Aanchal Jan 15

سروے

ادارہ

۱:۔ آپ کے نزدیک ’’دسمبر استعارہ ہے‘‘ خوشی کا یا غم کا اگر دونوں کا تو کیونکر؟
۲:۔ گزشتہ سال آپ کے لیے کون سی خوشگوار و ناگوار تبدیلیاں لانے کا سبب بنا؟
۳:۔ اس سال آپ کی ذات میں رونما ہونے والی کوئی اچھی بات یا آپ کی دیرینہ خواہش جو رواں سال پوری ہوئی؟
۴:۔ اس نئے سال میں آپ خود کو کہاں دیکھتی ہیں؟
۵:۔ اپنے وطن عزیز کے لیے نئے سال میں کیا سوچ رکھتی ہیں؟
۶:۔ نئے سال کو کس طرح خوش آمدید کہیں گیں؟
۷:۔ نئے سال میں آپ ماہنامہ آنچل میں کیا تبدیلیاں دیکھنا چاہتی ہیں؟

ارم کمال… فیصل آباد
(۱) خوشی اور غم انسانی زندگی کا لازمی جزو ہیں‘ جس مہینے کوئی خوشی ملے ضروری تو نہیں کہ وہ خوشی کا استعارہ ہو اسی طرح جس مہینے میں کوئی غم ملے تو یہ ٹیگ نہیں لگاسکتے کہ یہ غم کا استعارہ ہے بلکہ بات اصل میں یہ ہے کہ زندگی استعارہ ہے‘ خوشی اور غم کا ویسے اکثر یہ بھیگا سا دسمبر اداسی کی بارات ساتھ لے کر ہمارے آنگن میں اترتا ہے میرے لیے تو دسمبر خوشی کا استعارہ ہے کیونکہ اس مہینے کی 21 تاریخ کو مجھے میرے ساجن ملے۔
(۲) وطن عزیز کے حوالے سے دیکھا جائے تو گزشتہ سال بھی ملک میں مہنگائی‘ کرپشن‘ امن و امان کی غیریقینی صورتحال ‘ بے روزگاری اور مزید ستم تھر میں معصوم بچوں کی ہلاکت‘ غذائی قلت اوپر سے حکمرانوں کی بے حسی نے دل و دماغ کو افسردگی کا شکار بنادیا‘ دھرنے‘ جلسے اور ریلیوں نے زندگی سے رنگ‘ خوشی اور امنگ نچوڑ کر رکھ دی۔
(۳) ویسے تو زندگی گزرتی جارہی ہے لیکن گزشتہ سال سے میں نے اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی خصوصی کوششیں کیں‘ عمومی رویوں کو روشن خیالی کی عینک لگا کر دیکھا۔ گھر کے چھوٹے بڑے وہ کام پورے کیے جو مہنگائی نے کرنے مشکل کردیئے تھے۔ ہم عورتیں اسی طرح اپنی دیرینہ خواہشوں کو پوری کرتی ہیں۔ انفرادی طور پر پچھلے سال میری بیٹی کرن نے ایف اے کلیئر کرلیا ہے یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات بنی۔
(۴) اس نئے سال میں‘ میں اپنے آپ کو اپنے گھر‘ شوہر اور بچوں کے ساتھ ہی دیکھتی ہوں۔
(۵) اپنے وطن عزیز کے لیے نیا سال امن و سلامتی کی فضائیں لے کر طلوع ہو‘ بے روزگاری نہ ہو‘ عوام کو بنیادی سہولیات بلاتفریق ملے۔ رشوت‘ کرپشن‘ بے ایمانی اور جھوٹ جیسے ناسوروں سے ملک کو نجات مل جائے تاکہ ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو۔
(۶) میں نئے سال کو ہمیشہ دو نفل نماز شکرانہ پڑھ کر خوش آمدید کہتی ہوں‘ اس دن میٹھا بناکر بانٹتی ہوں اور میاں صاحب اگر خوشگوار موڈ میں ہوں جو اکثر ہوتے ہیں تو لانگ ڈرائیو پر جاتی ہوں۔
(۷) ہمارا آنچل ماشاء اللہ سے ایک بھرپور ڈائجسٹ ہے‘ میں نئے سال میں اس کو اسی طرح دیکھنا چاہوں گی کیونکہ اس میں وہ سب کچھ ہے جو کسی اور میں نہیں اور جو ہم سب پڑھنا چاہتے ہیں۔
فاخرہ ایوب… باغ‘ آزاد کشمیر
(۱) میرے نزدیک تو دسمبر اداسی کا دوسرا نام ہے‘ چار سو اداسی کی چادر تنی ہوتی ہے اس ماہ میں۔ دسمبر کی آمد کا سوچ کر ہی طبیعت پر عجیب بوجھل پن سا چھا جاتا ہے۔
(۲) اس سوال کے لیے جب ماہ و سال کو کھنگالنے بیٹھی تو بے حد شرمندگی ہوئی کہ آخر پورے سال میں ایک قابل ذکر کام بھی تو نہ کرسکی‘ محض وقت کو گزرتے دیکھتی رہی۔ دن ہفتوں اور پھر سال مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے اور زندگی ایک ہی جگہ رکی رہی‘ عمر رواں کا ایک اور قیمتی سال پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔
