Aanchal Mar 15

موم کی محبت(قسط نمبر

راحت وفا

تری نگاہِ تغافل کو کون سمجھائے
کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں
تو ہی بتا کہ تری خامشی کو کیا سمجھوں
تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
شرمین بے انتہا حسن کی مالک ہے ہر شخص اس کے حسن کے قصیدے پڑھتا ہے۔ وہ ایک فرم میں جاب کرتی ہے اور وہاں مرزا صاحب نے جھوٹی محبت کا راگ آلاپ کر اس کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔
چار سال پہلے شرمین کی زندگی میں صبیح احمد آیا اور اتنا ہی عرصہ ان کی محبت پروان چڑھی۔ پھر صبیح احمد تعلیم مکمل کر کے کراچی واپس چلا گیا اور وعدہ کر گیا کہ وہ جلد ہی رشتے کے لیے اپنی ماں کو بھیجے گا لیکن صبیح احمد کی ماں شرمین کے لیے راضی نہیں ہوتیں اور صبیح کی شادی فریحہ سے کردیتی ہیں۔
زینت آپا شرمین کی کزن ہیں ان کا بیٹا بوبی بھی شرمین کے عشق میں گرفتار ہے اور آئے دن شرمین سے اظہار محبت کرتا رہتا ہے جبکہ شرمین عمر کے فرق کے حساب سے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کرتی ہے۔
شرمین پریشان ہو کر صبیح احمد کو خط لکھتی ہے اور اسے کراچی آنے کا بتاتی ہے لیکن صبیح احمد خود پہلی فلائٹ سے شرمین کے پاس پہنچ جاتے ہیں شرمین سمجھتی ہے کہ شاید اب وہ اس سے شادی کر کے اسے یہاں سے لے جائیں گے لیکن جب صبیح احمد شرمین کو اپنی شادی کا بتاتے ہیں تو وہ ششدر رہ جاتی ہے۔ شرمین کا محبت پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اسے محبت نام سے نفرت ہوجاتی ہے۔
مرزا صاحب پہلے سے شادی شدہ ہونے کے ساتھ بچوں کے باپ بھی ہیں۔ ان کے گھر میں ساس بہو کا روایتی جھگڑا ہر وقت رہتا ہے جس سے وہ کافی پریشان رہتے ہیں لیکن بیوی کو سمجھانے کے بجائے اس کے آگے بچھے جاتے ہیں اور آفس میں شرمین سے محبت کا دم بھرتے ہیں۔
عارض ایک بزنس مین ہے اس کی نظر میں لڑکیاں صرف وقت گزاری کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس لیے عارض نے ابھی تک شادی نہیں کی لیکن بہت سی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ عارض کا بہترین دوست صفدر ہے جو ایک فرم میں جاب کر رہا ہے۔ عارض کی پہلی ملاقات شرمین سے سڑک کنارے ہوتی ہے اور وہ اس کے حسن کا گرویدہ ہوجاتا ہے لیکن جب وہ شرمین سے اظہار محبت کرتا ہے تو وہ نخوت سے انکار کردیتی ہے۔
بوبی نے اپنی فضول حرکتوں سے شرمین کو پریشان کر رکھا ہے۔ بالآخر شرمین کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے اور وہ بوبی کے منہ پر تھپڑ مار دیتی ہے۔
عارض اپنی سچی محبت کا یقین دلا کر شرمین کو قائل کرنے کو کہتا ہے اور صفدر دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے ہامی بھر لیتا ہے۔
صفدر انتہائی شریف انسان ہے صفدر کی ماں (جہاں آرا بیگم) صفدر کی شادی کرنا چاہتی ہیں اور اس سلسلے میں لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔ ایک لڑکی انہیں پسند آتی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ صفدر بھی اس لڑکی کی تصویر دیکھ لے مگر وہ ماں کی خوشی میں خوش ہے۔
شرمین صفدر کے کہنے پر عارض سے ملتی ہے اور اس سے منگنی کرلیتی ہے شرمین کو لگتا ہے کہ اس منگنی کے بعد سب معاملات ٹھیک ہوجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوتا۔
بوبی بھی انگوٹھی لے کر شرمین کے پاس منگنی کی عرض سے آتا ہے لیکن جب شرمین اسے اپنی اور عارض کی منگنی کا بتاتی ہے تو بوبی کو دکھ ہوتا ہے اور وہ خود کشی کی کوشش کرتا ہے۔لیکن بوبی کی ماں (زینت) اسے بر وقت ڈاکٹر کے پاس لے جا کر اس کی جان بچاتی ہے اور پھر اپنے اکلوتے بیٹے کی محبت میں مجبور ہو کر زینت آپا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرتی ہیں ان کی نظر میں شرمین سے دوری بوبی کے دل سے شرمین کا خیال نکال دے گی مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا کینیڈا جا کر بوبی وہاں کی رنگینیوں میں کھو کر ماں کو ہی بھول جاتا ہے۔
صفدر کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوتی ہے زیبا جہاں آرا کی پسند ہے صفدر بھی اس شادی سے خوش ہے مگر شادی کی اولین رات اس کے ارمانوں پر اوس پڑ جاتی ہے جب زیبا اسے اپنی ناکام محبت کی کہانی سناتی ہے صفدر صرف اپنی ماں (جہاں آرا بیگم) کی وجہ سے زیبا کو اپنے گھر رکھنے پر تیار ہوجاتا ہے وہ دونوں ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ عارض شرمین سے محبت کے عہد و پیماں کر کے بزنس کے سلسلے میں امریکا آتا ہے اور یہاں اس کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے۔
شرمین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی اماں کی طبیعت دن بدن خراب رہنے لگی ہے زینت آپا بھی بوبی کو کینیڈا چھوڑ کر واپس آگئی ہیں مرزا صاحب نے بھی جھوٹی محبت کے اظہار سے شرمین کو عاجز کر رکھا ہے۔
صفدر کو زیبا سے شدید نفرت ہوگئی ہے لیکن وہ اپنی ماں کی وجہ سے زیبا کو گھر سے نہیں نکال سکتا اور نہ ہی اپنی ماں کو زیبا کی حقیقت بتا سکتا ہے۔
جہاں آراء کو زیبا کی خراب طبیعت کسی خوشی کا باعث معلوم ہو رہی ہے وہ صفدر کو زیبا کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہتی ہیں مگر وہ ٹال جاتا ہے اور خود ایک روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ جہاں آرا بیگم اس کے ہاتھ اور سر پر بندھی پٹی دیکھ کر گھبرا جاتی ہیں۔
شرمین سے بے لوث محبت کرنے والی اس کی ماں خالق حقیقی سے جا ملی ہیں وہ غم کی تصویر بن کر رہ گئی ہے۔ صفدر اور زینت آپا اس کی دلجوئی کر رہے ہیں۔ کینیڈا سے عارض بھی فون کر کے اسے صبر کرنے کو کہتا ہے۔
عارض کا آپریشن بھی کامیاب ہوگیا ہے اور وہ پاکستان آنا چاہتا ہے۔ لیکن جب شرمین سے اپنی بے انتہا محبت کا جواب مانگتا ہے تو وہ ذہنی الجھن کی وجہ سے ٹھیک جواب نہیں دے پاتی جس سے عارض کو کافی مایوسی ہوتی ہے اور وہ واپس پاکستان آنے کا ارادہ چھوڑ کر وہیں کینیڈا میں مصروف ہوجاتا ہے۔ دو دن کی چھٹی کے بعد جب شرمین واپس آفس آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے اس کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی سیٹ کسی اور کو دے دی ہے۔ شرمین اس حرکت کی بابت ان سے پوچھتی ہے تو مرزا صاحب اس کی غیر حاضری کی وجہ بتا کر اسے اپنی پرسنل سیکرٹری کی پیش کش کرتے ہیں جس پر شرمین غصہ سے انہیںسناتی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے۔
زیبا کو اپنے اندر ہونے والی تبدیلی خوش آئند لگ رہی ہے۔ وہ سوچ رہی ہے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ صفدر زیبا کو اپنے گھر میں رہنے کے لیے اس کے سامنے شرط رکھ دیتا ہے۔
زینت آپا شرمین کو لے کر اپنے گھر آجاتی ہیں اور اب وہ چاہتی ہیں کہ شرمین ہمیشہ وہیں رہے جبکہ وہ بوبی کو بھی سمجھا کر دیکھ چکی ہیں لیکن اب زینت آپا ممتا کے ہاتھ مجبو ہو کر شرمین کو بوبی کا ساتھ قبول کرنے کے لیے دل میں دعا کر رہی ہیں۔
بوبی بھی شرمین کے اپنے گھر آنے پر خوش ہے اور اس سے جلد واپس آنے کا وعدہ کرتا ہے وہ اب تک شرمین کو نہیں بھولا تھا شرمین بوبی کے گھر آکر پریشان ہے جبکہ زینت آپا نے اپنا بزنس بھی شرمین کے حوالے کردیا ہے۔
زیبا صفدر کی شرط مانتے ہوئے گھر چھوڑ دیتی ہے اور اتفاق سے اس کی ملاقات اپنی سہیلی ننھی سے ہوتی ہے جو ایک عرصہ سعودی عرب رہنے کے بعد اب طلاق لے کر واپس آگئی ہے۔
صفدر عارض کو کچھ حد تک زیبا کی بے وفائی کا بتاتا ہے تو وہ بھی ششدر رہ جاتا ہے اور صفدر کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ زیبا کو طلاق دے دے لیکن وہ اپنی ماں کی خراب طبیعت کا بتا کر اپنی معذوری ظاہر کرتا ہے۔
ننھی صفدر سے فون پر رابطہ کے بعد اس سے ملتی ہے اور اپنی طرف سے اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ زیبا کو معاف کر کے اسے اپنا لے مگر صفدر اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے۔ جس پر ننھی کو مایوسی ہوتی ہے۔
شرمین زینت آپا کی میڈیسن لے کر واپس گاڑی کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے جب اس کا سامنا ایک بار پھر مرزا صاحب سے ہوتا ہے۔ شرمین انہیں دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرتی ہے جس پر مرزا صاحب اپنی بیوی کی موت اور ایک بچی کی پیدائش کا بتا کر اسے پرپوز کرتے ہیں شرمین غصہ سے انہیں مزید سناتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے۔
صفدر زیبا کو لینے اس کے گھر آتا ہے لیکن زیبا اس کی شرط ماننے سے انکار کرتے ہوئے گھر جانے سے بھی انکار کردیتی ہے جس پر صفدر غصہ سے اسے سناتا ہوا گھر سے نکل جاتا ہے اس سے زیباکی یہ ضد برداشت نہیں ہورہی لیکن ساتھ ہی اسے یہ ڈر بھی ہے کہ کہیں زیبا جہاں آرا کو خود کچھ نا بتا دے بوبی بھی امریکہ سے واپس آجاتا ہے شرمین اس کو دیکھ کر حیران ہوتی ہے اس کے لیے بوبی کا انداز نیا نہیں ہے زینت آپا کی خوشی بھی دیدنی ہے وہ بوبی کو سمجھاتی ہے کہ جو بات شرمین کو پسند نہیں اس سے گریز کرے۔
عارض ڈاکٹر کو چیک کرانے کے بعد گھر واپسی پر ایک صاحب کو اپنی گاڑی میں لفٹ دیتا ہے وہ صاحب گاڑی میں والٹ بھول جاتے ہیں گھر آنے پر منیجر معید الرحمان والٹ عارض کو دیتا ہے۔ عارض والٹ کو ایک نظر دیکھتا ہے تو چونک جاتا ہے اس میں شرمین کی تصویر موجود ہے عارض نا چاہتے ہوئے والٹ کی تلاشی لیتا ہے ایک کارڈ ہاتھ لگتا ہے جس پر صبیح احمد کا نام لکھا ہے۔
جہاں آرا خود زیبا کو لینے اس کے گھر جاتی ہیں اور زیبا کی ماں (حاجرہ) انہیں زیبا کی خراب طبیعت کا بتا کرانہیں خوشخبری سناتی ہیں جہاں آرا بیگم خوش ہونے کے ساتھ صفدر پر حیران بھی ہوتی ہیں کہ اس نے ابھی تک انہیں کیوں نہیں بتایا گھر آکر وہ صفدر سے مٹھائی منگواتی ہیں جس پر وہ حیران ہوجاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ؤ…//…ؤ
میڈیسن کھانے کے بعد اس نے عجیب سی نظروں سے ننھی کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بے پناہ رقصاں خوشی کے ہمراہ ملال کے سائے بھی لرزاں تھے۔ یہ نوید حیات جاوداں تھی کہ وہ بیٹے کی ماں بنے گی تو یہ احساس خزن بھی کچوکے لگا رہا تھا کہ جس کو باپ اپنانے سے انکاری ہو اس کی کیا خوشی؟
’’کیوں افسردہ ہو؟‘‘ ننھی نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔
’’نہیں، خوش ہوں۔‘‘
’’خوشی کے ساتھ دکھ بھی نظر آرہا ہے۔‘‘
’’وہ تو ہمیشہ رہے گا۔‘‘
’’منفی نہ سوچو، میں نے فون تو کیا ہے صفدر بھائی کو۔‘‘
’’کیا کہا؟‘‘
’’فی الحال تو دبا دبا غصہ ہی تھا، فون کاٹ دیا۔‘‘
’’پھر… پھر تمہیں کیا امید رکھنی چاہیے؟‘‘ زیبا نے دکھ سے ہنستے ہوئے کہا۔
’’امید تو اچھی رکھنی چاہیے بیٹے کی خوش خبری پر ان کا دل پسیجنا تو چاہیے۔‘‘
’’مگر میں صفدر کو جان گئی ہوں وہ دل کے اچھے ہیں مگر اپنی انا کی خاطر ایسا رد عمل ظاہر کررہے ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی کہو، کان کو ادھر سے پکڑو یا ادھر سے۔‘‘
