Aanchal Jan-07

محبت دل پہ دستک

عفت سحر

محبت روح میں اترا ہوا موسم ہے جاناں
تعلق ختم کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی
بہت کچھ تجھ سے بڑھ کر بھی میسر تھا‘ میسر ہے
نہ جانے پھر بھی کیوں تیری ضرورت کم نہیں ہوتی

 

 

 

وہ بے یقینی سے شموئیل خان کو دیکھنے لگی۔
کل تک تو وہ اسے اپنے اور پلوشہ کے مابین موجود رشتے کی وضاحتیں دیتا پھرتا تھا اور آج یہ حال تھا کہ وہ اس کی خاطر ژالے کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
’’تمہیں اگر میں بیاہ کر اس گھر میں لایا ہوں تو یہ بھی میرے ساتھ بھاگ کر نہیں آئی ہے۔ اس کی بھی ذمہ داری ہے مجھ پر…‘‘
’’بس خاناں…‘‘
اس کے سخت لب ولہجے پر پلوشہ نے دبے لفظوں میں اسے ٹوکنا چاہا تو وہ اس پر الٹ پڑا۔
’’تم چپ رہو۔ اتنا بے حس نہیں ہوں میں کہ تمہاری بے عزتی ہوتے دیکھتا رہوں۔‘‘
پلوشہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی۔
ژالے نے اس کے انداز سے سخت بے عزتی محسوس کی۔
’’تو پھر اس کی ذمہ داری کیوں نہیں نبھاتے۔ چھوڑ دو مجھے۔‘‘
اس نے حد کر دی تھی۔
اب جانے یہ شموئیل کی برداشت تھی یا وہ قصداً اس کے رویے کو نظرانداز کر جاتا تھا۔
اس کے اتنے سخت الفاظ سننے کے بعد بھی ٹھنڈے لہجے میں بولا۔
’’یہ تو اب تم بھول ہی جائو کہ میں کبھی تمہیں چھوڑوں گا۔ بہت بھاگا ہوں تم سے مگر تم نے ہار نہیں مانی۔ اب تو آخری سانس تک نبھانی ہو گی تمہیں۔‘‘
’’ہونہہ… مائی فٹ…‘‘
ژالے نے تلملا کر پائوں پٹخا۔
شموئیل نے انگشت شہادت اٹھاتے ہوئے اسے ایک بار پھر سے یاددہانی کرائی۔
’’پلوشے سے دور ہی رہو۔ وہ تمہیں کچھ نہیں کہتی تم بھی اس کی عزت کرو۔ اس کی اس گھر میں کیا جگہ ہے یہ تم نہیں جانتیں۔‘‘
’’یہ تو میں اب بہت اچھی طرح جان گئی ہوں۔ اس کی جگہ کیا ہے اور میری جگہ کیا ہے۔‘‘ وہ سلگی۔
’’میرے ساتھ بنا کے رکھی ہوتی تو میں تمہیں بتاتا کہ تمہاری اس گھر میں کیا جگہ ہے اور میرے دل میں کیا مقام ہے۔‘‘ شموئیل نے طمانیت سے کہا تو وہ چٹخ کر رہ گئی۔
’’مجھے کوئی شوق نہیں لائن میں لگنے کا۔ تم اسی ایک کو سنبھالو۔ میں بہت جلد کوئی فیصلہ کر لوں گی اپنی زندگی کا۔‘‘
وہ ٹھک ٹھک کرتی اپنے کمرے میں جا گھسی۔ شموئیل خان گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
خخخ
وہ رائمہ کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ ضحی وہاں سے نکل چکی ہے۔ موسم کے تیور دیکھ کر معید کو اس کی بے وقوفی پر شدید غصہ آیا۔
’’کوئی کام جو یہ لڑکی ڈھنگ سے کر جائے۔‘‘
وہ گاڑی میں آبیٹھا۔
سردیوں کی بارش نے موسم کو یکلخت ہی برفیلا بنا دیا تھا۔ لب بھینچے گاڑی ڈرائیو کرتا وہ ادھر ادھر نظر دوڑاتا تمام راستے اسی سرپھری کو دیکھتا رہا۔
’’ہو سکتا ہے وہ گھر پہنچ چکی ہو…‘‘
اسے دھیان آیا۔ تو اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈیش بورڈ پر سے اپنا موبائل اٹھایا۔ ارادہ یہی تھا کہ گھر فون کر کے اس کی خیریت معلوم کر لے مگر اسی وقت اس کی نگاہ تھوڑی دور جاتی لڑکی پر پڑی اور اس کے پیچھے وہ مرد‘ کال ملاتا اس کا ہاتھ ٹھٹکا۔
اس نے گاڑی کی رفتار بڑھائی۔
’’صبح ضحی نے یہی شال اوڑھ رکھی تھی تو پھر یہ مرد کون ہے؟‘‘
گاڑی کی آواز پر مرد نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔
معید نے ان کے قریب جا کر گاڑی کو فی الفور بریک لگائے۔ وہ ضحی ہی تھی اور اسے تنگ کرتا وہ شیطان۔
معیدلمحوں میں ساری صورت حال سمجھ گیا۔ ضحی لڑکھڑائی تو اسے سنبھالنے کے لئے آگے بڑھتا وہ شخص معید کو تیزی سے باہر نکلتے دیکھ کر بھاگ اٹھا۔
ضحی کی نگاہ معید پر نہیں پڑی تھی۔ معید نے تیز قدموں سے چلتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا تو وہ چیخ اٹھی۔
’’ذرا آنکھوں سے بھی کام لے لو۔ میں ہوں۔‘‘
معید نے تپے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ ڈبڈبائی آنکھوں اور زرد پڑتی رنگت کے ساتھ اسے دیکھتی ایک دم ہی رو دی۔
ٹوٹتی جان یکلخت ہی واپس لوٹ آئی تھی۔ وہ بے ساختہ وبلاارادہ معید کے شانے سے جا لگی۔
’’وہ… وہ مجھے تنگ کر رہا تھا…‘‘
شاپرز نیچے گرائے وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ معید کی کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔
وہ شخص قریبی گلی میں فرار ہو چکا تھا وگرنہ وہ اس کی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کرنے کے موڈ میں تھا۔
’’چلو گاڑی میں بیٹھو۔ بارش تیز ہو رہی ہے۔‘‘
معید نے آہستہ سے اس کا سر تھپکا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
فوراً اس سے الگ ہو کر گاڑی میں جا بیٹھی۔
وہ متاسفانہ نظروں سے نیچے گرے گندے ہوتے شاپرز کو دیکھنے لگا۔ پھر گہری سانس بھری اور جھک کر سارے شاپرز اٹھا کر گاڑی کی پچھلی نشست پر ڈال دئیے۔ ضحی کی حالت دیکھتے ہوئے فی الوقت اسے ڈانٹنے کا ارادہ موخر کر دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ جبکہ ضحی بی بی ابھی بھی سوں‘ سوں کر رہی تھیں۔ معید تنے ہوئے تاثرات لیے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
