Aanchal Mar 15

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

سقر۔ دوزخ کے ایک طبقے کا نام۔ سقر کے معنی جھلس دینا ہے دوزخ کے اس طبقے کو سقر اس لئے کہا گیا ہے اس کی آگ جسم وروح کو تحلیل کرڈالتی ہے۔ علامہ سید مرتضیٰ زبیدی تاج العروس جواہر القاموس میں لکھتے ہیں کہ آتش کا نام سقر رکھ دیا گیا ہے اس لفظ کے اشتقاق کاپتہ نہیں ہے۔ امام جلال الدین سیوطی نے بہقی سے نقل کیا ہے کہ یہ لفظعجمی ہے(الاتقان)
قرآن کریم میں چارمقامات پر ذکر ہوا ہے۔
ترجمہ:۔بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اوروہ بڑی سخت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ بے شک یہ مجرم درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس روز ان سے کہا جائے گا اب چکھوجہنم کی لپٹ کامزا۔ (القمر۔۴۶تا۴۸)
پہلی آیتِ کریمہ میںاللہ ذوالجلال ایسے تمام لوگوں کو تاکید وخبردے رہا ہے جو آخرت پر اللہ اور اللہ کے رسول پر ا یمان نہیں لاتے اوردنیا میں اپنی من مانی کرتے ہیں اور احکامِ الٰہی قوانین الٰہی کی نہ پروا کرتے ہیں نہ فکر کرتے ہیں اور آخرت اور عذاب الٰہی کے بارے میں جو منہ میں آتا ہے کہتے رہتے ہیں قیامت پر یقین ہی نہیں کرتے ۔ ایسے ہی لوگوں کو آگاہ کیاجارہاہے کہ اللہ نے جو عذاب کا وعدہ کیا ہے اس کا وقت قیامت ہے۔ دنیا میں جتنے بھی سخت سے سخت بڑے سے بڑا عذاب جو انہوں نے کبھی دیکھا ہوگا وہ قیامت کے عذاب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جبکہ قیامت کا عذاب بڑا ہی سخت اور شدید ہوگا جس کا یہ اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
دوسری آیت میں کہا جارہا ہے کہ یہ حقیقت میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں ان کی عقل ماری گئی ہے(یہگمراہی اور آگ میں ہیں) جب روزِ محشر ان کا حساب ہوچکے گااور انہیں جہنم میںپھینک دیاجائے گا تو وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوگا یہاں اس آیتِ کریمہ میں اﷲ جل شانہ‘ اس کی منظر کشی فرمارہا ہے کہ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس روز ان سے کہاجائے گا اب چکھوجہنم کی اس آگ(لپٹ) کامزا۔ جہنم جو سراسر سزا ہی سزا ہے وہاں جسم وجان کے ساتھ روح کوبھی سزاملتی ہے انہیں نہایت حقارت سے منہ کے بل آگ میں گرادیاجائے گا‘ اس لئے کہ دنیامیں وہ غروروتکبر کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے اس لئے انہیں جسمانی ‘ روحانی اور نفسیاتی عذابوں سے گزاراجائے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے تمام فرمابردار ا نافرمانوں کو تنبیہہ فرمارہاہے بتارہاہے جتا رہا ہے کہ اب بھی موقع ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات کو اپنالو‘ اوراللہ اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی راہ اپنالو ورنہ تمہاراانجام تمہیں بتایا جارہاہے سمجھ دار لوگوں کے لئے اللہ کی تنبہی بہت ہے۔
ترجمہ:۔میںعنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا۔ اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟ نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے ۔ کھال کو جھلسا دیتی ہے۔ (المدثر۔۲۶ تا۲۹)
