Aanchal Jan-07

حتیم حسین

نازیہ کنول نازی

جن شہروں میں گہری ٹھنڈی چھائوں والے
سرتاپارحمت کا پیکر
بوڑھے برگد‘ نفرت کی اس زہریلی سفاک ہوا کی زد میں آکر
جل جائیں تو…
آنے والی بے حس نسلو‘خود ہی سوچو
تم پر سایا کون کرے گا…؟
یہ نظم حتیم حسن نے اس ایک لاچار بوڑھی عورت کو بے دست وپا‘ اپنے کالج گیٹ کے قریب بے حال حلیے میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر لکھی تھی کہ جس کے سگے بیٹوں نے سفاکی اور بے حسی کا شرمناک مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بڑھاپے میں گھر سے بے دخل کردیا تھا۔ زندگی کے ہر موڑ پر قربانیاں دینے والی اس بدنصیب مخلوق کو‘ اپنا آپ قربان کرکے بھی‘ کبھی کہیں امان نہیں ملی۔
ایک عرصے سے آپ لوگ یہ فرمائش کررہے تھے کہ نازیہ کنول نازی‘ غزل اس نے چھیڑی کے اس خوب صورت سلسلے میں اپنے آپ کو آپ کے مقابل لائے۔ لہٰذا آپ کی ان پیار بھری فرمائشوں کا مان رکھتے ہوئے آج آپ کی نازی‘ اپنے ہی جیسی‘ ایک گہری شاعرہ کو آپ سے متعارف کروارہی ہے۔
حتیم حسن بلاشبہ‘ ان شخصیات میں شمار ہوتی ہیں جن کی تعریف یا تعارف کے لئے بڑے بڑے قلمکار بھی لفظ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہنامہ آنچل میں میرا Cell-number شائع ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں ملک اور دنیا کے طول و عرض سے متعدد شخصیات نے رابطہ کیا‘ انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت محترمہ حتیم حسن صاحبہ کی ہے۔ حتیم حسن صاحبہ کا تعلق پٹھان فیملی سے ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہیں۔ کچھ ماہ قبل ایجوکیشن آفیسر تھیں۔ حال ہی میں اپنے شہر کے ہائی اسکول میں بطور سینئر ٹیچرپوسٹنگ ہوئی ہیں۔
ان کی دلکش‘ سحر انگیز اور خوب صورت ترین شخصیت کی مانند ان کی شاعری بھی بے حد خوب صورت ہے۔ سید وصی شاہ کے بعد ان کا نام میرے موسٹ فیورٹ شعراء میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ زندگی کی ایک ایک تلخی کو چھوڑ کر لفظوں میں ڈھالتی‘ دنیا کی سفاکی اور بے رحمی کا پردہ چاک کرتی‘ یہ حساس شاعرہ‘ اس قابل ہے کہ اس کے فن کو جی بھر کر سراہا جائے۔
اپنے ایک قطعے میں‘ اپنی ہی گنجلک ذات کو موضوع بناتے ہوئے وہ لکھتی ہیں۔
بارشوں سے پہلے کی‘ گھنگھور خامشی ہوں میں
مجھ میں استقامت ہے‘ شہر روشنی ہوں میں
اُس کی خوش مزاجی کا معترف تھا سارا شہر
وہ بھی کہہ نہیں پایا‘ ایسی ان کہی ہوں میں
ایک اور جگہ‘ وہ کہتی ہیں۔
جب سے آئینوں نے عکس گنوائے ہیں
ہم کو شہر کے تہمت گر یاد آئے ہیں