خخخ
ماں کی بات اس قدر بے یقین کر دینے والی تھی کہ صبا ہق دق سی انہیں دیکھے گئی۔
یوں لگا جیسے ذہن بالکل صاف سلیٹ ہو گیا ہو۔
’’نگین میری بیٹیوں کی طرح ہے۔ برا نہیں سوچ رہی۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے۔ ابھی سال بھی نہیں ہوا میرے انس کی دلہن بن کے آئی تھی اور اب سفید جوڑا پہنے بیٹھی ہے۔‘‘ وہ حددرجہ آزردگی کا شکار ہونے لگیں۔
صبا نے بمشکل خود کو بولنے پر آمادہ کیا۔
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے امی… بھلا کیسے سب…‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اپنا مافی الضمیر کن لفظوں میں بیان کرے۔
’’اگر اب بھی اس کے متعلق نہ سوچا گیا تو وہ انس کے پیچھے خود کو پاگل کر لے گی۔ ابھی عمر کیا ہے اس کی۔‘‘
تائی جان کا تجزیہ بے حد درست تھا۔
صبا کا ذہن یکلخت کھل گیا۔
خخخ
اس کے گاڑی اندر روکتے ہی ضحی پھرتی سے اتر کر اندر چلی آئی۔
’’ہاہ… یہ بھیگ کیسے گئیں تم؟‘‘
چچی جان متحیر سی اس کا حلیہ ملاحظہ کرنے لگیں تو وہ اس سے نظریں چراتی بولی۔
’’یوں ہی۔ تھوڑی سی واک کر لی تھی بارش میں۔‘‘ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی تو انہوں نے متاسفانہ انداز میں سر ہلایا۔
’’اس لڑکی نے مجال ہے کوئی ڈھنگ کا کام کیا ہو۔‘‘
اندر آتے معید نے اس کی بات سن کر دل ہی دل میں ان کی تائید کی تھی۔
کمرے میں آتے ہی وہ یوں ہی گیلے کپڑوں سمیت بستر پر گر سی گئی۔
گزری تمام ساعتوں کو سوچا تو بدن میں جھرجھری سی دوڑ اٹھی۔
’’اگر معید وہاں نہ آتا تو؟‘‘
اس کا دل ابھی بھی اس بات کو سوچ کر خوف زدہ ہونے لگا۔
’’کیوں نہ آتا۔ خدا نے اسے بنا کر ہی میرے لیے بھیجا ہے۔‘‘ ایک سوچ سی دل میں لہرائی۔
’’ہش…‘‘ دماغ نے دل کو ڈانٹا تو وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اور مجھے بھی معید حسن کو زیادہ اہمیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خواہ مخواہ ذہن پر سوار ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ وہ الجھنوں کا شکار ہوتی جا رہی تھی۔
خخخ
’’تو پھر تم نے کیا سوچا ہے؟‘‘
مریم پھوپو نے لنچ ٹائم میں عماد کے گھر آنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے گھیرا تو وہ کھانے سے ہاتھ روک کر انہیں دیکھنے لگا۔
’’کس بارے میں؟‘‘
’’ادینہ کے بارے میں۔ اپنی شادی کے بارے میں۔‘‘
انہوں نے سنجیدگی سے کہا تو چند ثانیے انہیں دیکھتے رہنے کے بعد وہ گہری سانس لے کر دوبارہ کھانے میں مشغول ہو گیا۔
’’یہ مذاق کی بات نہیں ہے عماد۔‘‘
وہ چڑ گئیں۔
جتنی انہیں اس معاملے میں ٹینشن ہو رہی تھی اتنا ہی وہ اسے لٹکا رہا تھا۔
’’اتنا سر پہ سوار کرنے والی بات بھی نہیں ہے مام ڈیئر۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولا تو وہ حیران ہونے لگیں۔
’’میں تمہاری اور ادینہ کی شادی کی بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’شادی ہی ہے نا۔ مارشل لاء تو نہیں لگنے والا۔‘‘
وہ ہنوز اسی انداز میں بولا تو انہیں اس کی غیرسنجیدگی غصہ دلانے لگی۔
ایک اتنی اہم بات جو اتنے دنوں سے ٹینشن بن کے ان کے ذہن پر سوار تھی اسے یوں چٹکیوں میں اڑا رہا تھا۔
’’یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے عماد۔ مجھے تو تم اس معاملے میں کہیں سے بھی سیریس نہیں لگ رہے۔‘‘
انہوں نے قدرے غصے سے کہا تو وہ چمچ واپس پلیٹ میں رکھ کر انہیں دیکھنے لگا۔
’’سیریس ہونا اور کیا ہوتا ہے بھلا؟‘‘
اس کا انداز ٹھہرا ہوا تھا۔
’’میری جو مرضی تھی میں نے آپ کو بتا دی۔ اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔‘‘
’’کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو عماد۔‘‘
وہ بے بس سی ہونے لگیں۔ تو وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔
’’آپ خواہ مخواہ کی ٹینشن لے رہی ہیں اور بس۔ روزانہ ایسی ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں۔‘‘
’’ان شادیوں میں دولہا اتنی لاپروائیاں نہیں دکھاتے۔ پوری دلچسپی کے ساتھ کام نمٹاتے ہیں۔ تم اپنے دل کی بات کیوں نہیں بتاتے؟‘‘
اب جانے انہوں نے سرسری بات کی تھی یا اس کا چہرہ ہی کھلی کتاب بن کے کوئی کہانی سنانے لگا تھا۔
وہ قصداً ہنس دیا۔
مگر اس ہنسی میں وہ بے ساختگی نہیں تھی جو کبھی عماد کی طبع کا حصہ رہی تھی۔
اس ہنسی میں ایک اضطراب پوشیدہ تھا۔
ایک بے چینی مگر اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے والوں میں سے وہ بھی نہیں تھا۔ ’’اوہو… جلد ہی آپ کو فائنل بتا دوں گا۔ ابھی تو فی الحال میں بزنس کو پوری توجہ دے رہا ہوں۔‘‘
وہ پھر سے انہیں ٹال گیا۔ تو وہ بدمزہ ہونے لگیں۔ اس کے موبائل فون نے بجنا شروع کر دیا تھا۔
وہ بحث کو بے سُود جان کر چائے بنانے کے لیے اٹھ گئیں۔ فون پر ادینہ تھی۔
’’کہاں ہو تم…؟‘‘
