۔
’’یہ… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’سچ کہہ رہا ہوں‘ میری سانسیں رک گئی تھیں کہ کہیں تم ناں نہ کہہ دو‘ اب پوچھو میں نے اتنے دن فون کیوں نہیں کیا۔‘‘ ریان نے وضاحت کے ساتھ کہا تو اب وہ سوچتے ہوئے بولی تھی۔
’’آپ بتادیں۔‘‘
’’یہی جاننے کے لیے کہ تم مجھے مس کرتی ہو کہ نہیں اور میں چاہتا تھا تم مجھے فون کرو۔ تم سے زیادہ میں نے تمہارے فون کا انتظار کیا ہے۔ ہر روز ہر پل۔‘‘ وہ بہت دھیرے دھیرے اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا تھا‘ یوں کہ برسوں سے وہ جس خول میں بند تھی وہ چٹخ رہا تھا۔ بے ترتیب دھڑکنوں میں امنگوں کے ساتھ جستجو بھی انگڑائیاں لے رہی تھی اور یہ جستجو ہی تھی کہ وہ اس سے ملنے پر آمادہ ہوئی اور اگلے دن جہاں اس نے کہا وہاں پہنچ بھی گئی لیکن بہت نروس تھی۔
’’تم کیوں اتنی تنہا اور بیزار ہو۔‘‘ ریان کے پوچھنے پر وہ یوں دھیرے دھیرے بولنے لگی جیسے اس نے ٹیپ کا بٹن دبا دیا ہو۔
’’میری اسٹیپ مدر ہیں‘ شاید اس لیے ان کے اور میرے درمیان ہمیشہ فاصلہ رہا اور پاپا اپنے بزنس میں مصروف‘ اس لیے میں تنہائی فیل کرتی ہوں‘ آپ سوچیں سارا دن آپ سے کوئی بات کرنے والا نہ ہو‘ دیواروں کو تکنا پڑے‘ بے جان تصویروں پر نظریں جمائے یہ سوچنا کہ یہ ابھی بولنے لگیں گی‘ ایسے میں کوئی کیسے نارمل رہ سکتا ہے۔‘‘
’’مجھے دیکھو‘ کیا میں تمہیں نارمل نہیں لگ رہا۔‘‘ ریان نے کہا تو وہ ناسمجھنے کے انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
’’ہاں‘ میں… میں نارمل ہوں کیونکہ میں نے اس بات کو خود پر طاری ہی نہیں کیا کہ میرا کوئی نہیں ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اب کوئی کسی کا نہیں ہے ہر شخص اپنی زندگی جی رہا ہے۔ پھر تم نے کیوں خود پر زندگی تنگ کر رکھی ہے۔‘‘ ریان نے اپنے بارے میں بتا کر کہا تو وہ بے بسی سے بولی۔
’’میں کیا کروں‘ مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’تم کسی چیز میں دلچسپی لوگی تو اچھا لگے گا۔ دنیا اتنی بے رنگ نہیں ہے‘ اپنے خول سے باہر نکل کر دیکھو تو…‘‘
’’کیا دیکھوں؟‘‘ مریم گلاس وال سے باہر دیکھنے لگی پھر ایک طرف اشارہ کرکے بولی۔ ’’وہ…‘‘ ریان نے اس کے اشارے کی طرف دیکھا‘ ایک بوڑھی عورت بھاری سامان اٹھائے بمشکل چل رہی تھی بلکہ خود کو گھسیٹ رہی تھی۔
’’وہ…‘‘ مریم نے دوسری سمت اشارہ کیا تو ریان کی نظریں اس سمت اٹھ گئیں‘ دو آدمی ایک دوسرے کا گریبان پکڑے جھگڑ رہے تھے۔ وہ نفی میں سرہلا کر اسے دیکھنا چاہتا تھا کہ نظر دو بہت چھوٹے بچوں پر پڑی‘ ایک لڑکا ایک لڑکی کندھوں پر اسکول بیگ لٹکائے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے چل رہے تھے۔
’’نہیں وہ۔‘‘ ریان نے فوراً ان کی طرف اشارہ کیا تو اس سمت دیکھتے ہوئے مریم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چمکی تھی اور جب تک بچے نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئے وہ انہیں دیکھتی رہی پھر ریان کو دیکھ کر بے ساختہ پوچھا تھا۔
’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’تمہارا دوست۔‘‘ ریان نے کہا تو وہ قدرے الجھی۔
’’میرا مطلب ہے آپ مجھے کیسے جانتے ہیں‘ آپ نے کہا تھا کہ آپ نے میرا نمبر میرے سیل فون سے چرایا تھا… کیسے؟‘‘
’’وہ تو میں نے یونہی کہہ دیا تھا۔‘‘ وہ محظوظ ہوکر مسکرایا تھا۔
’’پھر؟‘‘
’’پھر یہ کہ میں اپنے بارے میں بعد میں بتائوں گا‘ آئی مین نیکسٹ ملاقات میں۔ ابھی کھانا کھائو۔‘‘ ریان نے خوب صورتی سے آئندہ ملاقات طے کرکے اس کی توجہ کھانے کی طرف دلائی تھی۔ اور پھر اس نے بھی اصرار نہیں کیا۔ شاید وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ جو اسے زندگی اور اس کی خوب صورتیوں سے روشناس کرارہا تھا اس سے وہ دوبارہ اور شاید بار بار مل سکتی تھی۔ بہرحال جب وہ گھر لوٹی تو بہت مگن سی تھی‘ سیدھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ لبنیٰ کے پکارنے پر چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’آج سارا دن کہاں رہی ہو؟‘‘ لبنیٰ نے پوچھا۔ ’’بی بی بتا رہی تھیں تم دوپہر میں گئی تھی۔‘‘
’’جی‘ دوپہر میں گئی تھی۔‘‘ وہ اندر سے خائف ہوئی تھی۔
’’کہاں؟‘‘ لبنیٰ کا انداز سرسری تھا۔
’’جی فرینڈ کے پاس۔‘‘ یہ جھوٹ نہیں تھا پھر بھی اسے بولنے میں دقت ہوئی تھی۔
’’اچھی بات ہے‘ جایا آیا کرو‘ کوئی نئی فرینڈ ہے؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’تو کیسا رہا آج کا دن‘ نئی فرینڈ کے ساتھ انجوائے کیا۔‘‘ لبنیٰ کو شاید اس کی تبدیلی اچھی لگ رہی تھی۔
’’جی۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ لبنیٰ سراہ کر آگے بڑھ گئی تب اس نے گہری سانس کھینچی پھر سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
ژ…ژ…ژ
جانے قسمت میں کیا لکھا تھا کہ وہ اپنی ہر کوشش میں ناکام ہورہی تھی۔ اسے مسلسل مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ گو کہ کسی اور جگہ جاب کی کوشش تو وہ اسی روز سے کررہی تھی جب خان جنید نے اسے شادی کی آفر کی تھی۔ اس نے سوچا تھا وہ انہیں کوئی جواب دیئے بغیر آرام سے الگ ہوجائے گی‘ اس لیے وہ پریشان بھی نہیں تھی لیکن اب جس طرح راحیلہ خاتون نے اس کا اور اس سے زیادہ اس کی ماں کا جینا حرام کردیا تھا تو وہ جتنا چاہ رہی تھی کہ جلد سے جلد ماں کو لے کر اپنا کہیں الگ انتظام کرلے تو اسی قدر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک دو جگہ اس نے دو کمرے کا فلیٹ دیکھا بھی‘ کرایہ تو مناسب تھا لیکن ایڈوانس کی مد میں جمع کرانے کے لیے جو رقم بتائی گئی اتنی تو وہ اپنی چھ مہینے کی تنخواہ جمع کرکے بھی ادا نہیں کرسکتی تھی۔ مزید اچھی جاب کے لیے اس نے کتنی جگہوں پر اپلائی کر رکھا تھا تو کسی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔ اگر اس کی ماں کے دل میں راحیلہ خاتون کا اتنا خوف نہ ہوتا تو شاید وہ پریشان نہ ہوتی‘ اور سہولت سے اپنا الگ انتظام کرسکتی تھی لیکن راحیلہ خاتون تو سر پر ڈنڈا لیے کھڑی تھیں کہ ابھی نکل جائو۔ وہ تو سارا دن گھر پر نہیں ہوتی تھی عتاب اس کی ماں پہ نازل ہوتا تھا۔ وہ جب گھر لوٹتی ثریا کی سہمی ہوئی شکل اور آنکھوں میں ایک ہی سوال…
