Aanchal Dec 15

السلام علیکم(دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

اسلام میں غیر مسلموں کو سلام کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی غیر مسلم سے ملاقات ہو اور اسے سلام کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو پھر وہی الفاظ استعمال کئے جائیں جو وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت ادا کرتے ہیں جیسے نمستے‘ آداب‘ گڈمارننگ وغیرہ۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم آپ سے ملاقات کے وقت خود آپ کو ’’السلام علیکم‘‘ کہہ دے تو اس کے جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘ کہا جائے اور دل میں یہ نیت کرلیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور مسلمان ہونے کی توفیق دے۔(صحیح بخاری)
سلام کا جواب اتنی بلند آواز سے دینا چاہئے کہ سلام کرنے والااسے بخوبی سن سکے یہ مستحب اور سنت ہے۔ اگر اتنی آہستہ سے جواب دیا گیا ہو کہ سلام کرنے والا سن ہی نہ سکے تو سلام کا جواب تو ادا ہوجائے گا لیکن مستحب ادا نہیں ہوگا۔
السلام اسماء الٰہیہ ہونے کے سبب صفت الٰہی بھی ہے اس کے لغوی معنی ہیں۔ سلامت رہنے والا۔ مخلوق کی سلامتی رکھنے والا۔ راحت وسکون پہنچانے والا۔وہی ذات عالی ہے جو سلامتی دیتا ہے اور اسلام پر چلاتا ہے۔تفسیر المنار میں اس طرح تفسیر کی گئی ہے۔ سلامتی‘ دعا‘ سلام‘ امان‘سالم‘ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام‘اور دارالسلام جنت کوکہا جاتا ہے جہاں جنتی تمام کلفتوں اور برائیوں‘ پریشانیوں‘ عیبوں اور دشمنوں سے محفوظ وسلامت رہے گا اور اہل جنت خلوص ومحبت کے اظہار کے لئے بار بار ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور اس لئے بھی جنت کو تعظیماً اللہ تعالیٰ کا گھر کہا گیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں شامل ہے۔ (تفسیر المنار) قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل پر اپنے اکرام وبشارت کے طور پر اپنے تعلق خاص اور پیار وشفقت کے اظہار کے طور پر استعمال فرمایا۔سلام علیٰ نوح فی العالمین (سورہ الصفٰت۔۷۹) نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوںمیں سلام ہو۔
سلام علیٰ ابراہیم (سورۃ الصفٰت۔ ۱۰۹) ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو۔ سلام علیٰ موسیٰ وھارون (الصفٰت۔ ۱۲۹) موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر سلام ہو۔ سلام علیٰ الیاسین (الصفٰت۔ ۱۳۰) الیاس (علیہ السلام) پر سلام ہو۔ سلام علیٰ المرسلین (الصفٰت۔ ۱۸۱) پیغمبروں پر سلام ہو۔ اہلِ ایمان کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس طرح سلام کریں۔ ’’السلام علیک ایھاالنبی۔ ایک اور جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس آئیں جو ایمان لاچکے ہیں تو آپ ان سے کہیں کہ (سورۃ الانعام۔ آیت نمبر ۵۴) یعنی السلام علیکم! تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے رحمت کا فیصلہ فرمادیا ہے۔
سلام کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک زبردست دعا ہے اور اسے دعا کی نیت سے ہی کہنا اور سننا چاہئے۔ کیونکہ دنیا و آخرت کی ساری نعمتیں اس سلام کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ نے جمع فرمادی ہیں۔یہ مختصر سا کلمہ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ اللہ کی تمام تر رحمت وبرکت لئے ہوئے ہے۔ دنیا وآخرت کی سلامتی اور انعام الٰہی لئے ہوئے ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کس قدر شفقت فرماتا ہے کہ وہ ہر لمحہ ان کی بھلائی وفلاح کا بندوبست خود ان سے ہی کرارہا ہے اس لئے سلام کو زیادہ سے زیادہ عا م کرکے یہ دعا لینی اور دینی چاہئے نہ جانے کس اللہ کے بندے کی دعا ہمارے حق میں مقبول ہوجائے اور ہمارے حق میں مبارک ٹھہرے۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’لوگو اللہ رحمن کی عبادت کرو اور بندگان الٰہی کوکھانا کھلائو اور سلام کو خوب پھیلائو‘ تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کئے جائوگے۔