Aanchal Mar 15

شب گزیدہ سحر

صبا جاوید

وقت کا سہل بہا لے گیا سب کچھ ورنہ
پیار کے ڈھیر لگے تھے مرے کھلیانوں میں
شاخ سے کٹنے کا غم ان کو بہت تھا لیکن
پھول مجبور تھے ہنستے رہے گل دانوں میں

جلدی جلدی بھاپ اڑاتا گرم آملیٹ اس نے پلیٹ میں نکالا۔
’’اسوہ… ناشہ لے آئو یار میں لیٹ ہورہا ہوں۔‘‘ ارتضیٰ کی ڈائننگ ٹیبل سے آتی آواز نے اسوہ کے ہاتھوں میں مزید توانائی بھر دی۔ چائے کپ میں انڈیل کر آملیٹ پراٹھا اور مکس سبزی کا سالن ٹرے میں سجا کر بڑے کور سے تمام لوازمات ڈھانپ کر اس کی دوسری پکار سے قبل ہی وہ ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ چکی تھی۔
’’اف کتنی ہڑبونگ مچاتے ہیں آپ۔‘‘ ٹرے اس کے سامنے رکھ کر اس نے دیوار گیر گھڑی پر نظر دوڑائی تو ساڑھے چھے کو چھوتے ہندسے کو دیکھ کر اس کا موڈ سخت آف ہوگیا اس کے پھولے ہوئے چہرے پر ایک نظر ڈال کر وہ مسکراہٹ ہونٹوں میں دبائے رغبت سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔
’’آپ یہاں آکر کچھ زیادہ ہی بزی ہوگئے ہیں۔ حذیفہ کو بھی ٹائم نہیں دیتے ہمیشہ مجھ سے شکایت کرتا ہے۔‘‘ حذیفہ کا نام لے کر درحقیقت وہ اپنی شکایت کررہی تھی اور اسوہ کا یہ ڈھکا چھپا انداز ارتضیٰ کو تو خوب ہی بھایا تھا تب ہی ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا کرسی کی پشت سے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے پکڑے جو ڈائننگ چیئر پر بیٹھی تھی۔
’’حذیفہ کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گا ہاں اگر اس کی ممی ناراض ہے تو یہ خفگی میں ابھی دور کرسکتا ہوں۔‘‘ شرارت سے اس کی سماعتوں میں سرگرشی انڈیل کر وہ اس کے تپے ہوئے چہرے سے محظوظ ہونے لگا۔ اسوہ کو اس سے اس قدر دلیری کی امید نہ تھی لہٰذا بری طرح سٹپٹائی، اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اس کا حصار توڑ پاتی۔
’’چھوڑیں مجھے، حذیفہ کا پیپر ہے آج مجھے اسے اٹھا کر پیپر ریوائز بھی کرانا ہے پھر اس کو اسکول کے لیے ریڈی کرنا ہے۔‘‘ تمتماتی رنگت اور لجایا گھبرایا انداز نظریں جھکائے وہ جلدی سے بولی، ارتضیٰ نے رحم کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔
’’اسوہ۔‘‘ اس کی آواز پر اس کے قدم زنجیر ہوگئے۔
’’حذیفہ اور تم میری زندگی کی اولین ترجیحات میں سے ہو بہت اہم پراجیکٹ پر کام کررہا ہوں اس لیے جناب تھوڑی حق تلفی ہورہی ہے آپ کی اس کے لیے آئی ایم رئیلی ویری سوری۔‘‘ اس کے ہاتھ تھام کر وہ محبت سے گداز لہجے میں بولا۔
