Aanchal Aug 15

محبت دل کا سجدہ

سباس گل

تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
رابیل، افشین، تیمور حسن، وہاب لاج میں ملاقات کرنے آتے ہیں رابیل کا بڑا پن اور ظرف ہے کہ وہ اتنی زیادتیوں کے بعد بھی سب کو معاف کرنے کے بعد افشین اور تیمور حسن کے ساتھ واپس لندن چلی آتی ہے۔ نوشین بیگم کو ڈر ہے کہ ذوالنون کہیں حقیقت سے باخبر ہو کر افشین کے ساتھ لندن نہ چلا جائے مگر ذوالنون انہیں یقین دلاتا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا۔ نگین علی کو رابیل کے دیے ہوئے تمام تحائف واپس کردیتی ہے یہ وہ تحائف ہیں جو علی نے رابیل کو دیے تھے علی کو دکھ ہوتا ہے کہ رابیل جاتے ہوئے ہر رشتہ ختم کر گئی ہے۔ تیمور حسن وہاب احمد سے علی اور رابیل کا نکاح ختم کرنے کا کہتے ہیں اب رابیل بھی یہ رشتہ قائم رکھنا نہیں چاہتی یہ بات وہاب احمد کو ششدر کردیتی ہے۔ زاہد ماموں اور ثمینہ ممانی، خرم کے کہنے پر نگین کا رشتہ لینے آتے ہیں ثمینہ ممانی زاہد ماموں کو نگین کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کررہی ہوتی ہیں اور نگین ان کی باتیں سن لیتی ہے اور دکھ و غصہ میں آکر رشتے سے انکار کردیتی ہے۔ خرم نگین کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے مگر اب وہ خرم سے اس حوالے سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔ رابیل لندن پہنچ جاتی ہے لیکن علی کا دل اپنے ساتھ لے آتی ہے ادھر علی کو اب کسی پل چین نہیں اسے رابیل کی یاد نے جکڑا رکھا ہے ذوالنون اسلام آباد آتا ہے تو کرن اس سے رابیل کی بابت پوچھتی ہے جس پر وہ رابیل کے لندن واپس جانے کا بتا کر پڑھائی کا پوچھتا ہے ذوالنون اس پر ابھی اپنی محبت عیاں نہیں کرنا چاہتا۔ نگین، نوفل اور ذوالنون اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھتے ہیں علی اور وہاب احمد بزنس میں مصروف ہوجاتے ہیں بظاہر سب مصروف ہیں لیکن رابیل کو کھو دینے کا دکھ سب کے اندر کنڈلی مارے بیٹھا رہتا ہے خاص کر علی اور نوشین کا دل احساس جرم اور ندامت سے ہر پل بلکتا رہتا ہے۔ کرن ایگرامز ختم ہونے کے بعد سب دوستوں کو اپنے گھر دعوت پر مدعو کرتی ہے وہیں ذوالنون کو کرن کے لندن جانے کی خبر ملتی ہے اور وہ برہم ہو کر وہاں سے چلا جاتا ہے کرن اس کے پیچھے آکر اسے منانے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
علی آفس سے گھر آیا تو پھر سے رابیل کی یاد جاگ اٹھی تھی اور وہ بے کل سا ہو کر کمرے میں ٹہلنے لگا تھا۔
’’رابیل… رابیل کیوں تڑپاتی ہو مجھے؟ اور کتنا مصروف رکھوں‘ میں خود کو؟ ذرا فرصت ملتی ہے تو آن گھیرتی ہو۔ کام کروں تو بھی میرے آس پاس رہتی ہو۔ اتنی بڑی سزا تو نہ دو مجھے میری غلطی کی۔ جانتی ہو کیا بیت رہی ہے میرے دل پر تمہاری جدائی میں‘ میں مرا نہیں ہوں تو جی بھی نہیں پارہا۔ کیسے پہنچوں تم تک؟ کیسے مانوگی رابیل؟‘‘ وہ اس کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اس سے مخاطب تھا۔
’’محبت کرتے ہیں مجھ سے اور منانا بھی نہیں جانتے۔‘‘ رابیل کی آواز اس کی سماعتوں میں اتری تو وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اسے وہ کہیں نہیں دکھائی دی‘ یہ محض اس کا وہم تھا‘ خیال تھا وہ کمرے میں تنہا تھا‘ رابیل وہاں نہیں تھی۔
’’تم محبت سے اسے واپس لاسکتے ہو… لگن ہے نا دل میں اسے پانے کی تو محبت سے بڑھ کر کیا وجہ ہوسکتی ہے تمہارے اور رابیل کے ملن کے لیے… جائو علی اسے منا لائو۔‘‘ دماغ نے صلح دی‘ تو وہ سوچنے لگا کہ رابیل تک کیسے پہنچا جائے؟ اس کے ذہن میں وہاب احمد سے بات کرنے کا خیال آیا‘ وہ تو ان سے بھی نادم تھا مگر اب سامنا تو ہر صورت کرنا تھا ان کا بھی اور رابیل کا بھی۔
…٭٭٭…
نگین کے سیل فون پر کافی دیر سے خرم کی کال آرہی تھی اور وہ اٹینڈ نہیں کررہی تھی۔ نوفل نے دیکھا تو سیل اٹھا کر اسے دے دیا۔
’’لو بات کرو خرم بھائی سے۔‘‘
’’تم بات کرلو۔‘‘ نگین نے سیل فون اس کی طرف بڑھایا۔
’’انہوں نے اگر مجھ سے بات کرنی ہوگی تو میرے سیل پر کال کرلیں گے‘ وہ آپ سے با ت کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘
’’لیکن میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’کوئی پرابلم ہے کیا؟‘‘ نوفل نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا۔
’’کوئی پرابلم نہ ہو اسی لیے بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’تمہاری مرضی۔‘‘
’’ویسے ہم سب بھی اپنی اپنی جگہ کنفیوژ اور بے چین ہیں‘ آپ بتائیں کون خوش ہے؟ مام وہ ہر وقت اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑی رہتی ہیں‘ ڈیڈی رابیل اور علی بھائی کے رشتے کو لے کر پریشان ہیں‘ علی بھائی اپنی جگہ الگ پریشان اور افسردہ ہیں‘ رابیل کو چاہتے ہیں اسے اپنی دلہن بنانا چاہتے ہیں مگر ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس تک کیسے پہنچیں؟ اسے کیسے واپس لائیں؟ کیسے اپنی محبت کا یقین دلائیں؟ اور آپ… آپ ممانی کی باتوں کو دل پہ لے بیٹھی ہیں اور کنیفوزیشن کا شکار ہیں کہ خرم بھائی سے آپ کو بات کرنی چاہیے یا نہیں۔‘‘
’’تمہیں کیسے پتا؟‘‘ نگین کو اس کی آخری بات نے حیران کردیا۔ فوراً سوال کیا تو وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’میں بھی اب اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھتا ہوں‘ سب جانتا ہوں کہ اس گھر میں کس کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ ذوالنون بھیا کے ایگزامز ختم ہوگئے ہیں‘ لیکن ایک اور امتحان ان کے لیے شروع ہوگیا ہے۔‘‘
’’یااللہ خیر‘ کیا ہوا ذوالنون کو؟‘‘ نگین نے پریشان ہوکر پوچھا تو وہ بتانے لگا۔
’’پیار ہوا یا نہیں ہوا یہ تو وہ ظاہر نہیں کررہے کسی پر‘ مگر ان پر دل وجان سے فدا ان کی دوست کرن بھی لندن جارہی ہے اپنی اسٹڈی کے لیے۔‘‘
’’یہ ہر ہیروئن لندن ہی کیوں جارہی ہے اور تمہیں یہ ساری انفارمیشن کس نے دی؟‘‘
’’میری اپنی سی آئی ڈی ہے میں بھائی کے دوستوں سے بھی رابطے میں ہوں آج کل‘ بھائی نے ان کے سیل نمبرز دیئے تھے تاکہ اگر کبھی بھائی سے کانٹیکٹ نہ ہوسکے تو ہم ان کے فرینڈز کو کال کرکے ان کی خیریت معلوم کرلیں اور انہیں کوئی میسج دینا ہو تو وہ بھی دے سکیں۔‘‘ نوفل نے اسے بتایا اور ساتھ ہی اپنے موبائل پر آنے والا میسج پڑھنے لگا‘ علی نے ایک نظم بھیجی تھی اور نوفل سمجھ گیا تھا کہ یہ نظم علی نے رابیل کے لیے بھیجی ہے اس نے مسکراتے ہوئے وہ نظم رابیل کے نمبر پر فارورڈ کردی۔
’’مسکرا کیوں رہے ہو؟‘‘ نگین نے پوچھا تو وہ ہنس کر بولا۔
’’پیغام رسانی کررہا ہوں علی سے رابیل تک۔‘‘
’’اللہ کرے علی بھائی اور رابیل ایک ہوجائیں۔‘‘
’’آمین۔‘‘ نوفل نے دل سے کہا۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
نوفل کے نمبر سے موصول ہونے والی نظم وہ جوں جوں پڑھتی جارہی تھی اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی تھیں۔ نظم کے آخر میں لکھا تھا میسج فرام‘ علی عثمان۔‘‘
’’علی…‘‘ رابیل کے لب ہلے‘ علی کی صورت آنکھوں کے سامنے آگئی اور وہ جو اس کے خیال سے بچنے کی سعی کررہی تھی پھر سے اس کے سحر میں گم ہونے لگی‘ اس نے پھر سے وہ نظم پڑھنا شروع کی۔
’’ہماری ٹوٹتی سانسیں
ہماری سوچتی آنکھیں
ہماری جاگتی راتیں
ہوا کے دوش پہ رکھی مناجاتیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں…!
سنو تم لوٹ آئو نا جہاں بھی ہو
تمہارے بعد جو بھی ہے
تمہارے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے
وقت کی سوئی اسی لمحے پہ ٹھہری ہے
جہاں تم نے بچھڑنے کا ارادہ کرلیا تھا
اور میں یادوں کے جھکڑ میں اکیلا
رہ گیا تھا
تمہیں معلوم ہے جب دل دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہے…!
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں تمہارے دکھ میں بہتے ہیں‘
ہوائیں جب بھی گلیوں میں بھٹکتی ہیں
تمہیں ہی گنگناتی ہیں
تمہارا بین کرتی ہیں
یہ بارش جب بھی ہوتی ہے تمہاری یاد کی شمعیں جلاتی ہے
شفق مجھ کو تمہارے وصل میں بھیگے ہوئے
ان موسموں کے ان گنت قصے سناتی ہے
سنو جب تم نہیں ہو تو
یہاں ہر سمت اب اک خوف ہے اک درد ہے
اک آہ وزاری ہے
سنو تم لوٹ آئو نا!
جہاں تم ہو وہ دنیا کب تمہاری ہے
سنو تم لوٹ آئو نا
تمہارے بعد جو بھی ہے
تمہارے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے!
