Aanchal Mar 15

محبت ایسا نغمہ ہے

اقرا صغیر احمد

بزم خیال میں تیرے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی
جب تجھے یاد کرلیا، صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی

’’اوگاڈ! اب کیا ہوا… ہم پہلے ہی لیٹ ہوگئے ہیں اور تمہاری اس بائیک کو اسی وقت ہی خراب ہونا تھا؟‘‘ مائدہ نے بائیک سے اترتے ہوئے رسٹ واچ پر نگاہ ڈالی اور گھبرا کر بولی۔
’’ریلیکس یار! گیارہ ہی بجے ہیں ابھی کوئی رات نہیں گزر گئی ہے جو تم اس قدر پریشان ہورہی ہو تم پھر میرے ساتھ ہو کسی غیر کے ساتھ نہیں۔‘‘ حماد بائیک کے قریب بیٹھ کر ٹائر چیک کرتے ہوئے نرمی سے گویا ہوا۔
’’بابا کے لیے گیارہ بجے آدھی رات ہوتی ہے‘ تین بجے وہ تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے ہیں تو پھر دوپہر میں ہی قیلولہ کرتے ہیں۔‘‘
’’خیر مجھے کیا بتا رہی ہو میں بھی اسی گھر میں رہتا ہوں اور چچا جان کی ڈیلی روٹین کو جانتا ہوں۔‘‘
’’اور بابا کے مزاج کو جان کر بھی جاننا نہیں چاہتے ہو اگر ان کو پتا چل گیا ہم اس طرح آوارہ گردی کررہے ہیں تو…‘‘ کہتے کہتے وہ مارے خوف کے جھرجھری لے کر بات ادھوری چھوڑ کر چپ ہوگئی۔
’’تو… تو کیا ہوگا جملہ مکمل کرو اپنا۔‘‘
’’اس سے آگے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی‘ بابا کا غصہ بے حد خراب ہے۔‘‘ حماد نے کھڑے ہوتے ہوئے اس کے سیاہ اسکارف میں لپٹے شفاف دودھیائی رنگت والے رعنائی سے بھرپور چہرے کو دیکھا تو اس کی چاہت کی لے پر دھڑکتی دھڑکنوں میں خوش کن ارتعاش سا ہلچل مچانے لگا تھا۔
’’ایک بات بالکل سچ سچ بتائو گی؟‘‘ وہ قریب آکر بھاری لہجے میں بولا۔
’’ہوں…‘‘ وہ اس کی آنچ دیتی نگاہوں سے سراسیمہ ہوکر گویا ہوئی۔
’’لڑکیاں واقعی ڈرپوک ہوتی ہیں یا ایکٹنگ کرتی ہیں؟‘‘ اس کے قریب آنے پر وہ بے ساختہ چند قدم پیچھے ہوئی تھی۔
’’فالتو کی بکواس مت کرو‘ میں آئندہ تمہارے ساتھ نہیں آئوں گی‘ تمہارے دماغ کی طرح اکثر تمہاری بائیک بھی خراب ہوجاتی ہے۔‘‘
’’بائیک خراب نہیں ہوئی صرف ٹائر پنکچر ہوا ہے جو ابھی لگ جائے گا۔‘‘ وہ سڑک کے اس پار پنکچر لگانے والے کی دکان دیکھتا ہوا اطمینان بھرے لہجے میں بولا اور مائدہ کا خوف و فکر سے برا حال تھا۔ دوسرا اس کے اطمینان پر دل جل کر خاک ہوا جارہا تھا وہ اس کے اصرار پر امی اور تائی کی اجازت لے کر کھانے پر آئے تھے۔
حماد پہلے اسے سی ویو لے گیا سمندر کی ٹھنڈی لہروں سے کھیلتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہ رہا پھر ڈنر اور کافی کے بعد حماد بار بار اس کے کہنے پر وہاں سے اٹھا تھا اور ابھی آدھا راستہ بھی طے نہ ہوا تھا کہ رہی سہی کسر ٹائر پنکچر نے پوری کردی تھی۔
’’اب کتنی اور دیر لگے گی یہاں؟‘‘ وہ بائیک وہاں کھڑی کر آیا تو وہ پوچھ بیٹھی۔
’’زیادہ دیر نہیں لگے گی‘ تم فکر مت کرو۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
/…ء…/
مردانہ قہقہے کے ساتھ نسوانی بے باک قہقہہ فضائوں میں بکھرا اور قہقہوں میں تبدیل ہوتا چلا گیا‘ ایوننگ نیوز پیپر پڑھتے ہوئے یوسف صاحب کی نگاہیں بے ساختہ ہی برابر والے لان میں گئی تھیں۔
’’لاحول ولاقوۃ! شریف لوگوں کے درمیان بھی اب اس قماش کے لوگ بسنے لگے ہیں۔‘‘ لان میں ایک نوجوان لڑکی جینز اور سلیولیس ٹاپ میں دو مردوں کے ساتھ کھڑی بے تحاشا ہنس رہی تھی‘ اس کا ساتھ مرد بھی دے رہے تھے جتنی تیزی سے ان کی نگاہیں اس طرف اٹھی تھیں اس سے بھی پھرتی سے پلٹی تھیں وہ فوراً اٹھے اور تیز تیز چلتے کمرے میں آگئے۔
’’ایک گلاس پانی دو بیگم!‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’ارے کیا ہوا آپ کو؟ چہرہ کتنا سرخ ہورہا ہے تنفس بھی تیز ہے۔‘‘ مہربانو روم ریفریجریٹر سے پانی گلاس میں انڈیل کر انہیں دیتی ہوئی تشویش بھرے لہجے میں استفسار کرنے لگیں۔
’’کیا بے حیائی کا دور آگیا ہے مہربانو! ہم صدمے میں ہیں۔‘‘ وہ ان کو ساری بات بتاکر حیران و افسردہ لہجے میں گویا ہوئے۔
’’کیوں اتنا رنجیدہ ہوتے ہیں آپ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے ان کا آپس میں ایسا کوئی تعلق نہ ہو بعض گھرانوں میں بہن بھائیوں میں بھی ایسی بے تکلفی پائی جاتی ہے‘ ہنسی مذاق چلتا ہے۔‘‘
’’بہن بھائی… کیسی باتیں کرتی ہو مہربانو! ارے ان پاکیزہ رشتوں کی خوشبو دور سے ہی محسوس ہونے لگتی ہے اور یہ بال میں نے دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں‘ ان بالوں کی سفیدی میں عمر کے مشاہدے و تجربے موجود ہیں۔‘‘
’’ارے چھوڑیں آپ یوسف! ہر کوئی اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے وہ جو بھی کرتے ہیں انہیں کرنے دیں اس دور میں کوئی کسی کی پروا نہیں کرتا۔‘‘
’’برائی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے بیگم! ایسا نہ ہو کسی کے گھر کی آگ ہمارے گھر تک پہنچ جائے اور سب جل کر خاک ہوجائے۔‘‘
’’پھر کیا کریں گے آپ؟‘‘ شوہر کو مضطرب دیکھ کر وہ بھی فکر مند ہوگئیں۔
’’میں ابھی علاقے کے کچھ معززین سے مل کر ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کرتا ہوں‘ مجھے یقین ہے کوئی بھی ایسی بازاری عورتوں کو اپنے درمیان دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔ ایسی بدقماش عورتیں شرفاء میں نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ گلاسز درست کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’آپ بھی ہر بات سر پر سوار کرلیتے ہیں‘ پہلے چائے پی لیجیے ملائکہ نے کیک بنایا ہے‘ وہ چائے کی ٹرالی لارہی ہے۔‘‘
’’ابھی تو میری پانی پینے کو بھی طبیعت نہیں چاہ رہی‘ واپسی پر پیوں گا‘ پہلے اس معاملے کو کلیئر کروانے دو۔‘‘ وہ کہہ کر چلے گئے۔
’’مما! پاپا کہاں گئے‘ کچھ غصے میں بھی لگ رہے تھے؟‘‘ ملائکہ نے باپ کو دور سے جاتے دیکھا تھا وہ ماں سے آکر پوچھنے لگی۔
’’آپ کے پاپا کو کچھ کام تھا اچانک یاد آنے پر گئے ہیں۔‘‘ وہ کھڑکیوں کے پردے درست کرتی ہوئیں اسے ٹالنے کی غرض سے بولیں۔
’’میں نے جو سینڈوچ اور کیک تیار کیا ہے اس کا کیا بنے گا اب؟‘‘
’’فکر کیوں کرتی ہو بیٹا! آپ کے پاپا کچھ دیر بعد آجائیں گے اور شاید جب تک عمر بھی آجائے تو ساتھ مل کر سب انجوائے کریں گے۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر منہ بسورتی بیٹی کو تسلی دی۔
/…ء…/
وہ گنگناتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی معاً اس کی نگاہ منہ دھوتے حماد پر گئی تو وہ رک گئی۔ حماد کا چہرہ فیس واش کے جھاگ سے سفید ہورہا تھا جس کو وہ دونوں ہاتھوں سے رگڑنے میں مصروف تھا۔
’’کتنے بھی جتن کرلو تم گورے ہونے والے نہیں۔‘‘ وہ اس کے قریب پہنچ کر ہنس کر گویا ہوئی‘ ساتھ ہی نل بھی بند کردیا تھا۔
’’مائدہ! شرافت سے نل کھول دو میری آنکھیں جل رہی ہیں۔‘‘ اس نے آنکھیں رگڑتے ہوئے نل کھولنے کی کوشش کی تھی جس کی لائن وہ بیسن کے نیچے سے بند کرکے ہنستے ہوئے بھاگ گئی تھی۔
’’ہاہا… ہمت ہے تو کھول لو خود ہی کلو قصائی۔‘‘
’’مائدہ کی بچی… میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں‘ میرے ہاتھوں سے بچ کر دکھانا تم اب۔‘‘ اس نے جیسے تیسے وال کھول لیا تھا ان چند لمحوں میں آنکھیں جلن و تکلیف کے مارے کھل کر نہیں دے رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد متواتر پانی سے منہ دھونے کے بعد آنکھیں کھلی تھیں‘ جو سرخ انگارہ ہو رہیں تھیں اس نے قریب لگے ہینگر سے ٹاول کھینچا منہ ہاتھ صاف کرتا وہ آئینے میں ایک نظر خود پر ڈالتا آگے بڑھ گیا۔
’’کیا بات ہے کیوں بن بات اکیلی ہنسے جارہی ہو‘ کتنی بار سمجھایا ہے تمہارا یہ بات بے بات ہنسنا مجھے قطعی پسند نہیں۔‘‘ رضوانہ نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوئے بیٹی کو سرزنش کی۔
’’امی! بے بات کہاں ہنس رہی ہوں‘ کوئی بات ہے تو ہنس رہی ہوں۔‘‘ وہ تصور میں حماد کی جھنجھلائی ہوئی کیفیت دیکھ کر ہنس رہی تھی۔
’’جانتی ہوں میں کوئی فضول ہی بات ہوگی‘ چلو جلدی سے ناشتا ٹیبل پر لگائو حماد کو ہسپتال جانے میں دیر نہ ہوجائے اور تمہیں کالج۔‘‘ وہ ہاٹ پاٹ میں پراٹھے رکھ کر اسے دیتی ہوئی گویا ہوئیں اور پھرتی سے آملیٹ بنانے میں لگ گئیں‘ چند لمحوں بعد وہ نفاست سے ٹیبل پر ناشتے کے تمام لوازمات رکھ چکی تھی۔
