Aanchal Jan-07

افسون جاں

عشناکوٖٖثرسردار

اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلادی ہم نے
ایک ایک پھول بہت یاد آیا
شاخِ گل جب وہ جلادی ہم نے

میرب کا دل چاہا تھا وہاں سے اٹھے اور بھاگتی ہوئی نکل جائے اور پھر کبھی پلٹ کر نہ اس طرف دیکھے نہ اس طرف نگاہ کرے مگر یہ سوچنا جتنا آسان تھا۔ اس پر عمل کرنا اس سے مشکل تھا۔ مگر وہ یہ بات اس کٹھور شخص کو بتا نہیں سکتی تھی۔
مائی اماں کے آنے تک وہ یوں ہی سرجھکائے بیٹھی رہی تھی۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں… میرب… بچے؟‘‘ مائی اماں چلتی ہوئی اس کی طرف آئی تھیں مگر میرب نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ پورا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔ شاید وہ اپنی کمزوری کا پتہ کسی کو دینا نہیں چاہتی تھی مگر یہاں سے جانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اسے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اب اس شخص کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر وہ سچائی کا پتہ پھر بھی لینا چاہتی تھی۔
’’ایسے بیٹھی کیوں رو رہی ہے تو… کیا ہوا؟‘‘ مائی اماں نے اس کا چہرہ اٹھایا۔
’’اماں! آپ مجھے ایک بات بتائیں گی؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’وہی جو آپ کے اور پاپا کے بیچ میں ہوئی؟‘‘ میرب نے دوٹوک پوچھا تھا۔
’’کیا مطلب‘ کیا ہوا؟‘‘ مائی اماں نے اس کے آنسو پونچھے تھے۔ ’’تم اس طرح رونا بند کرو اور آرام سے بات کرو۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائو۔‘‘
’’آپ یہ سب چھوڑئیے۔ پہلے مجھے بتائیے۔ آپ میں اور پاپا میں کیا کیا باتیں ڈسکس ہوئیں؟ کیا کہا انہوں نے آپ سے؟‘‘ میرب نے ضدی بچوں کی طرح کہا تھا۔
’’چل ٹھیک تو رونا بند کر۔ پھر بتاتی ہوں تمہیں۔‘‘ مائی نے نرمی سے کہتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے تھے۔

’’مجھے آج ممی کی طرف جانا ہے۔ جا سکتی ہوں؟‘‘ انابیہ نے ناشتے کی ٹیبل پر کہا تھا۔ عضنان علی خان نے اسے کسی قدر حیرت سے دیکھا تھا۔
’’یہ آپ مجھے اطلاع دے رہی ہیں یا اجازت چاہ رہی ہیں؟‘‘
’’آپ کو کیا لگا؟‘‘ انابیہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
عضنان نے شانے اچکا دئیے تھے۔
’’آف کورس آپ سے پوچھ رہی تھی۔ کیا میں جاسکتی ہوں؟ یہ نہیں کہا کہ میں جا رہی ہوں۔‘‘ انابیہ نے باور کرایا تھا۔
’’سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیںْ؟‘‘ عضنان علی خان نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ ’’اوہ رائٹ… اٹس مین طنز… میں نے اس روز جو منع کیا تھا۔‘‘ لمحہ بھر کو چپ رہ کر کچھ سوچا تھا۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے کہا تھا۔
’’جب جانتے ہیں تو پوچھ کیوں رہے ہیں۔‘‘ وہ تنک کر بولی تھی۔
عضنان نے اس کے چہرے کو لمحہ بھر کو دیکھا تھا۔ وہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
’’آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟شوہر بن گئے تو ساری دنیا ہاتھ میں آ گئی آپ کے…‘‘ انابیہ آج سچ مچ لڑائی کے موڈ میں لگ رہی تھی۔
مگر عضنان علی خان بہت مطمئن انداز میں چائے کے سیپ لیتے ہوئے سر جھکا کر نیوز پیپر دیکھنے لگا تھا۔
’’ابھی تک بیوی تو مٹھی میں آئی نہیں… ساری دنیا کیا خاک ہاتھ میں آئے گی۔‘‘ وہی معصوم سا شوہروں کا انداز تھا اور انابیہ اسے گھور کر رہ گئی تھی۔
اس وقت انابیہ کو اپنا آپ انتہائی ظالم بیوی والا لگا تھا۔
’’ہاں بہت معصوم ہیں آپ تو۔‘‘ انابیہ مکمل لڑائی کے موڈ میں تھی۔
’’آپ نے طے کر لیا ہے آپ جھگڑالو وائف کا کریکٹر بھرپور طریقے سے نبھائیں گی؟‘‘ عضنان علی خان نے پوچھا تھا۔ انداز نرم تھا۔
’’اور آپ نے طے کر لیا ہے کہ آپ ظالم شوہر بن کر رہیں گے۔‘‘ انابیہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا۔
عضنان نے نیوزپیپر لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔
’’آپ جھگڑے کے فل موڈ میں ہیں تو جھگڑ لیجیے۔‘‘
’’جھگڑے کے موڈ میں‘ میں ہوں اور آپ جو کرتے ہیں؟‘‘
’’کیا کرتا ہوں؟ آپ خواہ مخواہ بات کو بڑھانا چاہتی ہیں۔ ممی اور دادا ابا سے ملنے کو میں نے کبھی نہیں روکا آپ کو۔ آپ بتائیے کبھی منع کیا میں نے آپ کو ان سب سے ملنے کو۔ منع میں نے آِپ کو کیا تھا مگر صرف…‘‘ وہ بولتے بولتے یکدم رک گیا تھا۔ نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔
وہاں لامعہ حق کھڑی تھی۔ عضنان علی خان اٹھ کھڑا ہوا تھا اور چلتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا۔
انابیہ نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ لامعہ کو اپنے سامنے دیکھ کر اسے کچھ حیرت ہوئی تھی۔
لامعہ کچھ دیر تک یوں ہی فاصلے پر ساکت کھڑی اس کی طرف دیکھتی رہی تھی پھر چلتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔
انابیہ مسلسل حیرت میں تھی۔

’’محبت پلٹ آتی ہے۔‘‘
فارحہ نے ایک جملہ کہا تھا اور اس کی بازگشت کتنے ہی دنوںتک اس کے اردگرد گونجتی رہی تھی۔
’’آپ نہیں جانتیں اگینے! کبھی کبھی محبت نہیں بھی پلٹتی۔ بہت کچھ لے کر بھی نہیں۔ طویل انتظار کے بعد بھی نہیں۔‘‘ اپنے ہی دھیان میں چلتی ہوئی وہ پلٹی تھی جب فیض بخاری کو اپنے سامنے دیکھ کر کچھ حیران رہ گئی تھی۔
’’آپ کی خود سے الجھنے اور باتیں کرنے کی عادت ختم نہیں ہوئی؟‘‘ فیض بخاری نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
مگر اگینے مسکرا نہیں سکی تھی۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ یہاں کیسے خیریت؟‘‘
’’ہاں۔ بس یہاں سے گزر رہا تھا۔ تمہارا خیال آ گیا سوچا ملتا چلوں۔‘‘ فیض مسکرا دیئے تھے۔
’’اوکے۔‘‘ اگینے کچھ زیادہ نہیں بول سکی تھی۔
’’اور کیا کر رہی ہیں آپ آج کل؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔ بھابی کیسی ہیں اور بچے؟‘‘
’’سب ٹھیک ہیں۔‘‘ فیض نے کہا تھا۔ ’’بھابی بتا رہی تھیں اس نے بوتیک کھول لیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک۔ تھینکس۔‘‘ اگینے مروتاً مسکرائی تھی۔
’’آپ کھڑے کیوں ہیں۔ بیٹھئے نا۔‘‘
فیض بخاری نے اسے دیکھا تھا۔ پھر مسکرا دئیے تھے۔
’’تمہیں نہیں لگتا ہم پہلی دوسری بار ملے ہیں۔‘‘
’’نہیں تو… کیوں کیا ہوا؟‘‘ اگینے نے نگاہ اٹھا کر فیض کو دیکھا تھا۔
’’مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ وقت ہے؟‘‘
’’ضروری بات؟‘‘ اگینے چونکی تھی۔
’’ہوں۔ وقت ہے؟‘‘ فیض بخاری نے دوبارہ پوچھا تھا۔
اگینے کچھ دیر تک یوں ہی اس کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہی تھی۔ پھر سراثبات میں ہلا دیا تھا۔

کمرے میں بہت خاموشی تھی۔ لامعہ حق اس سے کچھ فاصلے پر خاموشی سے کھڑی تھی۔
انابیہ شاہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
’’کھڑی کیوں ہو۔ بیٹھ جائو۔‘‘
اگرچہ اسے قطعاً پتہ نہیں تھا کہ وہ یہاں کس لیے آئی ہے مگر اس کے باوجود کرٹسی اس کے انداز میں واضح تھی۔ جیسے ان کے درمیان کوئی برا موڑ آیا ہی نہ ہو۔
لامعہ اسی خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
کچھ دیر تک وہ کچھ نہیں بول سکی تھی۔
’’چائے پیو گی؟‘‘ انابیہ جو کچھ لمحوں پہلے تک بہت ہائپر دکھائی دے رہی تھی اب بہت پرسکون تھی۔
لامعہ نے سرنفی میں ہلا دیا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ لہجہ قطعی تھا۔
انابیہ مزید کچھ نہیں پوچھ سکی تھی۔
’’میں کچھ کہنا چاہتی ہوں انابیہ۔‘‘ لامعہ حق مدھم لہجے میں بولی تھی۔ انابیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’آئی ایم سوری۔‘‘ لامعہ حق کی آواز ابھری تھی اور انابیہ اسے حیرت سے تکتی رہ گئی تھی۔
’’مجھے اندازہ ہے انابیہ میں نے تمہارے ساتھ سب غلط کیا۔ پلیز مجھے اس کے لیے معاف کر دو۔ میں جانتی ہوں۔ ان سب کے لیے معافی کا لفظ بہت چھوٹا ہے اور شاید تم مجھے معاف کر بھی نہ سکو مگر میں اپنے دل سے ایک بوجھ اتارنے یہاں چلی آئی۔‘‘
لامعہ حق کہہ رہی تھی اور انابیہ اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
’’انابیہ میں شرمندہ ہوں۔ شاید یہ لفظ بھی بہت چھوٹا ہے۔ لیکن یہ سچ ہے۔‘‘
انابیہ کو یقین نہیں تھا۔ لامعہ حق کو واقعی اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا تھا یا پھر وہ کوئی نیا جال بن رہی تھی۔
انابیہ ساکت سی اپنی جگہ پر بیٹھی تھی۔
لامعہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’انابیہ آئی ایم سوری۔ رئیلی ویری سوری۔‘‘ لامعہ کا لہجہ مدھم تھا۔
انابیہ اسے خالی خالی آنکھوں سے دیکھنے لگی تھی۔
سچ پر یقین کیسے نہ کرتی لامعہ حق کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔

ایسی کیا بات تھی جسے کہنے کے لیے تم مجھے یہاں لے آئے؟‘‘ اگینے نے ریسٹورینٹ کے ماحول کو طائرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’تھی ایک بات۔‘‘ فیض بخاری بولے تھے۔ وہ اس وقت گہری سوچ میں دکھائی دیئے تھے۔اگینے نے ان کے چہرے کو بغور دیکھا تھا۔
’’کوئی پریشانی ہے؟‘‘ اگینے نے دریافت کیا تھا۔
’’نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’اگینے!‘‘
’’جی۔‘‘
’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘
’’کیا؟‘‘ سوال اتنا غیرمتوقع اور اچانک تھا کہ وہ لمحہ بھر کو ساکت رہ گئی تھی۔
’’ہم اپنی زندگی کا بہت سا وقت گزار چکے ہیں اگینے۔ بہت سال۔ شاید اب اتنے لمحے ہمارے ہاتھوں میں باقی بھی نہیں ہیں کہ گنوا سکیں۔‘‘ فیض بخاری کا لہجہ اسے حیران کر رہا تھا مگر یہ باتیں جیسے ایک تمہید جیسی تھیں۔ درحقیقت وہ کوئی اور بات کہنا چاہ رہا تھا۔
’’اگینے! تمہارے اور میرے بیچ کسی نئے رشتے کے آغاز سے پہلے میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ پھر اس کے بعد کے سارے فیصلے تمہارے اپنے ہوں گے۔ اس کے بعد تم جو بھی کہنا چاہو کہہ سکتی ہو۔‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘ اگینے نے پوچھا تھا۔
’’اگینے! بات بہت مختصر سی ہے مگر اتنی آسان نہیں ہے۔‘‘
’’رومیصا کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ اگینے نے پوچھا۔
فیض نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
’’نہیں۔ رومیصا ایک گزرجانے والا واقعہ ہے۔ جس پر بہت سے کربوں کی گرد بھی جم چکی ہے۔ اب سوچوں بھی تو وہ لڑکی ایک خواب جیسی لگتی ہے۔ شاید خواب ہی تھی وہ… مگر… میں جو بات تم سے کرنا چاہتا ہوں وہ کچھ مختلف ہے۔ قصہ یہ ہے کہ… کچھ عرصہ قبل میں ایک لڑکی سے ملا تھا۔ میں بھی فرشتہ نہیں تھا۔ سو ہم نے کچھ اچھا وقت ساتھ گزارا۔ وہ کسی اور کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتی تھی۔ اسی کا انتظار بھی شاید وہ کر رہی تھی۔ سو ہم میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہوئی۔ بس ہم نے کچھ وقت ساتھ گزارہ اور ہم اپنی اپنی راہ پر ہو گئے مگر اب وہ یہاں میری تلاش میں آئی تھی اور مجھے اس کا پتہ بھی چل گیا۔ آئی فونڈ ہر‘ میٹ ہر‘ دین شی ٹولڈ می دیٹ… شی از پریگنٹ ود مائے کڈ۔ مگر وہ مجھ پر اس بچے کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالنا چاہتی نہ ہی مجھ سے کوئی رشتہ چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے۔ اس کے لیے اس کی تھوڑی سی محبت پوری زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے اور محبت کو شاید کچھ زیادہ کی خواہش ہوتی بھی نہیں۔ میرا تمہاری طرف آنا… اسے ریجیکٹ کیا جانا نہیں ہے اگینے۔ میں نے بہت عرصے پہلے دانتے کی ایک لائن پڑھی تھی۔ اس نے کہا تھا۔ شادی اور محبت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ میں بھی یہی مانتا ہوں۔ محبت سراسر دل کا معاملہ ہے۔ جسے تم کسی قدر جذباتی معاملہ بھی کہہ سکتی ہو مگر شادی۔ دماغ کا فیصلہ ہے اور میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
فیض بخاری کا لہجہ دھیمہ تھا۔
اور وہ چپ چاپ ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

دونوں کتنے لمحوں تک ایک دوسرے کے کاندھے پر سر دھرے روتے رہے تھے۔ لمحے چپ چاپ ان کے درمیان جیسے ٹھہر سے گئے تھے۔
’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا انابیہ! ہم میں اتنی اور اس قدر دوری آ جائے گی۔‘‘ کچھ دیر بعد لامعہ نے اس کے کاندھے پر سے سر اٹھا کر اس کے آنسو پونچھے تھے۔ انابیہ نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’ہاں میں نے بھی یہ کبھی نہیں سوچا تھا مگر…‘‘
’’انابیہ! میں مانتی ہوں جو بھی ہوا وہ اتنا معمولی نہیں تھا مگر کیا تم اسے بھلا کرسب پہلے جیسا کر سکتی ہو۔ میں جانتی ہوں میں نے جو بھی کیا وہ بہت غلط تھا مگر میں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہوں۔ میں شرمندہ بھی ہوں۔ بہت بری ہوں ناں میں۔‘‘ لامعہ سر جھکا کر بولی تھی۔
’’نہیں تم بری نہیں ہو لامعہ! شایدہم سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ سب اتنے ہی برے ہوتے ہیں۔ ہماری خواہشیں بری ہیں جو ہمیں برا بناتی ہیں۔ کچھ برا کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ تم نے جو بھی کیا میں تمہیں اس کے لیے قصوروار نہیں مانتی۔‘‘ انابیہ نرمی سے بولی تھی اور بہت آہستگی سے لامعہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’چلو بھول جاتے ہیں سب کچھ۔ پھر سے دوستی کرتے ہیں۔ اس بار رشتوں کے نام بدل دیتے ہیں۔ میری بھابی بنو گی؟‘‘ انابیہ نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔
لامعہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔ پھر مسکرا دی تھی۔
’’تھینکس انابیہ! تم بہت اچھی ہو۔ مجھے تمہارے اتنے اچھے ہونے پر ہمیشہ بہت غصہ آتا تھا مگر اب… اب نہیں آتا۔ سارا خالی پن اس اندر سے اٹھتا ہے اور اندرکا خالی پن سکون نہیں لینے دیتا۔ ہر انسان کے ساتھ تو شاید ایسا نہیں ہوتا مگر کسی کسی کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ میرے اندر کا خالی پن تھا کوئی۔ جس نے مجھے ایسا سب کرنے پر اکسایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید آج صورت حال ایسی نہ ہوتی۔ مجھے اس کونفیشن کی ضرورت پیش نہ آتی اور ہماری دوستی اسی طرح برقرار ہوتی۔ اک دراڑ بیچ میں نہ ہوتی۔‘‘ لامعہ بولی تھی۔
’’کوئی دراڑ بیچ میں نہیں ہے لامعہ۔ تم ایسا مت سوچو۔ ایسا سب لکھا ہوتا ہے۔ تمہارے میرے بیچ جو ہونا تھا۔ وہ بھی لکھا ہوا تھا۔ سو ہو گیا۔ غلطی کس سے نہیں ہوتی۔ سب کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی بھول چوک ضرور کرتے ہیں۔ یہاں اس دنیا میں۔ ہم سب انسان ہیں۔ فرشتے نہیں۔ سو ہمیں ایک دوسرے سے ایسی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم کوئی فرشتوں جیسے کام کریں گے۔ اگر ہم میں سے ہر کوئی یہ سوچ لے تو آدھے پرابلم یہیں ختم ہو جائیں۔‘‘ انابیہ بولی تھی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ بہت آہستگی سے رکھ دیا تھا۔
’’اب سوچنا بند کرو۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے ہم تسلیم نہ کریں۔ تم میں تو پھر بھی حوصلہ ہے کہ تم مان رہی ہو۔‘‘
’’آئی ایم سوری انابیہ! تم اتنی اچھی تھیں اور میں تمہیں…‘‘
’’اٹس اوکے لامعہ! تم بھی بہت اچھی ہو۔‘‘ انابیہ مسکرائی تھی۔ ’’میری ہونے والی بھابی بری کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘
لامعہ مسکرائی تھی۔
’’فضول قسم کا بندہ ہے وہ۔ تم نے کیسے سوچ لیا کہ اس کے ساتھ زندگی گزار سکوں گی۔‘‘ ذکر بلآخر اوزان کا آگیا تھا۔
’’میرا بھائی؟‘‘ انابیہ نے وضاحت چاہی تھی۔’’میرا بھائی اس دنیا کا سب سے اچھا بندہ ہے اور تمہیں ساری دنیا گھوم لینے کے بعد بھی کوئی اس جیسا نہیں ملے گا۔ آزما لو۔‘‘ انابیہ مسکرائی تھی۔
’’دنیا میں کوئی ایسا دل والا نہیں ہو گا جو ایک دوبار ریجیکٹ ہونے کے بعد بھی دوبارہ اسی ذوق وشوق سے لڑکی کو پروپوز کرے۔‘‘
’’ بے وقوف وہ تم سے محبت کرتا ہے۔ تم بہت لکی ہو۔‘‘ انابیہ نے باور کرایا تھا۔
’’آئی ڈونٹ نو۔‘‘ لامعہ نے مسکراتے ہوئے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’مجھے نہیں پتہ کہ میں لکی ہوں بھی کہ نہیں۔‘‘
’’تم ہو لامعہ! محبت تمہارے تعاقب میں برسوں سے ہے۔ تمہارے ساتھ ساتھ ہے‘ تم لکی ہو‘ پتہ ہے محبت کی لاجک کیا ہے؟‘‘
’’اوں ہوں۔ نہیں پتہ۔ تم بتا دو۔‘‘ لامعہ مسکرائی تھی۔
’’محبت کی لاجک یہ ہے کہ مرد عورت کی خوبصورتی سے محبت کرتا ہے اور عورت مرد کی محبت سے محبت کرتی ہے۔ یوں بھی کہتے ہیں۔ محبت کو اپنے پیچھے آنے دو۔ اس کے پیچھے مت بھاگو اور تم نے محبت کو اپنے پیچھے بھی آنے دیا اور اسے اپنے سنگ باندھ بھی لیا۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔‘‘ انابیہ نے مسکراتے ہوئے بھائی کی وکالت کی تھی۔ لامعہ مسکرا دی تھی۔
’’میں جانتی ہوں انابیہ! بہت سی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ بھی ہے۔ میں نے اوزان سید کو‘ اس کی محبت کو کبھی سمجھا ہی نہیں۔ کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر میں پہلے ہی یہ سمجھ جاتی تو آج یہ سب نہ ہوتا۔ اوزان۔ اوزان کی محبت میرے لیے تھی۔ میرے ساتھ ساتھ تھی اور میں بھاگتی جا رہی تھی۔ انابیہ میں ایک بات سمجھ نہیں پائی تھی۔ محبت دل میں خود گھر کرتی ہے۔ اس کے لیے زبردستی کام نہیں آتی۔ زبردستی چھین لینے کی خواہش سے۔ خواہشیں مرنے لگتی ہیں۔ ایسا مجھے بہت دیر میں پتہ چلا۔ میرے اندر کی خواہشیں بھی ایک ایک کر کے مر گئیں۔ صرف خودغرضی تھی وہ۔ میں غلط تھی سو اکیلی کھڑی رہ گئی اور سچ کبھی تنہا نہیں ہوتا انابیہ۔ تم خوش ہونا؟‘‘ لامعہ نے پوچھا تھا اور انابیہ جواب تک خود کو یکسر بھولے بیٹھی تھی۔ چونک پڑی تھی۔
’’میں…؟ ہاں میں… میں خوش ہوں۔ بہت خوش۔‘‘ بہت پھیکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے انابیہ؟ وہ بندہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے۔ یہ تم بھی جانتی ہو۔ دوسروں کو محبت کی حقیقت سمجھانے والی لڑکی محبت سے اتنی خائف رہے۔ اچھا نہیں لگتا۔‘‘ لامعہ نے اسے ڈپٹا تھا۔
انابیہ خاموشی سے سر جھکا گئی تھی۔
’’عضنان علی خان تمہیں کس قدر… اور کتنا چاہتا ہے۔ انابیہ۔ یہ بات صرف میں ہی نہیں پورا جہاں جانتا ہے۔ کس قدر پاگل ہے وہ تمہارے لیے۔ پھر یہ بے یقینی کیوں؟‘‘
’’نہیں لامعہ! بعض اوقات جو نظر آتا ہے۔ ویسا ہوتا نہیں۔ شاید عضنان کو مجھے پانے کی ایک لگن تھی۔ اگر یہ لگن پوری نہ ہوتی تو شاید… وہ اب تک اسی دیوانگی سے میری تمنا کرتا رہتا مگر… کسی شے کے حصول کے بعد… اسے پا لینے کے بعد اس کی اٹریکشن ختم ہو جاتی ہے سو…‘‘
’’شٹ اپ انابیہ! تم عضنان کو سمجھنے میں ضرور کوئی غلطی کر رہی ہو۔ خواہ مخواہ اپنی دنیا کا سکون برباد مت کرو۔ تم جانتی ہو وہ تم سے محبت کرتا ہے اور بے پناہ محبت کرتا ہے۔ اب یہ ادھرادھر کی فضول باتیں جانے دو۔ تجدیدِ وفا کی طرح تجدیدِ محبت بھی ضروری ہے… مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اعتبار ہی اٹھ جائے۔ تم تو جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رہی ہو۔ سب جانتے ہیں اور تم بھی جانتی ہو۔ وہاٹس رونگ ود یو؟‘‘ لامعہ نے ڈپٹا تھا۔
دونوں دوستوں کے درمیان ویسا ہی دوستی کا ماحول تھا۔جیسے کوئی دراڑ درمیان میں آئی ہی نہ ہو۔
’’میں بھی ایسا سوچتی تھی لامعہ مگر ایسا واقعی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو… میں ایسا محسوس بھی کرتی مگر…‘‘
انابیہ نے سرہلاتے ہوئے ایک الجھن میں بات ادھوری چھوڑ دی اور لامعہ سمجھ گئی تھی۔ ان دونوں کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں ہے اور یہ بھی کہ انابیہ ان فاصلوں کو اور بھی بڑھا رہی ہے