’’تو یہاں کون سی بہار چھائی ہے علی صاحب! اور آپ کو پیغام بھیجنے کے لیے نوفل کا سہارا کیوں لینا پڑا؟ مجھ سے براہ راست مخاطب ہونے کی ہمت بھی نہیں ہے آپ میں‘ سب نے کوئی نہ کوئی چوٹ پہنچائی تھی لیکن آپ سے تو ایسی امید نہ تھی۔ محبت دے کر جو زخم آپ نے مجھے دیا ہے وہ اب تک ہرا ہے اور اس زخم نے میری زندگی کے بدن سے سارا لہو نچوڑ لیا ہے‘ کاش! کہ مجھے آپ سے محبت نہ ہوئی ہوتی تو شاید یہ زخم اتنی تکلیف کا باعث نہیں بنتا۔‘‘ رابیل نے دل میں علی کو مخاطب کرکے کہا اور پھر رابیل کی آنکھیں بھی شب کی پلکوں کے ساتھ ساتھ بھیگتی چلی گئیں۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
خرم کافون آرہا تھا۔ نگین پچھلے کئی روز سے اس کی کالز اور میسجز نظر انداز کررہی تھی‘ لیکن اس وقت اسے اس پر رحم آہی گیا اور اس نے اس کی کال اٹینڈ کرلی۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام! کیسی ہو نگی؟ کہاں ہو تم‘ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے‘ نا میں کتنے دن سے ٹرائی کررہا ہوں‘ تم جواب کیوں نہیں دے رہیں‘ ناراض ہو اب تک؟‘‘ خرم تو اس کی آواز سنتے ہی بے قراری سے سوالات کرتا چلا گیا‘نگین کو اس کی بے قراری پر ہنسی آنے لگی تھی مگر اس نے ضبط کرلی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں اور میرا خیال ہے کہ ہمارے بیچ ایسا کوئی رشتہ یا تعلق نہیں ہے کہ میں آپ سے ناراض ہوئوں۔‘‘ نگین نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ تڑپ کر بولا۔
’’پلیز نگین‘ ایسے تو مت کہو‘ ہم کزن ہیں اور میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔‘‘
’’آپ نے یہی کہنے کے لیے فون کیا تھا مجھے؟‘‘
’’پلیز ایک بار کہیں باہر مل لو نا۔‘‘
’’سوری مسٹر خرم‘ آپ وہاب لاج‘ آکر مجھ سے مل سکتے ہیں‘ لیکن گھر سے باہر میں آپ سے نہیں ملوں گی‘ میں نہیں چاہتی کہ آپ کی امی حضور کو پھر سے یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ جیسی ماں ویسی بیٹی اور یہ کہ نگی آزاد خیال اور بے حیا ہے۔‘‘ نگین نے بغیر لحاظ کیے صاف صاف کہا تو وہ شرمندہ ہوگیا۔
’’آئی ایم سوری نگی! امی شرمندہ ہیں اپنی اس بات پر اور وہ تم کو ہی اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں۔‘‘
’’آپ نے ان پر دبائو ڈالا ہوگا‘ میں آپ سے پہلے ہی…‘‘
’’نگی… ایسی کوئی بات نہیں ہے‘ میں نے یا ابو نے ان پر کوئی دبائو نہیں ڈالا۔‘‘ خرم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فوراً صفائی پیش کی‘ نگین کو اس پر ترس آنے لگا‘ بے چارہ ماں کی طرف سے صفائیاں دے رہا تھا۔ شرمندہ ہورہا تھا۔
’’دیکھو! انسان خطا کا پتلا ہے‘ ہوجاتی ہے غلطی ایک لمحے کو وہ بھی بہک جاتا ہے لوگوں کی باتوں کے یا حالات کے زیر اثر آجاتا ہے اور غصے یا جذباتی پن میں کچھ الٹا سیدھا کہہ دیتا ہے‘ جس پر بعد میں اسے ندامت محسوس ہوتی ہے‘ اپنے آپ پر بھی غصہ آتا ہے کہ اس نے یہ حرکت کیسے کردی؟ یو نو جذبات کا بہائو عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور جب وہ پردہ اٹھتا ہے تب اسے پتا چلتا ہے کہ وہ کیا غلطی کرچکا ہے… اسی طرح امی سے بھی غلطی ہوگئی‘ یقین کرو امی تمہیں بہت چاہتی ہیں۔‘‘
’’آپ بار بار اپنی امی کی طرف سے صفائی کیوں پیش کررہے ہیں‘ میرا نہیں خیال کہ ہمیں اس موضوع پر اب دوبارہ بات کرنی چاہیے۔‘‘ نگین نے سنجیدگی سے کہا۔
’’دوبارہ بات کرنے کی ضرورت ہے نگی‘ کیونکہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں‘ آخر ایک دن تمہاری شادی ہونی ہے نا‘ تو مجھ سے کیوں نہیں؟ میں بہت خوش رکھوں گا تمہیں نگی! میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں یہ سب شادی کے بعد کہنا چاہتا تھا لیکن… مجبوراً ابھی کہنا پڑ رہا ہے‘ پلیز انکار مت کرنا‘ امی ابو آئیں گے رشتے کی بات کرنے۔‘‘
’’اوکے… ڈیڈی آگئے ہیں اور میری شادی کا فیصلہ بھی ڈیڈی ہی کریں گے میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا‘ اوکے خدا حافظ۔‘‘ نگین نے سنجیدگی سے جواب دیا اور رابطہ منقطع کردیا۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
کرن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ذوالنون کو کس طرح منائے‘ وہ کئی بار اسے ’’سوری‘‘ کا میسج کرچکی تھی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ وہ ’’وہاب لاج‘‘ پہنچ گیا تھا۔ کرن کو اس کی بے حسی پر رونا آرہا تھا اور ذوالنون کو اس کی جدائی کے خیال سے‘ وہ لاکھ اسے نظر انداز کرتا‘ اس کی حوصلہ شکنی کرتا مگر وہ اسے اچھی لگتی تھی‘ اس کی عادت سی ہوگئی تھی اسے‘ صبح کالج آتے ہی آنکھیں کرن کو ہی دیکھنا چاہتی تھیں‘ وہ اس دیوانگی پر کبھی کبھی ڈر سا جاتا تھا‘ اس کے ذہن میں یہ کہیں نہیں تھا کہ وہ یوں اچانک سے بیرون ملک جانے کا پروگرام بنالے گی۔
’’تو کیا یہ طے ہے اب عمر بھر نہیں ملنا
تو پھر یہ عمر کیوں تم سے گر نہیں ملنا‘‘
’’اف اتنی درد ناک غزل کیوں سن رہے ہو بھائی۔‘‘ نگین نے ٹی وی لاؤنچ میں ذوالنون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ بھیا جانی اس وقت سیڈ موڈ میں ہیں۔‘‘ نوفل نے ذوالنون کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’بالکل!‘‘ نگین نے ذوالنون کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا۔
’’ارے نہیں یار‘ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ پھر وہ خود ہی انہیں کرن کے بارے میں بتانے لگا۔
’’دیکھنے میں ماڈرن لگتی ہے‘ اور شاعری دیسی یاد کر رکھی ہے‘ بات بے بات شعر سناتی ہے‘ ایس ایم ایس الگ شاعری سے بھرپور ہوتے ہیں اس کے‘ شاعری میں بات کرتی ہے لگتا ہے جیسے شاعری ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہو۔‘‘ ذوالنون پہلی بار کرن کے حوالے سے ان دونوں سے اتنی تفصیل سے بات کررہا تھا‘ شاید اس کا دل کرن کی باتیں کرنا چاہ رہا تھا۔
’’رابیل کے بغیر گھر اتنا اداس اور ویران لگ رہا ہے۔‘‘ نگین نے افسردگی سے کہا۔
نوشین نے کب وہاں آکر کھڑی ہوئی تھیں ان تینوں نے چونکتے ہوئے نوشین کی طرف دیکھا۔
’’موم‘ کیوں نہ ہم سب لندن چلیں‘ رابیل سے ملنے۔‘‘ نوفل نے خیال ظاہر کیا تو ذوالنون کہنے لگا۔
’’ہاں میرا بھی دل چاہ رہا ہے رابیل اور سب سے ملنے کو۔‘‘ ذوالنون اپنے اصل ماں باپ سے ملنے کو مچل رہا تھا لیکن ظاہر نہیں کررہا تھا کہ کہیں نوشین اور وہاب احمد دکھی نہ ہوجائیں۔
’’تو بیٹا تم جاکے مل آئو نا‘ ان سے یوں بھی آج کل تمہاری چھٹیاں ہیں۔‘‘ نوشین نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’اور ہم…‘‘ نگین اور نوفل بولے۔
’’ہم پھر کبھی چلیں گے۔‘‘
’’ذوالنون‘ تم بھی لندن چلے جائو گے ہم اداس ہوجائیں گے۔‘‘ نگین نے نوشین کی بات سن کر افسردگی سے کہا۔
’’ارے نہیں بھئی میں کہیں نہیں جارہا یہ چھٹیاں میں آپ سب کے ساتھ ہی گزاروں گا‘ کیا خیال ہے سب مل کر پکنک پر چلتے ہیں مزا آئے گا۔‘‘ ذوالنون نے اپنی دلی خواہش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی اداسی دور کرنے کے خیال سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’یس گڈ آئیڈیا‘ ماموں کی فیملیز کو بھی انوائیٹ کرلیں۔‘‘
’’کیوں مام؟‘‘ نوفل نے خوش ہوکر نوشین کی طرف دیکھا۔
’’جیسے تم تینوں کو بہتر لگے کرلو اور اپنے ڈیڈی کو فون تو کرو ابھی تک گھر نہیں آئے۔‘‘ نوشین نے انہیں کھلی چھٹی دیتے ہوئے وال کلاک پر وقت دیکھ کر کہا۔
’’ڈیڈی بہت سیانے ہیں‘ انہیں پتا ہے ناکہ اب آپ گھر پہ ان کا انتظار کررہی ہوتی ہیں اسی لیے تو آپ کو انتظار کروا کے مزے لیتے ہیں۔‘‘ نوفل نے شرارت سے کہا۔ تو وہ تینوں ہنس پڑے۔
’’موم‘ سنبھالیں اسے یہ تو ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے۔‘‘ ذوالنون نے نوفل کی شرارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو نگین بھی فوراً بول پڑی۔
’’جی موم‘ آج کل یہ بہت کل پرزے نکال رہا ہے اس کی سروس ہونی چاہئے۔‘‘
’’کیوں بیٹا؟ پھر ہوجائے سروس؟‘‘ نوشین نے نوفل کا کان پکڑ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’نہیں…بچائو… بچائو… ڈیڈی ہیلپ می۔‘‘ نوفل نے شوخی بھرے انداز میں شور مچایا سامنے سے وہاب احمد آتے دکھائی دیئے تو انہیں مدد کے لیے پکارا۔
’’یہ کیا ہورہا ہے بیگم صاحبہ؟‘‘ وہاب احمد نے مسکراتے ہوئے نوشین کو مخاطب کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے نوفل کا کان چھوڑ دیا۔
’’کچھ نہیں‘ بس یہ بہت بدمعاش ہوگیا ہے۔‘‘
’’آخر بیٹا کس کا ہے؟‘‘ وہاب احمد نے نوشین کو دیکھتے ہوئے شرارت آمیز لہجے میں کہا تو وہ سب ہی خوش دلی سے ہنس دیئے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
رابیل کتاب کھولتی تو علی کی صورت صفحہ قرطاس پر مسکراتی ہوئی دکھائی دیتی‘ آنکھیں بند کرتی تو وہ بند آنکھوں میں آسماتا۔ بھولنا چاہتی تھی مگر وہ اور زیادہ یاد آتا تھا‘ اسے احساس ہوگیا تھا کہ…!
