Aanchal Mar 15

بہنوں کی عدالت

ادارہ

کر گیا آنکھ سمندر جو کہا کرتا تھا
ایک آنسو بھی تمہارا نہیں دیکھا جاتا
عزیز دوستو!
ہنستی مسکراتی زندگی کی ہزاروں پر خلوص دعائوں کے ساتھ بہنوں کی عدالت میں اس بار خاکسار کی آخری پیشی ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے جاری اس خوب صورت سلسلے میں آپ بہنوں نے میری تحریروں سے زیادہ میری ذات کے بارے میں سوالات پوچھے اور پہلی بار آپ سب کی بے تحاشا محبت نے میرے دل کو جیسے جکڑ سا لیا ہے۔ میری پوری کوشش اور خواہش تھی کہ میں ہر بہن کا سوال ضرور شامل کروں مگر شدید خواہش اور کوشش کے باوجود بہت سی بہنوں کے سوالات مجھ تک نہ پہنچ سکے اور جن کے پہنچے وہ کھو گئے۔ فیس بک ان باکس میں بھی جتنی بہنوں نے سوال کیے میں بہت زیادہ مصروفیت کی بنا پر وہ نہ شامل کرسکی جس کے لیے میں ان سب بہنوں سے بے حد معذرت خواہ ہوں۔
بہنوں کی عدالت کی اس آخری پیشی میں، میرا دنیا کی تمام مائوں کے لیے ایک ضروری پیغام ہے اور وہ یہ کہ خدارا اپنے بچوں کی اچھی دوست بنیں انہیں محبت کے ساتھ ساتھ وقت اور اعتماد بھی دیں ان پر اتنی سختی بھی نہ کریں کہ وہ آپ کے ڈر اور جھجک میں اپنی کوئی بات آپ سے شیئر نہ کریں اور چور راستے اختیار کرلیں بعد میں یہی چور راستے انہیں تباہی کی منزل کی طرف لے جائیں اور نہ ہی ان سے اتنی غافل ہوں کہ اپنے بچوں اسپیشلی بیٹیوں کی بربادی اور حرام موت ان کے نقصان کی خبر ہی نہ ہو۔ اگر اپنی کسی نادانی کے سبب وہ بربادی کے کسی راستے پر قدم دھریں تو آپ اس راستے کا سراغ پا کر انہیں کسی بھی اندھے کنوئیں میں گرنے سے بچا سکیں اب آپ کے خوب صورت سوالات کے جوابات کی طرف۔
ء اڈہ پرمٹ ضلع لودھراں سے ایک بہت پیاری محبت کرنے والی ماں فیظہ عبدالمالک آپ کی بے لوث محبت اور دعائیں میری روح پر قرض ہیں۔ جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے خدا آپ کو صحت و تندرستی بھری لمبی عمر نصیب فرمائے، آمین۔
عارف والا سے رضیہ اقبال آپ کی محبت آپ کی مامتا کی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے اللہ آپ کو بھی دنیا کی ہر خوشی نصیب فرمائے، آمین۔
ء رحیم یار خان سے بہت پیاری بہن شازیہ افتخار کہتی ہیں۔
٭ مجھے آپ سے کچھ پوچھنا نہیں ہے بس اتنا کہنا ہے کہ آپ کی کہانیوں میں جو اسلام سے محبت اور اس کی طرف رغبت پائی جاتی ہے وہ بہت اچھی لگتی ہے میری تمام رائٹرز سے گزارش ہے کہ وہ اپنی کہانیوں میں اسلام کے بارے میں مثبت طریقے سے ضرور کچھ نہ کچھ لکھا کریں۔
بہت شکریہ شازیہ آپ کا پیغام تمام رائٹرز بہنوں تک پہنچ گیا۔
ء سرگودھا سے بہت پیاری بہن فروا سیف کا سوال۔
٭ نازی آپ بحیثیت رائٹر بہت بہترین انسان ہیں مگر بحیثیت دوست بھی بہت اچھی ہیں بہت سی رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں مگر آپ کی تحریریں آپ کا اخلاق اور آپ کی انسان دوستی آپ کو باقی لوگوں سے جدا کرتی ہے۔ آپی آپ نے دسمبر کے آنچل میں اپنے لائف پارٹنر کے بارے میں جو خوبیاں اور خامیاں بیان کی ہیں میری بھی بالکل ویسی ہی سوچ ہے میں نے صرف آپ کی وجہ سے آنچل پڑھنا شروع کیا مگر اب سنا ہے کہ آپ شعاع میں لکھ رہی ہیں ایسا کیوں؟
فروا میری جان آپ کی محبت کا بے حد شکریہ میں نے طویل عرصہ صرف آنچل میں ہی لکھا ہے اب چند بہنوں کے اصرار پر طویل عرصے کے بعد شعاع کے لیے ایک تحریر ’’شہر خواب‘‘ شروع کی ہے مگر مکمل نہیں کر پا رہی۔ پچھلے چند ماہ سے فرحانہ ناز ملک کی وفات کے بعد کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا آپ دعا کریں میرے اندر کی نازیہ کنول نازی پھر سے قلم تھام لے پلیز، اللہ آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے، آمین۔
