Aanchal Oct 15

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عرض مولف
الحمدللہ قرآنی آیات کی تفسیر وتشریح کے سلسلے کی یہ کتاب ’’السلام علیکم‘‘ حاضر خدمت ہے۔اللہ کی دی ہوئی توفیق وتائید الٰہی سے ہی میرے لئے یہ ممکن ہوا کہ قرآنی آیات کی تشریح کرسکوں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ شانہ‘ کا فضل عظیم ہے کہ اس نے ناچیز کو علمائے کرام واہلِ تقویٰ ومشائخ کی بابرکت صحبت وتربیت سے فیض یاب وسرفراز ہونے کی سعادت نصیب فرمائی۔ یہ انہی بزرگوں کا فیضانِ نظر ہے کہ احقرکی اللہ نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمادی اور میرے قلم کا راستہ از سر نو متعین فرمادیا اللہ تعالیٰ کا بڑا شکرو احسان ہے کہ اس نے میرے قلم کو لغویات نویسی سے ہٹا کر آیاتِ قرآنی کی تفسیرکی طرف لگادیا۔ الحمدللہ یہ اللہ جل شانہ‘ کا بڑا کرم وفضل ہے کہ اب تک دس مختلف آیاتِ قرآنی کا تفسیری کام اس احقر سے لے لیا ہے شکرہے رب العالمین کا کہ اس نے ان تمام کتب کو نہ صرف اہل ایمان کے لئے نافع بنایا بلکہ مقبول عام بھی کردیا۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جو کچھ بھی تالیف کروں اسے جید علمائے کرام کو پیش کرکے ناصرف ان کی رائے معلوم کرلوں بلکہ اگر کہیں اپنی کم علمی کے باعث ٹھوکر کھالی ہو تو اس کی بھی اصلاح ہوسکے۔ یہ اللہ کا بڑا ہی احسان و کرم ہے کہ اب تک اس نے جس جس طرح علمائے کرام کے ذریعے میری مدد کا اہتمام فرمایا اس کے لئے جتنا شکرادا کیا جائے وہ کم ہے۔
زیر نظر تالیف السلام علیکم اپنی ہیئت کے اعتبار سے مختصر ضرور ہے لیکن اپنی معنویت میں اتنی جامع اور وسعت لئے ہوئے ہے کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوزے میں دریا کی جگہ سمندر کو سمیٹ دیا گیا ہے۔ سلامتی کی دعا بظاہر بہت معمولی سی بات محسوس ہوتی ہے لیکن اگر ہم صرف سلامتی کے معنی اور وسعت پرغورکریںتو حیاتِ انسانی کے تمام پہلو اس مختصر لفظ سلامتی میں سمٹ آتے ہیں اور یہ سلامتی بھی عارضی نہیں دائمی سلامتی کی دعا ہے اور جب یہ دعااللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کو دی جائے تو سوچئے کہ کتنی اہمیت کی دعا ہوگی‘قرآن حکیم کی زیر تشریح آیات میں کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند حوالہ نہ آنے پائے تمام تفسیری موادمستندتفاسیر سے ہی یک جاکیا گیا ہے۔
سلام جو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو تعظیمی کلمات کے طور پر یا استقبالیہ اور رخصتی کے وقت ادا کرتا ہے دورجدید میںسلام ایک رسماً ادا کیا جانے والاکلمہ ہوتا جارہا ہے۔ بغیر اس کی حقیقی اہمیت اور جامعیت کو سمجھے ہوئے سلام کوآج ایک دعا یاکلمے کے طور پر کم اور رسماً زیادہ استعمال کیا جاتاہے حالانکہ سلام اگرحقیقی معنوں میں سمجھ کرکیا جائے تو اس سے دوہرا فائدہ حاصل ہوگا جسے آپ نے سلام کیا اور جس نے جواب دیا دونوں افراد کواللہ تبارک وتعالیٰ اجروثواب سے نوازتا ہے۔ دراصل اسلام اور نظام اسلام میں اہلِ ایمان کی نیتوں کو بڑا دخل ہے۔ اگر ہم کوئی کام ریاکاری کے لئے کرتے ہیں تو وہی اچھا کام ہمارے لیے عذابِ الٰہی کاباعث بن سکتا ہے اور اگراخلاص نیت سے اور خالص اللہ کی رضا کے لئے کریں تو وہ اجروثواب کا موجب بن جاتا ہے۔ ورنہ تو لینے کے دینے پڑسکتے ہیں۔’’سلام‘‘دین اسلام کا اہم شعار ہے۔ ابتدائے اسلام میں یہ شناختی علامت کے طور پر استعمال ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے اس مخصوص شناختی علامت کوبھی اپنے فضل وکرم کا ذریعہ بنادیا کہ جہاں اہلِ ایمان ایک دوسرے کی شناخت کے لئے سلام کا کلمہ ادا کرتے ہیں وہیں ایک دوسرے کوسلامتی کی دعا سے بھی نوازتے ہیں۔
