Aanchal Oct 15

سروے

ادارہ

عائشہ خان… ٹنڈو محمد خان
جواب نمبر ۱:۔ سب سے پہلے تمام قارئین کو السلام علیکم اور بقرعید مبارک‘ عیدالضحیٰ پر سب سے پہلے گوشت کی چیز تو نہیں کیونکہ گوشت کٹنے میں وقت لگتا ہے البتہ کلیجی سب سے پہلے تسلے میں لینڈ کرتی (ہاہاہا) ہے تو کلیجی ہی پکائی جاتی ہے۔ چونکہ میرے ہاتھ کی پکائی ہوئی کلیجی سب گھر والوں کو پسند ہے تو مجھے ہی کچن کی جانب دوڑنا پڑتا ہے۔
جواب نمبر ۲:۔ واقعی آج کل سب دکھاوے کی دوڑ دھوپ میں لگ گئے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کرنے سے قربانی کا ثواب رہ جائے گا اور ویسے بھی جب اللہ سے کچھ چھپ نہیں سکتا تو جس کو راضی کرنا وہ ہی منافقت اور دکھاوے سے آگاہ ہے تو یہ نمود ونمائش کیسی اور پھر اس عمل سے ان لوگوں کی بھی دل آزاری ہوتی ہے جو صاحب حیثیت نہیں۔
جواب نمبر ۳:۔ قربانی کے گوشت سے عام طور پر سیخ کباب، بریانی، کچے قیمے کے کباب، قورمہ، نہاری وغیرہ وغیرہ تو پکتے ہی ہیں مگر ایک ڈش جو فرمائش کرکے بنواتے ہیں وہ ہوتی ہے سوئٹ ڈش۔ میرے بچے جو کوئی گال پر ہاتھ رکھے آتا ہے مما داڑھ میں بوٹی پھنس گئی درد ہورہا ہے، ایک آتا مما پیٹ میں درد ہورہا ہے ایسے میں بچے ٹھیک سے کھانا نہیں کھا پاتے تو باری آتی ہے سوئٹ ڈش کی، میٹھے میں سویاں، شاہی ٹکڑے، کھیر، شیر خورمہ، یا حلوہ جو بھی بچے کہتے ہیں بنادیتی ہوں۔
جواب نمبر ۴:۔ چونکہ ہم بقرعید اپنے جیٹھ کے گھر مناتے ہیں تو بٹوارے کے پیکٹ بنانے کا کام انہیں کا ہوتا ہے البتہ میں ہیلپ کراتی ہوں۔ مگر پیکٹ جیٹھانی بناتی جاتی ہیں اور بجھواتی جاتی ہیں۔
جواب نمبر ۵:۔ ہاہاہا، دلچسپ واقعہ ایک بار ہمارے جیٹھ جو فاران شوگر مل شیخ بھرکیو میں رہتے تھے انہوں نے جو بکرا خریدا وہ بڑا ہی لڑاکو خان‘ ہلاکو خان ٹائپ کا تھا سینگ مارنا اس کی ہابی تھی اب صحن میں ہم سب موجود اور بکرے کو غصہ آگیا۔ اب ہمارا آٹھ رکنی لشکر آگے آگے اور بکرا پیچھے پیچھے اور بکرے کے پیچھے جیٹھ کا بیٹا (عدیل) اسے قابو کرنے کے چکر میں پھر بھئی ہم سب نے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی دروازے کی کنڈی لگا لی مگر پھر بھی بکرا دروازے پر ٹکریں مار مار اپنا دل خوش کرنے لگا۔ صد شکر عدیل نے اسے قابو کرلیا۔ ایک اور واقہ ہماری خالہ کے گھر میں ہم سب قربانی دیکھنے جاتے تھے۔ پڑوسیوں کی گائے جو آدھی ادھوری ذبح کی ہوئی بھاگ گئی بس پھر کیا تھا آس پڑوس کے تمام قصائی ہائی الرٹ ہوکر اس کے پیچھے بھاگے بمشکل تمام اسے قابو کر کے مکمل ذبح کیا۔ یہ سارا منظر ہم سانس روکے اپنی اپنی گیلریوں سے دیکھتے رہے۔
طیبہ نذیر… شادیوال گجرات
جواب نمبر۱:۔ سب سے پہلے کلیجی پکاتی ہوں۔
جواب نمبر۲:۔ بالکل ٹھیک کہا آپ نے خاص طور پر امیر لوگ جو گوشت سے اپنے فریزر بھر لیتے ہیں (وہ بھی پورے سال کے لئے کیوں صحیح کہا نا میں نے) اس طرح کے لوگوں کو چاہیے وہ زیادہ سے زیادہ غریب لوگوں میں گوشت بانٹیں امیر لوگ تو عام روٹین میں بھی گوشت کھاتے رہتے ہیں لیکن بے چارے غریب لوگ شادی پر ہی کھا سکتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے تو ہم لوگ کیسے فرق ڈال سکتے ہیں قربانی بھی ان لوگوں کی قبول ہوتی ہے جن لوگوں کی نیت صاف ہو اور وہ ثواب سمجھ کر اس فریضہ کو سر انجام دیں اور آج کل کے لوگ اپنی عزت بنانے کے چکر میں اپنے رشتہ داروں کو باور کرانے کے لیے گوشت زیادہ دیتے ہیں کہ (اوہناں نوں وی پتاتے چلے اسی ایڈا وڈا ڈنگر کیتا وے) میری تو دعا ہے کاش سب لوگ اس حقیقت کو سمجھ جائیں اور ثواب کے مستحق ٹھہرے نہ کہ گناہ کے۔
جواب نمبر۳:۔ نہیں ایسی خاص فرمائش تو کسی کی بھی نہیں ہوتی لیکن مجھے میٹھا بہت پسند ہے تو میں تو میٹھی ڈشز بنا کے کھاتی ہوں اور گوشت کو دیکھ کر ویسے ہی میرے دانتوں میں درد شروع ہوجاتا ہے سو میں عید پر عید والا گوشت نہیں کھاتی۔
جواب نمبر۴:۔ یہ فریضہ میری چھوٹی بہن مکیہ بخوبی نبھانا جانتی ہے وہی محلے میں بانٹتی ہے سب کے حصے وغیرہ علیحدہ علیحدہ کرکے میں تو گوشت کو ہاتھ تک نہیں لگاتی اور نہ ہی پکاتی ہوں ویسے عید والے گوشت کے علاوہ میں پکاتی ہوں لیکن عید والا گوشت دیکھ کر ہی دل بھر جاتا ہے میرا، اتنے دن مکیہ ہی کوکنگ کرتی ہیں۔
