Aanchal Feb-07

مجھےپہچان میں تیرا قرار ہوں

ڈاکٹرہماجہانگیر

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا‘ وہ شخص ہمارا ہوگا
یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے
دل نے چپکے سے تیرا نام پکارا ہوگا

 

 

 

یخ بستہ ہوا کا تھپیڑا اسے بڑھتی ہوئی سردی کا احساس دلا گیا تھا۔ سردی کی ایک تیز لہر اس کے ناتواں معصوم وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ سے پھٹا ہوا مفلر دوبارہ کھول کر اپنے سر اور منہ کے گرد باندھنے کی کوشش کی‘ چھوٹے چھوٹے ننھے منے سے ہاتھ مفلر کے ساتھ ساتھ مٹی کے کھلونوں کا ٹوکرا سنبھالنے سے قاصر تھے۔ اس نے سڑک کے کنارے بیٹھ کر ٹوکرا زمین پررکھ دیا تھا اور اب پھر سردی سے نبرد آزما ہونے لگی۔ ننگے ہاتھ اور پیر سخت سردی کے باعث جمتے ہوئے سے محسوس ہو رہے تھے۔ سر اور چہرے کے گرد مفلر لپیٹ کر اس نے جمی ہوئی نیلی پڑتی انگلیوں سے ایک بار پھر ٹوکرا سرپررکھااور سرگھما کراس اونچے شاندار بنگلے کی جانب دیکھا‘ جانے کیوں یہ بنگلہ اسے اپنی جانب کھینچتا تھا۔ وہ ہولے ہولے چلتی ہوئی بنگلے کے آہنی گیٹ کے پاس جاکھڑی ہوئی تھی۔ شام کے سائے لمبے ہوتے جارہے تھے۔ سردی تھی کہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ ایک کپکپی سی اس کے بدن میں اٹھی تھی۔ حسرت بھری نگاہ سے اس نے اس بنگلے کو دیکھا۔ تمام بنگلہ آج خوبصورت قمقموں سے سجا ہواتھا۔ شاید کوئی تقریب تھی گھر میں۔ وہ کتنی ہی دیر ٹوکرا زمین پررکھے جنگلے کو پکڑے گھر کے اندر ہوتی گہما گہمی کو تکتی رہی۔
اے لڑکی! کیا کررہی ہے۔ ہٹ یہاں سے۔ پیچھے سے چوکیدار کی آواز پر وہ کانپ کرمڑی۔ اپنی محویت میں اس نے پاس رکتی گاڑی کی آواز بھی نہ سنی تھی۔ گاڑی کے ڈرائیور نے بے صبری سے زور کا ہارن بجایا۔ چوکیدار اب جالی دارآہنی گیٹ کھول رہاتھا۔ وہ بھی منہ کھولے اندرجاتی گاڑی اورا س کے پیچھے بندھے خوبصورت گھوڑے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ اتنا خوبصورت گھوڑا اور وہ بھی کسی کے گھر میں۔
اف کتنا خوبصورت ہے یہ۔ وہ ایک قدم او رآگے بڑھ آئی۔
اے پاگل ہوئی ہے کیا؟ مرنا ہے گاڑی کے نیچے آکر؟ چل بھاگ یہاں سے۔ چوکیدار نے زور سے بازو کھینچ کر اسے پرے دھکیل دیاتھا۔وہ بری طرح لڑکھڑا کر ایک جانب ہوگئی۔ اور لمبی سی گاڑی اندر بڑھ گئی۔ ہارن اب بھی بج رہاتھا۔ اس کے قدم خودبخود اندر کی جانب بڑھ گئے۔ نگاہیں اب بھی گھوڑے پر جمی ہوئی تھیں۔
یاہو! نعرے کی آواز کے ساتھ اندر سے ایک بڑا سالڑکا تقریباً بھاگتا ہوا باہر آیا۔ اچانک فضاء میں ہنگامہ سامچ گیاتھا۔
امی دیکھیں امیکتنا خوبصورت ہے یہ۔ لڑکا اب گھوڑے کے بالکل قریب تھا۔ خوبصورت بالکل سیاہ گھوڑا۔ اس کے چمکیلے بال عجیب سی مقناطیسی کشش لئے ہوئے تھے۔ اس کے قدم بھی اسے گھوڑے اور لڑکے کے قریب لے آئے۔ ننھا سا سرد ہاتھ بڑھا کر اس نے گھوڑے کو چھونا چاہا۔
چل دفع ہو یہاں سے‘ کتنی بار تجھے نکالناپڑے گا۔ اسے پھرڈھیٹوں کی طرح وہاں کھڑے دیکھ کر چوکیدار کوغصہ آگیا تھا۔ آخر اس کی اپنی نوکری کا سوال تھا۔ وہ بڑے صاحب کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا۔ شمیل بابو کے ہرنخرے کو ہرخواہش اور ہر طرح کے آرام کا خیال رکھنا‘ ان کی حفاظت کرنا‘ اس کی نوکری میں شامل تھا۔ اس نے لڑکی کو زور سے پرے دھکیلا۔ بے چاری گرنے کو تھی‘ کٹورا سے نین پانیوں سے بھرگئے مگر لب خاموش تھے۔
چلولڑکی شاباشیوں بلااجازت کسی کے گھر کے اندر نہیں آتے۔ تم یہ پیچھے والے چھوٹے دروازے سے باہر چلی جائو۔ وہ خاتون شاید لڑکے کی والدہ تھیں۔ ان کے ساتھ دو اور لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ بھی اب بڑے غور سے اس بچی کو دیکھ رہی تھیں۔ کتنی عجیب سی بچی تھی۔ پھٹے ہوئے کپڑے‘چہرے پر لگا ہوا میل‘ سرخ گال اور نیلے پڑتے ہونٹ وہ بے حد عجیب لگ رہی تھی۔ گھوڑے کے پاس کھڑا شمیل بھی اب اس بچی کی طرف متوجہ ہوگیاتھا۔
بھئی بڑی ڈھیٹ لڑکی ہے تو بڑی بیگم کی بات سنائی نہیں دی کیا؟ اب کیامار کھا کرنکلے گی یہاں سے‘ خبردار جو شمیل بابو کے گھوڑے کو ہاتھ بھی لگانے کی کوشش کی۔چوکیدار نے سختی سے اس کا کمزور بازو ہاتھ سے پکڑ کر اسے باہر کی جانب گھسیٹا۔ دو موتی پلکوں کی باڑ توڑ کر اس کے پھٹے ہوئے سرخ گالوں پربہہ نکلے۔ لب ہنوز خاموش تھے۔
چوکیدار چاچا! چھوڑ دواس کو۔ شمیل کی آواز پرچوکیدار نے مڑ کر اسے دیکھا۔
چھوٹے صاحب یہ
میں نے کہا چھوڑ دو اسے۔ شمیل کی آواز میں بلا کارعب تھا۔ چوکیدار نے دھکادے کراسے چھوڑ دیا۔ وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گئی۔
کیا نام ہے تمہارا۔ شمیل نے پیار سے اسے زمین سے اٹھایا تھا۔
کتنے سال کی ہو تم‘ میں پندرہ کا ہوا ہوں آج۔ اس کے میٹھے لہجے نے لڑکی کے آنسو روک دیئے تھے۔
پانچ لڑکی نے اشارے سے بتایا۔ لب اب بھی خاموش تھے۔
اچھا سنو گھوڑے کو پیار کروگی؟ اس نے لڑکی کا ہاتھ تھاما اور اسے گھوڑے کے قریب لے آیا۔ دونوں لڑکیاں بھی قریب آچکی تھیں۔ شمیل کی امی بچوں کومگن دیکھ کر اندر چلی گئیں۔ کتنے ہی کام ابھی ان کی توجہ کے منتظر تھے۔
ذرا دھیان سے اس کو قریب لے کرجانا یہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ گھوڑے سے ڈرہی نہ جائے۔شمیل کی بڑی بہن کو فکر ہوئی۔
انعم آپی میں اسے گود میں اٹھا کر پیار کروادوں گا۔ شمیل نے اس کا یخ بستہ ہاتھ تھام لیاتھا۔
لائو میںاٹھا لیتی ہوں۔ ماہم آپی بھی قریب آگئی تھیں۔
آئونا۔ انہوں نے بچی کوچمکارا۔ بچی نے شمیل کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا تھا۔ شمیل نے حیرت سے جھک کر لڑکی کو دیکھا۔ وہ اب مزید اس کی پشت کے پیچھے چھپ رہی تھی۔
لوبھئی وہ تو ہم سے بھی خوفزدہ ہے۔ چلو تم خود ہی اپنی ننھی سی دوست کو گھوڑا دکھائو۔ ہم کو تو سردی لگ رہی ہے۔ ہم تو اندر جارہے ہیں۔ دونوں بہنیں پیار سے بھائی کو دیکھتی اندر جاچکی تھیں۔
آئو۔ شمیل اس کا ہاتھ تھام کرگھوڑے کے قریب لے آیا۔ وہ کتنی ہی دیر گھوڑے کو پیار کرتی رہی۔ شمیل نے اس کے چہرے کا جائزہ لیا۔ کتنی معصوم کتنی پیاری سی تھی وہ‘ بالکل کسی گڑیا کی مانند‘ اس کا ٹھٹھرا میلا کچیلا ساوجود شمیل کے دل کو عجیب سے جذبات سے بھر گیاتھا۔ خود بھی وہ ایک حساس لڑکا تھا۔ بے حد سلجھا ہوا‘ ہمدرد اور پیار کرنے والا۔
سنوتم کیا پاس ہی کہیں رہتی ہو؟ اس نے پیار سے پوچھا۔ لڑکی اب تک گھوڑے کو پیار کررہی تھی۔
نہیں؟ اس نے نفی میں گرد ن ہلائی۔
اچھا اب ذرا اپنا نام تو بتادو۔ورنہ دوستی کس طرح ہوگی۔ شمیل کے پوچھنے پر اس کے کانوں میں ابا کی آواز گونجنے لگی۔
اوکلموہی‘بدبخت‘کمینی اس نے شرمندگی سے سرجھکالیا۔ اب ان میں سے کون سانام بتاتی۔ ابا نے تو آج تک ان ناموں کے علاوہ اور کسی نام سے بلایاہی نا تھا۔