یہ تالیف السلام علیکم ایک ایسی کتاب ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی‘ہماری معاشرتی زندگی کو ہمارے لئے بہتر طور پر گزارنے اور دائمی زندگی کے لئے صراط مستقیم پر چلنے میں معاون ہوسکتی ہے ان زیر تشریح آیات قرآنی پر بہت کچھ لکھنے کو دل چاہتا رہا لیکن میں نے حسب معمول صرف اہل علم ودانش کی مستند تفاسیر پر ہی اکتفا کیا اپنی سوچ وفکر کواپنی نوک قلم تک نہیں آنے دیا۔ ہوسکتا ہے کہ تحریر میں روانی اور تسلسل کا کسی قدر فقدان محسوس ہو اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ میں نے کسی تحریر کو نقل کرتے ہوئے اس کے اصل لہجہ واندازکومتاثر کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی اللہ کرے کہ میری یہ چھوٹی سی کوشش آپ کے کسی کام آسکے اور آپ کے معیار پر پوری اترے۔
اپنی اس تالیف کے سلسلے میں حضرت مفتی سعید احمد جلال پوری صاحب کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ جنہوں نے صاحبِ فراش ہونے کے باوجود اپنی پوری توجہ سے اس کتاب کو دیکھا اور اصلاح فرمائی‘ ساتھ ہی میں جناب مفتی خالد محمود صاحب‘ جناب حافظ عبدالقیوم نعمانی صاحب اور ان کے زیر انتظام جامعہ مصباح العلوم محمودیہ کے استاد مولانا عبدالجلیل صاحب کا بھی شکر گزار ہوں کہ جن کی توجہ نے اغلاط کی درستگی فرمائی ساتھ ہی میں مولانا فضلِ خالق صاحب کا بھی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے بڑی توجہ سے اس تالیف کو پڑھا اور اپنی رائے سے نوازا اور ساتھ ہی اپنے محترم بھائی ڈاکٹر تنویر احمد طاہر کا ممنون و احسان مند ہوں کہ انہوں نے اس تالیف کو اپنی خصوصی توجہ سے نوازا۔ میں ڈاکٹر مریم مظفر حسین اور برادرمِ عزیز سید مظفر حسین صاحب کا بھی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جن کی توجہ نے میری راہنمائی فرمائی اللہ ان تمام اصحاب کے درجات بلند فرمائے اور ان کو اس تالیف کے سلسلے میں معاونت کے اجر سے نوازے۔ آمین
احقر مؤلف
مشتاق احمد قریشی
٭…٭…٭
اسلام تہذیب اور معاشرتی آداب کا کامل نمونہ ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی نہ صرف اصلاح کرتا ہے بلکہ انکی جہالت بھی دور کرتا ہے‘ انہیں صلح وامان‘سلامتی واطاعت‘ فرماںبرداری‘ اخوت بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ معاشرتی طور پر ایک دوسرے کی عزت وتکریم سکھاتا ہے۔ خود لفظ اسلام لفظ سَلِمَ سے نکلا ہے جس کے معنی سلامتی کے ہیں۔ یعنی باطنی آفات سے اور ظاہری آفات سے محفوظ رہنا۔ اچھے آداب اور پسندیدہ اطوار ہی کسی انسان کے اچھے اور مہذب ہونے کا ثبوت ہوتے ہیں اور آداب‘ نیک خصلتوں کا مجموعہ ہوتے ہیںاور جو لوگ اچھی عادتوں کے حامل ہوتے ہیں وہی با ادب کہلاتے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے پیدائش سے لے کر موت تک ہر موقع کے لئے آدابِ زندگی مقرر کردیئے ہیں کوئی موقع محل ایسا نہیں جس کے مطابق آداب کی تعلیم نہ دی گئی ہو۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی آداب کا بڑا ہی خیال رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کے آداب سے خوب اچھی طرح روشناس کرایا ہے۔ اٹھنے بیٹھنے‘ چلنے پھرنے‘ کھانے پینے‘ سونے جاگنے‘ باتیں کرنے اور ملنے جلنے‘ رخصت ہونے غرض زندگی کے ہرپہلو میں آداب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اسلامی آداب انسانی نفس کو ریاضت اور مجاہدے کا عادی بناتاہے اور تادیب الٰہی اور حدود الٰہی کے ماتحت رکھتا اور نفسانی خواہشات کی تہذیب کرتا ہے اور اس تہذیبی معاشرے کو مستحکم بنیاد فراہم کرنے میں ’’السلام علیکم‘‘کا بڑا ہی اہم کردار ہے‘ اس سے نہ صرف معاشرتی خیر اور بھلائی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے ہر اہل ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ سے خیروسلامتی کی دعا‘ ایک دوسرے کی قربت اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کا باعث بھی بنتاہے۔ لفظ ’’السلام علیکم‘‘ جس قدر مختصر نظرآتاہے یہ اتنا ہی پرمعنی وسیع اور پرمغز ہے یہی وجہ ہے کہ شعائراسلام میں سب سے زیادہ اسے پھیلانے کا حکم دیا گیا۔