جواب نمبر۵:۔ کچھ خاص واقعات تو نہیں گزرے لیکن دس بارہ سال پرانا واقعہ ہے کہ میں اپنی بڑی آپی نویلہ کے پاس (دھیرکے خورد) گئی ان کے سسرال میں تو جب آپی کے سسرال والے گائے ذبح کرنے کے لیے ابھی پر تول ہی رہے تھے کہ گائے نے باہر دوڑ لگا دی وہ بھی پانی والے کھیت میں آپی کے جیٹھ کے بیٹے نے بھی پیچھے چھلانگ لگا دی اس نے گائے کی دم پکڑی تو پھر کیا کچھ مت پوچھے گائے کا گوبر اس کے کپڑوں اور ہاتھوں میں میرا تو ہنس ہنس کے برا حال تھا یہ واقعہ آج بھی یاد کرتی ہوں تو دل قہقہے لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
عائشہ اختر بٹ… سرگودھا
جواب نمبر۱:۔ قربانی کے گوشت سے سب سے پہلے کلیجی یا پھر قورمہ اور پلائو وغیرہ پکاتے ہیں۔
جواب نمبر۲:۔ ارے بابا ہم اس بارے میں کیا کہیں گے کیا ہم لوگوں کو رب ذوالجلال کا فرمان بھول گیا ہے کہ ہمارے اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اللہ تعالیٰ تک ہمارے گوشت ہماری نمود ونمائش ہرگز نہیں پہنچی بلکہ وہ تو ہماری نیت کو دیکھ رہا ہوتا ہے تو پھر نمود ونمائش کرکے تو اعمال کو ضائع کرنے والی بات ہوئی نا، اب سمجھ دار باجیاں، آنٹیاں معزز خواتین سب ہی سمجھ تو گئی ہوں گی کہ مجھ کج فہم کا کیا مطلب ہے (گستاخی معاف)
جواب نمبر۳:۔ مزے کا سوال ہے ہماری طرف تو بھابی کی بنی ہوئی آئسکریم کی فرمائش ہوتی ہے جبکہ ذاتی طور پر مجھے پھوپو کے ہاتھ کی کھیر بے حد پسند ہے، میرے تو منہ میں پانی آرہا ہے قسم سے پھوپو وزیر سلطانہ کے ہاتھوں کی بنی ہوئی کھیر مکس میں تو میری جان ہے آپس کی بات ہے عید پر پھوپو کی طرف چلی جائوں ناں تو نظریں بس اس لذیذ سی کھیر کو ہی ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ ویسے عام دنوں میں میٹھا چکھنا بھی پسند نہیں کرتی ہوں کیونکہ مجھے ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے میٹھی ڈشز میں اسپائسی فوڈز زندہ باد۔
جواب نمبر۴:۔ گوشت کی تقسیم کے مرحلے سے ابھی ہم کوسوں دور ہیں ویسے بھی میری دونوں والدہ ماجدائیں بھی تقسیم نہیں کرتی ہیں اور نہیں نہیں بالکل غلط تکا ہے آپ کا بڑی سسٹر اور بھابی بھی نہیں… آں ہاں ایسی بات ہرگز نہیں ہے کہ ہم قربانی نہیں کرتے بلکہ جناب گوشت کی تقسیم میرے پیارے بابا جانی اپنے پیارے ہاتھوں سے کرتے ہیں اور اس قدر ایمان داری سے کرتے ہیں کہ جب تک ہمارے اپنے حصے میں سے بھی آٹھ دس کلو چلا نہ جائے تو ان کو سکون نہیں ملتا (بابا میں آپ کے ساتھ ہوں) خیر بابا تو تب تک نہیں تھکتے جب تک بے چارہ وہیڑا خود بول کر نہ کہہ دے کہ انکل اب میں آپ کے حصے کا ہوں (ہاہاہا) بہرحال چھوٹی ماں کی گھوریوں پر نظر پڑنے پر یہ سلسلہ تھم سا جاتا ہے (ماں جی ناراض نہیں ہونا)
جواب نمبر۵:۔ بچپن کے حوالے سے تو ایک مزے کا واقعہ ہے کہ دادا خود گھر میں قربانی کے لیے پیارا سا دنبہ پالتے تھے ایک بار دنبے کو ہم سے بیر ہوگیا لو جی، پھر کیا تھا، لگ گیا ہمیں سیر کرانے گائوں کی، لاکھ کہا او بھائی ہم نے سارا گائوں دیکھا ہوا ہے مگر اس نے تو قسم کھا رکھی تھی جیسے اور پھر جب تک ہم دادا جان کی پناہ میں نہ چھپتے اس نے بھگا بھگا کر ادھ موا کردیا اور پھر ہم نے بھی خود سے عہد کر لیا کہ آئندہ کسی دنبے بکرے کی رسی کھولنے کی کوشش نہیں کرنی چاہے دھوپ میں یا بارش میں جلتا‘ نہتا رہے۔ اور یہ تو تازہ ترین واقعہ بنتا ہے یعنی پچھلی بقرعید میرے بڑے پھوپا جان جن کو ہم ماموں فیاض بولتے ہیں نے قصائی کے ساتھ مل کر وہیڑے کی ٹانگ پکڑائی کی رسم ادا کرنے کی کوشش کی مگر یہ کیا وہیڑے کو یہ شرکت پسند نہ آئی اور اگلے ہی لمحے ایک زور دار دولتی آئی جس نے ماموں کا جبڑا تک ہلا کر رکھ دیا گھر میں سب سیریس بیٹھے اس بات پر ڈسکش کررہے تھے مجھے شرارت سوجھی بڑے بھیا جن کے سامنے بولتے ہوئے ہر بڑا چھوٹا سوچ سمجھ کر بولتا ہے میں نے بھیا سے اجازت طلب کی۔ بھیا ایک بات بولوں، ہاں بولو سنجیدہ سا جواب آیا ماموں نے جبڑا سینکتے ہوئے یہ سونگ تو ضرور یاد کیا ہوگا مجھے تو تیری لت (ٹانگ) لگ گئی۔ ماموں کا جبڑا سیکنتا ہاتھ اور ساتھ گانے کی ٹون (ویری فنی) سب کے ساتھ ساتھ بھیا بھی بے ساختہ مسکرا اٹھے (آئی لو یو بھیا)