ء نامعلوم مقام سے بہن لائبہ نور کی التجا۔
٭ آپی آپ رائٹر لوگوں کی کہانیوں میں ہیروئنز ہمیشہ خوب صورت ہی کیوں ہوتی ہیں۔ میری آپ سے التجا ہے کہ پلیز آپ عام شکل و صورت والی لڑکیوں کے بارے میں لکھا کریں۔ عام شکل و صورت والی لڑکیوں کے بھی دل ہوتے ہیں وہ بھی ایک پیار کرنے والے جیون ساتھی کے خواب دیکھتی ہیں۔
عزیز از جان لائبہ میں آپ کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتی ہوں حقیقت میں خوب صورت لڑکیاں اتنے خواب نہیں دیکھتیں جتنے کہ عام شکل و صورت والی لڑکیاں دیکھتی ہیں۔ کیونکہ خوب صورت لڑکیوں کو بن خواب دیکھے ہی سب کچھ مل جاتا ہے۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنی کسی بھی کہانی میں اپنی ہیروئن کی خوب صورتی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہو اور دوسری بات ڈیر لائبہ کہانیاں پڑھنے والی لڑکیاں ہی عام سی شکل و صورت کی مالک نہیں ہوتیں بلکہ یہ خوب صورت خوابوں والی کہانیاں تحریر کرنے والے اکثر رائٹرز بھی عام سی شکل و صورت کی مالک ہوتی ہیں آپ کی محبت کا بے حد شکریہ۔
ء کراچی سے بہت پیاری بہن ہانیہ قریشی کا سوال۔
٭ نازی آپی آپ کی تمام کہانیاں نہایت بہترین اور ہمیشہ یاد رہنے والی ہوتی ہیں۔ آپ کی شاعری بھی دل کو چھونے والی ہوتی ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ اتنے اچھے گہرے شعر کیسے لکھ لیتی ہیں پلیز مجھے بتائیں کہ آنچل میں آپ کا نیا ناول کب تک آئے گا۔
ہانیہ میری جان آپ کی پر خلوص محبت کے لیے بے حد شکریہ۔ ابھی کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا مگر آپ سمیت بہت سی بہنیں یہی سوال کررہی ہیں بہنوں کی عدالت کے لیے بھی بہت سی بہنوں نے یہی سوال ارسال کیا آپ سب بہنیں دعا کریں میرا موڈ بن جائے پھر سے لکھنے کا ان شاء اللہ آنچل کے سالگرہ نمبر میں ہوسکتا ہے شب ہجر شروع کردوں۔
٭ آپی آپ اپنے ناولز میں اتنے دل چسپ خوب صورت ہیروز کہاں سے لاتی ہیں؟
اپنے خوابوں اور تخیلاتی دنیا سے آپ کی محبت کا بے حد شکریہ۔
ء سرگودھا سے پیاری بہن شہرزاد لکھتی ہیں۔
٭ السلام علیکم نازی اپیا میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں آپ کی لکھی ہوئی چند کہانیاں اور ناول جو میں نے پڑھے ہیں میرے دل پر نقش ہیں اللہ آپ کے علم اور کامیابی میں مزید اضافہ فرمائے آمین، میرا آپ سے سوال ہے کہ اگر انسان کو اپنے مستقبل کے بارے میں ڈھیر سارے خدشات اور ڈر لاحق ہوں تو وہ کیا کرے؟ اگر دعا کے باوجود بھی دل مطمئن نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے؟
پیاری شہرزاد مجھے آپ کا نام بہت پسند آیا ہے ان شاء اللہ اگلے کسی ناول میں یہ نام ضرور استعمال کروں گی آپ کی محبت اور دعائوں کا بے حد شکریہ۔ اگر دعا کے باوجود کسی معاملے میں انسان کا دل مطمئن نہ ہو تو پھر سب کچھ اللہ رب العزت کے سپرد کردینا چاہیے کیونکہ انسان خواہ کچھ بھی سوچ لے اور کرلے ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے بس آپ بھی اپنا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کرکے بے فکر ہوجائیں ان شاء اللہ جو بھی ہوگا بہتر ہی ہوگا۔
ء چونیاں سٹی سے بہن اقصیٰ مبین کا سوال۔
٭ آپی یہ زندگی کے سارے دکھ اور مشکلات صرف غریبوں کے لیے ہی کیوں ہوتی ہیں؟
عزیز از جان اقصیٰ یہ دنیا امتحان گاہ ہے جہاں ہمیشہ اللہ رب العزت کے پیارے اور محبوب لوگوں نے تکالیف ہی اٹھائی ہیں مصائب ہی برداشت کیے ہیں کیونکہ جو اس فانی دنیا میں جتنی کھٹن زندگی گزارے گا اسے آخرت کی دائمی زندگی میں راحت ہی راحت نصیب ہوگی۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے اللہ رب العزت نے کبھی نہ ختم ہونے والی اخروی زندگی کو پسند فرمایا ہے آپ زندگی کے مصائب پر رنج کی بجائے صبر کریں میری جان بے شک جو لوگ اس دنیا میں مشکلات برداشت کرنے والے ہیں ان کے لیے آخرت کے سفر میں ساری آسائشات ہیں۔
