Aanchal Dec 15

محبت جیت جاتی ہے

نادیہ احمد

کمال شخص تھا جس نے مجھے تباہ کیا
خلاف اس کے یہ دل ہو سکا ہے اب بھی نہیں
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

میرون کاٹن کا ڈھیلا سا کرتا جینز پہ پہنے، گلے میں ہم رنگ دوپٹے کو مفلر کی طرح لپیٹے وہ دکان میں داخل ہوئی۔ اس کے کندھے پہ لیدر بیگ لٹک رہا تھا۔ ظفر معراج نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے اسے دروازے سے اندر آتے دیکھا۔
’’خوش آمدید! آج خالی ہاتھ آرہی ہیں سارہ جی!‘‘ دکان دار کا لہجہ عامیانہ تھا۔
’’تھوڑا کام باقی تھا‘ پرسوں تک فائنل ہوجائے گا۔‘‘ اس کے سنجیدہ لہجے اور نپے تلے جواب پہ ظفر معراج نے بتیسی نکالی۔
’’چلو جی کوئی بات نہیں پرسوں کون سا دور ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں آج بھی اتنی ہی اداس تھیں۔ خواتین گاہکوں سے وہ جلد فری ہو جاتا تھا۔ گاہک کو شیشے میں کیسے اتارنا ہے اسے خوب آتا تھا۔ وہ اس بازار کا پرانا کھلاڑی تھا اور اپنی چرب زبانی کے باعث کافی مشہور بھی تھا مگر اس تئیس چوبیس سال کی لڑکی سے زیادہ بات کرنے کا اس میں آج تک حوصلہ نہ ہوا تھا۔ وہ کئی بار اس کی دکان پہ آچکی تھی مگر اس کے چہرے پہ ہمیشہ کچھ ایسا تاثر ہوتا کہ ظفر معراج جیسا کایاں آدمی بھی اس سے بے تکلف نہیں ہو پاتا تھا۔
’’آج پیمنٹ ہوجائے گی؟‘‘ سارہ نے مدھم آواز سے پوچھا۔ وہ کاؤنٹر پہ جمی دھول پہ اپنی انگلی سے لکیریں بنارہی تھی۔
’’ہاں جی کیوں نہیں؟ میں تو آپ کا ہی انتظار کررہا تھا۔ یہ رہی آپ کی امانت۔‘‘ دراز سے چند نوٹ نکال کر اس نے سارہ کی طرف بڑھائے۔ اس کی آنکھوں میں بازاری چمک تھی۔ سارہ نے ہاتھ بڑھا کر نیلے نوٹوں کو کونے سے تھاما۔
’’یہ تو صرف پانچ ہزار ہیں؟‘‘ نوٹ گنتے اس نے سر اٹھا کے پوچھا۔
’’یہ ہیں چار تصویروں کے پیسے۔ باقی کی ادائیگی آپ کو پرسوں کر دوں گا۔ آپ نے آنا تو ہے نا اپنی تصویریں لے کر۔‘‘ وہ چالاکی سے بولا۔
’’لیکن چار پینٹنگ کے پانچ ہزار تو بہت کم ہیں ظفر صاحب۔ وہ پینٹنگز اس سے کہی زیادہ مالیت کی تھیں۔‘‘ وہ حیرت سے کبھی ظفر معراج کو اور کبھی اپنے ہاتھوں میں تھامے نوٹوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’اس چھوٹے سے شہر میں اس سے زیادہ کی امید رکھنا حماقت ہے محترمہ۔ یہ تو میں ہوں جو آپ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے آپ کی تصویریں اپنی دکان میں رکھ لیتا ہوں۔ اب اس چھوٹی سی دکان میں گھریلو سجاوٹ کی معمولی سی چیزوں میں آپ کی انوکھی انوکھی تصویریں تو عجیب ہی لگتی ہیں۔ میں نے تو آپ سے پہلے کہا تھا یہاں اس مال کی قیمت آپ کو وہ نہیں ملے گی جو کسی بڑے شہر میں مل سکتی ہے۔ آپ تو خود کو یہاں اپنی مرضی سے ہلکان کررہی ہیں۔‘‘ سارہ کے استفسار پر وہ منہ بنا کر بولا۔
بے بسی سے اس نے ظفر معراج کے پرفریب چہرے کو دیکھا جو اسے اس کی بیش قیمت پینٹنگز کی تھوڑی سی قیمت پکڑا کر اب مختلف توجیہات پیش کررہا تھا۔
’’میں چلتی ہوں۔ پرسوں تک اور تصاویر بھی لے آؤں گی۔‘‘ روپے کندھے پہ لٹکے سیاہ بیگ میں ڈالتے وہ بوجھل قدموں سے دروازے کی طرف مڑ گئی۔
اپنی سوچوں میں گم سر جھکائے وہ دکان سے باہر نکل رہی تھی کہ اچانک سامنے سے تیزی سے آتے ایک دراز قامت شخص سے جا ٹکرائی۔
’’معذرت چاہتا ہوں غلطی میری ہے۔ تھوڑا جلدی میں تھا۔‘‘ خوب صورت لہجے میں معذرت کرتا وہ کافی شرمندہ لگا۔ سارہ نے سنجیدہ نگاہوں سے اس کے طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر تیزی سے دکان سے باہر نکل گئی۔
نوارد نے حیرت سے اسے باہر نکلتے دیکھا اور پھر کندھے اچکا کر دکان میں داخل ہوگیا۔
’’واہ جی واہ۔ آج تو ہماری دکان کی قسمت کھل گئی۔ ڈاکٹر صاحب آئے ہیں۔‘‘ ظفر کے لہجے میں وہی پیشہ ورانہ چہکار تھی جو گاہکوں کو دیکھ کر ہر دکاندار کے لہجے میں ہوتی۔
’’میں یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا آپ سے پتا کروں میرا کام ہوا یا نہیں؟‘‘ ڈاکٹر حدید نے ماتھا کھجاتے ہوئے ظفر معراج سے پوچھا۔
’’کہاں جی۔ من موجی لڑکی ہے۔ آئے آئے نہ آئے۔ آپ فکر نہ کریں۔ جب آئے گی میں آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔‘‘ ظفر نے لچر پن سے کہا۔
’’میرا کارڈ تو ہے نہ آپ کے پاس؟‘‘ ڈاکٹر حدید نے کنفرم کیا۔
’’کارڈ ہے آپ کا میرے پاس اور پھر نہ بھی ہو تو آپ جیسی مشہور شخصیت کو یہاں کون نہیں جانتا۔ آپ حوصلہ رکھیں وہ جس دن آئی میں اسے آپ کے پاس بھیج دوں گا۔‘‘ ظفر معراج نے عیاری سے کہا۔
’’چلیں پھر میں چلتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جب آتے ہیں خدمت کا موقع ہی نہیں دیتے۔ آج میں آپ کو ایسے نہیں جانے دوں گا۔ ٹھنڈا منگواؤں یا گرم۔‘‘ ظفر نے خالص کاروباری لہجے میں کہا۔
’’نہیں پھر کبھی۔ اس وقت تو جلدی میں ہوں۔ آپ بس میرا کام یاد رکھئیے گا۔‘‘ خوش مزاجی سے کہتا وہ دکان سے باہر نکل گیا۔ اس کی سفید پراڈو دکان کے ریمپ پہ کھڑی تھی۔ ریموٹ سے اس کا سینٹرل لاک کھول کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور چند لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
ء…/…ء
اس سیاحتی شہر کے چھوٹے سے بازار میں یہ اپنی نوعیت کی واحد دکان تھی۔ گھریلو آرائش کی سستی چیزیں، کانچ کے گل دان، پلاسٹک کے پھول، معمولی درجے کے ڈیکوریشن پیس اور چند سستی تصاویر اور پوسٹر یہاں باآسانی مل جاتے تھے۔ اس بازار کی باقی دکانوں کی طرح یہ بھی بہت چھوٹی سی مگر ہینڈی تھی اور ظفر معراج اپنے طبقے کا نمائندہ، انہی خصوصیات کا حامل تھا جیسے اس پیشہ سے وابستہ لوگ ہوتے ہیں۔ اپنی چرب زبانی سے گاہکوں کو شیشے میں اتارنے والی فطرت اور دس کا مال پچاس میں فروخت کرکے سو کا مال دس میں خرید لینا۔
چند ماہ پہلے سارہ اس کی دکان میں اپنی چند پینٹنگز لے کر آئی تھی اور اس سے درخواست کی تھی کہ وہ ان تصاویر کو اپنی دکان میں رکھ کر فروخت کرے اور اس کام کے لیے سارہ اسے کل قیمت کا پچیس فیصد ادا کرے گی۔ ظفر کو اس سودے میں خاص دلچسپی نہیں تھی کیونکہ ان پینٹنگز کو ایک نظر دیکھ کر ہی وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ بہت قیمتی ہیں اور اس شہر میں ان کا گاہک ملنا مشکل ہے مگر اس بے تحاشہ حسین لڑکی کو انکار کرنے کو اس کا دل نہیں مانا تھا۔ گوری رنگت، دراز قد، تیکھے نقوش اور آنکھوں میں اداسی۔ سستے کاٹن کے کپڑے پہنے بھی وہ کسی اپسرا کا گمان دے رہی تھی۔ اپنے اردگرد سے بے نیاز وہ ہوش اڑانے والے حسن کی مالک تھی۔ ظفر معراج کو اسے دوبارہ دیکھنے کی حسرت ہوئی اور اسی لیے اس نے سارہ کی پینٹنگز اپنی دکان میں رکھ لی تھیں۔ یہ ایک اتفاق تھا کہ اس کی دونوں پینٹگز کسی ٹورسٹ کو پسند آگئیں اور اس نے ان کے چھ ہزار دئیے تھے۔ ظفر معراج کو بیٹھے بٹھائے پندرہ سو مل گئے اور اس نے سارہ کو مزید پینٹنگز لانے کا کہا تھا۔ اگلی بار سارہ چند اور پینٹنگز لائی اور وہ ان پہلی دو پینٹنگز کی طرح زبردست تھیں۔ کسی بڑے شہر کی آرٹ گیلری میں ان تصاویر کی قیمت مصور کو مالا مال کرسکتی تھی۔ اس نے توصیفی نگاہوں سے تصاویر کو دیکھا تھا۔ رنگوں کو اس خوب صورتی سے کینوس پہ بکھیرا گیا تھا کہ ان پہ حقیقت کا گمان ہوتا تھا۔ ان کی قیمت اس وادی میں ملنا مشکل تھی، ظفر معراج یہ بات اچھی طرح جانتا تھا مگر سارہ کو دل برداشتہ کرکے وہ نہیں چاہتا تھا وہ اس کے پاس آنا چھوڑ دے۔ اس لیے اس نے وہ تمام فریم رکھ لیے تھے۔
ڈاکٹر حدید نزدیکی قصبے میں ایک خیراتی ہسپتال کے مالک تھے۔ دارالخیر چیرٹی ہسپتال کے نام سے ابھی چند ماہ پہلے یہ ہسپتال شروع ہوا تھا اور جلد ہی اس علاقے میں ڈاکٹر حدید کا نام زبان زد عام تھا۔ اپنے ہسپتال کے لیے انہیں کچھ سامان خریدنا تھا اور وہ جانتے تھے ان کے مطلب کی چیز اس بازار میں ملنا مشکل ہے پھر بھی ایک نظر دیکھنے کی غرض سے وہ ظفر معراج کی دکان پہ چلے آئے تھے۔ یہاں ان کی نظر ان بیش قیمت تصاویر پہ پڑی جو ہرگز نظر انداز کئے جانے کے قابل نہ تھیں۔
’’ویسے یہ کس مصور کی تصویریں ہیں ظفر صاحب۔‘‘ پچاس ہزار کا چیک کاٹتے ڈاکٹر حدید نے پوچھا۔
’’پتا نہیں ڈاکٹر صاحب! کوئی لڑکی ہے۔ تصویریں میرے پاس رکھوا جاتی ہے اور پھر چند دن بعد آکر پیسے لے جاتی ہے۔‘‘ ظفر معراج نے بتایا۔
’’آپ کے پاس اس کا کوئی رابطہ نمبر ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے کریدا۔
’’نہیں جی خود ہی آجاتی ہے۔ میں نے تو کبھی نہیں پوچھا کہاں رہتی ہے۔ ویسے آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔‘‘ ظفر معراج چوکنا ہوکر بولا۔
’’مجھے اس سے کچھ پینٹنگز بنوانی ہیں۔ اب اگر وہ آئے تو برائے مہربانی میرا یہ کارڈ اسے دے دیجئے گا اور کہئیے گا اس کے لیے میرے پاس کام ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے اپنا کارڈ نکال کر ظفر معراج کی طرف بڑھایا۔
ظفر معراج کے ماتھے پہ اک بل پڑا اور اگلے ہی لمحے اس نے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔ ’’آپ فکر ہی نہ کریں ڈاکٹر صاحب۔ آپ کا پیغام میں پوری ایمان داری سے اس تک پہنچا دوں گا۔ کسی غریب کا بھلا ہوجائے تو ہمیں تو جی ثواب ہی ملنا ہے نا۔‘‘
’’میں آپ کا احسان مند رہوں گا۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے مشکور لہجے میں کہا۔
پچاس ہزار میں بکنے والی پینٹنگز کے محض پانچ ہزار دے کر ڈاکٹر حدید کا پیغام وہ سرے سے گول کر گیا تھا۔ یہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور وہ ہاتھ ملتا رہ جائے۔ اتنا احمق بہرحال وہ نہیں تھا۔
ء…/…ء
’’کوئی رابطہ نہیں ہوا ظفر صاحب۔‘‘ ڈاکٹر حدید آج پھر سارہ کے بارے میں پوچھتا ظفر معراج کی دکان پہ پہنچ گیا تھا۔ گرے شرٹ اور سیاہ پینٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح باوقار نظر آرہا تھا۔
’’وہ میری ملازمہ نہیں ہے ڈاکٹر صاحب۔ جب کام تیار ہوجاتا ہے لے آتی ہے۔ اب کام نہیں بنایا ہوگا تو نہیں آئی۔‘‘ ظفر معراج نے ناگواری سے کہا۔ یہ بندہ اس کے گلے ہی پڑ گیا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا لیکن وہ ایسا مال دار گاہک گنوانے کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
’’آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب! میں نے کہا نہ وہ آئی تو میں آپ کے پاس بھیج دوں گا۔‘‘ اپنی ناگواری پہ قابو پاتا اب وہ مکاری سے مسکرایا۔ لیکن اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
’’ظفر صاحب! میں یہ ایک اور تصویر لے آئی ہوں۔ وہ کاؤنٹر پہ دونوں فریم رکھ رہی تھی۔ سنجیدہ مگر پرکشش آواز پہ چونک کر ڈاکٹر حدید نے پلٹ کر دیکھا۔ اس دن والی خوب صورت لڑکی شیشے کے کاؤنٹر کے پاس کھڑی تھی۔ سیاہ جینز پہ آف وائٹ ڈھیلا سا کرتا اور سیاہ دوپٹے کو گلے میں لپیٹے وہ بہت رف سے حلیے میں تھی۔ اس کے سیاہ بال کیچر میں جکڑے تھے اور چند لٹیں کیچر سے نکل کر اس کے دودھیا چہرے کو پریشان کر رہی تھیں۔ اس کا چہرہ میک اپ سے مبرا تھا لیکن اس پہ اداسی کا راج تھا، وہ چہرہ ڈاکٹر حدید کو اس دنیا کا سب سے خوب صورت چہرہ لگا۔
’’بڑی لمبی عمر ہے سارہ جی! آپ کی۔ ڈاکٹر صاحب ابھی آپ کا ہی پوچھ رہے تھے۔‘‘ گھبراہٹ پہ قابو پاتے ظفر معراج نے کھسیانی آواز میں کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب! یہ ہیں سارہ جی جن کے بارے میں آپ پوچھ رہے تھے۔‘‘ ڈاکٹر حدید کو بتا کر اس نے سارہ کے چہرے کو دیکھا جس پہ سوال لکھا تھا۔
’’یہ جی ڈاکٹر حدید ہیں۔ دارالخیر ہسپتال والے۔ آپ کی ساری تصویریں انہوں نے ہی خریدی ہیں۔‘‘ سارہ نے اپنے ساتھ کھڑے وجیہہ شخص کو دیکھا۔ چھ فٹ قد، چوڑے شانے، گوری رنگت اور آنکھوں میں ذہانت۔ اس کی آنکھوں پہ لگے ڈیزائینر گلاسز اس کی شخصیت کو اور بھی سوبر بنا رہے تھے۔ وہ اب اسی کی طرف دیکھ رہا تھا‘ یہ وہی تھا جو چند دن پہلے اس سے دکان کے دروازے پہ ٹکرایا تھا۔
’’آپ بلاشبہ ایک قابل مصورہ ہیں اور میں آپ سے چند پینٹنگز بنوانا چاہتا تھا اسی سلسلے میں ظفر معراج کو اپنا کارڈ دیا تھا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے پاس آپ کے لیے ایک پراجیکٹ ہے۔‘‘
’’ہم کسی مناسب جگہ بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو۔‘‘ سارہ کو اپنی طرف دیکھتا پاکر ڈاکٹر حدید نے پوچھا۔ سارہ کی آنکھوں میں اجنبیت اور چہرے پہ سنجیدگی قائم تھی۔
’’اس میں کیا شک ہے کہ میں ایک قابل مصورہ ہوں لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں اپنی آسائیشوں پہ لاکھوں خرچ کرنے والے فن کے قددر دان ایک آرٹسٹ کے فن کی قیمت چند ہزار لگا کر ان کی مجبوریاں خریدتے ہیں۔‘‘ سارہ کے لہجے کی تلخی پہ ڈاکٹر حدید نے حیرت سے پہلے سارہ کو اور پھر ظفر معراج کو دیکھا جو شرمندگی سے اپنا سر کھجا رہا تھا۔
