Aanchal Dec 15

موم کی محبت(قسط نمبر17)

راحت وفا

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
دروازہ کھولنے پر عارض کو سامنے دیکھ کر زیبا بے ہوش ہوجاتی ہے صفدر عارض کے ساتھ مل کر زیبا کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ زیبا کے ہوش میں آتے ہی عارض وہاں سے چلا جاتا ہے جبکہ صفدر زیبا کی بے ہوشی کو ایک سازش قرار دے کر اسے قصور وار ٹھہراتا ہے۔ بوبی ایک بار پھر شرمین کو منانے اس کے گھر آتا ہے اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے آفس جوائن کرنے کے لیے منت کرتا ہے جس پر شرمین راضی نہیں ہوتی۔ حاجرہ بیگم (زیبا کی ماں) ننھی سے زیبا کو سمجھانے کے ساتھ دوسری شادی کا کہتی ہیں تو ننھی انکار کردیتی ہے لیکن حاجرہ بیگم اس کا انکار خاطر میں نہیں لاتی اور اسے سوچنے کا کہہ کر زیبا کی فکر میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ شرمین اذان کے ساتھ خوش رہتی اسے اپنے لیے ایک اچھی مصروفیت اذان کی صورت میں مل جاتی ہے زینت آپا شرمین کو بوبی کے کینیڈا جانے کا بتاتی ہیں شرمین زینت آپا کی تنہائی کا سوچ کر فکر مند ہوجاتی ہے۔ صفدر زیبا کو گھر سے نکالنا چاہتا ہے لیکن جہاں آرا بیگم بیچ میں آجاتی ہیں جس پر صفدر زیبا پر الزام رکھ کر جہاں آرا بیگم کو زیبا کا طلاق لینے کا مطالبہ بتا کر گھر سے نکل جاتا ہے جہاں آرا بیگم زیبا کو ہی قصور وار ٹھہراتی ہیں صفدر کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس طرح عارض سے زیبا کی بے گناہی کی بات کرے جبکہ دوسری طرف عارض زیبا کو پہچاننے سے انکاری ہے۔ آغاجی (عارض کے بابا) عارض سے ناراض ہوکر گھر سے نکلتے ہیں اور راستے میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے۔ عارض صفدر کے ساتھ اسپتال پہنچتا ہے عارض مسلسل خود کو الزام دے رہا ہوتا ہے اور خود کو شرمین کا قصوروار ٹھہراتا ہے جبکہ صفدر اسے تسلیاں دیتا ہے۔ سنجنا نے کینیڈا میں عارض کے فلیٹ پر غیر قانونی کام شروع کر رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے منیجر معید صاحب مشکل میں آگئے تھے مقامی پولیس معید صاحب کو حراست میں لے لیتی ہے۔ عارض کو یہ سب معید صاحب کی مسز فون پر بتا کر ششدر کردیتی ہیں۔ شرمین آغا صاحب سے ملنے اسپتال آتی ہے عارض اس سے اپنے رویے کی معافی مانگ کر رشتہ دوبارہ سے جوڑنا چاہتا ہے لیکن وہ انکار کردیتی ہے جس پر صفدر اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تب شرمین دوبارہ اسپتال آنے سے بھی معذرت کرلیتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ز…خ …ز
فون آف کرکے وہ ساکت نظروں سے صفدر کو تکنے لگا۔ صفدر کی آنکھوں میں استفہام‘ تجسس، استفسار اور خدشات تھے آغاجی کے کمرے کے باہر دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
’’یقیناً کوئی بری خبر ہے۔‘‘ صفدر نے سکوت توڑا۔
’’معید صاحب برین ہیمبرج کی وجہ سے مرگئے۔‘‘ عارض نے سخت مغموم لہجے میں بتایا تو صفدر کی دبی دبی چیخ نکل گئی۔
’’کیا…؟‘‘
’’ہاں ان کی بیوی دہاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔‘‘
’’لاک اپ میں۔‘‘ صفدر بڑبڑایا۔
’’یقیناً شاید ٹارچر برداشت نہ کرسکے ہوں۔‘‘
’’اب… اب کیا کریں۔‘‘
’’میرا ذہن مائوف ہوگیا ہے اس سچویشن کا کوئی حل نہیں ہے آغاجی چلے جاتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔‘‘ عارض شدید بے بسی کے عالم میں بولا۔
’’لیکن اب تو ایسا ہوگیا ہے آگے کی سوچو۔‘‘
’’بہت برا ہوا، معید صاحب کی فیملی کیا کرے گی۔‘‘
’’یار یہ تو پہلے سوچتے، تمہاری بے وقوفی سے معید صاحب نے یہ سزا بھگتی۔‘‘
’’ٹھیک کہہ رہے ہو، جی چاہتا ہے وہ منحوس سنجنا مجھے کہیں مل جائے میں اس کو گولی مار دوں۔‘‘
’’چھوڑو بے کار باتیں کسی طرح سے ان کی مدد ہوسکتی ہے تو سوچو۔‘‘
’’میں کچھ نہیں سمجھ پارہا۔‘‘
’’حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں ریفرنس تو مل جائے گا، مگر سچویشن خراب میں کوئی بھی انوالو ہوا تو وہ بھی پولیس کی تفتیش میں شامل ہوجائے گا۔‘‘
’’نہیں، ورنہ وہاں کانٹیٹس ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی ہے آغاجی کو بالکل کچھ پتا نہ چلے۔‘‘
’’کبھی بھی پتا نہ چلے۔‘‘ عارض نے خوف زدہ ہوکر ہاں میں ہاں ملائی۔
’’میرا ضمیر ملامت کررہا ہے۔ جانے معید صاحب کس تکلیف سے گزرے ہوں گے؟‘‘
’’یہ تو ہے، ضمیر کی آواز دیر سے سنائی دیتی ہے۔‘‘ صفدر نے طنز کیا۔
’’اللہ گواہ ہے میرا سنجنا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘
’’بن گیا نا آغاجی منع کرتے رہے اور اب بھی خطرہ تو سر پر ہے۔‘‘
’’مجھے شرمین کی آہ لگی ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، ڈاکٹر اور سسٹر آغاجی کے کمرے میں جانے کے لیے آگئے۔
’’آپ باہر ہیں، خیریت۔‘‘ ڈاکٹر نے ایسے ہی پوچھ لیا۔
’’آغاجی سو رہے تھے تو ہم باہر آگئے۔‘‘ صفدر نے بتایا۔
’’اوکے۔‘‘ وہ اندر چلے گئے۔
’’اب ایسا کرو کہ آغاجی کا فون اپنے پاس رکھو، اب فون آئے تو تسلی سے سمجھا دینا۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔‘‘
’’تو پھر فون مستقل آف کردو۔‘‘
’’میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔‘‘
’’میں کچھ دیر کے لیے گھر جارہا ہوں، پھر آتا ہوں۔‘‘ صفدر نے رسٹ واچ پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔
’’یار بھابی اور امی کو کہنا دعا کریں۔‘‘ عارض نے ایک دم بہت اپنائیت سے کہا تو وہ بری طرح چونکا۔
’’بھا… بی…!‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’ہاں، پلیز دعا کا کہنا۔‘‘
’’عارض دعائیں تو میری دہلیز سے باہر رہتی ہیں میری زندگی میں ایسا کوئی کردار نہیں۔‘‘ صفدر نے بحالت مجبوری بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’لمبی کہانی ہے تم سے شیئر کرنی ہے مگر یہ مناسب وقت نہیں، اللہ حافظ۔‘‘ صفدر نے سگریٹ نکالا اور ہونٹوں میں دبا کر بنا جلائے باہر نکل آیا۔ باہر پارکنگ کے قریب پہنچ کر سگریٹ سلگائی اور گاڑی سے ٹیک لگا کر دھواں فضا میں چھوڑنے لگا۔ اندر اور باہر دھواں ہی دھواں تھا۔ روز زندگی کے اس اہم مسئلے پر کوئی پیش رفت کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر حالات کچھ کے کچھ ہوجاتے۔ اب آغاجی کی وجہ سے عارض شدید پریشانی میں مبتلا تھا اور پھر معید صاحب کی وفات نے تو اسے مزید ہلا کر رکھ دیا تھا ایسے میں اس سے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کی جاسکتی تھی مناسب وقت کی تلاش میں اتنے دن گزر گئے تھے سگریٹ کا آخری کش لے کر آخری حصہ زمین پر جوتے سے مسل کر گاڑی اسٹارٹ کی۔
ز…خ …ز
ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں انٹرویو دے کر گھر پہنچنی تو قدموں پر جم سی گئی، جو وکیل صاحب صبیح احمد کے دو ڈبے بند رکھوا گئے تھے جنہیں کسی کی مدد کے بغیر اندر لے جانا ممکن نہیں تھا ان میں سے ایک غائب تھا۔ پریشانی کے عالم میں لاک کھولا اور اندر آگئی۔ انٹرویو کی وجہ سے اذان کو اسکول سے آف کرایا تھا وہ گھر پر موجود تھا۔ اندر کمرے میں نا صرف وہ موجود تھا بلکہ سامان کا ایک ڈبہ بھی کمرے میں ہی موجود تھا کھلا ہوا اس کا سامان کچھ باہر تھا اور کچھ اندر، وہ سوچ میں گم میز پر سر رکھے بیٹھا تھا۔
’’اذان… اذان۔‘‘ وہ سب بھول کر اس کی طرف بڑھی۔
’’ہنہ۔‘‘ اس نے سر اٹھائے بغیر ہنہہ کہا۔
’’کیا ہوا؟ یہ سب کیا ہے یہ اتنا بڑا ڈبہ اندر کیسے آیا اور آپ نے کیوں کھولا؟‘‘ اس نے کئی سوال ایک ساتھ کر ڈالے۔
’’ماسی عنایت کے ساتھ مل کے اندر لایا ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں اور آپ کو کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ ڈبے سے باہر صبیح احمد کے سگار کے کئی ڈبے، پرفیومز، ٹافیاں، شرٹس پھیلی تھیں اور ڈبے کے اندر بھی ڈھیر ساری چیزیں تھیں اس کی اپنی حالت متغیر سی ہونے لگی۔ وہ سب چیزیں صبیح احمد کی یاد دلانے کو کافی تھیں۔ لزرتے ہاتھوں سے فرش پر پھیلی چیزیں اٹھائیں اور ڈبے کے اندر رکھتے ہوئے دو تین فوٹو نے اسے جھٹکا لگایا ایک تصویر تابوت کی تھی۔ ایک قبر کی اور ایک صبیح احمد کی پرانی زندگی کی تصویر تھی۔ بھیجنے والے نے تصویر کی پشت پر مرنے کا وقت، تدفین کا وقت بھی لکھ دیا تھا بے اختیار ہی دل الم سے بھر آیا۔ آنکھیں بھیگ گئیں، پھر ایک دم اسے احساس ہوا کہ اذان کن اکھیوں سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے تو جلدی سے سنبھل گئی۔
’’اذان، بیٹا آپ نے یہ نہیں کھولنا تھا چلو اب اٹھو ہاتھ دھو کر کچن میں آجائو ہم کھانا کھاتے ہیں، بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ مگر اذان ٹس سے مس نہ ہوا۔