السلام علیکم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں اللہ تم کو سلامتی نصیب فرمائے۔ یہ چھوٹا سا جملہ اپنے اندر کتنے معنی ومطالب سمیٹے ہوئے ہے اس کا اندازہ یوں ہی نہیں ہو جاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے معنی کو بغو ر سمجھا جائے‘دراصل یہ جملہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہے اسے مختصر طورپر السلام علیکم بھی ادا کیا جاتا ہے اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ بھی ادا کیا جاتا ہے دراصل یہ ایک جامع دعا ہے جو ایک اہل ایمان دوسرے اہل ایمان کو وقت ملاقات اور وقت رخصت دیتا ہے۔ ان دعائیہ کلمات کے ساتھ ملاجائے اور رخصت کیا جائے تو اپنائیت بڑھتی ہے۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے صاحبِ ایمان بھائی کے حق میں دعا یعنی سفارش کا درجہ رکھتا ہے یعنی ایک صاحبِ ایمان اپنے دوسرے صاحبِ ایمان بھائی کے لئے جو شفقت ومحبت کے جذبات رکھتا ہے۔ ان جذبات کا اظہار ہی نہیں بلکہ اس کے حق میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور اس کی سلامتی کی دعا کے ذریعے اپنی سفارش بھی پیش کررہاہوتا ہے۔ سفارش کے معنی شفاعت کے بھی ہیں اور شفاعت کا لفظ قرآن کریم میں بنی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آیا ہے۔ روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے محبوب اور پیارے نبیؐ ہیں‘ کی اہمیت و وقعت کو ثابت کرنے کے لئے آپ کو سفارش و شفاعتِ کبریٰ کا حق اللہ جل شانہ نے عطا فرمایا ہے۔ روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارشِ کبریٰ قبول ہوگی۔ قرآن کریم میں بہت وضاحت سے ارشاد باری تعالیٰ موجود ہے سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۹۳ میں وضاحت کی گئی ہے اور سورۃ یونس کی آیت نمبر۳ میں اور سورۃ الانبیاء آیت نمبر۲۸ اور سورۃ الروم آیت نمبر۱۳ اور سورۃ سبا آیت نمبر۲۳ سورۃ المدثر آیت نمبر۴۸ اور سورۃ النباء آیت نمبر۳۸ میں پوری صراحت و وضاحت سے ارشاد ہے کہ کسی کی کوئی سفارش و شفاعت قبول نہ ہوگی مگر جسے اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جو بڑا ہی رحیم وکریم مہربان اور اپنے بندوں سے بے پناہ شفقت کا معاملہ کرنے والا ہے اس نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے اس دنیا میں وہ کلمہ خیر عطا فرمادیا جو ہر لمحہ ہر آن ہر ملاقات ووداع کے موقع پر اپنے اہل ایمان بھائی کے لئے سلامتی کی سفارش و دعا کا درجہ رکھتا ہے۔ اللہ اکبر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی اپنے انعامات کی بارش نہیں فرمائی‘ان کی اُمت پر بھی اپنے کرم کے بے حساب اسباب پیدا فرما دیئے جب ایک مسلمان اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو السلام علیکم کی دعا دے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے دوسرے مسلمان کو بھی پابند کردیا کہ وہ جواب میں وہی دعا‘ وہی سفارش کرے یا اس سے بہترانداز اختیار کرے اور بہتر سفارش کرے یعنی اگر کسی نے السلام علیکم کہا تو اس پرو اجب ہے کہ اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہے اور اگر وہ اپنے لئے زیادہ اجروثواب کا خواہش مند ہے تو پھر اس سے بہترجواب دے اور رحمت اللہ کا اضافہ کردے اور اگر سلام کرنے والے نے خود ہی السلام علیکم ورحمت اللہ کہا ہو تو اس میں وبرکاتہ کا اضافہ کردے۔اللہ تبارک وتعالیٰ جو ہماری ہر ہر حرکت‘ ہر ہر عمل‘ہماری نیتوں و سوچوں تک سے بخوبی آگاہ و واقف ہے جو ہمارا ذرا ذرا سا حساب رکھتاہے اس کے یہاں ہر کسی کا پورا پورا حساب کتاب ہے اور ہماری ایک دوسرے کے لئے کی گئی السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کی سفارش وشفاعت کی درخواستوں کا حساب کتاب بھی پورا پورا ہوگا۔ اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان اور اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی بخشش و نجات کے لئے قدم قدم پر ان کے اعمال وافکار کو بہتر سے بہترین بنانے کے نسخے وتراکیب بھی اچھی طرح واضح فرمادی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں تمام مسلمان اور غیر مسلمان مکہ میں ایک ساتھ ہی رہتے تھے ان کی وضع قطع رنگ روپ لباس یہاں تک کہ نام تک میں مماثلت تھی۔ ایک نظر میں یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ ایسے وقت میں السلام علیکم کایہ جملہ الٰہیہ ہی ایک دوسرے کے لئے شناختی علامت کی حیثیت واہمیت کا حامل تھا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہنے والا اس بات کا اعلان کررہا ہوتاتھا کہ میںدین حق کا ماننے والا اور اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا فرد ہوں۔اس کے جواب میںوعلیکم السلام کہنے والا بھی اپنی شناخت کی تصدیق کررہا ہوتا‘یوں ابتدا میں یہ کلمہ اسلام کے ماننے والوں میں شناخت کے بطوربھی رائج ہوا۔ اس کے باوجود کبھی کبھی بھول چوک ہوجاتی تھی۔
دنیاکی تمام مہذب قوموں اورافراد میں ملاقات کے وقت پیار‘بھائی چارے‘میل ملاپ کے جذبات کے اظہار‘ مخاطب کی خیر اندیشی کے اظہار اور اسے مسرور ومطمئن کرنے کے لئے ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی کلمہ خاص ادا کیا جاتا رہا ہے آج بھی یہ رواج ہے۔ہندوباہم ملاقات کے وقت’’نمستے‘آداب‘ رام رام‘‘ کہتے ہیں جبکہ یورپ اور دیگرممالک میں پہلے گڈمارننگ‘ یعنی اچھی صبح‘گڈ آفٹر نون اچھی دوپہر‘ گڈ ایوننگ اچھی شام اور گڈ نائٹ اچھی رات کہتے ہیں جبکہ امریکہ اور اس کے زیراثر افراد آج کل ’’ہائے‘‘اور جواباً ’’ہائے‘‘کا ورد کرتے ہیں۔بعثتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی عربوں میں باہمی ملاقات کے وقت ملاقاتی کلمات ادا کرنے کا رواج تھا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اسلام لانے سے پہلے آپس میں ملاقات کے وقت ’’انعم اللّٰہ بک عینا‘‘ آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب کرے اور انعم صباحاً یعنی تمہاری صبح خوشگوار ہو کہا کرتے تھے۔ اور جب ہم لوگوں نے اسلام قبول کرلیااور جاہلیت کی تاریکی سے نکل آئے تو ان جملوں کی ممانعت کردی گئی ان کے بجائے ’’السلام علیکم‘‘ کی تعلیم دی گئی۔
اگر کوئی خود کو اہلِ ایمان مسلمان کہتا ہے اور السلام علیکم کے بجائے کچھ اور جملے استعمال کرتا ہے جو کسی بھی طرح غیر مسلم یا اہل کتاب استعمال کرتے ہوں تو ایسا شخص اپنی شناخت کو چھپانے کا مرتکب ہوگا کیونکہ سلام شعارِاسلام ہے اس لئے مسلمانوں پراللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شعائر اسلام کے طور پر اسے لازم کردیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور کہنے والا اسلام کے خلاف چلنے والا بداندیش ہوگا اور اپنے عمل سے منافقین میں شامل ہوجائے گا۔ منافق جو خود کو مسلمان توظاہر کرتے ہیں مگر ہوتے نہیں۔
شفقت‘ رحمت‘ سلامتی اور پیار محبت سے لبریزاس ایک کلمہ پراگر غور کریں تو محبت تعلق‘ اکرام وخیر اندیشی کے اظہارکے لئے اس سے خوبصورت اور بہترکوئی اور جملہ جو جامع دعائیہ کلمہ بھی ہو‘ادا نہیں کیا جاسکتا۔ السلام علیکم کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تم کو ہر طرح کی سلامتی نصیب فرمائے۔ اس کلمے میں چھوٹوں کے لئے شفقت محبت پیار ہے تو بڑوں کے لئے اکرام وتعظیم ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ’’السلام‘‘ اسماء الٰہیہ میں سے ہے۔ یہ شعارِ اسلام بھی ہے‘ملاقات کے وقت ’’السلام علیکم‘‘ اور جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کی تعلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت مبارک تعلیمات میں سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔
(جاری ہے)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close