ان آیات میں بھی اللہ ذوالجلال نے دوزخ نصیب ہونے والوں کی منظر کشی کی ہے جو لوگ دنیا میں دین کو پسِ پشت ڈال کر من مانی زندگی گزار ینگے ان کاکیاحشر ہونے والا ہے اس سے آگاہی دی جارہی ہے۔ جہنم کی آگ ایسی شدید ایسی تیز ہوگی جو سب کچھ نگل جائے گی۔ آیات میں دوزخ کی شدید اور خوفناک خصوصیات بتائی گئی ہیں۔ آخرت کے بعد کی زندگی دائمی زندگی ہوگی چاہے جنت میں رہے یا دوزخ میں جہنم کی آگ جلا کر خاک کردے گی لیکن پھر بھی پیچھا نہیں چھوٹے گا بار بار زندہ کیاجائے گا بار بار جلایا جائے گا اس بات کو سورۂ الاعلیٰ کی آیت ۱۳ میں بھی بیان کیا گیا ہے ’’وہ اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا‘‘(الاعلیٰ۔۱۳)
(۶)جحیم۔دوزخ کے ایک طبقے کانام جس کے معنی بھرکتی ہوئی آگ جحرم کے معنی آگ کے سخت بھڑکنے مشتعل ہونے کے ہیں۔ ابن جریجکے مطابق یہ دوزخ کے سات طبقوں میں سے ایک طبقہ ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً پچیس مقامات پر ذکر آیا ہے۔ جہنم کا یہ طبقہ مشرکوں اور بت پرستوں کے لئے ہوگا۔
ترجمہ:۔ اور پرہیزگاروں کے لئے جنت بالکل نزدیک کردی جائے گی اورگمراہوں کے لئے جہنم ظاہر کردی جائے گی۔ (الشعرآ۔ ۹۰۔۹۱)
روزِ آخرت جب میدانِ حشر میں حساب ہوگا میزان نصب ہوچکی ہوگی تب اللہ ذوالجلال کے حکم سے اہلِ جنت کو جنت کا اور اہلِ جہنم کو جہنم کانظارہ کرادیاجائے گا۔جس سے کافروں منکرین کے غم میں اور اہلِ ایمان کی خوشی وسرور میں اضافہ ہوجائے گا اور وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی دیکھ لیں گے کہ جنت کی نعمتیں کیسی ہیں جہاں وہ اللہ کے فضل سے جانے والے ہیں۔ دوسری طرف گمراہ لوگ میدانِ حشر میں ہی جہنم کو دیکھ دیکھ کر لرزرہے ہوں گے ویسے ہی میدانِ حشر میں جو ان کا حشر ہورہا ہوگا وہ بھی کسی سزا سے کم نہیں ہوگا۔
ترجمہ:۔ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔(حکم ہوگا) گھیرلائو سب ظالموں اوران کے ساتھیوں کو اوران معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے۔ پھران سب کوجہنم کا راستہ دکھائو۔ (الصافات ۲۱تا ۲۳)
آیاتِ کریمہ میں ربِّ ذوالجلال نے میدانِ حشر کی وہ منظر کشی فرمائی ہے جب مشرکین وکفار بدکاروں کومیدانِ حشر میں جمع کردیاجائے گا اوران کے اعمال نامہ کھول دئیے جائیں گے اور میدانِ حشر کی سختی سے وہ گھبرائے ہوئے خوف زدہ تو پہلے ہی سے ہوں گے خود اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوں گے اس وقت انہیں ہلاکت صاف نظر آرہی ہوگی اس وقت انہیں یہ شدید احساس ہو رہا ہوگا وہ اپنی کوتاہیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ندامت کابھی اظہار کررہے ہوں گے۔ لیکن اس وقت ہر قسم کے اعتراف کاانہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ حساب کتاب شروع ہوچکاہوگا ۔