Aanchal Jan 15

سال نو مبارک

عالیہ حرا

دیوانگی لے آئی ہے کس موڑ پہ ہم کو
گھر لوٹ کے آئے ہیں تو گھر ڈھونڈ رہے ہیں
اب حبس بڑھا ہے تو ہَوائوں کی طلب ہے
اب دھوپ بڑھی ہے تو شجر ڈھونڈ رہے ہیں

کینٹ کائونٹی سے ملحق یہ خوب صورت اور پُرفضا قصبہ اسے بے حد پسند آیا‘ اس علاقے میں سیبوں کی بہتات تھی‘ بینا آپی نے بتایا کہ یہ علاقہ سیبوں کی کاشت اور سرسبز و شاداب باغوں کی وجہ سے مشہور ہے اور لندن یہاں سے صرف ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ ٹرین سے جائو تو آدھا گھنٹہ لگے گا‘ میں تمہیں لندن بھی دکھائوں گی اور یہاں کی خوب صورت ٹرین بھی تمہیں ایسا لگے گا جیسے تم کسی خوابناک طلسم میں ہو یا پھر کسی پرستان میں۔
مگر یہاں سے جانا کس نے تھا اور کہاں جانا تھا‘ میں یہاں سے کہیں اور جانے کے لیے نہیں آئی تھی۔
مونا سارا دن اس برفیلے سرد موسم میں سفید چوکھٹوں والے دریچے کے یخ شیشے سے ٹیک لگائے باہر دیکھا کرتی‘ وسیع لان سرسبز فرشی قدرتی غالیچے پر برف کے پھول گرتے رہتے‘ آج کل برف باری بہت ہورہی تھی۔ ابھی چند دن پہلے شبنم کے قطروں کی شکل میں اوس کی بوندوں کو برف کی صورت میں پھولوں کی پتیوں پر دیکھا تھا۔ اس کا دکھ سن کر لگتا تھا اوس کے قطرے ٹھٹک کر برفیلے اولے بن گئے ہیں‘ ننھے منے بے حد سرد…
’’منے…‘‘ دھیرے سے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
میرے منے کا کیا حال ہوگا اور میری منی میری گڑیا گرم گلابی کمبل کی گرمی میں ماں کی آغوش‘ ماں کی گود ڈھونڈ رہی ہوگی اور نہ پاکر کیسے گلابی کمبل کے اندر بے چین و بے قرار ہوگی۔ منا کون سا بہلا ہوگا‘ بھوک میں شور مچاتا ہوگا‘ مچلتا ہوگا۔ سیراب تو ہوجاتے ہوں گے مگر بے چینی‘ بے قراری ہنوز برقرار رہتی ہوگی۔
دھیرے سے شیشے کی دیوار سے پیشانی ٹکا کر آنکھیں موند لیں‘ سکون کیسے مل سکتا ہے۔ جنم دینے والی ماں سات سمندر پار‘ قرار کیسے آتا ہوگا۔ پلکوں کے ستارے ٹھٹک کر برفیلے ہورہے تھے‘ آنسوؤں کی گرمائی بھی وہاں اپنے بچوں کے پاس چھوڑ آئی تھی۔
سرد موسم‘ بارش اور برف… باہر بھی تھی اور ایک ایسا ہی موسم وجود کے اندر ٹھہر گیا تھا اور اب اسے ٹھہرا ہی رہنا تھا۔
ء…/…ء
’’جواد پلیز اٹھیے نا۔ جتنی بھی سردی ہو مگر کام یہ آپ کو کرنا ہے‘ باہر بھی جانا ہے۔ اٹھائیں بیلچہ اور گھر کے آگے کی برف ہٹائیں‘ جم گئی تو مشکل ہوجائے گی۔ برفباری سے گاڑی تو تقریباً دب ہی گئی ہے۔‘‘ اندر سے بینا آپی کی آوازیں آرہی تھیں۔
جواد بھائی شاید تھکے ہوئے تھے اور گہری نیند میں تھے یا شاید انہیں تنگ کررہے تھے‘ کافی دیر سے بحث ہورہی تھی۔
مونا اٹھ کر دروازے پر گئی اور دروازہ کھول کر باہر کا جائزہ لینے لگی‘ سارے گھر ایک جیسے بنے ہوئے تھے اوپر سے جھونپڑی نما‘ سامنے والے اس کے برابر والے چند گھر چھوڑ کر ایک میم دائیں جانب ایک بوڑھے سے انکل اور پھر ایک گوری… اپنے اپنے اپارٹمنٹ کے آگے سے برف ہٹارہے تھے‘ رستہ بنارہے تھے۔ ہر سو ایک دھند سی تھی‘ آج چار دن بعد برفباری رکی تھی اور سب اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے‘ بہت خوب صورت منظر تھا۔ درختوں نے بھی سرد سفید لبادہ اوڑھ لیا تھا۔
’’آئو مونا ہم خود کرلیں‘ جواد نے تو قسم کھائی ہے نہ اٹھنے کی۔‘‘ آپی میرے پیچھے آ کھڑی ہوئیں۔
’’میں برف نکالتی جائوں گی تم وائپر سے صاف کرتی جانا اور یہ لانگ شوز پہن لو اور کوٹ کے بٹن بند کرکے دستانے بھی پہن لو۔‘‘ وائپر میری جانب بڑھا کر ہدایت جاری کی۔
آپی ہمیشہ کی ہدایت یافتہ تھیں اور میں مسکرا کر وائپر لے کر ان کے پیچھے چلی آئی۔ آپی برف نکالتی جاتیں مونا برف ہٹاتی جاتی‘ کچھ دیر میں راستہ صاف ہوگیا۔ آس پاس کے پودوں کی بھی برف جھاڑی۔
’’بینا! راستہ تو صاف ہوگیا چلو اب شاپنگ کر آئیں۔‘‘ دونوں ایک ساتھ چونکیں۔ داخلی دروازے پر گائون کی جیب میں ہاتھ ڈالے سر پر اونی ٹوپی جمائے جواد بھائی شرارت سے مسکرارہے تھے۔ آپی نے لب بھینچ کر مصنوعی خفگی بھرے احساس سے انہیں دیکھا‘ مونا نے اک نگاہ ڈال کر نگاہ چرالی۔
ایسی محبتیں‘ ایسے محبوبانہ انداز میرے نصیب میں نہیں لکھے گئے تھے حالانکہ شوہر کا ساتھ دس ماہ اور آٹھ دن رہا تھا مگر محبت‘ پیار‘ اپنائیت جیسے قریبی جذبے فطری تعلق اور محبت میرے نصیب میں تھی ہی نہیں۔
وہ دھیرے سے وائپر لے کر اندر آگئی شاید جلد بازی میں کیے گئے فیصلے اسی طرح کے ہوتے ہیں‘ سر سے اتارے ہوئے بوجھ کی طرح۔ وہ ہر وقت اپنی زندگی کا ماتم نہیں کرنا چاہتی تھی‘ حادثے ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں اس کے ساتھ بھی ہوگیا۔ محب الدین نے اسے کون سی جذباتیت دی تھی‘ محبت سے نوازا تھا‘ وہ اس کی سرد مزاجی کو بھی بھول جانا چاہتی تھی مگر… مگر جگر گوشے جو نو ماہ اس کے وجود کا حصہ رہے تھے‘ اسی تلخ دور کو بھولنے ہی نہیں دیتے تھے۔
اب وہ ننھے منے سے دو کنول کے پھول… دھیرے سے انگلیوں پر حساب لگایا‘ تین سال اور تین ماہ کے ہورہے تھے۔
وہ دریچے کے پاس آکر کھڑی ہوگئی‘ کرٹن کھینچ کر شیشے کے پار دیکھا… چلنے لگے ہوں گے‘ بھاگتے دوڑتے گرتے پڑتے‘ کتنے ہاتھ سنبھالتے ہوں گے۔ دادی‘ پھوپو‘ محب اس کی بیوی‘ واری صدقے جاتے ہوں گے‘ ان کے سونے ویران گھر کی رونق‘ گھر میں کلکاریاں گونجتی ہوں گی۔ رخساروں پر ٹھنڈک اتری تو چونک گئی۔
’’مونا آجائو تمہاری کافی تیار ہے اور پلیز ذرا تم حاتم اور جالم کو دیکھ لینا۔ گڑیا تو کلر بُک کے ساتھ مگن رہے گی۔‘‘ اندر سے آپی کی آواز آئی۔ دھیرے سے رخسار صاف کرکے گھوم گئی۔
’’برفباری بھی رک گئی ہے اور راستہ بھی صاف ہے‘ ہم گاڑی لے کر نہیں جارہے‘ مارکیٹ تک تو جانا ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ لائونج میں آگئی۔
’’اور تمہیں کچھ چاہیے؟‘‘ جواد بھائی رین کوٹ پہنتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔
’’نہیں۔‘‘ وہ نظر چرا کر آگے بڑھ گئی۔
’’میں نے پہلی لڑکی دیکھی ہے جسے مارکیٹ سے کچھ نہیں چاہیے ورنہ عورتیں تو…‘‘ شرارت سے بینا آپی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بینا آپی کا جسم شادی کے بارہ سال بعد اب بھر گیا تھا اور بُرا نہیں لگتا تھا اور جواد بھائی شرارت سے انہیں عورت کہنے لگے تھے۔
’’تو خود کون سے لڑکے ہیں‘ توند دیکھیں اپنی‘ چھین چھبیلے بنے پھرتے ہیں۔‘‘ پرس میں کچھ تلاشتے‘ کچھ ڈالتے آپی نے مصنوعی خفگی سے گھورا۔
’’ہاہاہا…‘‘ جواد بھائی نے حظ اٹھایا۔ ’’کتنا جلتی ہو تم مجھ سے‘ یہ ہی تو حسن ہے‘ جس پر مغربی لڑکیاں مرتی ہیں۔‘‘
’’اچھا چلیں بس‘ جل جل کے اور آپ نے جلا جلا کر تو بارہ سال گزار دیئے۔‘‘ بیگ شانے پر لٹکا کر جواد بھائی کو باہر دھکیلتے ہوئے ہوا میں ہاتھ لہرا کر اسے خدا حافظ کہا اور داخلی دروازے سے باہر نکل گئے۔ لائونج میں سناٹا چھا گیا‘ اندر بچوں کے کمروں سے کارٹون کی آوازیں آرہی تھیں‘ ذرا سا پردہ اٹھا کر باہر کی جانب دیکھا۔
اسے بینا آپی اور جواد بھائی کی نوک جھونک بہت اچھی لگتی تھی۔ دل کی ہوک‘ بنجر زمین پر کاشت کی خواہش جگا دیتی تھی اس کے وجود کی چپ بڑھ جاتی تھی۔ وہ جو رومانس کی علمبردار‘ محبت کی قائل اور ہر چیز سے خوب صورت اور رومینٹک ماحول تلاش کرلیتی تھی اب تو زندگی سے محبت ہی ختم ہوگئی تھی اک ہوک‘ اک درد‘ اک آس و پیاس رہ گئی تھی۔
تنہائی‘ خاموشی‘ سناٹا اس کے دل کے برفیلے دروازوں کو کھول دیتا تھا۔ خاموشی سے دل کے ایوانوں میں خالی گبندوں کے درمیان گھوما کرتی اور ہجر کے درد کو دل پر اوس کی بوندوں کی صورت میں گراتی‘ سوچتی‘ بہلاتی اور اپنا قصور تلاش کرتی۔
ء…/…ء
’’بہت اچھی پارٹی ہے تمہیں چینج بھی ملے گا اور تم خوش بھی ہوگی‘ مزا بھی آئے گا۔‘‘
’’آپی اتنی ٹھنڈ‘ برفباری‘ حد کرتی ہیں آپ بھی۔‘‘ اپنے گرد کمبل لپیٹ کر صاف انکار کردیا۔
’’یہ ٹھنڈ‘ یہ موسم وبرفباری تو لندن کا مزاج ہے اور بارہ مہینے یہ سردو گرم موسم رہتا ہے‘ اب اس موسم کی خاطر ہم اپنی گید رنگ اپنی پارٹیز چھوڑ دیں۔‘‘ اپنا مینی کیور کرتے ہوئے آپی بولتی جارہی تھیں اور اسے اکسا رہی تھیں کسی ہونے والی ممکنہ پارٹی میں اسے لازمی جانا ہے۔
’’تو جائیں آپ‘ میرا جانا ضروری تو نہیں ہے۔‘‘ کمبل گردن تک کھینچ لیا۔
’’بے شک ضروری نہیں ہے۔‘‘ اپنی چیزیں اٹھا کر باتھ روم میں چلی گئیں۔
اتنی مصروفیت کے باوجود آپی آج بھی اپنا بہت خیال رکھتی تھیں شاید اسی لیے جواد بھائی چکور کی مانند چکراتے تھے۔
’’مگر ہمیں تمہیں لے جانا بہت ضروری ہے‘ آج اور آگے آنے والی ہر پارٹی میں تمہیں جانا ہے ہمارے ساتھ۔‘‘ تولیہ سے ہاتھ صاف کرتی وہ باہر آگئیں۔
’’کیوں…؟‘‘ کمبل کے اندر سے آواز آئی۔
’’اس لیے کہ اب ہم نے تمہارے ہاتھ پیلے کرنے ہیں‘ تمہارے لیے رشتہ تلاش کرنا ہے اور تمہیں رخصت کرنا ہے۔‘‘ اس کا سانس کمبل کے اندر سینے کے درمیان رک گیا۔
’’اس غم کو بہلانے کے لیے چار سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے‘ اس کا ازالہ غم تو نہیں ہوسکتا مگر دوسری صورت ضرور ہوتی ہے مونا! اور اس دوسری صورت سے ہم فائدہ اٹھا لینا چاہتے ہیں‘ سن رہی ہو… نا مونا!‘‘ بینا آپی نے گھوم کر اس کا کمبل کھینچ لیا۔ آنکھوں کو بازو سے چھپائے وہ تکیے پر آنکھیں موندے پڑی تھی۔
’’مونا…‘‘ بینا آپی اس کے سرہانے بیٹھ گئیں‘ ان کی مخروطی انگلیاں اس کے بالوں میں سرائیت کرنے لگیں۔
’’یہ ضروری ہے مونا! زندگی تنہا نہیں گزرتی اور ساری زندگی نوحہ کتاب بھی نہیں رہا جاسکتا۔ خدا بندوں پر ان کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہمیں اپنی غلطیوں کا سوچ سمجھ کر کفارہ ادا کرنا ہوگا۔‘‘ مونا کے بالوں میں سرسراتی ان کی انگلیاں اس کے حواس جگارہی تھیں۔
’’اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کردی آپ نے۔‘‘
’’کیوں‘ کس لیے… زندگی میں اب رہا کیا ہے‘ جگنو‘ گڑیا‘ یادیں… سن رہی ہو… نا۔‘‘ اس کا شانہ ہلایا۔
’’اٹھو‘ جاگو… نو سردی‘ نو برفباری۔‘‘
’’پلیز آپی! مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘ کمبل کھینچا۔
’’تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا؟‘‘ اس کی ٹھوڑی اٹھائی۔ گلابی آنکھیں شدت برداشت سے سرخ ہونے کو تھیں۔
’’نہیں…‘‘ اس نے سر جھٹک کر کمبل کھینچا‘ بینا آپی نے گہرا سانس لیا۔
’’تم سن بھی رہی ہو اور سمجھ بھی رہی ہو بس اب یقین بھی کرلو کہ یہ ہونا ہے۔‘‘
’’آپی…‘‘ مونا نے سر اٹھایا۔
’’دوسری شادی ہونی ہے تمہاری‘ یہ میرا اور جواد کا فیصلہ ہے۔‘‘ خفگی‘ غصہ ناراضگی سب عیاں تھا‘ دکھ غالب تھا۔
’’بے شک تمہارے ساتھ جلد بازی ہوئی مگر یہ بھی قسمت میں ہونا تھا۔ امی ابو کی وفات کے بعد تم فہد کی ذمہ داری تھیں اس نے باہر جانا تھا تمہیں چھوڑ کر یونہی نہیں جاسکتا تھا‘ تمہاری شادی کردی۔ بے شک وہ اس طرح سے نہیں کرسکا جو والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر وہ اتنا بڑا بھی نہیں ہے ہم اسے کتنا قصور وار ٹھہرائیں گے۔ میں یہاں تھی عائشہ آسٹریلیا میں‘ فراز بھائی سعودیہ میں‘ سب کچھ فہد نے کرنا تھا۔ امی ابو کی وفات پر سب موجود تھے اس لیے اتنی دور سے سب کا دوبارہ آنا ممکن نہیں تھا۔‘‘
’’آپی… وہ‘‘ دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔ ’’مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر زندگی کو ازسر نو شروع کرنے کی تیاری کرلو۔‘‘
’’نہیں…‘‘
’’ہماری زندگی میں نہیں‘ نہیں ہوتا‘ ہاں اور ہونا ہی ہوتا ہے۔ تم جانتی ہو اس بات کو‘ تم مجھے سمجھالو گی مگر جواد کو نہیں۔ جواد تمہارا کزن ہی نہیں بلکہ بہنوئی اور بھائی بھی ہے‘ اس لیے تیار ہوجانا‘ تمہارا ڈریس ڈریسنگ روم میں لٹکا دیا ہے۔‘‘ آپی کہتے کہتے اک دم سے فائنلی رخ اختیار کرلیتی تھیں‘ ساتھ ہی کھڑی ہوگئیں۔ مونا انہیں جاتے دیکھتی رہ گئی۔
وہ ماں تھی دو بچوں کی‘ بھلا کیسے شادی کرسکتی ہے‘ کل کو بچے بڑے ہوں گے اس سے ضرور ملیں گے اور اگر اس نے شادی کرلی تو کیا سوچیں گے‘ ان کی ماں نے ان کا انتظار بھی نہیں کیا‘ اسے جھرجھری آگئی۔
’’نہیں یہ ممکن نہیں۔‘‘ اپنے گرد کمبل لپیٹ کر خود کو مضبوط کیا۔
’’ارے تم تیار نہیں ہوئیں اب تک۔‘‘ جواد بھائی اس کے کمرے میں آگئے۔
’’سردی بہت ہے جواد بھائی! میرے لیے مشکل ہوگا‘ آپ جایئے۔‘‘
’’ارے کوئی سردی نہیں ہے اور لندن کی سردیاں تو اونی کپڑوں کے ساتھ انجوائے کی جاتی ہیں۔ بینا… بینا… مونا کو گرم ٹوپی‘ سوئٹر‘ کوٹ دو نا۔‘‘ اپنے گلے کی ٹائی میں الجھے‘ اس کی فکر میں غلطاں وہ بینا کو بلانے لگے۔
’’پلیز جواد بھائی۔‘‘ وہ اٹھ بیٹھی۔
’’اس گید رنگ کا تمہیں مزا آئے گا‘ تم بور نہیں ہوگی تم تو جانتی ہو کہ…‘‘
’’میں نہیں جائوں گی۔‘‘ ان کا دل توڑتے ہوئے اسے افسوس ہورہا تھا ان کے ہاتھ رک گئے۔
’’مونا…‘‘ دھیرے سے قریب آکر ٹھہرے۔ ’’زندگی کو چلانے کے لیے یہ سلسلہ ضروری ہے مونا! ٹھہرے ہوئے پانی میں کائی لگ جاتی ہے‘ بساند اٹھنے لگتی ہے اور انسان اتنا بھی فالتو نہیں ہوتا اور اگر تم انتظار کررہی ہو کسی کا تو لاحاصل ہے۔‘‘ وہ اس کے بیڈ کے کنارے پر کھڑے کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کہہ رہے تھے‘ مونا کا سر جھکا ہوا تھا۔
’’کسی نے آنا ہوتا تو چھوڑ کر ہی کیوں جاتا۔‘‘ مونا کی آنکھیں بھراّنے لگیں۔ ’’(میں ماں بھی تو ہوں کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا)‘‘
’’بچے تمہارے پاس ہوتے تو بھی جینے کا سہارا ہوتا اور ہم تمہیں ہمیشہ تو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے نا۔‘‘ جواد سنجیدہ تھے‘ مونا نے سر اٹھایا جواد مسکرارہے تھے‘ آنسو رخسار پر ڈھلک گئے۔
’’چلو شاباش آجائو۔‘‘ تسلی آمیز انداز اختیار کیا اور باہر نکل گئے۔
آج کے لیے اتنا ہی لیکچر کافی تھا جواد بھائی کے اتنے خلوص پر اسے تیار ہونا ہی پڑا‘ پرپل کلر کا سوٹ‘ ہم رنگ خوب صورت اونی ٹوپی‘ دستانے پہنے وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔
