Aanchal Jan 15

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

میرا نام نصرت جبیں ملک ہے‘ 5 جون کی ایک صبح تھل کے ٹیلوں سے گھرے ایک گائوں رنگپور ضلع خوشاب میں پیدا ہوئی‘ ددھیال اور ننھیال میں پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے سب کا پیار اور محبتیں ملیں ‘و الد ایک اچھی پوسٹ پر تھے اس لیے ان کے ہمراہ کئی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے سے وہاں کی تہذیب‘ زبان اور دیگر رسومات سے آگاہی ہوئی جن میں ڈیرہ غازی خان‘ ملتان‘ خانیوال اور میانوالی شامل ہیں۔ لکھنے کا آغاز نوائے وقت میں بچوں کے صفحے ’’پھول اور کلیاں‘‘ سے کیا پھر ’’پھول‘‘ میں بھی بچپن کی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمایا۔ کالم نگاری کا آغاز ڈیلی جناح سے کیا اور بطورِ پاکستانی شہری سیاسی اور سماجی امور پر خوب دل کی بھڑکاس نکالی لیکن پھر ہائے ری قسمت کہ ڈبل ایم اے اور ایم ایڈ سیکنڈری‘ اسپیشل ایجوکیشن کی ڈگریاں ہاتھ آئیں تو سرکاری نوکری نے دامن پکڑلیا اور پیڈا ایکٹ کے تحت لکھنے پر (سیاسی امور پر) پابندی لگ گئی تو یہ مزا کرکرا ہوگیا اور عافیت اسی میں سمجھی کہ ضلع خوشاب کے ہر دل عزیز اخبار نوائے جوہر میں ہی معاشرتی مسائل پر لکھا جائے‘ اللہ تعالیٰ نے اس کام میں بھی برکت ڈالی اور میرا کام اخبار کی ضرورت بن گیا تو ساتھ سوچا کہ افسانہ نویسی کے شوق کو پھر سے جلا بخشی جائے تو نازنین میں دو عدد افسانے بھیجے جو قدرے انتظار کے بعد شائع ہوگئے۔ اب پاکیزہ اور آنچل کی راہوں پر بھی قدموں کو ڈال دیا ہے‘ میرا خدا یہاں بھی میری مدد کرے۔ اب کچھ بات ہوجائے خوبیوں اور خامیوں کی میری خوبی یہ ہے کہ غصہ آئے تو فوراً چند لمحوں میں ختم ہوجاتا ہے‘ خوش اخلاق ہوں اور غرور نام کو نہیں اور خامیاں یہ ہیں کہ حساس ہوں‘ جلد اعتبار کرلیتی ہوں‘ اس وجہ سے نقصان بھی اٹھائے ہیں۔ اصول پسند ہوں‘ اس وجہ سے بطور ہیڈ مسٹریس کچھ سخت فیصلے کرکے دشمنیاں بھی مول لی ہیں۔ 5 دسمبر 2010ء کو کزن سے شادی ہوئی جو خوش گوار انداز سے گزررہی ہے‘ دن کے اوقات میں سے ڈھلتی شام کا منظر اچھا لگتا ہے کہ جب سورج آنکھوں سے اوجھل ہونے کے قریب ہوتا ہے اور پرندے گھونسلوں میں پلٹ رہے ہوتے ہیں میں اداس تب ہوتی ہوں جب خراب ملکی حالات اور خصوصاً اپنے تھل کے علاقے کو مسائل میں گھرا پاتی ہوں‘ یہاں کے لوگوں کے دکھ مسائل اور زندگی کے تلخ و شیریں واقعات‘ حالات کا عکس میرے اکثر افسانوں اور کالموں میں بھی نظر آتا ہے۔ میری نظر میں دنیا کا سب سے خوب صورت رشتہ ماں کا ہے اور اس دنیا میں مجھے سب سے زیادہ محبت بھی اپنی ماں سے ہے‘ رات کوسوتے وقت دوسری بہت سی دعائوں کے ہمراہ یہ دعا بھی کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری زندگی میں میری ماں کو ہمیشہ سلامت رکھے‘ آمین۔ آخر میں چھوٹا سا پیغام‘ بہتر زندگی وہ ہوتی ہے جو آپ اپنے لیے گزارتے ہیں اور بہترین وہ جو دوسروں کے لیے لہٰذا زندگی بہترین گزارنی چاہیے۔‘‘