’’ارے حماد… بیٹا یہ آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی ہیں؟‘‘ وہ تیار ہوکر آیا تو اس کے وجیہہ چہرے پر آنکھوں کی سرخی کچھ زیادہ ہی نمایاں تھی۔ ناشتا سرو کرتیں رضوانہ نے چونک کر پوچھا تھا جبکہ ان کے برابر بیٹھی مائدہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر پھر ہنسنے لگی تھی۔ حماد نے لمحہ بھر اسے گھور کر دیکھا اور گویا ہوا۔
’’خالہ جانی! شاید کسی کی بُری نظر لگ گئی ہے میری خوب صورت آنکھوں کو پلیز نظر ضرور اتار دیجیے گا۔‘‘
’’ارے کس بدبخت کی ایسی بُری نگاہ ہے مجھے تو کوئی اوپری مخلوق لگتی ہے جس کی ایسی بھاری نظر ہے۔‘‘ رضوانہ نے بھانجے کی محبت میں نہ اس کے شوخ طنز کو محسوس کیا اور نہ بیٹی کی دبی دبی ہنسی کو صرف اس کی آنکھوں کو دیکھ کر وہ فکر مند انداز میں سوچتے ہوئے گویا ہوئیں جبکہ حماد کے برابر میں بیٹھی رخسانہ نہ جانتے ہوئے بھی کچھ سمجھ گئی تھیں۔
’’ہاں بالکل خالہ جان! ٹھیک پہچانا آپ نے‘ وہ کوئی چڑیل ہی ہے۔‘‘
’’دیکھ رہی ہیں آپ تائی جان! حماد مجھے چڑیل کہہ رہا ہے۔‘‘ حسب عادت وہ خود پر تنقید برداشت نہ کرتے ہوئے کہہ اٹھی‘ حماد قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔ رخسانہ کے لبوں پر بھی مسکراہٹ چمک اٹھی جبکہ رضوانہ نے بیٹی کو گھورتے ہوئے تنبیہی لہجے میں کہا۔
’’اچھا یہ تمہاری شرارت ہے پھر تم نے تنگ کیا حماد کو‘ کتنی بار تمہیں سمجھایا ہے بدتمیزی مت کیا کرو مگر تم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
’’اونہوں رضوانہ… کیوں ڈانٹ رہی ہو‘ مائدہ کی ان چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے تو رونق ہے زندگی میں۔‘‘ تائی نے فوراً حمایت کی۔
’’شرارت اور بدتمیزی میں فرق ہوتا ہے باجی۔‘‘
’’مائدہ بیٹا! تم ناشتا کرو اور اپنی ماں کی باتوں پر دل نہ جلایا کرو اس کو حماد کی شرارتیں دکھائی نہیں دیتی جو کسی طرح کم نہیں ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح انہوں نے مائدہ کی حمایت لیتے ہوئے بیٹے کو بُرا بھلا کہا تھا کیوں کہ مائدہ کو کالج اور حماد کو ہسپتال جانا تھا اس لیے بات آگے بڑھ نہ سکی اور وہ ناشتے کے بعد اپنے اپنے راستوں پر گامزن ہوگئے تھے۔ وین نہ آنے کی وجہ سے مائدہ کالج حماد کے ساتھ بائیک پر گئی تھی جو گھر آتے ہوئے عارف صاحب کی نگاہوں سے محفوظ نہ رہ سکے تھے۔
’’مائدہ حماد کے ساتھ کیوں گئی ہے؟‘‘ وہ گھر میں آتے ہی گرجے تھے۔ رضوانہ جو صفائی کے لیے ماسی کا انتظار کررہی تھی شوہر کو بے وقت گھر آتے دیکھ کر کچھ پریشان ہوئی تھیں‘ مستزاد اس سوال نے حواس باختہ کردیا۔
’’میں تم سے پوچھ رہا ہوں مائدہ وین میں جانے کی بجائے حماد کے ساتھ کالج کیوں گئی ہے اور تم خاموش کھڑی ہو۔‘‘ وہ قریب آکر بولے۔
’’وہ… دراصل آج وین نہیں آئی تھی اس لیے حماد کے ساتھ بھیج دیا۔‘‘
’’حماد کے ساتھ بھیجنے سے بہتر تھا خود رکشہ ٹیکسی کرکے چھوڑ آتیں۔‘‘
’’عارف کیوں اس طرح سوچتے ہیںِ بھلا حماد کوئی غیر لڑکا نہیں ہے‘ مائدہ کا منگیتر ہے آپ کے بڑے بھائی کا بیٹا ہے اس گھر کا فرد ہے۔‘‘ رخسانہ فوراً ہی بہن کی مدد کو آتے ہوئے مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔
’’بھابی! میں مانتا ہوں اس بات کو لیکن شریعت کی رو سے منگنی کوئی شرعی تعلق نہیں یہ صرف بڑوں کے مابین ہونے والا ایک معاہدہ ہے‘ کچے کاغذ کی تحریر ہے جو حتمی نہیں ہے کہ یہ تعلق کل بھی قائم رہے گا۔‘‘
’’اللہ نہ کرے عارف! کبھی کبھی آپ زبان خنجر کی طرح استعمال کرتے ہیں جس کا وار سیدھا دل پر ہوتا ہے۔ ہماری تو دلی خواہش ہے مائدہ اور حماد کا بندھن جو بچپن میں آصف بھائی کے سامنے زبانی کلامی باندھا گیا تھا وہ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے ہمارے بچے خوش و خرم زندگی گزاریں۔‘‘
’’یہ خواہش صرف میرے مرحوم بھائی کی نہیں تھی رضوانہ! تم سب کے ساتھ میری بھی یہی تمنا ہے لیکن میں وقت کی نزاکتوں سے باخبر ہوں‘ وقت کے چلن کو سمجھ رہا ہوں۔ میں اس تعلق کو اسی عزت و وقار کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہوں جو ہمارے خاندان کا وطیرہ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے دونوں خواتین کو رنجیدہ رنجیدہ دیکھ کر رسانیت سے سمجھایا۔
’’تمہاری باتیں درست ہیں عارف! مگر یہ بھی تو سوچو وقت کروٹ لے چکا ہے کچھ تو ہمیں وقت کی چال کے ساتھ چلنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں پر اعتماد ہے‘ بھروسہ ہے اپنی تربیت پر‘ بچے اگر کچھ وقت ساتھ گزار لیں تو کوئی حرج نہیں پھر کل کو انہیں ایک ہونا ہی ہے۔‘‘
’’بھابی! آپ شاید میری بات سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہیں یاد رکھیے آج کی عاقبت نااندیشی کل کا ناسور بن جاتی ہیں۔ غلط فیصلے غلط راہوں پر ہی لے جاتے ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر رکے نہیں تھے۔
/…ء…/
مہربانو نے ممتا بھری نظروں سے خوبرو اسمارٹ بیٹے کو دیکھا‘ جس کے سرخ و سپید چہرے پر سنجیدگی و وقار جاذبیت بن کر چھائی ہوئی تھی۔ سوٹ میں ملبوس وہ لیب ٹاپ میں مصروف تھا ان کو دیکھ کر وہ سیدھا ہو بیٹھا اور لیپ ٹاپ شٹ ڈائون کرنے کے بعد دھیمے انداز میں مسکرا کر بولا۔
’’آیئے مما! میں چند لمحوں بعد آپ کے پاس ہی آنے والا تھا۔‘‘
’’ملائکہ نے بتایا ہے مجھے آپ آج ڈنر گھر پر نہیں کریں گے۔‘‘ وہ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے خوش مزاجی سے گویا ہوئیں۔
’’جی مما! بزنس ڈیلیگیشن کو ڈنر پر انوائٹ کیا ہے کچھ بزنس میٹرز ہیں وہ بھی حل کرنے ہیں‘ مجھے واپسی پر ٹائم لگ جائے گا۔‘‘
’’بھائی! آپ تو روز بروز مصروف ہوتے جارہے ہیں‘ مما کی اپنی مصروفیت ہے‘ پاپا نے کبھی ہمیں ٹائم دیا ہی نہیں ایک آپ سے تھوڑی بہت گپ شپ ہوجاتی تھی سو وہ بھی اب خواب بن گئی ہے‘ رئیلی میں کالج سے آکر بے حد بور ہوتی ہوں۔‘‘ ملائکہ وہاں آکر شکایتی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
’’سوری ڈئیر! جیسے ہی فری ہوا تو تم کو ڈنر اور شاپنگ کرائوں گا اور آئوٹنگ بھی کریں گے۔ لانگ ڈرائیو پر چلیں گے آئی پرامس یو۔‘‘ عمر نے لیپ ٹاپ رکھتے ہوئے اس سے وعدہ کیا۔
’’سوری بھائی! مجھے یہ سب ہرگز نہیں چاہیے۔‘‘ وہ منہ بناکر کہہ اٹھی۔
’’پھر کیا چاہیے آپ کو؟‘‘ وہ متحیر ہوا۔
’’بھابی… مجھے بھابی چاہیے گھر کی خاموشی خوشیوں میں بدلنے کے لیے بھابی آئیں گے تو مجھے دوست بھی ملے گی اور سسٹر بھی۔‘‘ اس کی فرمائش پر مہربانو مسکرا رہی تھیں جبکہ وہ ہکا بکا کھڑا تھا۔
’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے ملائکہ! عمر اب ماشاء اللہ سے آپ کا کاروبار بھی اسٹیبلشڈ ہوچکا ہے‘ اب آپ کی شادی ہوجانی چاہیے۔ آپ کے پاپا بھی کئی بار مجھے کہہ چکے ہیں اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو مجھے بتائیں۔‘‘
’’پسند… مما! پاپا نے جس طرح اپنی نگاہوں میں جکڑ کر تا زیست رکھا ہے ایسی گرفت میں کسی کو پسند ناپسند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ میری کوئی پسند نہیں ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’مجھے احساس ہے بیٹا! یوسف نے آپ دونوں سے سخت رویہ رکھا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ وہ آپ سے پیار نہیں کرتے‘ بلکہ یہ ان کی محبت ہی تو ہے جو آپ آج کامیاب لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
’’اوکے مما! مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ رسٹ واچ دیکھتا ان کی بات سنی ان سنی کیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’جائیں بیٹا! فی امان اللہ۔‘‘ انہوں نے خوشی خوشی اسے رخصت کیا‘ اس کے جانے کے بعد ان کے چہرے پر تکلیف دہ خاموشی چھاگئی تھی۔
’’مما! بھائی اور پاپا کے درمیان فاصلوں کی خلیج کب ختم ہوگی؟‘‘
’’خدا جانے کب یہ فاصلے مٹیں گے‘ یوسف کی شروع دن سے یہی عادت رہی ہے وہ آپ سے اور عمر سے ازحد محبت و پیار کرتے ہیں۔ ہر معمولی سی معمولی ضرورت انہوں نے بنا کہے پوری کی ہے‘ دنیا کی ہر آسائش و سہولت دی ہے ماسوائے اس کے کہ عام باپ کی طرح ناز نخرے نہیں اٹھائے‘ وہ سمجھتے تھے بچوں سے بے جا لاڈ پیار ان کا مستقبل برباد کرنا ہے۔‘‘
’’ہمارے مستقبل کا تو پتا نہیں لیکن ہمارا حال پاپا برباد کرچکے ہیں۔ اسپیشلی پاپا کے رف اینڈ روڈ برتائو نے عمر بھائی کو فرسٹریٹ کردیا ہے وہ خود کو کڑک جیلر اور بھائی کو کوئی خطرناک قیدی سمجھتے رہے ہیں۔ مجھ سے تو ان کا رویہ پھر بھی بہت بہتر ہے اور بھائی پاپا کے سامنے سانس بھی کھل کر نہیں لیتے‘ یہ کیسی محبت ہے مما؟‘‘