ایک سال کی بیاہی بھی کوئی بیاہی ہوتی ہے‘ اپنے دماغ سے تاثر زائل کر دے سانحہ بھول جائے‘ رنجیدگی کا لبادہ اتار پھینکے تو آج بھی لاکھوں میں ایک تھی۔ کم عمر‘ حسین‘ نو عمر دوشیزہ چوبیس سال عمر ہی کیا ہوتی ہے‘ لیکن اس کی قسمت… بینا آپی اس کے حسن کو سراہ کر نظر چرا کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔
’’شکر اللہ تعالیٰ کا۔‘‘ جواد بھائی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر پیچھے دیکھا۔
’’ہاں اللہ کا شکر کہ آج برفباری کم ہورہی ہے۔‘‘ بینا باہر دیکھ رہی تھی‘ گاہے بگاہے روئی کے گالے آسمان سے گررہے تھے۔ لندن کا موسم‘ گرتی برف بدلتا انداز‘ مونا کو بہت اچھا لگا تھا۔
’’میں اس لیے بھی شکر ادا کررہا ہوں کہ آج میں بھی سالی والا بن کر نکل رہا ہوں ورنہ اس سے پہلے تو دوسروں کی خوب صورت سالیاں‘ پیاری پیاری نندیں دیکھ دیکھ کر جلتا تھا۔‘‘ مونا نے ناراضگی سے گھورا اور پھر ان کے انداز پر ہنس دی‘ بینا بھی ان کا ساتھ دینے لگی۔
ء…/…ء
آتش دان میں جلتی آگ جھولتی کرسی‘ فلور کشن قیمتی مگر قدیم فرنیچر جگہ جگہ روشن قندیلیں‘ گرم ماحول… بیگم وقار النساء کا دھیما سا انداز‘ وہ اس تقریب کی روح رواں تھیں یہ گھر ان کا ہی تھا نایاب چیزیں اکٹھی کرکے انہیں سجانا ان کا مشغلہ بھی تھا اور روزگار بھی۔
کئی سال پہلے وہ اور ان کے بھائی اسفندیار لندن پڑھنے کے لیے آئے تو اِدھر ہی بس گئے۔ وقار النسا پھر پاکستان گئی ہی نہیں ادھر ہی شادی ہوئی مگر شوہر لالچی تھا‘ بن نہ سکی بچوں کو پاکستان لے کر چلا گیا مگر اب بچے بڑے ہوگئے تھے بیگم وقار النساء نے انہیں ادھر ہی بلوالیا تھا۔ بیٹی کی پچھلے سال شادی کردی تھی‘ آسٹریلیا میں تھی اور ایک بیٹا ادھر پڑھ رہا تھا‘ دوسرا پاکستان میں بزنس کررہا تھا۔
مونا سحر زدہ انداز میں گھر کی خوب صورتی‘ خوابناک ماحول کو دیکھ نہیں رہی بلکہ محسوس بھی کررہی تھی۔ بینا آپی اسے دھیرے دھیرے بتارہی تھیں‘ ان کے ہاتھوں میں گرم بھاپ اڑاتا کافی کا مگ تھا۔
’’ہمارے دوستوں میں یہ گھر ہی سب سے بڑا ہے‘ ہمیں ون ڈش کرنا ہو‘ گیٹ ٹو گیدر کا پروگرام ہو‘ کوئی چھوٹا موٹا شو کرنا ہو یا پھر کوئی اور پروگرام بیگم وقار اپنا لان ہمیں دے دیتی ہیں۔ بہت زندہ دل خاتون ہیں‘ خود بھی ایسے پروگرام ترتیب دیتی رہتی ہیں‘ ان کا اپنا بوتیک ہے یہاں تمہیں ہر ڈیزائن ملے گا۔ بہت ہنر مند خاتون ہیں‘ بچوں کی جدائی کو انہوں نے روگ نہیں بنایا۔‘‘ بینا آپی نے کافی کا آدھا مگ اسے تھمادیا۔
’’ان کے دوسرے شوہر بہت اچھے ہیں‘ ملوائوں گی تمہیں۔ ان کے شوہر اور اسفند یار کہیں ٹور پر گئے ہوئے ہیں‘ جہاں انہیں خبر ہو کہیں کوئی قدیم سامان موجود ہے فوراً دوڑے لگواتی ہیں ان دونوں کی۔‘‘ آپی کی دوست سارہ بھی قریب آگئیں۔ ’’یہاں سب کے بیچ میں محبت اور انداز میں تپاک ہوتا ہے‘ پاکستان سے آنے والوں سے یوں ملتے ہیں گویا کب کے بچھڑے ہوئے آج کہاں آکے ملے۔‘‘
’’بینا! گھر لے کر آنا مونا کو۔‘‘
’’یہ نکلتی ہی نہیں ہے‘ آج بھی مشکل سے خوشامد سے نکلی ہے۔‘‘ بینا نے شرارت سے مونا کو دیکھا۔
’’ارے لے آنا بچوں میں دل لگ جائے گا۔‘‘
’’پھر تو بالکل نہیں لائوں گی‘ دل لگ گیا تو گھر بسانے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔‘‘ مونا نظر چرا کر بیگم وقار النساء کو دیکھنے لگی۔ خوب صورت انداز میں گفتگو‘ ملنسار لہجہ‘ محبت ان کے لہجے اور انداز میں گنگنا رہی تھی۔ بچوں سے جدائی کا رنگ ان کے چہرے پر تھا ہی نہیں‘ ماں ایسی بھی ہوتی ہے کیا؟
ان کے پس منظر میں خوابناک سی روشنی رقصاں تھی۔ مونا حقیقت میں یہاں آکر بور نہیں ہوئی تھی اسے اچھا لگا‘ اسے بہت مزا آیا شاید اس لیے بھی یہاں کا ماحول اسے بہت اچھا لگا اس تقریب میں کوئی بچہ نہیں تھا‘ بچوں کی بھاگم دوڑ میں قیمتیں چیزیں ٹوٹنے کا ہی ڈر و خدشہ رہتا ہے۔
آتش دان کے آگے رکھی چیئر پر بیٹھی تو کتنے خواب آنکھوں میں مچل گئے۔ وقت کیسے کیسے آزماتا ہے‘ قسمت کیسے اپنا رنگ بدلتی ہے اور وقار النساء نے مگ رکھتے ہوئے اس تنہا و اکیلی و اداس لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر شعلے کے سائے درد کی صورت میں رقصاں تھے اور کوئی سیڑھیاں اترتے اترتے چونک گیا۔
ء…/…ء
گھر آکر بھی کتنے دن تک وہ اسی سحر انگیز ماحول کا شکار رہی‘ بیگم وقار النساء کی شخصیت نے اپنے حصار میں لیے رکھا‘ ان کا ماضی… اپنے ماضی سے ملتا ہوا لگا اور ان کا حال گہرا سانس لے کر آنکھیں موند لیں… اس کے حال سے کتنا مختلف… کیا اس کے اندر‘ اتنا حوصلہ اتنی ہمت ہے… اس کا جگنو‘ اس کی گڑیا دو آنسو آنکھوں میں ٹھہر گئے۔
ء…/…ء
بینا آپی جاب میں‘ جواد بھائی کا آفس اور بچوں کی اسکولنگ… سارا دن گھر خالی رہتا تھا‘ بینا آپی کوکنگ شام کو کرتی تھیں اس نے کوکنگ کرنا چاہی تو جواد بھائی نے منع کردیا۔
’’بالکل بھی ہمارے گھر کے بیلنس ٹائم کو متاثر مت کرو‘ بینا اوور ویٹ ہوجائے گی اور تم نے کون سا یہاں رہنا ہے۔‘‘
’’اگر مجھے یہاں نہیں رہنا تو کہاں جانا ہے؟‘‘ دریچے سے باہر دیکھتے ہوئے شیشے کی سطح سے ناک ٹکا دی‘ اک ٹھنڈک سی وجود میں اتر گئی۔
شادی‘ بچے اور جدائی… زندگی کی ساری حدیں تو پار کرلیں‘ زندگی کے سارے موسم تو دیکھ لیے ہیں‘ اب کیا… کیا دیکھنا ہے زندگی میں۔ یہاں نہیں ہوتی تو اُدھر پاکستان میں ہوسٹل کے کسی سرد سے کمرے میں پڑی ہوتی اور زندگی گزارنے کے لیے کسی اسکول میں نوکری کررہی ہوتی لیکن یوں بیٹھ کر بھی زندگی نہیں گزار سکتی… وہ دیوار سے ٹیک لگائے آتے جاتے لوگوں کو دیکھتی بے اختیار اسی رخ پر سوچنے لگی جس رخ پر بینا آپی نہیں سوچنے دینا چاہتی تھیں۔ سوچتے ہوئے ایک ہاتھ سے نم پلکوں کو چھوا اور دوسرے ہاتھ سے دریچے کا شیشہ کھول دیا یخ بستہ ہوا نے اسے چھولیا تبھی فون کی بیل نے چونکا دیا۔
’’ہیلو…‘‘
’’ہیلو‘ ہاں بینا! کیسی ہو تم؟ میں وقار النساء ہوں۔‘‘
’’سوری میں بینا نہیں ان کی چھوٹی بہن ہوں۔‘‘ تردید کی۔
’’اچھا… اچھا‘ مونا! آئیں تھیں نا میرے گھر۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’کیا کرتی رہتی ہو سارا دن۔‘‘ بے تکلفانہ سا انداز تھا۔
’’کچھ نہیں‘ گھر کے کام۔‘‘
’’انسان کچھ نہ کرے تو ضائع ہوجاتا ہے اور اللہ نے کسی انسان کو ضائع کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا‘ کچھ نہ کچھ صلاحیت ہر انسان میں رکھی ہے۔‘‘ مونا چپ سی ہوگئی۔ ’’آنا پھر بینا کے ساتھ تمہارے لیے کام نکالتی ہوں۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’ضرور آنا۔‘‘ فون بندن کرنے سے پہلے تاکید کی۔
اور بینا آپی اور جواد بھائی بے انتہا چونک گئے کہ بیگم وقار النساء کا فون آیا تھا وہ تو اتنی مصروف ہوتی ہیں کہ انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں۔
’’کام کرو گی ان کے لیے‘ ان کی بوتیک پر۔‘‘ بینا آپی بے انتہا خوش تھیں۔
’’میں کیا کام کروں گی بھلا۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’ارے اتنا بڑا گھر ہے‘ خوب صورت‘ قدیم امتزاج سے جڑا ہوا پھر سارے کام گھر میں ہی ہوتے ہیں۔ جیولری کے لیے بھی کاریگر رکھے ہوئے ہیں‘ لوگ تو ان کے گھر جانے کے لیے بہانے تلاشتے ہیں۔‘‘
’’لیکن آپی! ہمیں کیا ضرورت ہے؟‘‘ برتن سمیٹنے لگی۔
’’مگر ہمیں ہے‘ تمہارے لیے۔ تمہارا گھر بسانے کے لیے‘ ان کے گھر میں رشتے بھی طے ہوتے ہیں یا کروائے جاتے ہیں خود میں نے بھی رشتے کروائے تھے۔‘‘ مونا ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’اس رشتہ کروانے میں میں بھی حصہ دار ہوں گا۔‘‘ جواد بھائی ہنس رہے تھے‘ مونا خاموشی سے باہر نکل گئی۔
زندگی میں کسی اور امتحان کی گنجائش نہیں نکلتی‘ ایک طلاق یافتہ کے لیے بہتر رشتہ نہیں مل سکتا پھر ملے بھی کیوں میری کون سی خواہش ہے۔ ذہن میں پھر سے سوچیں سر اٹھانے لگی۔
’’کل ویک اینڈ ہے تیار رہنا ان کے گھر چلیں گے۔‘‘ اندر سے بینا آپی کی آواز بلند ہوئی‘ اس نے سنی ان سنی کردی‘ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
اگلے دن اسے کاسنی کپڑوں میں ملبوس کروا کر لے کر ہی نکلیں‘ بیگم وقار النساء بڑے تپاک سے ملیں۔
انہیں مونا بہت اچھی لگی تھی اس کے دکھ نے انہیں غم زدہ کردیا تھا‘ اتنی سی عمر اور ایسا صبر‘ انسان غم و دکھ ملنے پر صبر نہ کرے تو کیا کرے‘ مقابلے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔
’’بینا بتا رہی تھیں کہ تم فارغ رہتی ہو‘ پاکستان سے جو آئی ہو پاکستان میں زیادہ تر لوگ فارغ رہتے ہیں مگر یہ مغرب ہے اور یہاں یہ ممکن نہیں۔‘‘ ان کا انداز بہت دوستانہ‘ اپنائیت لیے ہوئے تھا۔ کوئی اتنا بھی مکمل ہوتا ہے‘ مونا انہیں سوچے گئی۔
’’ابھی میں تمہیں بطور نگراں رکھ رہی ہوں‘ دراصل میری ہوم سیکرٹری پاکستان گئی ہوئی ہے اور میں باہرکے کام دیکھوں یا گھر۔ ایک پروگرام بھی منعقد کرنا ہے‘ کرلو گی نا؟‘‘
’’ہاں ہاں کرلے گی‘ کرے گی کیوں نہیں چھ ماہ تک آرام بھی تو کیا ہے۔‘‘ جواد بھائی چھیڑ رہے تھے۔
اور انکار کی گنجائش اس کے پاس بھی نہیں تھی‘ وقار النساء نے اسے بہت متاثر کیا تھا‘ ایسے تصوراتی ماحول میں رہنا‘ وقت گزارنا اسے اچھا لگتا تھا بیگم وقار النساء کی ضرورت سے زیادہ تو بینا آپی اور جواد بھائی کی خوشی اہم لگ رہی تھی۔
’’واہ بھئی واہ‘ تمہارے تو مزے ہوگئے‘ لگی بندھی نوکری مل گئی۔‘‘
’’مگر بینا آپی مجھے کام کیا کرنا ہوگا۔‘‘
’’فی الحال بطور نگراں‘ آہستہ آہستہ کام بھی بتاتی جائیں گی۔‘‘
ء…/…ء
’’آج تو تم اس شلوار قمیص اور اس لمبے سے دوپٹے کے ساتھ گزارہ کرلو مگر کل سے ہرگز انہیں مت پہننا‘ میں تمہیں جینز کے ساتھ کُرتے اسکارف لادوں گی‘ لانگ کوٹ استعمال کرلینا۔‘‘ بینا آپی اسے تیار کرتے ہوئے ہدایت دے رہی تھیں۔
’’یہاں تمہیں اسی طرح سے رہنا ہوگا‘ تم ایزی فیل کرو گی۔‘‘ اب وہ اس کا ہلکا ہلکا میک اپ کرنے لگیں۔
’’پلیز آپی! مجھے یہ پسند نہیں ہے۔‘‘ ہاتھ روکا۔
’’تمہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں اب یہ ہمیں سوچنا ہے‘ تمہیں نہیں۔‘‘ اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ ’’اور یہ بال کھلے رہنے دو۔‘‘
’’ہائے نہیں۔‘‘
’’مغرب کا حسن تو تم دیکھ ہی رہی ہو مگر کشش مشرق کے حسن میں ہے۔‘‘ وہ اس کے لمبے‘ سیاہ چمکیلے بالوں میں محبت سے برش کررہی تھیں۔ ’’اور میں چاہتی ہوں کہ کوئی ان زلفوں کا شکار ہوجائے۔‘‘
’’ہاہاہا…‘‘ وہ جھٹکے سے مڑی اور برش لے کر بال سمیٹے اورکلپ کرلیے۔ وہ ایک نظر آپی پر ڈال کر بیگ میں اپنی چیزیں رکھنے لگی۔
’’اب تمہیں ڈرائیونگ بھی سیکھنی ہوگی۔‘‘ بینا آپی اسے چھوڑنے جارہی تھیں اور ساتھ ہی ہدایت بھی دے رہی تھیں۔
’’میں بس سے آجایا کروں گی۔‘‘
’’بس روٹ دور ہے۔‘‘ وہ مہارت سے ڈرائیونگ کررہی تھیں۔
’’میں ان سڑکوں پر ڈرائیونگ‘ ناممکن…‘‘
’’دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا مونا اور لندن کی سڑکوں پر تو کچھ بھی نہیں اور تم اپنی زندگی میں سے ناممکن باتیں نکال دو‘ ایک نئی زندگی تمہاری منتظر ہے۔‘‘ انہوں نے بیگم وقار النساء کے طلسماتی محل کے آگے گاڑی کھڑی کردی۔ اس کا سفر ادھر تک کا ہی ہے۔ ’’مجھے پارلر پہنچنا ہے‘ کلائنٹ کھڑی ہوں گی‘ شام میں‘ میں یا جواد تمہیں پک کرلیں گے۔‘‘ انہوں نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اترنے کا سگنل دیا ‘ وہ ہکا بکا رہ گئی۔
’’اترو بھئی‘ گیٹ کی بیل بجائو چوکیدار آئے گا وہ تمہیں بیگم وقار النساء تک پہنچا دے گا۔‘‘
’’م… مگر…‘‘ اس کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے‘ برفیلے ہونے لگے‘ ایک کپکپی نے اپنے حصار میں لے لیا۔
’’آپی پلیز۔‘‘
’’جائو‘ کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
’’اندر تک ساتھ چلیں‘ پہلا دن ہے۔‘‘
’’اچھا آج آخری مرتبہ‘ آئندہ مت کہنا۔‘‘ وہ گاڑی سے اتریں‘ بیل بجائی اس کا ہاتھ پکڑا‘ اتنی دیر میں گیٹ کھل گیا۔ اس کا ہاتھ تھامے اندر بڑھ گئیں‘ بیگم وقار کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئیں۔ اس نے خجل سے ہاتھ کھینچ لیا۔
’’یہ آپ کے پاس ہے‘ اس کو اعتماد‘ حوصلہ امید دیں کہ یہ ایک مکمل لڑکی بن جائے۔ میں چلتی ہوں‘ مونا! رات مجھے فون کردینا میں آجائوں گی۔‘‘
’’اس کی تم فکر مت کرو‘ میرا ڈرائیور چھوڑ دے گا۔‘‘
’’اوکے‘ اس سے بہتر کیا بات ہوسکتی ہے۔‘‘ پلٹ کر دروازہ سے منہ نکالا اور روپوش ہوگئیں۔
’’بیٹھو۔‘‘ وہ بیٹھ گئی۔ ’’بینا بہت اچھی لڑکی ہے اس کی محفل میں کوئی بور نہیں ہوتا۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے اردگرد کا جائزہ لیا۔
یہ ان کا آفس تھا بہت خوب صورت سجا ہوا‘ اس سے زیادہ خوب صورت مسکان تھی جس نے ان کے شنگرفی ہونٹوں کا احاطہ کیا ہوا تھا۔
’’اس عورت کو اپنے بچے یاد نہیں آتے۔‘‘ کتنا نازک خیال دل کو چھوگیا‘ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
’’بعض لوگوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لیے کتنے موزوں رہیں گے۔‘‘ وہ گویا ہوئیں۔
’’جی…‘‘ میں سمجھی نہیں۔
’’اپنا ئیت کا احساس ہوتا ہے اور تمہیں بھی یہاں تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔‘‘ بولتے بولتے سنبھل گئیں۔
’’تمہیں لندن کیسا لگا؟‘‘ سرخ قلم ان کے ہاتھوں میں تھا۔
’’ایک دم ٹھنڈا‘ برفیلا اور بھیگا ہوا۔‘‘
’’وہ نہیں… بیوہ کے آنکھ کے آنسو کی طرح۔‘‘ میں ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’نہیں… اوس کی بوندوں کی طرح۔‘‘
’’یہ گرم بھی بہت ہے۔‘‘
’’ہوں… آپی بتارہی تھیں ابھی مجھے اندازہ نہیں ہے۔‘‘
’’ہوجائے گا اندازہ۔‘‘
وہ کرسٹل کے نازک سے گھوڑے تھے جو ان کی مضبوط سیاہ ٹیبل کے شیشے کی سطح پر بھاگنے کی کوشش کررہے تھے۔ بیگم وقار نے قلم کی ضرب سے اس ڈائل کو گھمادیا‘ گھوڑے دھیرے دھیرے ایک دوسرے کے پیچھے دوڑنے لگے‘ ان پر لگے بال دھیرے دھیرے لہرانے لگے‘ اک خوب صورت منظر…!
