Aanchal Jan 15

صبح نو کا ستارا

نادیہ فاطمہ رضوی

کل راستے میں جس سے ملاقات ہوگئی
رہتا تھا دل کے پاس مگر اجنبی لگا
برسوں ہمارا عکس رہا جس کے روبرو
وہ آئینہ بھی پیش نظر اجنبی لگا

’’وریشا باجی کچھ سنا تم نے…‘‘ انتہائی تیز رفتاری سے دروازہ کھول کر گڈو ہانپتا کانپتا پھولی سانسوں سمیت صوفے پر گرتے ہوئے بولا جب کہ کائوچ پر نیم دراز اونگھتے ہوئے میگزین پڑھتی وریشا نے اسے انتہائی ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’ایسی کون سی افتاد آن پڑی ہے جو تم اس قدر بدحواس ہوئے جارہے ہو۔‘‘ وہ انتہائی بے زاری سے بولی۔
’’وریشا باجی جو خبر میں تمہیں دینے والا ہوں اسے سن کر تمہارے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔‘‘ گڈو ڈرامائی انداز میں بولا تو جواباً اس نے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’بھٹی انکل کا بھوت بنگلہ کسی نے خرید لیا ہے اور آج وہ لوگ شفٹ بھی ہوگئے ہیں۔‘‘
’’کیا… واقعی… مگروہ گھر کیسے فروخت ہوگیا وہاں تو جنات اور بھوتوں کا بسیرا ہے آخر وہ گھرکس نے خرید لیا؟‘‘ وریشا کی غنودگی بھک سے اڑ گئی۔ انتہائی حیران کن و غیریقین لہجے میں بولتی وہ کائوچ سے اٹھ بیٹھی۔
’’ نجانے کس قسمت کے مارے نے وہ گھر خریدلیا۔‘‘ گڈو بھی تائیدی انداز میں بولا تو وریشان کو اچانک کچھ یاد آیا۔
’’تم نے کنزیٰ کو بتایا کہ وہ بھوت بنگلہ…‘‘
’’ارے مجھے نہ صرف معلوم ہوگیاہے بلکہ اس بھوت… میرا مطلب ہے اس گھر والے کو بھی دیکھ لیا۔‘‘ لائونج کا دروازہ کھول کر کنزیٰ اندر داخل ہوتے ہوئے وریشا کی بات درمیان میں اچک کر بولی جس کے چہرے پر گڈو کی طرح ہوائیاں برس رہی تھیں۔
’’کیا مطلب گھر والے…‘‘ وریشا ناسمجھی والے انداز میں بولی۔
’’ارے بھئی جنہوں نے گھر خریدا ہے‘ ویسے ہے وہ پورا فواد خان کی کاپی اور چال ڈھال تو پوری کی پوری سنجے دت جیسی ہے اور اسٹائل تو بالکل وحید مراد جیسے ہیں البتہ ان کی اماں صاحبہ نیلسن منڈیلا کی مشابہہ لگیں ‘ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے ان موصوف کو گود لیا ہے۔‘‘ کنزیٰ حسب معمول تفصیلاً بولی تو وریشا اور گڈو بُری طرح چڑگئے۔
’’اُف کنزیٰ! کبھی تو شوبز کی دنیا سے باہر آجایا کرو تمہارے ذہن پر ہر وقت یہ ہیروز ہی کیوں سوار رہتے ہیں۔‘‘
’’ہاں وریشا باجی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ کل جو سبزی والا گلی سے گزر رہا تھا اسے دیکھ کر مجھ سے کہنے لگیں بالکل شاہدہ منی کی فوٹو اسٹیٹ ہے۔‘‘ آخری جملہ گڈو کنزیٰ کی ٹون میں بولا تو وہ کھسیانی سی ہوگئی۔
’’تم خاموش رہو‘ دیکھ نہیں رہے جب دو بڑے باتیں کررہے ہیں تو بیچ میں تم کیوں بول رہے ہو؟‘‘
’’ہائیں کون بڑے۔‘‘ گڈو اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے حیرت سے بولا۔
’’ہم بڑے…‘‘ کنزیٰ منہ بناکر بولی۔
’’اچھا مگر کہاں سے بڑے… اچھا دانتوں سے بڑے‘ ہی ہی ہی…‘‘ گڈو اس کے دانتوں پر چوٹ کرتے ہوئے بولا جو ذرا اوپر کو تھے اور جس پر اس نے تار لگوایا ہوا تھا۔
’’گڈو میں تمہیں کچا چبا جائوں گی اگر تم نے میرے دانتوں کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو…‘‘ کنزیٰ آستینیں چڑھا کر دانت کچکچا کر بولی وہ اس معاملے میں بہت حساس تھی۔
’’ہاں ہاں میںجانتا ہوں کہ آپ دانتوں میں بہت خودکفیل ہیں‘ مجھے باآسانی چباسکتی ہیں۔ پتا ہے وریشا باجی! جب کنزیٰ باجی نے تار نہیں لگوایا تھا تو ان دنوں یہ جمیلہ آنٹی کی ساس کی قُل کی رسم میں گئیں وہاں جمیلہ آنٹی کی اماں ان کے کان میں کہنے لگیں ’’بیٹا! ساس میری بیٹی کی مری ہے اور دانت تم نکالے بیٹھی ہو‘ کم از کم دنیا کے سامنے تو دانت مت نکالو۔‘‘ گڈو مزے لے لے کر بولا تو وریشا خوب ہنسنے لگی۔
’’ہاں ہاں اڑالو میرا مذاق… ایک میں ہی ہوں نا جو تم دونوں کی محبت میں یہاں خود کو بے عزت کروانے کے لیے بھاگی بھاگی چلی آتی ہوں۔‘‘ کنزیٰ باقاعدہ رونے لگی تو دونوں جلدی سے اس کے پاس آگئے۔
’’افوہ کنزیٰ! اب تم شبنم مت بنو‘ تمہیں معلوم ہے نا کہ یہ گڈو ہے ہی بے ڈھنگا۔‘‘
’’شبنم نہیں لوگ روتے ہوئے مجھے میناکماری سے تشبیہ دیتے ہیں۔‘‘ کنزیٰ اپنی ناک دوپٹے کے پلّو سے بُری طرح رگڑتے ہوئے بولی۔