محبت وہ کہانی ہے…
کہ جتنا بھی کوئی بھولے
ہمیشہ یاد رہتی ہے
رابیل نے ایم بی اے میں ایڈمیشن لے لیا تھا۔ وہ ماسٹرز کرنے کے بعد اپنے پاپا کے بزنس میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی‘ تیمور حسن نے منیجر کی حیثیت سے جس کمپنی میں جاب کی تھی‘ اس کمپنی کے 75 فیصد شیئرز کے مالک تھے وہ‘ اب یہ ملٹی نیشنل کمپنی تھی اور اس کی پروڈکٹس کئی ممالک میں ایکسپورٹ کی جاتی تھیں۔ نبیل انجینئرنگ کررہا تھا اور ہر امتحان میں بہت اچھے گریڈ حاصل کررہا تھا۔ اسے گانے کا شوق بھی تھا اور وہ یونیورسٹی کے فنکشنز میں گاتا بھی تھا‘ خوب داد بھی پاتا تھا‘ اسے گٹار بہت اچھا بجانا آتا تھا‘ رابیل بھی اس سے گٹار بجانا سیکھ رہی تھی۔ افشین کا وقت گھر داری میں ہی گزرتا تھا‘ وہ مکمل طور پر ایک اچھی ہائوس وائف ہونے کا فریضہ بہت احسن طریقے سے انجام دے رہی تھیں۔
رابیل یونیورسٹی سے پیدل واپس آرہی تھی کہ اسے سڑک پر گوروں کے بیچ اپنے وطن کا شناسا چہرہ نظر آیا‘ وہ علی تھا اور اسی کی جانب آرہا تھا۔ رابیل حیرت سے وہیں ساکت ہوگئی۔
’’کیا وہ آگیا ہے اسے منانے؟‘‘ رابیل نے دل میں سوال کیا اور جوں جوں وہ چہرہ قریب آتا گیا‘ رابیل کے دل کی دھڑکن تھمنے لگی اور آخر وہ چہرہ اس کے قریب آگیا۔
’’رابیل‘ وائے آر یو اسٹینڈنگ ہیئر۔‘‘ اس مانوس سی آواز نے اس کے ساکن وجود میں ارتعاش پیدا کردیا‘ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا وہ چہرہ علی کا نہیں تھا۔ میتھیو کا تھا وہ آواز علی کی نہیں میتھیو کی تھی جو اسے یوں بیچ سڑک پر کھڑی دیکھ کر چلا آیا تھا۔
’’میتھیو…‘‘ رابیل نے آہستہ سے کہا۔
’’یس اٹس می‘ آر یو آل رائٹ۔‘‘ میتھیو نے اس کا ہاتھ پکڑا۔
’’یس‘ آئی‘ ایم فائن۔‘‘ رابیل نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے کہا اور چلنے لگی تو وہ بھی اس کا ہاتھ پکڑے اس کے ساتھ چلتا ہوا اسے قریبی پارک میں لے آیا اور اسے سنگی بینچ پہ بٹھا دیا اور دوڑ کر قریبی شاپ سے جوس کے دو کین لے آیا۔
’’ڈرنک اٹ۔‘‘ ایک کین کھول کر اس نے رابیل کو دیا۔
رابیل کسی معمول کی طرح اس کی بات پر عمل کررہی تھی۔ خاموشی سے گھونٹ گھونٹ کرکے جوس پی رہی تھی۔
’’ہے وٹس رانگ ود یو۔‘‘
’’نتھنک۔‘‘ رابیل نے آہستہ سے جواب دیا‘ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ خواب وخیال میں‘ گھر وبازار میں ہر جگہ اسے علی کا ہی چہرہ دکھائی دیتا تھا‘ بظاہر وہ سب کو کتنی مطمئن اور مسرور دکھائی دیتی تھی لیکن اس کے اندر کتنی بے سکونی‘ بے کلی اور اداسی آبسی تھی‘ یہ صرف وہی جانتی تھی۔ اس نے تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے کبھی کسی سے محبت ہوجائے گی اور وہی محبت اسے دکھ اور ناقدری کا احساس دلائے گی‘ اس کی اچھائیوں کو اس کی برائیاں اس کی خوبیوں کو اس کی خامیاں‘ قرار دے دے گی۔
رابیل دل ہی دل میں علی سے مخاطب تھی۔ وہ تو کسی کی سامنے رو بھی نہیں سکتی ورنہ سب کو اس کے دکھ کی خبر ہوجاتی۔ وہ آنسو جو علی کے نام کے تھے پلکوں سے نہیں گرتے تھے لیکن سینے میں سلگتے رہتے تھے۔
’’رابیل! تم کن سوچوں میں گم ہو؟‘‘ میتھیو نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر بولی۔
’’ یہیں ہوں تمہارے سامنے۔‘‘
’’نہیں‘ تم یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں ہو۔‘‘
’’نہیں‘ میں ٹھیک ہوں اب چلتی ہوں‘ مما انتظار کررہی ہوں گی‘ مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ جوس ختم کرکے کھڑی ہوگئی۔
’’تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔‘‘ وہ اپنے انگلش لہجے میں اردو میں بولا تو اس کے لہجے پر وہ ہمیشہ کی طرح ہنس پڑی۔ میتھیو اور باقی برطانوی دوستوں نے اس سے اردو سیکھی تھی‘ میتھیو چونکہ اس کا پڑوسی بھی تھا اس لیے روز آنا جانا ملنا ملانا رہتا تھا اور وہ کافی صاف اردو بولنے اور سمجھنے بھی لگا تھا۔
’’نو‘ نو‘ نو۔‘‘ رابیل نے جواب دیا۔
’’تمہیں محبت ہوگئی ہے؟‘‘ میتھیو کے سوال نے اسے بری طرح سٹپٹا دیا۔ دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا۔ قدم اٹھنا بھول گئے۔ وہ حیرت سے اسے تک رہی تھی۔
’’تم کو کیسے پتا؟‘‘
’’تمہاری آنکھیں بولتی ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’کم آن میتھیو‘ ایسا کچھ نہیں ہے‘ جلدی چلو مما پریشان ہو رہی ہوں گی‘ کتنی دیر ہوگئی ہے آج ہمیں۔‘‘ رابیل نے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ بھی رسٹ واچ پہ ٹائم دیکھتا ہوا اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا۔
’’ہیلو ہیلو‘ گھر آگیا ہے ڈیئر۔‘‘ میتھیو نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر کہا وہ جو علی کے خیال میں بس چلتی جارہی تھی پھر سے چونک گئی۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
ذوالنون کے سیل پر میسج ٹون بجی‘ ذوالنون کا ہاتھ فوراً خوف زدہ ہوکر دھڑکتے دل پر گیا تھا۔
’’ہائے! تھام لیا نا دل! پھر کہتے ہیں عشق نہیں ہے۔‘‘ نوفل نے فوراً اس کی یہ حرکت نوٹ کی اور جملہ کسا۔
’’دیکھو‘ دیکھو ضرور کرن کا میسج ہوگا۔‘‘ نگین نے دلچسپی سے کہا تو ذوالنون ہنستے ہوئے بولا۔
’’یہ تم دونوں کو اتنی دلچسپی کب سے ہوگئی‘ کرن میں؟‘‘
’’جب سے تم نے ان کے لندن جانے کی خبر سنائی ہے اور بے نیازی دکھائی ہے‘ اس کے معاملے میں۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’ہاں وہ اکیلی نہیں جارہی آپ کا دل بھی اپنے ساتھ لے جارہی ہے وہاں! آپ بولیں نہ بولیں‘ آپ کے چہرے پر صاف صاف لکھا ہے ’’میں بہت اداس ہوں‘ کوئی کرن سے کہے کہ مت جائے رک جائے…‘‘ نوفل کے انداز پر ذوالنون اسے کشن لے کر مارنے کو دوڑا تھا۔
’’ٹھہر جا تجھے تو میں سیدھا کرتا ہوں۔‘‘
’’ارے بھیا جی! پہلے اپنا معاملہ تو سیدھا کرلیں‘ روک کیوں نہیں لیتے اسے لندن جانے سے؟‘‘ نوفل نے اس کا اپنی جانب پھینکا ہوا کشن پکڑ کر کہا۔
’’اچھا میرے روکنے سے وہ رک جائے گی۔‘‘
’’بالکل وہ آپ کی کج ادائی کے سبب ہی جارہی ہوگی‘ مجھے پورا یقین ہے۔ اس نے سوچا ہوگا کہ یہاں تو اس کی دال گلی نہیں لیکن وہاں تو سری پائے بھی گل جائیں گے بھیا جی۔‘‘ نوفل نے شوخ لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا تو ذوالنون نے اپنا سر پکڑ لیا۔
’’میری کوئی خواہش نہیں ہے کہ وہ میری وجہ سے اپنا پروگرام کینسل کرے‘ اچھا ہے لندن جیسی جگہ پر پڑھے گی تو اس کی ڈگری کی بھی یہاں ویلیو ہوگی‘ ہر انسان کو اپنے فیوچر کے لیے کچھ بھی بہتر پلان کرنے کا حق ہے‘ میں کرن کو ہرگز نہیں روکوں گا۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہے کہ وہ مجھ سے دور رہے‘ اس طرح وہ اپنی اسٹڈیز پر پوری توجہ دے سکے گی اور سب سے اہم بات یہ کہ ہماری‘ تمہاری عمر تعلیم پر توجہ دینے کی ہے‘ عشق‘ پیار‘ محبت جیسے کاموں کے لیے عمر پڑی ہے‘ مائی لٹل برادر۔‘‘ ذوالنون نے نہایت سنجیدگی سے کہا تو وہ خود اپنی اس بات سے متفق ہوا یا نہیں‘ البتہ نوفل اور نگین کو اس کی بات معقول لگی اور وہ متفق تھے اس کے خیالات سے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
خرم بے بسی سے نگین کی خاموشی کو جھیل رہا تھا۔ وہ دن میں کئی بار اسے فون ومیسج کرتا بٹ نو رپلائی‘ وہ بہت ڈسٹرب تھا۔ ثمینہ بیگم نے بات بننے سے پہلے ہی بگاڑ دی تھی۔ اور اب وہ اس سے معمول کی ملاقات سے بھی گیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نگین کو جب تک ثمینہ بیگم اس بات کی وضاحت نہیں کریں گی‘ اپنی غلطی نہیں مانیں گی اور دل سے اپنی رضا مندی اس رشتے کے لیے نہیں دیں گی نگین تب تک اس کے حق میں مثبت جواب نہیں دے گی اور اگر اس سے بات کیے بنا اس کے پیرنٹس سے بات کر بھی لی گئی تو وہ خود اس رشتے سے انکار کردے گی… اور انکار وہ افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔ زاہد ماموں نے تو اسے یقین دلا دیا تھا کہ وہ مناسب وقت دیکھ کر نگین سے بات کرلیں گے مگر ثمینہ بیگم نے ابھی تک اپنی بات پر عمل کی کوشش نہیں کی تھی جس سے خرم کی الجھن اور بے قراری بڑھتی جارہی تھی اور وقت تھا کہ گزرتا چلا جارہا تھا۔
