Aanchal Aug 15

نیرنگ خیال

ایمان وقار

عید مبارک
لو عید پھر سے آئی ہے
پھر اس نے مجھ سے پوچھا ہے
تم عید کا تحفہ کیا دو گے؟
میرے پاس تو بس کچھ یادیں ہیں
کچھ بھولی بسری باتیں ہیں
کچھ عید کارڈ پرانے ہیں
کچھ سوکھے پھول دراز میں ہیں
میرے خالی خالی کمرے میں
تیرے قدموں کی آواز بھی ہے
تیرے ہجر میں راتیں کٹتی ہیں
میری نیند مجھ سے روٹھی ہیں
میں ہوں اور میری تنہائی ہے
جو واحد میری سہیلی ہے
بس یہ ہی میرا سرمایہ ہے
جو میں نے اب تک پایا ہے
اب تم کو میں کیا تحفہ دوں؟
اب تم خود مجھ کو بتلا دو
تم عید کا تحفہ کیا لوگے…؟؟

نزہت جبین ضیاء…کراچی

سچی عید
وہی لمحے تھے یادگار اے دل!
جن لمحوں میں ساتھ تھے ہم تم
وہی عیدیں تھیںپیار کی عیدیں
جن کو مل کر منایا تھا ہم نے
ہائے افسوس! گُل یہ دہشت گردی
اس نے چھینا ہے چین‘ سکھ اپنا
اس نے ہر فرد کو رُلایا ہے
میری دھرتی کو یوں ستایا ہے
ساری عیدوں کو سوگوار کیا
لوگ ڈرتے ہیں پیار کرنے سے‘ مسکرانے سے
اس نے یہ گلستان جلایا ہے
میرے مالک! تُو اب کے فضل فرما
دہشت گردی سے پاک کر دھرتی
میرے لوگوں کو ’’سچی عید‘‘ کرا‘ آمین

سباس گل… رحیم یار خان

غزل
ہم اپنی الجھی الجھی داستانِ زیست کچھ یوں بیان کرتے ہیں
اک اجنبی کے حصول کی خاطر سجدے صبح و شام کرتے ہیں
ہے واقف دلِ مضطرب کے اسے پانا ناممکن ہے
مگر سوچتے ہیں اب کی بار ناممکن کو ممکن میں بدلتے ہیں
وہ سنگدل جو بڑی راحت سے میٹھی نیند کے مزے لوٹتا ہے
ہم اس کی خاطر دیر تلک‘ ہر شب چاند سے باتیں کرتے ہیں
وہ جو اوروں سنگ سر عام ہنستا پھرتا ہے
ہم اس بے وفا کی خاطر خود سے بھی پردہ کرتے ہیں
وہ جو خود میں مگن ہمارا نام تک بھول بیٹھا ہے
یہ جان کر بھی کے وہ ہر جائی کج ادائی کی ہر حد عبور کر بیٹھا ہے
ہم ہر عید‘ ہر تہوار پر اس کے نام سے سجتے سنورتے ہیں
شاید کے ہمارے آنسو عیاں کردیں اس پر ہماری حالت زار
شب کے تیسرے پہر بھی اٹھ کر بڑی فرصت سے رویا کرتے ہیں
اگر چہ ہماری چاہت کی شدت سے وہ ہمیشہ نا بلد رہتا ہے
مگر پھر بھی اس کا نام ہتھیلی پر لکھ کر ہم چوما کرتے ہیں
یوں تو ہماری انا پرستی ہی ہماری ذات کا مان تھی
مگر اب محبت کے ہاتھوں انا کی مات پر اکثر رویا کرتے ہیں
تو اتنی بے وقعت و ارزاں پہلے تو نہ تھی نگہیؔ
جتنا لوگ اب تجھے اس سنگدل کی خاطر سمجھتے ہیں

نگہت اسلم چوہدری… سونا ویلی‘ آزاکشمیر

دھرتی کے فرشتے
سجے سرحدوں پر سحیلے جواں
نبھاتے ہیں جو فرض کے امتحاں
نہیں دھوپ میں چھائوں کے طلب گار
یہ لگتے ہیں جنت کے ہی شہ سوار
ہتھیلی پر رکھے ہوئے اپنی جاں
شہید وطن عظمتوں کے نشاں
ہے نعرہ تکبیر سے سینہ شاد
ہے ماں سے بھی پہلے خدا ان کو یاد
ہوئی عرش بریں پر فرشتوں کی عید
وہ آیا وہ آیا وہ شہید