شگفتہ خان… بھلوال
جواب نمبر۱:۔ عید پر قربانی کے بعد سب سے پہلے کلیجی فرائی کی جاتی ہے۔
جواب نمبر۲:۔ یہ تو سچ کہا سنت ابراہیمی کو نمود ونمائش کا حصہ بنادیا ہے قربانی بھی غریب لوگوں کے لیے مشکل ہوگئی ہے کہ جی بکرے کی ہو تو اہمیت بڑھتی ہے خدارا مذہب میں تو نمود ونمائش نہ کریں۔
جواب نمبر۳:۔ ہمارے ہاں اس عید پر بھی شیر خورمہ کی فرمائش ہوتی ہے کہ چھوٹی عید پہ تو بنتی ہی ہے بڑی عید پر بنائی جاتی ہے۔
جواب نمبر۴:۔ گوشت کی تقسیم کا کام امی اور بھائی کے ذمہ ہوتا ہے جی ہم ابھی اس قابل کہاں۔
جواب نمبر۵:۔ ہاں جی پچھلے سال قصائی ۸ بجے ہی آگیا ہم خوش کہ جلدی ہی فارغ ہوجائیں گے مگر نہ جی گائے تھی وہ تو رسہ توڑ کر بھاگ گئی اور بس جی پھر گائے آگے آگے اور گلی کے تمام لوگ اس کے پیچھے پیچھے پورا شہر ہی گھما ڈالا گائے نہر کے کنارے پر گئی سب اس کے پیچھے اس نے مڑ کر دیکھا اور نہر کراس کر گئی اور سب لوگ اس کے پیچھے نہر میں آٹھ سے گیارہ بج گئے‘ ایک بند گلی میں گھس گئی سامنے چیزیں رکھ کر اسے روکنا چاہا مگر نہ جی سب کو ٹکریں مارتی نکل گئی پھر تو لوگ اسے دیکھ کر جو گھر سامنے دیکھیں وہاں ہی گھس جائیں اور پھر سب چھریا لے کر اس کے پیچھے کہ جہاں بھی گری وہیں ذبح کردیں گے۔ اللہ اللہ کر کے ۱۲ بجے وہ تھک کر جب دوسری گلی میں گری تو وہاں ہی اس پر چھری پھیر دی اور سب بھائیوں کو پھر بخار ہوگیا سب کو بعد میں اپنی اپنی چوٹیں یاد آئیں پھر گھر بیٹھ کر ہنس ہنس کر قصہ سناتے رہے اور اس کا گوشت خوب چبا چبا کر کھایا بہت بھگایا اس نے اب بھی یاد کرتے ہیں تو سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں اور اس عید پر آس پاس کے تقریباً ۶ جانور بھاگے تھے۔
پروین افضل شاہین… بہاولنگر
جواب نمبر۱:۔ (لپیٹا) جس میں قربانی کے جانور کے گردے، دل اور گوشت شامل ہوتا ہے۔
جواب نمبر۲:۔ اللہ کے پاس خوب صورت اور مہنگا جانور نہیں پہنچے گا صرف قربانی کرنے والے کی عاجزی اور اخلاص پہنچے گا اس لیے مہنگا جانور اس لیے نہ خریدیں کہ لوگوں میں ہماری امارت بڑھے گی اور لوگوں میں ہم معتبر ہوجائیں گے۔
جواب نمبر۳:۔ ثابت مونگ اور چاول کیونکہ میرے میاں جانی کو یہ بہت ہی پسند ہیں۔
جواب نمبر۴:۔ پہلے گوشت کے تین حصے کرتی ہوں ایک حصہ غریبوں مسکینوں میں دوسرا حصہ اپنے رشتہ داروں میں اور تیسرا حصہ خود رکھ لیتی ہوں ضرورت سے زیادہ اپنے حصے کا گوشت بھی بانٹ دیتی ہوں۔
جواب نمبر۵:۔ ایک بار بکرا عید پر ہم نے بکرا لیا ایک دن میں وہ بکرا صحن سے کمرے میں لانے لگی تو کمرے میں بیٹھے میرے میاں جانی پرنس افضل شاہین نے کہا اس بھینس کو کہاں لے کر آرہے ہو، میں نے جواب دیا تمہاری آنکھیں ہیں یا بٹن یہ بھینس نہیں بکرا ہے۔ میرے میاں جانی نے جواب دیا۔ میں تم سے نہیں بکرے سے مخاطب تھا۔ یہ سن کر میں ان کی طرف بڑھی مگر وہ نو دو گیارہ ہوچکے تھے۔
پارس فضل… نامعلوم
عید قربان سب امت مسلمہ اور آنچل فیملی کو بہت بہت مبارک ہو عیدیں تو آتی جاتی رہتی ہیں قربانیاں بھی ملک میں آئے دن ہورہی ہیں اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے آمین، اب آتے ہیں جی آپ کے سوالوں کی طرف۔
جواب نمبر۱:۔ جناب ہمارے گھر کی روایت کے مطابق تو سب سے پہلے سورج طلوع بعد میں ہوتا ہے اور حلوے کی کڑاہی تیار ہوتی ہے اب آپ نے گوشت کی خاص ڈش پہلی جو پکتی ہے وہ پوچھی ہے تو نمکین بھنا ہوا گوشت ہی چلتا ہے۔
جواب نمبر۲:۔ جی بالکل آج تو قربانی صرف دکھاوا ہی بن گئی ہے لوگ بکرے اور ان کا وزن دیکھتے ہیں جبکہ اللہ کو نہ تو زیادہ گوشت چاہیے اور نہ ان کی خوب صورتی بلکہ اللہ تو نیتوں کو دیکھتا ہے تو میرے خیال میں قربانی صرف اللہ کے لئے کی جاتی ہے نہ کہ دنیا کو دکھانے کے لیے تو ہم صرف اپنی نیت اور خلوص کو سامنے رکھ کر دیں دنیا کو نہیں۔
جواب نمبر۳:۔ سب موڈی سے ہیں جو دل چاہتا ہے پکالیتے ہیں پھر گھر میں جو اس چیز کو اچھی طرح پکاتا ہے اسی سے فرمائش کی جاتی ہے۔ مجھ سے سوئٹ ڈشز ہی بنوائی جاتی ہیں (بھئی خود جو سوئٹ سی ہوں)