…٭٭٭…
کچھ بات ہے تیری باتوں میں جو بات یہاں تک آپہنچی
ہم دل سے گئے‘ دل تم پہ گیا‘ اور بات کہاں تک جا پہنچی
ذوالنون کے سیل فون پر کرن کا میسج آیا تو حسب عادت شعر میں اپنا مدعا بیان کیا تھا‘ ذوالنون نے کوئی جواب نہیں دیا‘ شاید وہ اپنی خفگی ظاہر کرنا چاہ رہا تھا اس سے۔
کچھ دیر بعد دوبارہ میسج ٹون بجی‘ تو ذوالنون نے دیکھا‘ کرن کا ہی میسج تھا۔
’’یہ لڑکی بھی نہ جب تک چلی نہیں جائے گی اسی طرح مجھے پریشان کرتی رہے گی۔‘‘ ذوالنون نے میسج پڑھ کر خود سے کہا۔
’’تمہیں الفت نہیں مجھ سے
مجھے نفرت نہیں تم سے
عجب شکوہ سا رہتا ہے
تمہیں مجھ سے‘ مجھے تم سے‘‘
ذوالنون نے مسکراتے ہوئے اسے تپانے کی غرض سے لکھا۔
’’مجھے کیسے یقین آئے؟
محبت تم بھی کرتی ہو
تمہیں جب بھی کبھی دیکھا
سدا خوش باش ہی دیکھا‘‘
کرن کو اس کی طرف سے جواب ملنے کی دیر تھی وہ تو زارو قطار رونے لگی۔
’’نہ خود محبت کرتا ہے‘ نہ میری محبت پر یقین کرتا ہے۔ بے حس انسان جس دن اسے خود محبت ہوگی نا تب پتا چلے گا کہ محبوب کی بے اعتنائی اور جدائی کیسے مارتی ہے؟ کیسے رلاتی ہے؟ کیسے سجدہ کرواتی ہے؟ کیسے رب کے آگے ہاتھ پھیلانے پر اکساتی ہے‘ دیکھ لینا ذوالنون احمد تم ایک دن میری محبت کے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور ہوجائو گے۔ تم میری محبت کے آگے اپنا ماتھا ٹیک دوگے‘ تمہارا دل جھک جائے گا ایک دن میری محبت کے سامنے‘ تم سر تسلیم خم کرلو گے ایک دن‘ ہاں مجھے یقین ہے‘ میری محبت میں بہت طاقت ہے اور تم اس طاقت سے بچ نہیں پائوگے۔‘‘ کرن نے روتے ہوئے اپنے دل میں اسے مخاطب کرکے کہا۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
’’آپ علی سے بات کیوں نہیں کرتے آخر‘ وہ چاہتا کیا ہے؟ کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرلیتا اپنے اور رابیل کے رشتے کا؟‘‘ امینہ نے عثمان عزیز کو اخبار پڑھتے دیکھ کر کہا۔
’’فیصلہ[ کیسا فیصلہ؟‘‘
’’اپنی اور رابیل کی زندگی کا فیصلہ‘ آخر اس نکاح کی کوئی اہمیت ہے کہ نہیں؟‘‘ امینہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’اہمیت ہے جبھی یہ نکاح اب تک قائم ہے اور اس سے علی کا فیصلہ بھی عیاں ہے کہ وہ رابیل کو ہی دلہن بنا کر اپنا گھر بسانا چاہتا ہے‘ قدرت کو اسی طرح ان کا ملن منظور تھا‘ سو نکاح ہوگیا۔ درمیان میں جو بھی بدمزگی اور بدگمانی پیدا ہوگئی تھی اس کی وجہ ہم سب ہیں‘ وہ بچی رابیل نہیں اور مجھے یقین ہے کہ علی جب خود کو رابیل کا سامنا کرنے کے قابل سمجھے گا تب وہ اسے منالے گا۔‘‘ عثمان عزیز نے انہیں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
’’اور وہ وقت کب آئے گا؟ جب علی کی عمر نکل جائے گی‘ شادی کی بھی ایک عمر ہوتی ہے میاں صاحب!‘‘ امینہ نے سپاٹ لہجے میں کہا تو وہ سنجیدگی سے گویا ہوئے۔
’’تو اگر علی کا رابیل سے نکاح نہ ہوا ہوتا تب بھی تو ابھی تک علی کی شادی نہ ہوتی‘ اتنا زیادہ وقت تو نہیں گزرا رابیل کو یہاں سے گئے ہوئے اور علی کون سا شادی کے لیے تیار تھا‘ یہ تو قسمت نے ان دونوں کو ملا دیا اور علی کی عمر کو کیا ہوا؟ جوان ہے‘ ابھی کوئی عمر نہیں نکلی جارہی اس کی‘ پہلے بھی آپ اپنی ناسمجھی سے نہ صرف اپنے بیٹے کو بلکہ اپنے بھائی اور اس کی فیملی کو بہت دکھ پہنچا چکی ہیں‘ لہٰذا اس بار کوئی حماقت مت کیجیے گا‘ علی کو اس کے حال پر چھوڑ دیں وہ ضرور اس مسئلے کو حل کرلے گا‘ مجھے پورا بھروسہ ہے اپنے اللہ اور اپنے بیٹے پر۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا نا… حرکت میں ہی برکت ہے۔‘‘ امینہ نے بے چینی سے کہا تو وہ ہنس کر پوچھنے لگے۔
’’بیگم صاحبہ! آخر آپ کو اتنی بے چینی کس بات کی ہے‘ اصل مسئلہ کیا ہے… اتنی بے صبری کیوں ہورہی ہیں آپ؟‘‘
’’کیونکہ مجھے احساس جرم ہر گھڑی بے چین رکھتا ہے‘ رابیل کے ساتھ اپنا رویہ یاد آتا ہے تو میری نیند اڑ جاتی ہے‘ اسی لیے جب تک وہ دلہن بن کر اس گھر اور علی کی زندگی میں نہیں آجاتی تب تک مجھے بھی چین اور سکون نہیں ملے گا۔‘‘ امینہ نے ایمان داری سے ساری بات کہہ دی۔
’’گڈ… یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ کو اپنے رویے کی بدصورتی کا احساس ہے اور آپ اس کی تلافی چاہتی ہیں‘ لیکن بیگم صاحبہ‘ کچھ کام تقدیر کے ہاتھ میں ہوتے ہیں‘ ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر ہر کام خودبخود ہوتا چلا جاتا ہے‘ آپ بھی اس وقت کا انتظار کیجیے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی دعا کیجیے۔‘‘ عثمان عزیز نے نرمی سے کہا۔
’’ہاں دعا تو کر ہی رہی ہوں اللہ بہتر کرنے والا ہے۔‘‘ امینہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا اور چائے پینے لگیں۔ عثمان عزیز پھر سے اخبار کی سرخیوں اور خبروں میں کھوگئے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
علی ’’وہاب لاج‘‘ آیا تو رابیل کی تصویر دیوار پر آویزاں دیکھ کر پھر سے بے قرار ہوگیا اور باہر لان میں آکر بیٹھ گیا۔
’’یوں اس کی یادوں سے کب تک بھاگتے رہیں گے آپ؟‘‘ نگین جو اس کی کیفیت کو بھانپ گئی تھی اس کے چہرے پر رقم بے کلی و بے بسی دیکھتے ہوئے استفسار کررہی تھی۔
’’کہاں بھاگ پاتا ہوں؟‘‘ وہ بے بسی سے گہری اور معنی خیز بات کہتا اسے بے حد آزردہ لگا۔
’’وہ بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہے یہ یقین ہے نا آپ کو؟‘‘
’’شک کرنے کی کوئی وجہ‘ کوئی گنجائش ہے ہی نہیں۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے دلگیر لہجے میں کہا۔
’’تو محبت میں شکوے… گلے… غلط فہمیاں تو ہو ہی جاتی ہیں پھر انہیں دور کرنے میں منانے میں دیر کیوں؟‘‘
’’ایک خوف سا ہے کہ کہیں اسے پوری طرح سے ہی نہ کھو بیٹھوں‘ خود میرا اپنا رویہ ہی میرے راستے کی دیوار بن جاتا ہے۔ ہم دونوں کے بیچ یہ خوف یہ ناسمجھی کی دل شکنی آکھڑی ہوتی ہے… اگر اس نے منع کردیا اور… یہ رشتہ ختم کرنے کا کہہ دیا تو… میں تو شاید زندہ ہی نہ رہ پائوں… اس کی محبت کا انکار میری یقینی موت ہوگا۔‘‘ وہ بے بسی سے بولا۔
’’اللہ نہ کرے علی بھائی‘ آپ کیسی خوف ناک باتیں کررہے ہیں‘ اتنی بہادر لڑکی کے شوہر ہوکر ایسی مایوسی کی باتیں‘ علی بھائی پلیز خود کو مضبوط بنائیں اور جائیں اس کے پاس کیا پتا وہ کب سے آپ کی آمد کی منتظر ہو‘ یہ سوچ رہی ہو کہ آپ اسے منانے آئیں گے تو وہ فوراً مان جائے گی۔‘‘ نگین نے تڑپ کر کہا تو وہ آس بھرے لہجے میں بولا۔
’’کیا واقعی یہ بات ہوسکتی ہے؟‘‘
’’کیا آپ کو اپنی محبت پر یقین نہیں؟‘‘ نگین نے الٹا اسی سے سوال کیا۔
’’یقین تو بہت ہے مجھے کہ وہ میرے لیے وہی محبت محسوس کرتی ہوگی جو اس کے لیے میرے دل میں ہے۔‘‘
’’تو اللہ کا نام لے کر نکل جائیں اسے منانے اور پکڑ لیں لندن کی فلائیٹ۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے مشورہ دیا۔
’’لیجیے رابیل کو یاد کیا‘ اس کا میسج بھی آگیا۔ اسے کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ بلکہ چاہ ہوتی ہے اور آپ ہیں کہ ڈرے بیٹھے ہیں۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے اپنا سیل فون اٹھا کر رابیل کا میسج اوپن کیا۔
’’کیا لکھا ہے رابیل نے؟‘‘ علی نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بے کلی سے پوچھا تووہ اس کی بے کلی پر ہنس دی۔
’’ایک غزل بھیجی ہے‘ لیں سنیں‘ آپ کے مطلب کی ہے۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور غزل سنانے لگی۔
’’مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے
جو آئے تیسرا دانہ یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے
مقرر وقت ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا
ادا جن کی نکل جائے قضا بھی چھوٹ جاتی ہے
محبت کی نمازوں میں امامت ایک کو سونپو!
