Aanchal Jan 15

موم کی محبت(قسط نمبر6)

راحت وفا

میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سِر آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوںکسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

گزشتہ قسط کا خلاصہ
شرمین خوب صورت اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ چار سال پہلے اس کی زندگی میں صبیح احمد آیا تھا اور اتنا ہی عرصہ ان دونوں کی محبت پروان چڑھی پھر صبیح تعلیم مکمل کر کے واپس کراچی اپنے گھر چلا گیا اور شرمین سے وعدہ کرگیا کہ وہ جلد ہی رشتے کے لیے اپنی ماں کو بھیجے گا لیکن صبیح احمد کی ماں شرمین راضی نہیں ہوتیں اور صبیح کی شادی فریحہ سے کردیتی ہے۔
شرمین ایک فرم میں جاب کر رہی ہے شرمین کے آفس میں مرزا صاحب شرمین سے جھوٹی محبت کا دم بھرتے ہیں جس سے پریشان ہو کر شرمین صبیح احمد کو خط لکھ کر کراچی آنے کا بتاتی ہے۔
صبیح احمد پہلی فلائٹ سے شرمین سے ملنے چلا آتا ہے اور اسے اپنی شادی کا بتاتا ہے شرمین اس کی شادی کا سن کر ششدر رہ جاتی ہے۔ شرمین کی کزن زینت آپا کا بیٹا بوبی شرمین سے عمر میں چھوٹا ہونے کے باجود اس سے محبت کرنے لگا ہے جس کا اظہار وہ شرمین سے برملا کرتا ہے شرمین اسے سمجھاتی ہے مگر بوبی بعض نہیں آتا۔
عارض ایک بزنس مین ہے عارض کی شرمین سے پہلی ملاقات سڑک کنارے ہوتی ہے جس سے عارض اس کے حسن کا گرویدہ ہوجاتا ہے اور اظہار محبت کرنے گھر پہنچ جاتا ہے۔
شرمین کو لفظ محبت سے چڑ ہوجاتی ہے اور اب بوبی کے ساتھ مرزا صاحب اور عارض بھی اس کے حسن کے پرستار ٹھہرے تھے۔
عارض صفدر کو شرمین کے بارے میں بتا کر محبت کا اعتراف بھی کرتا ہے جس پر صفدر کو حیرت ہوتی ہے کہ کہاں عارض لڑکیوں کو وقت گزاری کا سبب سمجھتا تھا اور اب اسے شرمین سے محبت ہوگئی ہے۔
صفدر شرمین سے مل کر اسے عارض کی محبت کایقین دلاتا ہے۔ شرمین صفدر کے کہنے پر عارض سے ملتی ہے اور اس سے منگنی کرلیتی ہے شرمین کو لگتا ہے کہ اس منگنی کے بعد سب معاملات ٹھیک ہوجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوتا۔
بوبی بھی انگوٹھی لے کر شرمین کے پاس منگنی کی غرض سے آتا ہے۔ لیکن جب شرمین اسے اپنی اور عارض کی منگنی کا بتاتی ہے تو بوبی کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ خود کشی کی کوشش کرتا ہے لیکن بر وقت زینت آپا اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر اس کی جان بچاتی ہیں اور پھر زینت آپا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرتی ہیں ان کی نظر میں شرمین سے دوری بوبی کے دل سے شرمین کا خیال نکال دے گی مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ کینیڈا جا کر بوبی وہاں کی رنگینیوں میں کھو کر ماں کو بھول جاتا ہے۔
صفدر کی شادی زیبا کے ساتھ بہت دھوم دھام سے ہوتی ہے زیبا جہاں آرابیگم کی پسند ہے۔ صفدر بھی اس شادی سے خوش ہے مگر شادی کی اولین رات اس کے تمام ارمانوں پر اوس پڑ جاتی ہے جب صفدر کو زیبا اپنی کہانی سناتی ہے صفدر کا ارمانوں کا محل ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔
عارض شرمین سے محبت کے عہد و پیماں کر کے بزنس کے سلسلے میں امریکہ آتا ہے اور وہاں اس کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے۔ شرمین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی اماں کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ زینت آپا بھی بوبی کو کینیڈا چھوڑ کر شرمین کے پاس آگئی ہیں۔ مرزا صاحب نے بھی جھوٹی محبت کے اظہار سے شرمین کو عاجز کر رکھا ہے۔
صفدر کو زیبا سے نفرت ہوگئی لیکن وہ اپنی ماں کی وجہ سے زیبا کو گھر سے نہیں نکال سکتا اور ناں ہی اپنی ماں کو زیبا کی حقیقت بتا سکتا ہے۔
زیبا کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس طرح اپنے گناہ کی تلافی کرے اور صفدر کی نظروں میں اپنا مقام حاصل کرے ۔
جہاں آراء کو زیبا کی خراب طبیعت کسی خوشی کا باعث لگتی ہے۔ وہ صفدر سے زیبا کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہتی ہیں مگر وہ ٹال جاتا ہے اور خود ایک ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر ڈاکٹر کے پاس جا پہنچتا ہے۔ جہاں آراء اس کے بازو اور سر پر پٹی بندھی دیکھ کر گھبرا جاتی ہیں۔
شرمین سے بے لوث محبت کرنے والی اس کی اماں خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہوئے غم کی تصویر بن کر رہ گئی ہے صفدر اور زینت آپا اس کی دلجوئی کر رہے ہیں امریکہ سے عارض بھی فون کر کے اسے صبر کرنے کو کہتا ہے۔
دو دن کی چھٹی کے بعد جب شرمین واپس آفس آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے اس کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی سیٹ کسی اور کو دے دی ہے۔ شرمین ان سے پوچھتی ہے تو مرزا صاحب اس کی غیر حاضری اور کام کی زیادتی بتا کر شرمین کو اپنی پرسنل سیکرٹری کی نوکری کی پیش کش کرتے ہیں۔ جس پر شرمین اپنا استعفیٰ دے دیتی ہے۔
زیبا کو اپنے اندر ہونے والی تبدیلی خوش آئند لگ رہی ہے۔ وہ سوچ رہی ہے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا لیکن جب دوسرے دن وہ آفس سے واپسی پر میڈیکل اسٹور سے زیبا کی دوا لیتا ہے تب اسے زیبا کی مسکراہٹ سمجھ آتی ہے اور وہ گھر آکر زیبا کو اپنے گھر میں رہنے کے لیے اس کے سامنے شرط رکھ دیتا ہے۔
زینت آپا شرمین کو لے کر اپنے گھر آجاتی ہیں اور اب وہ چاہتی ہیں کہ شرمین ہمیشہ وہیں رہے جبکہ زینت آپا بوبی کو بھی سمجھا کر دیکھ چکی ہیں اس کی ابھی بھی وہی ضد ہے کہ اگر شرمین اس کی محبت کو قبول کرلے تو وہ واپس آجائے گا اب زینت آپا ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر شرمین کو بوبی کا ساتھ قبول کرنے کے لیے دل میں دعا کر رہی ہیں۔
بوبی بھی شرمین کے اپنے گھر آنے پر خوش ہے اور اس سے جلدی واپس آنے کا وعدہ کرتا ہے۔ شرمین بوبی کے گھر آکر پریشان ہوگئی ہے جبکہ زینت آپا نے اپنا بزنس بھی شرمین کے حوالے کردیا ہے۔ مرزا صاحب بھی شرمین کو منانے گھر پہنچ گئے ہیں۔ عارض کا آپریشن بھی کامیاب ہوگیا ہے اور وہ پاکستان آنا چاہتا ہے لیکن جب وہ شرمین سے اپنی بے انتہا محبت کا جواب مانگتا ہے تو وہ ذہنی الجھن کی وجہ سے عارض کو ٹھیک جواب نہیں دے پاتی جس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور واپس پاکستان آنے کا ارادہ چھوڑ کر وہیں مصروف ہوجاتا ہے۔ زیبا صفدر کی شرط مانتے ہوئے گھر سے نکل جاتی ہے اور اتفاق سے اس کی ملاقات اپنی سہیلی ننھی سے ہوتی ہے جو ایک عرصے سے سعودی عرب رہنے کے بعد اب طلاق لے کر واپس آگئی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ز…ژ…ز
’’یار تمہارا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ عارض نے جھنجلا کر پوچھا۔
’’زیبا… زیبا میری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ صفدر نے پہلی مرتبہ بڑے برے انداز میں اظہار کیا۔
’’کیسا مسئلہ؟‘‘ عارض نے دہرایا۔
’’یار تم چھوڑو‘ پہلے ہی امی نے میرا ناطقہ بند کر رکھا ہے‘ کہ ابھی جائو۔‘‘
’’فی الحال تم امی کا کہنا مان لو‘ آپس کا جھگڑا بیٹھ کر حل کرو۔‘‘
’’تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوسکتا کہ جھگڑا کیا ہے؟‘‘ اس نے لمبی سانس بھری۔
’’دیکھو! بہت سی خامیوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ تم جائو جاکر بھابی کو لے آئو۔‘‘ عارض نے سمجھایا۔
’’نہیں‘ ویسے بھی وہ اپنی مرضی سے گئی ہے۔‘‘
’’میں شرمین سے کہتا ہوں کہ وہ بھابی سے مل کر انہیں سمجھائے۔‘‘ عارض نے کہا۔
’’نہیں‘ اس کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’یار! تم چاہتے کیا ہو؟‘‘ عارض کو غصہ آگیا۔
’’زیبا کا جرم سنو گے تو نفرت سے تھوکو گے۔‘‘ صفدر کو بھی غصہ آگیا۔
’’کہیں کسی اور میں تو…‘‘ عارض نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’صرف انوالو ہی نہیں…‘‘ وہ بولا۔
’’اوہ ویری سوری۔‘‘ عارض کے دل کو دھچکا لگا۔
’’میرا ضبط ہے کہ میں نے اسے برداشت کیا۔‘‘
’’تو پھر‘ اپنے بچے کا سوچو۔‘‘
’’اس سے مجھے بچہ نہیں چاہیے‘ بچے کے لیے اس کی کوکھ پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’مگر یار! بچہ تو تمہارا ہے۔‘‘
’’ہنہ‘ لیکن محض جذباتی اتفاق۔‘‘
’’تو اس میں بچے کا کیا قصور؟‘‘
’’میرا بچہ ایسی عورت کے وجود سے پیدا نہیں ہوگا‘ تم بتائو کیا تم اپنی بیوی کے کالے کرتوت برداشت کرلو گے؟‘‘ صفدر نے سوال کیا۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’تو میں بھی یہ سب برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘
’’یعنی تمہیں بچہ نہیں چاہیے‘ یہ تو زیادتی ہوگی۔‘‘
’’کہہ سکتے ہو‘ ابھی امی کو کچھ پتا نہیں‘ وہ بچہ کی ضد چھوڑ دے تو میرے گھر میں پڑی رہے۔‘‘ صفدر نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
’’یہ تو بہت عجیب فیصلہ ہے۔‘‘
’’شاید۔‘‘
’’تو پھر علیحدگی بہتر ہے۔‘‘
’’بچہ تو پھر بھی میرا وہ نہیں رکھ سکتی۔‘‘
’’اچھا‘ فی الحال‘ تم غور کرو اور ابھی بھابی سے ملنے جائو‘ امی کو صدمہ نہ پہنچائو۔‘‘ عارض نے سمجھایا۔
