Aanchal Mar 15

آپ اپنے دام میں

سلمیٰ غزل

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
صید سے بھی مراسم ترے، صیاد سے بھی

’’نزاکت بیٹا کہاں ہو؟ بھائی آگیا کھانا لگادو۔‘‘ ٹی وی پر اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھتے ہوئے نزاکت کے کانوں میں امی کی آواز آئی تو وہ منہ بناتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’چلو خیر ہے میں رپیٹ ٹیلی کاسٹ میں دیکھ لوں گی۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے کچن کی راہ لی۔
کھلے برامدوں اور صحن پر مشتمل یہ چار کمروں کا گھر مکینوں کے لیے کافی تھا اگرچہ PECHS میں لوگوں نے پرانے گھر توڑ کر نئے اسٹائلش گھر تعمیر کرلیے تھے مگر نزاکت کی امی عالیہ بیگم کو یہ گھر بے حد عزیز تھا جس کی مالیت ہی کروڑوں روپے تھی۔ مرنے سے پہلے ان کے سسر نے وہ کام کیا تھا جو آج تک کوئی نہ کرسکا اور اپنا گھر اپنی بہو کے نام کردیا‘ بیٹے کو بٹھا کر انہوں نے باقاعدہ اجازت لی۔
’’دیکھو بیٹا! ہمارے بعد شرعی طور پر اس گھر پر تمہارا حق ہے مگر ہم تمہاری اجازت سے یہ گھر اپنی اکلوتی بہو کے نام کرنا چاہ رہے ہیں‘ ہماری پوتی کے علاوہ تمہاری کوئی نرینہ اولاد نہیں‘ ہم ڈرتے ہیں کہ خدا نہ کرے تمہیں کچھ ہوگیا اور تمہیں داماد بھی اچھا نہ ملا تو ہماری بہو تو رل جائے گی جو ہم نہیں چاہتے اور اس کی وجہ ہمارے ایک دوست تھے جن کا انتقال تمہارے بچپن میں ہوگیا تھا ان کی بھی صرف ایک ہی بیٹی تھی جسے وہ پاگلوں اور دیوانوں کی طرح چاہتے تھے انہوں نے گھر اپنی بیٹی ہی کے نام پر تعمیر کیا تھا اور اپنی زندگی میں ہی پرائوڈنٹ فنڈ وغیرہ کا بھی نومینی بیٹی کو ہی ٹھہرایا تھا پھر اچانک ان کی وفات ہوگئی‘ روپیہ پیسہ گھر سب کچھ بیٹی کو مل گیا‘ بیٹی کی منگنی وہ اپنی زندگی میں ہی کرچکے تھے ‘ شادی کے بعد بھابی نے بیٹی داماد کو اپنے دو منزلہ گھر میں نیچے رکھ لیا خود وہ اوپر رہتی تھیں کبھی کبھار میری ان سے بینک میں ملاقات ہوجاتی تھی جہاں وہ اپنے شوہر کی پینشن لینے آتی تھیں پھر اچانک ان کی آمدورفت کم ہوگئی پھر ایک دن وہ مجھے شادی میں ملیں تو میرے پوچھنے پر رونے لگیں۔ ’’بھائی صاحب آپ کے مرحوم دوست نے میرے ساتھ پتہ نہیں کیا دشمنی نکالی کہ مکان بیٹی کے نام کرگئے داماد کو کاروبار میں خسارہ ہوا تو بیٹی نے شوہر کے دبائو میں آکر یا مجبوراً میں نہیں جانتی‘ اس نے گھر بیچ دیا اور بیٹی داماد نے مجھ سے مشورہ لینا بھی گوارہ نہیں کیا اور میں بے گھر ہوگئی۔ بیٹی داماد کے ساتھ گلستان جوہر کے ایک فلیٹ میں رہتی ہوں‘ جو تیسری منزل پر ہے‘ بیٹی کے تین بچے‘ چڑچڑا شوہر سارا دن گھر میں ہنگامہ رہتا ہے‘ جوڑوں کے درد کی وجہ سے میں نہ کہیں آنے کی رہی نہ جانے کی‘ داماد سیدھے منہ بات نہیں کرتا‘ بیٹی بھی شوہر کے سامنے لئے دیئے رہتی ہے‘ یوں لگتا ہے ان پر بوجھ ہوں‘ آپ کے بھائی کی پینشن سے چھوٹی موٹی ضروریات تو پوری کرلیتی ہوں مگر بیماری ودکھ تکلیف کے لیے بیٹی کے آگے ہاتھ پھیلائوں‘ یہ مجھے گوارہ نہیں کم از کم میرے لیے سائبان تو چھوڑ جاتے۔‘‘ مجھے بے حد افسوس ہوا کیونکہ میں نے اپنے دوست فرحان کو بہت سمجھایا تھا کہ گھر بھابی کے نام سے بنوائو۔
’’اگر تم خوشی سے اجازت دو تو… علیم الدین بھی انہیں کے بیٹے تھے بے حد ملنسار‘ خوش اخلاق اور ایثار وقربانی کا پیکر ان کا گھر جنت کا نمونہ تھا جب تک اماں زندہ رہیں ساس اور بہو میں روایتی رشتہ نہ تھا بلکہ اکثر لوگ ماں بیٹی ہی سمجھتے تھے‘ پھر سسر کی بھی ساس کے مرنے کے بعد انہوں نے بیٹی کی طرح خدمت کی کسی بھی قسم کی کوئی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ علیم الدین کو بھلا کیا اعتراض ہوتا مگر عالیہ بیگم شوہر کے آگے شرمندہ شرمندہ سی رہتیں کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے انہوں نے گھر کا حق دار بہو کو ٹھہرایا‘ پھر سسر کے انتقال کے بعد بھی علیم الدین نے اپنے رویے سے ثابت کردیا کہ وہ باپ کے فیصلے سے خوش ہیں۔
…٭٭٭…
اچانک ایک حادثے میں عالیہ کے بہن بہنوئی دس سال کا بیٹا چھوڑ کر گزر گئے اور بغیر عالیہ کے کہے علیم الدین ان کے بھانجے احتشام کو گھر لے آئے جو اس حادثے سے کافی سہم گیا تھا‘ لیکن دونوں میاں بیوی کی توجہ اور محبت نے اس کو نارمل بچہ بنانے میں دیر نہیں لگائی۔ نزاکت اور وہ ایک ہی اسکول میں ساتھ آتے جاتے تھے لیکن جب اے لیول کرنے احتشام دوسرے اسکول چلا گیا تو نزاکت نے رو رو کرگھر سر پر اٹھا لیا۔ حالانکہ دونوں میں کانٹے اور اینٹ کا بیر تھا مگر بقول عالیہ ’کانا مجھے بھائے نہیں اور کانے کے بنا چین بھی نہیں‘ بڑی مشکلوں سے عالیہ نے اسے سمجھا بجھا کر اسکول جانے کے لیے راضی کیا‘ یوں تو علیم الدین کو دونوں ہی بچے بے حد عزیز تھے لیکن احتشام سے انہیں خصوصی لگائو اور محبت تھی شاید نرینہ اولاد کی کمی وہ اس سے پوری کررہے تھے۔ وہ خود بھی خالہ کے مقابلے میں خالو سے زیادہ قریب تھا۔ نزاکت بچپن ہی سے بے حد سرخ وسفید اور گول مٹول بچی تھی‘ ماں باپ کی چاہت کا محور ماں کا تو بس نہیں تھا کہ اس کو دنیا کی ہر نعمت کھلادیں‘ نتیجتاً وہ بڑے ہوکر بھی موٹی ہی رہی‘ اس کی گوری رنگت‘ لمبے گھنے بال اور بڑی بڑی آنکھیں اس کے مٹاپے میں چھپ سی گئی تھیں۔ اس کا منہ سارا دن چلتا رہتا تھا اور برگر اور جنک فوڈ اس کی کمزوری‘ اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی کہ لوگ کس طرح اس کے مٹاپے کا مذاق اڑاتے ہیں مگر جب احتشام اسے ’’موٹی‘‘ کہہ کر بلاتا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ آج بھی جب اس نے کھانے کی ٹرے احتشام کے سامنے رکھی تو وہ کراہ کر بولا۔
’’نزاکت خدا کے لیے تم آلو کم پکایا اور کھایا کرو‘ ورنہ کھا کھا کر کسی دن پھٹ جائوگی‘ خدا جانے خالہ نے تمہارا نام ’’نزاکت‘‘ کیوں رکھا‘ تمہارا نام تو میرے حساب سے ’’برکنگھم کی آخری توپ‘‘ ہونا چاہیے تھا بھلا بتائو ’’گوشت کے پہاڑ‘‘ کا نام نزاکت۔‘‘ اس نے مزے سے بریانی کھاتے ہوئے شرارت سے کہا۔
’’احتشام بھائی!‘‘ نزاکت زور سے دھاڑی‘ آپ کون ہوتے ہیں مجھے ٹوکنے والے‘ خود کو دیکھا ہے کبھی آئینے میں‘ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘ شروع کرو تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔‘‘ نزاکت نے برا سا منہ بنایا تو احتشام کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا کیونکہ یہ حقیقت تھی کہ اپنے ۶ فٹ ۳ انچ قد اور کسرتی جسم کے ساتھ وہ بے حد اسمارٹ اور نمایاں لگتا تھا لیکن رنگ اس کا کافی دبتا ہوا تھا جس پر اکثر نزاکت چوٹ کستی رہتی تھی۔
’’تم جلتی ہو میری اسمارٹنس سے۔‘‘ اس نے پھر چھیڑا۔
’’میری جلتی ہے جوتی۔‘‘ نزاکت بھنا کر بولی۔
’’بھلا کالے کوے سے میں کیوں جلوں گی۔‘‘ وہ بھی اس کی رنگت پر چوٹ کرنے سے باز نہیں آئی۔
’’خیر مجھے گندمی رنگ بے حد پسند ہے بلکہ لڑکیاں تو مرتی ہیں میرے رنگ پر‘ تمہاری طرح تھوڑی ’’پھیکا شلجم‘‘ یا ’’ماش کی دھلی دال…‘‘ اس نے جملہ چست کیا جو نزاکت کی برداشت سے باہر تھا وہ چمچہ لے کر اس کے پیچھے دوڑی تو وہ کمرے میں داخل ہوتی خالہ کے پیچھے چھپ گیا۔
’’خالہ مجھے اس بلڈوزر سے بچائیے۔‘‘ وہ گھگھیا کر مسکین سی شکل بنا کر بولا۔
’’نزاکت پاگل ہوئی ہو احتشام تم سے بڑا ہے کیوں ہاتھا پائی پر اتر آئی ہو!‘‘
’’امی سمجھا لیں اس کالے دیو کو میرے منہ نہ لگے ہر وقت میرے کھانے کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔‘‘ نزاکت چمچہ پھینک کر رونے لگی اور عالیہ بیگم کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔
انہوں نے بڑھ کر نزاکت کو گلے سے لگایا اور احتشام کو کمر پر ایک دو ہتھڑ رسید کرتے ہوئے خفگی سے بولیں۔
’’بہت تنگ کرتے ہو میری بیٹی کو‘ آنے دو تمہارے خالو کو میں شکایت کروں گی‘ میری نازک پدمنی‘ کو تم موٹی کہتے ہو۔‘‘ عالیہ کی شرارت محسوس کرکے احتشام نے ان کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے شرارت سے کہا۔
’’میں کہاں تنگ کرتا ہوں‘ اس بارہ من کی دھوبن کو۔‘‘ نزاکت نے گھور کر دونوں کی طرف دیکھا اور غصے سے واک آئوٹ کرگئی۔
’’کیا بدتمیزی ہے احتشام۔‘‘ خالہ نے قہرآلود نظروں سے اسے گھورا‘ تم جانتے ہو وہ تمہارے ساتھ کھانے کے لیے بھوکی بیٹھی تھی اور تم نے ناراض کردیا۔ جانتے ہو وہ بھوک کی کتنی کچی ہے۔‘‘ نزاکت کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ احتشام جو اس کے من میں مدتوں سے بسا تھا جس کی ہر بات اس کے سینے میں محبت کے سوئے جذبات میں آگ لگا دیتی تھی وہ جب اس کو مذاق کا نشانہ بناتا تو وہ اللہ سے شکوہ کرنے لگتی کہ اللہ تو نے مجھے موٹا کیوں بنایا اور امی نے زیادہ کھانے کی عادت کیوں ڈالی؟‘‘ وہ جب بھی ڈائٹنگ کرنے لگتی‘ اس کے ہاتھ پائوں پھول جاتے اور پیٹ میں اینٹھن سی ہونے لگتی‘ آج بھی وہ روتے روتے سوگئی اور خواب میں اپنے شہزادے کے ساتھ محبت کی وادیوں میں گھومنے لگی۔
’’کھٹ کھٹ!‘‘ اس کا حسین سپنا ٹوٹ گیا۔
’’آجائو بھئی کون ہے؟‘‘ وہ بیزاریت سے بولی اور اٹھ کر بیٹھ گئی‘ تب احتشام اندر داخل ہوا‘ اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی‘ اس نے گھبرا کر دوپٹہ اپنے شانوں پر پھیلالیا۔
’’آپ کیوں آئے ہیں میرے کمرے میں؟‘‘ وہ تلخی سے بولی۔ ’’تمہیں کھانا کھلانے پتہ ہے جب تم بغیر کھائے اٹھ گئیں تو مجھ سے بھی کھایا نہیں گیا۔‘‘ احتشام پیار سے بولا۔
’’مجھے نہیں کھانا آپ کھا لیں۔‘‘ وہ روٹھ کر کرسی پر آبیٹھی۔
’’ناراض ہو…؟‘‘ اس نے پیار سے پوچھا۔
’’میں بھلا حسن کے دیوتا سے کیوں ناراض ہونے لگی موٹی‘ بھدی‘ گوشت کا پہاڑ۔ آپ پر تو لڑکیاں مرتی ہیں تو انہیں کے پاس جائیں۔‘‘ آخر میں اس کی آواز بھرا گئی اور احتشام کو ہنسی آگئی وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے جذب کے عالم میں بولا۔