’’میں نے تو بہت سعی کی اور کررہی ہوں‘ وہ اب عمر کو اس کی مرضی سے فیصلے کرنے دیں‘ وہ خود مختار ہے آزاد ہے اسے حق ہے اپنی مرضی سے جینے کا۔‘‘
’’مما پلیز آپ پاپا کو سمجھائیں وہ اپنا برتائو چینج کریں‘ میری خواہش ہے جب ہم چاروں ساتھ بیٹھیں تو گپ شپ کریں‘ ہنسے بولیں‘ ہمارے درمیان احترام و چاہت بھری بے تکلفی ہو‘ ہم روبوٹس کی طرح اپنے اپنے کام انجام نہ دے رہے ہوں۔‘‘ اس کی آواز نم ہوگئی۔ مہربانو نے اسے سینے سے لگا لیا تھا آنکھیں ان کی بھی بھر ہوئیں تھیں۔
ان کے نظریات سے بے خبر یوسف صاحب اپنی ہمسایہ میں موجود ان ماں بیٹی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنے ہم عمر لوگوں سے رابطوں کے لیے سرگرم تھے۔ پہلی ملاقات ان کی ماہتاب صاحب سے ہوئی تھی جو اس علاقے میں خاصے اثر ورسوخ رکھتے تھے۔ انہوں نے ان کے آگے یہ مسئلہ پیش کیا تو وہ بھی ان کے ہم خیال نکلے اور محلے کے کچھ اور صاحبان کو ساتھ لانے کا وعدہ کرکے ایسے گئے کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ نہ گھر پر دستیاب ہوئے نہ فون پر۔ ان کی اس بے التفاتی کی وجہ بھی وہ اس وقت سمجھے جب ان کے بیٹے کو رات کے اندھیرے میں پڑوس میں آتے دیکھا۔ وہ بھی ہمت ہارنے والے نہ تھے‘ ان ماں بیٹی کو علاقے سے نکالنے کا تہیہ کرچکے تھے اب وہ سکون سے بیٹھنے والے نہ تھے۔ حالانکہ وہ سمجھ گئے تھے اس علاقے میں کوئی بھی ان کا ساتھ دینے والا نہیں ہے کسی کے بیٹے کا تعلق اس گھر سے جڑ گیا تھا تو کسی کے بھائی کی آمدورفت وہاں بڑھ چکی تھی اور کتنے ہی ایسے تھے جو چھپ چھپ کر اس گھر کی طرف جاتے دکھائی دیتے تھے۔
/…ء…/
’’تمہاری ہائوس جاب مکمل ہوتے ہی میں تمہاری شادی کردوں گی۔‘‘ رخسانہ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’اوہ رئیلی امی! کیا بات کہی ہے آپ نے‘ دل خوش ہوگیا۔‘‘ وہ اچھل کر مارے خوشی کے ماں سے لپٹ گیا۔
’’پہلے اچھی طرح سے میری بات سنو۔‘‘ وہ سنجیدگی سے دور ہوتے ہوئے بولیں۔
’’شادی ہونے تک تم مائدہ سے نہیں ملو گے اور…‘‘
’’امی! آپ مجھے زندہ دیکھنا نہیں چاہتیں؟‘‘ وہ کراہ اٹھا۔
’’یہ کیا اول فول بک رہے ہو حماد! ماں سے اس طرح بات کرتے ہیں؟‘‘ اس کی جذباتیت پر غصے سے بولیں۔
’’گستاخی معاف امی جان! میں اپنی کیفیت بیان کررہا ہوں‘ نجانے کیوں میں مائدہ سے اتنی محبت کرتا ہوں؟ ایسا لگتا ہے وہ دل ہے اور میں دھڑکن ہوں‘ ہم ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں۔‘‘
’’اور ماں کچھ نہیں ہے جو تمہیں دیکھ کر جیتی ہے۔ آصف جب ہمیں چھوڑ کر گئے تو تم چھ برس کے تھے تب سے اب تک میری زندگی کا محور تمہاری ذات ہے۔‘‘
’’امی… میری سویٹ امی…‘‘ اس نے آگے بڑھ کر انہیں محبت سے بازوئوں میں بھرلیا اور ان کے ہاتھ چومتا عقیدت سے بولا۔
’’جو آپ سے محبت ہے وہ بہت اسپیشلی ہے اس محبت کا کوئی بھی ثانی نہیں‘ آپ کی محبتوں کا قرض میں کبھی ادا کر ہی نہیں کرسکوں گا۔‘‘
’’بس بس زیادہ جذباتی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو میں نے کہا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو ویسے بھی عارف نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ اس نازک دور میں پھونک پھونک کر چلنا ہی بہتر ہے پھر کون سا وہ پردے میں بیٹھ جائے گی‘ ایک گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں موقع ملیں گے دیکھنے کے‘ بات کرنے کے۔ باہر کے سیر سپاٹے ختم کردو بس۔‘‘
’’کون سا روز روز لے کر جاتا ہوں امی! آپ چچا کو سمجھائیں نا۔‘‘ وہ سخت مضطرب و بے کل ہورہا تھا‘ عجیب محبت تھی اسے مائدہ سے ایک لمحے کی جدائی بھی اسے مرغ بسمل کی مانند تڑپانے لگتی تھی۔
’’مائدہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا اسے بھی سمجھایا ہے میں نے اور سچ پوچھو تو وہ بچی پردہ کرنے کو بھی راضی ہے۔ ایک تم ہو کہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہو۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئیں کمرے سے نکل گئیں۔
/…ء…/
رات واپسی پر دیر ہوگئی تھی جلد گھر پہنچنے کے لیے اسے کار دوڑانی پڑ رہی تھی۔ سرد رات تھی موسم خاصا ابر آلود ہورہا تھا سڑکوں پر ٹریفک بھی برائے نام تھا وہ اپنی دھن میں کار ڈرائیور کررہا تھا کہ اس نے دیکھا کچھ فاصلے پر کار کھڑی تھی جس کے دروازے وا تھے‘ قریب ہی دو لڑکے ایک لڑکی کو پکڑے کار کی طرف لارہے تھے۔ لڑکی بُری طرح مزاحمت کررہی تھی ان کی گرفت سے نکلنے کے لیے اس نے فوراً کا ر روکی اور پھرتی سے ان کو للکارتا ہوا باہر نکلا اور کوٹ کی جیب سے ریوالور نکال لیا تھا (جو عموماً وہ اپنی سیفٹی کے لیے رکھتا تھا) ان لڑکوں نے گھبرا کر لڑکی کو وہیں پٹخا اور تیزی سے کار میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
’’کیا آپ ٹھیک ہیں مس؟‘‘ وہ بھاگ کر اس لڑکی کے قریب آیا جو اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کے سنہری بال بکھرے ہوئے اور ہونٹوں پر ٹیپ تھی اس نے فوراً ٹیپ نوچ کر ہٹایا اور کھڑی ہونے کی سعی میں کراہ کر رہ گئی جس بے رحمی سے اسے پٹخا گیا تھا اس سے اس کی ٹانگ میں چوٹ آئی تھی وہ کھڑی نہیں ہوپا رہی تھی۔
’’پلیز‘ مجھ سے اٹھا نہیں جارہا ہے آپ سپورٹ دیں مجھے۔‘‘ وہ از حد درد بھرے لہجے میں گویا ہوئی تو عمر نے تذبذب بھرے انداز میں اس کی طرف دیکھا‘ وہ ہمیشہ لڑکیوں سے دور رہا تھا۔
’’پلیز میری مدد کریں‘ مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا۔‘‘ وہ لڑکی تقریباً رو پڑی تھی اس نے سہارا دینے کے لیے بازو بڑھایا اور ساتھ ہی گویا ہوا۔
’’کون لوگ تھے وہ اور آپ کو اغواء کیوں کرنا چاہتے تھے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی وہ کون تھے‘ گھر جارہی تھی کہ اچانک ہی انہوں نے کار سے نکل کر ایک نے مجھ پر گرفت کی اور دوسرے نے ہونٹوں پر ٹیپ لگادیا تھا اگر آپ ٹھیک وقت پر نہ آتے تو…‘‘
’’اس وقت آپ کو تنہا گھر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا۔‘‘ اس لڑکی نے ابھی بھی اس کے بازو کا سہارا لیا ہوا تھا‘ چوٹ کے باعث وہ اپنے سہارے سے کھڑی نہیں ہو پارہی تھی۔
’’میری مما بیمار تھیں ان کی دوائی لینے کی خاطر گھر سے نکلی تھی۔ دوائی لے کر آرہی تھی کہ یہ سب ہوگیا۔‘‘ اس نے وجہ بیان کی۔
’’کہاں سے آئی ہیں… میرا مطلب کہاں جائیں گی آپ؟ اس واقعہ کے بعد آپ کو تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔‘‘ وہ رسٹ واچ دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
’’اے بلاک میں رہتی ہوں‘ بے حد شرمندہ ہوں آپ پر بوجھ بن گئی ہوں۔‘‘
’’اے بلاک… وہاں تو میں بھی رہائش پذیر ہوں‘ آیئے میں آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘ وہ اس کا بازو تھامے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کار میں بیٹھ گئی تھی۔ فاصلہ چونکہ زیادہ نہیں تھا وہ دس منٹ بعد اس کے بتائے گئے گیٹ کے سامنے کار روک چکا تھا۔
’’ارے آپ تو ہماری پڑوسن ہیں‘ یہ برابر والا بنگلہ ہمارا ہے۔‘‘ وہ باہر دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
’’جی… کبھی آپ کو دیکھا نہیں ہے یہاں پر۔‘‘
’’میں بزنس ٹور پر تھا چھ ماہ بعد واپس لوٹا ہوں۔‘‘
’’ہمیں یہاں آئے پانچ ماہ ہوئے ہیں‘ کیا آپ مجھے گھر تک سہارا نہیں دیں گے؟‘‘ اس کے بھرے بھرے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
’’میں آپ کے گھر میں اطلاع کردیتا ہوں‘ کوئی لے جائے آپ کو۔‘‘ وہ کچھ خشک لہجے میں مخاطب ہوا۔
’’گھر میں مما کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور وہ بھی بیمار ہیں۔‘‘ عمر نے گہرا سانس لے کر اسے سہارا دیا‘ گیٹ بیل بجانے پر درمیانی عمر کی عورت نے دروازہ کھولا اور بیٹی کو دیکھ کر حیرانی سے استفسار کیا۔
’’یہ کیا ہوا تم تو بالکل ٹھیک ٹھاک گئی تھیں؟‘‘ لڑکی نے کچھ نہیں کہا‘ عمر کو لے کر وہ لائونج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ وہ عورت بھی پیچھے آگئی تھی اور عمر کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتی رہی لڑکی نے مختصراً اپنی آپ بیتی سنائی تھی اور ساتھ عمر کا تعارف بھی کروایا‘ وہ سب سن کر عمر کے واری صداقے ہونے لگی۔
’’آپ مجھے شرمندہ نہ کریں‘ یہ میرا فرض تھا‘ اب مجھے اجازت دیں۔‘‘