’’کچھ بنا…؟‘‘ وہ نظریں چرا جاتی‘ یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں کیونکہ وہ خود پریشان تھی اور یہ تو نہیں تھا کہ یہ پریشانی اس کی اپنی پیدا کردہ تھی‘ وہ اگر اسٹینڈ نہ لیتی تو راحیلہ خاتون اسے اپنے بھانجے کے ساتھ رخصت کردیتیں اس کے بعد ثریا مکمل ان کے رحم وکرم پر ہوتی۔ بہرحال یہ مشکل وقت کسی طور کٹ ہی جانا تھا اگر جو سلیم احمد بیوی کی زبان نہ بولنے کھڑے ہوجاتے۔
’’ثریا‘ میں تنگ آگیا ہوں روز روز کے جھگڑوں سے‘ تمہاری بیٹی کی بدلحاظی نے مجھے راحیلہ خاتون کے سامنے شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے‘ اب میں اس سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔ بہتر ہے تم بیٹی کو لے کر یہاں سے چلی جائو۔‘‘ ثریا تو مارے صدمے کے کچھ بول ہی نہیں سکی اور وہ بھی بمشکل بولی تھی۔
’’میں کوشش کررہی ہوں ماموں جی۔‘‘
’’کیا کوشش کررہی ہو؟‘‘ نروٹھے پن کی انتہا تھی۔
’’یہی کہ کہیں سر چھپانے کی جگہ مل جائے۔‘‘
’’مفت میں کہیں جگہ نہیں ملے گی۔‘‘ انہوں نے جتا کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔ ’’یہ لو۔‘‘ اسے اگر رشتے اور عمر کا خیال نہ ہوتا تو نوٹ لے کر ان کے منہ پر دے مارتی‘ بمشکل ضبط سے بولی تھی۔
’’یہ آپ رکھیں ماموں جی‘ اور فکر نہ کریں‘ ہم جلدی یہاں سے چلے جائیں گے۔‘‘
’’ہاں جلدی‘ میں راحیلہ سے کہہ دیتا ہوں بس ایک ڈیڑھ ہفتے کی بات ہے۔‘‘ سلیم احمد خود ہی اسے ایک ڈیڑھ ہفتے کی مہلت دے کر چلے گئے تو ثریا نے اس کا بازو تھام لیا۔
’’کیا ہوگا؟ اب کہاں جائیں گی ہم‘ اسی دن کے لیے منع کرتی تھی‘ مت زوم دکھائو۔ اب بتائو کون ہے ہمارا؟ کہاں سر چھپائیں گی ہم… یااللہ۔‘‘ ثریا اپنے پیچھے پلنگ پر ڈھے کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور دل تو اس کا بھی چاہ رہا تھا چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالے لیکن جانتی تھی کہیں شنوائی نہیں ہوگی‘ کتنی دیر وہ ثریا کو سسکتے ہوئے دیکھتی رہی اتنی ہمت نہیں تھی کہ ان کے آنسو پونچھ سکے۔ ذہن الگ مائوف ‘ کچھ بھی سوچنے سے قاصر تھا۔
’’کیا کروں؟‘‘ دل میں اٹھتی درد کی لہر دباتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کی تھیں کہ اچانک ذہن میں جھماکا ہوا تھا اور پھر اس نے کچھ نہیں سوچا اپنا سیل فون لے کر واش روم میں بند ہوگئی تھی۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ واش روم سے نکلی اور عجلت دکھاتے ہوئے ثریا سے مخاطب ہوئی۔
’’اٹھیں امی‘ ہمیں ابھی یہاں سے جانا ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘ ثریا رونا بھول کر اسے دیکھنے لگیں۔
’’یہ سوال جواب بعد میں بس آپ جلدی سے جو ضروری چیزیں لینی ہوں لے لیں۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے بیگ نکالا اور اس میں اپنی ضروری چیزیں رکھنے لگی تو ثریا اٹھ کر اس کے پاس آگئیں۔
’’صبا مجھے بتائو ہم کہاں جائیں گی۔‘‘
’’گھر… گھر مل گیا ہے‘ کہیں روڈ پر نہیں بٹھائوں گی آپ کو۔ اب خدا کے لیے جلدی کریں گاڑی آنے والی ہے۔‘‘ اس نے زچ ہوکر کہا تو ثریا مزید الجھ گئیں۔
’’گاڑی؟‘‘
’’میرے آفس کی گاڑی ہے‘ ہمیں گھر پہنچادے گی۔‘‘ وہ مزید تیزی دکھانے لگی۔
جلدی جلدی بیگ میں چیزیں ٹھونس کر زپ بند کی پھر سوٹ کیس میں اپنے اور ثریا کے کپڑے رکھنے لگی۔ تب ثریا نے جو سمجھ میں آیا سوٹ کیس میں ڈال دیا۔ پھر گاڑی آنے کا فون سن کر وہ بیگ اور سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے کمرے سے نکلی تو ثریا نے پوچھا نہیں تھا شاید اپنا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
’’بھیا کو بتادوں۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔ وہ خود ہی دیکھ لیں گے۔‘‘ اور واقعی لائونج میں سلیم احمد اور راحیلہ خاتون بھی موجود تھیں۔ راحیلہ خاتون نے تو نخوت سے منہ موڑ لیا البتہ سلیم احمد ہک دک انہیں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ثریا کے قدم رک رک کر اٹھ رہے تھے۔ وہ ایک بار پہلے ماں باپ کے گھر سے وداع ہوئی تھیں اور اب نکالی جارہی تھیں بس گھروں کا فرق تھا‘ لیکن تھا تو یہ بھی اس کے باپ کا گھر۔ ماں باپ نہیں رہے تھے ماں جایا تو تھا۔ کاش سر پر ہاتھ ہی رکھ دیتا۔ وہ اسی انتظار میں دہلیز پر رکی تھیں کہ شاید‘ لیکن صبا نے سامان ڈرائیور کے حوالے کیا اور اسے کھینچ کر گاڑی میں بٹھایا تھا۔
گاڑی جانے کن کن راستوں پر دوڑ رہی تھی ثریا تو کیا خود اسے خبر نہیں تھی۔ اس کا ذہن ان راستوں پر بھٹک رہا تھا جو اس کا ماضی بننے جارہے تھے۔ گھنٹے بھر میں اس نے اپنی اب تک کی زندگی کا سفر طے کرلیا تھا‘ جب گاڑی رکی تب اس نے چونک کر دیکھا۔ سی ویو کے قریب خوب صورت اپارٹمنٹ تھا۔