’’ظفر صاحب میں پیمنٹ لینے کب آؤں۔‘‘ سارہ نے ظفر معراج کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں یہ پینٹنگز خریدنا چاہتا ہوں۔ پچیس ہزار میں آپ کو ابھی ادا کرسکتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کے ظفر معراج کچھ کہتا ڈاکٹر حدید نے کہا۔ وہ اب والٹ سے پیسے نکال کر گن رہا تھا۔ سارہ نے پہلے ڈاکٹر حدید کو اور پھر ظفر معراج کی اڑی رنگت دیکھا۔ وہ ساری بات سمجھ چکی تھی۔ سارہ کو پیسے تھما کر ڈاکٹر حدید نے پرسکون نظروں سے کاؤنٹر پہ رکھی پینٹنگز کی طرف دیکھا۔ سارہ اب چند نوٹ ظفر معراج کی طرف بڑھا رہی تھی۔
’’آپ کا کمیشن۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا اور باقی رقم اپنے سیاہ بیگ میں رکھ کر دروازے کی طرف پلٹی۔
’’میری آفر پہ غور کیجئے گا مس سارہ۔ ایک آرٹسٹ کے فن کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے یہ چند ہزار تو محض میں نے اس مایہ ناز مصورہ کو نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے ادا کئے ہیں جس نے زندگی کی تلخی کو اتنے حقیقی رنگوں میں قید کیا ہے۔ آپ نے میرے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہے میں آسائشوں اور ضروریات کے فرق سے واقف ہوں اور میرے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اگر ایک بار آپ مجھ سے مل لیں تو میں آپ کے اندازے غلط ثابت کرسکتا ہوں۔‘‘ سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ کاؤنٹر سے فریم اٹھائے دروازے سے باہر نکل گیا۔ اس کا کارڈ کاؤنٹر پہ رکھا تھا۔ سارہ نے کچھ سوچ کر وہ کارڈ اٹھایا اور دکان سے باہر نکل گئی۔
…٭٭٭…
’’میں آپ کا شکر گزار ہوں مس سارہ کہ آپ نے وقت نکال کر میری آفر پہ غور کیا۔‘‘ کافی کا سپ لیتے ڈاکٹر حدید نے کہا۔ ابھی چند منٹ پہلے سارہ اس کے آفس آئی تھی اور اس پروجیکٹ کا پوچھ رہی تھی جس کے لیے ڈاکٹر حدید اس سے ملنا چاہتے تھے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ہسپتال کی پرشکوہ عمارت دیکھ کر وہ کافی متاثر ہوئی تھی۔
سیاہ کاٹن کے کرتے کے ساتھ ہم رنگ ٹراؤزر پہنے گلے میں سفید دوپٹہ لپیٹے وہ سادہ مگر پرکشش لگ رہی تھی۔ آج اس نے اپنے سیاہ بال کھولے ہوئے تھے جو کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پہ آج بھی اداسی تھی۔ شاید وہ لڑکی کبھی نہیں مسکراتی تھی۔
’’آپ کو کس ٹایپ کی پینٹنگز بنوانی ہیں ڈاکٹر حدید!‘‘ بے تاثر چہرے سے اس نے سوال کیا۔
’’مس سارہ! میں نے یہ ہسپتال چند ماہ پہلے ہی شروع کیا ہے۔ یہ میری اور میرے بابا کی تین سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میرے بابا اس چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے تھے اور ان کی زندگی کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے آبائی علاقے میں ایک ہسپتال ہو جس میں تمام بنیادی ضروریات مکمل تکنیکی سہولیات کے ساتھ مفت فراہم کی جاسکیں۔ یہ میرے بابا کا خواب تھا اور میں نے اسے اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہمارے ملک میں صحت کی بنیادی ضروریات کا فقدان ہے اور ہمارے چھوٹے شہر اور قصبے بالخصوص ان مسائل کا شکار ہیں جہاں نہ جانے کتنی قیمتی اور معصوم جانیں ہر سال کسی ریکارڈ کے بغیر ضائع ہوجاتی ہیں۔ میں اکیلا پورے پاکستان کو نہیں بدل سکتا مگر ہاں اس چھوٹے سے قصبے میں میرا یہ قدم بارش کے پہلے قطرے کی حیثیت ضرور رکھتا ہے۔ ایک بڑا قدم اٹھانے کے لیے شروعات ہمیشہ چھوٹے قدموں سے کی جاتی ہے اور اپنے کام کا آغاز میں نے اپنے بابا کے آبائی علاقے سے کیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید کے لہجے میں اعتماد اور چہرے پہ کسی عزم کو پالینے کی خوشی تھی۔
’’میں اس سلسلے میں آپ کی بھلا کیا مدد کرسکتی ہوں۔ میں آپ کی فیلڈ سے بالکل ناواقف ہوں۔‘‘ سارہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’مجھے آپ سے اس کام میں کوئی مدد نہیں چاہیے۔ دراصل آپ کی پینٹنگز نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ پہلی نظر میں ان کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے وہ ایک باکمال مصور کی تخلیق ہیں اور ایک لینڈ اور اس پر حقیقت کے رنگ بھرنا ہر آرٹسٹ کے بس کی بات نہیں۔ میں اپنے ہسپتال کے لیے چند پینٹنگز بنوانا چاہتا ہوں۔ اب تک میں یہاں طبی سہولیات کی جدید انداز میں فراہمی میں مصروف رہا ہوں۔ یہاں جدید مشینری، ماہر ڈاکٹرز اور پیشہ ور مگر پرخلوص اسٹاف میری اولین ترجیح تھی۔ الحمدللہ میں اپنے اس مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوچکا ہوں اور ایک قابل بھروسہ ٹیم یہاں موجود ہے۔ لیکن شاید آپ نے ہسپتال میں داخل ہوتے اندازہ لگالیا ہوگا استقبالیہ اور کوریڈورز کی آرائش باقی ہے۔ میں چاہتا ہوں آپ چند ایسی پینٹنگز میرے اسپتال کے لیے بناکر دیں جو نہ صرف یہاں کی آرائش میں اضافہ کریں بلکہ ان میں کوئی پیغام بھی ہو۔ آپ کی پہلی پوٹریٹس میں یہاں نہیں لگاسکتا کیونکہ ان میں جو نا امیدی اور یاسیت کی جھلک ہے وہ دیکھنے والے کو ڈپریشن کی طرف لے جاسکتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے تفصیلاً کہا۔
’’اگر آپ کو وہ پینٹنگز یہاں نہیں لگانی تھیں تو آپ نے انہیں خریدا کیوں؟‘‘ سارہ نے تجسس سے پوچھا۔
’’مس سارہ! دوائیوں، مریضوں اور ایمرجینسی کے علاوہ میری ایک ذاتی زندگی بھی ہے اور مجھے آرٹ کی تھوڑی بہت شدبد بھی ہے۔ میری اپنی دلچسپیاں اور مشاغل ہیں جو میڈیسن سے یکسر ہٹ کر ہیں۔ میری دنیا میں آرٹ اور کتابوں کی بہت اہم جگہ ہے اور آپ کی پینٹنگز دیکھ کر میں انہیں خریدے بغیر رہ نہیں پایا۔ وہ پینٹنگز میں نے اپنے لیے خریدی تھیں کبھی موقع ملا تو آپ کو اپنی وہ چھوٹی سی دنیا دکھاؤں گا جہاں میں اپنے اسٹریس کو کم کرتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حدید کی مسکراہٹ جان لیوا تھی۔
’’اور اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ سارہ نے مختصر پوچھا۔
’’آپ کی پچھلی تمام پینٹنگز میں ایک فیکٹر کامن ہے اور وہ ہے درد۔ اداسی، یاسیت، ناامیدی‘ کہیں اندھیری رات ہے تو کہیں ڈوبتا سورج‘ کہیں خزاں اور پت جھڑ ہے تو کہیں مردہ جانور کو نوچتے بھیڑیے‘ طوفان میں ڈوبتی کشتی۔ میں نہیں جانتا اتنی کم عمر میں آپ نے اتنی ناامیدی اور تنہائی کو موضوع کیوں بنایا ہے لیکن ان میں آپ نے حقیقت کے رنگوں سے جان ڈال دی ہے۔ میں چاہتا ہوں آپ اتنی ہی حقیقت نگاری سے کچھ ایسی پینٹنگز بنائیں جن میں امید ہو، خوشی اور منزل کو پالینے کا جوش ہو‘ لڑنے کی طاقت ہو، زندگی ہو۔ مجھے یقین ہے آپ یہ اتنا ہی امپریسو پینٹ کر پائیں گی جتنا آپ کا پہلا کام میں دیکھ چکا ہوں اور اسے دیکھ کر بیماری سے لڑتے تھکن زدہ مریضوں کو حوصلہ اور تحریک ملے گی۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے سارہ کے چہرے کو بغور دیکھا جو بہت غور سے اس کی بات سن رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی اداسی اور بڑھ گئی تھی۔ یقینا یہ شخص آرٹ کی بہت گہری سمجھ رکھتا تھا۔ اس نے سوچا۔
’’ٹھیک ہے ڈاکٹر حدیہ میں آپ کے ہسپتال کے لیے پینٹنگز ضرور بناؤں گی لیکن کیا آپ مجھے وہ ایریا دکھا سکتے ہیں جہاں یہ پینٹنگز لگانی ہیں۔ اس طرح مجھے کچھ آسانی ہو گی۔‘‘
’’شیور! چلئے میں آپ کو دکھاتا ہوں۔‘‘ اپنی کرسی سے اٹھتے ڈاکٹر حدید نے کہا۔
استقبالیہ اور کاریڈور کی طرف جہاں وارڈز اور ایمرجنسی روم تھے کل چار مقامات انہوں نے منتخب کئے۔ ڈاکٹر حدید کے مطابق یہاں پہ آتے جاتے مریضوں کی نظر پڑے گی اور وہ ان میں ایک مثبت سوچ لائے گی۔
’’میں کوشش کروں گی ڈاکٹر حدید ایسے مناظر کی تصویر کشی کرسکوں جو کسی کی زندگی میں خوشی کا پیغام لاسکیں، کسی کو روشنی دکھا سکیں اور اس میں لڑنے کا حوصلہ پیدا کرسکیں۔‘‘ وہ بولی تو اس کی خوب صورت آواز میں چھپا درد ڈاکٹر حدید نے محسوس کیا تھا۔ وہ بہت غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے جس پہ درد کے سائے تھے۔
’’ویسے آپ استقبالیہ میں کچھ فریش ان ڈور پلانٹس کا اضافہ بھی تو کرسکتے ہیں‘ ان سے تازگی کا احساس ملتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید کی نظریں خود پہ مرکوز پا کے اس نے جلدی سے کہا۔ اس کا مقصد فقط ڈاکٹر حدید کا دھیان اپنے پر سے ہٹانا تھا اور وہ اس میں کامیاب ہوچکی تھی۔ وہ دونوں اب ساتھ ساتھ چلتے اس کے آفس کی طرف جارہے تھے۔
’’کیا خیال ہے معاوضے کی بات کر لیں۔‘‘ اب وہ دراز سے چیک بک نکال رہا تھا۔
سارا نے بدقت سر ہلایا۔ اسے اس خیراتی ہسپتال کے لیے پیسے لے کر کام کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ اگر یہ سب آج سے چند ماہ پہلے ہوا ہوتا تو شائد وہ معاوضے سے صاف انکار کردیتی مگر اب وہ جس معاشی بحران سے گزر رہی تھی ایسے میں وہ ڈاکٹر حدید کو پیسوں کے لیے منع نہیں کرسکتی تھی۔
’’مجھے مناسب نہیں لگ رہا آپ سے یہ رقم لینا۔‘‘ ڈاکٹر حدید سے چیک لیتے اس نے شرمندگی سے کہا۔ ’’ہسپتال کے فنڈ سے اتنا پیسہ محض انٹیرئیر پہ خرچ ہو۔‘‘
’’ڈونٹ وری یہ رقم میں آپ کو اپنی جیب سے دے رہا ہوں۔ ہسپتال کے فنڈ یہاں کے ٹرسٹی کی زیر نگرانی ہیں اور یہاں کے اخراجات کے لیے ہمارے پاس بہت سی معقول جیبیں ہیں جنھیں ہم کاٹتے رہتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے اپنی بات پہ محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
سارہ نے چیک اٹھا کر پرس میں رکھا اور خداحافظ کہتی کمرے سے نکل رہی تھی لیکن ڈاکٹر حدید نے اسے روک لیا۔
’’ویسے میرے پاس آپ کے لیے ایک جاب بھی ہے۔ آپ چاہیں تو ایڈمن ڈیپارٹمنٹ جوائن کرسکتی ہیں۔ ہسپتال کے انتظامی امور اور بلڈنگ کی دیکھ بھال کے لیے مجھے آپ جیسی پڑھی لکھی اور جمالیاتی حس رکھنے والے اسٹاف کی ضرورت ہے۔‘‘ سارہ نے اس کی آفر قبول کرلی تھی۔ چند پینٹنگز بنانے کے بعد اسے گزر بسر کے لیے رقم کی ضرورت تھی اور اس علاقے میں اس سے بہتر نوکری ملنا مشکل تھی۔
ء…/…ء
سرخ اینٹوں سے بنی ٹوٹی پھوٹی اور تنگ گلی سے گزر کر وہ ایک خستہ حال مکان کے بوسیدہ دروازے کا تالا کھول رہی تھی۔ خالی مکان، شکستہ دیواریں جن کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔ چھوٹے سے صحن سے گزر کر وہ ایک نیچی چھت والے کمرے میں داخل ہوئی۔ اندر اندھیرا تھا۔ اس نے دیوار پہ لگے سیاہ بٹنوں والے بڑے سے بورڈ پہ اندازے سے ہاتھ رکھا اور ایک بٹن دبایا۔ کمرے میں دھندلی سی روشنی ہوگئی‘ یہاں بہت تنہائی تھی‘ دل کو بے چین کردینے والی اداسی تھی مگر اسے یہاں سکون ملتا تھا۔ گھنٹوں اس اجاڑ کمرے میں قید رہ کر مایوس تصویریں بنا کر وہ خود کو اذیت دیتی۔ اس کی زندگی کے کینوس پہ بھی اتنی ہی اداسی تھی جتنی اس کی تصویروں میں نظر آتی تھی مگر وہ اس ویرانی سے نکلنا نہیں چاہتی تھی۔ ڈوبتے سورج کو دیکھ کر دل میں اترتی اداسی اور تنہا شامیں اب اس کی زندگی کا حصہ تھیں۔ پرانے پلنگ پہ لیٹی وہ خالی نظروں سے اس خستہ حال چھت کو گھور رہی تھی۔ اسے ایک ہی پوزیشن میں لیٹے بہت دیر ہوگئی تھی۔
’’آپ کے فن میں وہ طاقت ہے جو کسی ناامید اور مایوس انسان میں امید کا دیا جلا سکتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حدید کے الفاظ کی بازگشت اس نے اپنے قریب محسوس کی۔ یک دم وہ اٹھی اور دھیمے قدموں سے چلتی کمرے کے اس کونے کی طرف آگئی جہاں اس کا ایزل اور پینٹ رکھے تھے۔ کچھ سوچتے ہوئے اس نے پلیٹ میں رنگوں کو مکس کرنا شروع کیا۔ آج اسے اپنے دل کے موسم سے مختلف پینٹ کرنا تھا‘ آج اسے ایک زندگی سے بھرپور پینٹنگ بنانی تھی۔ جس میں کوشش کی جھلک ہو‘ کوئی امید ہو۔
ء…/…ء
’’مس سارہ! آپ کا کام شان دار ہے۔‘‘ اپنی ملازمت تو وہ اگلے ہی دن شروع کرچکی تھی اور اگلے ہفتے وہ ایک پینٹینگ بھی بنالائی تھی۔ طوفانی لہروں میں گھری کشتی اور اس کو بچانے کی جستجو میں مگن ناخدا کو سارہ نے کمال خوب صورتی سے کینوس پہ اتار تھا۔ ڈاکٹر حدید کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ ’’میں یہ تو جانتا تھا کہ آپ کچھ بہترین پینٹ کریں گی لیکن وہ اتنا رئیلسٹک ہوگا یہ میری ناقص عقل نے سوچا نہیں تھا۔ سچ میں آپ نے منظر میں جان ڈال دی ہے۔
’’میرا خیال ہے اس کو جنرل وارڈ کی انٹرنس میں لگانا مناسب ہوگا۔‘‘ سارہ ڈاکٹر حدید کی باتوں سے مطمئن ہوگئی تھی۔
’’آپ جہاں بہتر سمجھیں میں تو ایڈمن ڈیپارٹمنٹ آپ کے حوالے کرچکا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حدید کے ساتھ کچھ دیر رسمی گفتگو کرنے کے بعد وہ اپنے کام پہ لگ گئی تھی۔ استقبالیہ کی کھڑکی سے ہسپتال کے باغ کا منظر نظر آرہا تھا۔ سارہ ایک لمحے کو ٹھٹک کر رکی۔ سورج مکھی کے ڈھیروں پھول وہاں قطار در قطار لگے تھے۔ ہوا کے دوش پہ لہکتے وہ سورج کی طرف رخ کئے اٹکھیلیاں کررہے تھے۔ سارہ کو وہ منظر مبہوت کرگیا۔