٭ آپی برف کے آنسو کے بعد آپ کہیں گم تو نہیں ہوجائیں گی؟
دل تو چاہتا ہے یار کہیں کھو جائوں مگر آنچل اور آپ لوگ کہاں گم ہونے دیں گے مجھے۔
ء جھنگ سے بہن بشریٰ ملک لکھتی ہیں۔
٭ نازیہ آپی آپ کے ناول بہت اچھے ہوتے ہیں آپ کا انٹرویو بھی بہت اچھا ہوتا ہے میری نیچر آپ سے بہت ملتی ہے پلیز مجھے بتائیں کہ آپ کا نیا ناول کب آرہا ہے؟
بشریٰ ڈیئر آپ نے جو سوال کیا ہے وہی سوال چکوال سے بہن علیزے کیانی، ایمان علی، مخدوم پورہ سے بہن نبیلہ نور، کھاریاں سے مومل علی اور دیگر چند بہنوں نے بھی کیا ہے آپ سب میرے حق میں دعا کریں ان شاء اللہ میں جلد لکھنے کی کوشش کروں گی۔
ء خان گڑھ ڈوگریاں سے بہن ساجدہ بھٹی کا سوال۔
٭ آپی کیا کبھی کسی فین گرل کی محبت نے مشکل سے دوچار کیا؟
اف کیا سوال پوچھ لیا یار، ابھی چند ہی روز کی بات سے ایک فین صرف تین دن بات نہ کرنے پر اسپتال پہنچ گئیں جس پر میری مما نے مجھے ڈانٹا اور میں نے اس فین بہن کی دیوانگی کی قدر کرتے ہوئے ان سے موبائل پر بات کرلی۔ اس بہن نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے زندگی میں ایک بار ملنا چاہتی ہیں میں نے انہیں ان کے بے حد اصرار پر گھر انوائٹ کرلیا اور وہ بہن میری محبت میں سولہ سترہ گھنٹوں کا سفر طے کرکے میرے گھر پہنچیں میں نے بھی ان کی محبت اور خلوص کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں عزیز دوست کی طرح سمجھایا اور کسی وزیر اعظم کی طرح ان کی آئو بھگت کی پورا شہر گھمایا سب اپنی سب مصروفیات ترک کرکے انہیں پورا ٹائم دیا مگر اس وقت بہت مشکل ہوئی جب انہوں نے ضد کرکے ساتھ سلایا وہ بھی پوری تین راتوں تک۔ مجھے عشاء کی نماز کے فوری بعد سونے کی عادت ہے مگر ان تین راتوں میں دیر تک کیسے میں جاگی میرا دل جانتا ہے یا میرا خدا مگر وہ بہن پھر بھی خوش نہیں تھیں۔ میرا آفیشل ورک، موبائل فون سب سائیڈ پر کرا دیا انہوں نے تاہم سب سے بڑی جو اذیت کی بات تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے میری تنبیہ کے باوجود اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری ذات کی قسم کھا کر بھی میری اور میرے سارے گھر والوں کی ایک ایک لمحے کی ویڈیوز بنا لیں جب مجھے اس بات کا پتا چلا تو میں نے ان سے ریکوئیسٹ کی کہ میری فیملی مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتی آپ سب ڈیلیٹ کردیں مگر میری التجا کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا جس پر میں ان کے سامنے ہی بے حد روئی اور میری امی، بھائی اور آپی نے مجھے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ امی کا غصہ دیکھ کر اس بہن کو مجھ پر ترس آیا اور اس نے مجھے اپنا موبائل دے دیا تب میں نے وہ سب مواد ڈیلیٹ کیا اور اسی روز اس بہن کو رخصت کیا مگر وہ دن اور آج کا دن اب میں کسی کی کال پک نہیں کرتی۔
ء جھنگ سٹی سے بہت پیاری سی بہن آسیہ لکھتی ہیں۔
٭ نازیہ آپ مستقبل کی عظیم رائٹر ہیں بہت خوب صورت لکھتی ہیں سب سے بڑھ کر آپ بہت اچھی بیٹی اور بہت اچھی بہن ہیں میرے پاس آپ کے لیے بہت سے سوال ہیں مگر آنچل میں آپ کے متعلق بہت کچھ پتا چل چکا ہے پھر آپ کی ہر کہانی سے بھی آپ کا پتا چل جاتا ہے خدا آپ کو زندگی کے ہر امتحان میں کامیاب کرے، آمین میرا سوال ہے۔
٭ کیا آپ اپنی حقیقی زندگی میں بھی اتنی ہی شدت پسند ہیں جیسے کہ آپ اسٹوریز میں؟