’’چلیں امی۔‘‘ اس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے ثریا کو دیکھا وہ اپنے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ اس نے ہونٹ بھینچ کر خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔ پھر وہ ثریا کا ہاتھ تھامے ہوئے ڈرائیور کے پیچھے سیکنڈ فلور پر اپارٹمنٹ کے دروازے پر رک گئی۔ ڈرائیور نے پہلے ان کا مختصر سامان اندر رکھا پھر اپارٹمنٹ کی چابی کے ساتھ ایک لفافہ اسے تھما کر بولا تھا۔
’’کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں نیچے موجود ہوں۔‘‘ اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا اور ثریا کے ساتھ اندر داخل ہوکر دروازہ بند کرلیا۔
’’یہ… یہ کس کا گھر ہے صبا؟‘‘ ثریا سب بھول کر نئی پریشانی میں مبتلا ہوگئی۔
’’آپ کا… پہلے ڈرائیور کو فارغ کردیں پھر آرام سے دیکھئے گا۔‘‘ اس نے قصداً سرسری انداز اختیار کیا اور جلدی سے بیگ میں سے پین اور پیپر نکال کر خصوصاً کچن کے لیے فوری ضرورت کی اشیاء لکھ کر ڈرائیور کو فون کیا تو وہ فوراً ہی آگیا۔ وہ پرچہ اسے تھما کر واپس آئی تو ثریا بت بنی کھڑی تھی۔
’’اف امی… آپ بیٹھ تو جائیں۔‘‘ اس نے ثریا کو کندھوں سے تھامنا چاہا لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ کر بولیں۔
’’نہیں‘ پہلے بتائو یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’کیا ہے‘ گھر ہے‘ اتنے دنوں سے کوشش کررہی تھی کہ کہیں ٹھکانا مل جائے اور اب ٹھکانا مل گیا ہے تو آپ پریشان کیوں ہورہی ہیں؟‘‘
’’پریشان اس لیے ہورہی ہوں کہ یہ ہماری اوقات سے بڑھ کر ہے‘ ہم تو کسی پسماندہ علاقے میں دو کمرے کا مکان افورڈ نہیں کرسکتے کہاں یہ…‘‘ ثریا نے تڑخ کر کہا تو وہ درد دبا کر بولی۔
’’یہ میرے باس کی عنایت ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ ثریا کی نظریں اسے اندر تک چھلنی کر گئی تھیں۔
’’مطلب میں نے باس کو بتایا کہ میں اس وقت بہت پرابلم میں ہوں مجھے فوری رہائش کی ضرورت ہے‘ تو انہوں نے میری پرابلم سولو کردی۔ اب یہاں رہ کر میں اطمینان سے اپنی حیثیت کے مطابق رہائش تلاش کرسکوں گی۔‘‘ اس نے سہولت سے بات بنائی تھی۔
’’تم سچ کہہ رہی ہو؟‘‘ ثریا غیر یقین تھیں۔
’’اس میں جھوٹ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہہ کر گلاس وال سے پردہ کھینچا تو سورج اپنی آخری کرنیں سمیٹتا دور سمندر میں اتر رہا تھا اس کی آنکھیں یکلخت پانیوں سے بھرگئیں اور پھر وہ رو پڑی۔
’’سب جھوٹ ہے امی‘ سب جھوٹ ہے‘ میں بھی جھوٹی ہوں۔‘‘
’’سچ کیا ہے؟‘‘ ثریا کی آواز کہیں دور سے آئی تھی۔
ژ…ژ…ژ
وہ مقدر سے یوں ہاری کہ اس کے اندر دور تک سناٹا پھیل گیا تھا۔ نہ احسن کی دی قسمیں یاد رہیں نہ محبتوں کے واسطے‘ سارے احساسات جیسے برف کی سلوں تلے منجمد ہوگئے تھے۔
’’نکاح کے لیے لوگ آرہے ہیں تم پلیز رونا مت ورنہ میک اپ خراب ہوجائے گا۔‘‘ لبنیٰ نے اس کے سر پر آنچل جما کر کہا تو اس نے چپ چاپ پیشانی گھٹنوں پر ٹکالی اور اندر آتے قدموں کی چاپ سننے لگی پھر کوئی اس کے بیڈ پر بیٹھا تھا‘ ہر طرف خاموشی اور خاموشی کا سینہ چیرتی صرف ایک آواز۔
’’نشاء بلال احمد تمہیں محسن جلال احمد سے نکاح قبول ہے۔‘‘ دوسری اور پھر تیسری بار دہرایا گیا تو یکلخت اس نے ساری شرم ساری مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر سر پر ٹھہرا لبنیٰ کا ہاتھ جھٹک کر سر اونچا کیا۔ عین سامنے بلال احمد اور جلال احمد کھڑے تھے‘ دونوں کے چہرے روشن اور چمکتے ہوئے‘ کہیں کوئی پشیمانی نہیں‘ کہیں کسی دھوکے کا شائبہ نہیں‘ ایک وہ جس نے اس کی ماں کو دربدر کیا‘ دوسرا وہ جو اپنے بیمار بیٹے کو کچھ برس اور زندہ رکھنے کی خاطر اس کے آنچل کی پناہ دینا چاہتاہے‘ ان چمکتے چہروں نے اس کے اندر آگ لگادی‘ دل چاہا نہیں کی صورت اتنی زور سے چیخے کہ اس کی آواز دنیا کے اِس سرے سے اُس سرے تک سنی جائے اور کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہو۔
’’ہاں کہو۔‘‘ لبنیٰ نے پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور دبائو ڈال کر اس کا سر جھکاتے ہوئے سرگوشی میں بولی تو وہ سسک پڑی۔
’’ہاں… ہاں… ہاں۔‘‘ کمرے کی خاموش فضائوں میں مبارک سلامت کا شور اٹھا جس میں اس کی سسکیاں دب کر رہ گئیں‘ پھر اس کے بعد جامد خاموشی‘ ہونٹ آپ ہی آپ سل گئے‘ کانوں پر دبیز پردے آگرے اور آنکھیں سارے سپنے کھوکر ویران ہوگئیں یوں کہ محسن جلال احمد کے سنگ دوبارہ اس گھر میں آکر بھی اس کے اندر نئی زندگی کی کوئی ہلکی سی امنگ بھی نہیں جاگی تھی اور اس کے برعکس محسن کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا‘ وہ اپنی خوشی میں مست اس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا۔
’’میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی میری زندگی میں بھی بہار آسکتی ہے۔ تمہاری محبت نے تو اچانک ایسے پھول کھلائے ہیں کہ میں صرف چند برس نہیں بلکہ برسہا برس جینے کی تمنا کرنے لگا ہوں۔‘‘
’’میری محبت…‘‘ اس نے سوچا اور دل چاہا زور زور سے ہنس کر اس کا مذاق اڑائے لیکن وہ ہونٹ بھینچے بیٹھی رہی اور وہ کہتا رہا۔
’’مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں نے در دل پر تمہاری محبت کی دستک سننے میں بہت دیر کی۔ کاش میں اسی روز جان جاتا جس روز تم نے کہا تھا کہ تم سب کچھ بھول سکتی ہو یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی لیکن مجھے نہیں۔‘‘
’’اف…‘‘ اس نے سختی سے آنکھیں بند کی تھیں۔
