Aanchal Oct 15

نوازشوں کی تو کمی نہیں

حمیرا نوشین

وفورِ بے خودی میں اب یہ عالم ہے محبت کا
جنہیں وقف حدودِ آستاں معلوم ہوتی ہے
جنونِ عشق کا حاصل ہے سجدوں کی فراوانی
یہی اب جادہ عمر رواں معلوم ہوتی ہے

’’رعنا بیٹا! عصر کی نماز کا وقت نکلا جارہا ہے‘ جلدی سے نماز پڑھ لو۔‘‘ امی نے آہستگی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
میں جو انہماک سے اپنی دوست ملیحہ سے باتوں میں مصروف تھی ’’اچھا امی‘‘ کہہ کر پھر وہی سے سلسلہ شروع کردیا۔
’’کون تھا؟‘‘ ملیحہ نے پوچھا۔
’’کوئی نہیں یار! وہی بڑھیا کی ایک بات نماز پڑھ لو‘ ٹائم نکلا جارہا ہے‘ نماز وقت پر ادا کیا کرو‘ نماز پڑھنے سے برکت ہوتی ہے سکون ملتا ہے۔ جملے سن سن کر تو میرے کان پک گئے ہیں‘ سکون ختم کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ میں جو امی کے دروازہ کھٹکھٹانے پر بے زار ہوئی تھی ملیحہ کے پوچھنے پر پھٹ ہی تو پڑی۔
’’تو تم کہہ دیا کرو ناں یہ میرا مسئلہ ہے میں پڑھوں یا نہ پڑھوں‘ آپ کو اس سے کیا۔‘‘ ملیحہ کو بھی یہ سن کر غصہ آگیا۔
’’نہیں یار بڑی ڈھیٹ ہیں‘ کئی دفعہ باتوں باتوں میں سنا دیا ہے مگر مجال ہے جو اُن پر اثر ہو۔ ساس کو تو بہوئوں کے کام سے غرض ہوتی ہے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ میرے ہاتھوں سے کام چھین لیتی ہیں یہ میں کرلیتی ہوں‘ جائو تم اپنے ربّ کی بارگاہ میں حاضری دو۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’چلو چھوڑو اس ذکر کو تم یہ بتائو کہ کل مارکیٹ چل رہی ہو میرے ساتھ‘ کچھ کپڑے لینے ہیں میں نے اپنے اور بچوں کے۔‘‘ میں نے موضوع بدلا اور اسی طرح باتیں کرتے‘ شاپنگ کا پروگرام بناتے مغرب کی اذانیں شروع ہوئیں تو میں جلدی سے سلسلہ منقطع کرکے باہر نکل آئی۔ مجھے پتا تھا کہ اب امی کا مغرب کی نماز کا لیکچر شروع ہوجائے گا پتا نہیں ان کو کیا ہر وقت نمازوں کی فکر رہتی تھی۔ اب مغرب پڑھ لو ٹائم کم ہوتا ہے۔ سونے سے پہلے عشاء کی نماز ضرور پڑھ لینا‘ رات کو پُرسکون نیند آتی ہے اور ربّ بھی راضی ہوتا ہے ایسے جملے ہر وقت میری سماعتوں سے ٹکراتے رہتے اور میں دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی رہتی مگر مجال ہے جو میں نے ان کی کسی بات پر کان دھرا ہو۔
ء…/…ء
میں نے جلدی جلدی بچوں کو تیار کیا اور خود بھی بڑے نک سک سے تیار ہونے لگی۔ آج کتنے دن بعد ہم ڈنر باہر کرنے جارہے تھے‘ بچے تو خوش تھے ہی میں بھی بہت مسرور تھی کہ چلو کچھ دیر کے لیے گھر کے خشک ماحول سے نجات ملے گی اور زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ امی ہمارے ساتھ کہیں باہر آتی جاتی نہیں تھیں۔ وہی پردے کا خیال‘ گھروں کی عورتوں کو رات گئے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ عورت گھر کی چار دیواری میں ہی اچھی لگتی ہے اور میں تو شکر ادا کرتی تھی کہ وہ گھر پر ہی رہتی ہیں ورنہ تو کھانے کا مزا بھی کرکرا کردیتیں اور صد شکر کہ ان کے خیالات کا آفاق پر کچھ اثر نہیں پڑا تھا۔ وہ ان کی سنتے ضرور تھے مگر دقیانوسی ذہنیت کے ہرگز نہ تھے وہ زمانے کے ساتھ قدم ملا کے چلنے والوں میں سے تھے۔ امی کو خدا حافظ کہنے ان کے کمرے تک آئے تو میری طرف مخاطب ہوکر بولیں۔
