Aanchal Apr 19

تیری زلف کے سر ہونے تک(قسط۳۱)

اقراؑصغیراحمد

محبت کا ارادہ اب بدل جانا بھی مشکل ہے
تمہیں کھونا بھی مشکل ہے‘ تمہیں پانا بھی مشکل ہے
اداسی تیرے چہرے کی گوارہ بھی نہیں لیکن
تیری خاطر ستارے توڑ کر لانا بھی مشکل ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

انشراح، لاریب کے خطرناک ارادے جان کر حواس باختہ ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے طور پر نوفل کو میسج تو بھیج دیتی ہے لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آتا۔ انہی تفکرات کے زیر اثر وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجاتی ہے۔ لاریب غصے میں اپنے وفادار ملازم پر خوب غصہ کرتا ہے اور طیش کے عالم میں اسے تھپڑ مار دیتا ہے۔ انشراح، یوسف صاحب کی بیٹی ہے۔ نوفل یہ حقیقت جان کر شاکڈ رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف انشراح کا میسج جو لاریب کے نمبر سے اسے ملتا ہے بوکھلا کر رکھ دیتا ہے ایسے میں گھر والوں کو تشویش میں گھرا چھوڑ کر وہ جلد از جلد انشراح کے پاس پہنچنا چاہتا ہے۔ بالی، انشراح کے اغوأ کی بات روشن کو بتا دیتی ہے ساتھ ہی یوسف صاحب سے ملنے کا بھی تذکرہ کرتی ہے۔ روشن اس کی باتوں سے فوراً سمجھ جاتی ہے کہ انشراح کو لاریب نے ہی اغوأ کیا ہے۔ اسے جہاں آرأ پر بھی بے حد غصہ آتا ہے کہ وہ دولت کے حصول کی خاطر اس کی بیٹی کے سودے سے باز نہ آئیں۔ سودہ کا اجنبی لہجہ اور ناگوار انداز زید کو تشویش میں مبتلا کردیتا ہے۔ وہ اس رشتے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اسے بے حد کرب میں مبتلا کردیتی ہے۔ بوا اتفاق سے دونوں کی باتیں سن لیتی ہیں اور سودہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں ایسے میں عمرانہ اور عروہ کا ذکر کرتی ہیں کہ وہ اس رشتے کو جلد ختم کردیں گی۔ بوا تمام حقیقت جان جاتی ہیں اور اپنے تئیں زید کو تمام حقیقت بتا دیتی ہیں کہ سودہ کے اس رویے کی اصل وجہ عمرانہ اور عروہ ہیں زید یہ سب جان کر عروہ کو سودہ سے دور رہنے کی تنبیہہ کرتا ہے لیکن وہ ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتی بس زید کو حاصل کرنا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ نوفل مراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں مراد لاریب کی طرف سے بدظن ہوکر ایک نیا پلان بنا لیتا ہے۔ انشراح ہوش میں آنے پر جہاں آرأ کی غیر موجودگی پر سخت متفکر ہوتی ہے ایسے میں لاریب اسے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن انشراح موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کانچ کا ٹکڑا اٹھا کر اپنی کلائی پر پھیر لیتی ہے۔ لاریب اس اچانک صورت حال پر بوکھلا جاتا ہے دوسری طرف نوفل اچانک وہاں پہنچ کر لاریب کے فرار کی راہ مسدود کردیتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

نوفل کے پیچھے ہی دوسری گاڑی ریسٹ ہائوس میں داخل ہوئی تھی جس میں یوسف صاحب، زرقا بیگم، اذہان اور سامعہ موجود تھے کیونکہ نوفل کی کال آنے کے بعد ڈرائیور مراد کو اندازہ ہوگیا تھا کہ نوفل کسی طوفان کی صورت میں آئے گا جس کو برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ ایسے میں اس کو یہی لگا کہ فوراً سے پیشتر یوسف صاحب کو فون کے ذریعے ساری صورت حال سے آگاہ کیا جائے اور اس کا یہ فیصلہ بہترین ثابت ہوا تھا۔ وہ فون سنتے ہی وہاں سے روانہ ہوگئے تھے اور اب جب نوفل نے انشراح کو بے سدھ پڑا دیکھا اور اس کے ارد گرد پھیلا ہوا خون دیکھ کر تو گویا اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا پھر اس نے گھگھیاتے ہوئے لاریب کے ہونٹ ہلتے دیکھے تھے۔ اس کے چہرے پر پھیلتا ہوا خوف آنکھوں میں پھیلی ہوئی وحشت کچھ بھی اسے نہ روک سکی اور اس نے ہاتھ میں پکڑے پستول سے فائرنگ شروع کردی تھی۔ وہ پستول میں موجود تمام گولیاں اس کے جسم میں اتار دینا چاہتا تھا مگر پہلی گولی اس کے بازو میں پیوست ہوئی تب ہی بھاگتے دوڑتے قدم اس کے قریب آکر رکے اور قبل اس کے کہ مزید گولیاں لاریب کو لگتیں قریب آکر یوسف صاحب نے اس کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کردیا اور کئی سرخ شعلے یکے بعد دیگرے چھت میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ یہ سب آناً فاناً ہوا تھا۔ گولیاں ختم ہونے کے بعد یوسف صاحب نے اس سے پستول چھین لیا مگر وہ اس وقت منہ زور طوفان بنا ہوا تھا آگے بڑھ کر لاریب کو ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتار دینا چاہتا تھا معا سامعہ اس کے قدموں میں بیٹھ گئیں اور گڑگڑانے لگیں۔
’’آنٹی… پلیز، میرے راستے سے ہٹ جائیں۔‘‘ اس کی آواز میں عجب رعب تھا۔ اس کی آنکھیں اتنی سرخ ہورہی تھیں کہ لگتا تھا ابھی لہو ٹپک پڑے گا۔ چہرہ بھی سرخ اور رگیں تنی ہوئی تھیں۔ زرقا نے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور یوسف صاحب پہلے ہی دائیں بازو پکڑے کھڑے تھے اذہان بھی ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے۔ سامعہ کی طرح ان کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے۔
’’فارگاڈ سیک، مجھے کسی گستاخی پر مجبور مت کریں۔ میرے راستے سے ہٹ جائیں، پلیز میری تکلیف کو سمجھیں، پلیز۔‘‘ اس کی حالات اس زخمی شیر کی مانند تھی جس کو دھوکے سے جال میں جکڑ دیا جائے۔ وہ بری طرح مضطرب و بے کل ہورہا تھا۔ لاریب بے ہوش پڑا تھا۔
’’پہلے مجھے مار دو، میرے بعد آپ لاریب کو بھی مار دینا، اس کے جرم کی سزا موت ہی ہے لیکن… میں کس طرح یہ سب دیکھ سکوں گی؟‘‘ سامعہ اس کے پیروں سے لپٹی ہوئی زار و قطار روتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’لاریب کے جرم کی سزا ہم سب کو کیوں دے رہے ہیں؟ ہوش میں آئیں بیٹا۔ یہ غصے کا وقت نہیں‘ اس لڑکی کو بھی ٹریٹمنٹ کی فوری ضرورت ہے۔ ذرا دیکھیں کتنی تیزی سے بلڈ ضائع ہورہا ہے اس کی رسٹ سے۔‘‘ زرقا بیگم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے رندھی آواز میں کہا اور اس کی نگاہ اس کے ہاتھ پر گئی جس کی کلائی سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا۔ ساتھ ہی نگاہ انشراح کی کلائی سے ہوتے ہوئے چہرے پر ٹکی جو سپید پڑتا جارہا تھا۔ اس کی سیاہ دراز پلکیں بالکل ساکت تھیں۔
’’پلیز…‘‘ اس نے کچھ جھک کر سامعہ کو اپنی ٹانگوں سے جدا کیا اور آگے بڑھ کر انشراح کی کلائی پر رومال باندھ کر اسے اٹھا لیا تھا۔
ز/…/ز

پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ
پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے

بوا کی زبانی عمرانہ اور عروہ کی سودہ سے کی گئی گفتگو سن کر جہاں ماں کے رویے پر دکھ ہوا وہیں سودہ کے گریز و بے اعتنائی کی وجہ بھی معلوم ہوگئی اور دل بے قرار کو قرار آنے لگا تھا‘ چند گھنٹوں قبل جو زندگی بے رنگ، و بے ثمر دکھائی دے رہی تھی وہاں اب قوس و قزح کے رنگ تھے جینے کی راہ پھولوں اور کلیوں سے مہک اٹھی تھی۔
’’وہ اسٹوپڈ ہے اور اسٹوپڈ ہی رہے گی، نکاح کی دوسری صبح جب وہ چائے لے کر لان میں آئی تھی تب تایا جان نے اس کو خصوصی طور پر سمجھایا تھا کہ وہ مما کی طرف سے کی جانے والے کسی بھی ناپسندیدہ عمل کو برداشت کرنے کے لیے صبر و تحمل و دانش مندی کا مظاہر کرے۔ پہلی بار اس کے ستے ہوئے چہرے پر بے فکر مسکراہٹ پھیلی تھی۔
’’یہی سب باتیں میں اور بڑی بہو بھی سمجھاتے ہیں مگر سودہ بیٹی تو گویا ایثار و وفا‘ پیار و محبت کی مٹی سے بنی ہیں۔ وہ تو بس ہر طرف پیار و محبت ہی محبت دیکھنے کی خواہش مند ہیں۔ نفرت و غصے کی ایک نگاہ بھی ان کی برداشت سے باہر ہے پھر عمرانہ بہو سے وہ اول روز سے ہی خوف زدہ ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان ان کی وجہ سے تنازع جنم لے اسی خیال سے انہوں نے وہ سب آپ سے کہا جو اتفاق سے میں نے سن لیا اور ان کو بھی سمجھایا۔‘‘ زید کو مطمئن و شاداں دیکھ کر بوا کو بھی اطمینان ہوا تھا۔
’’بہت شکریہ بوا آپ کا اگر آپ حقیقت سے پردہ نہ اٹھاتیں تو نہ جانے کیا ہوجاتا… شاید سودہ بے وقوف کی خوشی کی خاطر میں وہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتا جو مما اور عروہ چاہتی ہیں۔‘‘
’’شکریہ کی ضرورت نہیں میاں… میں نے اس گھر کے نمک کا حق ادا کیا ہے۔ میں دل سے اس بندھن پر راضی ہوں۔ آپ دونوں کی جوڑی تو چاند اور چاندنی کی مانند ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بنا نامکمل، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ روشن۔‘‘ وہ لہک کر گویا ہوئیں۔
’’واہ بوا آپ تو شاعرانہ گفتگو بھی کرلیتی ہیں۔ ویری نائس۔‘‘
’’بس میاں، جس سے محبت ہوتی ہے اس کے لیے ایسی باتیں زبان پر آہی جاتی ہیں۔‘‘