’’کیا میں یہاں پینٹ کرسکتی ہوں؟‘‘ سارہ نے ڈاکٹر حدید سے پوچھا۔
’’آپ اس ہسپتال کے کسی بھی کونے میں اپنا کام کرسکتی ہیں۔ آپ کو میری اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘
اگلے دن دس بجے وہ اپنا سارا سامان لے کر اس باغ میں پہنچ گئی تھی۔ ڈاکٹر حدید نے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا۔ وہ بہت مگن ہوکر اپنا کام کررہی تھی۔ اس کی سنجیدگی اس کی طبیعت کا حصہ تھی یا پھر اس کے اندر کی اداسی اتنی زیادہ تھی کہ اس کا چہرہ اس کے راز سنبھال نہیں پارہا تھا۔ ڈاکٹر حدید کے لیے یہ ایک پہیلی تھی۔ کچھ ایسا تھا اس لڑکی میں جس نے ایک میچور اور کام کو اپنا نصب العین سمجھنے والے قابل ڈاکٹر کے دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کردیا تھا۔ ورنہ حسین لڑکیاں تو اس نے بہت دیکھی تھیں۔ تین سال پہلے ڈاکٹر حدید نے امریکا سے اسپیشلایزیشن مکمل کیا تھا۔ اس کا تعلق اسلام آباد کے ایک متمول خاندان سے تھا۔ اس کے بابا ڈاکٹر آبص انصاری ایک مشہور کارڈیالوجسٹ تھے۔ ان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اپنے چھوٹے سے قصبے میں ایک خیراتی ہسپتال کھولیں اور ڈاکٹر حدید نے وہ خواب پورا کردیا تھا۔ ویسے تو حدید اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال میں جاب کرتا تھا لیکن آج کل اس کی ساری توجہ اپنے ہسپتال میں مرکوز تھی۔ حدید کی مستقل مزاجی اور نیک نیتی نے اسے ہر مرحلے میں کامیابی دی تھی۔ دو ماہ پہلے ہسپتال کا افتتاح ہوا تھا لیکن اس کے بابا اپنا یہ خواب پورا ہوتا دیکھ نہیں پائے تھے کیونکہ اس سے چند ماہ پہلے ان کا انتقال ہوگیا تھا۔
اگلے دو تین روز ڈاکٹر حدید کے کافی مصروف گزرے تھے۔ ہسپتال میں انتظامی امور سے لے کر بڑی ایمرجنسی تک اس کی نگرانی میں ہوتی تھی۔ ایسے میں کئی کئی دن وہ اسلام آباد بھی نہیں جا پاتا تھا۔
ء…/…ء
’’آپ کے ہاتھ میں جادو ہے سارہ، سمجھ نہیں آرہا اصلی پھول کہاں ہیں۔‘‘ چند لمحے پہلے وہ سارہ کے پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔ سارہ اس کی آمد سے بے خبر تھی۔ اس کی آواز پہ چونک کے پیچھے دیکھا تو ہاتھ میں پکڑے برش کا اسٹروک حدید کی آف وائٹ قمیص کو رنگین کر گیا۔ حدید نے چونک کر اپنی قمیص کو دیکھا۔
’’معاف کیجئے گا میں نہیں جانتی تھی آپ بالکل میرے پیچھے کھڑے ہیں۔‘‘ وہ نروس ہوئی۔
’’آپ کیوں شرمندہ ہورہی ہیں سارہ‘ غلطی تو میری تھی مجھے آپ کو سرپرائز نہیں کرنا چاہئیے تھا ویسے آپ بہت انہماک سے پینٹ کرتی ہیں۔ اردگرد سے بالکل بے خبر ہوکر۔‘‘ سارہ بمشکل مسکرائی‘ اس کی نظریں اب بھی حدید کی مہنگی قمیض پہ لگے رنگین نشان پہ تھی۔
’’آپ نے تو بہت جلدی کافی کام کر لیا۔‘‘ حدید نے موضوع بدلا۔
’’ابھی تو سورج کا رخ بدل چکا ہے۔ آج اس سے زیادہ کام نہیں ہو پائے گا شائد ایک دو دن مزید لگ جائیں۔‘‘ سارہ نے سورج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اسے میرے دفتر میں لگائیے گا۔‘‘ حدید نے عمارت کی طرف پلٹتے ہوئے کہا۔ سارہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔
ء…/…ء
صبح وہ باقی کام مکمل کررہی تھی جب حدید ہاتھ میں کافی کے دو مگ تھامے اس سے کچھ فاصلے پہ آکھڑا ہوا۔ وہ برش کے ساتھ انگلیاں بھی استعمال کررہی تھی۔ چہرے پہ آئی چند لٹوں کو ہٹانے کی ناکام کوشش میں ایک دو چھوٹے سے رنگین دھبے اس کے گالوں پہ لگ گئے تھے۔ اس وقت پوری وادی میں اس سے حسین منظر کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ ڈاکٹر حدید نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا۔ کچھ تھا جو سارہ نظر انداز نہیں کر پائی۔ سوالیہ انداز میں اس نے ابرو اٹھائے۔
’’آپ کے چہرے پہ پینٹ لگا ہے۔‘‘ انگلی اپنے گال پہ رکھ کر اس نے سارہ کو بتایا۔
’’اوہ…‘‘ سارہ نے جلدی سے اپنے دوپٹے کو گال پہ رگڑا۔
’’ایک بات پوچھوں سارہ؟ اتنی بہترین مصورہ ہوکر آپ یہاں اس قصبے میں کیوں ہیں۔ آپ کسی بھی بڑے شہر میں اپنی تصاویر کی نمائش کروا کر اپنا نام اس ملک کے مشہور مصوروں میں لکھوا سکتی ہیں۔ اچھا خاصہ پیسہ کما سکتی ہیں۔ کیا یہ سب خود کو دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش ہے؟‘‘
’’ڈاکٹر صاحب نہ مجھے شہرت کی تمنا ہے اور نہ مال کی حرص۔ پینٹنگ میرا شوق، میرا جنون ہے اور پیسہ محض ضرورت۔ ان دونوں کو ان کے مقام پہ رکھنا چاہتی ہوں۔ پیسے ضرورت سے زیادہ مل جائیں تو سمجھ نہیں آتا کہاں خرچ کروں۔‘‘ سارہ کے لہجے سے واضح تھا کہ وہ اپنے متعلق بات نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے چہرے کے تاثرات نے حدید کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔
’’اس کے بعد کیا بنانے کا ارادہ ہے؟‘‘ حدید سارہ کے لہجے سے جان چکا تھا کہ وہ اپنے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔
’’سوچ رہی ہوں ایسا لینڈ اسکیپ بناؤں جس میں پہاڑوں کا پس منظر ہو، تھوڑا پانی ہو، دھوپ کا عکس ہو‘ سکون اور تنہائی ہو۔ کاش اس وادی میں ایسا کوئی منظر ہوتا تو مجھے بہت آسانی ہوجاتی۔‘‘ لان میں لگے نلکے سے ہاتھ دھو کر وہ اب کافی پی رہی تھی۔
’’آپ نے یہ علاقہ دیکھا نہیں؟‘‘ حدید نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں میں یہاں چند ماہ پہلے آئی ہوں۔ زیادہ گھومنے پھرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔‘‘
’’آج شام ہسپتال کے بعد آپ میرے ساتھ چلیں۔ شائد آپ کو آپ کے مطلب کی جگہ مل جائے۔ پانچ بجے تک تیار رہئیے گا۔‘‘ اس کا جواب سنے بغیر حدید ہسپتال کے اندر چلا گیا۔ وہ اسے جاتے دیکھتی رہی۔ بے شک وہ ایک خوب صورت مرد تھا۔ لیکن سارہ کو خوب صورت مردوں سے نفرت تھی۔
ء…/…ء
قصبے سے نکل کر وہ وادی کے کچے پکے راستوں پہ بہت خاموشی اور توجہ سے ڈرائیو کررہا تھا۔ چند دن کی ملاقات میں سارہ اس انجان شخص کے ساتھ تنہا ایک نامعلوم مقام کا سفر کررہی تھی اور دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی۔ اسے اس شخص کے ساتھ نہیں آنا چاہئے تھا۔
’’لیکن یہ ایک قابل بھروسہ شریف انسان ہے۔‘‘ اس کے دل نے گواہی دی۔ ’’تمھیں انسانوں کی پہچان ہی کہاں ہے سارہ حفیظ۔‘‘ دماغ نے طنز کیا۔
اپنے اندر کی کشمکش کو اپنے ہم سفر سے چھپاتی وہ باہر دیکھ رہی تھی۔ سفید پراڈو اب ایک پگڈنڈی پہ رک گئی تھی۔ اردگرد ویرانی تھی دور پہاڑوں کی شبیہہ واضح تھی۔ وہ خاموشی سے گاڑی سے نکل آئی۔ پتھریلی سڑک پہ وہ اس کے قدموں کا تعاقب کررہی تھی۔ سڑک اب اوپر کو جارہی تھی۔ وہ بمشکل دس منٹ پیدل چلے ہوں گے کہ سامنے کے منظر کو دیکھ کر سارہ کے قدم رک گئے۔
چھوٹی سی قدرتی جھیل میں پہاڑوں کا عکس تھا۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی اور کاسنی کرنیں پہاڑوں پہ بکھری ہوئی تھیں۔ رخصت سے پہلے وہ اس وادی کو خراج تحسین پیش کررہی تھیں۔ اگلے چند منٹوں میں یہ جگہ اپنے سارے رنگ کھو دے گی لیکن ابھی یہ وادی ایک گمشدہ جنت لگ رہی تھی۔ سارہ نے بے یقینی سے حدید کو دیکھا۔
’’کیا خیال ہے اس منظر کے بارے میں؟ کیا آپ اسے تصویر میں قید کرسکتی ہیں؟‘‘ حدید نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں سورج کی کرنوں سے زیادہ رنگ تھے۔
’’میں اسے صبح میں پینٹ کروں گی۔ ڈوبتا سورج اداسی کی علامت ہے۔ صبح کی دھوپ جب ان پہاڑوں پہ اپنے رنگ بکھیرے گی اس وقت میں اس منظر کو اپنے کینوس پہ اتاروں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر کل صبح پانچ بجے آپ تیار رہیں ہم کل صبح ہی یہاں آئیں گے۔‘‘
’’آپ مجھے کل یہاں لے کر آئیں گے؟ آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں یہ میرا کام ہے میں اکیلی آجاؤں گی۔‘‘ سارہ کو مناسب نہیں لگا کہ وہ اسے خوار کرے۔ آخر حدید اسے اس کام کے پیسے دے رہا تھا۔
’’ہرگز نہیں یہ جگہ میں نے ڈسکور کی ہے اس لیے اس کے مالکانہ حقوق میرے پاس ہیں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’شام میں تو اکثر یہاں آیا ہوں دیکھتے ہیں صبح میں یہ منظر ویسا ہی لگتا ہے جیسا آپ نے اسے بیان کیا ہے۔‘‘ سارہ نے اگلی صبح وہاں پہنچ کر اپنے کیمرے سے سب سے پہلے چند تصاویر لیں تھیں۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے کینوس پہ جھکی ہوئی تھی۔ شاید وہ یہاں بار بار آکر حدید کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی اسی لیے اپنے کیمرے سے تصاویر بنا کر اس کا ارادہ اس تصویر کو گھر پہ مکمل کرنے کا تھا۔
’’آپ اتنی تنہائی اور اداسی کیوں پینٹ کرتی ہیں سارہ؟‘‘ حدید اس وقت سے اسے سنجیدگی سے کام میں مگن دیکھ رہا تھا۔ اس کی پچھلی پینٹنگ کو سوچتے ہوئے اس نے سارہ سے پوچھا۔
’’میں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو پینٹ کرتی ہوں۔‘‘ اس نے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا۔ وہ ایک پتھر پہ اس کے پاس ہی بیٹھا تھا۔
’’میرے خیال میں تو زندگی کی حقیقت کچھ اور ہے۔ زندگی خوب صورت ہے۔ اس جھیل کے پانی کی طرح شفاف اور میٹھی، سورج کی کرنوں سی شوخ اور رنگیں، اس وادی سی پرسکون اور…‘‘ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’اور…؟‘‘ ڈاکٹر حدید کے رکنے پہ اس نے سر اٹھا کر پوچھا۔
’’آپ کے چہرے کی طرح دلکش۔‘‘ ڈاکٹر حدید کی آنکھیں اس کے چہرے پہ مرکوز تھیں۔
’’زندگی کی جو خصوصیات ابھی آپ نے مجھے گنوائی ہیں یہ فقط نظر کا دھوکا ہیں۔ یہ چڑھتا سورج چند گھنٹوں میں ڈوب جائے گا اور یہ وادی کی پرسکون تنہائی ویرانے میں بدل جائے گی۔ جھیل کے ٹھنڈے پانی کے نیچے چھپے سنگریزے پیروں کو چھلنی کردیتے ہیں ڈاکٹر حدید اور میرا چہرہ بھی اسی فریب کا ایک حصہ ہے۔‘‘ سارہ نے اپنے سامنے بیٹھے پرکشش شخص کو دیکھا اور گردن جھیل کی طرف موڑ لی۔
’’سورج ڈوب جاتا ہے لیکن ہر روز ہمیں ایک نئے دن کی آس وامید بھے دے جاتا ہے۔ کل پھر اس کی کرنیں اس وادی کو روشنیوں سے بھر دیں گی۔ اس جھیل کے نیچے لاکھ سنگریزے ہوں لیکن اس پہ لب رکھنے والوں کی پیاس بجھتی ہے۔ دشت نوردی کے عذاب بھول جاتے ہیں۔ سکون ملتا ہے، زندگی ملتی ہے اور آپ کا چہرہ بھی تو اس جھیل کی طرح ہے‘ جسے دیکھ کر سفر ختم ہوجاتا ہے‘ تھکن مٹ جاتی ہے۔‘‘
’’مجھ سے شادی کرو گی سارہ؟‘‘ حدید نے روانی میں کہا۔ وہ دم بخود اس کو دیکھتی رہی۔
’’آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ڈاکٹر حدید؟‘‘ اس نے سنبھل کر سوال کیا۔
’’کیونکہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حدید کا جواب سادہ تھا۔
’’ڈاکٹر حدید میں آپ کی عزت کرتی ہوں لیکن میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’میں پھر بھی تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے جواب بھی اسی سنجیدگی سے دیا۔
’’میں آپ سے محبت نہیں کرتی‘ کیا آپ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہیں گے جو آپ سے محبت نہیں کرتی؟‘‘ اس کا انداز دو ٹوک تھا۔
’’میں انتظار کرسکتا ہوں اس وقت کا جب تمھیں مجھ سے محبت ہوجائے۔‘‘ ڈاکٹر حدید کے چہرے پہ امید تھی۔
’’آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘ سارہ نے نظروں کا زاویہ بدلا۔
’’تمھارا نام سارہ حفیظ ہے، تم بہت اچھی مصورہ ہو میرے ہسپتال میں ملازمت کرتی ہو۔ تمھیں زندگی فریب لگتی ہے اور تمھیں اداس رہنا پسند ہے۔ تم سے میری ملاقات ایک حسین اتفاق ہے اور ہاں تم صرف میری عزت کرتی ہو اور یہ کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے اور کچھ؟‘‘
’’لیکن…‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن حدید نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’جتنا جانتا ہوں اس سے زیادہ جاننے کی خواہش نہیں‘ اب چلیں؟‘‘ حدید اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
دو پتھروں کے درمیان پاؤں جماتے اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
’’تم مجھ پہ اعتماد کرسکتی ہو سارہ میں تمھیں گرنے نہیں دوں گا۔‘‘ ڈاکٹر حدید نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ سارہ چند لمحے اس کو بغور دیکھتی رہی اور پھر اس نے ڈاکٹر حدید کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا۔
ء…/…ء
موبائل پہ ایک کال ملا کر وہ دوسری جانب سے کال اٹھائے جانے کا انتظار کررہا تھا۔ اس کے چہرے کا تاثر اس کے اندر کی خوشی بیان کررہا تھا۔
’’ہیلو، ممی کیسی ہیں آپ؟‘‘ اس نے بہت محبت سے پوچھا۔
’’میں ٹھیک ہوں حادی تم کیسے ہو میری جان اس بار ویک اینڈ پہ گھر نہیں آئے۔‘‘ وہ بیٹے کی آواز سن کر کھل اٹھی تھیں۔
’’ممی! ہسپتال میں کچھ کام زیادہ تھا۔ مجھے آپ کو ایک بہت ضروری بات بتانی ہے۔‘‘