’’ہاں واقعی آپ تو مینا کماری سے بہت مل رہی ہیں۔‘‘ گڈو باقاعدہ قریب آکر اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا تو کنزیٰ بے تحاشا خوش ہوگئی۔
’’سچ… اچھا ذرا میں اپنے موبائل سے اپنی تصویر کھینچ لیتی ہوں۔‘‘
’’ہوں‘ اب آج سے مینا کماری کا نام دتّو کماری ہوگیا۔‘‘
’’گڈو کے بچے…‘‘ اپنے موبائل میں مگن کنزیٰ نے جوں ہی گڈو کا جملہ سنا وہ یکدم طیش میں آگئی جب کہ گڈو ’’بچائو‘‘ کہتا ہوا باہر بھاگا‘ پیچھے پیچھے کنزیٰ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتی لپکی۔
’’افوہ یہ کنزیٰ بھی نا… نجانے اس بھوت بنگلے کے لوگوں کے بارے میں کیا بتانے والی تھی چھت پر جاکر ذرا کن سوئیاں لینے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘ وہ خود سے بولتی چھت کی جانب بڑھی۔
خ…ء…خ
’’آنٹی لان تو آپ نے بہت جلدی سنواردیا‘ ارے گیندے کے پھول کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔‘‘آج وہ تینوں بن بلائے مہمان کی طرح اپنی ہمتیں مجتمع کرکے جاپہنچے تھے پچھل پورا ہفتہ انہوں نے اس بنگلے میں تانک جھانک کرکے بڑی بے صبری سے گزارا تھا اور ان سات دنوں میں انہیں صرف یہ معلوم ہوا تھا کہ اس بنگلے میں کُل تین مکین رہائش پذیر ہیں ایک پختہ عمر کی عورت ایک ادھیڑ عمر کا بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی جس کے چہرے پر چیچک کے نشان تھے جبکہ آنکھوں میں عجیب سی وحشت و سرخی بھی تھی اور تیسرا تقریباً تیس بتیس سال کا خوش شکل جوان جو علی الصبح ہی گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ ان خاتون نے ان تینوں کا استقبال کچھ خاص گرم جوشی سے نہیں کیا تھا۔
’’وریشا! مجھے تو ڈر لگ رہا ہے‘ تم دیکھ نہیں رہیں وہ عورت ہمیں کتنا گھور گھور کر دیکھ رہی ہے۔‘‘ دونوں کیاری کے قریب جاکر پھول دیکھنے لگیں جب ہی کنزیٰ نے سہمی ہوئی آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی۔
’’ہاں اسے تمہارا آنا شاید پسند نہیں آیا اور تم نے ایک بات نوٹس کی‘ یہ کیاری ایسی بنی ہوئی ہے جیسے کسی کی قبر اور گیندے کے پھول بھی ایسے لگے ہوئے ہیں جیسے…‘‘
’’ک… کیا… قبر… ہائے اللہ وریشا! مجھے قبروں سے بہت ڈر لگتا ہے‘ ارے وہ دیکھو اگربتیاں بھی ہیں۔‘‘ کنزیٰ آخر میں ایک جانب اشارہ کرکے سہم کر بولی۔
’’ہیں… کہاں ہیں افوہ وہ تو جھاڑو کے تنکے ہیں۔‘‘ وریشا قدرے ریلیکس ہوکر بولی جب ہی ان خاتون نے انہیں مخاطب کیا۔
’’بچیوں آجائو‘ چائے پی لو۔‘‘
’’آنٹی! کیاری میں صرف گیندے کے پھول کیوں لگائے ہیں آپ لوگوں نے؟‘‘ وریشا لان میں رکھی کین کی کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
’’بیٹا! سالار بیٹا کو گیندے کے پھول بہت پسند ہیں۔‘‘ وہ سہولت سے بولیں جب ہی گڈو کی گھگیائی ہوئی آواز ابھری۔
’’وریشا باجی! مجھے چائے نہیں پینی‘ پلیز گھر چلو۔‘‘ کنزیٰ اور وریشا نے گڈو کی جانب دیکھا جس کا چہرہ سرسوں کی مانند زرد ہورہا تھا انہیں کسی گڑبڑ کا اندازہ بخوبی ہوگیا تھا وہ دونوں بھی فکر مند ہوگئیں۔
’’آنٹی ہمیں بہت ضروری کام سے جانا ہے‘ ہم چلتے ہیں پھر آئیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وریشا تیزی سے اٹھی جب کہ گڈو اور کنزیٰ تو جیسے بھاگنے پر آمادہ تھے۔
’’ارے بچوں چائے تو پی لو۔‘‘ وہ خاتون کچھ گھبرا کر بولیں مگر تینوں یہ جا وہ جا۔
خ…ء…خ
’’تمہیں ہی ملکہ بہادر یار جنگ اور جھانسی کی رانی بننے کا شوق چُرا رہا تھا‘ نجانے مجھے کس کی قبر کے سرہانے کھڑا کردیا۔ ہائے اللہ وہ عورت نجانے کون تھی‘ کہاں کی مخلوق تھی۔‘‘ کنزیٰ وریشا کو بُری طرح لتاڑتے ہوئے بولی جو سقراط بنی شہادت کی انگلی تھوڑی پر رکھے سوچے جارہی تھی۔
’’ہوں تو اس عورت نے اپنی عمر تمہیں ڈیڑھ سو سال بتائی تھی۔‘‘
’’افوہ باجی! کوئی ڈیڑھ سو مرتبہ تم یہ جملہ دہرا چکی ہو‘ اب آگے کچھ بولو تو سہی‘ ایک تو مجھے اس جنّی کے پاس تنہا چھوڑ دیا اور خود جاکر گیندے کے پھولوں سے چپک گئیں۔‘‘ گڈو بُرا سا منہ بناکر بولا تو کنزیٰ بڑے زور سے اچھلی۔
’’وریشا کہیں گیندے کے پھولوںمیں جناتی اثرات تو نہیں تھے۔‘‘
’’اُف کسی جن کی مجال نہیں جو تم پر چڑھے۔‘‘
’’مگر بھوت بھی تو ہوسکتے ہیں۔‘‘ وریشا کی بات پر کنزیٰ غائب دماغی سے بولی ۔