وہ پوچھ رہی تھی۔
’’لنچ کرنے۔ گھر پہ۔‘‘
وہ مختصراً بولا۔
’’یہ تم نے گھر میں کب سے لنچ کرنا شروع کر دیا۔ اس ریسٹورنٹ میں جانا چھوڑ دیا کیا؟‘‘
وہ بہت مالکانہ انداز میں پوچھنے لگی۔
’’ہوں…‘‘
عماد نے محض ہنکارہ بھرا تھا۔
’’اچھا جلدی سے فارغ ہو جائو پھرمجھے بہت ضروری شاپنگ کرنی ہے۔‘‘
’’میں تو فارغ نہیں ہوں۔ یہاں سے سیدھے مجھے میٹنگ میں جانا ہے۔‘‘
عماد سمجھ نہیں سکا کہ اس نے ادینہ سے جھوٹا بہانہ کیوں بنا دیا۔
’’میٹنگ کیا مجھ سے زیادہ ضروری ہے؟‘‘
اس کی ادا میں ناز تھا‘ مان تھا۔
عماد خود سے الجھنے لگا مگر پھر سنبھل کر بولا
’’تمہارا اس میٹنگ سے کیا مقابلہ۔ تم‘ تم ہو۔‘‘
’’تو پھر آ جائو نا۔‘‘
وہ اسی ادا سے بولی تو عماد نے گہری سانس بھری۔
’’وعدہ نہیں کرتا۔ کوشش کروں گا۔ اگر جلدی فارغ ہو گیا تو…‘‘
’’بہت بور ہو تم عماد! پہلے تو ایسے نہیں تھے۔‘‘
وہ کوفت کا شکار ہوئی۔
’’وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو بدلنا پڑتا ہے ورنہ وقت خود اسے بدل دیتا ہے۔‘‘
’’اچھا اچھا۔ میں اس وقت عالمانہ موڈ میں قطعاً نہیں ہوں۔ مجھ سے اچھی اچھی باتیں کرو۔‘‘
وہ اس کی بات قطع کر گئی۔
’’مثلاً کون سی باتیں…؟‘‘
عماد نے پوچھا تو وہ بولی۔
’’اپنے مستقبل کی باتیں…‘‘
’’کل کس نے دیکھی ہے۔ میں اگلے پل کی بھی پلاننگ کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ انس ہی کو دیکھو… اورنگین۔ اس نے تو کبھی ایسی سیچویشن کا سوچا بھی نہیں ہو گا۔‘‘
وہ کہتے ہوئے آزردہ ہو گیا۔
ادینہ نے کوفت سے گہری سانس بھری۔ پھر بے زاری سے بولی۔
’’یہ کیا تم ہر بات میں انس اور نگی کو گھسیٹ لاتے ہو۔ جو ہو چکا وہ ان کی قسمت میں لکھا تھا۔ اس کو اپنی زندگی پر اپلائی کرنا سراسر بے وقوفی ہے۔‘‘
عماد کو اس کی بات ناگوار گزری۔ خصوصاً اس کے لب ولہجے سے ٹپکتی بے زاری جسے اس نے چھپانے کی قطعاً کوشش نہیں کی تھی۔
ادھر عماد کئی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ وہ جب بھی ادینہ سے کسی تیسرے کے متعلق گفتگو کرنے لگتا تو وہ یا تو موضوع بدل دیتی یا پھر بے زاری کا اظہار کرنے لگتی تھی۔
اور دوسری طرف ادینہ تھی۔
جس نے کبھی خود سے آگے تو کچھ سوچا ہی نہ تھا۔ اس کا یہی جی چاہتا تھا کہ اس کی موجودگی میں عماد کسی اور کو نہ دیکھے نہ سوچے۔
ایسے میں اس کا ہر بات میں انس کی کوئی یاد نکال لینا یا پھر نگین کے حال کا ذکر اسے زہر لگتا تھا۔
’’میں فی الحال اس سے ہٹ کے کسی موضوع پر بات نہیں کر سکتا۔ بہتر ہو گا کہ تم مجھ سے بعد میں بات کر لو۔‘‘
عماد نے سردمہری سے کہہ کر اس کی ’’سنوتو‘‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے موبائل آف کر دیا۔
اس کی پیشانی پر گہری سلوٹیں پڑ چکی تھیں۔
خخخ
ہر اک چیز بدل جاتی ہے عشق کا موسم آنے تک
راتیں پاگل کر دیتی ہیں دن دیوانے ہو جاتے ہیں
وہ مسلسل الجھن وبے یقینی کا شکار تھی۔
معید حسن کی طرف بڑھتے دل کے التفات کو وہ کوئی بھی نام دینے کی جرأت خود میں نہیں پا رہی تھی۔
’’بکواس…‘‘
اس نے سختی سے دل کو ڈپٹا۔
’’زہر لگتا ہے مجھے وہ شخص۔ لگتا ہی کیا ہے میرا وہ؟ دشمن اوّل۔‘‘
وہ اندھیرے کمرے میں کمبل لپیٹے الٹی سیدھی سوچوں میں گھری تھی۔
’’مگر یہ دل کیوں اس بے حس‘ سنگ دل کی طرف ہمک رہا ہے۔ اس ’’زہرلگنے‘‘ میں اتنی شدت کیوں نہیں رہی اور دشمن سے جانے کب وہ ’’دشمنِ جاں‘‘ بن گیا ہے۔‘‘
اس نے دونوں مٹھیوں میں کمبل دبا کر سینے سے بھینچا اور گہری سانس بھری۔
مگر اندر کی گھٹن کسی طور کم نہ ہو رہی تھی۔
یہ کیا ہے… کیوں ہے؟
گھبرا کر وہ اٹھ بیٹھی تو سامنے دیوار پر جیسے معید حسن کی تصویر ابھر آئی۔
وہ حیران سی… ایک خواب کی کیفیت میں گھرنے لگی۔ اس کی گھور سیاہ آنکھیں ان میں بھری خفگی…
’’کتنی بار کہا ہے کہ اکیلی باہر مت جایا کرو۔ دوستوں کے گھر جانا ہو تو مجھ سے کہو۔ انس ہے وجدان ہے۔‘‘
وہ ناراض ہوتا تھا اور پھر جب وہ ٹرپ کے لیے ضد کر رہی تھی۔
’’کوئی ضرورت نہیں کالج ٹرپ کے ساتھ جانے کی۔ آج کل زمانہ کون سا ہے یوں لڑکیوں کا غول لے کر نکلنے کا۔ یہاں سے ذمہ داری کا وعدہ کر کے لے جانے والے وہاں اپنے آپ میں مگن ہوتے ہیں اور لڑکیاں منہ اٹھائے ادھرادھر بھٹک رہی ہوتی ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ ہم فیملی ٹرپ پر چلے جائیں۔ اسلام آباد ہی تو جانا ہے اگلے ہفتے ہم سب چلیں گے۔‘‘
اور واقعی وہ سب اگلے ہی ہفتے اسلام آباد کا چپہ چپہ کھنگال آئے اور ایک نہیں بلکہ چار دن وہاں قیام کیا۔
مگر ضحی کے دل سے ٹرپ کے ساتھ نہ جانے کا ملال نہیں گیا مگر اب دل کیا کہہ رہا تھا۔
’’غلط تو نہیں کہتا تھا وہ۔ واقعی زمانہ ہی کون سا ہے لڑکیوں کے باہر نکلنے کا جب تک کہ کوئی مرد ہمراہ نہ ہو۔‘‘ اس کی ساری منفی سوچیں اس پل مثبت ہو رہی تھیں کوئی سن لیتا تو بے ہوش ہی ہو جاتا۔
ضحی میر اور معید حسن کے لیے سوفٹ کارنر؟ خود ضحی کے لیے بھی اپنی یہ کیفیت اس قدر غیریقینی تھی کہ وہ معید حسن کے بارے میں اچھا سوچنے کے بعد فوراً کترا سی جاتی۔