’’امی کی وجہ سے ہی تو اب تک قبول کیا ہوا ہے۔‘‘
’’اور باقی سب تو خیریت ہے نا‘ میرامطلب ہے شرمین۔‘‘
’’ٹھیک ہیں‘ بس اپنی ٹینشن سے نجات نہیں ملتی… تم نے فون نہیں کیا۔‘‘
’’کیا تھا‘ بس اب تو ڈاکٹر سے چلنے پھرنے کی یا سفر کرنے کی اجازت کا انتظار ہے۔‘‘
’’بابا ٹھیک ہیں۔‘‘
’’ہنہ‘ اے ون‘ ابھی مارکیٹ گئے ہیں۔‘‘
’’چلو میرا سلام کہنا۔‘‘
’’اوکے‘ لیکن تم سمجھداری سے کام لینا‘ امی کی خاطر ہی سہی۔‘‘
’’اوکے‘ اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘
فون بند کرکے وہ بیڈ پر گر گیا۔ عارض کے فون سے کافی دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا تھا۔ ورنہ وہ کافی ڈپریشن میں تھا… اب کافی سچو بچار کے بعد اس نے یہ فیصلہ ضرور کیا تھا کہ ایک بار وہ زیبا کے گھر چلا جائے‘ ماں کے حکم کی تعمیل کرے‘ اور پھر زیبا سے دو ٹوک بات کرے… مگر اس وقت جانا مناسب نہیں تھا‘ لہٰذا صبح کا ارادہ کرکے سوگیا۔
ز…ژ…ز
دروازے پر لگاتار دستک ہورہی تھی۔
کوئی آٹھویں‘ دسویں دستک پر حاجرہ نے دروازہ کھولا تو صفدر کو تنہا دیکھ کر وہ کچھ تذبذب کا شکار ہوئیں‘ مگر اس نے سلام کیا تو مسکرادیں۔
’’آئو‘ خیریت صبح صبح…‘‘ انہوں نے اندر آنے کی دعوت میں اپنی فکر کو اجاگر کیا۔
’’وہ بس…‘‘ وہ یکسر ٹالتے ہوئے اندر آگیا۔
’’زیبا تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ حاجرہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’جی… وہ…‘‘ وہ ٹھیک سے ان کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔
’’کیسے آنا ہوا؟ زیبا کو بھی لے آتے اس کے ابا کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ حاجرہ نے گویا یہ سب کہہ کر اس کی مشکل حل کردی۔
’’جی ضرور… میں یہاں سے گزر رہا تھا۔‘‘ وہ ہکلایا۔
’’چائے‘ ناشتہ۔‘‘
’’نہیں‘ بس میں چلتا ہوں۔‘‘
’’اپنے انکل سے نہیں ملوگے؟‘‘ اسے ایک دم کھڑا دیکھ کر حاجرہ نے کہا۔
’’جی‘ زیبا کے ساتھ آئوں گا۔‘‘ وہ سخت ذہنی الجھن کا شکار ہونے کے باعث ایک پل بھی یہاں رکنا نہیں چاہتا تھا۔ حاجرہ نے خاموشی اختیار کی وہ سلام کرکے تیزی سے باہر نکل آیا۔ دماغ مائوف ہورہا تھا کہ زیبا پھر کہاں گئی… رات بھر وہ کہاں رہی…؟ اس سوال نے اسے اپنے حصار میں لے لیا… جوں جوں سوچ رہا تھا‘ زیبا سے بدظن اور بدگمان ہوتا جارہا تھا۔ غم وغصہ اور نفرت سے اس کا انگ انگ سلگ رہا تھا۔
’’میری طرف سے بھاڑ میں جائے۔‘‘ گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتے ہوئے اس نے سوچا مگر اگلے ہی لمحے امی جان کا سوچ کر خودبخود گاڑی کی اسپیڈ کم ہوتی چلی گئی۔
’’اب امی جان کو کیا بتائوں کہ ان کی لاڈلی بہو گھر نہیں گئیں… رات بھر جانے کہاں رنگ رلیاں مناتی رہیں؟ لیکن جانتا ہوں امی نے ہزار باتیں مجھے ہی سنانی ہیں‘ انہوں نے میری کسی بات پر یقین نہیں کرنا… اور میں زیبا کو کہاں سے لاکر ان کے سامنے پیش کروں۔‘‘
’’یاخدا!‘‘ اس نے بے بسی سے کہا… آفس کے لیے دیر ہورہی تھی‘ گھر میں جہاں آراء کو سوتا چھوڑ کر نکلا تھا۔ ان کے پیروں پر آبلے پڑ گئے تھے وہ ناشتہ نہیں بناسکتی تھیں… ان کا خیال آتے ہی اس نے گاڑی گھر کی طرف دوڑائی‘ ماں کے خیال سے ہر الجھن اس کے ذہن سے نکل گئی۔ اس نے سوچ لیا کہ زیبا سے متعلق کچھ بھی کہہ دے گا… فی الحال امی کو ہر دکھ اور صدمے سے دور رکھنا ہے‘ باقی بعد کی بعد میں دیکھیں گے… کچھ نہ کچھ تو اس کہانی کا انجام ہوگا… کچھ بھی تھا‘ وہ زیبا کے لیے پہلے کیا کم متنفر تھا جو اس نے یوں گھر چھوڑ کر مزید اسے اشتعال دلایا… اب اسے ڈھونڈنا کس قدر دشوار تھا… من چاہی چیز تلاش کرنے کے لیے انسان جنون کی حدوں سے گزر جاتا ہے‘ مگر جسے دل نہ چاہے اس کے لیے جنون تو دور کی بات کوئی ہلکی سی تحریک بھی نہیں ہوتی… یہی حال اس کے دل کا تھا‘ زیبا کا جانا سکون کا باعث تھا‘ اسے تلاش کرنے کی آرزو بھی نہیں تھی‘ صرف مجبوری تھی‘ زمانے کی نظروں میں قانوناً شرعاً وہ اس کی بیوی تھی… بلکہ اب تو اس کی کوکھ میں اس کے وجود کا احساس بھی پیدا ہوگیا تھا۔
ز…ژ…ز
اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی جہاں آرا نے پہلا سوال یہی کیا۔
’’کیا لے آئے ہو زیبا کو؟‘‘
’’وہ… وہ آرہی ہے‘ آجائے گی۔‘‘ وہ ہکلایا۔
’’ہیں… ارے وہ کیسے آجائے گی؟‘‘ وہ تقریباً غصے سے بولیں۔
’’جیسے گئی تھیں…‘‘ اس نے بھی غصہ ضبط کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’وہ تو مجبوری تھی‘ مگر اب تو تم گئے تھے۔‘‘
’’کوئی مجبوری نہیں تھی‘ آپ پریشان نہ ہوں‘ میں ناشتہ بناتا ہوں۔‘‘
’’صفدر! صاف صاف بتائو اس نے کیا کہا؟‘‘ انہوں نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’امی! آپ لعنت بھیجیں‘ آنا ہوگا آجائے گی۔‘‘ وہ جھنجلا گیا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟ شرم نہیں آتی بیوی پر لعنت بھیجتے ہوئے۔‘‘
’’آپ جو ایک ہی بات کے پیچھے پڑجاتی ہیں…‘‘ وہ شرمندہ سا ہوگیا۔
’’لڑائی کس بات کی ہے؟‘‘
’’اس نے سرے سے اس گھر کو قبول ہی نہیں کیا…؟‘‘ مجبوراً اسے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔
’’کیا مطلب؟ ایسا کب کہا اس نے؟‘‘ وہ متعجب ہو کر بولیں۔
’’سب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
’’وہ تو بہت اچھی ہے۔‘‘
’’میں نے کب برا کہا‘ نصیب تو میرا برا ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔
’’صفدر! ضرور کوئی بات ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ہے‘ وہ آجائے گی۔‘‘
’’کب…؟‘‘
’’اس کے والد صاحب کی طبیعت خراب ہے‘ آجائے گی۔‘‘ اسے مزید جھوٹ بولنا پڑا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’وہ طویل عرصے سے بیمار ہیں‘ بڑھاپا ہے۔‘‘ وہ ان پر بیزاری ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے نرمی سے بولا۔ وہ چپ ہوگئیں۔ تو وہ پھر بولا۔
’’اب میں ناشتہ بنانے جائوں‘ مجھے آفس بھی جانا ہے۔‘‘
’’ہنہ‘ بس مجھے ایک ٹوسٹ اور دودھ کا کپ دے دو۔‘‘ امی نے کہا تو وہ اثبات میں گردن ہلا کر کچن کی طرف آگیا‘ لیکن ایک دم ہی ایسا لگنے لگا کہ اس کا دھیان‘ صرف اور صرف اس جھوٹ کی طرف ہے جو کچھ دیر پہلے ماں سے بولا ہے۔ انڈے‘ بریڈ‘ دودھ سب نظروں کے سامنے تھا‘ مگر وہ بے جا ہاتھ مار رہا تھا‘ سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کچن میں کس مقصد سے کس کام کے لیے آیا تھا؟
’’صفدر! یہ تمہاری زندگی کی خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی… کیا ہونے والا ہے؟ کب تک ماں سے جھوٹ بولوگے‘ اگر زیبا گھر نہ گئی تو اس کے ماں باپ کو کیا جواب دوگے؟ ذہن میں سوال کلبلائے تو وہ اور زیادہ مضطرب ہوگیا… جیب میں موبائل فون بجا تو وہ چونکا‘ جلدی سے فون نمبر د یکھا‘ مگر نامعلوم نمبر بند ہوچکا تھا‘ اسے ناشتہ بنانے کا خیال آیا‘ جلدی جلدی امی کے لیے اور اپنے لیے انڈے فرائی کیے‘ سلائس سینکے‘ دودھ گرم کرکے گلاسوں میں ڈالا اور کچن سے باہر نکل آیا۔
ز…ژ…ز
وہ گہری سوچ میں غلطاں تھی۔ ننھی نے ناشتہ میز پر لگایا اور بولی۔
’’اوہ! بھئی تم کس سوچ میں پڑگئیں؟‘‘
’’کتنا بے حس ہے وہ شخص‘ فون نہیں سنا۔‘‘ زیبا بہت افسردہ تھی۔
’’یار! کوئی وجہ بھی ہوسکتی ہے‘ تمہارے آنے سے‘ جانے وہ کتنے پریشان ہوں…‘‘ ننھی نے اس کے لیے سلائس پر مارجرین لگاتے ہوئے کہا۔
’’میرا دل گھبرا رہا ہے‘ جانے کیا ہونے والا ہے؟‘‘
’’دیکھو! دو ہی باتیں ہیں‘ ایک یہ کہ تم گھر چلی جائو‘ یا پھر دل مضبوط رکھو۔‘‘
’’اور اماں‘ ابا وہ تو صدمے سے مرجائیں گے۔ صفدر ان کو بتائے گا۔‘‘
’’خود ہی تو کہہ رہی ہو کہ صفدر کو تمہاری پروا نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر‘ فکر چھوڑو آرام سے ناشتہ کرو۔‘‘ ننھی نے کہا۔
’’سوچتی ہوں کہ اماں ابا نے اگر مجھے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دی‘ تو کیا ہوگا؟‘‘
’’یہ گھر ہے نا‘ کیوں فکرمند ہوتی ہو‘ ابھی گرد چھٹے گی‘ صفدر بھائی تمہارا خیال کریں گے‘ وہ بھلا کب تک اپنی امی سے جھوٹ بولیں گے۔‘‘ ننھی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’مگر صفدر مجھے وہاں دیکھنا ہی نہیں چاہتے‘ اب وہ بچے کے درپے تھے‘ تو میں نے گھر چھوڑا۔‘‘
’’حیرت ہے کوئی اپنے بچے کے بھی درپے ہوسکتا ہے۔‘‘
’’انہیں مجھ سے اپنا بچہ نہیں چاہیے۔‘‘ وہ افسردہ سی بولی تو ننھی کو اشتعال آگیا۔
’’ہنہ! انہیں یہ سب پہلے سوچنا تھا۔‘‘
’’میرے ساتھ یہی ہونا تھا‘ میں نے محبت میں دھوکا کھایا‘ اگر کوئی مجھ سے سبق لے تو میں محبت سے دور رہنے کو کہوں۔‘‘
’’اب کف افسوس ملنے سے کیا حاصل؟ تم اپنے بچے کے ساتھ آرام سے زندگی گزارو۔‘‘
’’ہاں! مجھے کسی صورت اپنے بچے سے الگ نہیں ہونا‘ یہ بچہ تو میری آبرو ہے‘ مجھے صفدر سے اس کے لیے نہیں ڈرنا… صفدر کو میرا بچہ چھین لینے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وہ کافی مضبوط ارادے کے ساتھ بولی۔
’’چلیں۔‘‘ ننھی نے پوچھا۔
’’ہاں! میں ذرا چادر لے آئوں۔‘‘ وہ کہہ کر کمرے کی طرف جانے ہی والی تھی کہ ننھی کا موبائل بج اٹھا۔ ننھی نے بغور نمبر دیکھتے ہوئے فون اٹینڈ کیا۔
’’ہیلو! جی کون؟‘‘ ننھی نے کہا۔