’’کنزیٰ باجی بھوت بہت بیوٹی کانشس ہوتے ہیں لمبے دانتوں والیوں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں‘ انہیں بالکل لفٹ نہیں کراتے۔‘‘ گڈو طنزیہ لہجے میں بولا اس سے پہلے کہ کنزیٰ تلملا کر اسے کھری کھرسی سناتی وریشا بڑے ڈرامائی انداز میں بولی۔
’’تمام باتوں مشاہدات اور ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے میں یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہاں انسان نہیں رہ رہے بلکہ جنات ہمارے پڑوسی بن گئے ہیں۔‘‘
’’وریشا پلیز خدا کے واسطے مجھے ڈرائو نہیں ورنہ میں یہیں فوت ہوجائوں گی۔‘‘ کنزیٰ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی جب کہ گڈو بھی سہم کر وریشا کے قریب کھسک آیا اور وریشا صاحبہ ایک بار پھر مراقبے میں چلی گئیں۔
خ…ء…خ
وریشا یونیورسٹی سے تھکی ہاری گھر آئی تو امی نے بتایا کہ چوکیدار کوئی لیٹر غلطی سے دے کر چلا گیا ہے جس پر کسی دوسرے بنگلے کا ایڈریس درج ہے۔‘‘
’’ہائے امی یہ لیٹر تو بھوت بنگلے کا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب بھوت بنگلے کا…؟‘‘ امی تادیبی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’مم… میرا مطلب ہے بھٹی صاحب کے بنگلے کا ایڈریس ہے مگر پوسٹ مین نے اتنی بڑی غلطی کیسے کردی۔‘‘ وریشا کچھ چڑ کر بولی۔
’’ارے بھئی ہمارے گھر کی نیم پلیٹ ٹوٹ گئی تھی نا اور ابھی تک دوسری نہیں لگی‘ وہ سمجھا ہوگا یہی ایڈریس ہے۔‘‘ امی رسانیت سے بولیں تو وہ محض سر ہلاگئی۔
’’تم کپڑے چینج کرلو میں جب تک کھانا لگادیتی ہوں۔‘‘ امی کی بات پر وہ سر ہلاکر اپنے کمرے کی جانب آگئی پھرلیٹرکو دیکھ کر کسی سوچ میں گم ہوگئی۔
شام کو وریشا دل مضبوط کرکے لیٹر ہاتھ میں لیے اسی بھوت بنگلے کے سامنے کھڑی تھی ایڈونچر کا شوق اور الٹے سیدھے گھپلوں میں کودنا اسے بچپن سے ہی پسند تھا۔ بھوت بنگلے کے مکینوں کے بارے میں جاننے کا تجسس کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا تھا اور اپنے اس تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ لیٹر دینے کے بہانے اکیلی ہی یہاں چلی آئی تھی مگر اب اندر ہی اندر ڈر رہی تھی۔
’’اُف یہ کنزیٰ کو آج ہی شاپنگ پر جانا تھا اور وہ گڈو کوچنگ سینٹر جاکر جیسے دھرنے میں بیٹھ گیا ہے مگر وہ دونوں ڈرپوک ہوتے بھی تو کبھی میرے ساتھ نہیں آتے‘ آخر ہیں نا کمزور دل۔‘‘ خود سے باتیں کرتی ہوئے وریشا آخر میں منہ بناکر بولی۔
’’شاباش بہادر دلیر وریشا آفتاب! گھنٹی بجا۔‘‘ وریشا خود سے بولی تھی مگر اسی پل اس کی نظر ادھ کھلے دروازے پر پڑی اس نے ہلکا سا دھکا دیا تو گیٹ کھلتا چلا گیا۔
’’ارے یہ تو پہلے سے ہی کھلا ہوا ہے۔‘‘ حیرت سے بولتی وریشا سہولت سے اندر داخل ہوگئی‘ پورے لان اور پورٹیکو میں گہری خاموشی اور جامد سناٹا تھا۔ ایک پل کو اس کا دل کپکپایا مگر پھر سر جھٹک کر وہ چھوٹے چھوٹے محتاط قدم اٹھاتی داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ شومئی قسمت وہ بھی کھلا مل گیا۔
’’یہ سارے دروازے کھلے ہوئے کیوں ہیں؟‘‘ لائونج میں داخل ہوکر وہ تھوڑا گھبرا کر خود سے بولی پھر اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی ‘ لائونج کی سیٹنگ اسے بڑی عجیب و غریب لگی۔
’’یہ… یہ بکرے کا منہ اور سینگ انہوں نے دیوار پر کیوں لٹکائے ہوئے ہیں۔‘‘ وریشا اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر سرگوشی میں بولی پھر سامنے موجود سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
’’میرے خیال میں وریشا آج کے لیے اتنا کافی ہے ویسے بھی گڈو اور کنزیٰ میرے اتنے ہی کارنامے کے متعلق جان کر امپریس ہوجائیں گے۔‘‘ وریشا نے خود سے کہا وہ ابھی مڑنے ہی والی تھی کہ اچانک لائٹ چلی گئی۔
’’یا خدا… یہ لوڈشیڈنگ… لائٹ کو بھی ابھی جانا تھا۔‘‘ وہ گھبرا اٹھی معاً کسی کونے سے روشنی ابھری تھی۔
’’میری جان تم آگئیں‘ میں پچھلی تین صدیوں سے تمہارا کتنی بے قراری سے انتظار کررہا تھا‘ میرے پاس آئو میری جان۔‘‘ روشنی کے سنگ ابھرتی اس اواز نے وریشا کو جیسے ہوا میں معلق کردیا۔
’’تین صدیاں…‘‘ وہ ہکلا کر بولی‘ لیٹر کب کا اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔
اس نے پلٹنا چاہا وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی مگر جیسے وہ گوند کی طرح وہیں چپک کر رہ گئی‘ ہلکی روشنی اورملگجے اندھیرے میںابھرتا ہیولا بڑی تیزی سے اس کے پاس آیا اور آنِ واحد میں انسان کا روپ دھار گیا۔
’’بھو…ت… ‘‘ بمشکل اپنی زبان کو حرکت دے کر وہ فقط اتنا ہی بول پائی البتہ بے ہوش ہونے سے پہلے وریشا نے اس بھوت کو بڑی تیزی سے اپنے قریب آتے دیکھا تھا۔
خ…ء…خ
’’ہاہاہا…‘‘ وہ عورت اور بہت سے عجیب و غریب شکلوں والے لوگ بُری طرح قہقہے لگارہے تھے جبکہ وریشا ایک کونے میں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔
’’آج کتنے دنوں بعد ہم کسی انسان کے کباب بناکر کھائیں گے‘ ہوہو… ہاہاہاہا…‘‘ کوئی یہ بول کر قہقہہ لگاکر انتہائی ہیبت ناک طریقے سے ہنسا۔
’’میں تو اس لڑکی کی ملائی بوٹی اور کڑاہی بناکر کھائوں گی۔‘‘ وہ عورت زبان کا چٹخارہ لیتے ہوئے بولی۔
’’اس کا تو کٹاکٹ بھی لذیز بنے گا۔‘‘ کہیں سے یہ آواز ابھری اور پھر سب لوگ پاگلوں کی طرح قہقہے لگانے لگے۔
’’نہیں نہیں… خدا کے واسطے مجھ پر رحم کرو۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی لڑکی ہوں‘ میری تو شادی بھی نہیں ہوئی اور تم لوگ میری ملائی بوٹی بنانے کے درپے ہو… نہیں نہیں… ہائیں یہ بارش کہاں سے ہونے لگی۔‘‘ وریشا بے ہوشی کے عالم میں زور زور سے چلاتے ہوئے اچانک حیرت سے بولی۔
’’محترمہ خدا کے واسطے اب تو ہوش میں آجائیں ورنہ میں پورا جگ آپ کے اوپر انڈیل دوں گا۔‘‘ دلکش مردانہ آواز انتہائی قریب سے ابھری تو وریشا نے بے ساختہ اپنی آنکھوں کو کھولا‘ سامنے سفید شلوار کُرتے میں رف سے حلیے میں یقینا یہ وہی شخص تھاجو تین صدیوں سے اپنی محبوبہ کا انتظار کررہا تھا وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں سرعت سے بستر سے اٹھی۔
’’آ…پ…‘‘
’’غالباً آپ مجھے بھوت سمجھ رہی ہیں حالانکہ لوگ تو مجھے کافی ہینڈسم کہتے ہیں۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولا تو یکدم وریشا کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا وہ غالباً اسی کے کمرے میں بڑے مزے سے اس کے بیڈ پر قابض تھی۔
’’آپ کے اس بے تکے مذاق پر مجھے ذرا ہنسی نہیں آئی۔‘‘ وریشا تیزی سے بستر سے اٹھ کر تنک کر بولی‘ دوپٹہ اچھی طرح اپنے وجود سے لپیٹ لیا۔
’’اچھا مگر مجھے آپ کا یہ سنگین مذاق بہت اچھا لگا۔‘‘ وہ شوخی سے بولا۔
’’کون سا سنگین مذاق…‘‘ وہ تیکھے چتونوں سے بولی‘ گلابی اور آف وائٹ کنٹراسٹ سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ سالار نے اسے کئی بار دیکھا تھا کبھی چھت پر اپنے گھر میں تانک جھانک کرتے ہوئے تو کبھی قریبی بنے پارک میں واک کرتے ہوئے جو اکثر اپنی بہادری کے قصے اپنی سہیلی اور بھائی کو سنارہی ہوتی تھی۔
’’یہی کہ میں بھوت ہوں۔‘‘
’’آپ خود ہی تو اپنے منہ سے کہہ رہے تھے کہ میں تین صدیوں سے تمہارا انتظار کررہا تھا۔‘‘ وہ بُرا سا منہ بناکر بولی تو سالار انتہائی گمبھیر لہجے میں بولا۔
’’ہاں میری مایا میں پچھلے تین صدیوں سے تمہارا ہی تو انتظار کررہا تھا۔ میرا بھوت جگہ جگہ بھٹک رہا تھا تمہاری تلاش میں۔‘‘ وریشا نے بے تحاشا چونک کر اسے دیکھا مگر آنکھوں میں ناچتی شرارت اور ہونٹوں پر مچلتی شوخ مسکراہٹ نے اسے شرمندہ کردیا۔
’’ہوں… ویری فنی!‘‘ وہ چڑ کر بولتی وہاں سے تیزی سے نکلی البتہ عقب سے ابھرتے سالار کے جاندار قہقہے نے اسے بے تحاشا خفت میں مبتلا کردیا۔
خ…ء…خ
دن اپنے مخصوص رفتار سے گزرتے گئے وریشا نے اس دن جو بھوت بنگلے میں ہوا اس کا تذکرہ کنزیٰ اور گڈو سے بالکل نہیں کیا ورنہ وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ گڈو آج کل اپنے امتحان میں مصروف تھا اور کنزیٰ اپنی کمپیوٹر کلاسز میں لہٰذا دونوں کی توجہ فی الحال بھوت بنگلے سے ہٹی ہوئی تھی‘وریشا کا دو تین بار سالار سے سامنا ہوا تھا ایک بار جب وہ چھت پر کسی کام سے گئی تو اپنے ٹیرس پر موبائل فون پر بات کرتے سالار نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا مگر اس نے انتہائی بے رخی سے منہ پھیر کر نیچے کی راہ لی تھی جب کہ دوبارہ گھر سے نکلتے اور آتے اس کی نگاہ سالار پر پڑی تھی جو اسے دیکھ کر ہمیشہ ایک میٹھی سی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتا جب کہ وریشا بُری طرح کلس کر رہ جاتی۔
