Aanchal Jan 15

کروں سجدہ خدا کو(قسط نمبر2)

سیدہ ضوباریہ

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے
اس زندگی کو ہم نے بہت کچھ دیا بھی ہے
ہم پھر بھی اپنے چہرے نہ دیکھیں تو کیا علاج
آنکھیں بھی ہیں، چراغ بھی ہے، آئینہ بھی ہے

’’اللہ اکبر… اللہ اکبر!‘‘ اس نے بچے کو ہاتھ میں لیتے ہی پہلے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا اور پھر اس کے کان میں اذان دی اور مخاطب ہوا۔
’’تم مسلمان ہو میرے بیٹے! تم نے مسلمان گھر میں آنکھیں کھولی ہیں۔ تمہارے باپ کا اختتام بھی ایمان پر ہوگا ان شاء اللہ اور میری دعا ہے تمہارے لیے کہ تم بھی اپنی زندگی ایمان کی راہ پر سفر کرتے ہوئے گزارو۔ میں تمہیں اسلام کی تعلیم کرتا ہوں‘ اسلام سب سے بہتر دین ہے‘ اس پر عمل پیرا ہونے والے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ کچھ بھی ہوجائے اپنی حقیقت مت بھولنا‘ میں رہوں نہ رہوں حق کا راستہ مت چھوڑنا۔ ہم سب کا ربّ ایک ہی ہے اللہ عزوجل اور وہی عبادت کے حقوق کا وارث ہے۔ اس کا حق مت مارنا‘ کبھی بھی اس کی محبت کو اپنے دل سے محو مت ہونے دینا‘ ایمان قائم رکھنا‘ ایمان قائم رکھنا۔ میں تمہارا نام اذان رکھتا ہوں۔ ’’اذان‘‘ اللہ کی طرف سے بلاوا ہے اس کے مومن بندوں کے لیے اور میں تمہیں ان مومنوں میں سے ایک دیکھنا چاہوں گا اذان۔‘‘ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو بچے کے چہرے کو بھگونے لگے تھے۔
’’میں نے اپنے دین کو چھوڑ کر جو کبیرہ گناہ کیا تھا اس کی سزا میں نے یہاں تو نہیں پائی لیکن وہاں مجھے اس گناہ کی سزا ضرور ملے گی اگر تم نیک اور صالح بنے اذان تو میری بخشش ممکن ہوجائے گی۔ اب میری اُخروی زندگی کی رہائی تمہارے عمل پر ہے بیٹے!‘‘ اس نے ایک بار پھر اپنے بیٹے کا بوسہ لیا۔
’’سر آپ کی بیوی کو ہوش آگیا ہے۔‘‘ نرس نے بتایا تو وہ سر ہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا‘ بچے کو گود میں اٹھائے وہ روم میں آگیا۔ جینی اسپتال کے بیڈ پر لیٹی مسکرا رہی تھی۔ وہ بیڈ کے نزدیک رکھے اسٹول پر بیٹھ گیا اور اذان کو جینی کے برابر لٹاتے ہوئے اس نے مسکرا کر جینی کو دیکھا۔ جینی یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ دانیال نے کتنے وقت بعد اسے مسکرا کر دیکھا تھا‘ مگر وہ اندازہ نہیں کرپائی تھی۔
’’میں بہت خوش ہوں‘ بہت زیادہ۔ تمہیں پتا ہے میں نے اپنے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ اذان رکھا ہے۔‘‘ اس نے خود ہی سوال کیا اور پھر خود ہی جواب بھی دے دیا۔ جینی کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔
’’جینی میں تم سے ایک بار پھر مسلمان ہونے کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘ اس نے نرم لہجے میںکہا۔
’’دیکھو دانی! تم نے دوبارہ اپنا مذہب اختیار کیا‘ میں نے تمہیں نہیں روکا‘ تم نے ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود مجھے بالکل تنہا کردیا‘ میرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا‘ کھانا پینا‘ ہنسا بولنا‘ بات کرنا سب ترک کردیا‘ میں نے پھر بھی شکوہ نہیں کیا اور آج میری مرضی کے بغیر تم نے میرے بیٹے کو مسلمان بنا دیا میں پھر بھی تم سے شکوہ نہیں کررہی لیکن میں اسلام قبول کرلوں یہ ناممکن ہے دانی! تمہاری اس دین سے محبت مجھے اس دین سے نفرت بڑھاتی جاتی ہے۔‘‘ جینی نے حد درجہ نفرت سے کہا اور اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا‘ جب کہ دانیال اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
’’آج اذان پورے ایک ماہ کا ہوچکا تھا جینی اسی لیے میں تم سے یہ بات بہت واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ تم اسلام قبول کرلو ورنہ…‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے رکا تھا۔ جینی اس وقت گارڈن میں اذان کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھی۔
’’ورنہ کیا دانیال؟‘‘ جینی نے غیر یقینی انداز میں اسے دیکھا۔
’’ورنہ مجھے تمہیں چھوڑنا پڑے گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا ایک مشرک کی گود میں پرورش پائے۔‘‘ اس نے بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا اور جینی اس کا منہ دیکھتی رہ گئی تھی‘ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا یہ وہی دانیال ہے جس نے اس کے لیے سب کچھ چھوڑا تھا‘ وہ ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے جاتا دیکھتی رہی اور پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کتنی ہی دیر روتی رہی تھی وہ۔ اسے زندگی میں پہلی بار دانیال سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی‘ اس نے آنسو صاف کرکے سامنے راہداری میں بنے کمرے کی طرف دیکھا جس کے کھلے دروازے میں سے اسے دانیال نظر آرہا تھا وہ اذان کو ہاتھوں میں اٹھائے اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا۔
’’کیا باتیں کرتا رہتا ہے یہ میرے بیٹے سے دن رات۔ کہیں میرے بیٹے کو اپنی طرح پکا مسلمان نہ بنالے۔‘‘ اس کے دل میں عجب وسوسے آنے لگے۔
’’نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی لیکن میں کیا کروں او جیزز!‘‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’’بی بی جی! آپ کے گھر والے آئے ہیں آپ سے ملنے۔‘‘ ایک ملازمہ نے اندر داخل ہوکر کہا اور جینی بجلی کی رفتار سے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی تھی۔
ؤ…/…ؤ
دور تک پھیلا صحرا دھوپ کی تیزی کے سبب جل رہا تھا۔ انسان تو بہت دور کی بات کسی حیوان کے وہاں ہونے کا اور وہ بھی زندہ سلامت‘ تصور ہی ناممکن تھا مگر اچانک ہی بہت دور ریت کے اونچے ٹیلے پر سیاہ نقطہ سا ابھرتا اور پھر دھیرے دھیرے بڑھنے لگتا ہے… وہ ایک زندہ انسان تھا۔ سر تا پیر سیاہ چادر میں ملبوس انسان۔ اس کا چہرہ اس چادر میں کہیں گم تھا‘ ننگے پائوں اس تپتی ریت پر چلتے ہوئے اس کے پائوں زخمی ہوگئے تھے اور اس حد تک سرخ ہوگئے تھے کہ ان سے خون رسنے کا گمان ہورہا تھا۔ وہ کون ذی روح تھا جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس تپتے صحرا میں آگیا تھا‘ اب نقاب ہٹنے لگا تھا پہلے ہونٹ نمایاں ہوئے تھے‘ ہونٹوں کی رنگت پپڑیاں جمنے کے سبب سیاہ ہورہی تھی ایسے جیسے بہت مدت سے پانی کی ایک بوند بھی ان ہونٹوں کو نہ چھوئی ہو۔ نقاب مزید اوپر ہوا اور ناک کے نتھنوں کے درمیان ایک بڑی سی بالی لٹکی نظر آنے لگی تھی۔ جو پرانے دور میں غلاموں کو پہنائی جاتی تھی۔ نقاب مزید اٹھا تو یک دم فضا میں بھونچال سا آگیا‘ وہ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ایک بار اس کے روبرو تھیں مگر آج ان میں وہ نور نہیں تھا‘ وہ بہت اجاڑ ویران سی محسوس ہورہی تھیں۔ ان سے بہنے والے آنسو بہت زیادہ مجبوری اور بے بسی کا تاثر لیے ہوئے تھے یک دم ہی صحرا میں ایک طوفان اٹھنے لگا تھا اور ریت کے بگولے اسے اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے اور پھر سب کچھ گہرے اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔ وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوچکی تھی۔
اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں‘ اس کا دل بہت بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔ اس کا وجود شدید ٹھنڈ کے باوجود پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے گہرے سانس لیتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لیا تو وہ صحرا نہیں بلکہ وہ نہر تھی جس کے کنارے وہ بیٹھا تھا اپنی خالہ کے گھر سے واپسی پر۔ وہ جب بھی اپنی مما کے ساتھ ان کے قصبے آتا تو اپنی خالہ کے گھر ضرور جایا کرتا تھا گو کہ اس کی مما اور نانا نانی‘ خالہ سے نہیں ملا کرتے مگر وہ پھر بھی جاتا تھا ان کے منع کرنے کے باوجود بھی اور آج بھی گیا تھا ہمیشہ کی طرح واپسی پر وہ نہر کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھا تو گہری نیند کی آغوش میں اس نے عبیرہ کو دیکھا اور وہ بھی اتنی بری حالت میں۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس نے ایسا خواب کیوں دیکھا‘ اس نے نہر کا ٹھنڈا پانی چہرے پر ڈالا تو اس کی حالت کسی حد تک بہتر ہوئی تھی اور دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا تھا۔
’’کہیں ایسا تو نہیں کہ عبیرہ کسی پرابلم میں ہو۔‘‘ اچانک ہی اس کے ذہن میں یہ خیال آیا اور اس نے فوراً موبائل نکال کر عدیل کا نمبر ڈائل کیا مگر جان کی قسمت آج اس کے ساتھ نہیں تھی بارہا ملانے کے باوجود بھی عدیل کا نمبر نہیں مل رہا تھا جس کا مطلب تھا کہ اس علاقے میں سگنلز نہیں آرہیں۔ اس نے پوری قوت سے اپنا ہاتھ درخت پر مارا اور اس کے ہاتھ سے خون رسنا شروع ہوگیا۔ اس نے بہتے خون کو دیکھا۔
’’اگر انسان کو لگے کہ اس پر یا اس کے کسی اپنے پر کوئی مصیبت آنے والی ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی راہ میں اپنی یا اس شخص کی طرف سے صدقہ کرنے سے وہ مشکل یا تو ٹل جائے گی یا پھر کسی حد تک کم ہوجائے گی۔ صدقہ و خیرات کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے جیسے غریب اور مسکین کو کھانا کھلانا‘ آبی مخلوق کو کھلانا یعنی فش فوڈ دینا۔ چرند پرند کو دانہ وغیرہ ڈالنا بھی صدقہ و خیرات کی قسمیں ہیں۔‘‘ وہ تیزی سے کار کی جانب بڑھا پھر رومال سے خون صاف کرتے ہوئے اس نے اپنے ذہن میں اگلے چند گھنٹے ترتیب دیئے‘ اسے صدقہ دینا ہے عبیرہ کی طرف سے ان تینوں طریقوں سے جو عبیرہ نے صدقہ و خیرات والے لیکچر میں بتائے تھے۔
ؤ…/…ؤ
ٹھنڈی ہوا اس کے وجود سے ٹکرا رہی تھی وہ دریچے میں بچھی بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کا دل کسی حد تک مطمئن ہوا تھا‘ وہ صدقہ کرچکا تھا عبیرہ کی طرف سے اور اب آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھتے ہوئے وہ اس ہستی سے مخاطب تھا جس پر عبیرہ ہر ہستی سے زیادہ یقین رکھتی تھی۔
’’میں نے عبیرہ کی طرف سے صدقہ کیا ہے تیری راہ میں‘ سچے دل سے۔ اسے قبول فرما اور عبیرہ کو ٹھیک رکھ‘ وہ بہت بھروسا کرتی ہے تجھ پر‘ اس کا یقین‘ ایمان‘ اس کا دین ہے تُو۔‘‘ جان نے اپنے دل میں ایک سکون سا محسوس کیا تھا۔
’’جان کہاں گئے ہوئے تھے میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی؟‘‘ اس کی مما نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے جھنجوڑا اور اس نے پلٹ کر انہیں دیکھا۔
’’مما! کیا ہم ابھی گھر چل سکتے ہیں؟‘‘ جان نے کہا۔
’’کیوں… تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ انہوں نے نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا۔
’’میں ٹھیک ہوں مام! بس مجھے اپنے پیپرز کی ٹینشن ہورہی ہے اور ویسے بھی اب تو نانا جی کی طبیعت بھی ٹھیک ہے اور بابا کی برسی بھی ہوگئی ہے۔‘‘ جان نے توجیہہ پیش کی۔
’’پیپرز کی وجہ سے تم نے کب سے پریشان ہونا شروع کردیا۔‘‘ انہوں نے ذومعنی انداز میں کہا۔
’’مام پلیز! میں گھر جانا چاہتا ہوں اور بس۔‘‘ اسے الجھن ہورہی تھی ان کے سوالات سے۔
’’اوکے چلو‘ میں پیکنگ کرتی ہوں۔‘‘ انہوں نے محسوس کیا کہ جان کو ان کے سوالات سے الجھن ہورہی ہے اسی لیے انہوں نے کوئی مزید سوال نہیں کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ قصبے کی حدود سے نکل رہے تھے انہوں نے محسوس کیا تھا کہ جان کار بہت تیز چلا رہا تھا اور گھر پہنچ کر اس نے سب سے پہلے عدیل کو کال کی تھی پہلی ہی بار میں کال ریسیو ہوگئی تھی۔
’’تم کہاں ہو جان اس وقت؟‘‘ رسمی علیک سلیک کے بعد عدیل نے اس سے سب سے پہلا سوال کیا تھا۔
’’گھر پر ہوں۔‘‘ جان نے خود کو بہت نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
’’ویسے وہاں سب خیریت ہے نا… میرا مطلب ہے عبیرہ…‘‘ جان اپنا جملہ مکمل نہیں کر پایا تھا اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا‘ وہ عدیل سے عبیرہ کے بارے میں کیسے پوچھے یک دم دونوں طرف ہی خاموشی چھاگئی تھی بالآخر جان نے ہر احتیاط کو بالائے طاق رکھا‘ یہاں تک کہ عدیل کے خفا ہونے کو بھی۔
’’عدیل! عبیرہ کیسی ہے؟ مجھے نہیں پتا لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کسی مصیبت میں ہے۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں کہتا چلا گیا۔
’’میں خود بھی نہیں سمجھ پارہا تھا کہ میں تمہیں کیسے بتائوں‘ میں نے خود ہی تمہیں عبیرہ سے دور رہنے کا کہا تھا اب اس کی اتنی پرابلم میں تمہیں کیسے شامل کروں؟‘‘ عدیل کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
’’کیا ہوا عدیل! عبیرہ کو… وہ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ جان کے ذہن میں اس کی خواب والی حالت ابھر آئی اور اس کا دل اس کے حلق میں آگیا تھا۔
’’وہ جیل میں ہے۔‘‘ عدیل کا یہ جملہ جان کو سُن کر گیا۔
’’کیا…؟‘‘ اس کی آواز ڈوبتی چلی گئی تھی۔
’’اس پر سنیتا نام کی لڑکی کے اغواء کا الزام ہے‘ ہم لوگ جیل ہی میں آئے ہوئے ہیں مگر کچھ ہو نہیں پارہا۔ احمد کی بھی کوئی سفارش کام نہیں آرہی‘ سخت مشکل میں مبتلا ہیں جان! پلیز تم کچھ کرو جان! ہم علاقائی پولیس اسٹیشن میں ہیں۔‘‘ عدیل کا لہجہ ملتجی تھا۔
’’میں آرہا ہوں۔‘‘ جان نے اتنا کہہ کر کال منقطع کردی‘ وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا‘ بہت تیزی سے اس نے اپنا رخ مما کے کمرے کی جانب کیا‘ وہ جانتا تھا صرف وہی واحد تھیں جو عبیرہ کو جیل کے اندھیروں سے باہر لاسکتی تھیں۔
ؤ…/…ؤ
علاقائی اسٹیشن میں ڈی آئی جی کو داخل ہوتا دیکھ کر سب ہی یک دم چاق و چوبند ہوگئے تھے۔ ڈی آئی جی کے ساتھ جان کو دیکھ کر عدیل کی جان میں جان آئی تھی‘ جان نے بھی ان تینوں کو دیکھا تھا۔ عدیل اور احمد کے ساتھ ایک ضعیف العمر شخص تھا ان کا چہرہ نورانی تھا‘ سفید داڑھی اور سر پر سفید عمامہ تھا۔ اس نے ایک نظر میں جائزہ لیا تھا یقینا وہ عبیرہ کے فادر تھے۔ ڈی آئی جی کی آمد پر انسپکٹر‘ سب انسپکٹر سب ہی حاضر ہوگئے تھے‘ انسپکٹر نے آگے بڑھ کر ڈی آئی جی سے ہاتھ ملایا تھا۔
’’سر آپ یہاں… سب خیریت تو ہے؟‘‘ اس نے جان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میں ایک پرسنل کیس کے سلسلے میں آیا ہوں‘ تم نے عبیرہ عباد کو سنیتا کے اغواء کے الزام میں گرفتار کیا ہے‘ اسے فی الحال چھوڑ دو‘ آگے کے معاملات میں خود سنبھال لوں گا۔‘‘ انہوں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
’’ لیکن سر اس پر کشور مہرا کی بیٹی کے اغواء کا الزام ہے اور آپ جانتے ہیں نا انہیں…‘‘ اس نے ذومعنی انداز میں کہا۔
’’میں نے کہا نا میں خود سنبھال لوں گا۔‘‘ اب کی بار ان کا لہجہ تھوڑا تیز تھا۔
’’اوکے سر۔‘‘ اس نے مزید کوئی بات نہیں کی اور انہیں ساتھ لیے ایک طرف بڑھنے لگا۔
’’چلیں جان!‘‘ انہوں نے جان کو مخاطب کیا تو وہ ان تینوں سے مل چکا تھا۔ عبیرہ کے فادر اس کے بہت مشکور تھے مگر احمد کے چہرے کے تاثرات بہت ناگوار تھے۔ وہ مزید کوئی بات کیے بغیر ڈی آئی جی کے پیچھے چل پڑا‘ وہ اب تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر رہے تھے‘ اس نے دیکھا وہاں بہت اندھیرا تھا۔ صرف ایک چھوٹا سا بلب تھا جو دو طرفہ بنی کال کوٹھڑیوں کے وسط میں تھا‘ جان کا دل ڈوبنے لگا اس کا دل چاہا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے یا پھر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔
’’وہ یہاں ہے‘ ان درندہ صفت لوگوں کے درمیان‘ کیوں؟ اسے یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ عبیرہ جیسی پاکیزہ لڑکی کیوں ان ناپاک لوگوں کے درمیان ہے… کیوں؟ وہ تو اپنے ربّ سے بہت محبت کرتی ہے پھر اس نے کیوں اسے یہاں ان اندھیروں میں لاچھوڑا؟ اس نے آج تک کوئی گناہ نہیں کیا‘ کوئی غلط کام نہیں پھرکیوں دی جارہی ہی اسے یہ سزا… کیوں؟‘‘ اس کا ذہن بری طرح سے انتشار کا شکار تھا۔ ڈی آئی جی اور انسپکٹر کے قدم رکے اور ساتھ ہی جان کو اپنی دھڑکن تھمتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھڑکن محسوس کرنا چاہی تھی مگر وہاں کوئی آواز نہیں تھی۔
’’نہیں عبیرہ! میں آپ کو قبول نہیں کرسکتا‘ ہر گز نہیں۔ ان میلی نگاہوں کے درمیان میں تصور بھی نہیں کرسکتا آپ کا۔‘‘ وہ سر جھکائے خود سے ہم کلام تھا۔
’’آپ میرے ساتھ آیئے سر۔‘‘ انسپکٹر نے اسے مخاطب کیا اور اس نے نہ سمجھنے والی نگاہوں سے ڈی آئی جی کو دیکھا۔
’’جان! وہ اندر کی طرف ہے لیڈیز پورشن میں۔‘‘ اور وہ گردن ہلاتا ایک بار پھر انسپکٹر کے پیچھے چل پڑا‘ اندھیری راہداری میں چلتے ہوئے انسپکٹر اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’بڑی پکی سفارش لائے ہو آپ تو‘ اس لڑکی کے لیے۔ ورنہ اس کا چھوٹنا تو بہت مشکل تھا۔ آپ کو پتا ہے اس نے کشور مہرا کی بیٹی کو اغواء کروایا ہے‘ شہر کے چند نام ور تاجروں میں سے ایک ہیں۔‘‘ جان کے قدم یک دم رک گئے تھے اس جملے پر۔
’’کیا ہوا سر! آپ رک کیوں گئے؟‘‘ اس نے پلٹ کر پوچھا‘ مگر وہ بنا جواب دیئے چل پڑا اور انسپکٹر پھر اس سے مخاطب ہوا۔