بات سنو تم بول بھی سکتی ہوکہ نہیں۔ کہیں تم گونگی تو نہیں؟ شمیل کو اب تشویش ہوئی۔
جی صاحب‘ میں تو سب کچھ بول سکتی ہوں۔ لڑکی بھولپن سے ہنس دی تھی۔ گال میں پڑتا چھوٹا سا ڈمپل شمیل کو اپنی طرف متوجہ کرگیا۔
صاف ستھری کسی امیر گھر میں ہوتی تو کتنی کیوٹ لگتی۔ اس کو لڑکی پر ترس آگیا۔
واقعی تم تو بہت خوبصورت بولتی ہو۔ اچھا اب جلدی سے اپنا نام توبتادو۔
نام توابا بہت سارے بولتا ہے‘ مگر وہ مجھے اچھے نہیں لگتے۔ اس نے گنداسا منہ بنایا۔ شمیل کو ہنسی آگئی۔
چلوپھر آج ہم خود ہی تمہارا کوئی اچھا سا نام رکھ دیتے ہیں۔ٹھیک ہے‘ رکھ دیں؟ شمیل نے اسے دیکھا۔
جی صاب وہ خوش ہوگئی۔
چلو پھر آج سے تمہارا نام گڑیا ہے۔ اس نے گڑیا سی لڑکی کو غور سے دیکھ کر کہا۔
یہ تو نام نہیںیہ تو جی گڑیا ہے۔ کھیلنے والی‘ وہ بول تو نہیں سکتی اور میں تو بولتی ہوں۔ اس کو اپنا نام ذرا پسند نہ آیا تھا۔ چھوٹی سی لڑکی نے شمیل کی پوری توجہ اپنی جانب کررکھی تھی۔ رات کی بڑھتی ہوئی خنکی بھی اس کو اندرجانے پرمجبور نہ کرپائی تھی۔
اچھا توپھر تانیہ کیساہے۔ یہ ٹھیک ہے۔ یہ نام شمیل کوہمیشہ سے پسند تھا۔
جی یہ ٹھیک ہے۔ تانایا۔اس نے عجیب طرح سے نام دھرایا۔ کافی مشکل ساتھا‘ وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
چلو تابی کیسا ہے؟ پیار سے تم کو تابی بلائوں گا‘ یہ تو یاد رہے گانا؟
جی تابیہاں جی یہ تواچھا ہے۔ وہ بھی خوش ہوگئی۔
اچھا ایک بات توبتائو‘ پڑھتی ہو کہیں؟
پڑھتی؟ یہ کیا ہوتا ہے؟ تابی نے بڑی بڑی آنکھوں سے حیرت سے اسے دیکھا۔
ارے تم کوپڑھائی کانہیں پتہ۔ کتابوں کے بارے میں نہیں جانتی؟
تابی نے نفی میں سرہلادیا۔ پتہ نہیں صاب کس کھلونے کا پوچھ رہاتھا۔
اچھا چلو یہ لواوران سے کتابیں خرید کر پڑھنا۔ اپنے ابا کو بولو وہ تم کو اسکول میں ڈالے۔ پڑھنے سے انسان بہت کچھ بن سکتا ہے۔ اس نے تابی کو سمجھایا۔
کیا صاب امیر بھی بن سکتا ہے؟ تابی نے حیرت سے پوچھا۔
ہاں امیر بھی۔ وہ ہنس دیا۔ یک دم لڑکی نے سردی سے جھرجھری سی لی۔ شمیل کو بھی بڑھتی ہوئی سردی کااحساس ہوا۔
شمیل بیٹا! اندرآجائو اب۔ امی کی آواز پرشمیل نے اندر کی جانب دیکھا۔ تابی بھی جلدی سے ٹوکرا سنبھال کر کھڑی ہوگئی۔
ابا بہت مارے گا۔ بہت دیر ہوگئی ہے نا۔ وہ ہولے سے بڑبڑائی‘ اب خوف کی ہلکی ہلکی پرچھائیاں اس کے چہرے پر لہراگئی تھیں۔شمیل کی توجہ بھی اب اندر کی جانب تھی۔
اچھا تابی مجھے ملنے آتی رہنا۔ اور یہ پیسے رکھ لواپنی کتابوں کے لئے۔ اس نے دوبارہ پیسے تابی کی طرف بڑھائے۔
صاب یہ کتنے ہیں؟ تابی نے کبھی یہ نوٹ نہیں دیکھا تھا۔
یہ پانچ سو ہیں تابی۔ مجھے سالگرہ پرملے تھے تم رکھ لو۔ تمہارے کام آئیں گے۔ نوٹ تابی کے ہاتھ میں تھما کر اس نے اپنی جیکٹ اتار کر اس کے سرد جسم کے گرد لپیٹ دی۔ اس کے وجود کی گرمی نے تابی کی ننھی سی جان کو چاروں طر ف سے اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔
چلو اب گھر بھاگو۔ تمہارے گھر والے پریشان ہوں گے۔ اور ہاں جب بھی مجھے ملنے آئو اس چھوٹے گیٹ سے آجانا۔ کوئی تم کومنع نہیں کرے گا۔ ہمارے لائونج کا دروازہ بھی اس طرف ہی کھلتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ دونوں کھڑے ہوگئے تھے مگر تابی اب تک جانے کے لئے ہلی نہ تھی۔ شمیل نے اندرجاتے جاتے مڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
چلو بھاگو اب۔ اس نے کہا تو تابی نے اپنا ٹوکرا سر پراٹھالیا۔ پانچ سو کانوٹ اب تک اس کی مٹھی میں تھا۔
صاب جی۔ اندر جاتے شمیل کو اس نے آواز دے کر روک لیا۔
اب کیا ہے؟ وہ مسکرادیا۔
بڑے ہو کرکیابننا ہے؟ وہ معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔
ارے اسے ہنسی آگئی۔
کچھ بھی‘ جیسے کہ میں بڑا ہو کر مصور بنوں گا۔ بہت مشہور مصور وہ فخر سے بولا۔
مصور؟ وہ کیا ہوتا ہے؟
جو خوبصورت تصویریں بناتا ہے۔ میں تمہاری بھی تصویر بنائوں گا ٹھیک ہے؟ اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
چلو اب جائو۔
اور میںمیں کیا بنوں گی؟ وہ اب بھی پوچھ رہی تھی۔
تابی! تم پڑھنا اور پھر جو چیز سب سے اچھی لگے وہ کرنا۔ خود پڑھ کر تم دوسروں کو بھی پڑھا سکتی ہو۔ وہ اب اندرجانا چاہ رہاتھا۔ اب جائو تابی‘ بہت دیر ہوگئی ہے۔ تابی نے زور سے سرہلایا اور پچھلے دروازے سے نکل کر بھاگ کر رات کے اندھیروں میں گم ہوگئی۔ شمیل اسے اب بھی اندھیرے میں تلاش کررہاتھا۔ یک لخت اسے شدید سردی کا احساس ہوا۔ اس نے کپکپی لے کربازو اپنے گرد لپیٹ لئے اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔
میں اس لڑکی کوضرور پینٹ کروں گا ایک دن۔

بس آخری بار وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی۔اس نے اپنے ملائم گرم گرم ہاتھوں سے ٹھنڈے یخ چھوٹے سے گیٹ کو دھکادیا۔ لوہے کی سردی اس کے ہاتھوں میں سرایت کرگئی تھی۔ اس نے بے اختیاری طور پر گلے میں پڑے لاکٹ کو انگلیوں سے محسوس کیا۔ یہ اس کی بچپن کی عادت تھی۔ذہنی انتشار‘ پریشانی یا بے حد خوشی کے موقع پراس کے ہاتھ خودبخود اپنے لاکٹ کو تھام لیتے تھے۔ جسم کی گرمی سے لاکٹ بھی گرم ہو رہاتھا۔ لاکٹ میں بند پانچ سوکانوٹ اس کے دل کے بالکل قریب تھا۔ وہ خاموش قدم اٹھاتی آہستہ آہستہ لائونج کے شیشے کے دروازے کے قریب آگئی تھی۔
آج کتنے ہی سالوں کے بعد اس نے اس روش پردوبارہ قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد زندگی کے اگلے کتنے ہی سال وہ روزانہ رات کو اس دروازے کے پاس چپکے سے اس کنج میں رات کی رانی کے پودے کے پیچھے چھپ کربیٹھی اسے تکے جاتی تھی۔ کبھی اتنی ہمت ہی نہ ہوئی کہ اس ان دیکھی لکیر کو جو اسے شمیل سے جدا رکھتی تھی پار کرپاتی۔ان لمحات میں وہ اپنے گزرے دن کی تمام تلخیاں بھلا کر صرف اسے تکا کرتی تھی۔ وہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ وہ روز اس سے ملنے کی تمنا لئے اس دروازے تک آتی‘ اس کو زندگی کی خوشیاں سمیٹتے اور بدلے میں پیار بکھیرتے دیکھتی تھی۔ پہلے دن کے پیار کے چند بول اسے اس کی اپنی تمام محرومیوں سے‘ تلخیوں سے لمحے بھر کو نکال کر اس جنت کے دروازے تک لے آتے تھے۔ اور کبھی کبھی تو‘ یوں بھی ہوتا تھا کہ وہ اس کنج میں چھپی بیٹھی ہوتی تھی جب وہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر اس شیشے کے دروازے کے قریب‘بالکل قریب کتنی ہی دیر تنہا کھڑا رہتاتھا۔ نگاہ باہر کے گھپ اندھیروں میں جھانکتی جیسے کسی کو تلاش کررہی ہو۔
تابی کچھ ا ور بھی کنج میں دبک سی جاتی تھی مبادا کسی کو نظر نہ آجائے۔شمیل کتنی ہی دیر کھڑا رہتا پھر کچھ مایوس سا ہوکرپلٹ جاتا تھا۔
اور پھر ایک دن
ہاں اس ایک دن وہ اس کے شیشے کے دروازے کے پار اس کی آنکھوں کے سامنے وہ کسی اور کا ہوگیاہمیشہ کے لئے!