کسی حد تک کہہ سکتی ہیں کیونکہ میری کہانیوں میں میرا ہی عکس ہوتا ہے اور صرف میں ہی کیا ہر لکھاری کی تحریر میں اس کا اپنا عکس ہوتا ہے۔ میں اپنی زندگی کے ہر معاملے میں بہت شدت پسند ہوجاتی ہوں کبھی کبھی مگر اب کچھ عرصے سے کافی ٹھہرائو آگیا ہے طبیعت میں آپ کی محبت کا بے حد شکریہ۔
ء بہاول پور سے بہن انعم شاہد کہتی ہیں۔ نازی آپی میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں آپ مجھے بہت پسند ہیں میرا آپ سے سوال ہے۔
٭ آپ اپنا ناول شب ہجر کی پہلی بارش کب شروع کریں گی؟
اللہ نے چاہا تو بہت جلد شروع ہوجائے گا، ان شاء اللہ۔
٭ آپی آپ نے ہر موضوع پر لکھا ہے مگر اپنے مخصوص انداز میں کبھی یونیورسٹی لائف پر نہیں لکھا کیوں؟
کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ خصوصی طور پر اس ٹاپک پر لکھنا ہے۔ پھر بھی آئندہ کوشش کروں کہ لکھ سکوں۔
ء مسکان ادیان علی اسلام آباد سے پوچھتی ہیں۔
٭ اگر آپ کو کسی بات پر غصہ آئے تو کیسے کنٹرول کرتی ہیں؟
یار بچپن میں غصہ آتا تھا تو میں خود اپنے ہی بازو پر زور سے کاٹ لیتی تھی اب اگر کسی بات پر غصہ آئے تو میں وہ بات ہی چھوڑ دیتی ہوں اور خاموشی اختیار کرلیتی ہوں۔
ء سائرہ خان اسلام آباد کا سوال۔
٭ آپی آپ شعاع میں کب لکھنا شروع کریں گی؟
ایک ناول شروع کیا ہوا ہے مگر مکمل نہیں کر پارہی ابھی تک ان شاء اللہ اگلے چند روز میں مکمل کرکے بجھوا دوں گی۔
ء سرگودھا سے بہن نویدہ پوچھتی ہیں۔
٭ نازیہ جی آپ نے زندگی میں اتنی مشکلات کو برداشت کیا آپ بہت ہمت والی ہیں پلیز مجھے بتائیں جب زندگی میں کوئی اپنا نہ رہے تو کیسے زندہ رہا جائے؟
نویدہ ڈیئر مشکلات اور پریشانیاں انہی لوگوں پر آتی ہیں جو اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں زندگی میں جب کوئی اپنا نہیں ہوتا تب ہی تو انسان خود سے ملتا ہے اللہ رب العزت پر سارے معاملات چھوڑ دینے سے ہر چیز سیٹ ہوجاتی ہے۔
ء زاہرہ حسین ملتان سے لکھتی ہیں۔
٭ آپی میں پہلی بار کسی رائٹر سے کچھ پوچھنے کی جسارت کررہی ہوں پلیز مجھے جواب ضرور دینا میرا سوال ہے آپ کی نظر میں محبت کی انتہا کیا ہے اور کیا انتہا امر کردیتی ہے؟
زاہرہ ڈیئر آپ کے سوال کا بہترین جواب سعدیہ راجپوت کے ناول ’’عشق آتش‘‘ میں موجود ہے۔ یہ ناول محبت کی انتہا بھی ہے اور محبت کی انتہا کے امر ہوجانے کی لازوال داستان بھی۔
ء کھاریاں سے مومل علی کا سوال۔
٭ آپی میرے لیے کوئی خوب صورت جملہ؟
کوشش کریں کہ آپ کو زندگی میں وہ انسان ہمیشہ ہنستا ہوا ملے جسے آپ روز آئینے میں دیکھتی ہیں۔
ء گجرات سے زارا خان پوچھتی ہیں۔
٭ نازی آپی آپ ہر اسٹوری اتنے جاندار طریقے سے لکھتی ہیں کہ ہم اس میں ڈوب جاتے ہیں آپ اتنی پر درد شاعری کرتی ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟
کوئی خاص وجہ نہیں یار بس یہ دل دکھی انسانیت کے درد سے چور ہے شاید اسی لیے لہو میں ڈوب کر لفظ صفحہ قرطاس پر بکھرتے ہیں۔
ء انا کونین واپڈا ٹائون گوجرانوالہ سے پوچھتی ہیں۔
٭ آپی دعا کریں کہ میرا ڈاکٹر بننے کا خواب پورا ہوجائے میرا آپ سے سوال ہے کیا آپ کو پہلی نظر کی محبت پر یقین ہے؟
بالکل بھی نہیں۔
ء پری خان سے مناحل شاہ کا سوال۔
٭ آپ اپنے ناول میں جو شاعری دیتی ہیں کیا وہ خود لکھتی ہیں؟
نہیں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کبھی میری شاعری ہوتی ہے کبھی جو اچھی لگی وہی لکھ دیتی ہوں۔
ء مخدوم پورہ سے نبیلہ جمیل لکھتی ہیں۔
٭ آپی میں آپ کی اور آنچل کی بہت بڑی فین ہوں میرا سوال ضرور شامل کیجیے گا میرا آپ سے سوال ہے کہ جس پر سب سے زیادہ بھروسہ ہو وہی اعتبار کیوں توڑ دیتے ہیں؟