’’ہائے وریشا! ہم کتنا پاگل بنے نا‘ اس بھوت بنگلے کے لوگ کوئی جن بھوت نہیں بلکہ انسان ہیں اور اس دن کیسے خوف زدہ ہوکر ہم وہاں سے بھاگے تھے۔‘‘ وہ دونوں گھر کے قریبی بنے پارک کی بنچ پر بیٹھی تھیں تب ہی کنزیٰ ہنستے ہوئے بولی تھی۔
’’اونہہ یہ پھلجڑی تم دونوں نے ہی چھوڑی تھی کہ وہ گھر آسیب زدہ ہے۔‘‘ وریشا چڑ کر بولی۔
’’ہائے وریشا باجی! اب اتنا جھوٹ بھی نہ بولوتم‘ اللہ کو کیا منہ دکھائو گی۔‘‘ گڈو بلبلا کر بولا۔
’’تم میرے منہ کی فکر مت کرو سمجھے‘ چار سال تم سے بڑی ہوں ادب کرو میرا۔‘‘ وہ ڈپٹ کر بولی۔
’’چھوڑو گڈو یہ تو ہے ہی ہمیشہ کی طرح ایسی ہی کمینی۔‘‘
’’اچھا میں کمینی اور اپنے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ وہ خوامخواہ آستینیں چڑھا کر بولی نجانے کس بات پر اسے اتنا غصہ آرہا تھا۔
’’میرا خیال تو بہت نیک ہے۔‘‘ کنزیٰ شرمگیں مسکراہٹ سمیت بولی تھی۔
’’اوہ تو موصوفہ اتراہٹ میں مبتلا ہوگئی ہیں‘ تم خدا کے واسطے یہ میرا جیسی مصنوعی اور بھونڈی شرم نہ دکھائو۔‘‘
’’وریشا تم اپنی حد میں رہو میں ایک مشرقی لڑکی ہوں اور میری شرم بالکل خالص اور حقیقی ہے۔‘‘ کنزیٰ بے تحاشا بُرا مان کر بولی۔
’’ویسے کنزیٰ باجی! یہ جو پوز ابھی آپ نے بقول شرم و حیا والا دیا ہے یہ کس خوشی میں تھا؟‘‘ گڈو نہ سمجھنے والے انداز میں بولا۔
’’ارے بدھو تمہاری بہن کے ہاتھ پیلے ہونے والے ہیں۔‘‘ کنزیٰ اب باقاعدہ دوپٹے کا کونا اپنی انگلی پر لپیٹتے ہوئے لجا کر بولی۔
’’مگر مجھے تو آپ کی آنکھیں اور چہرہ بھی پیلا پیلا لگ رہا ہے‘ ذرا دکھائیں تو سہی۔‘‘ وہ تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’دھت شرارتی کہیں کا۔‘‘ وہ ہنوز انداز میں بولی‘ وریشا کو تو جیسے چکر آنے لگے۔
’’دنیا میں تم واحد لڑکی نہیں ہو جس کی شادی ہورہی ہے‘ اتراہٹ ہے کہ ختم ہی نہیں ہورہی۔‘‘ وریشا نے تپ کر کہا۔
’’اوہ تو کیا سلمان بھائی (کنزیٰ کا منگیتر) آسٹریلیاسے آرہے ہیں بے چارے کنزیٰ باجی کو لینے۔‘‘گڈو کچھ تاسف سے بولا۔
’’ہوں اور سنو… حد ہے چھچھورپن کی کہ بارات گھوڑی پر چڑھ کر لارہے ہیں۔‘‘ وریشا استہزائیہ انداز میں گویا ہوئی تو گڈو بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنستا چلا گیا۔
’’وریشا باجی! سلمان بھائی اگر گھوڑی پر بیٹھیں گے تو وہ تو بے چاری ان کے وزن سے مکھی ہی بن جائے گی۔‘‘
’’ہاں یہ تو تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘‘ وریشا ہنستے ہوئے بولی جب کہ کنزیٰ دونوں کو کھاجانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔
’’ویسے وریشا باجی تمہیں دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ابھی تک کوئی معقول رشتہ تمہارے واسطے برآمد نہیں ہوا۔‘‘ گڈو یکدم سنجیدگی سے بولا۔
’’تم تو جانتے ہو گڈو! آج کل ہر کوئی گورے رنگ پر مرتا ہے اور معاف کرنا تمہاری بہن تو پکی سانولی ہے۔‘‘ کنزیٰ طنزیہ انداز میں وریشا کے گندمی رنگ کو نشانہ بناکر گویا ہوئی۔
’’ہاں ہاں سلمان بھائی نے تمہاری گوری رنگت تو دیکھ لی مگر لمبے دانت نہیں دیکھے۔‘‘ وریشا بینچ سے اٹھ کر لڑاکا انداز میں بولی تو اس سے پہلے کنزیٰ کوئی جوابی حملہ کرتی مغرب کی اذان نے فی الحال سیز فائر کیا تو تینوں نے گھر کی راہ لی۔
خ…ء…خ
کوئی بارات نہ آئے رہے ہم آس لگائے
عمر یا بیتی جائے کوئی رشتہ نہ آئے
گھر کی ڈسٹنگ کرتے ہوئے وہ ہولے ہولے گنگنارہی تھی جب کہ چہرے پر رنگ گورا کرنے کی غرض سے شہد اور بیسن کا لیپ لگارکھا تھا۔
’’ویسے وریشا باجی تم اس وقت بڑی ڈرائونی لگ رہی ہو بھوتنی جیسی۔ شکر ہے کہ امی پاپا اس وقت گھر پر نہیں ہیں۔‘‘ ریموٹ پر چینل سرچ کرتے گڈو نے ٹکڑا لگایا۔
’’سنو گڈو! کتنا مزا آجائے کہ میری شادی اس کنزیٰ سے پہلے ہوجائے۔‘‘ وریشا ڈسٹنگ کا کپڑا چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس آکر اشتیاق سے بولی۔
’’وریشا باجی دلہا کوئی پزا یا برگر تو ہے نہیں کہ ایک فون کرو اور فوراً حاضر ہوجائے‘ اس کام میں بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔‘‘ آخر میں وہ دادی امائوں کی طرح بولا۔
’’ہاں یہ بات تو ہے۔‘‘ وہ تائیداً بولی۔
’’ارے یاد آیا۔‘‘ گڈو اپنی جگہ سے اچھل کر انتہائی جوش سے بولا۔