’’آپ نے میرا نمبر ملایا تھا جی۔‘‘ ددوسری طرف سے کچھ سنجیدہ اور جھجکتی آواز آئی۔
’’آپ صفدر بھائی بول رہے ہیں۔‘‘ ننھی نے پوچھا‘ زیبا لپک کر اس کے قریب آگئی۔
’’ج… جی… آپ کون…؟‘‘
’’میں زیبا کی سہیلی ہوں ننھی‘ میں نے ہی آپ کا نمبر ملایا تھا۔‘‘
’’کون؟ میرامطلب ہے میرا نمبر آپ کے پاس…‘‘
’’زیبا نے دیا‘ یقینا کبھی میرے بارے میں اس نے بتایا ہی نہیں ہوگا۔‘‘
’’ہمارے اتنے بے تکلفانہ مراسم نہیں تھے۔ خیر کہیے۔‘‘
’’آپ بیوی کے لیے نہیں جاننا چاہیں گے۔‘‘ ننھی نے کچھ سنجیدگی سے پوچھا۔
’’بیویاں گھر سے نہیں بھاگتیں۔‘‘ زہر میں بجھا لہجہ تھا۔
’’وہ میرے پاس ہے‘ بھاگی تو نہیں۔‘‘
’’آپ کوئی بھی معنی پہنائیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ گھر سے بنا بتائے گئی۔‘‘
’’حقیقت یہ بھی نہیں ہے‘ فون پر یہ بات نہیں ہوسکتی‘ اگر آپ مل بیٹھ کر بات کرلیں تو بہتر ہوگا۔‘‘
’’اسے کہیے کہ خاموشی سے گھر آجائے‘ مگر میری شرط پر۔‘‘
’’مطلب…؟‘‘
’’مطلب اسے معلوم ہے۔‘‘ فون دوسری طرف سے بند ہوگیا۔ ننھی زیبا کو دیکھنے لگی‘ وہ غمزدہ سی صوفے پر گرسی گئی تھی۔ ننھی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
’’اللہ بہتر کرے گا‘ پریشان نہ ہو۔‘‘ ننھی نے سمجھایا تو وہ طویل سانس بھر کر رہ گئی۔
ز…ژ…ز
’’سترہ سو پچاس روپے دے دیجیے۔‘‘ میڈیکل اسٹور کے سیلز مین نے میڈیسن کا بل بناتے ہوئے کہا۔ زیبا ایک دم پریشان سی ہوگئی‘ اس کی پریشانی بھانپتے ہوئے ننھی نے اپنے بیگ سے پیسے نکال کر دے دیئے۔
’’میں شرمندہ ہوں‘ کچھ پیسے ہیں میرے پاس۔‘‘ زیبا نے میڈیکل اسٹور سے باہر نکلتے ہوئے کہا تو ننھی نے ہلکی سی خفگی بھری نظروں سے دیکھا اور کہا۔
’’ایسے کیوں کہا؟‘‘
’’زندگی کس موڑ پر لے آئی ہے؟‘‘ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
’’اچھا اب شکل ٹھیک کرو‘ تمہارے اماں ابا کیا سوچیں گے؟‘‘ ننھی نے کہا اور ہاتھ کے اشارے سے ایک رکشہ رکوایا اور پتہ سمجھا کر دونوں بیٹھ گئیں۔ سارے راستے ننھی اسے تسلیاں دیتی رہی… اپنے گھر پہنچنے تک بچے کی خاطر وہ کافی مطمئن اور مضبوط سا خود کو محسوس کررہی تھی۔
اماں اسے اچانک دیکھ کر نہال ہوگئیں۔ ننھی کو بھی انہوں نے خوب پیار کیا۔
’’صفدر آیا تو…‘‘
’’وہ میں اپنا گھر سیٹ کررہی ہوں اس لیے زیبا کو لے آئی تھی۔‘‘ ننھی نے اماں کے بولتے ہی جلدی سے بات سنبھالی۔
’’اچھا‘ تم پاکستان آگئی ہو۔‘‘
’’جی خالہ‘ بس اپنا ملک ہی اصل گھر ہوتا ہے۔‘‘
’’اور بچے وغیرہ۔‘‘
’’کوئی نہیں ہے‘ میں اکیلی ہی آئی ہوں۔‘‘
’’اور میاں…؟‘‘
’’اماں‘ مجھے کچھ گھبراہٹ ہو رہی ہے‘ ابا سے ملتے ہیں‘ تم کچھ ٹھنڈا بنادو۔‘‘ زیبا نے اب کی بار اماں کو اس کی طرف سے ہٹایا۔
’’خالہ! آپ نانی بننے والی ہیں‘ کچھ بھی اسے جلدی سے دے دیں۔‘‘ ننھی نے شرارت سے کہا تو حاجرہ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔
’’سچ‘ ارے اتنی بڑی خوشی کی خبر صفدر کیوں نہیں بتا کر گیا؟‘‘ حاجرہ نے زیبا کو گلے لگایا‘ پیشانی چومی اور کہا۔
’’وہ پہلے اور کیا بتاتے ہیں…؟‘‘ زیبا بڑبڑائی۔
’’تم دونوں اندر چلو‘ میں کچھ لاتی ہوں۔‘‘ حاجرہ نے کہا اور کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ اور وہ دونوں وہیں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتی رہیں۔
’’کتنا دکھ ہوگا اماں کو اگر صفدر کا فیصلہ سن لیں تو۔‘‘
’’کچھ بتانے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے‘ میں صفدر بھائی سے مل لوں پھر…‘‘ ننھی نے دھیرے سے کہا تو وہ خاموش ہوگئی۔
مگر ابا کے سینے پر سر رکھتے ہی سسکیوں سے رونے لگی۔ کتنے دنوں کا دکھ آنسوئوں کی صورت بہہ نکلا… ان کی بوڑھی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔
’’اچھا کیا‘ تم آگئیں‘ میرے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے‘ زیبا…‘‘ وہ اکھڑی سانس کے ساتھ مشکل سے بولے۔ تو وہ شدت سے رو دی۔
’’ابا‘ ایسے نہ کہیں‘ میرا اور اماں کا کون ہے؟‘‘
’’زیبا! انکل کی طبیعت خراب ہے‘ تم اور خراب کررہی ہو۔‘‘ ننھی نے اسے سیدھا کرکے کرسی پر بٹھایا۔
’’انکل! آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ ننھی کے دلاسے پر ابا کو یقین نہیں آیا‘ کرب سے مسکرا دیئے۔
زیبا کا دل اس کرب سے گھائل ہونے لگا۔ وہ بظاہر ابا کے کندھے دباتی رہی لیکن اندر بیکل کردینے والا دکھ طغیانی پر تھا… ہر طرف سے مصائب اور مشکلات نے گھیرا ہوا تھا‘ شوہر سے لڑی جانے والی خفیہ جنگ میں دور دور تک اس کے لیے بے آب وگیاں میدان تھا‘ جانے جیت کس کی تھی اور مات کس کو ہونی ہے… وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان تھی۔
ننھی کچھ دیر بیٹھ کر چلی گئی‘ تو وہ اپنے کمرے میں آگئی… اماں نے اسے روک لیا… وہ انکار نہ کرسکی‘ طبیعت بھی خراب تھی… اپنے پلنگ پر دراز ہوئی تو ہوش نہ رہا۔
ز…ژ…ز
اس نے ضروری فائلوں کو دیکھنے کے بعد دستخط کیے اور چند لمحے کے لیے سر کرسی کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں… مگر اگلے ہی لمحے فون بجنے لگا۔
’’جی…‘‘
’’میم آپ کی کال ہے۔‘‘ سکریٹری نے کہہ کر لائن تھرو کردی۔
’’ہیلو۔‘‘
’’ویلڈن سوئٹ ہارٹ۔‘‘ بوبی کی آواز آئی تو وہ سنبھلی۔
’’کیسے ہو…؟‘‘
’’فائن۔‘‘
’’کیسے یاد کیا؟‘‘
’’یاد اسے کرتے ہیں جسے بھولتے ہوں۔‘‘ وہ شوخ ہوا۔
’’بوبی! باہر رہ کر بہت شارپ ہوگئے ہو۔‘‘
’’تمہارے لیے تو میں ویسا ہی ہوں۔‘‘
’’مجھے ضروری کام کرنے ہیں‘ باقی پھر سہی۔‘‘ اس نے ٹالا۔
’’میں تمہیں دیکھ رہا ہوں‘ بہت خوشی ہورہی ہے‘ آج اس آفس میں مس شرمین ہیں‘ کل مسز بابر ہوں گی… جب میں آجائوں گا…‘‘ بہت خمار آلود لہجہ اور جملہ تھا۔ وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوگئی۔
’’بوبی! پلیز۔‘‘
’’ماما کی ضد ہے میں آجائوں‘ تم چاہتی ہو نہ آئوں۔‘‘
’’نہیں‘ میں‘ میں نے کب منع کیا؟‘‘ وہ ہکلائی۔
’’آئوں گا تو ایک ہی شرط ہے۔‘‘
’’پلیز‘ بیکار باتیں سننے کا وقت نہیں ہے میرے پاس۔‘‘ اس نے جھنجلا کر فون بند کردیا۔
’’یااللہ! میں کیا کروں؟‘‘ وہ بڑبڑائی… ذہن عارض کی طرف گیا تو مزید پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ عارض تو وہیں کا ہو کے رہ گیا تھا۔
’’اگر آجائے تو کچھ مسئلہ حل ہوجائے۔‘‘ اس نے سوچا۔
’’لیکن کیسے؟ بوبی کا آنا ضروری ہے‘ اس کی ضد برقرار ہے‘ زینت آپا کی بیماری ہے… کچھ بھی تو اپنی جگہ پر نہیں‘ زینت آپا کے احسانات کا بدلہ یہ تو نہیں کہ انہیں چھوڑ چھاڑ کر عارض سے شادی کرلی جائے… اس صورت میں بوبی پاکستان نہیں آئے گا‘ اور یوں زینت آپا کے کاروبار کا کیا ہوگا…؟‘‘ یہ باتیں اس کے دماغ میں فلم کی طرح چل رہی تھیں… ایسی فلم کی طرح جس کا انجام اسے قطعی معلوم نہیں تھا۔ زندگی گرداب میں پھنس چکی تھی۔ کاش! صبیح احمد تم نے مجھے وقت اور حالات کے سامنے بے بس نہ کیا ہوتا؟ میری منزل پر کھڑے ہو کر تم نے کس بے رحمی سے مجھے واپس لوٹنے کا حکم سنایا‘ میری محبت‘ میرے خلوص کو دھتکارا تھا کہ میں اب تک منزل پر نہیں پہنچی؟ عارض کی صورت جو زندگی میں نے منتخب کی ہے اس کے بارے میں سوچ کر دل مضطرب سا ہوجاتا ہے‘ جانے سکون اور اطمینان کیوں نہیں حاصل‘ محبت کی شکلیں کیوں بدلتی رہتی ہیں…؟‘‘ وہ آنکھیں موندے سوچ رہی تھی کہ موبائل فون کی گھنٹی نے چونکا دیا۔ عارض کا فون تھا۔
’’ہیلو‘ بڑی عمر ہے آپ کی…‘‘ وہ کچھ خوش ہوکر بولی۔
’’جتنی بھی ہے‘ بس بسر تمہارے ساتھ ہو۔‘‘ عارض کی شوخ آواز نے اسے گدگدایا۔
’’اچھا… اچھا کیسے ہو… کب آئوگے؟‘‘
’’بہت بہتر‘ ڈاکٹرز نے مجھے اجازت دے دی ہے‘ میں چل سکتا ہوں‘ بس ذرا گھوم پھر کے‘ جلد واپسی ہے… پھر دو ماہ بعد چیک اپ کے لیے آنا ہوگا۔‘‘ اس نے تفصیل سے بتایا۔
’’شکر ہے اللہ کا۔‘‘
’’میں نے بابا سے کہہ دیا ہے کہ چیک اپ کے لیے آئوں گا تو شرمین کو ساتھ لائوں گا۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے زینت آپا کا آفس ٹیک اوور کیا ہے‘ وہ بیمار بھی زیادہ ہیں۔‘‘
’’اچھا… اچھا‘ میں نے اپنے لیے تم سے منگنی کی ہے۔‘‘ وہ صاف لہجے میں بولا۔
’’میں نے کب انکار کیا ہے…؟‘‘
’’تو بس اگلی بار میرے ساتھ آنا ہے۔‘‘
’’اچھا‘ ہنوز دلی دور است۔‘‘ وہ بولی تو وہ چلایا۔
’’آسان سا جواب پلیز۔‘‘ اسے ہنسی آگئی۔
’’اچھا‘ دیکھیں گے۔‘‘ مگر عارض کے اطمینان کے لیے یہ نامکمل سا جواب تھا۔
’’میں کچھ نہیں سنوں گا۔‘‘
’’اب کوئی اور بات بھی کرلو۔‘‘
’’صفدر کا فون آف جارہا ہے‘ کئی روز سے بات ہی نہیں ہوئی۔‘‘
’’اچھا… مجھے بھی کافی دن ہوگئے‘ آج چکر لگاتی ہوں۔‘‘
’’گڈ!‘‘
’’بس یہاں آفس کا نظام کافی ڈسٹرب ہے‘ اسے ٹھیک کرنے میں بہت وقت لگے گا۔‘‘ اس نے اپنی دانست میں ویسے ہی بتایا‘ مگر وہ چڑ گیا‘ کہ شاید اسے سنایا جارہا ہے۔
’’ٹھیک ہے اس آفس سے ہی شادی کرلو۔‘‘ فون کھٹ سے بند ہوگیا‘ شرمین کی آنکھیں کھلی رہ گئیں‘ فون دیکھتے ہوئے صدمے سے دل بھر آیا… کچھ دیر نارمل ہونے میں لگے… پھر یہ سوچ کر تسکین وتسلی خود کو دی کہ عارض کو اس سے شدید محبت تو ہے… یہ احساس بھی بہت خوش آئند تھا۔ روتے روتے مسکراہٹ لبوں پر مچل گئی۔
ز…ژ…ز
تیری یادیں کانچ کے ٹکڑے
اور میرا دل
ننگے پائوں !!