’’ویسے رشتا کیا ہے آپ کا اس لڑکی سے جو آپ اس کے لیے اتنی بڑی سفارش لے آئے ہیں؟ کچھ تو خاص ہوگا آپ دونوں کے بیچ؟‘‘ اس کا لہجہ بہت ذومعنی اور انداز بہت ہی گھٹیا تھا۔ جان کا دل چاہا کہ وہ اس کا سر پکڑ کر ان سلاخوں میں دے مارے مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی کوئی بھی حرکت عبیرہ کو ان سلاخوں کے پیچھے ہمیشہ کے لیے مقید کرسکتی ہے۔
’’اور کتنی دور ہے؟‘‘ اس نے بے تاثر لہجے میں پوچھا۔
’’لیجیے بس پہنچ گئے۔‘‘ اس نے چند قدم آگے بڑھ کر تالا کھولتے ہوئے کہا اس نے دیکھا سر سے پیر تک سفید چادر میں ملبوس‘ دعا میں ہاتھ اٹھائے وہ آنکھ بند کیے بیٹھی تھی۔ اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے‘ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور انسپکٹر سے ہوتی ہوئی اس کی نگاہیں جان پر آرکیں۔ اس کی آنکھوں میں حیرت و خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے تھے۔
’’آجائو تمہاری ضمانت ہوگئی ہے۔‘‘ انسپکٹر نے کرخت لہجے میں کہا۔
’’آپ ٹھیک تو ہیں نا عبیرہ!‘‘ جان نے اس کے باہر نکلتے ہی پوچھا۔
’’میں… میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس کا لہجہ بہت نم تھا غالباً وہ بہت دیر سے رو رہی تھی۔
’’مجھے گھر لے چلیں جان پلیز! مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ آنسو اب بھی بہت تیزی سے بہہ رہے تھے۔ انسپکٹر نے کھنکار کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’چلیں سر! ڈی آئی جی صاحب ہمارا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ انسپکٹر نے دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’چلیں!‘‘ اس نے عبیرہ سے پوچھا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ چل پڑے تھے تبھی پیچھے سے آتا ہوا انسپکٹر عبیرہ کے برابر چلنا شروع ہوگیا۔ عبیرہ نے خفیف سی نگاہوں سے جان کو دیکھا اور جان نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا‘ وہ چند قدم آگے بڑھا اور اس طرح لڑکھڑایا جیسے اندھیرے میں کسی چیز سے ٹکرایا ہو‘ انسپکٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے پکڑا اور اس دوران عبیرہ کو اپنی جگہ چینج کرنے کا موقع مل گیا وہ پہلے جان کے بائیں طرف چل رہی تھی اب دائیں طرف آگئی تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ جان نے اپنے بازو سے انسپکٹر کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا اور سر جھکا کر چلنا شروع کردیا اگر وہ عبیرہ کی جانب دیکھتا تو وہ دیکھ پاتا وہ اس کی کتنی مشکور تھی۔
ؤ…/…ؤ
اس کی نگاہیں ایک بار پھر بیک ویو مرر پر اٹھی تھیں۔ وہ اب بھی اپنے بابا کے سینے پر سر ٹکائے رو رہی تھی‘ اس کے آنسو بھی اس کے کردار کی طرح شفاف اور چمک دار تھے۔ اس نے دیکھا احمد ایک بار پھر اسے گھور رہا تھا عبیرہ کو دیکھنے پر۔ اس نے اپنی نگاہیں ایک بار پھر ونڈ اسکرین سے باہر روڈ پر جمادی تھیں مگر تھوڑی دیر بعد پھر اس کی نگاہیں بیک ویو مرر پر اٹھی تھیں۔ عبیرہ کی آنکھوں سے بہتا ہوا ایک ایک آنسو اسے اپنے دل پر گرتا ہوا اور دل پگھلتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اب کی بار اس نے احمد کی جانب نہیں دیکھا وہ جانتا تھا احمد اسے دیکھ رہا ہے اور احمد کو وہ اپنی دلی کیفیت بتانے اور سمجھانے سے قاصر تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے کار عدیل کے گھر کے آگے روکی‘ وہ سب کار سے اترے تھے۔ عباد صاحب نے ایک بار پھر جان کا شکریہ ادا کیا‘ عبیرہ کے آنسو اب تھم گئے تھے مگر وہ بالکل نڈھال ہوچکی تھی اور عباد صاحب کے سینے پر سر ٹکائے کھڑی تھی۔
وہ تینوں اب گھر کی طرف بڑھ گئے تھے۔ عدیل نے جان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نفی میں سر ہلایا تھا تبھی ان دونوں نے ایک ساتھ عباد صاحب کے گھر کی جانب دیکھا اور اسی وقت عبیرہ نے بھی پلٹ کر مشکور نگاہوں سے جان کی جانب دیکھا تھا مگر احمد یک دم درمیان میں حائل ہوگیا تھا اور وہ لوگ گھر میں داخل ہوگئے تھے۔ عدیل جان کے گلے لگا اور پھر شکریہ کہتے ہوئے گھر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ جان نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے سوچا تھا۔
’’انسان کو ہمیشہ زندگی میں مشکل فیصلے کیوں لینے پڑتے ہیں‘ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا مگر آج سمجھ گیا ہوں۔ حقیقتاً کوئی بھی فیصلہ مشکل نہیں ہوتا بلکہ ہمیں اپنی زندگی اور اپنے پیاروں کی خوشیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور ہم ہمیشہ اپنے پیاروں کی خوشیاں مقدم رکھتے ہیں اپنی زندگی پر اور میں نے بھی آج یہی کیا ہے عبیرہ عباد۔‘‘
ؤ…/…ؤ
پانچ سال بعد وہ اس سر زمین پر قدم رکھ رہا تھا‘ حدِ نگاہ تک پھیلے ائرپورٹ کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا جب وہ پانچ سال پہلے یہاں سے گیا تھا تو بہت ناامید اور بے زار تھا اور آج وہ لوٹ کر آیا ہے تو کس قدر پُرامید… وہ تو ساری کشتیاں جلا کر گیا تھا پھر کیوں لوٹا‘ انہی فضائوں میں۔ جن میں صرف رنج و غم کی آگ کا دھواں تھا۔ صرف آنسو‘ صرف آہیں تھیں۔ اس نے گہرا ایک سانس لیا۔
’’اس کا جواب تمہارے پاس نہیں ہے کاشان فریدی! اور نہ ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ اس وقت اسلام آباد ائرپورٹ پر کھڑا تھا۔ پانچ سال قبل پاکستان سے جاتے وقت اس کا ارادہ واپس لوٹ کر آنے کا نہیں تھا مگر وہ آج بنا ارادے ہی آگیا تھا۔ اس نے ایک ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے گھر کا ایڈریس سمجھایا اور گھر کے باہر اترتے ہوئے اس نے ایک نگاہ گھر کے داخلی دروازے پر ڈالی پھر پلٹ کر ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ ادا کیا اور اپنا سامان اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چوکیدار نے اسے دیکھ کر دروازہ کھول دیا تھا‘ سب کچھ ویسا ہی تھا آج بھی سرخ چھوٹے سائز کی اینٹوں سے بنی راہداری جس کے دونوں طرف گارڈ تھا۔ جس میں انواع و اقسام کے پھول لگے تھے‘ جو مالک کے اعلیٰ ذوق کی ترجمانی کررہے تھے اور وہ جانتا تھا وہ مالک کون ہے؟ اس کی نانو بی… سفید ماربلز سے بنی عمارت شام کے سائے میں دل کش منظر پیش کررہی تھی‘ وہ کار پورچ سے گزر کر برائون لکڑی کے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔
’’کتنی بار کہا ہے میں بلڈ پریشر کی مریض ہوں‘ کھانے میں نمک تھوڑا ہولے ہاتھ سے ڈالا کرو مگر مجال ہے جو تم میری ایک بھی سن لو۔‘‘ وہ غالباً کسی ملازم کو ڈانٹ رہی تھیں‘ وہ دبے پائوں ان کے پیچھے آیا اور ملازم کو ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا‘ اس نے ان کی گلاسز لگی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔
’’ارے یہ کون ہے؟‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے بوکھلا گئی تھیں مگر کاشان کے ہاتھ رکھتے ہی انہیں فوراً پتا چل گیا۔
’’کاشان! تم آگئے؟‘‘ ان کے لہجے میں حیرت تھی۔ اس نے ان کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے‘ انہوں نے دھند لاتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا‘ اس کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے گلے لگا لیا۔ بہت دیر تک وہ اس سے شکوے کرتی رہی اور وہ مسکرا کر سنتا رہا اور جب ان کے شکوے ختم ہوئے تو وہ ان سے مخاطب ہوا۔
’’اچھا بابا سوری! اب آپ کو تنگ نہیں کروں گا‘ کہیں نہیں جائوں گا‘ مگر اذان کے پاس تو جانے کی اجازت ہے نا مجھے؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’لیکن زیادہ دن کے لیے نہیں اور ہاں اب تم آگئے ہو تو میں تمہیں کسی نہ کسی کھونٹے سے باندھ ہی دوں گی تاکہ تم یہاں سے جا ہی نہ سکو۔‘‘ انہوں نے اپنے دوپٹے کے آنچل سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’ہم دونوں آج ڈنر باہر کریں گے نانو بی… اوکے۔‘‘ اس نے ان کی بات نظر انداز کردی تھی۔
’’تم نے سنا میں نے کیا کہا؟‘‘ انہوں نے ایک بار پھر اسے متوجہ کیا۔
’’نانو بی! اگر آپ مجھے کسی کھونٹے سے باندھنے کی کوشش کریں گی تو میں اسی دنیا میں گم ہوجائوں گا۔ جس سے میں واپس آیا ہوں‘ فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں… جس طرح پانچ سال قبل میرے ہاتھ میں تھا۔‘‘ اس کا لہجہ سلگا ہوا تھا‘ وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھیں‘ وہ باغی نہیں تھا مگر خفا تھا۔
ؤ…/…ؤ
’’خوش آمدید مسٹر کاشان فریدی!‘‘ اذان سمیت اس کے تمام اسٹاف نے کاشان کا بہت خوش دلی سے استقبال کیا تھا۔
’’کیسے ہو؟‘‘ وہ دونوں اب اذان کے آفس میں موجود تھے۔
’’بالکل ٹھیک ہوں‘ آپ سنائیں کیا حال ہیں؟‘‘ کاشان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
’’یہاں بھی الحمدللہ ٹھیک ہی ہیں۔ تم بتائو پاکستان سے دور زندگی کیسی گزری؟ دوسرے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا تھا؟‘‘ اذان نے انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر کافی اور بسکٹ کا آرڈر دیا۔
’’تجربہ تو بہت اچھا تھا لیکن دل کہیں نہیں لگا کیونکہ وہ تو یہیں رہ گیا تھا آپ کے پاس۔‘‘ کاشان مسکرایا اور اذان اس کے جملے پر ہنس رہا دیا۔
’’چلو اب تھوڑی بہت سنجیدہ گفتگو ہوجائے‘ میرے پراجیکٹ کے بارے میں کیا سوچا‘ کرو گے اس پر کام میرے ساتھ؟‘‘ اذان اب بالکل سنجیدہ تھا۔
’’آپ جانتے ہیں اذان! میں صرف آپ کے پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان آیا ہوں ورنہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا تو پھر میں آپ کے پراجیکٹ پر کیسے کام نہیں کروں گا۔‘‘ کاشان نے بہت نارمل انداز میں کہا۔
’’مجھے پتا ہے کاشان!‘‘ اذان نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
’’مجھے آپ کے ساتھ کام کرکے بہت سکون ملتا ہے اذان اور جو عروج میں نے آپ کے ساتھ کام کرکے پایا وہ کسی اور کے ساتھ کام کرکے نہیں پایا۔ میں آپ سے بہت دور ہوکر بھی کبھی آ پ کی باتوں کو نہیں بھولا‘ ہر مشکل وقت میں نے وہی کیا جو میں نے ہمیشہ آپ کو کرتے ہوئے پایا۔‘‘ کاشان بہت دھیمے لہجے میں کہہ رہ تھا۔
’’عروج اور زوال سب اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے‘ وہ جس کو جو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اب مجھے ہی دیکھ لو کون جانتا ہے‘ کون تھا اذان؟ کیا تھی اس کی حقیقت؟ اور اب کون ہے وہ؟ اس دنیا میں لوگ اسی کی مانتے ہیں جو اللہ کی مانتا ہے جو وہ دے اسے خوشی سے قبول کرلو پھر چاہے اس میں بظاہر آپ کی ہار ہو۔‘‘ اذان نے ہمیشہ کی طرح پھر اسے الجھایا‘ وہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرتا تھا جس سے کاشان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ اذان کی زندگی میں کوئی بہت بڑا تغیر آیا ہے لیکن کیا؟ یہ وہ آج تک نہیں سمجھ پایا تھا۔
’’آپ خود کو اتنا کم تر کیوں سمجھتے ہیں اذان! میری نگاہ سے دیکھیں آپ ایک مکمل انسان ہیں‘ ایک مکمل مومن مسلمان۔ جسے بہت سے لوگ آئیڈیلائز کرتے ہیں مجھ سمیت۔‘‘ کاشان نے بہت اطمینان سے کہا۔
’’تم جانتے ہو میں خود کو…‘‘ کاشان نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’مجھے پتا ہے آپ خود کو دوسروں کو آئیڈیل بننے کے لائق نہیں سمجھتے کیونکہ آپ کے مطابق صرف نبی آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک مسلمان کا آئیڈیل ہونے چاہئیں۔‘‘ کاشان نے دیکھا تھا اذان کے لب ہل رہے تھے وہ درود شریف پڑھ رہا تھا۔
’’کیا میں غلط کہتا ہوں؟‘‘ اب اذان اس سے مخاطب تھا۔
’’نہیں‘ آپ غلط نہیں مگر انہیں آئیڈیلائز کرنے کے لیے ہمیں آپ کے جیسا مومن بندہ بننا پڑے گا جو کہ بہت مشکل کام ہے۔‘‘ کاشان نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ اذان بالکل سنجیدہ تھا۔
’’کاشان! مجھے کسی خوش فہمی میں مبتلا مت کرو‘ میرے اعمال کے بارے میں تم جانتے کیا ہو؟ کسی کے موجودہ حالات کو دیکھ کر ہم اس کے مومن ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتے کاشان! جب تک ہم اس کی زندگی کا پورا جائزہ نہ لیں۔‘‘ وہ ایک سانس میں کہتا چلا گیا اور یہ جملے کہتے ہوئے بھی وہ کاشان کو مومنوں کی صف میں نظر آیا تھا جو ہر نیک کام کرتے ہیں پھر بھی اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے آپ کو نیک نہیں کہتے۔
’’سر! آپ سے کوئی لڑکی ملنے آئی ہے۔‘‘ اس کے پی اے نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
’’کون ہے؟‘‘ اس نے پر سوچ لہجے میں پوچھا۔
’’عالیانہ عباد!‘‘ یہ نام سن کر وہ اپنی جگہ منجمد ہوگیا۔
ؤ…/…ؤ
وہ اپنے کمرے کے سامنے بنے دالان میں کھڑا تھا‘ ٹھنڈی ہوائیں اس کے وجود سے ٹکرا رہی تھیں‘ اس کے پی سی پر بیک اسٹریٹ بوائز کا گانا بلند آواز میں چل رہا تھا۔ اس کی پلکیں نم تھیں۔
’’جان! تمہیں پتا ہے یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہوا ہے یہاں تمہاری اور ریٹا کی منگنی ہوئی اور ادھر عبیرہ اور احمد کا نکاح ہوا گیا۔‘‘ عدیل کے یہ جملے اس نے پچھلے چند گھنٹوں میں کتنی بار سوچے تھے اور ہر بار کتنی تکلیف محسوس کی تھی اس کا اندازہ خود اسے بھی نہیں ہورہا تھا۔ اس نے ریٹا کی پہنائی ہوئی رنگ کو دیکھا۔
’’جان! اگر تم چاہتے ہو کہ میں عبیرہ کو جیل سے باہر نکلوائوں تو تم ریٹا سے شادی کے لیے تیار ہوجائو۔‘‘ اسے ماما کے لہجے کی سفاکی یاد آئی تھی۔ مشکل فیصلے بھلے ہی کتنے مشکل کیوں نہ ہوں‘ انہیں لینے میں پلک جھپکنے کا ٹائم بھی نہیں لگتا۔
’’اگر تم مسلمان ہوتے جان تو میرے نزدیک عبیرہ کے لیے تم سے بہتر کوئی نہیں تھا مگر یہ تمہاری سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ تم ایک نان مسلم ہو اور عبیرہ ایک پکی مسلمان۔‘‘ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتا چلا گیا اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے ہوئے اس نے آسمان کی جانب دیکھا تھا۔
’’کیا مذہب ایک مسلمان کی زندگی میں اتنا اہم ہوتا ہے کہ ہر سچا جذبہ اس کے سامنے بے معنی ہوجاتا ہے؟‘‘ اس کے چہرے پر کرب کے آثار تھے اس نے گردن جھکاتے ہوئے ہاتھ گھاس پر رکھ دیئے تھے۔
’’کیا میرے لیے میرا مذہب اتنا اہم ہے؟‘‘ اس نے اپنے دل کو ٹٹولا اور اس کے جواب پر اسے حیرت ہوئی تھی‘ اس کا جواب منفی تھا۔
’’ہاں عبیرہ! آپ میری زندگی میں اتنی اہم ہیں کہ میں آپ کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں‘ اگر آپ زندگی بھر میرا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتیں تو میں مسلمان ہوجاتا عبیرہ! آپ کے لیے۔ مگر اب اس سوچ کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اب آپ میری زندگی کا حصہ کبھی نہیں بن سکتیں۔‘‘ اس کی آنکھ سے آنسو گرا اور ہری گھاس پر شبنم کے قطرے میں مل گیا۔ منفی سوچیں آج اس پر اس حد تک حاوی تھیں کہ وہ عبیرہ کا پڑھایا ہوا ہر سبق بھول گیا تھا۔
’’اسلام وہ مذہب نہیں جو مشکلوں اور الجھنوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے اختیار کیا جائے یا کسی زور زبردستی سے یا پھر کسی انسان کے لیے اختیار کیا جائے۔ یہ ایک پریکٹیکل سوچ رکھنے والے انسان کا مذہب ہے‘ جسے انسان صرف اللہ کی محبت‘ اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یہ جملے فضائوں میں کہیں گردش کررہے تھے مگر وہ آج سن نہیں پایا تھا اگر سن لیتا تو جان جاتا کہ اس نے مجازی محبت کو حقیقی محبت پر فوقیت دی ہے اور اس کی یہ محبت خود اس کے اور عبیرہ کے لیے کتنا بڑا امتحان ہوسکتی تھی وہ نہیں جانتا تھا۔
ؤ…/…ؤ
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
مجھ کو بھی محمدؐ کا دیوانہ بنا جانا
قدرت کی نگاہیں بھی جس چہرے کو تکتی تھیں
اس چہرۂ انور کا دیدار کرا جانا
جس خواب میں ہوجائے دیدارِ نبیؐ حاصل
اے عشق کبھی مجھ کو نیند ایسی سلا جانا
دیدار محمدؐ کی حسرت تو رہے باقی
جز اس کے ہر اک حسرت اس دل سے مٹا جانا
اپنی نعت مکمل کرکے وہ اسٹیج پر ہی اپنی ہی جگہ پر آبیٹھا تھا۔ آج 12 ربیع الاول کا دن تھا اور ہر سال کی طرح اس نے آج بھی محفلِ میلاد میں حصہ لیا تھا۔ اس کے نعت پڑھتے ہی پورا ماحول سبحان اللہ کے نعروں سے گونج اٹھا تھا‘ بہت بڑے پیمانے پر ہونے والے اس میلاد میں ملک بھر سے میڈیا کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ کچھ دیر اسٹیج پر بیٹھے رہنے کے بعد وہ نیچے آگیا اور تبھی کسی نے اس کی انگلی پکڑ کر اسے روکا تھا۔ وہ ایک سات آٹھ سال کا بچہ تھا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاب اس کی طرف بڑھا رہا تھا اس نے دیکھا وہ بہت گول مٹول سا بچہ تھا۔ وائٹ شلوار بلیک قمیص‘ پشاوری چپل‘ سر پر بلیک ٹوپی جس میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موتی لگے ہوئے تھے‘ اسے بے اختیار اس بچے پر پیار آیا تھا۔ وہ بچہ شرما گیا۔
’’ہوں… آپ تو بہت سویٹ ہیں‘ نام کیا ہے آپ کا؟‘‘ اس نے اپنے دونوں ہاتھ بچے کی گردن کے گرد حمائل کیے تھے‘ بہت پیار سے پوچھتے ہوئے۔
’’میرا نام عبداللہ عبدالرحمن ہے اور آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہیں اور بہت سویٹ بھی ہیں۔‘‘ وہ بچہ بہت معصوم انداز میں بولا تھا۔
’’بہت بہت شکریہ میری نعت پسند کرنے کے لیے۔ ویسے آپ کا نام صرف عبداللہ ہے یا عبدالرحمن بھی ہے؟‘‘ اسے بہت اچھا لگ رہا تھا اس بچے سے بات کرنا۔