’’آپ بیٹھیں تو سہی بیٹا! پہلی بار گھر آئے ہیں‘ میں کافی لاتی ہوں۔‘‘
’’نہیں شکریہ‘ پلیز ٹائم بہت ہوگیا ہے۔‘‘ وہ جانے کو مڑا۔
’’بہت مدد کی ہے آپ نے میری‘ میں دل سے آپ کی عزت کرتی ہوں۔ کیا آپ مجھے اپنا نام نہیں بتائیں گے؟‘‘ اس کا لہجہ ازحد مترنم تھا۔
’’عمر… عمر یوسف کہتے ہیں مجھے۔‘‘ خلاف عادت وہ مسکرا کر بولا۔
’’پریٹی نیم‘ مجھے چاندنی کہتے ہیں‘ یہ میری مما ہیں فردوس بیگم!‘‘
’’یہ میرا کارڈ ہے کبھی ضرورت پڑے تو بلا جھجک یاد کیجیے گا۔‘‘ اس نے جیب سے وزیٹنگ کارڈ نکال کر چاندنی کو دیا‘ نامعلوم ان کو تنہا دیکھ کر ہمدردی کا جذبہ اس کے اندر سرائیت کرگیا تھا یا چاندنی کے چاند جیسے روشن و گلاب جیسے مہکتے حسن نے اسے سحر زدہ کر ڈالا تھا۔
چاندنی اور اس کی ماں پر بھی اس کی ہینڈسم و ڈیشنگ پرسنلٹی اثر کر گئی تھی۔ چاندنی ماں کا سہارا لیے منع کرنے کے باوجود بھی اسے گیٹ تک چھوڑنے آئی تھی‘ فردوس بیگم نے پُرخلوص انداز میں دوبارہ آنے کی دعوت دی تھی۔ وہ گھر میں آیا تو اپنا آپ کچھ بدلا بدلا لگا تھا‘ مما اس کے انتظار میں جاگ رہی تھیں وہ ان سے مل کر اپنے بیڈ روم میں آگیا۔
/…ء…/
فردوس نے گہری نظروں سے بیٹی کو دیکھا جو ابھی بھی خوش بو کے حصار میں مقید تھی۔ کیا خوش بو تھی سحر انگیز‘ اپنے حصار میں جکڑ لینے والی۔
’’پائوں تو تمہارا بالکل ٹھیک ہے اس لڑکے کا سہارا لے کر تم ایسے چل رہی تھیں جیسے کوئی ہڈی ٹوٹ گئی ہے‘ پہلے تو میں گھبرا گئی تھی لیکن جب تمہارے چہرے پر نگاہ پڑی تو سمجھ گئی تمہاری نیت خراب ہوگئی ہے اس پر۔‘‘ ان کے قہقہے کا ساتھ اس نے بھی بھرپور انداز میں دیا تھا۔
’’عجیب مرد تھا وہ مما‘ وہ قمر کا بچہ مجھے کسی بوجھ کی مانند سڑک پر پھینک کر بھاگا تھا فوراً تو مجھ سے اٹھا ہی نہیں گیا تھا۔ میں بھی یہی سمجھی تھی کوئی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ میں نے گھبرا کر اس سے مدد کو کہا تھا اس نے شاید حادثاتی طور پر میری جان بچائی تھی مگر مجھے چھوکر سہارا دینے کو تیار نہ تھا‘ بڑی منتوں کے بعد اس نے سہارا دیا تھا بازو سے اور اتنا سمٹا سمٹا رہا گویا غلطی سے بھی مجھ سے ٹچ ہوا تو پتھر کا ہوجائے گا۔ مما! کیا مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو عورت کو نگاہوں سے بھی چھونا بُرا سمجھتے ہیں؟‘‘ چاندنی ابھی بھی عمر کی خوشبو کے حصار میں تھی۔
’’ارے میری جان! تم تو ایک ہی ملاقات میں عمر کی گرویدہ ہوگئی ہو‘ اب کے تیر الٹا چل گیا ہے۔‘‘ وہ اس کے قریب ہی بیٹھی تھیں۔
’’بس مما! وہ جس قدر ہینڈسم ہے اس قدر ہی بے پروا اور روڈ بھی ہے۔ ایک نگاہ اس نے میری طرف بھرپور انداز میں ڈالنا گوارا بھی نہیں کی۔‘‘
’’میری جان! وہ دیکھتا بھی کیسے‘ تم نے اس کے تعارف سے یہ نہیں جانا کہ وہ اس خبطی بڈھے کا بیٹا ہے جس نے پورے علاقے میں ہمارے خلاف محاذ کھول رکھا ہے وہ اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کسی نہ کسی طرح ہمیں یہاں سے نکال باہر کرے۔ ماہتاب صاحب اور رضوی صاحب جیسے اثر ورسوخ والے صاحبان کے بچے ہمارے گرد نہ ہوتے تو ہم کب کے یہاں سے شہر بدر کردیئے گئے ہوتے‘ اس بڈھے نے ابھی بھی ہار نہیں مانی ہے۔‘‘
’’او گریٹ آئیڈیا مما! آپ دیکھئے گا وہ بڈھا اب کس طرح سے اپنی ہی داڑھی میں منہ چھپا کر بیٹھتا ہے اسی کے ہتھیار سے اس کو ایسی شکست دوں گی کہ وہ جی نہیں پائے گا۔‘‘
’’ارے چھوڑ میں کہتی ہوں کیوں آگ سے کھیلنا چاہتی ہو۔‘‘
’’مما! قمر دوبارہ ہاتھ آنے والا نہیں ہے اب لائف اسپنڈ کرنے کے لیے ہم کو کوئی تگڑی آسامی تو چاہیے اور وہ عمر سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتی ہے۔‘‘ اس نے ماں کو عمر کا دیا ہوا وزیٹنگ کارڈ دکھاتے ہوئے کہا اور فردوس کی جہاندیدہ نگاہوں نے بیٹی کی نظروں میں لو دیتی چاہتوں کی ضیاء محسوس کرلی تھی۔ آج انہونی ہوئی تھی کل تک اس شمع پر پروانے جل مرتے تھے‘ آج وہ شمع خود عمر پر پروا نہ وار نثار ہوگئی تھی۔
’’مما! آپ کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘
’’وہ قمر بدمعاش تمہیں ڈنر کے بہانے سے لے کر گیا تھا‘ مکار آدمی نے ذر ابھی احساس ہونے نہیں دیا کہ وہ تمہیں اغوا کرکے لے جانے کا پلان بناکر آیا تھا اگر بروقت عمر نہیں آتا تو نامعلوم کہاں لے کر جاتا میری بچی کو اور نہ جانے کس طرح سے پیش آتا تم سے؟‘‘ وہ ایک جھرجھری لے کر رہ گئی تھیں۔
’’میں قمر کو اس کے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتی مما! میں چکنی مچھلی کی طرح اس کی گرفت سے نکل جاتی۔‘‘
/…ء…/
اس نے حماد کو غصے سے دیکھا جس نے بائیک ساحل پر روک دی تھی۔
’’ارے بھئی کب تک اس طرح گھور گھور کر دیکھتی رہوگی؟ مانا کہ بے حد ہینڈسم و اسمارٹ بندہ ہوں لیکن خوب صورت ہونے کا یہ مقصد تھوڑی ہے تم نظر لگا کر ہی چھوڑو۔‘‘ وہ اس کی نگاہوں کی تپش کو اپنے شوخ لہجے کی ٹھنڈک میں سموکر گویا ہوا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے لگا۔
’’ہاتھ چھوڑو میرا حماد! میرے بار بار منع کرنے کے باوجود تم یہاں آئے ہو۔‘‘ مائدہ نے غصے سے کہتے ہوئے اس سے ہاتھ چھڑایا اور وہیں کھڑی ہوگئی۔
’’تم سیدھے طریقے سے میرے ساتھ آنے پر راضی کب ہوتی ہو‘ ہر بار مجھے اسی طریقے سے تمہیں لانا پڑتا ہے اور تم بجائے میری احسان مند ہونے کے خفا ہوتی ہو‘ یہ تمہارا برتائو ٹھیک نہیں ہے مائی ڈئیر! تم ناراض ہوتی ہو تو میں تمہیں منا لیتا ہوں۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا ایک دم ہی سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’مگر یاد رکھنا جس دن میں ناراض ہوگیا تم مجھے منا نہیں پائو گی۔‘‘ نامعلوم کیسا حزن اتر آیا تھا اس کے لہجے میں ہنستے مسکراتے چہرے پر دبیز سنجیدگی چھا گئی تھی۔
یہ کیا کہہ دیا تھا اس نے مائدہ کا دل پل بھر کو تھم سا گیا تھا‘ وہ جہاں تھی وہاں جم سی گئی پھر دوسرے پل اسے لگا سامنے سمندر کی موجوں کا تمام نمک اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا ہو اور لہریں آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے بہنے لگی تھیں۔
’’او گاڈ! یہ سمندر اور سمندر جیسی آنکھیں رکھنے والی لڑکی! معاف کردو مجھے‘ میں جانتا ہوں عورت کے آنسو اور سمندر میں یکسانیت ہے۔ میں مذاق کررہا تھا تم سے‘ میری کیا مجال جو تم سے خفا ہوں اور اور اگر کبھی ہو بھی جائوں گا…‘‘ اسے بے تحاشہ روتے دیکھ کر وہ قدرے بوکھلا کر بے ربط بول رہا تھا وہ تھی کہ روئے جارہی تھی۔
’’مائدہ پلیز… کیوں میری برداشت کا امتحان لے رہی ہو تم؟‘‘
’’اور تم کیا کہہ رہے ہو حماد! ایسی بات کرکے تم نے مجھے زندگی سے دور کرنے کی سعی کی ہے‘ کیا میں تم سے دور رہنے کا تصور کرسکتی ہوں؟‘‘
’’اب تم نے محسوس کیا کس طرح دل بند ہونے لگتا ہے جب کوئی اپنا ہم سے دور ہونے کی سعی کرتا ہے۔ تم نے محسوس کیا نہ اپنوں سے جدائی کے خیال سے کس طرح زندگی سانسوں سے خالی ہونے لگتی ہے۔ مجھے امید ہے تم آئندہ کبھی مجھے دکھی کرنے کی کوشش نہیں کرو گی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ مائدہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا‘ پھر دونوں مسکراتے ہوئے ایک پتھر پر بیٹھ گئے تھے یہ موسم سرما کی ڈھلتی ہوئی دوپہر تھی۔ سمندر شانت تھا لہریں ہولے ہولے ساحل سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں‘ ہوائوں میں ٹھنڈک تھی جو سورج کی شعاعوں سے خوش گوار لگ رہی تھی۔
’’ایسے سرد موسم میں بھی کوئی ساحل سمندر پر آتا ہے بھلا؟‘‘ اس نے بھونی ہوئی مونگ پھلی کھاتے ہوئے کہا‘ اس وقت وہاں ان کے علاوہ ایک کپل تھا جو خاصا دور موجود تھا اور اتنے ہی فاصلے پر ایک فیملی تھی اور چند لوگ تھے‘ اکا دُکا اونٹ والے تھے‘ ماحول میں طمانیت بھری خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
’’ایسے موسم میں ہی تو سمندر پر آنے کا مزہ ہے‘ دیکھ رہی ہو کتنا سکون ہے۔ قدرت کس قدر نزدیک محسوس ہورہی ہے‘ ہر شے میں ربّ کی وحدت و نور چمک رہا ہے‘ عام دنوں میں ایسا کہاں ممکن ہے‘ یہ سب محسوس کرنے کے لیے سکون و تنہائی میسر ہونی چاہیے۔‘‘ وہ قدرت کے ہر نظارے کا شیدائی تھا‘ مالک کائنات کی ہر صنائی اسے سرور و شاداب کردیتی تھی۔ وہ ہر موسم کو خوب انجوائے کرتا تھا۔