بیڈ کی پشت گاہ سے ٹیک لگائے وہ کافی دیر سے اپنے اور زیبا کے تعلق پر غور کررہا تھا۔ کمرے میں اس کی مہک قائم تھی‘ صوفے پر اس کا سبز دوپٹہ پڑا تھا‘ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر بال باندھنے والا ریشمی رومال پڑا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر کانوں کی بالیاں موجود تھیں۔ واش روم کے باہر سیاہ سلیپر رکھے تھے۔ وہ سب سے نظریں چرانے کی ناکام کوشش میں صرف اپنے اعصاب کو تھکا رہا تھا۔ اسے نہ یہ یقین تھا کہ زیبا لوٹ کر آئے گی یا ہمیشہ کے لیے چلی گئی… اسے زچ کردے گی یا خاموشی سے بات مان لے گی… مگر ہر صورت میں گھر تو بکھر جائے گا… اور ایسے میں وہ ماں کو اور باہر جان پہچان والوں کو کیا بتائے گا؟ وہ جانے کہاں رہ کر کس کس کو کیا کچھ بتارہی ہوگی‘ میرے بچے کے حوالے سے الزامات کی بارش مجھ پر برسا رہی ہوگی‘ سب مجھے سفا ک اور ہرجائی سمجھیں گے‘ کوئی یہ نہیں یقین کرے گا کہ مجھے وہ بچہ کیوں نہیں چاہیے؟ اس سے میرا خونی تعلق ہے مگر روحانی نہیں… میر ادماغ‘ میرا دل اس کو تسلیم نہیں کررہے…‘‘ اتنا کچھ سوچنے کے بعد اسی طرح کچھ تکیے پر جھکا ہی تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور شرمین کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر فوراً سیدھا ہوگیا۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام‘ آپ اس وقت خیریت۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’آپ جو اتنے دنوں سے آئے نہیں‘ کوئی خیر خبر نہیں تھی‘ اس لیے خود آگئی۔‘‘ شرمین نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’بس شرمین بہن‘ آفس کی مصروفیت بہت ہے آج کل۔‘‘ وہ بمشکل ٹال سکا۔
’’بھابی نظر نہیں آرہی۔‘‘
’’ہاں‘ وہ چلی گئی ہیں۔‘‘ وہ ایکدم کہہ گیا۔
’’کہاں؟‘‘
’’وہ اپنے گھر گئی ہیں۔‘‘ وہ ہکلایا۔
’’اسی لیے آپ اداس بیٹھے ہیں۔‘‘ شرمین نے مسکرا کر کہا۔
’’آپ سنائو‘ عارض کی سنائو۔‘‘ وہ بے ربط سی باتیں کررہا تھا۔ شرمین کو صاف محسوس ہورہا تھا۔
’’صفدر بھائی‘ آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔‘‘
’’ارے‘ نہیں‘ ایسی کوئی بات نہیں‘ بس تھکا ہوا ہوں۔‘‘ وہ کمال ہوشیاری سے ٹال گیا۔
’’اچھا‘ عارض نے کہا کہ آپ سے کئی روز سے بات نہیں ہوئی۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ کرلوں گا‘ ذرا مصروفیت کم ہوجائے۔‘‘
’’اچھا ہوا بیٹی تم آگئیں‘ اب تم ہی صفدر کو سمجھائو۔‘‘ اسی اثنا میں جہاں آرا چائے لے آئیں اور براہ راست شرمین سے مخاطب ہوئیں۔
’’جی بتائیے۔‘‘ شرمین نے پوری توجہ سے پوچھا۔
’’بیٹا‘ اسے سمجھائو میری بہو کو لے آئے۔‘‘ انہوں نے برملا کہا۔
’’امی وہ اپنے گھر گئی ہے‘ خود آجائے گی۔‘‘ صفدر جھنجلا کر بولا۔
’’کیوں خود آجائے گی‘ تم جاکر لے آئو۔‘‘ انہوں نے سختی سے کہا۔
’’اچھا‘ اچھا لے آئیں گے‘ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ شرمین نے جلدی سے کہا۔
صفدر اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا تو شرمین نے اندازہ لگایا کہ کوئی مسئلہ ہے؟
’’یہ صفدر جانے کیوں زیبا کو لانا نہیں چاہتا‘ وہ اس کی وجہ سے گئی ہے۔‘‘
’’کیا وجہ ہوگی؟ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ میں پوچھوں گی۔‘‘ شرمین ان کی نم آلود آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’مجھے لگتا ہے صفدر کو کوئی لڑکی پسند آگئی ہے۔‘‘ وہ رقت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’ارے نہیں… نہیں‘ صفدر بھائی ایسے نہیں ہیں۔‘‘ اسے ہنسی آگئی۔
’’یہ موئی محبت بری بلا ہے۔‘‘
’’ہا… ہا… ہا… ‘‘ انہوں نے اس طرح کہا کہ اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’میرا آنگن تو سونا ہی رہ گیا نا۔‘‘
اللہ نہ کرے‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اس نے تسلی دی اور انہیں بازوئوں میں بھر کے پیار کیا۔
ز…ژ…ز
وہ ٹی وی لائونج میں زینت آپا کی عدم موجودگی کے باعث سمجھ گئی کہ وہ شاید سو گئی ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک ہو… یہ سوچ کر پہلے اپنے کمرے میں آگئی‘ فوراً ہی عادل بابا آگئے۔
’’کھانا لگائوں چھوٹی بی بی۔‘‘
’’ہنہ… لیکن زینت آپا…‘‘ اس نے پوچھا۔
’’وہ بوبی بابا سے فون پر بات کررہی ہیں‘ کھانا آپ کے ساتھ کھائیں گی۔‘‘
’’اچھا‘ طبیعت کیسی ہے ان کی۔‘‘
’’بس ویسی ہی ہے‘ اب کچھ خوش تھیں۔‘‘ بابا نے بتایا۔
’’آپ کھانا ان کے کمرے میں لے آئیں‘ ہم وہیں کھائیں گے۔‘‘ وہ کہہ کر واش روم میں گھس گئی اور فریش ہو کر زینت آپا کے کمرے میں پہنچی تو وہ واقعی خوش نظر آئیں۔
’’شرمین! میری بیٹی‘ آئو میرے قریب۔‘‘ زینت آپا نے محبت سے بانہیں پھیلائیں تو وہ ان میں سما گئی۔
’’کیا بات ہے‘ بہت خوش ہیں؟‘‘
’’بات ہی ایسی ہے‘ شرمین۔‘‘
’’تو جلدی سے بتائیں۔‘‘
’’بوبی آرہا ہے۔‘‘
’’اچھا‘ یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے۔‘‘
’’شرمین! وہ ضد پر تو قائم ہے لیکن سمجھ جائے گا۔‘‘ انہوں نے دل بہلانے کی خاطر بڑی نرمی سے کہا تو وہ خاموش ہوگئی۔
’’آپا! مجھے پھر یہاں سے جانا ہوگا۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’نہیں‘ کیوں؟ ایسا نہیں ہوگا۔ مجھ پر بھروسہ نہیں؟‘‘ انہوں نے اسے سینے سے لگایا۔
’’آپا! بات بھروسے کی نہیں ہے‘ اصول کی ہے‘ بوبی کو اپنا بزنس سنبھالنا ہے‘ وہ اسی کی جگہ ہے۔‘‘ اس نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلاتے ہوئے کہا تو وہ اس کے ہاتھ کو دباتے ہوئے بولیں۔
’’تمہارا اپنا مقام ہے اور بوبی کا اپنا۔ وہ تو ابھی نادانی کے سفر میں ہے۔‘‘
’’اس کی نادانی ہی تو خوفزدہ کرتی ہے۔‘‘ وہ ہولے سے بولی۔
’’امید ہے کہ وہ اب سمجھ سکے گا۔‘‘ زینت آپا کے لہجے میں خوف کی سی بے یقینی موجود تھی۔ شرمین نے ان کی تسلی کے لیے کہا۔
’’آپ مجھے جانے دیں‘ پھر یہ خوف آپ کو بھی پریشان نہیں کرے گا۔‘‘
’’ہرگز نہیں‘ پرسکون ہوجائو‘ اللہ بہتر کرے گا‘ میری طبیعت مستقل خراب رہتی ہے۔‘‘ زینت آپا نے نمناک آنکھوں سے دیکھا۔
’’اچھا‘ آپ پریشان نہ ہوں‘ فی الحال تو اٹھیں اور میرے ساتھ کھانا کھائیں۔‘‘ ان کی دلجوئی کی خاطر وہ مسکرا کر بولی تو وہ بھی مسکرا دیں۔ مگر دونوں اپنی اپنی جگہ شاید متفکر سی تھیں۔ ایک دوسرے سے چھپانے کے لیے پرسکون نظر آنے کی اداکاری کررہی تھیں۔ زینت آپا کی فکر اور پریشانی شرمین سے مختلف اور جدا نہیں تھی‘ فرق اتنا تھا کہ شرمین بوبی کی ضدی فطرت اور اڑیل طبیعت سے واقف تھی اسے سمجھانا بہت دشوار تھا‘ وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی تو زینت آپا نے ہولے سے پکارا۔
’’شرمین! وہم نہ کرو۔‘‘
’’آپا! بوبی کی سوچ بالکل بھی نہیں بدلی۔‘‘
’’اسے بدلنا پڑے گی بس تم فکر نہ کرو۔‘‘ انہوں نے بہت یقین سے کہا تو اسے ان کی خاطر یقین سے بھرپور مسکراہٹ لبوں پر سجانی پڑی‘ مگر دل وسوسوں سے بھرا رہا‘ ایسے میں عارض کا خیال آیا… وہی منزل تھی اب تو… مگر حالات کا اونٹ جانے کس کروٹ بیٹھے‘ یہ بھی تو ایک مشکل سوال تھا… کیونکہ انسان چاہتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔
کمرے میں ہلکی سی زرد روشنی پھیلی تھی… مگر وہ بالکنی میں کھڑی چاند تاروں کی سفید روشنی میں دور تک اپنی منزل کا نشاں ڈھونڈ رہی تھی جو کہ اب تک اس کی نظروں کے سامنے آکر ہمیشہ اوجھل ہوتا رہا۔ پہلی پسند‘ پہلا جنون‘ منزل کی شکل دھارنے کے بعد ختم ہوگیا۔ دوسری محبت ملی بھی تو جانے کیوں بے یقینی کی سی کیفیت نے دل کو مٹھی میں لے رکھا تھا‘ قسمت نے ہمیشہ اس کے ساتھ انوکھا کھیل ہی کھیلا‘ محبت کے معنی اور مفہوم ہی بدل کے رکھ دیئے… فکر اب یہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے‘ بوبی کی آمد سے دل ودماغ مضطرب ہوگئے تھے۔
’’شرمین! تمہارا یہاں رہنا مناسب نہیں ہوگا‘ تمہیں یہاں سے جانا ہوگا‘ بوبی‘ زینت آپا کی اکلوتی اولاد ہے‘ اس نے تو یہاں رہنا ہے‘ زینت آپا کی بیماری بیٹے کی موجودگی میں کم ہوجائے گی‘ ایسے میں تمہارے رہنے سے ماحول خراب ہوگا۔‘‘ دماغ میں سوالات اٹھے تو وہ بیکل سی ہوگئی۔
’’ہاں! مجھے جانا ہی ہوگا‘ مگر کہاں کس کے پاس؟ عارض تو پردیس میں ہی جیسے آباد ہوگیا ہے اور زینت آپا کو کیسے راضی کروں‘ وہ تو قطعاً نہیں جانے دیں گی۔‘‘ خود کلامی کرتے ہوئے کمرے میں آکر ٹہلنے لگی۔ تو فون کی گونج نے چونکا دیا۔ اسکرین پر بوبی کا نام دیکھتے ہی جھٹکا لگا‘ مگر پھر کچھ سوچ کر ہمیشہ کی طرح اس نے بردباری کا مظاہرہ کیا۔
’’ہائے بوبی۔‘‘
’’ہائے ڈارلنگ!‘‘ حسب معمول اس کی شوخ آواز آئی۔ شرمین کے ماتھے پر سلوٹیں بنیں‘ مگر وہ ضبط کرگئی۔
’’ہاں بولو۔‘‘
’’ہر پل‘ ہر گھڑی یاد کرتا ہوں‘ اس وقت بہت یاد آئی تو فون کرلیا۔‘‘
’’او! شکریہ‘ کیسے ہو؟‘‘ وہ یکسر ٹال گئی۔
’’شرمین!‘‘ اس نے مخمور لہجے میں پکارا۔
’’جی بولو۔‘‘ وہ بڑی سنجیدگی سے بولی۔
’’مجھے محسوس کرو۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ سمجھنے کے باوجود انجان بن کر پوچھا۔
اپنے سے بہت قریب‘ بہت اپنا جان کر‘ وہ بہکتے ہوئے اور سفر طے کرتا اگر وہ سیخ پا ہو کر چلا نہ اٹھتی۔
’’بوبی! حد میں رہو۔‘‘
’’شرمین! تم ہی تو میری محبت کی حد ہو‘ سر تا پا میری محبت کی جائز حد۔‘‘
’’اوہ… افسوس تم بڑے نہ ہوسکے۔‘‘ اس نے کہہ کر غصے سے فون بند کرکے بیڈ پر اچھال دیا اور خود لمبے لمبے سانس بھر کے نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی لیکن فون کی آواز نے پھر سے مشتعل کردیا‘ غصے میں فون اٹھایا اور چلائی۔
’’بوبی مجھے تمہاری وجہ سے یہ گھر چھوڑنا پڑے گا۔‘‘
’’ارے ارے‘ کیا کردیا بوبی نے؟‘‘ دوسری طرف سے عارض کی آواز ابھری تو وہ چونکی۔
’’عا… عارض۔‘‘
’’بوبی پراتنا غصہ سرکار۔‘‘
’’عارض! تم نے کب آنا ہے۔ میں بوبی کے آنے سے پہلے یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بولتی چلی گئی تو عارض کو کسی حد تک اندازہ ہوا۔
’’یومین‘ بوبی پرابلم ہے۔‘‘
’’ہنہ‘ میں اس کی بچکانہ فرمائش افورڈ نہیں کرسکتی۔‘‘
’’میں اس ماہ میں آجائوں گا‘ لیکن یار میں بوبی سے جیلس ہو رہا ہوں۔‘‘
’’عارض! پلیز‘ مجھے صرف زینت آپا کا خیال ہے‘ ورنہ میں یہ گھر کب کا چھوڑ دوں۔‘‘
’’تو چھوڑ دو۔ صفدر کی طرف شفٹ ہوجائو۔‘‘
’’نہیں‘ صفدر بھائی کے اپنے فیملی ایشوز ہیں اور پھر زینت آپا کی شوگر شوٹ کرجاتی ہے‘ بلڈ پریشر کا پتا نہیں چلتا۔‘‘ وہ بولی۔