اس کو کھو کر اب ایسا کیوں لگتا ہے
ہم نے یہ دکھ خود ہی گلے لگائے ہیں
حتیم کو شاعری میں دل کی بات لکھنے کا فن بخوبی آتا ہے۔ اپنی ایک غزل میں محبت کے بے درد راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں۔
بکھرنے اجڑنے کا موسم نہیں تھا
یہ پیڑوں کے گرنے کا موسم نہیں تھا
اسے زیست کی بے ثباتی کا دکھ تھا
وگرنہ یہ ’’مرنے‘‘ کا موسم نہیں تھا
بھلا کیسے سوکھے ہیں آنکھوں کے سوتے
یہ دریا اترنے کا موسم نہیں تھا
حتیم حسن کو پبلسٹی اور شہرت سے شدید چڑ ہے۔ آج تک انہوں نے اپنی کوئی ایک نظم‘ غزل بھی شائع نہیں کروائی‘ حالانکہ اونچے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باعث‘ کافی بڑے بڑے ناموں سے ان کی شناسائی ہے۔ متعدد مشاعرے اور سیمینار بھی اٹینڈ کرچکی ہیں۔ لیکن اس گلاب کی خوشبو‘ کبھی فضائوں میں بکھری نہیں۔ اپنی شاعری وغیرہ کی اشاعت کے موضوع پر یہ بات تک کرنا گوارا نہیں کرتیں۔ بقول حتیم حسن۔
’’میرے لفظ میرا ذاتی ورثہ ہیں‘ پھر میں انہیں نیلام کیوں کروں…؟‘‘
آنچل کے لئے ان کا انٹرویو‘ میں نے اپنی محبت کے صدقے حاصل کیا‘ کیونکہ میں اتنی خوب صورت شخصیت کو گم نام رکھنا نہیں چاہتی‘ دوسرا آپ سب لوگوں میں بھی ان کی سحر انگیز شاعری کا سرور بانٹنا چاہتی تھی۔ بڑے بڑے شعراء حضرات‘ حتیم حسن کے لفظوں کو پسندیدگی کی مالا پہناتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک شاعر صاحب‘ حتیم کا کلام پڑھنے کے بعد بولے۔
’’حتیم! لگتا ہے جب آپ کچھ لکھنے کا آغاز کرتی ہیں تو لفظ ہاتھ باندھ کر آپ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر آپ جسے چاہتی ہیں‘ جس انداز میں چاہتی ہیں‘ لائن میں لگنے کا حکم دے دیتی ہیں۔‘‘
حتیم حسن کے متعلق مزید آپ انہی کی زبانی جانیں گے‘ تاہم حتیم سے اپنے رشتے کے متعلق میں محض اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ آپ کی ’’نازیہ کنول نازی‘‘ سانس ہارون آباد میں ضرور لیتی ہے ، مگر اس کا دل ڈیرہ اسماعیل خان کی مغل شہزادی حتیم حسن کے سینے میں دھڑکتا ہے۔
آئیے ملتے ہیں حتیم صاحبہ سے۔
آنچل : السلام علیکم حتیم‘ کیسی ہیں آپ؟
٭ وعلیکم السلام‘ میں الحمد للہ بالکل خیریت سے ہوں‘ آپ سنائیں۔
آنچل: بہت کرم ہے اللہ کی پاک ذات کا‘ ابھی کیا کررہی ہیں آپ؟
٭ کچھ خاص نہیں‘ جناب امجد اسلام امجد صاحب کی یہ فکر انگیز نظم زیر مطالعہ تھی کہ
میں مانتا ہوں
حصول لذت گناہ نہیں ہے
مگر وہ رستے
جو لذتوں کی طرف گئے ہیں
ازل سے لے کر ابد کی بے نام وسعتوں تک
گناہ کی منزل سے پھوٹتے ہیں!