’’ وہ بہت شاطر آدمی ہے مجھ سے نکاح کے باوجود وہ ویرا سے چکر چلا رہا ہے۔ میں کبھی بھی اسے معاف نہیں کروں گی۔‘‘
وہ فوراً تہیہ کرتی۔
مگر اگلے ہی پل بھیگے وجود کے گرد نرم گرم سا مضبوط بازوئوں کا حصار یاد آتا تو وہ پگھل سی جاتی۔
’’یا خدا…‘‘
اسے رونا آنے لگا۔
’’بھلا معید حسن مجھے ملنے والا ہے؟ تو پھر یہ کیفیت کیوں ہو رہی ہے میری؟ میں جانتی تو ہوں کہ وہ ویرا کا ہے۔ وہ ویرا جو اس کے لیے اپنے شوہر سے طلاق لیے بیٹھی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے بھلا وہ میری طرف کیسے دیکھے گا؟‘‘
وہ بے حد حساس اور آزردہ دل تھی ۔
’’یا خدا میرے دل کو بدل دے۔‘‘
اس نے لیٹ کر سختی سے آنکھیں موند لیں اور خدا سے دعا کرنے لگی۔
خخخ
’’آپ ماں بننے والی ہیں۔‘‘ لیڈی ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تو صبا بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔
’’یو آر پریگننٹ۔‘‘
ڈاکٹر سمجھی شاید وہ اس کی بات سن نہیں پائی۔
مگر صبا نے اس کی بات اچھی طرح سے سنی تھی لیکن اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔
دوسری بار ڈاکٹر نے کہا تو وہ جیسے ایک خواب کی گرفت سے آزاد ہوئی۔
’’آر یو شیور ڈاکٹر؟‘‘
اس کے انداز میں بے یقینی تھی۔ ڈاکٹر مسکرا دی۔
پہلی پہلی بار ماں بننے والی لڑکیاں یوں ہی بے یقینی کا شکار ہوتی ہیں۔
’’اگر یہ رپورٹس آپ کی ہیں تو میں سو فیصد پریقین ہوں کہ آپ پریگننٹ ہیں۔‘‘
ڈاکٹر نے لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ انگشتِ شہادت سے صبا کی طرف کھسکائی تو اس نے میکانکی اندز میں رپورٹ نکال کر دیکھی جس پر لکھا ’’پازیٹو‘‘ اس کے دل کو عجیب سے انداز میں دھڑکا گیا۔
خخخ
’’میں دوبارہ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی معید۔‘‘ ویرا کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
ضحی کے قدم ٹھٹک گئے۔ وہ احتیاطًا پورچ کے پلر کی اوٹ میں ہو گئی۔ لان میں کرسیوں پر بیٹھے وہ دونوں محوِگفتگو تھے۔
’’خبردار ویرا! خبردار جو تم نے اب ایسی کچھ کارکردگی دکھائی ہو تو۔‘‘
معید نے سخت لہجے میں کہا۔
’’اب جبکہ قسمت تم پر مہربان ہو رہی ہے تو تم پھر سے نادانوں جیسا قدم اٹھانا چاہتی ہو۔‘‘
’’میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی ہوں معید…‘‘
ضحی کو لگا جیسے وہ رو رہی ہو۔
’’شٹ اپ ویرا…‘‘
معید کے انداز میں اب بھی سختی تھی۔
’’تمہیں مستقبل میں کیا کرنا ہے کیا نہیں وہ سب میری ذمہ داری ہے۔ میں نے تمہیں اوّل روز ہی کہا تھا کہ یہ مت بھولو معید حسن ہر پل‘ ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔‘‘آخر تک آتے آتے معید کا لہجہ نرم ہو گیا تھا۔
ضحی اپنی جگہ پر سلگ کر رہ گئی۔
’’تھینک یو معید… تھینک یو سو مچ۔‘‘
ویرا کا انداز متشکرانہ تھا۔
’’اچھا۔ اب جا کے آرام کرو اور ہاں۔ مجھے تمہاری یہ اتری ہوئی صورت دوبارہ دکھائی نہ دے۔ مجھے وہی پرانی والی ویرا چاہیے۔ ہنستی مسکراتی پُراعتماد۔‘‘
معید نے دھونس بھرے انداز میں کہا تو وہ ہلکی سی آواز میں ہنس کر اٹھ گئی۔ اس کا اندر جانے کا ارادہ بھانپ کر ضحی پلر کی اوٹ سے نکل آئی۔
اسے دیکھ کر مسکراہٹ سے نوازتی ویرا اندر چلی گئی جبکہ وہ سیدھی اخبار کھولتے معید حسن کی طرف آئی۔
اسے دیکھ کر معید کی تیوری پر بل آ گیا۔ اس نے اخبار جھٹک کر سیدھا کرتے ہوئے منہ کے آگے پھیلا لیا تو ضحی تلملا اٹھی۔
ابھی ویرا کے ساتھ وہ کیسے باتیں مٹھار رہا تھا اور اس پر نگاہ پڑتے ہی جیسے منہ میں کونین آ گئی ہو۔
’’مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
وہ کرسی کی پشت پر دونوں ہاتھ جمائے اس کے سامنے کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔
’’ہوں… سن رہا ہوں۔ کہو۔‘‘
اخبار کے پیچھے ہی سے آواز آئی۔
’’پہلے آپ اخبار رکھیں۔ میری طرف متوجہ ہوں۔‘‘ اس کے انداز میں پتہ نہیں اتنی دھونس کیسے آ گئی تھی۔
شاید یہ ویرا اور معید کی بے تکلفی کا نتیجہ تھا۔
معید نے بھی اخبار پیچھے کر کے اسے دیکھا۔
’’یہ ضحی میر کو میری ’’توجہ‘‘ کی ضرورت کب سے پڑنے لگی؟‘‘
وہ جیسے استعجاب سے بولا تو وہ جزبز ہوئی۔
جو بات اکیلے میں سوچنا بہت آسان لگتی تھی وہی معید کے منہ سے سن کر وہ عجیب سی خجالت کا شکار ہوئی مگر یہ آر یا پار کا وقت تھا۔
’’آپ ویرا کو یہاں سے بھیج دیں۔‘‘
وہ بولی تو معید نے تعجب سے پوچھا۔
’’کہاں بھیج دوں؟‘‘
’’وہیں جہاں وہ رہتی تھی۔ اس کے گھر۔‘‘
’’مگر تمہیں اس کے یہاں رہنے سے کیا تکلیف پہنچتی ہے؟‘‘
معید کی پیشانی پر آہستہ آہستہ شکنیں پڑنے لگی تھیں۔
’’بس۔ مجھے اس کا یہاں رہنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ اندرونی وجہ چھپا گئی۔
ویرا کا معید حسن سے اپنائیت کا اظہار اور حددرجہ کی بے تکلفی اسے کب بھاتی تھی۔
’’تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا ایسی بات کرنے کا۔‘‘