ندامت ‘شرمندگی اور توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا‘ اب تو صرف دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کی جزا (سزا) کاہی دن ہوگا‘ ان کے اظہار ندامت اور اعتراف جرم کوسن کراہل ایمان اور میدان حشر میں موجود فرشتے ان کے جواب میں کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم دنیا میں مانتے نہیں تھے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم صادر ہوگا کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے تمام شریک ساتھیوں کو جو ان کے کفر میں ان کا ساتھ دے رہے تھے جن میں ان کی بیویاں ‘بیٹیاں‘ شیاطین اورہر وہ ہستی جو ان کے کفر وشرک میں کسی بھی طرح ان کی مددگار اور معاون رہی ہوگی گھیرلائو تاکہ ایک ایک قسم کی مجرمین الگ الگ جمع کردیئے جائیں۔ اس حکمِ الٰہی میں ان معبودانِ باطل کو چاہے وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے‘ سب کوان کی تذلیل کے لئے جمع کیاجائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ جن پر وہ دنیا میں بھر وسہ کرتے تھے تکیہ کرتے تھے وہ تو کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے پر کس بھی طرح قادر نہیں ہیں ان میں سے پہلی قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے تووہ انہیں دیکھ کر شرمندگی محسوس کرینگے اور اپنی حماقتوں پر ماتم کریں گے۔ ان جہنم کی طرف دھکیلے جانے والوں میں وہ نیک وکار لوگ ‘ فرشتے ‘انبیاء اور اولیا کرام شامل نہیں ہوں گے جنہیں یہ مشرکین اپنے طور پر پوجتے‘ پرستش کیا کرتے تھے۔
(۷)ہاویہ۔ دوزخ کاایک طبقہ جو سب سے نیچے ہے یہ فرعونوں اور منافقین کا ٹھکانہ ہے جس کے معنی گہراآتشی گڑھا‘ بہت ہی گہرا کنواں۔ گرنے والی گہرائی ‘اس میں دوزخی سر کے بل گریں گے۔
ترجمہ:اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کاٹھکانا ہاویہ ہے۔ (القارعتہ۔ ۸ ۔۹)
آیتِ کریمہ میں ارشاد ہو رہا ہے کہ جس کے اعمالِ حسنہ وزن میں ہلکے یعنی کم ہوں گے اس کی جگہ دوزخ کا طبقہ ہاویہ ہوگا جو انتہائی گہرے کنویں کی طرح ہوگا۔
آیتِ مبارکہ میں لفظ موازین استعمال ہوا ہے جو موزدن کی جمع بھی ہوسکتا ہے اور میزان کی جمع بھی۔ اگر اسے موزدن کی جمع قرار دیا جاے تو موازین سے مراد وہ اعمال ہوں گے جن کی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وزن ہو‘ جو اس کے ہاں کسی قدر کے مستحق ہوں اور اگر میزان کی جمع قرار دیاجائے تو ’’موازین‘‘ سے مراد ترازو کی پلڑے ہوں گے۔ پہلی صورت میں موازین کے بھاری ہونے کامطلب نیک اعمال کا برے اعمال کی مقابلے بھاری یاہلکا ہونا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صرف نیکیاں ہی وزنی اور قابل قدر ہیں۔ دوسری صورت میں ’’موازین‘‘ کے بھاری ہونے کامطلب اللہ جل شانہ کی میزان عدل میں نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے کی نسبت زیادہ بھاری ہونا۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فیصلہ اعمال کی پونجی کی بنیاد پر ہوگا جو اعمال زیادہ ہوں گے نیک یا بد ‘ فیصلہ اسی مناسبت سے ہوگا ۔یہ مضمون قرآن کریم میں کئی جگہ آیاہے۔ سورۃ الاعراف میں بیان ہوا ہے ۔’’اور وزن اس روز حق ہوگا‘ پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے۔(الاعراف۔۸۔۹)اسی بات کو سورۂ کہف ۱۰۴۔۱۰۵ میں سورہ ٔالانبیاء ۔