(۳) اس پر کیا لکھوں کہ ’’ہر خواہش پر دم نکلے‘‘ مقصد… مقصد حیات کی طرف تو قدم ہمیشہ سست روی کا شکار رہتے ہیں البتہ خواہش اور کوشش یہی رہتی ہے تزکیہ نفس جاری رہے۔
(۴) زندگی تو شاذو نادر ہی حسب خواہش کسی کی گزرتی ہو لیکن پلاننگ تو ہمیشہ کی جاتی ہے‘ ہر سال بہت کچھ کرنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ قرآن پاک مع تفسیر پڑھنا‘ اللہ کرے میرے ایڈمیشن کے لیے راہیں آسان ہوجائیں‘ آمین۔
(۵) دعا ہی دعا ہے کہ اللہ پاک آنے والا سال وطن عزیز کے لیے خوشیاں لائے‘ ملک کے کسی حصے میں بھی تھرپارکر جیسے حالات نہ ہوں۔ دہشت گردی نہ ہو بس امن ہی امن ہو‘ خوشحالی ہی خوشحالی ہو۔
(۶) گزشتہ سال کی تمام رہ جانے والی خامیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے خوش دلی سے اس سال میں داخل ہونا ہے‘ نئے سال میں تشنہ تکمیل کاموں کو انجام تک پہنچانا ہے‘ ان شاء اللہ۔
(۷) کوئی خاص نہیں سوائے اس کے کہ سلسلہ وار ناول کم ہوں اور کم اقساط پر مشتمل ہوں‘ مکمل ناول زیادہ ہوں اور آپ کی شخصیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے۔
فاطمہ خالق فاتی… چک نمبر 209
(۱) میرے نزدیک تو دسمبر غم کا استعارہ ہی ہے‘ پہلے میں بھی اس بات سے اختلاف رکھتی تھی کہ لوگ خوامخواہ ہی دسمبر کو ایسے کہتے ہیں مگر یہ تو تب پتا چلتا ہے جب خود پر بیتتی ہے۔ بہت سی دوستیں دسمبر نے مجھ سے چھین لیں‘ بہت سے پیاروں کی دوری بھی اسی موسم میں سہنی پڑی اور بہت سے پیارے اسی ماہ میں اللہ کو پیارے ہوئے۔
(۲) گزشتہ سال میں‘ میں نے اپنی پڑھائی کو دوبارہ جاری کیا اور مجھے دعا چوہدری (نمرہ) جیسی مخلص دوست ملی۔
(۳) میں نے زندگی کا اصل مقصد پالیا‘ نظریں جھکانا سیکھ لیں۔
(۴) نئے سال میں‘ میں خود کو آگے کی بجائے پیچھے جاتا ہوا دیکھ رہی ہوں‘ پتا نہیں اب آگے… غیب کا علم تو ربّ جانتا ہے۔
(۵) نئے سال میں وطن عزیز کے لیے دعا ہی کرسکتی ہوں کہ اللہ ربّ العزت ہمارے ملک کی حفاظت کرے اس کے رہنے والوں کو زندگی کا اصل مقصد ملے اور ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔ صرف حکمران ہی نہیں بلکہ عوام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ انفرادی طور پر اپنے آپ کو سدھاریں۔
(۶) نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے سب دوستوں کو کارڈز اور دعائوں کا تحفہ بھیجوں گی۔
(۷) آنچل پہلے ہی پرفیکٹ ہے اس میں کوئی تبدیلی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی۔
دعا ہاشمی… فیصل آباد
(۱) میرے پاس دسمبر کے حوالے سے کوئی خاص یاد نہیں کہ میں اس کا خصوصی ذکر کروں مگر دسمبر کی یخ بستہ صبحیں‘ دھند آلود شامیں اور کہر میں ڈوبی ٹھٹھرتی طویل راتیں‘ پیروں تلے اپنے روندے جانے کا ماتم کرے ہوئے زرد پتے‘ بے لباسی کا غم مناتے ٹنڈ منڈ درخت اور ان سب میں دعا ہاشمی کے جیسی بقول صنوبر منیر کے بلیو مون اداس روح ہو تم… دسمبر خوشی کا استعارہ تو نہیں ہوسکتا اور مجھے تو ویسے بھی بقول صنوبر کے اداس رہنے کا شوق ہے۔
(۲) 12 نومبر 2013ء کو میری چھوٹی خالہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں‘ جاتا سال انہیں لے گیا اور 17 نومبر 2014ء کو میرے نانا ابو کی وفات ہوگئی۔ یعنی نئے سال کا سورج بھی اداسیاں لے کر طلوع ہوا۔ 28 فروری کو مما کی ہیلتھ رپورٹس ملیں تو ایک پل کو تو جان نکلتی محسوس ہوئی۔ 28 جولائی کو مما ہمیں تنہا کرگئیں‘ اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے‘ آمین اور اس واقعہ نے مجھے سرتاپا بدل دیا۔ اس سال کی واحد خوشخبری‘ انا احب کے ہاں بیٹی کی پیدائش‘ انا باجی کی شادی کے بعد میں غیر محسوس طریقے سے مما سے بہت اٹیچ ہوگئی تھی بس ان کی کمی برداشت نہیں ہوپاتی۔