جواب نمبر۴:۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو اللہ پاک نے دی ہے اور میں ناتواں سی بھئی مجھ میں تو اتنا دم خم نہیں، سو اس لیے ابھی تک تو یہ ذمہ داری اماجی کے کندھوں پر ہے اور وہی اسے نبھاتی ہیں کیسے معلوم نہیں۔
جواب نمبر۵:۔ قربانی کے جانور کے حوالے سے کوئی خاص واقعہ تو یاد نہیں ہاں ایک دفعہ ہمارا چھوٹاسا میمنا تھا ہم نے بھی اسے بہت لاڈ پیار سے پالا تھا۔ خصوصاً چھوٹا بھائی تو اس سے بہت پیار کرتا تھا وہ اسے چیز بھی ساتھ ہی کھلاتا، ابو نے قربانی سے دو دن پہلے بتایا کہ اسے قربان کرنا ہے (بہت بگڑا ہوا ہے تنگ کرتا ہے ہم اسے نہیں رکھ سکتے) قربانی کے وقت بھائی کو سمجھا بجھا کر راضی کیا وہ محترم تو راضی ہوگئے لیکن بکرے صاحب شاید ناراض ہی تھے اسی لیے جب اسے ذبح کرنے کے لیے لٹایا گیا گلے پر چھری پھیری تھوڑا سا کٹ لگا ادھر ابو کو چکما دے کر بھاگم بھاگ۔ پہلے تو سب ذبح ہوئے (تھوڑے سے زخمی بکرے) کو دیکھتے رہے لیکن جب سمجھ آیا تو پھر سارے گھر میں آگے آگے بکرا اور پیچھے ہم بڑی مشکلوں سے پکڑا اور قصائی سے ذبح کرایا اس واقعہ کو ہم جب بھی یاد کرتے ہیں تو خودبخود مسکراہٹ لبوں پر آجاتی ہے۔
عروج مغل… للہ ٹائون
تمام آنچل اسٹاف کو عروج مغل کی طرف سے کراری کراری نمکین اور مزے دار بقرہ عید مبارک ہو۔
جواب نمبر۱:۔ زیادہ تر عید پر خاص ڈش کلیجی یا پھر بھنا نمکین گوشت ہی پکتا ہے۔
جواب نمبر۲:۔ مذہبی تہواروں میں رواداری اور کھرے پن کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہ تو معاملہ ہی خاص نیت کا ہے اور اعمال کا دار ومدار تو نیت پر ہے نمائش کے بجائے خالص نیت کے ساتھ کریں چاہے چھوٹا عمل ہی ہو۔
جواب نمبر۳:۔ نہیں ہمارے گھر میں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ ضرور ہی کوئی بغیر گوشت کے ڈش بنتی ہے کبھی سب کا موڈ ہے تو بن جاتی ہے ورنہ نہیں۔
جواب نمبر۴:۔ دیکھیں جی ابھی میرا شمار بچوں میں ہوتا ہے تو یہ ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے لیکن گوشت کاٹنے میں ابو اور بھائیوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہوں جی ماشاء اللہ بڑا شوق ہے مجھے‘ تقسیم کا کام بھی ابو ہی کردیتے ہیں پھر امی شاپر میں ڈالتی ہیں اور ہم یا امی یا چھوٹو اگلا کام کردیتے ہیں۔
جواب نمبر۵:۔ قربانی کے جانور کے متعلق واقعات زیادہ تر بچپن کے ہیں جو مجھے پورے پورے یاد نہیں ہیں۔ دو واقعات ہیں جو مجھے یاد ہیں ایک گوشت سے متعلق ہے اور ایک بکرے سے متعلق، ہماری ایک عید ننھیال میں گزری تھی تو اس پر جب گوشت آیا تو نانا ابو نے سارے ماموئوں کو کہا کہ وہ گوشت بنوائیں تو سب بہانے بنا کر چلے گئے۔ پھر ہم لوگوں نے کہا کہ ہم بنواتیں ہیں تو میری بڑی بہن اور میں ہم بنوانے لگ گئے میں نے سارا گوشت بنوایا ہم دونوں کو پھپھڑے اچھے نہیں لگتے تو مجھے پتا تھا کہ بڑی بہن کو بھی الرجی ہے لیکن وہ نانا ابو کو نہ نہیں کرے گی۔ سو میں پانی کا بہانہ بناکر چلی گئی تو وہ بے چاری پھنس گئی۔ اس کے وہ تاثرات مجھے ابھی تک یاد آتے ہیں تو مجھے ہنسی اور پھر نانا ابو کے کمنٹس ہاہاہا کیا بات تھی۔ کمنٹس چھوڑیں ان میں میری تعریفیں تھیں کہ میں نے بڑا اچھا گوشت بنوایا ہے۔
وثیقہ زمرہ… سمندری
سب سے پہلے تو ہماری طرف سے تمام مسلمانوں کو بہت بہت عید مبارک اب آتے ہیں سوالات کی طرف۔
جواب نمبر۱:۔ قربانی کے گوشت سے بریانی پکائی جاتی ہے اور ساتھ گوشت کو بھونا جاتا ہے۔
جواب نمبر۲:۔ اس زمانے میں سنت ابراہیمی پر کوئی عمل نہیں کررہا سب دکھاوا ہی ہے قربانی کے اصل مقصد سے تو سب ہٹ چکے ہیں۔
جواب نمبر۳:۔ دو سال پہلے جب ہماری بھابی بیاہ کر آئیں تو انہوں نے آلو والی نمکین سویاں پکائی تھیں پہلے تو ہم سب نے بہت مذاق بنایا تھا۔ لیکن جب کھائی تو اتنے مزے کی تھیں کہ اب وہی فرمائش پر پکوائی جاتی ہے۔
جواب نمبر۴:۔ گوشت کی تقسیم ذمہ داری تو ہے پورا بھی کیا جاتا ہے سب سے پہلے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے دو حصے رشتہ داروں اور غریبوں مسکینوں کو بانٹ دیا جاتا ہے ایک حصہ خود رکھا جاتا ہے۔