’’گھوڑے کی پینٹنگ ہمیشہ سے میری کمزوری تھی۔‘‘
’’کتنا خوب صورت منظر ہے نا۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں مسکرادی۔
’’گھوڑے مجھے بہت پسند ہیں‘ مضبوط توانا اور خوب صورت۔‘‘ میں ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’میرے پاس فارم ہائوس بھی ہے‘ میں بہت اچھی تو نہیں مگر اتنی بُری بھی سوار نہیں ہوں۔‘‘
’’آپ کی اردو بہت اچھی ہے۔‘‘
’’میری سندھی‘ عربی‘ پنجابی‘ برٹش اور انگلش بھی بہت اچھی ہے۔‘‘ میں حیران ہوئی۔ ’’دراصل میری ورک شاپ اور اسٹور پر ہر طرح کے لوگ آتے ہیں‘ ان کے ساتھ ان کی زبان میں بات کرو تو وہ اپنائیت محسوس کرتے ہیں۔ آخر ہم دیارِ غیر میں رہتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’اور اپنائیت ہم زبانی سے بھی ہوتی ہے اور یہاں ہر زبان کا شخص ملے گا۔ اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو یہ ہنر آزمانا ہوگا۔‘‘ وہ گاہے بگاہے گریس فل انداز میں مجھ پر نگاہ ڈال رہی تھیں۔
جانے کیوں مجھے لگا وہ میرا جائزہ لے رہی ہیں‘ مجھے سمجھ رہی ہیں۔ وہ ایسا کرسکتی تھیں آخر انہوں نے مجھے ملازمت دینی تھی ۔
’’اگر یہاں مستقل رہنے کا ارادہ ہے تو تعلیم ضروری جاری رکھنا‘ تعلیم فرض میں معاون ثابت ہوتی ہے۔‘‘ میں نے گہرا سانس لے کر سر جھکا کر اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا۔
’’ہاں شاید‘ مگر اب یہ ممکن کہاں‘ اب تو بس زندگی گزارنی ہے‘ جہد مسلسل کی طرح تاکہ وہ گڑیا‘ جگنو یاد نہ آئیں جو لمحہ لمحہ میری زندگی کو ہلاتے رہتے ہیں۔ میں کیسی بدنصیب ماں ہوں۔‘‘ وہ اپنے خیال میں غرق تھی اور کوئی اسے پڑھ رہا تھا۔
’’اب تمہیں ہر کام کا جائزہ لینا ہے‘ دھیان رکھنا ہوگا‘ ورکرز پر نظر رکھنا ہوگی۔ یہاں کے ماحول کو سمجھنا ہوگا‘ کلائنڈ سے کیسے بات کرتے ہیں اور آرڈر وغیرہ بک کرنے ہوں گے۔‘‘
’’جی…‘‘ مودب ہوگئی۔
’’تمہیں بینا نے بتایا ہوگا میں تہواروں پر شادی کی تقریب کے لحاظ سے یا کسی اور ایونٹ پر کیمپ وغیرہ بھی لگواتی ہوں‘ اس کی تیاری بھی کرواتی ہوں۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے خیالوں کو جھٹک دیا‘ جبکہ وہ کھڑی ہوگئیں۔
’’آئو میں تمہیں ورکشاپ‘ تمہارے آفس اور شاپس کا وزٹ کروا دوں۔‘‘ میں نے ان کی تقلید کی۔
’’جب میں شروع شروع میں لندن آئی تھی تو بالکل تمہارے جیسی تھی۔‘‘ میں نے راہداری میں چلتے ہوئے انہیں دیکھا۔
’’میری جیسی…‘‘ وہ تو میرا الٹ تھیں‘ خوب صورت‘ دراز قد‘ سنہری بال‘ شفاف رنگت تراشا ہوا سراپا اور پاور فل اور میں سیدھی سادی‘ لمبی سی چٹیا‘ خاموش‘ چپ… ان کی ہیل کی ٹک ٹک کوریڈور میں گونج رہی تھی۔
’’میں آج بھی ویسی ہی ہوں۔‘‘ ذرا سا میری جانب جھکیں ایک آنکھ دبائی اور شرارت سے ہونٹ دبا کر شرارتی سے انداز میں ہنس دیں۔ ’’یہ روپ‘ یہ سنگھار تو میرے کاروبار کی ڈیمانڈ‘ میرے شوہر گردیزی کی خواہش ہے۔‘‘ سیاہ اسکرٹ بلائوز سرخ اسکارف ہمہ رنگ بلائوز کے سرخ بٹنوں کے ساتھ ان پر بہت جچ رہا تھا۔
یہ عورت کبھی مجھ جیسی تھی… میں بے یقین تھی۔ انہوں نے ایک کمرے کا دروازہ کھول دیا‘ وسیع و عریض ہال تھا۔ مختلف رومز بنے ہوئے تھے‘ وہاں مختلف کام ہورہے تھے۔
یہاں مختلف آرڈرز مکمل ہوتے ہیں‘ سب ورکرز ہمارے ہی ہوتے ہیں‘ زیادہ تر ایشین ہی نوکری کرتے ہیں۔‘‘ جس نے ہمیں دیکھا انہوں نے ہاتھ اٹھا کر میڈم کو سلام کیا‘ ہاتھ ہلا کر وہ پلٹ آئیں۔
’’آہستہ آہستہ تم سیکھو گی یہاں کیا کام ہوتے ہیں۔‘‘ آگے چلنے لگیں‘ باہر کی جانب شاپس میں گفٹس آیٹم‘ فلاور شاپس‘ بک اسٹال‘ انٹرئیر ڈیکوریشن اور الا بلا…‘‘ انہوں نے اشارہ سے بتایا۔
’’کل میں تمہیں دکھائوں گی ابھی ایک کام مجھے یاد آگیا ہے۔ تمہیں تمہارا آفس دکھادوں‘ آج تم آفس دیکھو‘ آرام کرو۔ لیپ ٹاپ استعمال کرو اور ہاٹ ٹی سے لطف اندوز ہو۔‘‘ اپنے پاکٹ سے سیل نکال کر نمبر پش کرنے لگیں اب وہ جلدی جلدی چل رہی تھیں۔
’’میرے آفس کے برابر میں تمہارا آفس ہوگا۔ شام کو اگر میں نہ آسکی تو میرا ڈرائیور تمہیں چھوڑ آئے گا۔‘‘ ڈرائیونگ‘ یہاں کی سڑکیں‘ خالی گاڑی‘ ڈرائیور‘ عجیب حزن میرے اندر سرائیت کرگیا۔
’’نہیں میڈم! میں آپی کو فون کردوں گی۔‘‘ انہوں نے سر گھما کر مجھے دیکھا اور پھر سیل کانوں سے لگا لیا۔ میں ان کے اشارے پر شیشے کی دیواروں والے کمرے میں داخل ہوگئی‘ وہ تیزی سے انگلش میں محو کلام تھیں۔
میں شرمندہ سی اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی‘ لیپ ٹاپ کھلا تھا اسے استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ اتنی ثقیل انگلش‘ اُف… میری پیشانی بھیگنے لگی‘ انگلش میگزین ہائے اللہ۔
چمکتا ہوا چوڑی اسکرین کا موبائل‘ ریوالونگ چیئر‘ سیاہ کریڈل پر رکھا سنہری فون‘ کلینڈر‘ ڈائری‘ قلم دان۔
’’اوکے میں چلتی ہوں مونا! آج تم صرف جائزہ لو‘ کسی چیز کی ضرورت ہو تو یہ بیل بجا دینا۔‘‘ وہ عجلت میں تھیں۔ ’’دراصل مجھے ضروری کام یاد آگیا ورنہ آج میرا ارادہ تمہارے ساتھ تمام دن گزارنے کا تھا۔‘‘ وہ میرے سامنے ٹھہریں۔
’’تم مجھے بہت اچھی لگی ہو۔‘‘ دھیرے سے میرا رخسار چھوا۔ جانے کیوں مجھے ان کے اندر ممتا کا سا احساس ہوا۔ ٹک ٹک کرتی باہر چلی گئیں۔ ماحول میں سناٹا چھا گیا‘ میں چیئر پر ڈھے گئی‘ پرسکون شفاف اور ساکن سناٹا جیسے کوئی بھی اس ماحول کا حصہ نہ ہو… ایک عجیب سا سکون تھا جو ٹھہر گیا تھا‘ نشست سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
’’میں یہاں ایڈجسٹ ہوجائوں گی‘ مجھے تو کچھ آتا بھی نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات کہ انگلش‘ اتنی ہائی… اُف!‘‘ تبھی آہٹ ہوئی‘ اک لڑکا مگ ٹرے میں رکھے اندر آگیا۔
’’کچھ اور تو نہیں چاہیے۔‘‘ شستہ صاف اردو۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے انکار میں سر ہلادیا‘ لڑکا باہر نکل گیا۔
’’گزارا ہوجائے گا۔‘‘ دل کو اطمینان سا ہوا اور مگ اٹھا لیا‘ ہاٹ ٹی تھی قطرہ قطرہ گرمائی وجود میں اترنے لگی۔
ء…/…ء
شکر ہے تم نے آمادگی ظاہر کی وگرنہ میں سمجھی تھی آج پہلا دن ہی آخری ہوگا۔‘‘ رات کلینزنگ کرتے ہوئی آپی ہنس رہی تھیں۔
’’ہاں میری مرضی کے مطابق کام نہ ہوا تو چھوڑ بھی سکتی ہوں۔‘‘ کمبل اپنے اوپر کھینچتے ہوئے اتر ائی۔
’’واہ… واہ… واہ…!‘‘ جواد بھائی اندر آگئے۔ ’’جیسے مالکہ یہی ہوں۔‘‘ مونا خجل سی ہوگئی۔
’’ارے دلچسپی کا اتنا سامان ہے وہاں کہ نہ پوچھو‘ بندے کا دل لگے گا ہی اور بات دل کی ہوتی ہے‘ دل لگنا چاہیے۔‘‘
’’دل…‘‘ دکھتی رگ پر انہوں نے ہاتھ رکھ دیا۔
بس دل کو ہی تو بہلانا ہے کسی طرف اور لگانا ہے‘ دل جو آنسو تھا دل جو آہ بن گیا تھا دل جو سنبھل نہیں رہا تھا۔ گہرا ٹھہرا ہوا سانس نوحے کی طرح دل سے نکلا۔
’’یہ تمہاری نئی زندگی کی ابتدا ہے۔‘‘
’’نئی زندگی…‘‘ بینا آپی کی جانب دیکھا وہ اپنے کام میں مصروف تھیں‘ انہیں اپنی اسکن کا بہت خیال رہتا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ دھیرے سے نگاہ چرالی‘ انہیں دوسروں کا بھی بہت خیال رہتا تھا۔
’’اور میرے لیے بھی کوئی آفر ہو تو دیکھنا۔‘‘ جواد بھائی اپنی رو میں تھے۔
’’کیوں…؟‘‘ بینا آپی کا وارننگ بھرا انداز۔
’’بیوی کچھ تو خیال کرو۔‘‘ مسکین سی صورت بنائی۔
’’مثلاً کس قسم کی آفر۔‘‘ دلچسپی سے جواد بھائی کی مسکین سی صورت کو دیکھا۔
’’کوئی جاب کی… کسی گوری کے لیے اور…‘‘
’’اور یہ کہ…‘‘ بینا آپی نے کشن ان کی جانب اچھالا‘ بڑی مہارت سے کیچ کیا۔
’’تمہاری بہن نے تو…‘‘ جواد بھائی اپنی رو میں تھے۔ یہ انداز تکلم یہ شرارتی لمحے میری زندگی میں نہیں آئے تھے‘ میں نے نگاہ چرالی۔
بینا آپی دوسرا کشن اچھال رہی تھیں جواد بھائی باہر بھاگے جواب میں بینا آپی پیچھے مڑ کر بھاگیں‘ میں نے کمبل منہ تک کھینچ لیا اور مڑ کر ماضی میں جھانکا… بہار کا کوئی جھونکا میری زندگی میں نہیں آیا‘ آمد بہار کا انتظار کرتی رہی اور خزاں نے زیست پر بسیرا کرلیا اور خزاں بھی ایسی کہ جو ہر آن خشک پتیوں کا ڈھیر لگاتی جارہی تھی اردگرد۔ یہ جواد بھائی اور بینا آپی تھیں جو میرے اندر زندگی کی رمق پیدا کررہی تھیں… آنکھیں موند کر میں نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور قطرہ قطرہ دکھ میری آنکھوںمیں جمع ہونے لگا۔
ء…/…ء
جاب بہت اچھی تھی زندگی کو مصروفیت مل گئی۔ بیگم وقار کا حلقہ احباب بے حد وسیع تھا‘ بے حد مصروف زندگی تھی شاید زندگی سے فرار خود کو بہلانا اسی کو کہتے ہیں۔ شیشے کی دیوار کے باہر دیکھتے ہوئے سوچتی مگر نہیں آہستہ آہستہ یہ بھید کھلا۔
یہ مصروفیت ان کے نام کا حصہ تھی وہ بے حد مصروف‘ سوشل بزنس وومن تھیں‘ وہ ماضی میں نہیں جیتی تھیں میری طرح۔ وہ حال کا حصہ تھیں وہ حال میں جیتی تھیں‘ اس مقام تک آنے میں ان کو کتنا عرصہ لگا ہوگا۔ میں ماہ وسال کا حساب انگلیوں پر کرنے کی کوشش کرتی‘ کسی زمانے میں وہ میرے جیسی تھیں۔
اپنے کمرے میں دریچے کے پاس کھڑے ہوکر شیشے کی سطح سے سر ٹکا کر باہر دیکھتے ہوئے میں سوچتی اور مجھے اس مقام تک آنے میں اتنا ہی عرصہ لگے گا‘ میرے دل کا کونا سکڑنے لگتا۔ میرا زخم تازہ تھا وہ میرے جگر گوشے‘ میرے خون‘ میرے جسم کا حصہ رہے تھے‘ ممتا کا لمس میرا جگر نوچنے لگے۔
میں نے ان کو چھوا بھی نہیں تھا‘ آنکھیں جلنے لگیں اور گلہ رندھنے لگا۔ باہر سورج نکلا ہوا تھا چمکتی برف پر سورج کی شعاعیں پڑرہی تھیں‘ ہر ذی روح باہر تھی۔ ہلکی ہلکی برف پگھل رہی تھی‘ موسم بدل رہا تھا شاید … مگر میرے اندر کا موسم… گہرا سانس لیا۔ بیرونی دنیا میں کتنی ہی بتدیلی آجائے میرا اندرون پن ایسے ہی رہے گا یاد رفتگان میں مبتلا۔
’’مونا… مونا…‘‘ بینا آپی آوازیں دیتی اوپر آگئیں‘ مجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔
’’تم…‘‘ مجھے یوں گم صم کھڑا دیکھ کر چونکیں۔ ’’پھر تم نے یادوں کے گھوڑے پاکستان کی سرحدوں پر ڈال دیئے۔ آج سنڈے ہے‘ اپنے کپڑے دھولو میں کچن میں ہوں۔ شام کو آئوٹنگ کا پروگرام ہے‘ تیاری کرلو۔‘‘
’’آپی…‘‘ میں کھڑکی سے ہٹ گئی۔
’’ہمیں زندگی کو چلانا چاہیے وگرنہ زندگی ساکت و جامد ہوجائے گی۔ ساکت پانی میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور خالی درو دیوار پر جالے لگ جاتے ہیں۔ تمہارے سامنے بیگم وقار النساء کی زندہ مثال ہے‘ زندگی کو احساس کرنے والوں کے لیے قربان کیا جاسکتا ہے۔‘‘ میری سستی کے جواب میں آپی کا لیکچر شروع ہوگیا۔
کہاں میں‘ کہاں وہ… ایک خوش قسمت باکمال خاتون اور میں سیاہ بخت…
’’اتنی خود سری اچھی نہیں ہوتی مونا!‘‘ بولتے بولتے بینا آپی نے بستر صاف کردیا‘ میلے کپڑے سمیٹ کر باسکٹ میں ڈال لیے۔ ’’ذرا سی کوشش سے ہمیں اک بہتر انسان مل سکتا ہے۔‘‘
’’نہیں آپی! مجھے بار بار اس چیز کا احساس مت دلائیں‘ میری زندگی میں بہتر شخص کی گنجائش نہیں نکلتی‘ نہ سہی۔‘‘ بینا آپی کے انداز میں بے پروائی تھی‘ جاتے جاتے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
’’وہ خود ہی نکال لے گا‘ تم تیار رہو۔‘‘ آپی کا مقصد‘ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں‘ کاش بھائی کی جگہ آپی میرے ساتھ ہوتی تو یوں زندگی خوار اور رائیگاں نہ جاتی۔
میں کھڑی ہوگئی بحث فضول تھی انکار لا یعنی‘ ابھی جواد بھائی آجاتے پھر بچے پیچھے لگ جاتے‘ جاتے ہی بنتی۔
ء…/…ء
’’ہیں‘ ڈے کیئر…‘‘ میں تو چونک ہی گئی اور سامنے کھڑی بے زار سی شکل بنائے حبیبہ کو دیکھا۔
’’یہاں ڈے کیئر بھی ہے؟‘‘ میں حیران تھی۔
’’ہاں‘ اس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے؟‘‘ حبیبہ الٹا حیران ہوئی۔
’’یہاں اس علاقہ میں زیادہ تر عورتیں جاب کرتی ہیں‘ بچے بھی ہیں وہ اسی طرح توازن برقرار رکھتی ہیں کام اور بچوں میں۔ یہاں چھوڑ جاتی ہیں‘ آفس سے آتے ہوئے لے جاتی ہیں۔‘‘
’’بچے…‘‘ میں نے دل پر ہاتھ رکھا‘ میری آنکھیں چمکنے اور بھیگنے لگیں۔ ’’یہ تو بہت مزے کا کام ہے۔‘‘
’’مزے کا…‘‘ وہ جل رہی تھی۔ ’’تو کل سے تم کرلو۔‘‘ وہ فائلوں میں سر کھپا رہی تھی۔
’’مجھے معلوم ہی نہیں تھا یہاں ڈے کیئر ہے‘ میں ضرور آتی آفس ورک سے زیادہ مجھے یہ کام اچھا لگتا ہے‘ آئو چینج کرلیتے ہیں۔‘‘ میں بے چین ہوئی۔
’’مونا یہ آسان ہے نہ ہماری مرضی ہے‘ میڈم دونوں کو نکلوا دیں گی۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی۔
’’اچھا میں بات کرکے دیکھوں گی۔‘‘
’’میرا نام مت لینا۔‘‘ وہ جاتے جاتے مڑی اور پھر اس کے بے زار انداز پر ہنس دی۔
’’ننھے منے بچے میرے…؟‘‘ میں ہمک اٹھی‘ میرے بازو سمٹ کر میرے سینے سے لگ گئے‘ عالم تصور میں‘ میں اپنے بچوں کو چومنے لگی‘ ہاں اسی طرح سے شاید گئے دنوںکا سدباب ہو۔
اگلے دن میں بے چینی سے میڈم کا انتظار کررہی تھی مگر وہ سارا دن نہیں آئیں‘ اگلے چند دن وہ ذاتی مصروفیت میں الجھی رہیں‘ فون پر بات کرنا مناسب نہ لگا۔ میڈم مجھ پر بے حد اعتبار کرنے لگی تھیں‘ میری ڈیوٹی نگراں کی تھیں اور میں بہتر انداز سے یہ کام کرہی تھی۔ اس روز میں روم روم گھومتی جائزہ لیتی دوسری جانب آنکلی۔
میری تلاش ڈے کیئر تھی‘ دل کے ہاتھوں مجبور تھی تبھی مجھے حبیبہ نظر آئی‘ پرام میں ایک بچے کو لے کر گھوم رہی تھی بچہ مسلسل رو رہا تھا ننھا منا محض آٹھ دس ماہ کا ہوگا۔
بچے کو گود میں لیتی تو شاید وہ چپ ہوجاتا مگر وہ محض پرام گھما رہی تھی‘ کھلونا بجا رہی تھی‘ بچہ رو رو کر نڈھال ہورہا تھا۔ اس کے منہ میں فیڈر ڈال رہی تھی‘ بالکل اناڑی پن کا مظاہرہ بچے کا درد‘ تکلیف‘ محبت کوئی احساس اس کے چہرے پر نہ تھا۔