اسے تکنے‘ اسے تکنے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے
محبت دل کا سجدہ ہے جو ہے توحید پر قائم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے‘‘
’’واہ! کیا زبردست پیغام بھیجا ہے رابیل نے آپ کے لیے۔ تو پھر کب جارہے ہیں لندن؟‘‘
’’ان شاء اللہ بہت جلد۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’او شٹ‘ جس کام سے آیا تھا وہ تو بھول ہی گیا۔‘‘ علی کو اچانک جیسے کچھ یاد آگیا ایک دم سے بولا۔
’’کون سا کام؟‘‘
’’خرم کا پیغام ہے تمہارے لیے۔‘‘ علی نے جواب دیا۔
’’یہ آپ پیام بر کب سے بن گئے؟‘‘
’’جب سے محبت کی ہے۔ ایک محبت کرنے والا ہی دوسرے محبت کرنے والے کا درد اور کیفیت سمجھ سکتا ہے۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’واہ جی… کیا ایکا ہے عاشقوں میں۔‘‘
’’وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے تم کیوں اس بے چارے کو اگنور کررہی ہو؟‘‘
’’وجہ وہ اچھی طرح جانتا ہے۔‘‘ نگین یکدم سنجیدہ ہوگئی۔
’’رابیل کی بہن ہو کر اتنا غصہ‘ اتنی انا…‘‘ علی نے حیرت سے کہا۔
’’علی بھائی بات غصے یا انا کی نہیں ہے بات میری عزت نفس اور وقار کی ہے۔ میں کیسے اپنی پوری زندگی ان لوگوں کے بیچ گزارنے کا فیصلہ کرلوں جن کی خاتون خانہ‘ ہی مجھے میری ماں کی وجہ سے بہو بنانے سے انکار کرچکی ہیں‘ مسٹر خرم کی والدہ میرے کردار پر شک کرتی ہیں‘ تو ٹھیک ہے یہ ان کا حق ہے اور یہ میرا حق ہے کہ جو مجھے غلط سمجھتا ہے میں اس سے کوئی نیا رشتہ نہ جوڑوں‘ میں ایک شخص کی محبت کے لیے اس کی فیملی سب سے بڑھ کر اس کی ماں کی نفرت اور ناپسندیدگی نہیں جھیل سکتی۔ میں نے زندگی میں محبت اور مرد دونوں سے فریب کھایا ہے‘ اس لیے میں مزید کسی فریب میں کھو کر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی میں اتنی اچھی ہوں کہ میں یہ عزم اور خیال لے کر خرم سے شادی کرلوں کہ اس کی ماں کو میں اپنی محبت اور خدمت سے جیت لوں گی‘ ان کے دل میں جگہ بنالوں گی۔ مجھے شادی کے سلسلے میں ان کی ماں کا احسان نما اقرار قبول نہیں۔‘‘ نگین نے نہایت سنجیدہ اور اٹل لہجے میں کہا۔
’’آئی ایم امپریسڈ‘ تمہارا خیال درست ہے نگی‘ خرم کو اپنی والدہ سے ہی بات کرنی چاہیے‘ وہ بات کر بھی چکا ہے کہہ رہا تھا کہ وہ اپنی باتوں پر شرمندہ ہیں‘ تمہیں تو پتا ہی ہوگا کزن‘ عورتوں کو یونہی بولنے کی عادت ہوتی ہے‘ ہر معاملے میں‘ ہر انسان کے بارے میں‘ اپنے رشتے داروں کے بارے میں اور بات کا بتنگڑ بنانے کی عادت ہوتی ہے اور یہی تمہاری ثمینہ مامی نے بھی کیا اور تم اچھی طرح جانتی ہو‘ وہ تو پہلے ہی بے تکان بولنے اور بے محل بولنے میں خاصی مشہور ہیں۔ لہٰذا میرا مشورہ یہی ہے کہ اگر وہ خود تم سے اپنی باتوں پر معذرت کرتی ہیں تو تم دل بڑا کرکے انہیں معاف کر دینا اور اگر وہ رشتہ لے کر آئیں تو انکار مت کرنا۔ کیونکہ خرم تم سے بہت محبت کرتا ہے اور محبت ہر کسی کا نصیب نہیں بنتی‘ اس محبت کی قدر کرنا‘ میری طرح نادانی نہ کر بیٹھنا ورنہ صرف دکھ باقی رہ جائے گا اور پچھتاوا۔‘‘ علی نے اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے اسے سمجھایا۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
’’تیمور‘ ہماری بیٹی خوش نہیں ہے‘ بس خوش ہونے کا ڈرامہ بہت اچھا کررہی ہے۔‘‘ افشین نے تیمور حسن سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو وہ سنجیدہ مگر نرم لہجے میں بولے۔
’’جانتا ہوں۔‘‘
’’تو آپ وہاب بھائی سے بات کریں‘ وہ تو بہت تعریف کرتے تھے نا علی کی اور آپ بھی… پھر کہاں رہ گیا علی‘ سال ہوگیا کوئی ایسے کرتا ہے کیا‘ نکاح کرکے بھول گیا‘ میری بچی کو‘ دکھوں میں چھوڑ دیا۔ بے چینیوں‘ کی نذر کردیا۔ یہ محبت ہے اس کی؟ محبت کرتاتو کب کا آچکا ہوتا۔ کیا چل رہا ہے آخر اس کے دماغ میں؟‘‘ افشین نے سنجیدہ اور فکرمند لہجے میں کہا۔
’’اللہ سب بہتر کرے گا‘ یہ خاموشی‘خوشی میں ضرور بدلے گی یقین رکھیے۔‘‘ تیمور حسن نے افشین کے شانوں کے گرد بازو حمائل کرکے نرمی سے کہا تو وہ خدشات میں گھری فکرمندی سے بولی۔
’’بعض اوقات اتنی طویل خاموشی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
’’نہیں… نہیں آپ ایسا مت سوچیں‘ ہماری بیٹی کی زندگی میں جتنے طوفان غم آنے تھے آچکے‘ اب ان شاء اللہ کوئی طوفان رابیل کی زندگی میں نہیں آئے گا۔ آئے گا تو صرف خوشیوں اور محبتوں کا سیلاب آئے گا ان شاء اللہ۔‘‘ تیمور حسن نے ان کے خدشے کو جھٹلاتے ہوئے پر یقین لہجے میں کہا۔ افشین نے دل سے دعاکی۔
’’ان شاء اللہ! اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔‘‘
رابیل اور نبیل دونوں جوگنگ کرکے ایک ساتھ واپس آرہے تھے۔ دونوں نے انہیں دیکھتے ہی دور سے ہاتھ ہلایا۔
’’ہائے پاپا… ہائے مما۔‘‘ جواباً تیمور حسن اور افشین نے بھی ہاتھ ہلا کر انہیں جواب دیا۔
’’پاپا‘ کتنی ٹھنڈ ہے نا۔‘‘ رابیل نے ان کے قریب پہنچ کر کہا۔
’’برف پڑے گی تو کتنا مزا آئے گا نا۔‘‘ رابیل آنے والے موسم کے خیال سے ہی ایکسائیٹڈ ہورہی تھی اور تیمور حسن مسکرا رہے تھے اس کا جوش دیکھ کر اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
’’جی بیٹا‘ مزا تو یقینا آئے گا۔ سنو فال ہمیشہ مری کی یاد دلاتی ہے‘ اور بیٹا جانی ابھی تو نیو ایئر آنے والا ہے۔ نئے سال کی تقریبات کا مزا بھی خوب رہے گا۔‘‘
’’آئی‘ ایم سو ایکسائٹڈ۔‘‘ رابیل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’نظر آرہی ہے آپ کی ایکسائٹمنٹ۔‘‘ تیمور حسن بولے تو وہ ہنس پڑی۔
’’پاپا‘ بھائی کی اور عروج کی لڑائی ہوگئی صبح صبح۔‘‘
’’کیوں بھئی؟‘‘ رابیل کے بتانے پر تیمور حسن نے نبیل سے پوچھا۔
’’ایسے ہی پاپا‘ میں نے جلدی اپنے رائونڈز مکمل کرلیے وہ پیچھے رہ گئی پہلے اس بات پر منہ پھلالیا اور پھر کیرئین وہاں مل گئی اس سے اخلاقاً ہیلو‘ ہائے کرلی تو صبح صبح اس کے چہرے پر پورے بارہ بج گئے۔‘‘ نبیل نے گھر کے دروازے پر پہنچ کر اپنی بات مکمل کی۔ وہ تینوں ہنسنے لگے۔
’’عروج ہے تو پوری برٹن لیکن اس کے یہ انداز خالص پاکستانی عورتوں والے ہیں۔‘‘ افشین نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’صرف عورتوں والے نہیں‘ خالص بیویوں والے انداز۔‘‘ تیمور حسن نے مزید ان کی بات کو بڑھایا تو نبیل نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’اف توبہ پاپا! ڈونٹ ٹیل می ڈیٹ‘ میں تو شادی ہی نہیں کروں گا۔‘‘ نبیل نے کہا تو وہ سب ہنس دیئے۔
’’بیٹا جی‘ جب محبت ہوجائے گی تو شادی کرنے کو بھی خود ہی دل مچلنے لگے گا۔ مثال تمہارے سامنے موجود ہے۔‘‘ تیمور حسن نے مسکراتے ہوئے افشین کو محبت سے دیکھا۔
’’آپ بھی کیا باتیں لے بیٹھے‘ چلیں فریش ہوجائیں‘ میں ناشتہ بناتی ہوں۔‘‘ افشین نے شرمیلے پن سے مسکراتے ہوئے کہا۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
زندگی کے وہی معمولات تھے۔ ذوالنون پھر سے اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگیا تھا۔ کرن لندن جاچکی تھی لیکن ایک درد کے احساس کے ساتھ۔ ذوالنون نے اسے جاتے وقت اس کے میسج کے جواب میں جو اپنے پیار کا اظہار ایک نظم کی صورت میں کرن سے کیا تھا وہ اس نے لندن پہنچ کر اپنی نیند پوری کرنے کے بعد پڑھا تھا اوراپنی سستی جی بھر کے کوسا تھا کہ اگر وہ پہلے ہی میسج پڑھ لیتی تو شاید وہ لندن آتی ہی نہیں… ذوالنون سے کنفرم تو کرلیتی کہ جو اس نے کہا وہ سچ ہے کیا؟ مگر وہ تو تمام راستے اس کے خشک رویے کی وجہ سے اس سے دور جانے کے خیال سے روتی‘ تڑپتی آئی تھی… اور پھر یہ سوچ کر صبر کرلیا کہ اس نے ذوالنون سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ایک کامیاب ڈاکٹر بن کر دکھائے گی‘ اس کے عشق کے چکروں میں پڑنے کے باوجود بہت اچھے گریڈز حاصل کرے گی سو یہی بات اسے اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے پر مائل رکھتی اور وہ ذوالنون کے سامنے فخر سے اپنی ڈگری لے کر جانے کے خیال سے ہی متحرک ہوجاتی‘ خوش ہو کر مسکرانے لگتی۔
’’کہیں ایسا نہ ہوجاناں!
کہ میرا عکس چپکے سے
تری آنکھوں سے مٹ جائے
تیری جانب پلٹنے کا ہر اک رستہ
کہیں نہ بند ہوجائے
میری یادوں کا ہر پنچھی
تمہارے ہاتھ سے نکلے‘
فلک آباد ہوجائے
یا پھر برباد ہوجائے
میرا دل اب کے سینے میں
دھڑکنے سے مکر جائے
انا کی سبز ٹہنی کو
میں خود ہی توڑ دیتا ہوں
تمہارے واسطے جاناں
ضد اپنی چھوڑ دیتا ہوں
یہی اک خواب بننا چاہتے تھے ناں!
یہی ضد تھی تمہاری ناں
کہ خود کہتے نہیں تھے تم
فقط میری زباں سے ہی
میرا اقرار سننا چاہتے تھے تم
لوکہتا ہوں میری جاناں!
مجھے تم سے محبت ہے
سنو جاناں یہ اعتراف اب برملا ہے کہ!
میری رگ رگ میں خون بن کر تو بہتا ہے
میری آنکھوں میں اک خواب حسین بن کے تو رہتا ہے
کہ میرے جسم کا ہر ایک حصہ اور سینے کی ہر اک دھڑکن
سبھی سانسیں یہ کہتی ہیں
مجھے تم سے محبت ہے
یہی سچ ہے
مجھے تم سے محبت ہے‘‘
ذوالنون کی طرف سے موصول ہونے والا یہ آخری ایس ایم ایس تھا جو ایک نظم کی صورت تھا‘ کرن اس کو دن میں کئی بار پڑھتی اور یقین کرنا چاہتی کہ یہ سچ ہے ذوالنون کو اس سے محبت ہوگئی ہے مگر پھر ذوالنون کی ہی کہی ہوئی بات یاد آجاتی اس نے ایک بار کرن سے کہا تھا کہ!