’’ایک بات بتائیں گی آپ؟‘‘ سودہ کے انکار کی حقیقت جان کر اس کے بے دم وجود میں نئی زندگی دوڑ گئی تھی یہ امر اس کے بے انتہا خوش ہونے کی دلیل تھا کہ وہ کچن میں کھڑا خلاف عادت بوا سے بے تکلفی سے بات کررہا تھا۔
’’کیوں نہیں، ایک چھوڑ دس باتیں پوچھیں آپ۔‘‘
’’سودہ نے کبھی… یعنی نکاح کے بعد میرے لیے پسندیدگی کا کوئی اظہار کیا؟ آئی مین… وہ مجھے پسند کرتی ہے یا نہیں؟‘‘ وہ جانتا تھا بوا سے زیادہ سودہ کے کوئی قریب نہیں ہے شاید اس کے لیے کسی نہ کسی حد تک کچھ نہ کچھ اظہار پسندیدگی کیا ہوگا۔
’’ارے میاں… یہ کیسا سوال کیا آپ نے۔ دنیا میں ایسی کون لڑکی ہوگی جو آپ کو پسند نہ کرے۔ سچ مچ آپ تو ایسے ہیں جن کو لوگ چراغ لے کر ڈھونڈتے ہیں‘ آپ تو چاند کی مانند بٹیا کی اندھیری زندگی میں طلوع ہوئے ہیں۔‘‘ دور سے قدموں کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ کوئی کچن کی سمت ہی آرہا تھا۔ زید مسکراتا ہوا چلا گیا۔ بوا نے خوب صورتی سے اس کے سوال کا جواب گول کردیا تھا۔
’’بوا ابھی تک آپ فارغ نہیں ہوئیں۔ آپ تو کہہ رہی تھیں کام زیادہ نہیں ہے۔ چلیں میں بھی آپ کی ہیلپ کراتی ہوں۔‘‘ زمرد بیگم نے وہاں آکر کہا۔
’’نہیں، نہیں کام ختم ہوگیا ہے، وہ زید میاں آگئے تھے۔ انہوں نے کچھ کھایا نہیں تھا۔ ان سے پوچھ رہی تھی کہ چائے یا کافی لے لیں۔ انہوں نے انکار کردیا۔‘‘ بوا نے بڑی ذہانت سے ان کو معاملے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔
’’کہاں بھوک پیاس لگ رہی ہوگی بچے کو، رضوانہ کس قدر خفا ہوکر گئی ہیں کہ اکلوتے بھانجے کے نکاح میں ان کو شرکت سے محروم رکھا۔ ہم نے ذرا بھی ان کا خیال نہ کیا۔ اہمیت دینا ضروری نہیں سمجھا وغیرہ وغیرہ۔ عمرانہ بھی بہن کی محبت میں یہ بھول کر ان کا ساتھ دیتی رہیں کہ یہ نکاح سو فیصد اس کی مرضی سے ہوا ہے جب ہی رضوانہ نے ہمارا خیال نہ کیا تو زید کو بھی نہ بخشا ہوگا تب ہی بد دل ہوکر اس کو کھانا پینا اچھا نہیں لگ رہا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کچن کی لائٹ اور دروازہ بند کرکے آگے بڑھتے ہوئے مزید کہا۔ ’’میں تو کہتی ہوں جس طرح بھی ممکن ہو۔ سودہ اور زید کو ان فتنوں سے بچانے کی خاطر، سودہ بیٹی کی رخصتی کرکے اس قصے کو پاک کریں۔‘‘
ز/…/ز
ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔
ایک پل چین و سکون نہ ملا نوفل سے رابطہ ہورہا تھا نہ ہی انشراح کی خیر خبر تھی۔ اس کی طبیعت و مزاج پہ وقت گراں گزر رہا تھا۔ ایسی افتاد پڑی تھی کہ ماسی کی گمشدگی کی پریشانی بھی کہیں پیچھے رہ گئی تھی کہ انشراح کی خیر و خبر نہ ملنا اس لیے بھی دل کو مضطرب تھا کہ اس کو لاریب لے کر گیا تھا اور وہ ایسا شخص تھا جس پر بھروسا و اعتماد بالکل نہیں کیا جاسکتا تھا کردار کی تمام خرابیاں اس میں موجود تھیں اور کسی طرح بھی اس پر یقین کرنا ماسوائے حماقت کے کچھ نہ تھا۔ امریکہ سے روشن اس سے مسلسل رابطے میں تھی۔ جتنی بے بس و بے اختیار وہ یہاں تھی یہی بے بسی و بے کسی روشن کے لہجے میں بھی پنہاں تھی۔ شوہر اور بیٹے کی موجودگی میں بھی اپنی تنہائی و اکیلے پن کا احساس ہر خوشی سے محروم کررہا تھا۔
’’ایسا کیوں سوچ رہی ہیں آپ؟ کیا ابھی تک مجید انکل آپ کو سمجھے نہیں‘ پچیس سال کا عرصہ ایک دوسرے کو جاننے اور اعتبار کرنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے کیا؟‘‘ بالی نے اس کے رندھے لہجے پر کہا۔
’’عورت اعتبار و اعتماد کے سہارے ہی زندگی کے سفر پر گامزن رہتی ہے اگر اعتبار و اعتماد محبت کی نائو پر سوار نہ ہو تو نائو ساحل پر ہی ڈوب جائے۔ یہ وہ سہارے ہیں جن کا سہارا لے کر ہی زندہ رہا جاسکتا ہے۔‘‘
’’پھر آپ مجید انکل سے شیئر کریں، بتائیں ان کو انشراح کے بارے میں کہ وہ آپ کی شادی سے پہلے کی اولاد ہے۔‘‘
’’آہ… کاش یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا تو میں انشراح سے دوری یوں نہ جھیل رہی ہوتی۔ یہ جو ہوا ہے کبھی نہ ہوا ہوتا… وہ میرے پاس ہوتی، میرے ساتھ ہوتی کسی کی گندی نگاہ اس کو چھو بھی نہ سکتی تھی۔‘‘ روشن کی سسکیاں بالی کی سماعت میں گونجنے لگیں۔
’’اعتبار کانچ کی مانند ہوتا ہے۔ جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا پھر اعلیٰ ظرفی مردوں میں خال خال ہی پائی جاتی ہے۔ مجید اور کونین بھی مرد ہی ہیں۔ میں ان کے سامنے اپنا ماضی دہرا کر بے اعتبار اور در بدر ہونا نہیں چاہتی، ایک گھر کی چاہ میں، میں نے سب کچھ بھلا رکھا ہے۔ مجھے خوف ہے میرا ماضی جان کر مجید تو شاید معاف کردیں… مگر کونین جو جوان ہے اس کی نگاہوں میں اس کی ماں دنیا کی بہترین ماں ہے۔ وہ فخر کرتا ہے مجھ پر کہ اس کی ماں معصوم و دین دار عورت ہے اگر حقیقت اس پر کھلی تو وہ کس طرح برداشت کرے گا۔‘‘
’’عورت جب مصلحتوں میں جکڑی جاتی ہے تو پھر قیدی بن جاتی ہے اور یہ قید عارضی نہیں عمر بھر کی ہوتی ہے۔ خیر…‘‘ وہ آنسو صاف کرکے اس کو تسلی دیتی‘ لہجہ نارمل بناتی گویا ہوئی۔
’’آپ فکر مت کریں، ان شاء اللہ انشراح جہاں ہوگی محفوظ ہوگی اور ماسی بھی۔ ہماری پہنچ ان تک نہیں ہے مگر ہماری دعائوں کی رسائی ان تک ضرور ہے میں بھی دعا کررہی ہوں آپ بھی دعا کریں۔‘‘
’’میرا تو دل بھی دعا بنا ہوا ہے۔‘‘ روشن پر اس وقت صرف ممتا غالب تھی۔ بالی تنہا ہوکر بھی اس کی تسلی و دلاسے دیتی رہی اور اس سے بات کرنے کے بعد وہ پھر سے نوفل کو کال کرنے لگی مگر اس کا موبائل آف جارہا تھا۔
ز/…/ز
انشراح کے بے ہوش وجود کو بازوئوں میں اٹھائے تیزی سے راہداری عبور کرتا، نیچے جاتی سیڑھیاں اترنے لگا۔ یہ اس ریسٹ ہائوس کا عقبی حصہ تھا جہاں سیڑھیوں سے ملحقہ وسیع کار پارکنگ ایریا تھا اور ملازمین کے لیے کچھ کوارٹرز بنے ہوئے تھے۔ اس کو تیزی سے نیچے آتے دیکھ کر وہاں بدحواس و پریشان حال کھڑے مراد اور چوکیدار نے آگے بڑھ کر اس کی کار کا پچھلا دروازہ کھولا نوفل نے انشراح کو بڑی احتیاط سے نشست پر لٹایا اور پھرتی سے فرسٹ ایڈ بکس نکال کر اس کی کلائی کو صاف کرنے لگا اور زخم صاف ہونے کے بعد واضح ہوا تو یہ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی کہ شاید جلد بازی کے باعث زخم اتنا گہرا نہیں آیا تھا کہ ٹانکے لگائے جاتے۔ نبض بالکل محفوظ تھی۔ اس زخم پر وہ خود بھی ڈریسنگ کرسکتا تھا سو اس لمبے سے زخم کی اس نے خود ہی بڑی مہارت سے پٹی کردی تھی۔
اس کی مرہم پٹی سے فارغ ہوکر اس نے انشراح کے چہرے کو بغور دیکھا جہاں روپ کی چاندنی بکھری ہوئی تھی۔ وہ یقینا خوف سے بے ہوش ہوئی تھی۔ لاریب کی دست درازی سے اللہ نے اس کو محفوظ رکھا تھا۔ اس کی وحشت کو ایک گونہ سکون ملا پھر وہ وہاں ایک لمحہ نہ رکا۔ وہ جلد از جلد بالی کے پاس اس کو لے جانا چاہتا تھا۔ اس کے ہوش میں آنے سے قبل وہ کسی طرح بھی اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ لاریب کی گھٹیا جسارت نے اس کو اس سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا اور لاریب کو سوچتے ہی اس کے اندر غم و غصہ بھڑکنے لگا تھا کہ معاً قریب سے شور مچاتی ایمبولینس گزری جس کا رخ ریسٹ ہائوس کی جانب تھا۔
اس نے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی کہ لاریب زندہ بھی ہے یا مرچکا ہے۔ کئی گولیاں تواتر سے برساتا چلا گیا تھا اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا اور پھر اسی سوچ نے اس کو نڈھال کردیا کہ خود پر گزری تو اس کو خیال آیا اس نے جنون میں فائرنگ کردی تھی۔ حالانکہ یہ کام اس کو بہت پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا جب وہ بار بار منع کرنے کے باوجود اپنی رذیل حرکتوں سے باز نہ آیا تھا تو آج یہ نہ ہوتا۔ یہی سوچتا ہوا وہ کار دوڑا رہا تھا رات گہری ہورہی تھی۔ ہر سو اندھیرے کا راج تھا۔
یہاں آتے ہوئے اس نے نہ اس سرد موسم کی پروا کی تھی نہ وقت کی اور اب انشراح اس کے ساتھ تھی تو گویا حواس پوری طرح بیدار ہوگئے تھے بے حد تیز مگر از حد محتاط ڈرائیونگ کررہا تھا اور گاہے بگاہے وہ مڑ مڑ کر پیچھے بھی دیکھ رہا تھا۔ انشراح کے زرد چہرے پر ہلکی ہلکی سرخی نمایاں ہونے لگی تھی۔ بے حد کم وقت میں وہ انشراح کو بالی کے پاس لے کر پہنچ گیا تھا۔
’’انشی… انشی… میری جان۔‘‘ وہ اس کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکی اور تیزی سے آگے بڑھی معاً نوفل نے جو اس کی ہمراہی میں اس کو بیڈ پر لٹا چکا تھا نرمی سے بولا۔
’’پلیز، یہ جب تک خود ہوش میں نہ آئیں آپ انہیں نہ چھیڑیں۔‘‘
’’یہ خیریت سے تو ہے ناں‘ اس جانور نے اسے کوئی ضرر تو نہیں پہنچایا‘ یہ ٹھیک ہے ناں نوفل بھائی؟‘‘ بالی کے لہجے میں غم، دکھ، اضطراب و بے چینی تھی وہ بے قراری سے انشراح کا سر تا پا جائزہ لے رہی تھی۔