(۳) میرے بہت چھوٹے چھوٹے اور بہت بے ضرر سے خواب ہیں۔ ارسل‘ اسود کو بہت سارا پڑھانا‘ اسامہ کو کامیاب دیکھنا‘ یمنیٰ‘ رجا کو مدرسہ (دینی) تعلیم دلوانا‘ انا باجی کو ہمیشہ خوش دیکھنا‘ بابا کو ہمیشہ مسکراتے دیکھنا اور لالہ سے ڈھیروں لاڈ اٹھوانا۔
(۴) میں نے مما کی بیماری اور اسپتال کے قیام کے دوران زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے‘ زندگی کی حقیقت صحیح معنوں میں پہچانی ہے۔ رضائے الٰہی پر سر کو جھکانا سیکھا ہے‘ صبر کرنا سیکھ لیا اور سب کی خوشی کے لیے اپنی اداسی چھپا کر مسکرانا سیکھ لیا۔
(۵) میری کولیگز مجھے فاطمہ جناح کی کاپی کہا کرتی تھیں‘ تمام نیک تمنائوں کو وطن عزیز کے نام کروں گی اور دعا کرتی ہوں کہ پاکستان مہنگائی کی عفریت سے نجات پالے۔ وطن عزیز پر سایہ فگن بربریت کے بادل چھٹ جائیں اور انسانیت کا نیا سورج طلوع ہو۔ پاکستانی صحیح معنوں میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے پاکستان کو امریکہ کے چنگل سے آزاد کروائیں۔
(۶) ایک وقت تھا کہ جب میں بارہ بجے ناریل اور کھوپرے کے لڈو کھا کر سال کا آغاز کرتی تھی مگر اب تو وہ سب بہت پرانی بات لگتی ہے۔ عرصہ ہوا میں نے سال کا آغاز بلیک کافی کی تلخیاں محسوس کرتے ہوئے کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے تو شکرانے کے نفل اداکرتی ہوں کہ ایک سال بخیر و عافیت گزرا اور ہمارے رحمن و رحیم مالک نے ہمیں ہماری بساط سے زیادہ آزمائش میں مبتلا نہیں کیا پھر کافی بناکر اور موبائل لے کر صحن یا چھت پر چلی جاتی ہوں اور ماموں‘ خالائوں‘ چاچوئوں‘ چچیوں‘ کزنز‘ صنوبر‘ انا باجی‘ شاہ لالہ اور سب کو نیا سال وش کرتی ہوں۔
(۷) جب میں نے آنچل پڑھنا شروع کیا تھا تو میں 6th یا 7th کلاس میں تھی اور آنچل کا معیار ایسا تھا کہ ایک دس گیارہ سالہ بچی بھی پڑھ سکتی تھی۔ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے مگر اب دن بہ دن اس کا معیار نیچے کی طرف آرہا ہے لہٰذا میں آنچل کو پھر اسی مقام پر دیکھنا چاہتی ہوں کہ اگر کم عمر بچیاں بھی پڑھیں تو کوئی اچھا سبق لے کر اٹھیں۔
نادیہ بنت یٰسین… ساہیوال
(۱) میرا ذاتی خیال ہے کہ دسمبر غم کا استعارہ ہے‘ حالانکہ خوشی و غمی کو کسی ایک ماہ سے منسوب نہیں کرسکتے یہ تو اپنے اپنے مقدر کی بات ہوتی ہے‘ پر یہ بات تو واقعی ماننی پڑے گی کہ کوئی غم نہ ہو‘ کوئی پریشانی نہ ہو پھر بھی دسمبر کی شامیں اداس کرجاتی ہیں‘ پتا نہیں کیوں۔
(۲) زندگی میں ہونے والے بہت سے واقعات آپ پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہوئے بہت سی تبدیلیاں لانے کا سبب بنتے ہیں‘ گزشتہ سال میں ہونے والے واقعات نے مجھ میں بھی تبدیلیاں کی ہیں‘ خوشگوار یا نا خوشگوار شاید دونوں ہی۔
(۳) دیرینہ خواہش تو خیر کوئی پوری نہیں ہوئی جس میں سرفہرست عمرہ کرنا‘ اپنے محبوب آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی نگری میں جانا ہے پر امید ہے اور اللہ پر پورا یقین ہے کہ وہ دن جلد ہی آئے گا زندگی میں‘ اس کے علاوہ ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر خوش ہونے والے ہیں اور اللہ کا کرم ہے کہ وہ نوازتا رہتا ہے۔
