Aanchal Oct 15

ٹوٹا ہوا تارا(قسط نمبر35)

سمیرا شریف طور

وہ خواب تھا بکھرگیا‘ خیال تھا ملا نہیں
مگر دل کو کیا ہوا‘ یہ کیوں بجھا پتا نہیں
ہر اک دن اداس دن‘ تمام شب اداسیاں
کسی سے کیا بچھڑ گئے‘ جیسے کچھ بچا نہیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
حیات علی اپنے والد کو دوسری شادی سے آگاہ کرتے زیب النساء کو بہو تسلیم کرنے کا کہتے ہیں جس پر چوہدری سراج علی اشتعال کا شکار ہوکر حیات علی کو جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ولید انا کے سیل فون پر آنے والی تمام کال کی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ماموں اور سہیل ابوبکر سے بات کرنے کے بعد ہادیہ کے والدکو ابوبکر کا رشتہ دیتے انہیں ہادیہ کی پسند سے بھی آگاہ کردیتے ہیں۔ رابعہ ہادیہ کو ابوبکر کا نمبر دے کر اس سے بات کرنے کو کہتی ہے۔ شہوار ماں جی کے اصرار پر دریہ کے ساتھ شاپنگ کے لیے آجاتی ہے۔ ایاز جو کافی دنوں سے موقع کی تلاش میں تھا۔ اب شہوار کو شاپنگ مال میں دیکھ کر اس کے اندر کی شیطانیت ایک بار پھر جوش مارتی ہے اور اسے دریہ اور شہوار کے رویے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ شہوار مجبوراً اس کے ساتھ آئی ہے۔ صبوحی بیگم بوتیک سے جلدی فارغ ہونے کے بعد احسن کو فون کرتی ہیں تاکہ وہ انہیں پک کرتا ہوا گھر ڈراپ کردے مگر آفس میں ضروری کام کے باعث احسن معذرت کرلیتا ہے اور ولید کو کال کرکے صبوحی بیگم کو گھر لے جانے کے لیے کہتا ہے‘ ولید ذہنی الجھن کا شکار تھا۔ شہوار کو شاپنگ مال میں اپنا کلاس فیلو ہاشم مل جاتا ہے۔ ایاز کے شیطانی دماغ میں ایک خیال آتا ہے اور وہ اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے دریہ کو اپنے اعتماد میں لے کر دریہ کو اپنا کارڈ دیتا ہے۔ دریہ شہوار کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے ایاز کے منصوبہ پر عمل کرتی ہے وہ اس بات پر خوش ہوتی ہے کہ شہوار کو جلد راستے سے ہٹاکر وہ مصطفی کو حاصل کرلے گی۔ چوہدری حیات علی باپ کی دھمکیوں کی پروا کیے بغیر اپنی حویلی چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے زیبن کے پاس آجاتے ہیں۔ دوسری طرف ولید کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے صبوحی بیگم بھی ہمراہ تھیں مگر انہیں زیادہ چوٹیں نہیں آتیں جب کہ ولید زندگی اور موت کی درمیان جنگ لڑرہا ہوتا ہے اور انا پتھرائی نظروں سے یہ سب کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔ مصطفی کو موبائل پر ایک تصویر موصول ہوتی ہے جس کو دیکھ کر وہ ششدر رہ جاتا ہے وہ شہوار سے ناراض ہوکر گھر سے نکل جاتا ہے اور دریہ یہ منظر دیکھ کر شہوار کا تمسخر اڑاتی ہے اور شہوار پریشان ہوکر بار بار مصطفی کو کال کرتی رہتی ہے۔ چوہدری سراج علی اپنے اکلوتے بیٹے چوہدری حیات علی کو حویلی لے جانے کے لیے آتے ہیں۔ حیات علی کا چھوٹا بیٹا باپ کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے بیمار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے حیات علی حویلی جانے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ چوہدری سراج علی اپنی بچھائی ہوئی بساط کے حساب سے حیات علی کو استعمال کرتے ہیں اور انہیں زیب النساء کو قبول کرنے کی خوش خبری کے ساتھ کینیڈا جانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ کینیڈا جانے سے پہلے حیات علی بخشو کو ایک خطیر رقم زیب النساء کو پہنچانے کی ہدایت دیتے ہیں حیات علی نے سوچا کہ ایک ماہ جسے تیسے گزار لوں گا لیکن اب قسمت ان کے ساتھ ایک نیا کھیل کھیلنے والی تھی۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
مہرالنساء کے گھر پر مامور چوکیدار سے زیب النساء کو حیات علی کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ فوراً واپس آئی تھی لیکن حیات علی جاچکے تھے۔ وہ واپس بہن کے ہاں جانے کی بجائے وہیں رک گئی تھی۔
دو دن گزرے تو بخش دین چلا آیا تھا‘ پیسوں کا ایک لفافہ دے کر اس نے جو پیغام دیا اسے سن کر تو زیب النساء کے حواس گم ہونے لگے تھے۔
’’چوہدری صاحب اپنے بیوی بچوں سمیت بیرون ملک چلے گئے ہیں‘ یہ رقم آپ تک پہنچانے کا کہا تھا۔‘‘
’’کب گئے؟‘‘ گم حواسوں کو بمشکل یکجا کرتے اس نے پوچھا۔
’’ایک دن پہلے‘ انہوں نے پیغام بھی دیا تھا کہ وہ جلد ازجلد واپس پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ مجھے ایک عدد چوکیدار رکھنے کا کہہ کر گئے تھے اور یہ بھی کہا تھاکہ اپنے باپ سے ہوشیار رہیے گا۔ اگر کوئی خطرہ محسوس کریں تو اپنی بہن کے ہاں چلی جایئے گا۔‘‘ زیب النساء کو لگ رہا تھا کہ جیسے یہ سن کر اس کے قدموں تلے سے جان نکلتی جارہی ہے۔
’’وہ واپس کب آئیں گے؟‘‘
’’ایک ماہ کا قیام ہے وہاں‘ اس سے زیادہ مجھے علم نہیں۔‘‘ زیب النساء جیسے بالکل ڈھے گئی تھی۔ نجانے کیوں دل کو عجیب وسوسوں نے گھیر لیا تھا۔
وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی‘ ملازمہ موجود تھی۔ شام تک بخش دین وہاں رہا تھا‘ اس نے باہر کے کاموں کے لیے ایک نو عمر لڑکے کا انتظام کردیا تھا۔ بخش دین چلا گیا تو زیب النساء کا پریشانی سے بُرا حال ہونے لگا۔ ملازمہ نے بتایا تھا اس کی غیر موجودگی میں صفدر کئی بار اس کے گھر آیا تھا اور بُرا بھلا کہتے دھمکیاں دیتے چلا گیا تھا۔ اگلی صبح سویرے صفدر پھر آٹپکا تھا۔
’’سامان سمیٹ اور چل میرے ساتھ‘ دھوکے سے نکاح کرلیا اس چوہدری سے تو میں نمٹ لوں گا۔‘‘ وہ پھر شور مچا رہا تھا۔
’’ابا! اماں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا کوئی دھوکہ نہیں دیا‘ آپ اس قابل ہوتے تو رونا ہی کیا تھا۔ آپ نے تو مجھے اپنے جوئے کی خاطر بیچ ڈالا تھا‘ اب کیا لینے آئے ہیں۔‘‘
’’زیادہ زبان نہ چلا‘ اگر وہ چوہدری کسی قابل ہوتا تو واپس پلٹتا‘ ساری خبر ہے مجھے مہینوں وہ تیری خبر نہیں لیتا۔‘‘ وہ کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’وہ ایک بڑے خاندانی زمیندار ہیں‘ ہزار کام ہوتے ہیں ان کے‘ ہر وقت ادھر نہیں رہ سکتے۔‘‘ زیبن نے چوہدری حیات علی کا دفاع کیا۔
’’تو تجھے اپنے ساتھ رکھ تو سکتا ہے نا؟‘‘ صفدر نے جرح کی‘ زیب النساء کے دل پر گویا آری سی چلی تھی اس نے بے بسی سے باپ کو دیکھا۔ وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹنے کو تھی۔
’’یہ گھر کس کے نام ہے؟‘‘ گھر کو تاڑتے صفدر نے پوچھا تو وہ رک گئی۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘ وہ چڑ گئی‘ وہ باپ کی لالچی فطرت سے اچھی طرح واقف تھی۔
آج کل اس کی جو حالت تھی اس کے سبب وہ ویسے ہی بہت چڑچڑی ہورہی تھی لیکن بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ باپ کو جھیل رہی تھی۔
’’تو پھر تجھے پتا کیا ہے؟ کچھ خرچہ ورچہ بھی دیتا دلاتا ہے یا پھر خالی خولی نکاح کے نام پر بٹھا رکھا ہے۔‘‘ زیبن نے بڑے ضبط سے دیکھا اور پھر بغیر کوئی جواب دیئے وہ کمرے میں چلی گئی تھی۔ صفدر بڑی سوچتی نگاہوں سے گھر کو دیکھتے ارد گرد چکر لگانے لگا تھا۔
ء…/…ء
شہوار اسپتال ماں جی کے ساتھ آئی تھی‘ مصطفی ڈاکٹرز کے پاس تھا۔ صبوحی بیگم کو ہوش آچکا تھا جبکہ ولید ابھی بھی انڈر آبزرویشن تھا۔ انا شہوار کے گلے لگ کر شدت سے رو رہی تھی۔
’’اگر ولی کو کچھ ہوگیا تو میں بھی مرجائوں گی۔‘‘ اس کے الفاظ پر شہوار ساکت ہوئی‘ اتنی شدت‘ اتنی جذباتیت۔ سبھی ویٹنگ روم میں تھے جبکہ وہ انا کے ساتھ صبوحی بیگم کے کمرے میں تھیں۔
’’ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘ بس تم دعا کرو۔‘‘ شہوار تسلی دے رہی تھی‘ جبکہ اس کا دل خود بھی بہت غم زدہ تھا۔
کچھ دیر بعد روشی اور احسن آگئے تھے‘ ساتھ ضیاء صاحب بھی تھے۔ ڈاکٹرز کی طرف سے ولید کے لیے ابھی بھی وہی جواب تھا‘ مصطفی بہت پرپشان تھا۔ مصطفی وقار صاحب کے ہمراہ صبوحی بیگم کے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں مہرالنساء اور شہوار کو موجود پاکر رک گیا تھا‘ انا کا کندھا تھپتھپاتے شہوار نے بھی مصطفی کو دیکھا تھا۔
’’آپ دونوں کس کے ساتھ آئیں؟‘‘ قریب آکر اس نے ماں جی سے پوچھا۔
’’شہوار آنا چاہ رہی تھی تو ڈرائیور چھوڑ گیا تھا۔‘‘
’’آپ ساری رات کی تھکی ہوئی تھیں آرام کرلیتیں کسی اور کو ہمراہ لے کر شہوار آجاتی۔‘‘ مصطفی نے کہا‘ شہوار انا سے جدا ہوکر قریب آئی۔
’’میں رات سے کالز کررہی ہوں آپ پک ہی نہیں کررہے۔‘‘ انداز میں خفگی تھی۔
’’ادھر اتنی ٹینشن تھی‘ بزی تھا۔‘‘ مصطفی نے سنجیدگی سے شہوار کو دیکھتے کہا۔
’’لیکن میسج کا ریپلائی تو کرسکتے تھے نا؟‘‘
’’میں نے ابھی تک کوئی بھی میسج نہیں دیکھا۔‘‘ مصطفی نے کہا اور پھر احسن کے پکارنے پر پلٹ گیا تھا۔ رات کی طرح مصطفی کا انداز خفا نہیں تھا تاہم سنجیدگی برقرار تھی۔
شہوار کے اندر کچھ سکون سا اترا تھا‘ صبح ہوتے ہی ڈاکٹر کے ڈیوٹی آورز شروع ہوچکے تھے۔ صبوحی بیگم ہوش میں تھیں بات بھی کررہی تھیں۔ ان کی طرف سے دل کو کچھ تسلی ہوئی تو توجہ اور پریشانی کا مرکز ولید کی ذات بن گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا سب کو لگ رہا تھا کہ گویا زندگی روٹھتی جارہی ہے۔
’’شہوار آپ ایسا کریں انا کو سمجھا بجھا کر گھر لے جائیں‘ روشی ماما کے پاس رک جاتی ہے۔ پاپا کو بھی آرام کی ضرورت ہے‘ جیسے ہی ڈاکٹرز کی طرف سے کوئی اچھی خبر ملتی ہے ہم آپ کو اطلاع کردیں گے۔‘‘ احسن نے کہا تو شہوار نے سر ہلا دیا تھا۔
انا گھر جانے پر آمادہ نہ تھی لیکن سب کے اصرار پر وقار صاحب اور شہوار کے ساتھ آگئی تھی۔ مہرالنساء ڈرائیور کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی تھیں۔ انا کو شہوار کے سہارے کی ضرورت تھی‘ سو اسے اس کے ساتھ جانے دیا گیا تھا۔ گھر آکر صغراں سے چائے بنوا کر شہوار نے زبردستی انا کو پلائی۔وقار صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ ناشتا کرنے سے انہوں نے بھی منع کردیا تھا‘ عجیب افسردہ سا ماحول تھا۔ شہوار واپس انا کے پاس اس کے کمرے میں آگئی تو وہ قالین پر بیٹھی شدت سے رو رہی تھی۔
’’انا…؟‘‘ شہوار نے اس کا کندھا تھامنا چاہا تو وہ اس کے ساتھ لپٹ کر شدت سے رو دی تھی۔
’’محبت پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا‘ اگر ہوتا تو شاید میں ولید ضیاء سے کبھی محبت نہ کرتی۔‘‘ انا نے روتے ہوئے کہا اور شہوار ایک دم گم صم سی ہوگئی تھی۔
’’میں نے ولی کو دل کی تمام تر گہرائیوں سے چاہا تھا‘ پاگل پن کی حد تک۔ ولی کی طرف نگاہ اٹھتی تھی تو اپنا آپ بھول جاتی تھی میں۔‘‘ وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی‘ شہوار نے دھیرے سے اسے خود سے جدا کیا۔
’’اگر یہ سب تھا تو تم نے یہ منگنی کیوں ختم کی‘ یہ حماد کہاں سے آگیا تھا تم دونوں کے درمیان۔‘‘ شہوار کی حیرت سوا ہوئی تھی۔
’’بالکل اسی طرح جس طرح کاشفہ میرے اور ولی کے درمیان آگئی تھی۔‘‘ شہوار کاشفہ کے نام پر ایک دم چونکی تھی۔
’’کون کاشفہ؟‘‘
’’ایک بار ولی کی کار سے اس لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا پھر دونوں ملنے لگے وہ لڑکی ولید کو پسند کرنے لگی اور میں سمجھتی رہی کہ ولید میرے ساتھ ساتھ اس لڑکی کو بھی دھوکہ دے رہا ہے۔‘‘ اپنی ہچکیوں پر قابو پاتے سر جھکائے اس نے مزید بتایا۔
’’اس لڑکی نے ولید کی خاطر خودکشی کی کوشش کی تھی…‘‘ شہوار الجھ گئی تھی۔
’’وہ مجھے کالز کرتی اور بہت کچھ کہتی رہتی‘ میں سمجھتی رہی کہ ولید بھی اس لڑکی میں انوالو ہے۔ میری سب سے بڑی غَطی یہ تھی کہ میں ولید سے پاگل پن کی حد تک محبت کرتی تھی اور محبت کے ساتھ اس کی پرچھائی بھی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ میں بد اعتمادی کا شکار ہوئی اور میرا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ میں نے ولید ضیاء سے محبت تو کرلی تھی لیکن کبھی اعتبار نہ کرسکی۔‘‘ وہ کہہ کر اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھر شدت سے رو دی۔
’’میں سمجھتی رہی کہ ولید مجھے دھوکہ دے رہا ہے‘ میں ولید سے الجھتی تھی لڑتی تھی۔ میرے جذبات نے مجھے عجیب پاگل سا بنادیا تھا‘ میں نے اپنے ہاتھوں سے ولید کو خود سے بدظن کردیا۔‘‘
’’جب یہ سب کچھ تھا تو پھر یہ فاصلے کیسے آگئے تم دونوں میں‘ جہاں تک میں جان پائی ہوں ولی بھائی ایک بہت ہی ڈیسنٹ اور مخلص انسان ہیں‘ تم نے اتنی بڑی زیادتی کردی ان کے ساتھ۔‘‘ شہوار کو یہ سب سن کر اور انا کی حالت دیکھ کر ازحد تاسف ہورہا تھا۔
’’میری بیوقوفی‘ کم عقلی اور میرا جنون مجھے لے ڈوبا۔ میں ولید کی محبت‘ اس کے رویوں کو شک کی نگاہ سے تولتی رہی‘ کبھی کاشفہ اور کبھی کیتھی کو لے کر بدظن ہوتی رہی۔‘‘ وقت انا کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ اب پچھتاوے اس کے ساتھ تھے‘ صرف پچھتاوے۔ وہ پچھتائووں کے سمندر میں غرق خود احتسابی کے عمل سے گزر رہی تھی۔
’’لیکن میں نے بس یہی چاہا تھا کہ ولی کو کچھ بھی نہ ہو‘ کسی کو بھی کچھ نہ ہو۔ کاشفہ مجھے دھمکیاں دیتی رہی اور میں سب سمجھتے بوجھتے اس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتی گئی۔‘‘ شہوار نے اسے حیرت سے دیکھا‘ نجانے یہ کاشفہ کون تھی اور اس کی کیا کہانی تھی؟
انا اسے بہت عزیز تھی لیکن اسے گمان تک نہ تھا کہ انا کی زندگی میں اتنا کچھ ہوگیا وہ بھی محض کسی اور لڑکی اور ایک شک کی وجہ سے۔ شہوار نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور انا اس کے دل پر منوں کے حساب سے بوجھ لدا ہوا تھا وہ ایک ایک کرکے سب کچھ بتاتی چلی گئی اور شہوار حیرت سے گنگ انا کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سنتی رہی تھی۔
ء…/…ء
صفدر سانپ کی طرح اس کے گھر میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا زیبن ایک طرح سے گھر میں قید ہوکر رہ گئی تھی۔ بخش دین جس لڑکے کا بندوبست کرکے گیا تھا وہ اسے فارغ کرچکا تھا‘ ملازمہ پر اس کی کڑی نظر تھی۔ کئی بار وہ زیبن کے کمرے اور پورے گھر کی تلاشی لے چکا تھا‘ پیسے کی ہوس نے اسے اندھا بنا رکھا تھا‘ زیبن گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی۔