’’اذان بیٹا جلدی آئو۔‘‘ اس نے سب سامان ڈبے میں ڈالا اور ڈبہ بند کر کے خوش گوار لہجے میں کہا مگر وہ وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
’’اذان… اذان کہاں جارہے ہو؟‘‘ وہ پیچھے کہتی ہوئی لپکی، وہ برآمدے میں پڑی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ڈیڈی اب نہیں آئیں گے؟‘‘ وہ سر جھکائے جھکائے بولا۔ اس کا کلیجہ شک ہوگیا۔
’’ک… کس نے کہا؟‘‘
’’سارا سامان بھیج دیا اور وہ پکس کیوں بھیجیں۔‘‘ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ قدموں پر کھڑی نہ رہ سکی۔ عجیب سوال تھا جواب دینا مشکل ترین۔ دل افسردہ سے گویا اشکوں کا سیل رواں تھا جسے قابو کرنا محال تھا۔ بنا جواب دیے کمرے میں آگئی لیکن وہ جواب چاہتا تھا پلٹ کر آیا جھٹکے سے بیڈ کے دائیں طرف والی ڈراز کھولی اس میں سے مردانہ والٹ نکال کر اس کی بھیگی آنکھوں کے سامنے کردیا۔
’’یہ ڈیڈی کا والٹ ہے اس میں آپ کی فوٹو ہے۔‘‘ اس نے کہا تو شرمین نے تیزی سے اس کے ہاتھ سے بٹوہ لے لیا۔ وہ سمجھدار ہوگیا تھا صوفے پر جا کر بیٹھ گیا اس نے بٹوہ بنا کھولے اپنی طرف والی سائیڈ ٹیبل کی ڈراز میں رکھتے ہوئے سنبھل کر کہا۔
’’اذان، آپ نے مجھے کس کام میں لگا دیا، بہت بھوک لگی ہے۔‘‘
’’آپ کھانا کھالیں۔‘‘
’’اور آپ وقت دیکھیں ذرا۔‘‘
’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘
’’یہ سامان واپس بھیج دیں۔‘‘ اس کی سوئی ابھی تک سامان پر اٹکی تھی۔
’’یہ سامان انہوں نے اپارٹمنٹ خالی کرنے کی وجہ سے بھیجا ہے۔‘‘
’’واپس بھیج دیں۔‘‘ وہ اڑ گیا۔
’’اوکے، میں ان سے بات کر کے بھیج دوں گی، چلو اٹھو، ماما کی بھوک کا خیال کرو۔‘‘ اس نے اسے بہلایا وہ مطمئن نہیں ہوا، البتہ اس کے ساتھ کچن کی طرف چلا آیا۔
ز…خ …ز
معمول کے مطابق وہ کرایہ داروں کی طرف کھیلنے نہیں گیا۔ کروٹ لے کر چپ چاپ سو گیا شرمین اس کے احساسات سمجھتی تھی وہ جان چکی تھی کہ اسے سامان دیکھ کر دکھ ہوا ہے۔ وہ صبیح احمد کی آمد چاہتا تھا مگر ان کے نہ آنے کا افسوس وہ اپنے رویے سے ظاہر کررہا تھا۔ شرمین کو اس معصوم کے جذبات کی قدر تھی مگر وہ اسے کیا بتاتی کہ اس کے ڈیڈی اب دنیا میں نہیں ہیں ان کا سامان ان کے کسی دوست نے بھیجا ہے۔ وہ اس معصوم کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں کوئی سامان نہیں ہوتا استعمال کرنے والے کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے یہ حصہ تب الگ ہوتا ہے جب استعمال کرنے والا جہاں سے رخصت ہوجائے۔ مگر یہ سوچ کر ہی تاسف بھری سرد آہ لبوں سے نکلی اور پھر فضا میں تحلیل ہوگئی۔ دل نے مجبور کیا تو دھیرے سے ڈراز کھول کے صبیح احمد کا بٹوہ نکال لیا ناک کے قریب لے جا کر ایسا لگا جیسے وہ اپنے پسندیدہ پرفیوم میں اس کے قریب ہوں، بٹوہ مہک رہا تھا۔ بڑی دیر وہ اس خوش بو کو محسوس کرکے غمگین ہوتی رہی۔ پھر اسے کھولا اس کے ہر پرت میں، ہر خانے میں صبیح احمد موجود تھے۔ مگر آخری حصے میں ایک تہہ شدہ صفحہ تھا اور وہیں سے اس کی پاسپورٹ سائز تصویر نکلی اپنی تصویر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
’’صبیح میری فوٹو ابھی تک…!‘‘ لب ہلے اور پھر خاموش ہوگئے اور پھر اس نے پھرتی سے وہ صفحہ کھولا ان کی خوب صورت ہینڈ رائٹنگ سامنے تھی۔
بہت آسان ہے کہنا
محبت ہم بھی کرتے ہیں
مگر مطلب محبت کا
سمجھ لینا، نہیں آساں
محبت کھو کے پا لینا
یہ ان لوگوں کے قصے ہیں
محبت کے جو مجرم ہیں
جو مل جانے پر ہنستے ہیں
بچھڑ جانے پر روتے ہیں
سنو…!
محبت کرنے والے تو
بہت خاموش ہوتے ہیں
جو قربت میں بھی جیتے ہیں
نہ وہ فریاد کرتے ہیں
نہ وہ اشکوں کو پیتے ہیں
محبت کے کسی بھی لفظ کا
چرچا نہیں کرتے
وہ مر کے بھی اپنی چاہت کو
کبھی رسوا نہیں کرتے
بہت آسان ہے کہنا
محبت ہم بھی کرتے ہیں
محبت ہم بھی کرتے ہیں
’’اخاہ… صبیح احمد کس درد کو جگا دیا آپ نے یہ سب کاش ہماری زندگی کی بنیاد بنتا، کاش، سب خواب پورے ہوتے، آپ نے مجھے ایک نئی کہانی میں الجھا دیا ہے انا کے خول کو توڑ کر اپنے گناہ کی تلافی کرلیتے تو میں تنہا نہ ہوتی اور آزمانے کو یہ معصوم نہ حل ہونے والا سوال مجھے سونپ گئے محبت کی قدر کیا ہوتی ہے محبت کے سوا، یہ آپ کی عنایتیں کہاں سنبھال رکھوں؟‘‘ اس نے بڑبڑاتے ہوئے کاغذ تہہ کرکے واپس تصویر سمیت بٹوے میں رکھا اور بٹوہ وہیں رکھ دیا۔ تکیے پر سر رکھا تو آنسو آنکھوں سے نکل کر تکیے میں دائیں بائیں جذب ہوگئے کسی اپنے کے مرنے جیسا دکھ اس کے اندر طوفان مچا رہا تھا۔
ز…خ …ز
آغاجی کی طبیعت خاصی سنبھل گئی تھی۔
مگر عارض صدیوں کا بیمار دکھائی دے رہا تھا آغاجی کی پٹی سے لگا مسلسل اپنے ضمیر کو ملامت کررہا تھا۔ آغاجی نے ہولے سے آنکھیں کھولیں تو وہ خوش ہوگیا وہ ناخوش سے لگے۔
’’فون… فون میرا!‘‘ آغاجی فقط اتنا بولے تو عارض کی روح فنا ہوگئی۔ فون مانگنے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ وہ یقینا معید صاحب کا پوچھنا چاہتے تھے۔
’’وہ بابا، میں گھر رکھ آیا تھا ڈاکٹر نے آف کرا دیا تھا اور ہم ان شاء اللہ جلد گھر چلے جائیں گے۔‘‘ اس نے بھرپور اداکاری کرکے سمجھایا۔
’’جائو، لے کر آئو۔‘‘ بہت دھیرے سے انہوں نے حکم دیا۔
’’آپ کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔‘‘
’’ڈرائیور، ڈرائیور کو بھیجو۔‘‘ اب وہ اور زیادہ بہتر انداز میں بولے۔
’’آپ کو کس سے بات بات کرنی ہے۔‘‘
’’معید… معید صاحب۔‘‘ وہ رکے۔
’’وہ ٹھیک ہیں۔‘‘ اس نے ان کی گردن کے نیچے تکیہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
’’کیسے۔‘‘
’’وہ، فون پر پتا چلا تھا۔‘‘
’’کس نے بتایا؟‘‘ انہیں جیسے کرید لگ گئی۔
’’بابا آپ کو زیادہ بولنے سے منع کیا ہے۔‘‘
’’میرا… فو… فون لائو۔‘‘ وہ بہت خفگی سے بولے۔
’’ٹھیک ہے ابھی صفدر آتا ہے تو میں جاتا ہوں۔‘‘
’’نہیں، ابھی جائو، تمہیں کیا پتا کہ قید کیا ہوتی ہے، وہ ہمارا پرانا وفادار ملازم ہے۔ تم نے اسے کہاں پہنچا دیا۔‘‘ وہ جذباتی ہوگئے۔
’’بابا پلیز آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘
’’ہوجانے دو، مجھے اس سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’اوکے میں ابھی جاتا ہوں، خود ان کی خیریت پوچھتا ہوں۔‘‘
’’ارے، آپ آپ کیا پوچھو گے؟ منع کرنے کے باوجود اس لڑکی کو نہیں چھوڑا۔‘‘ وہ دوسری طرف گردن گھماتے ہوئے بولے۔
’’بابا، اللہ گواہ ہے میں نے کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔‘‘ وہ بہت شرمندہ ہوکر بولا۔
’’جائو، یہاں سے پھر کسی کی بددعا لگی ہے۔‘‘
’’شاید یہ سچ ہو۔‘‘
’’شاید نہیں یقینا۔‘‘ وہ گردن موڑے موڑے بولے۔
’’بابا میرے اندر بھی دل ہے مجھے افسوس ہے۔‘‘
’’جائو یار افسوس سے کام نہیں چلتا، میری معید صاحب سے بات کرائو۔‘‘ انہوں نے سخت بے زاری سے کہا وہ بہت پریشان ہوکر باہر آگیا۔ معید صاحب تو دنیا میں نہیں رہے تھے وہ کس سے بات کراتا یہ صدمہ آغاجی کے لیے ناقابل برداشت ہوگا، وہ شاید خود زندہ نہ رہ سکیں۔ کیونکہ جس طرح انہوں نے جانے کا فیصلہ کیا تھا اور ہوش میں آنے پر بار بار ان کا ہی تذکرہ کررہے تھے تو وہ کیسے یہ جھیل سکتے تھے کہ معید صاحب برین ہیمبرج کے باعث جیل میں ہی فوت ہوگئے۔
’’عارض آخر یہ سچائی، یہ حقیقت کیسے اور کب تک چھپائو گے؟‘‘ وہ سخت اضطرابی کیفیت میں رو دینے کے قریب تھا کہ حیرت کا سفر شروع ہوگیا شرمین خوب صورت پھولوں کا گلدستہ تھامے آغاجی کی خیریت معلوم کرنے آئی اسے کمرے کے باہر دیکھ کر رکی نہیں، سیدھا کمرے میں چلی گئی وہ شرمین کو دیکھ کر مزید بے کل ہوگیا۔
ز…خ …ز
شرمین کو دیکھ کر آغاجی کے تن مردہ میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔ اسے خلاف توقع سامنے پا کر وہ شدت جذبات سے رو دیے۔ شرمین نے ان کی آنکھیں صاف کیں۔
’’آغاجی، پلیز آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘
’’یہ خوشی کے آنسو ہیں اور ندامت سے بھرے ہیں۔‘‘ انہوں نے رقت آمیز لہجے میں جواب دیا۔
’’آپ کو نادم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے پیار سے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
’’مجھے تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔‘‘
’’صفدر بھائی نے بتایا ہوگا میں پہلے بھی آئی تھی آج بھی ان سے فون پر پوچھ کر آئی ہوں۔‘‘
’’صفدر نے بہت خدمت کی ہے اللہ خوش رکھے اسے میرا بہت دل چاہ رہا تھا تم سے ملنے کو، مگر عارض نے کسی قابل نہیں چھوڑا۔‘‘
’’چھوڑیں اس ذکر کو۔‘‘
’’شرمین عارض بڑی پکڑ میں آگیا ہے بہت شرمندہ ہے، پریشان ہے۔‘‘
’’آغاجی، آپ ایسی پریشانیاں ابھی قریب نہیں لائیں، آپ کو آرام کرنا چاہیے۔‘‘ وہ جان بوجھ کر ان کی بات ٹال گئی۔
’’یہ میری پریشانی ہی تو میری بیماری ہے عارض میری اکلوتی اولاد ہے مگر وہ اتنا بدل چکا ہے حالت دیکھی ہے تم نے برسوں کا بیمار لگنے لگا ہے۔‘‘
