Aanchal Jan 15

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

مذہب سے بھاگنے والے ہی آخرت سے انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کایہ کہنا یہ دعویٰ کہ وہ انسانوں اور جنوں کو دوبارہ پید اکرے گا تو وہ ایسا ضرور کرے گاکیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت اور قوت سے سب کچھ ممکن ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے پہلی بار انسان کو عہدِ الست کے لیے پیدا کیا اور دوسری بار دنیا کی زندگی کے لیے وہ تیسری کیا بلکہ بار بار بھی پیدا کرسکتا ہے۔ جو شخص اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلی بار تخلیق کیاوہ دوبارہ پیدائش کویازندہ ہونے کوبعید از فہم نہیں مانتا وسمجھتا ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے تووہ ضرور ایسا کرے گا۔
اعادہِ خلق‘ عقل وانصاف کی رو سے ضروری ہے اور یہ ضرورت تخلیقِ ثانیہ سے ہی پوری ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا پروردگار اپنا مالک وخالق ماننے والے اس اکیلے کی پرستش وعبادت وبندگی کرنے والے اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں ان کے اخلاصِ عمل کی پوری پوری جزاملے اور جنہوں نے اپنے مقصدِ تخلیق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احکاماتِ الٰہی سے انکار وانحراف کیاانہیں ان کے اعمال کی سزا ملے۔ اس لئے جزا وسزا کا عمل مکمل کرنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے تاکہ اسے جزاوسزا کے عمل سے گزاراجاسکے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جو بڑاہی دانا اور حکیم ہے اس نے کائنات کا ایک ایک ذرہ بڑی حکمت ودانائی سے تخلیق کیاہے وہ جو انسانی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور وہ جو پوشیدہ ہیں سب اللہ کی حکمت کے آثار اور علاماتِ اعلانیہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ فی الارض کی ذمے داری سے نوازا ہے اسے عقل وفہم‘ قوت ِ ادراک‘ اخلاق اور آزادانہ ذمہ داری اور تصرف کے اختیارات بخشے ہیں یہ سب اسی لئے ہیں کہ ایک روز وہ اپنے نائب سے پوچھ گچھ کرے گا حساب کتاب کرے گا‘ اسی ذمہ داری کی وجہ سے جو انسان کو سونپی گئی تھی جزاوسزا کا استحقاقِ الٰہی بنتاہے اس لئے انسان کو سمجھ لینا چاہئے کہ دوسری زندگی لازمی ہے۔ انصاف کاتقاضایہی ہے کہ ایک اور زندگی ہو جس میں ہر شخص اپنے اخلاقی رویہ کانتیجہ دیکھے جس کاوہ مستحق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے دو بنیادی اصول ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارا رب اللہ تعالیٰ اکیلا ہے صرف اسی کی عبادت کرواور دوسرے یہ کہ تمہیں اس دنیا سے جاکر اپنے رب کو حساب دینا ہے۔ ایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بغیر دیکھے یقینِ کامل ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات ہر ہدایت پر پورا یقین ہی ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کاجوامتحان لینا چاہتاہے وہ یہی ہے کہ وہ حس اور مشاہدے سے بالاتر حقیقتوں کو خالص نظروفکر اوراستدلالِ صحیح کے ذریعے مانتا ہے یانہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کررہاہے ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ‘اللہ تعالیٰ کی پیداکی ہوئی ہرہرچیز میں نشانیاں ہی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت حکیمانہ طریقے سے زندگی کے مظاہر میں ہر طرف وہ آثار وعلامات پھیلادی ہیں جن کے پیچھے حقیقت کی صاف نشان دہی ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ کی قوت وقدرت ظاہر ہو رہی ہے۔
منکرین حق وآخرت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ:۔ عنقریب میں اُسے دوزخ میں جھونک دووں گااور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟ نہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے۔ کھال کو جھلسا دیتی ہے۔ اور اس میں انیس فرشتے مقرر ہیں۔ (المدثر۔۲۶تا۳۰)