اس کی ڈلیوری کے دن جوں جوں نزدیک آتے جارہے تھے ویسے ویسے ہی وہ زندگی سے بے زار حالات میں جکڑی بالکل بے بس ہوتی جارہی تھی۔ ایسے میں بابا صاحب کی آمد کسی صدمے سے کم نہ تھی۔
’’حیات علی کو ہم نے باہر بھجوادیا ہے اور ہم ایسے حالات پیدا کررہے ہیں کہ وہ اب اگلے تین سال تک پاکستان نہیں آسکے گا۔ تم جیسی لڑکیوں سے اپنے بچوں کی جان کیسے چھڑوائی جاتی ہے ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘ وہ دولت و جاگیر کے نشے میں چُور کہہ رہے تھے اور زیبن حیرت میں گم ان کو سن رہی تھی۔
’’جاگیرداروں کے بیٹے جوانی کے جوش میں ایسی غلطیاں کرتے رہتے ہیں‘ تمہاری حیثیت ہمارے نزدیک اس بازاری لڑکی سے زیادہ نہیں جو پیسے کی خاطر اپنا آپ کو بیچ دیتی ہے۔‘‘ وہ اسے ذلیل کررہے تھے اور زیبن کے اندر گویا پل پل زندگی کی رمق ختم ہوتی جارہی تھی۔
’’ایک دو دن کے اندر یہ گھر خالی کرکے نکل جائو تم یہاں سے ورنہ میرے ملازم خود آکر تمہیں یہاں سے ذلیل کرکے باہر نکال پھینکیں گے۔‘‘ زیبن کا دل ایک دم کانپا تھا۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے خاموش تماشا دیکھتے باپ کو دیکھا۔
’’ایسے کیسے نکل جائیں تمہارا بیٹا نکاح کرکے لایا تھا اسے۔‘‘ صفدر درمیان میں کودا تو پہلی بار باپ کی موجودگی سے زیبن کے اندر کچھ تسلی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔
’’کون ہو تم؟‘‘
’’باپ ہوں اس کا۔‘‘
’’اوہ…‘‘ بابا صاحب نے بغور دیکھا۔ ایک چالاک اور عیار شخص جیسی چمک آنکھوں میں لیے وہ بغور دیکھ رہا تھا۔
’’تو پھر ٹھیک ہے میرے بندے تم لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔‘‘ بابا صاحب نے ڈرانا چاہا تھا۔
’’میں پولیس میں رپورٹ لکھوائوں گا‘ کورٹ میں مقدمہ کردوں گا۔‘‘ صفدر چیخ کر بولا‘ تبھی بابا صاحب نے اپنے ملازمین کو آواز دی‘ وہ اندر آگئے تھے۔
’’دو دن تم لوگ اس گھر کے سامنے پہرہ دو گے اگر ان لوگوں نے گھر خالی کردیا تو ٹھیک ورنہ اٹھا کر سامان سمیت باہر پھینک دینا۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئے تھے۔ پیچھے صفدر چیختا چلاتا رہا لیکن کوئی اثر نہ تھا۔ باہر گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی تو صفدر باہر بھاگا‘ ابھی گاڑی روانہ نہیں ہوئی تھی۔ بابا صاحب نے سنجیدگی سے صفدر کو کھڑکی کے پاس آکر ہاتھ جوڑ کر کچھ کہتے دیکھا تو تلخی سے مسکرائے۔
ء…/…ء
ایک ماہ گزرنے میں ابھی کچھ دن باقی تھے‘ حیات علی نے گھر فون کیا۔ بابا صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے انہیں دو ماہ مزید رکنے کو کہا۔ حیات علی پہلے ہی بڑی مشکل سے ایک ماہ گزار پائے تھے‘ بابا صاحب کا یہ حکم بہت گراں گزرا تھا۔ انہوں نے احتجاج کرنا چاہا لیکن بابا صاحب کے دو ٹوک انداز کے سامنے بالکل بے بس ہوگئے تھے۔
بابا صاحب سے بات کرنے کے بعد حیات علی ازحد فکر مند تھے۔ زیبن جس حالت میں تھی ایسے میں اس کے پاس ایک ہمدرد ایک خیال رکھنے والے ساتھی کی ضرورت تھی۔ یہاں آنے سے پہلے وہ اس سے مل بھی نہیں سکے تھے‘ ملازمہ کی زبانی اس کے باپ کی آمد پھر بہن کے ہاں زیبن کے چلے جانے کا سن کر دل اور بھی پریشان تھا۔ نجانے کس حالت میں تھی وہ جو بہن کے ہاں چلی گئی تھی۔ وہ تو دن گن گن کر یہ وقت گزار رہے تھے لیکن اب بابا صاحب کا یہ حکم‘ انہوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ زبیدہ کا بھائی ان کے قیام کی مدت بڑھا دے گا وہ آرام و سکون سے بیوی بچوں سمیت وہاں رہ لیں۔
دو ماہ اور رکنا ایک عذاب لگ رہا تھا‘ انہوں نے زبیدہ سے بات کی تو زبیدہ نے بھی انکار کردیا تھا۔
’’میں ابھی رکنا چاہتی ہوں‘ بھائی صاحب بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم یہاں کچھ عرصہ مزید قیام کریں۔‘‘
’’تم اور بچے رکنا چاہتے ہو تو ضرور رکو مگر میں نہیں رکوں گا میں اب جلد ہی واپس جائوں گا۔‘‘ وہ سختی سے کہہ کر وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ ان کے دل میں عجیب عجیب سے وسوسے پیدا ہورہے تھے۔
زیبن کو اس حالت میں چھوڑ کر آنے پر ان کا دل مسلسل ملامت کررہا تھا۔ زبیدہ ابھی واپس آنے پر راضی نہ تھی‘ وہ اپنی واپسی کی تیاریوں میں لگ گئے تھے۔ اس دن بھی وہ ایمبسی میں گئے تھے‘ واپسی پر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے جب مخالف سمت سے آتی تیز رفتار گاڑی ان کو کچل کر بھاگ گئی تھی۔
ء…/…ء
وہ ان دونوں کے ہمراہ جس جگہ آئی تھی وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ ان کے ہمراہ چلتی وہ ایک کمرے میں آگئی تھیں‘ انا کو رہ رہ کر اپنے فیصلے پر پچھتاوے کا احساس ہورہا تھا کہ اسے ان دونوں کے ہمراہ نہیں آنا چاہیے تھا۔
ولید کی طرف سے بدگمانی اور شکوک نے گویا اس کے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں سلب کردی تھیں لیکن یہاں آنے کے بعد اسے ان دونوں لڑکیوں کے تیور اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ وہ ان کے ساتھ جیسے ہی ایک کمرے میں داخل ہوئی‘ کاشفہ اور اس کے ساتھ موجود دوسری لڑکی نے اس کے ہاتھ سے بکس اور بیگ لے لیا تھا۔
’’یہ تم کیا کررہی ہو؟‘‘ وہ حیران ہوئی تھی۔
’’تم ہماری مہمان ہو‘ آرام و سکون سے بیٹھ جائو۔ چائے منگواتی ہوں وہ پیو اور ہماری بات سنو۔‘‘ کاشفہ نے اسے کندھے سے پکڑ کر بستر کے کنارے دھکا دے کر بٹھادیا تھا۔ اس نے اس کا بیگ لے لیا وہ اس کی تلاشی لے رہی تھی اور پھر ایک کونے سے موبائل نکال کر اس نے اس کے سامنے سوئچ آف کیا تھا۔ انا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
’’یہ تم کیا کررہی ہو؟‘‘ کاشفہ مسکرائی تھی۔
اس کا دماغ اب تیزی سے سوچ رہا تھا اور جو حقیقت سامنے آرہی تھی وہ یہ تھی کہ ان دونوں لڑکیوں کے ہاتھوں دھوکا کھا چکی ہے اور اب نجانے کاشفہ کیا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا‘ وہ ایک دم اپنا چکراتا سر تھام کر بے یقینی سے انہیں دیکھتی بستر کے کنارے ٹک گئی تھی۔
’’ارے ہم نے تو ابھی کچھ کہا ہی نہیں تم ابھی سے ہمت ہار گئی۔‘‘ کاشفہ نے طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وہ جو پہلے ہی نڈھال سی تھی ایک دم بے دم سی ہوگئی تھی۔ اس کی ذہن کی سطح پر لگنے والا یہ صدمہ اسے بالکل مفلوج کرچکا تھا۔
’’کیا چاہتی ہو تم؟‘‘ انا کی آواز لرز رہی تھی۔
’’ولید کو؟‘‘ وہ گھٹیا انداز میں ہنسی تھی۔ انا کے اندر جیسے بہت کچھ ٹوٹا تھا۔
’’تو مجھے یہاں کیوں لائی ہو تم؟‘‘ وہ اذیت سے چیخی تھی۔
’’اپنی تصحیح کرلو‘ میں لائی نہیں تم خود اپنی مرضی سے چل کر آئی ہو۔‘‘ انا کو لگا اس کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے ہوں۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’تم دونوں مجھے دھوکے سے ساتھ لائی ہو‘ تم بات کرنا چاہتی تھی میں تمہاری بات سننے کے لیے ساتھ آئی تھی۔‘‘ کاشفہ ہنسنے لگی تھی۔
’’ہاں تو بات ہی کریں گے۔‘‘ ہنسی روک کر اس نے کہا تھا۔
’’لیکن اب مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی‘ جارہی ہوں میں۔‘‘ انا کاشفہ کے تیور دیکھ کر سمجھ چکی تھی۔ وہ بے یقینی کے سحر سے نکلی تو ایک دم اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی تھی۔
کاشفہ نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا رستہ روکا تھا اور کاشفہ کی دوست نے دروازہ لاک کردیا تھا۔ انا کے لیے یہ سب ناقابل یقین تھا۔
’’اب تم ہماری قید میں ہو اور تم تب تک یہاں سے نہیں نکل سکتیں جب تک میں نہیں چاہوں گی۔‘‘ کاشفہ کا لب و لہجہ کسی بھی قسم کے احساس سے عاری تھا‘ انا کو لگا کہ جیسے کمرے کی چھت اس کے سر پر آگری ہے۔
’’یو بلڈی… ‘‘ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’تم لوگوں نے مجھے چیٹ کیا‘ دھوکے سے یہاں لائیں۔‘‘ وہ ایک دم تمام تر لحاظ و مروت بھلا کر پھٹ پڑی تھی۔
’’یو شٹ اپ…‘‘ کاشفہ نے انگلی اٹھا کر ایک دم چپ کروایا تھا۔
’’تم نے ایک لفظ بھی مزید کہا تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گی‘ مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہو ذرا سی بھی بکواس کی تو جان سے ماردوں گی۔‘‘ کاشفہ نے اپنے بیگ سے چاقو نکال کر انا کے سامنے لہرایا تھا۔ انا کا سانس ایک دم رکنے لگا تھا۔
’’آرام سے بیٹھ جائو۔‘‘ چاقو کے اشارے سے اس نے اسے بستر کی طرف دھکیلا تھا‘ انا بستر کے کنارے گر گئی تھی۔
’’میں ولید سے محبت کرتی ہوں اور تم اس بات سے اچھی طرح واقف بھی ہو۔‘‘ اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کاشفہ نے کہنا شروع کیا تھا۔
’’لیکن تم یہ نہیں جانتیں کہ ولید مجھ سے محبت کرتا ہے۔‘‘ دونوں کے چہرے کے زاویے بدلے تھے۔
’’مجھے ولید پہلی نگاہ سے ہی اچھا لگا تھا اور میں نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہو مجھے اس شخص کو حاصل کرنا ہے اور پھر میں نے اس کے لیے کوشش شروع کردی۔‘‘ وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی انا نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’ولید جتنا شاندار تھا میرے لیے اتنا ہی مشکل مرد ثابت ہوا‘ میں کاشفہ جو لڑکوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتی تھی وہ ولید ضیاء کو نہ اپنے حسن کے جال میں جکڑ سکی اور نہ ہی اپنی ادائوں سے۔ ولید سے دوستی میں زیادہ تر ہاتھ میرا تھا اور وہ مروت میں میری طرف بڑھتا رہا۔ میں سمجھتی رہی کہ ایک دن ضرور میں اسے حاصل کرلوں گی لیکن پھر تم درمیان میں آگئیں۔‘‘ اس نے کہتے کہتے نفرت سے انا کو دیکھا تھا۔
’’تم نے مجھے بتایا کہ تم اس کی فیانسی ہو میں یقین کرنے کو تیار ہی نہ تھی۔ میں نے ولید کے لیے کیا کچھ جتن کیا حتیٰ کہ اسے قائل کرنے کے لیے خودکشی تک کی کوشش کی لیکن وہ اب مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے۔ وہ کہتا ہے میرا اور تمہارا کوئی مقابلہ نہیں لیکن میں اب اسے بتائوں گی اگر کاشفہ کو اس کی من پسند چیز نہ ملے تو وہ کیا کچھ کرسکتی ہے۔‘‘
’’اور وہ سب جو تم اپنے اور ولید کے تعلق کے بارے میں بتاتی رہیں وہ سب کیا تھا؟‘‘ کاشفہ کے الفاظ سن کر انا کا غم سے بُرا حال تھا۔ اس نے بے یقینی سے پوچھا تو کاشفہ مسکرائی تھی۔
’’وہ سب جھوٹ تھا‘ میرا اور ولید کا ایسا کوئی بھی تعلق نہ تھا میرا مقصد تمہیں ولید سے بدظن کرکے دور کرنے کا تھا۔‘‘ انا کا جی چاہا اپنے آپ کو شوٹ کرلے۔ وہ ایک کم عقل‘ احمق اور بے وقوف لڑکی ثابت ہوئی تھی۔ اپنی بداعتمادی اور شکی طبیعت کے باعث نہ صرف خود عذاب میں مبتلا رہی تھی بلکہ ولید کی زندگی بھی اجیرن کرچکی تھی۔ اس کا جی چاہا پھوٹ پھوٹ کر روئے۔
’’تو اب کیوں بتا رہی ہو تم؟‘‘ انا کا جی چاہ رہا تھا کہ اپنے سامنے کھڑی لڑکی سمیت وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے۔
’’میں ولید کے سامنے ہر طرح کا حربہ آزما چکی ہوں‘ وہ اب میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا لیکن اب مجھے اسے حاصل کرنا ہے یہ اب میری ضد ہے اور تم مجھے ولید تک پہنچائو گی میرے اور اس کے درمیان راہ ہموار کروگی۔‘‘ کاشفہ نے سفاکیت کی انتہا کردی تھی۔
’’تمہارا کیا خیال ہے تمہاری یہ ساری بکواس سننے کے بعد میں تمہارا ساتھ دوں گی؟‘‘ انا کے لہجے میں نفرت تھی‘ کاشفہ مسکرائی تھی۔
’’بالکل… تمہیں ہرحال میں میرا ساتھ دینا ہوگا‘ تم ہمارے ساتھ آکر اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مار چکی ہو اور جب تک ہمارے درمیان معاملات طے نہیں ہوں گے تم یہاں سے نہیں نکل سکتیں۔‘‘ ہاتھ میں تھاما چاقو انا کے سامنے کرتے اس نے کہا تو انا کے اندر ایک دم غم و غصے کا شدید طوفان اٹھا تھا۔ اس نے کھینچ کر اپنا ہاتھ کاشفہ کے چاقو والے ہاتھ پر مارا تھا‘ چاقو دور جاگرا تھا۔ کاشفہ کو دھکا دے کر اپنا بیگ جھپٹ کر انا تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ اسے اب ہرحال میں یہاں سے نکلنا تھا لیکن دروازہ لاک تھا تب تک کاشفہ اور اس کی دوست دونوں سنبھل چکی تھیں۔ کاشفہ نے دوبارہ چاقو تھام لیا تھا‘ انا زور زور سے لاک گھما رہی تھی۔
’’یو بلڈی… تم یہاں سے بھاگو گی‘ میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔‘‘ کاشفہ پاگلوں کی طرح غراتے انا کی طرف بڑھی تھی۔
ء…/…ء
صفدر کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی چڑھی ہوئی تھی‘ وہ بابا صاحب سے ملا تھا۔ نجانے کیا معاملات طے کیے تھے کہ زیب النساء کے چیخنے چلانے کے باوجود اس نے ملازمہ کو فارغ کردیا تھا اور پھر زیبن کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر ایک اور جگہ چلا آیا تھا۔
’’ابا یہ ظلم مت کرو‘ میری حالت دیکھو میں کہاں خوار ہوتی رہوں گی‘ وہ میرے شوہر کا گھر تھا۔ میرا شوہر مجھے یہاں لایا تھا کیوں ظلم کررہے ہو۔‘‘ باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روتی زیبن صفدر کا دل نہیں پگھلا سکی تھی۔
’’تیری ماں مرتے مرتے میرے ساتھ تو نیکی کر گئی ہے‘ بڑا پیسہ ہے اس چوہدری کے پاس اب دیکھو میں کیسے پیسہ نکلواتا ہوں۔‘‘ بیٹی کے رونے دھونے کا کوئی اثر ہی نہ تھا‘ زیبن نے سر ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔
وہ اسے تھوڑا بہت کھانے کا سامان دے کر گھر میں بند کرکے چلا گیا تھا‘ زندگی میں پہلی بار زیب النساء اس رات خوف زدہ ہوئی تھی اور پھر آنے والے لگا تار تین چار دن تک صفدر نے گھر کی راہ نہ دیکھی تو زیبن کو اپنے ساتھ ساتھ اپنے اندر پلتی جان کی فکر بھی ستانے لگی۔
گھر میں صفدر کھانے پینے کو جو چھوڑ کر گیا تھا وہ سب ختم ہوچکا تھا۔ کل سے وہ بس پانی پر گزارہ کررہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر اسی طرح وہ بھوک سے نڈھال لڑتی رہی تو وہ مرجائے گی‘ وہ بس ہر وقت رو رو کر اللہ سے صفدر کے آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی اور پھر پانچویں دن صفدر چلا آیا تھا۔ برآمدے کے ننگے فرش پر بے ہوش زیب النساء کو دیکھ کر وہ ایک پل کو ٹھٹکا تھا۔