سینے میں کہیں کچھ ٹوٹنے کی آواز اس نے کتنی صاف سنی تھی۔ اس نے حیرت سے اپنے سینے کی جانب دیکھا تھا۔ یہ تو شاید اس کے دل کے ٹوٹنے کی آواز تھی۔ اس کو پانے کی آرزو تو اس نے کبھی کی ہی نہ تھی مگر یہ نادان دل شاید اس کی تمنا کربیٹھا تھا۔ یہ سوچے بنا کہ یہ ملن کب ممکن تھا۔
وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ آئی تھی۔ اور پھر دوبارہ قدم اس دروازے کی جانب بڑھ ہی نہ پائے تھے۔
آجکتنے ہی سال بیت گئے تھے‘ کب بچپن گزر کر جوانی کی دہلیز پرقدم رکھ چکاتھا‘ اسے پتہ ہی نہ چلا‘ اس کو بس ایک ہی دھن تھی‘ کچھ پڑھنے کی‘ کچھ بننے کی۔
آجآج ہاتھ میں ایم اے کی ڈگری تھامے وہ ایک بار پھر اس شیشے کے دروازے کے پاس چلی آئی تھی۔
خداحافظ کہنے کے لئے
وہ اس زندگی کو چھوڑ کر‘ یہ تمام رشتے ناتے توڑ کر ایک نئی زندگی شروع کرنے جارہی تھی۔ اک نئی پہچان اور شمیل کے دیئے گئے نام کے ساتھ ایسے میں اپنے پیار کو‘ اپنے عشق کواپنی زندگی کو الوداع کئے بنا کیسے چلی جاتی
قدم دھیرے دھیرے رات کی رانی کے پاس آکر ہمیشہ کی طرح ٹھٹھک کررک گئے تھے۔ چاہنے کے باوجود وہ آگے نہ بڑھ پارہی تھی۔ ان حدود کو وہ آج تک پار نہ کرپائی تھیمگر آجآج اسے ان کوپار کرکے دروازے کے اس پارجاناتھا۔ اس سے ملنا تھا‘ جس سے ملن اس جنم میں ممکن نہ تھا۔
اللہ میاں جی آج تو میری دعا سن لیں۔کل تو میرا برتھ ڈے ہے۔
ننھی سی آواز پر وہ چونک کر ایک دم رات کی رانی کی اوٹ میں ہوگئی۔
اللہ جی میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گا اور مجھے کوئی گفٹ نہیں چاہئے‘ میں پرامس کرتا ہوں‘ بس میرے پاپا کا دکھ ختم کردے‘ وہ مسکرانے لگ جائیں‘ خان بابا کہتے ہیں‘ تمہارے پاپا کے لئے تو کوئی فرشتہ ہی آئے گا تووہ ٹھیک ہوں گے‘ آپ پلیز جلدی سے کوئی فرشتہ بھیج دیں نا۔ سچی میں اپنے سب کام خود کروں گا۔ کبھی کوئی ضد نہیں کروں گا‘ بس ان کو خوش کردے۔
وہ لائونج کے باہر بنے ماربل کے فرش پر دوزانو بیٹھا ہوا تھا۔ سرد پتھر بھی اس کومحسوس نہیں ہو رہاتھا۔ پتلے رات کے کپڑوں میں وہ بنا کسی سویٹر کے باہر آیا ہواتھا۔ تابی حیران رہ گئی۔
بچہ مشکل سے تین چارسال کا ہوگا‘باہر اکیلا!
کس کا بیٹا ہے یہ؟ شمیل کا؟ اس نے ذرا سا سرنکال کر غور سے اسے دیکھا اور ہولے سے مسکرادی۔
ہاں اس کاہی بیٹا ہے۔ وہی ناک نقش‘ وہی آنکھیں‘ وہی بال سردی کی ایک لہر اسے بڑھتی خنکی کااحساس دلا گئی۔ بچہ بالکل ہی گرم کپڑوں کے بغیر ٹھنڈی زمین پر دوزانوبیٹھا تھا۔
آخر سب گھر والے کہاں ہیں‘ یہ یہاں اکیلا کیوں بیٹھا ہے؟ اس نے جھانک کر اندر شیشے کے پار دیکھنے کی کوشش کی۔ اس وقت تو ہمیشہ اس کمرے میں خوب رونق ہوتی تھی۔ آج کتنا سنسان تھا۔ بلکہ تمام گھرہی عجیب سی خاموشی کی لپیٹ میں تھا۔ چند کمروں میں مدھم سی روشنی تھی۔ باقی تمام گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کوئی ملازم تک نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے چاروں اطراف دیکھا۔ عجیب سا سناٹا تھا۔ گول مٹول سابچہ اب بھی زور وشور سے دعا کررہاتھا۔
میڈو میڈو کہاں ہو تم؟ اندر سے آتی یہ آواز وہ کیسے بھول سکتی تھی اس آواز کو‘شمیل کی آواز پھر آئی تھی۔ وہ جلدی سے دوبارہ رات کی رانی کے پیچھے دبک گئی۔
مجھے پتہ تھاتم یہاں ہی ہوگے! یہ کیا بے وقوفی ہے آخر‘ چلو اب جلدی سے اندر آئو۔ پتہ ہے کتنی سردی ہے یہاں پر؟ بیمار پڑ کر مجھے مزید پریشان کرنے کی سوجھی ہے کیا؟ پہلے ہی کیا کم مصیبت میں ہوں۔ ایک عذاب بھگت رہا ہوں تمہاری وجہ سے کہ اب مزید تم یہاں چلے آئے ہو۔ شمیل کا کرخت لہجہ تابی کو حیران کرگیا۔
چلو فوراً اندر اور اب اگر بغیر بتائے یہاں وہاں نکلے تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ سمجھے؟ کل کا تمام دن کمرے میں بند رہوگے۔ بچہ ٹکرٹکر غصے کی آگ برساتے باپ کی جانب دیکھ رہاتھا۔ شمیل بری طرح بچے کو جھاڑتا‘ سختی سے اس کانازک سابازو پکڑے بنا سوچے کہ اتنی سخت گرفت میں اس ننھی سی جان کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی اسے کھینچ رہاتھا۔ تکلیف بچے کی شکل سے ہویدا تھی۔ وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
جی پاپا۔ وہ اب خوفزدہ نگاہوں سے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ شمیل اسے تقریباً گھسیٹتا ہوا اندر لے گیاتھا۔ وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
یا اللہ! یہ شمیل تھا؟ تابی کو اپنی بصارت پر اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہاتھا۔
یہ کیا ہوگیا تھا اس کے شمیل کو۔
نہیں نہیں یہ میرا شمیل نہیں۔ میرا شمیل تو اتناپیار کرنے والا تھا۔ وہ تو ایک غریب مٹی کے کھلونے بیچنے والی کے دل کا خیال کرنے والا تھا۔ وہ تو ماں باپ بہنوں سب کا من موہ لینے والا تھا‘ وہ تو مصور تھا‘ تصویر بناتاتھا‘ بگاڑ نہیں سکتا تھا‘ یہ کون تھا جوآج اپنی ہی اولاد سے اس بے دردی سے پیش آرہاتھا۔
یااللہ یہ کیا ہوگیا‘ میرے شمیل کو‘ کہاں گیا وہ جو دل میں پیار کا سمندر پنہاں رکھتاتھا‘ خوشیاں بانٹتا تھا‘ ہرپل مسکرانے والا ہمہ وقت محبت کرنے والا‘ یہ کون تھا؟ کون تھا؟ اپنے ہی سوال کی بازگشت تابی کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
اس کے ہاتھ گلے میں پڑے لاکٹ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ قدم جیسے اٹھنے سے قاصر تھے۔ معصوم ننھی سی جان اس کے دل کو جکڑے ہوئے تھی۔ من میں دکھ کاسمندرلہر لہر ابھررہاتھا۔ وہ جو الوداع کے چند بول بولنے آئی تھی‘ قدم واپسی کی طرف بڑھانے دوبھرمحسوس کررہی تھی۔ ایک ٹرین اس کا اسٹیشن پرانتظار کررہی تھی‘ اس نے گھبرا کر سوچا‘ زیادہ وقت نہیں تھااس کے پاس‘ یہ کیا بے وقوفی تھی۔
توکربھی کیا سکتی ہے؟ پگلی تیرے پاس ہے ہی کیا جو تو ان دونوں کی نذر کرسکتی ہے؟ یہ چند کاغذ کے ٹکڑے جن کی ان دونوں کے لئے کوئی وقعت نہیں ہے۔ یہ کاغذ کی ڈگری جو تجھے اس گندی بستی سے نکالنے کی ضامن ہوگئی۔ وہ کیا کریں گے اس کا۔ واپس پلٹ جا‘ وہ ٹرین‘وہ وقت تیرا انتظار نہیں کرے گا۔ اس نے ایک مجبور سی نگاہ ان دونوں کے پیچھے کھلے رہ جانے والے دروازے پر ڈالی۔ قدم صرف اس دروازے کی طرف اس بچے کی التجا کرتی آواز کی جانب اٹھ رہے تھے۔
بے وقوف مت بنو تابی‘ عمر بھر کی ریاضت کس کے لئے ضائع کرنے کی سوچ رہی ہو‘ شمیل کو اس کے بچے کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں‘ تم کو ہرحال میں اس ڈگری کے انٹرویو کے لئے پہنچنا ہے‘ کیوں اپنا مستقبل دائو پر لگاتی ہو‘ کس کے لئے وہ جو کبھی تمہارا نہیں ہوگا؟ دماغ نے دہائی دی۔
ہاں مگر اس کے پیار کا قرض ہے مجھ پر۔آج اس کی اولاد اس جگہ کھڑی ہے جہاں کبھی میں تھی۔ آج وہ اللہ جی سے اس طرح باپ کے پیار کی بھیک مانگ رہا ہے جیسے کبھی میں مانگتی تھی۔ آج اس کے جسم کا حصہ‘ اس کی روح کا پرتو مدد کو پکاررہا ہے‘ جیسے کبھی میں پکارتی تھی‘ تب اس نے اپنے پیار کی لو سے میرا تن من منور کیا تھا‘ اور آج میں بھی وہی کروں گی‘ کیا ہوا‘ جو میں اس کی طرح دولت میں لدی پھندی نہیں ہوں مگر اس کے دئیے ہوئے پیار کی کچھ کرنیں اگر آج اس کے اپنے ہی گھر میں اجالا بکھیرنے کے لئے وہ دے سکتی ہے تو آج میں رکوں گی نہیں۔
وہ خاموشی سے پائیں باغ سے آگے بڑھ آئی۔
