Aanchal Nov 15

فضل گل ہے

زینب چوہدری

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
اے ہَوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
صید سے بھی ہے مراسم ترے، صیاد سے بھی

’’شہریار بھائی! جلدی سے پنڈ پہنچو‘ اماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ نگی کی روتی آواز سن کے میرے ہاتھ پائوں پھول گئے اور دوسری طرف وہ بھی ایسی غیر ذمہ دار کہ بس یہ جملہ بولتے ہی کھٹ سے فون بند کردیا۔ مجھے اس پر خوب تائو آیا۔
’’حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی۔‘‘ میں نے نمبر ملایا لیکن بے سود وہی جذبات سے عاری آواز ابھری۔
’’آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے۔‘‘ میں نے جھنجلا کر فون بیڈ پر دے مارا۔
’’پتا نہیں اچانک اماں کو کیا ہوگیا ہے‘ پرسوں تک تو بالکل ٹھیک تھیں۔‘‘ میں پیکنگ کرتے ہوئے مسلسل اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑا رہا تھا۔ آخر پیکنگ مکمل ہوئی تو مجھے خیال آیا کہ ’’حریم کو فون کرکے بتادوں پتا نہیں وہاں کتنے دن لگ جائیں۔ کہیں اماں… لاحول ولا… یہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔‘‘ میں نے خود کو ڈپٹا اور حریم کا نمبر ملانے لگا۔
حریم میری کلاس فیلو رابعہ کی روم میٹ تھی‘ پتا نہیں دونوں کی دوستی کیسے ہوگئی تھی کیونکہ حریم رابعہ سے تین چار سال چھوٹی تھی۔ شاید اس لیے کہ دونوں ایک کمرے میں رہتی تھیں۔ وہ کسی فنکشن پر ہماری یونیورسٹی آئیں ہمارا فلمی قسم کا ٹکرائو ہوا اور میں اسے دل دے بیٹھا وہ البتہ بڑی مشکل سے لائن پر آئی تھی۔ گندمی رنگت کی نازک سی لڑکی تھی‘ مجھے سب سے زیادہ اس کے بال خوب صورت لگتے تھے‘ کمر سے نیچے تک آتے کالے سیاہ بال جو اوپر سے بالکل سیدھے جب کہ نیچے آتے آتے لچھوں میں تبدیل ہوجاتے تھے۔ لڑکیوں کے لمبے بال ہمیشہ سے میری کمزوری رہے تھے میں اس کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ اس کی آواز نے مجھے ہوش میں لا پٹخا۔
’’منہ سے کچھ پھوٹو بھی‘ کب سے ہیلو ہیلو بول رہی ہوں۔‘‘
’’ہیلو حریم! یار میں اماں جارہا ہوں گائوں بیمار ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا… تم پاگل تو نہیں ہوگئے؟‘‘ اس کی تیز آواز ائیر پیس سے ابھری‘ میں نے ریسیور پیچھے کرکے بروقت اپنے کان کے پردے کو پھٹنے سے بچایا۔
’’مم… میرا مطلب ہے اماں بیمار ہوگئی ہیں‘ اس لیے میں گائوں جارہا ہوں‘ بوکھلاہٹ میں الٹا بول گیا شاید۔‘‘
’’تم بھی جارہے ہو؟‘‘ سارا زور ’’بھی‘‘ پر ڈالتے ہوئے اس نے بھاں بھاں کرکے رونا شروع کردیا۔
’’کیا مطلب میں بھی… میرے علاوہ کوئی اور لور بھی ہے تمہارا۔‘‘ میں غصے سے اکڑا۔
’’بکواس مت کرو۔‘‘ وہ اتنے زور سے چیخی کہ مجھے لگا اگر میرے کان کا پردہ پہلے بچ گیا تھا تو اب ضرور پھٹ گیا ہوگا۔ میں نے جلدی سے ریسیور ہٹا کے کان میں انگلی ڈالی۔ خیر رہی خون نہیں نکلا۔
’’یہ حریم تو کسی دن میری جان لے کے چھوڑے گی۔‘‘