’’ہنہہ… مجھے مشکل لگتا ہے۔‘‘
’’اچھا خیر، مت ٹینشن لو سب اچھا ہوگا۔‘‘
’’ہوگا یا نہیں، میرا تو بیٹا ہی ان شاء اللہ میرا سب کچھ ہوگا۔‘‘ وہ ایک دم مسرور سی ہو کر مسکرانے لگی۔
’’ہنہہ، گڈ اور دیکھنا وہ ایک روز اپنے بیٹے کی محبت میں کھنچے چلے آئیں گے۔‘‘ ننھی نے انتہائی وثوق اور یقینی انداز میں کہا تو وہ کافی مطمئن سی ہوگئی۔
’’سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ اس اطلاع پر کیسا رد عمل اختیار کرتے ہیں یا تو آئیں گے یا نہیں، آئیں گے تو صلح پسندی کا راستہ اختیار کریں گے یا اسی طرح خفا ہوں گے۔ مگر یاد رکھنا اب جو بھی بات کرنا سوچ سمجھ کر کرنا قطعاً کمزور پڑنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ننھی نے سمجھایا اس نے تائید میں گردن ہلائی، لیکن اس میں بہت گہری سوچ موجود تھی۔ وہ چپ رہی تو ننھی نے ہی کہا۔
’’دیکھو، اچھی طرح سوچ لو، تم انہیں یہ کہہ کر دیکھ لو کہ اپنے بیٹے کو ہی تسلیم کرلو، زمانے کا خیال کرلو، بیٹا تو تمہارا ہی ہوگا۔‘‘
’’ننھی، میرا دماغ خراب نہیں ہے میں ہرگز اس سے یہ بھیک نہیں مانگوں گی۔‘‘ وہ بہت سخت لہجے میں بولی تو ننھی خاموشی ہوگئی۔
’’تم خود سوچو کیا یہ اس کے لیے نئی بات ہوگی۔ اسے بیٹے بیٹی سے فرق نہیں پڑتا جب کہہ دیا کہ یہ اولاد وہ تسلیم نہیں کرتا تو بس پھر کیا گنجائش رہ گئی؟ عورت اولاد کے احساس پر اپنا آپ ہار دیتی ہے۔ مرد نہیں، یہ مجھے اب اندازہ ہورہا ہے میں صفدر سے کوئی خیرات نہیں مانگوں گی، مجھے اس سے خلع چاہیے، مجھے مزدوری بھی کرنی پڑی تو کروں گی۔‘‘
’’اللہ نہ کرے تم میرے ہوتے کیسی باتیں کررہی ہو؟‘‘ ننھی نے اسے گلے سے لگا لیا۔
’’تمہارا بڑا احسان ہے بلکہ تم تو شاید میری مددگار بن کے آئی ہو۔‘‘
’’اللہ مددگار ہے میں کیا اور میری ہستی کیا؟ بس اتنی سی فکر ہے کہ اماں اور ابا کے لیے میری وجہ سے پریشانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔‘‘ اس کا گلا رندھ گیا۔
’’اللہ ان کے لیے بھی بہتری کا راستہ پیدا کرے گا۔ وہ تو تمہیں ہی قصور وار سمجھتی ہیں۔‘‘
’’ہاں، انہیں اور کچھ نہیں پتا وہ معصوم ہیں‘ نہیں جانتیں کہ ایک لرزش سے کیسے قیامت بپا ہوگئی۔‘‘
’’اللہ غارت کرے اس مردار کو۔‘‘ ننھی کی نگاہوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔
’’اس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘
’’بے شک، شاید مرکھپ بھی گیا ہو۔‘‘
’’اللہ مجھے اس بے غیرت کی صورت کبھی نہ دکھائے۔‘‘
’’چلو ٹینشن نہ لو، میں تمہارے لیے یخنی بناتی ہوں پھر گپیں لگائیں گے۔‘‘ ننھی نے اس کے موڈ کو بحال کرنے کے لیے کہا اور اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔
ؤ…//…ؤ
خوشگوار موسم کے پیش نظر آغا جی نے شرمین اور صفدر کے لیے چائے کا انتظام لان میں ہی کروایا بہت سی چیزیں خانساماں نے کچھ ہی دیر میں تیار کرکے ٹرالی بجھوادی تھی۔
’’لو بھئی، کھائو، سب کچھ کھانا ہے۔‘‘ بابا نے شرمین اور صفدر کو کہا تو شرمین نے مسکرا کر پلیٹ تھام لی کباب، فش، نگٹس پلیٹ میں ڈالنے کے بعد کہا۔
’’بابا مجھے تو بہت بھوک لگی ہے آفس سے سیدھے آپ کے پاس آئے ہیں۔ صفدر بھائی کو بھی کوئی مسئلہ درپیش ہے آپ سے شیئر کریں گے۔‘‘
’’ہاں… ہاں کیوں نہیں؟‘‘ بابا نے الجھن میں گرفتار صفدر سے کہا۔ مگر وہ شاید ان سے شیئر کرنے کا ارادہ بدل چکا تھا اس لیے پکوڑا کھاتے ہوئے بولا۔
’’ارے کوئی خاص بات نہیں تھی۔ بس عارض کی طرف سے ٹینشن سی ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ وہ متفکر سے بولے۔
’’کوئی رابطہ نہیں، شرمین سے بھی بات نہیں کرتا۔‘‘
’’اچھا میں پوچھوں گا بلکہ میں نے کچھ دیر پہلے اسے میسج کیا ہے کہ آج میری بہو گھر آرہی ہے۔‘‘
’’کوئی خاص مصروفیت ہوگی۔‘‘ شرمین نے ٹالا۔
’’ہاں شاید مگر پھر بھی۔‘‘ آغا جی بھی فکر مند سے ہوگئے۔
’’چھوڑیں میں خود اس سے نپٹ لوں گا۔‘‘ وہ چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولا۔
’’بابا، عارض کو کوئی مسئلہ ضرور ہے۔‘‘ اس کا دل مٹھی میں لے کر عارض نے بند کر رکھا تھا ذرا سا موقع پا کر دل کی بات کہہ دی۔
’’بظاہر تو ایسا نہیں لگتا لیکن شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہو، عارض نے بے پروائی تو اختیار کر رکھی ہے منیجر نے بتایا ہے کہ کھانے پینے، سونے جاگنے میں بہت غیر معمولی رویہ اختیار کرلیا ہے۔ میں خود بھی پریشان ہوں لیکن ان شاء اللہ سب بہتر ہوگا۔‘‘ بابا نے اس کی تسلی کی خاطر تفصیل بیان کی۔
’’واہ، مزہ آگیا بہت مزے کے کباب تھے اور چائے بھی میری پسند کی بنائی تھی۔‘‘ شرمین نے بابا کی پریشانی دور کرنے کے لیے گفتگو کا موضوع بدلا۔
’’عارض کی پیدائش کے وقت سے آج تک خانساماں کے رحم و کرم پر ہیں اب تم آجائو گی تو کھانے کا اصل لطف آیا کرے گا۔‘‘
’’بس اب آپ عارض کو سختی سے آنے کا کہہ دیں۔‘‘ صفدر نے ٹکڑا لگایا۔
’’کہوں گا… مگر جوان اولاد کو آدمی کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’بابا آپ عارض کو سختی سے کہہ بھی نہیں سکتے۔‘‘ شرمین نے کہا وہ جانتی تھی کہ عارض سے وہ کتنی محبت کرتے ہیں۔
’’ٹھیک کہتی ہو اس میں تو میری جان ہے۔‘‘
’’بہرحال، شرمین کی وجہ سے تو اسے آنا چاہیے۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’ہاں، بالکل مجھے گھر کا سناٹا کھانے کو دوڑتا ہے۔ بچوں کی قلقاریاں سننے کو بے تاب ہوں۔‘‘ صفدر ان کے اس جملے پر پہلو بدل کر رہ گیا۔ اس کے کانوں میں امی کی آواز آنے لگی۔
وہ بھی تو اتنی ہی بے قرار ہیں اور پھر ان کی تو اللہ نے گویا سن بھی لی ہے۔ ایک میں ہی اس خوشی سے انہیں محروم رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر انہیں پتا چل جائے کہ زیبا امید سے ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ الٹراسائونڈ رپورٹ کے مطابق ان کا پوتا ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑیں گی اور ایک سیکنڈ بھی زیبا کو نگاہوں سے دور نہ کریں۔ مگر میں، میں ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘
’’صفدر کیا سوچنے لگے؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ اور سوچتا بابا نے چونکا دیا۔
’’جی وہ کچھ نہیں بس اب اجازت دیجیے۔‘‘ صفدر نے خفت سے ہنس کر کہا۔
’’جی بابا بس اب اجازت دیں۔‘‘ شرمین بھی بولی۔
’’رات یہیں رہ جائو۔‘‘ بابا نے شرمین سے کہا۔
’’نہیں بابا، زینت آپا فکر مند ہوں گی اور ان کی میڈیسن میں ہی دیتی ہوں۔‘‘ اس نے معذرتی انداز میں کہا۔
’’ٹھیک ہے، خوش رہو۔‘‘
’’اوکے، اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘
گاڑی گیٹ سے باہر نکالتے ہوئے شرمین نے کھڑکی سے منہ باہر نکال کر صفدر سے پوچھا۔
’’آپ تو کچھ بابا سے شیئر کرنے والے تھے۔‘‘
’’ہنہہ، لیکن پریشانی اپنے تک ہی رکھنی چاہیے۔‘‘ وہ بھی اپنی گاڑی نکالتے ہوئے با آواز بلند بولا۔
’’اس کا مطلب آپ پریشان ہیں۔‘‘
’’ہنہہ، شاید۔‘‘
’’مجھ سے شیئر کریں۔‘‘
’’کریں گے، لیکن اس وقت نہیں دیر ہورہی ہے۔‘‘ صفدر نے کہا اور گاڑی نکال لے گیا۔ وہ بھی کچھ سوچتے ہوئے اپنے رستے پر چل دی۔
ؤ…//…ؤ
گیراج میں گاڑی کھڑی ہی کی تھی کہ بوبی پوری تیاری کے ساتھ اپنی گاڑی کی چابی گھماتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ وہ کچھ حیران پریشان سی اپنی گاڑی سے باہر نکلی تو وہ بولا۔
’’یہ قطعاً نہیں کہنا کہ تھک گئی ہوں۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ وہ اس کی نقالی پر مسکرائی۔
’’مطلب یہ کہ ہم باہر جارہے ہیں کچھ ضروری چیزیں خریدنی ہیں اور پھر چائنیز۔‘‘ اس نے اپنی ترنگ میں کہا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’بوبی، میں سچ مچ بہت تھکی ہوئی ہوں اور کچھ بھی کھانے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑایا اور بولی۔
’’ایسا کیا کھا لیا کہاں گئی تھیں؟‘‘ وہ پوچھ بیٹھا۔
’’کسی سے ملنا تھا بس وہاں چائے کے ساتھ بہت کچھ کھا لیا۔‘‘
’’کس سے ملنا تھا؟‘‘ بوبی نے ناگواری سے پوچھا۔
’’بوبی سپمل از دس کہ میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ آگے بڑھتے ہوئے بولی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ساری شام میں نے انتظار کیا ہے تمہیں ساتھ چلنا ہے۔‘‘
’’بوبی، پلیز۔‘‘
’’نہیں میں پروگرام نہیں بدل سکتا۔‘‘ وہ اڑ گیا۔
’’مجھے زینت آپا کو دیکھنا ہے۔‘‘
’’وہ ٹھیک ہیں، سو رہی ہیں۔‘‘
’’بوبی، ہر ضد پوری نہیں کی جاسکتی۔‘‘
’’اور میں ہر ضد پوری کرنے کا عادی ہوں۔‘‘
’’بوبی، کیا بدتمیزی ہے۔‘‘ اسے غصہ آگیا۔
’’مجبوری ہے اسی بدتمیز کے ساتھ عمر بھر رہنا ہے۔‘‘ بوبی نے غیر دانستہ انداز میں کہہ دیا تو وہ چڑ گئی۔
’’بوبی میرے ساتھ جانا ہے تو بدتمیزی سے اجتناب کیا کرو۔‘‘
’’شرمین کبھی خود کو فرصت سے دیکھنا پھر میری بات بدتمیزی نہیں لگے گی۔‘‘ وہ اس کی ستارہ نما آنکھوں میں جھانکتے ہوئے عالم جذب میں بولا تو وہ اور زیادہ جھنجلا گئی۔
’’بوبی، زینت آپا کو بھی ساتھ لے چلتے۔‘‘
’’وہ پرہیزی کھانا کھاتی ہیں بے آرام ہوتیں اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا۔‘‘ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے بتایا۔
’’مگر میں انہیں ملے بغیر نہیں جاتی۔‘‘ اس نے بھی اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’واپسی پر مل لینا۔‘‘
’’باہر رہنے سے تم کافی بے پروا ہوگئے ہو۔‘‘
’’وہاں ماحول ہی ایسا ہے کہ آدمی کھو جاتا ہے۔‘‘
’’بس پلیز لمسٹس کراس نہیں کرنی۔‘‘ اس نے ٹوکا۔
’’شرمین، میری خوشی تم ہو تم مجھے خوش دیکھنا کیوں نہیں چاہتیں۔‘‘
’’بوبی! تم کیسے یہ کہہ سکتے ہو؟ تم مجھے جس حیثیت اور مقام پر عزیز ہو، اس پر تم رہنا پسند نہیں کرتے، تمہیں یہ سمجھانا مشکل ہے کہ میری زندگی کس قدر تلخ ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ
تلخ اتنی تھی کہ پینے سے زبان جلتی تھی
زندگی آنکھ کے پانی میں ملالی ہم نے
اس نے کچھ عجب سے انداز میں حال دل بیان کیا تو وہ خود پر کنٹرول نہ کرسکا۔ جھٹکے سے گاڑی روکی اور بولا۔
’’شرمین‘ میری زندگی تو تم ہو میرے اندر جھانک کر دیکھو میں کیا بنا سکتا ہوں تمہاری زندگی کو۔‘‘ وہ کچھ دکھ سے مسکرائی اور بولی۔
’’گاڑی چلائو ننھے سے ذہن پر بوجھ نہ ڈالو۔‘‘
’’کبھی تو مجھے بڑا سمجھوں میں جنون کی حد تک محبت کرتا ہوں۔‘‘ وہ چلایا۔
’’گاڑی چلائو ورنہ میں یہاں اتر رہی ہوں۔‘‘ وہ سخت غصے میں آگئی۔
’’میری بات کا جواب دو۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر کلائی سختی سے تھام کر کہا۔ تو وہ لمبی سانس بھر کر بولی۔
’’بوبی محبتیں ایسے نہیں ہوتیں مجھے معلوم ہے محبت کرنے والوں کی حقیقت۔‘‘
’’غلط فلسفہ ہے تمہارا۔‘‘
’’ابھی چلو پھر بات کریں گے۔‘‘ اس نے دھیرے سے کہا اور کلائی آزاد کرا کر باہر دیکھنے لگی، اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
ؤ …//…ؤ
اپنی چابی سے باہر سے گیٹ کھول کر گاڑی اندر لایا۔