’’یہ پورا نام میرا ہی ہے‘ میری مما کہتی ہیں کہ مجھے عبداللہ نام بہت پسند تھا اور تمہارے بابا کو عبدالرحمن اس لیے ہم نے تمہارے دونوں ہی نام رکھ دیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو یہ دونوں نام بہت پسند ہیں۔‘‘ اس کی باتیں بہت دلچسپ تھیں وہ محظوظ ہونے لگا تھا۔
’’ویسے آپ کا کوئی دوسرا بھائی نہیں ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں اب تھوڑی شرارت تھی۔
’’نہیں لیکن کیوں انکل؟‘‘ اس بچے نے بہت معصومیت سے پوچھا۔
’’ویری سمپل! آپ کے والدین کو دو نام پسند ہیں ایک آپ کا رکھ لیتے اور دوسرا آپ کے بھائی کا۔‘‘ اس نے بہت مزے سے کہا اور اس بچے نے شرم کے سبب دانتوں میں انگلی دبائی تھی۔
’’آپ ہمارے ساتھ آئسکریم کھائیں گے؟‘‘ اس نے عبداللہ کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’لیکن مما منع کرتی ہیں نا‘ ٹھنڈ لگ جائے گی‘ بخار ہوجائے گا پھر مما روئیں گی‘ بابا پریشان ہوں گے۔‘‘ عبداللہ نے آئس کریم کھانے کی خواہش کے باوجود نہ کھانے کی ہزار ہا وجوہات بیان کیں۔
’’کوئی بات نہیں‘ ابھی تو ماما یہاں نہیں ہیں‘ انہیں کیسے پتا چلے گا۔ ہم تھوڑی سی کھائیں گے۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور چلنا شروع کردیا۔
’’لیکن مما بابا دونوں آئے ہوئے ہیں۔‘‘ عبداللہ اب بھی اپنی مجبوری ظاہر کررہا تھا۔
’’کوئی بات نہیں‘ میں مما کو کہہ دوں گا کہ میں نے خود کھلائی ہے‘ اب خوش۔‘‘ عبداللہ اب مطمئن ہوگیا تھا‘ آئس کریم لے کر اس نے عبداللہ کو کار کے بونٹ پر بٹھایا اور آئس کریم کا کپ عبداللہ کو پکڑادیا۔
’’انکل! آپ کو پتا ہے میری مما آپ کو جانتی ہیں۔‘‘ عبداللہ نے آئس کریم کھاتے ہوئے اچانک کہا‘ اس نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا کیونکہ اس کا پروفیشن ایسا تھا بہت سے لوگ اسے جانتے تھے۔
’’انہوں نے مجھے آپ کا نام بتایا اور وہ آپ کو نعمت پڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہورہی تھیں۔‘‘ وہ اب بھی اطمینان سے آئس کریم کھا رہا تھا۔ ’’آپ کا نام جان ہے ناں؟‘‘ عبداللہ نے بہت بے فکری سے کہا اور اس کا ہاتھ یک دم رک گیا تقریباً دس سوا دس سال بعد کسی نے اسے اس نام سے پکارا تھا اور وہ بھی ایک بچے نے اور ایک ایسے شہر میں جو اس کا آبائی شہر نہیں تھا۔
’’کک… کیا کہا آپ نے؟‘‘ وہ بری طرح ہکلایا۔
’’یہی کہ آپ کا نام جان ہے اور میری مما آپ کو جانتی ہیں۔‘‘ عبداللہ آئس کریم ختم کرچکا تھا۔
’’آپ کی مما مجھے کیسے جانتی ہیں؟‘‘ اس کی تشویش میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی دھڑکن بھی تیز ہوئی تھی۔
’’وہ تو انہوں نے مجھے بتایا ہی نہیں۔‘‘ عبداللہ نے حد درجہ بے بسی سے کہا۔
’’آ… آ… آپ کی مما کا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔ اس کے تخیل میں ایک ہی چہرہ ابھر رہا تھا۔ اسی کا چہرہ جسے وہ دس سال میں ایک بار بھی نہیں بھولا تھا‘ عبیرہ عباد کا چہرہ۔ عبداللہ نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس کے پیچھے کی طرف دیکھا۔
’’مما!‘‘ وہ کہتا ہوا کار کے بونٹ سے اترا اور اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پلٹ کے دیکھا اور اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔
ؤ…/…ؤ
اس نے ایک نگاہ اس دس منزلہ عمارت کو دیکھا وہ آج یہاں دوسری بار آئی تھی۔
’’زندگی بھی کتنی عجیب ہے ہر لمحہ نئی پھر بھی وہی۔ کتنے رنگ سمیٹے ہوئے ہیں اس نے اپنے اندر۔ ہر موڑ ایک نیا چہرہ ایک نئی پہچان۔ کیا ہے میری اصل پہچان؟ کون ہوں میں؟ کن حالات میں میری پہچان مجھ سے کھو گئی اور کیوں؟‘‘ بے ترتیب سوالات اس کے ذہن میں آرہے تھے۔
وہ سیڑھیاں چڑھ کر دروازے سے اندر داخل ہوئی اور کائونٹر پر پہنچ کر اس نے پوچھا۔
’’کیا میں اذان سے مل سکتی ہوں؟‘‘
’’سوری میم! آج سر چھٹی پر ہیں۔‘‘ اسے ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
’’اوکے۔‘‘ وہ پلٹ کر احرام کو دیکھنے لگی تھی۔ نہ جانے وہ کہاں رہ گیا تھا۔
’’ہوسکتا ہے وہ باہر میرا انتظار کررہا ہو۔ میری وجہ سے وہ بھی کتنا پریشان رہنے لگا ہے۔‘‘ اس کا ذہن سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
’’مس عالین! اذان کا سیل آف ہے‘ آپ لینڈ لائن ڈائل کریں کہ وہ آج کیوں نہیں آیا۔‘‘ اس آواز نے اس کے ذہن میں سوچوں کے سلسلے کو روک دیا تھا۔ اسے وہم نہیں ہوا تھا یہ اسی انسان کی آواز تھی جسے وہ لاکھوں میں تو کیا کروڑوں کی بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ بھی پلٹتے ہوئے اسے دیکھ چکا تھا۔ اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہیں کچھ منظر‘ کچھ آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔
’’طوبیٰ آپ میری زندگی میں دھڑکن کی مانند ہیں لیکن میری نانو بی میری زندگی میں سانسوں کی مانند ہیں۔ میری زندگی کا تصور آپ دونوں کے بنا ہی ناممکن ہے مگر جب مجھے آپ دونوں میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع ملا تو میں انہیں ہی چنوں گا اور میں انہیں ہی چنا ہے۔ میں نے ان کی مرضی کے خلاف آپ سے شادی نہیں کرسکتا آپ مجھے بھول جائیں۔‘‘
’’کاشان فریدی!‘‘ اس کے منہ سے غیر یقینی انداز میں نکلا۔ اس دن کے بعد طوبیٰ نے کبھی بھی اس کے روبرو نہ آنے کی دعائیں مانگی تھیں مگر آج وہ اس کے روبرو آہی گیا تھا۔ وہ الٹے قدم پیچھے ہٹ کر دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی تبھی احرام اندر داخل ہوا۔ طوبیٰ نے اس کا ہاتھ تھاما اور جلدی سے اسے وہاں سے چلنے کو کہا۔ کاشان دیکھ رہا تھا طوبیٰ کی زندگی میں آنے والا چینج‘ وہ لڑکا کون تھا وہ یہ تو نہیں جانتا تھا مگر ان کا رشتا کس نوعیت کا ہوسکتا ہے یہ اندازہ اسے ہوگیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
’’احمد بیٹا! رات کے تین بج رہے ہیں اب تک سوئے نہیں‘ طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ اس کے کمرے کی لائٹ آن دیکھ کر وہ اس کے کمرے میں آگئی تھیں۔ وہ بے سدھ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا‘ ان کی آواز پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’نیند نہیں آرہی تھی اماں!‘‘ اس نے سر جھکائے ہوئے جواب دیا۔
’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ انہوں نے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا‘ اس نے دیکھا تو اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔
’’کیوں دے رہے ہو خود کو یہ سزا اور کب تک دو گے۔‘‘ ان کے لہجے میں درد تھا۔
’’کوئی سزا نہیں دے رہا ہوں میں خود کو اماں…‘‘ وہ مزید کچھ کہتا اس سے پہلے وہ گویا ہوئیں۔
’’یہ سزا نہیں تو اور کیا ہے۔ اپنی حالت دیکھو تم‘ بھول کیوں نہیں جاتے اسے۔‘‘ وہ تڑپ کر بولی تو وہ چند لمحے خاموش رہا پھر دھیمے لہجے میں مخاطب ہوا۔
’’کیا کوئی انسان سانس لینا بھول سکتا ہے؟‘‘ وہ گنگ رہ گئی تھیں۔ اس نے اب ان کے چہرے کی جانب دیکھا۔ ’’نہیں ناں!‘‘ اس نے تصدیق بھی کردی تھی پھر اٹھ کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی نیند کی گولی کھائی اور بیڈ پر لیٹ گیا۔
’’شب بخیر اماں!‘‘ وہ بنا جواب دیئے ہی کمرے سے باہر نکل آئی تھیں۔
’’آخر کب ختم ہوگی میرے بیٹے کی سزا میرے مالک! کب تک وہ ایک ابنارمل زندگی جیے گا۔‘‘ ان کی پلکیں نم ہونے لگی تھیں۔
’’کون کہہ سکتا ہے کہ دن کی روشنیوں میں لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے والا انسان رات کے اندھیروں میں اس طرح سسکتا ہے۔‘‘ وہ بل کھاتی راہداری کے اختتام پر سیڑھیوں پر آبیٹھی تھیں۔
’’مجھے کہتی ہیں کہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور خود اتنی ٹھنڈ میں ٹھنڈے ماربلز پر بیٹھی ہیں۔‘‘ احمد کی آواز پر انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
’’چلیے‘ اٹھیے یہاں سے…‘‘ اس نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا اور انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ’’میں نے کہا ناں آپ سے میں بالکل ٹھیک ہوں‘ آپ خوامخواہ پریشان ہورہی ہیں۔‘‘ ان کا ہاتھ تھامے وہ ان کے کمرے کی طرف پیش قدمی کرنے لگا۔
’’تمہیں کیا پتا کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا بیٹا بظاہر بہت نارمل ہونے کے باوجود بھی ایک ابنارمل زندگی گزار رہا ہو‘ نیند کی گولی کھائے بغیر نہ سوتا ہو۔‘‘ وہ دونوں اب کمرے تک پہنچ گئے تھے‘ انہیں بیڈ پر لٹا کر اس نے کمبل ڈال دیا۔
’’شب بخیر اماں!‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے کہا اور انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔ ان کے کمرے سے نکل کر وہ سیڑھیوں پر ہی آبیٹھا تھا جہاں کچھ دیر پہلے اس کی اماں تھیں۔ ایک ٹرینکولائزر کھا کر بھی اس کی آنکھوں میں نیند کہیں نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہے مگر وہ ڈپریشن کیوں تھا سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا تھا یہاں تک کہ اس کی اماں بھی نہیں۔
ؤ…/…ؤ
’’آپا نکاح کے ڈریس میں کتنی پیاری لگ رہی تھیں میں کیا بتائوں۔‘‘ عالی نے اپنے دونوں بازو اس کے گلے میں ڈال کر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ اس وقت صحن میں تخت پر دھوپ میں بیٹھی سبزیاں کاٹ رہی تھی۔
’’احمد بھائی بھی بہت ہینڈسم لگ رہے تھے‘ آپ دونوں کی جوڑی خوب رہے گی۔‘‘ اس کا لہجہ بہت پُرشوخ تھا۔
’’اچھا اب بس کرو‘ کل رات سے ہزار ہا بار یہ جملے کہہ چکی ہو۔‘‘ عبیرہ نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے اسے ڈانٹا۔
’’عالی ادھر آئو‘ چلو کمرے کی صفائی کرو۔‘‘ اندر سے اماں نے آواز لگائی۔
’’آپا اماں آپ سے بھی اتنا ہی کام کرواتی تھیں جب آپ میرے جتنی تھیں۔‘‘ عالی نے منہ بسورتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ آپ بہت چھوٹی ہیں ابھی؟‘‘ عبیرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تو ابھی میری عمر ہی کیا ہے‘ صرف سولہ سال۔‘‘ اس نے لہرا کر کہا۔
’’عالی!‘‘ اماں نے کرخت لہجے میں کہا اور وہ اندر کی طرف دوڑی۔
’’اف خدایا! اس لڑکی نے تو میرا دماغ خراب کردیا ہے‘ اتنی بڑی ہوگئی ہے مگر مجال ہے جو بچپنا گیا ہو اس کا۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی تخت پر ہی آبیٹھیں اور سبزیاں کٹوانے لگیں۔
’’اماں ابھی عمر ہی کیا ہے اس کی‘ فرسٹ ائیر میں تو ایڈمیشن ہوا ہے اس کا۔ آپ بھی اس کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہیں۔‘‘ عبیرہ نے خفگی سے کہا۔
’’یہ تمہارا ہی لاڈ پیار ہے جس نے اسے اتنا بگاڑا ہے‘ تم نے مجھے کبھی اتنا نہیں ستایا جتنا اس لڑکی نے ستا مارا ہے۔‘‘ انہوں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
’’اماں آپ بھی نا بس۔‘‘ عبیرہ ان کے خفا ہونے پر ہنسی۔
’’ویسے عبیرہ! وہ لڑکا کون ہے جس نے تمہیں پرسوں رات جیل سے چھڑوایا تھا؟‘‘ انہوں نے تفتیشی انداز میں کہا۔ ’’تمہارے بابا جان بتا رہے تھے کہ وہ تمہیں جانتا ہے جب کہ وہ عدیل کا دوست ہے۔‘‘ ان کا لہجہ اب بھی ویسا ہی تھا۔
’’وہ جان ہے اماں! سنیتا کی طرح اسلام کو جاننے کی جستجو رکھتا ہے اور میں دینِ اسلام سے متعلق اس کی غلط فہمیاں دور کرتی ہوں۔‘‘ عبیرہ نے بہت مطمئن لہجے میں کہا۔
’’کیوں دوبارہ جیل جانے کا ارادہ ہے کیا جو اَب دوسرے غیر مسلم کو مسلمان کرنے چل دی ہو۔ ایک کو مسلمان کراکے تم نے ہمیں کم ذلیل کرایا ہے لیکن اس سب کی تم اکیلی ذمہ دار کہاں ہو‘ یہ سب تو تمہارے اس پروفیسر خالد عباسی کا کیا دھرا ہے جس نے قرآن کا ترجمہ اور تفسیر تمہیں سکھائی۔ اسی نے یہ خناس بھرا ہے تمہارے دماغ میں۔ خود کا تو کچھ نہیں گیا میری بیٹی کا نام بدنام کردیا۔ دیکھا تھا ناں کل محلے سے کوئی بھی نہیں آیا تمہارے نکاح میں وہ تو بھلا ہو احمد کا اپنے ماں باپ کی مرضی نہ ہونے کے باوجود اس نے یہ نکاح کیا ورنہ اگر وہ انکار کردیتا تو کون کرتا تم سے شادی؟‘‘ انہوں نے بہت چبھتے ہوئے لہجے میں کہا اور عبیرہ حیرت سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ میں نے لوگوں کو اللہ کے حکم سے راہِ ہدایت دکھائی تو غلط کیا؟‘‘ حیرت اور غم کے سبب اس کے منہ سے لفظ بہت مشکل سے ادا ہوئے تھے۔
’’ہاں غلط کیا تم نے‘ تم یہ کیسے بھول سکتی ہو کہ تم ایک لڑکی ہو۔‘‘ ان کا لہجہ اب بھی تیکھا تھا۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ اشاعتِ اسلام غلط ہے؟‘‘ وہ اب تصدیق چاہ رہی تھی۔
’’نہیں‘ میرا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے۔ تم اسلام پر عمل پیرا ہو‘ اس کی اشاعت کرتی ہو یہ تو ہم دونوںکے لیے بہت بڑی سعادت کی بات ہے لیکن اس میں اس حد تک انوالو ہوجانا کہ خود کو نقصان ہو یہ غلط ہے۔‘‘ انہوں نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تو یک دم گھر کا دروازہ بہت زور سے بجا اور وہ دونوں ہی ڈر گئی تھیں۔ عبیرہ کی اماں نے اٹھ کر دروازہ کھولا‘ دروازے پر عباد صاحب تھے ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔
’’ہائے اللہ… یہ کیا ہوگیا آپ… کس نے کردی آپ کی یہ حالت۔‘‘ انہوں نے جلدی سے عباد صاحب کا بازو تھاما اور دروازہ بند کرتے ہوئے عبیرہ اور عالی کو آواز لگائی۔ دونوں ہی دوڑی آئی تھیں‘ ان کی یہ حالت دیکھ کر ان دونوں کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔
’’عالی! تم بابا کو پانی دو‘ میں اسپرٹ لاتی ہوں۔‘‘ اس نے اندر کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔ عالی نے پانی پلایا اتنے میں عبیرہ اسپرٹ اور روئی لے آئی تھی۔ عباد صاحب دھیمے دھیمے کچھ بول رہے تھے‘ اس کے قریب پہنچتے ہی عبیرہ کی اماں نے پوری قوت سے اسے تھپڑ مارا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
’’دیکھو…! آج تیری وجہ سے ان کی یہ حالت ہوئی ہے۔‘‘ اماں نے شدید غصے سے کہا۔ ’’آج تک جن آوارہ لڑکوں کو تیرے بابا کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی انہوں نے پتھر مارے‘ انہیں یہ کہہ کر کہ ہم تو آوارہ تھے مگر کبھی جیل نہیں گئے تمہاری بیٹی تو پاکباز تھی وہ کیسے جیل چلی گئی۔‘‘ عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے پڑے۔
’’عبیرہ کو کچھ نہ کہیں‘ میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں۔‘‘ اس کے بابا نے کمزور لہجے میں کہا۔ عبیرہ آنسو صاف کرتی ان کے برابر آبیٹھی تھی اور اسپرٹ سے ان کا زخم صاف کرنے لگی۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا رہی تھیں‘ اماں کا مارا ہوا تھپڑ اس کے چہرے پر پانچوں انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
سورج دھیمے دھیمے غروب کی طرف جارہا تھا۔ وہ گارڈن میں بیٹھا پیپر کی تیاری کررہا تھا‘ دو تین کتابیں اس کے سامنے سینٹرل ٹیبل پر پڑی تھیں۔ ساتھ ہی کافی کا خالی کپ بھی رکھا تھا۔ ٹیبل کے گرد چار چیئرز تھیں جن میں سے ایک پر وہ بیٹھا تھا دوسری پر اپنے پائوں رکھے ہوئے تھے اور باقی دو چیئرز خالی تھیں۔
’’تمہیں پتا ہے جان! مسٹر مہرا بہت ناراض ہوئے جب انہیں پتا چلا کہ عبیرہ کی ضمانت ہم نے کروائی ہے۔‘‘ اس کی مما نے ان خالی چیئرز میں سے ایک پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ جان نے کتاب بند کرکے ٹیبل پر رکھی اور سیدھا ہو بیٹھا۔
’’تمہاری منگنی پر بھی اسی لیے نہیں آئے وہ۔‘‘ انہوں نے افسوس سے کہا۔
’’موم! مجھے ان کا الزام بالکل بے بنیاد لگ رہا ہے۔ بھلا عبیرہ کو کیا ضرورت ہے سنیتا کو اغوا کرانے کی اور سنیتا بھی کوئی بچی تو نہیں ہے جو اسے اغوا کرنا آسان ہے۔‘‘ جان نے عبیرہ کی وکالت کی۔
’’مسٹر مہرا بتارہے تھے کہ اس نے مسلسل سنیتا کو بہکایا اور اپنے دین پر لے آئی پھر نہ جانے اسے کہاں غائب کرادیا وہ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ سنیتا نے کسی مسلمان لڑکے سے شادی بھی کرلی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے طور پر اسے عبیرہ کی حقیقت بتانی چاہی تھی۔
’’مجھے یقین نہیں ہے۔‘‘ جان نے بہت اطمینان سے کہا۔
’’لیکن مجھے کیا کرنا ہے‘ اب تمہاری مثال لے لو یہ اسی کا بہکاوا ہے کہ میرا بیٹا جو میرے سامنے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا اب میرے فیصلوں کو رد کرنے لگا ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں کڑواہٹ ابھر آئی تھی۔
’’یہ آپ کی سوچ ہے ماما! عبیرہ کسی کو نہیں بہکاتی‘ وہ صرف سچ بولتی ہے۔ انسان کی اصلیت اس پر کھول کر رکھ دیتی ہے اس کے دلائل عقلی ہوتے ہیں وہ ہماری طرح ہر چیز پر آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتی۔ وہ آپ کی یا فادر جوزف کی طرح یہ نہیں کہتی کہ صرف اپنے دین کا علم حاصل کرو اگر کسی دوسرے دین کو جانو گے تو اپنے دین سے باہر ہوجائو گے۔ میں نے بچپن سے آپ کو اور فادر جوزف کو اسلام کے خلاف زہر اگلتے دیکھا‘ مسلمانوں کے نبی اور ان کی کتاب کو غلط کہتے سنا حالانکہ عبیرہ نے کبھی کسی کو غلط نہیں کہا اور نہ بُرا برتائو کیا یہ اس کا حُسن اخلاق ہے جو لوگوں کو اس کے دین کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سنیتا کو بھی اس کے رویے نے ہی اپنے طرف کھینچا ہوگا‘ جیسے مجھے۔ وہ زبردستی کسی کو اسلام قبول کرنے کا نہیں کہتی وہ صرف حق کی راہ دکھاتی ہے جو چاہے اس پر چلے اور جو نہ چاہے وہ نہ چلے۔‘‘ جان ایک تسلسل سے کہتا چلا گیا اور اس کی مما اس کا منہ دیکھتی رہ گئی تھیں۔