(۴) اس سال کے لیے بہت سے خواب ہیں‘ خود کو ایک ایسے رستے پر دیکھتی ہوں جس کے اینڈ میں میری منزل ہے‘ سیدھا اور صاف رستہ ہے بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ کامیاب کرے۔
(۵) وطن عزیز کے لیے تو بہت سی دعائیں ہیں کہ اللہ ہمارے سیاستدانوں کو ہدایت دے اور وہ اپنے مفادات کو چھوڑ کر غریب عوام کے بارے میں سوچیں۔
(۶) نئے سال کو بہت سی دعائوں‘ نئے عزم‘ ہمت سے ویلکم کروں گی۔
(۷) کوئی بھی تبدیلی نہیں جی کیونکہ آپ کی کی جانے والی تبدیلیاں ہمیں پسند آئی ہیں۔
ہما ایوب… عارف والا
(۱) میرے نزدیک دسمبر غم کا استعارہ ہے‘ گزرتے سال کا ڈوبتا ہوا سورج ہمیں ملال میں مبتلا کرتا ہے کہ دیکھو یہ سال بھی گزر گیا اور ہم اپنے یہ مقاصد پورے نہ کرپائے۔ وہ ہمارے اپنے جو پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے اس سال وہ صرف یاد بن کر رہ گئے ہیں۔
(۲) گزشتہ سال میں خوشیاں بھی ملیں اور غم بھی‘ سب سے بڑی خوشی میری بھانجی دعا کی برتھ ڈے ہے۔ ہمارے گھر کی کنسٹریکشن‘ میرا لینگویج کا ڈپلومہ ملنا یہ سب وہ خوشیاں ہیں جو مجھے 2014ء میں ملیں۔ غموں کا تذکرہ کیا جائے تو سب سے بڑا ڈسٹ الرجی ہے جس نے مجھے تنگ بلکہ عاجز کرکے رکھ دیا ہے‘ کچھ اچھی دوستیں جو جب تک ساتھ رہیں اچھی رہیں مگر جیسے ہی الگ ہوئیں ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
(۳) بہت سوچنا پڑے گا کہ 2014ء میں مجھ میں کون سی اچھی عادت پیدا ہوئی‘ ہاں البتہ بُری بات کے لیے سوچنا نہیں پڑے گا۔ اس سال بے حد مصروفیت کے سبب اللہ تعالیٰ سے رابطہ کمزور ہوگیا جس کا مجھے بے حد افسوس ہے اللہ کرے کہ نئے سال میں یہ رابطہ پھر سے مضبوط ہوجائے۔ اچھی بات کون سی ہوگی (بہن سے پوچھ کر) اب میں چائے اچھی بنانے لگی ہوں (ہاہاہا) بھئی یہ مشکل سوال ہے۔
(۴) وطن عزیز کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے باسیوں میں شعور اور اپنی آزادی کی فکر پیدا کرے کیونکہ جیسی عوام ویسے حکمران‘ اللہ تعالیٰ ہمارے عمل اچھے کردے تاکہ ہمارے حکمران بھی اچھے ہوں اور پاکستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے اور توانائی کا بحران اور غربت جیسے مسائل ختم ہوسکیں۔
(۵) نئے سال میں خود کو کہاں دیکھتی ہوں؟ آگے‘ پہلے سے بہتر‘ کامیاب اور پُرامید۔
(۶) نئے سال کی آمد پر شکرانے کے نوافل پڑھوں گی‘ سب کے لیے دعائے خیر کروں گی اور نیا سوٹ پہنوں گی اور ہوسکتا ہے کہ کچھ میٹھا باہر سے ہی منگوالیں گے اور بس… ہاں سب فرینڈز اور رشتے داروں کو میسج کروں گی۔
(۷) آنچل کے لیے دعا ہے کہ اس کا معیار مزید بہتر ہو اور اس کے ضخامت میں اضافہ ہوجائی۔
خدیجتہ الکبریٰ… کھڈیاں قصور
(۱) میرے نزدیک دسمبر استعارہ ہے خوشی کا کیونکہ مجھے ٹھنڈی شامیں اچھی لگتی ہیں اور پیڑ کے آگے بیٹھ کر کہانیاں بُننا رضائی میں منہ کرکے کتابیں پڑھنا یہ سب دسمبر میں ہوتا ہے‘ اسی لیے مجھے دسمبر اچھا لگتا ہے۔
(۲) گزشتہ سال مجھ میں بہت سی خوشگوار تبدیلیاں آئی۔
(۳) ذات میں تو کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی البتہ دیرینہ خواہش پوری ہوگئی وہ تھی میرا نام کسی بھی ادبی پرچے میں آجائے۔ اللہ کا کرم ہے اس سال میری تحریریں آنچل میں جگمگاتی رہیں۔
(۵) وطن عزیز کے لیے بہت زیادہ سوچیں رکھتی ہوں کہ میرے پیارے وطن سے دہشت گردی بالکل ختم ہوجائے‘ کوئی ناحق پھانسی نہ چڑھایا جائے۔ میرے پیارے وطن سے گداگری ختم ہوجائے‘ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ کراچی دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بن جائے۔ ضرب عضب آپریشن کو فتح نصیب ہو‘ پاک وطن کے فوجی اخلاص کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کریں۔