’’ماہا کی انگیجمنٹ ہو جائے تو اذہان کی شادی کی طرف آ جائیے۔‘‘ سعد ٹائی کی ناٹ باندھتے ہوئے بولے تھے۔ فارحہ نے بالوں میں برش کرتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں مگر آپ کو نہیں لگتا ماہا کی شادی پہلے ہونی چاہیے؟‘‘
’’نہیں وہ ابھی ایم بی اے کر رہی ہے۔ اسے کرنے دو۔ میں نے ایک بار پہلے اپنے بچوں کی خواہشوں کو کوئی امپورٹنس نہ دے کر انہیں خود سے پرے دھکیل دیا تھا۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔ کوئی زبردستی نہیں ہو گی۔ میرے بچے جو کرنا چاہیں گے۔ انہیں ویسا کرنے کی اجازت ہو گی۔‘‘ سعد بولے تھے اور فارحہ انہیں دیکھنے لگی تھی۔
ایک بار پھر وہی پرانا سعد اس کے سامنے کھڑا تھا۔ ایک پل کو تو لگا ہی تھا کہ کوئی گزرا ہوا برا پل درمیان آیا بھی ہو۔ ایک لمحے نے ایک جادوئی چھڑی گھما کر جیسے سارا منظر بدل دیا تھا۔
’’ایسا ہوتا ہے؟‘‘ فارحہ سوچ رہی تھی۔ جب سعد بولے تھے۔
’’کیا ہوا… یہ آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟‘‘
’’نہیں کچھ نہیں۔‘‘ وہ مسکرا دی تھی۔
’’کچھ تو ہے۔ بتائو؟‘‘
’’سوچ رہی تھی۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’ایک پل میں سب پہلے جیسا کیسے ہو گیا۔‘‘ اس کے لہجے میں حیرت تھی اور ایک اطمینان بھی۔ سعد چلتے ہوئے اس کے پیچھے آن رکے تھے۔ جھک کر اس کے گرد اپنے بازوئوں کا حصار پھیلایا تھا اور آئینے میں اس کے عکس کو دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’تم میں ایک جادو ہے فارحہ۔ بس سمجھ لو۔ اسی جادو سے تم نے یہ سب ٹھیک کر دیا ہے۔‘‘ سعد کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
’’جادو؟‘‘ وہ چونکی تھی۔
’’ہاں… خود سے دور نہیں جانے دیتیں۔ گیا تھا… کچھ دنوں کے لیے مگر… جی لگا نہیں۔‘‘ فارحہ ہنس دی تھی۔
’’مذاق مت کیجیے۔‘‘
’’مذاق نہیں ٹرسٹ می۔ میں واقعی نہیں رہ سکا۔ بس ایک عادت سی پڑ گئی تھی تمہاری اور کچھ محبت بھی تھی جو کچھ بھی میں نے کیا وہ تو بس اک ضد سی تھی۔ جو مجھے ہو گئی تھی لیکن میں غلط تھا اور اب اس کا اندازہ مجھے ہو چکا ہے۔‘‘ سعد نے مدہم لہجے میں کہا تھا۔
’’غلط آپ نہیں تھے سعد۔ غلط شاید وقت تھا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ آپ اس طرح… اتنی دوری پر مجھ سے جا کھڑے ہوں گے اور وہ تھی کسی دوسرے کے ساتھ۔اینی ہائو۔ اب جب سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے تو اس بات کا ذکر بھی کیوں کریں۔‘‘
’’ٹھیک۔ تمہاری ایک بات بہت اچھی ہے فارحہ۔ بہت جلد معاف کر دیتی ہو تم۔ میں سوچتا ہوں دوچار گناہ اور کر لوں۔‘‘ سعد شرارت سے کہتے ہوئے ہنس دئیے تھے۔ فارحہ نے پہلے گھورا پھر مسکرا دی تھی۔
’’ہماری عمر تمام ہوئی سعد۔ اب تو وقت ہمارے بچوں کا ہے۔ ہمیں ان کے پرابلمز کو حل کرنا چاہیے ناں کہ اپنے پرابلمز سے انہیں الجھانا چاہئے۔۔ تم نے نہیں دیکھی۔ میں نے دیکھی ہے وہ اسٹریس۔ وہ فرسٹریشن۔ بہرحال۔ وہ سب گزر گیا سو اب ہمیں اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ فارحہ نے بات سمیٹ دی تھی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔ آئی ایم ریڈی میں باہر دیکھتا ہوں۔ گیسٹ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آپ بھی تیار ہو کر آ جائیے۔‘‘
’’ٹھیک لیکن اپنی بیٹی سے ملنا مت بھولئے گا۔ کچھ نروس ہو گی وہ۔ پوچھ لیجیے گا اسے۔‘‘ فارحہ نے لبوں پر لپ اسٹک لگاتے ہوئے کہا تھا۔ سعد نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔

’’تمہاری آنٹی فارحہ کا فون آیا تھا۔ ماہا کی انگیجمنٹ ہے آج۔ تم نے جانا نہیں کیا؟‘‘ وہ بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی ہوئی تھی جب زوباریہ نے اس کے کمرے کی کھڑکی کے پردے کھینچتے ہوئے کہا تھا۔
’’نہیں۔ موڈ نہیں۔‘‘ اس نے بہت مدہم لہجے میں کہا تھا۔
زوباریہ نے چندلمحوں تک اسے خاموشی سے دیکھا تھا پھر چلتی ہوئی اس کے قریب چلی آئی تھیں۔
’’جیا ایسے نہیں جاتا میرب۔ جینا سیکھو۔ میں تمہارے لیے کافی بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ زوباریہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پلٹی اور چلتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔
’’میں نہیں جانتی جیا کیسے جاتا ہے۔ نہیں جینا آتا مجھے۔‘‘ میرب نے سر بیڈ پر پٹخا تھا۔ مائی نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔ جیسے پاپا کے اور ان کے درمیان کوئی بات ہوئی ہی نہ ہو۔
مائی جھوٹ تو نہیں بول سکتی تھیں۔ وہ ان پر اعتبار کرتی تھی۔ جب وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھیں تو یقیناً سچ یہی تھا کہ ان کی اور پاپا کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
اب باقی بچتے تھے پاپا۔ ان کے آنے تک اسے انتظار تو کرنا ہی تھا۔ وہ ایک دن کے لیے جرمنی گئے تھے اور جب تک وہ واپس آ جاتے۔ اسے یوں ہی سوچتے رہنا تھا۔ پتہ نہیں کیا کر رہی تھی اس کے ساتھ زندگی۔
وہ اسی طرح اوندھے منہ پڑی تھی جب اس کا سیل فون بجا تھا۔ اس نے بے دھیانی سے دیکھے بغیر فون کان سے لگالیا ۔
’’کتنی بے مروت لڑکی ہو تم۔ اس دنیا کی سب سے خودغرض لڑکی۔ سیفی نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھا۔
’’اوہ سیف الرحمن! تم۔‘‘ اس کے ہوش ایک منٹ میں ٹھکانے آئے تھے۔
’’سیف الرحمن کی بچی۔ کہاں غائب ہو تم؟ اتنی منتوں مرادوں کے بعد خداخدا کر کے میری انگیجمنٹ ہو رہی ہے اور تم غائب ہو۔‘‘ سیف نے گلہ کیا تھا۔
اتنے برے موڈ کے باوجود وہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
’’سیفی تم بھی ناں۔‘‘
’’آج واقعی میری انگیجمنٹ ہونے جا رہی ہے۔‘‘
’’ہاں جانتی ہوں میں۔ پتہ ہے مجھے۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’پتہ ہے اور پھر بھی غائب ہو۔‘‘
’’غائب نہیں ہوں سیف۔ دراصل میری طبیعت خراب ہے۔ زوباریہ بھی یہی کہہ رہی تھی۔‘‘
’’تو تم نہیں آ رہی ہو؟‘‘ سیف الرحمن کو حیرت ہوئی تھی۔
’’میں آئی تو پھر بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا سیفی۔ میرا موڈ بہت خراب ہے۔‘‘
’’شٹ اپ میرب! تمہیں صرف اپنی پروا ہے میری نہیں۔ کیسی لڑکی ہو تم۔ ٹھیک ہے مت آئو۔ آرام کرو۔ بائے۔‘‘ سیف الرحمن نے فون بند کر دیا تھا۔
میرب سیل فون ہاتھ میں لیے رہ گئی تھی۔
’’کیوں سمجھ نہیں رہا تھا سیفی۔‘‘
وہ اس موڈ کے ساتھ۔ کیسے شرکت کر سکتی تھی۔ اس موڈ کے ساتھ شرکت کرنا‘ مطلب کسی اور کا موڈ بھی خراب کرنا مگر سیفی یقیناً سمجھ نہیں رہا تھا۔ ناراض ہو گیا تھا وہ…اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اسے منانے کی کوشش فوری طور پر کرتی مگر اس وقت تووہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھی تھی۔ تب ہی دوبارہ سیل فون بجا تھا۔
’’ہیلو سیفی! آئی ایم سوری۔ تم…‘‘
’’ہیلو اٹس ناٹ سیفی اذہان ہیئر۔ وہاٹ ہیپنڈ؟‘‘ اذہان نے پوچھا تھا۔ اس نے تھکے ہوئے انداز میں ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے سر دوبارہ بیڈ پر رکھ دیا تھا۔
’’ہائے اذہان! کیسے ہو؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے سیفی کا فون آیا تھا۔ وہ مجھے آنے کے لیے کہہ رہا تھا لیکن میں نہیں آنا چاہتی۔‘‘
’’کیوں اب کیا ہوا؟‘‘ اذہان نے اس کی بات سن کر مکمل رسانیت سے پوچھا تھا۔
’’کچھ نہیں۔ تم کہاں ہو اس وقت؟‘‘
’’میں اس انگیجمنٹ وینیو میں ہوں۔ تم ریڈی ہو؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میرب کو صاف لگا تھا اب اس کا انکار کوئی معنی نہیں رکھے گا۔ تب ہی تھکے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
’’تو ٹھیک ہے۔ تم آدھے گھنٹے میں ریڈی ہو جائو۔ میںپک کر لیتا ہوں۔‘‘
’’اذہان! موڈنہیں ہے پھر کبھی سہی۔ آج نہیں۔‘‘ اس نے کمزور سے لہجے میں انکار کیا تھا۔
’’کوئی بات نہیں موڈ بن جائے گا اور جب موڈ خراب ہو تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے وہ کرنا چاہیے جس کے لیے دل نہ چاہ رہا ہو۔ ایسا کرنے سے خراب سے خراب موڈ بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ شاباش تیار ہو جائو۔‘‘ اذہان نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا اور تب میرب کے پاس کوئی اور راہ نہیں بچی تھی ماسوائے اٹھنے اور تیار ہونے کے۔