’’تو پھر صبر کرو‘ میں آجائوں گا سب مسائل حل ہوجائیں گے۔‘‘
’’مگر میں سخت الجھن کا شکار ہوگئی ہوں۔‘‘
’’ویسے وہ ہے بہت مستقل مزاج۔‘‘ عارض نے ذرا شرارت سے کہا۔
’’ہنہ… ابھی تک تو یہی لگتا ہے۔‘‘
’’بیوقوف ہے۔‘‘ عارض نے کہا۔
’’شاید اس کی نظر میں محبت ایک لطیفہ ہے۔‘‘ شرمین نے کہا۔
’’تو پھر انجوائے کرو‘ ہنسو کیا ضرورت ہے پریشان ہونے کی۔‘‘
’’بس کبھی کبھی خوف آنے لگتا ہے۔‘‘
’’اچھا‘ اب کوئی اور بات کرو۔‘‘
’’بس جلدی آجائو۔‘‘
’’شرمین! تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو۔‘‘
’’بس اتنی جو حقیقت میں ہونی چاہیے۔‘‘
’’مطلب۔‘‘ وہ چونکا۔
’’مجھے محبت کا ڈرامہ پسند نہیں‘ جتنا تم چاہتے ہو شاید اس سے کم۔‘‘ اس نے سادگی سے کہہ دیا اور اگلے ہی لمحے فون بند ہوگیا‘ وہ کچھ غیر یقینی سی کیفیت کے ساتھ فون کو گھورتی رہی‘ اور یہ سوچتی رہی کہ عارض نے فون خود بند کیا ہے یا لائن کٹ گئی…؟ پھر خود فون ملایا مگر دوسری طرف سے فون آف تھا۔
ز…ژ…ز
بڑے عرصے بعد ہلکی پھلکی دھوپ پھیلی تھی تو وہ پردہ سرکا کے بند کھڑکی سے تھوڑا سا شیشہ بھی ہٹا کے باہر کا نظارہ کرنی لگی… باہر چہل پہل تھی‘ لوگ بھاری گرم کپڑوں کا وزن کم کرکے باہر نکلے تھے… اس نے بھی ارادہ بنایا اور کھڑکی سے پلٹ کر اپنے جوتے کسے اور کمرے سے باہر نکل آیا… آغا جی کافی کے مگ لیے آرہے تھے اسے دیکھ کر بولے۔
’’ینگ مین‘ کدھر؟‘‘
’’بس ذرا بور ہوگیا ہوں باہر جارہا ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا تو وہ ٹھٹکے۔
’’ہے… ہے‘ یہ موڈ کو کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ بس رات نیند ٹھیک سے نہیں آئی۔‘‘
’’بیٹھو‘ کافی پیئو۔‘‘ انہوں نے میز پر مگ رکھتے ہوئے کہا اور خود بھی سامنے بیٹھ گئے۔
’’بابا‘ دل نہیں چاہ رہا۔‘‘
’’یار! رات… رات میں کیا ہوگیا؟‘‘
’’بابا!‘‘ وہ ٹھنکا۔
’’مائی ڈیئر‘ بتائو شاباش۔‘‘ انہوں نے کافی کی چسکی لی۔
’’بس مجھے خود ابھی اندازہ نہیں‘ بٹ کوئی ڈسٹربنس ہے میرے اندر۔‘‘
’’تو اسے باہر نکالو‘ شیئر کرو‘ مجھ سے نہ سہی‘ صفدر سے یا پھر شرمین سے۔‘‘ انہوں نے کہا تو شرمین کے نام پر اس کے چہرے پر پھیکا سا تاثر ابھرا‘ مگر کمال اداکاری سے وہ چھپا گیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ صفدر خود بہت ڈسٹرب ہے۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
’’اس کی مسز کا ایشو ہے۔‘‘
’’تو یار! حل کرائو‘ گھر کا سکون مفاہمت میں ہوتا ہے۔‘‘
’’اور دل کا سکون؟‘‘ وہ بے دھیانی میں پوچھ بیٹھا۔
’’محبت میں‘ اعتبار میں۔‘‘ وہ یہ کہہ کر رکے اور بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے دوبارہ بولے۔
’’خیر تو ہے‘ یہ سوال کیوں پوچھا؟‘‘
’’ویسے ہی بابا۔‘‘ بنائوٹی ہنسی کے ساتھ جواب دیا۔
’’خیر‘ ہم کب کی سیٹیں کرائیں۔‘‘ انہوں نے کچھ سوچ کر اصرار نہیں کیا۔
’’کرالیں گے جلدی کیا ہے؟‘‘
’’ہیں…؟‘‘ آغاجی کوحیرت ہوئی۔
’’میں باہر سے ہوکر آتا ہوں۔‘‘ اس نے ٹالا۔
’’مجھے بھی ساتھ لے چلو۔‘‘
’’شیئور‘ آئیے۔‘‘
’’اچھا‘ آپ اکیلے جائو‘ مگر تیز قدم نہیں اٹھانے۔‘‘
’’آپ چلیں۔‘‘
’’نہیں‘ میں نے منیجر کو بلایا ہے کچھ کام نپٹانے ہیں۔‘‘
’’اوکے! اللہ حافظ۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل آگیا… مگر باہر نکلتے ہی اس پر وہی کیفیت طاری ہوگئی‘ جس نے رات بھر اسے سونے نہیں دیا… بلکہ جب سے فون پر بات کی تب سے یہی حال تھا کہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا‘ پاکستان جانے کی خوشی بھی جیسے کرکری ہوگئی تھی۔ بابا کے الفاظ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
’’محبت میں‘ اعتبار میں…‘‘ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا مین مارکیٹ کی طرف نکل آیا‘ دائیں بائیں خوبصورت اسٹورز‘ دکانیں‘ اشیاء سے بھری اور سجی دعوت خرید دے رہی تھیں‘ مگر وہ بیزار سا سب پر نظریں ڈالتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا‘ اسے کچھ نہیں خریدنا تھا‘ کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
’’عارض! کیا ہوگیا ہے تمہیں…؟ کس بات نے یوں ہر شے سے بیگانہ کردیا ہے؟‘‘ ذہن میں یہ دو سوال ابھرے تو وہ بڑبڑایا۔
’’شرمین! تم نے مجھے مٹا دیا۔‘‘ پھر اپنے ہی جملے کے زیر اثر وہ گھنٹوں سڑکیں ناپتا رہا۔
ز…ژ…ز
تڑپتی رہی ہے آس کی کرنوں پہ زندگی
لمحے جدائیوں کے ماہ وسال ہوگئے
مسلسل دس پندرہ منٹ سے سلائس کا ٹکڑا انگلیوں میں دبائے وہ کسی سوچ میں غلطاں تھی۔ زینت آپا نے چائے کا کپ بھی خالی کرکے رکھ دیا مگر وہ کھوئی رہی‘ تو انہیں بولنا پڑا۔
’’شرمین!‘‘
’’ہنہ‘ ہنہ جی۔‘‘ وہ چونکی۔
’’پریشان ہو۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’نہیں‘ بالکل نہیں۔‘‘
’’بالکل ہو‘ آنکھیں دیکھو‘ چہرہ دیکھو اور ہاتھ میں پکڑا سلائس کا ٹکڑا ہی دیکھ لو۔‘‘
’’آپا کچھ خاص نہیں‘ وہ آج ایک ٹینڈر بھرنا ہے‘ اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔‘‘ و ہ ٹال کر جلدی سے پلیٹ پر جھک گئی۔
’’مجھے پریشانی کی وجہ معلوم ہے۔‘‘
’’بھلا کیا؟‘‘ اس نے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’بوبی… اس کی وجہ سے۔‘‘
’’ارے نہیں‘ نہیں آپا‘ آپ میرا اتنا خیال رکھتی ہیں‘ کیا میں آپ کی خاطر بوبی کی باتیں نظر انداز نہیں کرسکتی۔‘‘ اس نے محبت پاش نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ وہ کھل اٹھیں‘ مگر پھر بھی اندر سے متفکر ضرور تھیں۔
’’اس کی ضد انوکھی ہے‘ اس ناسمجھ بچے کی سی ہے جو آگ سے کھیلنا چاہے۔‘‘
’’چلیں چھوڑیں۔‘‘
’’شرمین! پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جانا۔‘‘ ان کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔
’’ارے آپا‘ آپ کیوں ہلکان ہورہی ہیں‘ میرا کون ہے آپ کے سوا۔‘‘ وہ تیزی سے اٹھ کر ان سے لپٹ گئی۔
’’پھر پریشانی کیسی؟‘‘
’’پریشانی کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔‘‘ اس نے کافی سنجیدگی سے کہا۔
’’پھر بھی بتائو تو سہی۔‘‘
’’ فی الحال دیر ہورہی ہے‘ پھر بات کریں گے؟‘‘
’’شرمین! شام کو وقت نکال کر کچھ بیڈ شیٹس اور ٹاولز خرید لانا۔‘‘
’’جی بہتر‘ یقینا بوبی کی وجہ سے۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تو وہ اثبات میں گردن ہلا کر مسکرا دیں۔
’’اور آپ کے لیے کچھ لانا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں‘ باقی فروٹس‘ سبزیاں وغیرہ تو شیر دل بابا لے آئیں گے۔‘‘
’’رات مجھے واپسی میں شاید دیر ہوجائے آپ کھانا کھا کر میڈیسن کھا لیجیے گا۔‘‘
’’خیریت۔‘‘
’’وہ ذرا صفدر بھائی کی طرف جائوں گی۔‘‘
’’اچھا… اچھا۔‘‘
’’اوکے اللہ حافظ۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی… مگر زینت دیر تک اس کے متعلق سوچتی رہی… کتنا غنیمت تھا اس کا وجود‘ اس کی موجودگی… اگر وہ نہ ہوتی تو کتنی تنہائی اور کتنی پھیکی سی زندگی ہوتی‘ اتنے بڑے گھر میں رہنا مشکل ہوجاتا۔
’’کچھ بھی ہو مجھے شرمین کی خوشی عزیز ہے۔‘‘ انہوں نے سوچا اور مطمئن ہوگئیں۔
’’بیگم صاحبہ! میں مارکیٹ جارہا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آڑو ضرور لائیے گا۔‘‘
’’جی شرمین بی بی نے لسٹ بنادی ہے۔‘‘
’’اچھی بات ہے‘ نصیبن سے کہو میرا کمرہ صاف کرکے باقی صفائی کرے۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ شیر دل بابا یہ کہہ کر اندر کی طرف چلے گئے۔
ز…ژ…ز
خالی ذہن اور خالی آنکھوں کے ساتھ وہ کمرے کی چھت گھور رہی تھی کہ جھٹکے سے دروازہ کھلا اور صفدر اندر آگیا۔ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔
’’میری زندگی کو جہنم بنا کر خود کتنے سکون سے آرام کررہی ہو۔‘‘ اس نے آتے ہی براہ راست حملہ کیا… وہ زیبا کے لیے خلاف توقع تھا… وہ کچھ بول نہ سکی تو وہ خود ہی بولا۔
’’بولو… میں نے تم سے کچھ کہا ہے۔‘‘
’’کیا بولوں؟ بچاہی کیا ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں بچانا مجھے… جو کہا ہے اس کا جواب دو۔‘‘ وہ شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کون سا جواب؟‘‘
’’مجھے تم سے اپنا بچہ نہیں چاہیے۔‘‘ وہ دو ٹوک لہجے میں بولا۔
’’اور مجھے اپنا بچہ چاہیے۔‘‘ وہ برابر کھڑے ہوکر بولی۔
’’تو پھر میرے گھر میں تمہاری جگہ نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ مجھے آزاد کردو۔‘‘ بہت بڑی بات بڑے اطمینان سے وہ کہہ گئی۔ صفدر بھونچکا رہ گیا۔
’’بنا باپ کے نام کا بچہ…؟‘‘ وہ بولا۔
’’اللہ میرے بچے کے باپ کو سلامت رکھے۔‘‘ وہ مضبوط اور توانا لہجے میں بولی۔
’’میری بھول کو کچھ اور نہ سمجھو‘ تمہارے وجود سے مجھے گھن آتی ہے۔‘‘
’’تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اب مجھے آپ سے نہیں اپنے بچے سے دلچسپی ہے۔‘‘ وہ سینہ تان کر‘ نظریں ملاتے ہوئے بولی تو وہ سیخ پا ہوگیا۔
’’مگر میں اپنا احساس تم سے نہیں چاہتا… اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘
’’آپ کے چاہنے نہ چاہنے کی مجھے طلب نہیں‘ آپ کا ظرف تنگ ہوگیا ہے اب‘ میری ممتا کا احساس نہیں۔‘‘ اس نے تیزی سے جواب دیا۔
’’ہنہ… آلودہ کوکھ سے ممتا کا احساس۔‘‘ وہ طنزیہ غرایا۔
’’وہ گناہ ہوسکتا ہے‘ مگر یہ نہیں۔‘‘
’’یہ ضد ہے۔‘‘
’’نہیں میرا فیصلہ۔‘‘
’’میرے گھر کے دروازے بند ہوجائیں گے۔‘‘
’’کرلیجیے‘ سفاک باپ بن جائیے‘ مگر میں اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گی۔‘‘ وہ ڈٹ گئی۔
’’سوچ لو۔‘‘
’’سوچ لیا۔‘‘
’’میں اپنا نام نہیں دینے دوں گا۔‘‘
’’حقیقت کو کون بدل سکتا ہے‘ آپ لاکھ نہ دیں وہ ہے تو آپ کا…‘‘ وہ طنزیہ ہنسی۔
’’میری بھول کو اپنی فتح سمجھ رہی ہو۔‘‘
’’افسوس! آپ اپنے حق کو بھول کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں اس بھول سے بھی منکر ہوجائوں گا۔ پھر یہ بچہ لے کر ثابت کرتی رہنا کہ کس کا ہے…؟‘‘ وہ تن کر بولا۔ زیبا کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ نفرت میں وہ اس حد تک جاسکتا ہے یہ اسے اندازہ ہی نہیں تھا۔
’’صفدر! آپ ایسا بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘
’’ہنہ! اب ٹھنڈے دماغ سے سوچو‘ میں آسانی سے اپنی ماں کو یہ بتاسکتا ہوں کہ اصلیت کیا ہے؟ اور یوں تم سے اور تمہاری ضد سے مستقل نجات مل جائے گی۔‘‘ وہ یہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا اور وہ چکرا کر بیٹھ گئی۔ حاجرہ چائے لے کرآئیں تو صفدر کی عدم موجودگی کے باعث بولیں۔