’’حادی تمہاری ضروری باتیں ہسپتال سے شروع ہوکر مریضوں پہ ختم ہوجاتی ہیں۔ میرے لیے تو سب سے اہم یہ ہے جب تم مجھے یہ بتاؤ گے کہ تم نے شادی کے لیے کوئی لڑکی پسند کرلی ہے میرے تو کان ترس گئے ہیں تمھارے منہ سے ایسی بات سننے کو۔ مجھے تم نے منع کردیا اور خود خدمت خلق میں الجھے گئے ہو۔‘‘ فاطمہ نے اپنی ہمیشہ کی شکائیت دہرائی۔
’’ممی! میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا جس دن مجھے وہ لڑکی مل جائے گی جسے دیکھ کر مجھے احساس ہوگا یہ میرے لیے بنی ہے میں سب سے پہلے آپ کو بتاؤں گا۔‘‘ فاطمہ اس کا یہ جملہ کئی سال سے سن رہی تھیں۔
’’حادی کہاں ملے گی وہ لڑکی؟ امریکا تک تو گھوم لیا بیٹا۔‘‘ وہ ان کی بات سن کر مسکرایا۔
’’ممی! وہ لڑکی مجھے مل گئی ہے۔ یہاں اسی جگہ۔ آپ یقین نہیں کریں گی وہ جتنی خوب صورت ہے اتنی ہی منفرد بھی بس یوں سمجھیں وہ میرے خیالوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آپ کو بتا نہیں سکتا میں اس سے کتنی محبت کرنے لگا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حدید کی بات سن کر وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہوئیں۔
’’حادی! مجھے حیرت ہے ساری دنیا چھوڑ کے تمھیں ایک گاؤں کی لڑکی شادی کے لیے پسند آئی۔‘‘ وہ ان کی تشویش سمجھتا تھا۔
’’نہیں ممی! وہ گاؤں کی نہیں ہے۔ چند ماہ پہلے یہاں آئی ہے۔ میں اس کے بارے میں کچھ زیادہ تو نہیں جانتا لیکن بس میں اتنا جانتا ہوں کہ اس کے سوا کسی اور لڑکی کے ساتھ میں شادی نہیں کرسکتا۔‘‘
’’کیا تم نے اسے بتایا؟‘‘ فاطمہ نے سوال کیا۔
’’جی میں نے اسے پرپوز کیا ہے لیکن وہ ابھی شادی کے لیے تیار نہیں مگر مجھے یقین ہے میں جلد اسے راضی کرلوں گا۔‘‘ وہ پرامید لہجے میں بولا۔
’’اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ فاطمہ بیگم نے محبت سے کہا۔
’’کیا کہہ رہے تھے بھائی۔‘‘ معید انصاری نے کافی کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے پوچھا۔ فاطمہ اور حدید کی باتیں وہ پاس بیٹھا خاموشی سے سن رہا تھا۔
’’اسے کوئی لڑکی پسند آگئی ہے۔ کہہ رہا ہے چند ہفتے پہلے ملا ہے اور شادی کا پیغام بھی دے چکا ہے۔‘‘ فاطمہ نے تفصیل بتائی۔
’’یہ تو اچھی بات ہے کب سے بھائی شادی کی بات کو ٹال رہے تھے شکر ہے انہیں کوئی لڑکی پسند تو آئی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔
ء…/…ء
ہسپتال کے انتظامی امور میں سارہ ڈاکٹر حدید کی پوری دل جمعی سے مدد کررہی تھی۔ ڈاکٹر حدید بہت حد تک سارہ پہ ڈیپینڈ کرنے لگا تھا اس دن کے بعد ان دونوں کے درمیان اس موضوع پر بات نہیں ہوئی تھی۔ سارہ چلڈرن وارڈ کے باہر تصویر لگا رہی تھی جب ڈاکٹر حدید وہاں آگیا۔
’’تمھاری اتنی شان دار پینٹنگز دیکھ کر میرا بھی دل کررہا ہے کہ اپنا ایک پوٹریٹ بنوا ہی لوں۔‘‘ ریس میں دوڑتے بچوں میں سے ایک بچہ گر کر سنبھل رہا تھا۔ ایسے جیسے دوبارہ دوڑنے کی پوزیشن میں آرہا ہو۔ سب بچوں کی پشت تھی اور گرتے بچے کی سائیڈ دکھائی گئی تھی۔
’’میں فیس پینٹنگ نہیں کرتی۔‘‘ سارہ کا لہجہ دو ٹوک تھا۔ ڈاکٹر حدید کو لگا وہ اچانک بہت اجنبی ہوگئی ہو۔
’’تم نے میرے پرپوزل کے بارے میں کیا سوچا؟‘‘ وہ دونوں ایک ساتھ وہاں سے نکلے تھے۔
’’میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی بلکہ میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتی۔‘‘ سارہ کا جواب اب بھی وہی تھا۔
’’سارہ کیا زندگی میں ایک بار کچھ برا ہوجائے تو کوئی جینا چھوڑ اور خوش رہنا چھوڑ دیتا ہے، اس زندگی اور اس کی خوشیوں، محبت پر تمھارا بھی تو حق ہے پھر تم کیوں اپنے حق سے دستبردار ہورہی ہو؟ ایک بار اعتبار کرکے دیکھو، میں نے کہا تھا نہ میں اعتبار ٹوٹنے نہیں دوں گا۔‘‘ سارہ اسے کیسے سمجھاتی وہ اعتبار کرنا ہی نہیں چاہتی۔ وہ ہار ماننے والا نہیں تھا اور بلآخر اس کی مسلسل کوشش کا نتیجہ مثبت نکلا۔ سارہ نے اس سے شادی کے لیے ہاں کردی تھی۔
ء…/…ء
فاطمہ بیگم صبح سے مصروف تھیں۔ آج حادی گھر آرہا تھا اور اس بار وہ اکیلا نہیں تھا۔ کچن میں زور وشور سے کھانے کا اہتمام ہورہا تھا۔ کل رات ہی حدید نے انہیں یہ خوش خبری سنائی تھی کہ وہ اس لڑکی شادی کے لیے مان گئی ہے۔ کل ہی انہوں نے معید انصاری کو بھی کال کردی تھی کہ آج اسے لازمی اسلام آباد پہنچنا ہے۔ ان کی زندگی کی کتنی بڑی خواہش تھی کہ ان کے دونوں بیٹوں کا گھر بس جائے۔ وہ جانتی تھیں حدید بہت حساس اور ریزرو طبیعت کا مالک ہے وہ اپنے دل تک کسی کو جلد پہنچنے نہیں دیتا اسی لیے انہیں اس بات کی فکر تھی کہ وہ کہیں کسی ایسی لڑکی کا انتخاب نہ کر بیٹھے جو ان کے بیٹے کے جذبات کا خیال نہ رکھ پائے۔ حدید کے مقابلے میں معید انصاری بہت آؤٹ اسپوکن تھا۔ اسے جو پسند ہوتا وہ سب کے سامنے مانگ لیا کرتا تھا۔
ء…/…ء
’’آگئے اے ایس پی صاحب۔‘‘ داخلی دروازے سے معید انصاری کو دیکھ کر وہ مسکرائیں۔ معید انصاری نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ چھ فٹ قد، چوڑا سینہ اور پرکشش نقوش۔ فاطمہ نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
’’آئے نہیں حادی بھائی۔ میں تو سمجھا مجھ سے پہلے پہنچ گئے ہوں گے۔‘‘ وہ دونوں لائونج کی طرف جارہے تھے۔
’’بس آنے ہی والا ہے میری فون پہ بات ہوئی تھی۔ ماشاء اللہ بہت خوش ہے حادی۔‘‘ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے فاطمہ نے بتایا۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔
’’ہاں مجھے بھی کال کی تھی کہہ رہے تھے لازمی پہنچنا اسی لیے میں نے تین دن کی چھٹی لے لی ہے۔‘‘ معید نے بتایا۔
’’تم بھی اب کوئی لڑکی دیکھ لو تو میں تم دونوں کی اکھٹی شادی کردیتی ہوں۔‘‘ معید انصاری کے چہرے کی مسکراہٹ یک دم غائب ہوئی تھی۔
’’ممی پلیز! آپ پہلے حادی بھائی کی شادی کریں میں فی الحال اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ اس کا لہجہ یک دم سنجیدہ ہوا تھا۔
’’لیکن مانی کب تک تم اس بات کو دل سے لگا کر رکھو گے۔‘‘ فاطمہ ماں تھیں کب تک بیٹے کو دکھی دیکھ سکتی تھیں یہی سوچ کر انہوں نے ایک بار پھر اس حوالے سے بات چھیڑی۔
’’ممی! میں فریش ہوکر آتا ہوں۔‘‘ وہ کمرے سے نکل گیا۔ فاطمہ بے بسی سے اس کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھتی رہیں۔
ء…/…ء
مین گیٹ پہ گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ فاطمہ تیزی سے صدر دروازے کی طرف لپکیں۔ چوکی دار نے دروازہ کھولا اور حدید کی سفید گاڑی اندر داخل ہوئی۔ حدید گاڑی سے اترا اور اس نے دوسری جانب کا دروازہ کھولا ایک نازک سی لڑکی سیاہ کڑھائی والے لباس میں گاڑی سے اتری۔ حدید نے فاطمہ کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ دونوں نے لاؤنج کے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔ حدید اب سارہ کو فاطمہ کے بارے میں بتارہا تھا اور فاطمہ نے بغور اس لڑکی کو دیکھا جو حدید کے ہمراہ تھی۔ اس کی مسکراہٹ یک دم پھیکی پڑی۔
’’سارہ…‘‘ فاطمہ زیر لب بڑبڑائی۔ نادانستہ طور پہ انہوں نے لاؤنج کے اندر نگاہ دوڑائی۔ حدید لپک کے ان کے گلے لگ گیا۔ انہوں نے خود پہ قابو پاتے اس کا ماتھا چوما اور اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔
’’ممی! یہ سارہ ہے جس کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا تھا۔‘‘ سارہ نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا اور سلام کیا۔ فاطمہ نے اسے بھی گلے سے لگا کر دعا دی۔
’’مانی کہاں ہے؟‘‘ حدید نے گھر میں داخل ہوتے سوال کیا۔
’’اپنے کمرے میں ہے ابھی پہنچا ہے فریش ہوکر آتا ہی ہوگا۔‘‘ فاطمہ نے گھبراہٹ پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کی۔ سارہ بھی ان دونوں کی رہنمائی میں گھر میں داخل ہوئی لیکن ڈرائنگ روم میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کی نظر لاؤنج کی دیوار پہ پڑی اور اسے لگا اسے کسی زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو۔
’’یہ میرا بھائی ہے ایس پی معید انصاری۔‘‘ دیوار پہ لگی آئل پینٹ سے بنی ایک پوٹریٹ کی طرف سارہ کو دیکھتے پاکر حدید نے کہا۔ ’’تم نے یہ پینٹنگ دیکھی ہے سارہ اس کے اسٹائل اور ایکسپریشنز کو میں جب بھی دیکھتا ہوں مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ تم نے بنائی ہوگی۔ تمھاری پینٹنگز میں بھی کچھ ایسا ہی رئیلسٹک ٹچ ملتا ہے۔ لیکن تم تو فیس پینٹ کرتی ہی نہیں۔‘‘ اس نے خود ہی اپنے شبہے کی توجیح پیش کی۔
’’ویسے یہ مانی کو اس کے کسی دوست نے دی تھی اس کی برٹھ ڈے پر۔‘‘ وہ مزید بولا۔
’’سارہ بہت اچھی مصورہ ہے ممی۔ دکھاؤں گا آپ کو اس کی باکمال تصاویر جو اس نے ہسپتال کے لیے بنائی ہیں۔‘‘ حدید نے فاطمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں اور آنے والے پل سے پریشان تھیں۔ سارہ بدقت مسکرائی۔
’’السلام علیکم حادی بھائی۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ کہاں ہے وہ جوہر نایاب جو آپ پہاڑوں سے ڈھونڈ لائے ہیں۔ ہم بھی تو ملیں اپنی ہونے والی بھابی سے۔‘‘ بشاش لہجے میں کہتا معید انصاری کمرے میں آکر حدید سے مل رہا تھا۔ سارہ کا رخ اب تک تصویر کی طرف ہی تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔
معید انصاری پر بم پھٹا تھا۔ پچھلے چھ مہینے سے وہ جس کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا وہ آج اس کی نظروں کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ اس آواز کو لاکھوں کے مجمعے میں پہچان سکتی تھی۔ کبھی وہ اس لہجے کی دیوانی تھی۔ اس کے سامنے آج وہ کھڑا تھا جسے دوبارہ نہ دیکھنے کی اس نے کتنی دعائیں کی تھیں۔ وہ اگر اس دنیا کا آخری شخص بھی ہوتا تو سارہ اس پہ تنہا رہنے کو فوقیت دیتی۔ معید انصاری حیرت زدہ سا سارہ کو دیکھ رہا تھا۔ اسی لمحے اس نے فاطمہ کو دیکھا انہوں نے نظریں چرالیں۔
’’سارہ! یہ ہے میرا بھائی اے ایس پی معید آبص انصاری اور معید یہ سارہ ہے۔‘‘ حدید نے مسکراتے ہوئے تعارف کرایا۔
’’دیکھا کردیا نہ شاک۔ داد دو میری چوائس کی۔ میں شرط لگا کر کہتا ہوں اس سے خوب صورت لڑکی تم نے آج تک نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘ معید انصاری کو سارہ کی طرف ایک ٹک دیکھتے پاکر وہ شرارت سے بولا۔ معید انصاری نے چونک کر حدید کو دیکھا اور دوسرے ہی پل اس کے چہرے پہ مسکراہٹ در آئی تھی۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں حادی بھائی میں نے اس سے خوب صورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی۔‘‘ اس کے لہجے میں کچھ تھا جو سارہ کو اندر تک جھنجھوڑ گیا تھا۔
’’یہاں کیوں کھڑے ہو تم لوگ۔ چلو اندر ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہیں۔ آؤ سارہ اندر چلیں۔‘‘ فاطمہ نے مداخلت کی۔
سارہ نے کن آنکھیوں سے معید انصاری کی طرف دیکھا جو حدید کے برابر بیٹھا بہت غور سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔ سارہ اس کی نظروں سے پریشان ہورہی تھی۔ وہ اس وقت یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔
’’تم لوگ فریش ہوجاؤ میں کھانا لگوا رہی ہوں۔ سارہ تمھارا کمرہ سامنے سے بائیں طرف ہے۔‘‘ فاطمہ اب اسے گیسٹ روم کا راستہ سمجھا رہی تھی۔
چند منٹوں کے بعد وہ چاروں کھانے کی میز پہ جمع تھے۔ فاطمہ حدید اور معید انصاری کو ان کی پسندیدہ ڈشز سرو کررہی تھیں ساتھ ہی وہ سارہ کو اچھے سے کھانے کی ہدایت کرتے ہوئے میزبانی کے فرائض نبھا رہی تھیں۔ کھانے کے بعد کافی کا دور چلا۔ ساتھ ساتھ حدید فاطمہ اور معید انصاری کو ہسپتال کے بارے میں کچھ تفصیلات بتارہا تھا۔
’’آپ کو سارہ کیسی لگی ممی۔‘‘ حدید نے سارہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’سارہ اتنی پیاری ہے اسے کون ناپسند کرسکتا ہے۔ تم میرے بیٹے کی پسند ہو اور مجھے دل و جان سے عزیز ہو۔‘‘ فاطمہ نے محبت سے سارہ کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔ معید انصاری ان کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔ فاطمہ نے معذرت طلب نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’بس پھر آپ جلد ہی شادی کی تاریخ فائنل کردیں۔ یہ بہت مشکل سے راضی ہوئی ہے ایسا نہ ہو اس کا موڈ بدل جائے اور یہ انکار کردے۔‘‘ حدید کی بات سن کر سارہ بمشکل مسکرائی۔
’’ایکسکیوز می۔ آپ لوگ باتیں کریں مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے۔‘‘ معید انصاری یک دم معذرت کرتا اٹھا۔
ء…/…ء