’’آغاجی مجھے عارض کے ذکر سے کوئی سروکار نہیں۔‘‘
’’شرمین وہ لڑکی فراڈ تھی اس کی حقیقت کھل چکی ہے۔‘‘ آغاجی نے یہ سوچ کر کہ شرمین کو سنجنا کے بارے میں علم ہوگا وہ جانتی ہوگی کہ اس کی خاطر عارض نے اسے ٹھکرایا ہے بات کی تو شرمین نے حیرت سے دیکھا۔
’’کون لڑکی؟‘‘
’’وہ ہندو لڑکی سنجنا۔‘‘
’’سنجنا، کیا مطلب؟‘‘
’’اس کے بہکاوے میں عارض نے تمہارا دل دکھایا تھا۔‘‘ وہ بولتے بولتے کچھ تھک سے گئے سانس پھول گیا، شرمین نے روکا۔
’’پلیز، آغاجی آپ آرام کریں آپ کے لیے ابھی اتنا بولنا ٹھیک نہیں۔‘‘
’’وہ… وہ ہمارے لیے مصیبت بن گئی، تمہاری بددعا لگ گئی، عارض میرا بچہ برباد حال ہوگیا۔‘‘ ان پر بیٹے کی محبت نے رقت طاری کردی۔
’’آغاجی، میں نے کبھی کسی کو بددعا نہیں دی۔‘‘
’’جانتا ہوں لیکن بددعا کا تعلق خاموشی سے بھی ہوتا ہے۔‘‘
’’میری خاموشی میں صرف صبر اور شکر ہوتا ہے آپ فکر نہ کریں میں نے عارض کے لیے کبھی برا نہیں سوچا۔‘‘ اس نے بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’اسے خلوص دل سے معاف کردو۔‘‘
’’آغاجی میں خفا ہوں ہی نہیں تو کیسی معافی تلافی۔‘‘
’’خفا کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ لاتعلق ہوجائو۔‘‘ وہ پھر ہمت کرکے بولے۔
’’آپ پلیز اب آرام کریں میں پھر آئوں گی۔‘‘ وہ بولی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘
’’ہاں انتظار رہے گا۔‘‘
’’جی ضرور، اللہ حافظ۔‘‘ وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکلی تو باہر عارض اور صفدر دونوں موجود تھے وہ لمحہ بھر کو ٹھٹکی اور پھر یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔
’’صفدر بھائی آج یا کل میرے پاس آئیے گا۔‘‘ اس نے صفدر کے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا۔ تیزی سے کوریڈور عبور کر گئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ عارض کی آنکھوں میں منت اور التجا تھی کہ وہ رک کر اس سے بات کرے، مگر اس نے یہ موقع عارض کو نہیں دیا، آج پہلی بار اس نارسائی کے صدمے میں سنجنا کا نام سن کر اضافہ ہوا تھا ایک لڑکی کی وجہ سے مسترد کرنے کا صدمہ ساتھ لیے جارہی تھی۔
ز…خ …ز
اسپتال سے واپسی پر وہ مارکیٹ آگئی۔ اذان کے لیے سفید جرابیں بنیان لینے تھے۔ کائونٹر پر بل ادا کررہی تھی کہ پشت سے نسوانی آواز آئی وہ ایک دم پلٹی۔
’’جی۔‘‘ پلٹ کر کہا تو پھر مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھا دیا لیکن اگلے ہی لمحے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’کشف تم۔‘‘
’’بالکل ویسی کی ویسی ہو طویل عرصے کے بعد مل رہی ہو۔‘‘ کشف نے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔
’’شکریہ، آپ پاکستان میں۔‘‘ اس کا لہجہ گرم جوشی کا اس طرح اظہار نہ کرسکا۔
’’ہاں میں تو ہزبینڈ کی ٹرانسفر کی وجہ سے شہر شہر گھوم رہی ہوں اب جہلم سے یہاں، بھائی جان ہم سے بچھڑ گئے۔ ہم بدنصیب آخری بار مل بھی نہ سکے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ وہ انجان سی بنی رہی۔
’’آئو باہر جوس کارنر کے باہر بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔‘‘ کشف نے آفر کی تو وہ ہکلا کر مسترد کر گئی۔
’’وہ پھر کبھی دراصل میں لیٹ ہورہی ہوں۔‘‘
’’ایسی بھی کیا جلدی، تم سنائو شادی وادی کی، شوہر بچے۔‘‘ کشف اسی طرح کی باتیں کررہی تھی جیسی وہ ہمیشہ کرتی تھی۔ صبیح احمد کی سب سے چھوٹی بہن جس سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی تھی۔
’’سب ٹھیک ہے، پھر ملیں گے۔‘‘
’’یار شرمین میں بھائی جان کے بیٹے کے لیے بہت روئی ہوں۔‘‘ کشف نے کہا تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
’’کہ… کیا… مطلب؟‘‘
’’بھائی جان، زندگی بھر خفا رہے، بیٹا جانے کہاں چھوڑ گئے؟‘‘
’’آپ کیسی بہن تھیں جو بھائی سے لاتعلق رہیں۔‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی طنز زبان سے پھسل گیا۔
’’بس کچھ سے کچھ ہوگیا، خیر اپنا ایڈریس دو، فون نمبر۔‘‘ کشف نے کہا تو وہ اور بری طرح پریشان ہوگئی۔
’’ہاں، آپ اپنا فون نمبر بتائو۔‘‘ اس نے اپنے سیل فون کو آن کرتے ہوئے کہا۔
’’اوکے۔‘‘ کشف نے اپنا نمبر لکھوانا شروع کیا تو اس نے محفوظ کرلیا۔
’’اب بیل دو تمہارا نمبر آجائے گا۔‘‘ کشف نے کہا تو اسے ایسا ہی کرنا پڑا۔
’’اوکے بائے پھر ملیں گے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر تیز قدموں سے گاڑی کی طرف آگئی۔
’’اوہ… میرے خدا اب کیا ہوگا؟‘‘ فکر اور پریشانی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگیا تھا، اس کی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا۔ وہ اسی شہر میں آگئی تھی صبیح احمد کے بیٹے کی حق دار بننے کے لیے چکراتے سر کو تھام کر وہ گاڑی میں بیٹھی، ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اذان کو یہ سچ بتانا مشکل تھا، اس معصوم کے لیے اور خود اپنے لیے اب جبکہ اس نے صبیح احمد کی وصیت کے سانچے میں خود کو ڈھال لیا تھا اذان کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ وہی اس کی ماں ہے کشف تو حقیقت بتانے میں لمحہ ضائع نہیں کرے گی۔ اس کی اور صبیح احمد کی محبت کے دشمنوں میں صبیح احمد کی بہنیں اور لالچی ماں بھی شامل تھیں۔ ابھی تو کشف سامنے آئی تھی دوسری بڑی بہن کا سامنا باقی تھا۔ اذان کو صرف اس کے نام لکھ کر صبیح احمد نے بہت احمقانہ حرکت کی تھی یا کوئی انتقام لیا تھا۔ یہ پریشانی نہیں بہت بڑی تکلیف اور الجھن بن گئی، دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں اب ساری دنیا کی نظروں میں اس کی کیا اہمیت رہے گی۔ وہ تو خود کو بھی کھو بیٹھی کچھ بھی تو اپنا نہیں رہا تھا۔
ز…خ …ز
کب لوٹا ہے بہتا پانی، بچھڑا ساجن روٹھا دوست
ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا
صبیح احمد کی قبر کی تصویر دیکھتے ہوئے وہ روتی رہی، جانے کیوں؟ صبیح احمد سے محبت ترک ہوجانے کے بعد کیا اس کے لیے آنسو بہائے جاسکتے تھے یا اذان کے کھودینے کا خوف تھا وہ کمپیوٹر گیم کھیلتے اذان کو تک رہی تھی۔ صبیح احمد نہ رہے تھے، نہ لوٹے تھے ان کے لیے یہ سسکیوں کا طوفان نہیں امڈا تھا بلکہ صبیح احمدکی وصیت نے اذان کو اس کی جھولی میں ڈال کر وہ رخصت ہوئے تھے۔ وہ ان کے بیٹے کو اب خود سے جدا نہیں کرسکتی تھی، مگر یہ کیسے حالات نے اپنا رخ دکھایا تھا اذان تو ڈیڈی کو بے وفا جان کر ان سے ناراض تھا کیا سچ جان کر اس سے خفا نہیں ہوجائے گا۔
’’ماما آپ میرے ساتھ گیم کھیلیں نا۔‘‘
’’ہاں، نہیں میں آپ کا یونیفارم استری کرنے لگی ہوں۔‘‘
’’رونے سے ڈیڈی کو فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ کمپیوٹر اسکرین پر نظریں جمائے جمائے بولا۔
’’پڑتا ہے ہم نے دوسرا ڈبہ تو کھول کر دیکھا ہی نہیں۔‘‘
’’میں نے نہیں دیکھنا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’انہیں واپس بھیج دیں۔‘‘
’’نہیں، آئو دیکھتے ہیں۔‘‘
’’ماما! نہیں آپ دیکھیں۔‘‘ وہ برے سے انداز میں کہہ کر باہر چلا گیا تو وہ کچھ سوچ کر ڈبے کی طرف بڑھی اس نے ملازمہ سے ڈبے کو اندر تو رکھوالیا تھا مگر اب تک اسے کھولا نہیں تھا۔
اس نے گھٹنے فرش پر ٹیک کے کچھ دیر بند ڈبے کو دیکھا اور پھر اس کی ٹیپ اتارا ڈبے میں سب سے اوپر ایک کوٹ تھا کچھ کتابیں تھیں۔ تعلیمی سرٹیفکیٹ تھے۔ ایوارڈز تھے اور بھی بہت کچھ تھا۔ اس نے ایک ایک چیز نکال کر اپنے آنچل کے پلو سے صاف کرتے ہوئے باہر نکالیں۔ سب سے نیچے صبیح احمد کے ساتھ اذان کی مسکراتی تصویر تھی۔ اس نے وہ تصویر نکال کر باقی سب چیزیں واپس ڈبے میں رکھ دیں اور تصویر لیتے ہوئے اس کے دماغ میں بس یہی خیال آیا کہ یہ تصویر کمرے میں آویزاں ہو مگر کہاں؟ چاروں اطراف نگاہ ڈالی پھر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل ہی مناسب لگی۔ اسے ٹیبل پر رکھا ہی تھا کہ اذان آگیا تصویر دیکھ کر خوش ہوا اور پھر سنجیدگی سے بولا۔
’’ماما، یہ تصویر رکھ دیں۔‘‘
’’کیوں بھئی؟ اس میں تو آپ بہت کیوٹ لگ رہے ہو اور آپ کے ڈیڈی بھی۔‘‘
’’اور آپ نہیں ہیں۔‘‘ وہ برملا کہہ گیا۔ تو اس کی آنکھیں جھک گئیں بنا کچھ کہے واش روم میں گھس گئی۔ جلتی آنکھوں کو پانی ہی سکون دے سکتا تھا، پہلے خوب آنسو بہائے اور پھر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے آنکھوں پر مارے، مگر آج بہت اداسی کا دن ثابت ہوا تھا۔ یادیں، آہیں اور سسکیاں جاگ اٹھی تھیں۔
خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیںکیسی
لہو میں ناچ رہی ہیں وحشتیں کیسی
نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کو مہر اچھا
یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہو اسے شکایتیں کیسی