اسے بابا صاحب کے ساتھ کی گئی ساز باز پانی میں ڈوبتی محسوس ہونے لگی۔ وہ بابا صاحب کو بلیک میل کرکے بہت سارا پیسہ نکلوانا چاہتا تھا ایسے عالم میں زیبن کا زندہ رہنا لازمی تھا۔ جیسے تیسے کرکے اس نے زیبن کو چارپائی پر لٹایا تھا اور خود ڈاکٹر کو بلانے چل دیا تھا‘ بھوک نقاہت‘ خوف اور صدمے نے زیب النساء کو نیم جان کردیا تھا۔ وہ زندہ تھی بس اللہ کا ہی کرم تھا۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کیا‘ دوائیاں لکھیں‘ مناسب خوراک اور دیکھ بھال کی تلقین کرتا چلا گیا تو صفدر زیب النساء کی تیمارداری میں لگ گیا تھا۔ کچھ دنوں میں اس کی حالت بہتر ہوئی‘ وہ اب اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوگئی تھی۔
’’ابا کیوں کررہے ہو یہ سب؟‘‘ اگلے دن صفدر کھانے پینے کا کافی سارا سامان رکھ کر پھر کہیں جانے لگا تو خوف سے لرزتی زیب النساء سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
’’تو تیرا کیا خیال ہے میں ہر وقت تیرے گھٹنے سے ہی لگا رہوں۔‘‘ کھا جانے والی نظروں سے زیب النساء کو گھورا تھا‘ وہ سہم گئی تھی۔
ماں کے پلو سے لگ کر جوان ہونے والی لڑکی چوہدری حیات علی کی بیوی بن کر اور بھی خوف زدہ رہنے لگی تھی۔ صفدر چلا گیا تو وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر سسکنے لگی‘ وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ دن بہ دن اس کے اندر کی مقابلے کی قوت ختم ہوگئی تھی۔
چوہدری حیات علی کو ملک سے باہر ایک ماہ ہوچکا تھا‘ وہ گھر چھوڑ چکے تھے کوئی جان پہچان والا نہ تھا کہ جس سے وہ رابطہ کرکے کوئی خیر خبر حاصل کرلیتی۔ زندگی ایک دم تاریک اور بھیانک ہوگئی تھی۔ و ہ اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ صفدر صرف تب تک اس کا خیال رکھنے والا تھا جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے لیتی۔ اس کے بعد اس جیسا لالچی آدمی نجانے اسے کس کے ہاتھ جوئے کے نام پر بیچ دیتا۔ جوں جوں دن گزر رہے تھے وہ دن رات حیات علی کے لوٹ آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی اس کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔
بس اپنے بچے کے آنے کا انتظار تھا‘ زیب النساء کا کسی سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا اور پھر ایک شام اس کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی‘ خوش قسمتی سے اس شام صفدر گھر پر ہی تھا۔ دو دن بعد وہ گھر لوٹا تھا‘ بیٹی کی چیخیں سن کر کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر نجانے اسے اس کی حالت پر ترس آگیا تھا یا کیا تھا وہ ایک عورت کو لے آیا تھا اور پھر اس شام اس نے اللہ کو یاد کرتے درد سہتے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ ایک خوب صورت لیکن بہت کمزور سے بیٹا زیب النساء کو لگا اس کے اندر جیسے زندگی نے پھر نئی کروٹ لی ہو۔ اسے تمام تکلیفیں اور تمام درد بھولنے لگے تھے۔ صفدر خلاف توقع اس کا خیال رکھ رہا تھا‘ کھانے پینے کا سامان لادیتا تھا۔ بچہ بہت خوب صورت تھا لیکن بہت کمزور‘ زیب النساء کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی لیکن اب اس کے اندر اپنے بیٹے کے لیے زندہ رہنے کی خواہش ابھری تھی۔ وہ زندہ رہنا چاہتی تھی صرف اور صرف اپنے بیٹے کے لیے۔ حیات علی کا انتظار کرتے کرتے وہ اب مایوس ہوچکی تھی اب اس کی سوچوں کا محور صرف اس کا بیٹا تھا۔
بیٹے کی پیدائش کو آٹھ دن گزر چکے تھے‘ نہ کوئی رسم ہوئی اور نہ ہی کوئی خوشی۔ غم سے نڈھال زیب النساء نے خود ہی اپنے بیٹے کا نام رکھ لیا۔
’’فیضان حیات علی…‘‘ وہ دن میں کئی کئی بار یہ نام دہراتی اور سسکنے لگتی‘ اسے حیات علی کی بہت یاد آتی تھی۔ صفدر کی طرف سے ابھی تک سکون تھا‘ وہ اس کے کھانے پینے علاج معالجے کا خیال رکھ رہا تھا‘ اسے لالچ تھا یا کیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکا تھا۔ وہ اس دن فیضان کو سلا کر کمرے سے نکلی تو صفدر نے روک لیا۔
’’اپنے بیٹے کو تیار کردے مجھے اسے کہیں لے کر جانا ہے۔‘‘ وہ ٹھٹک کر رکی تھی۔
’’کہ… کہاں جانا ہے…؟‘‘
’’حیات علی کے باپ کے پاس جائوں گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’ اس کے باپ کی خیر خبر لوں گا‘ ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ نکاح ہوا تھا تمہارا‘ اس کے باپ نے اس گھر سے نکلوادیا اور اس نے پلٹ کر خبر تک نہ لی۔‘‘ صفدر نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’تو تم خود جاکر پتا کر آئو نا‘ فیضان کو کیوں ساتھ لے کر جاتے ہو۔‘‘
’’زیادہ بک بک نہ کر‘ تجھ سے مشورہ نہیں مانگا۔ اپنے بیٹے کو کپڑے بدل کر دے مجھے۔‘‘ صفدر نے تلخی سے کہا۔
وہ ایک لمبی پلاننگ کرچکا تھا وہ اب فیضان کو آلہ بناکر بابا صاحب کو بلیک میل کرنا چاہتا تھا۔ پہلے بھی وہ گھر چھوڑنے پر معاملہ طے کرتے ان سے رقم نکلوا چکا تھا۔ زندگی اس کی جیسے تیسے گزر چکی تھی لیکن وہ اب اپنے بڑھاپے کا بندوبست کرنا چاہتا تھا۔
’’میں نہیں دوں گی‘ تمہارا کوئی بھروسہ نہیں تم اسے لے کر بھاگ گئے تو…‘‘
’’زیادہ زبان نہ چلا‘ بھاگنا ہوتا تو ان دو ماہ کا انتظار نہ کرتا۔ اس کے باپ کا پتا کرنے جارہا ہوں‘ تیرا ہی بھلا ہے اس میں۔‘‘ غصے سے بیٹی کو گھورا تھا‘ وہ اس کی بات سن کر چونکی تھی۔
’’لیکن فیضان بہت چھوٹا ہے وہ میرے بغیر نہیں رہ سکے گا۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے چل تُو بھی ساتھ چل۔‘‘ اسے کسی بھی طرح آمادہ نہ دیکھ صفدر نے پینترا بدلا تھا۔ زیبن مان گئی‘ حیات علی کے گائوں کا انہیں بس نام کا پتا تھا صفدر کے ساتھ انہیں وہاں آتے آتے چار گھنٹے لگ گئے تھے۔ وہ اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے جاگیردار تھے‘ حیات علی کی حویلی تک پہنچنے میں دقت نہ ہوئی تھی۔ بخش دین نے فوراً پہنچان کر انہیں گیٹ پر ہی روک لیا تھا۔
’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ وہ دیکھتے ہی پریشان ہوگیا تھا۔
’’حیات علی میری بیٹی کا شوہر ہے اس کے باپ نے ہمیں وہاں سے نکال دیا‘ کہتا تھا خاموشی سے نکل جائو ورنہ پولیس کے حوالے کردوں گا۔ میں اپنی بیٹی کی زندگی کی خاطر نکل آیا لیکن اب اس کا ایک بیٹا ہے چوہدری حیات علی کا کوئی اتا پتا نہیں۔‘‘ صفدر اونچی آواز میں بولنے لگا تھا‘ بخش دین اردگرد دیکھتے کسی کو علم نہ ہوجانے کے خوف سے ان دونوں کو لے کر ایک طرف کونے میں آرکا تھا۔
’’دیکھو تم نے ان کو اور بچے کو ساتھ لاکر بہت بڑی غلطی کی ہے‘ تم نہیں جانتے یہ لوگ کیسے ہیں۔ چوہدری حیات علی کی وجہ سے بابا صاحب نے تم لوگوں کو زندہ چھوڑ رکھا ہے ورنہ وہ کچھ بھی کرسکتے تھے۔‘‘
’’لیکن چوہدری صاحب کہاں ہیں‘ تم نے کہا تھا ایک ماہ بعد وہ پاکستان آجائیں گے لیکن ابھی تک کوئی خیر خبر نہیں ملی۔‘‘ زیبن نے خود پوچھا تو بخش دین کچھ دھیما ہوا۔
’’باہر کے ملک میں چوہدری صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔‘‘
’’ہائے میں مرگئی۔‘‘ زیبن تو سن کر تڑپ اٹھی تھی۔
’’بڑی نازک حالت تھی‘ کئی ماہ سے وہاں اسپتال میں ہیں۔ سنا ہے دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی اور بھی چوٹیں لگی آئیں ہیں‘ مہینوں لگ جانے ہیں بالکل ٹھیک ہونے میں۔‘‘ بخش دین نے بتایا تو زیب النساء ایک دم رونے لگی۔ وہ سمجھتی رہی تھی کہ حیات علی اسے چھوڑ کر چلے گئے اور اب کبھی پلٹ کر نہیں آئیں گے لیکن ایسا بھی ہوسکتا ہے اس کے گمان میں نہ تھا۔
’’اب کیا ہوگا؟‘‘ وہ رو رہی تھی۔
’’آپ فکر نہ کرو‘ چھوٹے چوہدری صاحب سے میرا رابطہ نہیں ہورہا جب بھی کوئی اطلاع ملی تو میں ان تک پیغام پہنچادوں گا۔‘‘ بخش دین نے خلوص سے کہا۔
’’چھوڑو تمہارے پیغام پہنچانے تک کیا ہم ایسے ہی لٹکے رہیں گے۔ میں آج بڑے چوہدری سے مل کر ہی جائوں گا‘ نکاح نامے کی کاپی میرے پاس ہے۔ یہ بچہ اب چھوٹے چوہدری کا بیٹا ہے‘ دیکھتا ہوں چوہدری ہمیں کیسے یہاں سے نکالتا ہے۔‘‘ صفدر جو پلاننگ کرچکا تھا اس سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہ تھا۔
’’چوہدری صاحب تم کو جان سے مار دیں گے اگر تم ایسا کرو گے۔ میری مانو تو تم دونوں چپ چاپ یہاں سے نکل جائو اگر بڑے چوہدری صاحب کو خبر بھی مل گئی تو وہ حشر نشر کردیں گے تم لوگوں کا۔‘‘ بخش دین نے ڈرانا چاہا۔
’’میں نہیں ڈرنے والا‘ تم مجھے چوہدری سے ملوادو بس‘ پھر دیکھتا ہوں کیا کرتا ہے وہ۔‘‘ وہ کسی بھی طور ٹلنے والا نہ تھا۔
’’جیسے تمہاری مرضی لیکن ایک بات مانو بی بی کو ساتھ مت لے جائو ان کو میں ادھر کمرے میں بٹھا دیتا ہوں اور تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ زیب النساء جو پہلے ہی حیات علی کا سن کر رو رہی تھی ایک دم ڈر گئی تھی۔
بخش دین اسے چوکیدار کے بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں بٹھا کر خود صفدر کو لے کر چلا گیا تھا‘ چوہدری سراج بخش دین کے ساتھ صفدر کو دیکھ کر چونکے تھے۔
’’تم یہاں…‘‘
’’تم تو چوہدری اس گھر سے نکلنے پر کچھ ہزار دے کر رفو چکر ہوگئے تھے۔ تم کیا سمجھتے ہو میں اتنی جلدی تمہاری جان چھوڑ دوں گا۔ نکاح نامے کی کاپی میرے پاس ہے‘ حیات علی کا بیٹا پیدا ہوا ہے میں چاہوں تو مقدمہ کرسکتا ہوں۔‘‘ صفدر علی آپے سے باہر ہونے لگا تھا۔
’’تم جیسے نیچ خاندان کے لوگ ایسے ہی پیچھا پکڑ لیتے ہیں۔ تم نے معاملہ طے کیا تھا کہ تم اپنی بیٹی کو لے کر بالکل غائب ہوجائو گے اور کبھی نظر نہیں آئو گے۔ پیسے لیے تھے تم نے مجھ سے اس کام کے لیے‘ اب تم دھمکیاں دے رہے ہو وہ بھی چوہدری سراج علی کو۔ جانتے ہو کیا انجام ہوسکتا ہے تمہارا‘ یہاں آنے پر۔‘‘ نہایت غیض و غضب سے صفدر کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’تمہاری بہو اور اس کے بیٹے پر وہ ساری رقم خرچ کی ہے میں نے یا تو مجھے میری منہ مانگی رقم دو یا پھر میری بیٹی کو اس حویلی میں جگہ…‘‘ اس نے دھمکایا۔ چوہدری سراج نے چند پل بغور صفدر کو دیکھا۔
وہ ایک لالچی شخص تھا اس کا منہ بند کیا جاسکتا تھا لیکن یہ مسئلے کا حل نہ تھا وہ پھر کسی بھی وقت انہیں دھمکانے دوبارہ آسکتا تھا اور پھر اگر کسی اور سے ملاقات ہوجائے تو ان کی عمر بھر کی عزت مٹی میں مل سکتی تھی۔ انہوں نے کچھ سوچا اور بخش دین کو کچھ لوگوں کو بلوانے کا کہا وہ لوگ آگئے تو چوہدری سراج علی نے ان کو حکم دیا۔
’’اس شخص کو لے جائو‘ اس کا وہ حشر کرو کہ دوبارہ مجھے نظر نہ آئے۔‘‘
’’تم ایسا نہیں کرسکتے چوہدری‘ میں پولیس میں جائوں گا‘ مقدمہ کروں گا تم پر۔‘‘ وہ چیخنے چلانے لگا تھا جبکہ تین چار طاقتور مرد زبردستی دھکیلتے اسے لے گئے تھے۔ بخش دین خاموشی سے محو انتظار زیبن کے پاس آیا تھا۔
’’بی بی تمہارے باپ کو چوہدری کے بندے لے گئے ہیں اب وہ زندہ بچتا ہے یا نہیں تم فوراً یہاں سے نکلو۔ اگر چوہدری صاحب کو پتا چل گیا کہ تم بھی ساتھ تھیں تو وہ تمہیں اور تمہارے بچے کو بھی جان سے مروادے گا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ زیب النساء ڈر گئی تھی۔ بخش دین اسے چوری چھپے وہاں سے نکال کر اڈے تک پہنچا گیا تھا۔ وہ زندگی میں پہلی بار سفر کررہی تھی‘ نجانے وہ کیسے ٹھوکریں کھاتی واپس پہنچی تھی۔ صفدر کے ساتھ نجانے کیا سلوک ہوا تھا‘ وہ غم سے نڈھال تھی۔ رات گئے وہ شہر پہنچی تھی‘ اکیلی تنہا ایک دو ماہ بچے کے ساتھ ڈری سہمی لڑکی وہ بہت کچھ برداشت کرتی گھر پہنچی تو آگے تالا لگا ہوا تھا۔
اسے یاد آیا چابی تو صفدر کے پاس تھی۔ بخش دین نے اسے کرائے کے لیے کچھ پیسے دیئے تھے ان میں کچھ بچ گئے تھے وہ تھکی ہاری جب مہرالنساء کے گھر پہنچی تو رات کے دو بج رہے تھے۔ مہرالنساء کا شوہر گھر پر نہیں تھا چوکیدار کو ترس آگیا تھا اس کی حالت اس قدر ابتر ہورہی تھی کہ اسے اندر جانے دیا تھا۔ مہرالنساء اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔ بخش دین کی زبانی زیب النساء کو جو معلوم ہوا تھا وہ سب اس نے مہرالنساء کو کہہ دیا تھا۔
مہرالنساء نے بظاہر تسلی دی تھی لیکن اندر ہی اندر وہ خود بھی پریشان ہوچکی تھی جیسے تیسے کچھ دن گزرے تھے۔ مہرالنساء کا شوہر گھر آچکا تھا‘ زیب النساء کو دیکھ کر اس نے ناک منہ چڑھایا تھا لیکن کہا کچھ نہ تھا۔ زیب النساء دو تین بار جاکر پتا کر آئی تھی گھر پر ابھی بھی تالا تھا۔
اس رات وہ بہت غم زدہ تھی‘ اس کی طبیعت خراب تھی۔ صفدر کی کوئی خبر نہ تھی‘ مہرالنساء کے شوہر کے تیور دن بہ دن بدلتے جارہے تھے۔ آتے جاتے وہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتا تھا کہ زیب النساء ڈر جاتی تھی۔ وہ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔
وہ رات کو لیٹی تھی فیضان کو سلاتے سلاتے ابھی اس کی آنکھ لگی ہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ بجا تھا اس نے اٹھ کر کھولا تو نشے میں دھت مہرالنساء کا شوہر کمرے میں داخل ہوا تھا‘ زیب النساء چیخ مار کر ایک طرف ہوگئی تھی‘ وہ بپھرا ہوا شخص اس کی طرف بڑھا تھا۔ وہ فیضان کو اٹھا کر اپنا بچائو کرتی بڑی مشکل سے کمرے سے نکلی تھی اس کی چیخوں اور شور کی آوز سن کر مہرالنساء بھی آگئی تھی۔
’’آپا… مجھے بچالو…‘‘ روتی بلکتی زیب النساء اس سے لپٹ گئی تھی۔ نجانے مہرالنساء کے اندر اتنی ہمت کیسے آگئی تھی روتی بلکتی بہن اور اس کے بیٹے کو سہارا دیتی وہ اپنے کمرے میں لے آئی تھی‘ اندر سے دروازہ بند کرلیا تھا۔ وہ رات بڑی بھیانک تھی۔ وہ شخص مغلظات بکتا‘ گالیاں دیتا‘ شور مچاتا بُرے نتائج کی دھمکیاں دیتا رہا تھا۔
صبح ہو ئی تو اس شخص نے صاف کہہ دیا تھا کہ زیب النساء اپنا کہیں اور بندوبست کرلے وہ اسے اپنے گھر میں نہیں رکھے گا۔ زیب النساء کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کہاں جائے‘ کیا کرے؟
مہرالنساء نے بہت منتیں کی تھیں لیکن اس کے شوہر کی ناں ہاں میں نہیں بدلی تھی۔ مجبوراً مہرالنساء نے اسے اپنی ایک نند کا ایڈریس لکھ کر اس کے حوالے کردیا تھا۔ آپا صفیہ مہرالنساء کے شوہر کی بہن تھیں اولاد سے محروم تھیں‘ شوہر وفات پاچکا تھا‘ وہ اکیلی گھر میں رہتی تھیں کافی نیک صفت خاتون تھیں۔
مہرالنساء کے ساتھ بھی ان کا برتائو بہت اچھا تھا‘ زیب النساء کو انہوں نے کھلے دل سے خوش آمدید کہا لیکن آپا صفیہ کے ہاں جاکر دکھوں اور غموں سے نڈھال زیب النساء کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔ حیات علی کی غفلت‘ باپ کی گمشدگی اور اب اس نئے دھچکے نے اس کے اندر سے زندگی کی امید چھین لی تھی۔ وہ اندر ہی اندر گھلتی جارہی تھی‘ غموں نے اس کے وجود کو کھوکھلا کرنا شروع کردیا تھا‘ آپا صفیہ اس کا بہت خیال رکھ رہی تھیں لیکن لگتا تھا کہ جیسے زیبن کے اندر زندہ رہنے کی لگن بالکل ختم ہوگی تھی وہ اپنا علاج کروانے سے بھی کترانے لگی تھی۔