رات کے دس بج رہے تھے۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بستر سے اٹھ کر وہ گلاس ڈور کے پاس آگئی تھی۔ یہ دروازہ لان کی طرف کھلتا تھا۔ وہ باہر نکل آئی۔ دسمبر کی چودہ تاریخ تھی اسلام آباد کا موسم خوش گوار تھا۔ فضا میں سردی کا احساس اسے سکون دے رہا تھا۔ اس کے کمرے سے لان میں اترنے کے لیے دو اسٹیپ تھے۔ وہ وہیں بیٹھی خالی نظروں سے لان کی سیاہی مائل گھاس کو دیکھ رہی تھی۔ سبزے کے تختے پہ ایک سایہ نمودار ہوا۔ گیلی کھاس اور پھولوں کی بھینی خوش بو میں ایک اور مہک کا اضافہ ہوا۔ اس کلون کی مہک سے اس کی پرانی وابستگی تھی۔
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے سارہ۔‘‘ سایہ کچھ اور قریب آیا۔
’’مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے۔‘‘ اس نے سبزے سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔
’’تم حادی بھائی سے شادی کیسے کرسکتی ہو؟‘‘
’’جب تم وہ سب کچھ کرسکتے ہو تو میں بھی حدید سے شادی کرسکتی ہوں۔‘‘ سارہ کے لہجے میں نفرت تھی۔
’’تم سزا دے کر چلی گئی۔ مجھے صفائی کا ایک موقع تو دیا ہوتا۔ میں تمھاری غلط فہمی دور کردیتا۔‘‘ اس نے سارہ کا ہاتھ تھاما۔
’’غلط فہمی ہی تھی جو تمھارے دھوکے کو محبت سمجھتی رہی۔ اتنے سال جسے زندگی سے بڑھ کے چاہا اس کا اصلی چہرہ بہت دیر سے بے نقاب ہوا ورنہ شاید تکلیف کی شدت کم ہوتی۔‘‘ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑا کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ آنسوؤں کی لڑیاں اس کے رخساروں کو بھگو رہی تھیں۔
’’تم میرا بدلہ حادی بھائی سے نہیں لے سکتی۔ وہ بہت معصوم اور سادہ انسان ہیں۔‘‘ معید انصاری کے لہجے میں شکوہ تھا۔
’’مجھے افسوس ہوا یہ جان کر کہ تم دوسروں کو بھی دھوکے باز سمجھتے ہو لیکن اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں۔ جو سلوک تم دوسروں سے کرتے ہو اس کی واپسی کی امید بھی رکھتے ہو۔‘‘ اس کے لہجے میں نفرت تھی۔ ’’میں اگر یہ جانتی کہ حدید تمھارے بڑے بھائی ہیں تو کبھی اس رشتے کی حامی نہ بھرتی۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ میری ان سے ملاقات ہوگئی اور ہاں وہ ایک سچے اور سادہ انسان ہیں تمھاری طرح دھوکے اور فریب کی مٹی سے بنے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘ اس نے واپس جانے کے لیے قدم بڑھائے۔
’’سارہ! تم مسلسل مجھ پہ الزامات لگا رہی ہو۔ ہر وہ بات سچ نہیں ہوتی جو ہم آنکھوں سے دیکھیں یا کانوں سے سنیں۔‘‘ معید انصاری غصے سے بولا۔
’’مجھے تمھارے حقائق سننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ کوشش کرنا دوبارہ میرے سامنے مت آؤ۔ تمھیں دیکھ کر میں خود سے نفرت کرنے لگتی ہوں۔‘‘ غصے سے پیر پٹختی وہ کمرے میں واپس چلی گئی اور معید انصاری لب کاٹتا رہ گیا۔
ء…/…ء
وہ کرن اور صبا کے ساتھ کھڑی تھی اور اپنے چہرے کو دھوپ سے بچانے کے لیے اس نے اس کی بک چہرے کے سامنے کرلی تھی۔ معید انصاری اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی راہداری سے گزر رہا تھا جب اس نے پہلی بار سارہ کو دیکھا۔ سادہ سے حلیے میں وہ اسے بہت اچھی لگی تھی۔ صبا اور کرن کو وہ اچھی طرح جانتا تھا لیکن اس لڑکی کو وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔
’’ہیلو گرلز کیا چل رہا ہے؟‘‘ بے تکلفی سے کہتا وہ ان کے قریب آیا۔
’’ہیلو معید انصاری کب آئے اسلام آباد سے؟‘‘ یہ صبا تھی جو معید انصاری کے بہترین دوست عامر کی منگیتر اور معید انصاری کے ساتھ اس کی کافی بے تکلفی تھی۔ کرن اس کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔
’’کل رات پہنچا ہوں۔ ابھی پروفیسر طاہر کریم سے ملنے آیا تھا تم لوگوں کو دیکھا تو سوچا حال احوال پوچھ لوں۔‘‘
’’یہ ہماری نئی دوست ہے سارہ حفیظ۔ ایم اے پریویس کی اسٹوڈنٹ ہے اور بہت کمال کے اسکیچ بناتی ہے۔ ہماری اس سے فوراً دوستی ہوگئی اور ہاں اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ یہ ہمارے بھی اسکیچ بنائے گی۔‘‘ کرن نے معلومات میں اضافہ کیا۔
’’اور اسی لیے تم نے پارٹی بدل لی۔ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ چھوڑ کر فائن آرٹس جوائن کرلیا۔‘‘ معید انصاری نے چھیڑا۔ ’’ہیلو سارہ۔ نائس ٹو میٹ یو۔‘‘ معید بے تکلفی سے بولا۔
’’مجھے بھی آپ سے مل کر خوشی ہوئی معید انصاری۔‘‘ سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کی مسکراہٹ اور لہجہ معید انصاری کو چاروں شانے چت کرگیا تھا۔
معید انصاری نے پچھلے سال یونیورسٹی سے اکنامکس میں پوسٹ گریجویشن اور پورے ڈیپارٹمنٹ میں ٹاپ کیا تھا۔ آج کل وہ سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کررہا تھا۔ امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں اس کا یونیورسٹی آنا جانا لگا رہتا۔ وہ اسلام آباد کا رہائشی تھا لیکن لاہور میں مقیم تھا۔ ہوسٹل کی بجائے وہ یہاں ایک اپارٹمنٹ میں رہتا۔ عامر اور ریحان اس کے کلاس فیلو اور جگری دوست تھے۔ عامر لاہور کے ایک مشہور سرمایہ دار کا بیٹا تھا جبکہ ریحان کا تعلق نورپور کے جاگیردار گھرانے سے تھا۔ صبا عامر کی کزن تھی اور چند ماہ قبل ان کی منگنی ہوئی تھی۔ اس کے والدین قطر میں رہتے تھے اور وہ لاہور میں اپنے چچا کے گھر رہتی تھی۔ کرن کے والد صوبائی وزیر تھے۔ ان پانچ لوگوں کا گروپ یونیورسٹی کے اندر اور باہر کافی مشہور تھا۔ اپنی زندگی کے خوب صورت دور کو وہ لوگ خوب انجوائے کررہے تھے۔ سارہ کو یہ تمام معلومات کرن اور صبا کی زبانی پتہ چلی تھیں۔
ء…/…ء
اس دن اسے یونیورسٹی سے نکلنے میں دیر ہوئی اور اس کا پوائنٹ مس ہوگیا تھا۔ اب وہ اگلے پوائنٹ کا انتظار کررہی تھی کہ ایک سیاہ ہنڈا سوک اس کے قریب آکر رکی۔ شیشہ اترنے پہ اسے معید انصاری کا چہرہ نظر آیا۔
’’لگتا ہے آپ کی بس مس ہوگئی ہے؟‘‘
’’جی آج نکلنے میں تھوڑی دیر ہوگئی تھی۔‘‘
’’آئیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں آپ کو زحمت ہوگی اگلی بس آنے ہی والی ہے۔‘‘
’’اتنی فارمیلٹی کیوں دکھا رہی ہیں سارہ اگر مجھ پہ کوئی شک ہے تو آپ کی اطلاع کے لیے میں انتہائی سخت قسم کا شریف اور معصوم انسان ہوں۔‘‘ معید انصاری نے معصومیت کے سارے ایکسپریشنز چہرے پہ لاتے ہوئے کہا۔
سارہ سے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہورہا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئی۔ معید انصاری کے متعلق اسے صبا اور کرن سے اتنا کچھ معلوم ہوچکا تھا کہ وہ اس بندے کو ملے بغیر بھی اس پہ یقین کرسکتی تھی۔ وہ جانتی تھی اس کا مقصد محض سارہ کی مدد کرنا ہے۔
’’کہاں جانا ہے آپ کو؟‘‘
’’وحدت کالونی۔‘‘
’’اور یونیورسٹی میں کیسا لگ رہا ہے‘ پڑھائی کیسی جارہی ہے؟‘‘
’’آل از ویل۔‘‘ سارہ نے اعتماد سے کہا۔
’’صبا بتا رہی تھی آپ سی ایس ایس کی تیاری کررہے ہیں۔‘‘
’’ہاں کوشش کررہا ہوں۔ ابھی اسی سلسلے میں یونیورسٹی آیا تھا۔ طاہر صاحب سے کچھ نوٹس لینے تھے۔‘‘
’’ویسے کون سا گروپ جوائن کریں گے آپ؟‘‘
’’پی ایس پی میری پہلی ترجیح ہوگی۔‘‘
’’خاصا بدنام شعبہ ہے اور لوگ عزت بھی نہیں کرتے۔‘‘
’’بدنامی والے کام نہیں کریں گے تو کیوں بدنام ہوں گے۔ کسی بھی ادارے کی شہرت اس کو چلانے والوں کی صلاحیتوں اور کردار سے ہوتی ہے۔ اگر پولیس والے بدنام ہیں یا کوئی ان کی عزت نہیں کرتا تو کیا میں یہ سمجھ لوں کسی کو پولیس سروس جوائن نہیں کرنی چاہئیے۔‘‘ معید انصاری کی سوچ متاثرکن تھی۔
’’آپ کی بات میں وزن ہے۔‘‘ معید انصاری کو اگر وہ پہلی نظر میں خوب صورت لگی تھی تو آج اس سے بات کرتے ہوئے اس کا پراعتماد انداز اسے اس کی شخصیت کی اضافی خوبی محسوس ہوا تھا۔ وہ صرف حسین نہیں اس کی اپنی سوچ ہے، پراعتماد ہے، عام لڑکیوں سے بہت الگ ہے اور معید انصاری کو اس کا الگ ہونا بہت اچھا لگا تھا۔
ء…/…ء
یونیورسٹی گراؤنڈ میں سب سے الگ تھلگ وہ اپنی اسکیچ بک کھولے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ بہت تیزی سے چل رہے تھے۔ سامنے لگے درخت کو بڑی مہارت سے وہ اپنی اسکیچ بک میں ٹریس کررہی تھی۔
’’تم تو بہت کمال کی مصورہ ہو۔‘‘ معید انصاری اس کے سر پہ کھڑا اس کا اسکیچ دیکھ رہا تھا۔
’’آپ کب آئے؟‘‘
’’بس ابھی اور میں تمھیں ہی ڈھونڈھ رہا تھا۔ کل سب فرینڈز میری طرف انوائیٹڈ ہیں۔ میں تمھیں بھی انوائٹ کرنے آیا تھا۔‘‘
’’کوئی خاص موقع ہے؟‘‘
’’کل میری سال گرہ ہے۔‘‘
’’کیا کمال کا اتفاق ہے۔ کل میری بھی سال گرہ ہے۔‘‘
’’پھر تو پارٹی ہم دونوں کی طرف سے ہونی چاہئیے۔ جسٹ کڈنگ، تم کل ضرور آنا۔‘‘
’’ایک شرط پہ کیک میں بناؤں گی۔‘‘
’’آری کا انتظام میں کرلوں گا۔‘‘ دونوں ایک ساتھ قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔
ء…/…ء
وہ سب دوست معید انصاری کے اپارٹمنٹ میں جمع تھے۔ سارہ کچن میں کیک بنا رہی تھی۔ صبا اور کرن دوسرے اسنیک تیار کررہی تھیں۔ یہ سب لوگ اونچے گھروں سے تعلق رکھتے تھے لیکن یہ بے تحاشہ ذہین اور پیارے لوگ تھے۔ سارہ ایک سفید پوش گھرانے کی تھی۔ اس کی والدہ ایک اسکول ٹیچر تھیں۔ زندگی میں انہوں نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے تھے۔ لیکن ان کی بہترین تربیت تھی کہ سارہ ایک پراعتماد اور بلند حوصلہ لڑکی تھی۔ وہ اپنی کلاس کی باقی لڑکیوں کی طرح کسی احساس کمتری میں مبتلا نہ تھی۔ ان تمام لوگوں کی اپنائیت نے سارہ کو ایک لمحہ بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ان کی کلاس کا حصہ نہیں۔ سارا وقت خوش گپیوں اور کھانے پینے میں گزرا۔ اس چھوٹے سے گیٹ ٹو گیدر کے بعد سارہ ان لوگوں کے اور بھی قریب آگئی تھی۔
سات بجے معید انصاری نے اسے اس کے گھر ڈراپ کیا، ساتھ میں ریحان اور کرن بھی تھے۔ سارہ نے انہیں اپنی والدہ سکینہ سے ملوایا۔ چھوٹے سے صاف ستھرے گھر میں سکینہ ان لوگوں سے بہت خلوص سے ملیں۔
اگلے چند ماہ میں وہ ان کے گروپ کا حصہ بن گئی تھی۔ معید انصاری سے اس کی خاص دوستی تھی۔ اس دن یونیورسٹی گراؤنڈ میں بیٹھی وہ صبا کا اسکیچ بنارہی تھی جس وقت معید انصاری وہاں آگیا۔
’’کہاں تھے اتنے دن۔‘‘ وہ ان دونوں کے پاس گراؤنڈ میں بیٹھ گیا۔
’’اسلام آباد گیا تھا۔‘‘ سارہ کے سوال پہ اس نے بتایا۔
’’بتا کر نہیں جاسکتے تھے؟‘‘ وہ ناراضگی سے بولی۔
’’کیوں تم مجھے مس کررہی تھی؟‘‘ معید انصاری نے اسے چڑایا۔
’’اب اتنے بھی برے حالات نہیں ہیں میرے کہ میں تمھیں مس کروں۔‘‘ سارہ نے شرارت سے کہا۔
وقت کے ساتھ ان کے درمیان بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی۔ پچھلے چند ماہ میں وہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے تھے۔
معید کا اپارٹمنٹ ان سب کا میٹنگ پوائنٹ تھا۔ سب دوست وہاں اکٹھے ہوتے۔ یہاں آنے کے لیے کسی کو معید انصاری کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ ان سب کا کوئی نہ کوئی سامان اس اپارٹمنٹ میں موجود رہتا۔ اب اس میں سارہ کے ایزل کا اضافہ ہوچکا تھا۔ یہ اب اس کا اسٹوڈیو بھی تھا۔ اکثر وہ فلیٹ بکھرہ ملتا۔ سارہ کو جب موقع ملتا وہ اس کے اپارٹمنٹ کی صفائی کردیتی۔ سب کی فرمائش پہ کچن میں جاکر کوئی ڈش بنا لاتی۔ وہ سب ایسے ہی تھے ایک دوسرے پہ حق جتانے والے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے۔ کہنے کو تو یہ اپارٹمنٹ معید انصاری کا تھا لیکن سب کے پاس اس کی ایک ایک چابی تھی۔ اسٹدیز ہوں یا پارٹیاں وہ سب یہیں ملتے اور معید انصاری کی غیر موجودگی میں بھی ان کا وہاں آنا جانا رہتا تھا۔
اس دن سارہ گراؤنڈ میں کھلے پھولوں کو کینوس پہ اتار رہی تھی اور معید انصاری اس کے پاس ہی بیٹھا تھا۔
’’یار میں تمہاری مصورانہ صلاحیتوں کا عاشق ہوگیا ہوں۔ کتنا خوب صورت پینٹ کررہی ہو ان پھولوں کو تم۔‘‘
’’صرف مصوری کے؟‘‘ اس نے ابرو اٹھا کے پوچھا۔
’’تم پہ عاشق ہوئے تو مہینوں گزر گئے اب تمھیں ہی احساس نہ ہو تو اس میں بندے کا کیا قصور۔‘‘ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اس نے افسردہ ہونے کی اداکاری کی۔
سارہ ہنستے ہوئے اس کی نوٹنکی دیکھ رہی تھی اسی لمحے معید انصاری نے اپنے موبائل سے اس کی تصویر اتار لی۔
’’کیا ہے معید! تمھیں دوسرا کوئی کام نہیں۔‘‘
’’میں چاہتا ہوں جب تک تمھیں قید نہیں کرلیتا تمھارے ہر ایکسپریشن کو اپنے موبائل میں قید کرلوں۔‘‘
’’قید کرنا چاہتے ہو مجھے؟‘‘
’’اپنے دل میں۔ شادی کرو گی مجھ سے؟‘‘
’’تم میرے سوا کسی اور سے شادی کرکے تو دکھاؤ۔‘‘ اس نے کھلی دھمکی دی۔
ء…/…ء
اس کے سی ایس ایس کے امتحانات ہوچکے تھے ان دنوں وہ پورا پورا مہینہ اسلام آباد میں ہوتا اور سارہ یونیورسٹی اور آرٹس کونسل میں مصروف رہتی لیکن وہ ایک دوسرے سے بے پروا نہیں تھے۔ فون پہ بھی ان کا رابطہ کم ہی رہتا لیکن ان کا تعلق ان واسطوں کا محتاج نہ تھا۔ اس دن معید انصاری لاہور میں ہی تھا جب سارہ صبح سویرے اس کے اپارٹمنٹ پہنچی۔
’’معید انصاری اٹھو۔‘‘ چادر منہ پہ تانے وہ بے خبر سورہا تھا۔ شور مچاتی وہ اس کے کمرے میں آئی اور چادر کھینچ کر اتار پھینکی۔