گی چپ چاپ الماری کے اندر سے کپڑے نکال کر سوٹ کیس میں ڈال رہی تھی۔ جب سردار سبکتگین حیدر لغاری اندر داخل ہوا تھا۔
’’یہ کیا کر رہی ہو تم؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ پیکنگ کر رہی ہوں تمہاری ٹکٹ کنفرم ہو گئی جانے کی؟‘‘
’’نہیں۔ میں نے ٹرائی نہیں کیا۔ یہ پیکنگ کس لیے؟ خیریت؟‘‘
’’ہاں سب ٹھیک ہے۔ بہت اچھا لگا۔ بہت مزہ آیا۔ بہت سارا اچھا وقت گزارا میں نے یہاں اور اب واپسی۔‘‘
’’واپسی؟ تم کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’واپس۔ بھول گئے تم۔ میں تو یہاں کچھ دنوں کے لیے ہی آئی تھی۔‘‘ گی بہت اطمینان سے مسکرائی تھی۔
’’ہاں مگر…‘‘
’’مگر کیا؟ جب پتہ ہے تو واپسی شرط ہے۔ آئی ہوپ کہ تم اپنی اس اچھی سی دوست کو مس ضرور کرو گے۔‘‘
’’شٹ اپ گی! تم یہاں سے صرف اس لیے بھاگ رہی ہو کہ…‘‘
’’ہاں۔ بھاگ رہی ہوں۔‘‘ گی اپنا کام جاری رکھتے ہوئے مسکرائی تھی۔ ’’میں یہاں ایک کام سے آئی تھی گین۔ کام ختم اور… میرا واپس جانا ضروری ہو گیا ہے۔‘‘ گی بولی تھی اور سردارسبکتگین حیدرلغاری اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
’’تم صرف اس لیے واپس جا رہی ہو کہ…‘‘
’’نہیں گین! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مجھے تو واپس جانا ہی تھا اور اب وہ… وہ مقصد بھی پورا ہو گیا ہے۔ میں چلی بھی جائوں گی مگر میں چاہتی ہوں گین۔ تم اپنی زندگی بہت اچھی طرح سے گزارو اور اس کے ساتھ گزارو جس کے ساتھ تم گزارنا چاہتے ہو۔ اختلافات بہت معمولی ہیں گین بھلا دو سب کچھ… یہ یاد رکھو کوئی ضروری ہے اور اس کے ساتھ زندگی کتنی ضروری ہے۔‘‘ گی نے ہمیشہ کی طرح ایک ہی بات پر زور دیا تھا۔
سردار سبکتگین حیدرلغاری مسکرا دیا تھا۔
’’اچھا بولتی ہو۔ تمہاری باتیں بھی اچھی لگتی ہیں مگر زندگی تمہاری خوب صورت باتوں کی طرح نہیں ہے۔ زندگی بہت الگ ہے گی۔‘‘ سردار سبکتگین حیدرلغاری کا لہجہ مدہم تھا۔
’’کچھ بھی الگ نہیں ہے گین۔ تم ایک بار قدم بڑھائو۔ سب ایک جیسا ہو جائے گا۔ یہ منظر بدل جائے گا۔ تم ہاتھ بڑھا کر تو دیکھو۔‘‘ گی جانے سے پہلے جیسے سب چیزوں کو ان کی جگہ پر دیکھنا چاہتی تھی۔
’’یہ سب باتیں تم ہزاروں بار کہہ چکی ہو گی۔‘‘ سردار سبکتگین حیدرلغاری نے باور کرایا تھا۔
’’میں چاہتا تھا تم یہاں رہو۔ اس گھر کو اپنا گھر سمجھو مگر تم…‘‘ کچھ سوچ کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔ گی مسکرا دی تھی۔
’’یہ گھر کسی اور کا ہے گین اور جس کا ہے اسے اس کے اندر آنے کی اجازت دے دو۔ میں تو تمہاری اچھی دوست ہوں۔ آتی جاتی رہوں گی۔ جسے ہمیشہ یہاں رہنا ہے تم اس سے کیوں نظریں چُرا رہے ہو؟‘‘ گی نے بات کا رخ ایک بار پھر اسی طرف موڑا تھا۔ سردار سبکتگین حیدر لغاری اسے دیکھ کر رہ گیا تھا پھر قدرے توقف سے بولا تھا۔
’’تم جانتی ہو گی! میں بہت پریکٹیکل قسم کا بندہ ہوں۔ زندگی کو دیکھنے کی اور برتنے کی لاجک بہت مختلف ہے میری۔ میں زندگی کو تمہاری نظر سے نہیں دیکھتا۔ تم جو باتیں کرتی ہو۔ دنیا کے دوپرسنٹ لوگ بھی ان باتوں پر یقین نہیں کرتے۔ تم ایک جذباتی لڑکی ہواور میں تمہارے خیالات کی قدر کرتا ہوں۔ آئی ڈو بٹ… زندگی ان باتوں کے سہارے آباد نہیں ہوتی۔ تم آج اس طرح تنہا کھڑی ہو تو اس میں قصور تمہاری اپنی سوچوں کا ہے۔‘‘ وہ روانی سے کہہ گیا تھا۔
گی جو تیزی سے سامان رکھ رہی تھی۔ ایک لمحے میں اس کا ہاتھ رک گیا تھا۔ وہ پلٹ کر سردارسبکتگین حیدرلغاری کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ سردار سبکتگین حیدرلغاری کو گمان تک نہیں گزرا تھا کہ وہ کچھ غلط کہہ گیا ہے۔
’’میں اگر تنہا ہوں تو اس میں قصور میری سوچوں کا نہیں ہے گین۔ ایسا طے شدہ تھا۔ میری قسمت ہے یہ… اور میں اسے قبول کرتی ہوں۔‘‘ وہ بہت مضبوط لہجے میں بولی تھی۔ آنکھوں میں نمی تیرتی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا اس حالت میں اتنا اسٹریس لینا اور اتنی دیر کھڑے رہنا مناسب نہیں تھا۔
سردارسبکتگین حیدرلغاری کو خیال آیا تھا اور اس نے گی کو شانوں سے تھام کر اسے بیڈ بر بٹھا دیا تھا۔
’’ریلیکس گی! سوری۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ لکھا یا طے شدہ کچھ نہیں ہے۔ ہم جو سوچ لیتے ہیں‘جو کرتے ہیں‘ اسی سے ہمارے آگے والی… آئندہ آنے والی زندگی بنتی ہے۔‘‘ نرمی سے سمجھایا تھا۔
’’بات اپنے اپنے سوچنے کی ہے گین۔ جیسا تم سوچتے ہو۔ ویسا میں نہیں سوچتی اور جیسا میں سوچتی ہوں ویسا تم نہیں سوچتے۔ بعض اوقات کسی کو پا ہی لینا کافی ہوتا ہے اور بعض اوقات پا ہی لینا کافی نہیں ہوتا اور تمہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ میں تنہا ہوں بھی یا کہ نہیں۔ امگر میں تمہاری طرح سوچتی ہوں تو شاید مجھے بھی لگے کہ میں خالی ہاتھ ہوں اور تنہا ہوں مگر… میں ایسا سوچتی ہی نہیں۔ میرے ہاتھ خالی ضرور ہیں گین مگر… میرا دل… بھرا ہوا ہے اور جب دل بھرا ہوا ہو تو پھر کسی اور شے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ میرے پاس آدھی ادھوری ہی سہی محبت ضرور ہے اور میں اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوں۔ کچھ یادیں بھی ہیں اور میں ان کے ہونے پر بھی پُرملال نہیں ہوں۔ میں جو بھی ہوں‘ جیسی بھی ہوں اپنے آپ کو قبول کرتی ہوں۔ اس لیے میں دوسروں کو بھی اتنی آسانی سے قبول کر سکتی ہوں۔ شاید دوسروں کو میں بہت غلط لگتی ہوں۔ مگر میں صحیح ہوں۔ یہ بات میں جانتی ہوں۔‘‘ گی کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ ایک پُراعتماد دھیمی سی مسکراہٹ۔ جیسے وہ اپنی سوچ سے ہی سردارسبکتگین حیدرلغاری کو شکست دے رہی ہو۔
سردار سبکتگین حیدرلغاری نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔ پھر گھٹنوں کے بل اس کے عین سامنے بیٹھا ہوا نرمی سے بولا تھا۔
’’گی تم غلط نہیں ہو۔ میری اتنی اچھی دوست غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ کیا تم مجھے بھی اپنے جیسا سوچنا سکھا سکتی ہو؟‘‘ وہ اس کا موڈ درست کرنے کو مسکرایا تھا۔ گی کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی۔
’’سچ میں گی! تم بہت اچھی ہو۔ اتنی اچھی کہ اگر میری زندگی میں میری اس سوکالڈ وائف کی جگہ نہ بن چکی ہوتی تو شاید میں تم سے شادی بھی کر لیتا۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔ گی کھل کر مسکرا دی تھی۔
’’اس کو مانو گے تب ہی تو اسے زندگی میں جگہ دے پائو گے۔ ویسے مان تو تم چکے ہو۔ بس یہ اپنی انا پرستی کی دیواریں بھی گرا دو۔‘‘
’’تمہارا خیال ہے۔ میں اناپرست ہوں اور وہ جو فیمی ازم میں قید ہے۔ اس کا کیا کہو گی تم؟‘‘ سردار سبکتگین حیدرلغاری ایک پل میں سنجیدہ ہوا تھا۔ ’’مسئلہ جہاں نہیں بھی ہوتا ان محترمہ کو خود مسئلہ کھڑا کرنا اچھا لگتا ہے۔ جہاں غلطی نہیں بھی ہوتی۔ وہاں بھی غلطیاں تلاش کرتی ہیں وہ۔‘‘
’’نہ تم یہ مین ایگوازم توڑنے کو تیار ہو‘ نہ وہ اپنے فیمی ازم سے باہر آنے کو تیار ہے تو پھر بات کیسے بنے گی؟‘‘ گی کو تشویش تھی۔ وہ صحیح معنوں میں ان دونوں کی خیرخواہ تھی۔
’’بات اب بنے گی نہیں گی! ختم ہو گی۔ اٹس آل ریڈی ڈن۔ بات ختم ہی ہونے جا رہی ہے۔ ان محترمہ نے آغاز کر دیا ہے۔ بلکہ بہت دیر پہلے آغاز کر دیا تھا۔ وہ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہیں تو یہ رشتہ ختم ہو جائے گا۔ میں تو صرف ان کی خواہشوں کو پورا کر رہا ہوں۔ تم کس بات کی فکر کر رہی ہو گی۔‘‘
’’دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا بھی گین۔ وہ ناشمجھی میں کر چکی ہے تو کیا تم بھی؟ تم تو سمجھ دار بنو۔ کم ازکم کلیئر کرنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’کیا کلیئر کرنے کی کوشش کروں؟ وہ مٹا رہی ہے۔ سب کچھ اور تم بات کرتی ہو کلیئر کرنے کی۔ کلریفیکیشن کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کچھ باقی بچتا ہو اور اس کے اور میرے درمیان سب ختم ہونے کو ہے اور میں اپنی صفائیاں آپ پیش نہیں کر سکتا۔ اس سب کے لیے ’’معافی نامہ‘‘ دائر نہیں کر سکتا جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں۔ مجھے سمجھوتا نہیں کرنا ہے اور ایسے حالات میں تو قطعاً ہی نہیں۔ اگر وہ اپنی فضول کی سوچوں میں زندہ رہنا چاہتی ہے تو رہے۔ میں اسے کسی بات کی کوئی وضاحت نہیں دوں گا۔‘‘ سردار سبکتگین حیدرلغاری کا لہجہ اور انداز دوٹوک تھا۔
’’تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا گین؟‘‘ گی نے نرمی سے پوچھا تھا۔ اس کے ایسا کرنے سے… دور جانے سے…؟ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا؟ چلو مان لو وہ غلط کر بھی رہی ہے۔ جو بھی کر رہی ہے وہ کر رہی ہے مگر تم نے کیا کیا؟ اس رشتے کو بچانے کو تم نے کیا کیا؟ کوئی ایک بھی اسٹیپ لیا؟ اگر کبھی لیا ہوتا تو آج تمہارا یہ رشتہ اس طرح ٹوٹ نہیں رہا ہوتا۔ اس بے چاری لڑکی کو سارے الزام مت دو گین۔ غلطیاں آپ کی بھی ہیں۔ اگر آپ بہت اچھے ہیں تو اسے غلط ثابت کیوں نہیں کر دیتے؟ وہ صرف غلط فہمیوں کا شکار ہے تو اس کی غلط فہمی دور کر دو ناں۔ سارا اعتبار اسی کی طرف سے کیوں؟
تم بھی تو کچھ اعتبار کر سکتے ہو اس پر۔ تھوڑا اعتبار سونپ سکتے ہو اسے۔ تم اتنا کچھ اس کی طرف سے کیوں امید کرتے ہو۔ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کچھ امیدیں اس کی بھی ہو سکتی ہیں۔ وہ بھی تو ایسا سوچ سکتی ہے کہ پہلے تم ہاتھ بڑھائو‘ اسے تھامو‘ سہارا دو۔ کیا غلط چاہتی ہے وہ گین؟ لڑکیاں عجیب ہوتی ہیں گین۔ ان کی خواہشات بھی عجیب ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھنا اتنا مشکل نہیں۔ بس دل چاہیے۔ بے وقوف ہوتی ہیں کچھ۔ دل سے سوچتی ہیں۔ جو بھی کرتی ہیں دل سے کرتی ہیں۔ سو انہیں دماغ والے نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ گی نے میرب کا بھرپور دفاع کیا تھا۔
’’ٹھیک کہتی ہو تم۔ لڑکیوں میں عقل تھوڑی ہوتی ہے۔‘‘ سردار سبکتگین حیدر نے حتمی طور پر کہا تھا۔ گی کا دل سر پیٹ لینے کو چاہا تھا۔
’’سردار سبکتگین حیدر لغاری! کبھی سوچیں گے کہ لڑکی بھی کوئی احساس یا جذبات رکھتی ہے؟‘‘
’’میں لبرل ہوں گی! میرے لیے لڑکی یا لڑکے سے فرق نہیں پڑتا۔ مرد ہو یا عورت۔ اپنی غلطیوں کو ماننا چاہیے۔‘‘
’’تم مانتے ہو؟‘‘ گی اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی تھی۔
’’کیا؟‘‘ سردار سبکتگین حیدرلغاری نے بنا سمجھے کہا تھا۔
’’گین! غلطیاں تو تم سے بھی ہوئی ہیں۔ پھر سارا الزام اسی پر کیوں؟ ٹھیک ہے اگر آپ اسے کچھ نہیں بتا سکتے تو میں بتا دیتی ہوں۔‘‘ بہت اطمینان سے کہا تھا۔
’’سردار سبکتگین حیدرلغاری چونک پڑا تھا۔
’’کیا بتائو گی تم اسے؟‘‘
’’سب۔‘‘ گی کا اطمینان ہنوز برقرار تھا۔
’’سب کیا؟‘‘ گی کے کہنے پر سردار سبکتگین حیدرلغاری نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ ’’گی میں تم سے یہ بچوں جیسی باتوں کی امید نہیں کرتا۔ کم ازکم تم تو اس طرح کی باتیں نہ کرو۔‘‘سردار سبکتگین حیدر لغاری بولا تھا۔
’’یہ بچوں جیسی باتیں نہیں ہیں گین۔‘‘
’’پھر بھی تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی۔‘‘ حکم جاری ہوا تھا۔
’’تو پھر کیا تم کہو گے؟‘‘ گی نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ سردار سبکتگین حیدر لغاری کچھ نہیں بولا تھا۔ چپ چاپ اٹھا تھا اور باہر نکل گیا تھا۔

