Aanchal Oct 15

اے جذبہ دل

رشک حبیبہ

آنے والی رتوں کے آنچل میں
کوئی ساعت عید کیا ہوگی
گل نہ ہوگا تو جشن خوشبو کیا
تم نہ ہوگے تو عید کیا ہوگی

موسم گرما کی چلچلاتی دھوپ نے ہلکی گدلی سرمئی ردا اوڑھ رکھی تھی۔ موسم خوش گوار اور ابر آلود ہونے لگا تھا‘ ہلکی ہلکی خنکی رات ہوتے ہی فضاء میں مدغم ہوتی محسوس ہونے لگتی۔ رات اپنے دوسرے پڑائو میں تھی‘ جب کمرے میں سوتے بلکہ سونے کی کوشش کرتے اس ضعیف العمر شخص کو پیاس نے تنگ کیا۔ بہت آہستگی سے اٹھ کر کچن کی طرف جاتے اس شخص کے قدموں کو برآمدے کی سیڑھیوں پر گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے ہچکولے کھاتے وجود نے جکڑ لیا۔ وہ بے تحاشہ روئے جارہی تھی اس کی ہچکیاں سامنے کھڑے شخص کے اعصاب پر ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھی مگر بے بسی… صد بے بسی…
ء…/…ء
بشیر صاحب نے بہت حیرت سے اسے دیکھا جو ابھی کچھ دن پہلے تک ان سے نئے کپڑوں‘ جوتوں اور دیگر بے ضرر سی خواہشات کی تکمیل کے لیے ضد کرتی لیکن آج یک بہ یک…
’’بابا! مجھے عازم پسند ہے‘ آپ عازم کے والدین کو اوکے کردیجیے گا پلیز… کل آئیں گے وہ لوگ آپ سے بات کرنے۔‘‘ اس کی نگاہیں احتراماً جھکی ہوئی تھیں مگر لہجہ میں حاکمیت اور قطعیت بھرپور تھی۔
بشیر صاحب گہری ٹھنڈی سانس بھرنے کے سوا کیا کرسکتے تھے۔ اپنی سگی اولاد ہوتی بھی تو وہ اس کی خوشی کو اہمیت دیتے۔ کیا ہوا جو حورین دستگیر (ان کے بھائی کی اولاد جس کی ذمہ داری خود ان کے بھائی نے انہیں سونپی تھی‘ جسے وہ اپنے گھر کی رونق دیکھنا چاہتے تھے اپنے گھر کی خوشی بنانا چاہتے تھے) اسے کوئی اور بھا گیا تھا اور اسے بھایا بھی کون… عازم… عازم جو کاظم بشیر کا قریبی اور دولت مند دوست تھا۔
اور کئی سارے دنوں بعد…
سرخ عروسی لباس میں جب وہ سجی سنوری گڑیا سی لڑکی ان کے سامنے آئی تو دل میں کیسی ہوک سی اٹھی تھی وہ ہی جانتے تھے اس کرب کو یا پھر ان کی شریک حیات صغریٰ بیگم اور ان دونوں سے زیادہ نارسائی کا کرب دائمی‘ ہجر کی اذیت سہنے والا وجود تو کاظم بشیر کا تھا۔
سات سمندر پار وہ حورین دستگیر کے لیے ہی تو گیا تھا۔ حورین دستگیر اس کی طرح اس کے خواب بھی بہت البیلے اور انوکھے تھے۔ چار کمروں کے چھوٹے سے گھر میں اپنے تایا تائی اور ان کی اکلوتی اولاد کاظم بشیر کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں محلوں کے سپنے بنتی تھی اور کاظم اس کے ان خوابوں سے بہت اچھی طرح واقف تھا جبھی تو تعلیم مکمل کرتے ہی پاکستان سے باہر جاکر ڈھیر سارا پیسہ کمانے کی دھن میں اس نے بوڑھے ماں باپ کی تنہائی کا بھی خیال نہ کیا اور بشیر صاحب صغریٰ بیگم نے بیٹے کی خوشی اور مرحوم بھائی کی پھول جیسی بچی حورین کے لیے کلیجے پر پتھر رکھ کر کاظم کو بھیگی آنکھوں اور ڈھیر ساری دعائوں کے حصار میں دیارِ غیر روانہ کردیا۔