منہ دھو کر اچھی طرح خشک کرکے واش روم سے باہر آئی تو اذان خاموش ایک ٹک اسی تصویر کو گھور رہا تھا۔ بڑی پیاس، محبت اور اداسی تھی اس کی آنکھوں میں، وہ صبیح احمد سے بہت محبت کرتا ہے یہ واضح دکھائی دے رہا تھا۔
ز…خ …ز
’’ضمیر کا بوجھ باضمیر ہی اٹھا سکتے ہیں، بے ضمیر تو خود اپنے بوجھ تلے دب کے مر جاتے ہیں۔ ان کی بساند زدہ میت کا بوجھ بھی باضمیر ہی اٹھائیں مگر یہ بات تم نہیں سمجھو گے۔‘‘ صفدر کے اندر سے کڑواہٹ نکلی اور بھاپ اڑاتے کافی کے کپ میں اتر گئی۔
آغاجی کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا وہ دونوں انہیں افسردہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا چھوڑ کر لائونج میں آبیٹھے تھے۔ تب عارض نے آغاجی کی کیفیت کو ضمیر کی خلش قرار دیا تھا۔ صفدر نے موقع پاکر دل کی بات کردی مگر وہ ناسمجھی کے عالم میں بولا۔
’’ایسا نہ سمجھو کہ مجھے معید صاحب کا افسوس نہیں میں بہت مضطرب ہوں۔‘‘
’’ایسا ہی ہوتا ہے کسی کی آہیں مضطرب ہی رکھتی ہیں۔‘‘
’’تم نے دیکھا شرمین نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔ جبکہ آغاجی مصر ہیں کہ شرمین سے معافی مانگ لوں۔‘‘
’’سوال تو یہ ہے کہ کیا شرمین معاف کرے گی۔‘‘ صفدر نے سگریٹ سلگایا۔
’’ہاں اور معید صاحب کی بیوی بھی مجھے معاف کریں گی۔‘‘
’’اور بھی سوچ لو، میری بیوی کو بھی اپنے مجرم کی تلاش ہے۔‘‘ صفدر نے سگریٹ سلگائی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اس کے اور میرے درمیان ایک گناہ گار آگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دونوں ہی فاصلوں پر کھڑے ہیں۔‘‘
’’تم نے ذکر تو کیا تھا کیا اب تک تم بھابی کو معاف نہیں کرسکے۔‘‘
’’گناہ گار مل جائے تو پہلے اس سے دو دو ہاتھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’یار بھابی کا کیا قصور، کیوں اپنی میرڈ لائف ڈسٹرب کرتے ہو؟‘‘ عارض کے لہجے میں زیبا کے حوالے سے ہمدردی اور نرمی ہی نرمی تھی۔ صفدر کو یہی بات حیرت میں ڈالے ہوئے تھی۔ وہ نہ چونکتا تھا، نہ گھبراتا تھا اس وجہ سے اسے زیبا جھوٹی لگتی تھی۔
’’خیر میں چلتا ہوں، کوئی کام ہے تو بتائو۔‘‘
’’یار، بابا مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کررہے کمرے میں تنہا سوچ میں پڑے ہیں، انہیں کمپنی کی ضرورت ہے ورنہ وہ معید صاحب کو لے کر بہت اپ سیٹ ہیں۔‘‘
’’ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن کب تک معید صاحب کی موت کو چھپائو گے۔ بہتر تو یہ ہے کہ خود بتا دو۔‘‘
’’نہیں، بابا کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘
’’عارض نہ بتانے سے معاملات وہیں کے وہیں نہیں رہیں گے، خراب ہوجائیں گے۔‘‘
’’سوچنے دو، لیکن پلیز ابھی مت جائو۔‘‘
’’یار آفس سے چھٹیاں ہوگئی ہیں، امی اکیلی ہیں اور مجھ سے خفا ہیں۔ عبدالصمد کو مس کررہی ہیں۔‘‘ صفدر نے بتایا۔
’’اور شر… شرمین اگر بابا کے پاس آجایا کرے۔‘‘ وہ ہکلایا۔
’’مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوسکتا ہے اس کا بیٹا ہے، وہ جاب کرتی ہے اور پھر تم سے لاتعلق اور اجنبی بھی تو ہے۔‘‘
’’ہاں جانتا ہوں لیکن دل نہیں مانتا، کاش وہ ایک بار میری بات سنے۔‘‘
’’کاش، مگر میرے دوست یہ کاش جیسے لفظ کبھی بھی کاش کی حسرت سے باہر نہیں نکلتے، میں اتنا مصروف رہا کہ نہ اپنے حالات سدھار سکا اور نہ شرمین بہن سے تفصیلی بات کرسکا، انہوں نے بلایا ہے لیکن جا نہیں پایا۔‘‘
’’تو چلے جائو۔‘‘
’’ہنہہ، جائوں گا۔‘‘
’’پھر میرے حوالے سے جاننا۔‘‘
’’اور وہ سنجنا، اس کا کیا ہوگا؟‘‘ صفدر طنزیہ بولا۔
’’وہ کچھ بھی نہیں تھی میرے یار۔‘‘
’’مگر بہت کچھ کیا تم نے اس کے لیے اب وہ کہیں غائب ہوگئی؟‘‘ صفدر نے مزید کاٹ دار بات کی۔
’’تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
’’بہتر ہے کہ تم سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’اب شرمین بہن کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔‘‘ صفدر یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا۔
’’ابھی نہ جائو۔‘‘
’’پھر آجائوں گا۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘
’’بابا کو سب بتانے کی کوشش کرو۔‘‘
’’نہیں یار یہ ہمت نہیں ہے مجھ میں۔‘‘ وہ کانپ اٹھا، صفدر کندھے اچکا کر باہر چلا گیا۔
ز…خ …ز
وہ گھر پہنچا تو ایک نئی مشکل اس کی منتظر تھی۔
زیبا نے وکیل کے ذریعے خلا کا نوٹس بھیجا تھا۔ اس کے سر پر چھت آگری۔ اسے زیبا سے یہ امید ہرگز نہیں تھی۔ اتنی جلد بازی کی ضرورت کیا تھی؟ اس کے پتنگے لگ گئے، آئو دیکھا نہ تائو لفافہ لیے آندھی اور طوفان کی طرح کمرے سے باہر نکلا، جہاں آرا ملازمہ سے باورچی خانہ صاف کرا رہی تھیں اسے تیزی سے نکلتے دیکھا تو لپکیں آواز دی۔
’’صفدر، صفدر… رکو۔‘‘ وہ رک گیا۔
’’بیٹا غصے سے نہیں تحمل سے کام لینا، اس سے بات کرو، سمجھائو۔‘‘ جہاں آرا نے آہستہ آواز میں سمجھایا۔
’’نہیں، اب پانی سر سے گزر گیا ہے۔ میں اسے عبدالصمد کی خوشی منانے نہیں دوں گا۔ پہلے حالات جو بھی تھے۔ مگر اب وہ عمر بھر میرے نام کی تختی گلے میں ڈالے بیٹھی رہے گی اور عبدالصمد کو تو میں لے آئوں گا۔‘‘ وہ گھن گرج کے ساتھ سخت غصے میں چلا گیا۔ وہ پھر پیچھے بھاگی۔
’’صفدر مجھے ساتھ لے چلو، میں حاجرہ بہن سے بات کروں گی۔‘‘
’’امی وہ اس وقت آپے میں نہیں ہے، کسی کی نہیں سنے گی بس میں یہ نوٹس اس کی نظروں کے سامنے پھاڑ کے آئوں گا اور آپ افسردہ نہ ہوں عبدالصمد اب میری ضد ہے۔‘‘ وہ شدید مشتعل سے انداز میں بولا۔
’’مجھے معاف کردو صفدر میں نے زیبا کا انتخاب غلط کیا تھا۔‘‘ وہ بہت شرمندہ ہوکر بولیں۔
’’چھوڑیں امی، یہ میری قسمت میں لکھا تھا کوئی بات نہیں وہ عمر بھر میرے ہی نام سے جڑی سر پٹختی رہے گی۔ نہ میں رکھوں گا۔ نہ چھوڑوں گا۔‘‘ اس نے فیصلہ کن انداز میں گاڑی اسٹارٹ کی، ذہن میں ایک بھونچال آیا ہوا تھا آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ اس کو صرف یہ اندازہ تھا کہ وہ بنا عارض کی سچائی جانے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی مگر یہ اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا تھا۔ وہ تو ہرصورت، ہرممکن طریقے سے آمادہ جنگ ہوکر سامنے آئی تھی۔ کھولتے دماغ کے ساتھ وہ اسے عبرت ناک سبق سکھانے چلا تھا جانتا تھا کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے والی زیبا اب کوئی گڑگڑانے اور رونے دھونے والی زیبا نہیں رہی تھی بے خوف ہوگئی تھی۔ اس کے لیے اگر کچھ اہم تھا تو فقط عبدالصمد اپنا بیٹا جس کے بنا اس کی زندگی کا تصور محال تھا اور جو اسے کبھی عزیز نہیں تھا مگر اب کچھ عرصے سے وہ اسے یاد کرتا تھا مس کرتا تھا مس تو اکثر وہ اس دشمن جاں کو بھی کرتا تھا اس کی خوش بو اپنے اطراف محسوس کرتا تھا۔
’’میں تمہیں اس نوٹس کی ایسی سزا دوں گا کہ تم عمر بھر یاد رکھو گی۔‘‘ اس نے غصے سے سوچا گاڑی معمول سے زیادہ اسپیڈ میں دوڑ رہی تھی۔ اسے کچھ ہوش نہیں تھا کہ وہ ٹریفک کے اژدھام میں سے کیسے گاڑی بھگا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر حادثہ ہوتے ہوتے بچا لیکن پھر ہوکر ہی رہا ایک ضعیف بابا جی گاڑی کی زد میں آئے اور لہولہان ہوکر سڑک پر گر گئے۔ وہ سناٹے میں آگیا گاڑی روک کر باہر نکلا اور پھر تو جیسے وہ مکھیوں کے چھتے میں پھنس گیا۔ مشتعل چند افراد نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا وہ بچائو کرتا رہا مگر ہمارے ہاں ہجوم کب کسی کی سنتا ہے ٹریفک وارڈن نے پہنچ کر اس کو بچایا اور ایمبولینس بلوائی، زخمی بابا جی کو پولیس کی گاڑی کے ہمراہ اسپتال لے جایا گیا اور اسے تھانے پہنچا دیا گیا۔
ز…خ …ز
اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ عارض اس کا جگری اور پیارا دوست تھا اس نے بروقت تھانے پہنچ کر سب معاملات رفع دفع کرائے، پرچہ نہیں کٹنے دیا، بزرگ کی جان بچ گئی تھی۔ عارض نے بیس ہزار کیش بزرگ کی بیوی کے حوالے کیے اور اسپتال کے بھی اخراجات ادا کرنے کی گارنٹی دی، صفدر غصے میں اور لمحہ خاموشی میں تھا، گاڑی عارض چلا رہا تھا وہ باہر گھور رہا تھا۔
’’اب سب معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں، پریشان کیوں ہو؟‘‘ عارض نے کہا۔
’’ابھی تو معاملات اور دماغ ٹھیک ہونا باقی ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’یار سچ پوچھو تو مجھے تمہارے جذباتی ہونے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘ عارض نے گاڑی چلاتے ہوئے گردن گھما کر پوچھا۔
’’یہ… یہ… ہے وجہ…!‘‘ صفدر نے ڈیش بورڈ سے وہی رجسٹرڈ لفافہ اٹھا کر اس کے اسٹیئرنگ پر رکھے ہاتھ پر مارا، عارض نے کچھ تعجب سے لفافہ دیکھا اور گاڑی رائٹ سے لیفٹ جاکر روکی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ لفافہ کھولتے ہوئے اس نے سرسری طور پر پوچھا۔