جواب نمبر۵:۔ ہر سال بکرا قربان کیا جاتا ہے اور بہت لاڈ و پیار سے پالا جاتا ہے ایک سال پہلے کی بات ہے جب بھائیوں نے بکرے کو زمین پر لٹایا تو وہ پہلے سمجھا کہ لاڈ کررہے ہیں پتا تو تب چلا جب چھری پھیری جاچکی تھی۔
نسیم احمد مغل… حیدر آباد
جواب نمبر ۱:۔ عید پر میری شادی سے پہلے قربانی کے فوراً بعد امی کلیجی کا سالن پکاتی تھیں چونکہ کلیجی جلدی گل جاتی ہے تو پہلے یہی ڈش پکتی تھی اب سسرال میں مٹن کا قورمہ یا گوشت کا سالن پکتا ہے اور وہی لنچ میں کھایا جاتا ہے۔
جواب نمبر ۲:۔ بالکل ایسا ہی ہے جہاں تک میرا خیال ہے چھوٹے قصبوں یا دیہاتوں کی بہ نسبت یہ بڑے شہروں میں زیادہ عام ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ اگر خواتین چاہیں تو اس معاملے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں وہ خود اپنے اندر اپنی فیملی اور اپنے بچوں کے اندر سے یہ چیز ختم کریں تاکہ آنے والی نسل بھی قربانی کے اصل مفہوم اور مقصد سے آگاہ ہوکر اس پر عمل کرسکے۔
جواب نمبر ۳:۔ ارے یہ کیا گوشت کے علاوہ کوئی ڈش، امپاسبل گوشت کی اتنی توہین ہمارے گھر میں کوئی برداشت نہیں کرسکتا کہ گوشت کے ہوتے کوئی اور ڈش پکے۔
جواب نمبر ۴:۔ الحمدللہ فی الحال یہ بھاری بھر کم ذمہ داری میرے نازک کندھوں پر نہیں، امی ساس اور ابو سسر کرتے ہیں اور ماشاء اللہ بڑے احسن طریقے سے کرتے ہیں، اقربا اور مساکین کے حصے میں اپنے حصے سے بھلے زائد چلا جائے باقی دو حصوں کی ایک بوٹی بھی اپنی طرف نہ آئے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات شام تک جب سارا گوشت تقسیم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد بھی کوئی لینے چلا آئے تو اپنے حصے میں سے بھی حسب توفیق دے دیا جاتا ہے اللہ سلامت رکھے یہ ذمہ داری اچھی طرح نبھانے والوں کو ہم تو ابھی سیکھنے کی اسٹیج میں ہیں اور ان شاء اللہ اسی طریقے اسی روایت کو برقرار رکھیں گے۔
جواب نمبر ۵:۔ دلچسپ واقعہ… ہاہاہا… یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں پانچویں کلاس میں تھی دادا ابا عید سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے ایک بکرا لے آئے بکرا خوب صورت تھا اچھے قد کاٹھ اور بارعب سے سینگوں والا، خیر اس نے ہمارے ساتھ رہنا شروع کیا ورنہ اس سے پہلے بکرا ہمیشہ عید سے دو دن پہلے آتا تھا۔ دن بھر گلی میں بندھا ہوتا رات کو گھر لاتے۔ ایک دن گھر پر کوئی نہ تھا ماسوائے میرے تو بکرا صاحب نجانے کیسے گلی سے کھل کر گھر چلے آئے میں چولہے کے پاس بیٹھی روٹی پکارہی تھی بکرے کو دروازے سے داخل ہوتے اور متوالی چال اپنی طرف آتا دیکھ کر اوسان خطا ہوگئے بکرے پہ کبھی کبھی جلالی موڈ بھی آتا تھا تو اسے میں اپنے سینگوں کا زور بھی دکھانا تو اس وقت میں نے سوچا ہو نہ ہو آج مجھے اکیلا پاکے تو ضرور ہی حملہ آور ہوگا میں نے آئو دیکھا نہ تائو توے سے روٹی اتار کر بکرے کی جانب اچھا دی کہ وہ وہیں رک کر کھانے لگ جائے مگر اس نے شان بے نیازی سے سامنے پڑی روٹی کو اگنور کیا اور آگے بڑھا میں نے برتنوں کے اوپر سے چھلانگ لگائی اور سرپٹ بھاگی، اب میں چیختے چلاتے آگے آگے اور بکرا پیچھے پیچھے آخر بھاگ کر کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا میرے چلانے کی آواز پڑوس میں بیٹھی امی سن کر جلدی سے گھر آئیں اور پورے گھر میں مزے سے مٹر گشت کرتے بکرے کی رسی پکڑ کے کھونٹے سے باندھ دیا تو یہ واقع جب بھی یاد آتا ہے ہونٹوں پر ہنسی اور آنکھوں میں نمی آجاتی ہے کیونکہ عید قرباں تک بکرے کی خدمتیں اور دیکھ بھال کرکے اس سے اتنی محبت اور انسیت ہوگئی تھی کہ عید کے دن جب اسے قربان کیا گیا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور صحیح معنوں میں قربانی کا اصل مطلب سمجھ میں آگیا۔ تمام بہنوں کو عید مبارک، اجازت دیں۔ رب راکھا۔
فرحت اشرف گھمن… سید والا
جواب نمبر ۱:۔ عیدالاضحیٰ پر سب سے پہلے قربانی کے گوشت سے ہمارے گھر میں کباب بنائے جاتے ہیں۔