ابھی تین برس ہی تو گزرے تھے محض جب حورین دستگیر نے تائی تایا کی بے لوث محبت اور لاڈ پیار بھری پرورش کے زعم میں چور ہوکر ان سے ان ہی کی اکلوتی اولاد کی خوشی برباد کرنے کی اجازت مانگی۔
بشیر صاحب کو آج بھی وہ لمحہ نہ بھولا تھا حورین نے ان کے سامنے عازم کا ذکر اس انداز سے کیا تھا ان کی نشست کے نزدیک گھٹنوں کے بل بیٹھی وہ بالکل اسی بچی کی طرح تھی جسے پھر نئی باربی ڈول پسند آگئی تھی جس کے لیے وہ اپنے بڑے ابا سے اپنی ضد منوانے کی ہر ممکن کوشش کر ڈالے گی اور انہیں منانے کی لیے واقعی اس نے ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہ ان کا کلیجہ چھلنی ہوگیا۔
’’بابا ہوتے نا بڑے ابا! تو وہ ضرور میری خواہش پوری کرتے۔ امی حیات ہوتی تو میں ان سے بہت ضد کرتی۔ روٹھ جاتی کہتی کہ اگر آپ کو عازم نہیں بھی پسند تو بھی یہ سوچ کر میری خواہش پوری کردیں کہ وہ مجھے بہت عزیز ہے۔ اسے کھونا مجھے غم کی انتہائی کیفیت سے دوچار کرے گا تو وہ جھٹ سے مجھے گلے لگاکر اپنی رضا مندی کا عندیہ دے دیتی… مگر وہ اور بابا بھی نہیں ہیں۔‘‘ کیسی حسرت آمیز دکھ بھری ٹھنڈی سانس بھری تھی اس نے‘ بشیر صاحب نے تڑپ کر اسے دیکھا۔
’’تو کیا تم مجھے اپنے بابا جیسا نہیں سمجھتی حورین! کیا تمہاری بڑی امی تم سے تمہاری امی جیسا پیار نہیں کرتی بیٹا! کیا ہماری شفقت میں کمی رہ گئی؟‘‘ حورین ان کی بات سن کر مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
’’نہیں بڑے ابا! میرا یہ مطلب نہیں تھا‘ مجھے امی‘ بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ آپ کی دل آزاری تو میرا مقصد نہ تھی‘ ان کی کمی محسوس ہورہی ہے بس۔‘‘ وہ اپنی صفائی دے رہی تھی۔ بشیر صاحب نے اپنی شریک حیات کی طرف دیکھنے سے دانستہ احتراز برتا۔ جانتے تھے کہ صغریٰ بیگم کی آنکھوں میں نمکین پانی کے ستارے اپنی چھب دکھلا رہے ہوں گے۔
اس وجہ سے نہیں کہ حورین کی دل دکھاتی باتوں نے انہیں غم زدہ کردیا بلکہ اس لیے کہ وہ جو اُن کی آنکھوں کا نور ان کا لاڈلا بیٹا کاظم بشیر سات سمندر پار بیٹھا ہے حورین سے دست برداری کا غم کیسے برداشت کرے گا۔ اپنی اولین چاہت سے دست برداری کا غم اسے کس قدر نہ تڑپائے گا۔ کاش صغریٰ بیگم کچھ کر پاتی لیکن وہ کچھ نہ کرسکی اور نہ ہی بشیر صاحب کا بس چلا‘ صغریٰ بیگم کے سر پر سوار کیا گیا صدمہ بیماری کی صورت سامنے آیا۔ حورین نے فٹافٹ کاظم کو فون کردیا۔
’’آپ خیال نہیں رکھتیں نہ اماں اپنا! دیکھیں تو کتنی کمزور ہورہی ہیں‘ دوائیں وقت پر لیا کریں۔ ابا آپ اماں سے کچھ کہتے نہیں‘ چہرہ کتنا بجھا بجھا ہے دیکھیں۔‘‘ وڈیو کالنگ کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاظم اور صغریٰ بیگم آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ کر محو گفتگو تھے۔ بشیر صاحب بھی سامنے ہی براجمان دونوں کی گفتگو سن رہے تھے۔