’’اور پتا ہے نشاء میں تو اس کے بعد بھی نہیں جان پایا وہ تو جب ابو نے میری اور تمہاری شادی کی بات کی تو میں بہت حیران ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے اور میں نے امی ابو سے کہا کہ تم مجھ سے شادی پر رضامند نہیں ہوگی‘ اس پر ابو بہت ہنسے اور کہا کہ وہ لڑکی جو اتنی محبت سے تمہارا خیال رکھتی ہے‘ وہ تم سے شادی کیوں نہیں کرے گی اور اس روز جب میں نے تمہارے بارے میں نئے انداز سے سوچا تو احساس ہوا کہ تم تو ایک عرصے سے میرے دل کے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں میں ہی بے خبر تھا۔‘‘ محسن یہ ساری باتیں اس روز اس سے کرنا چاہتا تھا جس روز وہ آنے کا کہہ کر نہیں آئی تھی۔
’’واقعی محبت میں بڑی طاقت ہے۔ مردوں کو زندہ کردیتی ہے۔ مجھے دیکھو میں جو ٹوٹا ہوا شکستہ اور اپنے آپ سے حددرجہ مایوس انسان تھا تمہاری محبت کا احساس ملتے ہی جی اٹھا ہوں۔‘‘ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر شرارت سے بولا۔
’’تم ناحق مجھے دوائیں پلاتی رہی‘ اگر اول روز ہی اظہار کردیتیں تو میں اسی وقت بھلا چنگا ہوجاتا… ہے ناں۔‘‘ نشاء نے کرب سے آنکھیں بند کیں اور وہ اپنی خوشی میں مست اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں بازو دائیں بائیں پھیلا کر کہنے لگا۔
’’دیکھو‘ یہ وہی کمرہ ہے جہاں مایوسیوں کا راج تھا۔ اب کیسا روشن لگ رہا ہے۔ زندگی مجھ پر مہربان ہوگئی ہے۔ میں بہت خوش ہوں نشاء بہت خوش۔‘‘ وہ خوشی کا اظہار دونوں بازو پھیلائے گول گول گھومتے ہوئے کررہا تھا کہ اچانک چکرا کر لڑکھڑایا اور سنبھلنے کی کوشش میں اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
’’نشاء…‘‘ وہ اس کے سامنے اوندھے منہ یوں گرا کہ وہ خوف زدہ ہوکر چیخ پڑی تھی۔
’’مونی…!‘‘
ژ…ژ…ژ
جلال احمد تو محسن کو ٹریٹ منٹ ملنے کے بعد اپنا اطمینان کرکے گھر چلے گئے تھے اور وہ اولین شب کی دلہن تنہا رہ گئی تھی۔ کھڑکی کی چوکھٹ سے سر ٹکائے ایک ٹک محسن کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھیں جیسے پتھرا گئی تھیں۔ دن کا اجالا پھیل رہا تھا اور وہ ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ ڈاکٹر تانیہ اور نرس کے آنے کا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔
’’یہ… یہ ڈاکٹر احسن کے بھائی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر تانیہ نے محسن کو دیکھ کر اس سے پوچھا۔ تب چونکنے کے ساتھ اس کا سر خودبخود اثبات میں ہلا۔
’’اور آپ ان کی کون ہیں؟‘‘ محسن کی نبض چیک کرتے ہوئے ڈاکٹر تانیہ پھر اسے دیکھنے لگی۔
’’وائف۔‘‘ اس کے حلق میں کڑواہٹ گھل گئی تھی جبکہ تانیہ کے ہونٹ اوکے انداز میں سکڑے پھر پوچھنے لگی۔
’’آپ کے ساتھ اور کون ہے؟‘‘
’’کوئی نہیں جو بھی بات ہے آپ مجھ سے کہہ سکتی ہیں۔ میں سب سن سکتی ہوں۔ یہ بھی کہ یہ چند گھڑیوں کے مہمان ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر تیزی سے روم سے نکل آگئی۔ اس کا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا‘ راہداری میں تیز قدموں سے چلتی ہوئی وہ آخری سرے تک جاپہنچی پھر پلٹ کر دیکھا ڈاکٹر تانیہ اور اس کے پیچھے نرس محسن کے روم سے نکل کر دوسری سمت جارہی تھی۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی پھر سست قدموں سے واپس روم میں داخل ہوتے ہی رک گئی۔ محسن بیڈ کی بیک سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ آہٹ پر گردن موڑ کر اسے دیکھا پھر زبردستی مسکرا کر بولا۔
’’وہاں کیوں کھڑی ہو‘ یہاں میرے پاس آئو۔‘‘ وہ ایسے ہی سست روی سے بیڈ کے قریب آکھڑی ہوئی اور بے حد خاموش نظروں سے اسے دیکھے گئی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔ زندہ ہوں‘ مر نہیں گیا۔‘‘ محسن نے اس خیال سے کہا کہ پہلے کی طرح وہ بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے گی لیکن وہ ساکت کھڑی رہی۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟ میں نے تمہیں پریشان کردیا۔ اصل میں تمہیں پاکر میرا سچ مچ مر جانے کو دل چاہا تھا۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا تب بھی اس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔
’’کیا بہت ناراض ہو۔‘‘ محسن نے اس کا ہاتھ ہلایا۔ ’’کچھ کہو ناں‘ تمہاری خاموشی مجھے احساس جرم میں مبتلا کررہی ہے۔‘‘
’’آ… آپ کو زیادہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔‘‘ وہ بہت دقتوں سے بولی تھی۔
’’نہیں کروں گا لیکن تم پر تو ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔‘‘ محسن نے فوراً کہا وہ پھر خاموش ہوگئی۔
’’لگتا ہے تم شاکڈ ہو۔‘‘ وہ خود ہی کہنے لگا۔ ’’ہونا بھی چاہیے‘ رات ہماری شادی ہوئی اور اب میں یہاں پڑا ہوں۔ لیکن تم یہ بھی تو جانتی ہو نشاء کہ میرے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ بولی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ سمجھا نہیں۔
’’آپ واقعی انجان ہیں یا بن رہے ہیں۔‘‘ اس نے سلگتی نظر اس پر ڈالی۔
’’میں تمہاری بات نہیں سمجھ رہا‘ اگر تم وضاحت کرو تو شاید میں جواب دے سکوں۔‘‘ وہ واقعی سادہ تھا نشاء نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تھا کہ جلال احمد کے آنے پر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبالیا۔
’’کیسے ہو بیٹا؟ ڈاکٹر نے تو گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ تم کیا کہتے ہو۔‘‘ جلال احمد نے آتے ہی مژدہ سنا کر پوچھا تو وہ فوراً بولا۔
’’چلتے ہیں ابو۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ جلال احمد نشاء کی طرف دیکھنے سے گریز کررہے تھے۔ شاید ان میں ہمت نہیں تھی۔ محسن کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تو وہ خاموشی سے ان دونوں کے پیچھے چل پڑی۔