’’کیا تکلیف ہے تمھیں، صبح صبح کوئی اور نہیں ملا تنگ کرنے کو جو میرے کمرے میں قیامت لے آئی ہو۔‘‘ تکیہ منہ پہ رکھ کر اس نے کروٹ بدلی۔ معید انصاری نیند کا رسیا تھا اور یہ سب جانتے تھے کہ اس کے سراہنے ڈھول بھی بجاؤ وہ نہیں جاگے گا۔ اسی لیے وہ لوگ اسے جگانے کے لیے اکثر ایسے ہی حربے استعمال کرتے تھے۔
’’تمھارا سی ایس ایس کا رزلٹ آگیا ہے معید انصاری۔‘‘ سارہ نے اعلان کیا۔
’’تو میں کیا کروں۔‘‘ معید انصاری نیند میں بڑبڑایا۔
’’تمھاری سیکنڈ پوزیشن آئی ہے۔‘‘ سارہ نے تکیہ کھینچتے ہوئے کہا۔ چند لمحے وہ اس کی شکل دیکھتا رہا اور پھر ساری بات سمجھ گیا۔ اخبار اس کے ہاتھ سے لے کر اس نے جلدی سے اپنا رول نمبر دیکھا۔ سارہ کا چہرہ خوشی سے سرخ ہورہا تھا۔
سول سروس اکیڈمی میں اس کی کامن ٹریننگ شروع ہوئی اور وہ دوبارہ لاہور آگیا۔
’’میں ان دنوں شدید کمپلیکس میں ہوں، حادی بھائی جس طرح اپنے مقصد میں ثابت قدم ہیں، اپنے پروجیکٹ میں محنت کررہے ہیں مجھے لگتا ہے میں ساری زندگی بھی لگا رہوں تو اپنے کام میں اتنا کمیٹیٹڈ نہیں ہوسکتا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا وہ ایک ساتھ اتنے سب کام کیسے مینیج کرلیتے ہیں مجھ سے تو ایک تم نہیں سنبھالی جارہی۔‘‘ اس نے سارہ کو اپنے بڑے بھائی کا بتایا جو آج کل کسی اہم کام میں مصروف تھے۔ سارہ کو یہ تو معلوم تھا کہ معید انصاری کا ایک بڑا بھائی ہے جو ڈاکٹر ہے لیکن اس سے زیادہ مزید نہ اس نے کبھی پوچھا نہ معید انصاری نے بتایا۔ ان کے پاس ایک دوسرے کو سنانے کے لیے اور بہت سے قصے تھے۔
’’انسان اسی وقت کمیٹڈ ہوتا ہے جب اس کا مقصد کلئیر ہو۔ تمھیں بھی خود کو اپنی فیلڈ میں اتنا ہی کمیٹڈ کرنا ہوگا۔ بھیڑ چال سے ہٹ کر، تمام برائیوں میں رہ کر بھی ان سے اپنا دامن بچانا ہوگا، پھر دیکھنا تمھارے حادی بھائی بھی تم پہ اتنا ہی فخر کریں گے جتنا تمھیں ان پر ہے۔ ویسے تم اپنے بھائی سے بہت متاثر ہو۔ ملنا پڑے گا ان سے آخر وہ ہیں کیا چیز۔‘‘ سارہ نے شرارت سے کہا۔
’’ہرگز نہیں میرا اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ اگر تم سے متاثر ہوگئے تو میرا پتا صاف سمجھو۔‘‘ معید انصاری نے خوف زدہ ہونے کی اداکاری کی۔
’’معید انصاری تم کتنے چیپ ہو۔‘‘ سارہ نے کشن اٹھا کر اس کی طرف پھینکا جو معید انصاری نے بڑی شان سے کیچ کر لیا۔
پندرہ اکتوبر کو ان دونوں کی سال گرہ آنے والی تھی اور اس بار معید کو سال گرہ کا تحفہ دینے کے لیے سارہ نے پوری پلاننگ کر رکھی تھی۔
ء…/…ء
’’تم کچھ دیر ہلے بغیر نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘ سارہ جل کے بولی۔ اس کو فری ڈے ملا تو سارہ نے دھر لیا اور اب پچھلے تین گھنٹے سے وہ اس کی پینٹنگ بنا رہی تھی اور معید کے لیے ایک جگہ بیٹھنا عذاب ہوگیا تھا۔
’’تم مجھ سے کس بات کا بدلہ لے رہی ہو۔ دیکھنے بھی نہیں دیتی کیا بنارہی ہو۔ کہیں بندر کی تصویر بنا دی تو؟‘‘
’’اب تم جیسے ہو ویسا ہی بناؤں گی نا۔‘‘ سارہ نے کن آنکھیوں سے معید انصاری کو دیکھا۔ اس کا موڈ فل آف تھا۔
’’بھاڑ میں جائے تمہاری پینٹنگ، میں نہیں بنوا رہا۔‘‘ وہ اب ناراض ہونے کی اداکاری کررہا تھا۔
’’اچھا بابا! سوری۔ لو کان پکڑتی ہوں۔‘‘ سارہ نے کان پکڑے۔ دیکھو میری کتنی تصویریں بناتے ہو لیکن اپنی ایک تصویر کے لیے کتنا واویلا مچا رکھا ہے۔‘‘
’’میں تمھیں تین منٹ بھی نہیں انتظار نہیں کرواتا اور تم مجھ پہ پچھلے تین گھنٹے سے جبر کررہی ہو۔‘‘
’’کیا کرتے ہو میری اتنی تصویروں کا معید انصاری۔ کتنے برے برے پوز تم نے میرے اس موبائل میں جمع کئے ہوں گے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’یار جب تم مجھ سے ناراض ہوجاؤ گی تو تمھیں بھلانے کے لیے کوئی بھی بری سی تصویر دیکھ کر دل کو تسلی دوں گا کہ اچھا ہوا ایک بیکار سی لڑکی سے جان چھوٹ گئی۔‘‘
’’تم مجھے بھلا پاؤگے؟‘‘ سارہ اچانک افسردہ ہوئی۔
’’یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ تمھارا ہر روپ اتنا دلکش ہوتا ہے کہ اسے دیکھ کر تم سے محبت اور بھی شدید ہوجاتی ہے۔‘‘ معید کی بات نے سارہ کی آنکھوں کی چمک بڑھادی تھی۔
سارہ نے وہ پینٹنگ معید کو سال گرہ کے تحفے کے طور پہ دی تھی۔ پچھلے دو سال سے وہ دونوں اپنی سال گرہ اکٹھے منارہے تھے۔ عامر، ریحان، کرن اور صبا سب ان کے لیے گفٹ لائے تھے۔
’’کنجوس آدمی تم نے سارہ کو کچھ نہیں دیا۔‘‘ یہ ریحان تھا۔
’’نکالو میرا گفٹ۔‘‘ سارہ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
معید نے جیب سے ایک انگوٹھی نکالی اور جھٹ سارہ کی انگلی میں پہنا دی۔ سب لوگوں نے تالیاں بجائیں اور ان دونوں کو مبارک باد دی۔ سارہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔
’’بھئی ہمارے رومیو نے آج آفیشئلی اپنی جولئیٹ کو پرپوز کردیا۔‘‘ عامر نے اعلان کیا۔ وہ چاروں ان دونوں کی محبت کے گواہ تھے۔
’’اس خوشی میں آج کا ڈنر میری طرف سے۔‘‘ ریحان نے آفر دی۔
اس کی کامن ٹریننگ ختم ہوئی اور اس نے نیشنل اکیڈمی جوائن کرلی۔ لاہور کے چکر کم ہوگئے۔ آج کل وہ زیادہ تر فون پہ بات کرتے تھے۔
ء…/…ء
’’کون سے زعفران کے کھیت دیکھ لیے ہیں جو اکیلے بیٹھے مسکرا رہے ہو۔‘‘ معید انصاری کو موبائل اسکرین کی طرف مسکراتا دیکھ کر فاطمہ نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ وہ معید انصاری سے بہت کلوز تھیں۔ موبائل کی اسکرین ان کی طرف کرکے اس نے انہیں سارہ کی تصویر دکھائی۔
’’اچھی لگ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے تعریف کی۔
’’یہ کب اچھی نہیں لگتی ممی۔‘‘ معید انصاری نے دل پہ ہاتھ رکھا۔
’’مانی میں آج کل بہت جیلس ہونے لگی ہوں اس لڑکی سے۔ لاہور ہوتے ہو تو سارہ نظر آتی ہے اور اسلام آباد آتے ہو تو سارہ یاد آتی ہے میں تو اب تمھیں بالکل یاد نہیں آتی۔ تمہاری شادی کے بعد بڑا روایتی ساس بہو والا رشتہ ہوگا ہمارا۔‘‘
’’آپ کا مطلب ہے اسٹار پلس کے تمام سازشی پلاٹس اگلے چند سالوں میں ہمارے گھر میں شوٹ ہوں گے۔‘‘ اس کی شرارت پہ فاطمہ نے اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگائی۔
’’کب ملوا رہے ہو؟‘‘
’’بہت جلد۔ لیکن آپ پہلے حادی بھائی کا تو کوئی بندوبست کریں۔‘‘
’’وہ میری بات کہاں سنتا ہے۔ پتا نہیں اس لڑکے کا کیا بنے گا۔ سارا وقت اپنے ہسپتال کے چکر میں مصروف رہتا ہے۔ جب شادی کی بات کروں کہتا ہے جب کوئی پسند آئی سب سے پہلے آپ کو بتاؤں گا۔‘‘
’’اگر انہوں نے شادی نہ کی تو میرا کیا بنے گا۔‘‘ معید انصاری کی بات پہ فاطمہ ہنس دیں۔
ء…/…ء
پچھلے دو سال میں اس کی تصاویر آرٹس کونسل میں ہونے والی نمائشوں کا حصہ تھیں لیکن آج کل وہ اپنی سولو ایگزیبیشن کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ موبائل پہ معید کا نمبر دیکھ کے اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا۔
’’جلدی فلیٹ پہ پہنچو۔‘‘ پیچھے خوب شور مچا تھا۔ صاف لگ رہا تھا سب منڈلی وہاں موجود ہے۔ ریحان اور کرن کی شادی آج کا اہم موضوع تھا۔ معید انصاری‘ ریحان کی کلاس لے رہا تھا۔
’’یہ دونوں ہمیں رومیو جولئیٹ کہہ کے چڑاتے تھے اور خود گھنے میسنے ہماری ناک کے نیچے افئیر چلا رہے تھے۔‘‘ شادی کی تقریب لاہور میں تھی لیکن ولیمہ نورپور میں ریحان کے آبائی گاؤں میں تھا۔ اس کا مطلب ہم سب کو نورپور آنا پڑے گا۔ سارہ نے پریشانی سے کہا۔
’’آنٹی سے میں بات کرلوں گی۔ ایک رات کی تو بات ہے۔‘‘ سارہ کی ہچکچاہٹ پہ کرن نے تسلی دی۔
’’کرن، امی کی طبیعت آج کل ٹھیک نہیں ہے۔ وہ مجھے کچھ بتا نہیں رہی لیکن میں جانتی ہوں وہ دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہیں مجھے انہیں اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں لگ رہا۔‘‘
’’کام بھی اتنا کرتی ہیں۔ تم پریشان مت ہو انہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔ ایک دن سے کیا ہوتا ہے سارہ۔ یہ دن بار بار تو نہیں آئیں گے۔‘‘ وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی لیکن سکینہ نے بھی اصرار کرکے اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔
شادی کی تقریب اس کی سوچ سے زیادہ شاندار تھی۔ ولیمے کا انتظام فارم ہاؤس کے وسط میں بہت بڑے شامیانے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کیا گیا تھا۔ مردوں کا انتظام خواتین سے الگ تھا۔ لیکن معید انصاری اور عامر، ریحان کی فیملی کے ساتھ وہیں گھومتے نظر آرہے تھے۔ سارہ کو اس کی فیملی کا ماحول بہت عجیب لگا۔ جو لوگ اس فنکشن میں شامل تھے ان کے رویے ان کا رکھ رکھاؤ اور ان کے لہجوں سے سارہ مطمئن نہیں تھی۔ ریحان ان لوگوں سے قدرے مختلف تھا یا پھر سارہ اسے اتنا ہی جانتی تھی جتنا اسے دکھایا گیا تھا۔ معید انصاری اس کا پرانا اور بہتریں دوست تھا ان کے گھر اس کا آنا جانا تھا تو کیا ایسا ممکن تھا کے وہ ریحان کی فیملی کے بارے میں وہ سب نہ جانتا ہو جو آج یہاں آکر اس نے محسوس کیا تھا۔
شاید سارہ کی ایسی کسی تقریب میں پہلی شرکت تھی اسی لیے وہ خود کو کمفرٹیبل محسوس نہیں کررہی تھی۔ ولیمہ کے بعد وہ دونوں فنکشن کی جگہ سے ذرا ہٹ کے بیٹھے تھے۔ آسمان پہ دسمبر کا زرد چاند ماحول میں آشتی پیدا کررہا تھا۔ سرد رات میں ایک شال اوڑھے وہ نورپور کی ٹھنڈ کو انجوائے کررہے تھے۔
’’وہ لڑکیاں کون ہیں؟‘‘ سارہ نے اس عمارت کی طرف اشارہ کیا جہاں مردوں کی رہائش کا انتظام تھا۔
’’ریحان کی کزنز ہوگی۔‘‘ معید انصاری نے گول مول جواب دیا۔
’’ریحان کی کزنز کا حلیہ عجیب سا نہیں لگ رہا اور میرا خیال ہے میں نے تو انہیں ولیمے کی تقریب میں بھی نہیں دیکھا۔‘‘ وہ دونوں اب عمارت کے اندر جاچکی تھیں۔ معید انصاری بھی ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔
’’سارہ تم میرے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنے آئی ہو یا سی آئی ڈی کرنے؟‘‘ اس کے چہرے پہ کچھ تھا جس نے سارہ کو تشویش میں ڈال دیا۔ معید انصاری اس سے کبھی اس ٹون میں بات نہیں کرتا تھا۔
’’تم خفا کیوں ہورہے ہو مانی؟‘‘
’’وہ لوگ ریحان کے مہمان ہیں جیسا مرضی حلیہ بنا کے پھریں ہم کیوں اپنا ٹائم ضائع کررہے ہیں۔‘‘
’’آدھی رات کو اتنا بیہودہ میوزک کون سن رہا ہے؟‘‘ فضا میں بے ہنگم موسیقی کا شور اٹھا۔
’’چلو اندر چلتے ہیں۔‘‘ اچانک معید انصاری وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو۔ وہاں کچھ ٹھیک نہیں ہورہا ہے نہ؟‘‘ معید انصاری نے ایک گہری سانس لی۔
’’سارہ ریحان میرا سب سے اچھا دوست ہے۔ ہم ایک دوسرے کو بہت سالوں سے جانتے ہیں لیکن ہر فیملی کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے مگر ہم ان پہ اعتراض نہیں کرسکتے۔ یہ ان کا زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔‘‘
’’لیکن معید انسان اپنے دوستوں کی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ سارہ تشویش سے بولی۔
’’میں ریحان کے ساتھ ہر جگہ نہیں چلا جاتا نہ ہی ہر وہ کام کرتا ہوں جو میری اقدار نہیں ہیں‘ اور ایک بات اس کی دوستی سے کبھی میری ذات کو نقصان نہیں پہنچا۔کیا تمھیں مجھ پہ یقین نہیں؟‘‘ اس نے بہت دھیمے لہجے میں پوچھا۔
’’تم پہ یقین نہ ہوتا تو اپنا مستقبل تم سے منسوب نہیں کرتی۔‘‘ سارہ کی بات سے معید انصاری کو تسلی ہوئی۔ دوبارہ ان کے درمیان اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی لیکن سارہ پہ ہونے والے اس نئے انکشاف نے اس کے دل میں ریحان کی شخصیت کو مشکوک کردیا تھا۔
ء…/…ء
صبا اور عامر کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی اور اس سے پہلے سارہ کی سولو ایگزیبیشن ہونے والی تھی۔ معید انصاری خاص طور پر اسلام آباد سے آیا تھا۔ ریحان، عامر کرن اور صبا سب اس کے ساتھ تھے۔ سارہ کو اس کی توقعات سے بڑھ کر ریسپونس ملا تھا۔ اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ معید انصاری نے واپسی پہ اسے گھر کے باہر ہی ڈراپ کیا اسے ریحان اور عامر کے ساتھ کہیں جانا تھا۔ گھر میں قدم رکھا تو ایک بری خبر اس کی منتظر تھی۔ ساتھ والی نجمہ آنٹی اس کے گھر پہ اس کا انتظار کررہی تھیں۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کی والدہ کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی اور انہیں ہسپتال لے گئے ہیں۔
’’آپ نے مجھے فون کیوں نہیں کیا؟‘‘ وہ روتے ہوئے بولی۔
’’تمہاری امی نے سختی سے منع کیا تھا وہ جانتی تھیں یہ تمہاری زندگی کا کتنا بڑا دن ہے۔ ایسے میں وہ تمھیں اپنی طبیعت کا بتاکر تمہاری خوشی خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔‘‘ پریشانی اور گھبراہٹ میں وہ ہسپتال پہنچی۔ راستے میں کئی بار اس نے معید انصاری کا نمبر ملایا۔ ہر بار فون بند تھا۔
’’میری امی کو کیا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب؟‘‘