’’بس بیٹا! تمہاری ماں اب بوڑھی ہورہی ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ بشیر صاحب نے ہلکے سے مسکرا کر کہتے ہوئے ماحول کو سنجیدگی کی قید سے آزاد کرنے کی کوشش کی مگر بوجھل پن ہنوز قائم تھا‘ صغریٰ بیگم کے لبوں پر مسکان نہ آئی۔
’’ابا! سب ٹھیک ہے نا؟‘‘ کاظم نے تفکر سے پوچھا۔
’’ہاں بیٹا! تمہاری ماں کو تو عادت ہے چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنانے کی۔‘‘ کاظم نے سنجیدگی سے ماں کی صورت دیکھی اسے باپ کی بات پر ذرا بھی یقین نہ آیا۔
’’اس بار آئوں گا تو خود اماں کو ڈاکٹر کے پاس لے جائوں گا‘ مکمل چیک اپ کے لیے۔‘‘ وہ واقعتاً پریشان ہوگیا تھا۔
’’آئو گے کب تم؟‘‘ صغریٰ بیگم کی آنکھیں ڈبڈبائی۔
’’اماں… اماں کیا ہوگیا… آپ کہیں تو ابھی آجاتا ہوں۔‘‘ کاظم سچ مچ اٹھنے لگا تھا۔
’’افوہ… دونوں باپ بیٹا ہر وقت میری جان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں‘ اپنے بیٹے کو یاد کرکے تھوڑا سا رو بھی نہیں سکتی۔‘‘ صغریٰ بیگم نے اسکرین پر کاظم کا چہرہ چھونے کی لایعنی کوشش کی تھی۔
’’کوئی اور بات تو نہیں؟‘‘ کاظم کی چھٹی حس آلارم کی طرح بج اٹھی۔
’’نہیں بھئی… آئو گے کب تم؟‘‘ صغریٰ بیگم نے قطعیت سے کہہ کر جھٹ سے سوال داغا۔
’’بقرعید پر آئوں گا بس‘ ایک مہینہ صرف یوں گزر جائے گا پھر میں اپنی پیاری امی جان کے پاس ہوں گا۔‘‘ کاظم نے پیار بھرے انداز میں کہا تو صغریٰ بیگم جھٹ مسکرادیں۔
’’اور ہاں اپنی لاڈلی بھتیجی حور پری کو بتادیں اس بار اس کی پسند سے گلابو (بکروں کی ایک نسل) لائیں گے قربانی کے لیے۔‘‘ صغریٰ بیگم کا کلیجہ کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا ہو۔
کاظم بے خبر… جانتا نہیں تھا کہ اس بار حورین نے اس کے جذبات و احساسات کو قربان کرنے کا انتظار کر رکھا ہے۔ صغریٰ بیگم اور بشیر صاحب نے تو یہی طے کر رکھا تھا کہ کاظم کو حورین کی شادی کی خبر نہ ہو جب وہ آئے گا تب دیکھیں گے‘ دیارِ غیر میں اس غم کو اکیلا نہ سہنا پڑے اسے مگر یہ بچکانہ سی خواہش بھلا کیسے پوری ہوتی۔
٭…٭…٭
حورین دستگیر جس کے حلق سے نوالہ نہیں اترتا تھا کاظم کو بتائے بنا اور دوسری طرف عازم… کاظم کا بے حد قریبی اور پرانا دوست‘ کاظم کے بنا دلہا کیسے بنتا۔
کاظم کے زمان و مکان گھوم گئے اس خبر سے آشنائی کے بعد‘ دیوار سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رویا تھا۔ چاہتا تو یہی تھا کہ وہ اس شادی میں شامل نہ ہو بھلا کیسے اپنی ہی محبت کو اپنے ہی دوست کے ساتھ رخصت کرتا۔ اتنا حوصلہ تو شاید بلند و بالا‘ اونچے چٹان جیسے پہاڑوں میں بھی نہ ہو۔ وہ تو عام سا جذبوں‘ محبتوں کا مارا انسان تھا لیکن اپنے ماں باپ کی جذبات‘ صدماتی کیفیت کا خیال اسے پاکستان آنے پر مجبور کرنے لگا۔ اس کی نگاہوں میں اپنی ماں کا بے رونق چہرہ گھوم گیا‘ باپ کے جھکے کاندھے اسے نہ ہونے کے باوجود خود کو مضبوط ظاہر کرنے پر مصر ہوئے۔