آیاتِ مبارکہ اپنی جگہ خود تفسیر ہیں‘ پیامِ الٰہی اس قدر صاف اور واضح ہے کہ مزید تشریح کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے آیات میں دوزخ کو سقر کہہ کرمتعارف کرایا گیا ہے۔سقر کے معنی آگ کے ہیں یہ دوزخ کے ایک خاص حصے کانام ہے جس کی شدید آگ جسم وروح کو تحلیل کر ڈالتی ہے شدید جلانے والی آگ ہوگی جو جلا کر خاک کردے گی مگر انسان کا پیچھا مرکرنہیں چھوٹے گا کیونکہ آخرت کی زندگی دائمی زندگی ہوگی آگ بار بار جلاتی رہے گی اور جلنے والا جسم بار بارجلتا ہی رہے گاکیونکہ آخرت کے بعد کی زندگی دائمی ہوگی وہاں کسی کو کسی بھی طرح موت نہیں آئے گی اس کیفیت کا اظہار سورۃ الاعلیٰ ۱۳ میں کیا گیا ہے۔’’وہ نہ اس میں مرے گا نہ جئے گا‘‘ اس حصے میں دوزخ کا سخت عذاب مسلسل ہوگا‘ آگ ان کے جسم پر نہ گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی ہر بار ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتارہے گا آگ جسم میں کچھ جلائے بغیر نہیں چھوڑے گی ‘کھال جھلس دینے کا خصوصیت سے ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کواس کے لہجے میں ہی سمجھاتا ہے ‘کیونکہ انسان کو نمایاں کرنے والی اس کی شخصیت کو حسن وجمال دینے والی اس کے چہرے کی کھال ہوتی ہے جس کی بدنمائی انسان کوسب سے زیادہ کھلتی ہے۔اندرونی اعضا خواہ کتنے ہی بدنما ہوں اسے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی جسم کے کھلے حصوں کے داغ اسے پریشان رکھتے ہیں انسان کی فطرت بھی اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہے جسے وہ خوب جانتا ہے کہ بندے اپنی کس چیز کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ اطلاع بھی دے رہا ہے کہ دوزخ سے کسی طرح کوئی فرار نہیں ہوسکے گا جیسا دنیا میں اکثر مجرم جیل توڑ کر فرار ہوجاتے ہیں لیکن آخرت کی زندگی میں ایساہرگز ممکن نہیں ہوگا۔جہنم میں ایک نہ دو پورے انیس فرشتے دربان کے فرائض انجام دے رہے ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ دنیا میں ایسے لوگ جو کسی بھی طرح احکامِ الٰہی سے بغاوت وکفر کرتے ہوں گے قرآنِ حکیم اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک وشبہ کرتے ہوںگے انہیں فرشتے اپنی نگاہ میں رکھیں گے ‘قیامت کے بعد آخرت میں بھی ان پر پہرے لگائے جائیں گے بلکہ دنیامیں بھی ایسے لوگ الٰہی پہرے میں رہیں گے۔
ترجمہ:۔اللہ جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خوداُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اوراُس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ (المدثر۔۳۱)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کائنات میں کیسی کیسی اور کتنی مخلوقات پیدا کررکھی ہیں اور ان کو کیسی طاقتیں بخش رکھی ہیں او روہ ان سے کیسے کیسے کام لیتا ہے یالے سکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ انسان جو کچھ دیکھتا محسوس کرتا ہے دنیا یامخلوقاتِ الٰہی صرف وہی نہیں ہیں اللہ کا کارخانہ قدرت تو بے حدوحساب وسیع ہے اورعظیم ترین ہے۔
اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے بے حد وحساب شفقت ومحبت فرماتا ہے وہ قرآنِ حکیم میں بار بار جگہ جگہ جہنم کے عذابوں اور جنت کی آسائشوں راحتوں کا ذکر صرف اس لئے فرماتاہے کہ انسان اس پند ونصیحت سے شاید سنبھل جائے اور اپنی مذموم حرکات وبغاوت سے باز آجائے اور عذاب کا مزا چکھنے سے پہلے ہی ہوش میں آجائے اور اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرلے۔ انسان پرانسان ہونے کے ناطے بڑی ذمہ داریاں عائد فرمائی ہیں کیونکہ انسان اس کائنات کے اشرف ترین‘ ممتاز ترین ذمہ داروں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے تحت ہرانسان کو کسی نہ کسی خاندان کی سربراہی بھی سونپی گئی ہے جس کی تعلیم وتربیت دیکھ ریکھ کی ذمے داری ایسی ذمہ داری کہ جس میں اس کے زیرکفالت افرادِ خاندان کی ایسی تربیت کرنا بھی شامل ہے جس سے وہ اللہ کے پسندیدہ انسان بن سکیں جیسا کہ سورہ ٔالتحریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہوا ہے۔
ترجمہ:۔اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچائو جس کاایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر نہایت سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں‘ جو حکم اللہ تعالیٰ دیتاہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے‘ جوحکم دیا جائے اسے بجالاتے ہیں۔ (التحریم۔۶)