’’میرا مطلب تھا میں بھی جارہی ہوں اور اب پتا نہیں کتنے دن ہم بات نہیں کرسکیں گے۔‘‘ وہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی۔
’’ہاں یار! یہ تو واقعی مسئلہ ہے چلو ہمت مرداں مدد خدا‘ واپس آکے بات بلکہ باتیں کریں گے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے اس کی ہمت بندھانے کی کوشش کی ورنہ سچ تو یہ تھا کہ میرا اپنا دل بھی اس سے بات نہ کرنے کے خیال سے ڈوب رہا تھا۔
’’میں مرد نہیں ہوں جو تم کہہ رہے ہو ہمت مرداں مدد خدا۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کے بولی۔
’’چلو ’ہمت عورتاں مدد خدا‘ کہہ لیتے ہیں۔‘‘ میں نے قہقہہ لگایا تو وہ بھی ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی کی آواز سن کر میں ایک دم ہلکا پھلکا ہوگیا۔
’’اچھا یار میں لیٹ ہورہا ہوں‘ واپس آکے بات کروں گا‘ اپنا خیال رکھنا‘ اللہ حافظ۔‘‘ میں نے فون بند کرکے جیب میں رکھا اور بیگ اٹھاکے گھر سے باہر نکل آیا۔
’’صاب جی کھلونے لے لو۔‘‘ میں ریل کے انتظار میں اسٹیشن پر بیٹھا تھا کہ ایک بچہ کھلونے لیے میرے پا س آیا۔
’’میں تمہیں کاکا لگتا ہوں جو اِن کھلونوں سے کھیلوں گا؟‘‘ مجھے غصہ آیا وہ ٹانگ برابر بچہ مجھے کھلونے دے کر میری بے عزتی کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’صاب جی اپنے بچوں کے لیے لے لو۔‘‘ وہ کھلونے ہاتھ میں اٹھائے دو قدم آگے آیا۔
’’نہیں شکریہ! مجھے نہیں چاہئیں۔‘‘ میں نے جان چھڑانی چاہی۔
’’لے لو نا صاب!‘‘ وہ بھی ایک نمبر کا ڈھیٹ تھا۔
’’کہا نا نہیں چاہیے۔‘‘ میں سخت لہجے میں بولتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا مگر اس نے جھٹ میری ٹانگ پکڑلی اور ’’لے لو نا صاب‘‘ کی گردان کرنے لگا۔ میں نے اپنی ٹانگ چھڑانی چاہی مگر اس کی گرفت مضبوط تھی۔ میں نے غصے میں اپنی ٹانگ کھینچ کر آگے بڑھائی تو وہ بھی میری ٹانگ کے ساتھ لڑھکتا ہوا آگے آگیا۔
’’اُف…‘‘ ناچار اس سے دو کھلونے لے کر بمشکل اپنی ٹانگ کو رہائی دلائی۔ ’’نگی کے دونوں بچوں کو دے دوں گا۔‘‘ میں نے سوچا اور مطمئن ہوتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ء…/…ء
’’ماموں… ماموں…‘‘ چار گھنٹے ٹرین میں جھک مارنے کے بعد میں گھر پہنچا تو کوئی آٹھ دس بچے میری ٹانگوں سے لپٹ گئے جو تھوڑے بڑے تھے۔ انہوں نے میرے بازوئوں تک رسائی حاصل کی۔
’’ماموں یہ کھلونے کس کے ہیں؟‘‘ ان آفتوں کی نظر سب سے پہلے میرے ہاتھ میں موجود کھلونوں پر ہی پڑی۔
’’ارمان اور احمد کے۔‘‘ میں نے بوکھلاہٹ میں ان سب کو پیچھے ہٹایا۔ ’’تم سب بھی آئے ہو؟‘‘ حیرت سے آنکھیں پھٹنے لگیں وہ سب کورس میں بولے۔
’’جی…‘‘
’’یقینا ان کی امائیں بھی آئی ہوں گی۔ اُف میرے خدا مجھے لگتا ہے یہ دن میری زندگی کے مشکل ترین دن ہوں گے۔‘‘ میں چار بہنوں کا اکلوتا بے چارہ سا بھائی اور وہ چاروں گائوں میں ہی چوہدریوں‘ ملکوں کے گھر بیاہی ہوئی تھیں۔ نگی مجھ سے چھوٹی اور باقی تینوں بڑی تھیں اور ان کے یہ درجن بھر بچے۔