معید نے تنبیہی انداز میں کہا تو اسے غصہ آنے لگا۔
’’کیوں‘ سارے حق ویرا فراز ہی کے پاس ہیں؟‘‘ اس نے چباچبا کر کہا تو معید فوراً اسے ٹوک گیا۔
’’فراز اب اس کا شوہر نہیں ہے۔‘‘
’’یہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں۔ اسے طلاق ہوئی ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے گھر جا کر عدّت پوری کرے کسی نامحرم کے سامنے مت آئے۔‘‘
ضحی کے انداز میں سرکشی تھی۔ جس نے معید کو بنظرغائر اس کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا۔
’’تمہیں اس کی اتنی فکر کیوں ہے؟‘‘
’’کیونکہ یہی صحیح ہے۔ لاپروائیاں بڑے نقصان کا باعث بن جاتی ہیں۔‘‘
وہ مدبرانہ انداز میں بولی تو معید نے خشک لہجے میں کہا۔
’’جو کہنا چاہتی ہو وہ صاف لفظوں میں کہو۔ مجھے فضول کی بحث پسند نہیں ہے۔‘‘
’’یہ فضول کی بحث نہیں ہے۔‘‘ وہ چٹخ کر بولی۔ ’’صاف بات یہ ہے کہ مجھے ویرا کا آپ سے بے تکلف ہونا بالکل بھی پسند نہیں۔ آپ میرے شوہر ہیں اس کے نہیں۔‘‘ پل بھر کے لیے اس کی بات نے معید کے سر پر گویا بجلی سی گرا دی۔ وہ متحیر سا اسے دیکھتا رہ گیا۔
خخخ
رات وہ کمرے میں آیا تو صبا کو ٹہلتے پایا۔
وہ واش روم سے نکل کر آیا تو بھی اسے اسی کیفیت میں پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر ٹہلتے پایا۔
نوفل اسے نظرانداز کرتا بستر پر آ گیا۔ سائیڈ ٹیبل پہ رکھی فائل اٹھائی اوراپنے سامنے رکھ کر کھول لی۔
تب ہی ایک کاغذ فائل کے صفحات پر آ گیا۔
نوفل نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’یہ بھی بہت ضروری ہے۔‘‘
اس کی رنگت سرخ ہو رہی تھی۔ نوفل نے اچٹتی نگاہ اس کاغذ پر ڈالی۔
ایک بار‘ دو بار‘ سہ بار۔
اس مختصر سی رپورٹ کو وہ کتنی ہی بار پڑھ گیا۔
سر اٹھا کے دیکھا تو وہ دونوں بازو سینے پہ لپیٹے تیز نظروں سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔
’’تو…؟‘‘
وہ پُرسکون تھا۔
’’تو یہ کہ… یہ سب کیا ہے؟‘
وہ تلخی سے بولی تو وہ جیسے ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دیا۔
’’یہ رپورٹ آپ مجھے دکھا رہی ہیں اور مجھ ہی سے پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیا ہے؟‘‘
’’میں جتنا زمین بنتی جا رہی ہوں آپ اتنا ہی مجھ پر چڑھتے جا رہے ہیں نوفل احمد مگر اب یہ نہیں ہو گا۔ میں اس بچے کی اہمیت اور حیثیت کا تعین چاہتی ہوں۔‘‘
وہ پھٹ پڑی تھی۔
نوفل نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘
’’مطلب یہ کہ میں ان چاہا بچہ نہیں چاہتی… جسے دیکھ کر ساری عمر ’’لمحوں کی بھول‘‘ یاد آتی رہے۔‘‘
وہ تو جیسے دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔
نوفل کو غصہ آیا۔
’’یہ بچہ میری ماں کی خواہش ہے صبا میر۔ خبردار! جو کوئی نیا گیم کھیلنے کی کوشش کی تو۔‘‘
’’یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ میں ماں تب ہی بنوں گی جب آپ کی خواہش ہو گی۔ وگرنہ نہیں۔‘‘
وہ ہٹیلے انداز میں بولی تو نوفل جہاں کا تھا وہیں رہ گیا۔
خخخ
یہ کیا بدتمیزی ہے؟ بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے تمہیں۔‘‘
معید نے غصے سے کہا۔
مگر وہ تو جیسے بات کو کسی کنارے لگانے آئی تھی۔
’’آپ اسے خود یہاں سے بھیجیں گے یا میں تایاجان سے بات کروں؟‘‘
معید کو لگا اس کا دماغ پھر گیا ہے۔
’’ویرا یہاں سے نہیں جائے گی۔‘‘
وہ سختی سے بولا۔
’’وہ یہاں سے جائے گی۔ اگر میں عمرکاظمی کو بھول سکتی ہوں تو آپ کو بھی ویرا کو یہاں سے بھیجنا ہو گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔ بلکہ آنکھوں میں نمی بھی اتر آئی جبکہ معید کو اس کی بات نے ایک اور شدید جھٹکا لگایا۔
’’لیکن کیوں؟ کوئی وجہ بھی تو ہو؟‘‘
وہ سنبھلتے ہوئے بے اعتنائی سے بولا تو ضحی کی نظروں کے سامنے اس کا چہرہ دھندلانے لگا۔
’’کیونکہ… کیونکہ میں…‘‘
اس نے بنا سوچے سمجھے اعتراف کی سیڑھی پر قدم رکھنا چاہا مگر لفظوں پر بیٹھے سوچ کے سانپوں نے اسے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
’’آئی ہیٹ یو معید حسن۔ تم کبھی بھی مجھے خوشی نہیں دے سکتے۔‘‘
وہ چیخ کر کہتی وہاں سے بھاگ آئی۔
درد کا ایک طوفان تھا سینے میں جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
جذبوں کا سیلاب تھا جس میں وہ بہتی چلی جا رہی تھی۔
’’ہاں… میں محبت کرنے لگی ہوں۔ محبت کرنے لگی ہوں معید حسن سے۔ اسی معید حسن سے جو مجھے کبھی کوئی خوشی نہیں دے سکتا اور جو کسی اورکی زلف کا اسیر ہے۔‘‘ اس نے خود سے اعتراف کر لیا تو کتنے ہی آنسوئوں نے پلکوں کی باڑ توڑ کر نکاسی کا راستہ بنا لیا۔
خخخ
’’ایک کپ چائے میرے لیے بھی بنا دینا۔‘‘
وہ اپنے لیے ناشتا بنا رہی تھی جب شموئیل نے آ کر فرمائش کی وہ ان سنی کر کے اپنے ناشتے کی ٹرے تیار کرتی رہی۔
’’سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے؟‘‘
رعب سے دوبارہ کہا تو وہ چٹخی۔
’’جا کر یہ رعب اپنی ’’بیوی‘‘ پہ جھاڑو۔‘‘