لائونج کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا تھا۔ اس نے ہولے سے دروازے کو دھکا دے کر کھولا۔ اس نے قدم اندر رکھ دیا۔ دبے قدموں وہ چلتی ہوئی کمرے میں بڑھ آئی۔ جس کمرے کو وہ برسوں شیشے کے دروازے کے اس پار سے دیکھتی آئی تھی آج اس کے بیچ وبیچ کھڑی تھی۔ تمام گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ خاموش قدموں سے وہ کچھ اور آگے بڑھ آئی تھی۔ کمرے کے سائڈ سے خوبصورت زینہ اوپر کی جانب جارہاتھا۔ شاید کچھ کمرے اوپر تھے۔ وہاں سے مدھم مدھم سی روشنی سیڑھیوں پر آرہی تھی۔ اس نے سیڑھی پر قدم رکھ دیا۔ باوجود اوپر سے آتی ہلکی ہلکی روشنی کے تابی صاف دیکھنے سے قاصر تھی۔نامانوس زینے پر وہ ٹٹول ٹٹول کر اوپر چڑھ رہی تھی۔ پوری توجہ سیڑھیوں پر تھی‘ کہیں پیر غلط ہی نہ پڑجائے۔

شمیل میڈو کے کمرے سے جتنا دور کھڑا رہ سکتاتھا‘ اتنا دور تھا مگر اس کے کمرے سے رونے کی آواز اس کے دل ودماغ پر لگ رہی تھی۔ اس نے کرب سے آنکھیں موند لیں۔ میڈو کی سسکیاں اس کی روح پر کوڑے برسارہی تھیں۔ اس نے کانوں پرہاتھ رکھ لئے۔
یا خدایا! کیا کروں میں؟ اس نے بے چینی سے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور واپس میڈو کے کمرے کی جانب بڑھ آیا۔ سیڑھیوں کے پاس والا کمرہ میڈو کا ہی تھا۔
قدموں کی چاپ شاید سیڑھیوں کی طرف سے آئی تھی۔ شمیل کے قدم وہیں رک گئے گھر میں سوائے اس کے اور میڈو کے کوئی نہ تھا توپھر زینے پر کون تھا‘ وہ کچھ پریشان سا‘ کچھ متجسس سا اس طرف بڑھ آیا ایک ہیولہ سا نظر کے سامنے تھا‘ جو بھی تھا بے حد دبے قدموں سیڑھیاں چڑھ رہاتھا۔ اس کے گرد لپٹی کالی چادراسے کسی چور کی مانند دکھا رہی تھی۔ شمیل محتاط ہوگیا۔
مزید ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو شوٹ کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ شمیل کی غراتی ہوئی دھمکی اچانک ابھری توتابی کا دل بری طرح کانپ گیا۔ ایک خوف بھری چیخ اس کے حلق سے ابھری اوراس نے گھبرا کر بے ارادہ ایک قدم پیچھے کی جانب کرلیا۔ ایسے میں اس کا توازن بری طرح بگڑ گیا‘ وہ زور دار چیخ کے ساتھ نیچے کی طرف لڑھک گئی۔ لڑکی کی آواز پر شمیل نے گھبرا کر اسے بچانے کے لئے ہاتھ بڑھا کر اسے تھامنا چاہا مگر بے سود۔ وہ اب زمین پر شاید بے ہوش پڑی تھی۔ شمیل دو دوسیڑھیاں پھلانگتا اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔ جلدی سے لائٹ جلا کر اس نے لڑکی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما‘ وہ بے ہوش تھی‘ چہرہ بالکل سفید پڑا ہواتھا۔ کنپٹی شاید زمین سے ٹکرائی تھی‘ وہاں سوجن ابھرآئی تھی۔ ایک بڑا سا نیل نمایاں ہو رہاتھا۔وہ وہاں قریب ہی بیٹھ گیا‘ اور لڑکی کا سر اپنی گود میں لے لیا۔
کیا ہوا پاپا؟ میڈو کی آواز پر اس نے چونک کر سر اوپراٹھایا۔
آپ کیوں آئے ہو؟ وہ دوبارہ لڑکی پر جھک گیا۔
پاپا؟ ایک ننھا سا ہاتھ اس کے کندھے پرآن پڑا تھا۔
چلو اپنے کمرے میں‘ تمہارے سونے کا وقت ہے۔ کیوں اٹھ کر آئے ہو؟ اب کے شمیل نے بغیر اس کی جانب دیکھے اسے سختی سے ڈانٹا۔ اب وہ لڑکی کوہوش میں لانے کی کوشش کررہاتھا۔
یہ کون ہے پاپا؟ وہ بھی پاس ہی بیٹھ گیا۔ شمیل کا دل تو چاہا کہ اسے اٹھا کر کمرے میں پھینک آئے مگر اس وقت تووہ لڑکی کی وجہ سے پریشان تھا۔
پاپا! کیا یہ مجھ سے ملنے آئی ہیں؟ جانے کیا سوچ کر میڈو نے یہ سوال کیاتھا۔ شمیل اسے نظرانداز کئے اب لڑکی کے گال پر ہلکے ہلکے طمانچے مار کر اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہاتھا۔
پاپا!میڈو کی مسلسل کی فضول تکرار اسے مزید غصہ دلا رہی تھی۔
کیامصیبت ہے بھئی‘ مجھے کیا پتہ کون ہے‘ میرے تو فرشتوں کوبھی علم نہیں یہ کون ہے‘ پھر تم سے کیوں ملنے آئے گی؟ وہ چڑ کر بولا۔
فرشتہ؟ میڈو تو بس اس ایک لفظ پر اٹک گیا۔
فرشتہہاں ضرور اللہ جی نے بھیجا ہے ان کو۔ وہ مزید جھک کر اس بے ہوش لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
جائو جاکرپانی لے کرآئو شاید ہوش میں آجائے۔ اس نے میڈو کی بات سنی ہی نہیں۔ اب وہ لڑکی کوہولے ہولے جھنجوڑ رہاتھا۔ میڈو وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہٹا تھا۔ آخر اس کے لئے اللہ جی نے فرشتہ آنٹی کی شکل میں بھیجا تھا۔
یک لخت تابی نے کراہ کر ہولے سے آنکھیں کھول دیں۔ بڑی بڑی بھوری آنکھیں اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں۔ وہ ہولے سے مسکرادی۔
ارے پاپا‘ یہ تو سچی مچی میرا فرشتہ ہیں۔ میڈو نے پٹ پٹ آنکھیں جھپکائیں۔
چور ہے یہ اسے ہوش میں آتا دیکھ کر شمیل نے جھٹ اس کا سرچھوڑ دیاتھا۔ اس کا سر ایک بار پھر زمین سے جاکرلگا۔
سی۔ وہ کراہ اٹھی‘ مگر اب شمیل کو کوئی پروا نہ تھی۔ میڈو جلدی سے دوزانو ہو کر اسے اٹھنے میں مدد کرنے لگا۔
آنٹی! آپ پاپا کی باتوں سے پریشان مت ہونا‘ مجھے تو پتہ ہے نا کہ اللہ جی نے آپ کو میرے لئے بھیجا ہے۔ پاپا کی بات پر کوئی غصہ نہیں کرتا‘ وہ تو کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ چھوٹے سے بچے کے منہ سے اتنی بڑی باتیں تابی چوٹ کی درد بھی بھول گئی۔ ابھی بے چارے کی عمر ہی کیا تھی۔ اسے شمیل پر غصہ بھی بہت آیا۔
چلو چلو جلدی سے اٹھو‘ یہ اداکاری بچے کو بے وقوف بنا سکتی ہے‘ مجھے نہیں‘ فوراً بتائو کون ہو تم اور اس گھر میں کس نیت سے آئی ہو۔ دیکھو مزید چند سیکنڈ اور چپ رہیں تو پولیس کو بلالوں گا۔ وہ کرخت نگاہوں سے اسے گھور رہاتھا۔ تابی دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔ کنپٹی پرپڑا نیل اب سوج بھی گیاتھا۔ اور اس میں ٹیسیں بھی اٹھ رہی تھیں۔ اس نے مخروطی انگلیوں سے چوٹ کو چھو کر دیکھنا چاہا‘ شمیل کی نگاہیں لمحہ بھر کو اس کی انگلیوں میں پھنس گئیں۔
ایسا کچھ خاص ابھی تک تو نہیں ہوا‘ شکر کرو گر گئیں ورنہ گولی کا نشانہ بناڈالتا۔جانے کس کا غصہ شمیل نے اس پرنکالا۔
جلدی میرے سوالوں کا جواب دو‘ ورنہ نکالوں پستول۔ شمیل کے فرضی پستول پر تابی کو ہنسی آگئی مگر وہ دبا گئی۔ اس وقت وہ بھی میڈو کے برابر ہی لگ رہاتھا۔ میڈو البتہ پاس ہی ڈرا بیٹھا تھا۔
کیا پوچھ رہا ہوں میں! آدھی رات کو جانے کہاں سے یہ مصیبت نازل ہوگئی ہے۔ وہ مسلسل بڑبڑا رہاتھا۔
آدھی رات! تابی کو اس کے ذہن پر شک سا ہوا زیادہ سے زیادہ آٹھ بجے ہوں گے۔ تابی کو وہ وقت بھی یاد تھا جب اسی لائونج میں رات کے بارہ ایک بجے بھی دھماچوکڑی مچی ہوئی ہوتی تھی۔ اس نے اپنے اردگرد نگاہ دوڑائی شاید وہ اب بھی ان نشانات کو تلاش کررہی تھی‘ کمرہ نیم تاریکی میں تھا اور باقی سارا گھر تو مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ واقعی آدھی رات کا سماں لگ رہاتھا۔
اگر محترمہ نے خوب اچھی طرح جائزہ لے لیاہو تو جو سوال پوچھا گیا ہے اس کا جواب دینا پسند کریں گی؟ طنزیہ آواز اب تابی کو حیر ت میں نہیں ڈال رہی تھی۔ کہیں کچھ ایسا ضرور ہواتھا شمیل کی زندگی میں جس نے اس کے شیریں لہجے میں یہ زہر گھول دیاتھا۔
آپ نے شاید میڈو کی با ت نہیںسنیمیں ایک پری ہوں‘ اس کے لئے بھیجا گیا فرشتہ ہوں۔ اس نے مسکرا کرمیڈو کی جانب دیکھا جس کی آنکھیں تابی کی بات پرستاروں کی طرح چمک اٹھی تھیں۔
دیکھا پاپا‘ میں نے کہا تھانا کہ یہ اینجل یافیئری ہیں۔ وہ تابی کا ہاتھ تھام کر خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔
کیا بکواس کررہی ہو۔ شمیل کابس نہیں چل رہاتھا کہ وہ اس لڑکی کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیتا مگر اپنے میڈو کاکیا کرتا جو چپک کر اس لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔ بہت چالاک معلوم ہوتی تھی‘ کہیں وہ میڈو کو نقصان ہی نہ پہنچادے۔ وہ گھبرا رہاتھا مگر ظاہر نہیں ہونے دیا اس نے۔
پاپا یہ فیئری میڈو نے کچھ کہنا چاہا۔