’’پڑھ لو۔‘‘ اس نے بہت غصے سے کہا تو عارض نے تہہ شدہ کاغذ سیدھا کیا، لمحہ بہ لمحہ اس کے چہرے کے تاثرات بدلتے چلے گئے۔
’’یہ بھابی نے بھیجا ہے۔‘‘
’’ہاں، ایسا ہونے کے لیے ایسا ہونا ضروری نہیں تھا۔ اس لیے مجھے غصہ ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مجھے یقین نہیں آرہا، اتنا بڑا فیصلہ۔‘‘ وہ سخت پریشان ہوکر بولا۔
’’میں اس کو سبق سکھانے جارہا تھا۔‘‘
’’ریلیکس، یار غصہ مسئلے کا حل نہیں، بھابی ایسا کیوں کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’اس کی گناہ آلود زندگی میرے لیے بے معنی ہے۔‘‘
’’گناہ آلود۔‘‘
’’ہاں میں اسے آزاد کردیتا مگر اس کے اس اقدام پر غصہ ہے۔ اب میں عبدالصمد کو چھین کر اسے ہمیشہ کے لیے لٹکا دوں گا، نہ وہ جئے گی نہ مرے گی۔‘‘ صفدر نے سب کچھ سچ سچ کہہ دیا۔
’’صفدر ایسے نہ سوچو، غلط فہمیاں ہوتی ہیں، بات کرنے سے دور ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’عارض میری زندگی ایک جہنم بن گئی ہے زندگی کی الجھنوں میں الجھ کر اس جہنم کی تپش سے دور ہوجاتا ہوں باقی تو یہ بڑی تلخ حقیقت ہے۔‘‘
’’تمہیں بھابی کے حوالے سے غلط فہمی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’شادی کی رات ہی اس نے سب کچھ بتا دیا تھا۔ تب سے اب تک نفرتوں، لڑائیوں میں وقت گزرا، اگر کوئی پل خوش گوار بنا تو وہ صرف عبدالصمد کے دنیا میں آنے کی وجہ سے بنا۔‘‘
’’اوہ یار بڑے پن کا ثبوت دو، میں بات کرتا ہوں بھابی سے، بلکہ جا کر میں ملتا ہوں، تم تو بات بگاڑ دو گے۔‘‘ عارض نے کہا تو صفدر کو پوری شدت سے عارض کی بے گناہی کا یقین آگیا۔
’’تم…!‘‘
’’ہاں یہ لیٹر میں خود لے کر جائوں گا۔‘‘ عارض نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
’’مگر…!‘‘
’’اگر مگر کیا، مجھے دھکے دے کر تو نہیں نکال دیں گی، اگر نکالیں گی تب بھی یار کی خاطر سب قبول ہے۔‘‘ عارض نے اس کی طرف دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کے چہرے پر جانے کیا تلاش کرنا چاہ رہا تھا۔
’’تم آرام کرو، اب میں خود معاملہ حل کرتا ہوں۔‘‘ عارض نے مسکرا کر کہا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، ایک طرح سے تو یہ اچھا ہونے جارہا تھا۔
ز…خ …ز
اذان کو اسکول چھوڑ کر وہ سیدھی زینت آپا کے پاس پہنچ گئی۔ اخبار ان کے سامنے رکھا تھا اسے دیکھ کر وہ سمجھ گئیں کہ وہ اخبار میں چھپنے والا اشتہار دیکھ کر ہی آئی ہے۔
’’آپا یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’شرمین میری صحت کاروبار سنبھالنے کی اجازت نہیں دے رہی ویسے بھی میں نے دولت کا کیا کرنا ہے، چلتا ہوا کاروبار نیلام ہوجائے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’لیکن آپا آپ ناامید کیوں ہوئیں۔‘‘ اسے بہت افسوس ہورہا تھا۔
’’کون سی امید بچی ہے بوبی جاچکا ہے میں اکیلی اتنی بڑی کوٹھی میں گھبرا جاتی ہوں۔‘‘ ان کی آواز بھرا سی گئی تھی۔
’’سوری آپا میں نے بھی آپ کو تکلیف دی، لیکن آپ خود سوچیں کہ یہاں بوبی کی وجہ سے رہنا محال تھا اور اب اذان بھی ہے۔‘‘
’’اب تو بوبی جاچکا ہے اور اذان سے تو میرا بھی دل بہل جائے گا۔‘‘ وہ ایک دم خوشی کے ساتھ بولیں۔
’’لیکن اچھا نہیں لگتا بوبی سن کر سوچے گا کہ میں بیٹے سمیت آپ کے پاس آگئی ہوں۔‘‘
’’شرمین سب بھول جائو، میرے لیے میرے پاس رہو۔‘‘ وہ ایک دم منت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’آپا شرمندہ نہ کریں، آپ میرے ساتھ چل کر رہیں۔‘‘
’’اور یہاں یہ سب ملازم، اتنا بڑا گھر چھوڑ کر میں تمہیں تنگ کروں، تم اذان کے ساتھ میرے پاس آجائو کاروبار بے شک سیل کردو۔‘‘
’’آپا بہت مشکل کام ہے یہ اذان ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا بار بار آنا جانا عجیب لگتا ہے۔‘‘
’’کچھ عجیب نہیں لگتا بیٹا بیگم صاحبہ اکیلی پریشان رہتی ہیں۔ بھولی کی بھی شادی کررہا ہوں وہ گائوں چلی جائے گی آپ یہاں آکر رہو۔‘‘ بابا نے سمجھایا۔
’’بابا اب میں سیٹ ہوچکی ہوں۔‘‘
’’کیسی سیٹنگ، ہم سب سامان گھنٹوں میں لے آئیں گے۔‘‘ بابا نے کہا۔
’’اچھا، لیکن اذان سے پوچھنا پڑے گا۔‘‘
’’پوچھ لو، بابا آپ ناشتہ لائو میں شرمین کے ساتھ ناشتہ کروں گی۔‘‘ آپا نے خوشی سے کہا۔
’’یہ آپ کی وجہ سے بیگم صاحبہ مسکرائی ہیں اور ناشتہ مانگا ہے۔‘‘ بابا یہ کہتے ہوئے کچن کی طرف چلے گئے۔
’’میں سمجھ سکتی ہوں آپ کی بیماری کی وجہ تنہائی اور بوبی کی جدائی ہے۔‘‘
’’بوبی کو تو میں نے اللہ کی نگہبانی میں چھوڑ دیا، اللہ اسے ہدایت دے کر خود لے آئے گا، زمانے کے سبق کے بغیر وہ سدھرے گا نہیں۔‘‘
’’اللہ اسے ہدایت دے گا ان شاء اللہ۔‘‘
’’بس آپ آج ہی آجائو۔‘‘
’’آپا اذان سے پوچھوں گی اسے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا، وہ بہت حساس بچہ ہے۔‘‘
’’کرلو بات مگر وہ بھی خوش رہے گا۔‘‘
’’اور کاروبار کا یہ اشتہار۔‘‘
’’مرضی ہے تمہاری۔‘‘
’’چلیں فی الحال اس اشتہار کی معذرت چھپوا دیں اتنی محنت کو کیسے بیچا جاسکتا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’یہ لو بیٹا گرما گرم ناشتہ۔‘‘ بابا ٹرے میں ناشتہ لے آئے۔
شرمین نے زینت آپا کو رغبت سے ناشتہ کرتا دیکھ کر خوشی محسوس کی، انسان کی خوشی دوسرے انسان کو خوش دیکھنے میں ہوتی ہے، شرمین تو بنی ہی خوشیاں بانٹنے کے لیے تھی۔
ز…خ …ز
اس نے اذان کی پسند کا کھانا پکایا تھا۔ وہ کمرے میں تھا، چینج کرکے آیا اور اندر کمرے میں کھانا لانے کا کہہ گیا۔ وہ جب کھانا لے کر اندر پہنچی تو وہ پراسرار سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے بیٹھا تھا وہ کچھ ناسمجھی، لیکن ٹرے سینٹر ٹیبل پر رکھنے کے بعد مڑی تو ہونق سی رہ گئی۔ اذان نے جانے کیسے اپنی اور صبیح احمد کی تصویر میں اس کی فوٹو کاٹ کر چپکا دی تھی۔
’’یہ کیا… کیا؟‘‘ اس نے تصویر کی بابت پوچھا وہ خوشی سے کھل کر بولا۔
’’کمپلیٹ فیملی۔‘‘
’’پر آپ نے کیسے کیا؟‘‘
’’میں نے نہیں میرے دوست دانش نے کیا۔‘‘ اس نے بھولپن سے بتایا۔
’’مطلب آپ فوٹو اسکول لے گئے تھے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’لیکن ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ماما مجھے آپ کی تصویر بھی لگانی تھی نا۔‘‘
’’مگر دیکھو اس طرح آپ نے اپنی اور ڈیڈی کی خوب صورت تصویر خراب کردی۔‘‘ وہ یہی کہہ سکی تھی۔
’’نہیں یہ اب خوب صورت ہوئی ہے۔‘‘
’’مگر یہ بری لگ رہی ہے۔‘‘
’’نہیں آپ کو کیا ہے؟‘‘ وہ اڑ گیا تصویر اٹھا کر سینے سے لگا لی۔
’’اچھا رکھ دو کھانا کھائو۔‘‘ اس نے بحث مناسب نہیں سمجھی۔
’’دانش کہہ رہا تھا تمہاری ماما بیوٹی فل ہیں۔‘‘ وہ خوش ہوکر بولا۔
’’بیٹا اپنے گھر کی چیزیں ماما کو بتائے بغیر نہیں لے کے جاتے۔‘‘ اس نے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے سمجھایا۔
’’ماما ڈیڈی آئیں گے تو ہم پھر فوٹو بنوائیں گے۔‘‘ اس نے معصومیت سے کہا تو نوالہ اس کے حلق میں پھنس گیا اس کی معصوم خواہش اور اس کی بے بسی آمنے سامنے تھیں۔
’’کبھی ڈیڈی سے ناراض ہوتے ہو اور کبھی اتنا یاد کرتے ہو۔‘‘
’’بس وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔‘‘
’’اذان، آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔‘‘ اس نے موضوع بدلا۔
’’ہنہہ۔‘‘
’’ہم نانو کے پاس چل کر رہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ انہیں ہماری ضرورت ہے اتنا بڑا گھر ہے آپ کو بھی مزہ آئے گا۔‘‘ اس نے بڑے قرینے سے بات کی، وہ سوچ میں پڑگیا۔
’’وہ انکل اچھے نہیں ہیں۔‘‘
’’وہ… وہ تو بزنس کے لیے کینیڈا چلے گئے ہیں۔‘‘
’’اور ڈیڈی؟‘‘
’’کیا ڈیڈی۔‘‘
’’وہ کہاں رہیں گے؟‘‘
’’وہ، وہ جب آئیں گے تو ہم اپنے ساتھ رکھیں گے۔‘‘ اس کا حلق تر ہوگیا وہ کچھ زیادہ ہی صبیح احمد کو یاد کررہا تھا وہ یہ یاد کیسے مٹا سکتی تھی کوئی بازار سے ملنے والا کھلونا تو نہیں تھا کہ لادیتی، وہ تو ایسی دنیا کو جاچکے تھے جہاں سے کوئی کبھی لوٹ کر نہیں آیا وہ اسے کیسے یہ سچ بتائے کہ اب اس کے ڈیڈی کبھی نہیں آئیں گے۔‘‘
’’ماما مجھے سونا ہے۔‘‘ اسے سوچ میں گم دیکھ کر وہ ہاتھ دھونے گیا اور پھر آکر کہا۔
’’ٹھیک ہے مگر نانو کے گھر والی بات پر سوچنا ہے۔‘‘ اس نے خالی برتن سمیٹے اور کمرے سے چلی گئی وہ بیڈ پر آنکھیں موند کر سوتا بن گیا۔
ز…خ …ز
اسی شام جب وہ اپنے اور صبیح احمد کے درمیان پیدا ہوجانے والے فاصلوں کے درمیان سوچ رہی تھی تو عارض جانے کیسے آنکلا؟ پہلے تو اس نے چاہا کہ سختی سے جھڑک کر بھیج دے مگر اذان نے اسی وقت خوب صورت گلابوں کا گلدستہ اس کے سامنے کردیا۔
’’ماما یہ انکل لائے ہیں۔‘‘
’’واپس کردیں۔‘‘ اس نے سخت برہمی سے کہا۔