’’ایس ایم ایس کو میسج سمجھ کر ہی پڑھا کرو‘ ایک تو تم لڑکیوں کو پیار بھری شاعری پڑھتے ہی شہزادے کے خواب نظر آنے لگتے ہیں‘ فوراً خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔‘‘ بس اس کی یہی بات کرن کو اداس کرنے لگتی۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
نوشین‘ افسردہ سی بالوں میں برش پھیرتے ہوئے رابیل کے خیالوں میں گم تھی‘ وہاب احمد نے دیکھا تو پاس آکر اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
’’کیا بات ہے‘ پریشان لگ رہی ہو؟‘‘
’’وہاب! میں رابیل سے ملنا چاہتی ہوں‘ اس کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ فون پر تو کبھی اس سے بات ہی نہیں ہوپاتی۔‘‘ نوشین نے برش سائیڈ پر رکھا اور انہیں دیکھتے ہوئے بولیں تو انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
’’آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح وہ پھر سے ڈسٹرب ہوجائے گی۔‘‘
’’ڈسٹرب تو وہ اب بھی ہوگی‘ بھولے گی کیسے اپنی ماں کے ستم۔‘‘ نوشین کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
’’نوشی‘ خود کو معاف نہیں کروگی تو زندگی بہت مشکل ہوجائے گی‘ خوش رہا کرو۔‘‘ وہاب احمد نے نرمی سے سمجھایا۔
’’میں خوش کیسے رہ سکتی ہوں‘ نہ میں نے کسی کو کبھی کوئی خوشی دی‘ نہ اپنوں کو کبھی خوش رکھا‘ تو بھلا میں کیسے خوش رہ سکتی ہوں؟‘‘
’’رابیل بہت صاف دل کی لڑکی ہے اس کے دل میں تمہارے لیے کوئی رنجش نہیں ہے‘ اس کی جڑیں اس مٹی میں ہیں وہ لوٹ کر یہیں آئے گی۔‘‘
’’لیکن کب؟‘‘
’’صبر کرو اور دعا کرو اللہ کو جب منظور ہوگا تب سب کام ہوجائیں گے۔‘‘ وہاب احمد نے اسے تسلی دی۔
’’بس وہ ایک بار مجھے دل سے ماں کہہ دے میرے دل کو سکون مل جائے گا۔‘‘ نوشین نے حسرت سے کہا۔
’’نوشین بیگم! ہم رابیل پر اس کے ماں باپ ہونے کا حق نہیں جتا سکتے۔ کیا تم ذوالنون سے دستبردار ہو سکتی ہو۔‘‘ وہاب احمد نے سنجیدگی سے کہا۔
’’نہیں‘ وہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ نوشین نے فوراً تڑپ کر کہا۔
’’بس اسی طرح رابیل افشین اور تیمور حسن کی بیٹی ہے‘ جب تک وہ اپنی دلی خواہش سے ہمارے ساتھ نہ رہنا چاہے‘ ہم اسے مجبور نہیں کرسکتے‘ بالکل اسی طرح اگر ذوالنون وہاں اپنے اصل والدین کے پاس جانا چاہے گا تو‘ ہم اسے بھی نہیں روک سکیں گے کیونکہ وہ اس کی زندگی کا اہم رشتہ ہے‘ وہ بالغ ہے اور سمجھدار ہے‘ قانونی طور پر اپنے اصل ماں باپ کے پاس جاکر رہنے کا حق رکھتا ہے‘ یہ تو ذوالنون کی محبت ہے اس کے ماں باپ کی محبت اور شاید کچھ ہماری اچھائی بھی ہے کہ وہ ابھی تک ہمارے پاس ہے ورنہ دکھ تو اسے بھی بہت ہوا ہوگا‘ اس انکشاف پر کہ وہ ہماری اولاد نہیں‘ لیکن دل بہت بڑا ہے میرے بیٹے کا ہنستے کھیلتے ہر بات اڑا دی۔‘‘ وہاب احمد نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ہاں ٹھیک کہا آپ نے‘ حالانکہ وہ ہمارے ساتھ تو زیادہ عرصہ رہا بھی نہیں پھر بھی وہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے‘ میں ایک بات سوچ رہی ہوں وہاب۔‘‘
’’کون سی بات…؟‘‘ وہاب احمد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’کیوں نہ ہم ذوالنون کو لندن بھجوادیں پڑھنے کے لیے اس طرح وہ وہاں اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکے گا اور اپنے ماں باپ اور بھائی کے ساتھ رہنے کا موقع بھی مل جائے گا اسے۔‘‘ نوشین نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں ذوالنون سے اگر وہ مان گیا تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ اور یوں بھی میں اس کی تعلیم کے حوالے سے فکرمند تھا‘ اسے لندن یا امریکہ اسپیشلائزیشن کے لیے بھیجنے کا سوچ رہا تھا۔ چلو اچھا ہے اگر پہلے ہی وہاں کوئی چانس مل جائے تو اور بھی بہتر ہوگا‘ اس کے مستقبل کے لیے۔‘‘ وہاب احمد نے مسکرا کر کہا۔
’’بالکل‘ اور آپ کو پتا ہے ذوالنون کی دوست کرن بھی لندن گئی ہے پڑھنے تو بھلا میرا بیٹا کیوں کسی سے پیچھے رہے‘ کل کو وہ بھی اسے کہہ سکے گا کہ وہ بھی اس کے لیول کی ڈگری رکھتا ہے اور پھر وہ دونوں ساتھ رہیں گے تو انڈر اسٹنڈنگ ڈویلپ ہوگی اور شادی کے بعد انہیں پرابلم نہیں ہوگی۔‘‘ نوشین نے مسکراتے ہوئے مستقبل کے پلان بتائے تو وہاب احمد کو ہنسی آگئی۔
’’ماشاء اللہ‘ تو آپ نے بہو بھی پسند کرلی ہے‘ ارے بیٹا وہاں پڑھنے جائے گا کہ گرل فرینڈ کو خوش کرنے۔‘‘
’’بیٹے کو تو ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے گرل فرینڈ میں‘ اگر ہوتی تو وہ اسے لندن جانے سے روک نہ لیتا۔‘‘ نوشین نے سنجیدگی سے کہا نوفل اور نگین کی زبانی انہیں ساری بات کا علم ہوچکا تھا۔
’’پھر تو یہ ظلم ہوا نہ ذوالنون پر‘ اگر اسے کرن میں دلچسپی نہیں ہے تو وہ اس کے پیچھے لندن کیوں جائے‘ امریکہ کیوں نہ جائے؟ اور آپ کو یہ باتیں کس نے بتائیں؟‘‘
’’نوفل اور نگی نے‘ کرن تو ہمارے بیٹے سے بہت محبت کرتی ہے لیکن بیٹے کا خیال ہے کہ اس عمر میں پیار نہیں پڑھائی ضروری ہے۔ پیار محبت کے لیے عمر پڑی ہے۔‘‘ نوشین نے سنجیدگی سے بتایا۔
’’بالکل درست فرمایا ہمارے بیٹے نے میں اس کے خیال سے متفق ہوں اینڈ آئی ایم پرائوڈ آف مائی سن۔‘‘ وہاب احمد نے سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہائے بے چاری کرن۔‘‘ نوشین نے آہ بھر کر کہا تو وہ ہنسنے لگے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
رابیل کتاب کے مطالعے میں محو تھی لیکن صفحے پر علی کی صورت ابھر آتی اور وہ بے چین ہوجاتی تھی۔ سب اپنے کام سے نکلے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے لیے انڈا فرائی کیا‘ بریڈ اور کافی بنا کر ناشتہ کرنے لگی اور میتھیو کا انتظار بھی۔ ڈور بیل بجنے پر رابیل نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے میتھیو کی جگہ علی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
سیاہ لونگ کوٹ‘ پینٹ شرٹ‘ سیاہ بوٹ پہنے‘ گلے میں میرون مفلر سجائے بہت فریش لگ رہا تھا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے اس کے دلکش چہرے کو دیکھتے ہوئے سلام کیا تو اس نے فوراً نگاہ چرائی۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘
’’کیسی ہو رابیل؟‘‘
’’فائن۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پلٹ آئی اسے اندر آنے کے لیے نہیں کہا۔ دروازہ کھلا رہنے دیا تھا گویا اسے باور کرایا تھا کہ وہ آنا چاہتا ہے تو آجائے وہ اندر نہیں بلائے گی اور نہ ہی جانے کے لیے کہے گی۔
علی کو اس کے رویے پر حیرت نہیں ہوئی وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کردیا۔ رابیل ڈائننگ ٹیبل کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھی اپنے سیل فون سے افشین اور تیمور حسن کو میسج کررہی تھی۔
’’پاکستان سے گیسٹ آئے ہیں آپ فوراً گھر پہنچیں۔‘‘ تیمور حسن کا جواب آیا۔
’’اوکے۔‘‘ رابیل نے اٹھ کر علی کے لیے کافی کا مگ اٹھایا‘ علی دیکھ رہا تھا وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کررہی تھی۔ اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔
’’انکل‘ آنٹی کہاں ہیں؟‘‘ علی نے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’مارکیٹ تک گئے ہیں آتے ہی ہوں گے‘ آپ تشریف رکھیے۔‘‘ رابیل نے سنجیدگی سے جواب دیا‘ وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ رابیل نے کافی کا مگ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔ اسی وقت تیمور حسن اور افشین نے گھر میں قدم رکھا۔
’’اوہ… علی آئے ہیں۔‘‘ تیمور حسن اور افشین نے علی کو دیکھا تو انہیں خوش گوار حیرت ہوئی‘ علی نے اٹھ کر انہیں سلام کیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام‘ جیتے رہیے صاحب زادے۔‘‘ تیمور حسن نے مسکراتے ہوئے بہت محبت سے اسے گلے لگایا۔
’’تو بالآخر آپ آہی گئے۔‘‘ افشین نے اس کا شانہ تھپکا۔
’’جی آنٹی اور میں واپس اکیلا نہیں جائوں گا۔‘‘ علی نے رابیل کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا تو رابیل نے فوراً اپنا بیگ اٹھا کر شولڈر پر ٹکایا۔
’’مما‘ پاپا میں اکیڈمی جارہی ہوں‘ بائے۔‘‘