’’مس سارہ آپ کی والدہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں، انہیں بریسٹ کینسر ہے جو اس وقت اپنی آخری اسٹیج پہ ہے۔‘‘
’’لیکن یہ سب اتنا اچانک کیسے ہوگیا۔‘‘
’’کینسر کی تشخیص اچانک ہی ہوتی ہے۔ لیکن آپ کی والدہ کا مرض آج نہیں ایک سال پہلے معلوم ہوگیا تھا۔ ہم کنزرویٹو ٹریٹمنٹ کررہے تھے۔ وہ آپریشن نہیں کروانا چاہتی تھیں۔ مگر ہم اس پہ قابو نہیں پاسکے۔‘‘
’’امی نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔‘‘
’’شاید وہ آپ سے اپنی بیماری پوشیدہ رکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ اسے یاد آیا کچھ عرصے سے وہ بہت کمزور ہوگئی تھیں۔ تھکنے لگی تھیں اور خاموش بھی تھیں۔ جب بھی سارہ نے انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہا وہ ٹال جاتی تھیں۔ جب سارہ کا اصرار بڑھنے لگا تو ایک دن انہوں نے اسے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس ہو آئی ہیں اور اس نے کوئی خاص وجوہات نہیں بتائی ہیں شائد موسمی اثرات ہیں۔
وہ تمام رات اس نے بنچ پہ روتے ہوئے گزاری۔ وہ اللہ سے رو رو کر اپنی ماں کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھیں جو اس وقت آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ آدھی رات کو ڈاکٹر نے اسے سکینہ کے کوما میں جانے کی اطلاع دی۔ اس پہ ایک اور قیامت گزری تھی۔
صبح سات بجے تک جب اس کا معید انصاری سے رابطہ نہ ہوا تو وہ اس کے فلیٹ پہ چلی گئی۔ اسے صبح اسلام آباد کے لیے نکلنا تھا اور سارہ کو اس وقت اس کی ضرورت تھی۔ اللہ کے بعد اس کا دوسرا سہارا معید انصاری تھا۔ اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو معید انصاری تکیہ منہ پہ رکھے بے خبر سورہا تھا۔ اگلے ہی پل سارہ کی نظر اس کے قریب لیٹی لڑکی پہ پڑی۔ آسمان سر پہ کیسے گرتا ہے اس کو آج پتا چلا تھا۔
’’معید…‘‘ وہ غصے میں چلائی۔
نیند میں چور وہ تھوڑی دیر کسمسایا اور پھر تکیہ ہٹا کر دروازے کی طرف دیکھا۔ سارہ کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں اور وہ اب بھی زار و قطار رو رہی تھی۔
’’کیا ہوا سارہ تم رو کیوں رہی ہو۔‘‘ معید گھبرا کر بستر سے اٹھا۔ سارہ کی نظروں کے تعاقب میں معید نے بیڈ کے دائیں طرف دیکھا اور اسے ایک زبردست جھٹکا لگا۔
’’آئی ہیٹ یو معید انصاری۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا سارہ نفرت سے کہتی وہاں سے نکل گئی۔ معید اسے روکنے کے لیے اٹھا مگر وہ جاچکی تھی۔
سارہ اپنی محبت کا ماتم کرتی ہسپتال پہنچی تو سکینہ کی موت کی خبر اس کی منتظر تھی۔ ایک رات میں اس کی دنیا اجڑ گئی تھی۔ اس پہ دکھ کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔ سکینہ اس کی چھت تھی معید انصاری کو وہ اپنا سائباں سمجھتی تھی۔ سکینہ کو قدرت نے واپس لے لیا اور معید انصاری کو وہ خود چھوڑ آئی تھی۔ وہ کبھی اس کی آواز سننا چاہتی تھی نہ اس کی صورت دیکھنا چاہتی تھی۔ اسے دھوکے اور بے ایمانی سے نفرت تھی اور معید انصاری بھی دھوکے باز تھا۔ اسے معید انصاری سے بھی نفرت تھی۔ اپنی قنوطیت اور ڈپریشن سے نجات کا واحد رستہ فرار تھا۔ سو اس نے اپنا شہر، ابھرتی ہوئی شناخت سب چھوڑ کر فرار میں پناہ ڈھونڈی۔ نہ کوئی مقام تھا نہ منزل۔ ہری پور کی بس میں بیٹھی وہ ایک اجنبی شہر چلی آئی تھی۔ یہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن تقدیر اسے ایک بار پھر معید انصاری کے سامنے لے آئی تھی۔ اتنی بڑی دنیا میں اسے ملا بھی تو کون؟ معید انصاری کا بھائی اسے قسمت کی ستم ظریفی پہ رونا آرہا تھا۔
ء…/…ء
معید انصاری کے دماغ میں دھماکے ہورہے تھے۔ اپنے پہلو میں لیٹی اس واہیات لڑکی کو دیکھ کر وہ پاگل ہوگیا تھا۔
’’کون ہو تم اور یہاں کیا کررہی ہو؟ جلدی بولو ورنہ گولی مار دوں گا۔‘‘ اسے گھسیٹتے ہوئے معید انصاری غرایا۔
’’میرا کوئی قصور نہیں، مجھے ریحان نے پیسے دیئے تھے۔‘‘ معید انصاری کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر اس نے التجا کی۔
’’دفع ہوجاؤ یہاں سے۔‘‘ نفرت سے کہہ کر اس نے موبائل اٹھایا۔ سارہ زیادہ دور نہیں گئی ہوگی جب وہ اسے بتائے گا کہ یہ ریحان کا بے ہودہ مذاق ہے تو وہ سب سمجھ جائے گی۔ سوچتے ہوئے اس نے اپنا فون اٹھایا جو رات سے چارجنگ پہ لگا تھا اور معید انصاری اسے آن کرنا بھول گیا تھا۔ موبائل پہ نیٹ ورک آتے ہی کل رات سے رکے میسیجز اسکرین پہ نمودار ہوئے۔ فاطمہ اور حدید کے دسیوں میسیجز پڑھتے ہوئے اس کا سر گھوم گیا۔ وہ سارہ کو بھول کر اب جلدی جلدی واپس جانے کی تیاری کررہا تھا۔
ہوا کے گھوڑے پہ سوار وہ انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا اسلام آباد جارہا تھا۔ دو جگہ اس کو اوور اسپیڈنگ پہ ٹکٹ ملا لیکن اسے کسی بات کی پروا نہیں تھی۔ کچھ یاد تھا تو اتنا کہ اس کے اپنوں کو اس کی ضرورت تھی۔
’’مانی… بابا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے۔ ہم انہیں ہسپتال لے آئے ہیں تم فورا گھر پہنچو۔‘‘ حدید کا میسج اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
’’مانی! تمھارے بابا کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ ہم کب سے تمھیں کال کررہے ہیں۔ جتنی جلدی ہوسکے واپس آجاؤ۔‘‘ فاطمہ کا میسج اسے یاد آیا۔
’’چار بجے بابا کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ ہم ان کی باڈی لے کر گھر جارہے ہیں۔‘‘ حدید کا یہ میسیج صبح چھ بجے اس کے موبائل پہ آیا تھا۔ اس کا دل خود کو پیٹ لینے کو چاہ رہا تھا۔ حدید اور فاطمہ اس کو کال کرتے رہے اور وہ بے خبر سوتا رہا۔ اسے خود سے نفرت ہورہی تھی۔ اپنی بے پروائی پہ غصہ آرہا تھا۔ تین گھنٹے بعد وہ گھر پہنچا تو وہاں اس وقت بہت سے لوگ جمع تھے۔ حدید اس وقت تدفین کے انتظامات میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس سے لپٹ گیا۔
’’کہاں تھے تم مانی! ہم نے تم سے رابطہ کرنے کی کتنی کوشش کی۔ ریحان اور عامر کو بھی کال کی لیکن کسی سے بات نہیں ہوسکی۔‘‘
’’ممی کہاں ہیں۔‘‘ اس نے روتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ اندر ہیں۔‘‘ حدید کی آواز غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔
فاطمہ نڈھال سی لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ رشتے دار خواتین ان کے گرد جمع تھیں۔ رو رو کر ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔ وہ بہت دیر ان کے پاس بیٹھا انہیں تسلی دیتا رہا۔ انہیں سنبھالتے ہوئے وہ خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ اگلے چند دن معید انصاری کے لیے بہت بھاری تھے۔ فاطمہ کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ رات بھر جاگتی رہتیں۔ بڑی مشکل سے حدید انہیں سکون کی گولی دے کر چند گھنٹے سلاتا۔ وہ دونوں فاطمہ کی طبیعت کی وجہ سے اپنا سارا وقت انہیں دے رہے تھے۔ سارہ کو اس نے چند بار کال کی لیکن اس کا موبائل بند تھا۔ عامر اور صبا اس کے گھر کا چکر لگا آئے تھے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس کی والدہ کی وفات کی اطلاع بھی محلے والوں کی زبانی انہیں معلوم ہوئی۔ معید انصاری نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسے کھو چکا تھا۔ ریحان اس سے کئی بار معافی مانگ چکا تھا۔ لیکن اس نے اسے معاف نہیں کیا تھا۔
اکثر وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شرارت کرتے رہتے تھے لیکن اس بار ریحان کی یہ شرارت معید انصاری کو بہت مہنگی پڑی تھی۔ ریحان کے لیے ایسی لڑکیوں سے ملنا جلنا کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن معید انصاری کو ایسے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ریحان کو بھی اکثر سمجھاتا تھا کہ اسے اپنا قبلہ درست کرنا چاہئیے لیکن ریحان زندگی کو بھرپور انجوائے کرنے میں یقین رکھتا تھا۔ عامر بھی کبھی کبھار اس کے ساتھ ایسی محفلوں میں چلا جاتا لیکن معید انصاری کی موجودگی میں عامر بھی اس کے ہاتھ نہیں آتا تھا۔ ریحان کو معید انصاری کی یہ پاک بازی زچ کرتی اور اکثر اسے چیلنج کرتا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ اسے بھی زندگی انجوائے کرنا سکھا دے گا۔
اس رات معید انصاری ایگزیبیشن کے بعد ان دونوں کے ساتھ تھا اور ریحان نے ہی اس لڑکی کو دس ہزار دے کر اسے معید انصاری کے کمرے میں پہنچایا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ معید انصاری کی نیند کیسی ہے ایک بار وہ سو جائے تو کمرے میں گھوڑے دوڑا دو وہ نہیں جاگے گا۔ اس کا پلان تھا کہ وہ عامر کے ساتھ اس کے فلیٹ میں آئے گا معید انصاری کی کھنچائی کرے گا۔ عامر بھی اس کے پلان سے لاعلم تھا اور وہ یہ سب کسی ایڈونچر کے طور پہ کررہا تھا۔ صبح سویرے سارہ وہاں پہنچ جائے گی یہ وہ آخری بات تھی جو اس نے سوچی بھی نہیں تھی۔ فاطمہ پوری بات تو نہیں جانتی تھیں لیکن انہیں اتنا اندازہ تھا کہ سارہ اور معید انصاری کے درمیان کوئی بڑا جھگڑا ہوا ہے اور سارہ کا پچھلے چھ ماہ سے کچھ پتا نہیں تھا۔
ء…/…ء
وہ تمام رات سو نہیں پایا اور سو تو وہ بھی نہیں پائی تھی۔ فاطمہ نے ملازمہ کو بھیج کر اسے ناشتے پہ بلوایا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ڈائیننگ روم میں آنا پڑا۔ معید انصاری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ بے دلی سے ناشتہ ختم کرکے وہ اپنے کمرے میں واپس آگئی تھی۔ حدید نے اسے بلانا چاہا لیکن سارہ کی آنکھوں میں آج وہ اجنبیت تھی جو چند ماہ پہلے حدید نے دیکھی تھی۔ پچھلے چند گھنٹوں سے وہ اپنے کمرے میں بند تھی۔ آج کا دن بہت بھاری تھا۔ پچھلے تین سال سے وہ اس دن کو معید انصاری کے ساتھ سیلیبریٹ کرتی رہی تھی۔
حدید نے دروازے پہ دستک دی تھی۔ وہ اسے شام کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ اس کا کہیں جانے کا موڈ نہیں تھا، وہ اس وقت صرف واپس جانا چاہتی تھی لیکن یہ بات حدید سے کہنا اتنا آسان نہیں تھا۔ جو کچھ اس کے بھائی نے سارہ کے ساتھ کیا اس کا غصہ اس پہ نکالنا حماقت تھی۔ شام سات بجے وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ حدید نے اسے توصیفی نگاہوں سے دیکھا۔
’’بہت اچھی لگ رہی ہو، ہمیشہ کی طرح۔‘‘ حدید نے سرگوشی کی۔
ڈرائیو وے پہ معید انصاری ان دونوں کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔
’’آج مانی کی سال گرہ ہے۔‘‘ حدید نے سارہ کو بتایا۔
’’تمہاری برتھ ڈے پہ آج کا ڈنر میری اور سارہ کی طرف سے ہے میرا خیال ہے تم تو اپنی سال گرہ بھول ہی گئے تھے۔‘‘ میرئیٹ کی پول سائیڈ پہ بیٹھے وہ تینوں ڈنر کا انتظار کررہے تھے۔ معید انصاری بمشکل مسکرایا۔
’’ہیلو سارہ!‘‘ صبا کی آواز پہ چونک کے تینوں نے اس کو دیکھا اس کے ساتھ عامر بھی تھا۔
’’شکر ہے تم مل گئی کتنا ڈھونڈا ہم سب نے تمھیں۔ یہ تمھارا رومیو کتنا اداس تھا تمھارے بغیر۔ کتنے چکر لگوائے ہیں اس نے میرے اور عامر کے تمھارے گھر۔ شکر ہے تم دونوں ایک بار پھر اپنی سال گرہ پہ اکھٹے ہو۔‘‘ صبا ایک سانس میں بولے جارہی تھی۔ عامر اب حدید اور معید انصاری سے مل رہا تھا۔
’’ویسے غلط فہمی دور ہوگئی تم دونوں کی؟ ہمیں تو بتا دیتے۔ سارہ ایسی بھی کیا بدگمانی کہ تم بنا کچھ کہے سنے اس طرح غائب ہوگئی۔ تم معید انصاری کو جانتی نہیں ہو وہ تمھارے سوا کسی اور کا سوچ بھی نہیں سکتا اور وہ سب تو ریحان کا بے ہودہ مذاق تھا۔ سچ مانو ہم سب اس دن سے اس سے ناراض ہیں یہاں تک کہ کرن نے تو اسے چھوڑنے کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ وہ لڑکی ریحان کی لائی ہوئی تھی اب اسے کیا پتا تھا کہ تم وہاں پہنچ جاؤ گی۔ اس دن ایمرجنسی میں معید انصاری کو اسلام آباد واپس جانا پڑا کیونکہ انکل کا انتقال ہوگیا تھا۔ میں اور صبا کئی بار تمھارے گھر گئے۔‘‘ عامر اب اسے تفصیل بتا رہا تھا۔ سارہ کی آنکھوں میں ندامت لہرائی۔
’’تمھاری وجہ سے یہ ہماری شادی میں بھی نہیں آیا۔‘‘ صبا نے گلہ کیا۔
معید انصاری اس وقت کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اس کی نظریں حدید کے چہرے کا احاطہ کررہی تھیں جہاں اس وقت کوئی تاثر نہیں تھا۔
’’ہم اب چلتے ہیں اور ہاں اپنی شادی پہ بلانا مت بھولنا۔‘‘ صبا اور عامر ان کی ٹیبل پہ ڈنر سرو ہوتا دیکھ کر چلے گئے تھے۔