آنچل : زبردست… آنچل کے دوستوں کو اپنا تعارف کروائیں گی؟
٭ سر آنکھوں پر نازی‘ میرا اصل نام ماریہ افشین جبکہ قلمی نام‘ جیسا کہ آپ جانتی ہیں حتیم حسن ہے۔ تعلیم ماسٹر آف ایجوکیشن‘ مشاغل لکھنا پڑھنا اور کمپیوٹر کیساتھ وقت گزارنا‘ تاریخ پیدائش 6 مارچ 1982 ء ہے۔موجودہ مصروفیات درس و تدریس اور لکھنا پڑھنا (کاسٹ) میں ایک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرا اسٹار Pisces یعنی ’’حوت‘‘ ہے۔ آنچل فیورٹ پرچہ ہے۔ سو پہلی بار اپنا آپ کسی ڈائجسٹ کے قارئین سے متعارف کروانے کا قدم اٹھا رہی ہوں۔
آنچل : آنچل والے اس محبت کے لئے آپ کے مشکور ہیں‘ حتیم کہ ہمیشہ سب سے چھپنے والی لڑکی‘ آنچل کا نام سن کر اپنے الفاظ اسے دان کرنے پر رضامند ہوگئی‘ پلیز اپنے اسٹار کے بارے میں کچھ بتائیے ناں؟
٭ میرا اسٹار حوت ہے نازی‘ اور حوت افراد بہت سنجیدہ ہوتے ہیں‘ بہت حساس بھی‘ ان میں تخلیقی صلاحیتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں‘ بہت روشن دماغ ہوتے ہیں ، حوت افراد کی آنکھیں بہت معنی خیز ہوتی ہیں۔ یہ طبعاً بہت سست ہوتے ہیں‘ اپنی ذات اور خوابوں کی پُراسرار دنیا میں کھوئے رہتے ہیں۔ حوت افراد کے اندر ایک عجیب سا اضطراب ہوتا ہے جو انہیں مسلسل بے چین رکھتا ہے اور کچھ نہ کچھ تخلیق کرواتا رہتا ہے۔
آنچل:آپ نے انمول موتیوںکو لفظوں میں پرو کر صفحہ قرطاس پر بکھیرنا کب شروع کیا‘ پہلی تخلیق کیا تھی؟
٭ دل گداز لفظوں سے آشنائی کو مدت ہوئی سو پہلی تخلیق یاد نہیں رہی‘ تاہم جو لوگ ہوش سنبھالتے ہی آگہی و شعو ر کے راستوں کے مسافر ہوجائیں‘ انہیں کب یاد رہتا ہے کہ حقیقتیں کب سے ان کا دامن تھامے چلے آرہی ہیں۔
آنچل: پھر بھی کوئی ایسی غزل‘ نظم جسے تخلیق کرکے دلی خوشی سمیٹی ہو؟
٭ ہاں‘ کالج لائف کے اختتام پر‘ دوستوں کے بے حد اصرار و فرمائش کے بعد‘ تعلیمی دور کا احاطہ کرتی‘ ایک خوب صورت نظم میں نے تحریر کی تھی‘ جسے طوالت کے باعث آپ سے شیئر کرنا ممکن نہیں‘ تاہم اس نظم کی پورے کالج میں بہت دھوم مچی تھی۔
آنچل : گُڈ! حتیم! ہمارے ہاں شاعری کا جو معیار ہے اور اس فیلڈ میں لوگوں کی جس انداز سے بھرمار ہورہی ہے اسے آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
٭ نازی‘ جہاں سنجیدہ ادب تخلیق ہورہا ہے اور کہنہ مشقی سے کام ہورہا ہے‘ وہاں تک تو شاعری قابل تحسین ہے‘ مگر جن لوگوں نے اسے بطور فیشن اپنا کر‘ لفظوں کے بخیے ادھیڑنا شروع کئے ہیں‘ وہ روش درست نہیں۔ حرمت قلم اور حرمت لفظ کا پاس رکھنا بے حد ضروری ہے۔میرے نزدیک شاعری الہامی وصف ہے۔ یہ کوشش سے نہیں آسکتی۔
آنچل : حتیم! کہا جاتا ہے کہ دل پر چوٹ کھائے بغیر‘ حقیقی شاعری کرنا ممکن نہیں‘ آپ اس سلسلے میں کیا کہنا چاہیں گی؟