’’میں تو تم سے مذاق کرتا ہوں‘ نزاکت تم جیسی بھی ہو خدا کی قسم میری جان ہو‘ میں تو تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا‘ بس تمہارا روٹھنا اور منہ پھلانا اچھا لگتا ہے‘ اس لیے چھیڑتا ہوں۔‘‘ نزاکت نے بے ساختہ نظریں اٹھائیں‘ اس کی نگاہوں میں محبت کا ایک ٹھاٹھے مارتا سمندر تھا اور الفاظ میں سچائی اورگہرائی‘ اس کی نگاہیں جھک گئیں۔
’’خدا کے لیے نزاکت اب مان بھی جائو‘ کتنی بدذوق اور کوڑھ مغز ہو حس مزاح بالکل کہیں مٹاپے میں چھپ گئی۔‘‘ وہ پھر چھیڑنے سے باز نہیں آیا۔
’’پھر مذاق۔‘‘ نزاکت بھنا گئی۔
’’حد ہوگئی۔‘‘ احتشام کراہ کربولا۔ ’’یہاں چوہوں نے پیٹ میں قیامت مچا رکھی ہے باقاعدہ ریس ہورہی ہے اور تمہیں احساس ہی نہیں۔ روٹھنے سے فرصت نہیں۔‘‘
’’بلی چھوڑ دیجیے!‘‘ وہ شرارت سے بولی پھر ٹرے کی طرف ہاتھ بڑھا دیا اور دونوں مل کر کھانا کھانے لگے۔
’’اب تو ناراض نہیں ہونا موٹی بھینس۔‘‘ نزاکت نے تڑپ کر نگاہیں اٹھائیں وہ مسکرا رہا تھا اور ایک خوب صورت مسکراہٹ نے اس کے چہرے پر اجالا سا بکھیر دیا تھا‘ اس کی روشن آنکھیں ہنس رہی تھیں‘ نزاکت نے پہلے غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی پھر اس کے سحر سے متاثر ہو کر نظریں جھکالیں پھر اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئی ٹرے اٹھا کر باہر نکل آئی‘ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور من میں مدھر نغموں کی گونج تھی۔
ظ…ظ…ظ
دن یونہی گزر رہے تھے‘ نزاکت اور احتشام کی نوک جھونک اور لڑائی جھگڑے جاری تھے‘ سارا دن عدالت لگی رہتی اور عالیہ بیگم دونوں کو سمجھا سمجھا کر عاجز آجاتیں‘ اسی دوران علیم الدین کے ایک چچیرے بھائی جو انہیں سگے بھائیوں کی طرح عزیز تھے معہ فیملی کے چھٹیاں گزارنے لاہور سے آگئے۔ ان کی اکلوتی بیٹی بے حد گوری اور اسمارٹ تھی‘ نزاکت کو خوامخواہ اپنے مٹاپے کی وجہ سے احساس کمتری ہونے لگی۔ وہ تھوڑی سی خود سر اور نخریلی بھی تھی۔ ’’خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔‘‘ اس کو اپنی خوب صورتی پر غرور بھی بہت تھا‘ اس لیے جانے کیا کیا چہرے پر لگاتی اور کھاتی رہتی تھی۔ قیمتی قیمتی لوشنز‘ پرفیومز اور ڈائٹ چارٹ ہر وقت‘ وہ انہی کی فکر میں رہتی تھی‘ اس کے لیے کھانا بھی ایک مسئلہ تھا مگر اس کے باوجود جو تازگی نزاکت کے چہرے پر تھی ادھر وہ مفقود تھی۔ نہ اس کی رنگت میں گلابوں جیسی مہک تھی نہ شبنم جیسی تازگی۔ ڈائٹنگ کرکر کے اس نے اپنا رنگ روپ اور چہرے کی تازگی ونکھار ختم کردیا تھا۔ برخلاف اس کے اس کا بھائی عالیان‘ بے حد خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا اور جلد ہی اس کی احتشام سے دوستی ہوگئی تھی اگرچہ علیم الدین کے یہ کزن ٹھیک ٹھاک متمول تھے‘ لاہور ڈیفنس میں ان کا ہزار گز کا گھر ان کی امارت کا منہ بولتا ثبوت تھا لیکن غرور وتکبر ان میں نام کو نہیں تھا۔ شروع شروع تو نزاکت کے امی ابو اپنا گھر ان کے شایان شان نہ ہونے کی وجہ سے کچھ شرمندگی کا شکار رہے لیکن ان کے کزن کے روئیے نے جلد ہی یہ احساس زائل کردیا۔ خاص طور پر عالیان بالکل اپنے والدین کا پرتو تھا سنجیدہ‘ پرکشش اور عاجزی کا پیکر‘ جبکہ اس کی بہن شہرینہ بالکل الٹ تھی۔ عالیان کو حیرت ہوتی تھی جب سارا دن احتشام کو نزاکت کا مذاق اڑاتے دیکھتا‘ کیونکہ اس کی گلابی رنگت‘ تیکھے نقوش‘ بھرا بھرا گداز بدن اور گھٹائوں جیسی زلفیں اس کے دل پر اثر کرنے لگی تھیں اور آنکھوں میں بس گئی تھیں۔ اس کو یقین تھا کہ چچی جان نزاکت کے لیے احتشام کو ہی زندگی کا ہم سفر چنیں گی مگر احتشام اور نزاکت کی سارے دن کی نوک جھونک نے اس کو قدرے اطمینان دلادیا کہ نزاکت کو اپنانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ اسی دوران احتشام دوستوں کے ساتھ ناردن ایریاز گھومنے چلا گیا تو نزاکت کو لگا اس کا دل ہی نہیں پورا گھر ویران ہوگیا۔ ایک دن موقع دیکھ کر عالیان ماں سے لپٹ گیا۔
’’اماں مجھے نزاکت چاہیے۔‘‘
’’بائولا ہوا ہے نزاکت نہ ہوئی کوئی کھلونا ہوگیا۔‘‘ وہ بگڑ کر بولیں پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئیں۔ ’’میرا خیال ہے بھابی نزاکت کی شادی احتشام سے کریں گی گھر کا اور دیکھا بھالابچہ ہے۔‘‘
’’پہلے میرا بھی یہی خیال تھا لیکن آپ نے خود بھی دیکھا ہے دونوں سارا وقت لڑتے رہتے ہیں ایک منٹ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے اور پھر شادی تو ساری زندگی کا فیصلہ ہے۔‘‘ عالیان جلدی سے بولا۔
’’کہہ تو تم ٹھیک ہی رہے ہو نزاکت مجھے بھی پسند ہے مگر…‘‘ وہ شرارت سے بولیں۔
’’ذرا موٹی ہے مگر خیر شیر اور بکری جب ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے تو وہ خودبخود دبلی ہوجائے گی۔‘‘
’’مگر اماں یہ تو آپ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔‘‘ عالیان نے احتجاج کیا۔ ’’آپ تو پہلے ہی بہت دبلی پتلی ہیں۔‘‘ عالیان کے جوابی حملے پر چچی کی ہنسی چھوٹ گئی۔