یہی دنیا داری ہے یار اسی لیے تو کہتے ہیں تعلق صرف اللہ رب العزت کی پاک ذات سے ہونا چاہیے باقی سب رشتے بے معنی ہیں۔
ء نامعلوم مقام سے تنزیلہ شہزادی کا سوال۔
٭ آپی میں چھوٹی چھوٹی باتیں بہت سوچتی ہوں اور دل پر لے لیتی ہوں پھر سوچتی ہوں مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور اسی وجہ سے میری پڑھائی بھی ڈسٹرب ہورہی ہے آپ پلیز مجھے بتائیں آپی میں کیا کروں؟
فضول سوچنا چھوڑ دیں ڈیئر ان شاء اللہ اللہ سب بہتر کرے گا۔
ء فیصل آباد سے مریم جٹ لکھتی ہیں۔
٭ نازیہ آپی میں آپ کی دیوانی ہوں لیکن کبھی آنچل میں لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ آپ مجھے بہت پسند ہیں میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو کیا آپ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اگر ہاں تو تب کس نے آپ کا حوصلہ بڑھایا؟
ماہنامہ آنچل ڈائجسٹ کی مدیرہ محترمہ فرحت آرا صاحبہ نے اور ایسا اس وقت ہوا جب جواب عرض میں لکھنے کے باعث میری امی نے میرے لکھنے پر پابندی عائد کردی۔ اس وقت فرحت آپا کی محبت اور حوصلہ افزائی نے پھر سے میرے لکھنے کی راہ ہموار کی 2007ء میں جب میری شاعری کی کتاب ’’بچھڑ جانا ضروری تھا‘‘ منظر عام پر آئی تو میری مما جانی نے ایک مرتبہ پھر میرے لکھنے پر پابندی عائد کردی تب بھی آنچل نے حوصلہ بڑھایا تھا جہاں تک تنقید کی بات ہے تو یار میری بدنصیبی ہے کہ مجھ پر ’’تنقید برائے اصلاح‘‘ بہت ہی کم ہوئی ہے۔ ہاں کچھ شر پسند قسم کے لوگوں کی طرف سے ایک دوبار تنقید برائے تنقید ضرور ہوئی ہے جیسے میں نے اپنے ایک ناول میں لکھا کہ ہیرو نے ریسٹورنٹ میں ٹیبل پر بل پے کیا تو ایک معروف رائٹر نے تنقید کی کہ نازیہ کیا تم کبھی ریسٹورنٹ میں گئی بھی ہو؟ وہاں ٹیبل پر بل پے نہیں ہوتا کائونٹر پر جا کر ہوتا ہے اب بتائیں بھلا بندہ ایسی تنقید کا کیا کرے۔ آنچل کے ساتھ قاری بہنوں نے بھی ہمیشہ میرا بہت حوصلہ بڑھایا ہے۔
ء مانیوال گجرات سے عائشہ کنول عاشی کا سوال۔
٭ آپی خونی رشتے تو اپنے ہوتے ہیں مگر احساس کے رشتوں کی آپ کے نزدیک کیا اہمیت ہے؟
عاشی ڈیئر میری نظر میں اگر خونی رشتوں میں ’’احساس‘‘ نہیں تو ایسے خونی رشتوں کا کوئی فائدہ نہیں رشتے تو صرف احساس کے ہوتے ہیں اگر احساس نہیں تو کچھ نہیں۔
ء مانسہرہ سے فضا ایمان علی پوچھتی ہیں۔
٭ نازی آپ ہمیشہ اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ اپنی ماں کو اور خود سے وابستہ رشتوں کو دیتی ہیں مگر آپ نے کبھی والد صاحب کا ذکر نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے؟
کوئی وجہ نہیں ڈیئر شاید میری کامیابیوں میں میرے والد صاحب کا کوئی کردار نہیں۔
٭ آپی کیا کوئی بھی انسان پیدائشی رائٹر یا شاعر ہوتا ہے یا اس کے حالات اسے لفظوں سے کھیلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
دونوں باتیں ہی ہوتی ہیں ڈیئر کسی انسان میں پیدائشی صلاحیتیں ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں کو ان کے حالات مجبور کردیتے ہیں۔
ء کوہاٹ سے انشال امبر کا سوال۔
٭ آپی کبھی اپنی زندگی اور شخصیت کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں پلیز۔
ڈیئر انشال
فرصت کبھی ملے تو پڑھنا مجھے ضرور
ناکام زندگی کی مکمل کتاب ہوں
ء مظفر گڑھ سے مایہ شاہ پوچھتی ہیں۔
٭ آپی اگر برداشت کی حد گزر جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
صبر۔
ء لاہور سے اقرا علی کا سوال۔