(۶) نئے سال کو اپنے ربّ سے دعا کروں گی کہ پچھلے سال کی کوتاہیوں کو معاف کردے‘ نئے سال میں کوئی پریشانی نہ آئے۔ اپنے پیاروں کی لمبی زندگی کی دعا مانگتے ہوئے نئے سال کو خوش آمدید کہوں گی۔
(۷) آنچل میں تبدیلی تو کوئی نہیں دیکھنا چاہتی لیکن یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ افسانوں کی طرح ناول اور ناولٹ بھی سبق آموز ہو۔ ماڈل گرل کے سر پر دوپٹہ اوڑھا دیا جائے۔
بنت حوّا… چوک سرور شہید
(۱) ویسے تو میں خوشگوار ناخوشگوار سال یا ماہ پر یقین نہیں کرتی تھی مگر گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ بس… زندگی میں غم اور خوشیاں برابر کے شریک ہیں سو میں اسے کسی ایک لفظ میں واضح نہیں کرسکتی۔ یہ تو انسان کے اندر کا موسم ہوتا ہے جو اسے باہر کا موسم بھی خوشگوار یا ناخوشگوار محسوس ہوتا ہے۔
(۲) 2014ء بہت عجیب گزرا ہے وقت اتنی جلدی گزرتا جارہا ہے کہ کچھ خبر نہیں‘ اس سال بہاولپور‘ اسلام آباد اور پنڈی جانے کا اتفاق ہوا پہلی بار بہاولپور‘ انکل سے ملنے اور اسلام آباد ٹیسٹ دینے۔ سیکنڈ ائیر کے ایگزامز دیئے مگر رزلٹ اچھا نہ رہا‘ پہلے انٹری ٹیسٹ کی پرمیشن نہ ملی‘ انجینئرنگ نہیں کرنے دی۔ Lums اور Bzu ملتان میں نام آجانے کے باوجود جانے نہ دیا گیا۔ اچھا یہ ہوا کہ ہمارے شہر میں ڈگری کالج کا آغاز ہوا اور میں نے اسی میں داخلہ لے لیا۔ یہ سال خوشی و غمی کا امتزاج رہا اور میں نے اپنے قلم کی ہمت کو پکارا ہے۔
(۳) اس سال میں نے ایک سبق سیکھا‘ برداشت کرنے کا۔ والدین کا اعتماد کا پاس رکھنا‘ اپنی ہر بات اللہ سے کہنا‘ اللہ کی رضا میں راضی ہونا۔ اپنے ہر معاملے میں فیئرز ہو‘ ضمیر نامطمئن رہے گا اپنے ہر لمحے کو آخری لمحہ سمجھ کر اسے بہترین بنائو۔ میرا قلمی رابطہ شروع ہوا‘ اللہ سے دعا ہے کہ میرا نام بھی اچھی مصنفات کی فہرست میں آئے۔
(۴) آنے والا وقت‘ مستقبل‘ غیب کی باتیں تو صرف اللہ ہی جانتا ہے مگر ہم لڑکیاں بہت سے خواب دیکھتی ہیں مگر میں نے اب خواب دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ میرا اگلا لمحہ کیسا ہوگا‘ ہوگا بھی یا نہیں؟ اگر اللہ نے مجھے مزید زندگی دی تو بس ایسی ہو کہ اللہ مجھ سے راضی ہو اور میں سچ پر رہوں۔ سچ بیان کروں‘ سچ لکھوں۔
(۵) وطن عزیز کے بارے میں جیسے ہی سوچتی ہوں دل میں آہیں اٹھتی ہیں‘ اس کی مہنگائی‘ دہشت گردی‘ سیاست سے خوف زدہ ہوں پھر اس کے امن‘ کامیابی اور عادل حکمران کے لیے دعا کرتی ہوں۔
(۶) اے اللہ! اس دنیا کا ایک اور سال گزر گیا‘ دنیا کے قائم رہنے میں ایک اور سال کم ہوگیا ہے۔ بس اسے ہمارے لیے رحمت کا ذریعہ بنادے‘ دنیا سے ظالموں‘ بے انصافیوں‘ منافقوں کا خاتمہ کردے۔
(۷) میری آنچل سے وابستگی 2005ء سے ہے مگر اب اس کی کہانیوں میں تسلسل آگیا ہے‘ بس ہر جگہ محبت‘ انا‘ ضد‘ غصہ‘ انتقام اور کہیں کہیں حب الوطنی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ انفرادیت کو اپنائیں‘ مختلف موضوع چنیں اور پلیز رومینس کم دیا کریں کیونکہ آنچل صرف شادی شدہ خواتین نہیں بلکہ اکثر نو عمر لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں تو… پلیز کچھ خیال کریں۔ نازیہ کنول نازی کو میری طرف سے سلیوٹ‘ فیس بُک میں استعمال نہیں کرتی ورنہ آپ سے رابطہ کرتی۔ نازی آپ کے ناول اور نظمیں پڑھ کر رو پڑتی ہوں‘ آپ پردے کے بارے میں کچھ لکھیں۔