’’یہ بالکل محفوظ ہے۔ آپ کسی غلط خیال کو دل میں جگہ نہ دیں۔‘‘
’’آپ بالکل سچ کہہ رہے ہیں ناں…؟‘‘
’’آپ کو یقین نہیں ہے میری زبان پر؟‘‘ گہری سنجیدگی میں دھیمی مسکراہٹ ابھری اور بالی اس کے قدموں میں بیٹھتی چلی گئی وہ رونے لگی۔
’’ارے ارے… یہ کیا کررہی ہیں آپ… پلیز پلیز اسٹینڈ اپ۔‘‘ نوفل نے تیزی سے جھک کر شانوں سے پکڑ کر اس کو اٹھایا۔
’’نوفل بھائی، انشراح کے ساتھ آپ نے مجھے بھی نئی زندگی دی ہے اگر اس کو کچھ ہوجاتا تو میں بھی زندہ نہ رہتی۔‘‘ اس نے آنسو پوچھتی ہوئی ممنون لہجے میں کہا پھر وہ انشراح پر کمبل ڈال کر باہر آگئی۔
’’نوفل بھائی مجھے احساس ہے، آپ ایک آگ کے دریا سے گزر کر آئے ہیں۔ وہاں کچھ اچھا تو نہ ہوا ہوگا۔ میں یہ پوچھنا چاہ رہی ہوں ماسی کا پتا نہیں چلا؟ بی کوز لاریب نانی کا کہہ کر ہی یہاں سے انشی کو لے گیا تھا۔‘‘ بالی نے اس کے از حد سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا کہ اس کی سنجیدگی از حد گمبھیر تھی۔
’’نہیں… وہاں وہ نہیں تھیں۔‘‘
’’تو کیا اس نے جھوٹ بولا تھا؟ روشن کہتی ہیں ماسی کا اغوأ لاریب نے پلاننگ کے تحت کیا ہے۔ ان دنوں ماسی پر صرف ان ہی کا خوف سوار تھا۔ وہ ہر لمحہ سراج و برکھا کے خوف میں مبتلا تھیں۔ ممکن ہے کہ وہ لاریب کو راستے میں مل گئی ہوں اور اس نے ان کی دماغی ابتری سے یہ تمام ڈراما ترتیب دیا ہو مگر…‘‘
’’یہ روشن کون ہیں؟‘‘ پہلی بار اس نے یہ نام سنا تھا۔
’’انشراح کی مما جو شادی کے بعد امریکہ میں سٹیل ہیں۔‘‘
ز/…/ز
نوفل اس لڑکی کو لے جاچکا تھا۔ زرقا بیگم اور یوسف صاحب کے چہروں پر پریشانی کے ساتھ ہی حیرت و استعجاب پوری شدت سے ابھرا تھا۔ نوفل کے چہرے پر چھائے جذبات اس کے دل کے رازوں سے پردہ اٹھا گئے تھے‘ صاف پتا دے رہا تھا کہ وہ لڑکی اس کے لیے اجنبی نہیں ہے اور کوئی عام لڑکی بھی نہیں ہے کوئی خاص الخاص اہمیت کی حامل لڑکی ہے۔
’’کب تک کھڑے اس کو دیکھتے رہیں گے، میرا بچہ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہے اس کو اسپتال لے کر چلیں۔‘‘ سامعہ نے بے ہوش پڑے لاریب کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اذہان سے کہا۔
’’تم اب بھی اس کی زندگی کی امید رکھتی ہو… اس کو مرنے دو۔‘‘
’’نہیں… خدارا ایسا نہ کہیں یہ جیسا بھی ہے میرا بیٹا ہے۔‘‘ سامعہ بیٹے کی بگڑتی حالات سے خوف زدہ ہوکر رونے لگیں۔
’’تمہاری وجہ سے ہی یہ اس حال کو پہنچا ہے اب تمہاری سزا ہے کہ اس کی جدائی میں رو رو کر تم بھی مر جائو۔ مجھ سے کوئی خیر کی امید نہ رکھو۔‘‘
خاموش طبع و اپنی ذات میں گم رہنے والے اذہان کو صورت حال سمجھنے میں دیر نہ لگی تھی کہ نوفل کسی عام لڑکی کے لیے اس حد تک نہیں جاسکتا تھا اور اس کو اس ملال نے آن گھیرا تھا کہ لاریب نے ہوس پرستی میں اپنے بھائی تک کی عزت کا خیال نہیں کیا‘ حد ہوگئی تھی ہوس پرستی کی۔
’’بھائی صاحب، بھابی… کیا آپ لوگ بھی میرے لاریب کو یوں ہی سسک سسک کر مرتا ہوا دیکھیں گے؟ آپ معاف کردیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ یہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا میرا وعدہ ہے۔ میرا…‘‘
’’مراد کو کال کی ہے میں نے وہ ایمبولینس سینٹر کال کررہا ہے۔‘‘ یوسف صاحب کا لہجہ سرد و سپاٹ تھا جبکہ زرقا بیگم روتی بلکتی سامعہ کو سمجھانے لگی۔
’’بھائی صاحب مرنے دیں اسے، یہ کسی ہمدردی کے لائق نہیں‘ یہ بیٹا نہیں وہ دراڑ ہے جو دو بھائیوں کے درمیان آگئی ہے قبل اس کہ یہ ہمیں علیحدہ کرے اسے ہمارے درمیان سے نکل جانا چاہیے۔‘‘ ان کو خوف تھا کہ ان کے درمیان اجنبیت و بے گانگی نہ آجائے۔
’’اتنے جذباتی نہ ہو‘ ہمارے تعلق و رشتوں کو کوئی دراڑ نہیں خستہ کرسکتی؟‘‘ انہوں نے انہیں گلے لگاتے ہوئے کہا۔
ایمبولینس آگئی تھی اور کچھ دیر بعد وہ روانہ ہوگئے تھے۔ مراد بھی ہمراہ تھا البتہ چوکیدار وہیں موجود تھا اور مراد نے اسے جہاں آرأ کا خیال رکھنے کا کہا تھا۔ اب چوکیدار بھی جہاں آرأ کی حیثیت سے واقف ہوگیا تھا۔ گاڑیوں کی روانگی تک وہ وہاں مستعدی سے کھڑا رہا اور گاڑیوں کے اوجھل ہوتے ہی اس نے دونوں گیٹ پر تالے لگائے اور بھاگتے ہوئے اپنے کوارٹر میں آیا جہاں دروازے کی اوٹ سے سن گن لیتی ہوئی اس کی بیوی پریشانی سے اس سے پوچھنے لگی۔
’’تیرا باس زندہ ہے یا مر گیا؟ گولیوں کی آوازیں آئی تھی۔‘‘
’’ارے بھلی مانس، پہلے سانس تو لینے دے۔ قسم اللہ پاک کی آج تو مرتے مرتے بچے ہیں‘ مراد اور لاریب صاحب نے مروا ہی دیا تھا۔‘‘ وہ پلنگ پر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
’’خود مر گیا چلو تمہیں تو بچا گیا ورنہ میں تو بیوہ ہوجاتی۔‘‘ وہ شکر ادا کرتی ہوئی اٹھ گئی۔ چوکیدار ابھی تک گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ابھی تک خوف و تھکاوٹ تھی۔
ز/…/ز
یوسف صاحب کی بدولت لاریب کو فوراً ہی آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تھا۔ خون زیادہ ضائع ہونے کی وجہ سے اس کی زندگی خطرے میں تھی۔ گولی اس کے جسم سے نکالی جاچکی تھی۔ اس کو آئی سی یو میں کافی دیر ہوچکی تھی پر ڈاکٹر نے کوئی امید افزا بات نہیں کی تھی۔ سامعہ اور اذہان نے ان کو گھر بھیج دیا تھا اور وہ وہیں اسپتال میں موجود تھے۔
’’یہ آناً فاناً کیا آفت آئی جس نے ہم سب کو لپیٹ میں لے لیا۔ کیسا وبال ہے جو ہمارے بچوں کے درمیان خون بن کر پھیل گیا ہے۔‘‘ زرقا بیگم صوفے پر ڈھیر ہوئیں۔
’’لاریب کو موقع بے موقع سمجھایا تھا کہ باز آجائے۔ اپنی نیگیٹیو ایکٹیوٹی چھوڑ دے‘ ان راہوں کو جو جہاں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں مگر اس جیسے لوگ باتوں سے نہیں سمجھتے۔‘‘ یوسف صاحب کے لہجے میں لاریب کے لیے کوئی ملال و تفکر نہ تھا۔ ان کا دماغ اس لڑکی اور نوفل کی طرف لگا ہوا تھا۔
’’جو ہوا سو ہوا۔ اللہ ہدایت کے ساتھ لاریب کو صحت و زندگی دے۔ آمین، آپ نوفل کو فون کریں۔ وہ کہاں گئے ہیں، اس لڑکی کو لے کر۔‘‘ ان کے کہتے ہی یوسف صاحب نے نوفل کو فون ملایا جو فوراً ہی اٹھا لیا گیا۔
’’جی پاپا۔‘‘ دوسری طرف سے سنجیدہ و بھاری آواز ابھری۔
’’کہاں ہیں آپ… وہ لڑکی کیسی ہے؟‘‘
’’شی از آل رائٹ۔‘‘ مختصر جواب دیا۔
’’گھر واپسی کب تک ہوگی؟‘‘
’’آجائوں گا‘ ابھی کچھ ٹائم لگے گا۔‘‘
’’وائے… ایوری تھنگ از اوکے؟‘‘ وہ اس کے انداز پر چونکے۔
’’جی بالکل، سب ٹھیک ہے‘ میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔‘‘ الوداعی جملے کہہ کر اس نے لائن منقطع کردی‘ فون اسپیکر آن ہونے کی وجہ سے زرقا بیگم بھی ساری گفتگو سن کر متفکرانہ لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’نوفل کی زندگی میں وہ لڑکی آئی اور آکر اس کے دل پر ایسی تیزی سے قبضہ کیا کہ ہم میں سے کسی کو معلوم ہی نہ ہوسکا اور یہ سب ہوگیا۔‘‘ قبل اس کے کہ وہ جواب دیتے، ان کے موبائل پر کال آنے لگی اور اسکرین پر بابا صاحب کا نمبر دیکھ کر انہوں نے پھرتی سے رابطہ کیا۔
ز/…/ز
’’آنٹی بلی… تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ سودہ اور زید کے درمیان ضرور کچھ نہ کچھ چل رہا ہے، کچھ ایسا اسپیشل جو ان دونوں کو قریب کررہا ہے اور آپ کو زید سے دور کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہورہا ہے۔‘‘ تجدید تعلقات کی خاطر عمرانہ گاہے بگاہے رضوانہ کو اب فون کرتی رہتی یا بھاگ بھاگ کر ان کے گھر آنے لگی تھیں۔ کل رضوانہ ان کی طرف گئی تھیں۔ آج وہ پھر ڈرائیور کے ہمراہ یہاں پہنچی ہوئی تھیں کیونکہ ابھی تک مائدہ سے وہ ناراض تھیں سو نہ اس کو ساتھ لائی تھیں نہ مائدہ ساتھ آنے پر آمادہ تھیں وہ تینوں باتوں میں مصروف تھیں۔
’’ایسا کیا اسپیشل ہے جو ان دونوں کے درمیان ہورہا ہے اور مجھے خبر نہیں۔‘‘ عمرانہ نے اورنج جوس کا آخری گھونٹ بھر کر گلاس ملازمہ کو پکڑاتے ہوئے کہا۔
’’ارے… تم بھی نادان بنی ہوئی ہو عمرانہ، کیا تمہیں معلوم نہیں، نکاح سے پہلے ہی کس طرح سے اس لڑکی نے زید کو پھانسا ہوا تھا۔ یاد نہیں مائدہ نے خود اپنی آنکھوں سے ان کو کچن میں ایک دوسرے کے قریب دیکھا تھا۔ یاد آیا اب کچھ؟‘‘ رضوانہ جتانے والے لہجے میں گویا ہوئیں اور عمرانہ گردن ہلا کر بولیں۔
’’ہوں… ہوں یاد ہے مجھے سب… شاید آپ یہ بھول گئی ہیں کہ میں نے بھی سودہ کی وہ مار لگائی تھی کہ دن میں تارے نظر آگئے تھے۔‘‘
’’وہ مار سود سمیت آپ کو ہی پڑ گئی ہے آنٹی جی۔‘‘ عروہ نے بمشکل لہجے میں در آنے والے طنز کو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
’’وہ مار سود سمیت مجھے ہی پڑ گئی ہے، بھلا کیسے۔‘‘
’’دیکھ لیجیے۔ آپ نے اس کو یعنی سودہ چڑیل کو زید کی زندگی سے دور رکھنے کے لیے وہ مار لگائی تھی اور اس کا اثر الٹا ہی ہوا ناں…‘‘
’’کیا الٹا اثر ہوا؟‘‘ عمرانہ اس کی صورت دیکھ کر بولیں۔