گھر آتے ہی وہ سیدھی اپنے کمرے میں آگئی۔ اس کی سیج ویران پڑی تھی۔ خالی خالی نظروں سے کمرے کی سجاوٹ دیکھتے ہوئے اچانک اس کے اندر ابال اٹھا تھا۔ تیزی سے بڑھ کر سیج کی لڑیاں نوچنے لگی تب ہی محسن کمرے میں آتے ہی ایک لحظہ کو ٹھٹکا لیکن پھر عقب سے ا س کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولا۔
’’یہ کیا کررہی ہو… ابھی تو…‘‘
’’مجھے الجھن ہورہی ہے۔ دم گھٹ رہا ہے میرا۔‘‘ وہ بے دردی سے لڑیا ںنوچ رہی تھی۔ محسن دل گرفتہ سا ہوکر اس کے ساتھ لڑیاں اتارنے لگا‘ پھر اسے خوش کرنے کی خاطر بولا۔
’’واقعی اب کھلا کھلا لگ رہا ہے۔‘‘ پھر بیڈ کارنر پر رکھے گفٹ پیکٹ کو دیکھ کر ’’آئو دیکھیں احسن بھائی نے ہمیں شادی پر کیا گفٹ بھیجا ہے۔‘‘
’’احسن بھائی خود نہیں آئے؟‘‘ اس نے اچانک ایک خیال کے تحت ناگواری سے پوچھا۔
’’نہیں…‘‘ محسن کی توجہ گفٹ پر تھی۔
’’کیوں‘ تایا ابو تو کہہ رہے تھے احسن کے آنے پر شادی ہوگی۔‘‘
’’ہاں‘ ارادہ تو یہی تھا اور احسن بھائی کا آنا بھی کنفرم تھا لیکن پھر پچھلے ہفتے ان کا فون آیا کہ وہ نہیں آسکتے۔‘‘ محسن پیکٹ کا ریپر اتارتے ہوئے بتا رہا تھا۔
’’حیرت ہے وہ اپنے اتنے پیارے بھائی کی شادی میں شریک نہیں ہوئے۔‘‘ اس کا طنز محسن نے محسوس ہی نہیں کیا۔
’’ہاں انہیں بھی اس بات کا بہت ملال ہے۔‘‘ اس نے کہا تب ہی موبائل فون کی ٹون بجنے سے اس کی توجہ گفٹ پر سے ہٹ گئی۔ موبائل اٹھاتے ہی خوش ہوکر بولا۔
’’احسن بھائی کا فون ہے۔‘‘ پھر کال ریسیو کرتے ہی احسن سے کہنے لگا۔ ’’بڑی عمر ہے بھائی آپ کی‘ ابھی ہم آپ کو ہی یاد کررہے تھے۔‘‘
’’پہلے یہ بتائو تم کیسے ہو؟‘‘ احسن پریشان تھے غالباً انہیں رات اس کے ہاسپٹل جانے کی اطلاع مل گئی تھی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ اب یہ چھوٹے موٹے اٹیک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ وہ ان سے کہتے ہوئے نشاء کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’کیا شادی کرکے طرم خان بن گئے ہو؟‘‘ انہوں نے چھیڑا۔
’’یہی سمجھ لیں۔ لیجئے نشاء سے بات کریں۔‘‘ اس نے سیل فون نشاء کی طرف بڑھایا تو وہ پریشان ہوگئی۔
’’لو ناں۔‘‘ محسن کے اصرار پر ناچار اس نے سیل فون لیا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’کیسی ہو نشاء۔‘‘ ان کی گہری سنجیدگی پر وہ کچھ بول ہی نہیں سکی۔
’’مونی ٹھیک ہے ناں؟‘‘ انہوںنے پھر پوچھا۔
’’جی۔‘‘
’’ہاں‘ اس کا خیال رکھنا کیونکہ…‘‘ وہ جانے کیا کہنے جارہے تھے کہ وہ بول پڑی۔
’’میں جانتی ہوں مونی آپ کو بہت پیارا ہے‘ اپنے آپ سے بڑھ کر‘ اور اس کی خاطر آپ سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے سیل فون آف کردیا تھا۔
ژ…ژ…ژ
ثریا اس کے منہ سے سچ سن کر سناٹے میں بیٹھی تھی۔
’’امی مجبوری کے فیصلے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ اس سے بہتر ہے جو مامی جی میرے ساتھ کرنے جارہی تھیں۔‘‘ وہ عاجز ہوکر ثریا کو قائل کرنے کی سعی کرنے لگی۔
’’آپ خود سوچیں مامی جی کے بھانجے سے شادی کرکے کیا میں خوش رہ سکتی تھی۔ وہاں بھی مامی جی مجھے چین سے نہ رہنے دیتیں اور آپ کو الگ تنگ کرتیں۔ اب کم از کم ہم اپنی مرضی سے تو جی سکیں گے۔ یہ گھر آ پ کا ہے‘ بہت جلد ہی میں آپ کے لیے ایک کل وقتی ملازمہ کا انتظام کردوں گی‘ یوں آپ اکیلی نہیں رہیں گی۔ اب خدا کے لیے آپ پچھلی ساری باتیں بھول جائیں اور خوش رہیں۔‘‘
’’تم خوش ہو؟‘‘ ثریا نے اچانک پوچھا تھا۔ اس کا دل کسی اتھاہ گہرائی میں ڈوب تھا۔ ثریا کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگالیے۔
’’میرے لیے خوشی کا مفہوم بدل گیا ہے امی‘ دل خالی ہوجائے تو پھر خوشی اور ناخوشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آپ میری فکر نہ کریں۔‘‘
’’کیسے تمہاری فکر نہ کروں۔ تم ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی جتنا بڑا فیصلہ کرلیا۔‘‘ ثریا کا بس نہیں چل رہا تھا‘ اسے ساری دنیا سے چھپالے۔
’’وقت بڑا ظالم ہے امی کچھ لیے بغیر ٹلتا نہیں ہے۔‘‘
’’تمہارا تو سب کچھ لے لیا۔‘‘ ثریا بے حد آزردہ تھی۔
’’نہیں میرا سب کچھ آپ ہیں۔ آپ خوش رہیں اور میرے لیے دعا کریں۔ میں ان شاء اللہ اپنے فیصلے پر کبھی نہیں پچھتائوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی پھر جاتے جاتے بولی۔
’’میں کھانا نکال رہی ہوں۔ آپ جلدی سے فریش ہوکر آجائیں۔‘‘ پھر کھانے کے دوران وہ ثریا کو خان جنید اور ان سے زیادہ بنٹی کے بارے میں بتانے لگی کہ وہ معذور بچہ اس سے کتنا مانوس ہوگیا ہے اور قصداً اس نے بنٹی کی تنہائی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ثریا کو بھی اس پر ترس آنے لگا تھا۔ یوں وہ ثریا کو اپنے حق میں ہموار کرکے ہی اٹھی تھی۔
اور اب اسے آفس تو جانا نہیں تھا‘ اس لیے اگلے دن وہ آرام سے اٹھی اور ثریا کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اس نے ڈرائیور کو فون کیا پھر اس کے ساتھ خان جنید کے بنگلے پر آئی تو بنٹی منہ پھلائے بیٹھا تھا۔ وہ سمجھ گئی اس کے دیر سے آنے پر ناراض ہے۔
’’سوری فرینڈ مجھے دیر ہوگئی۔‘‘ اس نے بنٹی کا گال چھونا چاہا لیکن وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر بولا۔
’’میں آپ سے بات نہیں کروں گا۔ آپ چلی جائیں۔‘‘
’’ارے…‘‘ وہ بنٹی کے سامنے بیٹھ گئی۔ ’’میں تو سوچ رہی ہوں ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس آجائوں اور تم جانے کا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’آپ ہمیشہ کے لیے کیسے آسکتی ہیں؟‘‘ بنٹی ایک دم اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’کیوں نہیں آسکتی‘ اگر تم چاہو تو میں یہاں رہ سکتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو وہ فوراً بولا۔