٭ میں آپ سے متفق ہوں نازی‘ آپ خود حساس شاعرہ ہیں‘ لہٰذا خوب سمجھ سکتی ہیں کہ حساس دل چوٹ کھائے بغیر اپنے اندر کا لاوا باہر نہیں پھینک سکتے۔ ساز کے تاروں پر چوٹ لگتی ہے تو وہ گنگناتا ہے‘ لگ بھگ دل کا بھی یہی حال ہے۔
آنچل : ناول نگاری کی طرف کیوں نہیں آئیں؟ جبکہ آپ میں اس کی صلاحیت ہے۔
٭ ناول نگاری بہت حساس کام ہے۔ اگر میں صاف گوئی سے کام لوں تو میری ذہنی اپروچ‘ ناول نگاری کے لئے موضوع نہیں‘ یہ بہت مشکل کام ہے۔ اور اتنی دیر تک اپنا ذہن مرتکز نہیں رکھ پاتی۔
آنچل : حتیم! ناول نگاری میں رومانس کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟ کیا کسی بھی تحریر کی کامیابی کے لئے رومانس کا استعمال ضروری ہے؟
٭ رومانیت زندگی کا حسین پہلوہے‘ مگر آپ کے قارئین کی زیادہ تعداد کچے‘ ناپختہ ذہنوں کی ہے۔ سو حد ادب کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور اپنی تحریروں میں بہتر ہے کہ اصلاحی پہلوئوں کی طرف توجہ دی جائے۔
آنچل : درست فرمایاآپ نے! آپ بذات خود کن قلم کاروں کو پسند کرتی ہیں؟ نیز آپ کی فیورٹ تخلیقات؟
٭ بانو قدسیہ کا انداز تحریر مجھے ہمیشہ پسند رہا ہے۔ ان کی راجہ گدھ میری فیورٹ تحریر ہے۔ آپ سمیت کچھ اور لڑکیاں بھی آج کل بہت اچھا لکھ رہی ہیں‘ اردو لٹریچر میں ہر چیز میری فیورٹ ہے۔ ممتاز مفتی کی ’’تلاش‘‘ بانو قدسیہ کی ’’راجہ گدھ‘‘ اور ’’حاصل گھاٹ‘‘ میری پسندیدہ تحریریں ہیں اس کے علاوہ مستنصر کا ناول ’’قربت مرگ‘‘ ، ’’میں محبت‘‘ بھی بہت پسند ہے۔ جب میں 7th‘ 8th میں تھی تو کرشن چندر صاحب کا ناول ’’دوسری برف باری سے پہلے‘‘ پڑھا تھا۔ یہ ناول بار بار پڑھنے کی خواہش ہے۔ عمیر احمد کا پیر کامل بھی شوق سے پڑھتی ہوں۔
آنچل : ابھی تک آپ نے خود جو کچھ لکھا ہے اس پر ادبی دنیا میں کتنی پذیرائی ملی۔ نیز اس حوالے سے کسی بڑی شخصیت کے خوب صورت کمنٹس جو ملے وہ کیا تھے؟
٭ ادبی حلقوں میں ابھی نووارد ہوں‘ پھر بھی مختلف شخصیات نے میری سوچ سے بڑھ کر پذیرائی کی‘ تاہم میرے لئے آپ جیسی نامور لکھاری اور شاعرہ کے تعریفی کلمات ایک سند کا درجہ رکھتے ہیں‘ آپ کی مسلسل پذیرائی‘ مجھے مزید لکھنے پر اکساتی ہے۔
آنچل : شاعری کیسی پسند کرتی ہیں؟ نیز آپ کے پسندیدہ شاعر اور پسندیدگی کی وجہ؟
٭ ہر خوب صورت اور معیاری شعر مجھے متاثر کرتا ہے۔ خواہ وہ کسی قلم کی تخلیق ہو۔ ویسے مجھے ’’محسن نقوی‘‘ انور مسعود اور پروین شاکر کی شاعری بہت پسند ہے۔ انہی کو پڑھ کر میں نے لکھنا سیکھا۔ پروین شاکر نے شاعری کو جو Female touch دیا ہے۔ یہ صرف انہی کا خاصہ ہے۔
آنچل : ڈائجسٹ کون کون سے پڑھتی ہیں؟ ان کا معیار آپ کے نزدیک کیسا ہے؟
