Aanchal Jan 15

حمد و نعت

بہزاد لکھنوی

حمد باری تعالیٰ

تُو ہی بے کسوں کا ہے آسرا تری شان جلّ جلالہ
تُو ہی ہر بشر کا ہے مدعا تری شان جلّ جلالہ
ہے عیاں بھی تُو ہے نہاں بھی تُو ہے یہاں بھی تُو ہے وہاں بھی تُو
کہ تُو ہی تُو اپنا ہے خود پتا تری شان جلّ جلالہ
تُو ہی رب ہے تُو ہی کریم ہے تُو قدیر ہے تُو رحیم ہے
تُو ہی ہے خدا تُو ہی کبریا تری شان جلّ جلالہ
تری حمد ہوسکے کیا بیاں کہ تُو ہی ہے خالقِ این و آں
ترے ہاتھ میں ہے فنا بقا تری شان جلّ جلالہ
تری کنہ کوئی نہ پا سکا ہوا پست عقل کا حوصلہ
کہ ہے عقل کی بھی بساط تو تری شان جلّ جلالہ

بہزاد لکھنوی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

.ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا جاں وہیں رہ گئی خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر وہ سکونِ دل و جان و روح و نظر
یہ انہیں کا کرم ہے انہیں کی عطا ایک کیفیتِ دلنشیں رہ گئی
اللہ اللہ وہاں کا درود و سلام اللہ اللہ وہاں کا سجود و قیام
اللہ اللہ وہاں کا وہ کیفِ دوام وہ صلوۃ سکوں آفریں رہ گئی
جس جگہ سجدہ ریزی کی لذت ملی جس جگہ ہر قدم ان کی رحمت ملی
جس جگہ نور رہتا ہے شام و سحر وہ فلک رہ گیا وہ زمیں رہ گئی
پڑھ کے نصر من اللہ فتح قریب ہم رواں جب ہوئے سوئے کوئے حبیب
برکتیں رحمتیں ساتھ چلنے لگیں بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی
زندگانی وہیں کاش ہوتی بسر، کاش بہزادؔ آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنا مگر یہ تمنائے قلبِ حزیں رہ گئی

بہزاد لکھنوی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close