’’صفدر کہاں گیا؟‘‘
’’اماں وہ چلے گئے۔‘‘
’’خیر ہے‘ اتنی عجلت کیا تھی؟‘‘
’’ضروری کام یاد آگیا تھا۔‘‘ وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔
’’ساتھ لے جانے آیا تھا کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ہوا کیا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ بس ویسے ہی۔‘‘ وہ جھنجلا گئی۔
’’چلو میں تمہیں چھوڑ آئوں۔‘‘ اماں نے ایک دم سنجیدگی سے کہا تو وہ بھڑک اٹھی۔
’’بوجھ بن گئی ہوں‘ داماد لے جانا نہیں چاہتا اور آپ لے جانا چاہتی ہیں۔‘‘
’’کیوں نہیں لے جانا چاہتا یہی تو پوچھ رہی ہوں‘ بتائو۔‘‘
’’بس چھوڑ دیں اس بات کو۔‘‘ وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی تو فکرمندی کے بہت سے در حاجرہ بیگم کے لیے کھل گئے۔ انہیں سب کچھ غلط سا لگنے لگا۔ صفدر کا آندھی طوفان کی طرح آنا اور جانا ہی کسی بڑی پریشانی سے کم نہیں تھا… وہ بے دم سی ہو کر کچھ دیر وہیں بیٹھی رہیں‘ ڈھیر سارے وسوسوں نے گھیر لیا۔
ز…ژ…ز
وہ کمپیوٹر پر آفس ورک کررہا تھا۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو وہ چونکا‘ جہاں آرا تو دستک دیتی نہیں تھیں‘ ان کے سوا اور گھر میں کوئی تھا نہیں‘ پھر کون ہوسکتا ہے؟
’’کون…؟‘‘
’’صفدر بھائی‘ میں اندر آجائوں۔‘‘ شرمین نے پوچھا تو وہ تیزی سے کرسی سے اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔
’’شرمین بہن! خیریت اس طرح اچانک۔‘‘
’’کیوں میں نہیں آسکتی کیا؟‘‘ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
’’آپ کا اپنا گھر ہے۔‘‘
’’آپ کی گھر والی کہاں ہیں؟‘‘ چاروں طرف نظر دوڑا کر زیبا کی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا۔
’’اپنے گھر۔‘‘
’’اچھا! اسی لیے کمپیوٹر میں مصروف تھے۔‘‘
’’آپ سنائو کیسی ہیں؟‘‘ وہ یکسر ٹال گیا۔
’’صفدر بھائی! عارض کی سنائیں۔‘‘ دل کی شدید تکلیف کا اس نے برملا اظہار کردیا۔
’’کیوں؟ کیا آپ سے رابطے میں نہیں ہے؟‘‘
’’اس کا فون مسلسل آف جارہا ہے‘ بات ہوتے ہوتے بند ہوا اور اب تک بند ہے۔‘‘ وہ بتاتے ہوئے خاصی مضطرب ہوگئی تو صفدر نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا‘ وہ بہت متفکر سی تھی۔
’’تو پریشانی کی کیا بات ہے؟‘‘
’’ہاں لیکن عارض نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا؟‘‘
’’اس کا فون واقعی آف ہے‘ مگر اس کی چھتیس ہزار وجوہات ہوسکتی ہیں‘ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں‘ صفدر نے اسے کافی تسلی بخش لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی‘ مگر اسے نہ یقین آیا اور نہ وہ مطمئن ہوئی۔
’’وہ امریکہ میں ہے‘ صفدر بھائی‘ وہاں سے رابطہ کرنا کوئی مشکل نہیں۔‘‘
’’خیر ہے‘ آپ کچھ مضمحل سی ہیں۔‘‘
’’نہیں‘ بس زندگی میں ایسے حالات کو رخ بدلتے دیکھا ہے کہ طبیعت غیر مطمئن سی رہتی ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔ صفدر نے چند لمحے توقف کیا اور پھر بولا۔
’’بدلتے حالات ہی کا نام زندگی ہے۔‘‘
’’مگر میں نے زندگی کو ہی ناقابل یقین پایا ہے‘ لمحوں میں صدیوں کی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے بولی۔
’’عارض کے لیے اتنی فکرمندی تشویشناک ہے۔‘‘ صفدر نے ہلکی سی شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’تشویش کی بات تو نہیں ہے لیکن عارض کی خاموشی بس عجیب سی ہے۔‘‘
’’نہ فکر کریں‘ کوئی وجہ ہوگی۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’لو بیٹا! کھانا کھائو۔‘‘ جہاں آرا بیگم ٹرے اٹھائے آئیں تو گفتگو کا رخ بدل گیا۔
’’آپ نے یہ زحمت کیوں کی؟‘‘ شرمین نے اٹھ کر جلدی سے ٹرے پکڑی۔
’’امی! میں خود لے آتا‘ آپ کو کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’ضرورت تھی اور کیا خود لے آتے‘ بیوی کو میکے سے تو لا نہیں سکے۔‘‘ جہاں آرا بیگم یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئیں تو صفدر نے کچھ شرمساری سے شرمین کی طرف دیکھا۔ شرمین کے ذہن میں بھی تشویش سی بیدار ہوئی۔
’’ویسے‘ صفدر بھائی!‘‘ شرمین کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
’’زیبا اور میرے بیچ اختلاف چل رہا ہے‘ امی کو اس کا علم نہیں‘ ممکن ہے زیبا واپس نہ آسکے۔‘‘ صفدر نے خود ہی اس کی زبان پر آئے سوال کا جواب دیا۔
’’اللہ خیر! ایسا کیا مسئلہ ہوگیا؟‘‘ شرمین نے تاسف سے بے ساختہ کہا۔
’’چھوڑیں پھر سہی‘ کھانا کھائیں۔‘‘ صفدر نے ٹال کر ٹرے میں سے پلیٹ اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دی۔
’’آپ مجھے بہن کہتے ہیں تو اعتبار بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
’’بالکل! لیکن ابھی معاملہ کلیئر نہیں ہوا‘ بتادوں گا۔‘‘ اس نے اپنی پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے کہا تو اس نے مزید نہیں کریدا۔ چپ چاپ کھانا شروع کردیا۔
ز…ژ…ز
یاد ماضی میں جو آنکھوں کو سزا دی جائے
اس سے بہتر ہے کہ ہر بات بھلا دی جائے
جس سے تھوڑی سی بھی امید زیادہ ہو کبھی
ایسی ہر شمع سرشام جلا دی جائے
میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا
دل کے آنگن میں بھی دیوار اٹھا دی جائے
الماری سے دراز کی ایک ایک چیز نکال کر کوڑے کی ٹوکری میں ڈال کے کچھ ذہنی سکون ملا مگر ننھی نے آکر پھر سے ارتعاش پیدا کردیا۔
’’یہ سبز باغ نہ دیکھے ہوتے تو یوں ان کی قبر پر سوگوار نہ بیٹھنا پڑتا۔‘‘
’’یہ قبر تو نہیں کوڑے کا ڈھیر ہے۔‘‘
’’پھر اٹھو اس کوڑے کے ڈھیر سے‘ اپنا حلیہ دیکھو‘ تمہارا بچنا محال ہے‘ بچہ کیا خاک بچے گا۔‘‘ ننھی نے پھلوں کا شاپر اور جوس بسکٹ کا شاپر میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں‘ میں رہوں نہ رہوں میرا بچہ سلامت رہے گا‘ صفدر کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے۔‘‘
’’اسے سلامت پیدا کرنے کے لیے تمہارا سلامت رہنا ضروری ہے‘ اٹھو جلدی سے تیاری پکڑو ڈاکٹر سے ٹائم طے ہے۔‘‘ ننھی نے یاد دلایا تو اسے یاد آیا۔
’’اوہ! میں بھول گئی‘ دراصل ابا کی طبیعت بہت خراب ہے ان کے پاس ہم دونوں میں سے کسی کا رہنا بہت ضروری ہے۔‘‘ وہ پوری ہمت کے ساتھ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ہسپتال داخل نہ کرادیں۔‘‘ ننھی نے کہا۔
’’کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ آخری اسٹیج ہے‘ ہم ذہنی طور پر تیار ہیں۔‘‘
’’اوہ! میرے خدا۔‘‘ دکھ سے ننھی نے کہا۔
’’کوئی ایک دکھ نہیں ہے۔‘‘
’’صفدر بھائی پھر نہیں آئے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’فون کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ میرا دل چاہتا ہے میں جاکر خوب کھری کھری سنائوں۔‘‘ ننھی ایک دم اشتعال میں آگئی۔
’’ضرورت نہیں۔ وہ سخت گیر مرد ہے۔‘‘
’’حد ہے بھئی‘ اپنی اولاد کے لیے بھی۔‘‘
’’ہاں‘ میری وجہ سے۔‘‘
’’چلو تمہیں نہ سہی اپنی اولاد کو تو قبول کریں۔‘‘
’’چھوڑو اس قصے کو۔ فیصلہ میں نے کیا ہے‘ میں نہ اپنا بچہ کھونا چاہتی ہوں اور نہ صفدر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’اور وہ کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’جو تمہیں بتایا تھا۔‘‘
’’یعنی…‘‘ ننھی کی زبان پر اور کچھ نہ آیا۔
’’ہاں! وقت فیصلہ کرے گا۔‘‘
’’اچھا جلدی تیار ہوجائو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے الماری سے اپنا استری شدہ سوٹ نکالا اور باہر چلی گئی۔
’’یہ بڑی قامت والے کس قدر چھوٹے ظرف کے مالک ہوتے ہیں‘ بڑے بڑے دعوے کرکے چھوٹے کھوکھلے لفظوں سے مات کھا جاتے ہیں۔ کوئی ان کو یہ یاد نہیں دلاتا کہ مرد کی تنگ دلی اور چھوٹا ظرف اسے زیب نہیں دیتے۔ ایک لرزش کی اور کتنی بڑی سزا دینی ہے۔ یاخدا! میری سہیلی کو اس کرب ناک آزمائش سے نکال دے‘ رحم ڈال دے صفدر بھائی کے دل میں۔‘‘ ننھی نے خلوص نیت کے ساتھ دعا کی اس کے اپنے مسائل کیا کم تھے‘ جو سہیلی کا دکھ بھی دیکھنا پڑ رہا تھا۔ محبت کا کھیل کھیلنے والا تو جانے کس ڈگر کو گیا… ان جھوٹے لفظوں پر اعتبار کرکے کتنا کٹھن سفر طے کرنا پڑ رہا ہے۔ ننھی کو خیالوں میں کھویا دیکھ کر زیبا نے کہا۔
’’خیریت! کس بات پر سوچ رہی ہو؟‘‘
’’آں‘ کچھ نہیں‘ تیار ہو‘ چلیں۔‘‘
’’ہاں‘ چلو۔‘‘ زیبا نے اپنا ہینڈبیگ اٹھایا اور دونوں باہر آگئیں۔
ز…ژ…ز
عائشہ میٹرنٹی ہسپتال کے ساتھ ہی میڈیکل اسٹور سے اس نے زینت آپا کی میڈیسن خریدیں اور گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ مرزا نوازش نے تیزی سے پاس پہنچ کر کہا۔
’’ہم پر بھی نظر کرم ڈال لیا کرو۔‘‘ شرمین کی پیشانی پر سلوٹیں ابھریں مگر کچھ فاصلے پر کھڑے چند افراد کی وجہ سے نرمی اختیار کی۔
’’خیریت آپ یہاں؟‘‘
’’ہم توتمہارے راستے میں پڑے ہیں۔‘‘
’’نوازش صاحب آپ کس مٹی سے بنے ہیں۔‘‘ وہ دانت کچکچا کے بولی۔
’’شرمین تمہارے ٹھاٹھ دیکھ کر رشک آتا ہے‘ لیکن تنہا کب تک جوانی کا بوجھ اٹھائوگی۔‘‘ انہوں نے سیاہ چمکیلی گاڑی کی چھت پر اپنی ایک انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔
’’آپ اپنی حد میں رہیں۔‘‘ وہ چلا ہی پڑی۔
’’شرمین‘ مجھے تم سے محبت ہے جو مجھے ہر پل‘ ہر لمحہ بیکل رکھتی ہے۔‘‘
’’پوچھ سکتی ہوں آپ میٹرنٹی ہسپتال میں کیا کرنے آئے تھے؟‘‘ اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
’’وہ… وہ کم بخت داخل ہے۔‘‘ وہ کڑوا منہ بناتے ہوئے بولے۔
’’کون سر…؟‘‘
’’میری منحوس بیوی۔‘‘
’’اچھا‘ منحوس بیوی‘ یقینا میٹرنٹی ہاسپٹل میں بلاوجہ داخل نہیں ہوئی ہوں گی۔‘‘ وہ بھی بڑی تسلی سے کریدنے لگی تو وہ خاصے جزبز ہوئے۔
’’بیٹی پیدا ہوئی ہے۔‘‘ وہ نظریں چراتے ہوئے بولے۔
’’واہ! غالباً آپ کی چوتھی اولاد ہے۔ کیا نام رکھا ہے؟‘‘ شرمین نے دانستہ جلتی پر تیل چھڑکا۔
’’ابھی نہیں رکھا۔‘‘
’’تو اس کا نام شرمین رکھ لیجیے۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تو انہیں پتنگے لگ گئے۔
’’شٹ اپ‘ وہ میری بیٹی ہے۔‘‘
’’تو…‘‘
’’میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
’’تو بیٹی سے بھی محبت کریں‘ اور اس کا پیدا ہونا ہی آپ کی محبت کی علامت ہے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اپنی بکواس بند کریں‘ بیوی سے بچے پیدا کرکے جھوٹی محبت کی کہانیاں باہر سنانے والے مرد آپ جیسے ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ سچ ہے کہ…‘‘