ام حمنہ… کوٹ مومن

بنام پاکستان
چلو ہم مان لیتے ہیں تجھے ہم مان دیتے ہیں
چلو ہم ٹھان لیتے ہیں تجھے ہم جان دیتے ہیں
محبت کا تقاضا ہے تو ہمیں سائبان دے
بدلے میں تجھے ہم لاشوں سے بھرے میدان دیتے ہیں
اے شاہین تیرے پروں میں اس مٹی کی ہے ملاوٹ
افسوس اڑنے کے لیے کوئی اور تجھے آسمان دیتے ہیں
محب وطن ہوں میں پر قلم زخمی ہے بہت
آہ! ادھوری محبت اور الفاظ سنسان دیتے ہیں
صد افسوس تیری وادیوں کی مٹی سے نگین
بناکر تجھے ہم خود ذہین بدگمان دیتے ہیں

نگین افضل وڑائچ… گجرات

عید کی خوشی میں
میرے ہمدم لوٹ آئو
ذرا سا دیدار کروا جائو
آج عید کی خوشی میں
پائل بے تاب ہے چھنکنے کو
بند یا منتظر ہے چمکنے کو
کنگن بے چین ہے کھنکنے کو
اور کاجل بھیگا جارہا ہے
تیری دید کی خوشی میں
میرے ہمدم لوٹ آئو
آج عید کی خوشی میں
آنکھوں میں کئی خواب جل رہے ہیں
دھڑکن میں کئی راگ چل رہے ہیں
کچھ سپنے بے تاب سے مچل رہے ہیں
آنچل شرما کر سمٹا جارہا ہے
تیری دید کی خوشی میں
میرے ہمدم لوٹ آئو
آج عید کی خوشی میں
رنگ مہندی کا سرخ ہورہا ہے
جھمکا کان کا کچھ گنگنا رہا ہے
زلفیں سرشار سی لہرارہی ہیں
سرخ ہونٹ مسکرارہے ہیں
تیری دید کی خوشی میں
میرے ہمدم لوٹ آئو
آج عید کی خوشی میں

مدیحہ کنول سرور… چشتیاں

عید
پھولوں کو جس طرح بھنورے ملتے ہیں
آئو ! اس عید پر ہم بھی کہیں ملتے ہیں
اپنی اس چاہت کو
پیار بھری رفاقت کو
سچی لگن کا رنگ دیتے ہیں
دنیا کے لیے اپنی محبت کو مثال کرتے ہیں
روانی کے لیے جیسے دریا
سمندر میں خود کو پامال کرتے ہیں
پھول جیسے
گلشن سے وفا نبھاتے ہر بار نکلتے ہیں
تو…
آئو… اس عید پر ہم تم بھی ملتے ہیں

عروسہ شہوار رفیع… کالا گوجراں‘ جہلم

عید کا چاند
اداسی تھی
تنہائی تھی
بے قراری تھی
دل مضطرب تھا
عجب بے کلی کی حالت تھی
انتظار کے جانگسل لمحے تھے
ٹوٹے‘ بکھرے سپنے تھے
دیے آس کے بجھے تھے
کہ…
کہ…
یک لخت‘ تنہائی کے لمحے
انتظار کے پل
اک پل میں دم توڑ گئے
کہ تم بن کے
’’عید کے چاند‘‘
میرے من آنگن میں اتر آئے

فصیحہ آصف خان… ملتان

غزل
اسے میری وہ بچپن کی شرارت یاد آجائے
سبھی کچھ بھول بھی جائے محبت یاد آجائے
اسے پوجا اسے چاہا اسے مانگا بھی ہے ہم نے
میری سچی محبت کی عبادت یاد آجائے
کسی کے پیار کی خاطر یہ ہم نے دشمنی کی تھی
اسے میری زمانے سے بغاوت یاد آجائے
ہمیں وہ بھول ہی بیٹھا نجانے کس طرح لوگو
خدارا اب اسے میری شکایت یاد آجائے
ہمیں وہ جان سے پیارا اسے معلوم ہی کب ہے
میری پہلی محبت کی عنایت یاد آجائے
اسے میں پیار کرتی ہوں اسی پر جان دیتی ہوں
فریؔ اب اسے میری سخاوت یاد آجائے