’’اُف میرے خدا!‘‘ میں نے بمشکل ان سے جان چھڑائی اور اماں کے پاس بھاگا۔ اماں کمرے میں بستر پر لیٹی ہوئی تھیں اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو بالکل صحت مند نظر آرہی تھیں۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اماں کی بیماری ڈھونڈنی چاہی۔
’’بسم اللہ… بسم اللہ… میرا پُتر آیا ہے۔‘‘ اماں نے دونوں بازو پھیلائے میں سب کچھ ذہن سے جھٹک کے آگے بڑھا ہی تھا کہ نغمانہ باجی‘ سکینہ اور نچھی باجی روتی ہوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئیں۔
’’اللہ معاف کرے یہ چاروں جب روتی تھیں تو لگتا تھا جیسے کوئی پھٹپھٹی موٹر سائیکل بغیر سائلنسر کے استارٹ ہوئی ہو۔‘‘
’’اماں دیکھا… دیکھا آپ نے اپنے لاڈلے کے کرتوت۔‘‘ نغمانہ باجی اپنے نادیدہ آنسو خشک کرتے ہوئے بولیں تو میں اچھل پڑا۔
’’کہیں ان سب کو حریم کے بارے میں پتا تو نہیں چل گیا۔‘‘ میں نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے مگر سکینہ باجی کی اگلی بات نے مجھے لگامیں کھینچنے پر مجبور کردیا۔
’’اماں یہ صرف نگی کے بچوں کے لیے کھلونے لایا ہے‘ ہم تو جیسے سوتیلے ہیں نا اس کے۔ آج تک ہمارے بچوں کے لیے تو کچھ نہیں لایا۔‘‘
’’چلو جی‘ کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا۔‘‘ میں نے کھا جانے والی نظروں سے تینوں کو دیکھا جو میرا سانس خشک کرچکی تھیں۔ نغمانہ باجی سر پکڑ کے چارپائی پر بیٹھ گئیں اور ایک مرتبہ پھر زور و شور سے رونا شروع کردیا اور مجھے لگا جیسے ایک دفعہ پھر پھٹپھٹی اسٹارٹ ہوگئی ہو۔
’’افوہ باجی! ایسی بات نہیں ہے میں سمجھا صرف نگی آئی…‘‘ میں نے کہا مگر میری بات درمیان میں ہی کاٹ دی گئی۔
’’نہیں نہیں… شک تو مجھے پہلے ہی تھا مگر آج تُو نے ثابت کردیا ہے تو ہمیں سوتیلی بہنیں سمجھتا ہے ہم آج ہی چلے جائیں گے یہاں سے۔‘‘ یہ بات نغمانہ باجی کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا تھا‘ اماں بھی بوکھلا گئیں۔
’’نی کھوتیوں وہ ایسا کچھ نہیں سمجھتا‘ ایسے ہی رو رو کے خود کو ہلکان کررہی ہو۔ اچھا ٹھہر‘ جا میرا پتر تُو جا کے ان کے بچوں کو بھی چیز دلادے۔‘‘ اماں نے پچکارا۔
’’کیا… یہ… یہ کیا کہہ رہی ہیں اماں؟‘‘ میں ایسے اچھلا جیسے مجھے بچھونے ڈنک مار دیا ہو۔ ’’میں ان کو کہیں نہیں لے کے جائوں گا۔‘‘ اپنے متوقع حشر کا سوچ کر میں لرز گیا‘ ان شرارتی بچوں کے ساتھ جانے سے بہتر تھا کہ میں بہنوں کی ناراضگی سہہ لیتا۔ نچھی نے ایک زور درا چیخ ماری اور فرش پر لڑھک گئی۔
’’دیکھا… دیکھا اماں! ایسے ہوتے ہیں بھائی۔‘‘ اس نے میری طرف اشارہ کیا۔
’’تو کیا بھائیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟‘‘ میں بڑبڑا کے رہ گیا‘ اماں گھبرا گئیں۔
’’شہریار تُو نے سنا نہیں‘ جا لے جا ان کو۔‘‘ ماں تحکمانہ لہجے میں بولیں۔ میں نے بے چارگی سے ایک نظر اماں کو دیکھا اور پھر ان تینوں کو۔