ظ…ظ…ظ
آج کل نزاکت سخت پریشان تھی۔ عالیان کا التفات اس پر دن بدن بڑھتا جارہا تھا وہ جس طرح متبسم لبوں سے اس کی طرف دیکھتا اس کا دل چاہتا اس کی آنکھیں نوچ لے یا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے‘ شہرینہ کو ڈاکٹر بنتا دیکھ کر اب اس کو اپنے سابقہ فیصلے پر افسوس ہورہا تھا۔ علیم الدین ڈاکٹر تھے اور ان کی شروع سے خواہش نزاکت کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنے کی تھی مگر وہ بے حد ڈر پوک اور بزدل تھی مینڈک کی چیر پھاڑ اور ارتھ وارم دیکھ کر اس کا جی متلانے لگتا۔ اس کے باوجود اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے اس نے میڈیکل لائن اختیار کرنے سے صاف انکار کردیا اور بی کام میں داخلہ لے لیا لیکن اپنے خالو کی اس خواہش کا احترام احتشام نے کیا اور اب وہ ہائوس جاب کے بجائےUSMLE کی تیاری کررہا تھا‘ ساتھ ہی خالو کے پرائیویٹ کلینک میں بھی بیٹھتا تھا جو وہ صبح سرکاری ملازمت کے بعد شام کو چلاتے تھے‘ جب احتشام اور شہرینہ اس پیشے سے متعلق گھنٹوں باتیں کرتے تو نزاکت کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے اسی دوران جب عالیہ بیگم سے جٹھانی نے نزاکت کے لیے عالیان کے رشتے کی بات کی تو انہوں نے شوہر کو بتانا ضروری سمجھا اور وہ سوچ میں پڑگئے۔
’’بیگم میرا تو خیال احتشام اور نزاکت کے رشتے کے لیے تھا‘ ہمارے سامنے کا بچہ ہے پھر اس طرح نزاکت بھی ہماری نظروں کے سامنے رہے گی‘ یعنی کہ ’’ہلدی لگی نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے…‘‘ وہ ذرہ بھی سنجیدہ نہ تھے اس رشتے پر۔
’’سوچا تو میں نے بھی یہی تھا لیکن دونوں جس طرح ایک دوسرے سے لڑتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ ساری زندگی ایک دوسرے کو برداشت کریں گے۔‘‘
’’خیر لڑنے جھگڑنے کی تو بات ہی مت کریں ہم تم نہیں لڑتے کیا؟‘‘
’’علیم الدین صاحب ہم میاں بیوی ہیں ایک دوسرے کا لباس‘ ایک دوسرے کی عزت‘ ایک دوسرے کی ضرورت… ہمیں تاعمر ساتھ رہنا ہے کیونکہ نکاح کا بندھن اگر فریقین چاہیں تو سب سے مضبوط… ورنہ دھاگے سے بھی زیادہ نازک بندھن ہوتا ہے اور اس رشتے کو مضبوطی‘ صبر‘ ایثار اور قربانی‘ تحمل وبرداشت دیتا ہے۔ ہزاروں اختلافات کے باوجود ہم اسے دل میں نہیں رکھتے۔ کیونکہ محبت تو اس پانی کی طرح ہوتی ہے جو کھڑا رہے تو بدبو دیتا ہے‘ سڑ جاتا ہے اور ناپاک ہوتا ہے اور بہتا رہے تو پاک اور صاف ہوتا ہے اور جس رشتے میں پہلے ہی اتنی دراڑیں ہوں وہ نکاح کے بعد کیا بھرجائیں گی؟‘‘
’’بات تمہاری ٹھیک ہے مگر میں چاہتا ہوں تم ایک مرتبہ نزاکت اور احتشام سے پوچھ ضرور لو ورنہ ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے۔‘‘ عالیہ بیگم سوچ میں پڑ گئیں‘ اور نزاکت کی ماں بن کر تھوڑی سی خود غرض بھی۔ مالی طور پر احتشام کا عالیان سے کوئی مقابلہ نہیں تھا‘ احتشام کو مستقبل بنانے میں ٹائم لگنا تھا جبکہ عالیان ویل اسٹیبلشڈ تھا۔ سی اے کے بعد وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی پوسٹ پر تھا‘ تین لاکھ کی پرکشش تنخواہ کے ساتھ گاڑی‘ بونس علیحدہ پھر اپنی باپ کی جائیداد کا تنہا وارث۔
ان کے میاں بھی ڈاکٹر تھے‘ ساری زندگی وہ تنہائی کا شکار رہیں۔ ان کے پاس گھر کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا تھا‘ وہ تو اتوار کو بھی اپنے پرائیویٹ کلینک جاتے تھے‘ تب جاکر عزت سے گزر بسر ہوتی تھی۔ ہر تقریب میں عام طور پر وہ تنہا ہی شریک ہوتی تھیں اور انہیں اکثر علیم الدین سے اس کی شکایت بھی رہتی تھی۔ اور بھانجا بھی ڈاکٹر بن رہا تھا وہ کیسے اپنی بیٹی کو اس غیر محسوس آگ میں جھونک دیتیں جس کا شکار وہ ساری زندگی رہیں‘ وہ تو اکثر مذاق مذاق میں کہتی بھی تھیں کہ خدا نہ کرے کہ کسی کی شادی ڈاکٹر سے ہو۔‘‘ ان کو احتشام سے بے حد محبت تھی مگر بیٹی کی مامتا اس پر غالب آگئی اور انہوں نے نزاکت سے پوچھے بغیر ہاں کردی‘ تب جٹھانی نے جھجکتے ہوئے شہرینہ کے لیے احتشام کا رشتہ مانگ لیا‘ ساتھ ہی انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ احتشام کی باہر کی تعلیم کا پورا خرچہ خود اٹھائیں گی بلکہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں اس کی پوری پوری مدد کریں گی‘ عالیہ بیگم خوش ہوگئیں مرحوم بہن‘ بہنوئی کے آگے سر خرو ہوجائیں گی جب احتشام کو ایک اونچا مقام مل جائے گا‘ مگر جب انہوں نے اپنے شوہر سے رشتے کی بات کی تو خرچے کی بات گول کرگئیں کیونکہ وہ جانتی تھیں احتشام کو وہ بے حد چاہتے ہیں انا پرست اور خود دار بھی بہت ہیں خرچے کی بات سن کر ہتھے سے اکھڑ جائیں گے۔
ظ…ظ…ظ
نزاکت رات کا کھانا تیار کررہی تھی کہ عالیان دبے پائوں اندر آگیا وہ گھبرا گئی۔
’’آپ باہر چلیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو کہہ دیں میں دے دوں گی۔‘‘