٭ آنچل‘ شعاع‘ خواتین اور کرن ڈائجسٹ میرے نزدیک یہ سبھی پرچے نوجوان ذہنوں کو بنانے کے لئے بہت اہم ہیں۔ خواتین کے تقریباً سبھی پرچے بہترین تفریح مہیا کررہے ہیں۔
آنچل : حتیم! ایک حساس قلم کار ہ کی حیثیت سے موجودہ ملکی بحران کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟ نیز اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک کے موجودہ بحران کا کون ذمہ دار ہے؟
٭ موجودہ ملکی بحران پہ ہم اور آپ محض کڑُھ ہی سکتے ہیں۔ اپنا خون ہی جلا سکتے ہیں کہ ہم بے دست و پا ہیں۔ ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے اعمال ہیں‘ جب بھی مسلمان‘ الہامی ہدایت سے منہ موڑتے ہیں‘ صراط مستقیم کا راستہ چھوڑتے ہیں‘ خداوند کریم کی ذات ان میں صالح قیادتیں پیدا کرنا بند کردیتی ہے‘ ہمارے ملکی بحران کی بڑی وجہ بھی صالح اور باعمل قیادت کا فقدان ہے اور اس کے لئے ہمیں من حیث القوم اپنا چال چلن درست کرنا پڑے گا۔
آنچل : آپ اپنی سنائیں‘ گھر داری میں کس حد تک انوالو ہیں؟ اور کیا کچھ کرلیتی ہیں؟
٭ بہت مشکل سوال ہے۔ کیونکہ گھریلو کاموں میں میری دلچسپی زیادہ نہیں‘ وجہ وقت کی کمی ہے‘ تاہم میں گھر داری میں کوری بالکل نہیں‘ الحمد للہ ضرورت پڑنے پر سب کچھ کرلیتی ہوں‘ گھر میں امی سے زیادہ انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ اپنی ہر اچھی بری بات انہی سے شیئر کرتی ہوں وہ میری بے حد اچھی دوست ہیں۔
آنچل! حتیم انسان فانی ہے اور مر کر مٹ جاتا ہے‘ لیکن مر کر بھی زندہ رہے‘ ایسا کوئی فارمولا بتائیے؟
٭ دلوں میں جگہ بنائیے اور انہیں تسخیر کرلیجئے‘ یہی امر ہونے کا بہترین فارمولا ہے۔
آنچل : حتیم آپ ’’شاعرہ محبت‘‘ ہیں۔ آپ کی شاعری میں جگہ جگہ محبت پڑائو ڈالے بیٹھی۔ اپنے درد پر بین کررہی ہے۔ یقینا آپ ’’محبت‘‘ کا گہرا مشاہدہ رکھتی ہیں۔ سو پلیز بتائیے کہ محبت آپ کے نزدیک کیا ہے اور اسے کیسے امر کیا جاسکتا ہے؟
٭ محبت کے فلسفے کے لئے گہری دانشمندی چاہئے جبکہ ہم تو ابھی طفل مکتب ہیں‘ بہر حال میرے نزدیک محبت سمندروں کی روانی ہے۔ پون کی سبک روی ہے‘ پھولوں کی نرماہٹ کا پرتو ہے ، چاندنی کا حسین روپ ہے‘ محبت صبح کی آنکھ اور رات کا جادو ہے۔ محبت مسلسل طلسم ہے جو اُجلے دلوں کو جکڑ لیتا ہے۔ محبت اور عبادت میرے نزدیک مسلسل ارتکاز کا نام ہیں۔ جہاں ذرا سی توجہ ہٹی‘ سارا دھندہ چوپٹ ہوجاتا ہے۔
آنچل : حتیم!دوستی آپ کے نزدیک کیا ہے؟ اور ایک حساس شاعرہ ہونے کے ناتے اس جذبے کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
