Aanchal Dec 15

حمد و نعت

بہزاد الکھنوی/غفور عابد

حمد باری تعالیٰ

حمد ہے اے خدا صرف تیرے لیے
ہے یہ لفظِ بقا صرف تیرے لیے
ہوگئی حکم سے تیرے کُل کی نمود
ہیں یہ ارض و سما صرف تیرے لیے
تُو حدودِ تعین میں آتا نہیں
ہر صفت ہر ثنا صرف تیرے لیے
ہستی و نیستی اور بود و نہ بود
یہ سوا ماسوا صرف تیرے لیے
اس کا سجدہ جہاں میں ادا ہوگیا
جس کا سر جھک گیا صرف تیرے لیے
یہ گل و رنگ و بو یہ رمِ آب جو
یہ ہوا یہ فضا صرف تیرے لیے
تُو نے بہزادؔ کو دردِ طیبہ دیا
کیوں نہ ہو لب کشا صرف تیرے لیے

بہزاد لکھنوی…

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

ہر سانس ہے اب ان پر درودوں کے لیے وقف
اس دل کا دھڑکنا بھی ہے بس ان کے لیے وقف
یہ جسم یہ جاں ان پر فدا اے مرے مولا
ہر چیز ہے دنیا کی محمدﷺ کے لیے وقف
یہ کون و مکاں گردشِ دوراں یہ زمانہ
ہیں ان کے لیے ان کے لیے ان کے لیے وقف
صدیوں کا سفر طے ہوا اک چشم زدن میں
معراج کی شب وقت رہا ان کے لیے وقف
سب شجر و حجر پڑھنے لگے نغمہ توحید
مطرب بھی مغنی بھی سبھی ان کے لیے وقف
بخشش تو گنہگار کی اللہ ہی کرے گا
امت کی شفاعت ہے مگر ان کے لیے وقف
خواہش ہے نہ جنت کی نہ دولت کی حشم کی
عابدؔ کی تمنائیں تو ہیں ان کے لیے وقف

غفور عابد…

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close