’’مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جان کہ اس کی محبت میں تم اسلام کے حمایتی ہورہے ہو؟‘‘ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کھا۔
’’اور مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے موم کہ آپ ضرورت سے زیادہ مجھ پر شک کرنے لگی ہیں؟‘‘ جان نے بھی ان کے انداز میں کہا۔
’’کیونکہ تم نے خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے اپنا کردار میری نظروں میں مشکوک کرلیا ہے۔‘‘ انہوں نے چڑ کر کہا۔
’’نہیں ماما! میری حرکتوں نے نہیں بلکہ اپنے دین کے لیے آپ کے حد سے زیادہ پوزیسو ہونے نے آپ کو مجھ پر شک کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘‘ جان جھنجلا گیا اس بے معنی بحث سے۔
’’اگر کوئی اپنے دین کے بارے میں پوزیسو ہے تو اس میں کیا برائی ہے‘ کیا عبیرہ نہیں ہے؟‘‘ انہوں نے ایک بار پھر طنز کیا۔ جان نے اب کی بار ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے اپنی کتابیں اٹھائیں اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ نے انہیں اداس کردیا تھا۔
’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ انہوں نے تڑپ کر پوچھا۔
’’مام مجھے لگتا ہے کہ عبیرہ کا ذکر کرنا مجھ سے زیادہ آپ کو پسند ہے۔‘‘ وہ اب بھی ہنس رہا تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں‘ مجھے جو لڑکی پسند نہیں بھلا اس کا ذکر کرنا مجھے کیوں کر پسند ہوگا۔‘‘ انہوں نے بہت ناگواریت سے کہا۔
’’خدا کے واسطے مام! عبیرہ کوئی دین نہیں ہے‘ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔ آپ کی اس کے دین سے نفرت آپ کو اس سے نفرت پر اکسا رہی ہے۔‘‘ جان نے بہت بلند آواز میں کہا۔
’’تم بات کو خوامخواہ طول دے رہے ہو‘ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر تم مجھے پوزیسو کہہ رہے ہو تو پھر عبیرہ کو کیا کہو گے؟‘‘ انہوں نے اب بھی اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہوئے کہا۔
’’وہ پوزیسو نہیں ہے ماما! کیونکہ پوزیسو ہمیشہ ان چیزوںکے لیے ہوا جاتا ہے جن کے کھو جانے کا ڈر ہو اور عبیرہ کو ایسا کوئی ڈر نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے جو اس کے پاس ہے‘ وہ مکمل ہے۔‘‘ جان نے بہت مضبوط لہجے میں کہا اور پھر گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
’’تم میں اسلام کے جرثومے کہاں سے آگئے ہیں جان! تمہاری اس بیماری کی وجہ عبیرہ ہے یا پھر…‘‘ ان کے تخیل میں ایک چہرہ ابھرا تھا۔
’’نہیں ہرگز نہیں… اتنا بڑا انتقام‘ یہ نہیں ہوسکتا۔ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ وہ خفیف سے لہجے میں کہتی چلی گئی تھیں۔
ؤ…/…ؤ
آج اس کا پہلا پیپر تھا اور ہمیشہ کی طرح بہت اچھا بھی رہا تھا۔ اگلا پیپر اگلے ہفتے کی کسی تاریخ کا تھا‘ جب وہ نہا کر نکلا تو اس کا سیل بج رہا تھا۔ اٹینڈ کرنے پر دوسری طرف ماما تھیں۔
’’جان! میں کچھ دنوں کے لیے شہر سے باہر جارہی ہوں اپنی فیکٹری کے لیے مال کی بکنگ کرانی ہے۔ کرسمس آنے والی ہے اور اس کے لیے میں نے انٹرئیر ڈیکوریٹر سے بات کی ہے۔ ہمیشہ تو میں ڈیکوریشن اپنی پسند سے کراتی ہوں مگر اس دفعہ تم دیکھ لینا‘ اوکے۔‘‘ انہوں نے بہت تفصیلی طور پر اسے بتایا۔
’’اوکے۔‘‘ جان نے یک لفظی جواب دے کر کال ڈس کنیکٹ کردی تھی۔
آج تین دن ہوچکے تھے ڈیکوریشن کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا۔ آج اس کا کمرہ ڈیکوریٹ ہونا تھا۔ وہ ڈیکوریٹر کو ہدایت دے کر کمرے سے باہر نکل آیا۔
بل کھاتی راہ داری میں مڑتے ہوئے اس کی نگاہ غیر محسوس طور پر راہ داری کے اختتام پر بنے کمرے پر جاٹھہری تھی۔ یہ اس کے بابا کا اسٹڈی روم تھا۔ اس نے کبھی بھی اس روم کو کھلا ہوا نہیں دیکھا تھا اور آج بھی وہ روم بند ہی تھا۔ اس نے ایک ورکر کو روک کو پوچھا۔
’’آپ نے یہ روم کیوں نہیں کھولا‘ اس کی ڈیکوریشن چینج نہیں کرنی؟‘‘ اس کا انداز تفتیشی تھا۔
’’نہیں سر کیونکہ میم نے ہمیں ہمیشہ اس کمرے کو نہ کھولنے کی ہدایت کی ہے۔‘‘ وہ ورکر اپنی بات مکمل کرکے چلا گیا جب کہ جان اس کمرے کے سامنے آکھڑا ہوا۔ لکڑی کے دروازے پر سفید پینٹ کیا ہوا تھا اور کنڈی لگا کر بڑا سا تالا ڈالا گیا تھا۔ اس نے نہ جانے کیا سوچتے ہوئے بہت حسرت سے دروازے پر ہاتھ رکھا‘ اس نے ہمیشہ اپنے بابا کے قصے سنے تھے۔ کبھی ان کی تصویر بھی نہ دیکھی تھی‘ دل بوجھل ہونے لگا تھا ایک عجیب سی کشش تھی اس نے اپنا سر دروازے کے ساتھ ٹکایا اور آنکھیں بند کرلیں کچھ لمحات بعد ہی اسے محسوس ہوا تھا جیسے دروازے کے دوسری طرف کوئی موجود ہو‘ کوئی کچھ بول رہا ہو‘ وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹا اور حیرت سے دروازے کی جانب دیکھنے لگا۔
’’مجھے وہم تو نہیں ہوا۔‘‘ اس نے دل میں سوچا اور ایک بار پھر دروازے سے کان لگا کر کھڑا ہوگیا‘ مگر اب کی بار پھر اسے وہی سرگوشی نما آواز سنائی دی وہ پیچھے نہیں ہٹا بلکہ آواز گو کہ مدھم تھی مگر سنائی دے رہی تھی۔
’’اتنے سالوں سے یہ کمرا بند ہے پھر یہ آواز کس کی ہے؟‘‘ وہ سوچتا رہا۔ ’’کیا اندر کوئی ہے؟‘‘ اس نے دروازے کو دھیمے سے بجاتے ہوئے پوچھا مگر کوئی جواب نہیں آیا تھا اندر سے۔
’’جان بابا!‘‘ ملازمہ نے اسے پکارا اور وہ ہڑبڑا کر پلٹا۔ ’’آپ یہاں کیا کررہے ہیں‘ بیگم صاحبہ نے سختی سے اس کمرے سے دور رہنے کو کہا ہے۔‘‘ اس نے جان کو مطلع کیا۔
’’کیوں؟ کس لیے‘ کیا یہ کمرا اس گھر کا حصہ نہیں ہے؟‘‘ اس نے ضعیف العمر ملازمہ کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اس کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ ملازمہ سر جھکا کر بولی۔ اس سے پہلے کہ جان مزید کچھ کہتا موبائل بجا اس نے نمبر دیکھا عدیل کا تھا۔
’’ہیلو! سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘ کال ریسیو کرتے ہی اس نے پوچھا تھا کیونکہ گزشتہ چند دنوں میں عدیل کی کالز سے اسے کچھ خاص خوشی کی خبر نہیں ملی تھی ہر روز عبیرہ اور اس کی فیملی کے ساتھ محلے میں ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں بتاتا تھا۔
’’جان! بہت بڑی پرابلم ہوگئی ہے عبیرہ دو تین دن سے لاپتا ہے۔‘‘ عدیل کا یہ جملہ اس کے سر پر ہتھوڑے کی طرح لگا تھا۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہے عدیل؟‘‘ شاک کے سبب اس کے منہ سے الفاظ بھی نہیں نکل رہے تھے۔
’’پرسوں پیپر دینے یونی ورسٹی گئی تھی اور لوٹ کر واپس نہیں آئی۔ پولیس اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کررہی ان کا کہنا ہے کہ اس پر اغوا کا الزام ہے اور شاید اسی سے بچنے کے لیے وہ اپنے طور پر کہیں غائب ہوگئی ہے۔‘‘ عدیل کہہ رہا تھا اور جان شدید غصے میں آگیا تھا۔
’’احمد نہیں چاہتا تھا کہ میں تمہیں اس معاملے میں شامل کروں اور اب بھی میں نے اسے بغیر بتائے تمہیں انفارم کیا ہے۔‘‘ عدیل نے حد درجہ مجبور لہجے میں کہا اور جان ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
’’عباد انکل کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے‘ تم ڈی آئی جی سے بات کرو وہ عبیرہ کو ڈھونڈنے کی کوشش تو کریں۔‘‘ عدیل نے ملتجی لہجے میں کہا۔
’’اوکے۔‘‘ جان نے اتنا کہہ کر کال ڈس کنیکٹ کردی۔
’’کہاں جاسکتی ہے عبیرہ…؟ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو بدنامی کے ڈر سے چھپ جائیں تو پھر آخر وہ گئی کہاں؟‘‘ اس کا ذہن کام نہیں کررہا تھا اور یک دم ہی ایک خیال اس کے پورے وجود کو جھنجوڑ گیا۔
’’او مائی گاڈ۔‘‘ اس کے منہ سے خوف کے سبب نکلا تھا۔
ؤ…/…ؤ
کمرے کے وسط میں رکھے صوفوں میں سے ایک پر وہ بیٹھا تھا سر جھکائے بہت سی الجھنوں کا شکار تبھی بھاری قدموں کی آواز پیدا ہوئی تھی۔ اس نے سر اٹھایا تو کمرے کے داخلی دروازے سے ایک دراز قد آدمی اندر داخل ہوا تھا۔ اس کا ڈیل ڈول اچھا تھا اور سر کے بال درمیان سے غائب تھے‘ وہ مسٹر مہرا تھے‘ انہیں دیکھتے ہی جان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہیلو جان!‘‘ انہوں نے ہاتھ ملا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ’’آج ہمارے گھر کیسے آنا ہوا؟‘‘ مسٹر مہرا نے طنز کا تیر چلایا۔
’’آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں میں یہاں کیوں آیا ہوں؟‘‘ جان نے تحمل سے کہا۔
’’نہیں میں تو نہیں جانتا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ انہوں نے انجان بنتے ہوئے کہا۔
’’عبیرہ کہاں ہے؟‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا۔
’’میرے مطابق تو اسے جیل میں ہونا چاہیے تھا مگر آپ نے اس کی ضمانت کرادی تھی تو یقینا اب وہ اپنے گھر پر ہوگی۔‘‘ انہوں نے بھی اسی اطمینان سے کہا۔
’’وہ ہوتی اپنے گھر پر اگر آپ نے اسے اغوا نہ کرایا ہوتا۔‘‘ جان نے بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’تم میرے گھر‘ میری چھت کے نیچے بیٹھ کر مجھ پر الزام لگا رہے ہو۔‘‘ انہوں نے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں الزام نہیں لگا رہا سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ جان نے بنا ڈرے کہا۔ مسٹر مہرا چند ثانیے اسے دیکھتے رہے پھر مخاطب ہوئے۔
’’چلو مان لیا کہ میں نے اسے اغوا کرایا ہے تو پھر…؟‘‘ ان کا انداز طنزیہ تھا۔
’’تو پھر یہ کہ آپ اسے چھوڑیں‘ میں سنیتا کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کروں گا۔ میں عبیرہ سے اس کا پتا معلوم کرکے آپ کو بتائوں گا۔‘‘ جان نے صلح جو انداز میں کہا۔ ایک بار پھر چند لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی تھی۔
’’عبیرہ سے کیا رشتہ ہے تمہارا؟‘‘ انہوں نے ذومعنی انداز میں پوچھا۔ جان کو دھچکا نہیں لگا کیونکہ یہ تجربہ وہ ایک بار پہلے بھی کرچکا تھا۔
’’اصل مسئلہ میرا اور عبیرہ کا رشتہ نہیں آپ کی بیٹی کا ڈھونڈنا اور عبیرہ کو رہا ہونا ہے۔ آپ عبیرہ کو چھوڑ دیجیے میں سنیتا کو دس دن کے اندر ڈھونڈ کر لائوں گا۔‘‘ جان نے بہت تحمل سے کہا۔
’’ٹھیک ہے مگر تمہاری بات پر یقین کیسے کروں میں؟‘‘ انہوں نے جانچنے والے انداز میں کہا۔
’’تو میں آپ کی پہنچ سے دور نہیں ہوں‘ عبیرہ کے ساتھ آپ مجھے بھی قید میں ڈال سکتے ہیں۔‘‘ جان نے اپنے مطابق سزا کا انتخاب بھی کردیا تھا۔
’’ہوں… تمہارے ماں باپ سے میرے تعلقات اس طرح کے ہیں کہ تمہاری بات پر بے اعتباری میں نہیں کرسکتا۔‘‘ عبیرہ میری قید میں ہی ہے‘ میں ہر قیمت پر اپنی بیٹی کو واپس لانا چاہتا ہوں مگر نہ جانے کیا بات ہے اس لڑکی میں کہ کسی میں اب تک اس سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ وہ جس کوٹھڑی میں قید ہے اس میں کسی کو داخل ہونے کی ہمت ہی نہیں ہوسکی۔ میں خود بھی گیا تھا مگر مجھ پر ایسا خوف طاری ہوا کہ الٹے قدموں واپس آگیا۔ میں اپنے ایک آدمی سے کہتا ہوں کہ وہ تمہیں وہاں تک چھوڑ آئے۔‘‘ انہوں نے ایک ہی سانس میں یہ سب کہہ دیا اور جان نے سکون کا سانس لیا۔
کوٹھڑی میں نیم تاریکی تھی۔ وہ ایک کونے میں سجدہ ریز تھی‘ وہ بلند آواز میں کچھ پڑھ رہی تھی۔
ترجمہ: اے ہمارے ربّ بے شک ہم تیرا ہی مال ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘
یہ کیا لفظ تھے‘ کون سی زبان تھی یہ؟ یہ وہی زبان لگی اسے جو وہ خواب میں سنتا رہا تھا۔ وہ الجھنے لگا۔
’’عبیرہ!‘‘ اس نے باوقار اور بلند آواز میں پکارا تو عبیرہ یک دم خاموش ہوگئی تھی وہ اس کی آواز پہچان گئی تھی۔ یہ جان کی آواز ہی تھی وہ بلاشبہ اس کی زندگی کی دوسری بڑی مصیبت میں بھی اس کی نجات کا راستہ بن گیا تھا۔ عبیرہ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور پلٹ کے اسے دیکھا۔ وہ چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا‘ وہاں سے نکلتے ہی مسٹر مہرا کے آدمی انہیں اسی کمرے میں لے آئے جہاں مسٹر مہرا اور جان کچھ دیر پہلے بیٹھے تھے۔
’’آیئے آئیے جناب!‘‘ مسٹر مہرا کے انداز میں اسے کچھ شاطرانہ پن محسوس ہوا تھا۔
’’سب کچھ طے ہوچکا ہے تو پھر کیوں بلوایا ہے؟‘‘ جان نے ترش لہجے میں کہا۔
’’بیٹھو۔‘‘ انہوں نے صوفے کی جانب اشارہ کیا۔ جان انہیں گھورتا ہوا بیٹھ گیا۔
’’آپ بھی بیٹھ جایئے استانی صاحبہ!‘‘ انہوں نے طنزکیا عبیرہ پر۔ عبیرہ بحالتِ مجبوری بیٹھ گئی۔ آج سے پہلے وہ کبھی کسی نامحرم کے برابر نہیں بیٹھی تھی مگر حیران کن طور پر جان کے برابر بیٹھی وہ خود کو بہت زیادہ محفوظ محسوس کررہی تھی۔ اس نے دیکھا تھا جان شاید مسٹر مہرا کو جانتا تھا بلکہ یقینا جانتا تھا۔
’’میں نے تمہیں یہاں اس لیے بلوایا ہے کہ تمہیں تمہارے وعدے کی یاد دہانی کرادوں۔ تمہارے پاس صرف دس دن ہیں میری بیٹی کو دھونڈنے کے لیے لیکن اگر تم اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہے تو میں عبیرہ کو قید میں نہیں ڈالوں گا اور تم جانتے ہو تمہیں قید میں نہیں کرسکتا۔ اس لیے میں صرف ایک ہی کام کروں گا…‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور عبیرہ کی جانب دیکھا‘ ان کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ بہت شاطرانہ تھی۔ جان کو کسی ان دیکھے خطرے کا احساس ہوا۔ ’’میں اس لڑکی کو تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل کردوں گا اور پھر تمہیں قید میں ڈالنے یا قتل کرنے کی مجھے ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اس کے مرتے ہی تمہاری زندگی خودبخود ختم ہوجائے گی۔ آخر تم اس سے اتنی…‘‘ جان کا رنگ فق ہوگیا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ عبیرہ کا تو حیرت سے برا حال تھا۔ اس ادھورے جملے سے جو معنی نکل رہے تھے انہوں نے عبیرہ کو کسی اندھے کنویں میں دھکیل دیا تھا۔ اس نے جان کے بارے میں کیا سوچا تھا وہ کیا نکلا تھا۔ جان نے قدم آگے بڑھا دیئے تھے اس نے جان کی تقلید کی تھی۔
’’ارے ہاں ایک اور بات۔‘‘ مسٹر مہرا ایک بار پھر ان کے سامنے آکھڑے ہوگئے۔ باری باری ان دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے جان سے مخاطب ہوئے۔ ’’اپنی ماما کو میری طرف سے اپنی منگنی کی مبارک باد ضرور دے دینا۔‘‘
’’کیا اب ہم جاسکتے ہیں؟‘‘ جان نے غصیلے لہجے میں کہا اور مسٹر مہرا راستے سے ہٹ گئے۔
ؤ…/…ؤ
پانچ منٹ گزر گئے تھے اسے ڈرائیو کرتے ہوئے۔ اس دوران نہ تو عبیرہ نے اسے مخاطب کیا اور نہ خود اس نے عبیرہ کو۔ وہ بے تحاشا شرمندگی کا شکار ہورہا تھا۔ اس نے چور نگاہوں سے عبیرہ کو دیکھا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا۔ وہ کیا سوچ رہی تھی اس کے بارے میں اس کا اندازہ اسے بہت اچھی طرح ہورہا تھا۔ عبیرہ کے دماغ میں عالیہ کے جملے گردش کررہے تھے۔
’’مجھے نہیں لگتا عبیرہ کہ اسے دینِ اسلام میں کوئی دلچسپی ہے اس کی آنکھیں کچھ اور ہی کہہ رہی تھیں۔ پتا نہیں تم کیوں دھوکا کھا رہی ہو۔‘‘ اس نے افسوس سے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
’’اس نے کتنا صحیح پہچانا تھا جان کو۔ اسے اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ صرف مجھے بے وقوف بنا رہا تھا۔ میں نے آج تک انسانوں کو پہچاننے میں کبھی بھی غلطی نہیں کی پھر جان کے معاملے میں مجھ سے اتنی بڑی چوک کیسے ہوگئی۔ کیسے نہیں دیکھ پائی میں وہ جو عالیہ کو دکھ گیا؟‘‘ عبیرہ کو خود پر جان سے زیادہ غصہ آرہا تھا۔ آنکھیں کھول کر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’کیوں میں اس کی اصلیت نہیں دیکھ پائی‘ اسے آپ کی جستجو نہیں تھی اللہ پاک تو پھر کیوں آپ نے میرے دل میں اس کے لیے اتنی غیر محسوس نرمی پیدا کی؟ کیوں آخر کیوں؟‘‘ عبیرہ بری طرح تلملا رہی تھی۔ جان اس کے تاثرات سے اندازہ لگا رہا تھا کہ وہ اس وقت کس سے مخاطب ہے یقینا اپنے ربّ سے۔
’’سب تمہاری غلطی ہے جان! سراسر تمہاری۔ عبیرہ اب کبھی تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہے گی۔‘‘ اس نے ونڈ اسکرین سے باہر راستے پر نظریں جمائے سوچا۔
’’غلطی میری ہی ہے میں نے ہی شاید اسے اتنا موقع دیا کہ وہ میرے بارے میں اس حد تک سوچے۔ مجھے پہلے ہی دن اس سے بُرا برتائو کرنا چاہیے تھا۔‘‘ عبیرہ نے تاسف بھرے انداز میں سوچا۔
’’ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں‘ تم نے کبھی نہ چاہا تھا کہ عبیرہ یہ بات جانے اگر آج اسے یہ پتا چلا ہے تو یہ قسمت میں تھا۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ تم نے کوئی غلطی‘ کوئی گناہ نہیں کیا‘ محبت گناہ نہیں۔‘‘ اس کے اندر سے ایک آواز ابھری اور اسے ہمت سی ملی تھی۔ اس نے روڈ پر نظریں جمائے عبیرہ کو مخاطب کیا۔
’’سنیتا کہاں ہے عبیرہ!‘‘ اس طویل خاموشی کو جان نے خود توڑا تھا۔ عبیرہ نے کوئی جواب نہیں دیا‘ اس نے گردن گھما کر عبیرہ کی جانب دیکھا اور پھر پوچھا۔ مگر اس نے اب بھی جواب نہیں دیا۔ سگنل پر کار روکتے ہوئے اس نے پھر پوچھا اور اب کی بار عبیرہ نے اسے گھور کر دیکھا اور وہ شرمندہ ہوگیا۔