٭ نازی‘ دوستی میرے نزدیک آسمانی تحفہ ہے‘ جو زمین والوں کو تحفتاً دیا گیا ہے‘ دوستی اعتبار اور اعتماد کی ٹھنڈی میٹھی چھائوں کا نام ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں دنیا میں مخلص اور اچھے دوست ملتے ہیں‘ آپ میری بہت پیاری قریبی دوست ہیں‘ لہٰذا آپ سے صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ پلیز اپنے چاہنے والوں کی خاطر‘ یونہی لفظوں کے یہ حسین‘ موتی بکھیرتی رہنا کیونکہ آپ کے لفظ ہمیں جینے کی راہ دکھاتے ہیں سو یہ سلسلہ جاری رکھئے گا پلیز…‘‘
آنچل : تھینک یو حتیم‘ بے شک آپ کے یہ لفظ بہت انمول ہیں‘ تاہم یہ بتائیے کہ آپ کی زندگی سے وابستہ کوئی ایسی شخصیت جو بچھڑنے کے بعد بھی ہرلمحہ دل کے پاس رہتی ہو۔
٭ رہنے دیں نازی‘ کچھ باتیں ان کہی ہی اچھی لگتی ہیں۔
آنچل : پسندہ موسم؟
٭ مجھے شدید ترین سردی کا اداس ابر آلود موسم پسند ہے۔
آنچل : مزاجاً کیسی ہیں‘ لوگوں کے ساتھ جلد گھل مل جاتی ہیں یا خود کو محدود رکھنا پسند کرتی ہیں؟
٭ زیادہ تر ہنستی مسکراتی رہتی ہوں۔ نرم مزاج ہوں‘ مگر کبھی کبھار آنے والا غصہ بہت خراب ہے۔ اس سے میں بھی بہت تنگ ہوں۔
آنچل: آپ کا پسندیدہ رنگ‘ مشروب‘ خوشبو‘ پھول‘ شہر اور ڈش؟
٭ رنگ تو سارے ہی پسند ہیں کیونکہ ہر رنگ کی اپنی الگ زبان اور پہچان ہے‘ ویسے مجھے نیلگوں سارے شیڈز پسند ہیں۔ سیاہ رنگ میری کمزوری ہے۔ پسندیدہ مشروب Pine-apple دل و جان سے پسند ہے۔ ہر اچھی خوشبو میری کمزوری ہے۔ ویسے Romance‘ White Diamond اور Mooving مجھے پسند ہیں۔ پھولوں میں رات کی رانی اور سورج مکھی فیورٹ ہیں۔ جبکہ پسندیدہ شہر اسلام آباد ہے۔ کھانوں میں فرائیڈ رائس کے ساتھ چکن منچورین بہت پسند ہے اور آئس کریم کے تمام فلیور میری کمزوری ہیں۔
آنچل : فرصت کے لمحات میسر آئیں تو میوزک وغیرہ سن لیتی ہیں کہ نہیں؟
٭ ہاں‘ موڈ کے حساب سے سُن لیتی ہوں۔ سوفٹ نیم کلاسیکل غزلیں پسند ہیں۔ دو تین غزلیں آل ٹائم فیورٹ ہیں۔ ان میںجگجیت سنگھ کی ’’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘‘ احمد جہانزیب کی ’’آپ کی یاد آتی رہی رات بھر‘‘ اور رونا لیلیٰ کی ’’ہمیں کھوکر بہت پچھتائو گے‘ جب ہم نہیں ہوں گے۔‘‘ بہت زیادہ پسند ہیں۔
آنچل : آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش؟ اور سب سے بڑا دکھ؟
٭ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش‘ زیارت کعبتہ اللہ ہے اور خدا کا بہت کرم ہے کہ اس نے دکھوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ بس مسلمانوں کی حالت زار تکلیف پہنچاتی ہے۔
آنچل : کن لوگوں سے ملنا جلنا اور دوستی کرنا پسند کرتی ہیں؟ نیز کیسے لوگ اچھے لگتے ہیں؟