جواب نمبر ۲:۔ آج کل سنت ابراہیمی کو نمود ونمائش کا جو طریقہ بنایا ہوا ہے بہت برا ہے ہم اللہ تعالیٰ قادر مطلق کی رضا کی خاطر قربانی کرتے ہیں نہ کہ نمود ونمائش کے لیے جو لوگ نمود ونمائش کے شیدائی ہوتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ لوگ دکھاوے کی خاطر رشتہ داروں کو چن چن کر گوشت بجھواتے ہیں غریبوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا جو کہ سراسر غلط طریقہ ہے۔
جواب نمبر ۳:۔ میرے چھوٹے بھائی کو گوشت کی کوئی بھی ڈش پسند نہیں اور مجھے بھی ہم دونوں بس چکن ہی کھاتے ہیں بیف اور مٹن پسند نہیں اس لیے میرا بھائی شاہی ٹکڑے اور رس ملائی کی فرمائش کرتا ہے۔
جواب نمبر ۴:۔گوشت تقسیم کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ فارم ہائوس میں ابو اور بھائی ملازمین سے گوشت تقسیم کرادیتے ہیں غریبوں کا حصہ غریبوں اور رشتے داروں کا رشتے داروں کو دے دیتے ہیں بس گھر میں گھر کا ہی حصہ آتا ہے۔
جواب نمبر ۵:۔ ہم ہر تہوار اپنی دادی ماں کے پاس گائوں فرید آباد میں جا کر مناتے ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم ہے قربانی کا جانور فارم ہائوس میں ہوتا ہے میں کبھی فارم ہائوس نہیں گئی نہ قربانی کا جانور دیکھنے کا اتفاق ہوا اس لیے میرے پاس کوئی واقعہ نہیں ہے۔
ارم کمال… فیصل آباد
سب سے پہلے میری طرف سے آنچل کے تمام اسٹاف کو اور تمام قارئین آنچل کو دلی عید مبارک۔
جواب نمبر ۱:۔ قربانی کے گوشت سے یوں تو کئی ڈشز پکتی ہیں لیکن سب سے پہلے ڈش ہوتی ہے مصالحے دار کلیجی اور فرائی گوشت۔
جواب نمبر ۲:۔ آج کل لوگوں نے قربانی کے مقدس تہوار کو بھی دکھارے کا ذریعہ بنا لیا ہے جو کہ نہایت غلط ہے اللہ تعالیٰ ہمارے شاندار اور خوب صورت بکرے اور گائے نہیں دیکھتا نہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ کتنے لاکھ کے آئے ہیں وہ صرف ہماری پر خلوص نیت دیکھتا ہے اس لیے ہمیں قربانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کو مد نظر رکھنا چاہے۔
جواب نمبر ۳:۔ قربانی کے دنوں میں ہر طرف گوشت ہی گوشت نظر آتا ہے جس سے طبیعت بے زار ہوجاتی ہے مرد حضرات جب گوشت نمٹا کر فارغ ہوتے ہیں تو ہلکا پھلکا کھانے کو دل کرتا ہے مجھ سے پکوڑے اور دہی کا رائتہ کی فرمائش کی جاتی ہے۔
جواب نمبر ۴:۔ گوشت کی مناسب تقسیم بہت جان جوکھوں کا کام ہے اور اس وقت جب جانور بھی مناسب سا ہو، سب سے پہلے سارے گوشت کی بوٹیاں بنوالی جاتی ہیں پھر اس کے بعد ان کے تین حصے کرلیتے ہیں ایک غریبوں کا، ایک رشتے دار و عزیز اور ایک اپنا‘ اپنے حصے میں سے بھی میں کافی بانٹ دیتی ہوں۔
جواب نمبر ۵:۔ ویسے تو کئی واقعات ہوتے ہیں لیکن ایک آپ سے شیئر کرتی ہوں میں جانوروں خصوصاً بکروں، کتوں اور چوزوں سے بھی بہت الرجک ہوں، میرے میاں صاحب بکرے کو گیٹ کے اندر داخل کرکے گیٹ باہر سے لاک کردیا (آٹو میٹک) اور خود بکرے کا چارا دانہ وغیرہ لینے باہر ہی سے چلے گئے اور مجھے بتانا بھول گئے۔ (تھوڑے بھلکڑ ہیں نا) میں واش روم سے باہر آرہی تھی کہ میں نے بکرے کو سامنے اپنا استقبال کرتے پایا بکرے نے مجھے دیکھا تو میری طرف دوڑا آیا پھر تو میری چیخیں تھیں اور بکرے کی دوڑیں میں نے بھاگ کر واش روم میں جاکر دروازہ بند کردیا دل خوف سے دھڑکنے لگا اب باہر دروازے پر بکرے میاں ٹکریں مار رہے تھے (بہت ہی جنگلی بکرا تھا) اور اندر میں میاں جی کو دل ہی دل میں برا بھلا کہہ رہی تھی تقریباً ۱۵ منٹ بعد باہر سے آٹو میٹک لاک کھول کر میاں جی چارہ وغیرہ لے کر آئے تھے تب انہوں نے اکیلے گھر میں بکرے کی کارستانیاں دیکھیں کرسیاں گری ہوئی برتنوں کی ٹرے الٹی ہوئی، کپڑے بکھرے ہوئے انہوں نے پکڑ کر بکرے کو گیراج میں باندھا تب میں نے واش روم کا دروازہ کھولا بعد میں اسی بکرے کی دو دن سیوا بھی کی (تب بندھا ہوا تھا نا) آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔
فیاض اسحاق… سلانوالی
جواب نمبر ۱:۔ ہمارے ہاں شروع سے روایت ہے کہ سب سے پہلے قربانی کے گوشت سے کلیجی پکائی جاتی ہے جو کہ آج تک قائم ہے پہلے یہ ڈیوٹی آپی کی ہوا کرتی تھی جب سے ان کی شادی ہوئی ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے جو کہ ہم انتہائی ایمان داری اور خلوص نیت سے سر انجام دیتے ہیں اور سب سے خوب داد وصول کرتے ہیں۔