’’آخر تم مجھ سے اتنی کتراتی کیوں ہو‘ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچی جان نے تمہارے رشتے کے لیے ہاں کردی ہے‘ بلکہ احتشام بھی میرا بہنوئی بن جائے گا۔‘‘ اس کا لہجہ خمار آلود ہوگیا۔
’’بس چند دن کی دوری ہے پھر تم ہمیشہ کے لیے میری بنادی جائوگی‘ اور شہرینہ کو بھی اس کی خوابوں کی تعبیر مل جائے گی وہ بھی احتشام کو بہت پسند کرتی ہے۔‘‘ وہ باہر جاچکا تھا سینے میں ایک آگ لگا کر نزاکت کو لگا اس کا وجود شعلوں کی زد میں ہے‘ اس کے کانوں نے یہ کیا سنا تھا کیا محبت کی عمر اتنی مختصر تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ خواب دریا برد ہوگئے۔
’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘‘
وہ بری طرح رونے لگی تب عالیہ بیگم نے کچن میں قدم رکھتے ہوئے خوشی خوشی اس کے کانوں میں زہر انڈیلا۔
’’نزاکت میں نے تمہاری بات عالیان سے اور احتشام کی شہرینہ سے طے کردی ہے اب میری بیٹی راج کرے گی۔‘‘ انہوں نے بے اختیار اسے گلے سے لگالیا۔
’’امی…!‘‘ نزاکت زور سے چیخ پڑی۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ مگر انہوں نے اس کے تاثرات جانے بغیر سلسلہ کلام جاری رکھا۔
’’مجھے یقین ہے کہ تم بے حد خوش رہوگی‘ ٹھیک ٹھاک دیکھے بھالے جانے پہچانے اور پیسے والے لوگ ہیں‘ پہلے میرا ارادہ احتشام کے لیے تھا لیکن تم دونوں کو تو لڑنے ہی سے فرصت نہیں‘ میں نے سوچا اپنی مرضی تم دونوں پر مسلط کرنا ٹھیک نہیں‘ احتشام بھی سوچ سکتا تھا خالہ نے اس سے احسانوں کا بدلہ لے لیا‘ پھر ہم اس کو کیا دے سکتے تھے جو شہرینہ سے شادی کرکے اس کو ملنے والا ہے۔‘‘
’’امی مجھ سے پوچھ تو لیتیں یہ آپ نے کیا کردیا‘ آپ اور ابو تو گھر کی ایک معمولی چیز بھی مجھ سے پوچھے بغیر نہیں خریدتے‘ اور میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر ہی طے کردیا۔ آپ نے کب بیٹی کو دولت کے پیچھے بھاگتے دیکھا تھا؟ کب زندگی میں مادی چیزوں کو میں نے اہمیت دی‘ میری دنیا تو بڑی محدود اور میرے خواب تو بڑے سادہ تھے‘ آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ دولت میری ترجیحات میں شامل ہے آپ نے دولت کے ترازو میں میری خوشیاں تول لیں‘ امی آپ نے یہ کیا کیا؟‘‘ وہ بغیر ماں سے کچھ کہے دل ہی دل میں سوچتی ہوئی کمرے میں آگئی اور کمرہ بند کرکے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی‘ آج اسے احتشام شدت سے یاد آرہا تھا‘ اور شاید یہ اس کی محبت کی شدت ہی تھی کہ احتشام اپنا دورہ مختصر کرکے آگیا اور حیران رہ گیا۔
’’نزاکت یہ تم ہو؟‘‘ اس نے حیرت سے اس کے سراپا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا‘ جو جل جل کر اور کوڑھ کوڑھ کر آدھا بھی نہیں رہا تھا‘ اس کے سامنے نزاکت کی شکل میں ایک نازک دھان پان سی دوشیزہ کھڑی تھی جس کی آنکھوں میں دکھ کے سائے ہلکورے لے رہے تھے‘ اور چہرہ حسرت ویاس کی تصویر بنا ہوا تھا۔
’’موٹی تم نے میری بات کو سیریس لے لیا۔ یار مجھے تو اپنی وہی گول مٹول ہنستی کھلکھلاتی نزاکت ہی پسند ہے‘ لڑتی جھگڑتی‘ غصہ کرتی‘ اور برے برے منہ بناتی۔‘‘ نزاکت کا دل چاہ رہا تھا دھاڑے مار مار کر روئے۔
’’کیا بات ہے وزن کے ساتھ ساتھ قوت گویائی بھی رخصت ہوگئی لگتا ہے میری جدائی کا زیادہ ہی اثر ہوگیا۔‘‘ وہ شوخی سے بولا اور نزاکت جواب دیئے بغیر پلٹ گئی۔
ظ…ظ…ظ
رات اس نے خالہ کو جالیا۔
’’خالہ امی کوئی خاص بات ہے کیا مہمان بھی اب تک یہیں ہیں کہیں ان کا دل آپ کے خوبرو بیٹے پر تو نہیں آگیا۔‘‘ اس نے شرارت سے کالر جھاڑے۔ اور وہ ہنس پڑیں۔
’’شریر کہیں کا اڑتی چڑیا کے پرگن لیتا ہے‘ دراصل تیری تائی نے نزاکت کو عالیان کے لیے مانگا ہے اور شہرینہ کے لیے تجھے پسند کیا ہے اور میں نے ہاں کردی۔‘‘ یہ دیکھے بغیر کہ احتشام کے ماتھے پر انگنت شکنوں کا جال تن گیا ہے‘ اور شریر آنکھوں میں انگارے دہکنے لگے ہیں۔
’’بیٹا عالیان بہت بڑی پوسٹ پر کام کررہا ہے‘ پھر تایا تائی بھی کافی متمول ہیں‘ گاڑی بنگلہ نوکر چاکر‘ روپے پیسے کی ریل پیل میری بیٹی عیش کرے گی پھر شہرینہ سے رشتہ ہونے پر تمہارے خوابوں کی بھی تکمیل ہوجائے گی‘ تمہاری اعلیٰ تعلیم کا خرچہ وہی لوگ اٹھائیں گے۔‘‘
’’خالہ امی اپنی بیٹی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا آپ کو پورا حق ہے لیکن آپ نے میرے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے طے کرلیا؟‘‘ وہ غصے سے دھاڑا۔
’’بیٹا مجھے تم پر اعتماد تھا کہ تم انکار نہیں کروگے‘ بے شک تم میرے بھانجے ہو لیکن ماں بن کر پالا ہے تمہیں۔ کیا ماں ہونے کی حیثیت سے میرا اتنا بھی حق نہیں۔‘‘ آخر میں ان کی آواز گلوگیر ہوگئی اور احتشام نے جھپٹ کر انہیں گلے لگا لیا۔