(جامع ترمذی) حدیث مبارکہ میں تین کاموں کی ہدایت فرمائی گئی ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت‘ جو اللہ کا حق ہے‘ پورے خلوص سے کی جائے دوسرے محتاج ومساکین کو کھانا کھلایا جائے صدقہ کیا جائے‘ ہدیہ کیا جائے‘ اخلاص سے کھلایا جائے‘ تیسرا اہم نقط جو حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا وہ ہے السلام علیکم اور وعلیکم السلام جو اسلامی شعائر ہے اسے خوب پھیلایا جائے۔ اس کی ایسی کثرت کی جائے کہ اسلامی دنیا کی فضا اس سے مہک اٹھے۔ ایک اور حدیث مبارک حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ’’اسلام میں (اسلامی اعمال میں) کیا چیز (کون سا عمل) زیادہ اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک یہ کہ تم اللہ کے بندوں کو کھانا کھلائو اور یہ کہ جس سے جان پہچان ہو اس کو بھی اور جس سے جان پہچان نہ ہو اس کو بھی سلام کرو۔(صحیح بخاری ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ تم جنت میں نہیں جاسکتے تاوقتیکہ پورے مومن نہ ہو جائو یعنی تمہاری زندگی ایمان والی نہ ہوجائے‘ اور یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم میں باہم محبت نہ ہوجائے‘ کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتادوں جس کے کرنے سے تمہارے درمیان محبت ویگانگت پید اہوجائے؟ اور وہ یہ ہے کہ تم سلام کو آپس میں خوب پھیلائو(صحیح مسلم)حدیث مبارکہ میں اہل ایمان کو تاکید ونصیحت کی جارہی ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایمان کو پوری طرح اپنی زندگی میں جاری کرو‘ باہم میل و محبت اخوت و بھائی چارے سے رہو‘ ایک دوسرے سے محبت وشفقت کے برتائو سے پیش آؤ اور اس محبت‘ شفقت‘ بھائی چارے اور خیر خواہی کے اظہار کے لئے سلام کو کثرت سے پھیلاؤ۔ اہل ایمان کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید وہدایت ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے دلوں میں محبت واخوت کے جذبے ابھرتے ہیں اور یہ بات بھی اپنی جگہ طے ہے کہ کسی بھی عمل کاتاثر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب اس عمل میںخلوص پوری طرح رچا بسا ہو‘ ایمان واخلاص کا صحیح جذبہ ہی ہمارے اعمال کو ایمانی رشتوں میں باندھتا ہے اور دلوں میں باہمی اخوت و محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ بڑا ہی کریمانہ قانون ہے کہ اس اُمت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کا خصوصی انعام واکرام ہے کہ اہل ایمان کی کی گئی ایک نیکی کا اجروثواب اسے دس نیکیوں کے برابر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قانون و اکرام کا اظہار قرآن کریم میں اس طرح فرمایا ہے کہ ’’من جاء بالحنتہ فلہ عشرامثالھا‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صرف السلام علیکم کہنے والے کے لئے دس نیکیوں کی نوید دی تو وہ دراصل قانونِ الٰہی کی تعلیم کرنا تھی‘ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ سلام کہنے والا جتنے کلمے ادا کرے گا اسے اتنا ہی اجروثواب ملے گا۔
حضرت ابو اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔(مسند احمد ترمذی۔ ابودائود)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہے۔ (شعب الایمان البہیقی)حدیث مبارکہ سے یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ سلام میں پہل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ سلام میں پہل کرنے والے کے دل میںتکبر وغرور نہیں ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ سلام میں پہل تکبر و غرور کا علاج بھی ہے اورتکبروغرور کے بارے میں اللہ کے عذاب کی شدید وعید ہے اور سلام کرنا اور اس کا جواب دینا تو ہر مسلمان کا اولین حق ہے جب ملاقات ہو تو سلام کرے۔(مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جب تم میں سے کسی کی اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو سلام کرے اور اگر اس کے بعد کوئی درخت یا کوئی دیوار یا کوئی پتھر ان دونوں کے درمیان حائل ہو جائے یعنی کچھ دیر کے لئے وہ ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں اور پھر سامنے آجائیں تو آمنا سامنا ہونے پر پھروہ سلام کریں۔(سنن ابی دائود)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بیٹا جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جائو تو سلام کرو یہ تمہارے لئے بھی باعث برکت ہوگا اورتمہارے گھر والوں کے لئے بھی۔(جامع ترمذی)