فرید جاوید فری… لاہور

غزل
سامنے ہی کھڑا تھا میں لیکن اس نے پکارا ہی نہیں
ظاہر کررہا تھا ایسے جیسے اس نے دیکھا ہی نہیں
ساتھ تھا شاید کوئی اپنا وہ نظریں جھکا کر گزر گیا
وہ بھول گیا ہو مجھ کو ہوسکتا کبھی ایسا بھی نہیں
عرصہ بعد دیکھا اس کو یوں بے فکر سا گھومتے ہوئے
چہرہ وہی آنکھیں وہی اس میں کچھ بھی بدلا ہی نہیں
اب بھی مسحور سا کردیتی ہے شخصیت اس کی
اور شاید اب بھی پیار اس کا کسی نے پایا ہی نہیں
کوئی وعدہ نہ تھانہ ہی کوئی عہِد وفا لیکن
جاتے ہوئے کیوں اس نے نظر بھر کر دیکھا بھی نہیں
اب جو اتنے عرصہ بعد دیکھا اسے کسی کے ساتھ
ایسا کیوں محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ تو اپنا سایہ بھی نہیں

طارق محمود(شامل)… کامرہ کلاں اٹک

آجائو کہ…
اے دوست…
آجائو کہ…
اب تو وجود میں
تھکن اتر آئی ہے
محو انتظار آنکھیں
تمہاری راہ دیکھتی ہیں
آجائو کہ…
دل مضطرب
راحت چاہتا ہے
جدائی کی آگ میں
جھلستا شریر
وصل کی دلفریب
چھائوں چاہتا ہے
آجائو کہ…
چراغ آس کی لو
مدھم ہوئی جاتی ہے
زیست کی ڈور ہاتھوں سے
چھوٹتی جاتی ہے
آجائو کہ…
عید کے پُرمسرت دن پر بھی
میرا دل اداس ہے
جس کا انتظار ہے وہی
جانِ مسکان نہ میرے
پاس ہے…!
شمع مسکان…جام پور
امید ربّ ستاراہے
امید رب ستارہ ہے
چمک جائے جو دل میں تو
اجالا پھیل جاتا ہے
اک ایسا نور کرتا ہے
سکوں سے دل کو بھرتا ہے…!
امید ربّ کنارہ ہے
سمندر لاکھ گہرا ہو
کنارے کا نظارہ ہو
تو ہمت آہی جاتی ہے
مسافر آگے بڑھتا ہے…!
امید ربّ اشارہ ہے
سکوتِ تنگی ٔ شب میں
صدا پہ گرچہ پہرہ ہو
نشان راہ دکھاتا ہے
سفر آسان کرتا ہے…!
امید ربّ سہارا ہے
ہمیشہ ساتھ رہتا ہے
کبھی گرنے نہیں دیتا
اسے جو تھام لے اس کو
عطا رحمت بھی کرتا ہے…!
امید ربّ تو ایماں ہے
خدا جب ساتھ ہے اپنے
کہ جب وہ ربّ ہے بندوں کا
بھلا کیوں نا امید ہو…؟
وہ ہم سے پیار کرتا ہے…

عرشیہ ہاشمی… آزاد کشمیر

ہم پتھر لوگ
مجھ کو دھتکار کر تم کدھر جائو گے
نفی میری وفا کی نہ کرپائو گے
جفائوں سے گھبرانا سیکھا نہ ہم نے
بتائو بھلا کتنا تڑپائو گے
تمہاری رگوں میں ہمارا لہو ہے
ہمیں بھول کر خوب پچھتائو گے
پانی ہو تم ہم اتریں ہیں تہہ میں
پتھر سے کیسے تم ٹکرائو گے
دیوانے عقل سے بالا ہی ٹھہرے
بھلا کتنے پتھر تم برسائو گے
راہ عشق میں کوئی غیر نہ ہی
اپنوں سے آخر بچھڑ جائو گے
چلو اپنی چال‘ ہمیں چلنے دو اپنی
چھیڑا جو ہم کو خود بکھر جائو گے
کوثر نے اپنی کہانی سنادی
بعد از مرگ اس کی دہرائو گے