عائشہ صدیقہ… چکوال
(۱) دسمبر بذات خود مجھے بہت پسند ہے‘ اس ماہ نہ صرف میں پیدا ہوئی بلکہ اپنی طرح مجھے دسمبر بھی اداس دل گرفتہ لگتا ہے۔ کہر زدہ شامیں‘ لمبی راتیں اداس اور تنہا لوگوں کے سنگ بسر ہوتی رہتی ہیں۔ غم اور خوشی کا ویسے تو چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دسمبر محض غم کا استعارہ ہے تو بے جا ہوگا کیونکہ غم اور خوشی زندگی کے دو اجزاء ہیں اور ضروری نہیں کہ سارے لوگوں کے لیے دسمبر اداسی اور غم کا ہی پیامبر ہو‘ مگر انفرادی طور پر اپنی ذات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گی کہ دسمبر استعارہ ہے غم کا۔
(۲) زندگی تغیر و تبدل کا مجموعہ ہے‘ تبدیلیاں خوشگواریت اور غیر خوشگواریت پر مبنی ہوتی ہیں اگر تبدیلیوں کی بات کی جائے تو سب سے بڑی ناخوشگوار تبدیلی انٹر کے امتحانات کے بعد ہمارے کالج کے گروپ کا بکھر جانا‘ میری ساری دوستیں مجھ سے دور رہیں (مگر میرے دل میں بھی موجود ہیں) اور بھی بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں‘ نئے کالج میں بی ایس سی کے لیے ایڈمیشن لینا پہلی بار میں ثناء (دوست) کے بغیر اکیلی کالج جارہی ہوں‘ اس لیے میری ناخوشگوار تبدیلیاں یہی ہیں۔ تھوڑی بہت خوشگوار بھی ہیں اگر ذکر کرنے بیٹھی تو بات طویل ہوجائے گی۔
(۳) گزشتہ سال نومبر کے شمارے میں بہنوں کی عدالت میں عزیز جان رائٹر نازیہ کنول نازی سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا لیکن خواتین کے ساتھ تبلیغی دورے میں شامل ہونے کا شوق اور خواہش تاحال پوری نہیں ہوئی۔
(۴) سب سے مشکل سوال…! خود کو جج کرنا سب کے سامنے بلکہ پہلے اپنی ضمیر کی عدالت میں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کافی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ انسان چاہے کتنا پڑھ لکھ جائے‘ کتنی ڈگریاں حاصل کرلے جب تک وہ اپنے اصل کو پہچان نہیں سکتا نہ تو بندگی کا حق ادا کرسکتا ہے نہ انسانیت کا عروج۔ دین اور دنیا کے کچھ اسرار و رموز کو سمجھنا عمل کی اپنی سی کوشش کی‘ اب مصروف ہوکر ایک بار پھر ترک کردی۔ میں ابھی تک وہیں کھڑی ہوں‘ جہاں صرف منصوبے اور دعوے کیے جاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا ہے( منصوبوں سے مراد دین پر عمل کرنے کا لائحہ عمل) کیونکہ آخرت کی تیاری ہی ہمارا اصل مقصد و مقام ہے۔
(۵) بہت اچھا سوال ہے‘ کچھ لوگ اس وطن پر محض تنقید ہی کرتے ہیں‘ خدارا کبھی تعریف بھی کردیا کریں۔ ہم جیسے لوگوں کو جو اپنی زمین پر بوجھ ہیں تنقید کرنے کا حق نہیں ہے۔ جیسے اعمال کرتے ہیں ایسے حکمران ملتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ رشوت سفارش‘ لوٹ مار‘ فرقہ پرستی‘ غیبت‘ بہتان بازی‘ خون خرابہ کرنے جیسے بڑے اعمال کرکے ہمیں ابو بکرؓ و عمرؓ جیسے حکمران مل جائیں تو یہ ہماری خوش فہمی ہے‘ وطن کے حوالے سے سب سے بڑی خواہش اور امن کی دعا ہے۔
(۶) سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے لیے اہمیت عیسوی سال کی بجائے اسلامی سال کی ہونی چاہیے۔ اتنے خاموشی سے اسلامی سال شروع ہو جاتا ہے مگر کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی اور عیسوی سال کے آغاز پر خوش ہوکر ہنگامے اور تقریبات کرنے کی بجائے یہ غور کرنا چاہیے کہ اس سال میں نے اپنی کتنی اصلاح کی‘ کیا پایا کیا کھویا کیونکہ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہورہا ہوتا ہے۔ سب بہنوں کو سلام‘ اللہ اس نئے سال کو ہمارے لیے خوشیوں کا پیامبر بنائے اور اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان میں امن کے جھنڈے لہرائے‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