’’ہٹیں میرے راستے سے مجھے کچھ نہیں سننا۔‘‘ وہ غصے سے کہہ کر جھٹکے سے آگے بڑھی اور ڈرائیور کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی خود گاڑی میں بیٹھ گئی۔ نوازش علی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ شرمین نے کھڑکی کا شیشہ کھول کے مزید کہا۔
’’اور ہاں‘ ہاسپٹل میں جائیں جاکر بیٹی کو پیار کریں۔‘‘
’’شرمین! یہ نشہ جلد اتر جائے گا۔‘‘ وہ جل کر بولے مگر اس نے شیشہ اوپر کرکے ڈرائیور کو چلنے کو کہا۔ غصے سے نجات کے لیے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ کئی روز کے بعد کچھ ذہن ہلکا سا ہوا تھا وہ بھی نوازش صاحب کی خرافات کی نذر ہوگیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ زینت آپا کو لے کر کہیں باہر جائے گی کچھ ان کا دل بہلے گا‘ اسی لیے آفس سے کام نپٹا کر جلدی نکلی تھی… مگر سارے موڈ کا ستیاناس ہوگیا تھا۔ سارے راستے وہ نوازش صاحب کو کوستی رہی‘ کافی غم وغصہ گھر تک پہنچتے پہنچتے کم ہوگیا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زینت آپا کو اس کی کوئی فکر اور پریشانی نظر آئے‘ وہ خوش رہیں‘ ان کی صحت بحال رہے وہ اس کی محسن ہیں‘ ان کی محبت اور احسان مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ انہیں خوش رکھے۔ ان کی صحت سب سے مقدم تھی اس کے نزدیک۔
ز…ژ…ز
شاور لے کر واش روم سے باہر آئی تو زینت آپا کو کمرے میں دیکھ کر مسکرادی‘ وہ اس کے بیڈ پر بیٹھی تھیں۔
’’آج سیدھی کمرے میں آگئیں۔‘‘ زینت آپا نے پوچھا۔
’’بس فریش ہوکر آپ کے پاس آنا چاہتی تھی۔‘‘ وہ تولیے سے بال خشک کرتے ہوئے بولی۔
’’سب ذمہ داریوں سے لڑتے ہوئے تھک جاتی ہوگی‘ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔‘‘ وہ افسردہ ہوئیں تو وہ لپک کر ان سے لپٹ گئی‘ اور پھر وہ نوازش صاحب کی ملاقات والا سارا قصہ سنادیا۔
’’اب بتائیے کوفت اور بیزای ہوگی کہ نہیں؟‘‘ اس نے آخر میں سوال کیا۔
’’ہونی بھی چاہیے لیکن نوازش صاحب کی بھی مجبوری ہے۔‘‘
’’کیسی مجبوری؟‘‘
’’محبت کرنا اور کروانا ہر آدمی چاہتا ہے۔‘‘
’’ہنہ‘ محبت کو کھیل سمجھ رکھا ہے۔‘‘
’’اس کھیل میں بھی محبت شامل ہے‘ فرق اتنا ہے کہ سب کی محبت ہمیں قبول نہیں ہوتی‘ مختلف شکلوں میں نظر آتی ہے‘ ہم جسے دیکھنا چاہتے ہیں وہی ہم دیکھتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں۔
’’مجھے تو اتناہی پتا ہے کہ یہ سب لفظوں کا گورکھ دھندہ ہے‘ اس کی اہمیت صرف جھوٹ پر ہے۔‘‘ اس نے اپنے تجربے کے حوالے سے کہا۔
’’نہیں جھوٹ نہیں ہے‘ انسان کا ظرف جس قدر اعلیٰ ہوتا ہے یہ اسی قدر اس میں حلول کرتی ہے۔ میں ایک بات بتائوں محبت بوبی کی بھی پوری طرح سچ ہے‘ مگر ہمارے پیمانے خود ساختہ ہیں‘ کہیں عمروں کا فرق‘ کہیں شادی شدہ ہونے کی وجہ‘ کہیں اسٹیٹس‘ اور کہیں کوئی اور وجہ‘ ہم پرکھتے ہیں‘ اسی لیے اعتبار نہیں کرتے۔‘‘
’’ایک شادی شدہ مرد کو اپنی بیوی سے محبت کرنی چاہیے‘ نوازش صاحب کے ہاں چوتھے بچے کی ولادت ہوئی ہے‘ یہ کون سی نفرت ہے؟‘‘ اس نے تلخی سے کہا۔
’’یہ سمجھوتہ ہے‘ ایک چھت تلے رہنے والوں کو مرتے دم تک ایک دوسرے سے محبت نہیں ہوتی‘ وہ سمجھوتے کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔‘‘
’’بہرکیف! نوازش صاحب کی فطرت گندی ہے‘ ان کی آنکھوں میں جو حیوانیت ہے اسے محبت نہیں کہتے۔‘‘
’’آپ نہیں کہتی ہو‘ مگر وہ تو یہی سمجھتے ہیں‘ فطرت کو الگ رکھو‘ محبت اپنا تعلق احساس سے جوڑتی ہے‘ فطرت انسان کی اچھی اور بری ہوسکتی ہے۔‘‘
’’آپا! مجھے بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے موضوع بدلا۔
’’اور مجھے بھی‘ چلو کھانا لگ چکا ہوگا۔‘‘ زینت آپا نے بھی اس کی کیفیت کے مطابق گفتگو کا موضوع فوراً بدل دیا۔
’’آپ نے میڈیسن وقت پر لی تھیں اور فروٹ کھایا۔‘‘
’’ہنہ‘ پھر خود اپنی واڈروب سیٹ کی‘ بوبی کی وارڈروب سیٹ کی۔‘‘ وہ ساتھ چلتے ہوئے بولیں۔
’’اچھا‘ یعنی آرام نہیں کیا۔‘‘ اس نے رک کر کہا۔
’’آرام ہی تو کرتی رہتی ہوں‘ آج ذرا طبیعت بہتر تھی اس لیے۔‘‘ ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ کر وہ بولیں۔
’’بوبی نے آنے کا پروگرام بتادیا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں‘ بس یقین سا ہے کہ آنے کا کہا ہے تو ضرور آئے گا۔‘‘
’’ہاں‘ ان شاء اللہ۔‘‘ وہ خوش ہو کر بولیں۔
’’اس کاآفس بھی ٹھیک کرادوں۔‘‘
’’آنے تو دو‘ عزائم سن کر فیصلہ ہوگا‘ بہت فرمانبردار اولاد نہیں ہے میری۔‘‘ زینت آپا کا لہجہ ایک دم گلوگیر سا ہوگیا۔
’’ایسا بھی نہیں ہے‘ اولاد تو ہے۔‘‘
’’شرمین وہ بہت ضدی اور بے پروا ہے مجھے خوف میں مبتلا کرتا ہے‘ پھر بھی اس کے بنا قرار نہیں۔‘‘ ان کی آنکھیں بیٹے کی یاد سے بھر آئیں۔
’’یہی اولاد کی محبت ہے‘ آپ کیوں دکھی ہورہی ہیں‘ بوبی سمجھدار ہوکر آئے گا۔‘‘ اس نے اٹھ کر ان کی پلیٹ میں خود سالن ڈالا اور محبت سے کہا۔
’’ایسی ہوتی ہے محبت۔‘‘
’’ہنہ‘ آپ کی محبت پر تو مجھے شک نہیں۔‘‘
’’بوبی کی محبت پر مجھے بھی شک نہیں۔‘‘ وہ بہت دھیرے سے انتہائی سنجیدگی سے بڑبڑائیں۔ شرمین نے سنا مگر خاموش رہی۔
’’شرمین! بڑے دن سے اس لڑکے کا ذکر نہیں کیا۔‘‘
’’عارض کا۔‘‘ اس نے دھیمے سے پوچھا۔
’’ہنہ۔‘‘
’’اس کا فون آف ہے آج کل۔‘‘ وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔
’’خیریت۔‘‘
’’چھوڑیں‘ اسے ضرورت ہوگی تو فون کرلے گا۔‘‘ بڑا کھرا اور کڑوا جواب تھا۔
’’مگر ‘میرا خیال تھا کہ…‘‘
’’آپا! میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’بوبی کے آنے سے پہلے۔‘‘
’’بوبی کو میں خود سمجھادوں گی‘ مگر عارض کی منت کیوں کروں؟‘‘ وہ یہ کہہ کر ٹیبل سے اٹھ گئی۔
…٭٭٭…
پاکستان نہ جانے کا فیصلہ سن کر آغاجی متحیر ہوکر بولے۔
’’یار! حد ہے بھئی میں نے سیٹیں بھی کنفرم کرالیں اور…‘‘
’’بابا! آپ مجھ سے پوچھ کر کراتے۔‘‘
’’عارض! پہلے تمہیں جانے کی جلدی تھی۔‘‘
’’ہاں‘ مگر اب نہیں رہی۔‘‘ وہ رسان سے بولا۔
’’لیکن کیوں۔‘‘
’’فی الحال نہیں جانا چاہتا۔‘‘
’’یار عارض! کچھ تو ہے۔‘‘ آغاجی نے قریب بیٹھتے ہوئے نرمی سے کہا۔
’’ہوسکتا ہے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے نہیں‘ ایسا ہے۔‘‘ وہ پریقین انداز میں بولے۔
’’تو پھر۔‘‘
’’تو پھر اپنے بابا کو نہیں بتائوگے۔‘‘
’’آپ پاکستان جائیں‘ بزنس دیکھیں‘ میں آجائوں گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’شرمین سے لڑائی ہوئی ہے کیا؟‘‘
’’شرمین کہاں سے آگئی؟‘‘
’’شرمین گئی کہاں تھی؟‘‘ وہ مسکرائے۔
’’بابا! پلیز آپ اپنی تیاری کیجیے۔‘‘
’’تو تم نہیں جائوگے۔‘‘
’’فی الحال نہیں۔‘‘
’’یار! میں تمہارے بغیر۔‘‘
’’بابا! بس مجھے کچھ وقت چاہیے پلیز۔‘‘
’’کس لیے؟‘‘
’’یہی تو فیصلہ کرنا ہے۔‘‘
’’کیسا فیصلہ؟‘‘
’’بتادوں گا‘ مگر ابھی نہیں۔‘‘ وہ جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکلنے لگا تو آغاجی بولے۔
’’اب کہاں چل دیئے؟‘‘
’’ہوا خوری کے لیے…‘‘
’’میرے جگر گوشے ڈاکٹرز نے اتنی بھی کھلی چھٹی نہیں دی۔‘‘
’’بابا! میں بچہ تو نہیں۔‘‘
’’مگر ضدیں بچوں جیسی ہیں‘ شرمین کے لیے کتنی ضد کی تھی یاد ہے۔‘‘ انہوں نے اس کے مضطرب دل کے تار چھیڑ دیئے۔ پتا نہیں کیوں آغاجی کو لگا کہ وہ بجھ سا گیا‘ شرمین کا نام سن کر کھلا نہیں۔
’’میں شرمسار ہوں۔‘‘ بڑا سنجیدہ جواب آیا‘ تو وہ ٹھٹک کے اس کے برابر کھڑے ہوگئے۔
’’ایسی کیا بات ہے میرے لعل‘ کیسی شرمساری‘ مجھے تمہاری ضد بھی پیاری ہے۔‘‘ وہ نہیں سمجھ پائے کہ اس نے ایسا کیوں کہا؟ اور شاید وہ سمجھا بھی نہیں سکا۔ باہر نکل گیا‘ کتنے ہی بے دم سے لمحے ان کی مٹھی میں قید ہوکر سسکنے لگے۔ انہیں سو فیصد یقین آگیا کہ کوئی وجہ ضرور ہے‘ مگر کیا…؟ یہ وہ بڑی دیر خود سے پوچھتے رہے‘ پھر ایک ہی فیصلہ کیا کہ اس کا جواب شرمین سے لیا جائے‘ وہی شاید بتاسکے‘ وگرنہ صفدر تو ہے ہی‘ تاہم یہ تو لازم ہے کہ عارض کسی مسئلے میں الجھا ہوا ضرور ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اس کو اتنا ڈسٹرب نہیں دیکھا تھا۔ اب ٹھیک دو دن بعد فلائٹ تھی‘ نہ رہ سکتے تھے‘ اور نہ پاکستان جانے کو جی چاہ رہا تھا۔ یہ سوچتے سوچتے وہ کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے تو سڑک پر دھیرے دھیرے نپے تلے قدم اٹھاتے عارض کو دیکھ کر مزید پریشان ہوگئے۔
ز…ژ…ز
رات کے ایک بجے فون کی گھنٹی بجتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ غیر متوقع کال آغاجی کا فون نمبر دیکھ کر دل گویا بیٹھنے لگا۔ الٰہی خیر! دھیرے سے دعا کی اور فون کان سے لگایا۔ مگر وہ خود ان کا سوال سن کر فکرمند ہوگئی۔
’’بابا! میں کیا کہہ سکتی ہوں‘ اس نے کئی روز سے مجھے بھی فون نہیں کیا۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’مطلب! وجہ کوئی یہیں کی ہے۔‘‘
’’جی‘ آپ پوچھیے۔‘‘
’’ارے بیٹا! پوچھا ہے مگر وہ کچھ بتائے تو…‘‘ وہ بولے۔
’’آپ اسے بس واپس لے آئیں۔‘‘ اس نے جلدی سے مشورہ دیا۔
’’جی‘ ٹکٹیں لے کر بات کی مگر وہ فی الحال پاکستان آنے کو تیار نہیں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ رات کے اس پہر حیرت سے اس کی چیخ نکل گئی… باہر تک آواز گئی۔
’’جی بیٹا جی مجھے تنہا ہی آنا پڑے گا۔‘‘
’’عارض ایسا کیسے کرسکتا ہے‘ وہ تو آنے کو بے قرار تھا۔ پھر‘ پھر…‘‘ اس کے گلے میں گولہ سا پھنس گیا۔
’’لگتا ہے کسی گوری کے دام الفت میں پھنس گیا ہے۔‘‘ آغاجی نے شرارت سے کہا‘ مگر اس کے دل پر سچ مچ گھونسا لگا۔
’’تو‘ رہنے دیں اسے وہاں۔‘‘
’’ہا… ہا… ہا‘ ارے یہ تو میرا مذاق ہے دل پر نہ لو۔‘‘ وہ ہنستے ہنستے بولے۔
’’دل کی بات دل پر ہی لگتی ہے۔‘‘
’’بھئی خدا لگتی تو یہ ہے کہ عارض میاں دل پھینک تو رہے ہیں‘ فلرٹ میں ماہر۔‘‘ انہوں نے مزید اسے تنگ کیا۔
’’پھر تو یہی بات ہوگی۔‘‘ اس نے ہمت کرکے کہا۔
’’ارے نہیں‘ تم پر تو وہ جان دیتا ہے‘ میں مذاق کررہا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بابا‘ میں کیا کہہ سکتی ہوں؟‘‘
’’کچھ کہنا بھی نہیں۔‘‘
’’اس کا تو فون ہی آف ہے۔‘‘
’’اچھا‘ کب سے…؟‘‘ آغا جی کو خاصی حیرت ہوئی۔
’’آپ کو نہیں معلوم؟‘‘ اب کے حیرت زدہ ہونے کی باری شرمین کی تھی۔
’’نہیں‘ یہاں کا نمبر تو آن ہے اور ہم اسی نمبر پر بات کرتے ہیں۔‘‘
’’شاید اسی لیے آپ کو نہیں معلوم۔‘‘
’’میں پوچھتا ہوں اس سے‘ اب تو میں بھی فکرمند ہوں‘ فون آف ہے تو؟ صفدر کا بھی رابطہ نہیں ہوگا۔‘‘