فیضان چھ ماہ کا ہونے کو آرہا تھا‘ لیکن حیات علی کا کوئی پتا نہ تھا اور صفدر بھی تاحال گم شدہ تھا‘ وہ بالکل مایوس ہوچکی تھی۔ اسے سانس کا مسئلہ رہنے لگا تھا اور پھر ایک رات اسے دمہ کا دورہ پڑا تھا‘ آپا صفیہ اسے ہسپتال لے گئی تھیں لیکن زیب النسا نے رستے میں ہی دم توڑ دیا تھا۔ روتا بلکتا فیضان باپ کے بعد ماں کی ممتا سے بھی محروم ہوگیا تھا۔ مہرالنساء کا صدمے سے بُرا حال تھا‘ دنیا داری کو وہ آئی تھی باپ کی ابھی تک کوئی خبر نہ ملی تھی کہ زندہ بھی ہے یا…
فیضان کو اولاد کے لیے ترسی ہوئی آپا صفیہ نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ زیب النساء کی زندگی کا باب بند ہوا تو چوہدری حیات علی سے متعلق ہر خبر نے گویا دم توڑ دیا تھا اور پھر زندگی ایک نئے ڈھنگ میں گزر نے لگی تھی۔
ء…/…ء
فیضان ماموں اور سہیل بھائی دوبارہ ہادیہ کے والد کے پاس گئے تھے‘ انہوں نے مثبت جواب دیا تھا۔ ہادیہ اور رابعہ کا خوشی سے بُرا حال تھا‘ ابوبکر بھی خوش تھا۔ بس یہی طے ہوا تھا کہ ایک دن بعد نکاح ہوگا اور رخصتی چند ماہ بعد… ہادیہ کا باپ ایک محنتی انسان تھا اپنی زندگی کو انہوں نے خود بنایا‘ سنوارا تھا اور زندگی میں ایک مقام بنایا تھا۔ ابوبکر سے متعلق انہوں نے بہت غورو فکر کے بعد فیصلہ کیا تھا۔ ابوبکر میں انہیں اپنا ماضی دکھائی دیا تھا سو وہ فیصلہ کرکے مطمئن تھے۔
رابعہ جوش و خروش سے نکاح کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی۔ ثریا بیگم بھی سب کے سمجھانے بجھانے پر صدمے کی کیفیت سے نکل کر ابوبکر کے نکاح کے بندوبست میں لگ گئی تھیں۔
ابوبکر کا فلیٹ تیار تھا لیکن یہی فائنل ہوا تھا کہ ابوبکر کے نکاح کی ساری تیاریاں سہیل کے گھر سے ہی ہوں گی۔ وہ بھابی کے ساتھ اسی سلسلے میں ہی لگی ہوئی تھیں جب اس کے نمبر پر عباس کی کال آگئی تھی۔
’’السلام علیکم! سر کیسے ہیں؟‘‘ اس کی آواز میں کھنک سی تھی۔
’’وعلیکم السلام! ٹھیک ہوں۔‘‘ عباس نے پوچھا۔
’’آپ کی شادی کی ٹائمنگ کا پوچھنا تھا میں نے؟‘‘ عباس نے فون کرنے کی وجہ بتائی تو رابعہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’سر میری شادی نہیں ہورہی۔‘‘
’’کیا… کیا مطلب؟‘‘ عباس الجھا۔
’’سر! میری شادی کینسل ہوگئی ہے وہ اب نہیں ہورہی۔ میں نے کال کرکے اسٹاف کے باقی ممبرز کو اطلاع کردی تھی آپ کو شاید کسی نے نہیں بتایا ہوگا۔‘‘ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ دوسری طرف موجود عباس کو لگا کہ جیسے یہ الفاظ سن کر وہ بہت پرسکون ہوگیا ہو۔
’’کیسے کینسل ہوگئی شادی؟‘‘ اب کے لہجے میں فکر مندی اور تشویش تھی۔
’’شاید ابھی قسمت میں نہیں تھی۔‘‘ وہ پُرسکون تھی۔
’’لیکن کوئی ریزن تو ہوگی نا۔‘‘
’’اصل میں کل ابوبکر اور ہادیہ کا نکاح ہورہا ہے۔‘‘
’’ہادیہ کا نکاح… میں سمجھا نہیں؟‘‘
’’اصل میں سر…‘‘ ہادیہ نے بتانا شروع کیا تھا اور مختصراً ہادیہ اور ابوبکر کے متعلق سب سنادیا۔
’’ویری گڈ… یعنی آپ ہادیہ کے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہی ہیں‘ ویل ڈن۔‘‘ عباس رابعہ کے اس ظرف اور عمل سے بہت متاثر ہوا تھا۔
’’سر! قربانی کیسی… وہ میری دوست ہے اور مجھے بہت عزیز ہے۔ ساری بات کھل چکی تھی اور میں جان بوجھ کر شادی کر بھی لیتی تو شاید میں کبھی خوش نہ رہ پاتی اور سب کچھ جاننے کے بعد میں ابوبکر سے شادی کرلیتی یہ ناممکن سی بات تھی۔‘‘
’’ویری نائس۔‘‘ عباس نے ایک دم سراہا۔
’’ماشاء اللہ ذہنی اپروج بہت اچھی ہے آپ کی‘ ورنہ آج کل کے دور میں لوگ حقیقی رشتوں کے متعلق غاصبانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں‘ دوستی وغیرہ تو بہت دور کی بات ہوتی ہے۔‘‘
’’شکریہ سر! میرے لیے اپنی ذات اور بعد کے کرائسز کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا آسان نہ تھا لیکن میرے سامنے میری ساری زندگی کی خوشیاں اور دوسری طرف ہادیہ کی خوشی اور ابوبکر کی ذات تھی۔ فیصلہ مشکل تھا لیکن مجھے ابھی قدم پیچھے ہٹا لینا بہتر لگا بانسبت اس امر کے کہ میں ابوبکر سے شادی کرکے ساری عمر پچھتاتی۔‘‘
’’بہت ہی اچھا فیصلہ کیا آپ نے میں کچھ بزی تھا آفس بھی کم چکر لگ رہا تھا‘ اس لیے مجھے آپ کی شادی کینسل ہوجانے کی خبر نہیں مل پائی۔‘‘
’’بس جو اللہ کو منظور ہو‘ ہونا تو وہی ہوتا ہے۔‘‘ رابعہ نے بردباری سے کہا۔
’’بالکل‘ بے شک…‘‘ عباس مسکرایا۔ عباس کو لگا آج بہت دن بعد اس کے اندر ڈھیر سارا سکون اترا ہو جیسے اپنی ذات ایک دم ہلکی پھلکی محسوس ہونے لگی تھی‘ خوشبوئوں میں بسی۔ معطر معطر سی…
’’اوکے سر یہاں کچھ بزی ہوں پھر بات ہوگی۔‘‘ رابعہ کو باہر سے بھابی نے آواز لگائی تو اس نے فوراً کہا۔
’’ایک منٹ رابعہ…‘‘ عباس ایک دم بولا۔
’’جی سر…‘‘
’’میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ عباس نے کچھ سوچ کر کہا۔
’’خیریت سر…؟‘‘
’’ایک ضروری کام ہے‘ کیا آپ آج مل سکتی ہیں مجھ سے۔‘‘ عباس نے پوچھا تو وہ الجھی۔
’’کیسا کام؟‘‘
’’کام کی نوعیت ملنے پر ہی بتاسکتا ہوں۔‘‘ عباس پرسکون تھا۔
’’آج تو ممکن نہیں…‘‘
’’تو ٹھیک ہے کل ابوبکر کے نکاح کے سلسلے میں‘ میں ہادیہ کی طرف سے شامل ہوں۔ وہاں بات کرلیں گے۔‘‘ عباس نے پروگرام ترتیب دیا تھا۔
’’لیکن ہادیہ نے تو آفس کے کسی بھی ممبر کو اپنے نکاح کا نہیں بتایا۔‘‘ رابعہ نے کہا تو عباس مسکرایا۔
’’ہادیہ کے گھر والوں سے بابا جان کے اچھے فیملی ٹرمز ہیں وہ یقینا نکاح میں انوائٹ کریں گے۔ ہادیہ سے میں خود بھی بات کرلوں گا اس بات کی آپ ٹینشن نہ لیں۔‘‘ عباس نے ایک دم جیسے ہر چیز پلان کرلی تھی۔ رابعہ محض مسکرادی۔
’’اوکے‘ جیسے آپ کی مرضی سر۔‘‘
ء…/…ء
کاشفہ تیزی سے انا کی طرف بڑھی تھی‘ اس کی دوست نے بھی اسے دونوں بازوئوں سے پکڑلیا تھا۔ انا شدید مزاحمت کررہی تھی‘ کاشفہ نے مشتعل ہوکر ایک زوردار تھپڑ انا کے چہرے پر مارا تو وہ زمین پر جاگری تھی۔
’’اب اگر تم نے کوئی حرکت کی تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔‘‘ نہایت بے خوفی سے چاقو لہراتے اس نے انا کو خبردار کیا تھا۔
’’تم اس قدر گھٹیا لڑکی ہوسکتی ہو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔‘‘ جواباً انا نے کہا تو کاشفہ نے سختی سے گھورا۔
’’بکواس بند کرو‘ جتنی زبان چلائو گی اتنا ہی اپنے حق میں بُرا کروگی۔ میں تمہیں یہاں محض بات چیت کے لیے لائی تھی اب اپنے حق میں تم خود بُرا کررہی ہو۔‘‘ کاشفہ کے چلا کر کہا تھا۔
’’اس وقت تم ہمارے انڈر ہو‘ کچھ بھی کہو گی تو نقصان تمہارا ہی ہوگا۔‘‘ کاشفہ کی الفاظ پر انا نے بہت تلخی سے اسے دیکھا تھا۔
’’جیدی کو بلائو۔‘‘ کاشفہ نے اپنی دوست کو کہا تھا۔ اس نے فوراً کسی لڑکے کو کال کی تھی دو منٹ بعد وہ لڑکا کمرے میں موجود تھا۔ اونچا لمبا بگڑے خاندان کا سپوت وہ بھی شاید کاشفہ کا کوئی لگتا تھا۔
’’یہ لڑکی قابو میں نہیں آرہی اس کو اچھی طرح سبق سکھائو ہم تھوڑی دیر میں آتی ہیں۔‘‘ لڑکے کے آنے پر کاشفہ نے کہا تو انا کو لگا اس کا حلق خشک ہونے لگا ہے۔ اس نے بہت سہم کر اس لڑکے کو دیکھا جو بڑی بے باکی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ انا کو ایک دم اپنا آپ کسی گہرے کھنڈر میں گرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
ء…/…ء
زیب النساء کی وفات کو مزید پانچ ماہ گزر چکے تھے۔ فیضان کو آپا صفیہ نے بہت آسانی سے سنبھال لیا تھا‘ چند دن اس نے ماں کی کمی محسوس کی‘ بیمار بھی ہوا تھا لیکن پھر آپا صفیہ کے ساتھ پلنے لگا تھا وہ اب بڑا ہورہا تھا اس کی صحت بھی بہتر ہوچکی تھی۔ آپا صفیہ اس کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ اس سارے عرصے میں مہرالنساء صرف دو تین بار بھانجے سے مل سکی تھی۔ مہرالنساء کی اپنی بیٹی افشاں بھی اب بڑی ہورہی تھی‘ لیکن مہرالنساء کے اندر باپ کی غلط حرکتوں اور بہن کی جدائی نے ایک گہرا شگاف ڈالا تھا۔
اس کی معصوم بھولی بھالی کم عمر سی بہن دنیا سے کیسے خوار ہوکر گئی تھی‘ یہ دکھ مہرالنساء کو اندر ہی اندر چاٹنے لگا تھا۔ اس نے کئی بار کوشش کی تھی کہ بھانجے کو اپنے پاس لے جائے لیکن شوہر کی سختی نے ایسا نہ کرنے دیا تھا۔
چوہدری حیات علی کی کوئی خبر نہ تھی اور صفدر وہ نجانے کہا تھا۔ پھر ایک دن انتہائی خراب حالت میں مہرالنساء کے گھر کے سامنے صفدر آکر رکا تھا وہ بار بار مہرالنساء سے ملنے کا کہتا تھا۔ چوکیدار کو کسی کو بھی اندر بھیجنے کی اجازت نہ تھی‘ اس نے مہرالنساء کو اطلاع کردی تھی وہ خود گیٹ تک آئی اور صفدر کو دیکھ کر ششدر رہ گئی تھی۔ بڑھی ہوئی داڑھی‘ بکھرے لمبے بال‘ پھٹے پرانے کپڑے‘ ہڈیوں کا ڈھانچہ وہ تو کہیں سے بھی صفدر نہیں لگ رہا تھا۔
’’ابا! یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تُو نے اپنی۔‘‘ وہ حیران تھی جواباً صفدر مغلظات بکنے لگا۔
مہرالنساء کے چوکیدار نے گیٹ کھول دیا تھا‘ مہرالنساء اسے اندر لے آئی تھی۔ صفدر اسے اپنی بدحالی کی کہانی سنانے لگا تھا۔ چوہدری سراج علی کے آدمی اسے لے گئے تھے بہت مار پیٹنے کے بعد انہوں نے اسے ایک تنگ و تاریک کمرے میں بند کردیا تھا۔ صرف ایک وقت کا کھانا ملتا تھا‘ زندگی ایک دم صفدر پر عذاب بن کر اتری تھی۔ وہ اس وقت کو پچھتانے لگا جب اس نے گائوں آنے کا سوچا تھا‘ نجانے زیب النساء کا کیا حال ہوا ہوگا؟ وہ وہاں کئی ماہ قید رہا تھا۔
جسمانی طور پر اس کے اندر اتنی کمزوری غالب آچکی تھی کہ اس کی ساری اکڑ سارا کروفر اور لالچ صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا۔ وہ دن رات کھانا لانے والے سے منتیں کرتا تھا کہ کوئی اسے یہاں سے نکال دے ورنہ وہ مرجائے گا‘ قید تنہائی نے اسے بالکل مفلوج کردیا تھا اور پھر شاید چوہدری کو اس پر ترس آگیا تھا۔ اس نے اس سے کچھ کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے تھے وہ پڑھا لکھا نہیں تھا‘ علم بھی نہ تھا کہ وہ کیسے کاغذات ہیں۔ بس رہائی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار تھا اور پھر چوہدری کے کارندوں نے اسے وہاں سے نکال کر ایک سنسان اور ویران جگہ پر پھینک دیا تھا۔
اس وقت وہ جسمانی طور پر بالکل مفلوج ہوچکا تھا‘ کچھ لوگوں کو اس پر ترس آیا وہ اسے اٹھا کر ایک اسپتال لے گئے تھے کچھ عرصہ اس کا علاج چلتا رہا تھا۔ کچھ کھانے کو ملا تو جسم میں قوت پیدا ہونے لگی اور پھر ایک دن اسپتال والوں نے اسے فارغ کردیا تو وہ اپنے کرائے کے گھر میں گیا تھا وہاں کوئی اور لوگ آباد تھے۔ مکان کا مالک گھر کا تالا توڑ کر وہاں کچھ اور لوگوں کو بسا چکا تھا وہ وہاں سے نامراد ہوکر مہرالنساء کی طرف آیا تھا۔ مہرالنساء ساری کہانی سنتے کئی بار روئی تھی۔
’’ابا تمہارے لالچ اور تمہاری بُری عادتوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔‘‘ وہ شدت سے رو دی۔
’’زیبن کہاں ہے؟‘‘ صفدر نے پوچھا تو مہرالنساء نے تلخی سے باپ کو دیکھا۔
’’وہ تمہارے لالچ کی بھینٹ چڑھ گئی۔‘‘ صفدر نے ناسمجھی سے دیکھا۔ ’’پانچ ماہ پہلے وہ مرگئی‘ دکھوں اور غموں نے اس کو نگل لیا۔ شوہر کی بے وفائی اور تمہارے لالچ نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔‘‘
’’زیبن مرگئی…‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’وہ مری نہیں تھی‘ تم نے اسے مار ڈالا تھا‘ اماں نے چوہدری کی شرافت دیکھ کر اس کا نکاح کیا تھا لیکن اس کے باپ کے ظلم نے اس سے سب کچھ چھین لیا۔‘‘ وہ رو تی رہی۔
’’اور اس کا بچہ کہاں ہے؟‘‘ صفدر کا ذہن کہیں اور تھا‘ مہرالنساء رو رہی تھی جبکہ صفدر کی آنکھوں میں نمی کا شائبہ تک نہ تھا۔ مہرالنساء نے بہت کرب سے باپ کو دیکھ کر سر جھکا لیا تھا۔
ء…/…ء
’’تم جس کام کے لیے لائی ہو وہ کرو‘ جو کہنا ہے وہ کرو لیکن میں یہاں نہیں رکوں گی۔‘‘ انا کا خوف کے مارے بُرا حال ہورہا تھا‘ وہ جتنی بھی بہادر اور باہمت ہوتی لیکن جیدی جیسے لڑکے کو دیکھتے ہی اس کا خون خشک ہونے لگا تھا‘ کاشفہ مسکرائی تھی۔
’’جیدی تو محض ایک ڈاراوا ہے تمہارے لیے‘ تمہارے لیے تمہاری عزت تمہارا کردار تو بہت اہم ہوگا اور یقینا تم اس پر کوئی حرف بھی نہیں آنے دینا چاہو گی‘ ہے نا۔‘‘ انا نے لب بھینچ کر بہت ضبط سے ان تینوں کو دیکھا تھا۔
’’کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’ولید کو؟‘‘ وہ ہنس کر کہہ رہی تھی۔
’’تو اس کے پاس جائو‘ مجھے کیوں لائی ہو یہاں۔‘‘
’’وہ تم سے محبت کرتا ہے اور میں جان چکی ہوں جب تک تم درمیان میں موجود ہو وہ میری طرف مائل نہیں ہوگا۔‘‘ وہ اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
’’تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘ وہ پھٹ پڑی تھی۔
’’سارا قصور ہی تمہارا ہے‘ تم اگر چاہو تو ولید میری طرف آسکتا ہے۔‘‘ انا کے اندر ایک دم شدید اشتعال کی لہر اٹھی تھی۔
’’کیا تم پاگل ہو؟ میں بھلا کیسے کسی کو کسی دوسرے کے ہونے پر مجبور کرسکتی ہوں۔‘‘
’’تم کیسے کرتی ہو یہ تمہارا ہیڈک ہے۔‘‘ وہ غصے سے بولی تھی۔
’’مجھے ہر حال میں ولید چاہیے۔‘‘ وہ تنفر سے کہہ رہی تھی۔
’’ولید بازار میں بکتی کوئی چیز نہیں ہے جو تمہیں پسند آجائے تو تمہیں دے دوں۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ انا کے الفاظ پر وہ پھنکاری تھی۔
’’اگر تم میری بات مانتی ہو تو ٹھیک ورنہ جیدی کو تم جیسی لڑکیوں کو ہینڈل کرنا خوب آتا ہے۔‘‘ کاشفہ نے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھ کر اسے ڈرانا چاہا تھا‘ انا کے اندر ایک دم شدید طوفان اٹھنے لگے تھے۔
وہ ڈرنے اور ہارنے والی لڑکی نہ تھی اور اب جبکہ سب کچھ کلیئر ہوچکا تھا۔ ولید کی ذات‘ اس کا کردار اس کی پوزیشن سب کچھ صاف ہوچکا تھا تو وہ بھلا کیوں ڈرتی لیکن کاشفہ کے ساتھ کھڑا لڑکا جن نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا انا کے اندر شدید لہر سی اٹھی تھی۔