’’حبیبہ…‘‘ میں قریب چلی گئی۔ ’’کیا ہوا‘ کیوں رو رہا ہے؟‘‘ ترحم نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’جانے کیا مصیبت ہے ایسا اڑیل ہے چپ ہی نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے جھک کر اسے گود میں اٹھا لیا‘ شانے سے لگا کر کمر سہلائی۔
’’بچہ محبت کی زبان سمجھتا ہے‘ محبت کا لمس محسوس کرتا ہے۔‘‘ میں نے اس کا چہرہ صاف کیا‘ بچہ ضد میں آیا ہوا تھا۔ میں ماں ضرور بنی تھی مگر میری آغوش میں میرے بچے نہیں کھیلے تھے‘ میں ادھوری ماں تھی۔
بچہ بے حد خوب صورت تھا‘ میں اسے بہلا رہی تھی چپ کرا رہی تھی‘ مجھے خودبخود بہلانا آگیا‘ میری بانہیں اسے جھولا جھلانے لگیں۔ بچہ رو رو کر تھک چکا تھا‘ غنودگی میں جانے لگا‘ آنکھیں متورم تھیں‘ سسکیاں لینے لگا۔
’’اس کی ماں کب آئے گی؟‘‘ میں نے شانے سے لگایا۔
’’اس کی ماں نہیں آتی‘ باپ ہے مگر کاروباری مصروفیت‘ شام میں یہ بچہ اندر چلا جاتا ہے‘ اندرکے لیے میڈ ہے‘ الگ سے۔‘‘
’’کسی خاص آدمی کا ہوگا؟‘‘ میں ٹہلنے لگی۔
’’پتا نہیں۔‘‘ بے زاری سے بنچ پر بیٹھ گئی۔
’’یہاں یہ سب چلتا ہے‘ بچے کو لے کر کسی کے کام نہیں رکتے۔‘‘
’’کسی امیر آدمی کا ہوگا‘ جو یہاں کا فل خرچہ برداشت کرسکے۔‘‘
’’ہاں…‘‘
میرے کاندھے سے لگ کر بچہ سوگیا‘ میں دھیرے دھیرے ٹہل کر اسے سکون دینے لگی‘ مجھے یوں لگا میرا جگنو اور گڑیا میرے سینے میں سما گئے ہوں۔ ممتا کی پیاس امنڈنے لگی‘ میری پلکیں بھیگ گئیں۔
’’اسے احتیاط سے یہاں لٹا دو۔‘‘
’’جاگ جائے گا۔‘‘ میں نے بچے کو بانہوں میں سامنے کیا‘ بنچ پر بیٹھی اور فیڈر اٹھا کر دھیرے سے اس کے منہ سے لگا دیا‘ بچہ مچلا‘ منہ بسورا سسکی نکلی پھر آہستہ آہستہ پینے لگا۔
’’پتا نہیں کیا بات ہے مونا! یہ بچہ مجھ سے نہیں سنبھلتا۔ اتنا ضدی اتنا اڑیل ہوجاتا ہے کہ بس‘ میری ضرورت نہ ہوتی تو میں کب کا چھوڑ کر جاچکی ہوتی۔‘‘
’’آئندہ جب بھی ایسا ہو مجھے بلوالینا‘ مجھے بچے سنبھالنے خوب آتے ہیں۔‘‘ مجھے اپنے لہجے میں‘ اپنے چہرے پر ممتا کا لمس محسوس ہورہا تھا۔
’’کتنے بچوں کو پالنے کا تجربہ ہے؟‘‘ وہ ہنس رہی تھی‘ میں نے اس کی جانب دیکھا۔
’’دو…‘‘
’’کہاں ہیں وہ بچے؟‘‘
’’اپنے باپ کے پاس۔‘‘
’’اور تم…؟‘‘
’’انہیں میری نہیں صرف بچوں کی ضرورت تھی‘ میں وہاں اکیلی تھی پھر مجھے آپی نے یہاں بلوالیا۔‘‘
’’تمہارا شوہر… بچے…‘‘ حبیبہ حیران تھی۔
’’طلاق کے بعد میرا کسی پر کوئی حق نہیں تھا۔‘‘ میری آنکھیں جلنے لگیں۔ بچہ مکمل طور پر گہری نیند میں تھا میں نے اسے پرام میں لٹا دیا۔
’’جائو یہ اب کافی دیر تک سوتا رہے گا۔‘‘ حبیبہ نے میری جانب دیکھا اور پھر کھڑی ہوگئی۔
’’تھینک یو۔‘‘
’’میں بچے کو دیکھے گئی۔‘‘ حبیبہ پرام لے گئی‘ میں آنچل سے بھیگی پلکیں صاف کرنے لگی۔ میرے جیسے محروم تمنا کتنے ہوں گے‘ میں اندر جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔ ہزاروں… لاتعداد… مجھ سے بھی زیادہ دکھ تکلیف میں مبتلا‘ جیسے یہ بچہ… میں نے چلتے چلتے ڈے کیئر کی جانب دیکھا۔ مجھے اپنا دکھ کم لگنے لگا‘ میرے اندر برداشت‘ حوصلہ صبر تھا جبکہ یہ بچہ… میری آنکھیں نم ہونے لگیں اور پھر میں اپنے آفس کی جانب چلی آئی‘ اندر داخل ہوتے ہوئے چونکی میڈم آفس میں بیٹھی تھیں۔
’’آپ…؟‘‘
’’تم کہاں تھیں؟‘‘ فائلیں دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے دیکھا۔
’’میں حبیبہ کی طرف اچانک ہی وزٹ کرتے ہوئے چلی گئی تھی۔‘‘ میں چیئر پر بیٹھ گئی۔
’’اچھا لگا وہاں جاکر۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’اگر میں ادھر ہی کام کرنا چاہوں تو…؟‘‘ میڈم کا ہاتھ رک گیا‘ وہ مجھے دیکھنے لگیں۔
’’مجھے تمہارے متعلق بینا نے بتایا تھا‘ تم ان بچوں میں خود کو بہلانا چاہتی ہو‘ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘‘
’’میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے میڈم! بس مجھے اچھا لگے گا ان میں رہ کر۔‘‘
’’یہاں بچے آتے جاتے رہتے ہیں۔‘‘
’’جی…‘‘ میں سمجھی نہیں۔
’’ان میں دل بہلا لو گی تو زندگی کا مقصد کیسے پائو گی۔‘‘
’’زندگی کا مقصد…؟‘‘
’’یعنی کہ تم نے ابھی تک سوچا ہی نہیں کہ تم نے زندگی میں کیا کرنا ہے۔‘‘ میں نے سر جھکا لیا۔ میری زندگی کا مقصد کیا تھا مجھے ابھی تک یہ ہی سمجھ نہیں آیا تھا۔
’’مونا… زندگی ہمیں یونہی نہیں ملی کہ اسے بے کار‘ فضولیات کی نذر کردیا جائے۔‘‘ یکدم ہی میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’کسی بھی دکھ‘ تکلیف غم کی اگر مستقل پرورش کی جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔ ناسور وجود کی زمین کا دیمک ہے اور زندگی بہت قیمتی اثاثہ ہے اس کی قدر کرنا چاہیے۔‘‘
’’میں معصوم بے سہارا بچوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں‘ آپ کے ساتھ مل کر۔‘‘ میں نے بے ساختہ کہا۔
’’اچھی طرح سے سوچ لو یہ بہت جان جوکھوں کا کام ہے۔ مونا…‘‘ انہوں نے دھیرے سے پیپر ویٹ کاغذ پر گھمایا۔ ’’اپنی زندگی میں شادی کو اولین درجہ دو‘ معاشرہ کوئی بھی ہو مرد کے تحفظ کے بغیر عورت ادھوری ہے زندگی یونہی نہیں گزاری جاتی۔‘‘
’’شاید یہ کام میں اب دوبارہ نہ کرسکوں۔‘‘ میر الہجہ قطعی تھا۔
’’ہاں مشکل ہے ناممکن نہیں۔‘‘ مسکرا کر مجھے دیکھا۔
’’جو ہمیں چھوڑ چکا ہے اس کی یاد میں غرق ہوکر زندگی نہیں تباہ کرنی چاہیے۔‘‘
’’اور وہ معصوم بچے جو کبھی نہ کبھی تو مجھ سے آکر ملیں گے انہیں کیا جواب دوں گی؟‘‘ میری آنکھیں بھر آئیں دل ہر وقت اوس کے سمندر میں بھیگا رہتا تھا۔
’’اس کی جواب دہ تم نہیں ہو تمہارا شوہر ہوگا‘ سزا اس نے سنائی تم اپنی زندگی بیاباں کی نذر نہیں کرسکتی۔‘‘ میں نے سر جھکا لیا‘ سیل فون بجنے لگا آپی کی کال تھی تبھی دروازہ کھلا اور شیشے کا ڈور کھول کر کوئی اندر آگیا بغیر اجازت کے۔
’’آئو… آئو…‘‘ بیگم وقار کا چہرہ کھل گیا۔ میں نے دھیرے سے سیل کان سے لگا لیا‘ بینا آپی ہدایت نامہ سنا رہی تھیں۔
آنے والے کی نظروں کے ارتکاز پر میں نے سر اٹھایا‘ بڑی حیرت بھری فرصت سے مجھے دیکھا جارہا تھا‘ فون بند ہوگیا۔
’’مونا! یہ افراسیاب میرا بیٹا… افراسیاب یہ میری نئی کولیگ۔‘‘ میں نے سر کے اشارے سے سلام کیا اور خوامخواہ سیل فون چیک کرنے لگی۔
’’تم کب آئے‘ کام ہوا‘ کتنے پیس لائے… ارے بیٹھو تو‘ سیدھے ادھر ہی آرہے ہو… گھر سے فریش ہوکر آئے ہو؟‘‘
’’آرام سے آپی!‘‘ وہ بیٹھ گئے‘ میں کھڑی ہوگئی۔
’’مونا ذرا کچھ بھجوا دینا کسی سے کہہ کر۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں باہر نکل آئی‘ ارتکاز نظر برقرار سا محسوس ہوا۔ موصوف جانے کب سے یہاں ہیں مگر پاکستانی عادتیں نہیں چھوٹتی نظر بازی کی۔
ء…/…ء
’’ہیں… تم نے دیکھا کیسا ہے افراسیاب۔‘‘ بینا آپی کے لہجے میں اشتیاق تھا‘ میں حیران ہوئی۔
’’یار…‘‘ جواد بھائی لائونج میں آگئے۔ ’’ہوگا وہی دو ہاتھ پیر والا بن مانس۔‘‘
’’جواد…‘‘ آپی نے انہیں گھورا۔ ’’بچوں کی اردو خراب کرنا ہے بن مانس نہیں بھلے مانس ہوتا ہے۔‘‘
’’وہی… وہی…‘‘ شرارت سے ہنسے۔
’’اور تمہیں کیا پنچائیت ہے۔‘‘ انہوں نے ریموٹ اٹھا لیا۔
’’ہائے کسی بھی ویل آف ایجوکیٹڈ‘ ویل مینرز‘ ویل ڈریس شخص کو دیکھنا کیسا لگتا ہے جواد آپ کو نہیں پتا؟‘‘
’’ویل مینرز…‘‘ مونا عالم تحیر میں تحلیل ہونے لگی (وہ تو پکا پاکستانی مرد تھا‘ نظر باز)۔
’’دنیا میں کوئی شخص تو مکمل ہے نا۔‘‘ بینا آپی کہے جارہی تھیں۔
’’تو اپنے لیے ہوگا تم کیوں خود ترسی میں مبتلا ہو۔‘‘ جواد بھائی چھیڑنے سے باز نہیں آرہے تھے۔
’’جواد…‘‘ بینا آپی نے گھورا۔
’’میں ایمان لایا تمہاری بات پر۔‘‘ جواد نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی‘ میں بھی ہنس دی۔
’’مونا کو یہ نوک جھونک‘ تکرار‘ ٹکرائو‘ جان بوجھ کر ستانا اور پھر ماننا‘ بہت اچھا لگتا تھا۔ شادی کے بعد ایسی زندگی کا خواب میں نے دیکھا تھا ایسی زندگی مجھے مل بھی جاتی اگر… اگر ان لوگوں کی پلاننگ نہ ہوتی‘ انہیں بچہ چاہیے تھا مونا نہیں اور محب کیسے مجھے چاہ سکتے تھے جب کہ ان کی چاہت موجود تھی۔
مونا اپنی کم نصیبی پر شاکی تھی‘ دھیرے سے بینا آپی اور جواد بھائی کو الجھتا چھوڑ کر بچوں کی طرف آگئی۔ اندر جانے کس بات پر بحث و تکرار جاری تھی‘ میں نے قابل توجہ نہیں جانا۔
ء…/…ء
اب میں اکثر حبیبہ کی طرف نکل آتی‘ حبیبہ سے وہ بچہ سنبھلتا ہی نہیں تھا حبیبہ اسے میرے حوالے کرکے موبائل سے کھیلنے لگتی۔ ڈیرھ دو سال کا یہ بچہ میرے اندر سما رہا تھا‘ میرا جگنو بننے لگا‘ گڑیا کا لمس لگتا‘ میری ممتا کو قرار آنے لگتا… میرا دل نہیں چاہتا کہ اسے گود سے اتاروں‘ میڈم کی اجازت سے میں ادھر آتی تھی تاہم میں لان سے کبھی اندر نہیں گئی۔ اس روز میں ایان سے ملی تو اسے بخار ہورہا تھا‘ نڈھال تھا‘ چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
’’اسے دوا دی۔‘‘ فکری مندی سے پوچھا۔
’’ہاں‘ روئے جارہا ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے بچہ ہے بیمار ہے ماں کو ڈھونڈ رہا ہے۔‘‘
’’اب میں ماں تو بننے سے رہی۔‘‘ بے زار سی حبیبہ نے سر جھٹکا۔
’’حبیبہ…‘‘ میں نے ایان کو اپنی آغوش میں سنبھال کر اسے سنجیدگی سے دیکھا۔ ’’تم اپنے کام سے اتنی بے زار ہو تو کیوں کام کررہی ہو؟‘‘
’’یار اتنی اسمارٹ تنخواہ ہے تو کیا حرج ہے برداشت کرنے میں۔‘‘ شانے اچکا کر بے نیازی سے کہا۔
’’اگر کام میں خلوص شامل کرلیا جائے تو اجر زیادہ ملتا ہے اور ان بن ماں کے بچوں سے جتنی زیادہ محبت کرو گی ثواب اتنا ہی ملے گا۔‘‘ میں نے ایان کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
’’میں آئی…‘‘ وہ ایک دم موبائل لے کر اندر بھاگی‘ میں سنگی بنچ پر بیٹھ گئی۔ بچہ میری گود میں یوں مطمئن سا سو رہا تھا جیسے میں اس کی ماں ہوں‘ بخار کی بے قراری کو بھی قرار تھا۔ میں دھیرے دھیرے اسے تھپکنے لگی۔
میری گود میں میرا جگنو آسمایا‘ گڑیا میرے شانے سے آلگی‘ میری آنکھ نم ہونے لگی۔ بعض گھائو ساری عمر نہیں بھرتے‘ میرا دل سسک رہا تھا۔ صبر آبھی جاتا ہے‘ صبر کیا بھی جاتا ہے مگر شاید میرے لیے دونوں ہی چیزیں مفقود تھیں… ایان کو میں نے بے خودی سے اپنی آغوش میں بھر لیا‘ اک قرار سا اترنے لگا۔ اس بات سے بے پروا تھی کوئی مجھے دیکھ سکتا ہے تو دیکھ لے‘ ایک بچے کو پیار کررہی تھی‘ میں مگن تھی۔
اگلے دن میں آفس پہنچ کر حبیبہ کے پورشن کی جانب بھاگی‘ مجھے ایان کی طبیعت کا پوچھنا تھی‘ اسے گود میں لینا تھا۔ حبیبہ اسے لے کر ٹہل رہی تھی‘ اس کے چہرے کی بے زاری ہنوز قائم تھی‘ بچے کی طبیعت بہتر تھی اس کا چہرہ اترا ہوا تھا‘ میں نے گود میں لیا‘ ایان میرے شانے سے آلگا۔
’’اس کی ماں کو آج بھی آفس جانا تھا۔‘‘
’’اس کی ماں نہیں ہے۔‘‘ حبیبہ موبائل میں گم تھی‘ میں اس کی شکل دیکھنے لگی۔
’’اور باپ…‘‘
’’باپ کا تو پیدائش سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔‘‘ میں سنگی بنچ پر بیٹھی رہ گئی‘ ایان میری گود میں لیٹا تھا۔
’’ارے اتنی حیران مت ہو‘ یہاں قدم قدم پر بہت سے ایسے کیس ملیں گے‘ فرق صرف اتنا ہے کچھ کا نصیب اس بچے جیسا ہوتا ہے اورکچھ بچے زمانے کے سردو گرم میں رل رل کر پل جاتے ہیں۔ زندگی ہے تو سفر بھی جاری رہتا ہے۔‘‘ حبیبہ کا انداز سرسری تھا‘ وہ ماں نہیں بنی تھی نا۔
’’کیا تم جانتی ہو کہ ممتا کا دکھ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں دھیرے دھیرے ایان کے سنہری بالوں سے کھیلتے اس کی ننھی منی انگلیوں میں میری گھڑی کا اسٹریپ تھا‘ بے قراری اور شانتی میرے دل میں ترازو ہورہی تھی۔
ء…/…ء
کھانا کھاتے ہو ئے میں نے ایان کے متعلق بتایا‘ کتنا اکیلا اور تنہا تھا۔
’’ہوں۔‘‘ جواد بھائی پلائو سے انصاف کررہے تھے۔
’’بیگم وقار کیسی ہیں؟‘‘ بینا آپی بچوں کو سرو کررہی تھیں‘ میں نے بھنڈی اور ماش کی دال پلیٹ میں ڈالی۔
’’ٹھیک ہیں۔‘‘
’’اور ان کا بیٹا؟‘‘ اپنے لیے کھانا ڈال کر بیٹھیں۔
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘
’’اور کیا اسے کیا معلوم‘ تم اس کی کیس ہسٹری میں کتنی دلچسپی رکھتی ہو وگرنہ سالی صاحبہ پوری فائل ہی تیار کر لاتیں۔‘‘ جواد بھائی چھیڑنے سے باز نہیں آئے۔
’’آپ تو جلتے ہیں مجھ سے۔‘‘
’’تم سے تو جلتا ہوں مگر جب جب تم نک سک سے تیار ہوتی ہو اور…‘‘
’’جواد۔‘‘ آپی نے سرزنش کی۔
’’ویسے تم سر جھاڑ منہ پھاڑ رہتی ہو تم سے کیا جلا جائے۔‘‘ جواد بھائی بات مکمل کرکے سانس لیتے تھے۔
’’مونا مجھے بھی اپنے دوست سے ملوانا۔‘‘ جواد بھائی میری جانب متوجہ ہوئے۔
’’دوست…‘‘ میرا نوالہ اٹکا۔
’’ہاں وہی جس کی وجہ سے تمہارا وہاں دل لگ گیا ہے وگرنہ تو تم نے مہینہ کیا ہفتہ بھی نہیں ٹکنا تھا۔‘‘ جواد بھائی کہہ رہے تھے میں انہیں دیکھ رہی تھی کتنی غلط سوچ تھی۔
’’جواد… مونا ایسی نہیں ہے۔‘‘ بینا آپی کو بھی بُرا لگا۔
’’یہ ایسی ہی ہے اگر نہیں ہے تو یہاں لندن سے آتی ہوائوں نے کردیا ہے‘ آخر انسان کو دل بہلانا ہوتا ہے اور مونا بھی انسان ہے فرشتہ نہیں۔ اس کو بھی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ہے اور مونا…‘‘ انہوں نے بات کرتے کرتے میری جانب دیکھا۔ ’’میری فکر مت کرنا‘ مجھے قطعی بُرا نہیں لگا۔‘‘
’’مگر مجھے بہت بُرا لگا ہے۔‘‘ میں نے ہاتھ روک لیا۔ ’’آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں‘ مجھے دکھ ہوا۔‘‘
’’بالکل۔‘‘ وہ سنجیدہ تھا۔
’’جواد…‘‘ بینا آپی بھی سنجیدہ تھیں۔
’’اس نے خود بتایا ہے پوچھ لو‘ اگر میں جھوٹا ہوں تمہاری جان کی قسم…‘‘ میں ہکا بکا بیٹھی رہ گئی۔