’’کیا کوئی رشتہ ذہن میں آیا۔‘‘
’’ہاں وہ بھٹی صاحب کے سالے پچھلے ماہ ہی بیوہ… میرا مطلب میل (مرد) بیوہ ہوئے ہیں وہ کل انکل اظہر سے کہہ رہے تھے کہ چالیسیویں کے فوراً بعد میں عقد ثانی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وریشا کے اس قدر اشتیاق بھرے انداز میں پوچھنے پر گڈو بڑے جوش سے بولا۔
’’گڈو کے بچے۔‘‘ وہ دانت کچکچا کر رہ گئی۔
’’ارے ایک اور رشتہ ہے خالدہ آنٹی کی نند کے شوہر کا کیوں کہ وہ اپنی بیوی سے انتہائی بے زار اور بے پناہ تنگ ہیں۔‘‘
’’وہ… وہ ٹھرکی بڈھا… بھینگا‘ لمبے منہ والا جس کے لمبے کان سوکھے کریلے جیسے ہیں اور اس کی ناک پچکے ہوئے ٹماٹر کی طرح سرخ اور چپٹی ہے۔‘‘
’’افوہ باجی تم نے تو خالدہ آنٹی کی نند کے شوہر کو تو سبزی کی دکان ہی بنا ڈالا۔‘‘ وہ بُرا سا منہ بناکر بولا۔
’’گڈو ابھی اور اسی وقت میری نظروں کے سامنے سے غائب ہوجائو ورنہ …‘‘ انتہائی طیش کے عالم میں وہ مٹھیاں بھینچ کر فقط اتنا ہی بول سکی۔
’’ہاں ہاں بھئی جارہا ہوں تم پھولن دیوی کیوں بن رہی ہو۔‘‘ وہ گھبرا کر صوفے سے اٹھتے ہوئے بولا پھر ذرا پلٹ کر گویا ہوا۔
’’یہ شہد اور بیسن کو منہ سے تو دھولو… ورنہ ایسا نہ ہوکہ سانولے رنگ سے بھی ہاتھ دھولو۔‘‘ گڈو کی بات سیدھا اس کے دل میں لگی تھی سو وہ سب کچھ جھٹک کر واش بیسن کی جانب بھاگی۔
خ…ء…خ
’’سالار بھائی بتارہے تھے کہ ان کی پوری فیملی امریکہ میں شفٹ ہے مگر وہ اپنے ملک کے لوگوں کا علاج کرنا چاہتے ہیں۔ پتا ہے کنزیٰ باجی! وہ غریبوں کا مفت علاج کرتے ہیں۔‘‘ گڈو کی سالار سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی جو ڈاکٹر تھا۔
’’اونہہ… مدر ٹریسا بننے کا شوق۔‘‘ بظاہر میگزین پڑھتی وریشا منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
’’وہ بہت ہنس رہے تھے یہ سب سن کر کہ ہم ان کے گھر میں رہنے والوں کو بھوت سمجھ رہے ہیں۔‘‘ گڈو نے مزے سے کہا۔
’’ہی ہی ہی… سچ ہم کتنا ڈر گئے تھے نا‘ گیندے کے پھول کی کیاری کو قبر سمجھ بیٹھے تھے وہ تو زرینہ آنٹی جو ان کے گھر کی دیکھ بھال کرنے پر مامور ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مالی کو وہاں گوڈی کرنی تھی اور تم گڈو! انہوں نے نجانے کس بات پر ڈیڑھ سو بولا تم نے ڈیڑھ سو سال کا اضافہ کردیا۔‘‘ کنزیٰ محظوظ ہوتے ہوئے بولی تو وریشا کو وہ لمحے تمام تر جزئیات سمیت یاد آگئے جب وہ سالار سے ملی تھی اور جن سے پیچھا چھڑانے کی کوشش میں وہ ہلکان ہوچکی تھی۔ اپنی حماقت و بے وقوفی پر اسے ہمیشہ کی طرح بے تحاشا غصہ آگیا‘ وہ بے ساختہ زارو قطار رونے لگی۔
’’ارے ارے وریشا… کیا ہوا؟‘‘ دونوں گھبرا کر اپنی باتیں چھوڑ کر اس کی جانب لپکے جبکہ اس کے رونے میں اور زیادہ روانی آگئی۔
’’وریشا باجی آخر ایسا کیا پڑھ لیا آپ نے اس میگزین میں؟‘‘ گڈو میگزین کو الٹ پلٹ کرکے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’مجھے لگتا ہے گڈو! یہ میری رخصتی کا سوچ کر رو رہی ہے‘ مت رو میری بہن۔‘‘ کنزیٰ جذباتی ہوکر اس کے گلے لگ گئی جسے وریشا نے چڑ کر پرے دھکیلا تھااسی دوران گھر کی گھنٹی بجی وہ تینوں لان کے ایک طرف بیٹھے تھے آتی ہوئی گلابی سردی میں سہہ پہر کے ان لمحوں میں لان میں بڑی نرم و ملائم سی دھوپ اور ٹھنڈی چھائوں بھی تھی۔
’’کنزیٰ میں… میں…‘‘
’’ہاں ہاں بولو‘ میری بچی کیا میں…‘‘ کنزیٰ اس کا شانہ تھپکتے ہوئے اگلوانے والے انداز میں بولی جب کہ گڈو گیٹ کی جانب جاچکا تھا۔
’’میں… میں…‘‘
’’اُف اب میں میں سے آگے تو گاڑی بڑھائو۔‘‘ کنزیٰ چڑ ہی گئی۔
’’کنزیٰ مجھے بھوت سے… افوہ میرا مطلب ہے مجھے بھوت بنگلے سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘
’’ہائیں… تو اس میں اتنا رونے کی کیا بات ہے؟‘‘ کنزیٰ استعجابیہ لہجے میں گویا ہوئی۔
’’اُف موٹی عقل… مجھے بھوت بنگلے میں رہنے والے سے…‘‘
’’آ… آہ…‘‘ وریشا نے چڑ کر بولتے ہوئے جونہی سامنے نگاہ اٹھا کر دیکھا ایک فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی جب کہ کنزیٰ بُری طرح سہم گئی۔
’’یاوحشت وریشا! تم تو میرا ہارٹ فیل کردوگی۔‘‘ کنزیٰ کو نظر اندز کیے وہ بڑی حیرت سے گڈو کے ساتھ کھڑے بلوجینز پر بلیک شرٹ پہنے چہرے پر تبسم سجائے سالار کو دیکھے ہی جارہی تھی جب کہ گڈو اسے یک ٹک سالار کو تکتے پاکر شرمندہ سا ہورہا تھا۔ گلا کھنکھار کر اس نے وریشا کی محویت کو توڑنا چاہا مگر وہ تو جیسے وہاں تھی ہی نہیں۔