گیٹ لاک کیا برآمدے کا انرجی سیور جل رہا تھا۔ امی کے کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ وہ ٹھٹکا، ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا تھا امی اس کی آمد تک اپنے کمرے کی لائٹ جلا کر اس کا انتظار کرتی تھیں۔ تسبیح پڑھتے ہوئے اس کی آمد کی منتظر رہتی تھیں پھر آج کیا بات ہوگئی؟ وہ فکر مند سا لپک کر کمرے میں داخل ہوا۔ لائٹ آن کی تو وہ بستر میں تھیں چہرہ سرخ تھا ہلکی سی آنکھیں کھلیں اور پھر بوجھل ہوکر بند ہوگئیں۔
’’امی… امی…‘‘ اس نے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا تو دوبارہ آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی اس نے پیشانی چھوئی تو وہ گویا دہک رہی تھی۔
’’امی آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔‘‘
’’ہنہہ؟‘‘ وہ بڑبڑائیں۔
’’اوہ میرے خدا، امی آپ مجھے فون کردیتیں۔‘‘ وہ تڑپ اٹھا تھا انہوں نے کچھ نفرت سے دیکھا اور گردن دوسری طرف موڑ لی۔
’’امی، ناراض ہیں؟‘‘ وہ اور بے قرار ہوکر ان سے لپٹ گیا۔
’’دور… دور ہوجائو۔‘‘ وہ بمشکل بولیں۔
’’وجہ… امی پلیز آپ کو مجھے فون کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’جائو نافرمان اولاد سے کچھ نہیں کہنا، جائو۔‘‘ جہاں آرا بیگم سخت غصے میں تھیں صفدر سمجھ گیا کہ مٹھائی نہ لانے پر ناراض ہیں۔
’’امی، صبح مٹھائی لے آئوں گا۔‘‘
’’مٹھائی نہ لانا ماں کا کفن لانا، میں نے نافرمانی کے لیے پالا پوسا تھا۔‘‘ بخار کی شدت کے باوجود وہ کرخت لہجے میں بولیں۔
’’اللہ نہ کرے آپ کو میری عمر بھی لگ جائے۔‘‘ وہ دیوانہ وار ان کا چہرہ چومنے لگا۔
’’صفدر جائو یہاں سے بس۔‘‘
’’امی، مجھے معاف کردیں میں بھول گیا تھا آپ کو میڈیسن دیتا ہوں کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا، میں لاتا ہوں۔‘‘
’’نہیں، ہرگز نہیں کچھ نہیں کھانا تم اپنی ضد پوری کرو میری بہو اور بچے کی خوشی سے مجھے محروم رکھو۔‘‘
’’آپ کو کس نے یہ بتایا؟‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’کیوں، کیا مجھے نہیں بتانا چاہیے تھا۔‘‘ وہ اور غصے سے بولیں۔
’’میرا مطلب تھا۔‘‘ وہ ہکلایا۔
’’دیکھو، صفدر مجھے راضی رکھنا چاہتے ہو اپنے حق میں خوش رکھنا چاہتے ہو تو میری بہو کو لے آئو، وہ امید سے ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے معصومیت سے مسکرا دیں اسے جھٹکا لگا۔
’’مطلب، زیبا نے امی کو بتا دیا سب۔‘‘ وہ سوچنے لگا۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘
’’جی، سوچتا ہوں۔‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’آپ کے لیے دودھ گرم کرکے لاتا ہوں۔‘‘ اس نے ٹالا۔
’’پہلے بتائو۔‘‘
’’یہ اس نے کہا ہے آپ کو۔‘‘ وہ کچھ دبے دبے غصے کے ساتھ بولا۔
’’تمہاری ساس نے بتایا، میں نہ جاتی تو ہرگز نہ تم بتاتے۔‘‘
’’اچھا تو آپ وہاں گئی تھیں۔‘‘
’’ظاہر ہے مٹھائی اسی لیے منگوائی تھی۔‘‘
’’اچھا، میں دودھ لے کر آتا ہوں آپ میڈیسن لے کر سو جائیں بخار اترے گا تو صبح بات کرلیں گے۔‘‘ وہ ان کا جواب لیے بغیر باہر نکل آیا وہ بخار کی شدت سے بوجھل آنکھیں بند کرکے پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگئیں۔
ؤ…//…ؤ
نیند آنکھوں میں مسلط نہیں ہونے دیتا
وہ میرا خواب مکمل نہیں ہونے دیتا
آنکھ کے شیش محل سے وہ کسی بھی لمحے
اپنی تصویر کو اوجھل نہیں ہونے دیتا
رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سر وصل کوئی
اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا
دل تو کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا یہیں
یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا
سر کے بال مٹھیوں میں سختی سے جکڑے وہ مجذوبانہ کیفیت سے دوچار رات کے تیسرے پہر تک جاگ رہا تھا۔ آنکھوں میں نیند کی بے وفائی کا سوگ بپا تھا۔ جسم درد کررہا تھا۔ کانوں میں امی کے الفاظ کی گونج تھی۔ جس کا ڈر تھا وہی ہوگیا تھا۔ وہ جان چکی تھیں کہ زیبا امید سے ہے ان کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی تھی۔ پہلے انہیں اس کی شادی کی آرزو تھی اور پھر پوتے پوتی کی خواہش اپنی جگہ فطری اور سچی تھی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ اصل بات کیا ہے؟ اتنا بے درد اور سفاک تو میں نہیں تھا کہ آپ کو اتنی بڑی خوشی سے محروم رکھتا۔ اب جبکہ مجھے معلوم ہے کہ میرا بیٹا ہے اس کی کوکھ میں ہے تو بھی میں مغموم ہوں بے حس ہوں لا تعلق ہوں۔ چاہتے ہوئے بھی اس خوشی کو قبول نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنی اولاد کے لیے زیبا کی خطا معاف نہیں کی اور نہ ہی کرسکتا ہوں کیونکہ اس کا جرم بہت بڑا ہے۔ آپ کی ضد اور فرمان میرے سر آنکھوں پر مگر میں کیسے خود کو سمجھائوں؟‘‘ وہ خود سے جنگ لڑ رہا تھا۔
’’صفدر، تم اپنی بوڑھی ماں کی نافرمانی کیسے کرسکتے ہو ان کی کتنی زندگی بچی ہے؟ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو کس سے معافی مانگو گے، ان کی خوشی کے لیے زیبا کو گھر لے آئو۔ اسے ان کی خوشی میں پڑا رہنے دو، تم کوئی تعلق نہ رکھنا۔ تمہاری ماں تو خوش رہیں گی۔ ان کی بات مانے بنا کوئی چارہ نہیں۔ مان لو ان کی بات۔‘‘ اسے چاروں طرف سے یہی سنائی دیا۔ مگر وہ ہونٹ چباتا رہا سر کے بالوں پر ستم ڈھاتا رہا۔ طبیعت مائل نہیں ہورہی تھی۔ امی کی بات مان لینے کا مطلب تھا زیبا کو گھر میں لانا اور بچے کو قبول کرنا اگر بچہ قبول کرلیا تو زیبا کو بھی رکھنا پڑے گا۔ ہرگز نہیں، اس نے خلع مانگی ہے بچے کے بعد اسے خلع دی جاسکتی ہے۔ اسے نکالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ وہ بچہ ہی تو چھوڑنا نہیں چاہتی بچے کو دیکھ کر امی اسے نہیں چھوڑیں گی۔‘‘
’’اف میرے خدا میں پاگل ہوجائوں گا۔‘‘ وہ چلا اٹھا اور بے دم سا اوندھے منہ بستر پر گر گیا۔ بنا کسی فیصلے کے بنا کسی نتیجے کے۔
ؤ…//…ؤ
دور سے فجر کی اذان سنائی دے رہی تھی۔
وہ گہری نیند میں تو گیا ہی نہیں تھا جلدی سے اٹھا دھیان امی کی طرف گیا وہ جانے کیسی ہیں؟ یہ سوچ کر سیدھا ان کے کمرے میں آگیا۔ وہ تخت پر جائے نماز سیدھی کررہی تھیں۔
’’امی۔‘‘ اس نے محبت سے پکار کر اپنے بازوئوں میں بھرلیا۔ وہ گرم تھیں، سانس بھی حدت آمیز تھی۔ اس کی محبت پر انہوں نے اس کی پیشانی چومی۔
’’اتنی صبح کیوں اٹھ گئے۔‘‘
’’آپ کی طبیعت کی وجہ سے اور فجر کا وقت بھی تو ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے انہیں آرام سے تخت پر بٹھایا۔
’’بس مجھے رات بھر تو غنودگی سی تھی۔ مگر فجر کی اذان پر اللہ نے جگا دیا۔‘‘
’’آپ کو اس وقت بھی بخار ہے۔‘‘
’’اتر جائے گا جس مالک نے آزمایا ہے وہی آزمائش سے باہر نکالتا ہے۔‘‘
’’آپ نماز پڑھیں میں بھی پڑھ کر آپ کے لیے ناشتا بناتا ہوں۔‘‘ وہ بولا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
’’جی؟‘‘ وہ کچھ نہ سمجھا۔
’’پہلے یہ بتائو کہ میرا حکم مان رہے ہو کہ نہیں۔‘‘
’’کو… کون سا حکم؟‘‘ وہ ہکلایا۔
’’جائو… جو ماں سے ردو کد کرے وہ میرے نزدیک بے ایمان ہے۔‘‘ انہوں نے غصے سے کہا اور نماز کی نیت باندھ لی وہ شرمندہ سا کچھ دیر کھڑا رہا پھر اپنے کمرے کی طرف آگیا۔
ماں کی ناراضی اپنی جگہ تھی رب کو راضی کرنے کے لیے نماز کی تیاری کی پھر سچ مچ وہ اللہ کے حضور رو دیا گڑگڑایا اور اللہ سے فیصلے کی رہنمائی مانگتا رہا۔ جب جائے نماز سے اٹھا تو دل کو کچھ سکون تھا۔ قرار تھا کہ ماں کی حکم عدولی نہیں کرنی اور باتیں بعد کی ہیں اللہ کو منانا اور ماں کو ناراض رکھنا ممکن نہیں۔ اللہ تو ملتا ہی ماں کی دعا سے ہے اس وقت اس کے لیے اللہ اور ماں کو راضی رکھنا ضروری تھا۔ وہ فیصلہ کرکے کچن میں آیا چائے بنائی انڈے فرائی کیے سلائس سینکے اور امی کے پاس آگیا وہ اب تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
’’صفدر مجھے کس رشتے سے یہ بنا کردے رہے ہو؟‘‘ انہوں نے سختی سے پوچھا۔
’’اپنی ماں کو ایک بیٹا یہ بتائے گا کیا؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’میرا بیٹا اس وقت ہوگا جب میری بات مان لے گا۔‘‘
’’آپ کی بات تو میں جان قربان کرکے بھی پوری کروں مگر۔‘‘
’’یہ اگر مگر پتا ہے کیا ہوتا ہے دیوار کی چنائی کرتے ہوئے رہ جانے والی درازیں، جو دیوار کی مضبوطی میں کمزوری پیدا کرتی ہیں۔‘‘
’’آپ کو کیسے یقین ہے کہ رشتے مضبوط ہیں؟‘‘ اس نے ناشتہ ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’کمزور تم نے بنا رکھے ہیں تمہیں بیوی اور اپنے بچے سے وابستگی نہیں۔‘‘ وہ سختی سے بولیں تو وہ بڑی ہمت کے ساتھ ضبط کرگیا کڑوا سچ نہ بتا سکا۔
’’اچھا آپ ناشتہ کریں۔‘‘
’’کرلوں گی میرے ہاتھ پائوں چلتے ہیں۔‘‘
’’اللہ آپ کو سلامت رکھے۔‘‘
’’جائو، جا کر ابھی زیبا کو لے کر آئو۔‘‘
’’جی دن تو چڑھنے دیں آپ ناشتہ کریں گولی کھائیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’نہیں پہلے، ابھی جائو۔‘‘ انہوں نے تحکم سے کہا تو اسے ماننا پڑا۔
’’ٹھیک ہے پھر جلدی سے یہ ناشتا کریں دوا کھائیں تو میں جاتا ہوں۔‘‘ اس نے سینے پر پتھر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ مطمئن ہوئیں خوشی سے چہرہ کھل اٹھا۔
ؤ…//…ؤ
اس کی غیر متوقع آمد ننھی کے لیے حیران کن تھی۔
اسے لیے اندر آئی تو دوسرا حیرت کا جھٹکا زیبا کے لیے تھا جوس کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھا۔ بیڈ کی سائیڈ پر رکھ کر وہ اٹھی اور حیرت زدہ سی اس کے سپاٹ چہرے پر پھیلی غم غصے کی لکیریں دیکھنے لگی۔ پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ رخ موڑ کر بولا۔
’’کتنی معصوم دکھتی ہو مگر کس قدر چالاک ہو؟‘‘
’’آپ کو بڑی دیر میں پتا چلا اور آپ اب بتانے آئے ہیں۔‘‘ زیبا کو بھی غصہ آگیا۔
’’صفدر بھائی پلیز آپ بیٹھیں میں ناشتہ بناتی ہوں۔‘‘ ننھی نے گرما گرمی کم کرنے کے لیے کہا۔
’’میں ناشتہ کرکے آیا ہوں۔‘‘ وہ روکھا سا بولا۔
’’اچھا میں چائے لاتی ہوں۔‘‘ ننھی چلی گئی تو وہ بولا۔
’’چالاک نہ ہوتیں تو مجھ کو پھانستی کیا؟‘‘ وہ زہر بھری مسکراہٹ سے بولا۔
’’صفدر صاحب اگر انگارے برسانے تھے تو آنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘
’’میں مجبور ہو کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘
’’کیا مجبوری ہے۔‘‘
’’خیر… میرے ساتھ چلو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا بچے کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔‘‘ وہ فیصلہ کن انداز میں بولا۔
’’مجھے اب یہ کہنا پڑے گا، خدارا مجھے اپنے بچے کے ساتھ رہنے دیں۔‘‘
’’بند کرو یہ ڈرامہ، میری ماں کو بلیک میل کرکے اب یہ باتیں زیب نہیں دیتیں۔‘‘ وہ رعونت سے بولا تو زیبا بھڑک اٹھی۔
’’میں نے آپ کی امی کو کچھ نہیں کہا وہ مجھے ملی تک نہیں۔‘‘
’’ہنہہ… بہرکیف تمہارا منصوبہ فی الحال کامیاب ہوگیا۔‘‘
’’افسوس کوئی باپ اپنے بچے کو منصوبہ بھی کہہ سکتا ہے۔‘‘