’’ٹھیک ہے‘ آپ یہیں رہ جائیں۔‘‘
’’ایسے نہیں‘ میرا مطلب ہے ایسے کیسے رہ سکتی ہوں۔‘‘ وہ پوری پلاننگ سے اسے تیار کررہی تھی۔
’’پھر؟‘‘ بنٹی سوالیہ نشان بن گیا تو اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی پھر کہنے لگی۔
’’ایک طریقہ ہوسکتا ہے‘ تم اپنے پاپا سے کہو مجھ سے شادی کرلیں پھر میں یہاں آجائوں گی۔‘‘ بنٹی فوراً کچھ نہیں بولا‘ بس اسے دیکھے گیا تو وہ خجل سی ہوگئی۔
’’سوری۔‘‘ پھر بات بدلنے کی غرض سے پوچھنے لگی۔ ’’تم نے کھانا کھایا؟‘‘ بنٹی نے جواب نہیں دیا تو اس نے رک کر پوچھا۔
’’کیا تمہیں میری بات بری لگی؟‘‘
’’نہیں‘ میں سوچ رہا ہوں پاپا سے کیسے کہوں؟‘‘ بنٹی نے کہا تو یہ معرکہ سر ہونے پر وہ مطمئن سی ہوگئی تھی۔
ژ…ژ…ژ
خان جنید خود نہیں آئے تھے انہوں نے فون پر ہی ثریا سے سب معاملات طے کرکے کہا تھا کہ ٹھیک پندرہ دن بعد وہ نکاح کرکے صبا کو لے جائیں گے اور جب یہ طے تھا کہ صبا کی شادی ان ہی کے ساتھ ہونی ہے تو پھر ثریا کیا کہہ سکتی تھیں‘ جیسا کہ صبا نے کہا تھا کہ۔
’’دل خالی ہوجائے تو پھر خوشی اور ناخوشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘ اور یہ بات ثریا پر بھی صادق آگئی تھی۔ پھر بھی بیٹی کی شادی کے لیے اس کے کچھ ارمان تھے اور اب کوئی کمی بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے ارمان پورے کرسکتی تھیں۔ اس وقت اس نہج پر سوچتے ہوئے اس نے صبا کو پکارا۔
’’جی امی۔‘‘ صبا پہلی پکار پر بھاگی آئی تھی۔
’’بیٹا! تم اپنی شاپنگ کرلو۔‘‘ اس نے کہا تو صبا فوراً پوچھنے لگی۔ ’’آپ چلیں گی؟‘‘
’’میں… ہاں میں بھی چلوں گی۔‘‘ ثریا کی جھجک فطری تھی کیونکہ اس کے لیے تو باہر کی دنیا خواب وخیال ہی ہوگئی تھی۔
’’ٹھیک ہے میں چینج کرلوں پھر چلتے ہیں۔‘‘ صبا فوراً واپس پلٹی کہ کہیں ثریا کا ارادہ بدل نہ جائے اس لیے وہ دس منٹ میں تیار ہوکر آگئی۔
پھر اس نے مختلف شاپنگ مالز میں ثریا کو گھمایا اس کی پسند کی شاپنگ کی‘ مقصد اسے باہر کی دنیا سے متعارف کرانا تھا کیونکہ وہ برسوں سے چار دیواری میں محدود رہی تھیں اور ثریا واقعی سراسیمہ تھیں‘ دنیا کتنی بدل گئی تھی پھر شام ڈھل رہی تھی جب وہ دونوں شاپنگ مال سے نکلیں‘ صبا نے شاپنگ بیگز ڈرائیور کو تھما کر ثریا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا کہ ایک دم جاذب اس کے اور ثریا کے درمیان آگیا۔
’’پھپو۔‘‘ وہ اسے مخاطب کرنے کی ہمت نہیں کرسکا۔ ’’آپ کہاں چلی گئیں پھپو؟‘‘
’’بس بیٹا۔‘‘ ثریا سی قدر کہہ سکی۔
’’میں نے اتنے فون کیے‘ روز کال کرتا ہوں لیکن میرا فون کاٹ دیا جاتا ہے۔‘‘ وہ اسے سنا رہا تھا۔ ثریا نے اسے دیکھا وہ غالباً راستے کا خیال کرکے خود پرضبط کررہی تھی۔
’’اچھا بیٹا…‘‘ ثریا اس ڈر سے کہ کہیں اس کا ضبط جواب نہ دے جائے فوراً گاڑی میں بیٹھ گئیں تو اس نے بیٹھتے ہی ڈرائیور کو چلنے کا کہہ دیا۔ اپنے تئیں وہ جاذب کو پیچھے چھوڑ آئی تھی لیکن اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو وہ ثریا کے پیچھے اندر گھسا چلا آیا۔ ایسی دیدہ دلیری وہ راحیلہ خاتون کے سامنے دکھاتا تب تو بات بھی تھی۔ اب وہ بری طرح سلگ گئی۔ محض ثریا کی خاطر اسے نکل جانے کو نہیں کہا اور پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔
’’بیٹھو بیٹا۔‘‘ ثریا نے کہا تو وہ جو اس کو دیکھ رہا تھا‘ چونک کر بیٹھ گیا۔
’’میں تمہارے لیے چائے لاتی ہوں۔‘‘ ثریا جانے لگیں کہ جاذب نے اس کا ہاتھ پکڑلیا۔
’’نہیں پھپو‘ آپ میرے پاس بیٹھیں۔‘‘
’’گھر میں سب ٹھیک ہیں۔ بھیا بھابی؟‘‘ ثریا نے بیٹھ کر پوچھا تو وہ جزبز ہوکر بولا۔
’’کیوں پوچھ رہی ہیں آپ ان کا۔ امی ابو نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
’’چھوڑو بیٹا ان باتوں کو‘ مجھے کوئی ملال نہیں۔‘‘
’’مجھے تو ہے۔‘‘ وہ فوراً بولا۔ ’’میرا دل نہیں لگتا آپ کے بغیر۔ اپنا گھر اجنبی لگنے لگا ہے۔ آپ واپس آجائیں پھپو۔‘‘
’’نہیں بیٹا‘ اب یہ ممکن نہیں… صبا نے واپسی کے راستے بند کردیئے ہیں۔ وہ شادی کرکے اپنے گھر چلی جائے گی تب بھی مجھے تمہارے ہاں نہیں جانے دے گی۔‘‘ ثریا نے منع کرتے ہوئے کہا۔
’’صبا کی شادی۔‘‘ وہ ٹھٹکا۔
’’ہاں میں اس کی شادی کررہی ہوں اگلے ہفتے۔‘‘ وہ شاکڈ ہوکر ثریا کو دیکھے گیا جو پوری تفصیل بیان کررہی تھیں۔
ژ…ژ…ژ
پہلے بھی وہ اسی گھر میں رہتی تھی کوئی روک ٹوک کوئی پابندی نہیں تھی اور نہ اس کے اندر کسی تشنگی کا احساس یا کوئی کسک تھی او ر اب جبکہ وہ ہر شے کی بلا شرکت غیرے مالک بن گئی تھی تو بے پناہ تشنگی کا احساس ہونے لگا تھا گو کہ اب بھی اس کی روٹین وہی تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی لیکن خود اس میں وہ بات نہیں رہی تھی۔ پہلے وہ ہر کام شوق اور لگن سے کیا کرتی تھی اور اب جیسے فرض نبھانا ہو‘ وہ بھی ناگوار کی ساتھ۔ طبیعت میں بیزاری جو اس کے چہرے اور لہجے سے بھی چھلکنے لگی تھی۔
’’محسن دوا لے لیں۔‘‘ یہ بات کہتے ہوئے اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ جاتیں اور جب وہ دوا کی بجائے اس کا ہاتھ تھام لیتا تو وہ چڑ جاتی۔
’’چھوڑیں میرا ہاتھ مجھے اور بھی کام کرنے ہیں۔‘‘ پھر ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑا کر چلی جاتی اور محسن اسے محبت کا انداز سمجھتا۔
