Aanchal Oct 15

قربانی

ام ایمن نعیم

ہوتی نصیب میں گر تیری دید کی خوشی
کس دھوم سے مناتے ہم اس عید کی خوشی
تیرے بغیر عید کی وہ رونقیں کہاں
بے کار سا ہے میرے لیے عید کا سماں

’’امی جان… پیاری امی جان… سچ اتنا زبردست سیریل ہے‘ وہ اسکول میں فائزہ بتارہی تھی‘ پورے تین بجے ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے۔ پلیز امی آپ نے مجھے صرف بتانا ہے‘ صاف آرہا ہے یا نہیں۔ میں اوپر سے تار جوڑتی ہوں۔‘‘ وہ ماں کی منتوں پر اتر آئی۔
’’ارے پچھلی بار بھی تیری ممانی ناراض ہورہی تھی کہ تُو نے پتا نہیں کیا کیا ہے‘ ان کی بھی کیبل خراب ہوجاتی ہے‘ اگر تیری ممانی کو پھر سے پتا چل گیا کہ تو ان کی تار سے کچھ کرنے لگی ہے تو پھر نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔‘‘ ماں نے منزہ کو پچکارتے ہوئے کہا۔
’’ماں پلیز تھوڑی دیر کی تو بات ہے۔‘‘ وہ پھر سے بسورنے لگی۔
’’اچھا چل جا اور چھت پر جاکر چیخنے مت لگ جانا اور اپنے بابا کے سامنے ٹی وی بند کردیا کر‘ پتا بھی ہے کتنی مشکلوں سے تیرے ماموں نے اپنا پرانا ٹی وی تیرے شوق کی وجہ سے ہمارے گھر رکھوانے کی اجازت لی ہے تیرے بابا سے۔‘‘
’’اچھا امی جیسا آپ کہو گی ویسا کروں گی مگر اب میری تھوڑی سی مدد کردو۔‘‘ یہ کہہ کر منزہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چھت پر چلی آئی۔ یہ تین کمروں پر مشتمل چھوٹا سا پُرسکون گھر تھا منزہ کے والدین نے کبھی اسے کسی چیز کی کمی نہ محسوس ہونے دی۔ منزہ ان کی واحد اولاد تھی جو اپنے والدین کی دینی تربیت کے زیر پرست پروان چڑھی جس کی بدولت اس گھر کے ساتھ ہی بنے ممانی کے عالی شان بنگلے اور لائف اسٹائل نے کبھی منزہ کے دل پر اثر نہ ڈالا مگر دو ماہ پہلے ممانی کے گھر ہونے والی پارٹی اور اس میں ہونے والی باتوں نے اس کے ذہن میں انتشار پیدا کردیا اور وہ کچھ اپ سیٹ رہنے لگی۔ دنیا کتنی آگے ہے اور ہم کتنے پیچھے‘ ایک نئی سوچ نے اس کے ذہن میں جنم لیا تھا۔
ء…/…ء
گرمیوں کے دن تھے وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد آرام کی غرض سے اپنے بیڈ روم میں آئے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
’’اندر آجائو بیٹا! ایسے دروازے پر کیوں کھڑی ہو؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر منزہ کو بلایا۔
’’بابا جان! آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔‘‘
’’ ارے بھئی مجھے پتا ہے کہ اس بار بھی قربانی کی عید پر دنبہ آپ کی مرضی کا آنا چاہیے‘ ہے نا۔‘‘ وہ مسکرا کر بولے۔
’’نہیں بابا! مجھے کچھ اور کہنا ہے۔‘‘
’’ہاں بھئی کہو۔‘‘
’’بابا کیا میں میٹرک سے آگے پڑھ سکتی ہوں؟‘‘ وہ تھوڑی ہچکچائی۔
’’ہاں بھئی اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے۔ ہماری بیٹی نے جتنا پڑھنا ہے پڑھ سکتی ہے۔‘‘
’’تھینک یو بابا!‘‘ اتنا کہہ کر وہ واپس جانے لگی۔
’’منزہ…‘‘ باپ کی بارعب آواز نے منزہ کے قدم جکڑ لیے اور دل میں اچانک خیال عود آیا پھر وہی پردے کا لیکچر آخر کیوں میرے بابا اتنے تنگ نظر ہیں یا میں ہی کیوں اتنے تنگ گھرانے میں پیدا ہوئی۔
’’منزہ بیٹا!‘‘ دوسری آواز پر وہ ٹھہری اور نظریں جھکائے اپنے باپ کی بات کی منتظر ہوئی۔
’’یہاں آئو ادھر بیٹھو میرے پاس۔‘‘ وہ سہمے ہوئے انداز میں سمٹ کر اپنے باپ کے بائیں جانب بیٹھ گئی۔