’’نہیں بیٹا! یہ آپ کے لیے آپ لے جائو۔‘‘ عارض نے موقع کی مناسبت سے اذان کو کہا۔
’’اذان آپ شبانہ آنٹی کی طرف جائو۔‘‘ اذان نے پھول وہیں عارض کو واپس تھمائے اور خود کرائے دار والے پورشن میں چلا گیا۔
’’اندر آنے کا نہیں کہیں گی۔‘‘
’’میں آپ سے یہاں آنے کی وجہ جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے روکھے پن سے جواب دیا۔
’’بابا نے بلایا ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بس کچھ کہنا ہوگا۔‘‘
’’کسی وقت چکر لگالوں گی۔‘‘
’’ساتھ لانے کو کہا ہے۔‘‘
’’نہیں آپ کے ساتھ جانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔‘‘
’’یہ بچہ۔‘‘
’’یہ میرا بیٹا ہے اذان۔‘‘ اس نے برملا کہا تو غیریقینی نظروں سے عارض نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ جھوٹ ہے مگر یہ بات وہ کہہ نہیں سکا۔
’’پوچھنے کا حق نہیں ہے تم کہہ رہی ہو تو سچ ہی ہوگا۔‘‘
’’جی اور کچھ۔‘‘
’’پلیز اندر تو آنے دو۔‘‘
’’جی آئیے۔‘‘ اس نے راستہ چھوڑ دیا، وہ اندر آگیا۔
’’شکریہ۔‘‘
’’کس بات کا؟‘‘
’’اندر آنے کی اجازت دی۔‘‘
’’اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔‘‘
’’شرمین میرا ظرف چھوٹا ہی تھا اور بدگمان بھی تھا مگر پس پشت تمہاری خوشی تھی۔‘‘
’’اس بحث میں نہ پڑیے میری خوشی کا نام سنجنا تھا، آپ بھول رہے ہیں۔‘‘ اس نے چبا چبا کر کہا تو وہ چونکا۔
’’یہ کس نے کہا؟‘‘
’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
’’میں تو آج بھی صرف تم سے محبت کرتا ہوں، مگر میرا مقدر ہی خراب ہے۔‘‘
’’آغاجی سے کہیے گا، میں کل شام کو آئوں گی۔‘‘
’’نہیں، وہ بہت اپ سیٹ ہیں، پلیز چلو۔‘‘
’’میرا بیٹا اکیلا نہیں رہ سکتا اور اسے میں ساتھ لے جانا نہیں چاہتی۔‘‘
’’کیوں، بلکہ اچھا ہے کہ آغاجی بہل جائیں گے۔‘‘
’’مگر میرے زخم ہرے ہوجائیں گے۔‘‘
’’یہ ہی تو کوشش ہے کہ زخم بھر جائیں۔‘‘
’’پلیز بے کار بحث نہیں۔‘‘
’’جسے بے کار بحث سمجھ رہی ہو وہ میری زندگی کا عنوان ہے۔‘‘
’’ہنہہ، مسٹر عارض کون سا عنوان، کون سی زندگی آپ نے ہی سب کچھ بدلا تھا اب میری زندگی اور اس کا عنوان بدل گیا ہے۔‘‘ وہ ایک دم بولتی چلی گئی۔
’’اچھا فی الحال چلو، اپنے بیٹے کو ساتھ لے لو۔‘‘
’’اذان سوال کرے گا۔‘‘
’’بابا سنبھال لیں گے۔‘‘
’’آپ جائو، ہم آجائیں گے۔‘‘ اس نے کہا تو وہ اثبات میں گردن ہلا کر چلا گیا۔
وہ اس کے جانے کے بعد کمرے میں آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ مشکل مرحلہ تو اس کے لیے تھا اذان کو بتانا، سمجھانا بہت آسان نہیں تھا۔
’’آغاجی نے کیوں بلوایا ہے۔‘‘ اس کے دماغ میں یہ سوال کئی دفع آیا مگر مجبوری تھی آغاجی بزرگ تھے بیمار تھے ان کا حکم ماننا ضروری تھا یہ سوچ کر وہ اذان کے کپڑے نکالنے لگی۔
ز…خ …ز
فون کی گھنٹی بجی… زیبا لپک کر اپنے موبائل فون کی طرف بھاگی، ننھی نے دروازے سے مسلسل اس کو نوٹس میں رکھا ہوا تھا وہ مضطرب ہوکر، بے تاب ہوکر ہر فون بیل پر یا پھر بنا بیل کے بھی فون چیک کررہی تھی اس وقت بھی عبدالصمد کے کپڑے چینج کرا رہی تھی کہ اس کو چھوڑ کر فون کے قریب پہنچی، مگر رانگ نمبر کہہ کر واپس آئی تو ننھی نے کہہ ہی دیا۔
’’قانونی نوٹس کے بعد فون کی گنجائش کہاں رہتی ہے؟‘‘
’’مجھے گنجائش کی ضرورت ہے بھی نہیں۔‘‘
’’جھوٹ۔‘‘
’’کیسا جھوٹ؟‘‘
’’تمہیں یہ آس ہے کہ صفدر بھائی تم سے بات کریں گے۔‘‘
’’نہیں وہ بہت ڈھیٹ اور ضدی ہیں۔‘‘
’’تو پھر اطمینان سے نوٹس کے جواب کا انتظار کرو۔‘‘
’’وہ شخص تو اس کے جواب میں فیصلہ ہی بھیجے گا۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔
’’تو اچھی بات ہے، تم بھی تو یہی چاہتی ہو، تمہیں کون سا ان سے محبت ہے۔‘‘ ننھی نے بھی تہیہہ کر رکھا تھا کہ اسے کھری کھری سنائے۔
’’میں، میں محبت کروں بھی تو کیا؟‘‘ وہ آنکھوں میں آئے اشک روک نہ سکی۔
’’کرتیں تو شاید نتیجہ اچھا نکل آتا۔‘‘
’’تمیہں کیا پتا کہ میں کتنی محبت کرتی ہوں مگر ان کی نفرت بھی بہت زیادہ ہے۔‘‘
’’وہ نفرت محبت میں بدل جاتی ہے اگر انسان برداشت کرے۔‘‘ ننھی نے جواب دیا۔
’’کتنی برداشت؟‘‘
’’جتنی بھی کی جائے کم ہوتی ہے اور خود سوچو صفدر بھائی غلط نہیں ہیں کون مرد اتنا اعلیٰ ظرف ہوتا ہے۔‘‘
’’اللہ بھی معاف کردیتا ہے۔‘‘
’’اللہ تو اللہ ہے انسان کا یہ مقام نہیں۔‘‘
’’اب تو جو ہونا تھا ہوگیا۔‘‘
’’ہاں، مگر اچھا نہیں ہورہا۔‘‘ ننھی نے کہا اور اس کے کمرے سے باہر چلی گئی، اسے آنسو بہانے کا موقع چاہیے تھا پھوٹ پھوٹ کر رو دی، صفدر سے محبت کا اعتراف یہ کیا کم تھا کہ وہ اس کے لیے بے قرار تھی۔
صفدر مجھے ضرورت ہے تمہاری… سخت گرمی میں بارش کی طرح… دھوپ میں… محبت کے سائبان کی طرح… بے چینی میں… محبت کے حسین احساس کی طرح… کاش
کاش…! تم جان سکو…!!
ز…خ …ز
اذان کے ہمراہ وہ جس وقت پہنچی آغاجی اپنے بیڈ پر تھے آنکھیں موند رکھی تھیں مگر تسبیح ہاتھ میں تھی اور ہاتھ متحرک تھے لب جنبش کررہے تھے عارض ان دونوں کے ہمراہ ان کے کمرے تک آیا تھا۔
’’سو رہے ہیں شاید۔‘‘
’’نہیں، میں جاگ رہا ہوں۔‘‘ آغاجی نے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام، جیتی رہو۔‘‘ انہوں نے سر پر ہاتھ پھیرا مگر کچھ حیرت سے اذان کو دیکھا وہ اس کا آنچل تھامے اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’اذان، سلام کرو۔‘‘ اس نے اذان سے کہا تو اس نے جھٹ ہاتھ آگے بڑھا دیا مگر اس کی آنکھوں میں سوال تھا آغاجی کے متعلق، عارض کے متعلق اور اس سرخ اینٹ پتھر سے تعمیر شدہ بڑی سی کوٹھی کے متعلق۔
’’یہ تو بہت پیارا بیٹا ہے ہمارے پاس آئو۔‘‘ آغاجی نے بہت پیار سے اذان کو کہا تو وہ عالم محویت سے باہر نکلا۔
’’بیٹا میں آپ کی آمد کا احسان مند ہوں۔‘‘ آغاجی بولے۔
’’کوئی بات نہیں، آپ بتائیے۔‘‘ وہ رسماً بہت اخلاق سے بولی۔
’’عارض۔‘‘
’’جی بابا۔‘‘
’’ذرا کھانا اچھا سا پکوائو، خاص کر اذان بیٹے کے لیے۔‘‘ آغاجی نے عارض سے کہا۔
’’جی بہتر۔‘‘
’’اور ہاں اذان کو ساتھ لے جائو پرندے دکھائو۔‘‘ انہوں نے دانستہ عارض کے ہمراہ اذان کو بھیجنا چاہا اذان نے شرمین کی طرف دیکھا تو شرمین کو کہنا پڑا۔
’’جائو بیٹا۔‘‘
’’ہمارے ننھے مہمان کو آئس کریم بھی کھلائو۔‘‘ آغاجی نے کہا تو عارض نے مسکرا کر اذان کی طرف دیکھا وہ بھی خوش ہوگیا تھا ان دونوں کے جانے کے بعد وہ آغاجی کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’جی آغاجی۔‘‘
’’میرے دل میں ایک پھانس سی چبھی ہوئی ہے لڑکی کا ذکر میں نے تمہارے سامنے کیا تو انجانے میں تمہیں بہت تکلیف پہنچائی کیونکہ عارض نے مجھے بتایا کہ شرمین اس سنجنا کے بارے میں کچھ نہیں جانتی میرا دل دھک سے رہ گیا کہ…‘‘
’’آغاجی سنجنا میرا مسئلہ نہیں، عارض نے کس کے لیے میرے ساتھ ایسا کیا یہ مجھے پتا کرنے کی ضرورت نہیں، بس ایسا ہوگیا، سو ہوگیا۔‘‘ اس نے آغاجی کی بات کاٹ کر بڑے تحمل سے انہیں مطمئن کیا۔
’’میں سمجھتا ہوں کہ یہی وجہ ہوگی۔‘‘
’’کچھ بھی ہو، عارض نے کسی بھی وجہ سے کیا کر تو لیا، میں نے سوچا ہی نہیں، مگر آپ کیوں ہلکان ہورہے ہیں، آپ کو ابھی ٹینشن نہیں لینی چاہیے۔‘‘
’’میں بہت کچھ کہنا تو چاہتا ہوں لیکن پیر ریت میں دبے ہیں۔‘‘
’’آپ کہیے اگر مجھ سے کچھ ریلیٹڈ ہے تو۔‘‘
’’نہیں، کچھ کہہ کر بھی بھرم جاتا ہے۔‘‘
’’آغاجی، آپ نے یہ کہنا تھا۔‘‘
’’نہیں میں نے کچھ کہنا ہے۔‘‘
’’بولیے۔‘‘
’’میں نے عارض کو معاف نہیں کیا، اس کی وجہ سے میرا وفادار ملازم جیل کاٹ رہا ہے وہ لڑکی سنجنا ہے کہ پاکستان آنا چاہتی تھی ایسی صورت حال میں عارض نے مجھے پھنسایا ہے۔ مگر میں پھر بھی عارض کی دلی حالت سے واقف ہوں اور امریکہ جانے سے پہلے اس کی خوشی کی تم سے بھیک مانگنا چاہتا تھا مگر اب حالات اور ہیں۔‘‘
’’کون سے حالات؟‘‘
’’یہ بچہ…؟‘‘ وہ ذرا سا رکے۔
’’آغاجی یہ میرے جینے کا مقصد ہے میرے کسی ایسے اپنے کی نشانی ہے جسے میں یاد بھی رکھنا نہیں چاہتی تھی مگر ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی ہوں یہ مجھے ماں اور میں اسے بیٹا ہی سمجھ چکے ہیں۔‘‘ اس نے اشارے میں سب کہہ سنایا۔
’’اور آپ کی اپنی زندگی۔‘‘
’’آغاجی، یہ آپ پوچھ رہے ہیں جو ملازم کی تکلیف پر پریشان ہوکر امریکہ جانا چاہتے ہیں یہ تو پھر معصوم تنہا بچہ ہے۔‘‘
’’ملازم کی تو بات ہی کیا کروں، میرا فون بقول عارض کہیں گم ہوگیا اور ڈاکٹر ابھی مجھے سفر کی اجازت نہیں دے رہا۔ مگر جیل بہت بھیانک جگہ ہوتی ہے وہ بھی ایک ادھیڑ عمر شخص کے لیے عارض کچھ چھپا رہا تھا لیکن میں کچھ کہہ کر جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’اگر میں جا کر زندہ نہ لوٹ سکوں تو تم اس گھر کو آباد کردو گی۔‘‘
’’آغاجی، فی الحال تو آپ ہرگز نہ جائیں اور کسی طریقے سے اپنے ملازم کی خیریت پتا کریں۔‘‘