بہت ہی گہما گہماہورہی تھی۔ کچھ لوگ تھے… ہجوم تھا مگر وہ اس بھیڑ میں بھی تنہا ہی کھڑی تھی۔ اپنے ہی دھیان میں۔ ادھر ادھر کی کچھ پروا تھی نہ فکر۔
اذہان اسے یہاں لے ہی آیا تھا مگر یہاں کے ماحول نے موڈ پر کچھ زیادہ اثر نہیں ڈالا تھا۔ اس کا موڈ جوں کا توں تھا۔
’’کیا ہوا آپ چپ چاپ کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ ایک دوستانہ سا لہجہ اس کے قریب ہی ابھرا تھا۔ میرب نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔ سامنے بلیو شیفون کی ایمبرائیڈڈ ساڑھی میں نازک سی لڑکی کھڑی تھی۔ میرب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی۔
’’ساہیہ؟‘‘ میرب نے مدہم لہجے میں پکارا تھا۔
’’اب پوچھئے میں نے آپ کو کیسے پہچانا؟‘‘ میرب اس کی بات پر بھی کچھ نہیں بولی تھی تب ہی وہ مسکراتی ہوئی اسی شگفتگی سے بولی تھی۔
’’دنیا کی سب سے اچھی اور خوب صورت لڑکی کو پہچاننا کچھ اتنا مشکل بھی نہیں۔‘‘ ساہیہ کے لبوں پر بڑی دوستانہ سی مسکراہٹ تھی۔ میرب کے لیے مسکرانا ضروری ہو گیا تھا۔
’’ہاں میں ہی میرب ہوں۔ میرے لیے بھی یہ پہچاننا مشکل نہیں رہا۔ میںبھی کچھ ایسا ہی سوچ رہی تھی۔‘‘ ساہیہ ہنس دی تھی۔
’’ہم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں کافی اچھا سوچتے ہیں لیکن آپ اس قدر چپ کیوں کھڑی تھیں؟‘‘ ساہیہ نے پوچھاتھا۔
’’نہیں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ میں تو آنا بھی نہیں چاہتی تھی مگر… سیفی نے بہت ضد کی سو آنا پڑا۔ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔ میں اس کی بات نہیں ٹال سکتی۔ سوچلی آئی۔‘‘ میرب نے ایک مروت بھری مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا تھا۔ ساہیہ مسکرا دی تھی۔
’’اینی ہائو۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘ ساہیہ نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا تھا۔
’’آپ سے مل کر بھی بہت خوشی ہوئی۔ تمہارے بارے میں اذہان سے بہت سنا تھا دیکھا تو پتہ چلا۔ اذہان غلط نہیں تھا۔‘‘ میرب مسکرا دی تھی۔
’’ارے آپ اس کی باتوں پر یقین کرتی ہیں۔ اسے تو عادت ہے بے پرکی اڑانے کی لیکن اس نے آپ کے بارے میں غلط نہیں کہا تھا۔‘‘ ساہیہ اپنے شگفتہ سے انداز میں مسکرائی تھی۔ ’’ارے آپ کھڑی کیوں ہیں؟ آپ کی تو طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ آپ پلیز ادھر بیٹھ جائیے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر میں منگنی کی پارٹی شروع ہو رہی ہے۔ آپ سیفی سے ملنا چاہیں گی اس لیے آپ یہاں قریب ہی بیٹھئے۔‘‘ ساہیہ نے ایک قریب پڑی چیئر کی طرف اشارہ کیا تھا۔
میرب کو ہجوم سے یوں بھی الجھن سی ہو رہی تھی۔ عجیب مردہ سا دل تھا۔ تب ہی اس نے فوراً سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’نہیں۔ میں یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’آپ کی سگی خالہ کا گھر ہے اور آپ پھر بھی اتنی فارمل ہو رہی ہیں۔‘‘ساہیہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس گھر میں بھاگتے دوڑتے بڑی ہوئی ہوں میں۔ پھر یہ گھر میرے لیے نیا کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘ میرب پُراعتماد انداز سے گویا ہوئی تھی۔
ساہیہ مسکرا دی تھی۔
’’ہاں۔ میں تو بھول ہی گئی تھی۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میرب چونکی تھی۔
’’یہی کہ آپ اس گھر کی بہت پیاری سی بیٹی ہیں۔ فارحہ آنٹی واقعی آپ سے بہت پیار کرتی ہیں۔‘‘ ساہیہ کا انداز شفاف تھا۔
’’ہاں ایسا ہی ہے۔ اذہان بہت لکی ہے۔ اسے تم جیسی لڑکی ملی۔‘‘ ساہیہ ہنس دی تھی۔
’’اس سے پوچھ کر دیکھئے گا۔ اسے لگے گا میں لکی ہوں جسے اس جیسا لڑکا ملا۔ آپ کو پتہ ہے کتنی بار میں نے اس سے آپ سے ملوانے کو کہا مگر وہ ہر بار ٹال گیا۔ مجھے تو لگا وہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ میں آپ سے ملوں۔‘‘ ساہیہ مسکرائی تھی۔ اس کے انداز میں کہیں کوئی طنز نہیں تھا۔ کوئی تجسس بھی نہیں تھا۔
میرب کے دل میں بھی کہیں کوئی چور نہیں تھا۔ سو اعتماد سے اس کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی۔
ماضی میں اذہان کے ساتھ اس کا کوئی بھی رشتہ رہا ہو۔ اب اس کی کوئی حقیقت نہیں رہی تھی اور ایسا میرب کا دل جانتا تھا مگر شاید ساہیہ کہیں اس حقیقت سے بے خبر تھی۔ شاید اس کی یادداشت کے کسی کونے میں اب بھی وہ رشتہ زندہ تھا اور میرب اس بات کی حقیقت پا گئی تھی۔ تب ہی بہت نرمی سے اس کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ؟‘‘
’’کچھ نہیں صرف محبت تلاش کر رہی ہوں جو اذہان تم سے کرتا ہے اور تم اذہان سے کرتی ہو۔‘‘
ساہیہ مسکرا دی تھی۔
’’توپھر کیا نظر آیا آپ کو؟‘‘ ساہیہ نے دلچسپی سے پوچھا تھا۔
’’محبت۔‘‘ میرب دھیمے سے لہجے میں بولی تھی۔
’’محبت؟‘‘ ساہیہ چونکی تھی۔
’’ہاں محبت۔ محبت زندگی میں کئی زاویے بدل کر آتی ہے ساہیہ۔ کئی رنگوں میں نظر آتی ہے اور ہربار رنگ نیا ہوتا ہے۔ اذہان نے شاید تمہیں نہ بتایا ہو مگر اس کی زندگی میں تم بہت اہم ہو۔ ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ہمارے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ جیسے میرے لیے کوئی اہم ہے۔ اتنا کہ میں اس کے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ وہ میرا شوہر ہے۔ میری دنیا اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ آج وہ یہ بات نہیں سمجھ رہا مگر ایک دن ضرور سمجھ جائے گا۔ ایسے ہی اذہان کی دنیا میں تم ہو۔‘‘ میرب نے ایک لمحہ ہاتھ میں آتے ہی ساہیہ کی سوچ کا رخ بدل دیا تھا۔
ساہیہ اسے ساکت سی دیکھ رہی تھی۔ جب اذہان وہاں ان کے درمیان آن رکا تھا۔
’’یہ تم دونوں خواتین کیا سازش کر رہی ہو؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔ ہم بس آپ کی برائیاں کر رہے تھے۔‘‘ ساہیہ مسکرائی تھی۔
’’اوہ! آئی سی۔ میرب! تم بھی اس کے ساتھ مل گئیں۔ کم ازکم مجھے تم سے ایسی امید نہیں تھی۔‘‘ اذہان نے شکوہ کیا تھا۔
’’نہیں میں صرف اپنے شوہر کی برائیاں کر رہی تھی۔‘‘ میرب نے مسکراتے ہوئے جتایا تھا۔ اذہان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ لمحہ بھر کو آنکھیں کچھ بجھی تھیں۔
’’چلو۔ منگنی پارٹی شروع ہو رہی ہے۔ باقی کی برائیاں آپ دونوں خواتین کسی اور وقت کر سکتی ہیں۔ فی الحال یہ کام بھی اہم ہے۔‘‘ اذہان بولا تھا اور ساہیہ مسکراتی ہوئی میرب کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے لگی تھی۔

’’ممی کا فون آیا تھا صبح۔ اوزی کے لیے لامعہ کا ہاتھ مانگنے جانا ہے۔ آج شام آپ جلدی آ جائیے گا۔ تو ہم چلیں گے۔‘‘ صبح کی معمول کی روٹین کے ساتھ انابیہ نے اطلاع دی تھی۔
عضنان نے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اسے ایک نگاہِ غلط انداز سے دیکھاتھا۔ وہ الماری کا پٹ کھولے غالباً اس کے لیے میچنگ کی ٹائی نکال رہی تھی۔ سب کچھ تھا مگر درمیان کی وہ سردمہری بدستور پھر بھی قائم تھی۔ وہ ختم نہیں ہو رہی تھی۔ عضنان اس کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ ایک اجنبی پن برقرار تھا تو کیوں تھا؟
’’اگر آپ کے پاس وقت نہ ہو تو بتا دیجیے۔ میں چلی جائوں گی۔‘‘ خالصتاً بیویوں جیسا انداز تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے خدوخال میں ڈھل رہی تھی۔ اجنبی بننے کے باوجود مکمل طور پر اجنبی ہو نہیں پا رہی تھی۔ ایک ٹائی برآمد کر کے پلٹی تھی۔
’’یہ ٹھیک ہے؟‘‘ ٹائی کی طرف اشارہ کیا تھا۔
عضنان نے سراثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’دوستی ہو گئی؟‘‘ ٹائی تھامتے ہوئے دریافت کیا تھا۔
انابیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا جیسے وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کس کی بابت دریافت کر رہا تھا۔
وہ قریب تھی۔
ایک خواہش اندر ابھری تھی۔
اسے تھام کر قریب کر لینے کو دل چاہا تھا۔
مگر وہ ہاتھ صرف ٹائی تھام کر بے خبر ہو گیا تھا۔
’’آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟‘‘ انابیہ نے پلٹ کر الماری بند کرتے ہوئے دریافت کیا تھا۔
عضنان مسکرایا تھا۔
’’خوشی کی بات ہے؟‘‘ انداز میں ایک خفیف سا طنز تھا۔
انابیہ نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔
’’خوشی کی بات تو ہے۔ دلوں میں میل رکھنا اچھی بات تو نہیں۔‘‘ اطلاع دی تھی۔
’’اچھا… یہ بات آپ کہہ رہی ہیں؟‘‘ عضنان علی خان نے ٹائی کی ناٹ باندھتے ہوئے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔
’’ہاں۔ میں ہی کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس کی کوئی پروا کئے بنا وہ بولی تھی۔
’’میں نے کبھی کسی کے لیے میل دل میںنہیں رکھا۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟‘‘ اس کے طنز کو محسوس کرتے ہوئے وضاحت دے کر پوچھا تھا۔ عضنان علی خان نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ پھر شانے اچکا دئیے تھے۔
’’آپ کا اشارہ پھر میری طرف کیوں ہوا؟‘‘ انابیہ نے نشاندہی کی تھی۔
’’میں نے کوئی اشارہ نہیں کیا۔ آپ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات کر رہی ہیں۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے پرفیوم اسپرے کرتا ہوا مسکرایا تھا۔
انابیہ کی حیرت کی حد رہ گئی تھی۔
’’کیا؟ میں سمجھی آپ ڈھکے چھپے انداز میں طنز فرما رہے ہیں۔ آپ تو… کھلے عام الزامات لگا رہے ہیں۔‘‘
’’لو ہو گئی شروع جنگِ دوئم۔‘‘ وہ اکتا کر بولا تھا۔
’’آپ منہ ہی منہ میں بڑبڑ کیا کر رہے ہیں؟ کچھ سنانا ہے تو اونچی آواز میں سنا دیجیے۔‘‘ انابیہ نے کمبل طے کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’کچھ نہیں سنانا مجھے آپ کو۔ سنایا وہاں جاتا ہے جہاں کوئی اثر بھی ہو۔ یہاں کچھ کہنا… نہ کہنا بے کار ہے۔‘‘ بات ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
انابیہ اس قطعی انداز پر اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔ سوٹڈ بوٹڈ… وہ شخص… ایک پل میں بہت پرایا لگا تھا جیسے اس کے اور انابیہ کے بیچ کوئی تعلق ہو ہی نہ۔ انابیہ کو ایک لمحے میں اپنا آپ بہت خالی لگا تھا۔ ہاتھوں کی گرفت کمبل پر کمزور پڑی تھی۔ اس نے کمبل وہیں چھوڑ دیا تھا اور چلتے ہوئے اس کے قریب سے گزر کرباہر نکل جانا چاہا تھا۔ تب ہی عضنان علی خان نے اس کی کلائی کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ انابیہ نے سوالیہ نظروں سے اس شخص کی طرف دیکھا تھا مگر عضنان کے لبوں پر چپ تھی۔
’’بیویوں والے سارے تیور آتے جا رہے ہیں آپ میں۔‘‘ لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ لیے وہ بولا تھا۔
’’یہی بتانے کے لیے آپ نے راستہ روکا ہے؟‘‘ وہ نظریں پھیرتی ہوئی بولی تھی۔
’’راستہ کہاں روکا ہے۔ میں نے ہاتھ تھاما ہے۔ ہاتھ تھامنے والے ساتھ چلتے ہیں۔ راہ کی رکاوٹ نہیں بنتے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے راستے کی کوئی رکاوٹ ہوں تو ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ جائیے۔ اپ ٹو یو۔‘‘ بہت ہی بامعنی بات بہت ہی سرسری انداز میں کہتے ہوئے عضنان علی خان نے دھیان اس کی طرف سے ہٹایا تھا اور ساتھ ہی اس ہاتھ کو بہت آہستگی سے چھوڑ دیا تھا۔ انابیہ اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔
ایک پل میں اس شخص نے ساری بات ختم کر دی تھی۔ وہ کیوں نہیں سمجھتا تھا کہ جو باتیں اس کے لیے بہت معمولی تھیں وہ انابیہ کے لیے غیرمعمولی بھی ہو سکتی تھیں۔ وہ پلٹ کر اس ہاتھ کو تھام نہیں سکتی تھی۔ وہ ہاتھ خود اس نے چھڑا لیا تھا اور وہ… تو وہ اب تک اس کے ساتھ صرف اپنی مرضی سے تھی۔ اس شخص کی مرضی اس میں کہیں نہیں تھی؟
یعنی اس کا یہاں رہنا یا نہ رہنا صرف اس کا فیصلہ تھا۔ اس شخص کو اس سے کوئی سروکارہی نہ تھا۔کوئی فرق پڑتا ہی نہ تھا۔ وہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی تھی۔
عضنان علی خان نے اسے خود سے دور جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے اور اپنے درمیان فاصلے بڑھتے دکھائی دئیے تھے۔ پہلے سے بھی کہیں زیادہ… اس تعلق کا انجام کیا ہونا تھا۔ وہ نہیں سمجھ سکا تھا۔