٭ آپی مجھے آپ سے پوچھنا ہے کہ آپ ایک رائٹر ہیں آپ کے پاس بہت نالج ہے پلیز مجھے بتائیں اگر کوئی شخص آپ کو بہت چاہتا ہو آپ کی ہر بات مانتا ہوں۔ آپ کی عزت کرتا ہوں آپ کی خوشی میں خوش ہو مگر اچانک وہ آپ کو چھوڑ دے اور بہت پوچھنے پر یہی کہے کہ تمہاری خوشی کے لیے کیا ہے تو کیا وہ شخص ٹائم پاس کررہا تھا یا واقعی آپ کے ساتھ مخلص تھا۔ میں آپ کی سوچ اور مشورے کو بہت پسند کرتی ہوں پلیز میری الجھن دور کردیں۔
ڈیئر اقرا
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
ء کراچی سے بسمہ خان۔
٭ آپ کی بہترین دوست کون ہے؟
وہی جو دل کی مخلص ہو خیر خواہ ہو با وفا ہو۔
٭ آپی جب آپ بہت اداس اور دکھی ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں۔
ناول پڑھتی ہوں یا سو جاتی ہوں۔
ء ملتان سے اقرا ساجد پوچھتی ہیں۔
٭ آپی آپ کی کہانیوں میں بہت درد ہوتا ہے اس کی خاص وجہ؟
اقرا ڈیئر میری ذات کے صحرا میں اداسی کے چشمے بہت پھوٹتے ہیں شاید اس لیے آپ کو میرے لفظ بھیگے ہوئے محسوس ہوتے ہیں یا پھر میں زندگی کی حقیقتوں کے سینے زیادہ چاک کرتی ہوں اس لیے لفظوں میں درد اتر آتا ہے۔
٭ آپی کیا آپ آئیڈیلزم پر یقین رکھتی ہیں۔
جی ڈیئر یقین تو رکھتی ہوں مگر آئیڈیل کبھی ملتا نہیں ہے۔
٭ کوئی ایسا کردار جو آپ کی کہانی کا بھی ہو اور آپ چاہتی ہوں کہ میری آگے کی زندگی میں یہی کردار ہو؟
اقرا ڈیئر مجھے اپنی حقیقی زندگی میں ایسا ہم سفر پسند ہے جو میرے علاوہ اور کسی کا نہ ہو میرے علاوہ اس کی زندگی میں اور کوئی نہ ہو دنیا کی حسین سے حسین لڑکی بھی اسے میرے سامنے بے معنی لگے مگر میری کہانیوں کا کوئی بھی ہیرو ایسا نہیں ہے شاید اسی لیے میں اپنی کہانیوں کے ہیروز کو زیادہ پسند نہیں کرتی پھر بھی ’’اے مژگان محبت‘‘ کے ارش احمر کو میں ضرور اپنی حقیقی زندگی میں دیکھنا چاہوں گی بس اس کی زندگی کو کوئی خطرہ لا حق نہ ہو۔
ء نامعلوم مقام سے بہن میرب خان کا سوال۔
٭ نازیہ آپی کیسی ہیں آپ اللہ آپ کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب کرے آمین اور آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں میرا آپ سے بس یہی ایک سوال ہے کہ آپ اپنے دن کا آغاز کیسے کرتی ہیں؟
دن کا آغاز میں اللہ رب العزت کی پاک ذات کے نام سے ہی کرتی ہوں جیسے ہی آنکھ کھلتی ہے سب سے پہلے سیل اٹھا کر دیکھتی ہوں رات کے میسج چیک کرکے پھر نماز ادا کرتی ہوں تسبیح اور قرآن پاک سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر لیٹ جاتی ہوں پھر ناول لکھنے بیٹھ جاتی ہوں اور ظہر کی نماز تک یہی چلتا ہے۔
ء سرگودھا سے رامیہ عباد کا شکوہ۔
٭ نازیہ شب ہجر کی پہلی بارش کب آرہا ہے اتنے عرصے خوش خبری سنا کے اب انتظار کرا رہی ہیں۔
بہت معذرت رابیہ میرا فیس بک ان باکس اس ایک شکایت سے بھرا ہوا ہے اصل میں رائٹر فرحانہ ناز ملک کی وفات کے بعد میرا کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا پھر بھی آپ دعا کریں میں کوشش کروں گی کہ آنچل کے سالگرہ نمبر میں یہ ناول شامل کرسکوں۔
ء لطیف آباد ضلع حیدر آباد سے تنزیلہ شہزادی لکھتی ہیں۔
٭ السلام علیکم نازیہ آپی میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جب ہم کسی سے کوئی تعلق بناتے ہیں اسی کے بارے میں اچانک یہ محسوس ہو کہ وہ آپ سے کچھ باتیں چھپا رہا ہے تو آپ کو مایوسی اور دکھ ہوتا ہے آپ اس سے احتیاط کرتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس حقیقت کو نہیں مانتے اور اعتماد کرتے چلے جاتے ہیں ان لوگوں پر جو ان سے مخلص بھی نہیں ہوتے پھر بھی وہ ان کو اپنا ہم راز بنا لیتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں اور خود اپنی کوئی بات بھی شیئر نہیں کرتے آپ پلیز بتائیں جب آپ کو یہ احساس ہوجائے کہ وہ آپ کے ساتھ مخلص نہیں تو کیا کرنا چاہیے اس سچویشن میں؟