السّلام علیکم! آنچل اسٹاف اور میری پیاری بہنوں کو مابدولت کا پیار بھرا سلام قبول ہو‘ مابدولت کو ماریہ چوہدری کہتے ہیں لیکن میری فرینڈز مجھے ماریہ مسکراہٹ کہہ کر بلاتی ہیں۔ آنچل سے میرا ساتھ 9th کلاس سے شروع ہوا تھا اور اب تک میں نے اسے پیار سے تھاما ہوا ہے۔ مابدولت نے 4 جون 1996ء کو اس دنیا میں آکر دنیا کے حسن کو دوبالا کردیا۔ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہوں ہم چھ بہنیں اور ماشاء اللہ سے چار بھائی ہیں۔ میرا نمبر آخری ہے پہلے نمبر پر بھائی شوکت دوسرے نمبر پر باجی عذرا‘ تیسرے نمبر پر باجی بلقیس‘ چوتھے نمبر پر طاہر بھائی‘ پانچویں نمبر پرباجی شاہدہ‘ چھٹے نمبر پر بھائی صفدر‘ ساتویں نمبر پر ارشد بھائی‘ آٹھویں نمبر پر شازیہ‘ نویں نمبر پر نازیہ اور آخری نمبر پر مابدولت ماریہ چوہدری۔ ہماری کاسٹ راجپوت ہے اور ہماری زبان پنجابی ہے‘ آنچل سے میری وابستگی جس طرح ہوئی ہے نا میں جب بھی یاد کرتی ہوں خودبخود مسکرانے لگتی ہوں۔ آپ بھی سنیے میرا احوال! میرے 9th کے ایگزامز ہورہے تھے‘ ان دنوں پیپروں کی تیاری خوب چل رہی تھی‘ ایک دن میں کمرے میں بیٹھی انگلش کے پیپر کی تیاری کررہی تھی کہ میرے پاس آنچل ڈائجسٹ پڑا ہوا تھا اس وقت مجھے ڈائجسٹ پڑھنے کی اجازت بالکل نہیں تھی تو میں نے موقع غنیمت سمجھ کر انگلش کی کتاب بند کردی اور چوری چوری ڈائجسٹ پڑھنے لگی۔ میرا خیال ہے ان دنوں (جان جاں جو تو کہے) سلسلے ور ناول چل رہا تھا۔ یقین مانیے اس دن میں نے ڈائجسٹ کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں تھا جو میں نے چھوڑا ہو‘ گھر والے سمجھتے تھے کہ ماریہ اندر بیٹھی پیپرز کی تیاری کررہی ہے اس لیے کوئی اس کمرے میں نہیں آتا تھا۔ میرے دماغ میں یہ ہوتا تھا کہ ماریہ جتنا پڑھنا ہے پڑھ لے‘ پیپروں کے بعد تمہیں موقع نہیں ملنے والا ویسے 9th میں میرے نمبر اچھے آئے تھے‘ فرسٹ ڈویژن لی تھی میں نے (آہم)۔ اب آپ کو اپنی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں بتائوں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہر بات کو عام لیتی ہوں سرسری۔ بات کی گہرائی میں نہیں جاتی اس لیے نقصان کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ جذباتی جلد ہوجاتی ہوں اور خوبی یہ ہے کہ حسد نہیں کرتی‘ کسی کی کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھاتی اور ماشاء اللہ سے دوستی کے معاملے میں خوش نصیب واقع ہوئی ہوں‘ سب دوست اللہ کا شکر ہے مخلص ملی ہیں۔ لباس میں شلوار قمیص‘ کھانے میں میٹھا بہت پسند ہے اور سبزی جو بھی بنے شوق سے کھالیتی ہوں۔ خوشبو میں ریمبو بہت پسند ہے‘ فیورٹ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ فیورٹ رائٹر عمیرہ احمد‘ ماہا ملک۔ ماہا ملک کا ناول ’’جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘‘ پڑھ کر تو میں بہت روئی تھی‘ اس کا اینڈ تو رلا گیا تھا مجھے اور عمیرہ احمد کا ناول پیر کاملؐ کیا ہی بات ہے ویسے آپ دونوں رائٹرز سے بہت متاثر ہوں۔ سیڈ سونگز اچھے لگتے ہیں‘ جیولری میں رنگز اور ٹاپس پسند ہیں اور ہاں ہیئر کیچ بھی۔ ایکٹریس میں مجھے فضاء علی‘ صبا قمر اور ایکٹر احسن خان پسند ہیں۔ آخر میں میرا پیغام آپ سب بہنوں کے لیے‘ کبھی کسی پر اعتبار مت کیجیے گا‘ اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ لوگ اپنا مقصد نکالنے کے لیے دوسروں کو دھوکہ دے جاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جس کو دھوکہ دے رہے ہیں وہ ہم پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ کبھی کسی کا اعتماد مت توڑیئے گا پلیز جب دل ٹوٹتا ہے تو بے شک آواز نہیں ہوتی پر تکلیف ضرور ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے بہنو! مجھے اپنی رائے کے بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا کہ میرا تعارف آپ کو کیسا لگا‘ اچھا کہ سوسو۔ دعائوں میں ضرور یاد رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔

ٹھک‘ ٹھک ٹھک بھئی دروازہ تو کھولیے آنچل کی شہزادی پُروا کرن تشریف لارہی ہیں 20 نومبر 1988ء کی کہر آلود صبح کو مابدولت نے اس دنیا میں قدم رنجہ فرمایا میرا اسٹار اسکارپیو ہے‘ ایم ایڈ کررہی ہوں اور شادی شدہ ہوں۔ میری دو پیاری سی پرنسز ہیں۔ میرا تعلق کوٹ چھٹہ سے ہے اور شادی راجن پور میں ہوئی‘ ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ذیشان (بھائی) الیکٹریکل انجینئر کررہا ہے‘ اللہ سے دعاہے کہ میرے بھائی کو اس کے حصول تعلیم اور اس کے مقصد میں کامیاب کرے اور اس کی ہر تکلیف کو دور فرمادے‘ آمین۔ میری دو نوں بیٹیوں کی ذیشان اور عبد الرحمن میں جان ہے‘ ہر انسان کو اپنی ماں دنیا کی بیسٹ ماں لگتی ہے یہ سچ ہے مگر میری امی بے مثال ہیں جن کی تعریف ہر بندہ کرتا ہے۔ ہماری ہر خواہش بن کہے پوری کی ہے‘ آئی لو یو امی جان! فالسے اور انار مجھے جنون کی حد تک پسند ہیں‘ راجستھانی ساڑھی بہت اٹریکٹ کرتی ہے۔ فراک پہننے کا بہت شوق ہے‘ میرے پاس ہر اسٹائل و ڈیزائن کے ڈریسز ہیں کیونکہ میری امی ڈریس ڈیزائنر ہیں جو نیا ڈیزائن و فیشن اِن ہوتا ہے وہ سب سے پہلے میرا اور رمشاء (بہن) کا بنتا ہے۔ کھانوں میں مجھے کھڑے مسالے کا گوشت‘ نرگسی کوفتے‘ بریانی بے حد پسند ہے۔ کلرز میں بلیک‘ پنک اور پرپل اچھا لگتا ہے۔ پھولوں میں وائٹ روز پسند ہے‘ حد سے زیادہ حساس ہوں اور منافقت مجھے بالکل پسندنہیں جو میرے دل میں ہوتا ہے وہی میری زبان پر۔ بہت زیادہ خو ش اخلاق ہوں اور خوش مزاج بالکل بھی نہیں ۔ میری فرینڈز کی لسٹ بے حد طویل ہے شادی سے پہلے بہت فرینڈز بناتی تھی مگر اب اتنا ٹائم ہی نہیں ملتا کہ دوستیاںنبھا سکوں۔ ثمرین حبیب‘ ثوبیہ‘ نادیہ جہانگیر‘ ثناء‘ امبر گل‘ کرن وفا‘ فوزیہ ثمر بٹ‘ نوشین اقبال‘ شمع مسکان اور بیسٹ از بیسٹ فرینڈز فرح خان ہے‘ مجھے رومینٹک شاعری بے حد پسند ہے‘ وصی شاہ میرے فیورٹ شاعر ہیں۔ میک اپ‘ جیولری میں ائر رنگز اور کنگن کا کریز ہے۔ آئس کریم میں پستہ فلیور اور کارنیٹو کی میں دیوانی ہوں۔ بہت زیادہ بور لڑکی ہوں‘ اس لیے کوئی بھی میری کمپنی کو پسند نہیں کرتا‘ بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک سے بے تحاشا ڈر لگتا ہے ‘ بہتے ہوئے جھرنیں اور سرسبز وشاداب وادیاں بہت اٹریکٹ کرتی ہیں۔ جھیل سیف الملوک دیکھنے کا بہت جنون ہے‘ میں نے کبھی بھی کسی کا بُرا نہیں چاہا اپنے کام سے کام رکھنے والی ہوں۔ میری فرینڈز کے میرے بارے میں کچھ کمنٹس ہیں نادیہ جمیل کہتی ہے ’’پُروا! تم بہت پیاری ہو۔‘‘ نادیہ جہانگیر کہتی ہے ’’پُروا تم بہت معصوم‘ کیوٹ ہو‘ تمہیں لوگوں کو پرکھنا نہیں آتا جس کی وجہ سے تم بہت جلد ھوکا کھاجاتی ہو۔‘‘ نبیلہ عزیز کہتی ہے ’’پروا! تمہارا نام معصومہ یا گڑیا ہونا چاہیے۔ درثمن کہتی ہے ’’تم پروا کی طرح نرم و نازک سی لگتی ہو‘ اللہ تمہیں ہر دکھ و تکلیف سے بچائے‘ آمین۔ شادی سے پہلے ان سب فرینڈز سے رابطہ تھا مگر اب نہیں ہے‘ مجھے اپنی یہ پرخلوص اور مخلص فرینڈز بے حد یاد آتی ہیں۔ مجھے جوائنٹ فیملی سسٹم بے حد پسند ہے ‘ کزنز کی نوک جھونک‘ ہنسی مذاق سب اچھا لگتا ہے۔ کسی شادی یا فنکشن میں جائیں تو سب مل کر جاتے ہیں‘ ایک دوسرے کا انتظار کرنا پھر اکٹھے بیٹھ کر ٹی وی پر فلم یا ڈرامہ دیکھنا اور ان پر کمنٹس پاس کرنا‘ واہ کیا دن تھے؟ میرا میکہ جوائنٹ فیملی ہے اور سسرال میں ایسا نہیں ہے۔ اجازت چاہتی ہوں‘ اللہ حافظ۔
السّلام علیکم! آنچل اسٹاف اور ڈئیر قارئین کو میرا دل سے سلام قبول ہو۔ جی تو جناب میرا نام نمرہ افتخار‘ میری تاریخ پیدائش 5 اپریل ہے اور میرا اسٹار Arise ہے‘ اسٹار پر یقین کرتی ہوں کیونکہ جو خوبیاں یا خامیاں اسٹار میں بتائی گئی ہیں وہ تقریباً مجھ میں موجود ہیں ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں‘ دو بھائی بڑے ہیں اور سب سے چھوٹی میں ہوں‘ سبھی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اپنی فیملی میں سب سے زیادہ پیار ابو اور آپی سے ہے۔ مجھے بے شمار دوستیں پسند نہیں کیونکہ مخلص دوست ایک ہی کافی ہوتا ہے‘ میری بیسٹ فرینڈ اقراء تبسم اور ارم جبکہ اقراء رشید‘ سمیعہ‘ ام کلثوم بھی میری دوستیں ہیں۔اقراء مجھے بہت اچھے سے سمجھتی ہے۔ بلیک اور پنک کلر پسند ہیں اور زیادہ لائٹ کلر پسند کرتی ہوں۔ لباس میں شلوار قمیص اور فراک پسند ہے‘ جیولری بھی لائٹ پسند ہے۔ لمبے بال پسند ہے‘ جو بات ہو وہ کہہ دیتی ہوں۔ میری خامی یہ ہے کہ مجھے غصہ بہت آتا ہے اور غصے میں کچھ بھی بول دیتی ہوں چاہے سامنے کوئی بھی ہو اور خوبی یہ کہ میں حساس ہوں‘ دوسروں کی تکلیف دیکھ کر خود بھی دکھی ہوجاتی ہوں۔ نازیہ کنول نازی اچھی رائٹر ہیں۔ میں جیسی بھی ہوں اپنے لیے ہوں اس لیے میرے بارے میں کوئی جیسا بھی سوچے مجھے فرق نہیں پڑتا اور مجھے کام میں کسی کا بھی انٹر فیئر پسند نہیں۔ فارغ وقت میں میوزک سننا اور پینٹنگ کرنا پسند ہے۔ کھانے میں زیادہ شوق سے اپنی پسند کی چیزیں کھانا پسند کرتی ہوں‘ اگر کوئی میرے ساتھ ایک بار جھوٹ بولے تو مجھے اس پر دوبارہ کبھی بھی یقین نہیں ہوتا اگر وہ سچ بھی کہے تو میں جھوٹ ہی سمجھتی ہوں۔ اب ایک نصیحت کے ساتھ اجازت چاہوں گی ’’کبھی بھی کسی پر زیادہ بھروسہ مت کرو کیونکہ جب بھروسہ ٹوٹتا ہے تو درد بھی بھروسے کی طرح زیادہ ہوتا ہے‘‘ اپنی دعائوں میں یاد رکھنا‘ اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close