اپنی محبت‘ اپنی دوست کے لیے جذبہ ایثار‘ جذبہ قربانی کاظم بشیر کو خود پر ضبط کرنے کا ڈھب سکھانے لگے۔ ایثار و قربانی کا دوسرا نام محبت ہی تو ہے۔ وہ محبت جو کاظم بشیر کو حورین دستگیر سے ہے‘ وہ محبت جو حورین دستگیر کو عازم سے۔
بساط دل پر عجب ہی شکست ذات کا لطف
جہاں پر جیت اٹل ہو‘ وہ چال ہار کے دکھ
اور دیکھتے دیکھتے حورین دستگیر کی رخصتی کا دن طلوع ہوگیا‘ بشیر صاحب نے سجی سنوری دلہن بنی حورین کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دی۔ صغریٰ بیگم نے بارہا اس کی نظر اتاری‘ دعائیں پڑھ پڑھ کر دم کرتی رہیں۔ حورین آج واقعی حور تمثال‘ اپسرائوں کو شرمائے دے رہی تھی۔ کاظم نے متورم شب بیداری کی غماز آنکھوں سے اسے محض لمحہ بھر دیکھا تھا۔ نارسائی کا کرب اس کی آنکھوں میں خار کی طرح چبھنے لگا تو اس نے فوراً نگاہیں جھالیں۔ کرلاتے ایڑیاں رگڑتے دل کو ڈپٹے ہوئے وہ ایک کنارے سب کی نظروں سے دور جا بیٹھا۔
’’اپنی محبت کے ساتھ سدا آباد وخوش حال رہو۔ اتنی خوشیاں تمہاری جھولی میں پھولوں کی طرح مہکیں کہ مسرت کے احساس سے تمہارا وجود‘ پور پور معطر وسرشار ہوجائے‘ ان شاء اللہ‘ آمین۔‘‘ بہت مہر وخلوص کے ساتھ اس نے حورین دستگیر کے حق میں دعا کی تھی۔
ء…/…ء
بعض اوقات خلوص دل سے نکلی دعائیں بھی عرش معلی پر قبولیت کا درجہ نہیں پاتیں‘ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں جھیلنا ہم خود اپنے نصیب میں لکھواتے ہیں اپنی خوشی سے‘ اپنی جھولی پھیلائے منت سماجت کرتے ربّ کے حضور گڑگڑا رہے ہوتے ہیں۔ وہ نہیں دیتا تو شکوہ کناں بھی ہم ہی ہوتے ہیں اس سے بدگما ن ہوتے ہیں‘ خود ترسی کا شکار ہوتے مگر اپنی خواہش سے دست بردار نہیں ہوتے اور وہ مہربان ربّ جو ستر مائوں سے زیادہ ہم سے محبت کرتا ہے بالآخر ہماری طلب‘ ہماری لگن‘ ہماری گریہ زاری کی شدت سے ناچاہتے ہوئے بھی بخش دیتا ہے۔
پھر جن ستاروں کو چھونے کی خواہش ہمیں کسی طرف دیکھنے اور سوچنے کے لائق نہیں چھوڑتی ان ہی ستاروں کے لمس سے ہتھیلیوں پر پڑے آبلے تکلیف دینے لگتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ستاروں کی چاہ میں انگاروں سے ہاتھ جل جائے تو کتنی اذیت سہنی پڑتی ہے لیکن تب تک اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ سوائے تکلیف جھیلنے اور جلن کی شدت برداشت کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔
ء…/…ء
’’دیکھو میرے ہاتھ… کیا آیا ان میں‘ کیا پایا میں نے۔‘‘ حورین دستگیر نے اپنے ہاتھ کاظم بشیر کے سامنے پھیلائے۔