’’حماد! تم ڈاکٹر کیوں بن گئے ہو؟ تمہیں تو شاعر و ادیب ہونا چاہیے تھا۔ ہر موسم کو جس اپنائیت و شدت سے تم محسوس کرتے ہو‘ ایسا کرتے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ گرمی‘ سردی‘ خزاں و بہار اور بارش ہر موسم آتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن تمہارے دل پر ہر موسم اپنا رنگ چھوڑ جاتا ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ حماد کے چہرے سے ازحد مسرت عیاں تھی‘ وہ پیراڈائز کے ساحل پر موجود تھے‘ جہاں دھوپ سمٹنے لگی تھی۔
’’ڈاکٹر اور رائٹر کی ایک قدر مشترک ہے‘ ویسے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔‘‘
’’اچھا وہ کیا قدر ہے جو مشترک ہے؟‘‘ وہ چہرے پر آنے والی لٹوں کو پیچھے کرتی ہوئی گویا ہوئی‘ جبکہ وہ فضا میں اڑتے پنچھیوں کو دیکھ رہا تھا جو سمندر کی لہروں کے مانند قطار در قطار محو پرواز تھے۔
’’دیکھو ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے اور رائٹر روح کا‘ ڈاکٹر ادویات کے ذریعے اور ادیب اشعار و تحریروں کے ذریعے طمانیت و خوشیاں فراہم کرتا ہے۔ عزم دونوں کا ایک ہی ہے یعنی خلق خدا کی خدمت کرنا۔‘‘
’’شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو اس بارے میں میں کوئی کمنٹس پاس نہیں کرسکتی کیونکہ میں نہ رائٹر ہوں‘ نہ شاعرہ ہوں اور نہ ڈاکٹر ہوں۔‘‘
’’ایک ڈاکٹر کی لائف پارٹنر تو بننے والی ہو۔‘‘
’’حماد! اگر ایسی باتیں شروع کیں تو میں دوبارہ تمہارے ساتھ آنے والی نہیں۔‘‘ حماد کو شوخی میں دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’اوکے بابا! سوری‘ تم تو مذاق میں بھی سیریس ہوجاتی ہو‘ تم سے اچھی میری کولیگز ہیں جو میرے مذاق کا جواب مذاق میں ہی دیتی ہیں‘ اب تم ان سے جیلسی فیل کرو گی۔‘‘ وہ ہنستا ہوا بولا۔
/…ء…/
وہ راکنگ چیئر کی بیک سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا اس کے سنجیدہ چہرے پر کچھ دکھ و کبیدگی بھرے تاثرات تھے۔
کئی دنوں سے مما کا اصرار تھا کہ وہ شادی کرے کیونکہ وہ اب اسٹیبلشڈ تھا‘ خاندان کے کئی لوگ اسے داماد بنانے میں انٹرسٹڈ تھے اور اہم بات یہ تھی مما‘ پاپا بھی دل سے خواہاں تھے اس کی خوشیاں دیکھنے کے لیے اور وہ بھی ہامی بھر ہی لیتا اگر مما کی پسند کی کوئی لڑکی اس کی ہم سفر بننے کے لیے منتخب کی جاتی مگر یہاں بھی ہمیشہ کی طرح پاپا کی مرضی و پسند مسلط کیے جانے کا ارادہ پروان چڑھ رہا تھا۔ ان کی ڈکٹیٹر شپ نے اس کی زندگی کے ہر اس پل کو بے رنگ و بو کر ڈالا تھا جو نوجوان زندگی کے بے فکر لا اُبالی و کھلنڈرے رنگ ہوتے ہیں اب مزید وہ ان خوف زدہ بداعتماد اور بے کیف رنگوں سے اپنی باقی ماندہ زندگی بے نور نہیں کرنا چاہتا تھا۔
’’عمر! یوسف کے دوست کی بیٹی ہے میں اس کا نام بھول گئی ہوں‘ وہ چاہتے ہیں آپ کی لائف پارٹنر وہ لڑکی بنے۔‘‘
’’مما! میں کب تک پاپا کی انگلی پکڑ کر چلوں گا؟ کب تک ان کی آنکھوں سے دیکھوں گا؟ کب تک ان کے ذہن سے سوچوں گا‘ میرے خیال میں اب مجھے پاپا کے مشوروں کی ضرورت نہیں۔ شادی میرا پرنسل میٹر ہے اور کس سے کرنی ہے یہ فیصلہ میں خود کروں گا‘ پاپا نہیں۔‘‘ یک دم ہی سیل بج اٹھا تو وہ چونک کر سوچوں سے باہر نکلا تھا۔
’’ہیلو۔‘‘ اس نے اسکرین پر چمکتے نامانوس نمبر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہیلو… کیسے ہیں آپ؟ آپ نے پلٹ کر خیریت ہی دریافت نہیں کی؟‘‘ دوسری جانب سے خاصی دلکش و مترنم آواز اُبھری تھی وہ دم بخود رہ گیا۔ کون تھی وہ جو اتنی اپنائیت سے بات کررہی تھی؟
’’ہیلو… ہیلو مسٹر عمر!‘‘ آواز میں کچھ پریشانی در آئی۔ آپ نے مجھے پہچانا نہیں شاید‘ میں چاندنی ہوں‘ آپ نے میری…‘‘
’’اوہ یس! ایم سوری میں آپ کو پہچان نہ سکا تھا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولا۔
’’اب تو پہچان لیا نہ آپ نے؟‘‘ اپنی گرم جوشی کے جواب میں اس کا سرسری انداز چاندنی کو مضطرب کرگیا جبکہ وہ اسی انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’جی‘ پہچان گیا ہوں‘ کہیے کیسے کال کی آپ نے‘ خیریت ہے؟‘‘ چند لمحے خاموشی کے بعد التجائیہ انداز میں گویا ہوئی تھی۔
’’جی‘ بے حد ضروری کام ہے میں فون پر نہیں بتاسکتی اگر آپ گھر تشریف لے آئیں تو بہت مہربانی ہوگی‘ آپ آئیں گے نا؟‘‘
’’ایسا کیا کام ہے جو آپ فون پر نہیں بتاسکتیں؟‘‘ لہجہ سرد تھا۔
’’کام ہی ایسا ہے اگر آپ نہ آنا چاہیں تو میں فورس نہیں کروں گی‘ ہم تنہا عورتوں کی مدد بھلا کوئی مرد کیوں کرنے لگا؟‘‘ اس کا خوب صورت لہجہ ایک دم ہی بھیگ سا گیا اور ساتھ ہی لائن ڈسکنیکٹ کردی تھی۔ عمر چند ثانیے ہاتھ میں موجود موبائل فون کو دیکھتا رہا پھر وہ میٹھی میٹھی‘ روٹھی روٹھی سی آواز حواسوں پر غالب آنے لگی تھی وہ کتنی دیر یونہی گم سم بیٹھا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ارے بیٹا! چاندنی یونہی بزدل و کمزور دل لڑکی ہے اس کی کال پر آپ اپنا کام چھوڑ کر آگئے‘ میں بے حد شرمندگی محسوس کررہی ہوں۔‘‘ فردوس معذرتی لہجے میں سامنے بیٹھے عمر سے گویا تھیں جو سیدھا وہاں چلا آیا تھا۔
’’بزدلی کی کیا بات ہے مما! رات میں نے خود محسوس کیا تھا کوئی گیٹ کھولنے کی کوشش کررہا تھا‘ کسی نے خاصی محنت کی تھی وہ تو شاید قسمت اچھی تھی جو لاک کھل نہ سکے اور وہ کئی لوگ تھے‘ میں جو ڈور سے لگی کھڑی تھی ان کے قدموں کی آواز صاف سنی تھی۔‘‘ وہاں موجود چاندنی نے خاصے بھولپن و خوف زدہ لہجے میں کہا۔
’’آپ اسی ٹائم کال کرتیں مجھے‘ میں دیکھتا کون لوگ تھے؟‘‘
’’ارے اچھا ہوا بیٹا جو اس وقت چاندنی کو کال کرنے کا خیال نہیں آیا۔‘‘
’’کیوں کہہ رہی ہیں آپ اس طرح‘ میں اسی لیے کارڈ دے کر گیا تھا کہ پریشانی میں آپ کی مدد کرسکوں۔‘‘ وہ خاصا مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔
’’وہ چور ڈکیت ہوں گے بیٹا اور ایسے لوگوں کے پاس اسلحہ لازمی ہوتا ہے‘ بلا جھجک فائر کردیتے ہیں وہ لوگ۔ میں نہیں چاہتی ہماری وجہ سے آپ پر کوئی آنچ بھی آئے‘ اللہ آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھے‘ بہت نیک و بے غرض بچے ہیں‘ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے مجھے۔‘‘ وہ واری صدقے جانے لگیں۔
’’آپ بہت نائس ہیں آنٹی! میں گارڈز آپ کے گیٹ پر لگا دیتا ہوں۔‘‘ وہ ان خوش اخلاقی و سادگی پر اپنے سرد و خشک رویے پر نادم ہونے لگا۔
’’ارے نہیں نہیں بیٹا! یہاں کے لوگ تو پہلے ہی ہم پر انگلیاں اٹھاتے ہیں‘ ہم ماں بیٹی کے بارے میں نامعلوم کیا کیا نازیبا باتیں کرتے ہیں۔ دراصل مردوں کے معاشرے میں ہم جیسی بے سہارا عورتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا‘ ہمیں لوٹ کا مال سمجھتے ہیں اگر ان چاہ پوری کردو تو ٹھیک ہے وگرنہ ہم جیسی بدنصیب عورتیں گالی بن کر رہ جاتی ہیں۔‘‘ باوجود ضبط کے ان کی آواز بھراّ گئی تھی۔ چاندنی کے مومی رخساروں سے سفید موتی پھلسنے لگے‘ کنول جیسی خوش نما آنکھوں میں طغیانی سی در آئی۔
’’آنٹی! میں خود کو فرشتہ نہیں کہہ رہا لیکن آپ مجھے ان مردوں سے مختلف پائیں گی جو عورتوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کو مردانگی سمجھتے ہیں۔‘‘
’’جگ جگ جیو میرے بچے! آپ نے مردانگی کی لاج رکھی ہے ہمارے لیے تو آپ فرشتہ ہی ہیں۔ ارے نماز کا ٹائم ہونے والا ہے‘ پہلے میں کافی لاتی ہوں پھر نماز ادا کروں گی‘ آج انکار کی گنجائش بالکل نہیں ہے بیٹا۔‘‘ وہ ایک دم ہی وال کلاک دیکھتی ہوئی اٹھی تھیں‘ ساتھ ہی اسے تنبیہ بھی کی تھی۔ چاندنی نے آنسو خشک کرلیے تھے مگر روٹھی روٹھی کھڑی تھی۔
’’ایم سوری‘ میں نے آپ کو کال کی‘ نیکسٹ ٹائم نہیں کروں گی۔‘‘ عمر کو اپنی جانب دیکھتا پاکر وہ ایک ادائے خفگی سے گویا ہوئی۔
’’کیوں… آپ شاید بے حد خفا ہیں مجھ سے‘ کیا ہوا؟‘‘ اس کے پُروقار لہجے میں کچھ کچھ خجالت و تکلف سا تھا۔
’’آپ کو احساس نہیں ہے کس قدر روڈ لہجے میں بات کی تھی آپ نے‘ لڑکیوں سے اس طرح بات کرتے ہیں کیا؟‘‘
’’میرے ایٹی ٹیوڈ سے آپ ہرٹ ہوئیں‘ میں گلٹی فیل کررہا ہوں دراصل‘ مجھے گرلز سے بات کرنے کے مینرز نہیں ہیں میرا مطلب ہے میں… میری کسی سے فرینڈ شپ نہیں ہے اس لیے میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ اس کے وجیہہ چہرے پر شرمندگی آمیز دھیمی مسکراہٹ ابھر آئی تھی‘ وہ اس کے انداز پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’وعدہ کرتا ہوں اب کبھی آپ سے اس لہجے میں بات نہیں کروں گا۔‘‘ اس کی مسکراتی نگاہوں میں محبت کی قندیلیں لو دینے لگی تھیں پھر اس کی بے رنگ زندگی میں چاندنی کرنیں پھیلانے لگی اور وعدے و ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔
/…ء…/
رضوانہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کڑی نگاہوں سے بیٹی کو دیکھا تھا جو فون پر باتیں کررہی تھی ان کو آتے دیکھ کر جلدی سے الوداعی جملے کہہ کر فون بند کردیا تھا اور بکھرے کشنز سمیٹنے لگی تھی۔
’’کب ختم ہوں گی تمہاری لا ابالی حرکتیں‘ شرم کرو کچھ۔ حماد لڑکا ہے وہ ان نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکتا جو تم باآسانی سمجھ سکتی ہو مگر تم ہو کے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔ گھر میں وہ ساتھ ساتھ رہتا ہے اور گھر سے باہر ہو تو تم فون سے دور ہٹنا گوارا نہیں کرتی۔‘‘
’’ممی! کیوں آپ ہم پر اتنی نظر رکھتی ہیں؟ حماد کوئی غیر نہیں ہے‘ میرا کزن ہے اور ہم ایک دوسرے کے ہونے والے ہیں‘ یہ آپ لوگوں کا ہی فیصلہ ہے پھر اعتراض بھی آپ لوگ ہی کرتے ہیں ہمارے ملنے جلنے پر؟‘‘
’’ہاں یہ ہمارا ہی فیصلہ ہے کہ تم دونوں کی شادی کردی جائے لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ تم خاندانی اقدار کی پامالی کرو۔‘‘
’’ممی! میں اور حماد ملتے ضرور ہیں مگر خدا گواہ ہے ہم نے کبھی بھی آپ کی محبت اور اعتماد کو معمولی سا بھی داغدار کرنے کی سعی نہیں کی کبھی بھی۔‘‘ اس کی شفاف نگاہیں و مضبوط لہجہ اس کی بات کی گواہی دے رہا تھا۔
’’مانتی ہوں میں تمہاری ہر بات سچی ہے‘ حماد کے اعلیٰ کردار سے بھی میں واقف ہوں مگر بیٹی! ہم خاندانی لوگ ہیں ہمارے ہاں یہ سب معیوب سمجھا جاتا ہے۔ عارف بھی میرے سگے پھوپی زاد تھے‘ بچپن میں ہی ہماری منگنی کردی گئی تھی جب ہم ان رشتوں کے معنی سے بھی ناواقف تھے ہمارے درمیان تب سے ہی پردہ حائل کردیا تھا پھر وہ پردہ شادی پر ہی ختم ہوا تھا۔‘‘ رضوانہ نے مسکراتے ہوئے اس کو رسانیت سے سمجھایا۔
’’ممی! وہ سب اس دور میں ممکن تھا جو گزر گیا آپ اس دور کی بات کریں جہاں کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود بھی رشتے قائم ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’جو ناجائز رشتے کہلاتے ہیں اور ان رشتوں کی گند پورے معاشرے کے بگاڑ کا باعث بن رہی ہے‘ شریف لوگوں کا جینا ہی مشکل ہوگیا ہے۔‘‘
’’افوہ ممی! آپ غلط سمجھ رہی ہیں سب جگہ ایسا نہیں ہوتا۔‘‘
’’میں صرف تمہاری بات کررہی ہوں‘ آج ایسی کوئی بات نہیں کرو جو کل تمہیں پچھتانے پر مجبور کردے۔‘‘ وہ ماں کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
/…ء…/
یوسف صاحب کی زیرک نگاہیں خاموشی سے بیٹے کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں‘ چائے کا مگ جس کے لبوں سے لگا ہوا تھا مگر نگاہیں بار بار رسٹ واچ کو چھو رہی تھیں۔ لوازمات سے بھری ٹیبل سے ماں و بہن کے اصرار پر بھی کچھ نہیں لیا تھا نامعلوم ان کے خوف سے یا مروتاً ہاف کپ ٹی لے لی تھی۔
’’برخوردار! کس سے ملنے کی ایسی بے قراری ہے جو کچھ ٹائم اپنی فیملی ممبرز کے ہمراہ گزرنا بھی محال لگ رہا ہے آپ کو؟‘‘ وہ تیکھے لہجے میں عمر سے مخاطب ہوئے تھے عمر نے ماں کی طرف دیکھا جن کے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کانپ گئی‘ چہرے کا رنگ سپید پڑنے لگا۔
’’فرینڈ سے ملنے جارہا ہوں۔‘‘ اس نے نگاہیں اٹھائے بغیر آہستگی سے کہا۔
’’فرینڈ سے… یہ فرینڈ کون ہے جس کے آگے گھر والوں کی اہمیت صفر ہے۔‘‘
’’آپ کہاں جانتے ہیں عمر کے سارے فرینڈز کو۔‘‘
’’جانتی تو تم بھی نہیں ہو صاحب زادے کے سارے فرینڈز کو لیکن یہ کوئی نئی دوستی لگتی ہے جس نے تمام ہوش و حواس سلب کردیئے ہیں‘ میں بھی ملنا چاہوں گا اس نئے فرینڈ سے‘ میں بھی ساتھ چل رہا ہوں۔‘‘ یوسف کی جہاندیدہ نگاہوں نے اس کی بے قراری سے کچھ اخذ کرلیا تھا یا شاید وہ اس میں بغاوت کی بو سونگھ چکے تھے۔ عمر کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا تھا اس نے جھٹکے سے مگ ٹیبل پر رکھ تو وہاں موجود ملائکہ نے سراسیمہ ہوکر ماں کی طرف دیکھا جو پہلے ہی بدحواس تھیں۔
’’پاپا! اب مجھے آپ کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے پلیز میں اچھے اور بُرے کی تمیز کرسکتا ہوں‘ مجھے گائیڈ کرنا چھوڑ دیں آپ پلیز۔‘‘ سالوں کی دل میں بھری کدورت آج زبان پر در آئی تھی ماحول یک دم مکدر ہوگیا۔ فضا گویا ایک دم ہی ساکت ہوگئی مہربانو اور ملائکہ دہل کر رہ گئی تھیں جبکہ عمر آتش فشاں کی مانند کھڑا تھا۔
’’گڈ نیوز ہے… ماشاء اللہ میرا بیٹا جوان ہی نہیں عقل مند بھی ہوگیا ہے‘ اعلیٰ فہم و فراست کا مالک بن گیا اور ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی۔‘‘ عمر کے اس بدلے ہوئے انداز سے وہ ذرا بھی مرعوب نہیں ہوئے تھے۔
’’یوسف! آپ بھی بے وجہ کی باتیں کرتے ہیں‘ جانے دیں عمر کو یہ فرینڈ سے ملنے جارہا ہے جلد واپس آجائے گا۔‘‘ مہربانو نے حوصلہ کرکے ان کے درمیان بات کو طول پکڑنے سے روکا تھا۔
’’جائے شوق سے جائے لیکن ایک بات تم بھی کان کھول کر سن لو‘ باہر کی دوستیاں باہر ہی رہنی چاہئیں اس گھر میں تمام فیصلے کرنے کا اختیار مجھے ہے اور…‘‘ وہ عمر کو گھور کر گویا ہوئے۔ ’’مجھے ہی رہے گا اپنے حق کے لیے میں کسی کی پروا کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘ ان کے لہجے میں عجیب قطعیت و جارحیت تھی وہ گھر سے چلا آیا تھا گھر سے کچھ دور چوک پر چاندنی اس کا انتظار کررہی تھی‘ وہ احتیاطی تدابیر کے تحت یہی طریقہ کار اپنائے ہوئے تھی۔ شروع میں عمر نے سخت ناپسند کیا تھا اسے اس طرح پک اینڈ ڈراپ کرنے پر ان ماں بیٹی نے بدنامی‘ رسوائی اور لوگوں کی باتوں و طعنوں کا خوف ظاہر کیا تو اس کی سمجھ میں بھی بات آگئی تھی کیونکہ وہ چاندنی کو دل و جان سے چاہنے لگا تھا اور جانتا تھا ماں اور بہن اس کی خوشی میں خوش ہوں گی اس کے برعکس باپ کو منانا ازحد مشکل اور صبر طلب مرحلہ ہوگا کیونکہ وہ خاندان سے باہر بیٹی دینے اور لینے کے بہت خلاف تھے اس دور میں بھی وہ اپنی روایات کے قائل تھے۔
چند ملاقاتوں میں وہ چاندنی کے اس قدر قریب آگیا تھا کہ اب جدائی کا تصور ہی سوہان روح تھا۔ دوسری طرف چاندنی کی بھی یہی خواہش تھی وہ جلد از جلد اس کی بن جانا چاہتی تھی وہ اور اس کی ممی مل کر اس پر شادی کے لیے دبائو ڈال رہی تھیں‘ آج بھی وہ ڈنر کرنے اپنے پسندیدہ ہوٹل میں آئے تو چاندنی نے اسے پریشان دیکھ کر وجہ پوچھی۔
’’بہت اداس لگ رہے ہو‘ جھگڑا ہوا ہے کسی سے؟‘‘ مینیو کارڈ نظر انداز کرکے اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
’’نہیں‘ کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔‘‘ اس نے مخروطی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
’’کوئی تو بات ہے جو موڈ اتنا آف ہے‘ کیا شادی کی بات کی ہے؟‘‘
’’شادی کی بات…؟ تم میرے پاپا کی فطرت سے واقف نہیں ہو‘ وہ نیرو مائنڈڈ‘ بیک ورڈ اور بے حد سیلفش ہیں وہ آسانی سے ہماری شادی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ وہ گویا خود سے ہم کلام تھا‘ شدید ڈپریشن کے باعث اس کی صاف پیشانی پر نیلی رگ ابھر آئی تھی۔
/…ء…/
’’ارے تم سے ابھی تک یہ پیاز نہیں کاٹی گئی حد ہوتی ہے نالائقی اور پھوہڑ پن کی بھی سورج سر پر چڑھ آیا ہے تمہارے بابا اور حماد کے گھر واپسی میں کیا ٹائم رہ گیا ہے‘ ان کو وقت پر کھانا نہ ملے تو گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں اور تم ہو کے ذرا سی پیاز کاٹ کر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہو۔‘‘ رضوانہ نے کچن میں قدم رکھتے ہی پیاز کا ڈھیر جوں کا توں رکھا دیکھ کر غصے میں کہا۔ مائدہ ایک پیاز کاٹنے کے بعد آنکھوں میں ہونے والی جلن کے باعث بے حال تھی‘ پیچھے آتی رخسانہ نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’توبہ ہے رضوانہ! کبھی نرمی سے بھی بات کرلیا کرو بچی سے‘ تمہاری زبان جو ریل کی طرح چلتی ہے تو رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔‘‘
’’باجی! آپ اس کی ناجائز طرف داری ہر وقت نہ کیا کریں‘ ایگزامز سے فارغ ہوگئی ہے اب گھر داری سیکھ لینی چاہیے تاکہ ہم کبھی گھر میں نہ ہوں تو یہ کھانا پکا سکے ابھی بھی دیکھیں قورمے کے لیے پیاز کاٹنے کو دے کر گئی تھی کہ آتے ہی پکا لوں گی‘ مگر یہ مہارانی ایک پیاز کاٹ کر آنسو بہانے بیٹھ گئی ہے ایسا بھی ہوتا ہے کیا؟‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے کام میں لگ گئی تھیں۔