’’افسوس تم جیسی عورت ایسا بھی کہہ سکتی ہے۔‘‘ وہ پلٹ کر حملہ آور ہوا تو زیبا کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
’’اس سے بہتر تھا آپ مجھے قابل رحم ہی نہ سمجھتے۔‘‘
’’کیا تمہیں رحم نہیں ملا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مادر رحمی ہے میرے پاس۔‘‘ وہ فخریہ انداز میں بولی۔
’’ہنہہ یہ بھی میرا رحم ہے تم پر۔‘‘
’’رحم کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔‘‘ اس نے گویا یاد دلایا۔ تو کچھ دیر اس نے چپ رہ کر کہا۔
’’اب چلو سامان اٹھائو مجھے آفس بھی جانا ہے۔‘‘
’’چائے گرما گرم…‘‘ ننھی نے آکر کہا۔
’’شکریہ‘ مجھے جلدی ہے۔‘‘
’’صفدر بھائی پلیز بیٹھیں تو اور آپ کو بیٹے کی ایڈوانس مبارک باد دینی ہے۔‘‘
’’اپنی سہیلی کو دیں مجھے اجازت دیں بس۔‘‘ وہ یہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
’’ننھی کیا کروں؟‘‘ زیبا نے پریشانی سے پوچھا۔
’’فوراً جائو آگے بھی اچھے کی امید رکھو۔‘‘
’’یہ شخص مجھے پتھر مار مار کر لہولہان کرتا رہے گا۔‘‘
’’کچھ بھی ہو تم اچھائی کی امید اللہ سے رکھو، اب جائو سامان میں پہنچا دوں گی۔‘‘ ننھی نے اسے گلے سے لگا کر دھیرے سے کہا تو وہ رو دی۔
’’ننھی میرا دل نہیں مان رہا۔‘‘
’’پلیز اب جائو صفدر بھائی خود لینے آئے ہیں ناراض ہوں گے۔‘‘
’’وہ صرف اپنی امی کی وجہ سے آئے ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی سہی۔ وہ تمہارے لیے سہارا ثابت ہوں گی۔ اب تم اللہ پر بھروسہ کرکے جائو۔‘‘ ننھی نے اسے ہینڈ بیگ، میڈیسن وغیرہ دیتے ہوئے سمجھایا وہ دل کڑا کرکے کمرے سے نکلی وہ بے دردی سے سگریٹ پھونک رہا تھا اسے دیکھ کر تلخی سے بولا۔
’’اگر نخرے میں ہو تو بیٹھی رہو، سمجھا لوں گا میں امی کو۔‘‘
’’صفدر بھائی زیبا کی میڈیسن نہیں مل رہی تھیں۔‘‘ ننھی نے لقمہ دیا۔
’’پہلے یہ بتا دیں کہ دھکے دے کر کب نکالیں گے؟‘‘
’’جلد بہت جلد۔‘‘
’’تو پھر پڑا رہنے دیں مجھے یہیں۔‘‘
’’مرضی ہے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر لمحہ بھی نہیں رکا۔ تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ ننھی پیچھے دوڑی۔ مگر وہ رکا نہیں۔
’’اوہ زیبا نہیں کہنا تھا ایسا کچھ۔‘‘
’’ننھی جانے دو مجھے نہیں جانا بس۔‘‘ زیبا غصے سے کہہ کر واپس کمرے میں گھس گئی۔
وہ اس قدر بھنایا ہوا تھا کہ جہاں آرا بیگم سمیت شرمین نے بھی حیرت سے اسے دیکھا وہ کچھ نارمل بھی ہوا لیکن پھر بھی چہرہ غماز تھا دلی کیفیت کا۔
’’پھر اکیلے چلے آئے؟‘‘ جہاں آرا بیگم پھٹ پڑیں۔
’’اس کے پائوں پڑ جاتا۔‘‘ وہ پانی کا گلاس بھر کر غٹاغٹ پی گیا۔
’’تمہارا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ جہاں آرا بیگم کو حد درجہ غصہ آگیا۔
’’آنٹی پلیز آپ کی طبیعت خراب ہے غصہ نہ کریں۔‘‘ شرمین نے جلدی سے مداخلت کی۔
’’سوری شرمین بہن۔‘‘ صفدر شرمندگی سے کہہ کر بیٹھ گیا۔
’’صفدر مجھے تمہاری نافرمانی کی توقع نہیں تھی۔‘‘ جہاں آرا یہ کہہ کر رخ موڑ کر لیٹ گئیں۔
’’امی وہ نہیں آئی آپ جا کر لے آئیے گا۔‘‘ صفدر نے نرمی سے کہا۔
’’بھابی کیوں ناراض ہیں، مسئلہ کیا ہے؟‘‘ شرمین نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں وہ یہاں رہنا نہیں چاہتی اور میں رکھنا نہیں چاہتا۔‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ شرمین نے حیرت سے پوچھا۔
’’چھوڑیں لمبی داستان ہے آپ سنائیں کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’صفدر بھائی میں عارض کے لیے فکر مند ہوں۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
’’رابطہ نہیں اور میرے حالات کچھ بدل رہے ہیں میں عارض سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’تو ابھی بات کرلیتے ہیں۔‘‘ وہ بات کرنے کی غرض سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ کیجیے میرا پیغام دے دیجیے گا۔‘‘ وہ بولی۔
’’میں بات کرکے آتا ہوں آپ بیٹھیں۔‘‘ وہ علیحدگی میں بات کرنے کی غرض سے باہر چلا گیا تو جہاں آرا بیگم بولیں۔
’’شرمین میں کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں۔‘‘
’’ارے نہیں… نہیں میں آفس میں لنچ کرکے آئی ہوں۔‘‘
’’بہو کو لاتا نہیں میں بیمار رہنے لگی ہوں۔‘‘ وہ بولیں۔
’’آپ خود چل کر بات کریں۔‘‘
’’اب ایسا ہی کروں گی ویسے میں زیبا کی امی کو تاکید کر آئی تھی کہ اسے لے آئو۔‘‘
’’چلیں کوئی بات نہیں آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں، آجائیں گی۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
’’صفدر کی مرضی نہیں ہے میں جانتی ہوں۔‘‘
’’وہ بھلا کیوں ایسا چاہیں گے۔‘‘
’’پتا نہیں اب دیکھو زیبا امید سے ہے اسے اپنے گھر میں ہونا چاہیے مگر یہ سنتا ہی نہیں۔‘‘
’’واہ… ماشاء اللہ پھر تو بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔‘‘ شرمین نے خوشی سے کہا کمرے میں داخل ہوتے صفدر نے سن کر پوچھا۔
’’کس بات کی مبارک باد۔‘‘
’’صفدر بھائی، ابا حضور بننے کی۔‘‘ شرمین نے شرارت سے کہا۔
’’اوہ… اچھا امی سے صبر نہیں ہوا۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوگیا۔
’’اس میں صبر کی کیا بات ہے؟‘‘ امی چڑ گئیں۔
’’خیر شرمین بہن، وہ عارض نے فون تو اٹینڈ کیا ہے مگر وہ مصروف تھا۔ رات میں تفصیل سے بات ہوگی۔‘‘ وہ کچھ بات نبھانے کے سے انداز میں بولا۔
’’ایسی بھی کیا مصروفیت؟‘‘ اس نے گلہ کیا۔
’’وہ خود بات کرے گا تم سے، میں نے سمجھایا ہے۔‘‘
’’عارض ایسا کیوں کررہا ہے؟‘‘
’’صفدر کے دوست سے ایسی توقع ہی رکھو۔‘‘ امی نے ٹکڑا لگایا۔
’’امی کوئی پرابلم ہوگی اسے آپ نیگیٹیو کیوں سوچنے لگی ہیں؟‘‘
’’ٹھیک ہے مجھے اجازت دیں۔‘‘ شرمین نے شکست خوردہ لہجے میں کہا۔
’’وہ بات کرے تو سب پوچھ لیجیے گا۔‘‘ صفدر نے دھیرے سے کہا وہ کچھ نہ سمجھی۔
’’اگر نہ کیا تو۔‘‘
’’تو آپ کرلیجیے گا بلکہ ضرور کیجیے گا۔‘‘
’’کوئی مسئلہ لگ رہا ہے۔‘‘ وہ کچھ خدشات کے پیش نظر بولی۔
’’کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں خود الجھ گیا ہوں۔‘‘ صفدر نے بہت آہستگی سے کہا۔
’’مجھے محسوس ہورہا ہے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اللہ کارساز ہے کیوں مایوس ہوتی ہیں؟‘‘ صفدر نے اٹھ کر کہا۔
’’خیر، آپ آنٹی کی خواہش کا خیال کریں۔‘‘
’’میں اسی خیال کی وجہ سے اس کے پاس گیا تھا۔‘‘
’’آپ آنٹی کو لے جائیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے آپ اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘ صفدر نے باہر چلتے ہوئے کہا۔ شرمین نے جہاں آرا بیگم کا ہاتھ تھام کر چوما خدا حافظ کہا کر باہر نکل آئی۔
ؤ…//…ؤ
مسلسل چار پانچ بیل جانے کے بعد عارض نے فون ریسیو کیا۔
’’یار حد کردی تم نے مجھے کتنے بہانے بنا کر شرمین بہن کو بھیجنا پڑا کچھ احساس بھی ہے تم کو۔‘‘ صفدر فون ریسیو کرتے ہی اس پر برس پڑا۔
’’سوری۔‘‘
’’سوری، فار وہاٹ ایک معصوم لڑکی سے جھوٹ بولنے پر۔‘‘ صفدر مزید تائو کھا گیا۔
’’جھوٹ نہیں مجبوری اور مصلحت۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’کیسی مجبوری اور مصلحت؟ اب مجھے تفصیل سے بتائو بات کیا ہے؟‘‘ صفدر نے پوچھا۔
’’بتایا تو ہے کہانی ختم ہوگئی بس۔‘‘
’’کہانی، مطلب ایک لڑکی سے عہد و پیمان باندھ کر ملک سے باہر جائو اور کہانی ختم کردو اتنا آسان دستور بنایا ہے تم نے۔‘‘
’’میں نے کچھ نہیں بنایا میں اس پر مسلط تھا وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی سو میں نے فیصلہ کرلیا کہ کہانی ختم کردی جائے۔‘‘ عارض نے آہستہ آہستہ بات کی۔
’’عارض یہ کیسا بہتان ہے… اس پر یہ ظلم کیوں کر رہے ہو؟‘‘
’’کیسا بہتان، یہ سچ ہے اسے کسی اور سے محبت ہے۔‘‘
’’یہ غلط ہے تم اس سے بات کرو مجھ میں تو ہمت ہی نہیں ہے۔‘‘
’’صفدر پلیز میں نے کہا ہے ناں کہ اسے میرا پیغام دے دو۔‘‘
’’نہیں پلیز آج رات وہ فون کا انتظار کرے گی اس سے بات کرنا اور پلیز اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرو اسے یہ صدمہ نہ دو تم نے محبت کی تھی فلرٹ نہیں۔‘‘ صفدر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’میں نے محبت کی ہے یہ محبت ہی ہے کہ اسے کسی اور سے محبت کے لیے آزاد کردیا ہے۔‘‘ عارض نے ایک طویل سانس بھرنے کے بعد بات مکمل کی۔
’’تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’میں اس سے بات کرلوں گا، خود کہہ دوں گا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ صفدر نے دکھ سے پوچھا۔
’’میں کہہ دوں گا جو کہنا ہوگا۔‘‘ عارض نے کہا۔
’’عارض تم ٹھیک نہیں کررہے، ایسا کیا کہو گے؟‘‘
’’جرح نہ کرو بس میں خود اسے سمجھا دوں گا وہ جس سے محبت کرے اس کے ساتھ خوش رہے۔‘‘
’’تمہاری محبت یہی تھی کہ بیچ سفر میں دھوکہ دو تمہاری عادت نہیں گئی میں شرمندہ ہوں کہ شرمین سے تمہاری وکالت کی۔‘‘ صفدر کو غصہ آگیا۔
’’دیکھو، وہ خود یہ تسلیم کرے گی کہ میرا فیصلہ درست ہے۔‘‘
’’مگر تمہاری محبت تو بھاڑ میں گئی جس کا نام لے… لے کر مرتے تھے اسے اس طرح دھوکہ دو یہ کہاں کی انسانیت ہے؟‘‘ صفدر نے ایک اور کوشش کی اس کا ضمیر جگانے کے لیے مگر وہ آسانی سے بات ٹال گیا۔
’’تمہارے مسئلے کا کیا ہوا؟‘‘ عارض نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’وہیں کا وہیں ہے زندگی جہنم بن گئی ہے مگر میرے اور تمہارے مسئلے میں فرق ہے تم اس پر غور کرو اس سے بات کرنے سے پہلے سوچو اور پھر بات کرو وہ تم سے محبت کرتی ہے۔‘‘
’’میں بات کرلوں گا تم اسی کی بات کرتے رہنا میرے دل کی کیفیت نہ سمجھنا۔‘‘ عارض نے زچ ہو کر کہا۔
’’میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا کہانی ایسے کیسے ختم ہوسکتی ہے۔‘‘ صفدر نے بھی کچھ تلخی سے کہا۔
’’بس ہوگئی میں ہی ایسا تھا اور ایسا ہوں۔‘‘ وہ اڑ گیا۔
’’افسوس، تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
’’یار، میں نے غلط فیصلہ نہیں کیا وہ کسی اور کی محبت ہے، میں کیسے یقین دلائو، میں نے اسے ٹوٹ کر چاہا ہے لیکن پھر میرے اندر سب کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا۔‘‘ وہ کربناک سے لہجے میں کہہ گیا۔
’’تو… تم نے کہانی ختم کردی۔‘‘
’’ایسا ہی ہے۔‘‘
’’اوکے، اللہ حافظ۔‘‘
’’ناراض۔‘‘ اس نے کہا۔
’’نہیں ناراض ہونے نہ ہونے سے کیا حاصل؟‘‘ صفدر کا لہجہ شکایتی تھا۔
’’میں آج رات بات کرلوں گا۔‘‘
’’مرضی ہے۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘
اس نے بجھے دل کے ساتھ فون بند کیا اور اپنے سامنے رکھے کافی کے یخ بستہ مگ کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے گرما گرم بھاپ اڑا رہا تھا مگر اب اس کے دل کے اندر دھواں اڑا رہا تھا اور باہر ایک یخ بستگی سی تھی صفدر کا ایک ایک لفظ نشتر زنی کررہا تھا وہ صفدر کو کیسے بتاتا کہ شرمین سے دوری کی کتنی بڑی اور کڑی سزا بھگت رہا تھا۔ اس نے دور ہوکر کس حوصلے سے اسے جدا کیا ہے وہ اعتراف محبت نہ کرسکی۔ محض اس لیے کہ وہ کسی اور کی محبت ہے یہ بات وہ پہلے کہہ دیتی تو وہ محبت ہی نہ کرتا۔‘‘ اس نے ٹھنڈا مگ وہیں چھوڑا ڈور بیل سن کر دروازہ کھولا منیجر صاحب بریف کیس سمیت اندر آگئے۔