’’ماما، ماما بارش ہورہی ہے چلیں نا دیکھیں نا۔‘‘ اسی لمحے اذان بہت خوشی سے بھاگتا ہوا آکر بولا تو وہ گھبرا گئی، اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ارے بارش شروع ہوگئی، چلو فوراً۔‘‘
’’بارش بہت تیز ہے اولے بھی پڑرہے ہیں فوراً جانا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ عارض نے اسی وقت آکر کہا لیکن اس نے سنی ان سنی کردی۔
’’نہیں آغاجی اجازت دیجیے، اذان کو ٹھنڈک لگ جائے گی۔‘‘ وہ آغاجی سے براہ راست مخاطب ہوئی۔
’’ارے بیٹا آپ جنگل میں نہیں ہو کچھ نہیں ہوتا اذان کو اور بارش رک ہی جائے گی تو چلی جانا ورنہ اپنا گھر ہے میرے ساتھ والے کمرے میں رہو۔‘‘ آغاجی نے بڑی اپنائیت سے کہا تو وہ ہکلا کر بولی۔
’’نہیں وہ، آغاجی پلیز۔‘‘
’’بیٹا میری خاطر اذان میرے پاس ہی سوئے گا کیوں اذان بیٹا؟‘‘ آغاجی نے کہا تو اذان نے معصومیت سے شرمین سے پوچھا۔
’’ماما میں انہیں کیاں کہوں؟‘‘
’’نانا… نانا جان… اب چلو…!‘‘ وہ پرس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
’’کھانا تیار ہے۔‘‘ عارض نے اطلاع دی۔
’’بیٹا کھانا میرے ساتھ کھانا، تب تک بارش رک جائے گی۔‘‘ آغاجی نے کہا تو وہ رد نہ کرسکی دوبارہ بیٹھ گئی لیکن اسے اچھا بالکل نہیں لگ رہا تھا بلکہ افسوس ہورہا تھا کہ کیوں چلی آئی؟
ز…خ …ز
پرتکلف کھانا بھی آغاجی کے کمرے میں کھایا، قہوہ بھی پی لیا مگر بارش تواتر سے جاری تھی۔ اذان آغاجی سے بہت بے تکلف ہوچکا تھا عارض کی چور نگاہوں کا تعاقب وہ خود کر رہی تھی، اس کی آنکھوں میں بے پناہ منت تھی، محبت تھی، التجا تھی، بے بسی اور ندامت تھی۔ وہ جبکہ بہت مضطرب تھی اڑ کر بھاگ جانا چاہتی تھی۔ اٹھ کر بارش کا جائزہ لینے کے لیے باہر نکل آئی آسمان میں تو جیسے چھلنی لگی تھی پورا لان جل تھل کا منظر پیش کررہا تھا بارش کی طاقت سے بہت سے نازک پھول ٹوٹ کر پانی کا حصہ بن گئے تھے۔
’’یہ بارش جلدی رکنے والی نہیں، مجھے آغاجی سے اجازت لینی چاہیے۔‘‘ وہ یہ سوچ کر پلٹی تو عارض سینے پر ہاتھ باندھے پشت پر کھڑا تھا وہ ٹکراتی ٹکراتی بچی۔
’’سوری۔‘‘ بے اختیار ہی اس کے منہ سے نکلا تو اس نے جرأت کی۔
’’بارش اچھا سائن ہوتی ہے۔‘‘
’’ہر انسان کا مختلف تجربہ ہوتا ہے۔‘‘
’’میں نے محبت کرنے والوں کی بات کی ہے۔‘‘
’’مجھے اس کا تجربہ نہیں۔‘‘ وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی کہ وہ آگے آگیا۔
’’معلوم ہے تم نے مجھ سے محبت نہیں کی۔‘‘
’’راستہ چھوڑو میرا۔‘‘
’’میں نے یہی تو پوچھا تھا کہ مجھ سے محبت کرتی ہو اور پھر یہ جواب نہیں آیا۔‘‘
’’اور پھر تمہیں اپنی فلرٹ ہابی پر بھی تو نئی فوٹو لگانی تھی۔‘‘ اس نے بہت سرد لہجے اور سپاٹ انداز میں کہا۔
’’تمہارے بعد کوئی فلرٹ ہے نا افیئر۔‘‘
’’اچھا، پلیز مجھے یہ سب نہ بتائیں، دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر بولی۔
’’ابھی بارش نہیں تھمی، مت گھبرائو میں تمہاری اصل محبت کے بارے میں نہیں پوچھوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ معافی کے دروازے تو اللہ بھی ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔‘‘
’’پلیز آپ ایسی باتیں نہ کریں۔‘‘
’’ایسا موسم پہلے بھی ہماری زندگی میں آیا تھا یاد ہے تمہارے گیلے بالوں سے ٹپکتا پانی میں نے اپنے لبوں سے چھوا تھا۔ تم دھل کر نکھر کر نرم و نازک گلاب کی کلی لگ رہی تھیں۔‘‘ وہ ماضی کے خوب صورت کسی منظر میں کھو گیا۔
’’ہنہہ، آپ کا دماغ چل گیا ہے، میں نے آکر بہت بڑی غلطی کی۔‘‘ اسے غصہ آگیا۔
’’شرمین، مجھے غلط نہ سمجھو پلیز۔‘‘
’’غلط کو غلط ہی سمجھتے ہیں ویسے مجھے آپ کو نہیں سمجھنا۔‘‘ وہ سختی سے کہہ کر واپس آغاجی کے کمرے میں پہنچ گئی، اس کے جانے کے بعد وہ پُرملال سا برآمدے کے ستون سے ٹیک لگا کر صرف اسی کے لیے سوچتا رہا یہ سچ تھا کہ وہ آج کل اس کے اعصاب پر طاری تھی۔ جس قدر دور بھاگ رہی تھی۔ وہ اتنا ہی اس کے قرب کے لیے مچلا جارہا تھا۔
’’شرمین کتنے سلجھے ہوئے طریقے سے تم نے مجھے الجھا دیا آخر۔‘‘ یہ تمہارا نفرت آمیز انکار کبھی تو اقرار میں بدلے گا تمہارے اس سلوک کا میں مستحق ہوں۔‘‘ وہ یہ سوچ کر کمرے میں آگیا۔
انکار جیسی لذت اقرار میں کہاں
بڑھتا ہے عشق غالب اس کی نہیں نہیں سے
ز…خ …ز
اذان کو تو سمجھا بجھا کر مطمئن کردیا۔
سارے راستے اس نے اتنے سوال کیے کہ وہ سخت الجھن کا شکار ہوگئی سڑکوں پر پانی، آسمان سے برستا پانی ایسے میں وہ گاڑی لے کر نکل تو آئی تھی لیکن بہت برے حالات تھے احتیاط کی اشد ضرورت تھی۔ ویسے تو عارض اس کی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی چلا رہا تھا، آغاجی نے اس کی ایک نہ سنی تھی اسے زبردستی بھیجا تھا گیٹ تک چھوڑ کر وہ پلٹ گیا وہ دونوں بھاگ کر اپنے پورشن میں پہنچے۔
’’ماما ہم نانا جان کے پاس ہی سو جاتے۔‘‘
’’نہیں بیٹا، صبح آپ نے اسکول جانا ہے۔‘‘
’’نانا جان کہہ رہے تھے کہ وہ یونیفارم ڈرائیور سے منگوالیں گے۔‘‘
’’اچھا نہیں لگتا بیٹا ہم ملنے گئے تھے اور بس۔‘‘
’’وہ عارض انکل بھی کہہ رہے تھے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ چونکی۔
’’کہ رات یہیں رک جائو، میں آپ کا انکل ہوں۔‘‘
’’چلو کپڑے چینج کرکے بستر پر آجائو، میں دودھ لاتی ہوں۔‘‘ اس نے ٹالا۔
’’ماما نانو یہاں کیوں نہیں رہتیں؟‘‘
’’کہاں؟‘‘ اس نے بے دھیانی میں پوچھ لیا۔
’’نانا جان کے گھر۔‘‘
’’آپ نہیں سمجھو گے زیادہ باتیں نہیں کرتے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر گئی کچھ ہی دیرے میں واپس آئی دودھ کا گلاس اس کی طرف بڑھایا مگر وہ وہی تصویر آنکھوں سے لگائے بیٹھا تھا۔
’’اذان، تصویر رکھ دو، دودھ پی لو۔‘‘
’’نانا جان اور انکل نے میرے ڈیڈی کا ذکر تک نہیں کیا، سب ڈیڈی سے خفا ہیں۔‘‘
’’کوئی خفا نہیں ہے، آپ کے ڈیڈی ہم سب سے خفا ہوگئے ہیں۔‘‘
’’ماما ہم انہیں منانے چلیں؟‘‘
’’ہاں آپ کی چھٹیاں ہوں گی تو پروگرام بنائیں گے۔‘‘
’’ہم نانا کے گھر جائیں گے کیا؟‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’نانا جان نے وعدہ لیا ہے کہ میں روز ان سے ملنے آیا کروں۔‘‘ اذان نے دودھ پیتے ہوئے جواب دیا۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔‘‘
’’عارض انکل آیا کریں گے وہی چھوڑیں گے۔‘‘
’’اذان۔‘‘ اس نے سختی سے پکارا تو وہ خاموش ہوگیا۔
’’اذان، ہمیں کسی کو تنگ نہیں کرنا اور پھر پڑھائی بھی کرنی ہوتی ہے۔‘‘ اس نے کچھ سوچ کر نرم لہجے میں کہا اور اس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیریں وہ دودھ پی کر لیٹ گیا اس نے مین لائٹ آف کی خود اس کے سرہانے بیٹھ کر زندگی کو اول روز سے دہرانے لگی۔ کتاب زیست کے صفحے پھڑپھڑا کر بدلتے رہے آنکھوں سے شبنم برستی رہی آپ ہی آپ صبیح احمد کی موت کا افسوس اور عارض کی موجودگی کا احساس صرف اس کی بے بسی کا سامان تھا۔ چاہ کر بھی نہ صبیح احمد کو روک سکی تھی اور نہ عارض کے لیے کچھ کرسکتی تھی۔
’’بہت دیر ہوگئی پچھلے ساون کو بیتے دیر ہوگئی تم اب کیوں وہ لمحے یاد کرتے ہو؟‘‘ اس نے عارض سے گویا خود کلامی کی کتنا وجیہہ لگ رہا تھا سرمئی شلوار سوٹ میں دل میں سما جانے والے اسی پرانے انداز میں۔
ز…خ …ز
بارش کی شدت کافی کم ہوچکی تھی۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا کچھ دیر پہلے وہ باہر کے منظر کا حصہ تھی۔ قریب بہت قریب کھڑی تھی۔ اس کے لان سے وہی مخصوص بھینی بھینی سی خوش بو آرہی تھی۔ حسن کی رعنائی آج بھی اسی طرح برقرار تھی بس اس میں اداسی شامل ہوگئی تھی اجنبیت سی آگئی تھی۔
’’کاش شرمین تم ایک بار ہی میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھتیں مگر تم تو اور سرابوں میں لپٹ گئی ہو، میں نے جس شخص کے لیے فاصلہ بڑھایا وہ تو تمہارے قریب اب دکھائی بھی نہیں دیتا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اب تمہاری زندگی میں کیا رول ہے یہ اذان کون ہے، تمہارے ساتھ اس کا حقیقی رشتہ ہے یا نہیں، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ صبیح احمد تمہاری ہے اگر تم اسی کی محبت ہو تو میں صرف معافی مانگنا چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کردینا لیکن شرمین ایسا نہیں تو مجھے بتائو سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے میں کہیں غلط ہوں تو کہیں صحیح بھی ہوں میں اس وقت الجھا الجھا، بکھرا بکھرا ہوں میں نے دانستہ اذان سے کچھ نہیں پوچھا کچھ نہیں کہا کہ مبادا تم غلط سمجھو مگر میرے اندر جو جوار بھاٹا ابل رہا ہے وہ برداشت سے باہر ہے۔‘‘ سوچتے سوچتے ذہن تھک سا گیا تو بیڈ پر آڑا ترچھا آلیٹا، عین اسی وقت صفدر کا فون آگیا وہ بہت ڈسٹرب تھا اس کی امی بیمار ہوگئی تھیں پوتے کی جدائی میں اسے فون اٹینڈ کرتے ہی اس نے بتایا اور ساتھ میں پوچھ لیا۔