’’میں جانتا ہوں آپ اس وقت بہت غصے میں ہیں عبیرہ! اور آپ کا غصہ کرنا جائز بھی ہے مگر میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں آپ کے بارے میں نہ سوچوں نہ چاہوں آپ کو۔‘‘ اس کا یہ جملہ عبیرہ کے غصے میں مزید اضافہ کرگیا تھا۔ ’’مگر جذبات پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا‘ میرا بھی نہیں ہے۔‘‘ جان نے بہت بے بس لہجے میں کہا گرین سگنل پر اس نے کار کا اسٹیئرنگ گھمایا۔
’’گاڑی روکیں۔‘‘ عبیرہ نے اس کی جانب دیکھے بغیر بہت تیز لہجے میں کہا وہ کچھ سمجھ نہیں پایا۔
’’ میں کہہ رہی ہوں گاڑی روکیں۔‘‘ اب کی بار عبیرہ کا لہجہ بہت زیادہ تلخ تھا۔ اس نے کار سڑک کے کنارے روک دی تو عبیرہ نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی مگر نہیں کھلا۔
’’دروازہ لاکڈ ہے۔‘‘ جان نے اسے مطلع کیا۔
’’دروازہ کھولیں۔‘‘ جان نے عبیرہ کی بات نظر انداز کرکے کار اسٹارٹ کردی تھی۔ ’’میں نے کچھ کہا ہے جان!‘‘ عبیرہ کو مزید غصہ آنے لگا تھا اس پر۔
’’شاید آپ کی یہ پہلی بات ہے جسے میں ماننے سے انکار کرتا ہوں۔‘‘ اس کے چہرے پر شرمندگی نہیں تھی۔
’’اسے شرمندہ ہونا چاہیے۔‘‘ عبیرہ نے سوچا۔
’’سنیتا کہاں ہے عبیرہ! میرا اسے دس دن کے اندر ڈھونڈنا بہت ضروری ہے ورنہ…‘‘ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
’’ورنہ کیا…؟ مسٹر مہرا مجھے قتل کردیں گے تو کردیں‘ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ موت برحق ہے اور وہ سب کو آئے گی ایک دن۔‘‘ عبیرہ نے بہت ترش لہجے میں کہہ کر اپنا رخ پھیر لیا۔
’’انسان کی عزتِ نفس اس کی بڑی طاقت ہوتی ہے اور اگر اس کا قتل کردیا جائے تو پھر انسان کبھی سر اٹھا کر چلنے کے لائق نہیں رہتا مس عبیرہ عباد!‘‘ جان کے اس جملے میں ایک ایسا فہم تھا‘ عبیرہ اپنی جگہ گنگ رہ گئی تھی۔ اب کی بار اسے جان پر غصہ نہیں آیا تھا۔
’’آپ مسٹر مہرا کو نہیں جانتیں وہ کتنا گھٹیا آدمی ہے۔ اس کا اندازہ آپ نہیں کرسکتیں۔‘‘ جان اس کی جانب دیکھے بنا ہی کہتا رہا تھا۔ ’’آپ نے آج تک انسان کا اچھا روپ دیکھا ہے کیونکہ آپ نے خود کبھی کسی سے برا سلوک نہیںکیا مگر مسٹر مہرا جیسے لوگوں کے لیے اچھے بُرے لوگ سب ایک ہی لسٹ میں آتے ہیں۔ وہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح پیش آتے ہیں۔ تین دن آپ ان کی قید میں رہیں‘ کیا ہوسکتا تھا آپ کے ساتھ آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔ مگر آپ کے ربّ نے آپ پر کرم کیا لیکن یہ لازمی تو نہیں عبیرہ کہ آپ ہمیشہ ہی ان کے ہاتھوں سے بچ جائیں۔‘‘ عبیرہ کا سر جھک گیا۔
’’میں جانتا ہوں کہ آج میں آپ کی نگاہ میں ایک بہت بُرا انسان بن گیا ہوں‘ اسی لیے آپ کو میرے ساتھ سفر کرنا بھی گوارا نہیں لیکن آپ کا ربّ جو سب کچھ دیکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ آپ کو پاک باز نگاہوں سے دیکھا ہے‘ آپ میری نگاہ میں اس دنیا کی سب سے پاکیزہ لڑکی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ میں نے ہمیشہ آپ کی بہت عزت کی ہے اور ہمیشہ کروں گا۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا تھا اتنا کہہ کر مگر اس کا دل اب بھی مخاطب تھا۔
’’اور میں نے دل کی گہرائیوں سے آپ سے محبت کی ہے اور ہمیشہ کروں گا دن رات‘ صبح شام۔ ماہ وسال‘ وقت کی کوئی قید اس محبت کو ختم نہیں کرسکتی‘ کبھی بھی نہیں‘ ہرگز نہیں۔‘‘ اس نے ایک نگاہ عبیرہ کے چہرے پر ڈالی۔ جہاں اب غصے کے کوئی تاثرات نہیں تھے غالباً اسے جان کی بات سمجھ آگئی تھی۔ کار عبیرہ کے گھر کے باہر روکتے ہوئے وہ ایک بار پھر اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’پلیز عبیرہ! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ سنیتا کا پتا دیجیے‘ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اسے نقصان پہنچنے نہیں دوں گا۔ ‘‘ جان کا لہجہ بہت زیادہ ملتجی تھا‘ وہ عبیرہ کو سمجھا نہیں سکتا تھا کہ مسٹر مہرا کی بات نے اسے کتنا زیادہ خوف زدہ کردیا تھا۔
’’سنیتا مسلمان ہوچکی ہے اس کا نام ایمان ہے اور اسے اخلاقی طور پر سپورٹ کرنے کے لیے میں نے اپنے پھوپی زاد کزن عبدالمعیز سے اس کا نکاح کروا دیا ہے۔‘‘ عبیرہ نے بہت دھیمے لہجے میں اسے بتایا۔
’’اور وہ دونوں اب کہاں ہیں؟‘‘ جان کی سانس میں سانس آئی۔
’’وہ میں آپ کو نہیں بتاسکتی۔‘‘ عبیرہ نے بضد کہا۔
’’کیوں آپ کو یقین نہیں ہے مجھ پر؟‘‘ جان تشویش کا شکار ہوا۔
’’نہیں۔‘‘ عبیرہ نے یک لفظی جواب دیا۔
’’آپ بہت ضدی ہیں عبیرہ اور اس ضد میں آپ صرف اپنا نقصان کررہی ہیں۔‘‘ جان نے بہت افسوس سے کہا اور سائیڈ پر لگا ایک بٹن پریس کیا تھا جس سے کار کا دروازہ کھل گیا۔
’’شکریہ آپ نے میری بہت مدد کی‘ مگر مجھے امید ہے کہ اب ہم دوبارہ نہیں ملیں گے۔‘‘ عبیرہ نے حتمی لہجے میں کہا۔
’’نہ ملتے اگر آپ مجھے سنیتا کا پتا بتادیتیں۔‘‘ جان نے اسی کے انداز میں کہتے ہوئے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھا۔ احمد عبیرہ کے گھر سے باہر نکل رہا تھا‘ وہ انہیں دیکھ چکا تھا۔ عبیرہ کار سے اتری اور احمد کے برابر سے گزر کر گھر میں داخل ہوگئی۔ احمد کار کے قریب پہنچ کر کھڑکی پر جھکا تھا۔
’’کہاں لے گئے تھے میری بیوی کو‘ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے لے جانے کی۔‘‘ احمد نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’بہت کم ظرف نکلے آپ تو مسٹر احمد! تین دن بعد آپ کی بیوی گھر آئی ہے اور آپ اس کا حال احوال دریافت کرنے کے بجائے یہاں کھڑے ہوکر ایک فضول بات پر بحث کررہے ہیں۔‘‘ جان نے تلملا کر کہا وہ اس کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے الٹا اس پر شک کررہا تھا۔
’’اس کا حال احوال تو میں دریافت کر ہی لوں گا پہلے تمہاری خیریت تو معلوم کرلوں۔‘‘ اس نے اچانک ہی کار کا دروازہ کھولا اور جان کو گریبان سے پکڑ کر کار سے باہر نکال لیا۔
’’چھوڑو مجھے۔‘‘ جان نے اپنا گریبان چھڑانا چاہا۔
’’بتائو کہاں تھے تم دونوں؟ ہم یہاں اتنے پریشان تھے اور تم مزے کررہے تھے۔ آج نہیں چھوڑوں گا تمہیں‘ اس دن تو عدیل نے بچا لیا تھا۔‘‘ اس نے گریبان سے پکڑ کر جان کو بُری طرح جھنجوڑ ڈالا تھا اور پھر پوری قوت سے ایک مکا جان کے منہ پر مارا تھا اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے دوسری بار ہاتھ اٹھایا مگر اب کی بار جان نے اس کا ہاتھ مروڑ کر اسے پیچھے دھکیل دیا۔
’’بہت ہی گری ہوئی اور گھٹیا سوچ ہے آپ کی۔ عبیرہ تین دن سے لاپتا تھی اور آپ اس کے صحیح سلامت واپس آجانے پر شکریہ ادا کرنے کے بجائے ناشکری کررہے ہیں۔ آپ بہت بے قدرے ہیں۔‘‘ جان نے بہت تیز لہجے میںکہا اردگرد کے لوگ اب ان کے پاس جمع ہوگئے تھے۔
’’تو تم کرلو اس کی قدر اور کرلو… کیا کر تو لی ہوگی آخر تین دن تم دونوں نے ساتھ جو گزارے ہیں۔‘‘ احمد نے چبا چبا کر کہا اور اس کے اس جملے کے ساتھ ہی اردگرد کے لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔
’’جان اگر تم نے اس بات کی تردید نہیں کی تو عبیرہ تمہاری وجہ سے…‘‘ یک دم ہی کسی نے اندر سے اسے جھنجوڑا تھا۔
’’تم بغیر جانے بوجھے عبیرہ پر الزام لگا رہے ہو احمد! عبیرہ میرے ساتھ کہیں نہیں گئی تھی بلکہ اسے اغوا کرلیا گیا تھا انہی لوگوں نے اسے اغوا کیا جنہوں نے اسے جیل بھیجا۔‘‘ جان نے بہت بلند آواز میں کہا تھا تاکہ اردگرد کے لوگوں کے منہ بند ہوں اور ایسا ہی ہوا تھا۔
’’اس نے ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کیا ہے اسی لیے یہ سب پرابلمز فیس کرنی پڑ رہی ہیں۔‘‘ اس نے مزید کہا اب لوگوں کا رش چھٹنے لگا تھا کچھ لوگ احمد کو سمجھانے لگے۔ احمد مسلسل اسے گھورتا رہا‘ جان پلٹ کر اپنی کار میں بیٹھ گیا۔ اس نے سکون کا سانس لیا کہ عبیرہ کے بارے میں کوئی بھی افواہ پھیلنے سے پہلے ہی اس نے بات کلیئر کردی۔ احمد ایک بار پھر اس کی طرف بڑھ آیا تھا۔
’’تم دونوں سب کو بے وقوف بنا سکتے ہو مجھے نہیں۔ تم کو کیا لگتا ہے میں نہیں سمجھتا کہ ہمیشہ تم ہی کیوں اس کی مدد کو پہنچتے ہو؟‘‘ احمد نے دانت پیس کر کہا۔
’’یہ بات تو مجھے خود آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمیشہ میں ہی کیوں عبیرہ کی مدد کے لیے منتخب کیا جاتا ہوں لیکن آج میں ایک بات ضرور سمجھ گیا ہوں۔‘‘ جان نے بہت ٹھنڈے لہجے میں کہا۔
’’تم ایک بہت تنگ ذہن انسان ہو احمد! میں عبیرہ کی بہت عزت کرتا ہوں مگر تم یہ بات نہیں سمجھو گے کیونکہ تم وہ انسان ہو جسے عزت راس نہیں آتی۔‘‘ جان کا لہجہ اب بھی ٹھنڈا تھا‘ اس نے کار کو پیچھے لیا اور رخ مین روڈ کی طرف کردیا جب کہ احمد پلٹ کر عبیرہ کے گھر میں داخل ہوگیا۔
ؤ…/…ؤ
آفس کی گلاس وال سے حدِ نگاہ تک پھیلے شہر کی عمارتوں کو دیکھتے ہوئے اس کا دل ڈوبنے لگا تھا۔ اسی شہر کی ایک گلی میں اندھیری رات میں وہ ہمیشہ کے لیے اس سے بچھڑ گئی تھی اور تب اسے معلوم بھی نہ تھا کہ وہ اسے آخری بار دیکھ رہا ہے۔
’’عبدالمعیز آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے عبیرہ کو اس رات آپ کے گھر کے باہر ہی چھوڑا تھا اور اس کے بعد جب میں دوبارہ وہاں گیا تو گھر پر تالا تھا۔ میں پچھلے دس سال سے اسی امید پر بیٹھا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہے اور آپ دونوں کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کو کبھی ملی ہی نہیں اگر وہ آپ دونوں کے ساتھ بھی نہیں ہے تو پھر وہ کہاں گئی اس رات؟‘‘ اس کے ذہن میں وہ دن گھوم رہا تھا جب عبداللہ عبدالرحمن کی بدولت وہ ایمان اور عبدالمعیز سے ملا تھا۔ ان سے مل کر اسے خوشی ہوئی تھی کہ اب وہ عبیرہ تک پہنچ جائے گا مگر اس کی سوچ غلط ثابت ہوئی تھی۔
’’اذان!‘‘ کاشان نے اسے آواز دی تو اس نے پلٹ کر دیکھا اسے۔ اس کی آنکھوں کا انداز اتنا ابنارمل تھا کہ کاشان اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔ کاشان کی یہ حالت دیکھ کر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں اور رخ پھیرتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’کاشان مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو۔ میں کسی سے نہیں ملنا چاہتا۔ کسی سے بھی نہیں۔‘‘ اس نے بہت بے زار لہجے میں کہا۔
’’اوکے۔‘‘ کاشان بنا کوئی سوال کیے باہر نکل آیا مگر اس کے دماغ میں کھلبلی سی مچ گئی تھی وہ پچھلے دو ہفتوں سے اذان کو اسی حالت میں دیکھ رہا تھا‘ وہ میٹنگ میں ہوتا اور کوئی رائے پوچھ لی جاتی تو ایسے چونک پڑتا جیسے کہ وہاں موجود نہیں ہو۔ موبائل زیادہ تر سوئچ آف رہنے لگا تھا‘ گھر پر فون کرنے پر گھر پر موجود نہ ہوتا اور موجود ہوتا تو بات نہ کرتا۔ ہر ایک سے بے زار نظر آنے لگا تھا۔
’’کیا وجہ ہوسکتی ہے اذان کی اس حالت کی۔‘‘ کاشان کوئی معنی اخذ نہیں کر پارہا تھا۔
ؤ…/…ؤ
آئی سی یو کے باہر لگی چیئرز میں سے ایک کی بیک سے ٹیک لگائے وہ بیٹھی تھی۔ ڈاکٹر کو باہر نکلتا دیکھ کر وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’دیکھیے محترمہ اٹیک بہت شدید تھا۔ ہم نے اپنے طور پر پوری کوشش کی ہے آگے اللہ مالک ہے۔ آپ آئی سی یو اور میڈیسنز کے بل کائونٹر پر ادا کردیں۔‘‘ ڈ اکٹر اپنی بات مکمل کرکے چلا گیا تھا۔
’’یا اللہ پلیز بابا جانی کو ٹھیک کردیجیے‘ پلیز اللہ پاک۔‘‘ اس نے ملتجی دل سے دعا کی تھی۔ کائونٹر پر آکر اس نے پہلے گھر کال کی پھر اس کے بعد بل دیکھا‘ بل بہت زیادہ تھا۔ اتنے پیسے تو اس کے پاس تھے بھی نہیں‘ فی الفور اس کا ذہن مائوف ہوگیا تھا۔ اس نے ریسیور دوبارہ اٹھایا اور احمد کا نمبر ڈائل کیا‘ کال ریسیو ہونے پر احمد کی حد درجہ بے زار آواز ابھری تھی۔
’’ہیلو! کون؟‘‘
’’میں… میں عبیرہ بات کررہی ہوں۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا نام بتایا۔
’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے فون کرنے کی۔ میں تم جیسی لڑکی سے بات کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ احمد نے بہت ترش لہجے میں کہا۔
’’احمد پلیز میری بات تو سنیں۔ بابا کی طبیعت بہتر خراب ہے مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ گڑگڑائی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اللہ کے سوا کسی انسان کے سامنے۔
’’جہنم میں جائو تم اور تمہارا باپ۔‘‘ احمد نے زہر بار لہجے میں کہا۔ وہ مزید کچھ کہتا مگر کسی نے عبیرہ کے ہاتھ سے ریسیور لے کر فون بند کردیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ جان تھا ساتھ ہی عدیل بھی کھڑا تھا۔ اس نے عبیرہ کی جانب دیکھے بنا بل ادا کیا اور پھر پلٹ کر ایک سمت میں قدم بڑھا دیئے۔
’’عدیل بھائی! جان کو آپ نے بتایا؟‘‘ عبیرہ نے نم پلکوں سے اس سے پوچھا۔
’’وہ پریشان تھا تمہارے لیے‘ احمد نے جس طرح اس کے ساتھ برتائو کیا اسے اندازہ تھا وہ تم سے کس طرح پیش آئے گا اور ایک بات اور عبیرہ! میں معذرت چاہتا ہوں جس وقت تم آئی تھیں گھر عباد انکل کو اسپتال لانے کے لیے میں تمہارے ساتھ نہیں آسکا کیونکہ ابا نے مجھے منع کردیا تھا مگر میں جانتا تھا کہ وہ غلط ہیں‘ اسی لیے میں آگیا ہوں۔ پلیز مجھے معاف کردینا۔‘‘ عدیل نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے کہا۔
’’پلیز آپ معافی مت مانگیں عدیل بھائی!‘‘ عبیرہ نے نم لہجے میں کہا تبھی انہوں نے جان کو اپنی طرف واپس آتے دیکھا۔
’’میں نے ڈاکٹرز سے بات کی ہے‘ انکل کو روم میں شفٹ کیا جارہا ہے۔ عبیرہ آپ کو بھی پرابلم نہیں ہوگی رہنے میں۔ ہم لوگ یہیں ہوں گے آپ پریشان مت ہویئے گا۔‘‘ جان نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔ عبیرہ سر جھکائے سنتی رہی۔ اس میں سر اٹھانے کی ہمت تھی بھی نہیں۔ کچھ گھنٹوں پہلے اس نے بہت وثوق سے اسی انسان سے زندگی میں کبھی نہ ملنے کا کہا تھا اور چند گھنٹوں میں ہی اس کی یہ بات رد کردی گئی تھی۔
’’احمد نے بہت غلط کیا‘ اسے عبیرہ کو کچھ کہنے کا موقع دینا چاہیے تھا۔‘‘ عباد صاحب کو روم میں شفٹ کردیا تھا‘ عبیرہ ان کے پاس ہی تھی البتہ عدیل اور جان روم کے باہر لگی چیئرز پر بیٹھے تھے۔ عدیل بہت دیر سے کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا مگر جان خاموشی سے سن رہا تھا کچھ بول نہیں رہا تھا۔
’’کیا بات ہے جان! تم اتنے خاموش کیوں ہو۔‘‘ بالآخر عدیل نے پوچھ ہی لیا۔
’’کچھ نہیں عدیل! مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ عبیرہ کے ساتھ جو ہوا اس کا ذمہ دار کہیں میں تو نہیں۔‘‘ جان نے سرد آہ بھری تھی۔
’’نہیں جان! تم نے تو اپنے طور پر سب کلیئر کیا تھا ناں۔ اب یہ احمد کی کم ظرفی تھی کہ حقیقت جان لینے کے بعد بھی اس نے اتنی گری ہوئی حرکت کی۔ اس نے طلاق دے دی عبیرہ کو۔‘‘ عدیل نے پُرافسوس لہجے میں کہا۔
’’عبیرہ کے ساتھ بہت غلط ہوا۔ وہ اس کی حق دار نہیں پھر کیوں ہورہا ہے اس کے ساتھ یہ سب۔ اس نے تو ایک نیک کام کیا ہے‘ کیا تمہارا ربّ نیکی کرنے کی بھی سزا دیتا ہے؟‘‘ جان نے پُرشکوہ لہجے میں کہا۔
’’ربّ نے نہیں دی سزا اس کے بندوں نے دی ہے۔‘‘ یہ آواز عبیرہ کی تھی ان دونوں نے چونک کر سر اٹھایا۔ وہ کب روم سے باہر آئی تھی انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا تھا۔
’’میں ایک ضروری کام سے باہر جارہی ہوں‘ آپ دونوں بابا کے پاس بیٹھ جائیں۔‘‘ وہ اپنی بات کہہ کر مڑگئی تھی۔
’’کہاں جارہی ہیں آپ عبیرہ!‘‘ جان نے جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ میں آنے کے بعد بتائوں گی۔‘‘ اس نے بنا مڑے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ وہ دونوں حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھتے رہے تھے۔
ؤ…/…ؤ
’’چلو فائنلی تم مسکرائیں تو مجھے لگا تھا کہ اب تمہاری مسکراہٹ دیکھنے کے لیے بھی ٹکٹ لگے گا۔‘‘ اس نے دل کھول کے تبصرہ کیا۔
’’احرام!‘‘ طوبیٰ نے گھور کر اسے دیکھا۔ وہ اس وقت ایک مارٹ میں تھے کار پیٹرول فلنگ کے لیے پارک کرکے وہ دونوں مارٹ میں آگئے تھے۔ وہ اکثر ہی اس طرح شاپنگ کرتے تھے۔ طوبیٰ کو مٹی کے برتن ہمیشہ سے بہت پسند تھے اور آج بھی انہیں دیکھ کر ہی وہاں آگئی تھی۔
’’دیکھو احرام! یہ کتنا خوب صورت ہے۔‘‘ طوبیٰ نے ایک مٹی کا گلدان اٹھا کر اسے دکھایا تھا جس پر نفیس اور رنگین نقش نگاری کی گئی تھی۔
’’ہاں لیکن میرے پاس اس سے بھی زیادہ کچھ خوب صورت ہے تمہارے لیے۔‘‘ احرام نے سسپنس پیدا کیا۔
’’کیا…؟‘‘ طوبیٰ نے وہ مٹی کا برتن رکھتے ہوئے متجسس لہجے میں پوچھا۔ احرام نے مسکراتے ہوئے بیک سے اپنا ہاتھ سامنے کیا‘ اس کے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا بُکے تھا۔ طوبیٰ نے فوراً وہ بُکے لیا اور گلابوں کی مہک کو ناک کے قریب لاکر محسوس کیا۔
’’یہ بہت خوب صورت ہے۔‘‘ طوبیٰ نے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘ احرام نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسی خوش گوار موڈ میں وہ دونوں باہر نکل آئے۔
’’آج ہم ساحل سمندر چلیں گے احرام!‘‘ طوبیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ضرور… نیکی اور وہ بھی پوچھ پوچھ۔ میں چیک کرتا ہوں پیٹرول فل ہوا یا نہیں۔‘‘ احرام مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