’’خالہ امی میرا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا آپ کو سارے حقوق حاصل ہیں‘ آپ کسی فقیرنی یا چمارن سے بھی میرا رشتہ طے کردیں گی تو مجھے انکار نہ ہوگا‘ میں ذرا جذباتی ہوگیا تھا لیکن ایک بات میں واضح کردوں تائی امی کو بتادیں میں کوئی بکائو مال نہیں‘ میری بولی نہ لگائیں‘ ابھی میرے بازوئوں میں اتنا دم ہے کہ میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکوں۔‘‘ وہ تیزی سے اٹھ کر باہر چلا گیا اور عالیہ بیگم کو لگا کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔
ظ…ظ…ظ
رات کے کھانے پر سب موجود تھے سوائے احتشام کے پھر نزاکت سے بھی کھانا نہیں کھایا گیا‘ سب سو رہے تھے اور نزاکت احتشام کے انتظار میں جاگ رہی تھی اس نے آتے ہی پہلا سوال کیا۔
’’تم نے کھانا کھایا؟‘‘
’’آپ نے کھایا؟‘‘ نزاکت نے سوال کے جواب میں سوال کیا‘ احتشام کا دل گداز ہوگیا۔
’’آئو دونوں مل کر ساتھ کھاتے ہیں۔‘‘ نزاکت کھانا کھاتے کھاتے روپڑی۔
’’احتشام بھائی میں مرجائوں گی اگر میری شادی عالیان سے ہوئی تو۔‘‘
’’اف پاگل لڑکی یہ سارا فساد احتشام بھائی کہنے کا ہے اب تو بھائی کہنا چھوڑ دو اور سنو آئندہ میرے سامنے مرنے کی باتیں مت کرنا‘ میں کیا تمہارے بغیر زندہ رہ سکوں گا ہم دونوں ہی ان شاء اللہ ایک ساتھ زندہ رہیں گے کس کی مجال جو میری موٹی بھینس کو مجھ سے جدا کرے۔‘‘ نزاکت کو ہنسانے کے لیے اس نے چھیڑا مگر اس کے آنسو نہ تھمے۔
’’بے شک آپ شہرینہ سے شادی کرلیں‘ وہ خوب صورت بھی ہے اور دولت مند بھی لیکن اگر میری شادی عالیان سے کی گئی تو میں خودکشی کرلوں گی۔‘‘ ا س نے دھمکی دی۔
’’خبردار۔‘‘ وہ خفا ہوگیا۔ ’’اب اگر تم نے مرنے مارنے کی باتیں کیں تو پٹ جائوگی اور رہا شہرینہ سے شادی کا سوال تو بھئی معاملہ دل کا ہے‘ دل گدھی پر آئے تو پری کیا۔ ہمیں تو اپنی یہ بھینس ہی پسند ہے جو جل جل کر اب سیخ سلائی ہوگئی ہے اور بالکل اچھی نہیں لگ رہی بس تم خوش رہو اللہ کے بعد مجھ پر بھروسہ رکھو میں اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں۔‘‘
ظ…ظ…ظ
خالو کا کلینک عموماً احتشام ہی کھولتا تھا آج اس نے خاص طور سے اٹینڈنٹ کو تاکید کی تھی کہ جیسے ہی خالو ابو آئیں انہیں اندر بھیج کر کسی مریض کو اندر نہ آنے دینا۔ جب تک کہ وہ مریض کو خود نہ بلائے۔ آج کل سب ہی بہت مسرور تھے‘ شہرینہ کی ہنسی روکے نہیں رک رہی تھی عالیان کی آنکھیں اندرونی مسرت کے احساس سے دمک رہی تھیں ایک احتشام ہی تھا کھویا کھویا لٹا لٹا اور خالو ابو کی جہاندیدہ نظریں‘ اس کا بغور مطالعہ کررہی تھیں ادھر ان کی بیٹی کو جانے کیا ہوا تھا جب سے اس کی بات طے ہوئی تھی وہ دن بدن گھلتی جارہی تھی‘ چہرے کی شادابیاں اور گلابیاں زردیوں میں ڈھل گئی تھیں جس کو سب ’’گول مٹول‘‘ کہتے تھے‘ خطرناک حد تک سوکھتی جارہی تھی‘ جیسے کسی نے خون نچوڑ لیا ہو۔ ڈری ڈری‘ سہمی سہمی‘ ایک خوف زدہ ہرنی کی طرح‘ یہ ان کی وہ بیٹی تو وہ تھی جو سارا دن چہچہاتی بلبل کی طرح ان کے آنگن میں چہکتی رہتی تھی۔
ظ…ظ…ظ
ہفتے کی شام منگنی کے لیے مقرر ہوئی۔ نزاکت کی امی نے بہت کم لوگوں کو مدعو کیا تھا‘ نزاکت اور احتشام نے ویسے ہی اپنے دوستوں کو بلانے سے انکار کردیا تھا‘ رسم شروع کرنے سے پہلے احتشام کا انتظار تھا جس کو امی نے صبح سے گجرے لینے بھیجا تھا اوراب شام ہورہی تھی‘ علیم الدین بھی بے چینی سے ٹہل رہے تھے‘ اس کا موبائل بھی بند تھا‘ نزاکت تو ویسے ہی برسوں کی بیمار لگ رہی تھی‘ قیمتی کپڑوں میک اپ اور زیورات نے بھی اس کا حزن وملال ختم نہیں کیا تھا‘ اچانک علیم الدین کا موبائل بج اٹھا‘ وہ اسے لے کر کونے میں چلے گئے‘ ان کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں‘ کچھ بولے بغیر وہ تیزی سے سب کو حق دق چھوڑ کر جاچکے تھے اور عالیہ بیگم کے دل کو پنکھ لگ گئے تھے‘ نزاکت کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں رنگ میں بھنگ پڑگیا تھا‘ مہمان آنا شروع ہوگئے تھے اوران دونوں کی کوئی خبر نہ تھی‘ اچانک ایمبولینس کے شور سے محلہ گونج اٹھا۔
’’اللہ رحم کرے۔‘‘ عالیہ بیگم کے منہ سے نکلا‘ تب ہی کئی لوگ احتشام کو اسٹریچر پر ڈالے اندر داخل ہوئے جو سر سے پیر تک پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اس کا ایک جگری دوست اور کلاس فیلو ڈاکٹر بھی اس کے ہمراہ تھا جس نے ڈرپ پکڑی ہوئی تھی۔ نزاکت اور عالیہ بیگم ایک ساتھ چیخنے لگیں‘ نزاکت جو کمزوری سے پہلے ہی بے حال تھی یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اور بے ہوش ہوکر ماں کی بانہوں میں آرہی‘ جس کو فوراً ہی ڈاکٹر حماد نے سکون کا انجکشن لگایا‘ نزاکت کی بے ہوشی پر سب سے زیادہ تشویش عالیان کو تھی۔
’’کیا ہوا میرے بچے کو۔‘‘ خالہ نے بے قراری سے پوچھا۔
’’پھول خرید کر روڈ کراس کررہا تھا کہ گاڑی نے ٹکر مار دی کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے‘ ڈاکٹر تو چھوڑ نہیں رہے تھے‘ ڈاکٹر سدیم اپنی ذمہ داری پر ڈسچارج کرا کر لائے ہیں ویسے کوئی سیریس چوٹ نہیں‘ صرف دماغ پر اثر ہوا ہے اور یادداشت صحیح طور پر کام نہیں کررہی‘ ساتھ ہی ڈر ہے کہ کہیں پیر نہ کاٹنا پڑے؟‘‘