’’وریشا! باقی بعد میں دیکھ لینا‘ یہ کون سا بھاگے جارہے ہیں۔‘‘ کنزیٰ نے اس کے کان میں گھس کر تیز آواز میں سرگوشی کی تو وہ بُری طرح ہڑبڑا سی گئی۔
’’میرے خیال میں یہ مجھے اب تک بھوت سمجھ رہی ہیں۔‘‘
’’آ… آپ یہاں کیسے آگئے؟‘‘ وہ ہونق پن سے بولی۔
’’کیا مطلب اپنی ٹانگوں سے چل کر آرہا ہوں۔‘‘ سالار نے فوراً جواب داغا ۔
’’حد کرتی ہو تم بھی باجی! بھلامہمان سے کوئی ایسے پوچھتا ہے۔‘‘ گڈو خفت بھرے انداز میں گویا ہوا پھر اسے لے کر لان کے درمیانی حصے کی جانب بڑھ گیا جہاں کین کی کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔
’’سالار بھائی مجھے دو دن سے محسوس ہورہا ہے جیسے مجھے چکر آرہے ہیں‘ کچھ کمزوری بھی ہورہی ہے آپ پلیز میرا چیک اپ کرلیں۔‘‘ کنزیٰ بیگم مطلبی لہجے میں بولیں تو اس پل وریشا کا دل چاہا کہ اس کا سر توڑ دے جب کہ ان موصوف نے کنزی کی نبض بھی ٹٹولنا شروع کردی۔ وریشا نے بے ساختہ کنزیٰ کا ہاتھ جھپٹ کر جھٹکا تھا۔
’’تمہیں ہر ڈاکٹر کو دیکھ کر اپنی نامعلوم بیماریاں کیوں یاد آجاتی ہیں‘ یہ دماغ کے ڈاکٹر نہیں ہیں جو تمہارا دماغی خلل دور کرسکیں۔‘‘ وریشا کلس کر دھیمی آواز میں کنزیٰ کے کان کے قریب آکر بولی تو کنزیٰ خوامخواہ کھسیانی ہوکر ہنسنے لگی پھر معاً کچھ یاد آیا تو و ریشا سے پوچھنے لگی۔
’’تم ان کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھی نا۔‘‘
’’مم… میں… نہیں… میں کیا کہوں گی میں تو انہیں جانتی بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’نہیں وریشا تم انہی کے بھوت بنگلے میں… میرا مطلب ہے ان کے گھر اور شاید اور ان کے بارے میں دھواں دھار روتے ہوئے کچھ بتانے والی تھیں۔‘‘ وریشا کی ہکلاہٹ سے بھرپور وضاحت کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کنزیٰ شکی انداز میں بولی جب کہ سالار نے اسے پوری طرح اپنی نظروں کی گرفت میں لے رکھا تھا‘ سرخ و سیاہ امتزاج کے سوٹ میں روئی روئی آنکھوں سمیت وہ اس پل بہت نروس دکھائی دے رہی تھی۔
’’ارے یاد آیا تمہیں اس بھوت بنگلے سے محبت ہوگئی ہے یہی کہہ رہی تھیں ناتم۔‘‘ کنزیٰ جوش سے اچھل کر جلدی سے بولی۔
’’آ… ہاں ہاں میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ وہ گھر میرے خوابوں کے شہزادے جیسا ہے میرا آئیڈیل میری چاہت۔‘‘ وریشا کچھ بھی سوچے سمجھے بنا جلدی جلدی بولے گئی۔
’’ہوں وہ گھر…‘‘ سالار ایک ہنکارا بھر کر بولا۔
’’اور نہیں تو کیا…‘‘ وہ فوراً گویا ہوئی۔
’’لیکن وریشا باجی شاید وہ تم ہی تھیں نا جس نے سب سے پہلے پورے محلے میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ اس گھر میں بھوتوں کا بسیرا ہے‘ جو تمہیں دو سو سال پرانا لگتا ہے۔ وہاں کے درخت ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ جن پر جھولا ڈال کر یقینا چنگیز خان کی بیویاں اور منگولیا کی بیٹیاں اور ان کی سہیلیاں ساون کے گیت گاتی ہوں گی۔‘‘ گڈو بولتا ہی چلا گیا۔
’’گڈو پہلے لگتا تھا مگر اب نہیں لگتا۔‘‘ وریشا اپنی جگہ سے پہلو بدل کر بولی۔
’’سالار بھائی میں نے گڈو سے آپ کے متعلق بہت سنا تھا آج ملاقات بھی ہوگئی‘ سچ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔‘‘ کنزیٰ خلوص سے بولی وریشا تینوں کو باتیں کرتا دیکھ کر خاموشی سے وہاں سے پلٹ آئی۔
خ…ء…خ
وریشا ان دنوں بے حد پریشان تھی دسمبر کا بھیگا بھیگا موسم آچکا تھا نئے سال کی پہلی تاریخ کو کنزیٰ پیادیس سدھارنے والی تھی جب کہ گڈو کا آدھے سے زیادہ دن کنزیٰ کے گھر میں ہی گزر رہا تھا جو پچھلی گلی میں واقع تھا۔ دونوں بچپن کی سہیلیاں اور پڑوسی تھیں وہ ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتی تو خوب تھیں مگر ایک دوسرے کے بناء انہیں چین بھی نہیں آتا تھا۔ وریشا سالار کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھی مگر یہ اعتراف اس نے کسی سے آگے نہیں کیا تھا۔ سالار تو یہاں پردیسی تھا اس کے گھر والے امریکہ میں مقیم تھے‘ وہ کسی بھی وقت امریکہ جاسکتا تھا۔ سالار کی شوخی اس کی شرارت اور سحر انگیز آنکھوں کی محویت نے اسے اپنی محبت و چاہت کے طلسم میں بُری طرح جکڑلیا تھا‘ وہ چاہ کر بھی خود کو اس طلسم سے آزاد نہیں کرپارہی تھی۔