’’عمرانہ، میری بہن تم نے نشے کی ڈوز لے لے کر اپنی دماغی حالت کمزور کرلی ہے۔ مت ماری گئی ہے تمہاری۔ اتنی آسان بات تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہے کہ تم نے مار کے ذریعے سودہ کو زید کی زندگی سے نکال باہر کیا تھا اور دیکھ لو، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی میں آگئی ہے۔ جائز اور پکے ثبوت کے ساتھ زید کی بیوی بن کر۔‘‘ رضوانہ نے گویا ماتم کرتے ہوئے بہن کے گم صم دماغ کی دہائی دی۔
’’اور میں تو حلف اٹھا کر یہ کہنے کو تیار ہوں کہ سودہ چڑیل کی بارأت نہ آنے کے پیچھے بھی زید کی ہی پلاننگ ہے۔ زید نے ہی پیارے میاں کو پیسہ دے کر پہلے اس سارے ڈرامے کے لیے تیار کیا اور پھر عین کلائمکس پر اس کو فیملی سمیت فرار کرا دیا اور نکاح کرلیا یہی تو وہ چاہتے تھے۔‘‘
’’یہ آپ کی غلط فہمی ہے بیٹا، اس بات کی میں بھی گواہ ہوں کہ پیارے میاں اور زید نے کوئی ڈراما نہیں کیا‘ یہ سب مجھے لگتا ہے اچھی آپا کی دشمنی تھی جس کا بدلہ انہوں نے صوفیہ سے لیا۔‘‘ عمرانہ نے اس کی بات کو اعتماد سے رد کیا۔
’’ایک بات بالکل کلیئر بتائیں گی آپ؟‘‘ وہ ان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
’’جی پوچھیں۔‘‘
’’بالکل سچ سچ بتائیں گی آپ؟‘‘
’’آف کورس مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے۔‘‘ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا۔
’’آپ کو یہ بات معلوم تھی ناں‘ زید سودہ چڑیل کو پسند کرتا ہے؟‘‘ اس کا رویہ ہنوز تھا۔
’’پسند سے کیا مراد؟ وہ بچپن سے ایک گھر میں رہے ہیں ساتھ بڑے ہوئے ہیں اور اس عرصے میں تھوڑی بہت انسیت ہوہی جاتی ہے۔‘‘
’’انسیت یا محبت؟‘‘ وہ ان کے آنکھ چرانے پر طنز کو ضبط نہ کرسکی۔
’’جو بھی ہے بٹ، یہ بحث اب کس کام کی مائدہ؟‘‘
’’کام کی ہے‘ بالکل کام کی ہے۔‘‘ اس پر قدرے جنونی کیفیت طاری ہوگئی۔
’’کس کام کی، کیا کہنا چاہ رہی ہو۔ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟‘‘ ان کو یاد آیا ایک مرتبہ وہ ان سے اسی انداز میں گفتگو کرچکی ہے جو سراسر بد تمیزی کے زمرے میں آتی تھی ان کے ابرو بھی تن گئے تھے۔
’’پہلے آپ میری بات کا جواب ایک جھوٹ بولے بنا دیں۔‘‘
’’دیکھ رہی ہیں بجیا‘ عروہ پھر بے لگام ہونے لگی ہے۔‘‘ عمرانہ تیوری چڑھا کر گویا ہوئیں۔
’’اچھے بھلے موڈ کو تمہارے ہوا کیا ہے۔ ابھی تو اچھی باتیں کررہی تھیں۔‘‘ رضوانہ نے بھی چونک کر عروہ کو مشتعل انداز میں ٹوکا۔
’’میں جانتی ہوں مما‘ آنٹی اس بات سے بخوبی آگاہ تھیں کہ زید، سودہ چڑیل سے محبت کرتے ہیں… قسم کھا کر بتائیں آپ آنٹی آپ کو یہ معلوم نہیں تھا‘ کیا آپ جانتی نہیں تھیں وہ اس پر دل و جان سے فدا تھے‘ سچ سچ بتائیں آپ؟‘‘
’’ہاں معلوم تھا مجھے، میری لاکھ کوشش کے باوجود وہ سودہ کے سحر سے نہ بچ پایا لیکن میں قسم کھا کر کہتی ہوں، وہ یک طرفہ محبت تھی۔ سودہ کی نگاہوں میں‘ میں نے کبھی زید کے لیے محبت نہیں دیکھی۔‘‘ بالآخر وہ سچ ان کی زبان سے نکل ہی گیا جس کی سالوں حفاظت کی تھی۔
’’پھر آپ نے جانتے بوجھتے بھی مجھے بہو بنانے کے جھانسے میں رکھا، میرے جذبات، احساسات و دل سے کھیلی ہیں آپ۔ جب آپ کو یہ معلوم تھا کہ زید میرے نہیں ہوسکتے پھر بھی آپ نے مجھے مس گائیڈ کیا؟‘‘
’’میں نے مس گائید نہیں کیا بلکہ اپنی پسند، اپنی خواہش بیان کی تھی۔ میں سوچ رہی تھی آپ زید کو اپنا اسیر کرلیں گی۔ آپ کو پاکر وہ سودہ کو بھول جائے گا مگر میری یہ بھول ہی تھی۔‘‘ وہ افسردگی سے گویا ہوئیں‘ عروہ ان سے لگ کر رونے لگی تھی۔
ز/…/ز
نوفل کی نگرانی میں ڈاکٹر انشراح کو دوا دے کر جاچکا تھا اور ڈاکٹر کی زبانی اس کی تسلی بخش حالت کا سن کر وہ مطمئن ہوکر بالی سے اجازت لے کر گھر چلا آیا جہاں یوسف صاحب اور زرقا بیگم اس کے انتظار میں جاگ رہے تھے۔
اس وقت اس کے چہرے پر اس قدر سنجیدگی تھی کہ وہ اس سے رسمی گفتگو کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرسکے‘ وہ اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ ذہنی طور پر بے حد تھکا ہوا تھا سو آتے ہی وہ نیم گرم پانی سے نہایا اور نیند کی گولی کھا کر سو گیا کھانے پینے کی اشتہا نہ تھی۔
دوسرے دن وہ بیدار ہوا تو دوپہر کی تیز دھوپ لان میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا‘ سر بھاری محسوس ہورہا تھا دستک دے کر زرقا بیگم اندر آئیں۔
’’طبیعت ٹھیک ہے بیٹا؟ آج بہت سوئے ہیں آپ۔‘‘ ان کے ممتا بھرے لہجے میں فکر مندی اور چہرے پر پریشانی تھی۔
’’جی… ٹھیک ہوں میں، آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’ناشتہ لگواتی ہوں۔ آپ فریش ہوکر آجائیں۔‘‘
’’بڑے پاپا کہاں ہیں؟‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’وہ… اسپتال گئے ہیں۔ لاریب کی حالت نازک ہے۔ بابا صاحب بھی صبح تشریف لے آئے ہیں سوات سے‘ یوسف کے ساتھ وہ بھی اسپتال گئے ہیں۔‘‘ زرقا نامعلوم کیا کہنا چاہ رہی تھیں۔ لاریب کے نام پر اس کے چہرے پر پھیلتی نفرت نے ان کو مزید کچھ نہ کہنے دیا۔
’’ناشتہ لگوائیں آپ؟ میں باتھ لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہ آہستگی سے کہہ کر ہوا واش روم کی جانب بڑھ گیا‘ پھر تیار ہوکر ڈائننگ روم جانے سے قبل اس نے بالی کو کال کرکے انشراح کی خیریت دریافت کی جواباً بالی نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہے مگر گم صم اور خاموش ہوکر رہ گئی ہے۔ گویا بات کرنا ہی نہیں جانتی۔
اس کے بارے میں جان کر اس کا دل انجانے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ وجیہہ چہرے پر اداسی پھیلتی چلی گئی۔ وہ اس کا درد اپنے دل میں محسوس کرنے لگا۔ بلاشبہ وہ لاریب کی حیوانیت سے ہر طرح محفوظ رہی تھی لیکن اس جیسی حساس و خود دار لڑکی کے لیے یہ سب برداشت کرنا بھی آسان نہ تھا جس نے عزت بچانے کے لیے جان دینے کی کوشش کی تھی۔
’’ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے بیٹا۔‘‘ زرقا کی آواز پر وہ چونکا۔
’’سوری میں صرف جوس لوں گا۔‘‘ اس نے گلاس میں جوس نکالتے ہوئے کہا۔
’’جوس…! رات کو بھی آپ نے کچھ نہیں کھایا‘ میں دو بار دیکھنے آئی تھی اور آپ کو بے خبر سوتا دیکھ کر واپس آگئی تھی۔ اب دوپہر ہے… صبح کب کی گزر گئی ہے مگر آپ کبھی بھی بیدار ہوں ناشتہ ہی کرتے ہیں اس لیے میں نے صابرہ سے ناشتہ بنوایا تھا جو آپ انکار کررہے ہیں کرنے سے۔‘‘
’’آپ پریشان نہ ہوں۔ بھوک لگے گی تو کھالوں گا۔‘‘ اس نے جوس پیتے ہوئے کہا۔
’’ابھی بھی بھوک نہیں… کب لگے گی بھوک؟‘‘
’’آپ جانتی تو ہیں جب تک شدید بھوک نہ لگے میں کھانے کا عادی نہیں۔ بھوک لگے گی میں کھالوں گا تو آپ فکر نہ کریں پلیز۔‘‘
’’فکر نہ کروں، پریشان نہ ہوں؟ اس لیے کہ میں سگی ماں نہیں ہوں سچ ہے کہ میں سگی ماں نہیں ہوں مگر ماں جیسی تو ہوں…‘‘
’’ما… ما… یہ… یہ میں نے کب کہا‘ آپ سگی ماں نہیں ہیں۔‘‘ ہاتھ میں موجود جوس کا گلاس لرزا۔
’’ابھی آپ نے کیا کہا‘ آپ کو معلوم نہیں ہے‘ وہ ورڈ نہیں بم تھے جنہوں نے میری روح کو ریزہ ریزہ کردیا۔‘‘
’’ہم دونوں میاں بیوی کل سے دکھ سے نڈھال ہورہے ہیں اور سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا ہے کہ ہم سے ایسی کیا بھول ہوئی؟ ایسی کیا خطا ہوگئی کہ آپ ہم سے اتنی دور، اتنے اجنبی ہوگئے کہ ہم سے ہماری زندگی کی بڑی آرزو، اولین تمنا جانتے ہوئے بھی ہم سے اس لڑکی سے اپنی پسند و چاہت کو چھپا کر رکھا۔‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی آبدیدہ ہوگئیں۔
لمحہ بھر کو وہ ششدر رہ گیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حالات اس طرح سے اس کو ان عزیز ہستیوں کے سامنے ذلیل کردیں گے۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے ماما جو آپ سوچ رہی ہیں‘ وہ معاملہ نہیں ہے۔‘‘ اس نے ان کے شانوں کے گرد بازو حائل کرکے نرمی سے کہا۔
’’غلط بیانی سے کام مت لیں اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی پسٹل سے نکلنے والی گولی لاریب کو موت و زیست میں مبتلا نہ کرتیں‘ ہماری فیملی اس درد و رنج میں مبتلا نہ ہوتی جس سے ہم گزر رہے ہیں۔‘‘ اس بار ان کے لہجے میں بدگمانی و رنجیدگی موجود تھی۔
’’میں تو سوچ رہا تھا وہ مر گیا ہوگا۔ بہت ڈھیٹ ہے وہ…‘‘
’’اس کو دعا نہ دے سکیں تو بد دعا بھی نہ دیں۔ مجھے بتائیں وہ لڑکی کون ہے؟ آپ کے اور لاریب کے درمیان کہاں سے اور کیوں آئی؟ بقول آپ کے آپ اس سے محبت نہیں کرتے۔‘‘ وہ خفگی بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’میں آپ کو پہلے دن سے آج تک جو ہوا وہ سب بتاتا ہوں پلیز آپ مجھ سے بدگمان نہ ہوں، ورنہ میں جی نہیں پائوں گا… مر جائوں گا۔‘‘
ز/…/ز