زوباریہ نے بتایا تھا کہ اس سے کوئی ملنے آیا ہے۔
وہ سمجھی شاید ساہیہ ہو گی۔ وہ نیچے آئی تھی مگر وہاں گی کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
’’آپ؟‘‘
گی بہت اطمینان سے مسکرا دی تھی۔
’’کیسی ہو تم؟ مجھے یہاں دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔ مائی سے صبح بات ہوئی تھی۔ بتا رہی تھیں آپ واپس جا رہی ہیں۔‘‘ میرب نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ گی نے مسکراتے ہوئے سراثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’ہاں مائی نے تمہیں ٹھیک بتایا۔ میں واقعی واپس جا رہی ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں؟ گین نے روکا نہیں آپ کو؟‘‘ میرب نے پوچھا تھا۔ گی اس جملے کا مفہوم اچھی طرح سے سمجھتی تھی تب ہی بولی تھی۔
’’ہاں گین نے روکا مجھے۔ جانے سے منع بھی کیا مگر… میں واپس جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میرب نے دریافت کیا تھا۔
’’کیوں سے کیا مطلب؟ آف کورس مجھے واپس جانا ہی تھا۔ گین نے شاید تمہیں بتایا نہیں میں یہاں ایک ضروری کام سے آئی تھی۔ وہ کام پورا ہو گیا تو بس اب واپسی کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں بچا۔ یوں بھی کوئی کتنی دیر کہیں رہ سکتا ہے۔ میں یہاں صرف ایک گیسٹ تھی۔ گین بہت اچھا ہے۔ بہت خیال رکھا اس نے میرا۔ بہت ساتھ دیا۔ بہت اچھا دوست ہے وہ میرا۔ ان فیکٹ اس نے یہ ثابت بھی کر دیا۔ میں بہت دنوں سے تم سے ملنا چاہتی تھی مگر نکلنا ہی نہیں ہو رہا تھا۔ آج ساری پیکنگ مکمل ہوئی تو فوراً تمہاری طرف چلی آئی۔ میرب میں تم سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’آپ اتنی جلدی کیوں جا رہی ہیں اگر سردار سبکتگین حیدر لغاری چاہتے ہیں آپ رکیں تو آپ رک جائیں۔‘‘ میرب نے مشورہ دیا تھا۔’’آپ کو مجھ سے کیا بات کرنی تھی‘ کوئی ضروری کام؟‘‘ اس کا انداز بہت الجھا الجھا اور عجیب سا تھا۔ جیسے وہ گی کو فیس نہیں کر پا رہی تھی۔ گین کی مکمل توجہ کا مرکز تھی وہ۔ پھر وہ کیوں چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے… جب کہ اب اس کا اور گین کا رشتہ بھی تقریباً اختتام پر تھا۔
گی اس کے سامنے بہت پراعتماد انداز سے بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر مکمل سکون تھا مگر میرب کے اندر کہیں بھی سکون نہیں تھا۔
’’تم پریشان لگ رہی ہو‘ کیا ہوا؟‘‘ گی اس کی طرف سے متفکر ہوئی تھی۔
میرب نے سر ہلا دیا تھا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔ اگر گین چاہتا ہے آپ رک جائیں تو آپ کو رک جانا چاہیے۔ یوں بھی آپ کی حالت ایسی نہیں کہ آپ سفر کر سکیں۔ بچے کی ڈلیوری تک تو آپ کو رکنا چاہیے۔‘‘ میرب نے مشورہ دیا تھا۔
’’نہیں… میں ٹھیک ہوں اور ابھی تو بہت سا عرصہ پڑا ہے۔ تم میری فکر نہ کرو۔ میں اپنی کیئر خود کر سکتی ہوں۔‘‘ گی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور میرب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ بہت نرمی سے رکھا تھا۔
’’آپ کو مجھ سے کیا بات کرنا تھی؟‘‘ میرب نے پوچھا تھا۔
’’تم مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ گی نے ملائمت سے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ میرب نے کہا تھا پھر اس کی طرف سے اپنا دھیان پھیر گئی تھی۔ ’’میں آپ سے ناراض کیوں ہوں گی۔ آپ نے میرا کیا بگاڑا ہے۔‘‘ لبوں پر ایک طنز بھری مسکراہٹ بھی تھی۔ جیسے وہ کسی اور سے نہیں اپنی قسمت سے خائف ہو۔
’’گی! میں کسی اور سے نہیں شاید اپنی قسمت سے یا پھر اپنے آپ سے خفا ہوں… مجھے نہ تو گین سے کوئی گلہ ہے نہ کسی اور سے۔‘‘
’’تمہیں کیا لگتا ہے میرب۔ میں اس تمام بگاڑ کی وجہ ہوں؟‘‘ گی جیسے آج سارے معاملات سلجھا دینے کی غرض سے آئی تھی۔
’’نہیں۔ میں ایسا کچھ نہیں سمجھتی۔ میں نے کہا ناں مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں لیکن آپ گین کو تنہا کیوں چھوڑ رہی ہیں؟ گین کو جب آپ کی ضرورت ہے۔ اب بچے کی ضرورت ہے تو۔‘‘ میرب بولی تھی اور گی مسکرا دی تھی۔
’’میں جانتی ہوں میرب تم بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو۔ سردار سبکتگین حیدر لغاری کا مجھ سے یا اس بچے سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘
میرب نے سر اٹھا کر گی کی طرف دیکھا تھا۔
’’اگر آپ گین کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں تو… لیکن آپ اپنے بچے… آئی مین اس بچے کو اس کے حق سے محروم کیوں کر رہی ہیں۔ گین کی ذمے داری ہے یہ۔ آپ کو اس کی تمام تر ذمے داری اسی کے حوالے کردینی چاہیے۔‘‘
’’نہیں تم غلط سمجھ رہی ہو میرب۔ میں نے جو کہا۔ وہ تم نے سنا نہیں۔ میں نے کہا گین میرے بچے کا باپ نہیں ہے۔ گین صرف میرا اچھا دوست ہے۔ اس نے میری مدد کی اور یہی اس سے بھی غلط ہوا اور مجھ سے بھی۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میرب چونکی تھی۔
’’ہاں گین تمہیں کبھی یہ سب نہیں بتا سکا۔ کیوں کہ تم یہ سب جاننا چاہتی ہی نہیں تھیں۔ تم نے اپنے طور پر سب کچھ اخذ کر لیا تھا اور اسی کو سچ مانتے رہنا چاہتی تھیں۔ سو تمہیں کبھی سچ پتہ بھی نہیں چل سکا۔‘‘
’’سچ… سچ کیا تھا۔ آپ یہاں گین کے پاس آئی تھیں۔ آپ دونوں اس بچے کو لے کر باتیں کر رہے تھے۔‘‘
’’اور ضروری تو نہیں تھا کہ وہ ذمے دار تھا اس لیے میں اس سے اس بچے کے متعلق باتیں کر رہی تھی۔‘‘ گی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تھا۔
’’گی! تم فضول کی وضاحتیں کیوں دے رہی ہو؟ اگر کچھ ایسا ہوتا تو گین کچھ خود کہتا مجھ سے۔‘‘ میرب نے ایک لمحے میں سب کچھ جھٹلا دیا تھا۔
’’سردار سکبتگین حیدرلغاری کو تم مجھ سے زیادہ بہتر جانتی ہو گی میرب۔ وہ تمہارا شوہر ہے مگر وہ بہت سی باتوں کی وضاحت نہیں دیتا۔ کچھ میں بھی سمجھتی ہوں اسے۔ وہ چاہتا ہے۔ دوسرے اس پر اپنے طور پر اعتبار کریں۔ وہ اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہتا اور تمہارے معاملے میں تو یوں بھی… اس کا دل انوالو تھا۔‘‘
’’دل؟‘‘ میرب چونکی تھی۔ ’’لیکن سردار سبکتگین حیدر لغاری سے محبت تو آپ کرتی تھیں ناں۔ کیا یہ بھی غلط سمجھی میں؟‘‘ میرب بہت مدہم لہجے میں بولی تھی۔ گی نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’تم ٹھیک سمجھی۔ میں محبت کرتی تھی گین سے۔ پتہ نہیں کب سے… کس طرح سے… مگر وہ میرے دل میں گھر کر گیا تھا۔ میں اس سے تب ملی تھی جب تم اس کی زندگی میں نہیں آئی تھیں۔ ہم بہت کم عرصے کے لیے ملے تھے مگر گین کی محبت کے رنگ بہت گہرے تھے۔ میں اسے کبھی نہیں بتا سکی۔ وہ چلا گیا۔ پھر بات نہیں ہوئی۔ میں نیویارک میں تھی۔ جب وہ تمہارے ساتھ دکھائی دیا۔ مگر تب اس نے نہیں بتایا تھا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے۔ میرب میں اس سے آج بھی محبت کرتی ہوں مگر میں جانتی ہوں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا۔ زندگی میں ایسا ہوتا ہے جو آپ کے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔ آپ اس کے لیے کچھ نہیں ہوتے۔ گین میرے زاویے سے دیکھنے پر میرا سب کچھ تھا مگر… یہاں گین کھڑا تھا۔ اس کے زاویے سے اس کے لیے میں بالکل اہم نہیں تھی۔ اگر میں غیر اہم تھی تو سوچو کوئی تو اہم ہو گا۔ اس کے لیے۔‘‘ گی نے سمجھایا تھا۔