’’ہاں کیا بنا، میرے کام کا؟‘‘
’’وہ، میں نہیں جاسکا بارش کی وجہ سے اور شرمین کی وجہ سے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب، شرمین اور اس کا بیٹا اذان آئے ہوئے تھے۔‘‘
’’خیریت سے۔‘‘
’’بابا نے بلایا تھا، یار سب معمہ ہے تم، تم نے بھی پتا نہیں کیا، شرمین کا بیٹا کہاں سے آگیا اور وہ اس کی پہلی محبت کہاں گئی؟‘‘ اس نے اپنی جھنجلاہٹ اس پر انڈیل دی۔
’’پہلی، دوسری، یہ فضول باتیں پوچھنے والی ہیں۔‘‘
’’ہاں، اس کے میرے درمیان سب واضح ہونا چاہیے۔‘‘
’’اگر وہ تمہارے اور اپنے درمیان ایسا چاہے گی تو تم نے سنجنا کی وجہ سے چھوڑا یا کوئی اور وجہ تھی یہ یقین کرنا بھی تو بہت مشکل ہے۔‘‘
’’صفدر سنجنا جھوٹ ہے فیک اسٹوری۔‘‘
’’تو پھر تمہارے ماغ میں پھوڑا نکلا تھا اس وجہ سے شرمین سے معذرت کرلی تھی۔‘‘
’’مذاق نہیں کرو۔‘‘
’’یار مذاق نہیں ہے، شرمین پوچھ سکتی ہے نا۔‘‘
’’میں سب بتا دوں گا سب کہہ دوں گا۔‘‘
’’تو آج کہہ دیتے۔‘‘
’’وہ بات ہی نہیں کرتی۔‘‘
’’سلسلہ ملاقات جاری رکھو، کرلے گی۔‘‘
’’سوری میں کل ہی جائوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ورنہ یار آر یا پار، میں نے بھی سوچ لیا ہے۔‘‘ صفدر نے فیصلہ کن انداز میں کہا تو اس نے روکا۔
’’نہیں، نہیں کوئی جلد بازی نہیں، نوٹس ہی آیا ہے، اس پر بات ہوسکتی ہے۔‘‘ اس نے سمجھایا۔
’’آغاجی ٹھیک ہیں نا۔‘‘
’’ہاں وہ تلوار بھی سر پر لٹک رہی ہے، انہوں نے جانے کی رٹ شروع کردی ہے اور میں خوف زدہ ہوں۔‘‘
’’یہ تو ہے کہ انہیں بہت صدمہ اور جھٹکا لگے گا۔‘‘
’’مجھے ان کی صحت کی فکر ہے۔‘‘
’’ہونی بھی چاہیے۔‘‘
’’چلو پھر کل ملاقات ہوتی ہے۔‘‘ صفدر نے یہ کہہ کر فون بند کردیا تو وہ پھر سے آنکھیں موند کر صرف اور صرف شرمین کے بارے میں سوچنے لگا۔
’’تمہاری محبت بے شک صبیح احمد ہوں مگر میری پہلی اور آخری محبت صرف تم ہو۔‘‘ اس نے خیال میں شرمین سے کہا۔
ز…خ …ز
بارش کے بعد کھلی کھلی سی دھوپ میں خوش گوار دن کا آغاز اس نے بھرپور ناشتے کے ساتھ کیا، آغاجی بہت خوش گوار موڈ میں اخبار پڑھتے ہوئے بات کررہے تھے زیادہ تر اذان کی اور شرمین کی باتیں۔
’’آج کے پروگرام کیا ہیں آپ کے؟‘‘
’’ابھی ایک کام سے جانا ہے۔‘‘ عارض نے بتایا۔
’’تو دو کام ہمارے بھی کر آنا۔‘‘
’’بتائیے۔‘‘
’’ایک تو نیویاک کی سیٹ کنفرم کرائو دوسرا آفس میں نیویارک کے کوئی نہ کوئی نمبر ہوں گے۔‘‘
’’آغاجی آفس بند ہوچکا لوگ دائیں بائیں چلے گئے اور معید صاحب۔‘‘ عارض کی پیشانی پر گھبراہٹ کے باعث پسینہ آگیا۔
’’اخاہ، سب کھیل آپ کی وجہ سے بگڑ گیا، نہ آفس، نہ آفس والے، بے چارے معید صاحب جیل میں سڑ رہے ہیں۔‘‘
’’میں رابطے کی کوشش کروں گا۔‘‘
’’چھوڑو بس سیٹ کنفرم کرائو اور ہاں اذان بیٹے کو لیتے آنا۔‘‘
’’بابا ڈاکٹر نے ابھی سفر سے منع کیا ہے اور سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ نہیں چاہتا تھا اس لیے پوری کوشش سے مخالفت کی۔
’’عارض یہ سنگین مسئلہ ہے وہ معصوم مجرم بنے ہوئے ہیں۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے کچھ کرتا ہوں۔‘‘
’’اذان کو ضرور لانا۔‘‘
’’بابا شرمین نہیں بھیجے گی۔‘‘
’’بھیج دے گی اور پھر اس بہانے تمہاری ملاقات ہوجائے گی ملتے رہنے سے گرہیں کھلتی جائیں گی۔‘‘
’’اوکے۔‘‘
’’اسے رام کرو، مجھے اس روز خوشی ہوگی جب تم اور شرمین ہنستے مسکراتے آئو گے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
اسی وقت آفس سے ایڈمن آفیسر امتیاز صاحب فائلیں اور ڈاک سنبھالے آگئے، عارض انہیں آغاجی کے پاس چھوڑ کر اپنے کمرے میں آیا۔ صفدر والا لفافہ اٹھایا اور باہر نکل آیا مگر گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے پہلے اس نے صفدر سے فون پر زیبا کے گھر کا پتا سمجھا اور پھر دل چاہا کہ شرمین کو اذان کو تیار کرنے کے بہانے فون کیا جائے۔ کافی دیر بیل جاتی رہی اور پھر شرمین نے فون اٹینڈ کرلیا۔
’’عارض صاحب میں شکریہ ادا کرکے آئی تھی۔‘‘ اس نے تلخی سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ کے کھانے کا، آپ کی کمپنی کا؟‘‘
’’بہت افسوس کی بات ہے۔‘‘ عارض کا دل دکھا۔
’’کام کی بات کریں۔‘‘
’’وہ بابا نے کہا تھا کہ اذان کو لے کر آنا۔‘‘
’’اذان تو اسکول میں ہے اور ویسے بھی وہ روز تو نہیں جاسکتا۔‘‘ اس کے کھرے جواب کی توقع تھی اسے۔
’’دراصل اپنوں کے ساتھ وقت کا پتا نہیں چلتا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’لیکن وقت کے ساتھ اپنوں کا پتا چل جاتا ہے۔‘‘ جوابی حملہ شرمین نے کیا۔
’’اندازے غلط بھی ہوتے ہیں۔‘‘ عارض بولا۔
’’جیسے کہ میرے۔‘‘ وہ بولی۔
’’اس پر بات کریں۔‘‘
’’ضرورت نہیں، میں اس وقت میٹنگ میں ہوں۔‘‘ شرمین نے ٹکا سا جواب دیا اور فون کاٹ دیا۔ اس کا دل بجھ سا گیا۔ جانا کہیں تھا پہنچ کہیں گیا صفدر نے جو پتا سمجھایا تھا اس سے کہیں دور نکل آیا۔
’’اوہ شٹ۔‘‘ اس نے اسٹیرنگ پر مکہ مارا، گاڑی واپس موڑی اور پھر پوچھتا پچھاتا مطلوبہ محلے میں پہنچ ہی گیا۔ اصل مسئلہ گھر ڈھونڈنا تھا۔
ز…خ …ز
تنگ اور چھوٖٹی گلیوں میں عارض کو پیدل چلنا پڑا۔ مگر پھر پرچون فروش سے گھر کی نشانی بتا کر گھر ڈھونڈ ہی لیا۔
گھر تو کشادہ گلی میں تھا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا دوسری تیسری دستک پر دروازہ کھولا گیا اور بزرگ خاتون سامنے کھڑی تھیں۔
’’جی بیٹا۔‘‘
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘
’’آنٹی میں صفدر کا دوست ہوں۔‘‘
’’اوہ اچھا اچھا آئو اندر آئو صفدر تو ٹھیک ہے۔‘‘ حاجرہ بیگم کے شدت جذبات کے باعث وہ دروازے کے اندر داخل ہوگیا۔
’’جی صفدر ٹھیک ہے لیکن اس کی امی بیمار ہیں عبدالصمد کی وجہ سے۔‘‘ اس نے ان کے ساتھ چلتے ہوئے بتایا۔
’’اوہ یہ تو اچھی بات نہیں، بیٹھو۔‘‘ انہوں نے بڑی محبت سے اسے صحن میں کرسی پر بٹھایا۔
’’صفدر تو غصے میں تھا۔‘‘
’’اس کا غصہ بجا ہے بیٹا، میری بیٹی نے میرا سر جھکا دیا ہے میں تو روز سمجھاتی ہوں کہ اپنے گھر جائو، مگر ضد پکڑ کر بیٹھی ہے۔‘‘ انہوں نے سامنے تخت پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’تو آپ چاہتی ہیں کہ بھابی اپنے گھر جائیں، ان کا اپنا فیصلہ۔‘‘
’’بے وقوفی ہے وقتی ناراضگی ہے۔‘‘
’’تو پھر سمجھائیں۔‘‘ عارض نے لفافے کی چھوٹی سی تہہ کرلی۔
’’بہت سمجھاتی ہوں آئے گی تو پھر سمجھائوں گی، بیٹا آپ بھی صفدرکو سمجھائو ذرا نرمی سے پیش آیا کرے۔‘‘
’’جی ضرور، میں کہتا ہوں بھابی کہاں ہیں۔‘‘
’’بیٹا وہ اور اس کی سہیلی کہیں مینا بازار لگا ہے وہیں گئی ہیں۔‘‘
’’اوہ چلیں پھر آپ انہیں سمجھائیے گا کہ بیٹے کو گھر لے جائیں خالہ جان اداس ہیں۔‘‘
’’میں کہوں گی بلکہ میری طرف سے جہاں آرا بہن کی خیریت پوچھنا۔‘‘
’’جی ضرور، اب اجازت دیجیے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’نہیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں بہت خوشی ہورہی ہے صفدر خود بھی اچھا ہے اور دوست بھی بہت اچھا۔‘‘
’’ہاہا شکریہ، تکلف کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اچھا بیٹا صفدر کا غصہ ٹھنڈا کرنا۔‘‘
’’جی، جی ابھی اس کے پاس جاتا ہوں۔‘‘ وہ لفافہ جیب میں ٹھونس کے واپس آگیا سمجھ گیا کہ نوٹس سے متعلق وہ کچھ نہیں جانتیں انہیں نہ بتانے میں ہی فائدہ تھا۔
ز…خ …ز
صفدر سخت ذہنی خلفشار کا شکار تھا۔ اسے عارض کی واپسی کا شدت سے انتظار تھا۔ بہت اضطراب تھا جس کی وجہ سے وہ بے شمار سگریٹ پھونک چکا تھا مگر عارض کی طرف سے کوئی فون میسج نہیں مل رہا تھا اسے عجیب عجیب وسوسے سے آرہے تھے کہ کیا ہوا ہوگا؟ زیبا دست و گریباں ہوگئی ہوگی۔ عارض کے منہ پر تھپڑ مارے ہوں گے۔ یا ایسا کچھ بھی نہیں… زیبا اپنے جھوٹ کی وجہ سے بول ہی نہ سکی ہو شرمندہ ہوکر رو رہی ہو، اے کاش میرا دوست شرمندہ نہ ہو۔ زیبا کا بہتان ہو
اس کا جھوٹ ہو، اس کا فریب ہو، پھر کہہ سکوں کہ تم اپنا گناہ میرے جگری دوست پر ڈال کر مطمئن تھیں نا۔ دیکھو! کیسے تمہیں مات ہوئی، میں نے عارض تمہارے سامنے کھڑا کردیا تم نظر بھی نہیں ملا پائی ہوں گی۔
صفدر صاحب اور اگر عارض نے اپنا گناہ قبول کرلیا تو تب کیا کرو گے؟ اپنے ہی سامنے دوستی کا بھرم ٹوٹتے کیسے دیکھو گے؟ کیا کرو گے دوست کا گلا دبا دو گے جان سے مار دو گے اس پر تھوکو گے ماتم کرو گے دوستی کا، زیبا کی بے گناہی پر یقین کرلو گے یا چھوٹے دل سے اسے نکال باہر کرو گے یہ تو سچ ہے کہ یا تودونوں رشتے ختم ہوجائیں گے یا پھر ایک بچ جائے گا۔ مگر کون سا۔
یا خدا وقت گزر کیوں نہیں رہا وہ سوچتے سوچتے چلا اٹھا مگر عارض کی کوئی خبر نہ تھی۔
(ان شاء اللہ تعالیٰ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close