’’انشی… انشی یوں چپ نہ رہو، تمہاری یہ خاموشی میرے اندر طوفان برپا کررہی ہے۔ کچھ بولو بات کرو پلیز انشی۔‘‘ بالی اس کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوئے اصرار کرنے لگی مگر وہ اسی طرح سے گردن جھکائے کلائی کے ارد گرد بندھی پٹی کو گھورتی رہی۔ گم صم، چپ چاپ جیسے قوت گویائی سے محروم ہو۔
’’تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرو گی، اللہ نے تمہاری حفاظت کی تمہیں اس بھیڑیے کی گرفت میں ہوتے ہوئے محفوظ رکھا۔‘‘ وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر رقت آمیز لہجے میں بولی۔
’’مجھے تنہا چھوڑ دو بالی۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے آہستگی سے بولی‘ بولتے وقت اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
’’کیوں تنہا چھوڑ دوں‘ ایسا کیا ہوا ہے‘ تم ٹھیک تو ہو؟ نوفل بھائی کہہ رہے تھے تم بالکل ٹھیک ہو۔ اس شیطان کی شیطانیت سے اللہ نے تمہیں بچا لیا ہے۔ نوفل بھائی کے بروقت پہنچنے سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔‘‘ بالی اس کے رویے سے وسوسوں کا شکار ہونے لگی تھی۔
’’سوال یہ نہیں ہے کہ میں اس کی گرفت میں جاکر بھی سیو رہی۔ سوال تو یہ ہے کہ میں اس کی گرفت میں گئی ہی کیوں‘ چند لمحوں کے لیے ہی سہی اس نے میرے ہاتھوں کو چھوا کیوں‘ میرے قریب آنے کی کوشش کیوں کی؟‘‘ آنسو اس کے گلابی رخساروں پر بہہ نکلے‘ ٹوٹے ہوئے اعتماد کی کرچیاں لہجے کو لہولہان کرچکی تھیں۔
’’وہ ایک عرصے سے اس خواہش میں مبتلا تھا۔ تمہیں حاصل کرنے کی چاہ میں اس نے اپنی دولت دائو پر لگادی تھی۔ ماسی نے دونوں ہاتھوں سے اس کو لوٹا تھا اور تمہیں اس کو سونپنے کے وعدوں پر بہلاتی رہی تھیں، پھر اس کو تم نے بھی تو کچھ سوچے سمجھے بنا موقع دے دیا تھا اتنی جلد بازی اور بے وقوفی کا مظاہرہ کیا کہ میرا بھی انتظار نہ کیا اور چلی گئیں۔‘‘ بالی نے پہلے اس کو دل بھر کر رونے دیا تاکہ دل کا غبار آنسوئوں کی صورت بہہ جائے جس سے وہ گھٹن کا شکار ہورہی تھی پھر ایسا ہی ہوا تھا خوب آنسو بہانے کے بعد وہ قدرے پرسکون ہوگئی تھی۔
’’آئی نو، اپنی اس بے وقوفی کا احساس مجھے بہت جلد ہوگیا تھا مگر یہ احساس تو وقت گزرنے کے بعد ہوا تھا کہ میں نے اس پر اعتماد کیوں کیا۔ وہ کسی طرح بھی اعتبار کرنے کے لائق نہ تھا، اس نے بھی میری جذباتی کیفیت کا بڑی مکاری سے فائدہ اٹھایا تھا قسمت نے یاوری نہ کی جو تم بھی اس وقت گھر پر نہیں تھیں اور تمہارا سیل فون بھی آف تھا۔‘‘ اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
’’اس نے کہا نانی اس کے پاس ہیں اور ان کی کیفیت بتائی اور کہا کہ اس نے ان کو بڑی تگ و دو کے بعد کرمنلز سے چھڑایا ہے جنہوں نے تاوان کے چکر میں ان کو کڈنیپ کیا تھام میں ساتھ جاکر ان کو لے آئوں، اس وقت دل نانی کے لیے مضطرب تھا‘ یہی بے چینی و بے کلی تھی کہ نانی مل جائیں پھر اس نے جو نانی کے ڈر و خوف کے مطابق بتایا تھا کہ وہ کسی سراج اور برکھا سے خوف زدہ ہیں۔ اس سے میں مزید بے خوف ہوکر اس کے ساتھ چل دی تھی۔‘‘
’’روشن ٹھیک کہتی تھیں کہ ماسی کا اغوأ اسی نے کیا ہوگا۔‘‘ انشراح نے وہاں گزرنے والی تمام رو داد سے اس کو آگاہ کردیا تھا جس کو سن کر وہ گہرا سانس لیتی ہوئی گویا ہوئی۔
روشن کے ذکر پر اس کے انداز میں بیگانگی آگئی تھی حالانکہ رات سے اب تک روشن نے کئی بار کال کرکے اس سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ہر بار بالی نے اس کو ٹال دیا تھا اور وہ بھی سمجھ گئی تھی انشراح کی خفگی ابھی برقرار ہے۔ یہاں آکر وہ بے بس ہوجایا کرتی تھیں۔ انشراح ایک بڑے صدمے سے گزری تھی جس سے اس کا ذہن خاصی حد تک متاثر ہوا تھا ڈاکٹر نے جو ذہنی سکون کے انجیکشن لگائے تھے اس کے زیر اثر وہ سوتی جاگتی کیفیت میں تھی کہیں سہ پہر کو جا کر وہ پوری طرح حواسوں میں آئی تھی اور پہلا سوال اس نے یہ کیا تھا کہ اس کو یہاں کون لایا… وہ یہاں کس طرح پہنچی؟
’’نوفل بھائی کو تم نے میسج کیا تھا، وہ پڑھتے ہی گھر سے نکل گئے تھے۔ وہ تمہیں یہاں لے کر آئے آدھی رات تک یہیں موجود تھے۔ تمہاری خاطر انہوں نے لاریب کو گولی ماری ہے پتا نہیں وہ زندہ ہے بھی یا مر گیا۔‘‘
’’مر جانا چاہیے ایسے شیطانوں کو‘ اس کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔‘‘ وہ نفرت آمیز لہجے میں ہونٹ بھینچ کر بولی۔
’’نوفل بھائی نے تمہارے لیے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ تم ان کی محبت مانتی نہیں ہو۔ ان کی سچی محبت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوگا کہ…‘‘
’’میرے سامنے مت نام لو بار بار، مجھے اس کے پورے خاندان سے نفرت ہے‘ میں کبھی اس سے محبت نہیں کرسکتی نو، نیور۔‘‘ وہ چلائی۔
’’اچھا اچھا غصہ مت کرو، یہ بتائو ماسی کا کیا ہوا‘ وہ کہاں ہیں؟‘‘ بالی نے اس کو اشتعال میں آتے دیکھ کر نرمی سے دریافت کیا۔
’’اوہ… میں نانی کو تو بھول ہی گئی نامعلوم اس خبیث نے نانی کو کہاں رکھا ہے وہ کس حال میں ہوں گی۔ جب میں نے ان کو دیکھا تھا وہ ہوش میں نہیں تھیں۔ بے حس و حرکت لیٹی ہوئی تھیں۔‘‘ وہ چونک کر گویا ہوئی چہرے پر ایک دم ہی تردد پھیلتا گیا تھا۔
’’لاریب کے علاوہ اس کے ڈرائیور کو معلوم ہوگا، نانی کے بارے میں۔‘‘
’’لیکن اس کا کانٹیکٹ نمبر نہیں ہے ہمارے پاس۔‘‘
’’پھر کیا کریں کس سے کانٹیکٹ نمبر مل سکتا ہے؟‘‘
’’تم کچھ بھی کہو ہمارے ہر مسئلے کا حل نوفل بھائی کے پاس ہوتا ہے۔‘‘ بالی کا لہجہ جتانے والا تھا۔
ز/…/ز
’’آپ نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا‘ میرے دل میں زید کے لیے محبت آپ نے بیدار کی‘ آپ کی باتوں میں آکر میں زید کو اپنی پراپرٹی سمجھنے لگی تھی‘ صرف اپنا ماننے لگی تھی‘ ان کی ناپسندیدگی و اکتاہٹ کے باوجود مجھے یقین تھا کہ زید ایک دن میرے ہوں گے‘ میری محبت ضرور رنگ لائے گی مگر…‘‘ عروہ کی سسکیاں عمرانہ کو مضطرب کررہی تھیں۔
’’آپ نے خود میرے جذبات کو گھائل کیا میری پشت میں خنجر مار دیا۔ اب میں اپنے دل کا کیا کروں جو ہر دم اس کی طلب میں ہمکتا ہے؟ ان آنکھوں کا کیا کروں جو صرف اس کی دید کے لیے بھٹکتی ہیں؟ ان سانسوں کا کیا کروں جن میں زید کی خوش بو بسی ہوئی ہے۔‘‘
’’عروہ میری جان میں نے تمہیں آنسو کب دینے چاہے تھے میں نے تمہیں حقیقت میں اپنی بہو کے روپ میں دیکھا تھا۔ میری آرزو تھی کہ میرے اکلوتے بیٹے کی بیوی، میری سگی بھانجی ہو جو میری بن کررہے۔ میرے سکھ دکھ میں میرا ساتھ دے۔ جس کی سنگت پر مجھے ناز ہو۔‘‘ وہ آنکھیں بند کیے خیالوں میں عروہ کی باتیں یاد کررہی تھیں۔
’’جو زید سے مجھے جدا نہ کرے۔ شادی کے بعد بیویاں بیٹوں کو مائوں سے بدظن کرکے دور کردیتی ہیں۔ مجھے امید تھی تم میرے اور زید کے درمیان خلیج بننے کے بجائے پل بنو گی ہمیں ایک دوسرے سے دور نہیں کرو گی۔‘‘ معاً دستک دے کر بنارسی بوا کھانے کے لیے بلانے آئیں۔
’’سب آپ کا کھانے پر انتظار کررہے ہیں بہو بیگم۔‘‘ وہ آہستگی سے بولیں۔
’’زید نے آفس سے آنے کے بعد میرے پاس آنے کی زحمت نہیں کی سیدھا یہاں پہنچ گیا جہاں اس کی محبوبہ کھانے کی ٹیبل پر براجمان ہے۔‘‘
’’زید میاں آفس سے آئے نہیں ہیں وہ شام تک آتے ہیں۔‘‘ بوا کی نگاہوں میں حیرانی و پریشانی عیاں تھی عمرانہ کی طبیعت کچھ اچھی محسوس نہ ہورہی تھی مگر پوچھنے کی جسارت نہیں تھی۔
’’ہاں مجھے معلوم ہے وہ شام تک ہی آتا ہے مگر کیا بھروسہ نئی نئی زندگی کا آغاز ہوا ہے من کی مراد بر آئی ہے نگاہیں چار کرنے کے لیے کسی بھی وقت آیا جاسکتا ہے مجھے تو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔‘‘ وہ بدگمانی و بداعتمادی کی آخری حد پر تھیں بالآخر بوا سے خاموش نہ رہا گیا۔
’’بہو بیگم یہ آپ تہمت لگا کر اپنے بچوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہیں ابھی محض ان کا نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی‘ نئی زندگی کا آغاز کس طرح ممکن ہے بھلا… پھر ہمارے بچوں میں شرم و حیا، عزت و وقار اس حد تک موجود ہے کہ وہ بڑوں کے اعتماد کو توڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘ بوا کے لہجے میں ماں جیسی ممتا و اعتبار تھا۔
’’یہ آپ سوچ سکتی ہیں بوا۔ میں یقین کرتی ہوں، لیکن مما کس طرح یقین کریں جو نہ اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھتی ہیں نہ اپنے ذہن سے سوچتی ہیں۔‘‘ پیچھے آنے والی مائدہ نے سب سن کر تاسف سے کہا۔
’’ہوں، میں بے وقوف ہوں، دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتی ہوں، دوسروں کے کانوں سے سنتی ہوں تمہاری طرح اپنے ہی گھر کو آگ نہیں لگاتی‘ اپنی دنیا بسانے کے لیے دوسروں کی دنیا نہیں اجاڑتی ہوں، آئی سمجھ؟‘‘ وہ دو دھاری تلوار بنی ہوئی تھیں ہر لحاظ و مروت بالائے طاق رکھے۔