سارا دن تو ادھر ادھر کے کاموں میں الجھی رہتی‘ رات میں بھی جان بوجھ کر اپنے آپ کو کچن میں دیر تک مصروف رکھتی۔ وہ چاہتی تھی جب کمرے میں جائے تو محسن سوچکا ہو اور اکثر اس کا انتظار کرتے کرتے وہ سوچکا ہوتا اور کبھی نیند کو شکست دے کر اس کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ اس وقت بھی وہ اپنے طور پر اس کے سو جانے کا یقین کرکے کمرے میں آئی تھی لیکن وہ دروازے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ اسے دیکھا تو ہلکے سے مسکرایا۔ کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ اس کے برعکس جب وہ اپنی جگہ آکر بیٹھی تو کہنے لگا۔
’’امی سے کہو کسی اور ملازمہ کا انتظام کردیں بلکہ میں خود ہی کہوں گا۔‘‘
’’نہیں‘ آپ ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔‘‘ اس نے فوراً منع کیا۔ ’’گھر کا کام کوئی اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔‘‘
’’پھر بھی تم سارا وقت مصروف تو رہتی ہو۔ میرے پاس دو گھڑی بیٹھنے کی بھی تمہیں فرصت نہیں ہوتی۔‘‘ کسی بھی طرح سہی شکوہ لبوں پر آہی گیا تھا۔
’’آپ کے پاس ہی تو بیٹھی ہوں۔ ‘‘وہ اس کا دل رکھنے کی خاطر مسکرائی تھی۔
’’ہاں اس وقت جب میں تمہاری راہ تکتے تکتے تھک گیا ہوں۔ میرے اعصاب جواب دے چکے ہیں۔ میری آنکھیں دیکھو نیند سے بند ہوئی جارہی ہیں تمہیں ڈھنگ سے دیکھ بھی نہیں پارہا۔‘‘
’’کیا کریں گے مجھے دیکھ کر جیسی تھی ویسی ہی ہوں‘ کوئی نئی بات نہیں۔‘‘
’’نشاء…!‘‘ محسن نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما۔ ’’تمہیں دیکھ کر تو میں جی اٹھتا ہوں۔ تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ تم میں کوئی نئی بات نہیں۔ اپنے آپ کو میری نظر سے دیکھو۔‘‘
’’اچھا کبھی فرصت ملی تو دیکھوں گی۔ اب پلیز آپ سو جائیں ورنہ آپ کی طبیعت…‘‘ وہ اکتا کر بول رہی تھی کہ اس نے ٹوک دیا۔
’’اوں ہوں۔ ہمیشہ یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش مت کیا کرو کہ میری طبیعت خراب ہوجائے گی۔ ذرا سی باتیں کرلینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بلکہ تمہارے ساتھ باتیں کرتے ہوئے تو میں اپنے آپ کو بہت بہتر محسوس کرتا ہوں۔ کیا تمہیں میری باتیں یا میرا بولنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ آخر میں اس کی طرف دیکھ کر پوچھا تو وہ سنبھل کر بولی۔
’’ایسی بات نہیں ہے محسن‘ میں تو صرف اس خیال سے کہتی ہوں کہ زیادہ بولنے سے آپ تھک جاتے ہیں۔ آپ کی سانس…‘‘
’’پھر تم ہی کچھ بولا کرو‘ خاموشی سے مجھے وحشت ہونے لگتی ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔
’’اچھا کل سے میں بولوں گی۔‘‘
’’ابھی کیوں نہیں۔‘‘
’’ابھی مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ وہ اپنے پیچھے تکیہ سیدھا کرکے لیٹ گئی۔
’’چلو تم سو جائو‘ ویسے بھی بہت تھک گئی ہو۔‘‘
’’اور آپ؟‘‘
’’میں ابھی نہیں سوئوں گا۔ احسن بھائی نے آج فون کرنے کا کہا تھا۔ میں ان ہی کے فون کا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ محسن نے کہا تو اس نے ہونٹ بھینچ کر آنکھیں بند کرلیں۔ وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی لیکن پھر رہ نہیں سکی۔
’’اتنی رات ہوگئی ہے میر اخیال ہے وہ بھول گئے ہوں گے۔‘‘
’’رات تو یہاں ہے وہاں تو نہیں ہوگی۔ یقینا کسی کام میں مصروف ہوں گے جیسے ہی فارغ ہوں گے ضرور فون کریں گے۔ کیونکہ وہ کوئی بات کہہ کر بھولتے نہیں ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ تلخی سے ہنسی۔ ’’اتنے یقین سے کیسے کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’وہ میرے بھائی ہیں‘ میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم بھی تو ان کی عادت سے واقف ہو۔‘‘ وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی اور اچھا ہوا‘ اسی وقت موبائل کی ٹون بجنے لگی تھی۔ محسن نے فوراً موبائل فون اٹھایا اور اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں لیکن سماعتوں کے در کیسے بند کرتی‘ محسن بہت لاڈ سے بات کررہا تھا اور بار بار انہیں جلدی واپس آنے کا کہہ رہا تھا۔ اسے الجھن ہونے لگی تو آنکھیں کھول دیں۔ پھر شاید لائن کٹ گئی تھی‘ محسن نے موبائل رکھ کر اسے دیکھا۔
’’تمہیں نیند آرہی تھی‘ ہم بھائیوں نے تمہیں ڈسٹرب کردیا۔‘‘ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر بولا تو اس نے آہستگی سے پلکیں موند لیں۔
’’کبھی کبھی مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ کاش میں اس قابل ہوسکوں کہ اگر بڑی نہیں تو چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تمہارے دامن میں ڈال سکوں۔‘‘ وہ ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر کئی رنگ ایک ساتھ اتر آئے تھے۔ اپنی بے بسی کا دکھ‘ حسرت‘ لاچاری اور جانے کیا کچھ… اس کا دل بیٹھنے لگا۔ وہ اگر اس سے محبت نہیں کرسکتی تھی تو نفرت بھی نہیں تھی اور پھر اس کا دل اتنا سخت ہرگز نہیں تھا کہ کوئی مجبور ولاچار اس کے سامنے آزردہ ہو اور دل تڑپے نا اور محسن کوئی نہیں اس کا شوہر تھا اس نے تڑپ کر اپنے بالوں میں حرکت کرتا اس کا ہاتھ تھام لیا اور ہونٹوں سے لگا کر بولی۔
’’میرے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ مجھے آپ کا ساتھ میسر ہے‘ اس سے زیادہ کی مجھے آرزو نہیں۔‘‘
’’پھر بھی نشاء میر ادل چاہتا ہے۔‘‘
’’کہ آپ ہر وہ کام کریں جس سے آپ کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تو اپنی بات یاد کرکے وہ ہنس پڑا۔
ژ…ژ…ژ
اس کا بلاوجہ خود کو غیر ضروری کاموں میں مصروف رکھنا اور محسن سے کترانا ساجدہ بیگم کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھا۔ پھر بھی فوراً انہوں نے اسے نہیں ٹوکا بلکہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ خود ہی ٹھیک ہوجائے گی لیکن جب کافی دن گزر گئے اس کے رویے میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی تب اسے پاس بٹھا کر کہنے لگیں۔