’’اپنا دل مت جلائو‘ آہستہ آہستہ سب کام کرنا آجائے گا اور قورمہ چکن کا پکنا ہے جو منٹوں میں پک جاتا ہے۔‘‘ مائدہ کو آنکھ کے اشارے سے باہر جانے کا کہہ کر وہ بھی پیاز کاٹنے لگی تھیں۔
’’جان بچی سو لاکھوں پائے کے مصداق پائوں دبا کر بھاگ لو یہاں سے تم۔‘‘ وہ اسے جاتے دیکھ کر طنزاً گویا ہوئی تھیں‘ مائدہ جھجک کر رک گئی۔
’’لان میں کپڑے سوکھ چکے ہوں گے ان کو پریس کرکے ہینگ کرو۔‘‘
’’جی اچھا ممی!‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل آئی اور باہر لگے بیسن سے منہ ہاتھ دھوکر بالوں میں برش کرکے وہ لان کے اس حصے کی طرف چلی آئی جہاں پر ماربل کا فرش گھاس و پودوں سے خالی تھا۔ سرخ ٹائلز والی چھت اور جدید طرز سے بنا یہ کبھی گیراج کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ آصف کی وفات کے بعد عارف کاروباری کرائسز میں ایسے پھنسے کے یکے بعد دیگرے دونوں گاڑیاں فروخت کرنی پڑی تھیں‘ بینک بیلنس صفر ہوکر رہ گیا تھا۔
حالات ان تھک محنت کے بعد پہلے جیسے تو نہ ہوسکے تھے البتہ بہتر ضرور تھے‘ انہوں نے اپنے استعمال کے لیے ایک پرانی شیراڈ خرید لی تھی۔ حماد نے ان کے لیدر کے بزنس میں دلچسپی نہ لی تھی وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن دلایا تھا اور ساتھ ہی بائیک بھی دلا دی تھی۔
مائدہ کامرس کا ایگزام دے کر فارغ تھی‘ وہ تمام کپڑے سمیٹ کر اندر جانا ہی چاہتی تھی جب اس کی نگاہ شیڈ کے نیچے کھڑی حماد کی بائیک پر پڑی تو وہ چونک گئی۔
’’ارے تم کب آئے؟‘‘ وہ کپڑے روم میں رکھ کر اس کے روم میں چلی آئی‘ جو خلاف عادت خاموش و سنجیدہ بیڈ پر نیم دراز گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’ابھی‘ کچھ ہی دیر پہلے آیا ہوں‘ بیٹھو نا تم۔‘‘ وہ چونک کر گویا ہوا۔
’’کیا بات ہے حماد! تم خاموشی سے گھر آئے اور اب پریشان اور اداس دکھائی دے رہے ہو اس طرح سیریس تو تم کبھی نہیں ہوئے۔‘‘ وہ بھی خاصی پریشان ہوکر استفسار کرنے لگی۔
’’رات ایک کیس آیا ہسپتال میں وہ دونوں گرل بوائز محبت کرتے تھے‘ شادی کرنا چاہ رہے تھے لیکن وہ ہی ہمارے معاشرے کے فرسودہ رسم و رواج‘ ذات و پات‘ امیر ی و غریبی کی بہیمانہ چپقلش ان کی راہ کی رکاوٹ بن گئی اور ان کو انتہائی موڑ پر لے گئی۔‘‘
’’اوہ… ایسا کیا ہوا ان کے ساتھ؟‘‘ اس کی پریشانی میں وہ بھی شریک ہوگئی تھی۔
’’انہوں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔‘‘ وہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھا۔
’’مائی گاڈ! حماد یہ تو بہت بُرا طریقہ ہے گناہ کی موت۔‘‘
’’اس کے ذمہ دار وہ والدین ہیں جو نہ مذہبی اقدار کو مانتے ہیں‘ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے آگے بچوں کی خواہشوں کو رد کردیتے ہیں۔‘‘ کہتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بکھرے بال اور سرخ آنکھیں وہ بکھرا بکھرا لگ رہا تھا۔
’’لڑکی کی ڈیڈ باڈی اس کے گھر والے لے گئے وہ جانبر نہ ہوسکی تھی اور وہ لڑکا بچ گیا ہے دو دن بعد ہوش آیا ہے اسے اور آنکھ کھولتے ہی اس نے اپنی محبوبہ کا پوچھا گھر والوں نے جھوٹ کہہ دیا وہ لڑکی گھر چلی گئی ہے اس کے صحت مند ہوتے ہی ان کی شادی کردی جائے گی۔ لڑکا خوش ہے اس کی خودکشی رنگ لے آئی‘ اب گھر والے پچھتا رہے ہیں ان کی شادی کردیتے تو اچھا ہوتا اور میں سوچ رہا ہوں چند ہفتے بعد وہ ڈسچارج ہوکر گھر جائے تو گھر والے کب تک اسے بہلائیں گے؟ جب اس پر یہ انکشاف ہوگا کہ ساتھ جینے و مرنے کی قسمیں کھانے والے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ہیں‘ جدا ہوگئے ہیں تو وہ کس طرح فیس کرے گا؟‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی تھی وہ یک ٹک مائدہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’سو سیڈ… لیکن تم ایک ڈاکٹر ہو حماد! اس طرح کیسز کو خود پر حاوی کرو گے تو تم کسی کو انجکشن بھی نہیں لگا پائو گے‘ ڈاکٹرز تو بہت سخت دل ہوتے ہیں اور اس فیلڈ میں سنگ دل ہونا ہی بیسٹ ہے۔‘‘ اس نے رسانیت سے اس کو سمجھانے کی سعی کی تھی۔
’’میں اپنے پیشے کی ریکوائرمنٹ پوری کرتا ہوں مائدہ! مگر اس حادثے نے میرے دل پر بے حد اثر ڈالا ہے میں نے رات سے کچھ نہیں کھایا یہاں تک کہ کافی تک نہیں پی‘ اس لڑکے کی نگاہوں میں جو ملن کی جوت جلتی میں دیکھ رہا ہوں‘ وہ جوت بجھے گی تو اس کی زندگی ہی اندھیر ہوجائے گی۔‘‘
/…ء…/
سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگاتی فردوس ترچھی نظروں سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جو سیل کان سے لگائے محو گفتگو تھی اس کے چہرے کے بنتے بگڑتے زاویوں کے ساتھ ساتھ ان کی نگاہوں کا ارتکاز بھی بدل رہا تھا۔
’’ہوں‘ کیا کہہ رہا ہے عمر! بات کی اس نے شادی کی یا محض ٹائم پاس کررہا ہے دوسرے لوگوں کی طرح جو آتے ہیں دل بہلاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں؟‘‘ اس کے چہرے پر چھائی غم و جھنجلاہٹ دیکھ کر وہ طنزاً گویا ہوئی تھیں۔
’’مما! وہ عام لوگوں جیسا بالکل بھی نہیں ہے اس نے کبھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کی ہے‘ بہت محبت کرتا ہے وہ مجھ سے عزت کرتا ہے۔‘‘
’’مردوں کے کئی روپ ہیں میری جان! یہ سب تم کو عمر گزرنے کے ساتھ معلوم ہوگا‘ میں کہتی ہوں بلاوجہ اس لڑکے کی خاطر ٹائم ضائع نہ کرو وہ ٹیڑھے مزاج کے باپ کی اولاد ہے‘ اس کے مزاج میں سیدھا پن کس طرح ہوسکتا ہے۔ وہ صرف تمہیں الجھا رہا ہے کسی موقع کی تلاش میں ہے جب بھی موقع ملا وہ تمہیں دودھ میں مکھی کی طرح نکال پھینکے گا۔‘‘
’’عمر ایسا نہیں ہے یہ مجھے یقین ہے مما!‘‘ وہ بکھرے بالوں کو سمیٹتی ہوئی بولی۔
’’نامعلوم تم کن خوش فہمیوں کی وادی میں گم رہنے لگی ہو چاندنی! عمر کی خاطر تم نے دوسرے فرینڈز پر دروازے بند کردیئے ہیں اور محسوس ہوتا ہے تم اپنے ساتھ میرے نصیب پر بھی قفل لگا رہی ہو‘ تمہای اس بے رخی سے یہاں آنے والے ہمارے دشمن بن جائیں گے۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہم یہاں رہ رہے ہیں وگرنہ سب سے بڑا ہمارا مخالف عمر کا باپ ہے اور اسے کسی روز معلوم ہوگیا عمر سے تمہاری دوستی کا تو نامعلوم وہ کیا کر گزرے گا۔‘‘ اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاتے ہوئے اندیشوں بھرے لہجے میں کہا۔
’’میں شادی کے بعد عمر کو اس کے گھر میں نہیں رہنے دوں گی‘ ہم تینوں لندن شفٹ ہوجائیں گے۔ عمر اپنے والدین کو راضی کرلے گا تو ہم یہاں سے شفٹ کر جائیں گے پھر عمر کا باپ بھی ہم کو پہچان نہ سکے گا۔‘‘ چاندنی نے بھی سگریٹ سلگاتے ہوئے مستقبل کی باتیں کی تھیں۔
’’وہ آج ہی اپنی مما اور بہن سے بات کرے گا۔‘‘
’’اچھا‘ جو بھی کرنا ہے جلدی کرو ویسے بھی عمر کے باپ سے ہی ہمیں زیادہ خطرہ ہے اور عمر ہی اس کے غرور کو چکنا چُور کرسکتا ہے۔‘‘
/…ء…/
مہربانو بیٹے کی خواہش جان کر سکتے میں رہ گئی تھیں‘ دل پر پہاڑ جیسا بوجھ آن پڑا تھا جبکہ وہ ان کی حالت سے بے خبر کہہ رہا تھا۔
’’مما! چاندنی نہایت نیک اور حسین لڑکی ہے اور اس کی ممی بھی نفیس و اعلیٰ کردار کی مالک ہیں‘ شوہر کی وفات کے بعد چاندنی کی پرورش انہوں نے بہت مشکل حالات میں کی ہے۔ تنہا عورت ہوکر بھی بڑی بہادری کے ساتھ کٹھن وقت کا مقابلہ کرکے چاندنی کو تعلیم و تہذیب سکھائی ہے۔‘‘
’’بیٹا! آپ اپنی پڑوس میں رہنے والی ماں بیٹی کی بات کررہے ہیں؟‘‘ دل میں ایک موہوم سی آس ابھری شاید بیٹا کسی اور کے متعلق کہہ رہا ہو۔
’’جی ممی… فردوس آنٹی اور چاندنی کی بات کررہا ہوں۔‘‘ وہ بھرپور انداز میں مسکراتے ہوئے بولا اور ان کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا‘ سنجیدہ و پُروقار بیٹے نے پہلی بار کوئی لڑکی پسند کی بھی تو…
’’کیا آپ ٹھیک ہیں مما! آپ کی طبیعت ٹھیک ہے… کیا ہوا آپ کو؟‘‘ وہ ان کو پسینہ پسینہ دیکھ کر گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
وہ بیڈ پر ڈھے گئیں۔ موسم بے حد سرد باہر تیز و نم ہوائوں کے جھکڑ چل رہے تھے۔ اس نے تیزی سے پردے ہٹاکر کھڑکیوں کھول دیا تھا‘ فین آن کرکے لابی میں رکھے ڈسپینسر سے گلاس میں پانی بھر لایا اور قریب بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے پلایا۔