’’اچھا انہیں صاف کپڑے تو پہنا دو۔‘‘ میں نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی۔
’’اماں اسے اب ہمارے بچے گندگی کا ڈھیر لگتے ہیں‘ ہائے اب ہم کدھر جائیں گے۔ ایک ہی بھائی تھا وہ بھی ایسا نکلا۔‘‘ انہوں نے بھاں بھاں کرکے رونا شروع کیا میں بوکھلا کے باہر نکل گیا۔ واپسی پر میرا موڈ کافی خراب تھا۔ ان تمام بچوں نے میرے دماغ کی چولیں ہلادی تھیں۔ گھر آتے ہی میں سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا‘ تین گھنٹے کی نیند کے بعد میں قدرے پرسکون ہوا۔ ابھی سستی سے لیٹا حریم کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک دروازہ بج اٹھا۔
’’کون ہے؟‘‘ میں نے لیٹے لیٹے اونچی آواز میں بولا۔
’’صاب جی میں شبو… آپ کو وڈی چوہدرانی بلا رہی ہیں۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے‘ تم جائو میں آتا ہوں۔‘‘ میں بھرپور انگڑائی لیتے اٹھ بیٹھا۔
’’حریم کیا کررہی ہوگی بھلا اس وقت؟‘‘ میری سوچیں پھر بھٹک گئیں۔ ’’اسے میری آنکھیں بہت اچھی لگتی تھیں‘ وہ کہتی تھی تمہاری ان شہد رنگ آنکھوں پر میں دنیا وار کر پھینک سکتی ہوں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا اور بیڈ سے اتر کے واش روم چلا گیا۔ فریش ہوکے میں باہر نکلا تو حیران رہ گیا۔ پوری حویلی بقعۂ نور بنی ہوئی تھی جگہ جگہ لائٹیں جل رہی تھیں۔
’’ماں صدقے! میرا پُتر اٹھ گیا‘ کب سے انتظار کررہی ہوں تیرا۔‘‘ اماں بڑا خوب صورت نفیس سا سوٹ پہنے میری طرف آئیں۔
’’اماں! یہ شادی کس کی ہورہی ہے؟‘‘ میں نے چمکتی دمکتی اماں کو دیکھا ان کی تو آج چھب ہی نرالی تھی۔
’’چوہدری حبیب حیدر کے پُتر شہریار حیدر کی۔‘‘ اماں نے فخر سے گردن اکڑائی۔ مجھے لگا حویلی کی چھت میرے اوپر آگری ہو۔
’’مم… میری… شش… شادی…؟‘‘ مجھے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔
’’ہاں پُتر وہ جو تیرے چاچے کی دھی ہے نہ ہیرو… اسی سے۔‘‘
’’ہیرو…‘‘ میری زبان لڑکھڑائی۔ میں نے اسے بچپن میں دیکھا تھا‘ وہ بہت موٹی تھی اور جتنی موٹی تھی اتنی ہی پھرتیلی بھی۔ جہاں کسی بچے نے غلط کام کیا اس کی پٹائی لگانے آجاتی۔ پورے گائوں کے بچوں کا دادا بنی پھرتی‘ غنڈوں والا دادا۔ اسی لیے بچوں نے اس کا نام ہیرو باجی رکھ دیا تھا۔ یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ پھر سب ہی اسے ہیرو کہنے لگے۔ ہیرو باجی‘ ہیرو پُتر‘ ہیرو بہنا وغیرہ کی آواز ہر وقت کانوں میں پڑتی رہتی۔ بہتی ناک اور سانولی رنگت والی وہ لڑکی مجھے شروع سے ہی زہر لگا کرتی تھی۔ بوائے کٹ بالوں کے ساتھ وہ جب اونچے اونچے قہقہے لگاتی تو اور بھی بُری لگتی۔ وہ کلاس فور میں تھی جب میں میٹرک کرنے شہر آگیا پھر میں گائوں بس دو چار بار ہی گیا مگر وہ مجھے نظر نہیں آئی‘ شہر میں اماں ابا مجھ سے خود ہی ملنے آجاتے تھے۔
’’اماں… میں اور اس سے شادی… نہیں اماں یہ ظلم مت کرو۔‘‘ میں کراہا۔