۴۷ میں کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق سے انکار اور کفر خود اتنی بڑی برائی ہے کہ وہ برائیوں کے پلڑے کو جھکا دے گی اور کافروں کی کوئی نیکی ایسی نہیں ہوگی جو ان کی بھلائیوں کے پلڑے کو بھاری کرسکے اور نیکوں کے پلڑے کوجھکاسکے۔ جبکہ مومن اہل ایمان کے پلڑے میں ان کے ایمان کا وزن بھی ہوگااور نیکیوں کا وزن بھی ہوگا جو اس نے دنیا میں کی ہونگی۔ اس کی جوابدہی یعنی حساب کے وقت اس کے بدی کے اعمال کو دوسری طرف بدی کے پلڑے میں رکھاجائے گااور پھر دیکھاجائے گا کہ کونسا پلڑا بھاری ہے وہی اس کا فیصلہ ہوگا۔
دوسری آیت کے الفاظ میں ’’اُمِ ہاویہ‘‘ یعنی اس کی ماں ہاویہ ہوگی‘ ہاویہ ھویٰ سے ہے جس کے معنی اونچی جگہ سے گہرائی میں گرنے کے ہیں‘ جہنم کے اس طبقے کو ہاویہ کا نام اس لئے دیا گیاہے کہ وہ بہت ہی گہرا گڑھا ہے جو آگ بلکہ بھڑکتی ہوئی آگ سے بھرا ہواہے جب اہل جہنم کو اس میں پھینکاجائے گا آیتِ مبارکہ میں ارشادِ الٰہی ہے کہ اس کی ماں جہنم ہوگی اس کامطلب ہے کہ جس طرح ماں کی گودبچے کا ٹھکانا ہوتی ہے ایسے ہی آخرت میں جب اہلِ جہنم کو فیصلہ سنادیاجائے گاتو ان کی سزا کے طور پر ان کا ٹھکانا جہنم کا وہ طبقہ ہاویہ ہوگا۔
دوزخ کی آگ کی شدت کااندازہ انسان دنیا میں بھی کسی قدر کرسکتا ہے۔آئے دن دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں آتش فشاں آگ اگلتے رہتے ہیں آتش فشا ںدوزخ کی آگ کے مقابلے میں ایک فی صد بھی نہیں ہوتے جبکہ یہ بھی اپنے اندر موجود معدنیات اور دیگر اجزا کو پگھلا کر پانی کی طرح بنادیتے ہیں۔
یہ تو تھی مختصر تفصیل دوزخ اور اس کے طبقات کی کیونکہ ہر مجرم کو سزا اس کے جرم کے مطابق ہی ملے گی جس کے لئے اللہ ذوالجلال نے مختلف سزائوں اور عذابوں کے لئے دوزخ کو سات مختلف درجات میں تخلیق فرمایاہے کہ ہر مجرم اپنے جرم کے حساب سے ہی سزا پائے‘ کسی کے ساتھ ذرا برابر زیادتی یاکمی نہیں کی جائے گی۔ ایسے ہی نیکوکار متقی اہل ایمان کے ساتھ معاملہ ہوگا انہیں بھی ان کے نیک اعمال واقوال کی جو جزاملے گی اس کاحساب بھی ہوگااور انہیں بھی جنت کے مختلف درجات میں عیش وآرام کی زندگی نصیب ہوگی۔ اب یہ بھی سمجھ لیں کہ اہل جنت کے ساتھ کیسا معاملہ فرمایاجائے گا۔
جنت
جزاپانے والوں کا دائمی ٹھکانا
قرآنی آیات سے جنت کا جو تصور قائم ہوتا ہے وہ مثالی ہے۔یعنی جنت نیکوکاروں کے اس دائمی گھر سے عبارت ہے جس سے انسان کی اعلیٰ تمنائیں اور آرزوئیں پوری ہوں گی۔ جنت کی ایک صفت خلد ہے۔ یعنی وہاں پہنچ کر لوگ ایسی مسرتوں سے بہرہ مند ہوں گے جنہیں کبھی زوال ہی نہیںہوگا۔ جو دائمی ہوں گی۔ وہاں ہر طرح کے رنج و غم‘ ہر قسم کے دکھ وتکالیف سے انسان آزادہوگا اُن کا تصور تک نہیں ہوگا ہر قسم کی فکر سے پاک ہوگا جنت ایسی پاکیزہ جگہ ہوگی جہاں کینہ ‘بغض‘ حسد‘رشک اوردیگر لغویات کا ہرگزگزر نہیں ہوگا۔ نہ شیطان ہوگا نہ ہی شیطانی وسواس ہوں گے۔