(۷) کچھ نہیں۔
سائرہ حبیب اڈو… عبد الحکیم
(۱) دسمبر جاتے جاتے اداس کر جاتا ہے‘ جہاں اس بات کی خوشی کہ نیا سال شروع ہونے والا ہے‘ وہیں یہ دکھ کہ ہم عمل کے اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ کس بات کی خوشی منائوں‘ نئے سال کی یا موت کی طرف ایک قدم مزید بڑھنے پر۔ ہر گزرتا سال ہمیں ہمارے انجام کے قریب تر کرتا جارہا ہے مگر ہم بے خبر ہیں‘ اسی بات کا دکھ ہے بس۔
(۲) خاصا مشکل سوال ہے‘ میرے خیال میں نہ کوئی اچھی نہ بُری‘ کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی۔
(۳) میری ذات میں تبدیلی آئی اور بہت بڑی تبدیلی‘ گزرا سال مجھے زندگی جینے کا ڈھنگ سکھا گیا۔ میں نے اپنے ربّ کو پایا‘ اللہ تعالیٰ میرا دوست‘ میرا ہم راز بنا۔ 2013ء جاتے جاتے ایک بہت بڑا خسارہ میرے دامن میں ڈال گیا لیکن اللہ نے مجھے تھام لیا‘ بکھرنے نہیں دیا‘ الحمدللہ میں خوش ہوں بہت زیادہ۔
(۴) مزے کا سوال… میں خود کو رائٹر کے روپ میں بہت انچا دیکھتی ہوں‘ ارادہ ہے اپنی کتاب لکھنے کا۔ علامہ اقبال کی طرح شاعرہ بننا چاہتی ہوں۔ ان شاء اللہ عزم مضبوط ہو تو منزلیں خودبخود آسان ہوجاتی ہیں۔
(۵) یہ سوال… یہ سوال جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا‘ میرے بس میں اگر ہوتا تو میں اس کے دشمنوں کو دنیا سے مٹا دیتی‘ جیسے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں تلے چھپا لیتی ہے‘ دشمنوں سے محفوظ کرلیتی ہے ایسے ہی میں اس دھرتی کو چھپا لوں کہیں کہ کوئی میلی نظر ڈالنے کی جرأت بھی نہ کرسکے۔ خدارا میں کہاں سے ڈھونڈ کر لائوں عمر بن الخطاب ؓ جیسے حکمران‘ میں کہاں ڈھونڈوں عمر بن عبد العزیز جیسے لوگ… یا اللہ کیا کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جو اس ملک کو اپنا سمجھے‘ اس کی خاطر کٹ مرے
’’دل مردہ دل نہیں اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
بس یہی التجا ہے ہم وطنوں سے کہ دل کو زندہ کریں‘ دل میں اس دھرتی کی محبت کو بیدار کریں۔
(۶) خزاں رکھے گی درختوں کو بے ثمر کب تک
گزر جائے گی یہ رُت بھی ذرا حوصلہ رکھنا
اس امید کے ساتھ کہ آنے والا سال گزشتہ سالوں سے بہترین ثابت ہوگا‘ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے‘ آمین۔
(۷) اچھا سوال… مکمل ناول زیادہ سے زیادہ ہوں اور افسانے کم‘ اس کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں چاہیے ہمیں۔ پاکستان زندہ باد‘ اس کے ساتھ اجازت دیں‘ سب بہنوں کو سلام۔
طیبہ شیریں… کوری خدا بخش
(۱) میرے نزدیک دسمبر‘ دکھ‘ غم‘ اداسی‘ یادوں کا استعارہ ہے۔
(۲) میری ذات میں رونما ہونے والی تبدیلی یہ ہوئی کہ جاتے ہوئے سال میں اللہ کا شکر ہے پانچ وقت کی نماز کی عادی بن گئی۔
(۳) نئے سال میں جو بھی نئے ارادے بنائے اور جو بھی سوچا وہ پورے ہوئے۔
(۴) اس حوالے سے خود کو بہت اعلیٰ مقام پر دیکھتی ہوں مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے انسان تو بس سوچ سکتا ہے۔
(۵) اپنے پیارے وطن کے لیے دعا ہی کرسکتی ہوں کیونکہ وطن میں بدنظمی پیدا کرنے والے خود پاکستانی ہی ہیں‘ اللہ ان سب کو ہدایت دے اور پاکستان کو پہلے جیسا بنا دے۔