آیتِ کریمہ میں اہلِیمان لوگوں کو ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہر خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں‘ گھر والوں کی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم کااہتمام کرے تاکہ وہ بھی جہنم کاایندھن بننے سے بچ جائیں ایسا نہ ہو کہ ہر شخص صرف اپنی فکر کرے اور اپنی راہ سیدھی کرنے میں لگا رہے‘ اسلام ایک معاشرتی نظام بھی ہے۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو ۔(ترمذی۔ سنن ابی دائود)تاکہ جب وہ سن شعور کو پہنچیں تو انہیں دین حق کا شعور بھی حاصل ہوچکا ہو۔(ابن کثیر)
ایمان والوں سے کون لوگ اللہ کی مراد ہیں او رایمان لانے سے کن کن چیزوں پرایمان لانا مراد ہے۔ قرآن کریم میں ربِّ کائنات نے پوری طرح کھول کھول کر بیان کردیاہے۔ سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کے وجود کو ماننا کہ وہی ہمارا معبودِ حقیقی ہے اور کوئی اس کا کسی بھی طرح شریک نہیں ہے۔ وہی تمام عبادت وبندگی کااصل مستحق ہے۔ وہی ہماری نگہداشت وپرورش کرنے والا ہے‘ ہماری قسمت بنانے بگاڑنے کاپورا اختیار اسی کے پاس ہے۔ تمام حاجات کے لئے اُسی سے دعا مانگنا اور اسی پر توکل کرنا۔ اُس کے ہر حکم کوبالکل اسی طرح مانناجیسا کہ کہا گیاہے۔ بندے کا فرض ہے کہ اس کی مکمل اطاعت کرے جس چیز سے روک دیا اُس سے رک جائے جسے کرنے کا حکم دیا اُسے کرے۔ اُس کے کام وافعال تو دور کی بات ہے اس کی سوچ ونیت سے بھی اللہ تعالیٰ بخوبی واقف رہتا ہے۔ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تعلیمات کوماننا کہ وہ سب اللہ کی ہی طرف سے دی گئی ہے اس لئے برحق اور واجب التسلیم ہے۔ اسی ایمان بالرسالت میں ملائکہ‘ انبیاء‘ اور کتب الہیہ پر اور خود قرآنِ حکیم پرایمان وعمل ضروری ہے۔
یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے خوب کھول کھول کر بیان فرمادی ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی پہلی اور آخری زندگی نہیں ہے بلکہ اس زندگی کے بعد یعنی مرنے کے بعد سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔ اس وقت سب کو اپنے ان اعمال کا جواس نے دنیا کی زندگی میں کئے ہوں گے کو اللہ ذوالجلال کے سامنے پیش ہوکرحساب دینا ہوگا۔ اس روز آخر جو لوگ نیک قرار پاجائیں گے یعنی جنہوں نے دنیا میں اپنی زندگی اللہ‘ دیگر رسولوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بسر کی ہوگی انہیں جزا سے نوازاجائے گا اورجنہوں نے احکامِ الٰہی سے انکار کیاہوگاانحراف کیا ہوگا بغاوت کی ہوگی کفر کیا ہوگا انہیں اس روز سزا ملے گی جو جیسا بوئے گا وہ ویسا ہی اُس روز پائے گا۔
ایمان ‘اخلاق‘ سیرت وکردار کے لئے انسان کو مضبوط بنیاد فراہم کرتاہے۔ انسان کواللہ تعالیٰ نے دنیا میں صرف اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ ایمان پر قائم ہو کر رات ودن بس عبادت کرتا رہے اور احکامِ الٰہی پرعمل کرتا رہے یعنی روزہ رکھے ‘نماز پڑھے‘ حج کرے جہاد کرے اور سارا وقت ان ہی عبادات واعمال میں صرف کرے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں جو ادا کرنا ضروری ہیں۔نیک کاموں پر عمل ہر وہ کام جسے کرنے کاحکم الٰہی دیا گیا ہے وہ نیک کام ہے اسے اسی طرح ادا کرنا بھی عبادت ہے اور جسے نہ کرنے کا حکم ہے جس سے روک دیا گیا ہے اسے نہ کرنا اس سے رُکے رہنا بھی عبادت میں شمار ہوگا۔ غرض زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان قرآنِ کریم سے رہنمائی حاصل کرے اور قرآن کی رہنمائی میں زندگی بسر کرے کیونکہ قرآن حکیم ایک بہت وسیع اور جامع ہدایت نامہ ہے جس میں ہر عمل قول وفعل کے بارے میں ہدایات دی گئیں ہیں ان ہی ہدایات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تاکید فرمائی ہے غور کرنے فکر کرنے اور تدبیر کی اس کے لیے مسلمانمعاشرے کا ہر فرد ذمے دار ہے کہ اسلامی معاشرے اور طرز زندگی کو رائج کرے‘ ہر فرد پر لازم ہے کہ نہ صرف خود حق پرستی‘راست بازی‘ عدل وانصاف پر قائم رہے اور حق داروں کے حقوق ادا کرنے پرہی اکتفا نہ کرے بلکہ دوسروں کو اس طرز عمل کی نصیحت کرے اور اس میں ان کی مدد بھی کرے۔