’’پھر ہوسپٹل میں رکھنا تھا نا گھر کیوں لے آئے؟‘‘ خالہ بے قراری سے بولیں۔
’’کیسے رکھتا آج اس کی منگنی جو ہے۔‘‘ ڈاکٹر علیم الدین دکھ سے بولے۔
’’ارے بھاڑ میں جائے منگنی بیٹے کی زندگی سے زیادہ تھوڑی ہے۔‘‘ وہ بے قراری سے رونے لگیں۔ اسی دوران احتشام کو ہوش آگیا اور وہ اجنبی نظروں سے خالہ کو گھورنے لگا۔
’’میرے چاند یہ کیا ہوگیا‘ اس گھر کی خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی۔‘‘ وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
’’آپ کون ہیں؟‘‘ بڑی دقت سے اس نے سوال کیا۔
’’بیٹا خالہ ہوں تمہاری۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولیں۔
’’خالہ! کیسی خالہ کون سی خالہ‘ میں نہیں جانتا کسی خالہ والا کو بس مجھے اپنے ابو امی کے پاس جانا ہے‘ ابھی بھیج دیں۔‘‘ وہ جانے کی ضد کرنے لگا اور سب پریشان ہوگئے‘ جونہی نزاکت کو ہوش آیا وہ تیر کی طرح اس کے پاس پہنچی۔
’’احتشام بھائی! میں نزاکت پہچانا آپ نے‘ آپ جس کو سارا دن موٹی بھینس کہتے تھے۔‘‘
’’موٹی بھینس!‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ ’’جائو یہاں سے نہیں جانتا میں تمہیں‘ دفع ہوجائو سب کے سب اور مجھے اپنے ماں باپ کے پاس بھیج دو‘ ورنہ میں کیس کردوں گا۔‘‘ وہ بری طرح چیخا پھر کراہنے لگا۔
’’پلیز آپ لوگ اسے تنگ نہ کریں‘ میں اپنے رسک پر ڈسچارج کراکر لایا ہوں۔ مجھے لگتا ہے اسے alzhemer کی بیماری ہوگئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر سدیم نے سنجیدگی سے کہا تو سب ہونق ہوکر اس کی شکل دیکھنے لگے۔
’’اس بیماری میں انسان اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے‘ جو کبھی بحال ہوجاتی ہے‘ کبھی یادداشت ختم ہوجاتی ہے۔‘‘ اس نے وضاحت کی اور شہرینہ کا منہ بن گیا‘ نزاکت کے آنسو نہیں تھم رہے تھے‘ اور سسکیاں حلق میں پھنس رہی تھیں‘ ساتھ کھڑے لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
’’بجائے اس کے کہ آپ لوگ شکر کریں کہ احتشام کی جان بچ گئی سب لوگ رو رہے ہیں مجھے یقین ہے آج نہیں تو کل یادداشت بھی بحال ہوجائے گی۔ لیکن ٹانگ ٹھیک بھی ہوگئی تو لنگ باقی رہے گا۔‘‘ سدیم کی آواز بھرا گئی اور اس نے آنکھوں پر رومال رکھ لیا۔ شہرینہ اس کے امی ابو اور عالیان ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے‘ اور خوب صورت فیروزی جدید تراش خراش کے لباس میں نزاکت کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہورہا تھا۔ عالیہ بیگم بدحواس ہوکر دکھ سے بولیں۔
’’جانے کس کی نظر لگ گئی میرے چاند کو۔‘‘ نزاکت نے احتشام کے سارے کام اپنے ذمے لے لیے تھے‘ کھانا کھلانا‘ پانی پلانے سے لے کر دوا کھلانے تک ہر کام وہ بڑی محبت اور چابک دستی سے کررہی تھی‘ ملال کا کوئی رنگ اور تھکن کا کوئی احساس اس کے چہرے پر نہیں تھا‘ جبکہ شہرینہ کھڑے کھڑے آتی اور طبیعت پوچھ کر چلی جاتی تھی۔ ڈاکٹر سدیم کمرہ بند کرکے جب اس کی بینڈیج کرتے تو اس کی کراہوں سے ماں کا دل بھی بری طرح کٹنے لگتا۔ ایک دن شہرینہ کمرے ہی میں تھی جب احتشام نے ایک دم پوچھا۔
’’یہ لڑکی کون ہے؟‘‘
’’تمہاری منگیتر ہے بیٹا شہرینہ‘ اسی سے تو اس دن تمہاری منگنی ہو رہی تھی‘ جب تم زخمی ہوئے تھے۔‘‘ عالیہ بیگم دکھ سے بولیں۔
’’تو اب کردینا کون سی دیر ہوگئی ہے‘ لڑکی تو مجھے بہت پسند ہے بس آپ آج ہی اسے انگوٹھی پہنا دیں۔‘‘ احتشام ضد کرتے ہوئے بولا۔ عالیہ نے بے بسی سے شہرینہ کی طرف دیکھا جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا۔
’’اونہہ! لنگڑا کہیں کا‘ یادداشت سے فارغ‘ کیا میرے لیے یہی رہ گیا ہے اپاہج۔‘‘ وہ دوسرے کمرے میں آکر بآواز بلند بڑبڑائی۔
’’بری بات ہے شہرینہ‘ ایسے نہیں کہتے‘ وہ آج نہیں تو کل ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ عالیان نے تنبیہہ کی۔
’’بس بس آپ تو رہنے ہی دیں‘ آپ کو اپنی فکر پڑگئی نامگر میں بتا دیتی ہوں آپ کی شادی نزاکت سے ہو یا نہ ہو‘ میں اس دماغی فارغ سے شادی ہرگز نہیں کروں گی‘‘
’’کیا بات ہے بیٹا کیوں چیخ رہی ہو۔‘‘ تائی نے اندر داخل ہوکر حیرت سے کہا۔
’’بس امی کل ہی واپس چلیں‘ مجھے نہیں رہنا‘ کیا پتہ آپ بیٹے کی خاطر بیٹی کو بھی لنگڑے لولے کے پلے باندھ دیں۔‘‘ وہ بگڑ کر بولی۔
’’پاگل ہوئی ہو آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلتا ہے‘ ذرا صبر کرلو عالیان کی منگنی ہوجانے دو پھر میں کوئی مناسب وقت دیکھ کر انکار کردوں گی۔‘‘
ظ…ظ…ظ
عالیان حیران تھا کہ کتنی عجیب لڑکی ہے‘ نزاکت میرے تو سائے سے بھی گھبراتی ہے اور سارا دن احتشام کی خدمت میں لگی رہتی ہے‘ جو اس سے کتنا چڑتا ہے‘ واقعی بڑی خوبیوں کی مالک ہے نزاکت‘ نیک خدمت گزار اور صابر۔‘‘ اس کی نظر میں نزاکت کی اہمیت اور بڑھ گئی۔