’’بوا آپ جائیں۔ مما کھانا نہیں کھائیں گی اور مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘ گہری سانس لیتی ہوئی مائدہ نے ان سے کہا اور بوا پھرتی سے چلی گئیں۔
’’کیا ہوا‘ رضوانہ آنٹی کے گھر سے واپسی پر آپ بہت ڈسٹرب دکھائی دے رہی ہیں عروہ نے پھر کوئی مسئلہ کری ایٹ کیا ہے؟‘‘ وہ ماں کو بخوبی جانتی تھی۔
’’تمہیں کیوں رضوانہ اور عروہ کے دکھوں کی فکر ہونے لگی؟ تم خوش ہو یہ سوچ کر تم نے کسی کی خوشیوں کی قبر پر اپنی محبتوں کا تاج محل بنا لیا ہے تم جیت گئی ہو، سودہ کو بھی فتح نصیب ہوئی ہے زید نے بھی اپنی محبت کو پا لیا… خسارے صرف اور صرف میرے عمرانہ اور عروہ کے مقدر بنے ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں گیلی لکڑی کی مانند کڑوا کسیلا دھواں ہی دھواں تھا۔
’’آپ کبھی اپنی ذات سے باہر نکلیں مما اور دیکھیں جو دوسرے کے لیے جیتے ہیں ان کی زندگی کس قدر خوب صورت اور مکمل ہوتی ہے‘ کتنا سکون و راحت ہوتا ہے ان کے چہروں پر کوئی حسرت کوئی دکھ نہیں رہتا۔‘‘
’’میری ذات…! میری ذات رہی کہاں… مجھے میرے اپنوں نے ہی گِدھوں کی طرح نوچ کر ہڑپ کرلیا‘ نہ میں رہی ہوں نہ میری ذات بچی ہے تم کس کی بات کررہی ہو۔‘‘
’’پلیز مما کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی دکھ کشید کررہی ہیں آپ ایسی ہرگز نہیں تھیں‘ ہمارا دکھ آپ کا دکھ اور ہماری خوشی آپ کی خوشی ہوتی تھی پھر یہ چند دنوں میں کس طرح کایا پلٹی کہ ہمارے دکھ آپ کی خوشی اور خوشی دکھ بن گئے ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں تڑپ سی ابھری۔
’’ماں ہی قربانی کیوں دے ہر دور میں بچے بھی تو ماں کا دکھ محسوس کریں۔‘‘
’’ہم ہر دکھ میں آپ کے ساتھ رہے ہیں، ہمیشہ وہ کیا جو آپ کی خواہش تھی۔‘‘
’’تب ہی عروہ اور بجیا کے سامنے میری وقعت دو کوڑی کی کردی‘ تم کیا جانو عروہ کتنی دکھی ہے کتنا روئی ہے وہ میرے سامنے‘ میں نے اسے زید کی بیوی بنانے کی آس دلائی تھی، وعدہ کیا تھا کہ وہ زید کی تقدیر کا ستارہ بنے گی۔‘‘
’’وعدہ آپ نے کیا تھا‘ آس بھی آپ نے دلائی تھی اس میں بھائی کا قصور نہیں‘ بھائی نے اول روز سے ہی اس کی حوصلہ شکنی کی تھی۔‘‘
’’وہ میری بات پر یقین کرتی یا زید کی حوصلہ شکنی پہ؟‘‘
’’شادی اس کو بھائی سے کرنی تھی اور ان کی عدم دلچسپی بلکہ صاف انکار سے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ وہ اس کو ہرگز پسند نہیں کرتے ہیں اور نہ کریں گے۔‘‘
ز/…/ز
کوئی اور موقع ہوتا تو وہ نوفل کے لبوں سے نکلنے والے لفظوں پر جھوم جھوم جاتی کہ وہ جو کسی لڑکی کی طرف دیکھنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا اب وہ خود اقرار کررہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو پسند کرتا ہے اس کے اس اقرار نے ان کے اندر تک سکون پھیلا دیا تھا‘ لاریب کی حالت نازک نہ ہوتی تو آج یہاں شاندار جشن کا سماں ہوتا۔
ناشتے سے فارغ ہوکر وہ اسپتال چلی آئیں اور یہاں آکر معلوم ہوا لاریب کی طبیعت قدرے بہتر ہے وہ خطرے سے باہر تھا۔ سامعہ کے پریشان چہرے پر رونق در آئی تھی وہ ان سے گلے لگ کر کہنے لگیں۔
’’یہ بابا صاحب کی دعائوں سے ممکن ہوا ہے جو لاریب کو نئی زندگی ملی ہے ورنہ ڈاکٹرز نے تو اس کی زندگی سے ناامید کردیا تھا۔‘‘
’’شکر ہے… اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہوگئی۔‘‘ ایک بوجھ دل سے اترا تھا۔
’’جو بھی ہوا‘ وہ بہت دکھ دینے والی باتیں ہیں‘ ہمارے درمیان کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کی ہو ہمیشہ احترام و عزت کو ملحوظ خاطر رکھا ہم نے‘ پھر اللہ جانے ہمارے بچوں کے درمیان ایسی نوبت کیوں آئی جو گولیاں چل گئیں۔‘‘ شرمندگی، رنجیدگی و افسردگی کیا کچھ نہ تھا سامعہ کے لہجے میں۔ وہ لائونج میں رکھے صوفے پر براجمان تھیں۔
’’وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہ تھی سامعہ، نوفل اس کو پسند کرتا ہے۔‘‘
’’یہ بات میں اسی وقت سمجھ گئی تھی، وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں تھی، وہ عام لڑکی کیسے ہوسکتی ہے بھابی، جس کی خاطر نوفل جیسا پولائٹ اور سوفٹ ہارٹ بندہ لاریب پر گولیاں چلائے۔‘‘ پھر یہ خبر یوسف صاحب تک پہنچی اور یوسف صاحب کی زبانی بابا صاحب کو بھی علم ہوگیا۔
’’بہت اچھی بات ہے یوسف بیٹے، اللہ مبارک کرے تمہارے اور زرقا بیٹی کی آرزو بر آئی ہے نوفل نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔‘‘
وہ لوگ گھر آگئے تھے کھانے کے بعد انہوں نے بابا صاحب کو آرام کی خاطر تنہا چھوڑ دیا تھا وہ یوسف صاحب کی زبانی یہاں کی گمبھیر صورت حال کے پیش نظر پہلی فلائٹ سے کراچی آئے اور سیدھے اسپتال گئے تھے۔
’’بابا صاحب ایک اہم بات بھی ہے۔‘‘ زرقا بیگم چائے کا کپ ان کو تھماتی ہوئی سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔
’’اہم بات… کیا ہے وہ اہم بات۔‘‘ یوسف صاحب چونک کر بولے۔
’’نوفل جس لڑکی کو پسند کرتا ہے انشراح نام ہے اس کا لیکن انشراح نوفل کو پسند نہیں کرتی، نوفل نے اس تلخ حقیقت کے بارے میں بتایا ہے۔‘‘
’’بٹ وائے…! ایسا کیوں ہے کیا وہ لڑکی کہیں اور انٹرسٹڈ ہے؟‘‘ اس انکشاف پہ یوسف صاحب خاصے بجھ سے گئے۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے وہ لڑکی انگیجمڈ ہے نہ کہیں انوالو ہے۔‘‘
’’پھر ایسا کیا ہے جو وہ لڑکی نوفل کو اگنور کررہی ہے‘ لڑکی تو صنف مخالف سمت کی معمولی سی وجاہت پر اپنا آپ قربان کردیتی ہیں پھر ہمارا نوفل ویل مینرڈ ہے‘ ہزاروں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے‘ کوئی لڑکی کس طرح نوفل کو ریجیکٹ کرسکتی ہے‘ پھر مجھے اس لڑکی کی بصارت پر شبہ ہے۔‘‘
’’آپ کی کیا رائے ہے بابا صاحب وہ لڑکی کیوں نوفل کو ناپسند کرتی ہے؟‘‘ زرقا بیگم جو نوفل کے منہ سے کسی لڑکی کو پسند کرنے کا سن کر پھولے نہ سمائی تھیں بیٹے کی پسند اور اس لڑکی کی ناپسندیدگی کی خبر ان کو شاک کر گئی تھی اور تب سے ہی وہ اس دعا میں مشغول تھیں کہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے اور اس کی ناپسندیدگی ان مٹ محبت میں بدل جائے۔
’’بیٹا جس طرح پسند کرنے کے لیے کوئی وجہ ضروری ہوتی ہے اسی طرح کسی کو ناپسند کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی خاص وجہ ضرور ہوتی ہے دلوں کے حال اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے مشفق و حلیم لہجے میں آہستہ سے جواب دیا۔ ’’بابا صاحب آپ دعا کریں وہ لڑکی میرے نوفل کا نصیب بن جائے‘ وہ اس سے اتنی محبت کرے، اتنی چاہت دے کہ وہ ماضی کے سارے غم بھول جائے‘ بڑی مشکلوں سے وہ زندگی کی طرف پلٹا ہے‘ ابھی تو چاہت کے رنگوں سے اس کی شناسائی بھی پورے طریقے سے نہیں ہوئی۔‘‘ زرقا بیگم کے لہجے میں تڑپ‘ ایک اضطرابی و اضطراری کیفیت تھی کہ اگر ان کے اختیار میں ہو تو وہ اس لڑکی کے دل میں نوفل کی چاہت کے پھول کھلا دیں اور ان کو کبھی مرجھانے نہ دیں۔
’’روشنی کی ایک کرن لمحہ بعد ہی اندھیرا بن گئی ہے۔‘‘
’’برخوردار ہیں کہاں، ہماری ان سے ملاقات ہی نہیں ہوئی؟‘‘
’’گھر میں ہی تھے کچھ دیر قبل ہی باہر گئے ہیں آپ کہیں تو کال کرکے بلائوں میں ان کو، اچھا ہے آپ سے روبرو ابھی بات ہوجائے ان کے اور لاریب کے درمیان جو دیوار حائل ہوگئی ہے اس کو گرانے میں آپ کی مدد کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ یوسف صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے اصل موضوع کی طرف آئیں کہ کل سے اب تک سب کے ذہن میں یہی سوال گردش کررہے تھے۔
’’یہی بات ٹینس کیے ہوئے ہے کہ جو ہوا ہے وہ بہتر نہیں ہوا‘ ہم بھائیوں کی کبھی آپس میں معمولی سی بھی اونچ نیچ نہیں ہوئی اور ہمارے بچوں میں یہ نوبت آگئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت و جان کے درپے ہوگئے ہیں۔‘‘ ایک وہ ہی ایسی ہستی تھے جن سے وہ ہر بات بلاجھجک کرلیا کرتے تھے۔
’’بظاہر بے حد معمولی و سادہ دکھائی دینے والے معاملات اپنے اندر بہت سے معنی و گہرائی لیے ہوتے ہیں اس اسرار کی گرہیں جب کھلتی ہیں پھر اصل میں معاملات کی حقیقت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ وہ اپنے مخصوص مدہم و شفیق لہجے میں گویا ہوئے۔
’’ابھی ہم اس معاملے کو نہیں چھیڑتے وقت کے دھارے پہ چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘
ز/…/ز
’’سودہ کیا کررہی ہو بیٹی؟‘‘ صوفیہ اس کے پاس کمرے میں آئیں۔
’’وارڈ روب کی صفائی کررہی تھی آپ کو کوئی کام ہے تو بتائیں۔‘‘ وہ الماری بند کرکے ان کو دیکھ کر بولی۔
’’کام مکمل ہوگیا یا باقی ہے ابھی؟‘‘ وہ بیڈ پر دراز ہوکر گویا ہوئیں۔