’’بیٹا! عشاء کی نماز پڑھ کے جاتیں‘ وہاں سے آئو گی تو تھک کر سو جائو گی۔‘‘ اور ان کی اس بات پر میرے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔
’’میں نماز پڑھ کر ہی جارہی ہوں۔‘‘ میں ناگواری سے بولی۔
’’اچھا۔‘‘ ان کی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری اور میں جلدی سے ان کے کمرے سے باہر نکل آئی۔ انہوں نے بچوں پر کچھ پڑھ کر پھونکا‘ بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’بیٹا! گاڑی آہستہ چلانا اور رعنا دوپٹہ اچھی طرح اوڑھنا غیر مردوں کی نظریں پڑیں گی تو شیطان خوامخواہ راضی رہے گا۔‘‘ نکلتے نکلتے بھی یہ جملے میرے کانوں سے ٹکرائے اور میں نے گاڑی کا دروازہ غصے میں بند کیا اور آفاق میری طرف دیکھ کر رہ گئے۔
’’آخر مسئلہ کیا ہے امی کو؟ کیوں ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہیں کیوں مجھ پر وعظ و نصیحت کا بازار گرم کرکے رکھتی ہیں اگر وعظ کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو کوئی مدرسہ کھول لیں۔ مجھ پر نہ اپنے یہ شوق پورے کیا کریں۔‘‘ میں غصے سے آگ بگولا ہورہی تھی۔
’’اچھا چلو چھوڑو تم زیادہ دھیان مت دیا کرو۔ خاموشی سے سن لیا کرو‘ تمہارا کیا جاتا ہے کرتی تو تم وہی ہو جو تمہارا دل چاہتا ہے میں بھی تو ہوں اچھا امی کہہ کر خاموش ہوجاتا ہوں نہ اپنا دل جلاتا ہوں اور ان کی دل آزاری کرتا ہوں۔‘‘ آفاق نے مجھے سمجھانا چاہا تو میں خاموش ہوگئی میں مزید بول کر اپنا اور ان کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ آخر تھیں تو آفاق کی امی‘ ان کو اپنی ماں کی برائی سن کر غصہ بھی تو آسکتا تھا۔ بچوں کے ساتھ باتیں کرکے میں نے اپنا موڈ بحال کرلیا تو آفاق بھی خوش ہوگئے۔
ء…/…ء
امی بے حد مسرور تھیں ان کے ساتھ ساتھ میری بھی بانچھیں کھلی جارہی تھیں بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ خوشی سے میرے قدم زمین پر پڑتے ہی نہ تھے کیونکہ وہ اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ حج پر جارہی تھیں ان کی درخواست منظور ہوگئی تھی۔
وہ آنے والے دنوں کا تصور کرتے خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے روضہ رسولﷺ کی جالیوں کو چومتے ہوئے نم آنکھوں سے مسکراتی رہتیں اور میرے ہونٹ ان کے گھر سے دور رہنے کے خیال سے ہی پھیلے رہتے۔ میں نے پورے جوش و خروش سے ان کی روانگی کی تیاری کی‘ ان چند دنوں میں ان کا خوب خیال رکھا حتیٰ کہ ان کے بار بار نماز کی تلقین پر بھی خوش دلی سے سر ہلا دیتی۔
جاتے وقت پوتا‘ پوتی کو ڈھیروں دعائوں سے نوازا‘ بیٹے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور مجھے گلے لگاکر خوب پیار کیا۔
’’اللہ نے چاہا تو جلد ہی تم بھی اپنے بچوں کے ساتھ اللہ کا گھر دیکھنے جائوگی۔‘‘ انہوں نے دل سے دعا دی۔ ’’اور میرے لیے دعا کرنا کہ بس اللہ مجھے اپنے گھر ہی رکھ لے۔‘‘ میں نے جلدی سے دل میں آمین کہا۔
ء…/…ء