’’تم کتنے اچھے ہو احرام! تمہارے جذبوں میں کہیں دکھاوا نہیں‘ کوئی مجبوری نہیں۔ زندگی کے اس عجیب دور میں بھی تم میرے ساتھ کھڑے ہو جب اپنی پہچان کھو بیٹھی ہوں‘ میں طوبیٰ یامین سے…‘‘ یک دم بہت تیز ہارن کی آواز نے اس کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا تھا۔ وہ بے دھیانی میں چلتی روڈ پر کار کے سامنے آگئی تھی۔ کار کے ٹائرز سے اچانک بریک لگنے کے سبب بہت تیز آواز نکلی تھی کہ پیٹرول پمپ پر موجود تقریباً سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ طوبیٰ کے ہاتھ سے پھول چھوٹ کر زمین پر بکھر گئے تھے‘ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔
’’مس طوبیٰ! آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘ یہ آواز اذان کی تھی‘ اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے… غالباً وہ کار اذان کی تھی۔
’’آئی ایم رئیلی ویری سوری۔‘‘ اذان نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
’’نہیں اس میں آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے پتا ہی…‘‘ یک دم اذان کی بیک سے ابھرنے والے چہرے کو دیکھ کر اس کی آواز حلق میں ہی گھٹ گئی تھی۔ اذان نے پلٹ کر کاشان کو دیکھا اور حیرت کا شکار ہوا۔ تب تک احرام بھی ان تک پہنچ گیا تھا۔
’’طوبیٰ تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔ طوبیٰ کے بجائے اذان مخاطب تھا۔
’’آئی ایم سوری احرام! پتا نہیں اچانک طوبیٰ کیسے میری گاڑی کے سامنے آگئیں۔‘‘ اذان نے دیکھا کاشان کو دیکھ کر احرام کے تاثرات بھی ویسے ہی تھے جیسے طوبیٰ کے۔
’’اٹس اوکے۔‘‘ احرام نے مختصراً کہا۔
’’چلو طوبیٰ!‘‘ اس نے طوبیٰ کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے لے گیا۔
’’آخر ان دونوں کا ردعمل کاشان کو دیکھ کر ایسا کیوں تھا؟‘‘ اس نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے سوچا۔ کاشان کچھ دیر پہلے کی نسبت اب بالکل خاموش تھا۔
’’طوبیٰ یامین اور احرام بہت اچھا کپل ہے ناں۔‘‘ اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور کاشان کے چہرے کے تاثرات نے اسے مکمل داستان سنا دی‘ وہ ہنسا تھا۔
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی دل سوز لمحوں سے
کبھی تقدیر والوں سے
کبھی مجبور قسمتوں سے
مگر یہ ہار جاتی ہے
اذان کو بلند آواز میں یہ نظم پڑھتا دیکھ کر کاشان حیرت زدہ رہ گیا۔
’’تمہیں پتا ہے آج طوبیٰ کا میری کار سے یہ دوسرا ایکسیڈنٹ تھا۔ پہلا ایکسیڈنٹ اس کی شادی والے دن ہوا تھا۔‘‘ اس نے دیکھا کاشان کی رنگت بالکل پھیکی پڑ گئی تھی۔
’’لیکن احرام واقعی قابلِ تعریف ہے۔‘‘
’’شادی کے دن لڑکی کا گھر سے چلے جانا‘ تم سمجھتے ہو لوگ کتنی باتیں بناتے ہیں مگر اس نے طوبیٰ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ اب تک اس رشتے کو تھامے ہوئے ہے۔‘‘ اذان نے اسے سراہتے لہجے میں کہا اور کاشان نے آنکھیں بند کرلیں۔
ؤ…/…ؤ
آج ایک بار پھر وہ اس کی ٹیبل پر سفید لفافہ رکھ کر سیدھا کھڑا ہوا تھا۔
’’استعفیٰ؟‘‘ اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ کاشان نے یک لفظی جواب دیا۔
’’پھر؟‘‘ اذان کا انداز اب بھی سوالیہ تھا۔
’’ٹرانسفر ریکوئسٹ۔‘‘ اس نے بجھے بجھے لہجے میں کہا۔ اذان کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
’’کس سے بھاگ رہے ہو طوبیٰ یامین سے؟‘‘ اذان نے بلا توقف کہا۔ کاشان نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’طوبیٰ یامین ہی وجہ تھی ناں پانچ سال پہلے بھی پاکستان چھوڑ کر جانے کی؟‘‘ اذان اب بھی تسلسل سے بول رہا تھا۔ کاشان ہار جانے والے انداز میں اپنے پیچھے رکھی چیئر پر بیٹھ گیا۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اذان! طوبیٰ یامین میری زندگی کا ایک ایسا باب ہے جسے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیا تھا لیکن یہ زندگی اسے ایک بار پھر میرے سامنے لے آئی ہے۔ میں بھول جانا چاہتا ہوں اسے اور اسے بھی جو میں نے اس کے ساتھ کیا‘ وہ دھوکا‘ وعدہ خلافی سب کچھ۔‘‘ اذان نے اس کے لہجے میں ایک خلش ایک تڑپ محسوس کی تھی۔
’’کہانی کیا ہے؟‘‘ اذان نے مدہم لہجے میں پوچھا اور کاشان کی نظروں میں کچھ منظر ابھرنے لگے۔
’’آج سے چھ سال پہلے میری ملاقات طوبیٰ سے ایک آرٹ نمائش میں ہوئی تھی۔ وہ پورٹریٹ کی نمائندگی کررہی تھی پہلی نظر کے بعد میں اس پر سے نگاہ ہٹا نہیں پایا۔ میرے قدم خودبخود اس کی جانب اٹھتے چلے گئے۔ وہ کچھ لوگوںکو اپنی پورٹریٹ کا سینٹرل آئیڈیا بتا رہی تھی مجھے دیکھ کر وہ میری طرف بھی متوجہ ہوگئی۔ بہت سمجھانے کے باوجود بھی میں نے اسے یہی کہا مجھے سمجھ نہیں آیا بالآخر اس نے تنگ آکر مجھے کہا۔
’جرنلسٹ تو بہت تیز دماغ ہوتے ہیں مگر آپ تو بہت کند ذہن ہیں۔‘ میں ہنس پڑا تبھی اس کی ایک دوست نے اس کا نام پکارا تھا ’’طوبیٰ‘‘ وہ وہاں سے چلی گئی البتہ میرے ذہن سے محو نہیں ہوئی تھی۔ میں نے بہت جلد ہی اس کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ وہ شہر کے ایک مشہور بزنس مین یامین اسحاق کی اکلوتی بیٹی تھی اور ایک پرائیوٹ یونیورسٹی میں آرٹ اور ڈیزائن کی اسٹوڈنٹ تھی۔ میں اس کے ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو مجھے دیکھ کر اس نے کتاب کے پیچھے منہ چھپا لیا غالباً میں اسے یاد تھا۔ میں نے قریب پہنچ کر اسے ہیلو کہا تو وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی کہ وہ اجنبیوں سے بات نہیں کرتی مگر… مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ دن رات‘ صبح شام اس کے روبرو آتا رہا یہاں تک اسے میری بات سمجھ آگئی۔ میری محبت پر یقین آگیا لیکن میری قسمت شاید میرے ساتھ نہیں تھی۔ نہ جانے نانو بی کو طوبیٰ میں کیا کمی نظر آئی کہ انہوں نے اس رد کردیا۔ مجھے اپنی پرورش کا واسطہ دیا اور میں مجبور ہوگیا۔ میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جب میں نے طوبیٰ کا محبت سے بھرا دل توڑا تھا۔ اس دن بہت تیز بارش تھی‘ وہ کیفے ٹیریا میں میرا انتظار کررہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ایک مانوس مسکراہٹ ابھری تھی۔‘‘
’’اتنی دیر کہاں لگادی کاشان! میں ایک گھنٹے سے آپ کا انتظار کررہی ہوں۔ خیر چھوڑیں‘ مجھے آپ کو ایک نیوز بتانی ہے مما بابا مان گئے ہیں‘ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں کل۔ آپ آئیں گے ناں؟‘‘ اس نے خوش کن لہجے میں کہا تھا۔
’’میں نہیں آئوں گا‘ آپ کو یا آپ کے والدین کو میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں نے بہت روکھے لہجے میں کہا اور الٹے قدموں پلٹ گیا تھا۔
’’کاشان! کیا بات ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ کیا کوئی غلطی ہوگئی ہے مجھ سے؟‘‘ وہ میرے پیچھے پیچھے آئی تھی۔
’’نہیں طوبیٰ! غلطی آپ سے نہیں مجھ سے ہوئی ہے۔ مجھے کوئی حق نہیں تھا کہ میں آپ کی زندگی سے کھیلتا۔‘‘ ہم کیفے ٹیریا سے باہر آگئے تھے بارش اور بھی تیز ہوگئی تھی۔
’’کاشان آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ طوبیٰ کا دل ڈوبنے لگا تھا۔
’’دیکھیں طوبیٰ…! اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے آپ کو دل کی گہرائیوں سے چاہا ہے لیکن میں اپنی نانو بی سے بھی بہت محبت کرتا ہوں۔ طوبیٰ! آپ میری زندگی میں دھڑکن کی طرح ہیں لیکن میری نانو میری زندگی میں میری سانسوں کی مانند ہیں۔ میری زندگی کا تصور آپ دونوںکے بناہی ناممکن ہے مگر مجھے جب آپ دونوں میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع ملا تو میں ان ہی کو چنوں گا اور میں نے انہیں ہی چنا ہے۔ میں ان کی مرضی کے خلاف آپ سے شادی نہیں کرسکتا‘ آپ مجھے بھول جائیں۔‘‘ میں اپنی بات مکمل کرکے مڑنے لگا تھا مگر طوبیٰ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔
’’آپ مذاق کررہے ہیں ناں کاشان! مجھے پتا ہے آپ مذاق کررہے ہیں۔‘‘ طوبیٰ کا لہجہ غیر یقینی تھا۔ میں نے طوبیٰ کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’میں مذاق نہیں کررہا طوبیٰ! اس حقیقت کو آپ جتنی جلدی سمجھ لیں آپ کے لیے بہتر ہوگا۔‘‘ میں نے حتمی انداز میں کہا اور مڑگیا۔
’’کاشان!‘‘ طوبیٰ نے ڈوبتے دل اور ڈبڈبائی آنکھوں سے صدا لگائی تھی مگر میں رکا نہیں تھا۔
اتنا سب سنانے کے بعد کاشان کی برداشت جواب دے گئی تھی‘ اس نے ٹیبل پر سر ٹکا دیا جب کہ اذان اب ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
دو دن بعد عباد صاحب کو ہوش آیا تھا مگر طبیعت بہتر نہیں تھی۔ ڈاکٹر انہیں چیک کرکے گیا تھا جان بھی ڈاکٹر کے ساتھ باہر آگیا تھا۔
’’ہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں مسٹر چوہان! اب آگے اللہ مالک ہے۔‘‘ جان نے صرف سر ہلایا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب! کیا یہاں کوئی چیریٹی بوکس وغیرہ ہے؟‘‘ جان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا اور ڈاکٹر نے اسے راستا سمجھا دیا تھا۔
’’جان میں اسپتال کی ہر ادائیگی خود کرنا چاہتی ہوں اگر میں ایسا نہ کرپائی تو میں کبھی سر اٹھا کر نہ چل سکوں گی۔ آپ ہی نے کہا تھا ناں کہ جب ایک انسان کی عزتِ نفس کو قتل کردیا جائے تو وہ سر اٹھا کر چلنے کے لائق نہیں رہتا۔ میں ایک خوددار باپ کی بیٹی ہوں۔ میں یہ ہرگز گوارہ نہیں کرسکتی کہ اپنے بابا جانی کی بیماری کے اخراجات کسی اور سے اٹھوائوں۔ آپ نے مجھ پر بہت احسانات کیے ہیں یہ ایک احسان اور کردیجیے‘ یہ پیسے واپس لیجیے۔‘‘ چیریٹی بوکس تک پہنچتے ہوئے اس کے ذہن میں عبیرہ کے جملے گونج رہے تھے۔ وہ اس رات جب واپس آئی تھی تو اس کے پاس کچھ پیسے تھے جو اس نے جان کو واپس کیے تھے۔ جان دو دن تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا تھا کہ وہ ان پیسوں کا کیا کرے؟ کیونکہ انہیں استعمال وہ نہیں کرسکتا تھا مگر پھر اسے چیریٹی کا خیال آیا اور عبیرہ کی طرف سے اس نے وہ پیسے چیریٹی کردیئے تھے۔
’’شاید ان کا سب سے صحیح استعمال یہی ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے گہری سانس لی اور پلٹ گیا۔ شام تک عباد صاحب کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تھی۔ عبیرہ کے کہنے پر وہ گھر آگیا تھا مگر دماغ وہیں اٹکا ہوا تھا۔
ؤ…/…ؤ
’’مجھے نہیں پتا‘ مجھے یہ کہنا چاہیے یا نہیں لیکن مجھے لگتا ہے آپ کو مسٹر مہرا کو سنیتا کا پتا بتا دینا چاہیے عبیرہ!‘‘ وہ کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔ اسے اسپتال سے اطلاع ملی تھی کہ صبح پانچ بجے کے قریب عباد صاحب کی طبیعت ایک بار پھر خراب ہوگئی تھی۔
’’اتنی پریشانی کا سامنا کرنے کے بعد یہ بات تو آپ کی سمجھ میں بھی آگئی ہوگی۔‘‘ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’جو مجھے سمجھ میں آیا ہے وہ کبھی آپ کو سمجھ آہی نہیں سکتا۔ آپ کے لیے بھی ہر پریشانی‘ پریشانی ہے اور ہر مصیبت‘ مصیبت لیکن میرے لیے ایسا نہیں ہے۔‘‘ وہ اسٹول پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں عباد صاحب کا ہاتھ تھا وہ دھیمے لہجے میں مخاطب تھی۔
’’یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے کبھی زندگی میں ایسی پریشانیوں کا سامنا نہیں کیا اور نہ ہی ایسی بے اعتباری کا لیکن پریشانیاں اس لیے نہیں آتیںکہ انسان پریشان ہوکر روئے۔ اللہ سے شکوہ کرے اور کبھی کبھی اللہ کے ساتھ کفر بھی کر بیٹھے۔‘‘ وہ چند ثانیوں کے لیے رکی تھی اور جان کو محسوس ہوا تھا کہ وہ ایک بار پھر اسی کلاس روم میں تھا جہاں عبیرہ لیکچر دیا کرتی تھی۔
’’پریشانیاں انسان کی زندگی میں اس کا ایمان جانچنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ جو لوگ کچے ایمان کے مالک ہوتے ہیں وہ جلد پریشان ہوکر ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ عزوجل کو یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے دن میں کتنی بار اس کی عبادت کی۔ کتنی بار اس کی یاد میں سجدے کیے‘ کتنی نمازیں پڑھیں‘ کتنی زکوٰۃ دی‘ کتنی خیرات دی مگر خود یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ پاک نے کتنی بار ان پر احسان کیا‘ ان کے کتنے گناہوں کو معاف کیا‘ ان کی کتنی گستاخیوں کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگ حقیقتاً ناشکرے ہوتے ہیں لیکن اللہ پاک کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان مشکلات اور پریشانیوں سے گھبرا کر ناشکری کرنے کے بجائے اپنے ربّ سے ثابت قدم رہنے کی دعا کرتے ہیں اس سے ہر پل اس کی پناہ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں شیطان کے بہکاوے سے بچائے۔ صبر کرتے ہیں اور ہر ممکن طور پر شکر کرتے ہیں‘ زیادہ سے زیادہ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے ربّ کے برگزیدہ بندوں میں شامل ہو جائیں۔ میں شامل تو ہوسکتی ہوں بس یہی بات‘ اس کی پاک ذات کو راضی کرنے کی جستجو مجھے ایمان کو تحفظ دینے کی ہمت عطا کرتی ہے اس نے مجھے اس زمین پر اگر کسی کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے تو یہ میرے لیے بہت بڑی خوش نصیبی تھی اور آپ چاہتے ہیں جان میں اس خوش نصیبی سے ہاتھ دھو بیٹھوں‘ ناراض کردوں اس ربّ العزت کو جس کے مجھ پر بے شمار احسانات ہیں۔ وہ ربّ جو رات سونے اور دن کو اٹھنے سے پہلے میرے رزق کو طے کردیتا ہے۔ وہ ربّ جو میری ہر آتی جاتی سانس کا مالک ہے جو میری غلطیوں پر میری سانسوں کے اس سلسلے کو توڑ نہیں دیتا‘ جو اپنے کسی احسان کا مجھ سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میں نے اس سے بے حد اور بے لوث محبت کی ہے اور میں اس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرسکتی ہوں یہاں تک کہ اپنی جان بھی۔‘‘ جان دم سادھے سن رہا تھا۔
’’بے شک یہ میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے اس دنیا میں کس کو کس کام کے لیے بھیجا ہے‘ مجھے بھی نہیں علم تھا کہ میں کبھی کسی کے لیے ذریعۂ ہدایت بنوں گی۔‘‘ وہ چند ثانیے کے لیے رکی تھی ’’اور شاید آپ کو بھی کبھی اندازہ نہیں تھا کہ کبھی آپ کسی مسلمان لڑکی کی اس طرح اور اس حد تک مدد کریں گے کیونکہ نہ یہ آپ کی خواہش ہے اور نہ میری۔ یہ اس کی مرضی اس کی سوچ ہے‘ جس کی سوچ تک کبھی کسی کی پہنچ ممکن ہی نہیں۔ میں اور آپ اور ہم جیسے بہت سے صرف کردار ہیں جو اس کے تخلیق کیے ہوئے ہیں اور اسی کے محتاج ہیں اور وہ ہمیں اپنا محتاج رکھے‘ آمین۔‘‘ عبیرہ خاموش ہوگئی۔
چند لمحے ساکت کھڑے رہنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ راہداری میں چلتے ہوئے اس کے ذہن میں عبیرہ کے جملے گردش کرنے لگے تھے‘ وہ لڑکھڑایا پھر سنبھلا دیوار کے ساتھ لگی چیئر پر بیٹھتے ہوئے اس کے ذہن میں پچھلے تمام واقعات گھومنے لگے تھے‘ وہ پہلی بار عبیرہ کا اس کے روبرو آنا اور پہلی ہی بار میں اس کے دل میں عبیرہ کے لیے ان چاہی نرمی پیدا ہونا‘ اسے دیکھ کر ہر شے سے بے گانگی محسوس ہونا‘ وہ سب کچھ جان کے ذہن میں فلم کی مانند چل پڑا تھا۔ اس کے ذہن میں وہ خواب گھومنے لگے تھے جو عبیرہ سے ملنے کے بعد اس نے دیکھے تھے۔
’’سب کچھ کس طرح خودبخود ہوتا چلا گیا تھا‘ کتنی تابعداری‘ کتنی فرماں برداری‘ کیوں؟ کس لیے‘ کون ہے وہ عبیرہ کا ربّ جس نے مجھے جان ویراج چوہان کو ایک مسلمان کے لیے اتنا نرم دل بنادیا‘ میں جو مسلمانوں سے اتنا بے زار تھا‘ اس کے دل میں اتنی محبت بھر دی ایک مسلمان لڑکی کے لیے‘ کون ہے وہ جسے اتنا اختیار ہے؟ کون ہے وہ ربّ؟ عبیرہ جس سے اتنی محبت کرتی ہے‘ اتنی محبت کہ وہ اپنا سب کچھ اپنی جان بھی اس کے لیے قربان کردینا چاہتی ہے۔ کیا میں بھی اسی ربّ کا بندہ ہوں؟ کیا میرا اور عبیرہ کا ربّ ایک ہے؟ کیا عبیرہ جیزز کے علاوہ کسی اور کو ربّ مانتی ہے؟ کیوں میرے پاس اپنے ہی سوالوں کا جواب نہیں؟ کیوں میں اپنے دین سے جڑی غلط فہمیوں کو دور نہیں کرسکتا؟ اور عبیرہ کیسے اپنے دین ہی نہیں ہر دین پر جامع گفتگو کرسکتی ہے؟‘‘ اس کا ذہن بُری طرح منتشر تھا۔ ہمیشہ کی طرح عبیرہ کے آخری جملے اسے بُری طرح ہلاگئے تھے تبھی اس کا موبائل بجا اٹھا‘ اس نے نام دیکھا لکی کی کال تھی جو اس کا کلاس میٹ تھا۔
’’ہیلو۔‘‘ اس نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔
’’ہیلو جان! کہاں ہو یار! پیپر اسٹارٹ ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی ہے‘ سب لوگ آگئے ہیں آج تم اتنے لیٹ کیسے ہوگئے؟‘‘ اس نے پرتشویش لہجے میں کہا۔
’’پیپر…؟‘‘ جان نے حیرت سے دہرایا۔
’’ہاں آج پبلک ریلیشن کا پیپر ہے تم بھول گئے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ وہ مزید حیرت کا شکار ہوا۔
’’لیکن مجھے تو یاد ہی نہیں رہا‘ میں آرہا ہوں پندرہ منٹ میں۔‘‘ اس نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور کال ڈس کنیکٹ کردی۔
’’بے شک میرا ربّ ہی جانتا ہے اس نے اس دنیا میں کس کو کس کام کے لیے بھیجا ہے۔‘‘ لفٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک بار پھر عبیرہ کے جملے گونجے تھے۔
’’حقیقتاً اگر لکی نے مجھے کال نہ کی ہوتی تو میں آج کے پیپر میں غیر حاضر ہوجاتا۔ آج تک چار سالوں میں مجھ سے یہ غلطی نہیں ہوئی مگر آج… آخری سال کے آخری سمسٹر میں‘ میں اتنی بڑی غلطی کر بیٹھا۔ پر مجھے بچالیا‘ کس نے…؟ عبیرہ کے ربّ نے؟ میرے ربّ نے؟ یا ہم دونوں کے ربّ نے؟‘‘ اس کا ذہن ایک بار پھر منتشر ہورہا تھا مگر اب کی بار اس نے ان سوچوں کو جھٹک دیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
