Aanchal Jan-07

فرائض سے کوتاہی

حکیم محمدسعید

ایک کسان جب زمین میں دانہ ڈالتا ہے تو اس کا دل و دماغ اس ایک دانے کے پھوٹنے‘ اس کے ننھے سے حسین پودا بننے اور پھر ایک قد آور درخت بن جانے کو دیکھنے کے لئے تیار رہتا ہے اور اس دانے کے ثمرات کا آرزو مند کسان جانتا ہے کہ یہ تقاضائے فطرت ہے کہ زمین میں جب دانہ ڈالا جاتا ہے تو وہ پھوٹتا ہے‘ پودا بنتا ہے اور دانے کی مناسبت سے ایک درخت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ فطرت کا یہ تقاضا بھی اس لئے پورا ہوتا ہے کہ دانے کے لئے سازگار ماحول ہوتا ہے‘ یعنی پولی اور نرم زمین‘ پانی کی متوازن مقدار‘ ہوا کی معتدل موجودگی‘ سورج کی قدرتی تمازت وغیرہ فطرت کو جنم دینے کے لئے بھی درکار ہے اور اگر یہ کہا جائے تو بجا ہوگا اور صحیح کہ اس کرۂ آب و گل اور اس کرۂ ارض اور اس زمین کی ہر شے بطور اور بہ ہر لحاظ تابع فطرت ہے۔ جب تک فطرت کے تقاضے پورے ہوتے رہتے ہیں اور جب تک فطرت کی عمل داری رہتی ہے‘ استواری رہتی ہے‘ لیکن جب فطرت کی خلاف ورزی کو روا رکھا جاتا ہے اور فطرت سے جنگ کی جاتی ہے تو حالات استوار نہیں رہ سکتے اور ان کا دگرگوں ہوجانا لازمی اور یقینی ہے۔
دانۂ گندم سے خوشۂ گندم کا معرض وجود میں آجانا فطرت ہے۔ اور اس فطری عمل کے لئے دیگر فطری تقاضے ضروری ہیں۔ اسی طرح آپ ایک انسان کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اس کی پیدائش کے عمل سے لے کر اس کے دم واپسیں تک اس کے سارے اعمال و افعال تابع فطرت ہیں‘ پیدا ہو کر رفتہ رفتہ بڑا ہونا‘ جوان ہو کر بوڑھا ہونا اور بوڑھا ہوکر عمر طبعی تک جانا اور پھر دوسری دنیا کو منتقل ہوجانا ایک ایسا فطری عمل ہے کہ جو بغیر کسی تبدیلی کے جاری و ساری رہتا ہے۔ اس عمل کے جاری و ساری رہنے کے لئے ایک ماحول کی ضرورت ہے ایک ایسے ماحول کی جو افراط و تفریط سے پاک اعتدال کے دائرے میں اور حدود فطرت میں ہو۔
فطرت اور قدرت کا مزاج اور اصول افراط و تفریط نہیں ہے‘ بلکہ اعتدال سے خیر الامور اوسطہافطرت درمیانی راہ کی متقاضی ہے اور اسی میں سلامتی پاتی ہے۔ اگر ہم فرائض سے بحث کریں تو یہاں بھی ہمیں فطرت کے دامن میں پناہ لینی ہوگی۔ ایک پوری انسانی زندگی ادائی فرض سے عبارت ہے یعنی اپنی پوری زندگی میں انسان کو اپنے لئے‘ دوسروں کے لئے اور لازماً خالق کائنات اور پروردگار عالم کے لئے فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ حیات انسانی کا دوسرا نام فرائض کی ادائیگی ہے تو صحیح ہوگا۔ آپ حیات و زندگی پر کسی بھی انداز سے غور کریں آپ کو فرائض بہ ہر عنوان ملیں گے۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے جسے رد نہیں کیا جاسکتا‘ یعنی انسان کو حیات مستعار ملی ہے تو اس کے ساتھ دین و دنیا کے فرائض بھی اس کے لئے متعین ہوئے ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی اسے بہ ہر حال کرنی ہے‘ مگر قدرت اور فطرت یہاں بھی اپنے متعین و مخصوص اصولوں کے ساتھ کار فرما ہے۔ فرائض کے ساتھ اس نے حقوق بھی عطا اور متعین کردیئے ہیں‘ یعنی فطرت نے اسے حقوق بھی دیئے ہیں۔ ان حقوق اور ان فرائض کے درمیان اعتدال قائم کرنا ایک صحیح معاشرے کو وجود میں لانے کے ہم معنی ہیں‘ یعنی جب فرائض ادا ہوں گے اور حقوق ملیں گے اور ان میں توازن و اعتدال قائم ہوگا۔ تو ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئے گا۔
شکم مادر میں وجود اور پیدا ہونے کے بعدسے تا انتہائے زندگی انسان تمام فطری تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ دانۂ گندم سے خوشۂ گندم تک کسان جس طرح منہمک و آرزو مند رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح والدین کا حال ہے کہ جو اپنی اولاد کو ابتدا سے لے کر انتہا تک کامیاب و کامران دیکھنا چاہتے ہیں۔ والدین نقیب فطرت ہوتے ہیں اور اولاد کی رہنمائی کے عظیم فرض کو انجام دیتے ہیں۔ یہ وہ فرض ہے کہ جو فطرت اور قدرت نے ان پر عائد کیا ہے‘ وہ اس فرض سے کوتاہی نہیں برت سکتے۔ اس باب میں کوتاہی فطرت سے جنگ کے مترادف ہے۔ اس عظیم فرض کی ادائیگی کا صلہ دو صورتوں میں والدین کو ملتا ہے‘ ایک یہ کہ اولاد کی عظمت ان کی نام آوری اور اطمینان کا باعث بنتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اولاد ان کے آرام و آسائش کا سامان کرتی ہے۔ اولاد کا یہ فعل اولاد کا فرض اور والدین کا حق ہے۔ اس فرض اور حق کے درمیان اعتدال اور توازن کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ اگر اس میں کوئی رخنہ پڑے گا تو ا س کے نتیجے میں لازماً افتراق و انتشار پیدا ہوگا‘ کیونکہ یہ رخنہ فطرت سے جنگ کے ہم معنی ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ فطرت سے جنگ انسان کے لئے ہر گز فائدہ رساں نہیں ہوسکتی۔ اس روشنی میں قرآن مجید فرقان حمید کے اس حکم پر غور کیجئے :