آج امی کو گھر سے گئے ہوئے بیس دن ہوگئے تھے اور یہ بیس دن بڑی سرعت سے گزرے۔ بچوں نے جی بھر کر مستیاں کیں کارٹون دیکھے روز میری کوئی نہ کوئی فرینڈ آئی ہوتی یا میں ان کے ہاں چلی جاتی۔ رات دیر تک آفاق کے ساتھ کوئی نہ کوئی مووی دیکھ لیتی اور صبح دن چڑھے سوکر اٹھتی امی کے جاتے ہی میں نے ملازمہ رکھ لی۔ صفائی ستھرائی کے علاوہ وہ بچوں کو صبح تیار کرکے اسکول بھیجتی اور آفاق کو بھی ناشتا بناکر دے دیتی۔ زندگی ایک دم سے سکون و چین میں بدل گئی تھی نہ کوئی روک ٹوک‘ نہ نمازوں کی تلقین اور نہ ہی پندو نصیحت… دن تیزی سے گزر رہے تھے امی سے اکثر فون پر بات چیت رہتی۔ ماشااللہ آج تو خوشی سے ان کی آواز ہی نہ نکل پارہی تھی کیونکہ آج انہوں نے حج کا فریضہ ادا کرلیا تھا‘ وہ خوشی سے کہہ رہی تھیں۔
’’رعنا کل ہماری عید ہے۔‘‘ اور میں دل میں سوچ رہی تھی کہ ہماری تو آج کل یہاں روز ہی عید ہے۔
جس دن پاکستان میں عید تھی اسی دن باجی کا روتے ہوئے فون آیا کہ امی کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ یہ خبر سن کر جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی‘ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
’’آہ… ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ تو ماشاء اللہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں۔ کل ہی تو فون پر بات ہوئی تھی۔‘‘ آفاق کا تو صدمے سے بُرا حال تھا‘ امی کی وصیت کے مطابق ان کو مکہ مکرمہ میں ہی دفنا دیا گیا تھا۔
ء…/…ء
امی کو ہم سے جدا ہوئے کئی دن ہوگئے تھے‘ آنے جانے والوں کا سلسلہ بھی اب کم ہوتا جارہا تھا گھر اداسی کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ امی کیا روٹھ کر گئیں ہم سے تو خوشیوں نے ہی منہ موڑلیا‘ آفاق کا آفس سے گھر واپس آتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوگیا‘ انہیں شدید چوٹیں آئیں اور ٹانگ دو جگہ سے فریکچر ہوگئی۔ ان کی تیمارداری‘ بچوں کی دیکھ بھال‘ گھر کے کام کاج‘ میں تو گھن چکر بن کر رہ گئی۔ کام والی کو ہٹادیا گیا کیونکہ کئی مہینوں سے بستر علالت پر ہونے کی وجہ سے آفاق کی جگہ کسی اور کو بھرتی کرلیا گیا یوں آفاق کی نوکری گئی تو گھر میں مزید پریشانی کا اضافہ ہوگیا۔ بچوں کی دو تین ماہ کی فیسیں اکٹھی ہوگئی تھیں اور آج تو نوٹس بھی مل گیا تھا کہ اس ماہ فیس جمع نہ کروانے کی صورت میں بچوں کا نام خارج کردیا جائے گا۔
’’یااللہ ابھی اور کتنی آزمائشیں باقی ہیں۔‘‘ میں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا جو کچھ جمع پونجی تھی آفاق کے علاج پر لگ چکی تھی اور اب تو ان کے بہن بہنوئی ہی ان کا علاج کروارہے تھے۔ وہی فرینڈز جو کل تک مجھ پر جان چھڑکتی تھیں آج پوچھنے کی بھی روادار نہ تھیں۔ وقت پڑنے پر کیسے لوگ طوطا چشم ہوجاتے ہیں اس بات کا مجھے بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ والدین عرصہ ہوا اس دارِ فانی سے کوچ کرچکے تھے‘ کاش کوئی اپنا بہن بھائی ہوتا تو اس کڑے وقت میں یوں تو نہ تنہا چھوڑتا۔ بچے جو تعیشات کے عادی تھی اب دال سبزی کو رو دھوکر کھانے پر مجبور تھے۔