’’پلیز ایسا مت کہیں میں آپ کی مصروفیت سمجھتی ہوں۔‘‘ وہ لمحوں میں نادم ہوئی تو ارتضیٰ نے بغور اس کی گلابی پڑتی رنگت کا جائزہ لیا اور ایک عجیب سے سرشاری و طمانیت سے اس کے رخسار کو ہولے سے چھوتا وہ اندر کی سمت بڑھ گیا۔ اسوہ چند لمحے وردی میں سجا اس کا کسرتی وجود مشاق نگاہوں سے تکتی رہی اور پھر مسکراتی ہوئی حذیفہ کے کمرے کی طرف چل دی۔
ارتضیٰ آرمی آفیسر تھا۔ آرمی میں سروس کے سبب اس کا ٹرانسفر مختلف شہروں میں ہوتا رہتا تھا تین ماہ قبل اس کا تبادلہ پشاور میں ہوا اور وہ پشاور کے کینٹ میں کیٹینز کی رہائش کے لیے مخصوص بنگلے میں رہائش پزیر تھے۔ اس کے ہمراہ اس کا پانچ سالہ بیٹا حذیفہ اور خوب صورت سی بیوی اسوہ بھی تھے۔ اسوہ میں حسن و جمال کے ساتھ ساتھ وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں جن کی کوئی بھی مرد خواہش کرسکتا ہے۔ دس سال قبل اس کی زندگی میں بطور شریک حیات شامل ہونے والی لڑکی اسوہ زیاد نے اس کی زندگی کو جنت بنا دیا۔ ذہنی و قلبی اطمینان حد سے سوا تھا۔ ہاں کمی تھی تو بس اولاد جیسی نعمت کی۔
پانچ سال کے جاں گسل انتظار کے بعد خدا نے انہیں اولاد نرینہ سے نوازا۔ تب ہی شاید حذیفہ ماں کی غیر معمولی توجہ اور چاہت کا حق دار ٹھہرا مگر اسوہ کی ممتا کی پیاس تھی کہ بڑھتی ہی جاتی وہ کبھی اس احساس سے سیر نہ ہوتی۔
حذیفہ اس کا پانچ سالہ بیٹا فرسٹ اسٹینڈرڈ کا طالب علم بلا کا حاضر جواب اور ذہین و فطین جس نے اس کی گود کو مامتا کی گرمی سے گرما دیا اور در و دیوار کو اپنی معصوم قلقاریوں کی مہک سے مہکا دیا اس کی کل کائنات اس کے گرد گھومتی تھی وہ اس کی سب سے قیمتی متاع تھا۔ انہی سوچوں میں گھری وہ نہایت دلکش رنگوں سے مزین حذیفہ کے کمرے تک پہنچ چکی تھی۔ سامنے ہی بیڈ پر دراز سفید اور جامنی امتزاج کے کمبل میں محو استراحت حذیفہ پر کسی سلطنت کے شہزادے کا گماں ہوتا تھا یا شاید ہر ماں کے لیے اس کا بیٹا شہزادہ ہی ہوتا ہے۔
اس کی سیاہ آنکھوں کے غلاف قدرے ابھرے اور عالم خواب میں بھی بے حد نمایاں تھے کمرے میں ہیٹر آن ہونے کے سبب پرحدت سا لمس چہرے پر گلا بیت کا گہرا عنصر بکھیر رہا تھا اور اس کے بے حد گلابی ہونٹ باہم پیوست بے تحاشہ خوب صورت لگ رہے تھے۔ وہ عالم خواب میں اس قدر و جیہہ و شکیل لگ رہا تھا کہ اسوہ اس کی نیند میں خلل برپا ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسے محبت پاش نگاہوں سے وہ تک رہی تھی جب دامن گیر ہوتے نمی کے احساس نے اسے حیران کر ڈالا۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔ اس کے ہاتھ بے ساختہ رخساروں تک گئے اور گیلی سطح پر پھیلے تو خود ساختہ اور لایعنی سوچوں نے اس کے شعور کو جکڑ لیا اس کا دل بری طرح گھبرا اٹھا۔ دامن میں سر پٹختی منفی سوچوں سے سر جھٹکتے ہوئے حذیفہ کے بیڈ کے قریب دو زانو ہوکر بیٹھ گئی۔ بہت محبت سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور اپنے ہونٹ اس کی پیشانی پر ثبت کیے۔