’’جی منیجر صاحب۔‘‘
’’سر، آغا صاحب نے پراجیکٹ فائل کے بارے میں دریافت کیا ہے اور آپ کو فون کرنے کی تاکید کی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے اور۔‘‘ وہ اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
’’اور کچھ کاغذات پر آپ کے دستخط چاہیے۔ آپ کے کھانے پینے کے بارے میں بہت فکر مند تھے سر۔‘‘ منیجر صاحب نے بات مکمل کی بریف کیس سے کاغذات نکالے تو وہ بے زاری سے بولا۔
’’پلیز، ٹیبل پر رکھ دیں میں کردوں گا۔‘‘ منیجر صاحب نے خفت سے کاغذات رکھے اور بریف کیس بند کرکے چلے گئے تو وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند کر بیٹھ گیا۔
ؤ…//…ؤ
منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر واش روم سے باہر آئی، بالوں میں برش کیا اور زینت آپا کے کمرے میں آئی وہ بستر پر دراز تھیں اس نے سلام کیا اسی اثنا میں بوبی کمرے میں داخل ہوا اور بولتا چلا گیا۔
’’کہاں تھیں کب سے چائے کے لیے انتظار کررہے ہیں؟‘‘
’’وہ دراصل میں کہیں چلی گئی تھی۔‘‘ شرمین نے کچھ غیر معمولی سنجیدگی سے جواب دیا زینت آپا نے واضح طور پر محسوس کیا۔
’’کہاں… یہ آپ کی کہاں کیا مصروفیت تھی؟‘‘ بوبی نے لا ابالی پن سے پوچھا۔
’’بوبی یہ کیا سوال ہے؟‘‘ زینت نے شرمین کی خاموش سی پریشانی محسوس کرتے ہوئے بوبی کو تنبیہہ کی۔
’’ہاں کیوں نہ کروں سوال، کب سے چائے دم پر رکھی ہے بلکہ اب تو دم بھی نکل گیا ہوگا۔‘‘ بوبی نے مزید تیزی سے زبان چلائی۔
’’میں بابا سے کہتی ہوں اور بنائیں۔‘‘ شرمین نے اٹھتے ہوئے کہا تو زینت نے اس کا ہاتھ دبا کر منع کردیا۔
’’بابا تو اپنے چک گئے ہیں اور چائے بوبی ہی پلائے گا۔‘‘ زینت نے کہا۔
’’چک… مطلب۔‘‘
’’بابا کی بہن فوت ہوگئی ہے اطلاع آئی تو میں نے فوراً بھیج دیا۔‘‘ زینت آپا نے بتایا۔
’’اوہ اور پھر کام آپ نے کیے ہوں گے۔‘‘ شرمین نے پوچھا۔
’’نہیں نصیبن کھانا تو خانساماں ہی بناتا ہے۔‘‘
’’آپ کو تو فرصت نہیں ملتی کہ اپنے ہاتھ کا کھانا کھلائو۔‘‘ بوبی نے شرمین کو کہا۔
’’ارے، بے چاری کو کام سے فرصت نہیں ملتی، اب جائو چائے لے کر آئو مغرب کی اذان ہونے والی ہے۔‘‘ زینت نے بوبی کو ڈپٹتے ہوئے کہا۔ وہ ہنستا ہوا چلا گیا تو زینت نے شرمین سے پوچھا۔
’’شرمین کوئی خاص بات ہے۔‘‘
’’نہیں، سب روٹین کی باتیں ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’لیکن فکر مند اور پریشان لگ رہی ہو۔‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘
’’بتائو۔‘‘
’’آپا، عارض کی طرف سے کچھ فکر مند ہوں۔‘‘
’’کیسی فکر؟‘‘ زینت بھی پریشان ہوگئیں۔
’’آج رات بات ہوگی۔‘‘
’’بات ہوگی… مطلب…!‘‘ انہیں حیرت سی ہوئی۔
’’جی جب رشتوں میں بناوٹ آجائے تو ان کے لیے فکرمند ہی ہونا چاہیے۔ عارض کا بات نہ کرنا، مصروف رہنا اور یہ کہنا کہ آج وہ بات کرے گا۔ تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے کوئی خوش گوار بات نہیں کرنی۔‘‘
’’تمہیں کس نے کہا میرا مطلب ہے کیا وہ تم سے بات ہی نہیں کرتا۔‘‘ زینت نے بہت زیادہ تعجب سے پوچھا۔
’’جی بہت دن سے یہ تو صفدر بھائی نے بتایا ہے۔‘‘
’’تو، تم اس کے والد سے بات کرو بلکہ میں کرتی ہوں کیا چکر ہے؟ کیا کوئی اور مصروفیت تو شروع نہیں کرلی۔‘‘ زینت آپا کا جس طرف اشارہ تھا شرمین سمجھ گئی۔
’’تو کرسکتا ہے میں کون سا رکاوٹ بنوں گی۔‘‘
’’میں نے کہا ہے اس کے بابا سے بات کرو۔‘‘
’’وہ اپنی مرضی کا مالک ہے، مجھے پروا نہیں۔‘‘
’’پروا کیوں نہیں پروا ہونی چاہیے۔‘‘
’’چھوڑیں آپا میں نے محبت کی بے حرمتی پر الفاظ ضائع نہیں کرنے۔‘‘
’’یہ لیں جناب چائے حاضر ہے ود پکوڑاز۔‘‘ بوبی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا تو شرمین نے کہا۔
’’گھامڑ آپا کے لیے تو کچھ اور بنوالیتے، یہ تلی ہوئی چیزیں نہیں کھاتیں۔‘‘
’’او… نہیں میں نے کھانا لیٹ کھایا ہے، بس چائے پیئوں گی۔‘‘ زینت آپا نے انکار کردیا۔
’’بابا کی واپسی کب ہوگی؟‘‘ بوبی نے پوچھا۔
’’نہیں معلوم بیوہ بہن تھی تدفین کے بعد بھی انہیں ہی دیکھنا ہوگا۔‘‘ زینت نے جواب دیا۔
’’چلیں آجائیں گے۔‘‘ شرمین نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔
’’ویسے بھی رات ہم باہر ڈنر کریں گے ماما بھی چلیں گی۔‘‘ بوبی نے نئی پخ لگائی۔ تو شرمین نے فوراً سنجیدگی سے معذرت کرلی۔
’’میں معذرت چاہتی ہوں روز روز باہر کے کھانے میں پسند نہیں کرتی۔‘‘
’’میں تو کرتا ہوں۔‘‘
’’تو کرو، اپنے فرینڈز کے ساتھ۔‘‘ شرمین نے کہا۔
’’میرے کون سے فرینڈ ہیں میرا سب کچھ تو تم ہو۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’بوبی شرمین ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ویسے بھی وہ تھکی ہوئی ہے۔ خانساماں سے کہہ کر جو چاہو، بنوالو۔‘‘
’’باہر صرف کھانا نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہاہو کی میرے مزاج میں گنجائش نہیں سوری۔‘‘ شرمین خالی کپ رکھ کے وہاں سے اٹھ گئی۔ وہ آوازیں دیتا رہا مگر وہ پلٹی نہیں۔
ؤ…//…ؤ
حاجرہ بیگم پانی لے کر آئیں تو اسے اپنے ہی خیالوں میں گم دیکھ کر بولیں۔
’’دال چاول ٹھنڈے ہورہے ہیں کھاتی کیوں نہیں ہو؟‘‘
’’اماں دل نہیں چاہ رہا۔‘‘
’’دل چاہے یا نہ چاہے تمہیں کھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ حاجرہ قریب بیٹھتے ہوئے بولیں۔
’’تو کیسے کھائوں؟‘‘ وہ بے زار تھی۔
’’تمہیں دلی سکون حاصل نہیں ہے کتنی ناشکری ہو اچھا گھر مل گیا ساس بے قرار شوہر لینے آیا اور تمہارے مزاج ٹھکانے پر نہیں۔‘‘
’’اماں مجھے سکون سے یہ رات یہاں گزارنے دو۔‘‘ وہ برا مان گئی۔
’’زیبا تمہارا دماغ گھاس چرنے چلا گیا ہے ننھی کو تمہیں سمجھانا چاہیے کیوں نہیں بھیجا تمہیں صفدر کے ساتھ۔‘‘
’’اماں کیوں ننھی کو الزام دیتی ہو؟ اس نے تو بہت کہا تھا مگر میں نہیں گئی۔‘‘
’’حد ہوگئی جہاں آرا بیگم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ تمہیں چھور آئوں گی۔‘‘
’’مجھے نہیں جانا۔‘‘ وہ برائے نام چاولوں سے بھوک مٹانے لگی۔
’’ان کا بچہ ہے، وقت آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، اچھی خوراک تمہیں چاہیے آرام چاہیے۔ اپنے گھر جا کر رہو، پھر دیکھنا وہ کس قدر تمہارا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ حاجرہ بیگم نے سمجھایا۔
’’ہنہہ خیال آپ کو کچھ نہیں اندازہ۔‘‘ وہ طنزیہ ہنسی۔
’’کوئی شکایت ہے تو میں بات کرتی ہوں۔‘‘
’’اماں ابھی وہاں نہیں جاسکتی وقت آیا تو ضرور سوچوں گی۔‘‘
’’دیکھو بیٹا تمہارے ابا مستقل بستر کے ہوگئے ہیں میں بوڑھی اور بیمار کمرے کے کرائے پر گزارہ مشکل سے چل رہا ہے اور تمہیں اندازہ ہی نہیں آگے کے اخراجات کا۔‘‘
’’آپ غم نہ کریں میں زیور بیچ دوں گی۔ بعد میں نوکری کرلوں گی۔‘‘
’’یہ حل نہیں ہے ان میں ایسے کون سے کیڑے نکل آئے؟‘‘
’’بس مجھے نہیں جانا۔‘‘ وہ جھلا گئی۔
’’محلے والے باتیں کرتے ہیں باپ دادا کا نام اچھالنا ہے تم نے مگر میں تمہیں چھوڑ کر آئوں گی میں صفدر سے معافی مانگوں گی۔‘‘ حاجرہ نے کافی سختی سے کہا۔
’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘
’’میری بچی، وہی تمہارا اصل گھر ہے، اصل ٹھکانہ ہے۔‘‘
’’اماں خدا کے لیے۔‘‘ وہ چڑ گئی۔
’’تم نے کتنا اچھا موقع گنوا دیا۔ میں تو دعائیں مانگ رہی تھی کہ وہ لوگ تمہیں لے جائیں اب خلع کا لفظ منہ سے نہ نکالنا۔‘‘ وہ سمجھا کر برتن اٹھا لے گئیں اور وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ آنے والے حالات کے بارے میں تو وہ سوچ سکتا ہے جو گزرے حالات کی پرچھائیوں سے نکل سکے اس کا تو تلخ ماضی اسے رات دن کند چھریوں سے ذبح کرتا رہتا تھا اس کی سزا ہی تو اتنی طویل ہوگئی تھی اسی کی اذیت میں مبتلا تھی۔ وہ اماں کو کیسے بتائے کہ خلع اس کی زبان پر کیوں مطالبہ بنا؟ صفدر کو جو حقیقت معلوم ہے اس کی وجہ سے وہ تو مجھے دنیا سے نکالنے پر آمادہ ہے اسے میرا گناہ قابل معافی نہیں لگتا۔ یہ صرف میری اولاد ہے صفدر کی نہیں صفدر جیسا معزز اپنی اولاد کے لیے مجھ جیسی ماں قبول نہیں کرسکتا یہاں سے تم بھیجنا چاہتی ہو، وہاں سے صفدر کی امی بلانا چاہتی ہیں مگر میرا میرے بچے کا جس سے رشتہ ہے وہ تو ہمارے وجود سے بھی انکاری ہے۔ وہ تو ہمیں دیکھ کر راضی نہیں میں وہاں کس کے لیے جائوں، چلی بھی جائوں تو بے عزتی کی سانسیں لے کر کتنے عرصہ وہاں رہ پائوں گی بچے کی پیدائش تک یا پھر اس سے بھی پہلے۔‘‘ اس نے بے دم سی ہو کر تکیے پر سر رکھا اور بے بسی سے آنکھیں موند لیں۔
ؤ…//…ؤ
رائٹنگ ٹیبل پر کہنیوں پر چہرہ ٹکائے وہ منتظر تھی۔
حالانکہ دل کم فہم نے اشارہ دے دیا تھا کہ اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے اس دل کی مگر خام خیال کا یہ عالم کہ یہ نہیں جاتی۔
کون ہے معتبر زمانے میں
کس کے وعدے پر اعتماد کریں
بھول جانے کی عمر بیت گئی
آئو اک دوسرے کو یاد کریں
نفرت کی دھوپ میں برسات سے پہلے ہر کسی کو ہمدرد سمجھ لیتے ہیں ہم بھی کتنے سادہ تھے محبتوں کے تجربات سے پہلے
یہ بارش
یہ ہَوا
یہ دھنک
یہ موسم… کس کس سے محبت تھی تری ذات سے پہلے…
’’اب یہ عالم ہے کہ ترا انتظار نہیں، ترے فون کا انتظار ہے اس حادثے کا انتظار ہے جو خوشی کا ہوگا یا غم کا نوحہ… کون جانے تم کیا کہو گے؟ مجھے محبت کی سیج ملتی ہے یا نا آسودہ محبت کی سولی۔‘‘
اس نے طویل سانس بھر کر اپنے سیل فون کو دیکھا۔ وہ خاموش تھا بالکل اس کے دل کی دھڑکنوں کی طرح وال کلاک کی سوئیوں کی ریس کا مقابلہ جاری تھا ان کی زندگی سے بھرپور آواز کی جانب متوجہ ہوئی تو بڑی دیر ارد گرد کی خبر نہ رہی… اذیت ناک تھکن سے کہنیاں درد کرنے لگیں۔ گردن اکڑ گئی تو اٹھ کر بیڈ پر دراز ہوگئی۔ پیروں سے کمر تک چادر اوڑھ کر آنکھیں موند لیں کان فون کی طرف ڈیوٹی پر مامور کردیے۔ مگر ڈیوٹی اس قدر سخت تھی کہ کان بھی تھک کر سو گئے اور اس نے چت لیٹے ہوئے غیر معمولی تھکن محسوس کی تو جسم کی کربناک گزارش پر غور کیا۔ کمر تختہ بن گئی تھی رحم کھا کر دائیں کروٹ لے لی۔ پھر کچھ وقت مزید گزر گیا تو بائیں طرف رخ موڑ لیا۔ اس کے بعد شاید وہ تھک کر بوجھل آنکھوں کو سلانے لگی۔ ایسا کرنے سے پہلے دل چاہا کہ خود عارض کا نمبر ملا لے۔
مگر محبت کی خود دار فطرت نے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس نے سوچ کر فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور ذہن کو دل کو آزاد چھوڑ دیا۔ خود کو راضی کرلیا کہ اب جو ہو سو ہو۔ کچھ بھی پیغام آئے کوئی فکر کی بات نہیں… یہ سوچنے کی دیر تھی کہ گہری نیند کی وادیوں میں پہنچ گئی اسے علم ہی نہ ہوسکا کہ دوسری جانب طویل سخت جنگ لڑنے کے بعد کسی نے فون کرنے کی جرأت نہ پا کر بمشکل تمام ایفائے عہد کی پہلی منزل طے کی اور اپنا پیغام لفظوں کی تنہا لڑی میں پرو کر بھیج دیا۔ پلک جھپکتے میں ہَوا کے دوش پر وہ فون کے سینے میں دھڑکا اور خاموش ہوگیا۔ وہ اس کی آواز نہ سن سکی۔ کیونکہ غفلت کی نیند سو چکی تھی جس میں انتظار کی تھکن اور مایوسی کی گہری غفلت موجود تھی۔