’’بائے بیٹا‘ ٹیک کیئر۔‘‘ تیمور حسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا وہ تیزی سے گھر سے باہر نکل آئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی سڑک تک آگئی یہ بھی بھول گئی کہ اس نے میتھیو کے ساتھ جانا تھا وہ گھر پر انتظار کررہا ہوگا۔ دونوں کا روز کا معمول تھا کبھی وہ اس کی طرف آجاتا اور کبھی رابیل اس کے گھر سے اسے ساتھ لیتی ہوئی اکیڈمی جاتی تھی مگر آج وہ اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھی۔ علی کی یوں اچانک آمد نے اسے اپ سیٹ کردیا تھا۔ دل کی دھڑکنیں مستی کی لے پر میں جھوم رہیں تھیں۔ خوشی کے شادیانے بج رہے تھے‘ اس کو دیکھ کر مگر وہ خوش نہیں تھی نجانے کیوں اس کے اندر وہ ہلچل نہیں مچی تھی جو کبھی اسے دیکھ کر مچا کرتی تھی۔ شاید احساس کے ان جذبوں پر ایک برس میں برف جم گئی تھی جو اتنی جلدی پگھلنے والی نہیں تھی۔ اس کے سچے جذبوں کی‘ کھری اور بے لوث محبت کی بہت سی حرارت چاہیے تھی۔
’’وہ لوٹ آیا ہے رابیل! تم یہی چاہتی تھیں ناں کہ علی آئے اور تمہیں منا کر اپنی زندگی میں لے جائے تو اب تم خوش کیوں نہیں؟ تم نے تو علی کی واپسی کی دعائیں مانگی تھیں نا تو اب وہ دعائیں قبول ہوجانے پر تمہیں بے کلی کیوں محسوس ہورہی ہے؟ تمہارے ہونٹوں پہ مسکان کیوں نہیں آرہی؟ تم ڈر کیوں گئی ہو؟‘‘ رابیل کا دل اس سے سوال پہ سوال کررہا تھا اور وہ بے آواز اشک بہاتی اکیڈمی جانے کی بجائے پارک میں بینچ پر آبیٹھی۔
’’یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔
’’علی کے آنے کی خوشی میں… نہیں… بلکہ ہر اس دکھ کے احساس کے‘ پھر سے زندہ ہوجانے کی وجہ سے یہ آنسو بہہ رہے ہیں جو دکھ مجھے علی سے یہ رشتہ جوڑتے ہوئے ملے اور جو دکھ مجھے یہ رشتہ جڑنے کے بعد ملے۔ یہ کیوں آئے ہیں اب یہاں؟ پھر سے مجھے کوئی نیا دکھ دینے کے لیے یا کوئی نیا الزام لگانے کے لیے؟ پرانے زخموں کے ٹانکے پھر سے ادھڑ گئے ہیں علی کو یہاں دیکھ کر… یہ میرے زخم خراب کرنے کیوں چلے آئے؟ کیوں نہیں بھرنے دیتے یہ میرے زخم؟ محبت اور رشتوں کے نام پر اور کتنے زخم دیں گے یہ مجھے؟‘‘ وہ خود سے الجھتی سوال کرتی رو رہی تھی کہ اسے اپنے شانے پر کسی کے ہاتھ کا دبائو محسوس ہوا اس نے چونک کر سر اٹھایا‘ میتھیو اس کے بچپن کا دوست اس کا ہمراز ساتھی۔
’’اکیلی‘ اکیلی رو رہی ہو میں مرگیا ہوں کیا مجھ کو نہیں بلا سکتی تھی تم… حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی ایک تو مجھ کو‘ گھر چھوڑ آئی اور دوسرا یہاں بیٹھ کر اکیلی رو رہی ہو… تم مجھ سے کیوں چھپاتی رہی… اپنا دکھ؟‘‘ میتھیو اس کے شانوں کے گرد اپنا بازو حمائل کرکے اس کے برابر میں بیٹھا‘ شکوہ کررہا تھا‘ اس کے لیے فکرمند ہورہا تھا۔ رابیل اس کے شانے پہ سر رکھ کر رونے لگی۔
’’کچھ نہیں ہوا آئی ایم فائن۔‘‘
’’جھوٹ مت بولو‘ تم پاکستان سے آئی تھیں تو کتنی کمزور اور ڈسٹرب لگ رہی تھیں میں نے تب بھی تم سے پوچھا تھا‘ بٹ تم نے مجھ کو نہیں بتایا۔‘‘ میتھیو نے پیار بھرا شکوہ کیا۔
’’اپنوں کے دکھ بتائے نہیں جاتے۔‘‘ رابیل نے بھیگتی آواز میں جواب دیا تو وہ تڑپ اٹھا۔
’’اب کیوں آیا ہے وہ یہاں؟‘‘
’’شاید معافی مانگنے… شاید مجھے منانے۔‘‘
’’کیوں… کیا زخم دیا ان لوگوں نے تم کو؟‘‘
’’وہ مجھے بری لڑکی سمجھتے تھے خراب لڑکی‘ آوارہ کریکٹر لیس گرل۔‘‘ رابیل کا دکھ آپ ہی آپ زبان پر آگیا۔
وہ بہت شدت سے رو دی تھی‘ ایک عرصے بعد اس کے ضبط کا بندھن پھر سے ٹوٹا تھا‘ علی کیا آیا اس کے ہر دکھ کا احساس پھر سے لوٹ آیا تھا۔
’’واٹ؟‘‘ میتھیو چلا اٹھا۔
’’اب ان سب کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ غلطی پر تھے اس لیے… شاید مجھے واپس لے جانے کی کوشش کریں۔‘‘ رابیل نے سر اٹھا کر اس کی پریشان صورت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
علی گلاس ونڈو سے باہر دیکھ رہا تھا ‘تبھی اسے رابیل اور میتھیو آتے دکھائی دیئے۔ میتھیو نے اپنا بازو رابیل کے شانوں کے گرد حمائل کیا ہوا تھا۔ دونوں ساتھ ساتھ چلتے باتیں کرتے علی کو عجیب سی جیلسی کا احساس دلا رہے تھے۔ رخصت ہوتے ہوئے حسب عادت ان دونوں نے اپنا دایاں ہاتھ آپس میں مس کیا اور گڈ بائے کہہ کر دونوں اپنے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔
’’ہیلو۔‘‘ علی نے اسے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہیلو۔‘‘ رابیل نے آہستہ سے جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’یہ ابھی تک یہاں ہیں‘ گئے کیوں نہیں؟‘‘ رابیل نے اپنے کمرے میں آکر اپنا کوٹ اور شوز اتارتے ہوئے سوچا اور جب وہ واش روم سے فریش ہوکر نکلی تو علی کو اپنے بیڈ پر نیم دراز دیکھ کر حیرت اور غصے سے چیخ اٹھی۔
’’آپ میرے بیڈ روم میں کیا کررہے ہیں اورکس کی اجازت سے آپ یہاں آئے ہیں؟‘‘
’’تمہارا شوہر ہوں میں اور شوہر کو اپنی بیوی کے بیڈروم میں آنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ علی نے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑے ہوکر اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے نرمی سے جواب دیا۔ ایک بار وہ اس کے بیڈروم میں بنا اجازت کے گئی تھی اور آج وہ اس کے بیڈروم میں تھا۔
’’آپ میرے کچھ نہیں لگتے‘ سنا آپ نے۔‘‘
’’زبان سے کہہ دینے سے رشتے نہیں ٹوٹتے۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے کہا اور نگاہیں اس کے چاند چہرے کی بلائیں لے رہی تھیں۔
’’تو زبان سے کہہ دینے سے محبت بھی نہیں ہوتی۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’عمل ہر رشتے کی اساس ہے مسٹر علی۔‘‘
’’سچ کہا تم نے میں بھی تو عمل کرنے ہی آیا ہوں ڈیئر۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے اس کے رخسار کو چھوا تو وہ بھڑک اٹھی۔
’’ڈونٹ ٹچ می دور رہیں مجھ سے۔‘‘
’’اب اور دور نہیں رہا جاتا رابیل۔‘‘ وہ بے بسی سے بولا۔
’’مما… مما…‘‘ وہ افشین کو پکارتی تیزی سے اپنے کمرے سے باہر نکل گئی۔ افشین کچن میں ڈنر کی تیاری کررہی تھیں اسے غصے میں دیکھ کر متفکر ہوئیں۔
’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘
’’مما… وہ شخص میرے بیڈروم میں کیا کررہا ہے؟‘‘
’’آرام سے بیٹا‘ علی شوہر ہیں آپ کے۔‘‘
’’کچھ نہیں ہیں وہ میرے‘ ان سے کہیے کہ یہاں سے چلے جائیں۔‘‘ رابیل غصے سے کانپ رہی تھی‘ تیز لہجے میں بولی۔
’’اوکے بی ریلیکس‘ وہ چلے جائیں گے لیکن اس وقت وہ ہمارے مہمان ہیں۔‘‘ افشین نے اس کو بازو سے پکڑ کر پیار سے سمجھایا۔
’’تو انہیں گیسٹ روم میں ٹھہرائیں میں انہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔‘‘ وہ اسی سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’لیکن میں تو تمہیں ہی دیکھنا چاہتا ہوں ہمیشہ۔‘‘ علی جو اس کے پیچھے ہی چلا آیا تھا اس کی بات سن کر پیار سے بولا رابیل اس کی بات کا جواب دیئے بغیر اس کی جانب دیکھے بنا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی خوش بو علی کی سانسوں میں اتر گئی تھی۔
’’سوری بیٹا‘ رابیل اس وقت کچھ تھکی ہوئی ہے‘ ورنہ وہ تو غصے میں آتی ہی نہیں ہے۔‘‘ افشین نے معذرت خواہانہ انداز میں علی سے کہا۔
’’اٹس اوکے آنٹی‘ اس کا غصہ بجا ہے اور میں اس کے ہر طرح کے غصے کو فیس کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ علی نے سنجیدگی سے کہا اور باہر نکل گیا۔
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری بیٹی کو بھی غصہ آتا ہے۔‘‘ افشین نے تیمور حسن کو رابیل کا علی پر غصہ کرنے والی بات بتائی تو وہ افشین کے ساتھ اس کے کمرے میں آکر مسکراتے ہوئے بولے تو وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’پاپا… آپ کی بیٹی بھی انسان ہے اسے بھی غصہ آسکتا ہے۔‘‘
’’بیٹا‘ اتنا غصہ کہ مہمان گھر سے ہی چلا گیا۔‘‘ تیمور حسن نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’کہیں نہیں جانے والے وہ صاحب‘ آجائیں گے سڑکیں ناپ کر اور یہ آئے کیوں ہیں یہاں؟‘‘
’’آپ کے لیے آئے ہیں۔‘‘ تیمور حسن نے جواب دیا۔
’’میں نے انہیں نہیں بلایا اور نہ ہی مجھے ان کی ضرورت ہے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔‘‘
’’بیٹا… وہ شرمندہ ہیں۔‘‘ افشین نے بتایا۔
’’مما‘ میں بھی بہت شرمندہ ہوئی ہوں وہاں جاکر اور اپنوں کے ہاتھوں زخم کھا کر… اب کوئی نیا زخم دینے آئے ہیں یہ صاحب… کیوں نہیں چھوڑ دیتے مجھے؟ کیوں پھر سے میرے زخم ہرے کرنے آگئے ہیں؟‘‘ رابیل نے سنجیدہ‘ سپاٹ اور درد ناک لہجے میں کہا اس کی آنکھیں اس کے رونے کی کہانی سنا رہی تھیں۔ وہ دونوں تڑپ گئے۔
’’کیا سمجھا ہے انہوں نے مجھے؟ کھلونا ہوں کیا کہ جب دل چاہا کھیل لیا‘ جب دل چاہا توڑ دیا۔ مجھ میں اور برداشت نہیں ہے پاپا! انسان ہوں میں پتھر نہیں ہوں‘ مجھے بھی چوٹ لگتی ہے‘ دکھ ہوتا ہے‘ مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے رو پڑی۔
…٭٭٭…
تم نے تو پھر بھی سیکھ لیا زمانے کے ساتھ جینا
ہم تو کچھ بھی نہ کرسکے تمہیں چاہنے کے سوا!