میرب تب ہی بہت مدھم لہجے میں بولی تھی۔
’’تو کون ہے باپ؟‘‘
گی مسکرا دی تھی۔
’’میرب! تم بہت سوچتی ہو۔ یہی سب مسائل کی وجہ ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘ میرب بولی تھی۔
’’میں آپ کو سب کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں میرب۔ آپ پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس شادی کو توڑنا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ گی نے پوچھا۔
’’یہ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘ میرب بولی۔
’’سردار سبکتگین حیدرلغاری سمجھتا ہے تم ایسا چاہتی ہو۔ تم دونوں کسی دن بات کر کے آپس کی غلط فہمیاں دور کیوں نہیں کر لیتے؟‘‘ گی کی باتوں سے کسی قدر دل کو اطمینان ہوا تھا مگر اس سے ملنے میں بات کرنے میں اب بھی انّا کتنی حائل تھی۔ یہ وہ گی کو نہیں بتا سکی تھی۔
’’میں نے اس رشتے کو توڑنا کبھی نہیں چاہا تھا۔‘‘
وہ بڑبڑائی تھی۔
گی نے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا تھا پھر آہستگی سے بولی تھی۔
’’میرب! تم جانتی ہو وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے؟‘‘
’’کیا؟‘‘ میرب کو شدید ترین حیرت نہ ہوتی تو اور کیا ہوتا مگر گی اس قدر اطمینان سے بولتی رہی تھی۔
’’تمہیں خبر نہیں میرب۔ مگر تم اس کی زندگی میں بہت اہم ہو۔ اتنی کہ اس کی ساری سوچیں تم ہی سے شروع ہو کر تم ہی پر ختم ہوتی ہیں۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے میرب۔ بے حد… بے حساب… مگر… وہ تمہیں کبھی کہہ نہیں پائے گا۔‘‘ گی بول رہی تھی اور وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’ایسا آپ کو گین نے بتایا؟‘‘
یقین نہ ہوا تھا جو سنا تھا۔ گی ضرور صرف ان کے درمیان مفاہمت کرانے کو آئی تھی۔ ان کے درمیان سے ٹوٹتے اس رشتہ کو بچانے آئی تھی۔
میرب نے سوچ کر اسے دیکھا تھا۔
گی کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ میرب کیا سوچ رہی ہے تب ہی وہ بولی تھی۔
’’تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں؟‘‘
’’نہیں ایسا نہیں۔‘‘ میرب سر جھکا کر اپنے ہاتھ پھیلا کر دیکھنے لگی۔
’’میرب! اگر تم بھی ایسا چاہتی ہو جیسا کہ گین چاہتا ہے تو پھر تم دونوں یہ سب کیوں ہونے دے رہے ہو؟ تم دونوں میں سے کسی ایک کو تو اس سب کو ہونے سے روکنا ہو گا۔ تمہیں سوچنا ہے میرب۔ تمہیں اس رشتے کو بچانا ہے یا یوں ہی وقت گنوانا ہے۔ تم چاہو تو مجھ پر اعتبار مت کرو مگر اپنے دل کی تو سن سکتی ہو ناں تم۔ میں نے گین سے بھی بات کی تھی۔ اسے بھی بہت سمجھایا مگر… انّا بہت بری شے ہے میرب۔ کبھی تم دونوں نے سوچا ہے کہ یہ انّا کے اندر قید رہنا تم دونوں کو کیا دے گا؟ میں تم دونوں کی خیرخواہ ہوں۔ پل دو پل کو سمجھا کر چلی جائوں گی۔ میں تم دونوں کی زندگی کا حصہ نہیں ہوں لیکن تم دونوں اپنی زندگیوں کے ساتھ مت کھیلو۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تم دونوں میں سے کسی ایک کو آگے قدم بڑھانا ہو گا۔ کسی ایک نے تو پہل کرنا ہو گی۔‘‘ گی سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھی۔
’’سردار سبکتگین حیدرلغاری نے اگر کچھ کیا ہی نہیں تو پھر وضاحت کیوں نہیں دے سکتا؟ ایک بار آ کر مجھے بتا تو سکتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ میں جو سمجھی وہ میری غلط فہمی تھی مگر وہ تو ایک بار بھی یہ کہنے کو تیار نہیں کہ اس کی زندگی میں کہیں میری ضرورت باقی ہے اور آپ… آپ بھی تو اب آئی ہیں۔ پہلے تو کبھی آپ نے ایسا کچھ بتانے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک میں اس گھر میں بھی تھی۔ تب بھی آپ نے ایسا کچھ نہیں بتایا۔ پھر اب اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ آپ سب باتوں کی وضاحتیں دینے چلی آئیں؟‘‘
میرب نے کہا تھا۔
گی کچھ لمحوں تک کچھ نہیں بول سکی تھی۔
پھر ایک گہری سانس خارج کرتی ہوئی بولی تھی۔
’’میرب! محبت اور زندگی کو بہت زیادہ تو نہیں جانتی میں مگر اتنا جانتی ہوں۔ کوئی بات اگر کہنے کی ہو تو اسے کہہ دینا چاہیے۔ یہ بات میں نے گین کو بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ پتہ نہیں وہ بھی سمجھا کہ نہیں؟ محبت بہت عجیب شے ہے۔ آزما کر دیکھو تم بھی مگر میں یہ پھر بھی نہیں چاہوں گی کہ تم دونوں میں سے کبھی کوئی پچھتائے کیونکہ… کسی شے کو کھو کر جینا کیا ہوتا ہے۔ یہ بات میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
’’آپ کو لگتا ہے پہل مجھے کرنی ہو گی اور اگر گین نے مجھے میرے اس اسٹیپ کو رد کر دیا تو… پھر کون ذمے دار ہو گا؟ ضروری تو نہیں آپ کی سوچ رائٹ ہو؟ آپ نے صرف سوچا کہ گین کو مجھ سے محبت ہے۔ گین نے ایسا کہا تو نہیں؟ اگر میں صرف اس مفروضے پر آگے بڑھتی ہوں تو ایسا نہ ہو میں یا میری انّا ہرٹ ہو۔ گین کو جہاں تک میں جانتی ہوں۔ وہ بندہ بہت انّا پرست ہے۔ اپنی انّا کی تسکین کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘‘
’’تم گین سے اتنی خائف ہو؟‘‘ گی کو حیرت ہوئی تھی۔ دھیمی سی مسکان لبوں پر سجائے اس نے دریافت کیا تھا۔
میرب نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
’’خائف نہیں ہوں۔ میں جتنا اسے جانتی ہوں۔ اس کی بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم سوچ لو۔ تمہیں کیا کرنا ہے۔ ایک رشتہ اپنے اختتام پر تو ہے تم دونوں اگر اپنی اپنی جگہ اسی طرح کھڑے رہے تو اورکیا ہو گا۔ تم دونوں یہ بات سمجھ سکتے ہو۔ میں چلتی ہوں۔‘‘ گی اٹھی تھی۔
میرب کچھ نہیں بولی تھی۔
سوچیں ہی اتنی تھیں کہ وہ الجھتی چلی گئی تھی۔
کسی اور طرف نہ دیکھنے کا ٹائم ملا تھا… اور نہ کچھ سوچنے کا… وہ اپنے آپ سے الجھتی ہوئی وہیں بیٹھی رہ گئی تھی۔ نہ گی کا شکریہ ادا کیا تھا‘ نہ اسے خداحافظ کہا تھا‘ نہ اٹھی تھی‘ نہ دروازے تک چھوڑنے گئی تھی۔
’’تمہیں خبر نہیں میرب۔ مگر تم اس کی زندگی میں بہت اہم ہو۔ اتنی کہ اس کی ساری سوچیں تم ہی سے شروع ہو کر تم ہی پر ختم ہوتی ہیں۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے میرب۔ بے حد… بے حساب… مگر وہ تمہیں کبھی کہہ نہیں پائے گا۔‘‘
گی کی آواز اس کے اندر… باہر گونج رہی تھی۔
صرف قیاس تھا یا یقین…؟
صرف سوچیں تھیں یا سچ میں ایسا تھا؟
میرب سمجھ نہیں پائی تھی۔
سب بے طرح الجھا دکھائی دیا تھا۔
اس کی زندگی… سردار سبکتگین حیدرلغاری۔
اور وہ خود…
کچھ بھی سلجھا ہوا نہ تھا۔
’’کوئی بات اگر کہنے کی ہو تو اسے کہہ دینا چاہیے۔‘‘

گی کی آواز اس کے گرد گونج رہی تھی۔
وہ کچھ نہ سمجھتی ہوئی اپنی سوچوں میں گم تھی۔
جب ایک دردناک چیخ سنائی دی تھی۔ میرب چونکی تھی۔
’’میرب! گی کو دیکھو کیا ہو گیا؟‘‘ زوباریہ کی آواز آئی تھی۔ وہ سرعت سے اٹھی تھی۔ بھاگتی ہوئی زوباریہ کی آواز کی طرف پہنچی تھی۔
’’اوہ مائی گاڈ! یہ کیا ہو گیا؟‘‘ میرب کی جان ایک پل میں فنا ہونے کو تھی۔
’’گی! تمہیں کچھ نہیں ہو گا گی۔‘‘ گی درد سے تڑپ رہی تھی جب اس نے اسے تسلی دی تھی مگر گی دوسرے ہی پل آنکھیں موند گئی تھی۔

 

(باقی آئندہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close