جواب نمبر ۲:۔ آج کل سنت ابراہیمی کی پیروی کم اور دکھاوا زیادہ ہے جسٹ لوگوں کو اور رشتہ داروں کو دکھانے کے لئے خود کو شو آف کرنے کے لئے قربانی کی جاتی ہے ثواب کی نیت کم اور دکھاوے کی نیت زیادہ ہوتی ہے پھر بھی دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری ان قربانیوں کو قبول فرمائے‘ آمین۔
جواب نمبر ۳:۔ ایسی ڈش جو گوشت کی پکی نہ ہو اور تو کوئی نہیں ہوتی پھر سیکنڈ ڈے میری فیورٹ مسور کی دال پکا لی جاتی ہے۔
جواب نمبر ۴:۔ گوشت کی تقسیم میری ماما جانی کی ذمہ داری جو کہ بہت اچھے طریقے سے مینج کرتی ہے۔
جواب نمبر ۵:۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے تو ہمارا جوائنٹ فیملی سسٹم تھا اور ہمارے یہاں دو یا تین قربانیاں ہوتی تھیں ایک عید پر جو بکری ذبح کی تو اس میں سے اس کا ایک بے بی باہر آیا۔ بکری اتنی اسمارٹ تھی کہ فیل ہی نہ ہوا کہ اس کا کوئی بے بی بھی ہوگا یا نہیں، ایکچوئیلی وہ جانور رات کے وقت خریدا گیا تھا پھر ہماری وہ قربانی نہ ہوسکی اور دوسری قربانی کی۔ پھر ہم بچوں نے بے بی کو اپنے ہاتھوں دفن کیا اور یہ ہماری لائف کا قربانی کا یادگار واقعہ تھا۔ اور کئی سال تک ہم اس بے بی کی قبر پر بھی جاتے رہے۔ اب بھی ہم انکل کو کہتے ہیں کہ انکل وہ قربانی لائیے گا جو کہ ایک بچہ بھی ہمیں دے۔
ماریہ کنول ماہی… گوجرانوالہ
جواب نمبر ۱:۔ ڈشز تو بہت ساری پکتی ہیں سب کی اپنی اپنی فرمائشیں ہوتی ہیں البتہ مصالحے والی بریانی ہماری پہلی ڈش ہوتی ہے۔
جواب نمبر ۲:۔ سو فیصد اس بات پر اتفاق کرتی ہوں، پچھلے سال کی بات ہے میں نے ایک خاتون کو کہتے ہوئے سنا کہ اگلے سال ہم بھی قربانی کریں گے تاکہ ہمارے بچے بھی دوسروں کا منہ نہ دیکھیں۔ اور دوسرا یہ کہ فلاں نے قربانی کی ہے ہم کیوں نہ کریں ہم کون سا اس سے کم ہے۔ قربانی کا اصل مقصد اور اصل نیت تو سب ہی لوگ بھول گئے ہیں اور جو لوگ قربانی کرتے بھی ہیں وہ صرف خود کو مدنظر رکھتے ہیں کسی غریب کے گھر چولہا نہیں جلا تو ہمیں کیا ہے ہمیں تو بس اپنے گھروں کے فریجوں کو بھرنا ہے تاکہ پورا مہینہ آرام سے من پسند ڈشز پکا کر کھا سکیں۔ (بڑے افسوس کی بات ہے یار)
جواب نمبر ۳:۔ کچھ مت پوچھیں عید کا تو سارا دن ہی پکانے اور کھانے کی نذر ہوجاتا ہے البتہ ہمارے گھر میں سوئٹ ڈش زیادہ بنتی ہے کیونکہ ہم پوری فیملی ویجیٹرین ہیں گوشت کو پسند نہیں کرتے اس لیے میٹھا زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔
جواب نمبر ۴:۔ نو پرابلم یار یہ مام جانیں اور ان کا کام ہم تو بری الذمہ ہیں کیونکہ مابدولت کا شمار ابھی چھوٹوں میں ہے اور یہ کام گھر کے سربراہ کا ہوتا ہے (کیا سمجھے)۔
جواب نمبر ۵:۔ بہت انٹرسٹنگ سوال ہے کچھ سال پہلے کی بات ہے ہمارا ایک بکرا تھا جسے ہم نے بچپن سے ہی پالا تھا اور مجھے تو جانوروں سے بڑی انسیت اور محبت ہے۔ میں نے اسے مارنا سکھا دیا حالانکہ میرے پاپا نے منع بھی کیا کہ اسے مارنا مت سکھائو کل کو یہ تنگ کرے گا۔ مگر وہ ماہی کیا جو کسی کی بات مان جائے لیکن یہ مجھے کیا پتا تھا کہ ایک دن یہ اپنا ہنر مجھ پر آزمائے گا۔ ہوا یوں کہ ایک دن امی ماموں کے ہاں گئی تھیں بھائی بھی گھر پر نہیں تھے اور پاپا حویلی تھے تب میں نے بکرا کھولنے کی غلطی کردی۔ بس پھر کیا تھا بکرا میرے پیچھے پیچھے اور میں آگے آگے، سامنے دیوار کے ساتھ تندور لگا تھا فوراً سے پیشتر اس پہ کھڑی ہوکر دیوار پر چڑھ گئی۔ ۱۲ بجے کے قریب پاپا گھر آئے مجھے دیوار پر چڑھا دیکھ کر حیرت سے بولے بیٹی یہاں کیا کررہی ہو بس جی میں تو ہوگئی شروع رونا اور ساتھ میں ساری رو داد سنا دی یہ سنتے ہی پاپا کھلکھلا کر ہنسے۔ اب اس واقعہ کو یاد کرو تو لب بے اختیار خود ہی مسکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو ماہی کی زندگی ہے۔
عائشہ نور آشا… گجرات
جواب نمبر ۱:۔ سوال تو مزے کا ہے افسوس مجھے کچھ پکانا ہی نہیں آتا۔
جواب نمبر ۲:۔ اس میں شک نہیں کہ لوگوں نے سنت ابراہیمی کو نمود ونمائش کا حصہ بنادیا ہے ہر کوئی اپنی دولت دکھانے کے چکر میں ہے اور ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ خدارا ایسی قربانی نہ کریں۔ اس موقع پر اپنے غریب رشتے داروں کا خیال رکھیں اور ان کی خوشیوں کی وجہ بن جائیں۔