’’مما مجھے چکن چاہیے۔‘‘ حمزہ کی فرمائش ہوتی‘ علیزہ ضد کرتی ’’مجھے پزا کھانا ہے‘‘ اور میری آنکھیں جھلملانے لگتیں کہ میں کہاں سے ان کی یہ فرمائشیں پوری کروں۔ آفاق کو کچھ کہہ نہیں سکتی وہ بیماری کی وجہ سے ویسے ہی بے حد چڑچڑے ہوگئے تھے۔ بات بات پر چیخنا چلانا شروع کردیتے‘ بچوں کو شور شرابا کرنے پر ڈانٹتے مجھے بُرا بھلا کہتے اور میں صبر کے گھونٹ پی کر رہ جاتی کہ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
ء…/…ء
رات کا جانے کون سا پہر تھا نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ذہن و دل پر ایک عجیب طرح کا بوجھ تھا‘ آج مجھے امی کی یاد بہت شدت سے آئی۔
’’آہ… امی آکے دیکھیں ذرا وہ گھر جو امن و سکون کا گہوارہ تھا آج کیسے یہاں پریشانیاں و اداسیاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ آپ کے جانے سے سکون‘ عزت‘ برکت سب ہی کچھ ختم ہوکر رہ گئی۔‘‘ اسی سوچ میں مضطرب تھی کہ دور کہیں سے اذان کی آواز سنائی دی حیٰ علی الفلاح… حیٰ علی الفلاح… حیٰ علی الصلوٰۃ… حیٰ علی الصلوٰۃ… اور اس آواز کے ساتھ ہی جیسے ذہن و دل کے دریچے کھلتے چلے گئے۔
’’ہاں امی کہتی تھیں نماز پڑھا کرو بے شک نماز دلوں کو سکون پہنچاتی ہے۔ گھر میں رحمت و برکت ہوتی ہے جس گھر میں کلام پاک کو جزدان میں لپیٹ کر رکھ کر بھول جاتے ہیں اوقاتِ صلوٰۃ میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے کی بجائے شیطان کو راضی کرنے کے کام ہورہے ہوں تو پھر اس گھر میں کیسے خیر وسلامتی کے در وا ہونے کی امید رکھی جاسکتی ہے۔‘‘ ان کی آواز میری سماعت میں گونج رہی تھی‘ میں فوراً اٹھی وضو کیا اور اپنے خدا کے حضور سر بسجود ہوگئی۔ نماز کیا پڑھی میرے پورے وجود میں طمانیت کی لہریں دوڑ گئیں‘ ایک عرصہ کے بعد اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہوا۔
ء…/…ء
’’آفاق جلدی سے یہ جوس ختم کریں‘ عصر کی نماز کا وقت ہونے والا ہے مجھے نماز بھی پڑھنی ہے۔‘‘ اور میرے اس جملے پر انہوں نے میری طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا کہ میں سر تاپا شرمندگی میں ڈوب گئی اور ان سے نظریں چراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی۔
میرے روزمرہ کے معمولات میں گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر زیادہ وقت قرآن پاک پڑھتے اور نماز وغیرہ میں گزرتا۔ بچوں کے کام کرتے‘ آفاق کو کھانا کھلاتے ہوئے میرے ہونٹ مستقل حرکت میں رہتے‘ اپنے ربّ کا ذکر ورد زباں رہتا۔ نماز کے سجدوں میں عجیب طرح کی لذت محسوس ہونے لگی‘ ذکر میں لطف آنے لگا۔ گھر کے کام اتنی جلدی نمٹ جاتے کہ پتا بھی نہ چلتا۔ غصہ ایک دم سے میری زندگی سے غائب ہوگیا۔ ننھی علیزہ بھی نماز پڑھتے وقت میرے ساتھ آکھڑی ہوجاتی اور ہو بہو میری نقل کرتی تو میرا دل خوشی سے جھوم جاتا۔
گھر میں ایک دم سے سکون کی فضا قائم ہوگئی‘ بچے حالات سے سمجھوتہ کرنے لگے۔ آفاق نے بھی چیخنا چلانا کم کردیا اور زیادہ تر ذکر و اذکار میں مصروف رہتے۔ میرا دل جو ہمہ وقت احساسِ ندامت میں ڈوبا رہتا تھا‘ بتدریج اس میں کمی آنے لگی۔ میں چشم تصور میں امی کو خوش ہوتے ہوئے دیکھتی۔
ء…/…ء