خاموش تم اپنے کمرے میں جائو اور یہ فیئری اس سے تو میں ابھی نمٹتا ہوں۔ ابھی بتاتا ہوں کہ یہ کتنی پری یافرشتہ ہے۔ وہ اب بھی زمین پربیٹھی ہوئی اس لڑکی کو گھور رہاتھا جو ڈھیت بنی بیٹھی تھی۔
چلو نکلو باہر یاپھر دھکے دے کر نکالوں۔ اس کے ڈھیٹ پن پرشمیل نے اس کا بازو کھینچ کر اسے اٹھایا۔ ابھی وہ کھڑی ہوئی تھی کہ میڈو اس لڑکی کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
چھوڑ دیں پاپا ان کو چھوڑ دیں پلیز یہ میری ہیںپلیز پاپا پلیز۔ معصوم سی آنکھیں پانیوں سے بھرگئی تھیں۔ تابی کو لگا وقت کا پہیہ واپس گھوم گیا ہو۔ وہ تھی اس کو کھینچتا ہوا چوکیدار اوراور شمیل۔ فرق صرف اتناتھا کہ آج اس کی جگہ میڈو تھا اور شمیل کا دل وہ نہیں رہا تھا۔ میڈو اب بھی منتیں کررہاتھا۔ تابی نے آہستہ مگر مضبوطی سے اپنا بازو شمیل کی گرفت سے چھڑوالیا۔
اپنے آپ پر قابو رکھیں مسٹرشمیل ابھی آپ نے مجھ پر کوئی جرم ثابت نہیں کیا۔ وہ سرد لہجے میں بولتی ہوئی بلکتے ہوئے میڈو پرجھک گئی۔
فکرنہ کرو میڈو‘ آپ کے پاپا مجھے نہیں نکال سکتے۔ اس نے بچے کو گود میں بھر کر اٹھالیا۔ شمیل تو کچھ بول ہی نہ پایا تھا۔
کون ہو تم؟ اور مجھے کیسے جانتی ہو؟ وہ مڑ کر جانے لگی۔ تووہ گویا سکتے میں سے نکلا تھا۔
جانتی ہوں‘خیال تو مجھے بھی کچھ ایسا تھا کہ میں آپ کو جانتی ہوں مگر آج احساس ہو رہا ہے کہ آپ تو میرے لئے بالکل اجنبی ہیں۔ شمیل حیرت سے اسے تک رہاتھا۔
کون تھی یہ لڑکی؟ کس نے بھیجا تھا؟ کس مقصد سے آئی تھی یہاں‘ کیا کوئی گزند پہنچانے؟ وہ بے حد پریشان ہوگیا تھا۔ میڈو اب اس کی بانہوں میں تھا۔ پوری طرح اس سے لپٹا ہوا جیسے دونوں کا جنموں کا رشتہ ہو۔
اتارو میرے بچے کو گود سے۔ تم یوں اسے قابو میں کرکے مجھے بلیک میل نہیں کرسکتیں۔ اپنا کوئی مطالبہ پورا نہیں کرواسکتیں۔ وہ جانے کیا کیا سوچ رہاتھا۔ تابی نے اسے طنز بھری نظروں سے گھورا۔
جانتی ہوں‘ بلیک میل کے لئے تو کوئی اہم چیز حاصل کرنا پڑتی ہے اور میڈواس نے جان بوجھ کر جملہ ادھوراچھوڑا تھا۔ شمیل جل کررہ گیا۔
اپنی بکواس بند کرو‘ تم چاہتی کیا ہو؟ وہ زچ ہوچکا تھا۔ یہ لڑکی ایک معمہ بن چکی تھی۔
کہیں یہ ماہم آپی نے تو نہیں بھیجی۔ میڈو کی دیکھ بھال کے لئے تاکہ میں اسے ہوسٹل نہ بھیج سکوں۔ سب جانتے تھے کہ وہ میڈو کو لے کر کتنا پریشان تھا۔ ابھی دو ہفتے مزید تھے اس کے ہوسٹل جانے میں‘ پچھلے دو ماہ سے وہ مسلسل کوشش کررہاتھا کوئی گورنس مل جائے مگر اتنے کم عرصے کے لئے کوئی نوکری کرنا نہیں چاہتی تھی اور ایک دو جو آئیں وہ مالکن بننے کے خواب دیکھنے لگی تھیں۔ کاروبار کا کتنا حرج ہو رہاہے۔ میں میڈو کی دیکھ بھال کروں یا اس بے انتہا پھیلے ہوئے کاروبار کے سلسلے کی؟
اب تک تووہ ماہم آپی اور انعم آپی کے گھر تمام دن کے لئے اسے چھوڑ جاتاتھا مگر انعم آپی کے گھر نئی گڑیا کی آمد پر ماہم آپی نے میڈو کی ذمے داری لے لی تھی۔اب وہ بھی دبئی جارہی تھیں۔ اتنے بڑے کاروبار کے ساتھ اتنے چھوٹے بچے کی ذمے داری وہ کیسے سنبھال پائے گا۔ اس معصوم کو دینے کے لئے اس کے پاس نہ تو وقت تھا اور نہ ہی محبت۔ محبت‘ پیار جیسے جذبوں سے وہ مکمل طور پر عاری ہوچکاتھا۔ اب اپنے پاس رکھ کر وہ اسے بھی تنہائی کی اذیت سے دوچار نہیں کرنا چاہتاتھا۔ جس سے وہ خودگزر رہاتھا۔ وہ خود تو ایک منجمد گلیشیئر کی مانند تھا مگر اپنے بیٹے کو وہ اس عذاب میں نہیں ڈال سکتاتھا۔ میڈو ہوسٹل میں ہی ٹھیک تھا۔ ماہم آپی کی بے حد مخالفت کے باوجود وہ بضد تھا کہ میڈو ہوسٹل جائے‘ آپی چاہتی تھیں کہ گورنس کے ساتھ میڈو اس گھر میں ہی رہے‘ شمیل نے دکھتی کنپٹیوں کوانگلی کی پوروں سے دبایا‘ چہرے پرتفکر‘پریشانی اور سوچوں کے تانے بانے جابجا جال بنائے ہوئے تھے۔وہ پاس کھڑی تابی کو یکسر بھول چکاتھا۔
کیوں اتنے دکھی ہو؟ کون سا غم تمہیں ایسا بناگیا ہے؟ وہ ہولے سے بڑبڑائی‘ ایک نظر اپنے آپ سے لڑتے شمیل پرڈالی جو اسے تمام دنیا سے عزیز تھا پھراس کے ہی وجود کے حصے کو بانہوں میں بھرے وہ بڑی احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ گئی۔
آنٹی آپ کیا سچی میں فیئری ہیں؟ بستر میں دبک کر لیٹنے کے بعد میڈو نے اشتیاق سے تابی سے پوچھا۔ اس نے اب بھی مضبوطی سے تابی کاہاتھ تھاما ہواتھا۔
آپ کو بھی یقین نہیں ہے۔ آپ ہی نے تو دعا کی تھی اللہ جی سے۔ خود ہی بھول گئے۔ کل آپ کا برتھ ڈے ہے نا؟تابی نے پیار سے اس کے ماتھے سے ریشمی بال ہٹاتے ہوئے پوچھا۔
جیجی آنٹی آپ کو کیسے پتہ چلا؟ وہ ایکسائیٹڈ ہوکر اٹھ بیٹھا۔
اوں ہوں‘ چلو جلدی سے واپس رضائی میں گھس جائو۔ ورنہ آپ کے پاپا خفا ہوں گے اور آج تو میں صرف آپ کو خوش کرنے آئی ہوں‘ دیکھو آج کی رات آپ کے لئے ٹھیک ہے۔ اس کے بعد مجھے کہیں بہت ضروری جانا ہے‘ آپ کی برتھ ڈے بارہ بجے کے بعد شروع ہوگی نا‘ بس تب تک مزے سے باتیں کرتے ہیں۔ پھر میں آپ کو گفٹ بھی دوں گی‘ مگر اس سے پہلے نہیں۔ اوکے۔ تابی نے گلے میں پڑے ہوئے لاکٹ کو محبت سے چھوا‘ شایداس سے جدا ہونے کا وقت آگیاتھا۔ اپنی اس زندگی سے مکمل طو پر الگ ہونے کے لئے‘ اس آخری ناتے کو بھی توڑنا تھا اور تابی کے پاس تھاہی کیا جو وہ شمیل کے بیٹے کو دیتی۔ یہ لاکٹ ہی اس کی سب سے قیمتی شے تھی‘ اگرچہ میڈو اس کی اہمیت کو کیا جانتامگر شاید جس طرح تابی کی زندگی بدل گئی تھی‘ میڈو کی زندگی میں بھی یہ لاکٹ خوشیاں لے آئے‘ کتنا تکلیف دہ تھا اس سے جدا ہونا‘ انگلیاں لاکٹ کو سہلا رہی تھیں‘ وہ اداس اداس سی مسکرادی۔

وہ کب میڈو کولے کر چلی گئی‘ شمیل محسوس ہی نہ کرپایا‘ کرب کیگھٹن کی گہری لکیریں اس کی پیشانی پر ابھر آئی تھیں۔ وہ اس کرب میں ڈوب جانا چاہتاتھا‘ نہیں چاہئے تھی اس کو نجات ان دکھوں سے‘ کیوں نہ وہ محبت کے متمنی جذبات کے خلاف احتجاج کرتا‘ وہ دنیا سے لڑنا چاہتاتھا‘ سب کے خلاف رہنا چاہتاتھا‘ ہرچیز کوختم کردینا چاہتاتھا‘ مگر اب بھی جانے کہاں سے یہ دل ان جذبات کے اٹھتے ہوئے سر کو محسوس کرتا تھا جن کو وہ دفن کرچکاتھا۔
کیوں نہیں ہوجاتے منجمدیہ‘ کب تک یہ درد کی لہریں میرے پورے وجود کو گھیرے میں لئے رہیں گی‘ اور کتنے سالآخر اور کتنے سال لگیں گے اس دل کو برباد ہونے میں‘ یہ محبت سے یکسر خالی وجود کب تک اس ناحاصل ہونے والی محبت کا انتظار کرے گا؟ ختم کیوں نہیں ہوجاتا یہ آس اور یاس کا اتارچڑھائو؟ اس نے اس بڑھتے درد کی اتھاگہرائیوں سے اپنے وجود کو گھسیٹا‘ موجودہ صورت حال پر غور اس وقت ان کیفیات کے تجزیے سے زیادہ ضروری تھا۔ اوراب یہ نئی مصیبت یہ لڑکی
تم سنو وہ اس سے مخاطب ہونے کے لئے مڑا تو حیران رہ گیا‘ کمرہ خالی تھا۔
کہاں گئی؟ اس نے جلدی سے گھوم کر پورے لائونج کا جائزہ لیا‘ وہ بچے سمیت غائب تھی۔ لمحے بھر کوشمیل چکرا کررہ گیا۔
یااللہ یہ میں نے کیا کردیا‘ اپنے بچے کو اپنے‘ اپنی زندگی کو ان منحوس سوچوں کی نظر کردیا‘ جانے کون تھی؟ کیا میرے بچے کو اٹھاکرلے گئی؟ میری آنکھوں کے سامنے سے اور میں اپنے ہی آپ پرترس کھاتا رہا‘ لعنت ہے مجھ پر‘ یاخدا میرے میڈو کو اپنی حفظ وامان میں رکھنا۔ وہ جس نے عرصہ دراز سے اپنے رب سے کچھ نہ مانگا تھا‘ اسے بھلائے بیٹھا تھا آج گڑگڑا رہاتھا۔
اگر میرے میڈو کو کچھ ہوگیا اس نے لمحے بھر میں ہر طرح کی خوفناک بات سوچ ڈالی۔
نہیں اب اتنا بھی اندھیر نہیں‘ وہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی۔ کچھ اپنے آپ کو تسلی دیتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا‘ دو دو سیڑھیاں اکٹھی پھلانگتا اوپر کی جانب بھاگا۔ سامنے کے کمروں کے دروازے بند تھے‘ میڈو کے کمرے کی جھری سے چھنتی روشنی اسے اپنی جانب متوجہ کرگئی‘ ایک جست میں وہ اس کمرے کے پاس پہنچ گیا‘ اندر داخل ہونے لگا تھا کہ اندر کامنظر اس کے قدم روک گیا۔ میڈو کو گردن تک رضائی میں لپیٹے وہ اس کے بستر پر ہی بیٹھی اس کے بال سہلا رہی تھی۔