’’بابا‘ مجھے بھی بتائیے گا پلیز۔‘‘
’’اگر اس نے کچھ بتایا تو۔‘‘
’’اور…‘‘
’’سوری بیٹا‘ آپ کو بے آرام کیا۔‘‘
’’ارے نہیں۔‘‘
’’پریشان نہیں ہونا۔‘‘
’’جی‘ شکریہ۔‘‘
فون بند ہوگیا تو اس کی نیند اڑ گئی تھی۔ تشویش ہورہی تھی۔ تجسس تھا‘ مگر نہ مایوسی تھی اور نہ ناامیدی… عارض کو کوئی مسئلہ درپیش ضرور ہے‘ وہ کیا ہے؟ یقینا کوئی بڑی بات ہوگی۔ وہ دیر تک یہی سوچتی رہی‘ لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا… پھر کچھ دیر بعد تھکن کے باعث اسے نیند آگئی۔
ز…ژ…ز
ڈور بیل تیسری بار بجی تو ننھی نپکن سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی کچن سے نکلی۔
’’کون…؟‘‘ دروازے کے قریب جاکر اس نے پوچھا۔
’’صفدر۔‘‘ بڑا سنجیدہ اور مختصر جواب آیا۔
’’اوہ آئیے۔‘‘ اس نے خوش دلی سے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘ صفدر نے اندر آتے ہوئے کہا۔
’’پلیز بیٹھیے۔‘‘ ننھی نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’شکریہ۔‘‘ صفدر فلیٹ کے چاروں طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے صوفے پر ٹک گیا۔
’’آپ کو ایڈریس تلاش کرنے میں مشکل تو نہیں ہوئی۔‘‘
’’نہیں‘ بس مجھے ذرا جلدی ہے۔‘‘
’’جی‘ صفدر بھائی زیبا کا قصور معاف نہیں ہوسکتا کیا…؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟ اگر کوئی اپنی غلطی کی معافی مانگ لے تو اللہ بھی معاف کردیتا ہے۔‘‘
’’مگر میں انسان ہوں‘ عام سا انسان۔‘‘
’’اپنے لیے نہ سہی بچے کے لیے‘ اپنی والدہ کے لیے۔‘‘
’’اوہ… خوب یہ ایموشنل طریقہ اختیار کریں گی آپ۔‘‘
’’صفدر بھائی‘ یہ بات نہیں ہے‘ بچہ آپ کا ہے‘ اور آپ کا ہی رہے گا۔‘‘
’’مگر مجھے زیبا سے اپنی اولاد نہیں چاہیے‘ مجھے زیبا سے محبت ہی نہیں۔‘‘
’’اچھا‘ آپ کو کسی اور سے…‘‘ وہ رکی۔
’’فی الحال تو نہیں۔ بہرکیف‘ وقت تیزی سے گزر رہا ہے‘ اسے کہیے کہ میرے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی… واپسی ممکن ہے مگر بچے کے بغیر اور کچھ نہیں۔‘‘
’’بہت سفاک ہیں آپ۔‘‘ ننھی نے طنزیہ کہا۔
’’تھینکس فار کمپلیمنٹ۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’زیبا کسی صورت اپنا بچہ نہیں کھونا چاہتی۔‘‘
’’ٹھیک ہے تو پھر اپنی مرضی کرے۔‘‘
’’فار گاڈ سیک‘ صفدر بھائی‘ ذرا سوچیں ایک ماں کیسے اپنی اولاد کو اور پہلی اولاد کو کھودے‘ محض شوہر کے کہنے پر۔‘‘
’’وہ محض بھول تھی‘ زیبا کو میں نے دل سے معاف کیا ہے نہ قبول کیا ہے۔‘‘
’’واہ! جس مرد نے زیبا کی زندگی برباد کی اس نے بھی اسے قبول نہیں کیا اور آپ…؟‘‘
’’نام نہ لو اس شخص کا وہ مجھے نظر آجائے تو جان لے لوں اس کی۔‘‘ وہ شدید اشتعال میں آگیا۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں اڑیں اور جبڑوں کے سختی سے بھینچ جانے کے باعث خاص آواز پیدا ہوئی۔
’’اس کا مطلب آپ کو زیبا کی مظلومیت پر یقین ہے۔‘‘
’’اس شخص سے شدید نفرت کی وجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے میری زندگی مسائل سے دو چار ہے۔‘‘ اس نے واضح کیا۔
’’لڑکی کا قصور ہو یا نہ ہو سزا اسی کو بھگتنی پڑتی ہے۔‘‘ ننھی نے رنجیدہ خاطر ہوکر کہا۔
’’ایسا ہی سمجھ لیجیے۔‘‘
’’اللہ اس کو برباد کردے جس نے میری پیاری سہیلی کو محبت کے فریب سے دوچار کیا۔‘‘ ننھی نے اسی کے انداز میں چبا چبا کر الفاظ ادا کیے۔
’’مجھے اجازت دیجیے اور اپنی سہیلی کو سمجھائیے۔‘‘ وہ سپاٹ سے لہجے میں کہہ کر دروازے کی طرف بڑھا۔ ننھی نے لمبے چوڑے صفدر کے انداز سے بخوبی جان لیا کہ وہ اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹے گا… زیبا کو ہی فیصلے پر نظر ثانی کرنی ہوگی… مگر کیا؟ ایک ماں کے لیے اولاد سب سے قیمتی ہوتی ہے۔
ز…ژ…ز
تبدیلی موسم کے باعث اسے فلو ہوگیا تھا۔
سر میں‘ جسم میں درد اور بخار کی ہلکی سی حرارت محسوس ہورہی تھی۔ دو روز وہ چاہ کر بھی زینت آپا کے حکم پر آفس نہیں جاسکی… درمیانے موسم کے کپڑوں پر ہلکی سی نرم شال ڈال کر اسے ڈرائنگ روم تک آنا پڑا… بابا نے خاص طور پر مہمان کی آمد کی اطلاع دی تھی مگر دروازے پر ہی اس کے قدم جم سے گئے… ناگواری اور بیزاری کے باعث سلوٹیں چہرے پر ظاہر ہوئیں… مگر پھر کچھ سوچ کر ضبط کیا۔
’’نوازش صاحب! آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘
’’میں بہت مشکل میں یہاں آیا ہوں۔‘‘ وہ بڑی سادگی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’ایسی کوئی نئی مشکل آگئی تھی تو میرے آفس آجاتے‘ مگر یہاں نہیں۔‘‘ وہ بڑے کرخت لہجے میں بولی۔
’’شرمین!‘‘
’’مس شرمین…‘‘ اس نے جتایا۔
’’مس شرمین! میری بیوی مرگئی ہے۔‘‘
’’اوہ‘ انااللہ… افسوس ہوا…‘‘ اس نے کچھ نرمی سے کہا۔
’’بچی کی ولادت کے وقت انفیکشن ہوگیا تھا سو وہ مجھے تنہا چھوڑ گئی۔‘‘ انہوں نے بہت افسردگی طاری کی۔
’’اللہ کی مرضی‘ مگر ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں‘ میں تو آپ کے کسی کام نہیں آسکتی۔‘‘ اس نے لاتعلقی ظاہر کی۔
’’آسکتی ہو‘ میری ہفتے بھر کی معصوم بچی کو اپنی گود میں چھپا سکتی ہو۔‘‘ وہ فوراً بولے۔
’’واہ! بہت خوب مطلب نیا ہتھیار ہاتھ آگیا… کیسے انسان ہیں آپ؟ بیوی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور آپ بچی کی آڑ میں شکار کھیلنے آگئے۔‘‘
’’میری مجبوری ہے شرمین‘ بچوں کے لیے ایسا کرنا ہے مجھے‘ مگر میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
’’پلیز! فضول باتوں سے گریز کیجیے‘ مردوں کی آپ جیسی قسم سے مجھے نفرت ہے‘ جائیے بچوں کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیں۔‘‘
’’یہ سب آسائشیں اب میرے پاس بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے ڈرائنگ روم میں چاروں طرف نظریں گھماتے ہوئے کہا۔
’’مجھے آسائشوں کی طلب نہیں۔‘‘
’’محبت کی ضرورت تو ہے۔‘‘
’’مرزا صاحب! پلیز جائیے‘ بلکہ فوراً جائیے۔‘‘ اس نے خاصی برہمی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
’’شرمین! وقت گزر رہا ہے‘ یہ میری مجبوری کا وقت ہے کل کوئی تمہاری زندگی میں شاید نہ آئے۔‘‘
’’تو بھی آپ کو نہیں آواز دوں گی۔ جائیے یہاں سے۔‘‘ وہ پھٹ ہی پڑی‘ بابا اس کی آواز سن کر جلدی سے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ انہیں دیکھ کر مرزا نوازش کچھ جزبز سے ہوئے۔
’’بابا! آئندہ یہ گیٹ سے اندر داخل نہ ہوں۔‘‘ اس نے بابا کو مخاطب کیا۔
’’مس شرمین! میں جارہا ہوں۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھے۔
’’اور پھر کبھی اپنی محبت کا سرمایہ لے کر میرے سامنے نہ آئیے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ جب یہاں سے نکلو تو آواز دے لینا۔‘‘ وہ پلٹ کر بولے تو وہ غم وغصے سے چلا اٹھی۔
’’فار گاڈ سیک! اپنے بچوں کو سنبھالیے۔‘‘
’’بچوں کے لیے شادی تو مجھے کرنی ہے۔‘‘
’’ہزار شادیاں کریں‘ مگر مجھے دوبارہ اگر نظر آئے تو میں بھول جائوں گی کہ آپ میرے افسر رہے ہیں۔‘‘ وہ یہ کہہ کر پہلے خود باہر نکل گئی۔ بعد میں مرزا نوازش خفت بھری مسکراہٹ کے ساتھ بابا کے ہمراہ باہر نکل گئے۔
ز…ژ…ز
جن راہوں پہ اک عمر تیرے ساتھ رہا ہوں
کچھ روز سے وہ راستے سنسان بہت ہیں
کمزور ہوں میں راہ میں طوفان بہت ہیں
اک ترک وفا پہ میں اسے کیسے بھلا دوں
مجھ پر ابھی اس شخص کے احسان بہت ہیں
شدت غم سے اس نے آنکھیں موندی ہی تھیں کہ زینت آپا نے اس کے سر پر محبت بھرا ہاتھ رکھ دیا‘ وہ اٹھ بیٹھی اور ہولے سے مسکرادی… آنکھوں میں چار سو پھیلا کرب اور پریشانی ان سے چھپ نہیں سکتی تھی۔
’’بہتر تو یہی تھا کہ صبیح احمد کو معاف کردیا جاتا۔‘‘
’’آپا! صبیح احمد کہاں سے آگئے؟‘‘ وہ حیرت زدہ رہ گئی‘ اتنے عرصے بعد زینت آپا کے اچانک کہنے پر اسے ایسا لگا کہ دل کے تہہ خانے سے تمام مقفل آہنی دروازے کھول کر صبیح احمد اس کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں۔
’’شرمین! تم بتائو کہ صبیح احمد کہاں ہیں؟‘‘
’’مطلب؟‘‘ وہ بولی۔
’’شرمین! میں نے آج کے اس واقعے سے نہیں گزشتہ ہفتہ دس دن سے تمہیں خالی خالی اور مضطرب پایا ہے۔‘‘
’’دراصل‘ آپا میں عارض کی طرف سے ڈسٹرب ہوں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’شرمین سچ یہ نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر۔‘‘
’’عارض تو ویسے ہی درمیان میں آگیا‘ تم صبیح احمد کے بنا ڈسٹرب ہو۔‘‘ زینت آپا نے کب اور کیسے یہ اندازہ لگا لیا وہ حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی… لیکن پھر اس نے سنجیدگی سے ان کے خیال کو مسترد کردیا۔
’’آپا! اب عارض میرا حوالہ ہے‘ صبیح احمد جاچکے ہیں‘ اپنی دنیا میں مگن ہیں۔‘‘
’’تو پھر بے رنگ اور پھیکی پھیکی سی زندگی کیوں ہے؟‘‘
’’بتایا نا کہ عارض کی وجہ سے‘ اس کا فون آف ہے‘ سو میں فکرمند ہوں۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
’’تو پھر عارض سے رابطہ کرو اور خوشیاں واپس لائو۔‘‘
’’ہنہ۔‘‘
’’بوبی کے آنے سے پہلے ہوتا تو بہتر تھا‘ مجھے اس کی طرف سے بھی الجھن ہے۔‘‘
’’آپ نہ ٹینشن لیں‘ میں اسے خود دیکھ لوں گی‘ آپ کی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں ہے‘ چلیں آپ کے کمرے میں چلتے ہیں۔‘‘
’’نہیں‘ کمرے میں بستر پر لیٹے لیٹے بھی اکتا گئی ہوں۔‘‘ وہ بولیں۔
’’اوکے! پھر باہر چلتے ہیں‘ کچھ سیر‘ کچھ شاپنگ اور پھر ڈنر۔‘‘
’’اور ڈنر میں پرہیز ہی پرہیز۔‘‘ وہ ہنس کر بولیں۔
’’ہنہ پرہیز تو علاج سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘
’’لیکن میرا علاج بوبی ہے‘ میں حد درجہ دلگرفتہ ہوں‘ جانے اب تک کیوں نہیں آیا؟‘‘ ان کی پلکیں بھیگ گئیں۔
’’ارے! آجائے گا‘ آپ ہمت سے کام لیں۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
’’ہمت کہاں سے لائوں؟ شوگر اندر ہی اندر چاٹ رہی ہے۔‘‘
’’پھر وہی بات‘ آپ تو بہت بہادر ہیں۔‘‘
’’نہیں میں تمہاری طرح نہیں ہوں‘ جانے والے کو رخصت کرکے آنے والے کا صبر سے انتظار کررہی ہو۔‘‘
’’اور کوئی علاج بھی تو نہیں۔‘‘
’’کسی بھی طرح اس سے دو ٹوک بات کرو۔‘‘
’’ہنہ‘ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’فکر تو ہے‘ مگر اللہ سے اچھی امید ہے۔‘‘
’’جو اللہ کو منظور ہے۔‘‘
’’بیشک…‘‘ زینت آپا نے کہا اور اس کا ماتھا چوم لیا۔
(باقی ان شاء اﷲ آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close