’’کیا چاہتی ہو تم؟‘‘ انا کاشفہ کے ساتھ یہاں تک آنے کی ایک سنگین غلطی کرچکی تھی۔ اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے اندر کے طوفانوں کو دبائے خاموشی سے کاشفہ کا موقف سن لے۔
’’یہاں میرے ساتھ ایگری منٹ پر سائن کرو کہ تم ولید کی زندگی سے نکل جائو گی اور اسے خود سے متنفر کرنے کی کوشش کروگی۔‘‘ کاشفہ کی بات سن کر وہ ایک دم حیران ہوئی تھی۔
’’میں کیوں سائن کروں؟ ولید کوئی بے جان چیز نہیں ہے جس کے لیے تم مجھے دھمکائو‘ تمہیں ولید چاہیے تو خود کوششیں کرو۔‘‘
’’وہ کبھی نہیں آئے گا جب تک تم کوشش نہیں کرو گی۔‘‘ انا نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’ایم سوری میں سائن نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے بہت غصے سے کہا تھا۔
’’اوکے‘ اب پھر جیدی تمہیں ہینڈل کرے گا‘ تمہارا دماغ ٹھکانے آجائے تو بتا دینا میں آجائو گی۔‘‘ جیدی کو کہہ کر وہ جانے لگی تھی انا ایک دم خوف زدہ ہوئی تھی۔
’’تم پاگل ہو‘ وہ شخص تم سے اگر محبت نہیں کرتا تو میں بھلا اسے زبردستی کیسے تمہاری زندگی میں داخل کرسکتی ہوں۔‘‘ وہ خوف سے چلائی تھی۔
’’تمہارے پاس دو آپشن ہیں بالکل اسی حالت میں جس میں تم آئی ہو واپس جاتی ہو یا میرے ساتھ ایگری منٹ کرتی ہو۔‘‘ انا کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا تھا۔
’’میں ایگری منٹ نہیں کروں گی۔‘‘ انا نے سختی سے کہا تھا۔
’’اوکے‘ جیسے تمہاری مرضی‘ جیدی کیری آن۔‘‘ کاشفہ لڑکے کو اشارہ کرتے اپنی دوست کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی تھی‘ انا کا چہرہ ایک دم تاریک ہوا تھا۔
’’سنو کاشفہ! تم اچھا نہیں کررہیں‘ تم کیوں کررہی ہو ایسا‘ ولید کو بھلا میں کیسے خود سے دور کرسکتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے پیچھے لپکی تھی لیکن کاشفہ اور اس کی دوست دروازہ کھول کر باہر نکلی تھیں۔
’’کاشفہ… کاشفہ…‘‘ انا بھی پیچھے بھاگی تھی لیکن جیدی نامی لڑکے نے فوراً درمیان میں آکر اس کا رستہ روک لیا تھا۔ جیدی کو دیکھتے انا کو پہلی بار صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا تھا‘ اس نے اس لڑکے کو دھتکارتے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی کاشفہ باہر سے دروازہ بند کرچکی تھی۔ انا دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگی تھی لیکن دروازہ بند ہوچکا تھا اور اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا۔
ء…/…ء
حیات علی کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا تھا کچھ دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کی بعد زندگی نے موت کو شکست دی تو علم ہوا کہ جسمانی توڑ پھوڑ نے ان کو بالکل مفلوج بناکر رکھ دیا تھا۔ وہ جو اُڑ کر پاکستان پہنچنا چاہتے تھے ڈاکٹروں کے ہاتھوں خود کو بے بس دیکھ کر نڈھال سے ہونے لگے تھے۔ نہ پیسے کی کمی تھی اور نہ ہی کسی اور چیز کی بابا صاحب حادثے کی خبر سن کر فوراً آپہنچے تھے۔ زبیدہ کا بھائی ان سب کے مزید قیام کا بندوبست کرنے لگ گیا تھا۔ اس طرح وہ آہستہ آہستہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے لگے تھے۔ جسم کے ٹوٹے حصے جڑنے میں مہینوں لگ جانے تھے‘ بابا صاحب ایک ماہ رہنے کے بعد واپس چلے گئے تھے۔ زبیدہ اور بچے وہیں تھے‘ بچوں کی تعلیمی مصروفیات کا حرج ہورہا تھا۔ زبیدہ کے بھائی نے ان کے اسکول کا بندوسبت کردیا تھا‘ دو ماہ بعد وہ گھر شفٹ ہوگئے تھے ابھی بھی بستر پر تھے۔ زبیدہ خوب خدمت کررہی تھی‘ کبھی کبھار ان کے اندر زبیدہ کے ساتھ کی گئی زیادتی پر شدید ندامت ہونے لگتی تھی۔ انہیں زیبن بہت یاد آتی تھی‘ نجانے وہ کس حال میں تھی اب تو اس کی گود میں ان کی اولاد بھی موجود ہوگی۔ پتا نہیں بیٹا تھا یا بیٹی‘ بابا صاحب زیبن کی خبر گیری کرتے ہوں گے یہ ناممکن سی بات تھی۔
اور پھر وہ سنبھلنے لگے تھے ان کے بچے اسکولز میں پڑھ رہے تھے وہ بھی بتدریج بہتر ہورہے تھے۔ پورا ایک سال ان کا ٹریٹمنٹ چلا اور پھر وہ بالکل ٹھیک ہوگئے تھے بغیر کسی لڑکھڑاہٹ کے چل پھر سکتے تھے۔ بچوں کی تعلیم کا حرج ہونے کا خدشہ تھا لیکن وہ پاکستان بھی جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کئی بار بابا صاحب سے واپس پاکستان آنے کی بات کی تھی پہلے تو وہ ٹالتے رہتے تھے اور پھر ایک دن انہوں نے اجازت دے دی تھی۔ زبیدہ بچوںکا تعلیمی حرج نہ ہوجانے کا کہہ کر جانے سے انکاری تھی سو سب کو وہیں چھوڑ کر وہ واپس آگئے تھے۔
آتے ہی انہوں نے بخش دین کا پوچھا تو علم ہوا کہ وہ تو چند ماہ پہلے حویلی چھوڑ کر اپنا خاندان لے کر چلا گیا تھا‘ کہاں؟ کسی کو کوئی خبر نہ تھی۔ وہ شہر گئے تھے زیب النساء کا کوئی پتا نہ تھا اور پھر وہ مہرالنساء کی طرف بھی گئے وہ بھی ملنے پر آمادہ نہ ہوئی تھی اور اس کا چوکیدار بھی لاہور میں تھا ورنہ شاید اس سے ہی کوئی خبر مل جاتی۔ وہ چند دن پاگلوں کی طرح نڈھال گھومتے رہے اور پھر تھک ہار کر حویلی واپس لوٹ آئے تھے۔ اس رات وہ اپنے بستر پر دراز تھے‘ زیبن نجانے کہاں گم ہوچکی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ وہ پھر مہرالنساء کے پاس جائیں گے اور زیب النساء کا پوچھیں گے‘ پاکستان سے باہر جانے سے پہلے وہ جب زیب النساء سے ملنے آئے تھے تو زیب النساء مہرالنساء کے گھر میں تھی یقینا اب بھی ادھر ہی ہوگی‘ ان کے دل کو یقین سا تھا۔
اگلی صبح وہ پھر تیار ہوکر شہر کے لیے روانہ ہونے والے تھے جب بابا صاحب نے ان کو بلوالیا تھا۔ وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات ان کی طرف بڑھائے تھے۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’دیکھ لو۔‘‘ حیات علی نے ان کو گھورا اور اس پر لکھی تحریر دیکھی تو چونک گئے۔
’’یہ… یہ…‘‘ حیات علی نے حیرانی سے باپ کو دیکھا تھا۔
’’چند ماہ پہلے صفدر خود تمہارا پتا کرنے ادھر آیا تھا‘ صفدر کو تو تم جانتے ہوگے‘ تمہاری وہ نام نہاد شہرن بیوی کا باپ۔‘‘ بابا صاحب کے لہجے میں اب بھی وہی تنفر اور نفرت کا ریلا تھا۔
’’جب علم ہوا کہ تم یہاں نہیں ہو تو تمہاری حالت کا سن کر کہنے لگا کہ وہ اپنی بیٹی کو اس گھر سے لے کر جانا چاہتا تھا۔ مجھے بھلا کیا فرق پڑتا تھا لیکن مجھے تمہارا خیال تھا کہ تم باپ کو غلط نہ سمجھنے لگو۔ ثبوت کے طور پر یہ تحریر لکھوالی تھی یہ اس کے انگوٹھے بھی موجود ہیں اس پر۔‘‘ حیات علی نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’کچھ بتایا کہ وہ کہاں لے کر جارہا تھا زیبن کو۔‘‘ یہ سب سن کر حیات علی کے دل کو مزید پتنگے لگ گئے تھے۔
’’مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں۔‘‘ انہوں نے کندھے اچکائے تھے۔ حیات علی نے نہایت بے بسی سے انہیں دیکھا تھا‘ آنکھوں میں شکایت‘ گلہ اور اذیت نجانے کیا کچھ تھا۔
صفدر ایک جواری‘ بدقماش اور نشہ باز انسان تھا‘ نجانے وہ زیبن کو لے کر کہاں گیا تھا۔ وہ نڈھال سے پلٹ آئے تھے۔ وہ اس دن شہر کے لیے روانہ نہیں ہوئے تھے چند دن گزرے تو پھر دل میں خیال آیا کہ ضرور مہرالنساء کو تو بہن کا علم ہوگا۔ ان کے اندر ہمت بڑھی تھی وہ اسی وقت شہر کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔ وہ کچھ گھنٹوں کے بعد پھر مہرالنساء کے گھر کے سامنے تھے انہوں نے چوکیدار سے مہرالنساء سے ملنے کا کہا تھا۔ چوکیدار کا دل تو مانا ہی نہ تھا لیکن پھر کچھ پیسے دینے پر اندر چلا گیا تھا۔
’’بیگم صاحبہ کہتی ہیں وہ کسی حیات علی کو نہیں جانتیں‘ آئندہ یہاں مت آیئے گا ورنہ پولیس کو بلوالیں گی۔‘‘ حیات علی کچھ دیر کھڑا رہا تھا‘ وہ چوکیدار کی منتیں کرتا رہا تھا کہ وہ ایک بار مہرالنساء سے سے ملوادے لیکن چوکیدار بھی مجبور تھا‘ نہیں مانا تھا۔ مجبوراً ناامید ہی وہاں سے پلٹنا پڑا تھا اس نے سوچا کہ وہ کل پھر آئے گا شاید مہرالنساء کو اس پر ترس آہی جائے۔
ء…/…ء
جیدی انا کی طرف بڑھا تو وہ مارے خوف کے کئی قدم پیچھے ہٹی تھی۔
’’ڈونٹ ٹچ می۔‘‘ وہ چیخی تھی۔
’’آپشنز تو تمہیں کاشفہ نے دیئے تھے اگر قبول کرلیتیں تو مجھے برداشت نہ کرنا پڑتا۔‘‘ وہ خباثت سے مسکراتا انا کی طرف بڑھا تھا‘ انا کا مارے خوف کے بُرا حال تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بے ہوش ہوکر گر پڑے گی۔ اس شخص نے ہاتھ بڑھا کہ انا کا بازو پکڑنا چاہا تھا انا ایک دم ہاتھ جھٹک کر دوسری طرف بھاگی تھی۔
’’دروازبند‘ کھڑکیاں بند… کہاں تک بھاگو گی۔‘‘ وہ مکروہ ہنسی ہنسا تھا۔ انا نے اضطرابی کیفیت میں اردگرد دیکھا تھا شاید اپنے بچائو کے لیے اسے کمرے میں کوئی چیز مل جائے لیکن وہاں ایسی کوئی چیز تھی ہی نہیں شاید بہت سوچ سمجھ کر اس کمرے کا انتخاب کیا گیا تھا۔
’’دیکھو میں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا‘ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز چھوڑدو مجھے۔‘‘ وہ کسی کے سامنے بھی نہ ہارنے والی لڑکی اس بدفطرت انسان کے سامنے ایک دم ہاتھ جوڑ کر سسک اٹھی تھی۔
’’میں کاشفہ سے پیسے لے چکا ہوں‘ تمہارا اور اس کا معاملہ سیٹ ہوجاتا تو ٹھیک لیکن اب میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ پھر اس کی طرف بڑھا تھا‘ انا کو اپنا آپ ایک گہری دلدل میں گرتا محسوس ہورہا تھا‘ آنسو شدت سے بہنے لگے تھے۔
کاشفہ نے انتہائی گھٹیا چال چلتے اسے زیر کرنا چاہا تھا اور اپنی شکی فطرت کے سبب وہ کتنی آسانی سے اس کے جال میں پھنس گئی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ ابھی موت آجائے یا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے اسے ایک دم اپنے آپ سے کراہیت اور شدید نفرت سی محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ اپنی بداعتمادی کے سبب آج اپنے لیے جہنم خرید چکی تھی۔
’’پلیز مجھے چھوڑ دو‘ پلیز…‘‘ وہ اس کے سامنے سسکنے لگی تھی۔
’’اس کمرے میں کیمرے لگے ہوئے ہیں میں تمہیں چھوڑتا ہوں تو خود پھنستا ہوں‘ ویسے بھی تم جیسی لڑکی کو کون کافر چھوڑ سکتا ہے بھلا۔‘‘ وہ خباثت سے مسکرایا انا نے ایک دم گھبرا کر در و دیوار کو دیکھا۔
’’دیکھو ہونا تو وہی ہے جو ہم طے کرچکے ہیں اس لیے بھاگنے کی بجائے میرے ساتھ تعاون کرو تمہارا ہی فائدہ ہوگا۔‘‘ وہ اس کے قریب آکر پھر کہہ رہا تھا‘ انا وحشت سے دیوار کے ساتھ جالگی تھی۔ اس کمرے کی حدود میں اپنا بچائو کرنا ناممکن سی بات تھی۔
’’میں کاشفہ کے ساتھ ہر طرح کی ڈیل کرنے کو تیار ہوں‘ تم اسے بلوادو پلیز۔‘‘ ایک دم سسکتے ہوئے اس نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
وہ شدت سے رو رہی تھی۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا وہ شخص بے اختیار مسکرایا تو انا ایک دم اس کا ہاتھ جھٹک کر ایک طرف کھسکی تھی۔
’’بڑی جلدی لائن پر آگئی ہو تم یہی بات جب تم سے کاشفہ نے کہی تھی تب تو تم مانی ہی نہ تھی۔‘‘ وہ روتی رہی تھی۔ اس شخص نے ایک بھرپور نظر انا پر ڈالی تھی۔ اس بھاگ دوڑ میں اس کے وجود سے چادر سرک کر صرف ایک کندھے پر جھول رہی تھی۔ بغیر کسی بناوٹ کے بالکل بے ریا چہرہ خوب صورتی میں و ہ بہت کمال تھی لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا تھا اس نے موبائل نکال کر نمبر ملایا تھا۔
’’ہاں مان گئی ہے وہ۔‘‘ نجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا تھا وہ ایک دم ہنسا تھا۔
’’لڑکی ہے تو بہت خوب صورت چھوڑنے کو دل تو نہیں کررہا۔‘‘ انا سمٹ سی گئی تھی۔
’’اوکے… اوکے…‘‘ تم آجائو پھر اب خود دیکھ لو۔‘‘ اس نے کہہ کر پھر انا کو دیکھا تھا۔ اس نے اپنے وجود پر دوبارہ چادر درست کی تھی۔
’’لگتا ہے کافی اونچے گھرانے سے ہو ورنہ کاشفہ اور ایسے معاملات سے گھبرا جائے۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’تمہاری خوش قسمتی ہے کہ کاشفہ نے محض تمہیں ڈرانے دھمکانے کو میرا استعمال کیا ہے ورنہ تم چھوڑ دینے والی لڑکی تو نہیں ہو۔‘‘ اس نے قریب آکر پھر انا کے چہرے کو چھونا چاہا تھا وہ فوراً سائیڈ پر سرک گئی تھی‘ کچھ دیر میں کاشفہ اور اس کی دوست واپس آگئی تھیں۔
’’تم جائو۔‘‘ جیدی کو کہہ کر وہ ایک طرف کھڑی سسکتی ہوئی انا کی طرف بڑھی تھی۔
’’خوش قسمت ہو جو مجھے تم پر ترس آگیا ورنہ تو میں نے طے کر رکھا تھا تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتیں۔ تمہاری ویڈیو دیکھ کر نہ صرف ولید تم سے نفرت کرنے لگتا بلکہ ساری دنیا میں تم بدنام ہوجاتیں۔‘‘ جیدی کے جانے کے بعد اس نے ہنس کر کہا تھا۔ انا کا جی چاہا کہ اس کے پاس کاش کوئی چیز ہو اور وہ اس لڑکی کو قتل کر ڈالے۔
وہ اس وقت اپنی زندگی کے بھیانک ترین لمحوں کو گزار رہی تھی اور کسی طرح ان لڑکیوں کے چنگل سے نکلنا چاہتی تھی۔ اسے ان کے ساتھ آئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے اور اگر وہ شام تک گھر نہ پہنچتی تو… نئی سوچوں اور نئے تفکرات نے اسے گھیر لیا تھا۔
’’تم ولید کی زندگی سے نکل جائو گی کیا؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔ انا کو لگا اس کے دل پر ہی نہیں سارے وجود پر آری چل گئی ہو۔
’’تم کو ہمارے ساتھ دو ایگری منٹ سائن کرنا ہوں گے۔‘‘ کاشفہ نے اپنے پرس کی جیب سے دو کاغذ نکال کر اس کے سامنے لہرائے تھے۔ ’’یہ ایگری منٹ میرے لیے ہوگا۔‘‘ اس نے ایک ایگری منٹ انا کی آنکھوں کے سامنے کیا تھا۔ ’’اس میں درج ہے کہ تم ولید کی زندگی سے نکل جائو گی‘ اسے اپنی طرف سے بدظن کرکے میری طرف راغب کرو گی۔ ولید اور اپنی فیملی سے کچھ بھی نہیں کہو گی اگر کسی کو کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو تمہاری یہ ویڈیو ساری دنیا میں پھیلا دوں گی اور اگر زیادہ ہوشیاری کرنے کی کوشش کی اور ہمیں دھوکہ دیا تو اس بار ٹارگٹ تمہاری فیملی اور ولید بنے گا۔ میں کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ انا نے انتہائی بے بسی سے کاشفہ کو دیکھا تھا۔
’’تمہارا باپ اور بھائی سارا دن آفس ہوتے ہیں‘ ولید کا باپ بیمار رہتا ہے۔ تمہاری بھاوج گھر میں اکیلی ہوتی ہے‘ تمہاری مام مغرب کے بعد بوتیک سے لوٹتی ہیں۔ ہمیں سب کی روٹین کی خبر ہے‘ سمجھ لو تم نے کسی سے کچھ کہا یا واپس جاکر کوئی ہوشیاری کی تو ان سب میں سے کسی نہ کسی کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی۔‘‘ کاشفہ اسے دھمکا رہی تھی۔