’’میں یہ کرچکی ہوں‘ تھوڑی دیر میں نکاح ہے تیرا۔ مولوی صاحب آنے والے ہیں یہ کپڑے پکڑ اور جلدی سے تیار ہوجا۔‘‘ اماں بے لچک لہجے میں بولیں تو مجھے بھی غصہ آگیا۔
’’اماں میں ہیرو سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘ میں فیصلہ کن لہجے میں بولا۔ اماں ایسے اچھلیں جیسے انہیں بجلی کا ننگا تار چھوگیا ہو۔
’’کیا بکواس کررہا ہے‘ باپ کی عزت اچھالے گا۔ تجھے پتا ہے نہ کہ تیرا باپ دل کا مریض ہے اس کا خون تیرے سر جائے گا۔‘‘ اماں ناگواری سے تیز تیز بولیں‘ میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
’’اماں میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔‘‘ میں نے ڈوبنے سے پہلے ہاتھ پائوں چلائے حالانکہ اس کا فائدہ کوئی نہیں تھا۔
’’جب تُو ہیرو کو دیکھے گا تو اپنی پسند بھول جائے گا۔‘‘ اماں کے چہرے پر مسکراہٹ درآئی‘ لہجے میں فخر تھا میں تلملا کر رہ گیا‘ دنیا کی کوئی بھی لڑکی حریم تو نہیں ہوسکتی نا چاہے وہ پریوں جیسی ہی کیوں نہ ہو اور یہ تو پھر ہیرو تھی۔
’’اماں میں بتارہا ہوں کہ میں بعد میں دوسری شادی ضرور کروں گا۔‘‘ میں نے اماں کو دھمکایا مگر ادھر کمال بے نیازی کا عالم تھا۔
’’میری ہیرو میں اتنے گن ہیں کہ تو کسی اور کی طرف دیکھ بھی نہیں سکے گا۔ چل جا اب تیار ہوجا۔‘‘ اماں نے مجھے کمرے میں دھکیلا اور خود گنگناتی ہوئی چلی گئیں۔
ء…/…ء
آف وائٹ شیروانی پر میرون کلاہ پہنے میں دنیا جہاں کی بے زاری چہرے پر سجائے کمرے سے باہر نکلا تو اماں نے کئی ہرے نیلے نوٹ مجھ پر سے وارے۔ وہ شاید میرے انتظار میں ہی کھڑی تھیں۔
’’آج تو میرے پُتر کو میری اپنی نظر لگ جائے گی۔‘‘ اماں محبت سے بولیں میں نے ایک نظر اماں کو دیکھا۔ گلابیاں چھلکاتا چہرہ کہیں سے بھی بیمار نہیں لگ رہا تھا یعنی یہ ان سب کی سازش تھی۔ میرا دل چاہا میں نگی کی گردن مروڑ دوں۔
’’چل پُتر بسم اللہ کر بیٹھ جا۔‘‘ اماں کی آواز مجھے سوچوں سے نکال لائی‘ میں نے سامنے دیکھا حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ سامنے بہت خوب صورت آٹھ سفید گھوڑوں والی بگھی کھڑی تھی۔
’’اماں یہ…‘‘ میں ہکلا گیا۔
’’بھئی میرا اکو ایک پُتر ہے‘ کیا اتنا بھی نہ کرتی تیرے لیے۔‘‘ میں اماں کو دیکھ کے رہ گیا۔ بڑی شان سے بارات چلی‘ میرا ذہن مسلسل حریم کے گرد گھوم رہا تھا۔ ’’میں کیسے اس کا سامنا کروں گا‘ نہیں میں اسے بتائوں گا کہ میں جتنا بھی مغرور سہی مگر ماں باپ کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ سمجھ جائے گی ہاں۔‘‘ میرا دل چاہا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے یہاں سے بھاگ کھڑا ہوں اس سے پہلے میں اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا دلہن کا گھر آگیا۔ بگھی سے اترتا میں لوگوں کے ہجوم میں آگے بڑھا تو میرے اوپر پھولوں کی بارش ہونے لگی۔
’’ہائے نی یہ ہیرو کا بندہ تو رج کے سوہنا ہے۔‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہوئے میں نے سنا تو سر گھما کر بولنے والی کو ڈھونڈا۔ وہ ذرا فاصلے پر چمکیلے کپڑوں میں ملبوس اپنی جیسی لڑکی سے مخاطب تھی۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