کاظم کی اولین چاہت‘ اپنے بڑے ابا اور بڑی امی کے کلیجے کی ٹھنڈک محبتوں کا محور جس میں ان تینوں افراد‘ کل اہل خانہ کی جان تھی۔ وہ اس وقت ایسے لیے دیئے حال میں ان کے سامنے تھی کہ ان سب ہی کے دل میں جو ایک ہلکی سی خلش حورین کے خود غرضانہ رویے سے پیدا ہوئی تھی کہیں دور کھوگئی تھی۔ سب بری طرح دکھ و الم کی کیفیت سے دو چار تھے‘ کوئی چیر کر دیکھتا کاظم بشیر کا دل جہاں نارسائی کا کرب سہتی ادھ موئی محبت‘ اپنے محبوب کا یہ حال دیکھ کر کس طرح مچلا تھا۔
اس لڑکی کو اس نے خود سے زیادہ چاہا تھا اور وہ کیا سے کیا ہوگئی تھی۔ سرخ و سفید رنگ میں گھلی زردی‘ ہونٹ سوکھ کر پپڑی زدہ ہوگئے تھے۔ آنکھوں کے گرد حلقے گویا کالے کالے سیاہ دائرے داغ بن کر جم گئے تھے اور آنکھیں تو… آہ… روشنی ستارہ سی آنکھیں جیسے بجھا ہوا چراغ ہوں۔ زندگی کی رمق‘ زندہ دلی کی شوخی‘ تازگی کی چمک‘ کچھ بھی تو نہیں تھا پہلے جیسا۔
’’دیکھو کاظم! میرے ہاتھوں میں… بالکل خالی ہیں‘ اگر کچھ ہے تو بہت دکھ درد کے چھالے…‘‘ وہ سفید و زرد‘ بے رونق ہاتھ اس کے سامنے پھیلائے بیٹھی تھی۔ کاظم نے آنکھوں میں آئی نمی بمشکل پیچھے دھکیلی۔ کیسے دیکھ پاتا وہ اسے اس حالت میں‘ کوئی پوچھتا تو سہی کہ کیا بیت رہی تھی کاظم پر۔ حورین کے لب ایک ٹرانس کی کیفیت میں ہل رہے تھے۔
’’میں نے بہت کوشش کی اس کا ساتھ دینے کی‘ ہر طرح اس کی مانتی رہی۔ کچھ بھی یاد نہیں دلایا اسے‘ اس کے وعدے‘ قسمیں سب جھوٹ تھا‘ بالکل جھوٹ تھا۔ اپنی ماں کی آنکھوں سے دیکھتا تھا‘ باپ کی زبان بولتا تھا۔ پتا نہیں مجھ سے شادی کے لیے اس نے اپنے گھر والوں کو کیسے منایا تھا‘ مگر پہلے دن سے ہی مجھے اس کے گھر میں ’’مس فٹ‘‘ کا نام دے دیا گیا تھا۔ میرے ڈھائی گز کے دوپٹے کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا‘ میرے عبایا لینے کو چھوٹے لوگوں کی چھوٹی سوچ کہا جاتا۔ میری ہر ہر بات پر مجھے مڈل کلاس ہونے کا تھپڑ دے مارنے میں عازم سمیت کسی نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔‘‘ وہ سر جھکائے برستی آنکھوں سمیت اپنی روداد غم سناتی کاظم کا امتحان لینے پر تلی بیٹھی تھی۔
’’میں نے خود کو ان کی طرح بنانے کی بہت کوشش کی‘ عبایا چھوڑ کر چادر لینے لگی۔ دوپٹہ سر پر لینے کے بجائے کاندھے پر سمیٹ لیا‘ ٹرائوزر اور جینز بھی پہن کر عازم کو خوش رکھنے کی کوشش کی مگر… مگر میں کیسے برداشت کرتی جب عازم کی برتھ ڈے پارٹی پر اس کے ایک دوست نے زبردستی مجھے گال پر… وہ مجھے چھونے کی جرأت بھی کیسے کرسکا… اور عازم وہ میرے سامنے کھڑا کسی اور سے محو کلام رہا۔ ایسے بے غیرت‘ بے حس شخص کا چناؤکیا تھا میں نے خود پر حیران تھی میں… کیا سے کیا بن گئی تھی میں۔ اس شخص کے ساتھ نے مجھے بھی بے حیائی سکھادی تھی اور میں… میں اس سبق کو یاد کرنے کے لیے خود کو ہلکان بھی کررہی تھی۔ میں نے ایک زوردار تھپڑ سے اس شخص کو جواب دیا مگر میری اس حرکت سے… اس شخص سے زیادہ عازم اور اس کے باپ کا منہ سرخ ہوگیا۔ عازم کے باپ نے اس کے سامنے میرے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جو میں کبھی مر کر بھی… آہ…‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی‘ کاظم نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی‘ بار بار کے رونے سے ایک ہی بار کا ماتم کافی ہوتا ہے۔ گوکہ کاظم کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کے آنکھوں کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چن لے‘ اسے بتائے کہ اس دل پر اس کے آنسو کیسی اذیت بن کر برس رہے ہیں مگر… حورین بولے جارہی تھی‘ روئے جارہی تھی۔ کاظم بے بس اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
’’میں پارٹی ختم ہونے کا انتظار کیے بنا واش روم میں شاور کے نیچے جاکھڑی ہوئی‘ رگڑ رگڑ کر اپنے گال اپنے جسم کو سرخ کرلیا مگر وہ گھنائونا لمس دور نہ ہوا‘ مجھے گھن آنے لگی خود سے اسی پل…‘‘ کاظم نے دیکھا حورین کی ویران آنکھوں میں خوف بھرگیا‘ جیسے وہ پھر سے ایک بار اسی منظر میں چلی گئی ہو۔ اسی اذیت سے دوچار ہورہی ہو‘ کاظم نے اسے روکنے کی خواہش رکھنے کے باوجود روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا غبار‘ اس کا خوف‘ بھڑاس باہر نہ نکلتا تو وہ اندر ہی اندر گھٹ جاتی‘ کاظم چپ چاپ دیکھتا رہا۔
’’عازم چیختا چنگھاڑتا کمرے میں آیا‘ پیچھے اور بہت سی آوازیں تھیں‘ میں ڈرگئی تھی اور جب میں خوف زدہ سی باہر آئی تو اس نے طلاق کی کالک میرے منہ پر ملی اور اپنے لہجے سے مجھے سنگسار کرکے گھر بدر کردیا۔‘‘ وہ بے تحاشہ رو رہی تھی۔ کاظم کو ڈر ہوا کہیں‘ کہیں حورین کی آنکھیں نہ بہہ جائیں مگر وہ رو تی رہی۔
’’ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ میرا ساتھ دے گا‘ اس نے تو کہا تھا اسے اپنی فیملی کی عورتیں پسند نہیں‘ اسے چار دیواری میں رہنے والی پاکیزہ عورت چاہیے تھی۔ اسے مردوں سے لپٹی عورتیں بری لگتی تھیں‘ اسے تو میرے عبایا سے محبت تھی‘ میری جھکی آنکھوں سے پیار تھا مگر مجھے بہت بعد میں پتا چلا‘ اسے ایڈونچرز پسند تھے‘ اس کی ہابی تھی تھرل اس نے مجھ سے شادی کچھ الگ کچھ انوکھا تجربہ کرنے کی کوشش میں کی تھی۔ میں نے تو اس کے لیے پہلے قدم پر اپنے پیاروں سے دوری اختیار کی‘ اپنے گھر کو چھوڑا‘ اپنی عادتوں کو چھوڑا‘ اپنی اقدار‘ اپنی شرم و حیا کو چھوڑا اور اس نے… اس نے مجھے ہی چھوڑ دیا۔‘‘ حورین روتے روتے ہنسنے لگی۔
’’کیسا خسارے کا سودا کیا میں نے۔‘‘ برستی آنکھوں اور وحشت بھری ہنسی سے آراستہ لبوں کے ساتھ وہ کاظم کے دل کے ٹکڑے کررہی تھی۔ حورین دستگیر خالی ہاتھ‘ خاک آلود راہ گزر سے سفر پورا کر آئی تھی۔