’’ویسے بھی تمہیں اپنی فیملی بہت پیاری ہے ان پر حرف تو کبھی نہیں آنے دو گی اور سب سے بڑھ کر ولید ضیاء اس کی زندگی کی خاطر تو تمہیں یہ سب کرنا ہی ہوگا۔‘‘ وہ مسکرائی تھی۔ انا کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی اسی لمحے کھڑے کھڑے مر جائے۔ وہ اپنی بداعتمادی اور شکی فطرت کے سبب آج کس دوراہے پر آکھڑی ہوئی تھی‘ جہاں صرف موت ہی موت تھی۔
’’اور اس پر تم خود لکھو گی۔‘‘ اس نے دوسرا کاغذ اس کے سامنے لہرایا تھا۔ اس نے ایک قلم نکال کر اسے بستر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا‘ انا بستر کے کنارے ٹک گئی تھی۔
’’لو اس پر لکھو۔‘‘ اس نے اسے لکھنے کے لیے ایک پیڈ دیا تھا جس پر کاغذ رکھ کر لکھنے کا اشارہ کیا تھا۔
’’کیا لکھوں؟‘‘ وہ بالکل ان کے شکنجے میں پھنس چکی تھی اس وقت ذہن بالکل مفلوج ہورہا تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح اس قید سے نکلنا چاہتی تھی‘ اپنی زندگی سے زیادہ اسے اب اپنی عزت کی پروا تھی اور وہ چاہے اب اس آزادی کے لیے کچھ بھی کرتی اس نے اپنے ذہن کو اس ایگری منٹ کے لیے ایک دم تیار کرلیا تھا۔
’’میں انا وقار خود کاشفہ کے ساتھ آئی ہوں‘ میرے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی زبردستی نہیں ہوئی۔‘‘ انا نے بہت دکھ سے کاشفہ کو دیکھا تھا۔
’’یہ کیوں لکھوا رہی ہو جبکہ دوسرے پر سائن کروائوگی تو؟‘‘
’’میری بھولی بھالی چندا‘ یہ اس لیے لکھوا رہی ہوں کہ اگر تم ڈیل کراس کرنے کا سوچو بھی تو تمہیں یاد رہے کہ تم اپنے ہاتھ پائوں کاٹ کر ہمارے حوالے کرچکی ہو۔‘‘ وہ طنز سے گویا ہوئی تھی۔
’’تم اگر ہمیں پھنسانے کی کوشش کرو گی تو پھر ہمارے پاس بھی کچھ پروف تو ہوگا نا۔‘‘ انا نے لب بھینچ لیے تھے۔ اس نے چند اور لائنز بھی لکھوائی تھیں اور پھر دونوں کاغذات پر دستخط کروالیے تھے‘ دستخط ہوتے ہی انا ایک دم کھڑی ہوگئی تھی۔
’’تمہارا کام ہوچکا ہے مجھے اب جانا ہے۔‘‘
’’اتنی جلدی کیا ہے چھوڑ آئیں گے تمہیں‘ ابھی کچھ دیر بیٹھو اور بھی بہت کچھ سمجھانا ہے تمہیں۔‘‘ اسے دوبارہ کندھے سے پکڑ کر بٹھاتے کاشفہ نے کہا تو انا ایک دم بپھر اٹھی تھی۔
’’میں سب کچھ لکھ کر دے چکی ہوں‘ سب کچھ… میرے گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے‘ مجھے شام سے پہلے ہر حال میں اپنے گھر پہنچنا ہوگا۔‘‘ وہ پھٹ پڑی تھی۔
’’کول ڈائون‘ جذباتی مت ہو‘ زیادہ بولنے کی کوشش کی تو یہاں سے نکلنے والی بات کو خواب سمجھ کر پھر بھول جانا‘ جب مجھے مناسب لگا میں چھوڑ دوں گی۔‘‘
’’یو بلڈی… تم میرے ساتھ دھوکہ کررہی ہو۔‘‘ وہ چیخنے لگی تھی۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا اسے شدت سے گھر اور سب لوگ یاد آرہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ چند پل اور ادھر رہی تو پاگل ہوجائے گی۔
’’شٹ اپ۔ آرام و سکون سے بیٹھ جائو جب میرا دل چاہے گا میں چھوڑ دوں گی۔‘‘ وہ تنفر سے کہہ کر جانے لگی تھی۔
’’تم ایسا نہیں کرسکتیں کاشفہ!‘‘ انا نے فوراً اس کا راستہ روکا تھا جواباً کاشفہ نے کھینچ کر اسے تھپڑ مارا تھا‘ انا لہرا کر بستر پر گری تھی۔
’’اب زیادہ بک بک کی تو جیدی کو بلوا کر تمہارا دماغ سیدھا کروا دوں گی۔‘‘ وہ بے رحمی سے کہہ کر کمرے سے نکل گئی تھی۔ دروازہ لاک ہوگیا تو انا ایک دم سسک اٹھی تھی۔ نجانے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔
’’کاشفہ اسے یہاں سے جانے بھی دے گی یا نہیں۔‘‘
ء…/…ء
صفدر دو تین بار صفیہ آپا کے ہاں آیا تھا‘ فیضان کو دیکھ کر اس کے اندر عجیب عجیب سے خیالات گردش کرنے لگے تھے لیکن ہر بار اپنے دل و دماغ کو پرسکون کیا تھا وہ پہلے ہی اپنی لالچی فطرت کے ہاتھوں بہت اذیت بھری زندگی گزار چکا تھا۔ اسے واپس آئے دو ماہ ہوچکے تھے‘ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔
اس دن وہ مہرالنساء سے ملنے آیا تھا‘ اب مہرالنساء پر اس کے شوہر کی طرف سے اتنی سختی نہ رہی تھی چوکیدار مہرالنساء کے کہنے پر صفدر کو آنے جانے دیتا تھا۔ وہ مہرالنساء کے پاس دو تین گھنٹے گزار کر باہر نکلا تو ٹھٹک گیا‘ حیات علی اپنی گاڑی سے نکل رہا تھا‘ وہ بھی صفدر کو دیکھ کر ساکت ہوا تھا۔
’’تم…‘‘
’’کہاں ہے میری زیب النساء؟‘‘ وہ صفدر پر چیل کی طرح جھپٹا تھا جیسے ایک لمحے کی بھی تاخیر کی تو وہ آنکھوں سے اوجھل ہوجائے گا۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘ صفدر ایک پل میں جان چکا تھا کہ حیات علی زیب النساء کی وفات کی خبر سے لاعلم ہے۔
’’اس کو اندر بٹھائو بات کرتا ہوں اس سے اچھی طرح۔‘‘ ڈرائیور ساتھ تھا‘ اس نے کمزور سے صفدر کو منٹوں میں قابو کرلیا تھا۔ مہرالنساء کا چوکیدار خاموشی سے بس دیکھ رہا تھا۔ حیات علی صفدر کو لے کر اسی گھر میں چلا آیا تھا جس میں وہ شادی کے بعد زیبن کے ساتھ رہتا تھا۔
’’مجھے کچھ خبر نہیں۔‘‘ صفدر کا وہی بیان تھا۔
’’تم نے اگر مجھے سچ نہ بتایا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ باقی ساری زندگی تم بھیک مانگتے گزار دو گے۔‘‘
’’زیب النساء میرے ساتھ ہے اور اس کا بیٹا بھی ہے ایک۔‘‘ حیات علی کی حالت دیکھ کر وہ جان چکا تھا کہ وہ زیبن کے متعلق کس قدر پریشان ہے۔ سو صفدر نے بھی سوچا کہ اچھا موقع ہے‘ زندگی ایک بار پھر مہربان ہوسکتی تھی اگر وہ تھوڑی سی عقل استعمال کرلے تو۔
’’میرا بیٹا بھی ہے۔‘‘ صفدر نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔ ’’کہاں ہیں وہ دونوں؟‘‘ حیات علی دونوں کے بارے میں جاننے کے لیے ایک دم بے قرار ہوگیا تھا۔
’’ایسے نہیں بتائوں گا چاہے جان سے بھی ماردو۔‘‘
’’تو…؟‘‘
’’خرچہ کرنا پڑتا ہے چوہدری صاحب! آپ تو چھوڑ کر چلے گئے تھے اس کے بعد اب تک زیبن اور اس کے بچے پر اتنا خرچہ کرتا رہا ہوں۔‘‘
’’میں نے بخش دین کے ہاتھ زیبن کو ایک بڑی رقم بھجوائی تھی۔‘‘
’’آپ کا باپ آپ کے جانے کے بعد آیا تھا‘ گھر سے نکال دیا تھا اس نے‘ گھر سے ایک چیز بھی لینے نہیں دی تھی۔‘‘ صفدر بھرا بیٹھا تھا۔
’’تم خود بابا کی اجازت سے لے کر گئے تھے زیبن کو۔‘‘ صفدر ہنسنے لگا تھا۔
’’بڑا سیاسی باپ ہے تمہارا‘ ایک تیر سے دو شکار‘ سانپ بھی مرگیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔‘‘
’’بکواس بند کرو صاف بتائو زیبن کہاں ہے؟‘‘
’’کم ازکم کچھ لیے دیئے بغیر تو نہیں بتائوں گا۔‘‘ وہ ہنسا تھا۔
’’ٹھیک ہے سب کچھ دوں گا جو مانگو گے پہلے زیب النساء کا بتائو۔‘‘
’’نہ صاحب‘ نشئی ہوں‘ جواری ہوں لیکن کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو والا معاملہ ہوگا۔‘‘ اس نے صاف رکھائی سے کہا تھا۔ حیات علی اندر گیا تھا اور پھر ایک پیسوں سے بھرا لفافہ لاکر صفدر کے منہ پر مارا تھا‘ صفدر اتنی بڑی رقم دیکھ کر ہی دنگ رہ گیا تھا‘ یہ تو اس کی توقع سے بہت زیادہ تھی۔
’’اب بتائو کہاں ہے زیب النساء؟‘‘ اتنی ساری رقم دیکھ کر صفدر کا دماغ تیزی سے چلنے لگا تھا۔
’’میرے ساتھ چلو گے اپنی بیوی اور بیٹے سے ملنے۔‘‘ رقم کو جیب میں منتقل کرتے وہ پرسکون تھا۔
’’ہاں ابھی چلو۔‘‘ صفدر مسکرادیا۔ وہ گاڑی میں آبیٹھا تھا کافی لمبا چوڑا سفر طے کرتے وہ جس علاقے میں پہنچے تھے وہ ایک انتہائی گندی‘ خستہ حال نئی آباد بستی تھی۔
’’تم نے اس علاقے میں زیبن کو رکھا ہوا تھا۔‘‘ جگیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو حیات علی کا دم گھٹنے لگا تھا۔
’’چوہدری صاحب غریب بندہ آپ جیسی حویلی نہیں بنواسکتا‘ مجبوری تھی۔‘‘ حیات علی نے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ انہیں ایک ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے لے کر آیا تھا۔
’’یہاں کسی کے ساتھ رہتا ہوں صاحب! تم رکو میں زیب النساء اور اس کے بیٹے کو لاتا ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر تاٹ کا پردہ کھسکا کر اندر چلا گیا تھا۔ حیات علی شدت سے ان لوگوں کا منتظر تھا لیکن جوں جوں وقت گزرنے لگا تو وہ بے چین ہوگیا تھا۔ اس نے زور سے آواز لگائی اندر سے ایک ادھیڑ عمر برآمد ہوئی تھی۔
’’صفدر کو کہیں جلدی آئے۔‘‘
’’صفدر تو کب کا جاچکا ہے۔‘‘ عورت نے بتایا تو وہ حیران ہوئے۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اس نے ہمارے کچھ پیسے دینے تھے‘ وہ دیئے اور چلا گیا۔‘‘
’’کیسے‘ ہم تو ادھر کھڑے تھے۔‘‘
’’گھر کا دوسرا دروازہ دوسری طرف کھلتا ہے ادھر سے نکلا تھا۔‘‘ حیات علی کا شدت سے جی چاہا کہ صفدر ایک پل میں اس کے سامنے آجائے تو وہ اسے شوٹ کردیں۔
وہ بڑے نامراد واپس لوٹے تھے‘ پیسہ جانے کی انہیں فکر نہ تھی لیکن زیب النساء اور اپنے بیٹے کی گمشدگی نے انہیں بالکل نڈھال کر ڈالا تھا۔
ء…/…ء
رات کے آٹھ بجے تو کاشفہ کو اس پر جیسے ترس آگیا تھا۔ وہ اسے نجانے کیا کیا دھمکیاں دیتی رہی تھی اور انا بالکل بے حس ہوتی جارہی تھی۔ وہ ایک جذباتی‘ جنونی اور اعتماد کی کمی سے محروم لڑکی تھی لیکن اس کے کردار کا فخر ہمیشہ اس کے ساتھ رہا تھا۔ جو اَب مٹی میں مل گیا تھا۔ وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس کے گھر والے اس کے بارے میں کس قدر پریشان ہوں گے اور اب تک کیا کچھ سوچ چکے ہوں گے۔ وہ بہت خوف زدہ ہوچکی تھی‘ بظاہر وہ باعزت واپس جارہی تھی لیکن ایگری منٹ کی صورت وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر کاشفہ کے حوالے کرچکی تھی۔ کاشفہ کا پاگل پن دیکھ کر وہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ کاشفہ کے ساتھ کوئی بھی غلط بیانی یا دھوکہ دہی تو وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔
کاشفہ اور اس کی دوست اسے چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اپنے گھر تک کا رستہ اس نے عالم بے ہوشی میں طے کیا تھا اور پھر اس کے بعد کے حالات نے اسے بالکل بے بس کردیا تھا۔ اسے اپنے گھر والوں اور ولید کی زندگی بہت عزیز تھی۔ کاشفہ کی دھمکیاں بدستور اس کے ساتھ تھیں اور وہ واقعی اس کی دھمکیوں سے ڈر گئی تھی۔ کئی بار جی چاہا کہ گھر والوں کو سچ بتادے کم از کم صبوحی کو تو بتادے لیکن ہر بار کاشفہ کی وہ ویڈیو والی دھمکی یاد آتی تو وہ خاموش ہوجاتی تھی۔ وہ ولید کو دیکھتی تھی تو دل پھٹنے لگتا تھا اور پھر اس نے وہ سب کرنا شروع کردیا تھا جو کاشفہ چاہتی تھی۔
حماد اتفاقاً اس کی زندگی میں آیا تھا‘ انا کو لگا اسے سانس لینے اور بچ نکلنے کے لیے کوئی رستہ مل گیا ہے اور پھر اس نے سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ وہ ولید‘ پاپا‘ ماما سب کی نظروں میں بُری بن گئی تھی۔ پاپا اسے حماد کے ساتھ رخصت کرنے پر تیار ہوچکے تھے لیکن ولید کو دیکھتی تھی تو دل کرتا تھا سب کچھ چھوڑ کر کچھ کھاکر ہمیشہ کے لیے سو جائے۔ روشی اور ولید اس کے بارے میں مشکوک ہورہے تھے اور وہ خوف زدہ تھی کہ اگر کسی کو علم ہوگیا تو نجانے وہ سب کیا سمجھیں؟ وہ بدکردار نہیں تھی لیکن کاشفہ جیسی لڑکی کی باتوں میں آکر وہ اپنا سب کچھ برباد کرچکی تھی۔
وہ اب خود کو ولید کے قابل نہیں سمجھتی تھی‘ اس نے ہمیشہ اسے شک کی نظر سے دیکھا تھا۔ کبھی کیتھی اور کبھی کاشفہ وہ تو اس کو نجانے کیا کیا سمجھتی رہی تھی اور اب ہر بات کھل جانے پرا س کے واہمے اس کا منہ چڑاتے تھے تو وہ شرم سے پانی پانی ہونے لگتی تھی۔
اس نے ولید اور وقار صاحب کو خود سے بدظن کردیا تھا۔ اس کا کھیل بالکل ٹھیک جارہا تھا لیکن اب یہ اچانک ولید کا ایکسیڈنٹ ہوجانا‘ اسے لگ رہا تھا کہ اگر ولید کو کچھ ہوا تو وہ بھی زندہ نہیں رہ پائے گی۔ وہ جو اس کے بغیر جینے کی کوشش کررہی تھی اسے اب زندگی سے دور ہوتے دیکھ کر خود بھی حوصلہ ہار چکی تھی۔ وہ جو کبھی کسی کے سامنے نہ کہتی حرف بحرف شہوار کے سامنے دل کا درد کہتی چلی گئی تھی اور شہوار بے یقینی سے سب سنتی حیرت سے گنگ بالکل پتھر بن چکی تھی۔ اتنا کچھ ہوچکا تھا اور کسی کو خبر تک نہ تھی‘ وہ بے یقین تھی۔
ء…/…ء
صفدر چھپتا پھر رہا تھا اسے حیات علی سے جو رقم ملی تھی وہ آنے والے دنوں میں اس کے بہت کام آنے والی تھی۔ وہ ایک دن صفیہ آپا کو گھر آیا تھا‘ فیضان سو رہا تھا۔ صفیہ آپا تو بازار سے کچھ سودا لانا تھا‘ وہ اسے فیضان کے پاس چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ صفدر کے دل میں نجانے کیا سمائی تھی اس نے خاموشی سے سوتے ہوئے فیضان کو اٹھایا اور گھر سے نکل گیا تھا۔
صفیہ آپا گھر آئیں تو کھلے دروازے کو دیکھ کر چونکی تھیں۔ صفدر اور فیضان دونوں غائب تھے وہ تو دونوں کو نہ پاکر ایک دم ڈھے گئی تھیں‘ مہر النساء کو خبر کی تھی وہ فوراً آگئی تھی۔ وہ باپ کی اس حرکت پر شرمسار ہورہی تھی۔ بہن کے بعد اب اس کے بیٹے کے چھن جانے پر وہ غم زدہ تھیں‘ شوہر کا خوف تھا وہ چند گھنٹے تسلی دے کر چلی گئی تھی۔
صفیہ آپا کا دل غم سے پھٹ رہا تھا‘ فیضان کے وجود نے ان کی سونی گود کو آباد کیا تھا۔ انہوں نے اسے بالکل بیٹوں کی طرح چاہا تھا۔ ان کی ممتا فیضان کے وجود سے سیراب ہوئی تھی۔ بہت دن تک ان کی آنکھ نم اور دل غم زدہ رہا تھا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے دل کو قرار آنے لگا تھا لیکن فیضان کی بھولی بھالی معصوم صورت یاد آتی تو آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔
صفدر فیضان کو لے کر اپنے نشئی دوستوں کے پاس چلا آیا تھا جن کے ساتھ وہ کچھ عرصے سے رہ رہا تھا۔ بچے کو سنبھالنے کا اسے کوئی خاص تجربہ نہ تھا نتیجتاً فیضان بیمار رہنے لگا تھا‘ صفدر صرف حیات علی کو بلیک میل کرنے کے لالچ میں فیضان کو اٹھالایا تھا لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ فیضان اور اس کی بیماریوں سے اکتانے لگا تھا۔
دوسری طرف حیات علی نے کچھ عرصہ صفدر کو تلاش کیا تھا مہرالنساء کے گھر کے بھی چکر لگاتا رہا کئی بار اس کے شوہر سے ملاقات ہوئی تھی کوئی بھی اسے کچھ بھی بتانے پر آمادہ نہ تھا۔ مہرالنساء تو حیات علی کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہ تھی اور پھر بابا صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا۔ وہ اسے پاگلوں کی طرح زیبن کے لیے خوار ہوتے دیکھ کر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتے تھے۔ زبیدہ اور بچے ابھی بھی باہر تھے‘ بچے وہیں زیر تعلیم تھے۔ بابا صاحب کو اس سارے مسئلے کا بس یہی حل دکھائی دیا کہ بچوں اور زبیدہ کو مستقل وہیں سیٹل کروادیں شاید اس طرح حیات علی بھی سنبھلنے لگے اور زیبن اور اس کے بچوں کو بھول بھال جائے اور پھر دل کے مجبور کرنے پر وہ ایک بار پھر مہرالنساء کے پاس آئے تھے اور شاید قدرت کو منظور تھا اس بار مہرالنساء اس سے ملنے پر آمادہ ہوگئی تھی۔