’’اور وہ ہیرو؟ توبہ توبہ نہ رنگ تے نہ روپ۔‘‘ وہ کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی۔
اس کے لہجے میں حسد تھا‘ میری مسکراہٹ سمٹ گئی۔ حریم کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا‘ کب میں نے نکاح نامے پر دستخط کیے‘ کب دلہن کو میرے برابر بٹھایا گیا اور کب رخصتی ہوئی مجھے کچھ پتا نہیں چلا۔ میں روبوٹ کی طرح سارے کام کرتا رہا۔ مجھے رہ رہ کر ہیرو پر غصہ آرہا تھا۔
’’یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے‘ میں اسے کبھی کوئی خوشی نہیں دوں گا۔‘‘ اب ساری زندگی سسکتے ہوئے گزارے گی ایک باغیانہ سوچ نے میرے اندر سر اُبھارا۔
ء…/…ء
’’میں شہریار حیدر! لمس یونیورسٹی کا پوزیشن ہولڈ‘ اس جاہل کو بیوی بنائوں گا کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں۔ میں ہیرو کو سب کچھ بتادؤں گا اور حریم سے شادی کرلوں گا۔ شہریار حیدر اپنے کمٹمنٹ کبھی نہیں توڑتا۔‘‘ میں فیصلہ کرچکا تھا اسی لیے اطمینان سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
’’شہریار!‘‘ اماں کی آواز سن کے میرے قدم رک گئے‘ میں فوراً مڑا۔ وہ سلطان راہی بنی مجھے گھور رہی تھیں بس گنڈاسے کی کمی تھی۔
’’کہیں اماں کو میرے خطرناک ارادوں کا پتا چل تو نہیں گیا؟‘‘ میرا دماغ الٹی سائیڈ پر دوڑا۔ ’’نہیں بھئی یہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘ میں اسے کھینچ کر اپنی جگہ پر لایا اور سوالیہ نظروں سے اماں کو دیکھا۔
’’وے… وے میں کدھر جائوں عقلاں دیا کوریا (عقل کے کورے) ووہٹی کو منہ دکھائی نہیں دیتی۔‘‘ اماں نے اپنا ماتھا پیٹا۔
’’منہ دکھائی تو ایسی دوں گا اماں کہ ساری عمر یاد کرے گی۔‘‘ ایک زہریلی سوچ نے میرے اندر سر اٹھایا۔
’’لے پھڑ۔‘‘ انہوں نے خوب صورت سرخ مخملیں کیس میرے ہاتھ میں پکڑایا۔ ’’اب جا بھی کھڑا منہ کیا دیکھ رہا ہے میرا۔‘‘ اماں مجھے ایسے ہی کھڑا دیکھ کر غصے سے بولیں۔
’’اماں ایک بات پوچھوں؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اماں کو دیکھا۔
’’نہیں‘ اب جاتا ہے یا میں اتاروں جوتی؟‘‘ صاف چٹا انکار کرتے ہوئے اماں غضب ناک ہوئیں۔ میں خاموشی سے واپس مڑا‘ دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو گلاب کے پھولوں کی خوش بو مجھ سے گلے ملی‘ وہ گھونگھٹ نکالے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ سرخ کپڑے پہنے وہ کوئی لال سیب ہی لگ رہی تھی۔ موٹی اتنی کے آدھا بیڈ تو اسی نے گھیرا ہوا تھا۔ شکر ہے شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی اگر لہنگا ہوتا تو میرے بیٹھنے کی جگہ بھی نہ ہوتی۔ میں نے شیروانی اتار کے زمین پر ماری۔ کلاہ صوفے پر پھینکا‘ وہ صوفے سے ٹکرایا اور لڑھکتا ہوا زمین بوس ہوگیا مگر اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔
’’ہیرو…‘‘ میرے پکارنے پر وہ موٹی ذرا سا ہلی تو بیڈ یوں ہلا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔
’’ہیرو میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں‘ تم میرے ماں باپ کی پسند ہو میری نہیں اور میں بہت جلد اس سے شادی کرلوں گا۔‘‘ میں کٹھور لہجے میں بولا۔
’’کیا…؟‘‘ اس نے یک دم گھونگھٹ الٹ دیا۔ کالی سیاہ رنگت پر لگی سرخ لپ اسٹک‘ میں نے فوراً آیت الکرسی کا ورد شروع کردیا۔
’’تم ہیرو کے اوپر سوتن لانا چاہ رہے ہو؟‘‘ وہ غضب ناک لہجے میں بولی تو مجھے پتا چلا اس کا آگے کا ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا ہے۔
’’ہیرو… ہیرو باہر آجا ورنہ تیرا یہ نام نہاد شوہر میرے ہاتھوں ضائع ہوجائے گا۔‘‘ وہ شاید پاگل بھی تھی۔
’’اماں ابا میں تم سب کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔
’’اُف زبیدہ! تم غصے میں کیوں آگئی ہو‘ ہم نے تو مذاق کیا تھا اور تم نے سارے مذاق کا بیڑہ غرق کردیا۔‘‘ نفیس سے لہنگے میں ملبوس وہ کوئی بہت اسمارٹ سی لڑکی تھی اس کی کمر میری طرف تھی اور میں اتنا حیران تھا کہ اتنا بے ہودہ مذاق کرنے پر آگے جاکے اس کا منہ بھی نہیں توڑ سکا بس چپ چاپ بُت بنا ان دونوں کو دیکھتا رہا۔
’’جائو شاباش تم! میں دیکھ لوں گی۔‘‘ اس نے موٹی کو باہر بھیجنا چاہا۔
’’لیکن ہیرو…‘‘
’’اُف یار جائو تم میں دیکھ لوں گی۔‘‘ اس نے اس موٹی کو باہر دھکیلا اور دروازہ بند کرکے میری طرف مڑی تو میرے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا۔
وہ حریم تھی‘ سرخ اور مہندی رنگ کے لہنگے میں مکمل دلہن بنی وہ کوئی اپسرا لگ ہی رہی تھی۔ مجھے لگا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔
’’حریم تم…؟‘‘ میرے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلا۔
’’جی میں…‘‘ دونوں بازو سینے پر باندھتے وہ دو قدم آگے بڑھی‘ میں ہی ہیرو ہوں شہریار اور یہ سب ایک پلان تھا گوکہ یہ سب چھپانے میں مجھے کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا مگر ہوگیا۔‘‘ میں ہونقو ں کی طرح منہ کھولے کھڑا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے اتنے دنوں بعد اتنے خوب صورت روپ میں دیکھوں گا میرے حواس کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔
’’مطلب میں تمہیں سمجھاتی ہوں۔‘‘ وہ آرام سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ ’’میں یہ بات بہت اچھے طریقے سے جانتی ہوں کہ بچپن میں میں تمہیں زہر سے بھی زیادہ بُری لگا کرتی تھی اور تم بھی مجھے اتنے ہی بُرے لگتے تھے کیونکہ تم بہت خود سر‘ بدتمیز تھے۔ گائوں کے لوگوں کو تم کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے۔ میں نے ایک دفعہ معصومیت میں تمہیں دوستی کی پیش کش کی مگر تم نے بُری طرح جھڑک دیا۔ میں نے تم سے کبھی بات نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا پھر تم چلے گئے۔ میں کلاس 9th میں تھی جب مجھے پتا چلا کہ میں تمہاری منگ ہوں۔ میں اس دن ٹوٹ کے روئی لیکن میں نے تمہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔‘‘ وہ چند چپ ہوئی اور میں حیرانگی سے ساری کہانی سن رہا تھا۔ وہ مجھے غلط سمجھی تھی میں بالکل بھی خودسر نہیں تھا۔ ہاں بس میری طبیعت تھوڑی نفیس تھی اسی لیے مجھے گائوں کا ماحول کبھی اچھا نہیں لگا۔