جنت ایسے باغ ہیں جن کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نیک اور اچھے کام کرنے والے اہل ایمان بندوں کو خوش خبری سنائی ہے یہ باغات ایسے حسین اورخوبصورت ہیں کہ ان کی مثال نہ تو دنیا میں کہیں ملتی ہے اور نہ ہی انسانی ذہن ان کی خوبصورتی کے متعلق پوری طرح سوچ سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں جس طرح آسمان کا جوڑ زمین ‘ سورج کا چاند‘ انسانوں میں دیگر تمام مخلوقات میں نرمادہ کا جوڑ بنایاہے جیسے دوزخ جو بدکاروں کابدترین ٹھکانا ہے ایسے ہی جنت نیکوکاروں متقی اہل ایمان کا عیش وآرام کا ٹھکانا ہے جہاں رحمت ِ الٰہی کا فضل اور انعامات ہی انعامات ملتے رہیں گے۔ قرآنِ حکیم میں جنت کے مختلف طبقات کاذکر ملتا ہے جو اہل ایمان کو ان کی محنتوں اور ان کے تقویٰ اوراعمالِ صالحہ کے لحاظ سے نصیب ہوں گے۔
دنیا میں ہم جنت ہر اس باغ کوکہتے ہیں جس کی زمین درختوں کے جھنڈ کی وجہ سے نظر نہیں آتی ہو بہشت کو دنیاوی باغات سے تشبیہہ اس لئے دی گئی ہے کہ انسان اس کی خوش نمائی اس کی ٹھنڈک وراحت کو کسی حد تک ہی سہی سمجھ سکے کیونکہ جنت اوراس کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھی ہیں جو کچھ جنت کے بارے میں اظہار قرآنِ کریم میں ہوا ہے اسے انسانی ذہن کی قوت فہم وادراک کومدنظر رکھتے ہوئے ہی کیا گیاہے تاکہ انسانی عقل جو زیادہ سے زیادہ سوچ سکتی ہے سمجھ سکتی ہے وہ اسے سمجھ لے محسوس کرلے اللہ تعالیٰ اپنے اہلِ ایمان بندوں کو آخرت کے اور یومِ حساب کے بعد کیسی انعام یافتہ مسرور اور پرکیف زندگی جوحقیقی زندگی ہوگی جس کو کبھی فنانہیں ہوگی بخشنے والا ہے کیونکہ جنت کی اصل اورحقیقی نعمتوں اور راحتوں کے بارے میں خود ربِّ کریم ورحیم قرآنِ کریم میں ارشاد فرما رہا ہے۔سورۃ السجدہ میں اس طرح آیا ہے۔
ترجمہ:۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کررکھی ہے جو کچھ کرتے تھے یہ اس کابدلہ ہے۔ (السجدہ۔۱۷)
ارشادِ باری تعالیٰ ایک اعلان عام کے بطور کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان نعمتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان متقی پرہیز گاروں کے لئے چھپا رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایاہے کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘میں نے اپنے نیک بندوںکے لئے وہ‘ وہ چیزیں تیار کررکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھی‘ کسی کان نے نہیں سنی نہ کسی انسان کے وہم وگمان میں ان کا گزر ہوا۔(صحیح بخاری‘ تفسیر السجدہ)
اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمالِ صالحہ کا اہتمام بہت ضروری ہے۔
جنت کی جمع جنات ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنات لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت کے سات طبقات ہیں۔
(۱) جنت الفردوس۔(۲)جنت عدن (۳)جنت النعیم(۴)دارالخلد(۵)جنت الماویٰ(۶)دارالسلام(۷)علیین۔
کچھ اہلِ تحقیق نے بہشت کے آٹھ درجات قائم کئے ہیں۔ (۱) عدن (۲) جنت الماویٰ (۳) فردوس (۴)نعیم (۵) دارالقرار (۶)دارالخلد (۷) دارالسلام (۸) دارالجلال۔ محققین نے یہ بھی لکھا ہے کہ سات درجات تو انسانوں کے قیام کے لئے ہوں گے جبکہ آٹھواں درجہ دیدار حق تعالیٰ سبحانہ کے لئے ہوگا ۔ وہ کونسا درجہ ہوگا اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک وہ مقام دیدار الٰہی علیین کامقام ہے جبکہ بعض کے نزدیک صدق ہے۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close