مہرالنساء سے ملنے کے بعد انہیں جو کچھ سننے کو ملا وہ حیرت سے گنگ رہ گئے تھے۔ مہرالنساء نے ان کے بابا صاحب اور صفدر کی سازشوں کی تمام کہانی سنا ڈالی تھی۔ زیب النساء کی موت اور پھر بچے کی گمشدگی۔ حیات علی کو لگتا تھا کہ زندگی بالکل ختم ہوچکی ہے‘ ان کے بابا صاحب اس قدر ظلم بھی کرسکتے تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے‘ مہرالنساء نے انہیں کچھ رقم لاکر دی تھی۔
’’یہ آپ کے باہر جانے کے بعد آپ کا ملازم زیبن کو دے کر گیا تھا‘ اتنی بڑی رقم گم ہوجانے کے ڈر سے زیبن نے مجھے امانتاً دے دی تھی تب سے میرے پاس تھی۔ فیضان بڑا ہوتا تو اسے دے دیتی اب وہ ہے نہیں میرے بھلا کس کام کی۔‘‘ حیات علی کا دل بھر آیا‘ زیبن واقعی ایک باکردار نیک دل لڑکی تھی‘ ان کا دل زخم زخم تھا۔ وہ غم سے نڈھال تھے۔
وہ کتنے بدنصیب تھے اتنی وسیع اراضی کے مالک لیکن ان کی محبوب بیوی ترستے سسکتے دنیا سے چلی گئی تھی۔ انہوں نے مہرالنساء کو باہر کا ایڈریس لکھوایا تھا اور فون نمبر بھی لے لیا تھا۔ مہرالنساء بھی جیسے ہر طرح سے تعاون کرنے پر آمادہ تھی‘ اس نے انہیں یقین دلایا تھا کہ جیسے ہی فیضان کی کوئی خبر ملے گی وہ انہیں اطلاع کردے گی اور پھر وہ واپس حویلی پہنچے تھے۔ بابا صاحب سے اس کی شدید لڑائی ہوئی تھی اور وہ ان سے ہر طرح کا تعلق ختم کرتے باہر چلے آئے تھے۔
اپنے سالے کے ساتھ رہنے کی بجائے انہوں نے علیحدہ گھر لے لیا تھا‘ مہرالنساء کو نیا ایڈریس بھی دے دیا اور پھر زندگی گزرنے لگی تھی‘ اپنی رفتار اور جون میں۔
وقت کب کسی کے روکے رکتا ہے‘ چار سال پلک جھپکنے میں گزرے تھے لیکن حیات علی کو لگتا تھا کہ زندگی جیسے رک سی گئی تھی‘ ان کے اندر ہمیشہ کیلئے خزاں کا موسم ٹھہر گیا تھا۔ اکثر راتوں کو سوتے انہیں کفن میں لپٹی زیبن دکھائی دیتی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتے تھے۔ یہ ان کے اندرکا احساس ندامت تھا جو انہیں سونے نہیں دیتا تھا اور پھر ان کی راتیں جاگتے گزرنے لگی۔
زبیدہ ان کی حالت دیکھ کر بھی الجھنے لگتی اور کبھی رو پڑتی۔ زیب النساء کی موت کی خبر حیات علی کی زبانی اسے بھی مل چکی تھی‘ دل میں سکون سا جیسے اتر گیا تھا لیکن حیات علی کا رویہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا تھا۔ سال بعد ایک روز ان کو ایک کال موصول ہوئی تھی۔ پاکستان سے آنے والی مہرالنساء کی یہ کال انہیں جیسے کسی جمود کے حصار سے باہر کھینچ لائی تھی وہ فوراً پاکستان جانے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔
بچے اور زبیدہ بھی ساتھ جانے پر بضد تھے لیکن وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر فوراً پاکستان پہنچے تھے۔ وہ مہرالنساء کے گھر پہنچے تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی مہرالنساء جیسے انہی کا انتظار کررہی تھی۔ مہرالنساء کی بیٹی افشاں بہت پیاری بچی تھی‘ مہرالنساء کو شوہر کی سختی اور حالات کے غموں نے کھا لیا تھا۔
کچھ دن پہلے دو آدمی آئے تھے وہ اسپتال کے کارندے تھے کب وہ صفدر کی خبر لے کر آئے تھے‘ ایک رات نشے میں دھت صفدر کسی گاڑی تلے آ کر کچلا گیا تھا۔ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی‘ بیماریوں سے نڈھال مہرالنساء شوہر کی پروا کیے بغیر اسپتال گئی تھی‘ جہاں باپ کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔ موت کی دہلیز پر کھڑے صفدر سے مہرالنساء نے جب فیضان کا پوچھا تو صفدر نے جو انکشاف کیا تھا مہرالنساء کو لگا کہ جیسے اس کے وجود سے کسی نے جان کھینچ لی ہو۔
صفدر فیضان کو لالچ کی خاطر لے تو گیا تھا لیکن آئے دن فیضان کی بیماری نے اسے اس سے بدظن کردیا تھا۔ وہ اس سے بے زار ہوچکا تھا‘ صفدر کی ساری زندگی جیسے فیضان کی وجہ سے پابند ہوگئی تھی وہ اب فیصان کو اپنے ساتھ لانے پر پچھتانے لگا تھا۔ وہ حیات علی کے گائوں نہیں جاسکتا تھا اور حیات علی کی کوئی خبر نہ تھی ورنہ اسے بلیک میل کرکے اس کا بیٹا اس کے حوالے کردیتا۔ وقت گزرنے لگا تو فیضان کی بیماری بھی بڑھنے لگی۔ صفدر اس پر پیسہ لگانے سے بھی کترانے لگا تھا‘ وہ واپس آیا صفیہ کے پاس جاکر اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا کہ کہیں وہ پولیس کو بلوا کر اسے پولیس کے حوالے نہ کردے اور پھر ایک رات حیات علی اور اس کے باپ سے انتقام لینے کے لیے فیضان کے وجود سے تنگ آکر فیضان کو ایک یتیم خانے کے دروازے پر پھینک کر بھاگ لیا تھا۔‘‘ حیات علی مہرالنساء کے منہ سے یہ سب سن کر ایک دم کانپ گیا تھا۔
باپ کے زندہ ہونے کے باوجود ان کا بیٹا ایک یتیم کے طور پر پل رہا تھا۔ وہ سسک اٹھے تھے‘ کیسی بے رحم زندگی تھی‘ کیا محبت کرنے کی اتنی کڑوی سزا ہوتی ہے۔
’’صفدر نے کچھ بتایا کہ وہ فیضان کو کس یتیم خانے میں چھوڑ کر آیا تھا؟‘‘
’’نہیں‘ ابا کی طبیعت بگڑنے لگی تھی اور ڈاکٹروں نے مجھے ڈانٹ کر وہاں سے ہٹادیا تھا اور پھر جب دوبارہ ابا سے سامنا ہوا تو وہ مرچکا تھا‘ اب اسے مرے پندرہ دن گزر چکے ہیں۔‘‘ حیات علی کو لگا وہ جیسے پاگل ہوجائے گا۔
مہرالنساء کا شکریہ ادا کرتے وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا۔ وہ شہر کے مختلف یتیم خانوں میں جاچکا تھا لیکن کوئی خبر نہ ملی۔ یتیم خانے والوں نے ان کی فراہم کردہ معلومات نوٹ کرلی تھیں اور انہیں کچھ دن بعد آنے کا کہا تھا۔ اس دن وہ پھر یتیم خانے آئے تھے وہ آفس میں آئے تو وہاں سامنے بیٹھے جوڑے کو دیکھ کر ٹھٹک گئے تھے۔
’’سبحان اور حاجرہ۔‘‘ ان کے لب ہلے تھے انہوں نے بھی حیات علی کو فوراً پہچان لیا تھا۔
’’تم دونوں یہاں کیسے‘ اور پاکستان کب آئے؟‘‘
’’ایک لمبی کہانی ہے تم سنائو یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ گلے ملنے اور خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد دونوں نے یہاں موجودگی کا سبب جاننے کی کوشش کی تھی۔
’’میں…‘‘ حیات علی افسردہ ہوگیا تھا۔ ’’مجھے میری قسمت یہاں لے آئی ہے بس‘ تم کیسے آئے یہاں؟‘‘
’’شادی کے اتنے سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ہم دونوں اولاد کی نعمت سے محروم ہیں‘ بہت علاوج کروا دیکھے‘ گھر والے دوسری شادی پر زور دیتے ہیں جبکہ میں ایسا نہیں چاہتا ہم دونوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم کوئی بچہ اڈاپٹ کریں گے‘ یہیں اپنے پاکستان سے بچہ ساتھ لے کر جائیں گے۔‘‘
’’چلو بڑی نیکی کا کام ہے یہ تو‘ اللہ تمہیں اجر دے اس نیکی کا۔‘‘ حیات علی نے افسردگی سے کہا تھا۔
’’حیات علی صاحب آپ نے جو معلومات فراہم کی ہیں اس کے مطابق ہم نے کچھ بچوں کو نکالا ہے آپ دیکھ لیں۔‘‘ آفیسر نے کہا تو سبحان نے چونک کر دیکھا۔
’’ایک لمبی کہانی ہے پھر بتائوں گا‘ آئو بچوں کو دیکھتے ہیں۔‘‘ وہ سبحان کو ساتھ لیے بچوں کو دیکھنے چل دیئے تھے وہاں کچھ بچے تھے‘ ایک بچے کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئے تھے۔
’’یہ جاوید ہے یہ جب ہمیں ملا تھا دو سال کا تھا اسے بھی باہر کوئی ڈال گیا تھا۔‘‘ آفیسر انہیں ساتھ ساتھ بچوں کے بارے میں معلومات بھی دے رہا تھا۔
’’یہ فیضی ہے‘ یہ جب ہمیں ملا تھا اس کی عمر تقریباً تین سال تھی۔ انتہائی بیمار اور ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا‘ اس کی حالت بہت خطرناک تھی یہ بھی گیٹ پر پڑا ملا تھا۔ ہم نے اس کا علاج کروایا تھا‘ اس کے کپڑوں میں سے ایک کاغذ بھی نکلا تھا جس پر فیضی لکھا ہوا تھا یہ کسی ڈاکٹر کی دکان کی پرچی تھی ہم نے وہاں سے پتا کروایا تو پتا چلا تھا کہ یہ بیمار تھا اور ایک آدمی اس کو لے کر اس ڈاکٹر کے پاس آیا تھا انہوں نے ایک نسخہ لکھ دیا تھا دوبارہ وہ شخص نہیں آیا تھا۔ اس کے کپڑوں میں سے اس نسخے کے علاوہ دوائیاں بھی ملی تھیں‘ جیسے کوئی ڈاکٹر کی دکان سے دوا لے کر سیدھا ادھر ہی ڈال گیا ہو۔‘‘ یہ وہی بچہ تھا جسے دیکھ کر حیات علی چونکے تھے۔
نجانے کیوں ان کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ ہی ان کا فیضان ہے بالکل زیبن کی طرح سنہری چمکتی آنکھیں اونچی لمبی کھڑی ناک پتلے ہونٹ اور متناسب پیشانی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھ رکھا تھا لیکن ان کا دل گواہی دے رہا تھا کہ یہی ان کا فیضان ہے۔
’’وہ نسخہ جس ڈاکٹر نے لکھ کر دیا تھا وہ کس علاقے میں ہے۔‘‘ حیات علی نے بچے کو ساتھ لگا کر پیار کرتے آفیسر سے پوچھا تھا۔
’’آپ دفتر میں چلیں ہم معلومات دے دیتے ہیں۔‘‘ حیات علی نے اس بچے کو پھر پیار کیا تھا۔ دفتر کے عملے نے ایڈریس دے دیا تھا‘ وہیں بیٹھے بیٹھے سبحان کو ساری کہانی سنا ڈالی تھی سبحان بہت دکھی ہوا تھا سب سن کر۔ وہ اسی وقت سبحان اور اس کی بیگم کے ہمراہ اس علاقے میں گئے تھے ان کو ڈاکٹر کا کلینک مل گیا تھا‘ انہوں نے یتیم خانے کا وہ سابقہ ریکارڈ اس ڈاکٹر کو دکھایا تھا۔
’’اس بچے کے بارے میں کچھ لوگ پہلے بھی کچھ معلومات کرنے آئے تھے۔‘‘ ڈاکٹر نے بتایا تو انہوں نے سر ہلادیا تھا۔
’’ہمیں بس اس آدمی کا پتا کرنا ہے جو اس بچے کو لے کر آیا تھا۔‘‘
’’وہ آدمی اس کے کافی عرصے بعد پھر دو تین دفعہ میرے کلینک آیا تھا‘ کوئی نشئی تھا اپنا نام صفدر لکھوایا تھا۔ شکل سے غنڈہ ٹائپ لگتا تھا۔ یتیم خانے والوں نے مجھے جب بھی وہ آدمی آئے اطلاع کرنے کو کہا تھا لیکن میں ایک غریب سا آدمی ہوں کلینک ہی سب کچھ ہے۔ میں ڈر گیا تھا کہ کہیں کوئی جھگڑا نہ ہو‘ میں نے اطلاع نہیں کی تھی۔ اب سے ایک ماہ پہلے بھی میرے کلینک آیا تھا بے تحاشا سگریٹ نوشی نے اس کے گردوں اور پھیپھڑوں کو فیل کردیا تھا اس سے زیادہ میں نہیں جانتا۔‘‘ ڈاکٹر نے جو بھی بتایا تھا حیات علی کو لگا جیسے دل میں سکون سا اتر تا چلا گیا ہے‘ وہ فیضی ہی ان کا فیضان تھا۔ ان کا بیٹا‘ ان کا لخت جگر۔
’’اگر آپ کو صفدر کی تصویر دکھائی جائے تو کیا آپ پہچان لیں گے؟‘‘ حیات علی نے پوچھا تو ڈاکٹر نے سر ہلادیا تھا۔
زیبن شادی کے بعد اپنے گھر سے کچھ پرانی تصاویر لے کر آئی تھی جو چند سال قبل کی تھیں وہ ابھی بھی وہیں تھیں باہر جاتے وقت وہ صرف زیبن کی تصویریں لے کر گئے تھے صفدر کی تصویریں وہیں الماری میں پھینک دی تھیں‘ وہ ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتے اٹھے تھے۔ وہ گھر گئے الماری میں اب بھی وہ پھٹی پرانی تصاویر موجود تھیں وہ لے کر دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئے تھے‘ ڈاکٹر تصویر دیکھ کر الجھا تھا۔
’’انیس بیس کا فرق لگ رہا ہے‘ جو شخص میرے پاس آیا تھا اس کے منہ پر داڑھی بھی تھی صاحب! اور وہ بوڑھا بوڑھا سا تھا جبکہ یہ جوان لگ رہا ہے۔‘‘ حیات علی نے پینسل لے کر تصویر کے منہ پر داڑھی بنادی تھی۔
’’ہاں کچھ کچھ وہی لگ رہا ہے بس یہاں آنکھیں بڑی بڑی اور کشادہ ہیں جبکہ وہ جب بھی میرے پاس آیا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔‘‘ ڈاکٹر کے بیان کے بعد اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔
’’شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ نے بہت تعاون کیا۔‘‘ حیات علی اٹھ گیا تھا۔ وہ لوگ حیات علی کے گھر آگئے تھے‘ حاجرہ ساتھ ہی تھی۔
’’بہت ہی بُرا ہوا تمہارے ساتھ بھی‘ بھابی اور بچے کے ساتھ بھی‘ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’اب جب ہم کل یتیم خانے جاتے ہیں تو بھابی کی بہن کو بھی ساتھ لے لینا ہوسکتا ہے وہ بچے کو پہچان لیں۔‘‘
’’بچے کو تو میں بھی پہچان چکا ہوں بس کنفرم کرنا باقی ہے۔‘‘ حاجرہ جو اتنے عرصے سے بالکل خاموش تھیں دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر قریب آبیٹھی تھی۔
’’میں سوچ رہی تھی کہ ہم کسی بچے کو اڈاپٹ کرنے آئے تھے لیکن بھائی صاحب کی کہانی سن کر ادھر چلے آئے کیوں نہ ہم اپنے فیضان کو ہی اڈاپٹ کرلیں۔‘‘ حاجرہ کی بات پر دونوں چونکے تھے۔
’’نہیں‘ میں اب اپنے بیٹے کو خود سے جدا نہیں کروں گا۔‘‘ حیات علی نے قطعیت سے کہا تھا۔
’’آپ کو شاید بُرا لگے لیکن ایک بات کہوں گی اگر آپ بچے کو ساتھ لے جاتے ہیں تو آپ کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کے بابا صاحب اور بیوی کے علاوہ کوئی بھی یہ حقیقت نہیں جانتا کہ آپ نے دوسری شادی بھی کر رکھی تھی اور آپ کا بیٹا بھی ہے بعد میں نجانے کیا حالات ہوں‘ سارا اثر بچے پر پڑے گا۔ بچے کی شخصیت متاثر ہوگی اگر آپ بچے کو بہترین ماحول دینا چاہتے ہیں تو آپ ہم پر بھروسہ کرسکتے ہیں ہم بالکل اسے اپنے بیٹے کی طرح پالیں گے۔‘‘ حاجرہ کے الفاظ پر سبحان بھی متفق ہوگیا تھا۔
’’حاجرہ ٹھیک کہہ رہی ہے‘ تم امانتاً اپنا بیٹا ہمیں دے دو‘ رہے گا تو وہ تمہاری اولاد ہی نا۔ ہم صرف اسے پالیں گے‘ پڑھائیں گے بڑا کریں گے۔ ہم صرف اسے اڈاپٹ کریں گے اس سے کچھ نہیں چھپائیں گے‘ تم اچھی طرح سوچ لو‘ فیصلہ مشکل ہوگا لیکن تمہارے لیے اس میں بہت سی آسانیاں ہوں گی۔‘‘ سبحان کے الفاظ پر حیات علی سوچ میں پڑگیا تھا۔
’’ہم اس کو اپنے ساتھ امریکہ لے جائیں گے تم اس کے فیوچر سے متعلق بالکل بے فکر ہوکر فیصلہ کرسکتے ہو۔‘‘ حیات علی کے سامنے سوچ کا ایک اور در دوا ہوا تھا۔
اگلے دن وہ مہرالنساء کو لے کر دوبارہ یتیم خانے گئے تھے‘ فیضی کو بلوایا گیا تھا۔ فیضی کو دیکھتے ہی مہرالنساء ایک دم رو دی تھی۔
’’یہ ہی ہمارا فیضان ہے‘ ہمارے فیضان کے کندھے کے پچھلی طرف چاند گرہن کا سرخ نشان تھا۔ بھائی صاحب آپ دیکھیں اس کے جسم پر بھی ہوگا۔‘‘ مہرالنساء کے الفاظ نے گویا حیات علی کو زندگی بخش دی تھی۔ مہرالنساء نے خود ہی شرٹ اتار کر دیکھا تو ایک دم رو دی تھی۔ بالکل ویسا ہی نشان اس فیضی کے کندھے پر بھی تھا‘ اب تو جیسے ہر بات کی تصدیق ہوچکی تھی‘ حیات علی کو اپنا بیٹا مل گیا تھا۔