’’پھر یونیورسٹی میں تم مجھے ملے‘ میں تمہیں اچھے سے جانتی تھی۔ اماں نے اتنی ڈھیر تصویریں لگائی ہوئی تھیں تمہاری‘ تم پاگلوں کی طرح میرے پیچھے آئے میں نے جان بوجھ کر تمہیں دھتکارا مگر پھر میرا یہ اپنا دل ہی میرے آگے ڈٹ گیا۔ میں جانتی تھی کہ تمہیں شادی کے لیے گائوں بلایا جارہا ہے بس اسی لیے میں نے یہ چھوٹی شرارت کی۔ خالہ کو میں نے منع کردیا تھا کہ تمہیں یہ نہ بتائیں کہ میں نے بی ایس کیا ہوا ہے اور نام کی تو مجھے ٹینشن تھی ہی نہیں۔ سب ہیرو ہی بلاتے ہیں مجھے‘ تمہیں جاننے کے بعد مجھے پتا لگا کہ تم بہت خوب صورت طبیعت کے مالک ہو۔ میں صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ تم اپنے ماں باپ کے کتنے فرماں بردار ہو کیونکہ شہریار جو شخص اپنے ماں باپ کا نہیں ہوتا وہ پھر کسی کا نہیں ہوتا اور مجھے فخر ہے کہ میرا شریک حیات ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے شرارت سے میری طرف جھکی‘ میرا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
’’چلو اب تو تمہیں یقین آگیا نہ‘ آزما لیا نہ تم نے مجھے۔‘‘ میں نے بے حد طنزیہ لہجے میں کہا اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ ’’پلیز اب جائو اور چینج کرکے سو جائو۔‘‘ میں انتہائی روکھے لہجے میں بولا وہ انگلیاں چٹخاتی اٹھ کے میرے پاس آئی۔
’’آئی ایم سوری شہریار! میرا مقصد تمہیں دکھی کرنا نہیں تھا۔‘‘ وہ بہت آہستہ آواز میں بولی۔
’’اٹس اوکے‘ اب میری جان چھوڑ دو۔‘‘ میرا لہجہ ویسا ہی تھا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرا دل تڑپ گیا۔
’’تم نے بھی تو مجھے اتنی دفعہ دکھی کیا تھا‘ میں نے ایک دفعہ کیا تو تمہیں کتنا بُرا لگا۔‘‘ وہ آنسوئوں کے درمیان بولی۔ میں اس کی طرف مڑا اور ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے۔
’’اچھا بس کرو اب۔‘‘ میں نرم لہجے میں بولا اس کے آنسو میرا غصہ مکمل طور پر ختم کرگئے۔
’’آئی ایم سوری شہریار!‘‘ اس نے میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے‘ میں مسکرا دیا۔
’’تمہاری اس مسکراہٹ پر میں دنیا وار کے پھینک سکتی ہوں۔‘‘ وہ مجھے دیکھتے ہوئے بڑے جذب سے بولی۔
’’لیکن تم نے تو کہا تھا کہ تم میری آنکھوں پر…‘‘ میں نے جملہ ادھورا۔
’’ہاں تو آنکھوں پر بھی نا…‘‘ وہ ہنسنے لگی۔
’’میڈم دنیا چھوڑیں آپ صرف اپنی محبت وار دیں‘ یہ ہی بہت ہے۔‘‘ میں شرارت سے بولتے اس کی طرف جھکا تو وہ کھلکھلا کے ہنس دی۔ اردگرد موجود گلاب کے پھول بھی مسکرانے لگے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close