’’کیا بات ہے بیٹا! میں دیکھ رہا ہوں آج کل آپ کچھ پریشان رہتی ہو‘ کیا اپنے بابا سے اپنی پریشانی شیئر نہیں کروگی۔‘‘ اس نے ناگواری کے احساس سے پہلو بدلا۔
’’نہیں بابا! میں پریشان نہیں ہوں۔‘‘
’’تو پھر ایسے خاموش خاموش اور اپنے بابا سے دور دور کیوں رہتی ہو۔ دیکھو ہم آپ کے بابا ہی نہیں بلکہ دوست بھی ہیں۔‘‘ وہ دھیما سا مسکرا کر منزہ کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے وہ تو محبت و شفقت کا سمندر تھے۔ وہی آنکھوں سے چھلکتی چاہت‘ وہی محبت بھرا میٹھا انداز جس میں ایسی پذیرائی تھی کہ منزہ کو اپنی سوچ پر ناچاہتے ہوئے شرمندگی نے آن جکڑا۔ ان کی اسی نرمی کی وجہ سے منزہ اپنے دل میں دبے سارے راز آج فاش کردینا چاہتی تھی۔
’’بابا جان…!‘‘
’’ہاں بیٹا! کہو۔‘‘ وہ ہمہ تن گوش تھے۔
’’کیا مولوی اور ان کے بچے انسان نہیں ہوتے‘ کیا ان کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ کیوں قدم قدم پر ان کی تذلیل کی جاتی ہے؟‘‘ وہ چند لمحے کے لیے رکی۔ ’’مجھے لگتا ہے بابا جان کہ یہ ٹی وی فیشن یہ سب آج کل کا شوق نہیں بلکہ ضرورت ہے‘ جو لوگ ان چیزوں سے دور ہیں انہیں تھرڈ کلاس سمجھا جاتا ہے ایسے لوگوں کی نظروں سے حسرت ٹپکتی ہے۔ آخرکار وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں‘ کیوں بابا کیا میں غلط کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس نے جوش سے بولتے ہوئے رک کر ایک لمحے کے لیے بابا سے سوال کیا۔ انہوں نے چونک کر اسے دیکھا اور اگلے لمحے نظروں کا زاویہ بدل لیا وہ پوری طرح متوجہ تھے۔ وہ لمحے بھر میں منزہ کے اندر کی حقیقت جان گئے بھی تھے۔
’’میں آپ کی کیفیت سمجھ سکتا ہوں بیٹا!‘‘ انہوں نے دھیمے اور سلجھے لہجے میں کہا۔ ’’انسان ایک ظاہری اور باطنی آنکھ رکھتا ہے یہ اس پر منحصر ہے وہ کس طریقے سے استعمال کرے اگر ہم کسی کی چکا چوند دیکھ کر گلٹی فیل کرتے ہیں تو یہ ہمارے اپنے اندر کی کمی ہے کہ ہم اپنے آپ کو پیچھے سمجھتے ہیں‘ کیا ہم فیشن نہیں کرسکتے۔ یہ بالکل غلط ہے ہر انسان اپنی یہ خواہش پوری کرسکتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے (اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے) ہم بھی فیشن کرسکتے ہیں مگر ایک حد تک‘ عریانی فحاشی اور بے حیائی سے قطعی دور کیونکہ ہم پھل کھانا پسند کرتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق خریدتے بھی ہیں لیکن اگر بازار میں چھلے ہوئے پھل ملیں جیسے آم کو کاٹ کر اس کے کئی پیس کرکے بیچنا شروع ہوجائیں تو کیا آپ وہ لے کر کھانا پسند کرو گی۔ خوش بو سے جی للچائے گا مگر اس پر بھن بھناتی مکھیوں کو دیکھ کر طبیعت مائل نہیں ہوگی اور نہ ہی مکھیوں کا پیٹ بھرے گا‘ وہ بھی حاصل نہ ہوگا جبکہ بغیر چھلا ہوا آم آسانی سے بک بھی جائے گا اور محفوظ بھی دیر تک رہے گا۔ آپ میری بات سمجھ رہی ہو نا۔‘‘
’’جی بابا!‘‘ وہ بھرپور توجہ سے بات سن رہی تھی اور ایک حد تک مطمئن بھی ہوئی۔ ’’مگر بابا ہمارے معاشرے میں عورت پر اتنی روک ٹوک کیوں کی جاتی ہے‘ پردہ کرو‘ اونچی آواز میں نہ بولو وغیرہ… یہ سب کیوں؟‘‘