’’بیٹا اگر تمہیں ہم سے کوئی شکایت ہے تو مجھ سے کہو۔‘‘
’’کیا کہوں؟‘‘ وہ الٹا انہی سے پوچھنے لگی۔
’’جو بھی شکایت ہے۔‘‘
’’کوئی شکایت نہیں۔‘‘ وہ بیزار لہجے میں اکتا کر بولی جیسے بات کو یہیں ختم کردینا چاہتی ہو اور اٹھ کر جانا بھی چاہتی تھی کہ ساجدہ بیگم نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’پھر تمہیں کیا ہوا ہے؟ چلو ہماری بات چھوڑو خود اپنی حالت دیکھی ہے تم نے۔ تین دن سے یہی کپڑے پہنے ہوئے ہو۔ بالوں میں کنگھی تک نہیں کی‘ آخر کیوں؟‘‘
’’کس کے لیے کروں یہ سب؟‘‘ وہ اچانک سارے لحاظ بھول گئی۔
’’اپنے لیے کرو‘ ماشاء اللہ شادی شدہ ہو‘ تمہارا شوہر ہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ استہزائیہ ہنسی۔ ’’تائی امی جب میرا شوہر اپنی بیماریوں سے نکل کر خود اپنے ہاتھوں چار پیسے کما کر میرے لیے کچھ کرے گا تب میں بھی اس کے لیے ہار سنگھار ضرور کروں گی۔‘‘
’’نشاء۔‘‘ ساجدہ بیگم یک دم سناٹے میں آگئیں۔
’’میں نے کوئی غلط بات نہیں کی تائی امی۔‘‘ وہ ذرا بھی اپنی بات پر نادم نہیں تھی۔
’’ٹھیک ہے تم نے غلط بات نہیں کی لیکن تم اچھی طرح جانتی ہو کہ محسن محنت مشقت کے قابل نہیں۔‘‘
’’جانتی ہوں لیکن آپ نے جانتے بوجھتے بھی انجان بن کر اس کے سر پر بیوی کا بوجھ لاد دیا۔‘‘ وہ دوبدو سوال جواب کررہی تھی۔
’’بوجھ کیوں بیٹا‘ کیا تمہارے تایا ابو پورا نہیں کرتے۔‘‘ ساجدہ بیگم حتی الامکان نرمی سے بات کررہی تھیں شاید یہ ان کی مجبوری تھی۔
’’کب تک‘ کب تک تائی امی ہر شخص کو ہمیشہ نہیں رہنا۔ کبھی آپ نے سوچا۔ تایا ابو کے بعد ہمارا کیا ہوگا؟‘‘ ساجدہ بیگم کے دل پر گھونسہ پڑا تھا۔
’’خدا سے خیر مانگو بیٹی۔‘‘
’’خیر ہی مانگتی تھی اور دن رات جن کی خیر مانگتی تھی انہوں نے ہی…‘‘ اس کا گلا رندھ گیا۔ آواز ساتھ چھوڑ گئی‘ آنکھیں جل تھل ہوئیں تو وہ ان کے پاس سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آتے ہی بیڈ پر اوندھے منہ گر کر سسکنے لگی۔ محسن نے دیکھا تو فوراً اس کے پاس چلا آیا۔
’’کیا بات ہے نشاء ٹھیک تو ہو تم۔‘‘
’’ہاں میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ پھٹ پڑی۔ ’’مجھے کیا ہونا ہے‘ تم میری فکر میں مزید دبلے مت ہو۔‘‘
’’نشاء…!‘‘ وہ بے حد پریشان ہوا تھا۔ آہستگی سے اس کا کندھا چھو کر پکارا۔
’’مت چھیڑو مجھے۔ میں کچھ نہیں سنوں گی‘ کچھ نہیں کہوں گی‘ بس مجھے تنہا چھوڑ دو۔‘‘ وہ جھٹکے سے اٹھی اور اسے دھکیل کر کونے میں رکھی کرسی پر جا بیٹھی تو وہ اس کے لہجے اور انداز پر الجھتا ہوا اپنی جگہ پر لیٹ گیا کیونکہ اب اس میں کھڑے رہنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ دو تین بار بے چینی سے کروٹ بدلی پھر اوندھا ہوگیا۔ اس کے سینے میں سانس اٹک رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے منہ سے مخصوص آواز نکلنے لگی۔ پھر وہ اٹھ بیٹھا اور دونوں بازو گھٹنوں پر رکھ کر ان پر پیشانی ٹیک لی۔
وہ بہت خاموشی سے اس کی بگڑتی حالت دیکھ رہی تھی اور اس کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہمیشہ تو ایسے وقت میں وہ اس کے لیے ایک پیر پر کھڑی رہتی تھی‘ کبھی پیٹھ سہلاتی‘ کبھی پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگاتی‘ کبھی دوا اور کبھی چائے کا پوچھتی لیکن اس وقت وہ سنگ دلی کی انتہا کر گئی۔
اصل میں وہ بھول گئی تھی کہ وہ اس کا شوہر ہے۔ یہ بھی بھول گئی کہ کبھی احسن نے اس کا خیال رکھنے کا کہا ہی نہیں وعدہ بھی لیا تھا۔ بس اتنا یاد رہا کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ظلم کرنے والا کوئی ایک نہیں سب ہیں اور سب اس کے اپنے۔
////
اس نے اپنی کلائیوں میں پڑی درجن بھر سونے کی چوڑیوں کو دیکھا پھر ذرا سا سر اونچا کرکے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ ہر شے نہایت قیمتی اور خوب صورت تھی اور سچ تو یہ ہے کہ خود اس نے بھی کبھی تصور نہیں کیا تھا لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو لیکن پھر خود ہی ہنس پڑی عجیب سی ہنسی…کہ یہ خواب نہیں شاید اس کے خوابوں کی قیمت تھی۔ اس کے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ فوراً سنبھل کر بیٹھ گئی۔
’’سوری ہنی میں ذرا لیٹ ہوگیا۔‘‘ خان جنید تیز قدموں سے اندر داخل ہوئے اور آتے ہی یوں بولے جیسے کسی میٹنگ میں پہنچنے میں دیر ہوگئی ہو۔
’’کم آن ڈیئر‘ تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہو‘ جائو چینج کرکے آئو۔‘‘ ان کے لہجے میں بے زاری محسوس کرکے وہ انہیں دیکھنے لگی۔ یہ صحیح ہے ان کی صحت قابل رشک تھی اور پیسے کی فراوانی نے چہرے پر گزرتے ماہ وسال کی لکیریں بھی نہیں کھینچی تھیں لیکن جذبات میں وہ لہریں نہیں تھیں جو
ان چھوئی کلی کو دیکھ کر سرکشی پرآمادہ ہوجاتی ہیں۔ اس کے برعکس ایسا دریا جو سارے طوفانوں سے گزر کر اب اس مقام پر ٹھہر گیا تھا‘ پرسکون ہوگیا تھا یا پھر بوڑھا اور کمزور کہ طوفانوں سے لڑنے کا حوصلہ تو تھا لیکن وہ جوش نہیں جو ایام جوانی میں اکساتا ہے۔
’’لیزی گرل‘ اس طرح کیا دیکھ رہی ہو۔‘‘ اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا تو وہ چونکی۔ سر جھٹک کر بیڈ سے اتری اور سیدھی ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔ ذہن اچانک یوں مائوف ہوگیا تھا کہ وہ کچھ سوچ ہی نہ سکی تھی۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close