صبح ناشتے کے بعد جب احتشام کے سوا سب میز پر تھے تائی نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’عالیہ میں اب واپس جانے کا سوچ رہی ہوں بہت دن رہ لیے تم آج اجازت دو تو عالیان نزاکت کو انگوٹھی پہنادے؟‘‘ نزاکت کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا اوراس سے بیٹھا نہیں گیا۔
’’میراخیال ہے دونوں کام ایک ساتھ ہی ہوجائیں تو اچھا ہے‘ احتشام سے بھی کہتے ہیں‘ شہرینہ کو انگوٹھی پہنادے‘ جو کام کل ہونا تھا وہ آج ہوجائے تو اچھا ہے۔‘‘ علیم الدین نے متانت سے کہا تو تائی ایک دم بول پڑیں۔
’’دیکھو بھئی شہرینہ کی تو میں ابھی دو تین سال تک شادی کروں گی نہیں‘ پھر منگنی کا فائدہ؟ ہاں عالیان کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘
’’لیکن بھابی پہلے تو آپ نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا؟‘‘ عالیہ کی آواز بھرا گئی۔
’’کیونکہ پہلے ہمارا بیٹا تندرست وتوانا اور لنگڑا نہ تھا‘ اب ایک لنگڑے سے بھابی اپنی بیٹی کی شادی کیوں کریں گی؟‘‘ علیم الدین نے صاف صاف بات کی۔
’’ایسا نہیں ہے علیم الدین۔‘‘ تایا شرمندگی سے بولے۔ ’’ہم تم سے شرمندہ ہیں‘ شہرینہ راضی نہیں‘ لیکن نزاکت کے لیے ہم تیار ہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بھائی صاحب‘ جس طرح نزاکت میری بیٹی ہے اسی طرح احتشام بھی میرا ہی بیٹا ہے‘ بہتر یہی ہے کہ اس بات کو یہیں ختم کردیں‘ ہمیں بھی نزاکت بیٹی کی شادی کی کوئی جلدی نہیں۔‘‘ علیم الدین نے بڑی سہولت اور وقار سے انکار کردیا پھر احتشام کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے بولے۔
’’بیٹے تمہیں ہر چیز وقت پر تو مل رہی ہے نزاکت تیمار داری میں کوئی کسر تو نہیں چھوڑ رہی۔‘‘
’’نہیں جی نرس تو ضرورت سے زیادہ ہی خیال رکھ رہی ہے۔‘‘ وہ زندہ دلی سے مسکرایا تو نزاکت خاموشی سے اٹھ کر کچن میں آگئی اور رونے لگی‘ احتشام کی بے بسی کا احساس کرکے‘ آہٹ پر وہ مڑی تو عالیان رخصت ہونے کے لیے کھڑے تھے۔
’’کیوں رو رہی ہو‘ بے وقوف احتشام بالکل ٹھیک ہے اس کو یہ نہیں معلوم کہ جو محبت کرتے ہیں وہ چھینتے نہیں بلکہ دان کرتے ہیں اور پھر میری محبت کا پودا تو ابھی جڑ بھی نہیں پکڑ سکا تھا اس نے تو محبت کی نرم ونازک کیاری میں ابھی صرف زندہ رہنے کی کوشش ہی کی تھی لیکن احتشام کی محبت تمہارے لیے ایک تناور درخت کی سی ہے‘ جس کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں‘ ایسے درخت کو اکھاڑیں تو پھر وہ زندہ نہیں رہتا مرجاتا ہے‘ خدا تم دونوں کی محبت کو سلامت رکھے‘ اس کو کہنا کہ زندگی کوئی ڈرامہ یا فلم نہیں کہ چوٹ لگنے سے یادداشت چلی جائے اور چوٹ لگنے ہی سے واپس آجائے۔ ویسے بھی وہ اتنا اچھا ایکٹر نہیں‘ تمہیں دیکھ کر جو اس کی آنکھوں میں چمک اور والہانہ پن نمایاں ہوتا ہے وہ مجھ سے مخفی نہ تھا میں ڈاکٹر نہ صحیح لیکن جانتا ہوں Alzheimer کی بیماری چوٹ لگنے سے نہیں ہوتی اور اس عمر میں تو بالکل بھی نہیں۔‘‘ نزاکت سمجھ ہی نہیں سکی کہ عالیان کا کیا مقصد ہے وہ ٹرے لگا کر کمرے میں کھانا لائی۔
’’احتشام بھائی کھانا کھالیں۔‘‘
’’آج میں امی ابو کے ساتھ میز پر بیٹھ کر کھانا کھائوں گا۔‘‘ اس نے نعرہ لگایا اور کہیں سے سدیم بھی نکل کر آگیا۔
’’اٹھ بے سالے بہت ڈرامہ ہوگیا‘ میں تو زبردستی کی پٹی کرکر کے تھک گیا تھا۔‘‘ دوسرے ہی لمحے احتشام اپنے پیروں پر کھڑا تھا‘ نزاکت کی چیخ نکل گئی اور عالیہ دوڑی دوڑی آئیں اور ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ احتشام نے ایک دم ان کو گود میں اٹھا لیا۔
’’ہاں میری خالہ آپ کے اور نزاکت کے لیے ہٹا کٹا ہوں اور باقی سب کے لیے لنگڑا‘ فارغ الدماغ۔‘‘ پھر کھانے کی میز پر علیم الدین صاحب نے ڈرامے کا پس منظر بتایا جو انہوں نے اس کے دوست ڈاکٹر سدیم کے ساتھ مل کر کھیلا تھا‘ انہیں آج بھی وہ دن یاد تھا جب ان کے کلینک میں احتشام ان کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا اور ان کو لگا تھا اگر وہ چپ نہیں ہوا تو ان کا دل بند ہوجائے گا‘ انہیں احتشام سے اپنی اولاد کی طرح محبت تھی ان کے اصرار پر جب اس نے جھجکتے ہوئے اپنا مسئلہ بتایا تو ان کے چہرے پر تفکرات کا جال بن گیا‘ پہلے تو انہوں نے اسے خوب ڈانٹا پھر سینے سے لگا کر پیار سے بولے۔
’’اپنے خالو ابا پر بھروسہ ہے نا اس لیے بے فکر ہوجائو‘ اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دو‘ وہ بہتر کرنے والا ہے۔‘‘ بس پھر احتشام کے دوست سدیم کی مدد سے ڈرامہ پایا تکمیل تک پہنچا۔
رات بھیگتی جارہی تھی اور احتشام اس کے بالوں سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’میری موٹی بھینس۔‘‘ احتشام نے سرگوشی کی‘ دھیرے دھیرے نزاکت کی پلکیں اٹھیں اس کی نگاہوں سے ٹکرائیں اور پھر شرم سے جھک گئیں‘ منزل سامنے تھی اب ڈر کیسا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close