ترجمہ) :’’ اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘)

ہم یہ خوب جانتے ہیں اور اس پر ہمارا ایمان و یقین ہے کہ اس ارضی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی بھی ہے‘ بلکہ اصل زندگی تو وہی ہے کہ جو ارضی زندگی کے بعد متعین و مقدر ہے۔ ارضی زندگی در حقیقت جہاد سے عبارت ہے‘ یعنی اس دنیا کی زندگی انسان کے لئے ایک جہاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جہاد کی جہت یہ ہے کہ جب تک یہ دنیا قائم و دائم ہے اس میں حیات انسانی بے مقصد نہ رہے‘ بلکہ وہ قدرت و فطرت کے ہر منشا کو پورا کرے اور اس طرح چراغ سے چراغ جلتا رہے اور شعلۂ حیات روشن رہے اور جب شمع زندگی بجھے تو انسان کے ساتھ اعمال حسنہ ہوں کہ جو دوسری دنیا کے لئے وجہ ثواب اور ذریعہ نجات بن سکیں۔ یہ تمام صورت ایک جہاد کے بغیر ناممکن ہے۔ زندگی بہر صورت ایک جہاد ہے اور جہاد انسان پر فرض کیا گیا ہے۔ اس فرض سے کوتاہی کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس بارے میں جو ارشاد ہوا ہے اس کے معنی یہ ہیں۔

                                        

ترجمہ ’’جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے جو تم کو (طبعاً) گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی امر کو گراں سمجھو اور وہ تمہارے    حق میں خیر ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی ہو اور اللہ جانتے ہیں اور تم پورا پورا نہیں جانتے۔‘‘

میرے نزدیک جہاد کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو احکام الٰہی کی ہر حال میں تعمیل کرنی چاہئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کے لئے جو راہ متعین کردی ہے‘ بس اسی راہ پر چلنا چاہئے اور اس سمت میں بہر حال جہاد کو ذریعہ بنانا چاہئے۔ یہ فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی کے بعد انسان کو اس دنیا میں اور آخرت میں تمام آسانیاں اور فراوانیاں میسر آجاتی ہیں۔ اسی لئے قدرت سوال کرتی ہے کہ :

ترجمہ ’’پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے ؟‘‘
قدرت نے ایک طرف یہ بات واضح کردی ہے :
’’انسان کو (ایمان) کے بارے میں صرف اپنی ہی کمائی ملے گی۔ تو دوسری طرف واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ :

ترجمہ : ’’ اور جو شخص احکام الٰہی سے تجاوز کرتا ہے وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔‘‘
اس تمام بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ انسان کے لئے یہ کسی طرح بھی سود مند نہیں ہوسکتا کہ وہ احکام خداوندی اور فرائض متعینہ سے غفلت برتے اور ہر انسان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ فرض ادا کرنے کے بعد ہی حقوق متعین ہوتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ فرائض ادا کئے بغیر حقوق حاصل ہوجائیں اور نہ یہ ممکن ہے کہ فرائض ادا ہوجائیں اور حقوق نہ ملیں۔ اگر ہمیں اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں سرخرو ہونا ہے تو فرائض سے کوتاہی نہیں برتنی چاہئے۔

(بشکریہ : ہمدرد صحت )

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close