’’میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں ابھی۔‘‘ وہ گلاس رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’نہیں‘ میں ٹھیک ہوں اب۔‘‘ وہ شال سر پر ڈالتی ہوئیں اٹھ بیٹھیں۔
’’مما! میں یہ سوچ کر بے حد ایکسائٹڈ تھا کہ آپ میری بات سن کر بے حد خوش ہوں گی‘ یہ آپ کی ہی خواہش تھی نا کہ میں کوئی اچھی پیاری سی لڑکی پسند کرلوں مگر آپ کا برتائو بتا رہا ہے آپ کو میری بات سن کر صدمہ پہنچا ہے۔‘‘
’’وہ لوگ کون ہیں… کیا کرتی ہیں؟ محلے میں ان کے بارے میں کیا باتیں پھیلی ہوئی ہیں‘ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ سب آپ نہیں جانتے‘ وہ گھر بسانے والی عورتیں نہیں ہیں۔‘‘
’’پلیز مما! آپ ایسی باتیں کررہی ہیں‘ میں نے کبھی بھی آپ کے منہ سے کسی کے لیے برائی نہیں سنی ہے اور آپ ان پر بہتان تراشی کررہی ہیں جو ہمارے معاشرے کی ستائی ہوئی مظلوم اور بے سہارا عورتیں ہیں آپ کب سے دوسروں کی باتوں پر یقین کرنے لگیں‘ لوگوں کا تو کام ہی دوسروں کی عزت نیلام کرنا ہوتا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں حیرانی و تنفر کی آمیزش تھی۔
’’لوگوں کی بات نہیں کررہی ہوں میں عمر! ان عورتوں کو خود آپ کے پاپا نے دیکھا ہے غیر مردوں کے ساتھ وہ ان کے سخت خلاف ہیں۔‘‘
’’اوہ پاپا! ان کو پوری دنیا خراب و بدمعاش دکھائی دیتی ہے سوائے اپنے‘ نامعلوم کب خاندانیت کا زعم ان کے دل سے زائل ہوگا۔‘‘
’’عمر! یہ کس لہجے میں اپنے باپ کے لیے بات کررہے ہو آپ؟ ایک تھرڈ کلاس لڑکی کی خاطر باپ کی عزت و ادب فراموش کر بیٹھے ہو؟‘‘ وہ حیرت و دکھ سے اس کی برہمی و نفرت آمیز لہجہ دیکھ رہی تھیں‘ کچھ دنوں سے وہ بدلا بدلا تھا‘ خشک رویہ اور سب سے بے نیازی کا یہ سبب ہوگا ان کو معلوم نہ ہوسکا تھا۔
’’میں کوئی گستاخی نہیں کررہا ہوں‘ پاپا کی فطرت آپ بھی بخوبی جانتی ہیں کسی کو بھی ناپسند کرنے کے لیے ان کو وجہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے خوامخواہ لوگوں سے دشمنیاں کرنے کا کریز ہے ان کو۔‘‘
’’عمر… عمر میرے بچے…! یہ تم کیا کہہ رہے ہو کوئی اپنے باپ کے لیے اس طرح بولتا ہے انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تم لوگوں کے لیے؟‘‘ وہ آنے والے وقت سے خوف زدہ ہوکر رونے لگی تھیں۔
’’مما! آپ مجھے ایموشنل بلیک میل کرنے کی سعی نہ کریں‘ میں چاندنی کے علاوہ کسی اور لڑکی کو بیوی بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘
’’میرے بچے! آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے یوسف پر بھروسہ نہیں ہے تو جاکر محلے کے لوگوں سے دریافت کرو‘ ساری حقیقت سامنے آجائے گی۔ آپ محلے میں کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اگر رکھتے تو ان چال باز عورتوں کے جال میں نہ پھنستے اس بُری طرح سے جنہوں نے آپ کو ماں و باپ کا احترام ہی بھلا دیا ہے۔‘‘ وہ آبدیدہ تھیں۔
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے مما! چاندنی نائس لڑکی ہے۔‘‘
’’میں بھی بیٹی کی ماں ہوں اور بیٹیوں کی عزت و حرمت مجھے بھی بے حد عزیز ہے لیکن اس قسم کی لڑکیاں گھر تباہ تو کرسکتی ہیں بسا نہیں سکتی‘ آپ اس کو بھول ہی جائو تو اچھا ہے۔‘‘ بیٹے کی ہٹ دھرمی و بدلحاظی ان کے اندر سوئی عورت کو جگا گئی۔ بلکتی ممتا کو نظر انداز کرکے وہ سخت لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’آپ میرا ساتھ نہیں دیں گی؟‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘
’’یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے؟‘‘
’’ہوں… یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘
’’ایک بار پھر سوچ لیں مما! میں گھر چھوڑ کر چلا جائوں گا۔‘‘ ان کو سخت و بے لچک دیکھ کر اس نے دھمکی دی۔
’’جائیں‘ چلے جائیں… ایک لڑکی کی خاطر ہم کو چھوڑنے کا ظرف ہے آپ میں تو ہم بھی آپ کے بغیر جینا سیکھ لیں گے۔‘‘ اس نے جلتی آنکھوں سے ایک نگاہ ان پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
/…ء…/
’’حماد! تم نے کیوں اس لڑکے کی اسٹوری خود پر حاوی کرلی ہے اب تو اسے ڈسچارج ہوئے بھی کئی دن ہوچکے ہیں‘ مصروف ہوگیا ہوگا وہ اپنی زندگی میں اس دنیا میں مرنے والے کے پیچھے کوئی مرتا نہیں ہے۔‘‘ وہ ہسپتال سے آیا تو وہ اس کے لیے کافی دیتے ہوئے بولی۔
’’تم کس طرح سے کہہ سکتی ہو؟ وہ ہماری طرح ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے‘ کیا تم میرے بغیر اور میں تمہارے بنا رہ سکتا ہوں‘ بتائو مجھے؟ تمہارے دل سے بھی میری طرح یہی صدا آرہی ہے نا‘ نہیں کبھی نہیں۔‘‘
’’خدا کے واسطے حماد! کیوں اس طرح کی باتیں کررہے ہو تم؟ ہمارے تو والدین نے ہمارا رشتہ طے کیا ہے‘ تعلق جوڑا ہے‘ تم ان سے کمپیئر کیوں کررہے ہو اپنے آپ کو۔ ہمارا معاملہ تو بالکل مختلف ہے ان سے۔‘‘
’’میں یہ سوچ کر شاکڈ ہونے لگتا ہوں جب اس لڑکے کو معلوم ہوگا وہ لڑکی دنیا میں نہیں ہے اسے تنہا چھوڑ کر جاچکی ہے تو…‘‘
’’تو کچھ نہیں اس کو چند دن افسوس ہوگا پھر وہ کسی دوسری کو چاہنے لگے گا‘ اب یہ لیلیٰ مجنوں کا دور تو ہے نہیں جو مجنوں لیلیٰ لیلیٰ چیختا صحرائوں میں گم ہوجائے۔ اس دور میں جتنا گہرا زخم لگتا ہے وہ اتنی تیزی سے بھرتا ہے‘ پلیز تم یہ کافی پیو ٹھنڈی ہوجائے گی۔‘‘ اس نے موضوع بدلتے ہوئے کافی کا مگ اس کے ہاتھ میں پکڑایا۔
’’آج ڈنر باہر کرتے ہیں‘ آئوٹنگ سے موڈ چینج ہوگا۔‘‘ کئی دنوں بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ چمکی تھی۔
’’جی نہیں‘ بابا اور ممی نے سختی سے پابندی لگادی ہے باہر جانے پر۔‘‘
’’ناممکن‘ تمہیں لے جانے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
’’صرف چند دنوں کی بات ہے پھر ہمیں کوئی نہیں روکے گا۔‘‘ وہ گردن جھکا کر شرمیلے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
’’میں ابھی بھی کسی پابندی کو نہیں مانتا۔‘‘ اس کے معاملے میں وہ اسی طرح جذباتی ہوجایا کرتا تھا۔
’’میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گی حماد! ہماری شادی میں زیادہ عرصہ نہیں ہے وہ ہی کروں گی جو ہمارے بڑوں کا حکم ہے۔‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں تھی مگر ٹوٹنے کی آواز دور تک آئی تھی۔
/…ء…/
’’وائو مما!‘‘ چاندنی سیل فون اچھالتے ہوئے ماں سے لپٹ گئی۔
’’ارے بہت خوش لگ رہی ہو کیا عمر نے اپنے والدین کو منا لیا؟‘‘
’’منا لیا ہونہہ… مما! عمر نے اس بڈھے سے وہ سارے بدلے ایک ساتھ لے لیے ہیں جو ذہنی طور پر ہمیں ٹارچر کرتا رہا تھا۔ آج اسی اکڑو کا بیٹا اس کے شملے پر لات مار کر مجھ سے کورٹ میرج کرنے والا ہے۔‘‘
’’ارے میں واری‘ میں قربان… یہ تو بڑی انہونی خبر ہے لیکن یہ سب ہوا کیسے… یہ خبر سچ تو ہے‘ تم نے غلط تو نہیں سنا؟‘‘ اس کے ساتھ خوشی میں جھومتی وہ وسوسے کا شکار ہوئی۔
’’ارے نہیں بھئی یہ سب میرے حسن کا کرشمہ ہے‘ محبت کا جادو ہے۔ عمر نے بتایا اس کی مما نے ہم ماں بیٹی پر گھٹیا الزامات لگائے جو وہ برداشت نہ کرسکا اور ان کے درمیان خوب تلخ کلامی ہوگئی‘ اس دوران اس کا باپ بھی وہاں آگیا تھا مگر کمرے میں آنے کے بجائے باہر چھپ کر ان کی باتیں سنتا رہا تھا‘ جب عمر کمرے سے نکلا تو اس نے عمر کو خوب کھری کھری سنائی اور عاق کرنے کی دھمکی دی۔‘‘
’’اُف یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا ہوا‘ اب عمر کو باپ کی پراپرٹی سے پھوٹی کوڑی بھی ملنے والی نہیں ہے‘ ہمیں اس کنگلے کا کیا کرنا ہے۔‘‘ فردوس کے ارمانوں پر ایک دم اوس پڑگئی تھی۔
’’بائی گاڈ! مرا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے مما! عمر نے اپنی پراپرٹی بھی ٹھیک ٹھاک بنالی ہے پھر اس کا اپنا بزنس ہے وہ باپ کے پیسے کا ذرا بھی محتاج نہیں ہے‘ بہت دولت ہے اس کے پاس۔‘‘
’’واہ ماں صدقے‘ کمال کردیا چاندنی‘ بڑھاپا سنور جائے گا میرا۔ کان کھول کر سن لو شروع شروع میں نیک بیوی جیسا حلیہ رکھنا ہوگا تاکہ عمر کو کسی بھی قسم کا شک نہ ہو بعد میں سب ہینڈل کرلوں گی میں۔ بس ابتدائی دنوں میں کچھ تکلفات ہوں گے۔‘‘ وہ دیوار گیر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی۔
’’ہاں ہاں فکر نہ کرو‘ کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گی‘ اچھا چلو سامان سمیٹیں اب یہ گھر چھوڑنا ہوگا۔‘‘ وہ بے حد خوش تھیں‘ معاً ڈور بیل بجی تو فردوس نے گیٹ کھولا اور خوف سے چیخ پڑی تھی۔
(آخری قسط آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close