شرمین نے صفدر کے سامنے موبائل رکھ دیا‘ صفدر نے اسکرین پر نظریں جمائیں تو بہت مختصر پیغام درج تھا۔
میری خاموشی مسلسل کو
ایک مسلسل گلہ سمجھ لیجیے
تمہیں‘ تمہاری محبت کے لیے آزاد کررہا ہوں
دعاگو
عارض
صفدر نے غور سے مسیج پڑھنے کے بعد شرمین کو دیکھا جس کی آنکھوں کے کونوں میں شفاف پانی جمع ہوکر چمک رہا تھا مگر مایوسی اور کم ہمتی کا دور دور تک شائبہ نہیں تھا۔ وہ ہمت سے پیپر ویٹ کو دائیں ہاتھ سے میز کی سطح پر گھما رہی تھی۔
’’میں بہت شرمندہ ہوں شرمین بہن! اس مختصر میسج سے کچھ واضح نہیں ہورہا‘ میں اس سے بات کروں گا‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’پلیز صفدر بھائی! آپ میرے حوالے سے اب کبھی بھی‘ کوئی بھی بات نہیں کریں گے۔‘‘
’’صفدر بھائی! Trust is like a paper ! Once it’s Crumpled it can’t be perfect again‘‘
’’آپ نے ٹھیک کہا۔‘‘ صفدر تو خود اسی قسم کی اذیت بھری زندگی کا سامنا کررہا تھا‘ اسے کیا کہتا۔
’’آپ قطعاً کچھ نہ سوچیں‘ مجھے حالات سے لڑنا آتا ہے‘ محبت کی سوداگری لوگ ایسے ہی کرتے ہیں۔ دنیا میں اگر کوئی لفظ سب سے زیادہ بے عزت ہورہا ہے تو وہ محبت ہے‘ میں اس لفظ پر غور نہیں کرتی۔‘‘
’’تاہم پھر بھی اس کی ضرورت اور طلب تو رہتی ہے شرمین بہن!‘‘
’’طلب بھی بدل جائے گی‘ اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے بولی۔
’’بہرکیف! آپ رنجیدہ نہ ہوں‘ میں حالات ٹھیک کرنے کے لیے کوشش کروں گا۔‘‘
’’مگر آپ عارض سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر میں اپنے ریفرنس تو بات کرسکتا ہوں۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’اب اجازت دیں‘ آپ کا فون سن کر سیدھا یہاں آگیا‘ آفس جانا بھی ضروری ہے۔‘‘
’’جی‘ شکریہ صفدر بھائی! بس آپ کو ہی پکارنا اچھا لگا۔‘‘
’’ہمیشہ پکار سکتی ہیں‘ میں بہت شرمسار ہوں۔‘‘
’’کس لیے؟ آپ ایسا بالکل نہیں کہیں۔‘‘
’’اجازت…‘‘
’’جی‘ ضرور۔‘‘
’’اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘
’’وہ تو رکھنا ہی ہے۔‘‘
صفدر اٹھ کر چلا گیا تو ضبط کے سمندر میں طغیانی کا عمل شروع ہوگیا۔ دو‘ موٹے موٹے آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر رخساروں پر پھیل گئے۔
ہاں تھا ایک فرض سا شخص
وہ بھی مجھ سے قضا ہوگیا
بنا کسی جرم کے‘ بنا کسی خطا کے‘ کتنی آسانی سے زندگی میں آیا اور کتنی آسانی سے رخصت ہوگیا۔ یہ تھی اس کی طوفانی محبت‘ نفرت سی ہونے لگی ہے اس کم بخت محبت سے‘ کیسے قطرہ قطرہ بوندوں کی صورت نگاہوں سے ٹپکتی ہے اور تڑپنے کو چھوڑ دیتی ہے۔
’’شرمین! اب تو اس کو چھوڑ دے‘ فریب دینا سیکھ جا۔ محبت کو دوسروں کا خسارہ بنادے‘ پی جا یہ درد بھرے آنسو۔ اس نارسائی کی آگ میں جھلسنے سے کیا حاصل؟ وہ بھنورا تھا‘ اس کی فطرت ہرجائی ہے۔ اسے بھول جا‘ نکال دے دل سے۔ کچھ وقت دے اے دل مضطرب! کہ میں اسے فراموش کردوں۔‘‘ وہ بند آنکھوں میں مضبوط منصوبے محفوظ کررہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور بوبی دروازہ کھول کر اندر آگیا۔ اس کی آنکھوں کی کہانی شاید اس نے پڑھ لی‘ جھک کر بولا۔
’’خوب صورت آنکھوں پر سارے جہاں کو وار دوں‘ کیوں نم ہیں یہ۔‘‘
’’پلیز بوبی! مجھے ڈسٹرب مت کرو۔‘‘ وہ جلدی سے فائلیں کھولنے لگی۔
’’ڈسٹرب تو آپ ہیں۔‘‘
’’نہیں‘ بیٹھو کافی منگوائوں۔‘‘ وہ ٹال گئی۔
’’نہیں‘ جوس پیتے ہیں مگر باہر جاکر۔‘‘
’’سوری! ضروری اسائنمنٹ ہیں‘ آج ہی انہیں کلیئر کرنا ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں گئیں آپ کی اسائنمنٹ‘ زندگی کی خوشیاں ضروری ہیں‘ چلیں اٹھیں۔‘‘ بوبی نے فائلیں ہاتھ سے پرے دھکیل کر کہا تو وہ چند منٹ اسے دیکھنے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔
ء…/…ء
بوبی نے دو تین گھنٹے سڑکوں پر گاڑی دوڑانے کے بعد گھر کا رخ کیا تو وہ بولی۔
’’بوبی! ابھی سے گھر‘ آفس میں ضروری کام کرنے والے ہیں۔‘‘
’’کام تو زندگی بھر چلتے رہیں گے‘ لائف میں کچھ اور بھی کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔‘‘ گیٹ سے اندر گاڑی لاک کرکے وہ بولا تو شرمین نے خاموشی سے اندر جانے میں عافیت سمجھی۔
’’شرمین! مسئلہ کیا ہے؟‘‘ وہ پیچھے بولتا ہوا آیا‘ وہ پلٹی چند لمحے اسے دیکھا اور پھر دھیرے سے کہا۔
’’بوبی! کبھی کبھی کچھ کہنے اور سننے کو دل نہیں چاہتا‘ میں اس فیز سے نکل کر بتائوں گی۔‘‘
’’کچھ تو ہے‘ مجھے بتائو۔‘‘ وہ بضد ہوگیا۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ آرام کروں گی تو ٹھیک ہوجائوں گی۔‘‘ وہ یہ کہہ کر آگے بڑھی تو وہ پھر سامنے آگیا۔
’’شرمین! میری طرف دیکھو‘ میں نے محسوس کیا ہے کہ تم اپ سیٹ ہو۔‘‘
’’فارگاڈ سیک! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ جھنجلا اٹھی مگر وہ مشتعل ہوکر آگے بڑھا اس کی کلائی تھام کر کھینچتا ہوا صوفے کے قریب لایا اور جھٹکے سے اسے بٹھا کر بولا۔
’’جب میں کہہ رہا ہوں کہ تم اپ سیٹ ہو تو ہو۔‘‘
’’بوبی! اگر ایسا ہے بھی تو تمہاری اس بحث سے مزید اپ سیٹ ہورہی ہوں۔‘‘ اس نے نرمی اختیار کی۔
’’بتائو گی نہیں۔‘‘
’’نہیں‘ بس مجھے ریسٹ کرنا ہے۔‘‘
’’اوکے‘ لیکن کھانا ہم نے ساتھ کھانا ہے۔‘‘
’’اوہ! اچھا یاد دلایا‘ بابا تو ہیں نہیں‘ کھانا میں دیکھتی ہوں۔‘‘
’’کچھ نہیں دیکھنا‘ کھانا تقریباً تیار ہے۔ خانساماں فش فرائی کررہا ہے۔‘‘ زینت اسی طرف آگئیں۔
’’واہ فرائی فش۔‘‘ بوبی خوش ہوکر چلاّیا۔
’’دونوں ہاتھ دھوکر آجائو۔‘‘
’’زینت آپا! آپ کیوں کام میں لگ جاتی ہیں؟‘‘ شرمین نے کہا۔
’’کہاں سارا کام تو خانساماں نے کیا۔‘‘
’’یہ بابا کچھ لمبی چھٹی پر نہیں چلے گئے۔‘‘ بوبی بولا۔
’’آجائیں گے‘ ہوگی کوئی وجہ ورنہ وہ غفلت نہیں برت سکتے۔‘‘ زینت نے کہا۔
’’میں چینج کرکے آتی ہوں۔‘‘ شرمین نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ بوبی نے زینت سے اس کے متعلق کہا۔
’’ماما! شرمین کے ساتھ کوئی مسئلہ ضرور ہے۔‘‘
’’کیسا مسئلہ؟‘‘
’’وہ اپ سیٹ ہے۔ اس کی آنکھیں تر تھیں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے‘ اس بے چاری کی زندگی میں ہے ہی کیا؟‘‘ زینت افسردہ سی ہوگئیں۔
’’ماما! اسی لیے تو میں چاہتا ہوں کہ شرمین کو سارے جہاں کی خوشیاں دے دوں۔‘‘
’’خوشیاں مقدر سے ملتی ہیں اور تم اس سے ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے وہ مزید پریشان ہوجائے۔‘‘
’’ماما! میں شرمین کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’میں پوچھوں گی کیا بات ہے؟‘‘
’’آپ آگئیں تو میں نے اس کی جان چھوڑ دی‘ ورنہ پوچھ کر رہتا۔‘‘ بوبی نے بڑے وثوق سے کہا تو زینت نے سمجھایا۔
’’بوبی! اسے زچ نہ کرنا‘ ورنہ وہ یہاں سے چلی جائے گی‘ بڑی مشکل سے میں نے اسے سنبھالا ہے وہ جس طرح میرا خیال رکھتی ہے شاید ہی تم بھی رکھ سکو۔ مجھے اس کی موجودگی سب سے زیادہ پیاری ہے۔‘‘ زینت نے دھیرے دھیرے بڑے رسان سے کہا تو بوبی کو بہت اچھا لگا۔
’’بس تم اسے تنگ نہ کیا کرو۔‘‘
’’ماما! میں اس سے محبت کرتا ہوں‘ عشق ہے وہ میرا۔‘‘ وہ جھوم کر بولا تو زینت نے تنبیہہ کی۔
’’بس چپ‘ کھانا لگوارہی ہوں‘ آجائو۔‘‘ زینت یہ کہہ کر چلی گئیں تو بوبی نے ان کی بات کا جواب بڑبڑاہٹ کے ذریعے دیا۔
’’ماما! آپ کیا جانو‘ شرمین کی محبت میری روح میں کیسے سمائی ہے؟ وہ میرے خون میں گردش کرتی ہے‘ میری پلکوں میں اتر کر میرے ساتھ سوتی ہے۔ میری کھلی آنکھوں سے نکل کر مجھے صبح بخیر کہتی ہے بس اسے یہ سب خود نہیں معلوم کہ وہ میری ذات کا حصہ ہے وہ اب تک عمروں کے فاصلوں میں میری محبت کو محصور کیے ہوئے ہے۔ شرمین! کاش… کاش شرمین… تم کبھی یقین کرسکو۔‘‘
ء…/…ء
جبکہ شرمین کی نمناک نگاہوں کے سامنے وہ انگوٹھی تھی جو عارض کے اور اس کے رشتے کی دلیل تھی‘ وہ اتار کے اس نے عارض کے فیصلے کو تسلیم کرلیا تھا۔ دل کڑا کرکے خود کو پھر سے محبت کے فریب سے الگ کرلیا تھا۔
’’شرمین! کتنی احمق ہو تم‘ اس رشتے پر بھروسہ کرتی ہو جو لوگوں کے کاروبار سے زیادہ اہم نہیں جسے زمانے میں لوگوں نے سب سے کمتر اور غیر یقینی رشتہ بنادیا ہے۔ صبیح احمد کتنی دور تمہیں محبت کے سہارے اپنے ساتھ گھسیٹتے رہے‘ تم انتظار کی سولی پر چڑھ کر ان کے ساتھ وابستہ رہیں پھر اپنے مادی نفع کی خاطر انہوں نے تمہیں انتظار کی سولی سے اتار دیا تب بھی انگوٹھی ایسی ہی کسی اندھی دراز میں قید کردی۔ صبیح احمد کی نام نہاد محبت‘ دولت کے ترازو میں تل گئی پھر تم نے عارض پر کیوں کر اعتبار کرلیا‘ کیوں اپنی تقدیر میں ایک اور محبت کی گردش لکھی؟ کیا کافی نہیں تھا صبیح احمد کی نارسائی کا دکھ۔ اب کس طرح عارض کی بے وفائی کا صدمہ برداشت کرو گی‘ ایسا صدمہ جس میں نہ تمہیں اپنا گناہ پتا ہے اور خطا کا علم ہے‘ کس قدر مختصر ہے تمہاری تحقیر کی کہانی‘ دو سطروں میں اس نے تمہیں نکال باہر کیا۔ تمہاری ذات کے پندار کو چکنا چُور کردیا۔ کچھ نہیں بچا تمہارے پاس‘ کچھ نہیں۔ ایک بار پھر تم نے دھوکہ کھا لیا… مگر بھول جانے کی عادت اپنائیں گے ہم‘ بھول جائیں گے عارض بالکل اپنی پہلی چاہت صبیح احمد کی طرح۔‘‘
ایک بار پھر دراز کی تاریکی میں انگوٹھی اتر گئی‘ وہ اٹھی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ کچھ حوصلہ اکٹھا کیا‘ بال بُرش کیے اور پوری ہمت کے ساتھ قدم اٹھائے‘ اسے بوبی کی نظروں کا سامنا کرنا تھا۔ اس کے سوالوں کی زد سے خودکو محفوظ رکھنا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ درد بتانے سے نہیں سہہ جانے سے کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پوری طرح خود کو طاقتور بنا چکی تھی۔ بوبی سے نظریں ملانے کا حوصلہ اکٹھا کرچکی تھی‘ اندر بے شک طوفان تھا‘ زلزلہ تھا‘ بھونچال تھا مگر باہر پُرسکون ‘ مسکراتا چہرہ تھا۔ آنکھوں میں کاجل کی لکیر تھی اور لبوں پر چمکیلا گلابی رنگ بہار دکھلارہا تھا۔
ء…/…ء
دو تین دستک دینے کے بعد دروازہ کھلا۔ زیبا‘ جہاں آراء کو دیکھ کر متحیر رہ گئی‘ سلام کیا اور دروازے سے ایک طرف ہوکر اندر آنے کا راستہ دیا‘ انہوں نے اس کی پیشانی چوم لی۔
’’آئیں بیٹھیں۔‘‘ اس نے صحن میں بچھے پلنگ کی طرف اشارہ کیا۔
’’ماں کہاں ہے تمہاری؟‘‘
’’جی‘ ابا کے ساتھ ہسپتال میں ہیں۔‘‘
’’خیریت؟‘‘ جہاں آرا فکر مند ہوگیئں۔
’’ابا کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے۔‘‘
’’تو… تم نے ہمیں بتایا تک نہیں اور کیا تمہارا شوہر اس قابل بھی نہیں۔‘‘ جہاں آرا کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی کہ انہیں اطلاع تک نہیں دی گئی۔
’’انہیں ہم سے کوئی نسبت نہیں ہے۔‘‘ زیبا کے لبوں سے نکلا۔
’’انہیں یا تمہیں؟ وہ لینے آیا اور تم نے انکار کردیا۔‘‘ وہ ہلکی سی سختی سے بولیں۔
’’بس آپ اسی پر اعتبار کریں جو صفدر کہتے ہیں۔‘‘
’’دیکھو بیٹا! اللہ نے ہمیں خوشی دی ہے اسے رنجشوں میں ضائع نہیں کرتے‘ اب سب شکوے شکایت بھول کر میرے ساتھ چلو۔‘‘ جہاں آرا نے بڑی محبت سے اسے سمجھایا۔