’’حذیفہ میری جان۔‘‘ محبت سے لبریز مامتا کے بے اختیار کرتے جذبوں سے گندھے الفاظ اس کے لبوں کی قید سے آزاد ہوئے تو وہ بھی مما کہتا ہوا اس سے لپٹ گیا۔ شاید مامتا کی لمس کی تمازت محسوس کرکے وہ بھی بے دار ہوچکا تھا۔
’’حذیفہ کیا آج اٹھنے کا موڈ نہیں آپ نے پیپر کا بھی ریوائز نہیں کیا۔ ٹائم دیکھا ہے سات بج رہے ہیں۔‘‘ اسے یوں ہی خود سے لپٹائے وہ بولی۔
’’مما میرا آج اسکول جانے کا بالکل موڈ نہیں۔‘‘ اس سے الگ ہوتے ہوئے وہ منہ بسور کر چھٹی کرنے کی خواہش دل میں لیے مچل اٹھا۔
’’آج آپ کا پیپر ہے اینڈ چھٹی ناٹ الائوڈ، اسکول نہیں جائے گا میرا بیٹا تو پڑھے گا کیسے اور پڑھے گا نہیں تو پاپا کی طرح ملک و قوم کی خدمت کیسے کرے گا۔‘‘ اسوہ نے اس کے گلابی اور نازک پیروں میں سلیپر پہنائے۔
’’اوکے میں اسکول جائوں گا مگر ایک شرط پر۔‘‘
’’کون سی شرط۔‘‘ اس نے شرط عائد کی تو اسوہ کی استفہامیہ نگاہیں اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
’’آج پک اینڈ ڈراپ کی ڈیوٹی پاپا کی ہوگی میں ڈرائیور کے ساتھ نہیں جائوں گا۔‘‘ اسوہ نئی مشکل میں پھنس گئی ارتضیٰ تو خود جلدی نکلنے والا تھا وہ اسے کیسے روکتی۔ اتنے میں ارتضیٰ بھی وہاں آگیا۔ وہ کبھی حذیفہ سے ملے بغیر باہر نہیں جاتا تھا۔
’’اٹھ گیا میرا پرنس…‘‘ ارتضیٰ نے کہا تو وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گیا۔
’’پاپا۔‘‘
’’جی پاپا کی جان۔‘‘ ارتضیٰ نے بیڈ پر بیٹھ کر اسے گود میں بیٹھا لیا جب وہ لاڈ سے بولا۔
’’پاپا آج آپ مجھے اسکول چھوڑنے جائیں نا۔‘‘
’’حذیفہ پاپا لیٹ ہورہے ہیں وہ آج نہیں جاسکتے کل پکا والا پرامس، میں خود اپنے بیٹے کو ڈراپ کردوں گا۔‘‘ ارتضیٰ نے محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
’’کل کس نے دیکھی ہے مجھے آج آپ کے ساتھ جانا ہے تو مطلب آج ہی جانا ہے۔‘‘ حذیفہ کی بات سن کر اسوہ کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا اور اس کے مسکراتے لب لمحوں میں سکڑ گئے۔
’’کیا ہوگیا ہے ارتضیٰ آپ میرے بیٹے کی اتنی سی خواہش پوری نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ تڑپ کر آگے بڑھی اور قدرے تلخی سے گویا ہوئی ساتھ ہی آنکھوں سے نمی چھلکتے کو بے تاب تھی۔ اسوہ کے جذباتی انداز اور بچے کے سامنے اس قدر تلخ آواز پر ارتضیٰ اچھا خاصا شاکی ہوا جو اپنے بیٹے کے لاڈ پیار میں اکثر ہی غیر معمولی جذباتیت کا شکار ہوجاتی تھی جبکہ ارتضیٰ کی گھورتی الزامیہ نگاہوں کا مفہوم پڑھ کر اسوہ اچھا خاصی خائف ہوئی۔