(۶) نئے سال کو بہت سی دعائوں سے خوش آمدید کہوں گی۔
(۷) آنچل تو بیسٹ ہے کوئی تبدیلی نہیں چاہیے۔ اللہ آنچل کے اسٹاف کو ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رکھے اور آنچل دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے‘ آمین۔
سامعہ ملک پرویز… خان پور
(۱) دسمبر استعارہ ہے خوشی و غم دونوں کا کیونکہ دسمبر کے اختتام کے ساتھ ہی جہاں سالِ نو نئی امیدیں‘ نیا ولولہ اور نئے جذبوں کے دیپ ہمارے خیالوں میں روشن کرتاہے۔ وہی دوسری جانب گزشتہ سال کے بچھڑ جانے کا دکھ بھی ہوتا ہے‘ بہت پیارے رشتوں کا بچھڑنا‘ دلفریب یادوں کی دوریوں میں اضافہ یہ سب دسمبر کی ہی تو میراث ہے۔
(۲) گزشتہ سال میرے لیے بہت سی خوشگوار تبدیلیاں لانے کا موجب بنا۔ مجھے بہت کچھ ملا جو کچھ چاہا اللہ ربّ العزت کا شکر ہے مگر جہاں خوشگواریت ہو وہاں ناخوشگواریت کے عناصر بھی اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں جہاں انسان اپنا بچپن گزارتا ہے‘ زندگی کی ہر منزل پر کامیابی اس کا مقدر بنتی ہے جہاں غیروں میں رہتے ہوئے بھی سب اپنوں کا احساس دلاتے ہیں جہاں زندگی حقیقی معنوں میں زندگی محسوس ہوتی ہے ایسی جگہ کو چھوڑنے کا کبھی دل نہیں کرتا مگر بابا کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہمیں اپنے آبائی گائوں واپس آنا پڑا مگر میری سوچیں‘ میرے خواب سب وہی کے ہیں‘ مس یو مائی اولڈ ہوم… اور اس کے علاوہ میرے بھائی کا نومبر میں ایکسیڈنٹ ہوا جب تک اس کی آواز اپنے کانوں سے نہیں سنی مجھے خود میں زندگی کی کوئی رمق دکھائی نہ دی۔
(۳) اس سال مجھ میں رونما ہونے والی اچھی بات… کیا مطلب ہے آپ کا‘ کیا میں پہلے اچھی نہیں تھی؟ میں تو آل ریڈی اچھی ہوں بلکہ بہت زیادہ اچھی ہوں ہاہاہا۔ خیر اس بات کا اندازہ نہیں لگا پائی‘ جہاں تک بات ہے دیرینہ خواہش کی تکمیل کی تو‘ تو بہت سی خواہش پوری ہوئیں لیکن اپنے گھر شفٹنگ اور لیکچرر شپ کا خواب اس سال پورا ہوا۔
(۴) اس نئے سال میں بہت سی خواہشیں ہیں جو اَن گنت ہیں‘ کامیابیوں کی عروج پر چمکتے تارے کی صورت میں خود کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
(۵) وطن عزیز کی موجودہ صورتحال کا المیہ جب نگاہوں کے سامنے گھومتا ہے تو سوچیں بھی منتشر ہونے لگتی ہیں مگر دعائے بارگاہِ الٰہی ہے کہ ہمیں عقل و شعور اور آگاہی عطا فرمائے اور ملکی باگ دوڑ ایماندار اور متقی افراد کے ہاتھوں میں تھمادے‘ آمین۔
(۶) نئے سال کو کیسے خوش آمدید کہوں گی‘ ہم م م… ہمیشہ کی طرح آنے والے سال کو اپنی دعائوں کے حصار میں خوش آمدید کہتی ہوں جی…
(۷) نئے سال میں ماہنامہ آنچل میں کیا تبدیلیاں دیکھنا چاہوں گی‘ ماہنامہ آنچل اپنے وسیع دامن میں فہم و فراست‘ فصاحت و بلاغت‘ شعور و آگاہی‘ سوچ و تدبر‘ قاعد و اصول زندگی‘ حقیقی رشتوں کی پہچان اور محبتوں کے جہان کے خوب صورت موتیوں کو سمیٹے ہوئے ہے جس کی بدولت زندگی کی تلخ حقیقی بسا اوقات شیریں محسوس ہوتی ہیں۔ آنچل ہر لحاظ سے نہایت دلفریب و خوشنما ہے اگر میری رائے پوچھی جارہی ہے تو میں کہوں گی کہ آنچل میں نئے لکھاری لوگوں کے لیے موضوعی مقابلے کا اہتمام کیا جائے چاہے وہ دو صفحات پر مشتمل ہو مگر ہو ضرور‘ لکھنے والوں کو آپ کی حوصلہ افزائی سے آگے بڑھنے اور اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل میں خاطر خواہ مدد فراہم ہوگی‘ اجازت‘ والسلام۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close