آج کنزیٰ کی مہندی تھی وہ بجھے دل سے تیار ہوکر اس کے گھر آگئی تھی‘ وسیع و عریض گھر کے لان میں اس وقت خوب ہنگامہ برپا تھا۔ کنزیٰ کے گھر والوں اور سسرال والوں کے درمیان گانوں کا مقابلہ ہورہا تھا‘ وہ نسبتاً تنہا گوشے میں چلی آئی۔
’’آپ یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ کھدر کے بلیک شلوار سوٹ میں وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اس کے مقابل آکھڑا ہوا۔
’’آپ کو اس سے کیا؟‘‘ وہ حسب معمول تنک کر بولی۔
’’آپ مجھ سے ہمہ وقت خفا خفا کیوں رہتی ہیں۔‘‘ میرون رنگ کے فراک پاجامے کے سوٹ میں ہلکا ہلکا میک اپ کیے وہ بہت حسین لگ رہی تھی پھر وہ خود سے گویا ہوا۔
’’دراصل اس دن میں اپنے دوست کے پلّے کی ریہرسل کررہا تھا‘ وہ تھیٹر ڈرامے کرتا ہے اور زبردستی ایک بھوت کا رول اس نے مجھے دے دیا تھا۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا تو وریشا خفیف سی ہوگئی اور بناء کچھ کہے وہاں سے پلٹ آئی جب کہ سالار وہیں کھڑا دیر تک مسکراتا رہا۔
فنکشن کا اختتام ہوچکا تھا بارہ بجتے ہی پٹاخوں کی آوازوں سے ماحول گونج اٹھا تھا سب ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دے رہے تھے۔
’’اللہ کرے اس سال میری بنّو بھی دلہن بن کر پیادیس سدھار جائے۔‘‘ کنزیٰ نے وریشا کو لپٹاتے ہوئے خلوص سے کہا تو وریشا کا ضبط جواب دے گیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی‘ بہت سارا رونے کے بعد جب وہ خود ہی خاموش ہوئی تو اسے کنزیٰ کی چپ کا احساس ہوا۔
’’بے حس لڑکی میں رو رہی تھی اور تم مجھے چپ بھی نہیں کرارہی تھیں۔‘‘ وریشا اپنے مخصوص انداز میں بولی تو کنزیٰ ہنسنے لگی۔
’’تم کیا سمجھتی ہو میں تمہاری کیفیت سے انجان تھی‘ میری چندا میں اسی دن جان گئی تھی کہ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ جب تم نے اس بھوت بنگلے والے سے محبت کا اظہار کیا تھا۔‘‘ کنزیٰ مایوں کے پیلے جوڑے میں ملبوس مزے لے کر بولی تو وریشا نے اسے انتہائی حیرت سے دیکھا۔
’’پھر سالار بھائی نے ہمیں اس دن والا واقعہ بھی سنا ڈالا‘ جب تم انہیں بھوت سمجھ کر بے ہوش ہوگئی تھیں اور…‘‘
’’اور کیا…؟‘‘ وہ بے ساختہ شرما کر بولی۔
’’اُف اب تم میرا بن کر یہ مصنوعی شرم کی اداکاری مت کرو۔‘‘
’’میں کوئی میرا ویرا نہیں بن رہی۔‘‘کنزیٰ کے چھیڑنے پر وہ کھسیانی ہوکر بولی۔
’’پھر جب گڈو نے بتایا کہ تم چاہتی ہو کہ مجھ سے پہلے تمہاری شادی ہوجائے مگر کوئی رشتہ درکار نہیں ہے تو جھٹ سالا ر بھائی نے تمہیں اپنا رشتہ دے دیا۔‘‘
’’کیا… یہ تم کیا کہہ رہی ہو کنزیٰ! اب بس کرو یہ ڈرامہ۔‘‘ وریشا ناگواری سے بولی۔
’’وریشا باجی یہ ڈرامہ نہیں حقیقت ہے وہ تو سالار بھائی کو آپ کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتانا تھا اور مجھے امی پاپا کو آپ دونوںکے بارے میں ورنہ یقینا آپ کنزیٰ باجی سے پہلے دلہن بن جاتیں۔‘‘ عقب سے گڈو کی کھلکھلاتی آواز ابھری تو وریشا نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا جس کے سنگ کھڑا سالار اسے بے پناہ نروس کرگیا تھا۔
’’بھئی ہم نے سوچا کہ تمہارے خوابوں کے شہزادے یعنی اس بھوت بنگلے سے تو تمہاری شادی نہیں ہوسکتی تو کیا ہی اچھا ہو کہ اس گھر کے مالک سے تمہارا بیاہ کردیں۔‘‘ کنزیٰ ہنستے ہوئے بولی۔
’’مجھے نہیں کرنی ان سے شادی وادی…‘‘ وہ جھنجلا کر بولی ‘ نجانے کہاں سے اتنی ڈھیر ساری شرم عود کر آئی تھی جب ہی گڈو کسی کی آواز پر وہاں سے پلٹا تھا اور کنزیٰ ’’میں ابھی آئی‘‘ کہہ کر وہاں سے کھسک گئی تھی تب ہی سالار چلتا ہوا اس کے قریب آن رکا تھا۔
’’نیا سال ہماری زندگی کے نئے سفر کے ساتھ مبارک ہو۔‘‘ گمبھیر و دلکش آواز پر وریشا نے بمشکل نگاہ اٹھا کر حیا آلود لہجے میں کہا۔
’’آپ کو بھی یہ نیا سال اور یہ سفر مبارک ہو۔‘‘ پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بے ساختہ مسکرادیئے جب کہ سیاہ آسمان پر ٹمٹماتے روشن ستارے ان کی دائمی خوشیوں کے لیے دعاگو ہوگئے دور صبح نو کا ستارہ انہیں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close