وہ معید انصاری سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی۔ لیکن اس میں اس کا بھی کیا قصور تھا جو کچھ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے بعد اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرتا۔ لیکن وہ تو معید انصاری سے محبت کرتی تھی۔ اسے اس پہ بھروسہ کرنا چاہئیے تھا۔ محبت کی تھی تو اعتبار کیوں نہیں کیا۔ اس نے کیسے سوچ لیا اتنے سالوں میں جس شخص نے اسے چھوا بھی نہیں وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ انوالو ہوسکتا ہے۔ کتنی بار وہ دونوں فلیٹ میں اکیلے ملے۔ معید انصاری اگر بھنورا ہوتا تو وہ اسے بھی ایسی ہی نظر سے دیکھتا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ دھوکے باز نہیں تھا۔ اسے خود سے نفرت ہورہی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔ وہ دونوں اسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اگلے ہی پل معید انصاری اس کے پیچھے بھاگا تھا۔ وہ ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل رہی تھی جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
’’کہاں جارہی ہو مجھے چھوڑ کے؟ ایک بار تکلیف دے کر تمھارا دل نہیں بھرا جو دوبارہ مجھے تنہائی کی اذیت دینا چاہتی ہو۔ پچھلے چھ ماہ سے پاگلوں کی طرح تمھیں ڈھونڈھ رہا ہوں۔ وہ گناہ جو میں نے نہیں کیا اس کی سزا بھگت رہا ہوں لیکن سارہ تم اگر اب مجھے چھوڑ کے گئی تو میں مر جاؤں گا۔‘‘ اس کے آنسوؤں سے بھیگے گالوں کو اپنی انگلی سے صاف کرتے اس نے کہا۔
’’تمھارے بغیر میں بھی کہاں زندہ تھی۔ مر جانا میرے بس میں ہوتا تو کب کا خود کو ختم کرچکی ہوتی۔‘‘ وہ بچوں کی طرح اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ حدید دور کھڑا ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ گلاسز اتار کے اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کیا اور مسکراتے ہوئے ان کی طرف قدم بڑھائے۔
ء…/…ء
سرخ جوڑے میں وہ بے تحاشہ حسین لگ رہی تھی۔ معید انصاری ابھی ابھی کمرے میں آیا تھا اور اس کی تعریف میں زمین آسمان ایک کررہا تھا۔ وہ دونوں بے تحاشہ خوش تھے، آج ان کی محبت کو منزل مل گئی تھی۔ رومیو کو بلآخر اپنی جولیٹ مل گئی تھی۔ وہ ارمانوں کی رات تھی، محبت کی جیت کا جشن منانے کی رات لیکن کوئی تھا جس کی محبت ہار گئی تھی۔ لان میں اس وقت مدھم سا بلب جل رہا تھا۔ سردی اپنے عروج پر تھی۔ راتیں طویل ہوگئی تھیں ایسے میں تنہائی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج اس کے بھائی کی شادی تھی تو اسے خوش ہونا ہی تھا مگر خود کو خوش ظاہر کرتے، مطمئن ظاہر کرتے وہ بہت تھک گیا تھا۔ سارہ نے کہا تھا وہ اس کی عزت کرتی ہے مگر محبت نہیں کرتی لیکن وہ اس سے محبت کرتا تھا اور کرتا رہے گا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس کے چھوٹے بھائی کی بیوی ہے وہ اپنے دل سے ان جذبات کو نوچ کر پھینک نہیں سکتا تھا۔ فاطمہ اس کے پاس آکر کھڑی ہوئیں تھیں۔ انہیں دیکھ کر وہ مسکرایا۔ لیکن اس کی آنکھوں کی اداسی ان سے چھپی نہیں تھی۔
’’تم شادی کرلو حادی! کسی بھی لڑکی سے۔ تم کہو تو میں کوئی لڑکی دیکھوں۔‘‘ انہوں نے التجا کی۔
’’ممی! ابھی نہیں۔‘‘
’’حادی! تم اسے بھول جاؤ۔‘‘
’’کوشش کروں گا۔‘‘ ان کے دونوں بیٹے ان کی دو آنکھیں تھے وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی افسردہ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ لیکن یہ کیسا تقدیر کا کھیل تھا کہ جب ایک نے خوشی پائی تو دوسرے کے حصے میں اداسی آئی۔
صبح ناشتے کی میز پہ معید انصاری کا دمکتا چہرہ اور سارہ کا معصوم حسن دیکھنے کے لائق تھے۔ معید انصاری کی رفاقت کا اثر تھا کہ آج وہ کل سے بھی زیادہ خوب صورت لگ رہی تھی۔
معید انصاری کی پوسٹنگ جہلم تھی اور ہنی مون سے واپسی پر وہ دونوں جہلم چلے گئے تھے۔ یہ ان کی زندگی کے حسین ترین دن تھے۔ حدید ایک بار پھر ہسپتال میں مصروف ہوگیا تھا۔ خود کو کام میں مصروف کرکے شائد وہ سارہ کی یادوں سے نجات چاہتا تھا۔ لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کی یادیں ہسپتال کی دیواروں سے لے کر اس وادی تک ہر جگہ بکھری ہوئی تھیں۔
ان کی شادی کو ایک سال ہوچکا تھا۔ سارہ ماں بننے والی تھی۔ فاطمہ کو پتا چلا تو وہ جہلم ان دونوں سے ملنے چلی آئیں۔ حدید نے بھی مبارک باد کی کال کی تھی۔ معید انصاری کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ دن میں کئی کئی بار وہ اسے فون کرکے اس کی خیریت پوچھتا تھا۔ اس کا بس چلتا تو سارہ کو ایک لمحہ اکیلا نہ چھوڑتا۔
ء…/…ء
ملازم نے جوس کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔ جوس پیتے اس نے ریموٹ سے چینل بدلا۔ نیوز چینل پہ بریکنگ نیوز آرہی تھی۔
’’سول لائن پولیس اسٹیشن جہلم پہ خودکش حملہ۔ اے ایس پی معید عابص انصاری اور تین اہلکار موقع پہ جاں بحق۔‘‘ جوس کا گلاس اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔ حدید کی کال اس کے فون پہ آرہی تھی لیکن وہ اسے اٹینڈ نہیں کررہی تھی۔ اگلے چند منٹوں میں وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔
ء…/…ء
پچھلے دو دن سے ایک نوالہ بھی اس کے حلق سے نہیں اترا تھا۔ معید انصاری کی موت نے اسے پتھر بنا دیا تھا۔ وہ اسلام آباد میں تھی اور فاطمہ اپنا غم بھول کر اس وقت اس کے سرہانے بیٹھی تھیں۔ وہ نہ روئی تھی نہ ایک لفظ بولی تھی۔ ڈاکٹر کو مجبوراً اسے ڈرپ لگانی پڑی۔ فاطمہ نے اسے معید انصاری کا واسطہ دیا۔ اس کے ہونے والے بچے کی زندگی اور صحت کی تشویش ظاہر کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ جاگ جاگ کر اس کی انکھیں پتھرا گئی تھیں۔ اگر تھک کر چند منٹ سوتی تو چونک کر اٹھ جاتی۔ معید انصاری کی تصویر کے سامنے گھنٹوں خاموش بیٹھی رہتی۔ فاطمہ کو ڈر تھا کہیں اس کی یہ حالت ہونے والے بچے کی صحت پہ کوئی اثر نہ ڈالے۔ وہ ان کے بیٹے کی آخری نشانی تھا۔ انہیں سارہ سے بھی اتنی ہی محبت تھی لیکن وہ بے بس تھیں۔ وہ اپنا غم چھپائے اس کی دل جوئی کررہی تھیں۔
’’تم اس سے بات کرو حادی! مجھے یقین ہے تم اسے سنبھال لوگے۔ وہ مر جائے گی اور اس کے ساتھ میرے مانی کی نشانی بھی۔‘‘ انہوں نے خوف سے روتے ہوئے کہا۔
’’ممی! چپ ہوجائیں کچھ نہیں ہوگا۔ میں کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ اس نے انہیں تسلی دی۔
ء…/…ء
’’ممی تمہاری وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ تم سارا سارا دن کچھ کھاتی پیتی نہیں ہو اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتی اور ان دنوں تمھیں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ ایسا کب تک چلے گا۔‘‘ حدید آج سارہ سے ملنے آیا تھا۔
’’میں یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرتی۔‘‘
’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تم یہ سب جان بوجھ کر کررہی ہو۔ لیکن تمھیں اب اس فیز سے نکلنا ہوگا۔ وہ صرف تمھارا شوہر نہیں تھا، وہ میرا بھائی بھی تھا اور ممی نے اپنا بیٹا کھویا ہے۔ ہم بھی تو اس کے بغیر جی رہے ہیں۔‘‘
’’وہ صرف میرا شوہر نہیں تھا حدید…‘‘ وہ میری زندگی تھا۔ وہ آنسو پیتے ہوئے بولی۔
’’وہ اگر زندہ ہوتا تو کیا تم اس کے ہونے والے بچے کے ساتھ اتنی ہی بے پروائی برتتی۔ اس کا بچہ تمھارے پاس اس کی امانت ہے تم اس سے بے پروا کیوں ہو۔ ممی کہتی ہیں تم نہ کچھ کھاتی ہو نہ سوتی ہو، اپنی دوائیاں بھی وقت پہ نہیں لیتی۔‘‘ حدید کی باتوں سے سارہ میں اتنی تبدیلی آئی کہ اس نے دوا اور کھانا بغیر کسی کے کہے کھانا شروع کردیا تھا۔ اگلے چند ماہ میں وہ بہت کمزور ہوگئی تھی۔ اس کا بلڈ پریشر اکثر ہائی رہتا تھا۔ معید انصاری کے بغیر وہ جیسے جینا بھول گئی تھی۔
ء…/…ء
’’کیا تم اب بھی سارہ سے محبت کرتے ہو۔‘‘ فاطمہ کے سوال نے حدید کو حیران و پریشان کردیا تھا۔
’’کیسی باتیں کررہیں ہیں آپ ممی۔‘‘ حدید نے نظریں چرائیں۔
’’تم اس سے شادی کرلو۔‘‘
’’ممی! وہ مانی کی بیوی ہے۔‘‘
’’وہ اس کی کی بیوہ ہے حادی۔‘‘
’’یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ حدید دو ٹوک بولا۔
’’اس کی عمر ہی کیا ہے وہ کب تک تنہا رہے گی آخر ایک نہ ایک دن کسی سے شادی تو کرے گی پھر تم کیوں نہیں کرسکتے اس سے شادی؟ اور پھر اگر اس نے کسی اور سے شادی کرلی اور مانی کا بچہ بھی اپنے ساتھ لے گئی تو۔‘‘ فاطمہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
’’کیا وہ مان جائے گی؟‘‘
’’میں اسے منالوں گی۔‘‘
’’آپ اس سے ابھی کوئی بات نہ کیجئے گا۔ اس کی ڈلیوری کے دن قریب ہیں ایسی حالت میں اس کا کسی بھی اسٹریس سے گزرنا ٹھیک نہیں۔‘‘ حدید نے اس کی طبیعت کے پیش نظر اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ اور وہ دونوں نہیں جانتے تھے تھے سارہ ان کی ساری باتیں پہلے ہی سن چکی ہے۔
ء…/…ء
’’یہ لوگ مجھ سے اس کی یادیں بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔ معید انصاری نہیں رہا تو کیا اس کا نام بھی میرے نام سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ محبت وجود کی محتاج نہیں ہوتی وہ نہیں رہا تو کیا میرے دل میں اس کی محبت بھی نہیں رہی۔‘‘ وہ بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔ کمرے میں اسے گھٹن محسوس ہوئی تو وہ لان میں نکل آئی۔ ماربل کے اسٹیپ پہ کھڑے اسے دو سال پہلے کا وقت یاد آیا۔ وہ یہاں بیٹھی تھی اور معید انصاری گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ اس سے ناراض تھی اور معید انصاری نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اس کا بڑھا ہاتھ رد کرکے چلی گئی تھی لیکن اس بار وہ معید انصاری کا ہاتھ تھام لینا چاہتی تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا، اگلے پل اس کا پاؤں پھسلا اور وہ لان میں پیٹ کے بل گر پڑی تھی۔ اس کی طبیعت بہت خراب تھی۔ اس کی ڈیلیوری میں ابھی وقت تھا لیکن اس کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر اس کا آپریشن کرنا پڑا تھا۔
پوتے کی پیدائش کی خبر نے جہاں فاطہ کو ان کا کھویا ہوا معید انصاری لوٹا دیا تھا وہیں سارہ کی بگڑتی ہوئی حالت ان دونوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث تھی۔
’’ہم نے بہت کوشش کی لیکن سارہ کی طبیعت بگڑتی جارہی ہے ڈاکٹر حدید۔ گرنے کے باعث اندرونی ٹشوز پھٹنے سے ان کا بہت سا خون بہہ گیا ہے اور انہیں ہیمرج ہوگیا ہے، ان کا بلڈ پریشر ناقابل یقین حد تک لو ہورہا ہے۔ ایسی حالت میں وہ آپ سے ملنے کی ضد کررہی ہیں۔ ہم انہیں زیادہ بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے لیکن وہ مسلسل آپ سے ملنے کی درخواست کررہی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر کی ناامیدی حدید کو پریشان کررہی تھی۔
ء…/…ء
’’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بہت تکلیف میں تھی۔ آکسیجن کا پائپ اترنے سے اسے سانس لینے میں بھی پریشانی ہورہی تھی۔
’’تمھیں اس وقت آرام کی ضرورت ہے۔ ہم بعد میں بات کرسکتے ہیں۔‘‘ حدید کو اسے دیکھ کر تکلیف ہوئی۔
’’شائد پھر وقت نہ ملے۔ آپ سے ایک وعدہ چاہتی ہوں۔‘‘ اسے بولنے میں دقت ہورہی تھی۔
’’بولو۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمھاری ہر خواہش پوری کروں گا۔‘‘
’’معید انصاری اپنے بیٹے کا نام حیدر رکھنا چاہتا تھا۔ میں اس کی کی ذمہ داری آپ کو سونپ رہی ہوں۔ اسے معید انصاری کی طرح پولیس سروس جوائن کرائیے گا۔ ایک ایمان دار اور فرض شناس پولیس آفیسر!‘‘
’’تمھیں کچھ نہیں ہوگا، ہم اسے مل کر پالیں گے۔ سارہ میں تم سے بہت محبت…‘‘ حدید کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔ سارہ کا ہاتھ حدید کے ہاتھ سے پھسل کر بستر پہ گر پڑا تھا۔
ء…/…ء
’’تم دونوں کو سال گرہ مبارک ہو۔‘‘ وہ لاؤنج میں لگی سارہ اور معید کی تصاویر کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کا لہجہ آج بھی اتنا ہی پر تاثر اور دل میں اترنے والا تھا، اس کے بال کنپٹیوں سے سفید ہوچکے تھے۔ پچپن سال کی عمر میں بھی وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ ادھوری محبت زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہوتی ہے۔ یہ آپ کو اپنے حصار میں کچھ ایسے جکڑ لیتی ہے کے پھر موت ہی آپ کو اس کے پنجے سے چھڑا پاتی ہے۔
’’میں تم دونوں جیسا خوش نصیب نہیں تھا جن کو چاہت کی خوشیاں میسر آئیں لیکن سارہ میں نے بھی تم سے اتنی ہی محبت کی تھی۔ تم معید انصاری کے لیے مر گئی لیکن مجھے تمھارے لیے زندہ رہنا تھا۔ تم سے کیا وعدہ پورا کرنا تھا اور دیکھو میں نے آج اپنا وعدہ پورا کردیا۔ تم مجھے ایک امانت سونپ کے گئی تھی اس وعدے کے ساتھ کے میں حیدر کو پولیس آفیسر بناؤں۔ اے ایس پی حیدر انصاری آج سے اپنی ڈیوٹی کا چارج سنبھالے گا۔ میں تمہاری محبت جیت نہیں سکا لیکن دوسرے کا پیار پا لینا ہی تو محبت کی جیت نہیں ہوتی۔ میری محبت کی جیت یہی ہے کہ آج بھی میرے دل میں صرف تم ہو اور میں اپنی آخری سانس تک تم سے محبت کرتا رہوں گا۔‘‘ اپنے فریم لیس گلاسز کو آنکھوں سے اتار کر ڈاکٹر حدید نے اپنی آنکھوں کے نم گوشوں کو صاف کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close