’’بیوی پہ ہی جھاڑ رہا ہوں۔‘‘
’’وہ مسکرایا۔ پھر صلح جو انداز میں بولا۔
’’سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ تمہارے ہاتھ کی چائے پینے کو دل چاہ رہا تھا۔‘‘
’’میں تمہاری نوکرانی نہیں ہوں اگر اتنی ہی خواہش ہو رہی ہے تو خود بنا لو۔‘‘
وہ صفا چٹ انداز میں بولی اور ٹرے اٹھا کر کچن سے نکلنے لگی۔
شموئیل اس کی راہ میں آ گیا۔
’’محبت کرنے والے سنگ دل ہوتے ہیں سنا تو تھا اب دیکھ بھی لیا۔‘‘
’’آئی ہیٹ یو شموئیل خان! میری راہ سے ہٹ جائو۔‘‘
وہ پھنکاری۔
’’راہ تو میری تم نے کھولی ہے خان زادی! اب اس راہ پہ لا کے واپس لوٹا رہی ہو۔‘‘
وہ گمبھیر لہجے میں بولا تو ژالے نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اپنے لفظوں کا جادو اس پہ چلائو جو تمہاری اصلیت سے ناواقف ہو۔‘‘
وہ ڈھٹائی سے بولا تو ژالے نے سرد لہجے میں کہا۔
’’تم ہٹ رہے ہو سامنے سے یا نہیں؟‘‘
’’اچھا چائے مت بنائو میرے لیے جو اپنے لیے بنائی ہے وہ دے دو۔‘‘
وہ جانے کیوں ضد پر اڑا تھا۔
ژالے بھی ضد پہ آ گئی۔
’’نہیں۔ میری کسی چیز پر تمہارا حق نہیں ہے۔‘‘
اس کی بات سن کر شموئیل خاموش ہو گیا۔ پھر چند لمحوں کے توقف کے بعد بولا۔
’’اور تم پر؟‘‘
’’مجھ پر بھی نہیں۔‘‘
وہ تڑخی تھی۔
شموئیل خان نے کچھ کہنے کو وا ہوتے لبوں کو سختی سے باہم بھینچا اور پلٹ کر باہر نکل گیا۔
ژالے کا جی چاہا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ اس نے بے دلی سے اپنے لیے بنائے ہوئے ناشتے اور چائے کو دیکھا تو اس کی بھوک مر گئی۔ وہ ٹرے وہیں رکھ کر کچن سے نکل گئی تھی۔
خخخ
کمرے کی فضا بے حد سرد ہو رہی تھی۔
ہیٹر لگانے کے باوجود۔
مگر سردی موسم کی نہیں جذبات واحساسات کی تھی۔
خاموش اور جامد سرد فضا میں صبا کی بات نے ارتعاش سا پھیلا دیا۔
’’دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا؟‘‘
نوفل بمشکل حواس میں لوٹا۔
’’اب ہی تو دماغ ٹھیک ہوا ہے۔‘‘ وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’آرام سے سو جائیں۔ میں کوئی فضول بات سننا نہیں چاہتا۔‘‘
’’مگر میں بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
وہ لفظوں کو چبا کر بولی۔
نوفل نے اسے تولتی نگاہوں سے دیکھا۔
یہ صبا اس صبا سے بہت مختلف تھی جس کے ساتھ وہ اپنی من مرضی کے مطابق رویہ اختیار کرتا رہا تھا۔ یہ تو کوئی اور ہی تھی۔
نڈر‘ بے خوف‘ انجام سے بے پروا۔
’’کیا بات کرنا چاہتی ہیں آپ؟‘‘
وہ سردمہری سے بولا تو صبا نے اطمینان سے کہا۔
’’میں یہ بچہ نہیں چاہتی۔‘‘
نوفل کے سر پہ ہفت آسمان آ گرے۔
’’یہ کیا بکواس‘ پتا ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘
وہ مارے غصے کے بمشکل کہہ پایا۔
مگر وہ تو جیسے انجام سے بے خبر ہو رہی تھی۔
اسی سکون سے بولی۔
’’ہاں‘ میں اس بچے کی ماں نہیں بننا چاہتی جس کی بنیاد میں محبت نہیں بلکہ آپ کی غرض رکھی ہوئی ہے۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘
وہ دھاڑا۔
مگر صبا پہ اب بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ یوں ہی بولتی رہی۔
’’آپ نے خود کہا تھا کہ یہ بچہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کی ماں کی خواہش ہے۔ میں یہاں آپ کی خاطر موجود ہوں۔ دوسروں کی خواہش پوری کرنے کے لیے نہیں۔ آپ کی محبت ہی نہ ملی تو دوسروں کی رضا حاصل کرنے کی مجھے کیا ضرورت ہے۔‘‘
نوفل کو لگا وہ پاگل ہو گئی ہے۔
’’فضول باتیں مت کریں۔‘‘
’’یہ بہت ضروری باتیں ہیں نوفل۔ مجھے کہہ لینے دیں۔‘‘ وہ اسے ٹوک گئی مگر نوفل نے اسی سرد لہجے میں کہا۔
’’میں نے کہا نا۔ میں مزید کوئی فضول بات سننا نہیں چاہتا۔‘‘
’’ہونہہ… یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘ وہ تلخی سے بولی اور لائٹ آف کر کے بستر پہ آ گئی۔
بستر کے دوکناروں پہ موجود دونوں نفوس کا آپس میں تعلق ایک مگر سوچیں مختلف تھیں۔
جانے قدرت کیا رنگ دکھانے والی تھی۔
خخخ
ادینہ کا کئی بار فون آ چکا تھا بلکہ اس کا موبائل فون تو اب بجتا ہی اس کی کال سے تھا۔
’’لگتا ہے اب ملنے جانا ہی پڑے گا۔‘‘
اس کا خفگی سے پُر پیغام پڑھتے ہوئے وہ مسکرا دیا۔ آج کئی دنوں کے بعد اس نے اپنے ذہن کو فریش محسوس کیا تھا۔
دل پہ چھایا غبار بھی بہت حد تک کم ہو رہا تھا۔
اس نے الماری کھولی تو بہت سے کپڑوں میں سے اسے وہ شرٹ اچھی لگی جو لبرٹی سے اس نے اور انس نے ایک ساتھ ایک ہی رنگ اور ڈیزائن میں لی تھی۔ وہ بہت موڈ میں تیار ہوا۔
ایک سکون سا اس کا گھیرائو کیے ہوئے تھا۔ خود عماد نے بھی اپنی اس حالت سے کافی اطمینان محسوس کیا۔
مریم پھوپو نے چھٹی والے روز اسے گاڑی کی چابی لہراتے دیکھا تو خفا ہونے لگیں۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔ میں یہاں بیٹھ کے مکھیاں ماروں گی اکیلی۔‘‘
’’بس آدھے گھنٹے کی بات ہے۔ پھر آ کے ایک بہت اچھی خبر سنائوں گا۔‘‘
وہ وعدہ کرتے ہوئے بولا۔
ان کا دل دھڑکا۔
’’ادینہ سے ملنے جا رہے ہو؟‘‘