’’میری پیاری گڑیا! آہستہ آواز میں بات کرنا عورت کا حسن ہے اور جہاں تک پردے کی بات ہے تو ایک دفعہ ایک انگریز نے مسلمان سے پوچھا کہ ہم عورت کو آزادی دیتے ہیں کہ وہ جیسے چاہے زندگی گزارے مگر تم لوگ بہت ظلم کرتے ہو‘ انہیں پردوں میں چھپا کر رکھتے ہو تو اس پر بزرگ مسلمان نے اتنا پیارا جواب دیا انہوں نے کہا ’اگر تمہارے پاس ہیرا ہو تو کیا تم اسے سڑک پر رُلنے کے لیے چھوڑ دو گے‘ انگریز نے کہا ’نہیں بھئی اسے تو ہم سنبھال کر رکھیں گے‘ تو انہوں نے کہا ’عورت بھی اسی طرح ہمارے معاشرے میں بہت عظیم اور قیمتی شے ہے۔ ہم اسے پردے میں چھپا کر رکھتے ہیں‘ اسلام نے عورت کو سب سے اعلیٰ مقام دیا ورنہ اس سے پہلے اس دنیا میں عورت کی حد سے زیادہ تذلیل کی جاتی تھی۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ حد سے بڑھ کر فیشن کرنے والے لوگ اندر سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ انسان کے سکون کے لیے سب سے بڑی چیز نفس مطمئنہ ہے جس کو یہ حاصل ہوگیا وہ معاشرے میں کامیاب ہے۔ ہم جس معاشرے کے باسی ہیں اس میں ہمیں اپنی خواہشات کو جو جائز ہوں انہیں قربان کرنے کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ نفس کو کھینچ کر رکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نفس خواہشات کا منہ ہے۔ چھوڑو بات بہت لمبی ہوجائے گی اس کو تو جتنا بڑھائیں یہ بڑھتی جائے گی۔‘‘ وہ دھیما سا مسکرا کر بولے۔
’’لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ کی تشفی ہوپائے گی۔‘‘ وہ خاموش ہوئے۔
’’نہیں بابا! آپ بولتے رہیں میری روح کو بھی سکون مل رہا ہے۔‘‘ وہ اطمینان سے گویا ہوئی۔
’’ارے بابا کی جان میں جانتا تھا میری بیٹی بہت سمجھدار ہے۔‘‘
ء…/…ء
ذوالحج کا چاند نظر آگیا تھا‘ گھر میں دنبہ منزہ کی پسند سے ہی آیا۔
’’بابا پلیز مجھے کھلی مہندی لاکر دیں نا میں اپنے دنبے کو اپنے ہاتھوں سے مہندی لگائوں گی۔‘‘ وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔
’’جی جناب! وہ تو آپ کے بابا پہلے سے لے آئے ہیں‘ میں جانتی تھی تم ضرور ضد کرو گی اس لیے میں نے پہلے ہی منگوا کر رکھ لی تھی۔‘‘ منزہ کی ماں نے اسے اطمینان دلایا۔ کچھ دیر بعد منزہ کے والد کام سے باہر چلے گئے اور والدہ کچن میں مصروف ہوگئیں۔ وہ اپنے دنبے کو سجانے لگی‘ اپنے بابا کی اس دن کی باتوں سے وہ دلی سکون محسوس کررہی تھی۔ قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو اپنی امت تک پہنچانے کے لیے جو محنت کی اور اپنے لہو کی قربانی دی تب یہ اُمت… اُمت مسلمہ بنی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کا حکم پورا کرنے کے لیے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی پیش کی تو اللہ کو یہ عمل کتنا پسند آیا کہ آج تک ان کی یاد میں ہر سال قربانی کی جاتی ہے۔ قربانی واقعی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اس کا اثر نسل در نسل چلتا ہے تو پھر نفس میں بٹی غلط خواہشات کی قربانی کیسے رائیگاں جاسکتی ہے۔ وہ بہت گہری سوچوں میں گم دنبے کو مہندی لگا رہی تھی۔
’’اگر میں بابا سے بات نہ کرتی تو کتنی منفی باتیں میرے اندر جنم لے چکی ہوتیں اور میں سادگی کو کتنا چھوٹا اور حقیر سمجھ بیٹھی تھی۔ دنیاوی فیشن کو کتنا اعلیٰ سمجھنے لگی تھی۔ یا اللہ مجھے معاف کردے‘ تیرا شکر ہے کہ تُو نے مجھے غلط راہ پر بھٹکنے سے بچالیا۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close