’’میں… کب…‘‘ بچے میٹھے کی جانب متوجہ تھے۔ میں اٹھنے لگی۔ ’’اگر یہ مذاق تھا تو بہت بُرا تھا۔‘‘
’’ارے ارے‘ کہاں چلیں تم نے خود نہیں بتایا مجھے کہ ایان سے تمہارا دل لگ گیا ہے تو وہ تمہارا دوست ہوا نا۔‘‘ جواد بھائی نے میرا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا۔
’’جواد…‘‘ آپی نے چمچہ اٹھایا۔ میں رو دی‘ میرا کتنا خون خشک ہوا تھا۔
’’اپنی سوچ کو بڑا کرو‘ پختہ کرو۔ بھلا بہنوں سے ایسے مذاق کرتا ہے کوئی میں تو شرارت کررہا تھا۔ تم یہ ٹرائفل کھائو اور بتائو تمہارا دوست کیسا ہے جو تمہیں آنے نہیں دیتا۔‘‘ میری آنکھیں بھرانے لگیں کیسا مذاق تھا۔
’’بہت بُرے ہیں آپ جواد!‘‘ بینا آپی نے سر جھٹکا۔
’’تبھی تو تم میرے ساتھ ہو۔‘‘ چمچہ بھر کر ٹرائفل منہ میں ڈالا۔ اس سے پہلے وہ بینا آپی کے منہ سے کچھ سنتے دوسرا چمچہ ان کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے کھلکھلانے لگے‘ میں بھی ہنس دی۔
’’سچ بتائو میں غلط کہہ رہا تھا۔‘‘ میں نے انکار میں سر ہلادیا‘ میری آنکھیں بھرانے لگیں۔
’’دیکھا میں کتنا سچ بولتا ہوں۔‘‘ جواد بھائی چہکے۔
ء…/…ء
’’مونا…‘‘ کچن صاف کرتے ہوئے انہوں نے مجھے دیکھا۔
جی۔‘‘
’’وہاں‘ ڈے کیئر بھی ہے‘ ہزاروں بچے ہیں۔ بعض بن ماں باپ کے‘ ہم کسی کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتے‘ وہاں دل مت لگا لینا۔ ہم نے تمہیں تمہاری شادی کے لیے بلایا ہے‘ یہ فریضہ جلد ادا کرنا ہے‘ تم اس بات کا خیال رکھنا۔‘‘ ڈسٹر اور پلیٹ میرے ہاتھ میں رکھی رہ گئی۔
’’یہ مشیت ایزدی ہے اور اسی میں عورت کی بقا اور تحفظ ہے۔ جواد کا مذاق اپنی جگہ مگر وہ تمہارے لیے فکر مند رہتے ہیں۔‘‘ وہ مونا کے سامنے آئیں۔ ’’اپنے ذہن و دل کی سلیٹ کو صاف کرلو۔ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا‘ گزرے ہوئے وقت کے ساتھ ٹھہرا نہیں جاسکتا۔‘‘ آپی باہر چلی گئیں میں برتن کیبنٹ کے ریک میں رکھ کر اندر آگئی۔
’’جس کام کے لیے دل راضی نہ ہو وہ کام میں کیسے کرسکتی ہوں‘ شادی ناممکن… خود کو تیار کر بھی لوں تو میری ہمت مفقود‘ حوصلہ پست اور اعتماد تاراج تھا اور شادی کے لیے ان قیمتی چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ لاحاصل زندگی سے بہتر ہے حاصل پر قناعت کرلوں۔‘‘ میں نے دریچے کے پردے کھینچ دیئے‘ باہر گہری رات کے سائے پھیل رہے تھے سامنے اسٹریٹ لیمپ جل رہے تھے‘ سامنے ولاز میں ایک بوڑھا انگریز اپنے گھر کی چوکھٹ پر بیٹھا تھا اس کے قریب ہی کافی کا مگ رکھا تھا۔ کسی گہری سوچ میں غرق تھا‘ سب کے اپنے اپنے دکھ تھے‘ میں نے پردے گرادیئے۔
میرا دکھ… فضا میں کافور کی خوشبو پھیلنے لگی‘ لندن کی سردی مجھے کافی اچھی لگی تھی ابھی جواد بھائی مجھے آواز دیتے‘ میں نے خود کو فریش کیا اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
ء…/…ء
’’حبیبہ…‘‘ صبح میں نے ایان کو پیار کرتے ہوئے حبیبہ کو دیکھا۔ ’’تم تو کہہ رہی تھیں کہ اس کا باپ اسے چھوڑ کر جاتا ہے‘ کل تم نے کہا کہ اس کے ماں باپ دونوں نہیں ہیں۔‘‘
’’ہاں اس کے ماں باپ نہیں ہیں‘ جس آدمی کے ساتھ رہتا ہے وہ اس کا دادا ہے میں نے بھی اسے نہیں دیکھا جب میں ڈیوٹی پر آتی ہوں تو یہ موجود ہوتا ہے۔‘‘ وہ موبائل پر لگی ہوئی تھی۔
’’صرف اس بچے کی دیکھ بھال کرتی ہو۔‘‘
’’ہاں‘ اس کی تین گورنس ہیں ایک صبح کی‘ ایک شام کی‘ ایک رات کی۔‘‘
’’اچھا…‘‘ میرے دل کو اطمینان سا ہوا‘ میں ایان سے کھیلنے لگی وہ بھی مجھ سے مانوس ہوگیا تھا۔
ء…/…ء
اس روز میں آفس آئی تو میڈم موجو تھیں۔
’’السّلام علیکم!۔‘‘
’’وعلیکم السّلام۔‘‘ آج بہت دنوں بعد انہیں دیکھا تھا نک سک سے تیار‘ برائون شیڈ کے ساتھ وائٹ جیولری بہت بھلی لگ رہی تھی‘ انہوں نے پیپر ورک کرنے کے لیے کچھ فائلیں دیں۔
’’آج کل بہت مصروف ہو‘ دو کام ایک ساتھ کررہی ہو۔‘‘ مسکرا کر مجھے دیکھا۔
’’جی۔‘‘
’’اپنا کام کرکے بھاگم بھاگ اندر بھاگتی ہو۔‘‘ انہوں نے ہاتھ روک لیا‘ میں شرمندہ سی ہوئی۔
’’تمہارا کام مکمل ہوتا ہے مونا!‘‘
’’شکریہ۔‘‘
’’مگر یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے مونا! بینا نے مجھ پر اعتماد کیا ہے بہت اچھی لگتی ہے وہ چارمنگ سی لیڈی‘ تم حبیبہ سے ڈیوٹی بھی بدلنا چاہتی ہو۔‘‘ میں ان کی جانب دیکھنے لگی‘ وہ میری جانب متوجہ تھیں۔
’’تم اپنا کیئرئیر بنائو اگر میں تمہیں ادھر بھیج بھی دوں تو تمہاری صلاحیتوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی شاید تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم کتنی ذہین ہو‘ یہ گورنس کی جاب تمہیں زیب نہیں دیتی۔‘‘
’’مجھے وہ بچہ اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں نے سر جھکا لیا۔
’’تم اس بچے کو اپنا عادی مت بنائو کہ بچھڑنا مشکل ہوجائے۔‘‘ میں ان کی شکل دیکھنے لگی۔ وہ سنجیدہ تھیں‘ دھیرے دھیرے پیپر ویٹ گھما رہی تھیں۔
’’ڈے کیئر میں ہر دوسرا بچہ ایسا ہے‘ ہر کسی پر ممتا نہیں نچھاور کرسکتے‘ اولیت ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔‘‘ تبھی دروازہ کھلا اور وہ قدر آور شخصیت اندر آگئی۔
’’آیئے گردیزی!‘‘
’’دیکھئے میں اپنے وقت پر موجود ہوں‘ آپ ابھی تک مصروف ہیں۔‘‘ شوخ سا انداز ولہجہ۔
’’یہ مصروفیت تو کام کا حصہ ہے‘ بیٹھیں کافی منگواتی ہوں۔‘‘
’’کافی راستے میں‘ میں شام شاول فارم ہائوس میں گزرنا چاہتا ہوں۔ افراسیاب گاڑی میں موجود ہے‘ چلو جلدی۔‘‘
’’اوکے… اوکے۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئیں۔
’’اور کسی کو لینا ہے۔‘‘ وہ شرارت سے ہنس رہے تھے۔
’’جی نہیں۔‘‘
’’یہ گریس فل سی لیڈی کون ہیں؟‘‘ میری جانب متوجہ ہوئے۔
’’مونا ہے بہت اچھی اور محنتی ہے۔‘‘
’’اوہ‘ وائو… چارمنگ۔‘‘ ان کا انداز بے ساختہ تھا۔
’’مونا کل ہال کی صفائی کروا دینا‘ خصوصاً آتش دان کی‘ کل رات ڈنر ہے وہاں۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’کچھ انیٹک چیزوں کے پیکٹ آئے ہیں وہ بھی نکلوا کر ٹیبل پر رکھوا دینا‘ صفائی کا خاص خیال رکھنا۔ کل آف ڈے ہے مگر میں بینا کو کہہ دیتی ہوں‘ بلکہ تم دونوں بہنیں آجانا۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’اور ڈنر میں تم لوگ بھی انوائٹ ہو۔‘‘ میں مسکرا کر چپ ہوگئی۔
’’چلئے میڈم!‘‘ موصوف کے انداز میں پیار تھا۔
میں اس شاندار سے کپل کو دیکھتی رہ گئی‘ گریس ڈیسنٹ اور چارمنگ‘ ایک مکمل فیملی۔ آج میں نے میڈم کے دوسرے شوہر دیکھے تھے اگر انہوں نے مجھے بتایا نہ ہوتا تو میں پہلے کے گمان میں رہتی۔ کیا کوئی اتنا خوش نصیب ہوسکتا ہے‘ میں بے یقین تھی اتنی مطمئن۔
ء…/…ء
’’اتنی حیران مت ہوا کرو۔‘‘ بینا آپی نے میرا رخسار چھوا۔ ’’دھیرے دھیرے جاننے لگو گی تو ہمارا کیا بھی بُرا نہیں لگے گا۔ بیگم وقار ایک پریکٹیکل خاتون ہیں‘ اپنے غلط فیصلوں سے سیکھتی ہیں‘ انہیں دل سے نہیں لگا کر رکھتیں‘ تمہاری طرح۔‘‘ دلیل اور مثال ساتھ ساتھ دے رہی تھیں‘ میں سلاد کاٹتی رہی۔
’’دنیا گول ہے بچھڑے ہوئے ضرور ملتے ہیں‘ انہوں نے بچوں کو اپنی زندگی کی رکاوٹ نہیں بنایا۔ ماں ہیں‘ آنسو بھی گرے ہوں گے تنہائی میں روئی بھی ہوں گی مگر خود کو مضبوط کرنے کے لیے انہوں نے اپنے قدموں کو نہیں روکا۔ زندگی سے اپنا حق اپنی محبت سے وصول کیا‘ دیکھو آج کتنی قابل ہیں ہر چیز ان کے قدموں میں ہیں اور وہ پہلا مرد جو اُن کی زندگی میں آیا‘ انہیں قابل اعتبار سمجھا اور اپنے بچوں کو بھی انہیں طلاق دے کر واپس لے گیا۔ آج اسی کے بچے ان کے پاس ہیں شادی کی ہے بیٹی کی‘ بیٹے ماں کا دم بھرتے ہیں۔ دوسرے شوہر جان چھڑکتے ہیں‘ ان کے دونوں بچوں کو سنبھالا ان کی شادیاں کیں‘ خود ان کا ایک بیٹا ہے۔‘‘ میں منہ کھولے سن رہی تھی۔
’’ملال کی ان کی زندگی میں جگہ نہیں‘ وہ زندگی کے پل پل سے رس کشیدنا جانتی ہیں۔ انہیں ماتم اور آنسوئوں سے نفرت ہے‘ وہ کہتی ہیں زندگی انسان کو ایک بار ملتی ہے ہمیں اسے ضائع کرنے کا حق نہیں ہے۔‘‘ آپی مجھے بتارہی تھیں‘ سمجھا رہی تھیں۔ میں چپ چاپ سن رہی تھی اب آپی بچوں کے لیے میٹھا بنارہی تھیں۔
’’زندگی میں مٹھاس نہ ہو تو ہر چیز ادھوری ہوتی ہے مونا! اور میں چاہتی ہوں تم اپنی زندگی میں رنگ و خوشبو‘ بادل اور خوشیوں کے ساتھ مٹھاس بھی شامل کرو۔ اپنی زندگی سے نہیں تو دوسروں کی زندگی سے سبق سیکھو۔‘‘ انہوں نے دھیرے سے میرے شانے پر ہاتھ رکھ دیئے‘ میں بس بیٹھی رہی۔ گویا میرے اندر جوش و ولولہ ہی ختم ہوگیا تھا میں تو بس زندگی کے دن پورے کررہی تھی۔
’’میں چاہتی ہوں مونا کہ تم زندگی کو ایسے جیو کہ زندگی کو تم پر رشک آئے‘ خوشیاں آپ چل کر تمہارے دروازے پر آئیں۔ اور ان شاء اللہ ایسا ہوگا اور میں اس خبیث آدمی کو یہ بتا دینا چاہتی ہوں کہ میری بہن اتنی بُری نہیں تھی جتنا بُرا سلوک تم نے اس کے ساتھ کیا‘ میں تمہیں دنیا کی خوش نصیب عورت بنادوں گی۔‘‘ انہوں نے میری پیشامی چوم لی اور میں بس ان کی محبت و چاہت محسوس کررہی تھی۔
ء…/…ء
آفس جاکر میں سب سے پہلے حبیبہ کی طرف گئی لان ویران تھا۔ میں اندر کی جانب بڑھ گئی راہداری عبور کرکے سامنے شیشے کا دروازہ کھول کر اندر چلی آئی۔ میرے سامنے دس بارہ بچے تھے‘ میڈ انہیں دیکھ رہی تھیں۔ کچھ بچے سورہے تھے‘ کچھ رو رہے تھے‘ کچھ کھیل رہے تھے ان میں ایان نہیں تھا۔
’’الٰہی خیر! اس کی طبیعت ٹھیک ہو۔‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے اطراف میں نگاہ کی‘ حبیبہ بھی نہیں تھی۔
’’حبیبہ کہاں ہوگی؟‘‘ میں نے ایک میڈ سے پوچھا۔
’’معلوم نہیں‘ آج نہیں آئی۔‘‘
’’اور وہ بچہ ایان…‘‘ میں بے چین ہوئی‘ اس بچے کو تو آنا چاہیے تھا۔
’’وہ بھی نہیں آیا۔‘‘ لٹھ مار والا انداز تھا‘ میں بے چین دل کو لیے باہر آگئی۔
سارا دن میرا بے چین گزرا‘ ایان کا خیال آتا رہا۔ میڈم بھی فارم سے نہیں آئی تھیں‘ میں ہال کمرے میں آگئی‘ ملازم کے ساتھ مل کر جھاڑ پونچھ کی‘ کچھ ترتیب بدلی۔ آتش دان کی صفائی کروائی‘ ماحول میں عجیب سی فینٹسی تھی میں نے دریچوں کے سارے مہین پردے کھینچ دیئے‘ روشنی اندر آنے لگی اور باکس کھلوا کر انیٹک پیس ٹیبل پر سیٹ کروا دیئے‘ فضا میں ہلکی ہلکی ٹھنڈک تھی‘ موسم تبدیل ہورہا تھا۔ نم سی فضا میں مجھے یہ سب کرنا بے حد اچھا لگ رہا تھا‘ کچھ دیر کے لیے ایان کا احساس بھول گئی تھی۔ شام تک میڈم کی فیملی واپس نہیں آئی تھی‘ میں گھر آگئی۔ سب لائونج میں جمع ٹیلی ویژن پر کوئی مووی دیکھ رہے تھے۔
’’آئو سالی جی…‘‘ جواد بھائی کا موڈ خوشگوار تھا۔
’’لگتا ہے مونا! باہر برفباری ہورہی ہے۔‘‘
’’ہیں… نہیں تو۔‘‘
’’مگر تمہارے کوٹ پر یہ ننھے منے ذرّے ہیں برف کے۔‘‘ میں نے خود پر نگاہ کی‘ روئی کے گالے ایسے چپکے تھے۔
’’شاید میں نے غور نہیں کیا۔‘‘ کوٹ اتار کر ریک پر لگایا۔
’’جائو کافی بناکر لے آئو۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ میں کچن کی جانب مڑی۔
’’کیا ہے جواد! ابھی تو پی ہے اور وہ ابھی آئی ہے آفس سے۔‘‘
’’باہر ٹھنڈ ہے بینا! اسے بھی کافی کی طلب ہورہی ہوگی اور کافی جتنی بار بھی پیو‘ مزہ دیتی ہے۔‘‘ میں مسکرا کر مگ نکالنے لگی‘ جواد بھائی کا بھائیوں والا انداز‘ بینا آپی کی ممتا… میں خوش اور مطمئن تھی اپنی اس زندگی سے۔ کسک اور رمق میرے دل میں تھی اب کوشش کرتی تھی کہ اس کی جھلک بھی میرے چہرے پر نظر نہ آئے۔ میں ان دونوں کو اداس نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ء…/…ء
صبح میں آفس گئی میڈم آچکی تھیں۔ میرے پاس ان کا فون آیا کہ آج میں آفس نہیں آرہی‘ میرے پوتے کو ٹھنڈ لگ گئی ہے‘ میں اسے میڈ کے حوالے نہیں کرسکتی‘ تم ذرا دیکھ لینا۔‘‘
’’پوتا…‘‘ میں تو حیران رہ گئی۔ ’’میڈم نے ذکر نہیں کیا تھا‘ ہاں کبھی ذکر بھی نہیں آیا تھا۔‘‘ میں کام میں مصروف ہوگئی۔
درمیان میں میں نے لان اور پھر ڈے کیئر کا چکر لگا لیا‘ حبیبہ تھی نہ ایان… حبیبہ چلی گئی‘ ایان کیوں نہیں آیا۔ واپسی پر میں گول ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔
لان کے اطراف میں نگاہ کی‘ سورج کہیں دور چھپا ہوا تھا‘ بادل بہت نیچے آئے ہوئے‘ ڈھلتی شام کا منظر پیش کررہے تھے ایک برفیلی سی ٹھنڈک ہر سو پھیلی تھی۔ ایان کی طبیعت ٹھیک ہو‘ جانے اب میں اسے دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں۔ میرے دل میں ہوک سی اٹھی‘ میں نے اندر کی جانب قدم بڑھا دیئے‘ دھیان اس معصوم بچے میں اٹکا ہوا تھا جسے گود میں لے کر میں جگنو کو یاد کرتی تھی‘ میری گڑیا میرے شانے سے لگ جاتی تھی۔ ہاتھ باندھ کر میں نے دائیں شانے کو مسلا اور آگے چلتے ہوئے راہداری مڑتے میں کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی‘ سر اٹھایا۔
’’ایم سوری میڈم! میں جلدی میں تھا۔‘‘ میرے سامنے میڈم کے نظر باز بیٹے کھڑے تھے۔
’’جی…‘‘ میں سائیڈ پر ہوگئی‘ مجھے دیکھتا وہ عجلت بھرے انداز میں اندر کی جانب بڑھ گیا‘ میں نے آفس کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
ء…/…ء
’’آپی! میڈم کے پوتے کی طبیعت خراب ہے ہمیں اسے دیکھنے جانا چاہیے۔‘‘ شام کو میں نے آپی سے کہا۔
’’پوتا…‘‘ وہ چونکیں۔ ’’ہاں ضرور‘ ان کا بیٹا پاکستان سے آیا ہوگا۔‘‘
’’معلوم نہیں‘ میں نے کبھی پوچھا نہیں دو دن سے آفس نہیں آرہیں تو فون آیا تھا۔‘‘
’’چلو اس وقت چلتے ہیں دن میں تو ہم لوگ مصروف ہوتے ہیں۔‘‘
’’اس وقت…؟‘‘ میں حیران ہوئی۔ ’’باہر برفباری ہورہی ہے۔‘‘