کمرے میں گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے تھوڑے تھوڑے وقفے بعد کھانسنے کی آواز کمرے میں پھیلے سناٹے کو توڑ رہی تھی۔ یک دم ہی کھانسی کا دورہ شدید ہوا تھا۔ پل بھر کو ایسا محسوس ہوا کہ کھانسنے والے کا دم نکل گیا ہو مگر حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔
’’صغرا… صغرا…‘‘ کھانستے ہوئے بہت لاغر آواز میں کسی ملازمہ کو آواز لگائی تھی‘ کچھ ثانیوں بعد ملازمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور جلدی سے لائٹ کھولتے ہوئے ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اپنی مالکن کو دیا‘ پانی سے کچھ افاقہ ہوا پھر انہوں نے لڑکھڑاتی زبان سے بولنا شروع کیا۔
’’صغرا… میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے… تم… تم… میرے بیٹے کو بلادو اس سے کہو… آخری… آخری بار مجھ سے ملنے آجائے بس ایک بار… صرف…‘‘ یک دم سے کھانسی پھر شروع ہوگئی تھی۔ ملازمہ نے ساتھ رکھے فون سے ایک نمبر ڈائل کیا تھا‘ بیل جارہی تھی۔
ؤ…/…ؤ
’’عبیرہ!‘‘ اس کے کانوں سے عباد صاحب کی آواز ٹکرائی۔ وہ بیڈ پر ان کے ہاتھ کے قریب سر رکھے بیٹھی تھی‘ ان کی آواز پر اس نے جلدی سے سر اٹھایا۔
’’بابا جان! آپ ٹھیک تو ہیں ناں۔‘‘ اس نے پریشان لہجے میں پوچھا۔
’’ہوں‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ انہوں نے بہت لاغر لہجے میں کہا۔
’’میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتی ہوں۔‘‘ وہ مڑتے ہوئے بولی۔
اس کو جاتا دیکھ کر عباد صاحب کے ذہن میں ایک ہی بات چلنے لگی تھی کہ ان کی بیٹی نے کیا قسمت پائی تھی۔ انہیں وہ لمحے یاد آنے لگے تھے جب احمد نے عبیرہ پر الزامات لگائے تھے خود ان سے بھی کتنی بدتمیزی کی تھی اور اسی بات کو برداشت نہ کرتے ہوئے ان کو دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔
’’کاش کہ میں نے عبیرہ کو اس نکاح کے لیے راضی نہ کیا ہوتا۔ کاش میں بھی احمد کی اس حقیقت کو دیکھ پاتا جسے عبیرہ نے دیکھا۔ کاش… کاش… مگر اس ربّ کے آگے سب مجبور ہیں‘ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور وہی اس کے بندوں کے حق میں بہتر ہوتا ہے مگر اس رشتے کے ختم ہونے میں عبیرہ کے لیے کیا بہتری ہوسکتی ہے؟ کیا سوچ رکھا ہے میرے ربّ نے عبیرہ کے لیے؟ کیا احمد سے بہتر ہے جسے میرے ربّ نے عبیرہ کے لیے منتخب کیا ہے؟‘‘ تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور عبیرہ کے ساتھ ڈاکٹر اور نرس داخل ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے انہیں چیک کیا اور نرس نے انہیں انجکشن لگایا۔
’’یہ اب بہتر ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے عبیرہ کو مخاطب کیا اور پھر چلا گیا۔ عبیرہ اسٹول پر بیٹھ گئی اور عباد صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
’’میں نے آپ کو بہت پریشان کیا ہے ناں بابا جانی!‘‘ عبیرہ نے نم لہجے میں کہا۔
’’آپ تو میری سب سے پیاری بیٹی ہیں عبیرہ! آپ کو دیکھ کر میرے دل کو ٹھنڈک پہنچتی ہے‘ آپ میرے لیے پریشانی کا سبب کبھی بھی نہیں ہوسکتیں۔ بس غلطی مجھ سے ہوئی ہے۔ آپ کے انکار کے باوجود میں نے آپ کی زندگی ایک غلط انسان کے ہاتھوں میں سونپ دی۔ مجھے معاف کردیجیے گا عبیرہ! زندگی کا کوئی بھروسا نہیں…‘‘ عبیرہ نے انہیں بیچ میں ہی ٹوک دیا۔
’’آپ ایسی باتیں نہ کریں بابا جانی! آپ نے کوئی غلطی نہیں کی جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔ اب آپ زیادہ باتیں نہ کریں اور آرام کریں۔‘‘ عبیرہ کی اس بات پر وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرگئے جب کہ عبیرہ بنا آواز کے رو رہی تھی‘ اس نے زندگی میں کبھی اپنے بابا جانی کو اتنا بیمار نہیں دیکھا تھا اور اسی لیے اس کی ہمت ٹوٹ گئی تھی‘ اس کا دل ایک ان دیکھے خوف کا شکار تھا۔ وہ اپنے بابا جانی سے بے حد محبت کرتی تھی اور کسی بھی قیمت پر ان سے دور جانا نہیں چاہتی تھی۔
ؤ…/…ؤ
’’آپ کا پروجیکٹ تو بہت کامیاب ہے اس میں کوئی شک نہیں اذان لیکن اگر آپ اپنا یہ انسٹیٹیوٹ شہر میں قائم کریں گے تو زیادہ کامیابی ہوگی۔‘‘ کاشان نے مشورہ دیا۔ وہ دونوں اس وقت اذان کے پروجیکٹ سائڈ سے واپس آرہے تھے۔
’’دیکھو کاشان! شہروں میں اسلامک سینٹرز کی کمی نہیں اور شہر میں لوگ پڑھے لکھے ہیں‘ اسلام کے بارے میں پڑھتے ہیں اور اسے سمجھتے بھی ہیں مگر ہم کسی گائوں میں چلے جائیں‘ اسلام کے حوالے سے لوگوں میں بالکل ہی معلومات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ لوگوں کو اسلام کے دوسرے ارکان کے بارے میں معلومات تو درکنار‘ وہ اسلام کی بنیاد‘ اسلام کا سب سے بڑا عقیدہ‘ کلمہ طیبہ وہ لوگ اس سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ جس کامل دین کا وہ لوگ حصہ ہیں‘ وہ اسے اچھی طرح سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں۔ دین سے دوری کا مطلب ہے اپنے ربّ سے دوری اور ربّ سے دوری انسان کو گمراہی اور جہالت کے ان اندھیروں میں پہنچا دیتی ہے جہاں وہ نیکی اور گناہ کے ہر فرق سے بے نیاز ہوجاتا ہے اور ہرکبیرہ صغیرہ گناہ بھی ایک نارمل روٹین کی طرح کرتا ہے یہاں تک کہ شرک بھی۔‘‘ اذان نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’ہوں… میں نے اس زاویے سے تو سوچا ہی نہیں تھا‘ یہ تو آپ نے ٹھیک کہا اذان! لیکن پھر اسلامک سینٹر میں ہی آپ مہارت تعمیر کلاسز بھی پلان کررہے ہیں‘ کیوں؟‘‘ کاشان کا انداز ایک بار پھر نہ سمجھنے والا تھا۔
’’اچھا سوال ہے۔‘‘ اذان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کیونکہ دینی علم آجانے سے ان کے پاس روزی کا ذریعہ نہیں آجائے گا۔ اس لیے دین کی بیداری کے ساتھ ضروری ہے کہ ان کی پاس کوئی ایسا ہنر ضرور ہو جو ان کی روزی کا ذریعہ بن سکے اگر ہم کوئی اسکول قائم کرتے ہیں تو پہلی بات تو یہ کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے ہوں گے اور فیملیز کو سپورٹ کرنے کے لیے انہیں اگلے کئی سال چاہیے ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ پڑھ لکھ کر انہیں نوکری کے لیے شہر ہی آنا پڑے گا اور میں شہر میں شہر والوں کے لیے تو نوکریاں ہیں نہیں انہیں کہاں سے ملیں گی۔ اسی لیے میں نے یہ کلاسز کی ہیں‘ یہ کلاسز ہر عمر کے انسان کے لیے ہیں۔ ان مہارت کو سیکھ کر یہ لوگ اپنی فیملیز کو بھی سپورٹ کرسکیں گے اور اپنے بچوں کو بہترین تعلیم بھی دلاسکیں گے اور پھر تم نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا‘ ہنر بادشاہ ہے۔‘‘ اذان نے آخری جملہ کہہ کر اپنی بات پر مہر لگادی۔
’’بہت اچھا خیال ہے۔ میں تو یہاں تک سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ کاشان نے معترف ہوتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘ اذان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’مگر یہ بات شاید کسی کو معلوم نہیں کہ اتنی بہترین سوچ رکھنے والا انسان بھی اپنی زندگی میں کہیں نہ کہیں ابنارمل ہے یا رہ چکا ہے‘ ہے ناں اذان…‘‘ کاشان نے مسکراتے ہوئے جانچنے والے انداز میں کہا۔ اذان کے لبوں پر ایک بے بس مسکراہٹ ابھری تھی۔
’’موجودہ دور میں ہر انسان کسی نہ کسی حد تک ابنارمل ہے اس کی وجہ یا تو اس کا آج ہے یا پھر گزرا ہوا کل۔‘‘ اذان نے نارمل انداز میں ڈرائیو کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا آپ کا بھی کوئی گزرا ہوا کل کوئی ماضی ہے اذان؟‘‘ کاشان کا انداز اب متجسس تھا۔ اذان اب کی بار ہنسا تھا۔
’’میں صرف مذاق کررہا تھا تم تو سیریس ہوگئے۔‘‘ کاشان نے اس کی بات کو نظر انداز کیا۔
’’اگر آپ مذاق کررہے تھے تو پھر مجھے یہ بتائیں کہ آپ پچھلے پندرہ دن سے اتنے ڈپریس کیوں تھے؟‘‘ کاشان بضد ہوا۔
’’یہ کیا منطق ہے کاشان! کیا لازمی ہے کہ ڈپریس ہونے کے لیے ہماری زندگی میں کوئی ماضی ضرور ہو۔‘‘ اذان نے اب کی بار جھنجلانے والے انداز میں کہا۔
’’نہیں یہ لازمی نہیں مگر جو لوگ ہمارے دل کے بہت قریب ہوں اگر وہ ہماری زندگی میں شریکِ سفر رہیں تو ہم زندگی میں آنے والی بڑی سے بڑی پریشانی کو بھی ہنس کے سہہ لیتے ہیں لیکن اگر وہی لوگ ہم سے بچھڑ جائیں‘ کہیں کھو جائیں تو زندگی بے معنی ہوجاتی ہے اور میں نے اس دن آپ کی آنکھوں میں بے معنی ہوتی زندگی کا عکس دیکھا تھا۔‘‘ کاشان بہت جذب سے کہہ رہا تھا اور اذان کے چہرے پر سنجیدگی چھاتی جارہی تھی۔ اذان کے ذہن میں یک دم ایمان کے لفظوں کی بازگشت شروع ہوگئی تھی۔
’’اذان ہمارے نکاح والے دن عبیرہ ہمارے ساتھ تھی‘ اس کے بعد وہ ہم سے کبھی نہیں ملی۔ ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور وہ ہم سے رابطہ کر بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اسے پتا ہی نہیں تھا کہ ہم گھر چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ عبدالمعیز کی اماں ہمیں اپنے گائوں لے گئی تھیں‘ ہم دو سال وہیں رہے پھر عبدالمعیز نے یہاں آکر اپنی جاب تلاش کرلی اور تقریباً ڈھائی سال بعد میں اور اماں بھی شہر آگئے۔ ہم نے عبیرہ سے ملنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ہمیں نہیں ملی۔‘‘
’’اذان ادھر دیکھو…‘‘ کاشان پوری قوت سے چیخا تھا وہ گہری نیند سے جاگا تھا جیسے‘ ایک ٹرک بہت تیزی سے ان کی کار کی سمت میں ہی آرہا تھا۔ اذان نے فوراً اسٹیئرنگ گھمایا اور کار کچے میں اتر گئی تھی۔ کار رکتے ہی کاشان مخاطب ہوا۔
’’کب سے کہہ رہا ہوں اذان دیکھو سامنے سے ٹرک آرہا ہے مگر نہ جانے کن خیالوں میں گم ہو۔‘‘ اذان بنا کوئی جواب دیئے کار سے اتر گیا تھا‘ کاشان بھی اتر آیا۔ مغرب میں سورج ڈوب رہا تھا‘ کار سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ کاشان سے مخاطب ہوا۔
’’آئی ایم سوری کاشان! آج میری وجہ سے تمہاری زندگی… آئی ایم سوری۔‘‘ اس کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
’’صرف میری نہیں تمہاری زندگی بھی خطرے میں پڑگئی تھی۔‘‘ کاشان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی دل جوئی کی۔
’’بے معنی اور بے مقصد زندگی اگر ختم بھی ہوجائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کاشان! جب اپنی زندگی صرف ایک مقصد کے حصول میں صرف کردی جائے اور ایک طویل مدت بعد پتا چلے کہ وہ مقصد‘ وہ منزل نصیب نہیں تو انسان کی زندگی حقیقتاً اندھیروں میں گھر جاتی ہے تب اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ ایک لمبے وقت سے بے معنی زندگی جی رہا تھا۔ لاحاصل کی تمنا کررہا تھا۔‘‘ اذان کا لہجہ بہت بے بس تھا‘ کاشان اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔
ؤ…/…ؤ
’’کیا بات ہے احمد! آج بہت خاموش ہیں۔ سب ٹھیک تو ہے ناں۔‘‘ مسجد سے نکلتے ہوئے بالآخر انہوں نے پوچھ ہی لیا۔
’’یس سر! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ کیوں آپ کو ایسا کیوں لگا؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’کیونکہ آج تم نے لیکچر کے دوران بھی کوئی سوال نہیں پوچھا اور نہ مسجد میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا کہا۔‘‘ انہوں نے اسے اس کی مخصوص عادتیں یاد دلائی تو وہ مسکرادیا۔
’’سوال تو تھا میرے ذہن میں لیکن آج پوچھنے کا دل نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
’’اور وہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیوں نہیں پوچھا۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’چلیں اب پوچھ لیتا ہوں۔‘‘ اس نے ہار ماننے والے انداز میں کہا۔
’’کیا حقیقی محبت یعنی حُب اللہ ہر انسان کے لیے ہے یا صرف کچھ خاص لوگوں کے لیے اور اگر یہ عام ہے تو پھر اس کا حصول کیسے ممکن ہے؟‘‘ اس نے بہت پُرسکون لہجے میں کہا‘ وہ کچھ ثانیے اس کا چہرہ دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے۔
’’آپ نے کبھی دل کی بناوٹ پر غور کیا ہے احمد؟‘‘ ان کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی‘ احمد خاموش رہا۔
’’اللہ پاک نے دل کے چار حصے بنائے ہیں‘ دو وہ جن سے صاف خون جسم کے تمام حصوں کو پہنچتا ہے جب کہ بقیہ دو حصے جسم سے تمام گندا خون لے کر انہیں پھیپھڑوں میں صاف ہونے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ ظاہری طور پر دل یہی کام کرتا ہے مگر حقیقتاً اس کے علاوہ بھی کچھ کام ہیں جو اللہ پاک نے دل کے ذمہ لگائے ہیں۔ دل کے دو خانوں میں جہاں آکسیجنٹڈ خون آتا ہے ان میں سچ اور محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ دو حصے جن میں ڈی آکسیجنٹڈ خون آتا ہے ان میں جھوٹ اور نفرت جیسے منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ محبت سے انسان میں وفا‘ ہمدردی‘ رحم دلی وغیرہ پیدا ہوتی ہے جب کہ سچ سے خلوص‘ دیانت‘ نیک نیتی‘ اعتبار وغیرہ۔ اسی طرح نفرت سے کینہ‘ حسد‘ دشمنی‘ لالچ وغیرہ پیدا ہوتی ہے جب کہ جھوٹ سے مکرو فریب‘ ریا کاری‘ مکاری‘ بد نیتی وغیرہ جنم لیتی ہیں۔ جس طرح آکسیجنٹڈ خون انسان کو تندرست وتوانا رکھتا ہے اسی طرح سچ ومحبت انسان کے نفس‘ ضمیر اور اس کی روح کو مطمئن رکھتے ہیں لیکن اگر ہمارے جسم میں ڈی آکسیجنٹڈ خون بڑھ جائے تو انسان علیل ہوجائے گا یا پھر مرجائے گا‘ بالکل اسی طرح جب انسان میں منفی جذبے جھوٹ و نفرت بڑھ جائے تو اس کا نفس امارہ اس پر حاوی ہوجاتا ہے یعنی وہ نفس جو انسان کو ہر غلط کام کے لیے اکساتا ہے اور ضمیر و روح کی موت واقع ہوجاتی ہے۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے رکے تھے۔
’’لیکن اس سب میں میرے سوال کا تو کہیں جواب نہیں۔‘‘ احمد نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’بے صبروں کے ہاتھ کبھی کچھ نہیں آتا‘ ہمیشہ صبر کرنے والا ہی اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔‘‘ ان کے اس جملے پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا پھر شرمندہ ہوکر نظریں جھکا دیں۔
’’جس دل میں محبت کا جذبہ حاوی ہوتا ہے وہ دل ہر شر سے پاک ہوجاتا ہے اور جب دل میں شر نہ ہو تو پھر اس میں صرف ایک اور واحد ہستی کی جستجو بیدار ہوتی ہے اور وہ اللہ وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ اب آتے ہیں تمہارے سوال کی طرف۔ اللہ پاک نے بنیادی طور پر ہر انسان کو نیک و پاک روح کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی ہر انسان بنیادی طور پر اللہ کی محبت دے کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے مگر دنیا میں آنے کے بعد اس دارُالغرور کے حالات اور واقعات انسان کے دل میں منفی جذبات کو پروان چڑھا دیتے ہیں اور یوں ایک اچھا انسان برا بن جاتا ہے لیکن جو دل ہر حالت میں اپنے ربّ کی سچی محبت کو غالب رکھتا ہے تو اس کا ربّ اپنے اس بندے پر اپنی محبت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ جب بندہ سچے دل سے اپنے ربّ پر اعتبار اور یقین کرتا ہے تو اللہ پاک اس کا کبھی نہ ختم ہونے والا ایمان بن جاتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ ہر دل میں ہے جو دل اسے پہچان لے وہ خاص اور جو نہ پہچان پائے وہ عام۔ یہ تھا تمہارے آدھے سوال کا جواب‘ اب رہا حب اللہ کا حصول تو وہ بھی ممکن ہے بس اسے تلاشنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ربّ کی محبت چاہتے ہو تو صلہ رحمی کرو۔ جیسے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی یا ہمیشہ انہوں نے اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف کیا تاکہ ان کا ربّ ان سے راضی رہے‘ اپنے اردگرد اور سب سے بہتر اپنے گھر والوں سے شفقت‘ محبت سے پیش آئو‘ تم اپنے ربّ کی محبت کو اپنے اندر قوی پائو گے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنی بات ختم کردی۔
’’آپ کے لفظوں میں بہت تاثیر ہے سر! حقیقتاً آپ نے بہت صحیح کہا‘ صلۂ رحمی اگر ہر انسان اختیار کرلے تو ہر انسان اللہ والا ہوجائے گا۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’لیجیے آپ کا گھر بھی آگیا۔‘‘ وہ ان کے دروازے پر رکتے ہوئے مخاطب ہوئے۔
’’ہر انسان کو ایک دن اپنی منزل پر پہنچنا ہے جلد یا بدیر مگر پہنچنا ہے۔ میری بات یاد رکھنا۔‘‘ انہوں نے تاکیداً کہا‘ تبھی احمد کا موبائل بجا۔ اسکرین پر چمکتا نمبر دونوں نے ہی دیکھا‘ احمد نے کال ڈس کنیکٹ کردی۔
’’صلہ ٔ رحمی احمد! تم بھول گئے۔‘‘ انہوں نے یاد دلایا تبھی موبائل دوبارہ بجا۔ ’’کال اٹینڈ کرو احمد!‘‘ انہوں نے پھر کہا اور اب کی بار اس نے اٹینڈ کرلی۔
’’ہیلو! کیوں فون کیا ہے مجھے؟‘‘ اس کا لہجہ یک دم روڈ ہوگیا۔ ’’طبیعت خراب ہے تو میڈیسن دو‘ مجھے فون کرکے تنگ مت کیا کرو کتنی بار کہا ہے۔ جب میرے پاس ٹائم ہوگا میں آجائوں گا ان سے کہو۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے کال ڈس کنیکٹ کردی۔
’’احمد تمہیں جانا چاہیئے میرے مطابق۔‘‘ انہوں نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔
’’آپ تو سب جانتے ہیں سر! پھر بھی آپ یہ کہہ رہے ہیں‘ میری پوری زندگی خراب کردی انہوں نے اور آپ توقع کرتے ہیںکہ میں صلۂ رحمی کروں ان کے ساتھ۔‘‘ اس کا لہجہ بہت کڑوا تھا۔
’’ہاں احمد! میں ایسی توقع رکھتا ہوں کیونکہ اسلام یہی کہتا ہے کہ اگر ماں باپ غلطی پر ہوں تو انہیں صلۂ رحمی سے شفقت سے صحیح راستے پر لے آئو اور اس وقت تمہارا یہ فرض ہے کہ تم ان سے ملنے جائو کیونکہ تمہاری ماں ہیں احمد!‘‘ انہوں نے بہت نرمی سے اسے سمجھایا اور اس نے سر جھکا دیا۔ وہ ان کی بات کبھی نہیں ٹالتا تھا اور آج بھی ٹالنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
ؤ…/…ؤ
’’بہترین… بہت خوب‘ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے بیٹے کی پسند اتنی اچھی ہے۔‘‘ انہوں نے سراہتے ہوئے لہجے میں جان سے کہا اور وہ مسکرادیا۔
’’گھر کا ہر کونا بہت حسین لگ رہا ہے بس اب صرف کرسمس کی تیاری باقی رہ گئی ہے۔ میں ایک دو دن میں فارغ ہوجائوں تو پھر چلیں‘ کچھ فرینڈز کے لیے گفٹس بھی لینے ہیں اور ہاں تم یاد سے ریٹا کے لیے گفٹ لے لینا۔‘‘ ان کے آخری جملے پر اس کی تیوریوں پر بل ابھرنے لگے تھے مگر وہ خاموش رہا۔
’’ارے تمہارے پیپرز کیسے رہے؟‘‘ انہیں اچانک یاد آیا۔
’’اچھے رہے مگر ابھی صرف دو ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’مما ایک بات پوچھوں آپ سے؟‘‘ اس نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا۔
’’ہاں کہو۔‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہوچکی تھیں۔
’’ڈیکوریشن کے دوران مجھے پتا چلا کہ بابا کا اسٹڈی روم آپ نے کبھی کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ مجھے اس کی وجہ سمجھ نہیں‘ وہ بھی تو اسی گھر کا حصہ ہے۔‘‘ جان کے لہجے میں الجھن تھی۔
’’اس کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ وہ کمرا کسی کے استعمال میں نہیں اور دوسرا اس کمرے سے تمہارے بابا کی یادیں جڑی ہیں۔ تمہارے بابا کے جانے کے بعد جب بھی اس کمرے میں گئی تو شدید ڈپریشن کے دورے کا شکار ہوئی۔ اسی لیے پھر میں نے خود وہ کمرا بند کروا دیا کیونکہ اگر مجھے کچھ ہوجاتا تو پھر تمہیں کون سنبھالتا۔‘‘ ان کا لہجہ دکھ سے بھرپور تھا اور آنکھوں میں بھی ہلکی ہلکی نمی نظر آنے لگی تھی۔ جان کو لگا تھا کہ اس نے غلطی کی ان سے سوال پوچھ کر۔
’’آئی ایم رئیلی ویری سوری ماما! میرا ارادہ آپ کو دکھی کرنے کا نہیں تھا۔‘‘ وہ ان کے گلے لگ گیا اور اس کی ماما کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی تھی جب کہ دور کہیں نگاہیں یہ منظر دیکھ کر برسنے لگی تھیں۔
’’کیا حقیقت کبھی سامنے نہیں آئے گی میرے مالک! کیا اس چہرے سے کبھی نقاب نہیں اٹھے گا؟‘‘ مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
ؤ…/…ؤ
آج عباد صاحب کو اسپتال میں پانچ دن ہوگئے تھے گزشتہ دنوں کے مقابلے میں آج ان کی طبیعت کافی بہتر تھی۔ وہ خود سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔ ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ ایک دم اتنی بہتری آگئی تھی طبیعت میں۔ عدیل کچھ دیر پہلے ہی گھر گیا تھا مگر جان ابھی بھی بیٹھا تھا جان نے کئی بار یہ بات نوٹ کی تھی کہ عباد صاحب بہت غور سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’جان بیٹا! ایک بات کہوں آپ سے؟‘‘ بالآخر وہ مخاطب ہو ہی گئے۔
’’جی انکل پلیز۔‘‘ جان نے بہت تابعداری سے کہا جب کہ عبیرہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’آپ کے ہر انداز میں‘ چہرے کے خدوخال میں میرے کزن کی شبیہ آتی ہے۔‘‘ انہوں نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔
’’اچھا انکل پھر تو میں ان سے ضرور ملنا چاہوں گا۔‘‘ جان نے بہت خوش مزاجی سے کہا۔
’’تم اس سے مل نہیں سکتے کیونکہ وہ تقریباً تمہاری ہی عمر کا تھا جب اس کی وفات ہوگئی تھی۔‘‘ انہوں نے بہت افسوس سے کہا۔
’’اوہ…! یہ سن کر دکھ ہوا۔‘‘ جان نے افسوس سے کہا تبھی کمرے کا دروازہ ہلکا سا بجا اور پھر آہستگی سے کھول دیا گیا۔ جان نے دیکھا دروازے سے داخل ہوتا ہوا شخص تقریباً پچاس کے لگ بھگ تھا۔ چہرے پر گھنی داڑھی تھی‘ سفید شلوار قمیص میں ملبوس ان کی شخصیت بہت پُروقار لگ رہی تھی۔ جان نے خود کو ایک عجیب سحر‘ ایک عجیب محویت کا شکار محسوس کیا تھا۔ ان کے ماتھے پر ویسا ہی گہرا سیاہ نشان تھا‘ جیسے اس نے عباد صاحب کے ماتھے پر دیکھا تھا۔ عبیرہ ان سے بہت ادب سے مخاطب تھی اور وہ مسکراتے ہوئے اس کی بات کا جواب دے رہے تھے‘ ان کی آواز بہت میٹھی اور دل کو گرویدہ کرلینے والی تھی‘ ان کے لبوں پر وہی پُرسکون مسکراہٹ تھی جیسی اس نے ہمیشہ عبیرہ کے چہرے پر بکھری دیکھی تھی۔ عبیرہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک نگاہ جان پر ڈالی تھی۔ جان کا پورا وجود تھرتھرا گیا تھا‘ اس نے نگاہیں جھکا دی تھیں۔
’’سر! ان سے ملیں یہ جان ہیں‘ انٹر شپ کے دوران میرے طالب علم رہ چکے ہیں۔‘‘ جان نے دیکھا عبیرہ اس کا تعارف کروا رہی تھی اس شخص سے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ جان کی طرف بڑھایا تو جان نے بحالت مجبوری ہاتھ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا۔
’’یہ میرے پروفیسر ہیں جان! پروفیسر خالد عباسی۔‘‘ عبیرہ نے اب جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جان…؟ حیرت انگیز! پہلی نظر میں کوئی یہ اندازہ کر ہی نہیں سکتا کہ آپ ایک نان مسلم ہیں؟‘‘ ان کے لہجے میں حیرت تھی مگر جان کو یہ بات بہت ناگوار گزری تھی۔
’’کوئی بات نہیں مسٹر عباسی! انسان کو اکثر ایسی غلط فہمیاں ہوجاتی ہیں۔ میں ابھی جلدی میں ہوں ورنہ اچھی گفتگو ہوتی۔ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔‘‘ جان نے جلدی جلدی سپاٹ لہجے میں کہا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں سے نکال لیا۔
’’یقینا اللہ نے چاہا تو ہماری ملاقات دوبارہ ہوگی۔ یہ میرا وزیٹنگ کارڈ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد آپ کو اس کی ضرورت پڑے گی۔‘‘ انہوں نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بہت پُرسکون لہجے میں کہا۔ جان نے الجھی نگاہوں سے انہیں دیکھا اور پھر کارڈ پکڑتے ہوئے عبیرہ سے مخاطب ہوا۔
’’اوکے عبیرہ! میں چلتا ہوں پھر آئوں گا اور عدیل کو بھی یاد کرادوں گا کہ وہ آپ کی ماما اور بہن کو لے آئے اسپتال۔‘‘ عباسی صاحب بہت غور سے دیکھ رہے تھے اسے عبیرہ سے بات کرتے ہوئے۔ وہ وہیں سے مڑا اور دروازہ کی طرف بڑھ گیا۔ عباسی صاحب نے ایک نگاہ غور سے اب عبیرہ کو دیکھا اور پھر مسکرادیئے۔
’’کیا ہوا سر!‘‘ عبیرہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔
’’کچھ نہیں‘ مجھے لگتا ہے کہ تمہارا طالب علم مجھ سے ڈر گیا۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور عبیرہ بھی مسکرادی۔
ؤ…/…ؤ
’’اذان! آخر کون آرہا ہے جس کا تم اتنی بے صبری سے انتظار کررہے ہو؟‘‘ کاشان بہت دیر سے نوٹ کررہا تھا کہ وہ ائرپورٹ لائونج میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا اور بار بار گھڑی بھی دیکھ رہا تھا۔
’’میرا بہترین دوست‘ میری جان‘ میرا عدیل! کویت سے واپس آرہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے زندگی لوٹ رہی ہے میری طرف۔ میں بہت خوش ہوں کاشان!‘‘ اس کے ہر جملے میں خوشی کا رنگ بھرا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد ہی کاشان اس شخص سے بھی مل لیا تھا جس کا انتظار اذان اس قدر بے صبری سے کررہا تھا وہ ایک درمیانے قد کا لڑکا تھا‘ سیاہ بال‘ گندمی رنگت‘ خوش مزاج۔ اذان بڑی گرم جوشی سے اس سے گلے ملا اور پھر کاشان کا تعارف کرایا اس سے۔ عدیل سے مل کر کاشان کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں محسوس ہوا تھا کہ وہ اس سے پہلی بار مل رہا ہے۔
’’تمہاری پی ایچ ڈی کیسی رہی؟‘‘ اذان نے بیک ویو مرر میں عدیل کو مخاطب کیا۔
’’وہ اندازہ تو تمہیں میری دماغی حالت سے ہوگا‘ جب تمہیں صحیح اندازہ ہوگا کہ میری پی ایچ ڈی کیسی رہی۔‘‘ عدیل نے بالکل سنجیدہ لہجے میں کہا اور وہ دونوں ہنس پڑے اس کی بات پر۔
’’مجھے لگا تھا کچھ سدھار آجائے گا تم میں لیکن وہ عدیل ہی کیا جو بدل جائے۔‘‘ اذان نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا۔
’’یہ معاملہ صرف میرے ہی نہیں تمہارے ساتھ بھی ہے محترم! بدلے تو تم بھی نہیں ہو تمہارے دل تک رسائی ہے مجھے۔‘‘ عدیل نے دعویٰ کیا اور اس بات پر اذان نے نگاہیں چرائی تھیں جب کہ کاشان کے دل کو لگی تھی یہ بات۔
’’اذان کا بہترین دوست وہ تو اذان کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوگا۔‘‘ کاشان کا دماغ ایک دم ہی بے دار ہوگیا تھا۔ اذان نے موضوع بدل دیا کار اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔
ؤ…/…ؤ
’’عدیل آج انکل کو ڈسچارج کیا جارہا ہے۔ تم عبیرہ کے ساتھ انہیںگھر لے جانا۔ میں کراچی کے لیے نکل رہا ہوں‘ تم نے جو ایڈریس دیا ہے عبیرہ کی پھوپو کا میں ایک بار وہاں جاکر دیکھنا چاہتا ہوں‘ ہوسکتا ہے کام بن جائے۔‘‘ جان نے اسپتال سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
’’میرے خیال میں تو تمہارا جانا بے کار ہے کیونکہ یہ ایڈریس پرانے گھر کا ہے۔‘‘ عدیل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’وہاں جاکر ہوسکتا ہے مجھے نئے گھر کا ایڈریس مل ہی جائے۔ امید پر دنیا قائم ہے عدیل! اور پھر مسٹر مہرا سے کسی رحم کی توقع نہیں ہے۔‘‘ جان بہت جذب سے کہتا چلا گیا اور عدیل نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔
ؤ…/…ؤ
’’اماں! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بابا جانی کو اب کسی قسم کا صدمہ نہیں پہنچنا چاہیے‘ بہت مشکل سے ان کی حالت سنبھلی ہے‘ اس لیے ہمیں اب بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔‘‘ عبیرہ نے بہت دھیمے لہجے میں کہا وہ دونوں اس وقت عباد صاحب کے کمرے کے باہر کھڑی تھیں‘ عبیرہ کچھ دیر پہلے ہی انہیں لے کر گھر آگئی تھی۔
’’ہاں ہمیں بہت احتیاط کرنی ہوگی۔‘‘ انہوں نے عبیرہ کی تائید کی۔
’’یہ عالی کہاں ہے اماں؟‘‘ اچانک ہی عبیرہ کو اس کا دھیان آیا۔
’’وہ ٹیوشن گئی ہے‘ بڑی مشکل سے چھوڑ کر آئی ہوں۔ تمہیں تو پتا ہے ناں پڑھائی میں تو اس کا دماغ لگتا ہے نہیں‘ بس پورا دن تصویریں بنوالو اس سے۔‘‘ وہ خفا ہونے لگی تھیں جب کہ عبیرہ مسکراتی ہوئی اندر کی طرف آگئی۔
کپڑے چینج کرکے اس نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور پھر بستر پر آلیٹی تھی۔ درود شریف پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں وہ دن گھوم گیا جب اسپتال میں ادائیگی کرنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے اور جان نے ادائیگی کی تھی۔ اس دن عبیرہ کو جس قدر شرمندگی کا سامنا ہوا تھا شاید اس کا اندازہ خود اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا‘ اسی لیے اس نے اس شرمندگی کو مٹانے کے لیے اپنی سونے کی بالیاں اور سیٹ جو اس کی اماں نے شادی کے لیے بنوایا تھا‘ بیچ دیا تھا۔
’’آج جان صبح کے بعد واپس نہیں آیا ورنہ وہ تو دن میں دو بار ضرور آتا ہے۔‘‘ اس نے لیٹے لیٹے سوچا۔
’’خیر جو بھی ہوا اللہ پاک اس نے ہمیشہ میری بہت مدد کی ہے تُو اسے اس کا اجر ضرور دینا اور اس کا سب سے بڑا اجر تو یہ ہوگا کہ تو اسے اپنی محبت عطا کرے‘ اپنی جستجو عطا کردے‘ اپنی سب سے بڑی نعمت‘ اپنے دین سے اسے سرفراز فرما‘ آمین۔‘‘ عبیرہ نے ہمیشہ کی طرح اپنے ربّ کو صدق دل اور بہت سچائی سے پکارا تھا۔ مگر خود اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے معصوم دل کی دعا جان کے لیے کتنی بڑی مصیبت کتنا طویل امتحان بنے گی۔
ؤ…/…ؤ
صبح صادق کا وقت تھا‘ ہلکی خنک سی ہوا تھی۔ چاروں طرف بہت تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی وہ حطیم (خانۂ کعبہ کے سامنے کچھ فاصلے پر بنی سنگِ مرمر کی چھوٹی سی آدھی گول دیوار) کے اندر خانہ کعبہ کے روبرو سجدہ ریز تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ہر شے اپنے پاک و بلند بزرگی اور صاحبِ قدرت ربّ کی حمدوثنا میں مصروف ہو۔ ہر نظارہ منور محسوس ہورہا تھا تبھی ایک بہت صاف اور خوش الحان آواز سنائی دی تھی شاید مسجدِ حرام (خانۂ کعبہ کے گرد جتنے حصے میں نماز پڑھی جاتی ہے اسے مسجد حرام یعنی حرمت والی مسجد کہا جاتا ہے) میں کوئی اذان دے رہا تھا‘ آواز اتنی میٹھی تھی کہ وہ سجدے سے سر اٹھانے پر مجبور ہوگئی اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر کوئی نظر نہیں آیا بالآخر وہ اٹھ کر حطیم سے باہر نکل آئی۔ آواز خانۂ کعبہ کے دوسری طرف سے آرہی تھی وہ آگے بڑھی تو بہت تیز روشنی اس کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ مزید آگے بڑھی تو آواز اور روشنی دونوں ہی مدھم ہوگئی تھیں اور وہاں پہنچنے پر اسے آواز اب اگلی طرف سے آنے لگی‘ وہ گول چکر لگا کر اگلی طرف آئی تو پچھلی طرف سے آنے لگی تھی۔ اس طرح تقریباً سات بار ہوا تھا اور اس نے سات بار خانۂ کعبہ کے چکر لگائے تھے لیکن جب ساتویں بار وہ خانۂ کعبہ کے روبرو آئی تو اس نے وہاں کسی کو احرام باندھے سجدے کی حالت میں پایا پھر وہ شخص سجدے سے اٹھ کر اس کی جانب پلٹا‘ پُرنور چہرہ‘ پُرنور نگاہیں اور لبوں پر پھیلی مانوس مسکراہٹ۔ وہ اس کے روبرو تھا۔
’’عبیرہ… اٹھو۔‘‘ اماں نے اسے جھنجوڑا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
’’یہ… یہ کیا خواب تھا۔‘‘ اس کا دماغ اب بھی خواب میں الجھا ہوا تھا۔
’’عبیرہ! میں تم سے بات کررہی ہوں تم مجھے سن بھی رہی ہو۔‘‘ اس کی اماں نے ایک بار پھر اسے ہلایا۔
’’کک… کیا ہوا اماں۔‘‘ وہ اب ان کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’عالی اب تک گھر نہیں آئی ہے عبیرہ! میرا تو دل ڈوبا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے روتے ہوئے کہا اور عبیرہ کا دماغ گھومنے لگا۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اماں۔‘‘ اس نے تیزی سے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا او رکمرے سے باہر نکل گئی‘ گیلری میں رکھے فون کا ریسیور اٹھاتے ہوئے اس نے عالی کے سینٹر کا نمبر ڈائل کیا کئی بار بیل جانے کے باوجود بھی کال ریسیو نہیں ہوئی تھی جس کا مطلب تھا کہ سینٹر بند ہوچکا ہے۔ اس نے کال ڈس کنیکٹ کی اور پھر ایک ایک کرکے عالی کی دوستوں کو فون کیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا کہ سینٹر سے ساتھ نکلے تھے اور عالی گھر کی طرف ہی آگئی تھی۔
’’کسی کو بھی کچھ نہیں پتا اماں۔‘‘ اس نے افسردگی سے فون کا ریسیور رکھتے ہوئے کہا۔
’’عبیرہ… عبیرہ۔‘‘ عباد صاحب کی آواز پر ان دونوں نے پریشان کن نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’اماں آپ بابا کے پاس جائیں‘ میں اب کسی اسپتال میں جاکر چیک کرتی ہوں‘ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوگئی ہو۔‘‘ عبیرہ نے ڈوبتے لہجے میں کہا۔ ’’آپ بابا کو کچھ نہ بتایئے گا۔‘‘ اس نے اندر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا اور وہ میکانکی انداز میں عباد صاحب کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
اندھی سڑک پر چلتے ہوئے اسے بہت شدید خوف محسوس ہورہا تھا۔ سردیوں کی رات تھی‘ سڑکیں ویران تھیں۔ وہ رات کے اس وقت کبھی گھر سے باہر نہیںنکلی تھی مگر آج قسمت نے اسے یہ دن بھی دکھایا تھا۔ وہ عدیل کے گھر گئی مگر اس کی بہن نے عبیرہ کی شکل دیکھتے ہی دروازہ بند کردیا تھا۔ عبیرہ کو بہت دکھ ہوا اس کے رویے پر۔ کل تک یہی لوگ خلوص و اخلاق اور محبت و وفا کے پیکر تھے اور آج بے حسی اور بے مروتی کی مجسم حقیقت بن گئے تھے۔
’’زندگی ہر پل بدلتی ہے‘ کبھی ہم کامیابی کی انتہائوں کو چھوتے اور کبھی زوال کی پستیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ کبھی ہمیں زندگی کی شاہراہ پر سفر کرنے کے لیے روشن راہیں فراہم کی جاتی ہیں اور کبھی ہر راہ تاریک کردی جاتی ہے۔ روشن راہوں پر چلنے کے لیے ہمیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر تاریک راستے پر چلنے کے لیے ہمیں ضرورت ہوتی ہے ایک مضبوط سہارے کی اور آپ کو پتا ہے کہ وہ مضبوط سہارا کیا ہے عبیرہ؟ وہ مضبوط سہارا انسان کا اپنے ربّ پر توکل‘ اپنے ربّ پر ایمان ہے۔ صرف ایک اللہ ہی تو ہے جو انسان کے ہر اچھے اور بُرے وقت میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اس لیے میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ ہر حال میں اپنے ربّ کو یاد رکھیے گا۔ وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔‘‘ اس اندھیرے راستے پر چلتے ہوئے عبیرہ کو پروفیسر عباسی کی باتیں یاد آنے لگیں۔
’’مجھے یقین ہے اللہ تعالی میرے ساتھ ہے‘ بس مجھے ہر حال میں ثابت قدم رکھ۔ یہ مشکلات وقتی ہیں مگر تیرا ساتھ کسی بھی انسان کے لیے وقتی نہیں ہے۔‘‘ وہ اب مین روڈ پر آچکی تھی۔ سٹرک پر اکا دکا گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ اس نے ایک رکشے کو ہاتھ کے اشارے سے بلایا اور قریب آنے پر اسپتال چلنے کا کہا۔
(آخری حصہ آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close