حضرت قتادہ ؒ جو تابعی تھے سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم کسی گھر میں جائو تو گھر والوں کو سلام کرو اور پھر جب گھر سے نکلو اور جانے لگو تو پھر گھر والوں کو وداعی سلام کرکے نکلو۔‘‘(شعب الایمان البہیقی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو اسے چاہئے کہ وہ اہل مجلس کو سلام کرے اگربیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے اور جانا چاہے تو جائے لیکن جاتے وقت پھر سلام کرے۔ (جامع ترمذی)
اسلام ایک مکمل دین ہے یہ اپنے ماننے والوں کو تہذیب وشائستگی کا درس دیتا ہے۔ اسلامی نظام حیات میں جس طرح ایک دوسرے کی خیر خواہی اور عزت وتکریم کا خیال رکھا جاتا ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ سلام جو ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان سے ملاقات کے وقت ملاقاتی دعائیہ جملہ ہے اس کے استعمال کے بارے میں گو کہ یہ تاکید بار بار کی گئی ہے کہ ہر مسلمان کوشش کرے کہ سلام کرنے میں وہ پہل کرے لیکن اس کے باوجودسلام کرنے کے کچھ قواعد و ضوابط اور احکام بھی وضع کئے گئے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے اور راستہ سے گزرنے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کرے اور تھوڑے افراد زیادہ افراد کی جماعت کو سلام کریں(صحیح بخاری شریف) ایک اور روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی ہے کہ سواری پر سوار شخص کو چاہئے کہ وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان فرمایا کہ گزرنے والی جماعت میں سے اگر کوئی ایک شخص بھی سلام کرے تو پوری جماعت کی طرف سے کافی ہے اور بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے اگر کسی ایک نے بھی جواب دے دیا تووہ سب کی طرف سے کافی ہوگا۔(شعب الایمان)
سلام نماز کا بھی اہم جزو ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشہد(یعنی التحیات) سکھاتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی سورۃ پڑھایا کرتے تھے۔(مسلم)التحیات میں السلام علیک ایھاالنبی‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہے اور التحیات ہر نماز کا لازمی جزو ہے۔ ہر نماز میں اگر دو رکعت کی نماز ہے تو ایک قعدہ میں التحیات ایک بار پڑھیں گے اوراگر چار رکعت کی نماز ہے تو قعدہ اولیٰ میں ایک بار اور پھر قعدہ خیرہ میں ایک بار‘ نماز میں سلام کے ساتھ دُرود پڑھاجاتا ہے اس طرح سلام ہر نماز کا لازمی حصہ ہے نماز میں دوبارہ پھر سلام ادا کیا جاتا ہے یعنی جب نماز مکمل کرلی جاتی ہے تو پہلے دائیں طرف‘ پھر بائیں طرف چہرہ پھیر کر السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا جاتا ہے‘ نماز کی تکمیل‘ سلام پھیرنے سے ہی ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمت اللہ علیہ کے مطابق نماز میں تشہد پڑھنا اور اس میں صلوٰۃ علی النبی پڑھنا فرض ہے۔
سورۃ الاحزاب میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرمارہا ہے۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر دُرود بھیجتے ہیں‘ اے ایمان والو تم (بھی) ان پر دُرود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔ (سورۃ احزاب۔۵۶)
تفسیر: اس آیت مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت اور مرتبہ کا بیان ہے‘ جو ملأ اعلیٰ( آسمانوںکی اعلیٰ ترین جماعت) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے‘ وہ قدرومنزلت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنے فرشتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و تعریف بیان فرماتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں بھیجتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ خود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلوٰۃ وسلام بھیجتا ہے اور تمام فرشتے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کو حکم دیا کہ وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام بھیجیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عالم علوی (آسمان والے) اور عالم سفلی(زمین والے) دونوں عالم متحدہوجائیں۔
(جاری ہے)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close