’’اوہو…‘‘ بینا آپی کھڑی ہوگئیں۔ ’’برفباری یہاں کی روٹین کا حصہ ہے ہم اس کی وجہ سے کوئی کام روکتے نہیں اور کل زیادہ ہوگئی تو رکنا پڑسکتا ہے۔ جائو فریش ہوکر آجائو۔‘‘ اور ان کی تیاری اور جوش دیکھ کر مجھے اٹھنا پڑا اور خصوصی تیاری کے ساتھ اگلے ایک گھنٹے میں میڈم وقار النساء کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔
’’شکر ہے بچے کی طبیعت بہتر ہے فارم ہائوس میں اس کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ میڈ نے ذرا اس کا خیال نہیں رکھا‘ ٹھنڈ لگادی اسے خصوصی طور پر اپنے بچے کے لیے رکھا تھا۔‘‘ میڈم کا چہرہ اترا ہوا تھا تو لہجہ بھیگا ہوا۔
’’دو دن ہسپتال میں رہا ہے کملا کر رہ گیا۔‘‘ لہجہ محبت سے پُر تھا۔ ’’میں نے تو سارے کام روک دیئے‘ دل ہی نہیں چاہتا۔‘‘
’’اس کی ماں کہاں ہے؟‘‘ بینا آپی نے پوچھا‘ میں محض سن رہی تھی۔
’’ماں پیدائش کے وقت مرگئی میرا بچہ تو اپنے بچے کا منہ ہی نہیں دیکھ سکا۔ پیدائش سے دو ماہ پہلے ہی درندوں نے اسے مار دیا۔‘‘ وہ آبدیدہ لہجے میں بتا رہی تھیں۔ دکھ‘ تاسف‘ ہمدردی سے ہم لوگ سن رہے تھے‘ ننھا سا بچہ کتنا اکیلا تھا‘ بالکل ایان کی طرح وہ معلوم نہیں کہاں ہوگا‘ میرا دل دھڑکا۔
’’آئو بینا! میں تمہیں اپنے پوتے سے ملوائوں۔‘‘ میڈم اٹھ گئیں۔ ہم ان کے پیچھے پیچھے اندر بڑھتے گئے بہت بڑا قدیم و جدید طرز کی آمیزش لیے بے حد خوب صورت گھر تھا جگہ جگہ خوب صورت ڈیکوریشن پیس پینٹنگز لگی تھیں‘ مکین کے اعلیٰ ذوق کا نتیجہ تھیں۔
ہم ان کے پیچھے روم میں داخل ہوئے‘ جہازی سائز بیڈ کے برابر میں کاٹ پڑا تھا۔ بچہ کمبل میں لیٹا سورہا تھا‘ میڈم کاٹ میں جھکی بچے کو دیکھ رہی تھیں‘ بینا آپی کے انداز میں محبت و ترحمی تھی میں ذرا آگے ہوئی اور… اور بچے پر نگاہ پڑتے ہی ساکت ہوگئی۔
’’ایان… ایان…‘‘ زرد چہرہ‘ سرخ ہونٹ‘ سپید رنگت میں پیلاہٹ‘ بھورے بال پیشانی پر بکھرے تھے۔ سفید ٹیڈی بیئر کا کان ایان کی مٹھی میں تھا۔
’’ایان…‘‘ میں بے قراری سے دوسری جانب سے آکر کاٹ پر جھکی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا‘ منہ رخسار‘ بند مٹھی کو سہلایا۔ میرا دل چاہا کہ ایان کو اٹھائوں اور بازوئوں میں بھرلوں۔ میں ایسا کر بھی لیتی مگر وہ سورہا تھا‘ محض آرام اور طبیعت کے خیال سے جذبوں پر بندھ باندھ لیا‘ وہ لوگ جانے لگیں۔
’’میں ذرا اِدھر ہی رکوں گی آپی!‘‘
’’مونا یہ سورہا ہے۔‘‘ آپی نے آنکھوں سے اشارہ کیا۔
’’میں اسے ڈسٹرب نہیں کروں گی۔‘‘ میرا انداز ملتجی سا تھا۔
’’اوکے‘ ویسے بھی اس کے اٹھنے کا ٹائم ہورہا ہے‘ ہم بھی ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں۔‘‘ بینا آپی اور میڈم صوفے پر بیٹھ گئیں۔
میں بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی‘ ایان کو دیکھے گئی‘ میں اس معصوم کے لیے فکر مند ہورہی تھی اور وہ میرے کتنا قریب تھا‘ میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے‘ قلبی تعلق بندھ گیا تھا اس معصوم سے۔ مڑ کر دیکھا میڈم اور آپی باہر جارہی تھی‘ لمحہ بھر کو ٹھہر کر دیکھا اٹھ کر کاٹ پر جھکی دوسرے لمحے ایان میری بے قرار بانہوں میں تھا اور قطرہ قطرہ تسکین میرے وجود میں اترنے لگی۔ آنسو خودبخود تسبیح کے دانے بن گئے‘ ایان میری گود میں کسمسا رہا تھا‘ مگر رویا نہیں۔
اس کا سر میرے شانے سے لگ گیا میں نے اس کے رخسار پر اپنا بھیگا ہوا رخسار رکھ دیا‘ اپنے بچوں سے بچھڑ کر یوں پہلی بار میں کسی بچے کو دیکھ کر بے قرار ہوئی تھی‘ کسی بچے کو یوں آغوش میں لے کر پیار کیا تھا۔ وگرنہ اس سے پہلے تو میں خود کو بہلاتی رہتی تھی‘ مصروف رکھتی تھی ورنہ یادیں تو ہمہ وقت مجھے گھیرے رہتی تھیں۔ آنکھوں کی پتلیوں میں تصویریں ہچکولے بھرتی رہتی تھیں۔ میں ایان کو سمیٹے اِدھر اُدھر ٹہل رہی تھی‘ وہ معصوم میرے شانے سے لگا پرسکون سو رہا تھا‘ میرا اور اس کا دکھ سانجھا تھا۔ یہ ماں اور باپ دونوں سے محروم تھا اور میں اپنے بچوں سے۔
’’میں حبیبہ کی جگہ لے لوں گی‘ مجھے کوئی اور کام نہیں کرنا۔ بھلے سے پیسے بھی نہ دیں۔‘‘ میںدل ہی دل میں سوچ رہی تھی‘ ایان سے جدا ہونا ناممکن تھا۔ بازوئوں میں سیدھا کرکے اس کی پیشانی چوم لی۔
ممتا گویا میرے اندر سے امڈ رہی تھی‘ ننھا منا سا ہاتھ اپنی ہتھیلی میں بھر کر چوم لیا۔ اسے لے کر صوفے پر بیٹھ گئی‘ دھیرے دھیرے اس کے بال سہلاتے‘ تھپکتے‘ اپنی پیاسی نظروں کو سیراب کرتی رہی۔ جانے کیوں مجھے اتنا رونا آرہا تھا اور… میں نے آنسوئوں کو بہہ جانے دیا۔
آج آپی کی بھی باتیں ختم نہیں ہورہی تھیں‘ کاش وہ لوگ یونہی باتیں کرتے رہیں۔ ایان میری گود میں یونہی سوتا رہے اور یونہی مجھے سکون ملتا رہے۔ دھیرے سے آنچل سے چہرہ صاف کرتے ہوئے سر اٹھایا‘ میرے دل کو قرار سا آتا گیا‘ دوسرے لمحے میں ساکت ہوئی‘ دروازے میں میڈم کے بیٹے افراسیاب کھڑے تھے۔ میں محجوب سی ہوئی‘ اپنی پوزیشن خود اچھی نہ لگی۔ دوسرے کا گھر‘ دوسرے کا بچہ‘ میں ممتا بھرے انداز میں ممتا نچھاور کررہی تھی۔ صوفے پر سے پائوں اتار کر نیچے رکھے‘ خجل‘ خفت بھرے انداز میں ایان کو لے کر کھڑی ہوئی‘ ایان کو کاٹ میں لٹایا‘ دوپٹہ سنبھال کر مڑی افراسیاب بالکل میرے پیچھے کھڑے تھے‘ جانے کب سے وہاں آکھڑے ہوئے تھے۔
’’ایم سوری… دراصل میں… وہ…‘‘
’’لگتا ہے آپ کو بچوں سے بہت پیار ہے؟‘‘ ان کا گمبھیر لہجہ‘ سنجیدہ نظر… میں نے سر گھما کر محو خواب ایان کو دیکھا‘ نیند میں فرشتوں کے ساتھ کھیلتا وہ مسکرارہا تھا۔
’’جی‘ پچھلے کئی دنوں سے ملاقات نہ ہوسکی‘ حبیبہ بھی نظر نہیں آرہی تھی‘ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ میڈم کا پوتا ہے۔‘‘
’’آپ کا جذبہ قابل تحسین ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے نگاہ اٹھائی۔
’’قابل ستائش… کسی بھی غرض سے بے پروا۔‘‘ میں نے سر جھکا لیا۔
’’میں چلوں‘ یہ سوگیا ہے۔‘‘ قدم باہر کی جانب بڑھائے۔ موصوف کی نظر وں کا ارتکاز مجھے اپنی پشت پر محسوس ہورہا تھا۔
’’آپی آپ کی بہت تعریف کرتی ہیں۔‘‘ میرے قدم رکے نہیں اس بات کا کیا جواب دیتی‘ شکریہ کہہ کر باہر آئی۔ آپی کی بھی گفتگو ختم ہورہی تھی‘ ہم لوگ خدا حافظ کہہ کر باہر نکلے تو ان کا شوفر تیار کھڑا ہوا تھا‘ میں بیٹھتے ہوئے ہچکچائی‘ آپی فخر سے بیٹھ گئیں۔
ء…/…ء
اگلے دن مجھے میڈم کے گھر جانا اچھا نہیں لگا‘ فون پر ہی خیریت معلوم کرلی‘ ایان بالکل ٹھیک تھا‘ بس ذرا کمزور تھا۔ میرا دل اس کے لیے ہمکنے لگا مگر… کچھ جگہوں پر بندھ باندھنا ضروری ہوتا ہے‘ سو میں آفس آگئی‘ کسی بھی میڈ پر میڈم کا اعتبار اٹھ گیا تھا‘ ایان لان میں‘ نرسری میں نظر نہیں آرہا تھا اور مجھے صبر کرنا تھا‘ ایک بار پھر صبر… ایان کا احساس کرکے میرا دل مچلنے لگتا‘ آنکھیں بھر آتیں اور میں اِدھر اُدھر کے کاموں میں خود کو بہلانے لگتی۔ آفس میں بھی دھیان اس معصوم کی جانب لگا رہتا‘ اس روز میں آفس آئی افراسیاب آفس میں موجود تھا۔
’’آپ گھر نہیں آئیں سوچا کہ آپ کی خیریت معلوم کرلوں۔‘‘ میں نے حیرانی چھپا کر اسے دیکھا۔
’’اپیا نے کام کرنے ہوتے ہیں‘ ایان انہیں چھوڑتا نہیں ہے اس کے لیے دوسری گورنس دیکھ رہی ہیں۔‘‘ میں ایک دم اسے دیکھنے لگی۔
’’آپ کی نظر میں کوئی ہو تو… دراصل اسے میڈ کی ضرورت نہیں ہے بہت ضدی اور چڑچڑا ہورہا ہے‘ ممتا اس کی ضرورت ہے اور ماں…‘‘ افراسیاب چیئر پر بیٹھتے ناخن سے ٹیبل کی سطح کھرچتے ہوئے سنجیدگی سے کہہ رہے تھے۔
’’اور ماں پیسے دے کر بھی نہیں خریدی جاسکتی۔‘‘ میرا دل کسی نے مٹھی میں لے کر جکڑ دیا۔
’’اسے میرے پاس لے آئیں میںسنبھال لوں گی۔‘‘ میں بے ساختہ کہہ گئی تھی۔
’’کب تک…‘‘
’’ساری عمر۔‘‘ میں نے سر جھکالیا‘ میں ایک ترسی ہوئی بھکارن ماں تھی۔ میرا درد کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا‘ ایان کو مجھ سے زیادہ بہتر کون رکھ سکتا تھا کاش… کاش۔
’’میں بینا آپی سے بات کروں گی۔‘‘
’’ہوسکتا ہے بینا آپی تم سے بات کریں؟‘‘ میں غائب دماغی سے دیکھنے لگی۔
’’اسی وجہ سے اپیا آفس نہیں آرہیں۔‘‘
’’میں آپ کو میڈم کا بیٹا سمجھتی تھی۔‘‘
’’ہاں میں ان کا بیٹا ہی ہوں‘ دراصل ماموں اپیا کہتے ہیں تو میں بھی بچپن سے اپیا کہتا ہوں۔‘‘
’’تو پھر آپ شادی کرلیں‘ ایان کو ایک بہتر ماں بھی مل جائے گی۔‘‘
’’ہوں…‘‘ سنجیدگی سے ہاتھ بڑھا کر شفاف سطح پر رکھے گھوڑوں کو پش کیا‘ وہ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے لگے۔
’’مگر یہ نیکی کسی کسی کے حصے میں آتی ہے‘ ضروری ہے کہ اسے سگی ماں کا پیار ملے۔‘‘ میں نے خوامخواہ فائل کھول لی۔
’’شام میں ایان کو دیکھنے آئوں گی۔‘‘
’’’ہاں ضرور‘ چڑچڑا کمزو ر اور ضدی سا ہورہا ہے۔‘‘
’’بچہ ہے نا‘ تھوڑے سے بخار میں بڑے چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’جب تک اس کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا اسے میرے پاس چھوڑ دیا کریں۔‘‘ جانے کیسے دل کی بات نکل گئی۔
’’ہاں میں نے سوچا تھا بلکہ اپیا کہہ بھی رہی تھیں مگر میں نے منع کردیا۔ بچے کو کوئی چیز دے کر چھین لی جائے تو وہ اس پر ظلم ہوتا ہے اور میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا تھا‘ آپ کب تک اسے رکھ سکتی ہیں۔‘‘
’’ساری عمر…‘‘ میرے دل میں ہوک اٹھی۔
’’ساری عمر یونہی تو نہیں آپ کی شادی کی عمر ہے کل کو آپ رخصت ہوجاتی ہیں تو پھر…‘‘ میں چپ ہوگئی۔
شادی… ایک بار پھر… ناممکن… میرے لیے ایک تجربہ ایک دھوکہ ہی کافی تھا۔ دوسرے لمحے میں چونک کر سے دیکھنے لگی‘ سنجیدہ متین المزاج یوں بیٹھا تھا جیسے نظر باز تو ہو ہی نہیں کیسے بردبار انداز میں مجھ سے باتیں کررہا تھا اور میں… میں اپنے آپ میں چونکی۔
میں کیسے اکیلے اس کے ساتھ بیٹھی تھی کیا تعلق تھا میرا اور اس کا… میں دھیرے سے کھڑی ہوگئی۔ ایان کا لمحاتی تعلق کوئی اتنا مضبوط تو نہیں تھا۔
’’میں چلوں سر! دراصل وہ…‘‘
’’شاید آپ کو میری بات بُری لگی۔‘‘
’’یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے اور میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے۔‘‘
’’اسی لیے تو آپ کے پاس آیا تھا مجھے لگا شاید کوئی حل بتاسکیں۔‘‘ میں ایک بار پھر اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔
’’ایم سوری…‘‘
’’پھر بھی آپ سوچئے گا کہ شاید آپ…‘‘ اک تلخ سی شے نے میرے ہونٹوں کو چھولیا۔
’’اگر ایسی بات ہوتی تو میں اتنی حرماں نصیب کیوں ہوتی‘ میں چلوں۔‘‘ قدم باہر کی جانب بڑھا دیئے حالانکہ کام مجھے آفس میں تھا مگر مجھے بیٹھنا اچھا نہیں لگا موصوف کی موجودگی میں‘ باہر آکر میں نے اندر چائے بھجوا دی۔
اس روز میرا آفس کے کام میں دل نہیں لگا‘ اِدھر اُدھر گھومتی کام کی نگرانی کرتی رہی پھر لان میں آکر بے وجہ ٹہلتی رہی۔ فون کرکے میڈم سے علیک سلیک کے بہانے ایان کی طبیعت پوچھنے لگی۔
’’بہت ضدی اور چڑچڑا ہوگیا ہے‘ کچھ نہیں کھا رہا‘ کمزور دیکھو کیسے ہوگیا ہے۔ افراسیاب الگ پریشان ہے بن ماں باپ کا بچہ آج اس کی ماں ہوتی تو…‘‘
’’میڈیم اسے اِدھر لے آئیں میں ابھی فارغ ہوں دیکھ لوں گی‘ آپ کو بھی آفس میں کام ہیں۔‘‘
’’نہیں بیٹا! ایان کو اس ماحول اس تنہائی اکیلے پن کا عادی ہونے دو‘ ساری میڈ ایسی ہی ہوتی ہیں کوئی گورنس ماں تھوڑی بن جاتی ہے۔ افراسیاب کہتا ہے کچھ دن کی بات ہے پھر عادی ہوجائے گا۔‘‘ میں ساکت رہ گئی۔
اس کی رگوں میں کیسی بے قراری پروان چڑھے گی‘ کیسا محروم تمنا بچہ ہوگا وہ… میں نے خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔ ایسے ہی بیٹھی رہی پھر آفس کی سمت چلی آئی‘ آپی کو فون کردیا میرا دل میرا وجود کتنا اکیلا اکیلا سا تھا کوئی میرے دل سے پوچھتا۔
موسم ابر آلود ہورہا تھا‘ رات کی برفباری کے بعد اب ٹھہرائو تھا‘ یہاں کی سڑکیں رواں دواں رہتی تھیں۔ میں فٹ پاتھ پر چلتی آگے بڑھتی رہی روز آنے جانے سے راستہ مجھے ازبر ہوگیا تھا۔ جانے میں نے کتنا راستہ طے کرلیا‘ گھر آنے والا تھا یوکلیٹس اور گل صنوبر راستے میں کھڑے تھے‘ تبھی ایک بلیک گاڑی میرے ساتھ ساتھ چلنے لگی‘ اپنی دھن‘ اپنی سوچ میں میرے قدم رواں تھے‘ ہارن بجا‘ میں چونکی سر گھمایا‘ گاڑی میں افراسیاب تھے۔
’’آپ یوں پیدل مارچ…‘‘
’’جی‘ یونہی ذرا موسم اچھا تھا۔‘‘
’’یہ موسم اچھا نہیں ہوتا ایک دم سے برفباری شروع ہوجاتی ہے‘ یہ پاکستان نہیں کہ بارش میں بھی چلتے رہو‘ آیئے میں چھوڑ دوں۔‘‘ اگلا دروازہ کھول دیا۔
’’نہیں شکریہ‘ گھر آگیا ہے وہ پارک اور اس سے اگلا موڑ…‘‘ میں بہت احتیاط پسند تھی میری احتیاج تھی مگر احتیاط لازم ہوتی ہے۔
’’اوکے۔‘‘ کہہ کر دروازہ بند کیا اور گاڑی بڑھادی۔
میں نے چلنا شروع کردیا‘ میں نے کبھی مادیت کو فوقیت نہیں دی تھی جو کسی کی امارت مجھے متاثر کرتی۔ نہ محبت کی بھوکی تھی‘ مجھے عزت نفس بہت عزیز تھی‘ اپارٹمنٹ کے آگے جواد بھائی راستہ صاف کررہے تھے۔ رات کی ممکنہ برفباری کے پیش نظر دروازے میں کھڑی آپی ہدایت دے رہی تھیں۔ جواد بھائی چڑ رہے تھے‘ بچے دریچوں کے شیشے سے ناک ٹکائے کھڑے تھے۔
’’بیوی تم مجھے مکمل ہی نوکر بنادو۔‘‘
’’شوہر کو ہر کام کرنا چاہیے‘ جیسے بیوی کرتی ہے۔ گھر کے کام میں کیا نوکری… پھر آپ کا ہی فائدہ ہے صبح راستہ صاف ملے گا۔‘‘
’’کھانا ملے گا کہ نہیں…‘‘ وہ چلاّئے‘ میں ہنس دی۔
’’لو… مونا آگئی۔‘‘
’’ارے مونا تم… رکو… رکو… جائو بیوی سرخ کارپٹ بچھوائو تمہارا محبوب من چاہا…‘‘
’’جواد…‘‘ آپی نے گھر کا۔ جواد بھائی کی زبان کو بریک لگ گیا۔ ’’بہت فضول بولتے ہیں۔‘‘ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر دوسرے ہاتھ سے‘ مجھے آگے جانے کا اشارہ کرنے لگے‘ دوچار سیڑھیاں چڑھ کر میں اندر داخل ہوگئی۔