میں تو یہی کہوں گی ڈیئر کہ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے کیونکہ ایسے تعلق جن کی بنیاد سچائی اور خلوص پر نہ ہو سوائے اذیت کے آپ کو اور کچھ نہیں دیتے۔ پھر ایسے لوگوں کے لیے بے مقصد زندگی کو ضائع کرنا کسی طور درست نہیں۔
ء میانوالی سے بہن عشرت ملک لکھتی ہیں۔
٭ ڈیئر نازیہ یہ رب پاک کا قانون ہے کہ اس نے زندگی جیسی نعمت سب کو دی تو ہے مگر غیب کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے کسی کے حصے میں کتنی خوشیاں آتی ہیں اور کتنے غم کتنی آزمائشیں اور تکالیف یہ سب وہی جانتا ہے آپ اپنی اماں سے محبت کا بہت اظہار کرتی ہیں اس سے پتا چلتا ہے آپ اپنی امی سے بہت کلوز ہیں اور سب بہن بھائیوں سے زیادہ آپ ان کا درد محسوس کرتی ہیں آپ نے آنچل ڈائجسٹ میں اپنے انٹرویز میں کہا تھا کہ آپ کا وہ دور بہت مشکل والا دور تھا جب آپ کی امی اسپتال میں داخل تھیں تب کچھ خراب حالت کی وجہ سے آپ نے جو لکھا اس کی تکلیف ہمیں محسوس ہوئی تھی کہ آپ نے اتنی سی عمر میں کیسے کیسے دکھ دیکھ لیے ہیں اور ابھی تک دیکھ رہی ہیں کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ بیٹوں کی نسبت بیٹیاں اپنے والدین کے زیادہ قریب ہوتی ہیں اور ان کی فرماں بردار ہوتی ہیں اور ہم آپ کو اور خود کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات بالکل حقیقت ہے۔ اللہ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے آپ کی اور دنیا کی سب مائوں کو لمبی عمر اور صحت والی زندگی عطا کرے۔ آمین۔
ڈیئر عشرت آپ کے خط میں میرے لیے کوئی سوال نہیں ہے مگر پھر بھی آپ کو اس محفل میں اس لیے شامل کررہی ہوں کیونکہ آپ نے بہت خوب صورت لفظ تحریر کیے ہیں پوری دنیا میں ہر انسان خواہ وہ کسی بھی ملک اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو ’’ماں‘‘ اس کے لیے قدرت کا سب سے انمول اور قیمتی تحفہ ہے۔ لفظ ماں کو اگر ہم اپنی زندگی سے نکال دیں تو پیچھے سوائے صفر کے اور کچھ بھی نہیں بچتا۔
میں سمجھی ہوں میرے اندر میری ماں کی جان ہے اور آج جتنی خوشیاں اور کامیابیاں مجھے حاصل ہیں ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں میری ماں کی دعائوں کا ہاتھ ہے۔ میں نے جتنی بھی مشکلات اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لیے فیس کیں شاید میری جگہ میری کوئی اور بہن کبھی نہ کرسکتی مگر اپنی ماں کو زندہ رکھنے کے لیے یہ سب مشکلات دکھ اور اذیتیں میرے نزدیک اب کوئی معنی نہیں رکھتیں آپ کی محبت اور دعائوں کا بے حد شکریہ۔
ء اس نشست کے سب سے آخر میں اعزازی طور پر خط شامل کروں گی ایک بہت پیارے بھائی ایڈووکیٹ شوکت نعیم سیال کا فیصل آباد سے اور یہ خط صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ ایک عام سی لڑکی کو نازیہ کنول نازی بنانے والے میرے پیارے آنچل کے لیے بھی کسی فخر سے کم نہیں لکھتے ہیں۔
٭ آپی میں ایک نالائق اسٹوڈنٹ… آج سے چند سال پہلے تعلیم کو خیر آباد کہہ چکا تھا مگر کہیں سے آپ کی کہانی (وطن کی مٹی) کا پھٹا ہوا ورق ملا جس کی ایک لائن نے میری زندگی بدل دی کہ
’’آپ چاہیں تو اس مٹی کو کچھ نہ دیں مگر جو قرض اس مٹی نے تم پر چڑھا دیا وہ ادا کردیں تو آپ نے اس مٹی سے اپنی محبت کا حق ادا کردیا۔‘‘
اور آپ کی اسی ایک لائن نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ آج میں لاء گریجویٹ ہوں اگلے سال میں سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھ رہا ہوں اور ان شاء اللہ بہت جلد میرے جسم پر ایک اے ایس پی کی وردی ہوگی۔ میں شاید کامیابی کی اس اسٹیج تک کبھی نہ آتا اگر آپ کی لکھی وہ ایک لائن نہ پڑھتا۔
You Are a Source Of Inspiration For Me.