اس کی اجڑی حالت کاظم پر قیامت بن کر گزری تھی‘ کاظم نے تو اسے خوش دیکھنا چاہا تھا۔ کوئی شکوہ زبان پر لائے بغیر اسے کسی اور کے ہاتھوں میں دے دینا آسان تو نہ تھا مگر پھر بھی اسی نے یہ پہاڑ سر کیا لیکن شاید وہ ٹھیک کہتی ہے۔
حورین دستگیر ٹھیک کہتی ہے… بعض اوقات خلوص دل سے نکلی دعائیں بھی عرش معلی پر قبولیت کا درجہ نہیں پاتی۔ کاظم بشیر کی دعا بھی مسترد کردی گئی تھی‘ شاید ربّ کی مرضی کچھ اور تھی۔
ء…/…ء
’’تمہارا باپ زندہ ہوتا تو تمہیں یوں اجاڑ ویران‘ تنہا زندگی بسر کرنے چھوڑ دیتا کیا؟‘‘ آج بشیر صاحب کے انداز میں شفقت اور مان بھری سختی تھی۔
’’میں بار بار تمہیں من مانی کرنے نہیں دوں گا‘ ایک بار اپنی کرچکی‘ اب میری مانو۔ حکم سمجھو‘ پیار سمجھو یا زبردستی‘ تنہا زندگی گزارنے نہیں دے سکتا تمہیں میں۔ شادی تمہیں کہیں نہ کہیں کرنی ہی ہے تو کیوں تمہیں خود سے دور کروں۔ دو دن بعد کاظم سے نکاح ہے تمہارا اور میں کچھ نہیں سننا چاہتا‘ تم دونوں کے سوا کون ہے ہم بڈھا بڑھیا کا۔ اچھا ہوگا کہ پرانی تکلیف دہ یادوں کو بھلانے کی کوشش کرو اور خود کو سنبھالو۔‘‘ حورین دستگیر نے ڈبڈباتی آنکھوں سے بشیر صاحب کی صورت دیکھی‘ انہوں نے بہت محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھا‘ ہلکا سا مسکرائے‘ پھر قریب آکر اس کے سر پر دستِ شفقت رکھ دیا۔
’’میری بیٹی! اپنے بڑے ابا کا مان رکھے گی نا؟‘‘ حورین دستگیر کو ایک بار پھر شدت سے اپنی کوتاہ نظری کا احساس ہوا‘ کیسے کشادہ دل لوگ تھے وہ سب۔
کسی نے اسے اس کے کٹھور رویے پر ملامت نہ کی‘ کسی نے اسے اکیلا نہ چھوڑا‘ اس کے ساتھ روئے‘ اس کے ساتھ رہے اور اب… ایک بار پھر محبت‘ مان… کیسے اٹھائے گی وہ یہ بوجھ ساری عمر۔
ء…/…ء
واقعی بعض اوقات خلوص دل سے نکلی دعائیں عرش معلی پر قبولیت کا درجہ نہیں پاتیں۔ وہ مالک کل کائنات جو ہمیں ستر مائوں سے بھی زیادہ بڑھ کر عزیز رکھتا ہے‘ اس نے ہمارے لیے ہم سے بہتر فیصلہ‘ بہتر انتخاب کر رکھا ہوتا ہے اور ہم نادان‘ کم عقل انسان اس کی حکمت کو سمجھ نہیں پاتے۔
چھ ماہ بڑی تیز سے گزر گے تھے‘ کاظم بشیر اور حورین دستگیر اور اس گھرکی رونق اور خوشیاں سب لوٹ آئی تھیں‘ شاید ہمیشہ کے لیے۔ آج کاظم نے حورین کو سرپرائز دینے کے لیے اس کی سال گرہ کا خفیہ فنکشن ارینج کر رکھا تھا۔
گہری نیند سے سوئی حورین نے نیند پوری ہونے پر کسمساتے ہوئے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو گلابوں کی تازہ روح پرور مہک میں احساسات پوری حسایت سمیت بیدار ہوئے۔ وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی‘ سارا کمرہ گلابوں کے گلدستے سے سجا تھا‘ سامنے صوفے پر براجمان کاظم کا چہرہ فرط محبت و مسرت سے چمک رہا تھا۔ سوئی ہوئی بے ترتیب حالت میں ہونق بنی حورین نے گھبرا کر دوپٹے پر ہاتھ مارا‘ حورین بُری طرح شرمانے کے ساتھ ساتھ اپنی قسمت پر نازاں‘ حیا آمیز تاثرات سجائے چہرے کے ساتھ کاظم کو ’’تھینک یو‘‘ کہہ رہی تھی اور کاظم اس کے پائوں زمین سے نہ لگ رہے تھے۔