نگین کے موبائل پر خرم کا میسج آیا جس کو پڑھ کر وہ مسکرادی۔
’’ٹھیک کہا آپ نے مسٹر خرم! آپ تو کچھ بھی نہ کرسکے مجھے چاہنے کے سوا اور محبت عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ دعوئوں‘ وعدوں اور قسموں پر زندگی نہیں گزرتی۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی… اور عمل کی جرأت آپ کر نہ سکے۔‘‘ نگین نے اسے دل میں مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ اس وقت وہاب احمد کی فیکٹری کے آفس میں موجود تھی۔ وہ آج کل بزنس میں ان کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ اس کے دو رشتے بھی آئے ہوئے تھے اور نوشین اور وہاب احمد سنجیدگی سے ان پر غور کررہے تھے۔ نگین کی دوست زرین کی شادی بھی ایک ماہ پہلے ہوئی تھی وہ بھی بہت خوش تھی۔ نگین کو خرم کا خیال اکثر آتا مگر وہ اس کے ہر خیال کو جھٹک دیتی۔ جاوید کو پھانسی ہوگئی تھی۔ اس کا خوف بھی اس کے دل سے نکل گیا تھا‘ نوفل خوب دل لگا کر پڑھ رہا تھا۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اندر کہیں سب کے دلوں میں بے چینی‘ کمی اور بے کلی سی تھی اور شاید اسی کا نام زندگی ہے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
رابیل بے چینی سے بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ اسے ’’وہاب لاج‘‘ میں گزارہ ایک ایک پل یاد آرہا تھا۔ تڑپا رہا تھا۔ علی کے ساتھ گزرے لمحے اسے کتنے بے چین رکھتے تھے۔ وہ کتنی اذیت میں رہی تھی اس سارے عرصے میں اسے اپنی ہر ہر اذیت پھر سے یاد آرہی تھی۔ رابیل نے بہت خلوص سے علی کو چاہا تھا۔ دل سے اس سے محبت کی تھی‘ اسے یہ تجربہ ہوچکا تھا کہ محبت آپ کی دسترس میں ہو تو لگتا ہے ساری دنیا آپ کی مٹھی میں ہے اور اس محبت کے بل پہ آپ ساری دنیا سے ٹکر لے سکتے ہیں اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوسکتے ہیں اور اگر یہی محبت مٹھی سے ریت کی طرح نکل جائے تو انسان کمزور پڑ جاتا ہے‘ بے جان سا ہو جاتا ہے‘ تڑپتا ہے‘ الجھتا ہے‘ اپنے آپ سے لڑتا ہے اور اپنے آپ تک سے ہار جاتا ہے خود کو تنہا محسوس کرتا ہے‘ اور محبت اگر آپ کے پاس ہو تو لب مسکراتے اور من میں پھول کھلتے رہتے ہیں جن کی خوش بو سے پورا وجود مہکنے لگتا ہے۔ یہی محبت آپ سے دور ہوجائے تو آنسو تھمتے ہی نہیں ہیں وجود ہستی میں خزاں چھا جاتی ہے افسردگی طاری ہوجاتی ہے‘ اندر باہر بارش سی ہوتی رہتی ہے درد ہجر کی بارش‘ شجر جاں کا پتا پتا مرجھا جاتا ہے‘ کملا جاتا ہے۔
رابیل کے پاس سب کی محبتیں تھیں۔ ماں باپ‘ بھائی بہن‘ پھر بھی ایک کمی سی تھی۔ دل میں بے کلی سی تھی۔ علی کے قرب کے وہ چند لمحے وجود جاں پہ حاوی ہوگئے تھے۔ اسے کبھی کبھی خود پر بہت غصہ آتا کہ اس نے کیوں اپنی سادگی اور معصومیت میں اپنا آپ علی کے ہاتھوں میں دے دیا تھا؟ کیوں اس کے لمس کو اپنے وجود سے آشنا کیا تھا؟ کیوں اس کی سانسوں کو محسوس کیا تھا۔ آخر کیوں وہ اتنی بیوقوفی کی مرتکب ہوگئی تھی کہ اس کی محبتوں پر ایمان لاکر اس کو خود پر اختیار دے دیا؟
وہی شخص اس پر طنز وتضحیک کے تمسخر کے سنگ برسا کر کتنا ارذاں کرگیا تھا۔ جس کے ساتھ وہ اب رہنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے پاس جانا بھی نہیں چاہتی تھی اور اس کی محبت سے پیچھا بھی نہیں چھڑا پارہی تھی اور وہ اس کے پیچھے اسے منانے چلا آیا تھا‘ عجیب دوراہے پر کھڑی تھی وہ اس وقت… غصہ بھی اسی پر تھا‘ پیار جس سے تھا۔ عدوات بھی اسی سے تھی دل کو محبت جس سے تھی۔ نہ جائے فرار تھی نہ جائے امان! سوچ رہی تھی وہ جائے تو اب جائے کہاں؟
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
’’یہاں کس لیے آئے ہیں آپ؟‘‘ رابیل نے تلخی سے پوچھا۔
’’تمہیں منانے اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے۔‘‘
’’بھول ہے آپ کی کہ میں آپ کے ساتھ جائوں گی اور بھول جائیے کہ میرے اور آپ کے بیچ کوئی رشتہ تھا‘ یا ہے اور بھول جائیے مجھے بھی یہی آپ کے لیے بہتر ہے۔‘‘ رابیل نے کھڑے ہو کر اسے کڑے تیوروں سے دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا تو وہ اس کے عین سامنے آکھڑا ہوا۔ وہ بلیک جینز کی پینٹ اور سرخ ہائی نیک میں بہت فریش لگ رہی تھی‘ بالوں کو ہیئر کیچر میں مقید کر رکھا تھا۔ سادہ چہرہ‘ دھلا دھلا سا اپنے قدرتی حسن کے جلوے دکھا رہا تھا۔ علی کا دل لبھا رہا تھا‘ وہ کتنی ہی دیر اسے محبت سے دیکھتا رہا پھر مخمور لہجے میں بولا۔
’’میں جو چاہوں تمہیں اک پل میں بھلا سکتا ہوں
پر میں بزدل ہوں مجھے موت سے ڈر لگتا ہے
’’آپ…‘‘ علی کے لفظوں اور لہجے نے رابیل کے دل پر آری سی چلادی تھی۔ وہ تڑپ کر بس آپ ہی کہہ سکی اور جھنجلا کر اپنا کوٹ اٹھاتی باہر نکل گئی جہاں میتھیو اس کا منتظر تھا‘ علی نے بہت بے بسی سے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’ہمت مرداں مدد خدا‘ دلہا بھائی ٹرائی‘ ٹرائی اگین۔‘‘ نبیل نے پیچھے سے آکر اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
’’ہاں ہمت تو میں بھی ہارنے والا نہیں ہوں۔‘‘
’’گڈ… چلیں میں آپ کو اچھی سی کافی بنا کر پلاتا ہوں۔‘‘ نبیل نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اس کے ساتھ آگیا۔ علی نے نجانے ان تینوں پر کیا جادو کیا تھا کہ تیمور حسن‘ افشین اور نبیل اس سے ناراض نہیں تھے بلکہ اسے رابیل سے بات کرنے‘ منانے کا موقع فراہم کررہے تھے۔ تیمور حسن جانتے تھے کہ علی بنیادی طور پر ایک اچھا انسان ہے اور بے بسی وجذباتی پن میں وہ رابیل پر غصے میں برس کر اسے ہرٹ کرگیا تھا اور اسے اپنی اس غلطی کا شدت سے احساس تھا اور وہ رابیل سے سچی محبت کرتا تھا‘ جبھی وہ یہاں آیا تھا‘ رابیل کو منانے کے لیے وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا‘ اپنے ساتھ بسانا چاہتا تھا اس کا اظہار وہ ان کے سامنے کر چکا تھا اور رابیل کے دل میں بھی علی کے لیے محبت ہے اس بات سے بھی وہ بے خبر نہیں تھے۔
ؤ /ؤ… /…ؤ /ؤ
نگین گھر پہنچی تو زاہد ماموں بمعہ فیملی موجود تھے۔ وہ انہیں سلام کرکے اپنے کمرے میں چلی آئی اور واش روم میں گھس گئی۔ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارے پھر باہر آگئی۔
’’نگی بیٹی‘ یہاں آئو میرے پاس آکے بیٹھو۔‘‘ ثمینہ نے اسے بہت پیار سے مخاطب کیا‘ جیسا کہ وہ ہمیشہ اسے مخاطب کرتی تھیں۔
’’جی مامی‘ کیسی ہیں آپ؟‘‘ نگین مسکراتی ہوئی ان کے برابر آبیٹھی۔
’’آج ان سب کا باجماعت آنے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟‘‘ نگین نے دل میں سوچا۔
’’اللہ کا شکر ہے میں بالکل ٹھیک ہوں تم سنائو کیسی ہو؟ کتنے مہینے ہوگئے تم نے اپنے ماموں کے گھر کا رخ ہی نہیں کیا۔‘‘ ثمینہ نے اس کے خوب صورت چہرے کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا شکوہ کیا۔
’’مامی‘ میں آج کل ڈیڈی کے آفس جارہی ہوں ناں تو ٹائم ہی نہیں ملتا اور آپ کون سا روز آتی ہیں میں تو آپ کو بھی مہینوں بعد اس گھر میں دیکھ رہی ہوں۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو وہ ذرا سی کھسیانی ہوکر کہنے لگیں۔
’’بس نگی بیٹی‘ میں تو شرمندگی کے مارے نہ آسکی اس روز آئی تھی تو نجانے کیا الٹی سیدھی باتیں کرگئی تھی‘ تمہیں دکھ پہنچا تھا‘ بس تم سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی‘ بیٹی اس بات کے لیے اپنی مامی کو معاف کردو اور اپنا دل صاف کرلو میری بیٹی۔‘‘
’’میرا دل صاف ہے مامی‘ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم دل دکھانے میں تو ایک پل لگاتے ہیں اور منانے میں ایک سال اور کبھی کبھی پوری عمریں لگا دیتے ہیں‘ جب ہم بھول چکے ہوتے ہیں تب لوگ پھر سے ہمارے درد جگا دیتے ہیں‘ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر‘ دوسرے کے دل میں پھر سے پرانا دکھ بیدار کردیتے ہیں آخر ہم اتنی دیر کیوں کردیتے ہیں؟‘‘ نگین نے سنجیدگی سے کہا تو ثمینہ سے تو کیا کسی سے بھی کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
’’نگی بیٹی بھول جائیے جو ہوا‘ بڑوں سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔‘‘ وہاب احمد معاملے کی نوعیت کو سمجھ چکے تھے‘ بواجی کی زبانی انہیں ثمینہ کے حوالے سے جو بھی بات ہوئی تھی معلوم ہوچکی تھی جب ہی وہ نگین کو پیار سے سمجھا رہے تھے۔
’’جی ڈیڈی‘ آئی نو‘ بڑوں کی غلطیاں بعض اوقات چھوٹوں کے لیے بہت دکھ کا باعث بن جاتی ہیں آئی نو ڈیٹ۔‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو سمجھنے والے تو اس کی بات کا مطلب سمجھ کر نظریں چرا گئے۔
’’نگی بیٹی‘ تم ہمیں بہت عزیز ہو اور مجھے تمہاری مامی کو تو تم ہمیشہ سے ہی بہت پسند ہو اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لے آئیں تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے بیٹی؟‘‘ زاہد ماموں نے براہ راست اس سے پوچھا تو وہ سمجھ گئی کہ اس کے آنے سے پہلے خرم اور اس کے رشتے کی بات ہوچکی ہے۔
’’ماموں! اس سوال کا جواب آپ کو میرے ڈیڈی جی دیں گے۔ ہاں اس سے پہلے آپ مامی سے پوچھ لیں کہ کیا یہ واقعی دل سے مجھے اپنی بہو بنانے کی خواہش مند ہیں یا کسی دبائو کے تحت مجبور ہوکر یہ رشتہ کرنا چاہ رہی ہیں۔‘‘ نگین نے نظریں جھکا کر سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’بیٹی‘ میں تمہیں دل سے اپنے خرم کی دلہن بنانا چاہتی ہوں۔‘‘ ثمینہ نے فوراً اقرار کیا۔
’’ہاں بیٹی‘ اس بات کی ضمانت میں تمہیں دیتا ہوں کہ یہ دل سے یہ بات کہہ رہی ہے۔‘‘ زاہد ماموں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سب ہنس دیئے۔
’’اور میرا خرم بھی دل سے تمہیں چاہتا ہے اس نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ میں اگر شادی کروں گا تو صرف نگین وہاب سے ورنہ کنوارہ مرجائوں گا۔‘‘ ثمینہ نے مسکراتے جوشیلے لہجے میں کہا۔
’’مامی جی‘ میں بہت پھوہڑ لڑکی ہوں مجھے گھر داری بالکل نہیں آتی۔‘‘ نگین نے اپنی تسلی کے لیے یہ بھی کہہ دیا۔
’’ارے تو کیا ہوا خرم آپ بھگتے گا۔‘‘ ثمینہ نے حسب عادت چٹکلا چھوڑا‘ جس پر سب ہنسنے لگے۔
(باقی ان شاء اﷲ آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close