آپ کل برتھ ڈے کیسے منائوگے۔ تابی کی آواز کمرے میں ابھری تھی۔
پہلے تو میں تم کو یہ بتاتا ہوں کہ کیسے میں تم کو یہاں سے نکالتاہوں۔ شمیل غضب ناک ساکمرے میں داخل ہوا۔ وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
چلو نکلو فوراً یہاں سے اس سے پہلے کہ میں تمہیں دھکے دے کر نکال باہر کروں‘ یوں میرے گھر میں دندناتی پھررہی ہو۔ یک دم زوردار گرج اور گڑگڑاہٹ کے ساتھ بادل نے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
اوہ۔ تابی ہولے سے بڑبڑائی۔ طوفان بس آیاہی چاہتا تھا۔ اسے ابھی اسٹیشن بھی پہنچنا تھا‘ اور لگتاتھا کہ زوروں کا طوفان آنے والا تھا۔ وہ شمیل کی دھمکی سنی ان سنی کرکے میڈو پر جھک آئی۔
جان! اب آپ سوجائو‘ رات کافی ہوگئی ہے‘ کل کا دن انشااللہ خوب رونق والا ہوگا‘ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے‘ آپ کی انعم پھوپو اور ماہم پھوپو بھی آئیں گی۔
یک دم اس نے اپنے بازو پر سخت گرفت محسوس کی‘ کٹورا سی آنکھیں شمیل کی جانب اٹھ گئیں۔ وہ اب اسے بے حد سرد نگاہوں سے گھور رہاتھا۔
کون ہو تم؟ کس نے بھیجا ہے تم کو؟ اور اسے تقریباً گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا تھا۔
ان دونوں سے کہہ دو کہ وہ میرے کسی بھی معاملے میں دخل اندازی نہ کریں‘ میں اپنے فیصلے میں کوئی ردوبدل کرنے والا نہیں ہوں۔ تنبیہہ تھی یا دھمکی وہ سمجھ نہیں پائی۔ شمیل اب تسلی میں تھا کہ اس لڑکی کو دونوں بہنوں نے میڈوکے لئے بھیجاتھا۔
یہ سب آخر اسے جینے کیوں نہیں دیتے‘ کب تک اس کی زندگی کی ڈور ان سب کے ہاتھوں میں رہے گی۔ غصے اور تھکن کی ایک لہر اس کے تن بدن میں دوڑ گئی۔ اک مسلسل تھکاوٹ کا احساس تھا۔شمیل نے ماتھے کی دکھتی جلد کو ہاتھوں سے دبایا۔ مسلسل ذہنی دبائو اس کو بری طرح تھکا چکا تھا۔ تابی سب کچھ دیکھ رہی تھی‘ محسوس کررہی تھی مگر سمجھنے سے قاصر تھی۔
کیا ہوگیا ہے اس پیارے سے شخص کو؟ اسے اپنے معصوم سے شمیل پر ترس آگیا۔ شمیل اب بھی اس کا بازو تکلیف دہ گرفت میں تھامے ہوئے تھا مگر اب کی بار تابی نے چھڑانے کی کوشش بھی نہ کی۔
آپ کی بہنوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو بس آپ کے بیٹے کے لئے چند گھڑیاں پیار کی تحفے کے طور پر لائی ہوں۔ اس نے سہمے ہوئے بچے کی جانب دیکھا جو دروازے میں کھڑا بے چارگی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
تم کمرے میں جائو۔شمیل نے میڈو کوحکم دیا اور پھر لڑکی کابازو کھینچتا ہوا اسے واپس نیچے لے آیا تھا۔ میڈو کو وہ ہمیشہ کے لئے اپنے سے دور بھیج رہا تھا یہ بات ابھی تک میڈو کو معلوم نہ تھی۔ آج تک اس نے اپنے بچے کو ہرطرح کے نرم گرم‘اچھے برے محبت بھرے جذبات سے دور رکھاتھا۔ وہ چاہتاتھا کہ میڈو اس کی طرح خوابوں کی دنیا نہ بسائے‘ اس کو اس ظالم دنیا کی تلخ حقیقتوں کا شروع سے ہی اندازہ رہے۔ یہ سوچیں‘ یہ آئیڈیل‘ سے پیار محبت کے جذبات انسان کو بعدمیں بہت تکلیف دیتے ہیں اور وہ اپنے بیٹے کو بے حد چاہتاتھا اسی لئے وہ اسے اس ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے ہی دور رکھنا چاہتاتھا کہ یہ نرم وگداز محبت بھرا دل رکھنے والے لوگوں کو کمزور بنا دیتاتھا۔ وہ نہیں چاہتاتھا کہ اس کامیڈو بھی کمزور ہو‘ ٹوٹ جائے‘ بکھرجائے۔
اب اس لڑکی نے آکر ہرچیز درہم برہم کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔
جانتی ہو تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟ تم سمجھتی ہو کہ تم ایک غیراس کی ہمدرد ہو؟ اس کی بھلائی کررہی ہو چند لمحے ہی سہی‘ اسے پیار دے رہی ہو؟ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے۔ تم اس پرظلم کرنے جارہی ہو تم اس کو ایسے خواب تھمانا چاہتی ہو جو اس کا سکون برباد کردیں گے‘ اس کی زندگی الٹ پلٹ کردیں گے۔ تم اس کو ساری عمر کی کسک دینا چاہتی ہو‘ ایسی زندگی کی جھلک دکھانا چاہتی ہو جس کی جستجو میں وہ تمام عمر بھٹکتا رہے گا اور تمتم جو کوئی بھی ہو‘ انسان‘فرشتہ یا کوئی پری میں تم کو یوں اپنے بچے کی زندگی سے کھیلنے نہیں دوںگا جو کچھ اس نے اس معصوم چارسالہ زندگی میں جھیل لیا ہے مزید اب میں اس کی زندگی میں اور کوئی مایوسی نہیں آنے دوں گا۔ باتیں بنانا بہت آسان ہے محترمہ تم کیا جانو ماں کی جدائی کا غم‘ بناپیار کے پلنا بڑھنا ہر طرح کے پیار سے دوری کی کسک وہ جانتا ہے اتنی سی عمر میں اس نے سب دیکھا ہے اور اب تمتم آگئی ہو اسے یہ نئے خواب دکھانے‘ اب جب وہ ان تلخ حقیقتوں کو جان گیا ہے‘ تو تم ایک بار پھر اس کی زندگی میں پیار کے رنگ بھرنے کا دعویٰ کرنے چلی آئیں۔ میں پوچھتا ہوں کب تک؟ کتنے دن کے لئے؟ کتنے گھنٹے‘کتنے لمحے؟ بولوجواب چاہئے مجھے اب چپ کیوں ہو؟ وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔ تابی منہ کھولے یہ سب سن رہی تھی۔ ایک لفظ بھی نہ بول پائی تھی وہ۔
ہونہہ کیا جواب دوگی‘ چند لمحے کی محبت بانٹنا بہت آسان ہے محترمہ‘ لکچر دینا اس سے بھی زیادہ‘ مگر عمربھر کا ساتھ نبھانا بہت مشکل ہے۔ اس نے دھیرے سے تابی کا بازو چھوڑ دیا۔
چلی جائو یہاں کسی کو تمہاری ضرورت نہیں۔ وہ دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیاتھا۔ تیز ہوا کا جھکڑ دروازہ کھولتے ہی اندر آیا تھا۔ یک لخت تیز گرج چمک کا احساس مزید بڑھ گیاتھا۔ شا م کا ہلکا ہلکا ابر اب بھرپور طوفان میں بدل چکاتھا۔ تابی نے پریشان ہوکر باہر اندھیرے میں جھانکا۔ لمحے بھر کو تو اس طوفانی رات نے شمیل کو بھی پریشان سا کردیاتھا۔ دو ننھے ننھے ہاتھ اپنی پینٹ پر محسوس کرکے شمیل نے نیچے دیکھا۔
پاپا پلیزآنٹی بھی مرجائیں گیممی کی طرح باہر بہت زور کابادل غصے ہو رہا ہے۔ اس کی معصوم بات میں کتنا خوف تھاشمیل خوب محسوس کررہاتھا‘ کیسی پکار تھیشمیل کی روح کی گہرائیوں تک گئی۔ اس نے مڑ کر لڑکی کو دیکھا۔ کیا تھااس میں جو یوں میڈو اس کی جانب کھینچا چلا جارہاتھا؟ وہ بس ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی باہر کے اندھیروں کوناپ رہی تھی۔ گھبراہٹ اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔
مجھے جاناہی ہوگا۔ تابی نے پریشانی سے سوچا یہ تمام اس کے پلان میں شامل نہ تھا۔ مزید تاخیر‘ یہ طوفانی رات اور دل کے جذبات‘ وہ اپنی ٹرین مس کردے گی اور ایسا کرنا‘ اس کے لئے ناممکن تھا‘ اس کی تمام زندگی کا دارومدار اس ایک ٹرین پرتھا‘ اسے جانا ہی تھا۔ وہ مجبور تھی‘ تابی نے ایک الوداعی نظر میڈو اور شمیل پر ڈالی۔ ہاتھ گلے میں پڑے لاکٹ کی جانب بڑھ گئے۔ میڈو اب بھی اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ پل بھر میں وہ جانے کیسے جان گیاتھا کہ تابی جارہی ہے۔
پاپاپاپا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ شمیل تڑپ کر میڈو پر جھک گیا۔ زوردار کڑک اسے باہر بڑھتے طوفان کی طرف بھی متوجہ کررہی تھی۔ تابی نے بے چینی سے باہر دیکھا۔ ایک قدم باہر کی جانب بڑھایا۔
پاپاپاپاآنٹی جارہی ہیں۔ میڈو کی تڑپ سے تابی کے قدم رک گئے۔ شمیل نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