بینا آپی نے پکڑ کر مجھے آگے کیا‘ دوسرے لمحے مجھے گلے لگا کر پیار کیا ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں‘ جواد بھائی شرارتی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
’’خیریت تو ہے نا…‘‘ میں ہنسی۔ جواد بھائی انکار میں سر ہلاتے ہوئے پھر سے راستہ صاف کرنے لگے۔
’’ہاں‘ تم اندر چلو۔‘‘ میں نے کوٹ اسکارف اتارا اور اندر بڑھ گئی۔ ماحول بڑا تروتازہ‘ گنگناہٹ لیے ہوئے تھا‘ آپی اور جواد بھائی قہقہے لگارہے تھے۔
ء…/…ء
میں ساکت بیٹھی آپی کو گھور رہی تھی‘ آپی خوش تھیں بے حد خوش‘ انہوں نے دونوں بھائیوں کو بھی فون کردیا تھا۔ آپا تو بس ادھار کھائے بیٹھی تھیں‘ ہتھیلی پر سرسوں جمانے لگیں۔
’’آپی…‘‘ مجھے اپنی آواز کنوئیں سے آتی محسوس ہوئی۔
’’تُو نہیں جانتی وہ کتنا اچھا ہے‘ ہر لحاظ سے مکمل‘ ہر لڑکی کا خواب تیرا آئیڈیل… کتنا دھیما مزاج ہے اس کا‘ تجھے پھولوں کی طرح رکھے گا۔‘‘
’’آپی…‘‘ میں پیچھے ہوگئی۔ ’’آپی ایسا ناممکن ہے‘ سوچیں بھی مت‘ مجھے شادی نہیں کرنی‘ قطعی نہیں۔ یہ دھوکہ‘ فریب‘ اب نہیں… مجھے شادی راس نہیں آتی۔‘‘
’’مونا! بدشگونی مت کرنا‘ ہم نے ساری عمر تمہیں بٹھائے رکھنے کا ٹھیکہ نہیں لیا۔ اچھا رشتہ ملنے تک تم ہماری مہمان ہو بس‘ یہ میں نے پہلے ہی تمہیں کہہ دیا تھا اور بار بار یقین بھی دلایا تھا بہن کا رشتہ اپنی جگہ‘ دنیا کے تقاضے اپنی جگہ… میڈم وقار نے مجھ سے خود فون پر بات کی ہے انہیں افراسیاب کے لیے تم بے حد پسند آئی ہو۔‘‘ آپی نے میرے سر پر دھماکہ کردیا تھا‘ نان اسٹاپ بول رہیں تھیں۔
’’تمہیں نہیں پسند نہ سہی ہمیں ہر لحاظ سے پسند ہے‘ ہم اوکے کردیں گے۔‘‘
’’میں ایک بار پھر اپنی زندگی نہیں تباہ کرسکتی‘ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ میں پیچھے ہوئی۔
’’پہلا فیصلہ جذباتی تھا‘ اب ہم سوچ سمجھ کر کررہے ہیں‘ نہ تمہاری جذباتی عمر ہے نہ افراسیاب کی‘ یہ رشتہ بڑے ارینج کررہے ہیں۔ یاد رکھو منتخب ہونا اور منتخب کرنے میں بہت فرق ہے مونا! خوش بختی ہمیشہ در پر دستک نہیں دیتی۔ افراسیاب تمہارا صبر‘ تمہارا انعام ہے اس سے لاتعلقی برتو گی تو ساری عمر پچھتائو گی۔‘‘
’’نہیں آپی! کسی مرد کی میری زندگی میں جگہ نہیں نکلتی‘ اس ذات پر مجھے بھروسہ نہیں یہ صرف اپنے مفاد کے لیے سوچتی ہے۔ میں پھر استعمال کیا ہوا ٹشو پیپر نہیں بننا چاہتی۔‘‘ میرا لہجہ قطعی تھا‘ آپی کو غصہ آنے لگا۔ ایک پل کو مجھے دیکھتی رہیں اور پھر اٹھی اور باہر نکل گئیں۔ میں کشن گود میں رکھے بیٹھی رہ گئی‘ میرا دماغ سُن ہورہا تھا تبھی موصوف سے دوبارہ آج ملاقات ہوگئی وگرنہ تو وہ ملتے ہی نہیں تھے۔
’’نہیں مونا! ایک بار اور نہیں گرنا‘ میں نے دیوار سے ٹیک لگا لی‘ میرے بچے ہیں میں ان کی یادوں کے سہارے زندگی گزاروں گی۔‘‘ میں نے گہرا سانس لیا۔ ’’کل کو آئیں گے ہی نا‘ میڈم کے بچے بھی تو ان سے ملے ہیں۔‘‘ دوسرے لمحے میں چونکی۔
میں شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی اور یہ بات افراسیاب کے علم میں نہیں تھی اگر ہوتی تو… میں خوش ہونے لگی‘ انکار لازم تھا… صبح ناشتے کی میز پر میں نے ہنستے ہوئے یہ اطلاع بہم پہنچائی۔
’’میڈم کو سب پتا ہے ان کے علم میں ہے اور میں نے ہی انہیں کہا تھا کہ کوئی رشتہ ہو تو بتایئے گا۔‘‘ میری خوشی کافور ہوگئی۔
’’ان کے بیٹے کو تو یہ بات معلوم نہیں۔‘‘ میری آنکھیں پھر سے چمکیں۔
’’میڈم جہاندیدہ‘ بردبار سمجھدار خاتون ہیں‘ ہوائوں میں تیر نہیں چلاتی‘ اتنا بزنس سنبھالا ہوا ہے اور ان کے بیٹے کی بھی یہ کوئی پہلی شادی نہیں ہے جو وہ تمہارے حسن کے آگے جذباتی ہو۔‘‘ آپی کو میرے انکار نے جلادیا تھا۔ میں ہنس دی‘ آگے بڑھ کر ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
’’آپ ناراض مت ہوں‘ آپ میرا سب کچھ ہیں مگر کسی ایسی بات کے لیے مجھے مجبور مت کریں جو میرے اختیار میں نہ ہو۔‘‘
’’ہم تمہیں تمہارے اختیارات استعمال کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے بس ایک بار اور ہمیں ہمارا اختیار استعمال کرنے دو۔‘‘ آپی کی اپنی رٹ تھی‘ میں گہرا سانس لے کر پیچھے ہٹی‘ کچن کی جانب بڑھی۔
’’ناشتے میں کیا لیں گی؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ جلا بھنا لہجہ تھا۔
’’بوائل انڈا‘ بریڈ میں لے رہی ہوں شہد کے ساتھ۔‘‘
’’تم آفس نہیں جارہیں؟‘‘
’’اس صورت حال میں جاسکتی ہوں بھلا‘ میرے لیے دوسری جاب تلاش کریں۔‘‘
’’بھاڑ میں جائو تم۔‘‘ وہ جاب پر جانے کے لیے اندر بڑھ گئیں۔
ناراضگی وقتی ہے مان جائیں گی۔ میں ناشتہ بنانے لگی‘ گھر کی خاموشی بتارہی تھی کہ سب جاچکے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد آپی بھی دہاڑ سے دروازہ بند کرکے چلی گئیں۔ مکمل ناراض تھیں‘ میں نے کچن کی کھڑکی سے دیکھا محرابی راستے پر وہ تیز تیز چلی جارہی تھیں‘ فضا میں دھند تھی‘ رات کو برفباری نہیں ہوئی تھی۔ میں چائے دم دینے لگی۔
’’آپی! آپ کی ناراضگی بے جا ہے میں کسی ایسے رشتے کو تعلق کو اب کیسے قبول کرلوں جسے میرا دل ہی نہ مانے۔ اعتبار ہی نہ ہو‘ ہر لمحہ دھوکے کا احساس ہو۔ میں یہ کڑوا گھونٹ اب دوبارہ نہیں پی سکتی۔‘‘ گرم بھاپ اڑاتی چائے کے پیچھے میری آنکھیں دھند لانے لگیں‘ کوئی میرا دکھ نہیں سمجھ سکتا تھا۔ میرا درد نہیں جان سکتا تھا‘ سب یہ ہی سمجھتے تھے کہ صبر آگیا ہے… مگر صبر ایسے کیسے آسکتا ہے دو بچوں کی ماں کو جس کی رگیں کاٹ کر بچوں کو زندگی دی گئی ہو۔
ء…/…ء
گھر میں گہری خاموشی تھی‘ بچے اسکول سے آکر کھانا کھا کر سوگئے۔ میں اپنے طور پر کچن میں مصروف رہی‘ شام کو آپی اور جواد بھائی آگئے۔ آپی ناراض‘ جواد بھائی خوش… دونوں کی چونچیں لڑی ہوں گی‘ آپی مجھ سے خفا تھیں تو… میں مجبور تھی۔
گزرتے دنوں سے زندگی رک سی گئی تھی‘ مجھے ایان کا خیال آتا معلوم نہیں کیسی طبیعت ہو۔ میڈم کا فون بھی نہیں آیا۔
’’جاب… نہیں جاب مجھے خود تلاش کرنا چاہیے۔‘‘ خود سے باتیں کرتی رہتی۔
’’تم نے اپنی آپی کو ناراض کردیا ہے۔‘‘ اس روز جواد بھائی لائونج میں میرے سامنے لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئے۔
’’انہیں بھی تو میرے حوالے سے سوچنا چاہیے۔‘‘
’’تمہارے لیے وہ بہت پریشان ہے‘ سوچتی رہتی ہے وقت نے تمہارے ساتھ جو زیادتی کی ہے۔ اس کی تلافی کرنا چاہتی ہے۔‘‘
’’جواد بھائی! گئے وقتوں کی تلافی‘ مزید دکھ کا باعث بنے گی۔‘‘
’’ہم جو سوچتے ہیں وہی حاصل کرتے ہیں مونا! ضروری نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ہی غلط ہو۔‘‘
’’ہاں کچھ لوگ اتنے ہی حرماں نصیب ہوتے ہیں… جو کھولی دکان کفن کی تو لوگوں نے مرنا چھوڑ دیا۔‘‘ جواد بھائی ہنس رہے تھے۔
’’ایسے لوگ تو خوش قسمت ہوئے مونا! ان کی وجہ سے اموات کم ہورہی ہیں۔‘‘ میں انہیں دیکھتی رہ گئی‘ ان کی چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی‘ وہ بھی سیریس نہیں تھے۔ آپی کے ساتھ ملے ہوئے تھے‘ مجھے کنوینس کرنے کے لیے تیار تھے‘ میں کافی بنانے کے خیال سے اٹھ گئی۔
ء…/…ء
آپا کا فون آگیا‘ ویسے تو دعا سلام‘ خیریت نامہ کے لیے آتا رہتا تھا۔ انہوں نے میرا طبیعت نامہ پوچھ لیا۔
’’خبردار جو اس رشتے کے لیے انکار کیا‘ بہت خوش رہو گی تم۔ بینا کوئی دودھ پیتی بچی نہیں ہے اور نا تم ناسمجھ ہو‘ مگر آئی خوش قسمتی کو لات مت مارنا۔ ایک نئی زندگی کی ابتدا کرو‘ بچے بہت تمہاری زندگی میں‘ ان دو کو روگ مت بنالو۔ وہ تمہیں نہیں پہنچانیں گے ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی انہوں نے‘ سمجھ داری سے کام لو۔ وہ ماں… ماں کہتے تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے‘ ہیلو… ہیلو… سن رہی ہو نا یا چل دیں پاکستان۔‘‘ میں نے گہرا سانس لیا۔
’’ہیلو…‘‘
’’صرف ہیلو نہیں مونا! ہلو… اپنی زندگی میں ہلچل پیدا کرو بیٹا! ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری زندگی کتنی ہے اور زندگی گزارنے کے لیے گنی چنی یادیں کافی نہیں ہوتیں مونا!‘‘ رسان بھرا لہجہ تھا‘ میں سنتی رہی۔ میرے احساسات کے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا۔
’’میں پھر فون کروں گی اپنی ٹکٹ کا بتانے کے لیے‘ احتشام گیا ہوا ہے ریٹرن ٹکٹ کے لیے۔‘‘ اطلاع دے کر فون بند ہوگیا۔
میں فکر مندی سے بیٹھی رہ گئی‘ آپا آرہی تھیں یہ احساس ہی سوہان روح تھا۔ یہ سب مل کر مجھے راضی کرلیتے‘ مجھے افراسیاب سے مل کر بتادینا چاہیے میں اندر ہی اندر فیصلہ کرنے لگی۔ ان کا انکار میری بقا تھا‘ میرا انکار ان سب کو ہرٹ کررہا تھا۔
ء…/…ء
صبح چھٹی تھی‘ آفس بند تھے۔ آپی مجھ سے ناراض تھیں۔
’’چلیں جواد دیر ہورہی ہے۔ جواد بھائی گروسری کے لیے میں بھی چلوں گی۔‘‘
’’ہم مارکیٹ نہیں جارہے‘ ایان کی طبیعت خراب ہے اسے ٹھنڈ لگ گئی ہے اسپتال میں ایڈمٹ ہے۔‘‘ میں دھک سے رہ گئی۔
’’چلیں جواد‘ اس کو کیا بتارہے ہو بے حس ہے یہ تو ان لوگوں کو یاد کررہی ہے جو اسے کچھ نہیں دے سکتے۔ کبھی بھولے بھٹکے ملے بھی تو شاید ہی پہچان سکیں۔ اس بچے کو نہیں دیکھ رہی جو اس کی زندگی بدل دے گا۔‘‘ جواد بھائی کا ہاتھ تھام کر بڑبڑاتے ہوئے وہ باہر نکل گئیں اور میں بیٹھی کی بیھٹی رہ گئی۔
مجھے بھی جانا چاہیے مگر کس حوالے سے… میرے اندر بے قراری سی ابھرنے لگی۔ میں دریچے سے لگے شیشے کی برفیلی سطح سے ناک لگا کر انہیں جاتے دیکھتی رہی یہ لوگ میرے لیے مخلص تھے مگر میں اس خلوص کی حقدار نہیں تھی‘ یہ خلوص مجھے سوائے دکھ کے اور کچھ نہیں دے سکتا تھا۔
میں اور کسی کرائسس بھرے امتحان سے نہیں گزر سکتی تھی‘ مجھے افراسیاب سے مل کر انہیں یہ بات سمجھانا تھی۔
ء…/…ء
رات میں نے جواد بھائی سے ایان کی طبیعت پوچھی۔
’’تمہیں کیا… کیسا بھی ہو…‘‘
’’آپی…‘‘
’’مرے یا جیے…‘‘
’’اللہ نہ کرے۔‘‘ میں نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
’’کرتا اللہ ہی سب کچھ ہے‘ بندہ بڑا ناشکر ہے۔‘‘ سر جھٹکا۔
’’خبردار جو تم نے کسی کی خیریت پوچھی‘ اب اپنی زندگی تم خود گزارو گی‘ اپنا ہر فیصلہ خود کرو گی۔ ہم تمہارے کچھ بھی نہیں ہیں۔‘‘ میں سر جھکائے بیٹھی رہی۔ آپی سخت سنا کر باہر نکل گئیں‘ انہیں جواد بھائی کا بھی لحاظ نہیں تھا۔ میں اٹھ کر اپنے روم میں آگئی۔
ذہن خالی ہورہا تھا‘ آپی کی جذباتی وابستگی کہانی کو کوئی اور رنگ دے رہی تھی۔ آسٹریلیا سے فیضان بھائی کا فون آگیا ‘ وہ بھی سمجھا رہے تھے۔
’’زندگی میں ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم سوچتے ہیں‘ اللہ سے بہتری کی امید رکھنا چاہیے۔ جتنے دکھ تم نے اٹھانے تھے اٹھالیے مونا اب تمہاری خوشیوں کا آغاز ہورہا ہے‘ کفران رحمت مت کرنا۔‘‘ میں سُن بیٹھی رہ گئی۔
’’بینا نے مجھے بتایا ہے رشتہ بہت اچھا ہے‘ قدر کرنے والے لوگوں کی قدر کرنا چاہیے۔‘‘ فون بند ہوگیا‘ میرا دل بھی بند ہونے لگا۔
’’بھلا میں نئی زندگی شروع کرسکتی ہوں عورت ماں بنتی ہے تو اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘ سامنے قدر آور شیشے میں میرا سراپا نمایاں تھا‘ کمزور‘ لاغر کملایا ہوا میرا بانکپن۔ میری خوشی‘ میرا اقرار… سب ان لوگوں نے لے لیا تھا۔
’’وہ بچہ مجھے دے دو‘ میں بے لوث‘ خلوص کے جذبے سے پالوں گی۔ پال پوس کر تمہارے حوالے کردوں گی‘ میری ممتا کو بھی قرار رہے گا وہ تو نومولود ہے‘ محروم تمنا نہیں ہوگا۔ میں لکھ کر دے دوں گی۔‘‘ اک نئی راہ سوجھی اور میں نے افراسیاب سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا‘ میرے دل کو اطمینان سا ہوا۔
صبح مجھے آپی اور جواد بھائی کی باتوں نے شاک لگادیا‘ ایان ابھی تک اسپتال میں تھا۔ اس کی طبیعت سنبھل نہیں رہی تھی۔ آپی کے جانے کے بعد جواد بھائی کے ساتھ اسپتال آگئی‘ کملایا ہوا پھول بے سدھ پڑا تھا۔ میں کھڑکی سے سر ٹکائے اسے دیکھتی رہی‘ جانے کتنا وقت گزر گیا‘ آہٹ پر مانوس سے لمس پر سر اٹھایا۔
’’آپ…‘‘ افراسیاب کھڑے تھے۔
’’م… میں ایان سے ملنے آئی تھی۔‘‘ نگاہ چرالی۔
’’اب بہتر ہے۔‘‘
’’یہ بہتر ہے…؟‘‘ میرا گلہ رندھ گیا۔ ’’مرجھایا ہوا پھول بن گیا ہے۔‘‘
’’ماں کی کمی محسوس کرتا ہے اور ماں… بازار سے نہیں ملتی۔‘‘ ان کا لہجہ دھیما سا تھا۔ میں نے بھیگی ہوئی نگاہ اٹھائی اور نظریں سیدھی ایان پر اٹھی تھیں۔
’’یہ مجھے کتنا عزیز ہے‘ کوئی میرے دل سے پوچھے۔ دنیا کی ہر نعمت اس کے قدموں میں ڈھیر کردوں‘ بس اس ایک خوشی کے سوا…‘‘
’’آپ سے امید تھی‘ اس روز آپ کی خصوصی توجہ اور ایان کے چہرے کا سکون… میں کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا مگر…‘‘ جیبوں میں ہاتھ ڈال کر‘ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔
’’ضروری نہیں کہ انسان کو وہی کچھ ملے جو وہ سوچتا ہے۔‘‘
’’میرے بیٹے کو بھی صبر آجائے گا‘ بہت صبر والے باپ کا بیٹا ہے۔‘‘ جانے کیوں مجھے افراسیاب کا لہجہ بھیگا ہوا لگا تھا۔
’’میں نے بہت چھوٹی سی عمر میں ماں باپ کو کھویا تھا‘ مگر پھر ماں مل گئی باپ کے رویئے نے مجھے بے جا دور کردیا تھا پھر میں نے شادی کرلی گھر والوں سے چھپ کر مگر ہما نے میری ساری توقعات پر پانی پھیر دیا۔ جذباتی عمر تھی میری اسے پیسہ چاہیے تھا وہ میرے پاس نہیں تھا میں نے اپنے بیٹے حماد کو اکیلا پالا پوسا‘ پڑھایا لکھایا… مگر وہ بھی میری طرح جذباتی محبت کا مارا نکلا۔‘‘ میں دم بخود سن رہی تھی‘ افراسیاب کے بیٹے کا نام اگر حماد ہے تو یہ بچہ ایان کون ہے؟