آفاق کے ایک قریبی دوست جو جرمنی سے آج کل پاکستان آئے ہوئے تھے ان کو جب پتا چلا تو انہوں نے آفاق کا علاج کروانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ میری اور بچوں کی دل جوئی کرتے اور میں جھلملاتی آنکھوں سے اپنے حقیقی معبود کا شکر بجالاتی کہ کس کس طرح وہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے کیسے اندھیری راہ میں روشنی کی لکیر پیدا کرتا ہے۔ آفاق کی ٹانگ کا ایک اور معمولی سا آپریشن ہونا باقی تھا‘ ڈاکٹرز کافی پُرامید تھے کہ وہ جلد ہی اپنے پیروں پر چل سکیں گے اور اس دن میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب انہوں نے پہلا قدم بغیر کسی سہارے کے اٹھایا اور میں شکرانے کے نفل ادا کرنے بھاگی۔
آفاق کے ایک کولیگ کی کوشش سے ان کو اپنے ہی آفس میں جاب مل گئی اور زندگی ایک بار پھر سے معمول پر آگئی مگر اب پہلے کے اور اب کے معمولات میں فرق یہ تھا کہ ہمارا اپنے ربّ سے تعلق مضبوط استوار ہونے کی وجہ سے سجدوں کی طوالت بھی بڑھ گئی تھی۔
ء…/…ء
میں گناہ گار خانہ کعبہ کا معطر غلاف تھامے کھڑی تھی۔ آنکھوں سے اشک رواں تھے اپنی قسمت پر نازاں تھی کہ یہ مجھ خطاکار پر کیسا کرم ہوا کہ اس نے مجھے اپنے گھر پر بلالیا‘ میں تو اس قابل نہ تھی میرے اعمال اس لائق نہ تھے پھر تُو نے اس ناچیز کو اس قابل جانا۔ ذہن میں جھماکا ہوا کہ امی نے حج پر جاتے ہوئے جو دعا دی تھی کہ اللہ کرے تم بھی اس کا گھر دیکھنے جلد جائو۔ میرے اللہ نے اپنی محبوب بندی کی دعا فوراً قبول کرلی اور مجھ عاصی کو اپنے در پر بلالیا۔
’’میرے اللہ تُو غفور الرحیم ہے‘ تُو حلیم ہے تُو کریم ہے… میرے پروردگار مجھے تاریکیوں سے نکال کر روشنی عطا کر… اے اللہ تیری شان کتنی بندۂ نواز و بے نیاز ہے تُو آزمائش میں ڈال کر بھی گناہ گاروں کو اپنے قریب لے آتا ہے اتنا قریب کہ اپنے دامنِ رحمت میں سمیٹ لیتا ہے۔ آہ… دنیا کی فریب خوردہ اور رنگینیوں میں ڈوبی ہوئی صرف میں ہی نہیں میری طرح لاکھوں افراد شیطان کے مکر کا شکار ہوتے ہوں گے مگر میرا پیارا ربّ جو ستر مائوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے انہیں کسی امتحان میں ڈال کر سجدوں کی راہ دکھا دیتا ہے۔ میرے مالک میں تیرے در پر کھڑی تجھ سے اپنی خطائوں کی بخشش کی طلب گار ہوں‘ تیری نظرِ کرم پر مسرت سے اشک بار ہوں تُو نے مجھے دنیا کی حقیر زندگی سے نکال کر ابدی زندگی کی لذتوں سے آشنا کردیا۔‘‘ میری آنکھوں سے تواتر سے اشک جاری تھے جو میرے دل پر پڑے بوجھ کی کثافت کو دھوتے چلے جارہے تھے اور ایک پُرسکون سی کیفیت مجھ پر طاری ہوتی جارہی تھی۔
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے
مجھے یوں لگا کہ امی کہیں میرے آس پاس ہی موجود ہیں اور کہہ رہی ہوں۔
’’دیکھو میں نہ کہتی تھی کہ اللہ کے قریب آجائو اس کے آگے سر جھکا لو اسی میں لذت ہے‘ اسی میں برکت و راحت ہے‘ یہی راہ نجات ہے۔‘‘ اور میرے دل نے فوراً اس بات کی شہادت دی‘ ریاضت و عبادت ہی سکون قلب کا نام ہے بشرطیکہ اسے سچے دل سے پکارو‘ اس کا دامن رحمت ہر وقت کھلا ہے۔ مانگنے والا ہو تو مرادوں سے جھولی بھرلے اور اگر کوئی مانگنے والا ہی نہ ہو تو صد حیف…
کوئی حسن شناس ادا نہ ہو تو کیا علاج
ان کی نوازشوں میں تو کوئی کمی نہیں

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close