’’جی… مکمل ہوگیا۔‘‘ وہ ان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’عمرانہ بھابی دو دن سے کمرے سے باہر نہیں آئیں‘ اللہ جانے طبیعت خراب ہے یا دماغ‘ میں گئی تھی ان کی عیادت کو حسب عادت وہ منہ پھلائے لیٹی رہیں بات تک کرنا گوارا نہ کیا میں نے کئی باتیں کیں وہ ہی مثال ہے کہ کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی، چند لمحوں تک منہ بنائے لیٹی رہیں پھر کروٹ بدل کر منہ پر ہاتھ رکھ کر سوتی بن گئیں۔‘‘ وہ اس معاملے میں ان کی کیا دلجوئی کرتی گردن جھکائے سنتی رہی۔
’’پھر میرے وہاں ٹھہرنے کا کوئی جواز ہی نہ تھا میں چلی آئی‘ پرانا رشتہ ہوتا تو میں وہاں جانے والی کب تھی مگر یہاں لحاظ تمہارے اور زید کے مابین نئے تعلق کا آگیا ہے اور اسی بندھن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ان کے پاس گئی تھی اور انہوں نے وہ ہی اپنی اوقات دکھائی… خیر، انسان کے پاس جو ہوتا ہے دینے کے لیے وہی دیتا ہے بھابی کچھ بھی کہیں میں زید کی خاطر ان کی ہر کڑوی کسیلی بات برداشت کروں گی۔ اس بچے نے ایسے وقت میں ہماری عزت کی خاطر وہ کام کیا ہے جس کو کرنے کے لیے بہت بڑا دل و بلند حوصلے درکار ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ نکاح نہ ہوتا تو اچھا تھا میں مر تو نہیں جاتی، اگر بارات نہیں آئی تھی تو نہ آتی مجھے پروا نہیں تھی، چند لوگوں کی باتیں سننا بہتر تھا ممانی کی ہر وقت کی باتوں اور جھگڑوں سے۔‘‘ پہلی بار وہ ان کے سامنے دل کی بات زبان پر لائی تھی اس کے مدہم لہجے میں ایک دکھ پنہاں تھا۔
’’تم خوش نہیں ہو اس نکاح سے‘ زید سے نکاح پر تم دکھی ہو؟‘‘
’’ممی… بات پسند ناپسند کی نہیں ہے زید ہوتے یا کوئی دوسرا مرد مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں نے کسی مرد کو اس نگاہ سے دیکھا ہی نہیں تھا جب میں باپ کے بغیر زندگی گزار سکتی ہوں تو شوہر کے بغیر بھی گزر ہی جائے گی۔‘‘
’’نہیں بیٹی باپ کے بنا تم اس لیے زندہ ہو کہ تمہارے ماموئوں نے تمہارا خیال رکھا‘ ہر سرد و گرم سے محفوظ کرکے سائبان عطا کیا اپنائیت و خلوص کے ساتھ، اب تم بالغ ہو ہماری زندگیوں کا کیا بھروسہ نہ جانے یہ چراغ کب بجھ جائے‘ کسی وقت کا پتا نہیں ہے ہماری یہی کوشش اور دعا ہے کہ ہماری زندگی میں تم اپنے گھر کی ہوجائو کیونکہ شادی سے قبل باپ اور شادی کے بعد مجازی خدا عورت کا محافظ ہوتا ہے پھر زید میں وہ ہر خوبی ہے جو ایک خاوند میں ہونی چاہیے۔‘‘ ان کے لہجے میں فخر تھا۔
’’ابھی چند لمحوں قبل ہی آپ ممانی سے مل کر آئی ہیں ان کے بگڑے مزاج و تیور دیکھنے کے باوجود آپ مجھے اس دلدل میں چھلانگ مارنے کو کہہ رہی ہیں۔‘‘ اس نے تاسف و دکھ سے ماں کا چہرہ دیکھا۔
’’ہر مشکل کے بعد آسانی بھی ہوتی ہے۔ بھابی میں بھی کب تک اکڑ رہے گی ہر چڑھتا سورج شام کے بعد ڈھل جاتا ہے۔‘‘
’’مزاج و نفرت کے سورج میں نے کبھی ڈھلتے نہیں دیکھے۔‘‘ وہ بے ساختہ کہہ گئی پھر فوراً ہی سنبھل بھی گئی۔
’’میرا مقصد ہے میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گی مجھے خود سے جدا نہ کریں آپ کے بغیر میں جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔‘‘ معاً دروازے پر دستک ہوئی اور ناک کرکے زید اندر آیا۔
’’خیر تو ہے پھوپو جان آج گھر میں ہر سو سناٹا پھیلا ہوا ہے بوا، تائی جان اور مائدہ کوئی بھی نہیں ہے مما سو رہی ہیں۔‘‘ وہ اس کی پشت کی جانب کھڑا تھا سودہ نے تیزی سے شانے پر پڑا دوپٹا سر پر لیا‘ اس کی اچانک آمد پر اس کا دل دھڑک اٹھا تھا۔
’’بیٹھیے بیٹا۔ وہ تینوں مال گئی ہیں، اس کو کہتے ہیں دل سے دل کو راہ ہوتی ہے ابھی میں سودہ کو یہی سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں کہ جیسا بھی ہے بھابی جان کو خوش رکھنے کی کوشش کریں آج نہیں تو کل ان کے دل میں قدر آجائے گی پتھر پر مسلسل گرتا پانی جب ایک پتھر میں جگہ بنا سکتا ہے پھر دل کیا چیز ہے۔‘‘ وہ اپنے ہی خیالوں میں مگن کہہ رہی تھیں جبکہ وہ بیٹھ گیا تھا۔
’’بات مما کو خوش رکھنے کی نہیں ہے بات تو ان کے دل کی خوشی کی ہے مجھے تو لگتا ہے یہ اس رشتے پر دل سے راضی ہی نہیں ہیں اگر راضی ہوتی تو مما کے علاوہ کسی کی بات ان کو اس رشتے سے جان چھڑانے کے بجائے رشتے کو سلامت رکھنے کے لیے جان لڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔‘‘ اس نے بھی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے‘ سودہ سٹپٹا گئی۔
’’ارے تم دونوں میں کوئی بات ہوئی ہے کیا؟‘‘ وہ چونکیں اور جواباً اس نے اس رات کچن والی گفتگو بمع عمرانہ اور عروہ کی گفتگو کے ان کے گوش گزار کردی‘ سودہ ہک دک رہ گئی۔
’’یہ کیا غضب کررہی ہو سودہ، شکر ہے جو بوا فرشتہ بن کر وہاں پہنچ گئیں اور انہوں نے زید کو سارے معاملے سے واقف کیا ورنہ جانے کیا ہوجانا تھا۔ کان کھول کر سن لو تم عمرانہ بھابی اور ان کی بھانجی کا جو بھی رویہ ہو وہ تمہیں ہر حال میں برداشت کرنا ہے جب زید تمہارے ساتھ ہے پھر کسی چیز کی فکر کیسی؟‘‘ صوفیہ کا انداز بے لچک و سخت تھا سودہ نے بے اختیار سامنے بیٹھے زید کی طرف دیکھا‘ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا لمحے بھر کو نگاہیں ٹکرائیں۔ اس کی آنکھوں میں چمک، دھونس و دھمکی تھی کہ اس نے پھر دوبارہ ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو وہ اسی طرح شکایت کرے گا سودہ کی آنکھوں کے آگے پردہ حائل ہونے لگا چھم چھم برسنے والے آنسوئوں کا پردہ۔
ز/…/ز
نوفل کو مراد نے کال کی اور وہاں جہاں آرأ کی موجودگی کے متعلق آگاہ کیا‘ جواباً اس نے جہاں آرأ کو فوراً لانے کا حکم دیا‘ اس سارے قصے کی اصل بنیاد وہی تھیں مراد کی کال کے کچھ دیر بعد ہی بالی کی کال آئی‘ اس نے بھی جہاں آرأ کے متعلق ہی سوال کیا تھا اس نے تسلی دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ مراد کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہوگئی ہیں کچھ گھنٹوں بعد وہ ان کو لے کر آجائے گا پھر وعدے کے مطابق وہ گم صم سی جہاں آرأ کو لے کر وہاں پہنچ گیا‘ مراد کو اس نے واپس بھیج دیا تھا۔
حسب توقع وہ جہاں آرأ سے والہانہ انداز میں ملیں بالی نے اس کا شکریہ ادا کیا جبکہ انشراح نے اس کو مکمل طور پر اگنور کردیا تھا حالانکہ وہ اس کی طرف نگاہ نہ اٹھا پارہا تھا لاریب نے جو حرکت کی تھی وہ اس جیسے حد درجہ حساس و غیور بندے کو نگاہ اٹھانے نہیں دے رہی تھی شرمندگی اور ندامت پہلے ہی اس کو بوجھل کیے ہوئے تھے مزید انشراح کی سرد مہری و بے گانگی نے بے کل و مضطرب کردیا تھا وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ کہاں جارہے ہیں نوفل بھائی بیٹھیے میں کافی لارہی ہوں۔‘‘ بالی نے آگے بڑھ کر بڑی اپنائیت سے کہا۔
’’نو تھینکس مجھے دیر ہورہی ہے اس نے بینڈیج دوبارہ کرائی؟‘‘ وہ کچھ فاصلے پر نانی کے ساتھ بیٹھی انشراح کی طرف اشارہ کرکے بولا۔
’’وہ نہیں مانتی کہہ رہی ہے خود ہی ٹھیک ہوجائے گا زخم۔‘‘
’’زخم گہرا ہے۔ بینڈیج کرانی ضروری ہے۔‘‘
’’وہ ایک نمبر کی ضدی ہے نہیں مانے گی ویسے ہی خاصی چڑچڑی اور بد مزاج ہورہی ہے میرے بس کی بات نہیں اسے سمجھانا۔‘‘
’’کسی کو ضرورت نہیں ہے مجھے سمجھانے کی۔ ان سے کہو اپنے کام سے کام رکھیں۔‘‘ وہ غصے سے ان کے قریب آکر بولی۔
’’انشی، اب اتنی بھی بدلحاظ نہ بنو کہ ایسے رویے دوسروں کو کسی کی ہیلپ کرنے سے ہی متنفر کردیں نوفل بھائی کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں ہم لوگ اور تم کس انداز میں شکر ادا کررہی ہے بدتمیزی کی کوئی لمٹ بھی ہوتی ہے۔‘‘ بالی کو بھی اس کی احسان فراموشی پر دل کھول کر غصہ آیا۔
’’کیسا احسان… کس بات کا احسان؟ ہاں ان لوگوں کا کام ہی دوسروں کی عزتیں تار تار کرنے کا ہے یہ خاندانی لٹیرے جو ہیں…‘‘
’’منہ بند کرو اپنا، بکواس کیے جارہی ہو تم۔ اندر جائو… جائو یہاں سے۔‘‘
’’کول ڈائون بالی، ہائپر نہ ہوں وہ ایک قیامت سے گزری ہے۔‘‘ وہ ان دونوں کے درمیان آکر مصالحتی انداز میں گویا ہوا۔
’’نہیں گزری قیامت سے بچا لیا ہے آپ نے اسے اور اسی کا صلہ مل رہا ہے آپ کو جو اس کے منہ میں آرہا ہے یہ بولے جا رہی ہے بنا مروت و لحاظ کے۔‘‘
’’میں نے کہا ناں وہ ابھی مینٹلی نروس ہے اس کو خود بھی احساس نہیں ہے اپنے ایٹی ٹیوڈ‘ اپنے الفاظ کا میں نے مائینڈ نہیں کیا اور کروں بھی کیوں میں خود کو اس کے بنا ادھورا سمجھنے لگا ہوں۔‘‘ دھیمے لہجے میں شدید بے چارگی تھی انشراح کمرے میں جہاں آرأ کے پاس جا چکی تھی۔
’’یہ کیا روگ لگا لیا ہے آپ نے خود کو محبت کی تالی دونوں ہاتھوں بجے تو کامیابی ہوتی ہے انشی آپ سے محبت کبھی نہیں کرے گی بھول جائیں آپ اسے۔‘‘
’’دنیا میں معجزے ہونا ابھی ختم نہیں ہوئے۔‘‘ دھیمی پر اعتماد مسکراہٹ نے اس کے سرخی مائل ہونٹوں کا احاطہ کیا‘ وہ پھر وہاں رکا نہیں سیدھا گھر چلا آیا تھا جہاں لان میں ہی بابا صاحب‘ یوسف صاحب اور زرقا بیگم چائے پیتے ہوئے نظر آئے‘ حسب عادت بابا صاحب بے حد پرتپاک طریقے سے ملے خاصی دیر سے اس کو صبر و استقلال و دین و استقامت اور بھائی چارے کا درس دیتے رہے وہ سر جھکائے سنتا رہا تھا۔