کوثر خالد… جڑانوالہ

غزل
بہار جب آئی گلِ بہار دیکھتے رہے
منظرخوابناک کو پہروں سخن ور دیکھتے رہے
بد نصیبوں نے تیرا بس ستم دیکھا
نصیب والے ہر دن تیرا پیار دیکھتے رہے
تیرے دیدار کی اجازت تو نہ تھی
بس تیرے با و در کو لگا تار دیکھتے رہے
نہ تجھے آنا تھا نہ تُو آیا
ان رستوں پرمدتوں‘ ہم بیکار دیکھتے رہے
دردِ دل کا علاج تو نہ کیا مسیحا نے البتہ
ہونٹوں میں ہنسی دبائے ہماری چشم تر دیکھتے رہے
کس طرح ہم اس کی تلاش میں ننگے پائوں چلے صندلؔ
بہت دور تک ہم کو صحرا کے شجر دیکھتے رہے

کلثوم صندل… مظفر گڑھ

صلہ ملا مجھے
بہت سالوں بعد
میری وفائوں کا صلہ ملا مجھے
آنکھیں پانی سے ہیں سمندر
ہے دل میں در کا دھواں
جدائی کے قیاس سے شکستہ چہرہ ہے
پر ہونٹوں پہ سجی مسکان کیوں نا ہو
کہ کہا ہاتھ تھام کر بڑی چاہت سے اس نے
خود سے مجھ تلک کا جو سفر طے کیا ہے
آج پھر ان رستوں کی پہچان کرو
باندھ لو محبت ساری اپنی
آج تمہیں میری زندگی سے چلے جانا ہوگا…

مشا علی مسکان… قمر مشانی

اک کام کرو گے تم
اک کام کرو گے تم
میرے نام کے سنگ…
اپنا نام لکھو گے تم
جو چھین نہ سکے کوئی
بھی مجھ سے
جن کی تعمیر سے وابستہ
ہوں میرے ہر پل
کی خوشیاں سبھی
سنو…
کوئی ایسے ہی خواب
میری آنکھوں کی
زیست کرو گے تم
مدیحہ نورین مہک… برنالی
صدائے سانحہ صفورا
کیا خوب شہر ہیں وہ
جہاں برسات ہوتی ہے
زمیں سیراب ہوتی ہے
ہمارے شہر سے ملو لوگوں
یہاں کی بات انوکھی ہے
یہاں گلشن نکھرتے ہیں
نہ ہی بادل برستے ہیں
ہے یہ شہر کراچی…
جہاں آنسو برستے ہیں
گونج اٹھتی ہیں صدائیں
زمین لال ہوتی ہے
یہاں آدم کے ہاتھوں رسوا
آدم کی ذات ہوتی ہے

ودیعہ یوسف زماں قریشی… لانڈھی‘ کراچی

عید مبارک
عید مبارک
کہہ کر
میری عید
مبارک کردو

عائشہ نور عاشا… گجرات

غزل
دل میں ایک مانوس سا شخص بسا ہے
جو میری دھڑکن دھڑکن میں بسا ہے
کبھی ایک پل کو جو مجھ سے جدا نہ ہوا تھا
آج وہ اجنبیوں کے دیس میں جابسا ہے
میری ایک آہ پر شدت سے تڑپ اٹھنے والا
میرے درد کی وجہ‘ کسی اور کے دل میں بسا ہے
میں تو رہ گئی تنہا دل میں اب ارمان نہیں باقی
آشیانہ میرا اجڑا ہے اس کا مکان تو بسا ہے
وہ سر راہ کہیں ملے تو پوچھوں گی میں اس سے
بچھڑ کر کسی اپنے سے یہ دل بھی کبھی بسا ہے
کیسے مان لوں کہ میرا نہ تھا دیا
جس کے بجھ جانے سے میرے گھر میں اندھیرا بسا ہے