’’حماد نے لڑکی کو گھر سے بھگا کر شادی کی مگر لڑکی کے گھر والے بھوکے گدھوں کی طرح اسے ڈھونڈتے رہے‘ یہ دونوں بھاگتے رہے یہاں تک کہ حماد ٹھوکر کھاکر گر پڑا۔ لڑکی کے بھائیوں نے اسے گولی مار دی۔ حماد اسی وقت مرگیا‘ اس کے بعد زہرہ بھی جی نہ سکی۔ ایان کی پیدائش کے وقت اس کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ مرگئی‘ میرا بچہ میری طرح اکیلا رہ گیا۔‘‘ ان کی آنکھوں میں ایک آنسو پلکوں پر ٹکا تھا‘ میں ساون بھادوں تھی مجھے علم نہ تھا۔
میں بھی تو زندگی کے سفر میں کتنی اکیلی‘ تنہا اور اداس تھی میرے اپنے میرا ساتھ چھوڑ گئے اور میں مبتلائے یاد رہتی تھی۔
’’یہ میرا پوتا ایان ہے میں اسے اتنا بہادر بنائوں گا کہ یہ کبھی اکیلا نہیں رہے گا۔‘‘ وہ پھر سے سیدھے کھڑے ہوگئے‘ شیشے کے پار کسمساتے ہوئے ایان کو دیکھ رہے تھے۔
’’مضبوط… توانا۔‘‘ میں جانے کیوں شرمندہ ہورہی تھی۔
’’یادیں انسان کو کیا دیتی ہیں‘ انسان کب تک ان کے سہارے جی سکتا ہے۔‘‘ ایان رو رہا تھا‘ نرس اسے چمکار رہی تھی‘ سنبھال رہی تھی۔
’’مجھے اندر جانے دیں۔‘‘ میں بے قرار ہوئی۔
’’نہیں مونا!‘‘ افراسیاب نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔ ’’یہ وقت ایان کی طلب کا ہے‘ طلب ہی انسان کو صبر کرنا سکھاتی ہے یا بے صبرا بنا دیتی ہے۔ ابھی یہ روئے گا اسے صبر آجائے گا روئے زمین پر اس کی ماں نہیں ہے۔‘‘
’’میں اسے جھوٹی تسلیوں سے نہیں بہلائوں گا اور نہ اسے کمزور سہارے دوں گا۔‘‘ نرس ایان کے منہ میں قطرہ قطرہ دودھ ٹپکا رہی تھی اور وہ رو رہا تھا‘ میرے آنسو میرے گریبان کو بھگو رہے تھے۔
’’میں نے سسٹر کو منع کردیا ہے کہ اس کو کسی سے ملنے نہ دیں‘ اپیا بھی نہیں آئیں یہاں۔‘‘
’’کتنے سنگدل ہیں آپ۔‘‘ میں نے بھیگی پلکوں کو اٹھایا۔
’’یہ سنگدلی ہی تو اسے سنگ دل بنائے گی اور اسے یہ سکھائے گی کہ جو چیز اس کی نہیں ہے وہ اسے نہیں ملے گی۔‘‘ میں نے ترحمی سے اسے دیکھا‘ نرس اسے انجکشن لگا رہی تھی‘ وہ چیخ چیخ کر رو رہا تھا۔
’’پلیز…‘‘ میرا دل اچھل کر حلق سے باہر آگیا‘ میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔
’’نہیں مونا!‘‘ افراسیاب نے میرا بازو تھام لیا۔ ’’کل یہ اور روئے گا جب آپ اس کے پاس نہیں ہوں گی اسے رونے دیں‘ اسے صبر سیکھنے دیں۔‘‘
میرا جگنو چیخ چیخ کر رو رہا تھا‘ میری گڑیا میرے پاس آنے کے لیے مچل رہی تھی۔
’’نہیں…‘‘ افراسیاب نے مجھے کھینچ کر وہاں سے ہٹایا اور سنگی بنچ پر لا بٹھایا۔
’’میں نے اسے ضرورت کا محتاج نہیں کرنا مونا! میں نے آپ کو بتایا نا‘ ایک مختلف راستے پر نہیں چلانا۔‘‘ میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی‘ جانے کہاں سے اتنا رونا آئے جارہا تھا۔
’’آپ گھر جائیں۔‘‘ گہرا سانس لے کر وہ نشست سے ٹیک لگا کر بیٹھے‘ دکھ ان کے چہرے پر بھی رقم تھا۔
’’آپ کو آپشن دیا تھا‘ زبردستی نہیں تھا مرضی ہر انسان کی اپنی ہوتی ہے۔‘‘ میں نے آنچل سے چہرہ صاف کیا۔ افراسیاب کا سیل بجنے لگا‘ اٹھ کر تھوڑی دور چلے گئے۔
’’چلئے میں آپ کو گھر چھوڑ دوں۔‘‘ وہ واپس پلٹے۔ میں نے مڑ کر ایان کے روم کی جانب دیکھا معصوم ذی روح نرس کے رحم و کرم پر تھا۔
’’آپ کے بھائی آئیں گے؟‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے سر ہلایا۔
’’مگر مجھے جانا ہے میں آپ کو یہاں نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’آپ ایان کے روم میں چلی جائیں گی اور یہ اس کے لیے بہتر نہیں ہے۔‘‘ منہ پھیر کر موبائل چیک کرنے لگے‘ میں ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’آئیں میں چھوڑ دوں‘ انہیں فون کردیں۔‘‘ انہیں ضروری جانا تھا اور میں جو سوچ رہی تھی کہ افراسیاب کے جانے کے بعد ایان کے پاس چلی جائوں گی ارادہ باطل ہونے لگا۔
میں کھڑی ہوئی ایک بار پھر میں ایان کے روم کی جانب بڑھی۔
’’نہیں مونا!‘‘ میرا بازو پھر سے افراسیاب کی گرفت میں تھا۔ ’’آپ میری بات سمجھیں جو راستے منزلوں کی جانب نہیں جاتے ان راستوں پر نہیں چلنا چاہیے۔ بجائے یہ کہ انسان بار بار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو‘ ٹوٹ کر جڑے اور جڑ کر پھر سے چٹخ جائے۔ نہیں مونا! انسان کو اپنے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ وہ مجھے اسی طرح سے پکڑے پکڑے چل رہے تھے جیسے میں پیچھے پلٹ کر بھاگوں گی‘ استحقاق بھرا انداز تھا‘ میں چلتی جارہی تھی۔
’’اگر آپ کے سابق شوہر نے آپ کو بچوں سے ملنے نہیں دیا تو یہ بہتر کیا۔ بچوں کو اسی حصار میں رہنا ہے وہ سمجھتے ہیں بے شک یہ آپ پر ظلم ہوا۔‘‘ وہ میرا بازو پکڑے سیڑھیاں اتر رہے تھے‘ کاریڈور سے گزرتے روش پر آگئے۔ آنسو میرے قدموں تلے مسلے جارہے تھے۔
ایان کو نہ دیکھنے کا دکھ تھا‘ جگنو اور گڑیا کی یاد تھی۔ میرا دکھ تھا‘ کیا تھا میں سمجھ نہ سکی۔ کرب کی بارش میری ذات پر برس رہی تھی‘ گاڑی کے پاس لاکر فرنٹ ڈور کھولا اور مجھے بٹھا دیا۔ زخم جب تک ہرے رہتے ہیں جب تک ہم زخموں کو چھیلتے تریاق نہ کریں‘ اسے کریدتے رہیں۔
’’یاد رکھیے مونا! زخم بھرنے کے لیے اور دکھ بھولنے کے لیے ہی ہوتے ہیں‘ ہماری بھی سلامتی ہوتی ہے۔‘‘ گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھالی۔
’’بچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں تو ان کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ اپنی ذات پر ترس ہی کھاتے رہتے ہیں۔‘‘ ایک موڑ کاٹا۔ ’’اور ترس زندگی نہیں ہوتی مونا! حادثے زندگی نہیں بن جاتے‘ اپنی زندگی کو ازسر نو شروع کریں‘ یہ میرا مخلصانہ مشورہ ہے۔‘‘ میں نے خود کو سنبھالا۔
’’میں نے اگر ازسر نو زندگی شروع کرنی ہوتی تو اُدھر ہی رہتی‘ اگر ہماری زندگی میں غلط فیصلے ہوجائیں تو ضروری نہیں ہے کہ اس کے سدھار بھی نہ ہوں۔‘‘
’’ سنبھلنے کا موقع ہر ذی روح کو ملتا ہے‘ اپنی زندگی کو سوچیں ہوسکتا ہے ربّ نے آپ کے لیے کچھ بہتر لکھ رکھا ہو۔‘‘ انہوں نے گاڑی گھر کے آگے روک دی‘ میں نے سر گھما کر دیکھا۔ سنجیدہ اور متین چہرہ سامنے دیکھ رہا تھا۔
’’کچھ بہتر ہوتا تو آج میں ایان سے ضرور ملتی۔‘‘ میرا لہجہ بھراّنے لگا۔
’’میں اپنے بچے کو ایک بہتر زندگی دینا چاہتا ہوں جس میں اسے محرومی نہ ہو‘ ہر وہ رشتہ دینا چاہتا ہوں جو اس سے چھین نہ لیا جائے۔‘‘
’’میں بُری ہوں کیا؟‘‘ میں نے سر گھما کر انہیں دیکھا۔
’’نہیں آپ بُری نہیں ہیں‘ آپ کا انتخاب یونہی نہیں ہوا تھا‘ مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر اچھا انسان ہمارا نصیب بن جائے۔‘‘
’’میری اچھائی… ان کی نظر میں…‘‘ میرے آنسو ٹھٹک گئے۔
’’اور میں زبردستی فیصلہ کرکے کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ میں گاڑی سے اتر گئی۔
’’وش یو بیسٹ آف لک۔‘‘ وہ گاڑی آگے لے گئے‘ میں ٹھٹرتے ہوئے موسم میں ٹھٹکی کھڑی رہ گئی‘ سارے بھیگے بادل میرے وجود میں سمائے اور آنکھوں میں آٹھہرے۔ میں دھیرے سے پلٹ کر گھر کے بند دروازے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ دم بخود‘ ساکت… میرا ذہن خالی تھا۔
افراسیاب کیا کہہ رہے تھے۔ ’’فیصلے ہمیشہ دو لوگ مل کر کرتے ہیں انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور میرا فیصلہ… میں نے بھی تو اپنا فیصلہ سنادیا تھا پھر دکھ کیسا‘ اذیت کیسی‘ بے قراری کیوں… سب کچھ حسب حال ہی تو ہے‘ مونا مختار احمد۔‘‘ میں نے سر دروازے سے ٹکا دیا‘ آنکھوں میں جلن آٹھہری تھی‘ کھلی آنکھیں آسمان پر تھیں‘ ایان کیسے بے قرار بے چین تھا۔ کیا تھا میں گود میں لے لیتی‘ سینے سے لگا لیتی‘ حدتوں کو قرار آجاتا۔
’’نہیں مونا! مجھے ایان کو لمحاتی خوشی نہیں دینی‘ ہمیں ان راستوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہماری منزل کی طرف جاتے ہیں۔ ہمیں مختلف راستوں پر بھٹکنا نہیں چاہیے۔‘‘ تبھی دروازہ کھلا‘ میں گرتے گرتے بچی۔
’’مونا تم…‘‘ پیچھے بینا آپی تھیں۔ ’’کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ وہ میرے پہلو میں بیٹھیں‘ میرا ہاتھ تھاما میں نے نڈھال سے انداز میں ان کے شانے سے سر ٹکا دیا۔
’’آپی…‘‘ وہ سسکی۔ ’’انہوں نے مجھے ایان سے ملنے نہیں دیا۔‘‘ گہرا سانس لے کر انہوں نے میر سر تھپکا۔
’’وہ حق بجانب ہیں۔‘‘
’’آپی!‘‘ میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ’’مجھے ایان کے پاس جانا ہے‘ اسے گود میں لینا ہے‘ اسے میری ضرورت ہے۔ وہ میرا جگنو‘ میری گڑیا ہے۔ پلیز آپی… آپی…‘‘ میں نے ان کی گود میں سر رکھ لیا۔
’’نہیں مونا! وہ تمہارا جگنو نہیں ہے‘ وہ ایان ہے دوسرے کا بچہ… تم اسے ایان ہی سمجھو‘ تمہارا جگنو تمہاری زندگی سے جاچکا ہے۔‘‘
’’آپی…‘‘ میں دکھ سے روئے گئی۔
’’وہ تمہیں بھیک میں بھی ایان نہیں دیں گے‘ انہوں نے تمہیں ایان کی ماں بنانا چاہا تھا‘ میڈم نے پرپوزل بھیجا تھا مگر تم… تمہیں نہ خود پر بھروسہ ہے نہ تقدیر پر شاکر ہو… تمہیں جگنو کا نعم البدل مل رہا تھا مگر تم شاکر نہیں ہو۔‘‘
’’آپی…‘‘ میں نے سر اٹھایا۔ ’’میں تیار ہوں‘ میں ساری دنیا کے سامنے سر جھکانے کے لیے تیار ہوں۔ میں افراسیاب سے شادی کے لیے تیاری ہوں… مجھے… مجھے ایان دے دیں‘ اسے میری ضرورت ہے۔‘‘ میں گڑگڑارہی تھی‘ آپی نے مجھے ساتھ لگا لیا۔
’’سچ مونا…؟‘‘ اس بے چین‘ بے قرار بچے نے یکدم سے فیصلہ کروا لیا تھا۔
’’کل صبح آپا آرہی ہیں جنید کے ساتھ شاید منور بھائی بھی جائیں۔ ہم کل شام ہی تمہارا نکاح کردیں گے۔‘‘ آپی تو سارے پروگرام طے کیے بیٹھی تھیں۔
میں ان کے پروگرام سن کب رہی تھی‘ میرے تصور میں‘ میری بانہوں میں ایان تھا اور میں بانہوں کے جھولے میں اسے جھلا رہی تھی‘ میں عالم بے خودی میں تھی۔
آپا آگئیں‘ سب کی خوشی دیدنی تھی۔ شام کو میڈم بھی آگئیں‘ مجھے پیار کرتی رہیں۔ میں سر جھکائے بیٹھی رہی اور سب کچھ یوں ہوتا گیا جیسے یہ میری تقدیر میں رقم تھا اس کام کو ایسے ہی ہونا تھا۔ میرا نکاح افراسیاب سے ہوگیا اور میں رخصت ہوکر سیدھی اسپتال آئی‘ افراسیاب نے ایان کو میری گود میں دیا‘ میں دم بخود تھی۔ نیند میں بے چین‘ ایان نے میرے بازو سے سر ٹکا دیا‘ ایک قرار سا میرے وجود میں اتر گیا۔
میں اسے چوم رہی تھی‘ پیار کررہی تھی محبت کے آنسو عشق کی زمین پر گررہے تھے‘ ایان میرا عشق تھا‘ عشق سچا ہو تو مل جاتا ہے۔ میں اسے دیکھ رہی تھی‘ میری گود میں میرا نصیب سورہا تھا۔ میں جگنو کو بھول گئی‘ مجھے ماضی میں زندہ نہیں رہنا تھا۔ ماضی کی یاد ایک ماں کی بے قراری تھی۔ حال ایک ماں‘ ایک بچہ کا قرار تھا۔
’’چلیں…‘‘ افراسیاب میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔
’’نہیں… مجھے کہیں نہیں جانا‘ جب تک ایان گھر نہیں جائے گا۔‘‘ اب مرے لہجے میں استحقاق تھا۔ مجھے اس بچے سے جدا نہیں ہونا تھا۔
ایان دو دن اور اسپتال میں رہا‘ بہت کمزور ہوگیا۔ ہر لمحہ میں اسی میں لگی رہتی‘ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں تھا۔ مجھ سے مانوس ہوگیا‘ میری جانب ہمکنے لگتا‘ میری آغوش سے نہیں اترتا‘ میری ممتا سیراب ہورہی تھی‘ میرے جذبے‘ سچے‘ بے لوث اور بے ریا تھے۔ اگلے دن ایان ڈسچارج ہوگیا میں گود میں لے کرگھر آئی‘ میڈم وقار النساء کا انداز بے حد محبت آمیز تھا انہوں نے مجھے بہت پیار کیا۔
’’ہمیں اپنے بچے کے لیے ایسی ہی محبت کرنے والی لڑکی چاہیے تھی‘ ہم نے تمہارا انتخاب تو بہت پہلے کرلیا تھا مگر بہار اب اتری ہے میرے گھر پر۔‘‘ میں نے شرما کر سر جھکا لیا۔
میڈم باتیں کرتیں مجھے افراسیاب کے روم میں لے آئیں۔
’’آج سے یہ تمہارا بھی بیڈ روم ہے ایان کے ساتھ ساتھ تمہیں افراسیاب کو بھی پیار کرنا ہے۔ اس کی زندگی میں بھی خوشیاں نہیں ہیں ہے مونا! وہ بھی دوسروں کے لیے جیا ہے۔‘‘ میں نے سر جھکا لیا‘ جھجک میرے وجود میں در آئی۔
’’تھوڑی دیر میں ایان کے ساتھ کھیلوں گی۔‘‘ میڈم ایان کو لے کر چلی گئیں۔ میں بے انتہا خوشی کا احساس لیے بیٹھی رہ گئی‘ تبھی آہٹ ہوئی‘ میں نے سر اٹھایا سامنے افراسیاب کھڑے تھے مسکراتے ہوئے۔
’’خوش ہو۔‘‘ وہ میرے پاس ہی بیٹھ گئے میں جھجک کر پیچھے ہوئی۔
’’مجھ سے ایان کبھی چھینیں گے تو نہیں؟‘‘
’’جب تک اسے بے لوث چاہت دو گی ایان تمہارا رہے گا۔‘‘ انہوں نے میرا ہاتھ تھام لیا۔
’’میری تقدیر نے تمہیں متاثر کیا نا‘ اگر پڑھ جاتا تو وکیل ہوتا۔‘‘
’’نہیں… ایان کی بے چینی و بے قراری نے یہ فیصلہ کروایا۔‘‘
’’دل سے کہو۔‘‘ آگے ہوکر جھکے‘ میں نے نگاہ اٹھائی۔
’’ہاں دل سے کہا۔‘‘
’’تمہارے آنسوئوں نے مجھے بہت متاثر کیا تھا میں دل ہار گیا تھا دل چاہا اب تمہیں ایان دے دوں اور دے بھی دیتا مگر…‘‘ وہ کان کھجانے لگے‘ میں دم بخود ہونے لگی مگر…
’’مگر میں اس دل کا کیا کرتا جو تم سے متاثر ہوکر محبت کرنے لگا تھا‘ تمہیں ایان مل جاتا‘ تم مجھے کیسے ملتیں۔‘‘ میں ساکت رہ گئی افراسیاب کی گمبھیر آواز شادیانے بجارہی تھی۔
’’تمہیں خود کو دینے کے لیے یہ سب ضروری تھا۔‘‘ انہوں نے مجھے کھینچ کر اپنے شانے سے لگالیا‘ ان کے لمس نے میرے بالوں کو چھو لیا۔
میری حیرانی میرے وجود میں بہار بنی اور بہار کے پھول میرے وجود پر گرنے لگے۔
’’تمہارے اور ایان کے پاس سے ایک جیسی بو آرہی ہے‘ اسپرٹ‘ میڈیسن‘ انجکشن اور ہسپتال کی‘ جائو جاکر نہائو۔‘‘ میں سر شاری سے ہنس دی۔
’’ہم دونوں ایک دوسر کا مماثل ہیں نا۔‘‘ میں اترائی۔ افراسیاب کا قہقہہ بڑا جاندار تھا میں مبہوت ہونے لگی۔ پرانے دکھ‘ پرانے آنسو‘ پرانی یادیں‘ سب کہیں دور پیچھے رہ گئی تھیں۔
’’تمہیں بھی مجھ سے پیار تھا نا؟‘‘ آنکھوں میں شرارت کے رنگ بھر کے افراسیاب مجھ پر جھکے۔
’’جی نہیں… خوش فہمی ہے آپ کی میں تو ایان کی عاشق ہوں۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close