’’ہاں…‘‘
وہ چھپا نہیں سکا۔
’’اوکے… بیسٹ آف لک۔‘‘
وہ اس کی کشمکش پہچان گئی تھیں۔ کھلے دل سے بولیں تو وہ مسکراتا ہوا نکل آیا۔
آئینہ بتا کیسے ان کا دل چرانا ہے
آج پھر اکیلے میں ان سے ملنے جانا ہے
گاڑی میں دھیما سا میوزک گونج رہا تھا اور ساتھ ساتھ وہ بھی گنگنا رہا تھا۔

’’تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں چلتیں نگین! امی تمہیں اتنا یاد کرتی ہیں۔‘‘
صبا نے ایک بار پھر اسے منانے کی کوشش کی۔ وہ تو میرہائوس جا رہی تھی اور اس کی خواہش تھی کہ آج نگین کو بھی ساتھ لے جائے۔
’’نہیں صبا! میرا دل نہیں چاہتا۔ یوں بھی ماما اکیلی ہیں۔‘‘
’’ادینہ اور پھوپو ہیں ناں۔‘‘
صبا کے انداز میں اصرار تھا۔
’’وہ تو انیکسی میں ہیں اور ویسے بھی میں یہاں انس کو زیادہ قریب محسوس کرتی ہوں۔‘‘
وہ اطمینان سے بولی تو صبا اپنے آنسو پیتی واپس پلٹ گئی۔
جانے کب نکلو گی تم اس فیز سے۔
ان کے جانے کے بعد وہ لان میں آ بیٹھی۔
انس کی شوخیاں‘ شرارتیں… یاد کرتے کرتے وہ اسے خود سے بہت قریب محسوس کرنے لگی۔ اس کی باتیں‘ اس کا لہجہ اس کی خوشبو اس کے اردگرد لہرا رہی تھی۔
دھوپ میں کرسی پر سر ٹکائے اس کی آنکھیں مندنے لگیں۔
’’کبھی تو اعتراف کر لیا کرو ظالم اپنی محبت کا۔‘‘ وہ زچ آ جاتا تھا۔
’’آئی لو یو انس! آئی لو یو۔‘‘
آنکھوں پار کوئی خوب صورت سی یاد تھی۔
’’نگین…‘‘
اس نے پکارا۔
’’نگین…‘‘
وہ پکار رہا تھا۔
نگین نے بوجھل ہوتے پپوٹے بمشکل کھولے۔
نگین…‘‘
وہ پُرتشویش انداز میں اس کی طرف جھکا۔
نگین کی ساری جان جیسے اس کی آنکھوں میں سمٹ آئی۔
’’آئی لو یو۔ آئی رئیلی لو یو۔ اب مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا۔
وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے لجاجت بھرے سوئے سوئے انداز میں بولی تو عماد ششدر رہ گیا۔

ضحی کو بخار ہو گیا تھا۔
جانے دل ودماغ پہ کیسا بوجھ تھا جس نے بخار کی صورت اختیار کر لی۔
صبا اس کے پاس سے اٹھی تو سیدھی معید کے کمرے میں آئی۔
’’اوہوبڑے بڑے لوگ آئے ہیں آج۔‘‘
وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
’’میں نے سوچا آپ تو ادھر آئیں گے نہیں میں ہی مل جائوں۔‘‘
’’آج رہو گی؟‘‘
وہ اس کے شکوے کے جواب میں مسکرا کر پوچھنے لگا۔
’’نہیں واپس چلی جائوں گی۔ ماما اکیلی ہوتی ہیں۔‘‘
صبا نے جواب دیا۔
وہ حیرت سے بولا۔
’’نگین تو ہوتی ہے ان کے پاس۔‘‘
’’اس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ ہروقت اپنے آپ میں گم رہنا۔ بلکہ اب تو وہ انس بھائی سے باتیں بھی کرتی رہتی ہے۔ پریشانی کا یہ روپ بہت خوف ناک ہے معید بھائی۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ پاگل ہو گئی ہے۔‘‘
’’نوفل سے کہتیں اسے کسی اچھے سے سائیکالوجسٹ کو دکھائے وہ جلد ہی اس جذباتی دبائو سے نکل آئے گی۔‘‘
معید نے مشورہ دیا۔
صبا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔ اب کہوں گی ان سے مگر ابھی تو فی الحال میں آپ سے کچھ گفتگو کرنے آئی ہوں۔‘‘
’’ہاں ضرور۔ آئو بیٹھو۔‘‘
معید نے کرسی کی جانب اشارہ کیا تو اس نے نشست سنبھال لی۔
’’کہو…‘‘
وہ منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
’’یہ آپ کے اور ضحی کے درمیان کیا چل رہا ہے؟‘‘
صبا نے مشکوک انداز میں پوچھا تو اسے ہنسی آ گئی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ ویرا اور آپ کے بیچ کیا چکر ہے؟‘‘
صبا نے اسی سنجیدگی سے پوچھا تو وہ مسکرایا۔
’’تم میرا اور ضحی کا چکر معلوم کرنے آئی ہو یا میرا اور ویرا کا؟‘‘
غیرسنجیدگی سے پوچھا تو صبا خفگی سے بولی۔
’’یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ وہ بخار میں تپ رہی ہے۔ بلکہ کچھ اول فول بھی بک رہی ہے۔‘‘
’’وہ جب بخار میں تپ نہیں رہی ہوتی تب بھی اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔‘‘
معید نے اطمینان سے کہا۔
’’آپ اتنی اہم بات کو غیرسنجیدہ انداز میں مت لیں۔‘‘ وہ اور ناراض ہوئی تھی۔
’’تم بات ہی اتنی غیرسنجیدگی سے کہہ رہی ہو۔‘‘ وہ برجستہ بولا۔
’’ضحی اور میرے درمیان نکاح چل رہا ہے جبکہ ویرا اور میرے مابین دوستی کا چکر ہے اور کچھ؟‘‘
’’ویرا کا معاملہ سلجھ چکا وہ اب یہاں سے جا کیوں نہیں رہی؟‘‘
صبا کے ذہن میںبھی یہ سوال اٹھا تو اس نے پوچھ لیا۔ ضحی کی حالت اور بے ہوشی کی کیفیت میں بڑبڑانا اس کے علم کو خاصا بڑھا گیا تھا۔
’’تمہیں کس نے کہا کہ اس کا معاملہ سلجھ چکا ہے؟‘‘
معید نے تیوری چڑھائی تو صبا ذرا سنبھلی۔
’’وہ جس کام کے لیے آئی تھی وہ ہو چکا۔ اب اس کے یہاں رہنے کی کیا تُک بنتی ہے؟‘‘
’’بہت افسوس کی بات ہے۔ تمہارے منہ میں بھی ضحی کی زبان بول رہی ہے۔‘‘
معیدنے اسے دیکھتے ہوئے متاسفانہ انداز میں سر ہلایا تو وہ خجل سی ہو گئی۔
’’یہ بات نہیں۔ ضحی نے مجھ سے کچھ نہیں کہا ہے۔ میرا اپنا اندازہ ہے کہ وہ آپ دونوں کے رشتے کو لے کر ڈسٹرب ہے۔‘‘