اب دنیا کی کوئی بھی طاقت ان سے ان کا بیٹا نہیں چھین سکتی تھی تاہم اس کے بہتر مستقبل کے لیے ابھی انہیں بہت کچھ سوچنا تھا‘ مہرالنساء کو واپس اس کے گھر چھوڑ دیا تھا۔ مہرالنساء نے جاتے وقت ان سے ایک بات کہی تھی۔
’’زیب النساء چاہتی تھی کہ اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کی شادی میری افشاں سے کرے گی‘ کہنے والی تو مرگئی لیکن بھائی صاحب زندگی نے وفا کی تو یہ میری زیبن کی امانت ہے آپ کے پاس میں ایک بار زیبن کی بات پوری کرنے ضرور آئوں گی اگر آپ کی رضا مندی ہوئی تو…‘‘ مہرالنساء چلی گئی تھی لیکن ان کے لیے بہت ساری سوچوں کے در کھل گئے تھے‘ وہ فیضان کو اپنے ساتھ گھر لے آئے تھے۔
اگلا پورا ہفتہ انہوں نے پانچ سالہ فیضان کے ساتھ گھوم کر گزارنا تھا‘ ہر وہ جگہ جہاں وہ زیبن کے ساتھ گئے تھے وہ فیضان کو لے کر گھومے تھے اور ہر وہ مقام جہاں زیبن ان کے ہم قدم تھی انہوں نے فیضان کو دکھایا تھا۔ اس کی ماں کی تصویریں دکھائی تھیں‘ ایک تصویر تو ہر وقت ان کے بٹوے میں موجود رہتی تھی۔ وہ اس کو رشتوں سے آشنا کروارہے تھے‘ اس کے لیے دنیا جہاں کی چیزیں خرید رہے تھے کہ سبحان اور حاجرہ سوالی بن کر ایک بار پھر ان کے پاس آئے تھے۔
’’ہم جانتے ہیں آپ کے لیے اپنے بیٹے کو خود سے دور کرنا بہت مشکل ہے لیکن ہماری محرومی اور بچے کے مستقبل کے بارے میں ضرور سوچ لیں۔ آپ کے بیٹے کو آپ کا یہ خاندان کبھی قبول نہیں کرے گا لیکن اگر وہ ہمارے ساتھ رہا تو ہم ضرور اسے کسی قابل بنادیں گے۔‘‘ حاجرہ کہہ رہی تھی۔
حیات علی نے صحن میں اپنے کھلونوں سے کھیلتے فیضان کو دیکھا اور پھر سبحان اور حاجرہ کو جو بڑی امید بھری نگاہوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔
’’چلو ٹھیک ہے‘ اپنے بیٹے کے مستقبل کے لیے میں یہ جوأ کھیلنے کو بھی تیار ہوں بس مجھ سے وعدہ کرو میرے بیٹے کو کبھی کوئی کمی‘ کوئی تکلیف نہیں ہونے دو گے۔‘‘ کہتے کہتے ان کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ سبحان اور حاجرہ بھی نم آنکھیں لیے اسے امید دلاتے نئے وعدے کرتے ہمیشہ فیضان کا خیال رکھنے کی باتیں کرنے لگے تھے۔
ء…/…ء
شہوار گھر چلی آئی تھی انا اسپتال آئی تو ابھی بھی وہی ماحول تھا۔ مسلسل گریہ و زاری سے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں‘ چہرے کے نازک حصوں پر سرخی غالب تھی۔ وہ وقار صاحب کے ساتھ اسپتال آئی تھی بڑی سی چادر اوڑھے وہ بالکل ساکت سی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر وقار صاحب کئی بار چونکے تھی تاہم بولے کچھ نہ تھے۔
وہ صبوحی بگیم سے ملی وہ اب بہتر تھیں انہوں نے اس سے بات چیت بھی کی تھی۔ ان کے آنے کے بعد روشی اور ضیاء ماموں کو پاپا نے زبردستی گھر بھجوادیا تھا۔ مصطفی ابھی بھی اسپتال میں تھا‘ احسن تو خود پریشان اور بکھرا ہوا تھا اس لیے مصطفی کے وجود سے بہت ڈھارس مل رہی تھی سب کو۔
’’بیٹا! تم بھی تھک گئے ہوگے‘ گھر جاکر آرام کرو۔ ہم ادھر ہی ہیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ مصطفی ڈاکٹر سے ساری رپورٹ لے کر لوٹا تو وقار صاحب نے کہا۔
’’انکل ٹینشن مت لیں‘ میں ادھر ہی ہوں‘ جب تک ولید کو ہوش نہیں آجاتا میں ادھر سے نہیں ٹلنے والا۔‘‘ ان کا کندھا سہلا کر وہ احسن کی طرف بڑھ گیا تھا جو نڈھال سا بیٹھا ہوا تھا۔ انا ان خی قریب آرکی تھی۔
’’تم باہر کیوں آگئیں ماما ٹھیک ہیں نا؟‘‘ احسن نے کھڑے ہوکر پریشان سے پوچھا تو اس نے سر ہلادیا۔
’’وہ سو رہی ہیں۔‘‘
’’میں دیکھتا ہوں۔‘‘ وہ فوراً کمرے کی طرف چلا گیا تھا‘ مصطفی نے انا کو دیکھا۔ عجیب سی غم زدہ اور نڈھال سی دکھائی دے رہی تھی۔
’’طبیعت ٹھیک ہے۔‘‘ مصطفی نے پوچھا تو اس نے بس سر ہلایا تھا جبکہ آنکھوں میں ایک دم آنسوئوں کا سیلاب آٹھہرا تھا۔
’’میں ولی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے آنسوئوں کو روکنے کی کوشش کرنا چاہی تھی لیکن بے اختیار آنسو بہہ نکلے تھے۔
’’اوکے‘ آئیں۔‘‘ مصطفی نے اسے بغور دیکھتے قدم آگے بڑھا دیئے تھے۔ اسے آئی سی یو میں جاتے دیکھ کر وقار صاحب کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔ مصطفی کے ساتھ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو عجیب سرد سا ماحول تھا وہاں‘ ہر طرف موت کی سی خاموشی تھی‘ انا کا دل لرزنے لگا تھا۔
وہ مصطفی کے ساتھ بیڈ تک آئی‘ ولید ابھی تک اسی کیفیت میں تھا‘ اس نے آہستگی سے ولید کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ مصطفی نے خاموشی سے اسے دیکھا اور پھر نرس کو باہر نکلنے کا اشارہ کرتے خود بھی باہر نکل گیا تھا۔
انا ان دونوں کے جانے کے بعد ولید کے ڈرپ لگے ہاتھ کو احتیاط سے اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر جھکی تھی‘ پاس پڑی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کے اندر پشیمانی اور پچھتاوئوں کے ایسے ناگ تھے جو ہر لمحہ اسے ڈس رہے تھے جن کے حصار میں جکڑے وہ بالکل بے بس ہوچکی تھی۔
’’ایم سوری ولی۔‘‘ وہ اپنے آپ سے سخت شرمندہ تھی۔ ولید کے ہاتھ کو چہرے سے لگاتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
’’میں نے آپ کو بہت ہرٹ کیا ہے‘ ہمیشہ بدگمانی کا اظہار کیا‘ اپنے خود ساختہ واہموں اور بدگمانیوں میں جکڑی آپ کی محبت اور توجہ کو شک کی نظروں سے دیکھتی رہی۔ ہر لمحہ آپ کو تنک کیا‘ میں بہت بُری ہوں لیکن پلیز مجھے ایسی سزا مت دیں۔ آپ کو کچھ ہوا تو میری سانسیں بھی رک جائیں گے‘ آپ پلیز واپس آجائیں میں ہر سزا جھیلنے کو تیار ہوں پلیز ایسا مت کریں۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں نے کئی با ولید کے سرد ہاتھ کو چھوا تھا‘ اس کی گریہ و زاری کا اور ہی عالم تھا۔
وہ بالکل بے بس ہوچکی تھی‘ اس کے دل نے اسے بالکل مات دے دی تھی‘ وہ جو کچھ کررہی تھی بالکل غیر ارادی ہورہا تھا۔ اسے نہ اپنی حالت کی خبر تھی اور نہ ہی اپنی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کی۔
’’کاشفہ کہتی تھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے اور آپ کو مجھ سے چھین لے گی۔ کاشفہ نے مجھے مجبور کیا تھا کہ میں خود کو آپ سے دور کرلوں۔ وہ دھمکیاں دیتی تھی کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو وہ آپ کو نقصان پہنچائے گی۔ میں اگر ایسا نہ کرتی تو وہ آپ کو تکلیف دیتی‘ نقصان پہنچاتی میں بھلا کیسے برداشت کرلیتی۔‘‘ اس کی سرگوشیاں اور سسکیاں عجیب دل دکھانے والی تھیں‘ وہ سسکتی رہی تھی۔
ولید سے اپنے تمام کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی طلب کرتی رہی تھی۔ مصطفی اندر داخل ہوا تو وہ ولید کے ہاتھ کو جکڑے ابھی بھی سسک رہی تھی۔ مصطفی قریب آیا تو وہ ابھی بھی اسی طرح سر جھکائے سسک رہی تھی۔
’’انا…‘‘ مصطفی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم ساکت ہوئی تھی۔
’’چلیں اب۔‘‘ مصطفی نے کہا تو وہ ہاتھ چھوڑ کر چہرے کو دوپٹے سے صاف کرتی کھڑے ہوگئی تھی‘ نرس بھی کمرے میں آگئی تھی۔ وہ عجیب ترحم آمیز نگاہوں سے انا کو دیکھ رہی تھی‘ وہ مصطفی کے ساتھ باہر نکلی تو وقار صاحب نے پھر دیکھا تھا۔ نڈھال وجود‘ سرخ شدت گریہ کا ترجمان چہرہ۔
’’کیا جیتنے والے بھی ایسے ہوتے ہیں ہارنے والوں جیسے؟‘‘ اک سوال وقار صاحب کے سینے کی دیواروں میں شدت سے پھرپھڑایا تھا۔ انہوں نے نگاہیں پھیرلی تھیں‘ آنکھوں میں شدت غم سے لہو ٹپکنے کو تھا۔
’’ہم نیچے جارہے ہیں ذرا آپ جائیں تو ولید کے پاس چکر لگالیں۔‘‘ مصطفی کی بدولت باقی افراد کو بھی آئی سی یو میں جانے کی اجازت مل چکی تھی‘ مصطفی ان کو کہہ کر انا کو لیے سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔ مصطفی نے نیچے آکر ویٹنگ روم میں انا کو بٹھا کر خود ایک ڈسپوزل گلاس میں پانی ڈال کر پلایا تھا۔
’’ایک بات بتائیں انا؟‘‘ دوپٹے سے اپنی آنکھیں رگڑتی انا نے سر اٹھا کر مصطفی کو دیکھا تھا۔
’’جب اس قدر محبت تھی تو یہ فاصلے کیسے درمیان میں حائل ہوگئے تھے؟‘‘ انا نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’حماد آپ دونوں کے درمیان میں کیسے آگیا تھا؟‘‘ وہ مزید پوچھ رہا تھا اور انا کو لگا جیسے شدت غم سے بس اس کا دل پھٹنے والا ہے‘ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے ایک دم شدت سے رو دی اور مصطفی نے بہت ترحم آمیز نگاہوں سے اس کو یوں اس طرح بلکتے دیکھا۔
ء…/…ء
سبحان احمد نے قانونی کارروائی کے بعد فیضان کو اڈاپٹ کرلیا تھا‘ وہ اسے اپنے ساتھ باہر لے جانا چاہتے تھے۔ اس طرح فیضان حیات علی سے سکندر سبحان احمد نام کے کاغذات تیار ہوگئے تھے۔ سبحان احمد کے خاندان والوں نے کسی بچے کو اڈاپٹ کرنے پر خوب واویلا مچایا تھا‘ لیکن دونوں میاں بیوی نے کوئی کان نہ دھرے تھے۔ اس طرح فیضان حیات علی سکندر سبحان احمد بن کر سبحان اور حاجرہ کے ساتھ امریکہ روانہ ہوا تو حیات علی بھی واپس کینیڈا جانے کی تیاریوں میں لگ گئے تھے۔
سبحان پر انہیں بہت اعتبار تھا‘ وہ سکندر کے مستقبل سے مکمل طور پر مطمئن ہوگئے تھے‘ انہیں یقین تھا کہ اب ان کے بیٹے کو زندگی میں صرف سکھ ہی سکھ ملے گا۔ انہوں نے جانے سے پہلے مہرالنساء کی طرف چکر لگایا تھا‘ مہرالنساء فیضان کے سبحان کے ساتھ چلے جانے کا سن کر بہت افسردہ ہوئی تھی تاہم اس نے کوئی شکوہ شکایت نہیں کی تھی۔
مہرالنساء نے سبحان کے گھر کا ایڈریس ضرور لے لیا تھا کبھی وہ لوگ پاکستان لوٹیں گے تو ان سے ملنے جائے گی۔ حیات علی پچھلے چار سالوں سے بابا صاحب سے ناراض تھے‘ پاکستان لوٹنے پر بھی وہ ان سے ملنے نہیں گئے تھے بلکہ حویلی فون کرکے گاڑی اور ڈرائیور منگوا لیا تھا۔
وہ مہرالنساء سے ملنے کے بعد اپنا سامان لے کر ائرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے تو بھی گائوں جاکر باپ سے ملنے کا نہ سوچا تھا۔ وہ بابا صاحب کو بیٹے کی جدائی کی سزا دینا چاہتے تھی بالکل ویسے ہی جیسے وہ پچھلے پانچ سالوں سے بیٹے کی جدائی کی آگ میں جلتے رہے تھے۔ زندگی اپنے معمول پر آگئی تھی‘ وقت کا کام تھا گزرنا اسے بھلا کون روک سکا تھا۔ بہت تیز رفتاری سے گزرا تھا۔ کم عمر بچے اب جوان ہوچکے تھے حیات علی مزید پانچ سال کینیڈا رہے اور پھر بابا صاحب کی شدید بیماری کی اطلاع پر انہیں واپس آنا ہی پڑا۔ بابا صاحب ازحد کمزور اور لاغر ہوچکے تھے۔
حیات علی دل سے تمام کدورتیں اور بدگمانیاں مٹاکر ان کی خدمت میں لگ گئے تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بابا صاحب کی بیماری بڑھتی رہی تھی اور پھر ایک شب زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی تو حیات علی پر اتنی بڑی جاگیر زمینوں اور حویلی کی ذمہ داریاں آپڑی تھیں۔
نواز تعلیم کے سلسلے میں ابھی بھی کینیڈا میں تھا باقی حسن علی‘ شاہ زیب اور دونوں بچوں سمیت وہ لوگ دوبارہ مستقل پاکستان حویلی میں شفٹ ہوچکے تھے۔ حیات علی مہرالنساء سے ملنے گئے تھے لیکن وہاں سے ملنے والی خبر نے ایک دم دکھی کردیا تھا۔
مہرالنساء کا ایک سال پہلے انتقال ہوگیا تھا اس کا شوہر باہر کسی ملک میں شفٹ ہوچکا تھا‘ اس کی بیٹی اپنی پھوپی صفیہ کے پاس تھی۔ مہرالنساء نے ان سے ایک بار ایک بات کہی تھی وہ بات ابھی بھی ان کے دل میں اٹکی ہوئی تھی۔
سکندر سے متعلق سبحان ہر طرح کی معلومات فراہم کرتا رہتا تھا۔ سکندر ایک بہت ہی ذہین اور لائق بچہ تھا۔ اس کا اکیڈمک ریکارڈ بہت شاندار تھا‘ سبحان اور حاجرہ نے اس سے اس کے والدین سے متعلق کچھ بھی نہیں چھپایا تھا اس کے باوجود وہ سبحان اور حاجرہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ بہت سے غموں اور بہت سی خوشیوں کے درمیان زندگی گزرنے لگی تھی۔ کل کے بچے اب جوان ہوچکے تھے‘ وقت نے بہت تیزی سے پلٹا کھایا تھا۔ نواز کی تعلیم مکمل ہوگئی تو اس کی پسند پر حیات علی نے اس کی شادی وہی کینیڈا میں ہی ماموں کی بیٹی سے کردی تھی۔ اس طرح کچھ سال بعد حسن کے لیے بھی زبیدہ بھتیجی لائی تھی‘ زینت اور زہرہ بھی رشتہ داروں میں بیاہی گئیں تو شاہزیب کے لیے بھی حیات علی نے زبیدہ کے سب سے چھوٹے بھائی کی بیٹی مہرالنساء کو پسند کیا تھا۔
انہیں مہرالنساء میں زیب النساء کی سی عادات دکھائی دیتی تھیں‘ کچھ اور وقت سر کا تو سبھی لوگ اپنی اپنی زندگی میں سیٹل ہونے لگے تھے۔ نواز کینیڈا میں ہی سیٹل ہوگیا تھا حسن علی کراچی جابسا تھا۔ شاہزیب نے پولیس فورس جوائن کرلی تھی‘ سبھی خوش تھے ایسے میں حیات علی کے دل میں گزرے لمحوں کی بے رنگی کا ملال شدت سے اجاگر ہونے لگتا تھا۔
ان کا بیٹا ان سے دور غیر لوگوں میں پل رہا تھا‘ ان کے پاس کیا نہیں تھا دولت‘ جائیداد‘ جاگیر‘ اور معاشرے میں اونچا مقام لیکن وہ کتنے بے بس تھے کہ اس اولاد کو اس کا جائز مقام نہ دلاسکے تھے۔ وہ معاشرے اور لوگوں کے ڈر سے اپنی اولاد کو دوسروں کی جھولی میں ڈالنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ سبحان کی وکالت امریکہ میں خوب چمکی ہوئی تھی‘ باہر اور پاکستان دونوں معاملات پر اس نے اچھی پراپرٹی بنا رکھی تھی۔ کچھ پراپرٹی سکندر کے نام بھی کر رکھی تھی۔
سکندر احمدا ب بڑا ہوچکا تھا دو سال بعد اس کی تعلیم مکمل ہوجانی تھی‘ سبحان اور حاجرہ اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ وہ مردانہ وجاہت اور خوب صورتی کا شاہکار تھا۔ ماں اور باپ دونوں کا حسن لے کر پیدا ہونے والا یہ سکندر احمد اپنی ذات میں بے مثل تھا۔ حاجرہ اور سبحان امریکہ جانے کے بعد واپس نہیں لوٹے تھے۔ مزید دو سال پَر لگا کر گزر گئے تھے۔ سکندر کی ایجوکیشن مکمل ہوئی تو سبحان اور حاجرہ کا پاکستان چکر لگانے کا پروگرام بنا تھا۔ سکندر بھی ان کے ساتھ پاکستان آرہا تھا۔ ان کا ارادہ کچھ ماہ پاکستان میں رکنے اور پھر واپس پلٹ جانے کا تھا۔ سکندر نے سبحان احمد اور حاجرہ کے ساتھ پاکستان کی سر زمین میں پہلی بار مکمل حوش و حواس میں قدم رکھا تھا۔ وہ بہت جذباتی تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ قسمت اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے۔ پاکستان آنے کے بعد اس کی زندگی میں بالکل مختلف اور ایک نیا موڑ شروع ہوا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close