انہیں روک لیں پاپا ان کو روک لیں۔ وہ رو دیاتھا۔ وہ دونوں کے قریب آگئی تھی۔ جانے کیا تھا اس کی مٹھی میں جو اس نے میڈو کے ہاتھ میں تھمایا‘ لب ہنوز خاموش تھے۔ بہت کم الفاظ کی بنی ہوئی تھی وہ شاید۔ لمحے بھر کو شمیل کو محسوس ہوا جیسے یہ اس نے پہلے بھی سوچاتھا‘ اس لڑکی کے لئے‘ کچھ تھا جو شمیل کو اس لڑکی کی طرف بار بار کھینچ رہاتھا۔ وہ اب پلٹ کر واپس جانے لگی تھی۔ آنسو موتی کی لڑیوں کی طرح میڈو کے گالوں پر بکھر رہے تھے۔
سنو۔ بھاری مضبوط گرفت میں تابی کا نازک سا ہاتھ قید ہوا تووہ خودبخود رک گئی۔ شمیل کے ہاتھ کا لمس اس کی سانس روک گیاتھا۔دل لمحے بھر کو جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔ تابی نے ایک چور سی نظر اپنے ہاتھ پرڈالی جو اس وقت اس کی مردانہ گرفت میں غائب ہوچکاتھا۔
آج کی رات رک جائو‘ اس وقت کہاں جائوگی‘ طوفان بہت بڑھ گیا ہے۔ صبح میں خود تم کو چھوڑ آئوں گا‘ جہاں تم کوجانا ہوگا۔ وہ یوں بولا گویا احسان کررہا ہو۔ تابی ہولے سے مسکرادی۔ جس بھی لہجے میں بولا تھا مگر اس کے پرانے شمیل کا عکس جھلک رہاتھا اس کی بات سے۔ اب بھی وہ دوسروں کے لئے فکرمند ہوتاتھا۔
میرارکنا بہت مشکل ہے۔ مجھے ہرحال میں صبح کہیں پہنچنا ہے‘ میری تمام زندگی کادارومدار اس رات کے سفر پر ہے۔ میں تو صرف چند لمحوں کے لئے میڈو کی زندگی میں رنگ بھرنے آئی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ کو شمیل کے ہاتھ سے چھڑانا چاہا‘ مگر اس کی گرفت تو مزید سخت ہوچکی تھی۔ تابی کاہاتھ دکھنے لگاتھا۔
سب مطلبی اور خودغرض لوگ ہیں تم بھی۔ اس کی زندگی میں رنگ بھرنے آئیں اور آنسو بھر کر جارہی ہو۔ میں نہیں جانتا تم کو ن ہو؟ کہاں سے آئی ہو مگر میڈو تم کواپنا مان بیٹھا ہے‘ اب اگر تم سے چند لمحے ادھار مانگ رہا ہوں تو کیسے دامن بچا کربھاگ رہی ہو۔ ہاتھ کی گرفت سخت سے سخت ہو رہی تھی۔ درد کا احساس تابی کے چہرے سے ہویداتھا۔ مگر لب اب بھی خاموش تھے۔ شمیل نے ایک قہر بھری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی اور ان نینوں میں ڈوب ساگیا۔ نمی کی تہہ ان نینوں میں بڑھ رہی تھی۔ اچانک شمیل کو احساس ہوا کہ لڑکی کو تکلیف ہو رہی تھی۔ اس کی نگاہ اپنے ہاتھ کی طرف اٹھ گئی۔
اوہ مائی گاڈ اس نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا۔
تابی کا ہاتھ بری طرح سرخ ہو رہاتھا۔ اس نے ہولے سے اپنے ہاتھ کومسلا۔
آئی ایم سوری۔ وہ ا بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہاتھا۔
آنٹی پلیز نہ جائیں۔ میڈو ان کے بیچ گزرتے ہر لمحے سے بے نیاز اپنی ہی بول رہاتھا۔ دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔ آنسو ان معصوم گالوں پر ٹھہر گئے تھے۔ تابی نے واپس شمیل کو دیکھا‘ جانے کیوں اس کے چہرے پر التجا تھی۔
چلوپھر اندر چلتے ہیں‘میڈو۔ مجھے سردی لگ رہی ہے۔یہ باہر جانے والا دروازہ بند کردو۔ تابی نے بس اس ایک لمحے میں اپنی تمام زندگی کی جستجو تیاگ دی۔

یہ کیا ہے آنٹی؟ رضائی میں گھستے ہوئے میڈو نے ہاتھ میں پکڑے لاکٹ کے بارے میں پوچھا۔
یہیہ آنٹی کی زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ اس کی متاع حیات ہے اور اب آپ کی ہے‘ جب بھی زندگی میں کبھی‘ پیار کی‘ حوصلے کی‘ہمت کی ضرورت ہو اسے تھام لینا‘ یہ آپ کے دل کو پیار سے بھردے گا‘ بیٹا یہ آپ کی آنٹی کا عشق ہے‘ جنون ہے۔ وہ بولتی چلی گئی۔ بچہ بے چارہ حیرت سے اسے تک رہاتھا۔ وہ کب سمجھتاتھا ان سب باتوں کو۔ تابی نے اس کی شکل دیکھی تو اسے ہنسی آگئی۔ جانی یہ آپ کا برتھ ڈے گفٹ ہے۔ اسے گلے میں پہن لو‘ آپ کو میری یاد ہروقت آئے گی۔

کون تھی آخر یہ لڑکی۔ اک بھولی بسری شبیہہ ذہن کے کینوس پر ابھرنے کی کوشش کرتی اور معدوم ہوجاتی۔ اس نے کنپٹیوں کو انگلی کی پوروں سے دبایا۔
پتہ نہیں کون ہے؟ کوئی سنے تو شاید میری عقل پر ماتم کرے۔ کون کسی اجنبی کو یوں گھر میں گھساتا ہے۔ کتنا بے وقوف تھا وہ مگر وہ تو بس یہ جانتاتھا وہ لڑکی اس وقت اس کے بیٹے کے کمرے میں تھی اور وہاں سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں‘ اس نے اوپر کی سمت دیکھا۔ میڈو شاید اس کی کسی بات پرزور زور سے ہنس رہاتھا۔ شمیل اٹھ کر لائونج کے پچھلے دروازے کی جانب آگیا۔
ایک عرصہ بیت گیاتھا اسے اس شیشے کے دروازے کے پاس آئے ہوئے۔ پہلی بار وہ اس رات کے بعد وہ اسے اس کنج کے پاس نظر آئی تھیاس کی تابی اس کی گڑیا کتنے ہی برس بعد آج اس کی یاد نے دوبارہ اس کے دل پہ دستک دی تھی۔ اس ننھی سی گڑیا سے بدل کر وہ اس کی آنکھوں کے سامنے لڑکی بن گئی مگر رہی اس کنج کی اوٹ میں۔ نہ کبھی آگے بڑھ کر اس دروازے تک آئی اور نہ ہی کبھی کنج کے پاس آنا چھوڑا۔ بس وہاں چھپی بیٹھی رہتی تھی۔ شمیل کو اچھا نہ لگتاتھا کہ وہ اس کی اس تنہائی میں مخل ہوتا‘ ایک دن اس کو اندر لانا تو تھا‘ بس وہ انتظار میں تھا کہ تابی میں کچھ خود اعتمادی پیداہوجاتی۔ تب تک وہ انتظار کرسکتاتھا۔ اور پھر وہ ہوگیا جس نے شمیل کو یکسربدل کررکھ دیا۔ اس کے اندر کا آرٹسٹ‘ حساس شمیل جانے اس دنیا داری میں ان دھندلے راستوں میں کہاں کھوگیا۔
ابو کی ضد نے اسے مجبور کردیا کہ وہ اپنے آرٹس اسکول کو چھوڑ کر ایم بی اے میں آگیا۔ اکلوتابیٹا تھا‘ یہ اس کا فرض تھا کہ باپ کے تما م بزنس کو سنبھالتا۔ ابوکے بار بار باور کروانے پر وہ مجبور ہوگیا مگر مصوری کا جنون ہنوز اس کے ساتھ ساتھ تھا۔ دن کی تمام تھکن وہ رات کو اپنے کینوس پر اتار دیتاتھا۔
سمن کی آمد نے ان کے گھر میں ایک نئی ہلچل سی مچادی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں نازک سی سمن گھر کا اہم ترین حصہ بن چکی تھی۔ ابو کی نگاہوں کا تارا ان کے بھائی کی بیٹی۔
سمنگھر کے ہرفرد کے لئے اہم قرار دے دی گئی تھی۔ جسمانی طورپرنازک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بے حد نازک مزاج اور حساس بھی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پررونا آجاتاتھا۔ سدا کا نرم دل شمیل اس کے رونے سے بوکھلا جاتاتھا۔ سب ہی اس کے آگے پیچھے پھرتے رہتے مگر اس کا بات بات پرپریشان ہونا‘ واویلا مچانا سب کو تنگ کرنے لگاتھا۔ انعم آپی اور ماہم آپی چڑ ساجاتی تھیں‘ اس کو تو کچھ کہہ نہ پاتی تھیں تو شمیل کے پیچھے پڑجاتی تھیں کہ اس کا خیال رکھو۔ وہ کبھی بھی سمن کی کسی بات کو رد نہ کرتاتھا پھر بھی وہ کبھی خوش نہ ہوپاتی تھی۔ اور ہر طرف سمن کی ہی بازگشت میں تابی کانام کہیں دور رہ گیا۔ وہ اس شیشے کے دروازے کے پار‘رات کی رانی کے کنج کے پاس نظر آنے والا چہرہ کہیں اندھیروں میں گم ہوگیا۔ ہر طرف سمن کا نام‘ سمن کا احساس‘سمن کی چھاپ لگ گئی تھی۔
سمن ایک تکلیف دہ یاد ایک تلخ تجربہ‘ ایک بے نام خلش وہ سوچتا چلا گیا۔
تابی کب سے اسے لاوئنج کے اس شیشے کے دروازے کے پاس کھڑے دیکھ رہی تھی۔ جانے کیا تلاش کررہاتھا وہ ان اندھیروں میں۔ چہرے پرپھیلے تاثرات کسی تکلیف دہ سوچ کی عکاسی کررہے تھے۔
میڈو کو کمرے میں لٹا کر وہ نیچے آگئی تھی‘ وہ دھیرے دھیرے اس کی جانب بڑھ آئی۔
شمیل۔ تابی کی آواز پر وہ بری طرح چونک گیا۔ چہرے پر پھیلے تاثرات غائب ہوچکے تھے۔جیسے کسی ماسک کے پیچھے چھپ گئے ہوں۔ وہ سپاٹ چہرہ لئے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی روشنی تابی کے چہرے پر پڑرہی تھی۔ جانے کیوں شمیل کو ایک بارپھر گمان ہوا کہ وہ اس لڑکی کو جانتا ہے۔
کیا ہم پہلے بھی مل چکے ہیں؟ وہ اچانک بولا۔ تابی ٹھٹھک کر رک گئی۔ وہ ہنوز خاموش تھی۔
مگر نہیں ایساممکن نہیں۔ مجھے کسی کی شکل نہیں بھولتی۔ وہ شاید خود کلامی کررہاتھا۔ تابی پہلی بار کھل کرمسکرائی۔ مسرت کابھرپور احساس اس کے پورے تن بدن میں سرایت کرگیا۔ شعوری طور پر ناسہی لاشعوری طور پر ہی اس کا ذہن تابی کو پہچان رہاتھا۔