اللہ آپ کو دونوں جہاں کی خوشیاں نصیب فرمائے اور آپ یونہی اپنے قلم سے چراغ جلائے رکھیں اندھیرے دور کرتی رہیں۔ آمین۔
پیارے بھائی آپ کے الفاظ نے میرے لیے خون کی دو بوتلیں لگنے جیسا کام کیا ہے بہت پہلے جب میرا ناول ’’اس شہر محبت میں‘‘ شائع ہوا تھا تو آنچل کی مدیرہ محترمہ فرحت آرا آپا نے مجھے خود فون کرکے شاباش دی تھی اور یہ بتایا تھا کہ ان کے پاس سیکڑوں لڑکیوں کے خطوط آرہے ہیں جنہوں نے میرا یہ ناول پڑھ کر پانچ وقت کی نماز شروع کردی تھی اس شہر محبت کے بعد آنچل ہی میں میرا ناول ’’اے محبت تیری خاطر‘‘ پڑھ کر سیکڑوں بہنوں نے نا صرف موبائل فون ترک کردیا بلکہ مجھے خود ذاتی طور پر بہت سی لڑکیوں کی مائوں نے فون کرکے شکریہ ادا کیا کہ میں نے ان کی بیٹیوں کی زندگی کی اصلاح کے لیے ایسا جادوئی ناول لکھا۔ ماہنامہ کرن میں میرا ایک ناول ’’بات زندگی کی ہے‘‘ جو میں نے عشق رسول میں قادیانیت کے خلاف لکھا تھا پڑھ کر بہت سے لوگوں نے سراہا اور اپنی اپنی زندگیاں درست کیں تو یہ سب جہاد ہے اور میں الحمدللہ اس بات میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میرا اللہ مجھ سے یہ کام لے رہا ہے میں سمجھتی ہوں دیپ سے دیپ جلا کر ہی اس چمن میں روشنی کی جاسکتی ہے وگرنہ جتنا درد اس اداس لفظوں کی لکھاری کے سینے میں اپنی قوم اور اس ملک کی مٹی کے لیے ہے شاید وہ درد میں برداشت ہی نہ کرپائوں اور خاک اوڑھ لوں آپ کی حوصلہ افزائی کے لیے بے حد شکریہ۔
ء آخر میں عائشہ عاشو، جویریہ بلال، زارا عثمان، مدیحہ اسلم، کراچی سے وانیہ خان، ہانیہ راجپوت، سیدہ روش ترمذی، لاہور سے مہوش ملک، بہاول پور سے آصفہ نرجس عارف والا سے عائشہ اقبال، چکوال سے کشف زہرہ، حنا حورعین آغا، آسیہ بتول، گجرات سے مہوش مان، اقرا مان، ابیہا علی، انعم انصاری، فیصل آباد، فروا احسن لیاقت پور، ہادیہ ایمان راولپنڈی اور دیگر بہنوں کے سوالات میں اسی سلسلے کی مختلف نشستوں میں دے چکی ہوں لہٰذا آپ کو شامل نہیں کرسکی بے حد معذرت۔
انڈیا میں مہکتا آنچل، پاکیزہ آنچل اور حنا کے مدیر مصطفی قریشی بھائی اور نامور لکھاری غزالہ پروین قریشی آپ کی محبت کا بے حد شکریہ۔ زندگی رہی تو ان شاء اللہ پھر کہیں کسی پلیٹ فارم پر ضرور ملاقات ہوگی۔ اپنی محبت اور دعائوں میں یاد رکھیے گا عاصمہ میری جان آپ کی محبت کی نذر یہ نظم۔
ہم تو بس خواب ہیں کچھ پل کے لیے دیکھو ہمیں
پھر کسی آنکھ کسی نیند میں آئیں گے نہیں
پھر کسی راہ کسی موڑ پر ہم ہوں گے نہیں
ہم تو بس گرد ہیں کچھ دیر میں مٹ جائیں گے
ہم تو خوشبو ہیں ہمیں رنگ نہ دینا کوئی
حرف احساس کو چھو کے گزر جانا ہے ہمیں
ہم تو آنسو ہیں بہیں گے تو نہ لوٹیں گے کبھی
ہم تو بس زخم ہیں سینے کا ہمیں بھرنا ہے
ہم وہ احساس کی بیلیں ہیں جو چھائوں چاہیں
زرد کی دھوپ جو چھو لیں تو ہمیں مرنا ہے
ہم تو بس خواب ہیں کچھ پل میں بکھرنے والے
(یار زندہ صحبت باقی)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close