شام کے فنکشن میں سجے دھجے دونوں کو سرشار و خوش دیکھ کر بشیر صاحب اور صغریٰ بیگم مطمئن و پرسکون ہوگئے تھے۔ حورین اور کاظم کے مسکراتے ہوئے منظر کو کیمرے کی آنکھ نے قید کیا۔ کاظم نے حورین کو برتھ ڈے گفٹ میں گلابو دیا تھا۔
اگلے مہینے تک حورین نے اس گلابو کو اپنے ہاتھوں سے کھلانا پلانا تھا‘ کاظم کا دیا تحفہ وہ اپنی خوشی سے اس بقرعید پر قربان کرنے کا سوچے بیٹھی تھی۔
’’خبردار! میں تمہیں دوسرا بکرا لادوں گا‘ وہ قربان کریں گے‘ اس گلابو کا سوچنا بھی مت۔‘‘
’’مجھے تو یہی ذبح کرنا ہے۔‘‘ حورین مصر تھی۔
’’ٹھیک ہے خود حلال کرنا‘ میں تو اپنی محبت سے لایا تحفہ ذبح نہیں کرسکتا۔‘‘ کاظم نے لال جھنڈی دکھائی۔
’’قصائی زندہ باد۔‘‘ حورین نے تنک کر کہا۔
’’قصائی کی بچی‘ ٹھہرو۔‘‘ کاظم شرارت سے اس کی طرف بڑھا‘ حورین نے فوراً تائی امی کے کمرے کی طرف چھلانگ لگائی‘ گھر ان کے قہقہوں سے گونجنے لگا۔
ء…/…ء
کاظم کا دلایا سبز جوڑا پہنے‘ کلائی میں بھربھر کانچ کی چوڑیاں پہنی حورین دستگیر نے قربانی کے لیے کپڑے بدلنے آئے کاظم کو ٹھہرنے پر مجبور کردیا‘ حورین جھینپ کر مسکرانے لگی۔
’’مجھے ہی قربان کردوگی تم۔ قربانی سے قبل…‘‘ کاظم کے انگ انگ سے شرارت پھوٹ رہی تھی۔
’’بہت کام ہے ابھی‘ جلدی کپڑے تبدیل کریں۔‘‘ حورین نے دوپٹہ کاندھے پر پھیلایا۔
’’آہ… ظالم!‘‘ کاظم نے مصنوعی آہ بھری۔ حورین مسکرا کر جانے لگی تبھی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔
’’ہیلو…‘‘ کاظم نے فون اٹھایا‘ جاتی ہوئی حورین پلٹ کر دیکھنے لگی۔ اگلی طرف کی بات سن کر کاظم کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑگیا۔
’’کیا ہوا کون ہے؟‘‘ حورین کو تشویش ہوئی۔ کاظم نے آہستگی سے فون ہولڈ پر رکھا۔
’’تمہارے لیے ہے۔‘‘ سرسری سا کہتا ہوا حورین کے برابر سے نکل گیا‘ الجھتی ہوئی حورین فون تک آئی۔
اگلی طرف عازم تھا‘ روتا گڑگڑاتا‘ معافیاں مانگتا‘ اپنی محبت کا یقین دلاتا‘ قسمیں کھاتا‘ حورین سناٹے میں آگئی۔ کپڑے بدل کر کاظم کمرے میں آیا تو حورین آئینے کے سامنے کھڑی ہونٹوں پر لپ اسٹک لگارہی تھی۔ کاظم کے بجھے بجھے چہرے کو دیکھ کر بھرپور انداز میں مسکرائی۔
’’مومن! ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا‘ سمجھے؟‘‘ کمرے سے نکلتے ہوئے کاظم کے پاس ٹھہر کر کہتی حورین نے کاظم کے چہرے کو پھر سے روشن کردیا تھا۔ کاظم گہری ٹھنڈی تشکر بھری سانس بھر کر کھل کر مسکرایا اور قربانی کے لیے چل دیا۔ حورین کو سچے رشتوں‘ سچی محبتوں کی پہچان دیر سے سہی مگر ہو ہی گئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close