سعدیہ عابد…نارتھ کراچی

غزل
بڑی مدت بعد مجھے جیسے کسی نے پکارا ہو؟
بہت پہچانی سی صدا تھی کہیں تم تو نہیں ہو؟
اندھیروں کے راستے میں سفر مشکل تو تھا مگر
اک دیا سا میرے ساتھ رہا کہیں تم تو نہیں ہو
دربدر کی ٹھوکروں سے بچ نکلنا آسان تونہ تھا
مگر کوئی جیسے سہارا سا ہو کہیں تم تو نہیں ہو؟
میرے لیے غموں کا ساماں تھا بے حد و حساب تھا
مگر مرہم سا کوئی لگا ہو جیسے کہیں تم تو نہیں ہو؟
تنہائیوں کی وادی میں قدم اپنے پڑے توتھے
میں اکیلی رہی مگر تنہا نہیں کہیں تم تو نہیں ہو؟

جویریہ راج تنہا… باغ‘ آزادکشمیر

عید مبارک
اے چاند عید کے
ان کی طرف گزر جو تیرا ہوجائے
اس سے کہنا…
کہ راہیں تکتی ہیں نجم آج تیری آس لگائے
اس سے کہنا…
انتظار میں تیرے دن تمام ہونے لگا ہے
چند لمحے نکال کر
آکے مجھ سے عید ضرور مل جائے
اے چاند عید کے…!

نجم انجم اعوان… کورنگی‘ کراچی

عیدی
وہ ہم سے پوچھ بیٹھے ہیں تمہیں عیدی میں کیا دیں ہم
اب ان سے ہم کہیں کیسے
ہمیں نہ پھول لینے ہیں
نہ کوئی عید کارڈ لینا ہے
ہمیں عیدی جو دینا چاہتے ہو تم
تو تحفے میں اپنا دل ہمیں عیدی کی طرح دو
کہ…
ہر عیدی سے بڑھ کر یہ عیدی ہوجائے

ثوبیہ شہزادی…راولپنڈی

غزل
وہ جو لفظوں کے پھول بوتے ہیں
خوشبو ہر دل میں ہی سموتے ہیں
ان کو الفت اسیر کرتی ہے
جن کے خود سر مزاج ہوتے ہیں
جو کسی کشتی میں کریں سوراخ
خود کو بھی ساتھ میں ڈبوتے ہیں
ان سے دنیا کنارہ کرتی ہے
وہ جو اپنے ہی رونے روتے ہیں
مجھ کو جب دیکھتے ہیں وہ یک ٹک
دل میں نغمے شریر ہوتے ہیں
جوتڑپتے ہیں ہجر کے بن میں
دن میں جلتے ہیں‘ شب کو روتے ہیں
وہ بڑا کارساز ہے خانمؔ
اس کی رحمت سے زخم دھوتے ہیں

فریدہ خانم… لاہور

تم آ نہ سکے
رات ڈھلنے لگی
چاند تھکنے لگا
سوچ کا ہر زاویہ
رخ بدلنے لگا
ٹھنڈی میٹھی ہوائیں
صبح نو کی آمد کا پیغام لے کر
میری زلفوں سے خوشبو چراتی ہوئی
گل و گلزار کو مہکانے چلیں
اور چڑیاں…
میرے آنگن کے اک گھنے پیڑ پر
چہچہانے لگیں
اور ہم…
رتجگوں کے مسافر
خوابوں‘ خیالوں کی اوڑھے ردا
سوچتے ہی رہے
تم بے وفا تو نہیں شاید مجبور ہو
تبھی تو تڑپتے دل کی کوئی بھی صدا سن نہ پائے کبھی
ہم پگھلتے رہے
رات ڈھلتی رہی
چاند جلتا رہا‘ دل مچلتا رہا
مگر آج بھی وعدہ کرکے صنم
تم کھاکے قسم
نبھا نہ سکے
ہم سسکتے رہے‘ تم آنہ سکے
سیدہ جیا عباس… مرالی‘تلہ گنگ
میری نیند
جس رات برستی ہے مجھ پر
تیری یاد صنم
اس رات…
کمرے کے کسی کونے میں
خموش اور سہمی سہمی سی
سحر تک…
روتی رہتی ہے…
میری نیند…

نمیرہ اسد نازیؔ… راولپنڈی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close