٭ میں خودزیادہ شوخ و چنچل نہیں ہوں‘ کسی حد تک سنجیدہ ہوں‘ لیکن میرے دوست بہت شوخ و چنچل اور زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں‘ مجھے اُجلی آنکھوں والے لوگ بہت اٹریکٹ کرتے ہیں‘ بہت کیئرنگ‘ لونگ اور وعدے کی پاسداری کرنے والے لوگوں کی دل سے قدردان ہوں۔
آنچل : کوئی ایسی دوست جس سے فرینکلی دل کے راز شیئرز کرتی ہوں؟
٭ ’’نازیہ کنول نازی‘‘ ، ’’جویریہ‘‘ جو شادی کے بعد اسلام آباد میں مقیم ہے ، ’’مدیحہ‘‘ جو عکس بن کر ہر پل میرے ساتھ رہتی ہے۔ اور ’’ہنی‘‘ جو میری چچا زاد ہے‘ لیکن میرے ساتھ بے حد کلوز ہے۔
آنچل : حتیم! ایک قلمکارہ ہونے کی حیثیت سے آپ عورت کی آزادی کے ایشو کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟ کیا واقعی عورت کو مرد کے برابر کے حقوق ملنے چاہئیں؟
٭ نازی‘ میں عورت کی محدود آزادی کی قائل ہوں۔ عورت اپنے گھرکی چہار دیواری میں زیادہ محفوظ اور خوشحال رہ سکتی ہے۔ ہمارا معاشرہ مجبوری کے تحت بھی‘ گھر سے باہر قدم نکالنے والی عورت کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھتا۔ میرے نزدیک آزادی نسواں کے نعرے صریحاً گمراہی ہیں۔ میرا اپنی صنف سے یہی کہنا ہے کہ پلیز اپنے اندر شیئرنگ کی کوالٹی پید اکریں‘ اپنا دل بڑا رکھیں‘ آپ نسل نو کی تخلیق و تعمیر کی ذمہ دار ہیں سو اس ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کریں اور بے پردگی سے خصوصاً اجتناب کریں کیونکہ اسی میں آپ کا سکون اور نجات پوشیدہ ہے۔
آنچل : بالکل درست فرمایا آپ نے‘ اب آخر میں اپنے پڑھنے والوں کے لئے کوئی ایسا پیغام جو آپ دینا چاہیں؟
میرا پیغام یہی ہے کہ اپنی زبان کی مٹھا س سے زخمی دلوں کو مرہم فراہم کیجئے‘ آنسو چنیے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ویران آنکھوں میں زندگی کے چراغ جلائیے‘ خشک لبوں کو مسکراہٹ دان کیجئے کیونکہ۔
درد دل کے واسطے‘ پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
آنچل: جان عزیز‘ اپنی مصروف زندگی میں سے یہ وقت جو آپ نے ہماری محبت کی نذر کیا۔ ہم اس پر دل سے آپ کے مشکور ہیں۔ خدارا آنچل سے قلمی تعاون جاری رکھئے گا۔ بہت شکریہ آپ کا!
٭ اس عزت افزائی اور اہمیت کے لئے آپ کا اور آنچل والوں کا بھی بے حد شکریہ‘ اللہ کی پاک ذات ہم سب کی حامی و ناصر ہو۔ ثم آمین۔
دوستو! اس کے ساتھ ہی ہم نے حتیم سے گفتگو کا اختتام کیا‘ انشاء اللہ جلد ہی حتیم ہاتھ پیلے کرواکر پیا دیس سدھارنے کی تیاری کررہی ہیں لہٰذا قوی امید ہے کہ یہ خاکسار ان کی شادی کی دل چسپ روداد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو‘ آپ کو میری پسندیدہ شخصیت سے مل کر کیسا لگا ضرور بتائیے گا پلیز‘ اب حتیم کے سمندری کلام سے میں اپنی پسند کا کچھ انتخاب آپ کی نذر کررہی ہوں۔ قبول فرمائیے۔