’’ابا ہسپتال میں ہیں‘ میں کیسے جاسکتی ہوں؟‘‘
’’تو صفدر بھی اس گھر کا بیٹا ہے وہ دیکھ بھال کرے گا‘ تم گھر چلو یہاں تنہا رہ کر کیا کرسکتی ہو؟ میری بچی! سب بھول جائو‘ صفدر کی میں خوب کھنچائی کرچکی ہوں۔‘‘
’’آپ کے لیے چائے بناتی ہوں۔‘‘ زیبا بولی۔
’’نہیں اس کی ضرورت نہیں‘ بس تیاری کرو‘ اپنی حالت دیکھو۔ کیسے ہلدی جیسی رنگت ہوگئی ہے۔‘‘
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’کہاں ٹھیک ہو؟ ان دنوں صحت کا اچھا ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘
’’بس یہ میرا مقدر ہے۔‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ گئی۔
’’اللہ خیر‘ کیا ہوا مقدر کو۔‘‘ جہاں آراء بیگم نے ایک دم ہی اسے بڑھ کر سینے سے لگایا۔
’’امی! فی الحال تو میری جان ابا میں پھنسی ہے‘ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ نہیں چاہتی تھی کہ بے کار میں اس موضوع پر ان سے بات کرے کیونکہ کوئی فائدہ نہیں تھا صفدر کا ذہن بدلنا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ بہتر تو یہی تھا کہ اس کا نام بھی نہ لیا جائے۔
’’زیبا! فون ملائو‘ صفدر سے میری بات کرائو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’وہ امی… بیلنس نہیں ہے۔‘‘ اس نے نظریں چرائیں۔
’’اوہ پھر…‘‘
’’میں چائے بناکر لاتی ہوں‘ آپ آرام سے بیٹھیں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’حاجرہ آئے گی گھر۔‘‘
’’پتا نہیں‘ ابا کی طبیعت کی وجہ سے ان کو تنہا نہیں چھوڑیں گی۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’میری بات مانو‘ میرے ساتھ چلو‘ صفدر کو ہسپتال بھیج دیں گے۔‘‘ جہاں آرا نے خیال ظاہر کیا۔
’’اور گھر میں کون رہے گا؟‘‘
’’ہاں‘ یہ بات بھی ہے پھر میں تمہارے پاس ہی ہوں۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے‘ میں چائے لاتی ہوں اور کھانا بھی بناتی ہوں۔‘‘ زیبا نے دھیرے سے کہا‘ ابھی اس نے دو قدم ہی اٹھائے تھے کہ دروازہ پوری قوت سے دہڑ دہڑا اٹھا ‘ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
’’اللہ خیر…‘‘ بے اختیار کہہ کر وہ تیز قدموں سے دروازے کی طرف بھاگی‘ درازہ بنا پوچھلے کھول دیا تو ہونق رہ گئی۔ وہ دروازے کے عین وسط میں سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ ایک دم ایک طرف ہوکے کھڑی ہوگئی‘ وہ جھٹکے سے اندر آتے ہوئے بولا۔
’’امی! یہاں آئی ہیں نا۔‘‘
’’جی‘ اندر ہیں صحن میں۔‘‘ اس نے مدہم لہجے میں بتایا۔
’’اوہ اچھا‘ ویسے ایک بات بتائو‘ میری امی پر کون سا جادو کررہی ہو؟‘‘ وہ خاصی طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ سلگ اٹھی۔
’’جو آپ پر نہیں کیا۔‘‘
’’وہ تو مجھ پر چل بھی نہیں سکتا۔‘‘ وہ طنزیہ مسکرایا۔
’’مجھے چلانا بھی نہیں بس میرا پیچھا چھوڑ دیں۔‘‘ وہ یہ کہہ کر آگے آگے چل دی‘ وہ دہک اٹھا۔ اس کا لہراتا بازو پکڑ کر سختی سے بولا۔
’’تم میرے رستے میں کہیں ہو ہی نہیں۔‘‘
’’پلیز چھوڑیں میری کلائی۔‘‘ وہ بھی سختی سے کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ وہ لمحہ بھر رکا اور پھر صحن کی طرف آگیا‘ جہاں آرا اسے دیکھ کر کھل اٹھیں۔
’’ارے صفدر! اچھا کیا تم آگئے‘ میں دعا کررہی تھی۔‘‘
’’آپ کو یہاں آنے کی اتنی جلدی تھی؟‘‘
’’اور کتنی دیر کرنی تھی؟‘‘ انہوں نے الٹا سوال کیا۔
’’امی! مجھے بتاکر تو آجاتیں‘ ضروری کاغذات لینے گھر گیا تو وہ لاک تھا۔‘‘ وہ دبے دبے غصے کے ساتھ بولا۔
’’تمہیں بتانے کا مطلب تھا کہ مجھے نہیں آنا تھا۔‘‘ جہاں آرا نے زیبا کو اشارے سے اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا۔
’’آپ کو بس ضد تھی۔‘‘
’’صفدر! زیبا ہمارے گھر کی بہو ہے‘ میں لینے آئی ہوں۔‘‘
’’آپ کا جو دل چاہے کریں‘ ان کا یہی پلان تھا۔‘‘ اس نے براہ راست زیبا کو گھورا۔
’’آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘ زیبا نے کہا۔
’’یہ کہانی انہیں سنائو۔‘‘ وہ حملہ آور ہوا۔
’’صفدر! میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اصل جھگڑا کیا ہے؟‘‘ جہاں آرا چلا اٹھیں۔
’’یہ ان سے پوچھیں میں جلدی میں ہوں‘ آفس پہنچنا ہے‘ بس آپ کی فکر تھی اسی لیے یہاں آیا۔‘‘
’’صفدر! زیبا کے والد ہسپتال میں ہیں‘ تم ہمیں گھر لے چلو اور خود ہسپتال جائو‘ پتا کرو۔‘‘ انہوں نے تحکم سے کہا تو وہ بھنا اٹھا۔
’’امی! مجھے آفس پہنچنا ہے۔‘‘
’’رہنے دیں امی!‘‘
’’نہیں‘ صفدر جو کہا ہے وہی کرو۔‘‘
’’امی! کیا کروں؟‘‘
’’ہمیں گھر چھوڑو اور ہسپتال جائو۔ زندگی کے سب کام چلتے رہتے ہیں۔‘‘
’’یہ آپ کا فیصلہ ہے یا آپ کی بہو بیگم کا؟‘‘ وہ لفظ چبا چبا کر بولا۔
’’ہم دونوں کا‘ اسے اپنے گھر میں ہونا چاہیے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ چلئے۔‘‘ اس نے ہتھیار پھینک دیئے۔
’’چلو‘ زیبا! ضروری سامان اٹھالو۔‘‘
’’تھوڑا سا وقت دیں۔‘‘ وہ حالت مجبوری میں اٹھ کر کمرے میں گئی تو وہ پیچھے ہی آگیا۔
’’داد دیتا ہوں‘ تمہاری ہوشیاری کی۔‘‘
’’صفدر! آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘
’’میں ٹھیک سمجھا ہوں‘ چلو مگر یاد رکھنا کانٹوں پر گھسیٹوں گا تمہیں۔‘‘
’’میں جانتی ہوں۔‘‘ وہ کپڑے سمیٹتے ہوئے بولی۔
’’ہونہہ…‘‘ وہ پھنکار کر چلا گیا۔
ء…/…ء
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی‘ اس نے آنکھیں موندے موندے کہہ دیا۔
’’آجائو۔‘‘ دروازہ کھلا اور زینت آپا اندر آگئیں‘ وہ ایک دم پیر سمیٹ کر اٹھ بیٹھی۔
’’آپ… مجھے بلالیا ہوتا۔‘‘
’’ایک ہی بات ہے‘ بس گھٹنے میں درد بڑھتا ہی جارہا ہے۔ تھوڑا بہت تو چلنا چاہیے۔‘‘ وہ بائیں گھٹنے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
’’تو ڈاکٹر سے ٹائم لے لیتے ہیں۔‘‘
’’ارے نہیں‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تو تھا کہ شوگر کی وجہ سے درد ہے۔‘‘
’’تو آپ شوگر پر کنٹرول کیا کریں۔‘‘
’’کرتی تو ہوں‘ پھر بھی بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔‘‘
’’بس خیال رکھا کریں۔‘‘
’’چھوڑو یہ بتائو تم ٹھیک ہو۔‘‘ انہوں نے محبت سے اس کی ویران آنکھوں میں دور تک جھانکا۔
’’میں… میں تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔‘‘ وہ اس اچانک کے سوال پر گڑبڑا گئی۔
’’نہیں… ٹھیک نہیں ہو‘ ہمیں غیر سمجھتی ہو۔‘‘ انہوں نے شکوہ کیا۔
’’ارے آپا! ہرگز نہیں‘ میرا تو آپ کے سوا کوئی نہیں۔‘‘
’’تو پھر اپنا غم‘ پریشانی شیئر کیوں نہیں کرتیں؟‘‘
’’آپا! ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’ایسا ہے‘ پہلے بوبی کے کہنے پر مجھے یقین نہیں تھا مگر اب تمہیں غور سے دیکھنے کے بعد یقین آگیا ہے۔‘‘ انہوں نے وثوق سے کہا۔
’’بوبی تو پگلا ہے۔‘‘
’’نہیں اب ایسا بھی نہیں کہ وہ تمہیں نہ سمجھے۔‘‘
’’ٹھیک کہتی ہیں آپ۔‘‘
’’بات کیا ہے؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں آپا! بس زندگی میں تغیر تو آتا رہتا ہے‘ خاص کر میری زندگی تو ہے ہی تلاطم خیز۔‘‘
’’یہ تو زندگی کا حسن ہے‘ ایک جگہ تو کھڑے رہنا کمال نہیں۔‘‘ زینت نے اس کی بات کو حوصلہ دیا۔
’’اس لیے میری زندگی پر زوال کے بادل چھائے رہتے ہیں۔‘‘
’’شرمین! بھروسہ رکھو‘ بتائو کیا بات ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ عارض نے مجھ سے معذرت کرلی ہے۔‘‘ اس نے دھماکہ خیز مواد کو بڑی نرمی سے ان کے سامنے انڈیلا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ چونکیں۔
’’مطلب یہ کہ اس نے مجھے آزاد کردیا ہے اپنی قسموں سے‘ اپنے وعدوں سے اور اپنے دعوئوں سے۔‘‘ وہ کرب سے مسکرائی تو شدید چونکنے کی باری اب ان کی تھی۔
’’عارض… عارض نے کیا کہا؟‘‘
’’آپا! اپنی انگوٹھی واپس لے لی ہے؟‘‘
’’کیوں… کیوں بھئی… کیا مسئلہ ہوگیاہے اسے اب؟‘‘ وہ ایک دم مشتعل ہوگئیں۔
’’نہیں معلوم۔‘‘
’’مگر یہ کوئی کھیل تماشا ہے‘ ایسا کیسے کرسکتا ہے وہ۔‘‘
’’کرسکتا تھا تو ایسا کر بھی لیا خیر آپ ٹینشن نہ لیں۔‘‘
’’شرمین! صرف ٹینشن… مجھے تو افسوس ہورہا ہے کہ میں نے خود اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی؟‘‘
’’اس سے کیا ہوجاتا؟ چہرے تو انسان دیکھ لیتا ہے‘ روح کی اصلیت کیسے جانی جاسکتی ہے۔‘‘
’’لیکن شرمین! یہ معمولی بات تو نہیں ہے۔‘‘
’’آپا! پلیز غم نہ کریں‘ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
’’غم تو نہیں مگر افسوس بہت ہے‘ اس نے اچھا نہیں کیا۔‘‘
’’اب چھوڑیں اس کو‘ میں آپ کے لیے چائے بناکر لاتی ہوں۔‘‘ وہ ٹالتے ہوئے اٹھی مگر زینت آپا نے منع کردیا۔
’’چائے تو بن رہی ہے‘ بابا آگئے ہیں۔‘‘
’’اچھا‘ بابا آگئے۔‘‘
’’ہاں آگئے ہیں مگر اپنے ساتھ اپنی بھانجی بھولی کو بھی لے آئے۔‘‘
’’بھولی… یہ کون ہے؟‘‘ شرمین نے حیرت سے پوچھا۔
’’بابا کی بھانجی‘ بے چاری اکیلی رہ گئی تھی۔‘‘
’’اوہ تو آپ نے اجازت دے دی۔‘‘
’’دینی ہی تھی‘ بابا پرانے خدمت گار ہیں‘ لڑکی بہت اداس اور سہمی ہوئی ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے لیکن بابا کے ساتھ رہے گی؟‘‘
’’ہاں لیکن زیادہ وہ تمہارے کام کاج دیکھے گی۔ ایک تو لڑکی ہے دوسرا تمہارے ساتھ اس کا دل بہلا رہے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں ابھی ملتی ہوں اس سے۔‘‘
’’فی الحال تو کواٹر میں ہے‘ تھکی ہوئی ہے میں نے ہی بھیج دیا۔‘‘
’’اچھا کیا۔‘‘ وہ بولی۔
’’بس بوبی ناک منہ چڑھا رہا تھا۔‘‘
’’ہیں‘ وہ کیوں…؟‘‘
’’کہ کیوں رکھا ہے اس کا رکھ رکھائو بہت اجڈ سا ہے۔‘‘
’’یہ تو اس کے ماحول کی وجہ ہے‘ خیر میں بوبی کو سمجھا دوں گی۔‘‘
’’اچھا اب کوئی سوچ نہیں ہونی چاہیے‘ آئو باہر ہنسو بولو میرے ساتھ۔‘‘
’’آپا! میں نے پہلی بار یہ اذیت برداشت نہیں کی۔‘‘
’’جانتی ہوں‘ اصل تو اس کم ذات صبیح احمد نے اذیت دی تھی۔‘‘ زینت آپا کا منہ کڑواہٹ سے بھرگیا‘ اس نے کربناک مسکراہٹ سے انہیں دیکھا اور طویل سانس بھر کے رہ گئی۔
/…ء…/
وہ بازار سے گوشت سبزی اور امی کے آرڈر پر بطور خاص پھل اور مختلف جوسز لایا۔ کچن میں سب کچھ رکھ کے بے دھیانی سے اپنے کمرے میں آگیا مگر اگلے ہی لمحے اسے بیڈ پر سویا دیکھ کر ٹھٹکا اور ساتھ میں تلملا کر بیڈ کے قریب پہنچ کر دبے لہجے اور مدہم آواز میں چیخا۔
’’مہارانی! یہ تھا تمہارا منصوبہ‘ میرے کمرے میں‘ میرے بستر پر کس رشتے سے آرام فرمارہی ہو۔‘‘ وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔
’’وہ‘ آپ نے سونا ہے تو میں باہر چلی جاتی ہوں۔‘‘
’’اور پھر… پھر آجائو گی‘ رہو گی تو میرے سر پر مسلط۔‘‘
’’تو مجھے نکال دیں پھر۔‘‘ وہ کچھ سنبھل کر کھڑی ہوگئی۔
’’ہنہہ! تم نے چال ہی بڑی چلی ہے۔‘‘ وہ گھور کر بولا۔
’’کوئی چال نہیں چلی‘ میں تو کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔‘‘ اس نے بھی تڑخ کر کہا تو وہ غصے سے پھٹ پڑا۔
’’تو پھر کیوں آئیں؟ اور آنا تھا تو میری شرط کیوں نہیں مانی۔‘‘
’’آپ کی شرط تو کبھی نہیں مانی جاسکتی‘ مجھے آپ کے ساتھ رہنے کا کوئی شوق نہیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’اچھا… اچھا اب جائو یہاں سے۔‘‘ وہ چڑ سا گیا۔