’’ہم اس بچی کے والدین سے ملنا چاہیں گے کیا نام بتایا تھا بچی کا؟‘‘
’’انشراح… اس کے والدین نہیں ہیں۔ وہ اپنی نانی کے ساتھ رہتی ہے کچھ عرصہ قبل ہی اس کی نانی کا ذہنی توازن خراب ہوا ہے وہ کسی کو پہچان نہیں پارہی ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا موجود نہیں ہے۔‘‘ اس نے مؤدب انداز میں جواب دیا۔
’’ایسا کیا حادثہ ہوا جو ان بے چاری کا دماغی توازن ہی بگڑ گیا؟‘‘ زرقا بیگم کے لہجے میں ہمدردی و دکھ در آیا۔
’’مجھے معلوم نہیں ہوسکا یہ سب میرے لیے بہت حیرت و استعجاب کی بات ہے جہاں آرأ آنٹی جیسی مضبوط اعصاب و دماغ کی عورت کس طرح پاگل ہوگئیں؟‘‘
’’کیا… کیا کہا آپ نے… جہاں… آرأ…‘‘ چائے کا کپ ان کے ہاتھ سے گر گیا خاصی دقت سے وہ جملے ادا کر پائے۔
’’جی پاپا جہاں آرا انشراح کی نانی ہیں وہ۔ آپ ان کو جانتے ہیں؟‘‘ اس بار حیران و پریشان ہونے کی باری نوفل کے ساتھ ان دونوں کی بھی تھی۔
’’انشراح… انشراح جہاں آرأ کی نواسی ہے اور میرے خدایا آپ ابھی میرے ساتھ چلیں ایک لمحہ کی تاخیر کیے بنا میرے ساتھ چلیں۔‘‘ ان پر گویا ایک دیوانگی طاری ہوگئی تھی شدید جلد بازی میں وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’نوفل پلیز میری اذیت و تکلیف کو سمجھو بیٹا… چلو پلیز۔‘‘
’’آپ اتنے پریشان کیوں ہورہے ہیں خیریت ہے ناں؟‘‘ ان کی کیفیت دیکھ کر وہ ہکابکا سا رہ گیا‘ زرقا بیگم بھی سراسیمہ سی کھڑی ہوئیں وہاں موجود صرف ایک بابا صاحب تھے جو مطمئن سے بیٹھے چائے کے سپ لے رہے تھے۔
’’کچھ بتائیں تو سہی یوسف، اس قدر بے قراری و بے چینی کیوں ہے بھلا؟‘‘ زرقا بیگم نے بھی پریشان کن لہجے میں ان سے پوچھا۔
’’اتنا اتائولا پن درست نہیں ہے یوسف بیٹا جس صبر کے دامن کو ایک عرصے سے تھاما ہوا تھا اس دامن کو اس طرح چھوڑنا مناسب نہیں۔‘‘
’’میں مجبور ہوں، لگتا ہے صبر کی انتہائوں کو عبور کر آیا ہوں اب لمحہ بھر بھی صبر کیا تو میرا دل پھٹ جائے گا اس سے قبل مجھے وہاں پہنچا دیں۔‘‘
ز/…/ز
زید نے نگاہیں چرالی تھیں جو بھی تھا وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا مگر اس کی جدائی بھی برداشت نہ تھی وہ جان بوجھ کر صوفیہ بیگم کو سنانے کے لیے آیا تھا وہ ایسے موقع کی تلاش میں تھا جو آج قسمت سے مل گیا تھا۔
’’سودہ آئندہ اپنی ماں کی بیوگی کا خیال رکھنا میں کم عمری میں بیوہ ہوگئی تھی۔ لوگوں کی کیسی کیسی باتیں نہ سنیں‘ کیا کیا طعنے نہ سہے، لوگ جب بولتے ہیں پھر آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور منہ کھول لیتے ہیں کسی کے دل پر کیا گزر رہی ہے وہ اس کی پروا نہیں کرتے جب لوگ بیوہ کا احترام نہیں کرتے تو طلاق یافتہ کو کیسے بخشیں گے پھر تم نے اس دن خود نہیں سنا تھا لوگ ہماری موجودگی میں ہی بارأت نہ آنے پر کس طرح کی باتیں بنا رہے تھے۔‘‘ حقیقت یہ تھی کہ وہ زید کو داماد کے روپ میں پاکر بہت خوش و مطمئن تھیں ان کو اندازہ تھا زید سودہ کے لیے محفوظ و مضبوط پناہ گاہ ہے وہ اس کو خوش رکھے گا یہی سوچ کر وہ عمرانہ سے بہترین تعلق کی بنیاد رکھنے گئی تھیں مگر وہ اپنے خول سے باہر نہیں آئیں وقتی طور پر ان کی طبیعت مکدر ہوئی پھر بیٹی کے گھر بسنے کی خاطر وہ سودہ کو بھی یہی درس دے رہی تھیں۔ وہ ہرحال میں عمرانہ کی فرماں برداری کرے اس کا خیال رکھے زید کے اتنے بڑے انکشاف پر وہ دہل کر رہ گئی تھیں کہ اگر بوا مہارت سے معاملہ سنبھال نہ لیتیں تو۔
’’خیر تم بالکل فکر مت کرو بیٹا میں دوبارہ سے ایسی کوئی حرکت ہونے نہیں دوں گی، تمہیں کچھ چاہیے تو نہیں، آج آفس سے بھی جلدی آگئے ہو؟‘‘ وہ خاموشی سے آنسو بہاتی سودہ کو ایک نگاہ گھور کر استفسار کرنے لگیں۔
’’سر میں درد تھا اس لیے جلدی آگیا۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
’’میں چائے بنا دیتی ہوں، بھائی جان کو کسی نے اندرون سندھ سے بادام کا تیل بھیجا ہے بہت ہی شفاء ہے اس تیل میں مالش کرنے سے درد غائب ہوجاتا ہے تم لائونج میں چلو میں مالش کردیتی ہوں آکر، چائے سودہ بنا لے گی۔‘‘ وہ تیزی سے اٹھتے ہوئے دوسرے لمحے کمر پکڑ کر ہائے کرتی ہوئیں بیٹھ گئیں۔
’’کیا ہوا کمر میں درد ہے آپ کی؟‘‘ زید نے انہیں تھام کر لیٹنے میں مدد دی۔
’’ہاں بیٹا آج کل کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے میڈیسن لی ہے ابھی۔‘‘
’’میں دبا دیتا ہوں۔‘‘ سودہ دوپٹے سے چہرہ صاف کرتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
’’نہیں تم جا کر زید کو چائے بنا کر دو اور مالش بھی کردینا۔‘‘ ماں کی بات پہ جہاں وہ بوکھلائی وہیں وہ بھی سٹپٹا کر گویا ہوا۔
’’نہیں… نہیں چائے اور ٹیبلٹ لے لوں گا سر درد ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’میں کوئی ناجائز بات نہیں کررہی ہوں، سر میں تیل کی مالش کا کہہ رہی ہوں۔ ویسے بھی تم اب میاں بیوی ہو سودہ تمہاری خدمت کرسکتی ہے۔‘‘
’’ممی آپ کو معلوم ہے کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ وہ ہونٹ بھینچ کر بولی۔
’’پھوپو کوئی انہونی بات نہیں کہہ رہیں تم نہیں کرنا چاہو وہ دوسری بات ہے۔‘‘ وہ اس کو بری طرح زچ کرنے کے موڈ میں تھا۔
’’سودہ جائو، کیوں دیر کررہی ہو، بچے کے سر میں درد ہے اگر میری کمر میں تکلیف نہ ہوتی تو میں تمہیں ہرگز نہ کہتی اب کہہ دیا ہے تو کردو۔‘‘
’’جی جا رہی ہوں آپ کے لیے چائے لائوں؟‘‘ وہ جل کر خاک ہوگئی۔
’’نہیں وہ لوگ شاپنگ کرکے آجائیں ساتھ پیوں گی۔‘‘
’’چلیں آپ ریسٹ کریں درد ٹھیک نہ ہوا تو میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جائوں گا۔‘‘
’’اللہ خوش رکھے تمہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں تھوڑا آرام کروں گی سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ اس پر صدقے واری جا رہی تھیں۔ سودہ کا زید کی اس حرکت پر غم و غصے سے برا حال تھا۔ اس نے جلدی جلدی چائے اور چکن چیز سینڈوچ تیار کیے پانی اور سر درد کی ٹیبلٹ ٹرالی میں رکھ کر لائونج میں چلی آئی جہاں وہ صوفے پر براجمان میز پر لیپ ٹاپ رکھے سرچنگ میں مصروف تھا۔ اس نے ٹرالی جھٹکے سے قریب کی۔
’’یا وحشت… کیا ہوگیا ہے تمہیں ٹرالی لا کر مجھ پر الٹ دو گی؟‘‘ اس نے نگاہیں اٹھا کر اس کے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھتے ہوئے شوخی سے کہا۔
’’دل تو یہی کررہا ہے ساری گرم چائے آپ پر الٹ دوں۔‘‘ وہ بھی روبرو تیکھے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’اوہ ہو، سو فیصد بیویوں والے انداز میں، گڈ ویری گڈ۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب ہوا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
’’الٹ دو چائے مجھ پر… محبت سے مانگو تو جان بھی حاضر ہے۔‘‘
’’ممی کے پاس بڑا درد درد کررہے تھے کہاں گیا وہ درد؟‘‘ پہلی بار وہ اس سے خوف محسوس نہیں کررہی تھی۔
’’ان آنکھوں میں ڈوب گیا سارا درد۔‘‘ بھاری لہجے میں عجیب طمانیت تھی۔
’’آپ نے ممی کو وہ باتیں کیوں بتائی‘ اگر ان کو کچھ ہوجاتا پھر کیا ہوتا‘ ویسے بھی وہ آج کل حد سے زیادہ حساس ہو رہی ہیں۔‘‘ اس کی نگاہوں کا والہانہ پن برداشت نہ ہوا تو وہ دور ہوکر نگاہیں جھکا کر گویا ہوئی‘ زید مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی نشست پر براجمان ہوگیا۔
’’یہ تمہیں سوچنے کی ضرورت تھی تمہاری بے وقوفی کا جواب میں بھی بے وقوفی سے دے دیتا تو پھر کیا ہوتا یہ نہیں سوچ رہیں تم؟‘‘
’’آپ کو معلوم ہے نا ممانی جان اس رشتے سے خوش نہیں ہیں۔‘‘
’’نکاح تمہارا مجھ سے ہوا ہے یا ممانی سے؟‘‘
’’وہ آپ کی ماں ہیں۔‘‘
’’تمہاری ساس ہیں۔‘‘
’’ان کو دکھی رکھ کر ہم کس طرح خوش رہ سکتے ہیں؟‘‘
’’سنو جو بھی پرابلم ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ حل ہوجائیں گے موسموں کی طرح مزاج و حالات بدل جاتے ہیں ممی بھی بدل جائیں گی… تم صرف میرا ساتھ دینے کا وعدہ کرو، ہر مشکل، پریشانی، دکھ میرا ہوگا تم پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا بہت دعائوں کے بعد پایا ہے تمہیں‘ تم کبھی مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہیں کرنا‘ کبھی خواب میں بھی ایسا نہ کرنا۔‘‘ زید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر قریب بٹھانا چاہا معاً ماحول کی خاموشی اور سناٹے میں تالیوں کے ہمراہ آواز ابھری۔
’’ویلڈن… ویلڈن بہت خوب۔‘‘

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

سالگرہ نمبر

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close