جواب نمبر ۳:۔ ہاں جی ہمارے ہاں گوشت کے علاوہ فروٹ چاٹ کی فرمائش ہوتی ہے اس کے علاوہ میرے بابا جانی امی سے کہتے ہیں کہ تم خود پکائو جو بھی پکانا ہے اور ساتھ امی کی تعریف میں کہتے ہیں تم جیسا کھانا کوئی نہیں پکا سکتا۔
جواب نمبر ۴:۔ بے شک یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے مجھے ایک بار ہی موقع ملا ہے، تب میں نے سب سے پہلے جو ہمارے قریب قریب جو غریب گھر تھے ان میں تقسیم کیا تھا اس سب سے بہت خوشی محسوس ہوئی۔
جواب نمبر ۵:۔ نہیں جی ایسی کوئی یاد نہیں ہے۔ بس ترس آتا تھا جانوروں پر اور اکثر میں رو پڑتی تھی کیونکہ میرے کزن کہا کرتے تھے اس کے بعد تمہاری باری ہے (ہاہاہاہا) آگے سے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کیا ہوتا ہوگا۔
زویا اعجاز… لاہور
جواب نمبر ۱:۔ عیدالاضحٰی پر ہمارے گھر میں سب سے پہلے قربانی کے فوراً بعدکلیجی کا سالن پکانے کی روایت ہے، مزیدار اور چٹ پٹا سا یہ سالن پہلے امی جی پکاتی تھیں اور اب کئی سالوں سے میں پکا رہی ہوں، تمام اہل و عیال گرما گرما کلچے اور کلیجی سے ناشتہ کرتے ہیں ویسے یہ واضح کرتی چلوں کہ ہمارے گھر میں قربانی عید کی نماز کے فوراً بعد ہوجاتی ہے۔
جواب نمبر ۲:۔ آج کل قربانی میں خلوص نیت اور رضائے الٰہی کے جذبات سے مفقود ہوچکے ہیں قربانی کا جانور خریدنے سے پہلے یہ حساب کیا جاتا ہے کہ رشتہ داروں، دوستوں میں گوشت کی تقسیم کے بعد اپنا فریزر ایک مخصوص مدت تک کس سائز کے جانور سے بھرا جاسکتا ہے جانور کی خریداری کے بعد بڑھ چڑھ کر عزیز و اقارب کو فون کر کے ڈینگیں ماری جاتی ہیں۔ یہ مذہبی جذبہ ورسم اب محض اپنی معاشی حیثیت کی نمائش بن کر رہ گیا ہے ہم یہ حقیقت فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ اللہ پاک کو قربانی کا گوشت پہنچاتا ہے نہ خون، اس بے نیاز ذات اقدس کو صرف ہماری نیت و جذبے سے غرض ہوتی ہے۔
جواب نمبر ۳:۔ لو کر لو بات یہ کسی نے کہہ دیا آپ سے کہ گھر میں صرف قربانی کا گوشت پکتا ہے عید پر ہمارے گھر میں تو کچھ افراد ایسے ہیں جنہیں مٹن کھانا کسی کڑوی کسیلی دوائی کھانے سے بھی زیادہ مشکل لگتا ہے اور کچھ قربانی کے جانور سے اتنی شدید محبت کرتے ہیں کہ اس کو ذبح ہوتے دیکھ کر بہت روتے ہیں۔ پھر گوشت کی ہر ڈش پکنے پر از سر نو آنسوئوں کی جھڑیاں لگتی ہیں۔ لہٰذا ویج اور نان ویج دونوں پکائے جاتے ہیں عید پر۔
جواب نمبر ۴:۔ ہاں جی، بڑی مشکل ہے جی یہ ذمہ داری، الجبرا اور لوگرتھم سے بھی زیادہ مشکل، مگر ابھی ہم چونکہ اس ذمہ داری سے مبرا ہیں تو ہم سکون سے صرف بانٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ باقی گوشت کے پیکٹ بنانے کا کام ابو جی خود کرتے ہیں اور بہت خوب کرتے ہیں۔
جواب نمبر ۵:۔ ایک نہیں بے شمار یادگار واقعات ہیں مثلاً ۲۰۰۹ میں دو بکرے خریدے گئے لیکن دونوں کی جسامت و لاگت میں فرق تھا رات کو انہیں صحن میں باندھ دیا گیا اب بڑے والا بکرا اپنی طاقت کے خمار میں کچھ زیادہ ہی مخمور تھا اس نے چھوٹے والے کا ناطقہ بند کیے رکھا بے چارے پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم کرلیا۔ وہ جیسے ہی پاس آتا اسے سینگ مار کر پیچھے دھکیل دیتا۔ یہ ڈبلیو ڈبلیو ایف تب ختم ہوئی جب موخرالذکر کو الگ قیام وطعام فراہم کیا گیا مگر پھر بھی اول الذکر کو جانے کیا رقابت تھی اس سے۔ اس کی طرف منہ کیے مسلسل اسے للکارتا رہا رات بھر۔ ہم نے انہیں بھارت و پاکستان کا خطاب دے کر ان کی حرکات وسکنات پر خوب اپنی کمنٹری جاری رکھی۔ ۲۰۰۵ء میں عیدالاضحیٰ قدرے سرد موسم میں آئی تھی۔ بکرے صاحب کو ایک سوئٹر پہنا کر برآمدے میں خصوصی رہائش دی گئی لیکن شاید رسی ڈھیلی رہ گئی تھی وہ رات کو ادھ کھلے دروازے سے کمرے میں گھس آیا۔ فرش پر میٹرس بچھا کر ہم سب ہی خواب خرگوش میں مگن تھے جب میرے کان میں ایک زور دار …بھیںںںںںںں… کی آواز گونجی اف میرا دل ایک دم اچھل کر حلق میں آگیا اور اس کی بھیں کے ترنم میں میری چیخوں نے گویا ہنی سنگھ کے سریلے نغموں کو بھی مات دے دی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close