سوال
میرے ہم دم مجھے تم نے بھلا کیسے بھلایا تھا؟
کوئی تدبیر‘ کوئی گر‘ کوئی نسخہ ہمیں بھی تو عنایت ہو
کہ میں تو جب بھی ایسا سوچنا آغاز کرتی ہوں
میری سانسیں بدن کے سارے ریشوں کی طنابوں سے نکلنے کو مچلتی ہیں
اذیت کی سیاہ چادر
وجود زندگی کے نکھرے رنگوں کی بہاریں ڈھانپ لیتی ہے
جدائی کا تصور دل کی دیواروں کو اپنے ناخنوں سے چھید دیتا ہے
لہو روتی نگاہیں التجائوں سے بھرا کشکول لگتی ہیں
بدن اجڑے ہوئے مرقد کا اک ٹوٹا ہوا کتبہ دکھائی دینے لگتا ہے
عجب بدرنگ ویرانی‘ میری ہستی کی رونق‘ خوبروئی‘ خوش مزاجی کے
ستونوں سے لپٹ کر بیٹھ جاتی ہے
میرے ہم دم میں تم کو بھولنا چاہوں تو پھر مجھ سے ہوائیں روٹھ جاتی ہیں
برستی بارشیں مجھ سے محبت کے تعلق کے مراسم توڑ دیتی ہیں
وفائیں اجنبی آنکھوں سے تکتی ہیں
حسین موسم میرے دل کی گلی کا راستہ ہی بھول جاتے ہیں
میرے تن پر سجے سب رنگ‘ اپنے آپ کو کھوکر اچانک بجھنے لگتے ہیں
مجھے ویران کرتے ہیں
میرے ہم دم مجھے تم نے بھلا کیسے بھلایا تھا
کہ میں تو جب بھی ایسا سوچنا آغاز کرتی ہوں
میری سانسیں اکھڑتی ہیں
احساس
کبھی کبھی بس یوں ہی تنہا‘ بے وجہ بے مصرف بیٹھے
ہلکی نمی کی بے رنگ چادر
بینائی کے پاس کے سارے اُجلے منظر دھندلاتی ہے
دل میں اک بے نام اذیت
ڈار سے بچھڑی کونج کی مانند کُر لاتی ہے
روح پر حاکم درد ’’وچھوڑا‘‘
اک بھرپور سی انگڑائی سے
جاگ اٹھتا ہے
تو اُس لمحے کیوں لگتا ہے
جیسے وہ بھی یوں ہی تنہا‘ بے وجہ‘ بے مصرف بیٹھا
میری یاد میں رویا ہوگا
غزل
حصار خواب میں مدت ہوئی ہے کھوئی نہیں
میں جاگتی نہیں رہی‘ اگرچہ سوئی نہیں
پکارتے رہے خوش قامت و نگاہ کیا کیا
مگر ہمارے لئے تو نہیں تو کوئی نہیں
غبار درد سے یوں اٹ گئی ہے بینائی
زمانہ ہوگیا آنکھیں جو کھل کے روئی نہیں
لگا رہے تھے جدائی کے بیج تو بھگتو
وہ فصل کس لئے کاٹوں جو میں نے بوئی نہیں
خسارہ
جیون کے ویران شہر میں
خواہش کے اجڑے رستوں کی تاریکی میں
اکثر ہم سے دیوانوں نے
اپنی آنکھیںکھوئی ہیں
غزل

گرا کے خشک پتے رورہی ہے
ہوا ظالم نہیں سر پھری ہے
دکھوں کے بوجھ میں تخفیف کرنا
کہ اب دیوار ہمت گررہی ہے
دعا کو ہاتھ اٹھتے ہی نہیں ہیں
یہ کیسی مختلف سی بے بسی ہے
حوادث سے رہیں محفوظ کیونکر
تعاقب میں ہمارے زندگی ہے
کوئی دنیا نئی تخلیق… ہوگی
ابھی میں نے صدائے کل سنی ہے
بساتے ہیں جو کنج دوستاں کو
یہاں اُن کا مقصد بے گھری ہے
قطعہ
اُس نے یہ کیا‘ کیا کہ خود اپنا دیا بجھا دیا
بچھڑی ہوا کو اور بھی وحشت زدہ بنادیا
میری طلب رہی تھی مجھ سے دشمنی میں پیش پیش
ایک دن بساط صبر پہ میں نے اسے ہرا دیا

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close