’’آپ سوجائیں‘ میں کچھ دیر امی کے پاس بیٹھتی ہوں۔‘‘
’’اور امی کو رو رو کر بتانا کہ میں نے کمرے سے نکال دیا ہے۔‘‘ اس نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا تو وہ پلٹی اور بولی۔
’’میں اب نہیں روتی صفدر صاحب۔‘‘
’’کیوں اب تم نے تاج پہن لیا ہے؟‘‘ وہ طنزیہ بولا۔
’’یہی سمجھا ہے میں نے‘ میرے پاس ایسا ہی لعل ہے کہ میں اب روتی نہیں۔‘‘ اس نے صفدر کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا۔
’’اس لعل سمیت ہی بے عزت ہوکر باہر جائو گی۔‘‘
’’اگر اس کے اور میرے مقدر میں ایسا ہی لکھا ہے تو کیا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’اس کا مقدر تمہاری وجہ سے خراب ہوا ہے۔‘‘
’’آپ کون ہوتے ہیں اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والے‘ اللہ کا خوف نہیں ہے کیا؟‘‘ وہ بہت بے بس ہوکر بولی تو وہ اعتراف کر بیٹھا۔
’’مجھے انسان سے حیوان بنادیا‘ محبت کا ایسا چہرہ دکھایا کہ نفرت کے شعلوں میں مسلسل جل رہا ہوں۔‘‘
’’آپ کو وہ قول بھول گیا جو آپ نے کہا تھا۔‘‘ وہ دکھی ہوگئی۔
’’سب بھول گیا ہوں‘ جب سامنے آتی ہو تو پاگل ہوجاتا ہوں۔‘‘ وہ رخ موڑ کر بولا‘ کمرے میں جہاں آرا داخل ہوئیں تو کچھ عجیب سا ماحول دیکھ کر بولیں۔
’’کیا ہوا… تم کھڑی کیوں ہو؟‘‘
’’وہ بس لیٹے لیٹے تھک گئی تھی۔‘‘ زیبا نے جلدی سے وضاحت کی۔
’’اور صفدر! تمہیں تو ہسپتال جانا تھا‘ جائو۔ شہد کیوں نہیں لائے؟‘‘ انہوں نے کئی باتیں ایک ساتھ کہہ ڈالیں تو وہ جل گیا۔
’’امی پلیز بہو کے عشق میں دیوانی نہ ہوجائیں‘ میں تھکا ہوا ہوں۔‘‘
’’خیال کرو‘ ہسپتال میں حاجرہ بہن اکیلی ہیں‘ کھانا لے جائو۔‘‘
’’امی ننھی ہے ان کے پاس۔‘‘ زیبا نے کہا تو وہ بولیں۔
’’ننھی بے چاری کوئی مرد نہیں ہے‘ اسے جانا چاہیے۔‘‘
’’چلا جاتا ہوں‘ آپ کو میرا احساس نہیں۔‘‘ وہ کمبل پھینک کر اٹھا اور جوتے پہننے لگا۔
’’امی! میں بھی چلی جائوں۔‘‘ زیبا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’ارے نہیں بیٹا! اس حال میں ہسپتال نہیں جانا‘ تم آرام کرو۔‘‘ جہاں آرا یہ کہہ کر باہر چلی گئیں جبکہ صفدر نے یہ موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
’’ہنہہ! تم آرام کرو‘ میں ہوں نا تمہارا نوکر۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا تو وہ سر تھام کر بیٹھ گئی۔
/…ء…/
ریسٹورنٹ کے گرم اور خواب آگیں ماحول میں آرکسٹرا کی ہلکی ہلکی موسیقی میں سب خوش و خرم کھانے پینے میں مصروف تھے۔ ایک وہی کانٹے چھری سے کھیل رہا تھا‘ کئی روز سے بڑھی شیو‘ بے ترتیب بال‘ سیاہ کوٹ‘ الجھا الجھا‘ میز کی سطح کو گھورتا‘ کچھ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لڑکیوں کے دلوں کو پوری قوت سے کھینچ لینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ اپنی ٹیبل سے اٹھی اور اس کے پاس آکر مسکراتے ہوئے بولی۔
’’کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟‘‘ اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھا اور اثبات میں گردن ہلادی۔
’’شکریہ‘ میرا نام سنجنا راٹھور ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’اوہ… کہاں کے رہنے والے ہیں؟‘‘
’’پاکستان۔‘‘
’’پھر تو ہم بہت اچھے دوست بن سکتے ہیں۔‘‘ وہ گلابی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولی۔ سانولے رنگ‘ تیکھے نقوش کے ساتھ شارٹ کٹ ہیئر اسٹائل میں وہ خاصی پُرکشش تھی لیکن اس نے سرسری سی نگاہ ڈال کر اپنی سرد کافی کے مگ پر نظریں مرکوز کرلیں۔
’’آپ نے بتایا نہیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کیا…؟‘‘
’’آپ کا نام؟‘‘
’’عارض۔‘‘
’’وائو‘ بیوٹی فل نیم۔‘‘
’’ایکسکیوزمی!‘‘ وہ یہ کہہ کر اٹھنے لگا تو وہ جلدی سے بولی۔
’’یہ تو بُری بات ہے آپ مجھے تنہا چھوڑ کر جارہے ہیں۔‘‘
’’سوری! میں لڑکیوں سے دوستی نہیں کرتا۔‘‘
’’نہ کیجیے‘ فی الحال ایک کپ چائے تو ساتھ پی سکتے ہیں۔‘‘ اس نے بہت دلنشین انداز میں کہا کہ وہ واپس ٹک گیا اور ویٹر کو قریب بلاکر چائے کا آرڈر دے دیا۔
’’شکریہ‘ آپ یہاں روز آتے ہیں؟‘‘
’’چند دنوں سے۔‘‘
’’میں بھی اکثر اسی ریسٹورنٹ میں آتی ہوں۔‘‘
’’آپ یہاں… میرا مطلب ہے یہاں رہتی ہیں؟‘‘
’’نہیں نہیں‘ میری بڑی بہن اور بہنوئی یہاں رہتے ہیں۔ میں دوسری بار یہاں آئی ہوں‘ ہم کلکتہ کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ وہ مختصر سا کہہ کر خاموش ہوگیا‘ چائے آگئی۔
’’کتنی شوگر۔‘‘
’’ون ٹی اسپون۔‘‘
’’آپ کافی ڈسٹرب دکھتے ہیں‘ آنکھیں بھی سرخ ہیں۔‘‘ وہ کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔
’’یہ میرا پرسنل معاملہ ہے‘ سوری۔‘‘
’’سوری‘ آپ یہاں…‘‘
’’بزنس کرتا ہوں۔‘‘
’’پلیز مجھے غلط نہ سمجھئے گا‘ آپ کو ڈسٹرب سا دیکھ کر میں رہ نہ سکی۔‘‘ وہ وضاحت کرنے لگی تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔
’’آپ سے مل کر اچھا لگ۔‘‘ وہ پھر چائے اپنے اندر انڈیل کر کھڑا ہوگیا۔
’’کیا ہم دوبارہ مل سکتے ہیں؟‘‘
’’ممکن نہیں ہی۔‘‘
’’میں یہاں تنہا بور ہوجاتی ہوں۔‘‘ اس نے برابر کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔
’’مس سنجنا‘ بائے۔‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ نہ بولا‘ آگے بڑھ گیا۔
/…ء…/
چھٹی کا دن تھا‘ وہ کافی دیر سے سو کر اٹھا تو بھوک کا شدید احساس ہوا‘ ہاتھ منہ دھوکر فوراً کچن کی طرف آیا۔ شرمین اپنے لیے چائے بنارہی تھی۔ بھولی سنک میں جمع ناشتے کے برتن دھورہی تھی‘ بوبی اندر آکے فوراً ابکائی لیتا چٹکی سے ناک دبا کر باہر نکلا۔ شرمین کچھ نہ سمجھ کر باہر نکلی تو وہ برس پڑا۔
’’تم پاگل ہو یا تمہاری ناک بند ہے‘ کس قدر گندے تیل کی بُو آرہی ہے اور تم اس کے ساتھ کچن میں ہو۔‘‘
’’کون سی بُو کس کے ساتھ؟‘‘
’’وہی جو بابا تحفہ لائے ہیں‘ مس بھولی!‘‘
’’ہش… ایسی کیا بات ہے‘ تیل اس نے لگایا ہوا ہے‘ تمہیں کیا؟‘‘ شرمین نے ہنس کر ڈانٹا۔
’’اور سارا گھر سڑرہا ہے‘ جہاں سے گزرتی ہے گندے تیل کی بُو آرہی ہے اور کپڑے بھی کتنے گندے ہیں؟‘‘
’’اچھا اچھا‘ تم بتائو کیا کرنے آئے تھے؟‘‘ شرمین نے دھیرے سے اسے بریک لگائی کہ کہیں بھولی سن نہ لے۔
’’ناشتا کرنا ہے‘ باہر لان میں۔ اُف میرا سر چکرا رہا ہے۔‘‘ وہ کہتا ہوا باہر سے ہی لان کی طرف چلا گیا‘ وہ اندر آئی تو بھولی ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’ہوں تو‘ برتن دھل گئے۔‘‘
’’جی باجی!‘‘
’’بھولی! تم پریشان نہ ہونا بس یہ چھوٹے صاحب ذرا نازک مزاج ہیں۔‘‘
’’جی باجی!‘‘ وہ نازک مزاج کا مطلب تک نہیں جانتی تھی بس ویسے ہی کہہ دیا۔
’’اچھا دیکھو کچھ دیر بعد میرے کمرے میں آنا‘ اب بڑی بیگم صاحبہ کے پاس جائو ان کو کوئی کام ہے تو کردو۔‘‘ شرمین نے بہت نرمی سے کہا۔
’’میں کوشش کروں گی کہ آپ کی باتیں سمجھ جائوں۔‘‘ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی تو شرمین کو اس کی معصومیت پر ہنسی آگئی۔
’’ہاں! بالکل سب سمجھ میں آجائے گا‘ فکر نہ کرو خوش رہو۔‘‘
’’مجھے ماں یاد آتی ہے‘ اپنا گھر یاد آرہا ہے۔‘‘ وہ ایک دم ہی رونے لگی۔
’’ارے ایسے تھوڑا کرتے ہیں‘ کیا یہ گھر نہیں ہے؟ تمہارے ماموں ہیں‘ ہم سب ہیں اپنا دل لگائو۔ مرنے والوں کے ساتھ مر تو نہیں سکتے۔‘‘ شرمین نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
’’میں یہاں رہنے کے قابل نہیں۔‘‘
’’کیوں؟ میں تمہیں طریقہ بتائوں گی‘ ابھی تم جائو میں چھوٹے صاحب کا ناشتا بنالوں پھر بات کریں گے۔‘‘
’’بی بی جی! آپ بھی جائیں‘ بابا کے لیے ناشتا میں بنا کر لاتا ہوں۔‘‘ اسی وقت خانساماں آگیا۔ شرمین نے ان کے کہنے پر اپنا چائے کا کپ لیا اور باہر لان میں بوبی کے پاس آگئی‘ وہ اخبار پڑھ رہا تھا۔
’’خانساماں ناشتا لارہا ہے۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ بوبی نے دلچسپ نظروں سے اس کے نکھرے نکھرے سادہ سے چہرے کو تکتے ہوئے جواب دیا۔ وہ اپنے خیالوں میں محو چائے کی چسکی لے رہی تھی‘ عارض کا چہرہ نظروں میں تھا۔ بوبی کے لیے ناشتا آگیا تو وہ بولا۔
’’میرا ساتھ نہیں دو گی؟‘‘
’’اوں ہونہہ… نہیں بس ایک مرتبہ ناشتا کرچکی ہوں۔‘‘
’’تو کیا ہوا؟‘‘
’’تو یہ کہ مزید کی گنجائش نہیں۔‘‘
’’پلیز‘ تھوڑا سا۔‘‘
’’بوبی! ہر بات کی ضد نہیں کرتے۔‘‘
’’تو پھر مان کیوں نہیں جاتیں۔‘‘ وہ ناشتا چھوڑ کر بیٹھ گیا تو وہ مزید غصے میں آگئی۔
’’ہر بات ماننے کی نہیں ہوتی۔‘‘
’’مجھے تمہاری ہر بات ماننا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’تمہاری اپنی مرضی ہے اور میری اپنی۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’شرمین! اگر تم گئیں تو میں سارے برتن توڑ دوں گا۔‘‘ اس نے دھمکی دی۔
’’توڑ دو‘ اس طرح تم مجھے مجبور کرتے ہو۔‘‘ وہ بھی ضد پر اڑ گئی۔
’’تو پھر یہ لو۔‘‘ بوبی نے ٹرے اٹھاکر فرش پر دے ماری اور منہ پھیر کر بیٹھ گیا۔
’’بوبی! مجھ سے اب بات مت کرنا۔‘‘ وہ غصے سے کہہ کر چلی گئی تو اسے اور زیادہ غصہ آگیا‘ پیچھے سے چلایا۔
’’کچھ نہیں کھائوں گا‘ بھوکا مرجائوں گا سن لو۔‘‘ مگر وہ رکی نہیں۔
/…ء…/
بوبی نے جیسا کہا ویسا ہی کرنا تھا‘ شرمین کو اندازہ تھا مگر پھر بھی وہ ذہن جھٹک کر بھولی کے لیے اپنے پرانے ذرا چھوٹے سائز والے کپڑے تلاش کرکے نکالتی رہی۔ بھولی آنکھیں پھاڑے اس کے کمرے کو دیکھ رہی تھی‘ اس نے ایسا کمرہ صرف ٹی وی ڈراموں میں دیکھا تھا۔
’’کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ شرمین نے پوچھا۔
’’باجی! آپ کا کمرہ آپ کی طرح خوب صورت ہے۔‘‘
’’ارے تم تو بڑی اچھی باتیں کرتی ہو۔‘‘
’’باجی! مجھے باتیں نہیں آتیں۔‘‘
’’آجائیں گی۔‘‘
’’آپ سے سیکھ جائوں گی۔‘‘
’’اچھا‘ یہ لو کپڑے تمہارے لیے ہیں اور بھی بازار سے لادوں گی۔‘‘
’’یہ تو بہت اچھے ہیں۔‘‘
’’ہاں لیکن میری بات توجہ سے سنو‘ اچھی طرح نہانا‘ بالوں کو شیمپو کرنا اور یہ تیل اب نہیں لگانا‘ بڑی گندی سی بُو ہے۔‘‘
’’اچھا جی۔‘‘
’’اور یہ اتنا سرمہ بھی نہیں لگاتے۔‘‘
’’یہ کجل ہے (کاجل ہے)۔‘‘ اس نے آنکھیں مٹکائیں۔
’’کچھ بھی ہے یہ اتنا نہیں لگاتے۔‘‘ اس نے سمجھایا۔
’’میری آنکھیں اچھی نہیں ہیں؟‘‘
’’اچھی ہیں‘ تم بہت اچھی ہو‘ بس اب کچھ تبدیلی لائو۔‘‘ اس نے اپنے دو سلیپر بھی اسے نکال کر دیئے۔
’’میں جائوں؟‘‘
’’ہاں‘ پہلے نہائو صاف ستھری بچی بن کر آنا۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ وہ مسکرا کر جانے لگی تو شرمین نے کہا۔
’’اپنے ماموں کو میرے پاس بھیجو۔‘‘
’’ماموں تو باہر گئے ہیں۔‘‘
’’جب آجائیں تب۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں کمرہ صاف کرنے کب آئوں؟‘‘
’’نہاکر صاف ستھری ہوکر‘ اب جائو۔‘‘ وہ چلی گئی تو وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ بوبی ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکان کھیل گئی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close