’’یہ اس کا دماغی خلل ہے۔ میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’اس معاملے کو سلجھا تو سکتے ہیں۔ پہلے ہی وہ بمشکل شادی کے لئے راضی ہوئی تھی اور اب یہ ویرا والا …‘‘
’’میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ سب اس کی اپنی دماغی اختراع ہے۔‘‘
معید نے بہت سنجیدگی سے کہا تو صبا کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اندر سے برہم ہے۔
’’اچھا اور کچھ نہیں تو جا کر اس کی عیادت تو کر سکتے ہیں نا؟‘‘ صبا فوراً صلح جو انداز پر اتر آئی۔
’’دیکھی جائے گی۔ فی الحال تو تم اٹھو۔ مجھے ایک کیس فائل اسٹڈی کرنی ہے۔‘‘
معید نے اسے ٹہلانے کی کوشش کی تھی۔
’’پہلے وعدہ تو کریں۔‘‘
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔ معید مسکرا دیا۔
’’میری بات مانیں گے تو فائدے میں رہیں گے۔ بہت سے راز آشکار ہوں گے۔‘‘
وہ معنی خیز انداز میں کہہ رہی تھی۔ معید مسکراتے ہوئے سرہلاتا رہا۔
نوفل شام کو اسے لینے آ گیا تھا۔
’’معید بھائی! میری بات یاد رکھیئے گا۔‘‘
وہ جاتے ہوئے بھی اشارے کر رہی تھی۔ پھر گاڑی میں جا بیٹھی۔
’’امید ہے کہ اب حواس ٹھکانے آ چکے ہوں گے۔‘‘ سفر کے دوران چھائی خاموشی کو نوفل کے طنز نے توڑا۔ تو سوچوں میں گم وہ بری طرح چونکی۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ رات جو فضولیات کہہ رہی تھیں اس کا افاقہ ہوا یا ابھی کسر باقی ہے؟‘‘
وہ اسی انداز میں پوچھ رہا تھا۔
صبا کو غصہ آیا۔ وہ تلخی سے بولی۔
’’میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ ہو گا وہی جو میں چاہتی ہوں۔‘‘
’’اگر آپ نے میرے بچے کے معاملے میں کچھ الٹی سیدھی حرکت کرنے کی کوشش کی تو بہت برا ہو گا۔‘‘
نوفل نے سخت لہجے میں کہا۔
وہ تمسخر سے ہنسی۔
’’یہاں اچھا کیا ہوا ہے آج تک جو آپ برا ہونے کے ڈراوے دے رہے ہیں؟‘‘
’’بہرحال میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی بھی حماقت برداشت نہیں کروں گا۔‘‘
نوفل نے اسے تنبیہہ کی تو وہ بھڑک اٹھی۔
’’مجھ سے اس قدر بارعب انداز میں بات مت کیا کریں۔ بیوی تو کبھی آپ نے سمجھا نہیں۔ نوکرانی بھی نہیں ہوں آپ کی۔‘‘
’’بی ہیو یو…‘‘ وہ ناگواری سے بولا تو وہ مزید چٹخی۔
’’کبھی اپنے انداز اور رویئے پر غور کیا ہے آپ نے؟‘‘
’’یہ سب آپ کے اپنے کرموں کا پھل ہے۔‘‘
وہ سردمہری سے بولا۔
صبا دکھ کے مارے اسے دیکھنے لگی۔
’’میں نے ایسا کیا کر دیا تھا نوفل۔ فقط انس کی بہن یا نگین کی نند ہونا ہی میرا جرم بن گیا تھا؟‘‘
’’نہیں۔ اس کی ایک اور وجہ بھی تھی۔‘‘
نوفل کی آنکھوں میں سرخی اور لب ولہجے میں محسوس کن تلخی اتر آئی تھی۔
’’تمہارا اور عماد کا افیئر…‘‘
صبا کو اپنے وجود کے ہزاروں ٹکڑے ہوتے محسوس ہوئے۔ وہ بے یقینی سے اس سنگ دل شخص کو دیکھے گئی جس کے لبوں سے یہ زہر میں بجھے تیر نکلے تھے۔
خخخ
وہ حواس میں لوٹی تو عماد کو سامنے پا کر اس کی رنگت سپید پڑ گئی۔
اس کے ہاتھوں پر گرفت ڈھیلی پڑی تو وہ سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ زمین پر ڈِھ گئی۔ عماد نے بے اختیار اسے سنبھالا۔
پھر اپنی پوزیشن اور صو رت حال کا اندازہ کرتے ہوئے اسے وہیں چھوڑ کر تیزی سے انیکسی میں آیا۔ زرینہ بیگم اور ادینہ کو ساری صورت حال بتائی۔
’’ہائے۔ میری بچی۔‘‘
زرینہ بیگم فوراً باہر بھاگی تھیں۔جبکہ ادینہ نے اس کی آستین پکڑ لی۔
’’آئو نا بیٹھو۔ امی دیکھ لیتی ہیں نگین کو۔‘‘
وہ شیریں لب ولہجے میں بولی تو عماد کو تاسف ہوا۔
’’بیٹھنے کو ساری عمر پڑی ہے۔ جو وقت کا تقاضا ہے وہ تو نبھالوں۔‘‘
وہ تلخی سے کہتا باہر نکلا تو زرینہ بیگم کے پاس بیٹھی نگین کو دیکھ کر اس کے دل کو تسلی مل گئی۔
وہ پلٹ کر ادینہ کی طرف دیکھے بغیر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ذہنی وقلبی ماہیت ایک دم سے بدل کے رہ گئی تھی۔ وہ فیصلہ جو اتنے مہینوں سے نہیں ہو پا رہا تھا اب ایک پل میں ہو گیا تھا۔
گھر جاتے ہی وہ سیدھا مریم پھوپو کے پاس گیا۔
ان کے قدموں میں جا بیٹھا اور ان کی گود میں سر رکھ دیا۔
’’کیا بات ہے عماد؟‘‘
وہ پریشان ہوئیں۔
’’آپ چاہتی ہیں نا کہ میں کوئی فیصلہ کر لوں اپنی آئندہ زندگی کے متعلق۔‘‘
وہ گویا ہوا۔
’’ہوں…‘‘
وہ مبہم لہجے میں بولیں۔
’’تو میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ عماد نے مدھم لہجے میں کہا۔
مریم پھوپو کا دل بے ترتیبی سے دھڑکا۔
’’کیا…؟‘‘
’’آپ میری خواہش مان لیں گی ناں؟‘‘
وہ منہ اٹھا کر بچوں کی طرح پوچھنے لگا۔ وہ ماں تھیں۔ ان کا دل پگھلنے لگا۔
’’کیوں نہیں میری جان تو بول تو سہی۔‘‘
’’ماما! میں نگین سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے نگین چاہیے ماما۔‘‘
وہ بے اختیار ہو گیا تھا۔
مریم پھوپو کا ہاتھ اپنے کلیجے پر جا پڑا۔ اس کی اس قدر غیر متوقع بات نے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی تھی۔

 

 (باقی آئندہ ماہ (انشاء اللہ

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close