’’لو میٹنگ کینسل… آج ارتضٰی حیدر صرف اپنے بیٹے کی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ چلو اب جلدی سے تیار ہوجائو۔‘‘ اس کے نرم رخسار کو ہولے سے چھو کر اس نے کہا۔
’’آپ ورلڈ کے بیسٹ پاپا ہیں۔‘‘ اس کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ لاڈ سے بولا اور ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا کمرے سے ملحقہ واش روم میں گھس گیا۔ جبکہ ارتضیٰ موبائل کان سے لگا کر میٹنگ کا شیڈول چینج کرنے کی ہدایت جاری کرتا کمرے سے نکل گیا۔
’’گڈ بائے ماما۔‘‘ اسکول کے لیے بالکل تیار کھڑے حذیفہ نے اس کے رخسار کو چومتے ہوئے کہا اور کب سے گاڑی میں محو انتظار ہارن پر ہارن بجاتے ارتضیٰ کی سمت لپکا۔ لمحوں میں گاڑی کا انجن غرایا اور دائیں بائیں پھیلے سبزے کے سمندر کو چیرتے بھورے چمک دار سنگ مرمر سے مزین روش پر پھسلتی گاڑی داخلی گیٹ عبور کر گئی تو ایک ٹھنڈا سانس فضا کے سپرد کرتی وہ واپس لائونج میں آگئی۔ عروسہ (ملازمہ) کو کام سمجھا کر اس نے عمر (بیٹ مین) کو بلایا اور سامان کی لسٹ تھمائی۔ آج حذیفہ نے چکن منچورین اور چائنیز رائس کی فرمائش کی تھی۔
’’بی بی جان کیا حذیفہ بابا کے کمرے کی صفائی کردوں۔‘‘ دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے عروسہ نے استفسار کیا تو وہ نفی میں سر ہلاتی اٹھ گئی۔
’’نہیں عروسہ تمہیں پتا ہے کہ حذیفہ کے کمرے کی دیکھ بھال میں خود کرتی ہوں۔‘‘ حذیفہ کے کمرے میں پہنچ کر اس نے بکھری چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔ بیڈ شیٹ پر اس کی شب خوابی کے سبب پڑی سلوٹوں کو بھرپور محبت سے درست کرنے کی نیت سے آگے بڑھی جب لینڈ فون کی چنگھاڑتی بیل نے اس کی توجہ کے ارتکاز کو توڑ ڈالا۔ وہ کام ادھورا چھوڑ کر فون کی سمت متوجہ ہوئی اور جو خبر اس کی سماعتوں سے گزری وہ قیامت سے پہلے قیامت برپا کرنے کو کافی تھی۔ دل پر ہاتھ رکھتی پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیوار کو تکتی رہی۔ دل و دماغ بس سائیں سائیں کررہا تھا۔
سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہوگئیں اس کی بند ہوتی آنکھوں میں حذیفہ کا چہرہ ابھرا اور پھر ہر شے عمیق تاریکی میں محو ہوگئی۔
ژ…ظ …ژ
ظلم و بربریت کی ہولناک داستان جس نے خون ریزی کا جاں گسل کھیل کھیلا۔ معصوم کلیوں کو کھلنے سے قبل ہی خاک میں ملا دیا۔ سفاکیت اور بے حسی کی ایسی الم ناک تحریر جس نے تاریخ کو دہلا دیا۔ مائوں کے کلیجے چیر کر دل نکال لیا ایسا تاریخ ساز واقعہ جس نے عالم اسلام کے سینے میں خنجر گھونپ کر آہوں کا طوفان برپا کردیا۔ خاک اڑاتے ان چاند چہروں میں ایک چہرہ اسوہ کے دل کا چین پانچ سالہ حذیفہ کا بھی تھا۔ وہ حذیفہ جس نے اسے ماں کے درجے پر فائز کرکے اسے دلکش اور کیف آگئیں جذبے کے حصار میں قید کیا۔ تب اس کی زندگی کو اپنی معصوم مسکراہٹوں سے مزین کیا جب وہ مکمل طور پر مایوس ہوچکی تھی۔ وہ اس کی خوشیوں کا محور تھا جس نے اسے ہمہ وقت کی مصروفیت سے دوچار کیا۔ اسے مقصد حیات عطا کیا وہ اس کا نور نظر تھا اور اس کی وجہ ایک یہ بھی ہوسکتی تھی کہ حذیفہ کی پیدائش کے بعد وہ مزید بچوں کو جنم دینے کی صلاحیت کھو چکی تھی تب ہی اس کا تمام پیار اور توجہ صرف حذیفہ میں ہی سمٹ آئی تھی کبھی کبھی حذیفہ کے بارے میں اس کی حد درجہ حساسیت اور جذباتیت پر ارتضیٰ اچھا خاصا چڑ جاتا مگر وہ بے بس تھی اس جذبے کے سامنے جس عرف عام میں ’’مامتا‘‘ کہتے ہیں۔ وہ بے اختیار اور لاچار تھی اس رشتے کے سبب جسے ’’ماں بیٹے کا رشتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
آرمی پبلک اسکول آف پشاور پر دہشت گردی کے عفریت اور خون میں لپٹی خونچکاں حکایت کا سن کر وہ ہوش کھو بیٹھی تھی اور آنکھ کھولتے ہی اسے ارتضیٰ نظر آیا تھا جواس پر جھکا کچھ کہہ رہا تھا۔
’’حذیفہ۔‘‘ اس کی آواز سرگوشی سے بلند نہ تھی۔
’’حذیفہ کو الوداع کہو تاکہ وہ اپنی آخری پناہ گاہ میں جاسکے۔‘‘ سرخ ڈوروں سے بھرپور نگاہیں لٹھے کی مانند سفید پڑی رنگت اسوہ پر جما کر ضبط کے کڑے مراحل طے کرتا ارتضیٰ اسے کوئلوں کی بھٹی میں دھکیل گیا۔ جواباً وہ نفی میں سر ہلاتی اٹھ بیٹھی دو آنسو خاموشی سے اس کے رخساروں پر لڑھک آئے ایسے ہی بے آواز آنسو جو صبح حذیفہ کو بے دار کرتے سمے بن بلائے اس کے عارض بھگو گئے۔
اس کا دل کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا۔ اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا تھا وہ بھاگتی ہوئی بے تابی سے لان میں آئی سامنے ہی چھوٹے سے تابوت میں اس کا لخت جگر موت کی گود میں سر رکھے ابدی نیند سو رہا تھا موت کا سفاک منظر اس کی مامتا سے جیت گیا۔ دائیں بائیں خاکی وردی میں ملبوس کتنے ہی سپاہی سر جھکائے مؤدب سے کھڑے تھے۔ اس کی ٹانگوں سے جان ختم ہوگئی اور وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی۔
’’مما آج چکن منچورین اور چائنیز رائس بنا لیجیے گا۔‘‘ حذیفہ کی نٹ کھٹ اور نرم آواز اس کے شعور میں گونجی۔ اذیت کا کرب ناک کھیل اس کی سانسوں پر چلنے لگا۔
’’کل کس نے دیکھا ہے۔‘‘ ایک اور سرگوشی بے بسی کا شدید اور بے کل کرتا احساس اس کا سینہ چھلنی کرنے لگا۔
’’حذیفہ…‘‘ درد آواز کی صورت اختیار کرتا آسمان کا سینہ شق کرتا فضائوں میں اتر گیا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔
’’حذیفہ اٹھو میری جان۔ میری گود کو سونا مت کرو، یہ آنگن تو تمہارے دم سے آباد تھا۔‘‘ گرتی پڑتی وہ اس کے تابوت تک پہنچی اور سر رکھ کر بے ساختہ چلائی۔
’’اسوہ سنبھالو خود کو… حذیفہ کا سفر مشکل مت کرو۔‘‘ ارتضیٰ نے پیچھے سے آکر اسے تھاما جو اس معصوم موت پر خود بھی ٹوٹ گیا تھا۔
’’حذیفہ کا سفر… ارتضیٰ میرا بچہ اس قابل ہے کہ منوں مٹی کا بوجھ برداشت کرسکے۔ کیا اس کی عمر اتنی ہے کہ وہ مجھ سے پہلے اس سفر پر گامزن ہو۔‘‘ اس کے لہجے میں عجیب سے کرلاہٹیں تھیں۔ ارتضیٰ نے بے بسی سے دیوانوں کی طرح چلاتی اسوہ کو دیکھا اور آرمی کے سولجرز کو تابوت اٹھانے کا اشارہ کیا۔
’’نہیں… میرے حذیفہ کو مت لے جائو، ارتضیٰ اسے میرے پاس رہنے دو، وہ اندھیرے میں ڈر جائے گا ارتضیٰ یہ چلا گیا تو مجھے مما کون کہے گا میرے آنگن کی رونقیں کون آباد کرے گا۔ میں دعا کس کے لیے مانگوں گی۔‘‘ وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں گر گئی۔ عروسہ نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا وہ بے تاب ہوکر دوڑی مگر وہ لمحہ بہ لمحہ اس سے حذیفہ کو دور لے جارہے تھے وہ دھاڑیں مارتی ہوئی سبز گھاس سے بچھے فرش پر بیٹھ گئی۔ اس نے بڑی حسرت سے اپنی سونی گود کو دیکھا۔
’’حذیفہ زندگی اور موت کے سودے کا یہ وقت درست نہیں تھا۔ میرے جری بیٹے میری خواہش تھی میرے جنازے کو تم کندھا دیتے تمہیں بڑھتے دیکھنا میری اولین آرزو تھی۔ مگر قسمت ہم دونوں کے لیے بے رحم نکلی۔ تمہارا جنازہ میرے کندھے پر ہے اور تمہیں لحد میں میں خود اتاردوں گا۔ میرے بہادر بیٹے مجھے ناز ہے تم پر تم نے کس قدر بے باکی سے موت کا مقابلہ کیا مگر یہ سچ ہے تمہارے جانے کے بعد جسم میں تھکاوٹ اتر آئی ہے تمام توانیاں دم توڑ گئیں ہیں تمہارے بابا کا خوشیوں سے ناطہ ٹوٹ گیا الوداع میرے بیٹے خدا تمہارا دائمی سفر آسان کرے۔‘‘ تابوت کا ایک کنارہ پکڑے دھیرے دھیرے چلتے ہوئے کیپٹن ارتضیٰ حیدر ضبط کھو بیٹھا۔ گرم گرم پانی کے قطرے لمحہ بہ لمحہ اس کی آنکھوں سے پگھلنے لگے کلمہ شہادت کی صدائیں ہر سو فضائوں میں بلند ہونے لگیں اور ان صدائوں سے اس کا سینہ شق ہونے لگا۔
سر شام اترتی دھند، گھروں کو لوٹتے پرندے، شام میں ملتی شب فضائوں میں اترتی ٹھنڈک، افق کے کناروں پر پھیلتی سندوری رنگت، آسمان کے سینے پر پھیلی تاریکی، ہَوائوں سے سرسراتے پتوں، در و دیوار میں اترتی ویرانی، آنسو سے تر چہرے، انسانیت کو للکارتے وحشت ناک سناٹے، سفاکیت کی تحریر کا اقرار کرتی ویران گودیں اور شب گزیدہ سحر ہر اک کے لبوں پر ایک ہی بین کر لا رہا تھا۔
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
الوداع ننھے شہیدوں الوادع!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close