اسلام ایک مذہب ایک دین ہی نہیں ہے یہ ایک تہذیب ایک سچے صاف ستھرے معاشرے کی تشکیل بھی کرتا ہے لوگوں کو دنیا کی زندگی گزارنے کے اخلاق وعادات بھی مہیا کرتا ہے اجتماعی زندگی کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام صرف نماز روزہ اور عبادت کا نام نہیں ہے اسلام تو بڑے وسیع معنوں پر محیط لفظ ہے جو ایک صالح معاشرے کی عکاسی ہی نہیں بلکہ دنیا کی اس زندگی کے بعد آنے والی دائمی زندگی جس کاآغاز روزِ آخرت ہوناہے اس کی مکمل تیاری کا ضامن بھی ہے روز آخرت دنیا کی زندگی کا آخری دن ہوگا لیکن نئی آنے والی دائمی زندگی جس میں کبھی کسی کو موت نہیں آئے گی دائمی زندگی کے آغاز کاپہلا دن ہوگا ۔ آخرت کے اس پہلے اور دنیا کے آخری دن کے نقصان وخسارے سے بچنے اور محفوظ رہنے کے سب طورطریقے اللہ نے اپنے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور دیگر قوموں کے انبیاء اکرام علیہ السلام کے ذریعے بتادیئے ‘سکھادیئے اس کے بعد یہ ذمہ داری انسا ن کی ہے کہ وہ کیسے اور کس طرح احکامِ الٰہی کو تسلیم کرتاہے اور اپنے آپ کوآخرت کے خسارے سے بچاتاہے یا ردکرتا ہے اور کفر میں پڑجاتا ہے۔
آخرت میں عدل کی تمام شرائط پوری کرنے کے بعد ہی مجرموں کو سزا دی جائے گی‘ وہاں لوگوں کے اعمال کی پوری پوری جانچ پڑتال ہوگی‘ وہاں برے انجام سے نہ مال بچاسکتا ہے نہ اولاد‘نہ باپ دادا کا کوئی عمل ‘وہاں ظالم کی اگر نیکیاں ہوئیں تو وہ مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگرنیکیاں ظالم کے پاس نہیں ہوں گی تو مظلوم کی غلطیاں اور گناہ ظالم کودے دیئے جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں لوگوں کو چھوٹے چھوٹے عذابوں کے ذریعے متنبہ کرتاہے تاکہ انسان آخرت کی تیاری کرلے۔ آخرت کی سزا سے انسان بچ نہیںسکتا۔میدانِ حشر میں مومن‘نیکوکار متقی لوگوں کی مغفرت ہوگی انہیں عزت نصیب ہوگی جب کہ منکرین منافقین کفّار کو عذاب ملے گا اور ذلت ملے گی۔
روز ِآخرت میدانِ حشر میں جب سب کا فیصلہ صادر کردیاجائے گا تو اہلِ جہنم اپنے دائمی ٹھکانے جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے اور اہلِ ایمان متقی پرہیز گار لوگوں کوجنت نصیب ہوگی وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔روزِ محشر حساب کتاب ہونے کے بعد جو زندگی شروع ہوگی وہ دائمی ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہوگی یہی اﷲ کا حکم اور مشیت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں دائمی حیات کے ٹھکانوں کے بارے میں بھی قرآن کریم کے ارشادات کو دیکھ لیااور سمجھ لیاجائے کہ جہنم کیا ہے؟ اور جنت کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات ثبت ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہوں گے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور اس روز اللہ جنت وجہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دے گا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں گیں ‘جنت نے کہا کیا بات ہے کہ میرے اندر وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اورمعاشرے کے گرے پڑے لوگ ہوں گے؟ جہنم نے کہا۔ ’’میرے اندر تو بڑے بڑے جبار اور متکبر قسم کے لوگ ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا۔ ’’تو میری رحمت کی مظہر ہے تیرے ذریعے میں جس پرچاہوں اپنا رحم کروں اور جہنم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو میرے عذاب کی مظہر ہے تیرے ذریعے میں جس کوچاہوں سزادوں‘ اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ دونوں کو بھردے گا۔ جنت میں ہمیشہ اس کا فضل ہوگا‘ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا جو جنت کے باقی ماندہ رقبے میں رہے گی اور جہنم جہنمیوںکی کثرت کے باوجود ھل من مزید کانعرہ بلند کرے گی‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا جس پر جہنم پکار اٹھے گی‘ بس‘ بس‘ تیری عزت وجلال کی قسم ۔(صحیح بخاری‘ مسلم)
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close