یہ ایک احساس ہی اس کے لئے کافی تھا۔
مسکرانے کی کیا بات ہے اس میں؟ وہ چڑ گیا۔ تابی نے فوراً سنجیدہ شکل بنالی۔ آنکھیں اگرچہ اب بھی مسکرا رہی تھیں۔
آخر تم بتاتی کیوں نہیں کہ تم کون ہو؟ معمہ بننے کابہت شوق لگتا ہے۔ تجسس بڑھا کر تم کوکیاحاصل ہوگا۔ یہ مت سمجھنا میں تم میں انٹرسٹڈ ہوجائوں گا۔ یاد رکھو صبح ہوتے ہی تم کو فارغ کردوں گا۔ وہ بولے جارہاتھا اور تابی خاموشی سے اسے تک رہی تھی۔
بڑی کنجوس ہو۔ اپنی آواز کااستعمال ہی نہیں کرتیں۔
کیوں‘ اپنے آپ کو اس جہنم میں قید کررکھا ہے شمیل۔ اچانک وہ بول اٹھی۔ اس کی مدھم آواز شمیل کے کانوں میں رس ساگھول گئی۔ دل کو عجیب سا احساس ہوا۔ جیسے اس کی جانب کھینچ سارہا ہو۔
میں پاگل تو نہیں ہو رہا؟ کسی اجنبی لڑکی کے لئے اس طرح کے احساسات کیا معنی رکھتے ہیں۔ اس نے تو عرصہ سے کسی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کربھی نہ دیکھا تھا۔ جب سے سمن اس کی زندگی سے گئی تھی اس نے کبھی کسی عورت کے بارے میں نہ سوچا تھا‘ آجآج ایک عرصہ بعد اس نے کسی عورت کو ایک مرد کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ اس نے سر جھٹک کر ان فضول سوچوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور اس کا سوال سنا۔
سنو‘ تم سے میری زندگی کوئی مطلب نہیں‘ واسطہ نہیں‘ میں جنت میں ہوں یاجہنم میں تم کو کیا۔ آج رات اس گھر میں رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم میرے نجی معاملات میں دخل دو۔ اس نے اپنا لہجہ کرخت کرلیا۔ یوں اس کی طرف من کھینچ رہاتھا کہ وہ گھبرااٹھا۔
شاید آج کے عجیب وغریب حالات کی وجہ سے میں اس لڑکی کی طرف یوں کشش محسوس کررہا ہوںورنہ اتنے سال سمن کے ساتھ اور اس کے بعد میں نے کبھی کسی عورت کی جانب نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا مگر آج اس سے آگے وہ کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتاتھا۔ تابی خاموشی سے اس کے چہرے کے اتارچڑھائو دیکھ رہی تھی۔ دل میں بھری محبت آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔ وہ جیسے اس کو سمیٹ لینا چاہتی تھی۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ مت دیکھو مجھے ان ترس بھری نظروں سے‘ نہیں چاہئے مجھے کسی کی بھی ہمدردی۔ شمیل اس کے پیار کو سمجھ نہ پایا تھا۔ وہ ہنوز اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
کچھ بولتی کیوں نہیں‘ مجھے وحشت ہو رہی ہے تمہاری ان بولتی نگاہوں سے۔ اس نے پشت لڑکی کی جانب کرلی۔
آپ نے مصوری کیوں چھوڑ دی؟ مدھم سرگوشی میں کیا گیا سوال اس کی روح تک میں شور مچا گیا۔وہ جھٹکے سے اس کی جانب مڑا۔
کیا کہا تم نے؟ وہ شاک میں تھا۔ میں پوچھ رہا ہوں تم نے کیا کہا ہے ابھی ابھی کون ہو تم؟ کون ہو؟ وہ اس کے بے حد قریب آگیاتھا۔ مگر تابی اپنی جگہ کھڑی اسے ٹکرٹکر دیکھتی رہی۔
تم اب مزید خاموش نہیں رہ سکتیں۔ یوں لبوں پر تالے نہیں ڈال سکتیں‘ تمہیں بتانا ہی ہوگاکون ہو‘ کس نے تم کو میرے خوابوں کامیرے سپنوں کا پتہ دیاخدا کا واسطہ‘ اب تو خاموش نہ رہو۔ اس نے تابی کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔ درد سے چور لہجہ بھی تابی کو منہ کھولنے پرمجبور نہ کرپایا۔ ابھی نہیںابھی شمیل کومزید وقت چاہئے تھا۔
میں کس کمرے میں ٹھہروں گی۔ اگرچہ شمیل کے جھنجوڑنے سے اس کا سر بری طرح چکرا گیاتھا مگر اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔ شمیل حواسوں میں آگیا۔ اس نے دھیرے سے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹالئے۔ مضطرب انگلیاں بالوں کوبکھیر رہی تھیں۔
تابی کا بس نہیں چل رہاتھا کہ اس کی آنکھوں سے تمام دکھ چن کر ان کو خوشیوں کے جگنوئوںسے روشن کردے‘ مگر ابھی وقت نہیں آیاتھا۔
آئو۔ وہ اپنے جنون پرقابو پانے کی جستجو میں تھکاتھکا سا سیڑھیاں چڑھ گیا۔
سنیں وہ جو اس کے پیچھے پیچھے چڑھ رہی تھی ہولے سے اسے پکار بیٹھی۔
کیا ہوا؟ شمیل نے ایک قدم اگلی سیڑھی پرروک کر مڑ کر اسے دیکھا۔
مجھے بھوک لگی ہے۔ شرمندہ سی وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔ شام سے وہ ان کے گھر میں تھی اور شمیل نے ایک دفعہ بھی اس بات پر دھیان نہیں دیا تھا اور اب تو رات کاایک بجنے والا تھا‘ اس نے غور سے لڑکی کو دیکھا۔ گال گلابی سے ہو رہے تھے‘ شاید شرمندگی سے‘ شمیل کو وہ بے حد پیاری اور معصوم سی لگی۔
اچھا تم یوں کرو اوپرجائو میڈو کے آگے والا کمرہ ہے۔ میں ملازم کو دیکھتا ہوں۔ پہلی بار شمیل نے اس سے پیار سے بات کی۔ وہ اس کے پاس سے گزر کر نیچے اتر گیا۔ اس کی پرفیوم کا لطیف سا جھونکا تابی کو اپنی لپیٹ میں لے رہاتھا۔ اوپر آکر ایک نگاہ‘ میڈو کے کمرے میں ڈالی۔ کسی معصوم فرشتے کی طرح وہ سویا ہوا تھا۔ تابی کی جانب اس کی پشت تھی۔ وہ دبے پائوں اس کے سرہانے آکھڑی ہوئی۔ بس ایک نظر اسے دیکھ کر وہ جانے کو پلٹی تو اس کی کلائی ننھے ننھے ہاتھوں نے تھام لی۔
مجھے پتہ ہے آپ فیئری نہیں ہیں۔ وہ شرارتی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہاتھا۔
ارے توپھر؟ وہ ہنستے ہوئے اس کے سرہانے ہی بیٹھ گئی۔
آنٹی! پاپا بہت اچھے ہیں‘ ہم دونوں ممی کو بہت مس کرتے ہیں۔ پاپا کو بھی آپ اچھی لگتی ہیں‘ وہ آپ پرغصے ہو رہے تھے مگر پھر بھی آپ کوجانے سے روک لیا ورنہ وہ تو ہمیشہ غصہ کرتے ہیں۔ وہ آپ کو فیئری مان گئے تھے بس اس لئے میں بھی یہی کہتا تھا۔
تم بہت چالاک لڑکے ہو۔ تابی نے ہنس کر اس کے بال بگاڑ دیئے۔
ممی یوں مجھے کبھی پیار نہیں کرتی تھیں۔ وہ مجھے پیار کرتی ہی نہیں تھیں۔ عام سے لہجے میں میڈو کی ابھرتی آواز پر دونوں بری طرح چونکے تھے۔ تابی نے ہولے سے میڈو کو اپنے آپ سے علیحدہ کیا۔
ایسے نہیں بولتے میڈو‘ آپ کی ممی تو آپ سے بہت پیار کرتی ہوں گی۔ وہ کنفیوز سی ہوگئی تھی۔شمیل قدم پیچھے ہٹا کر دروازے کی اوٹ میں ہوگیا۔
کرتی ہوں گی مگر وہ بیمار رہتی تھیں نا۔ ان کی نرس کسی کو بھی قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ وہ مجھے گود میں نہیں اٹھاتی تھیں۔ پھوپو کہتی ہیں ممی تھک جاتی تھیں۔ وہ کس قدر سنجیدہ تھا‘ تابی پریشان سی ہوگئی۔
جان! بس تو پھر وجہ تو آپ کو معلوم ہے نا۔ وہ سمجھ نہ پائی کیا کہے۔
آنٹی وہ بہت غصہ کرتی تھیں‘ ہروقت ناراض رہتی تھیں‘ پاپا سے بھی۔ تابی منہ کھولے گود میں بیٹھے بچے کی باتیں سن رہی تھی۔ شمیل بھی دم بخود تھا۔ جس حقیقت سے دور رکھنے کے لئے اس نے اپنے بیٹے کو اپنے سے بھی دور رکھا کہ کبھی لبوں سے نکلا شکوہ اس کے کانوں تک نہ پہنچ جائے‘اس حقیقت سے بچہ بخوبی واقف تھا۔ اس کی عمر ہی کیا تھی ابھی۔ شمیل کا دل دکھ سے بھرگیا۔
کس قسم کے والدین ہیں ہم‘ دنیا سے تو کیا ہی محفوظ رکھناتھا‘ ہم تو اسے اپنے تلخ احساسات سے محفوظ نہ رکھ پائے۔
اچھا ہے میڈو مجھ سے دور چلاجائے۔ میں اس کی زندگی میں مزید دکھوں کااضافہ ہی کرسکتاہوں۔ مگر اپنے سے دور کرنے کی سوچ پرہی ایک ہوک سی اس کے دل میں اٹھتی تھی۔ جیسے وہ برف کی مزید ایک تہہ اور دل کے گرد ڈال کر سن کردیتاتھا۔
وہ دونوں اب بھی باتیں کررہے تھے‘ غصے اور جلن کی ایک لہر اس کے تن بدن میں دوڑ گئی۔
کھانا فرج میں رکھا ہے‘ اس وقت کوئی ملازم گھر پر نہیں ہے جو جی میں آئے نکال کر گرم کرلو۔ میں تمہارا نوکر نہیں کہ تمہارے کام کرتا پھروں۔ وہ کمرے میں بڑھ آیا۔ تابی نے چونک کر اسے دیکھا۔ کتنی دیر سے کھڑا تھا وہ؟شمیل کے چہرے سے بیزاری جھلک رہی تھی۔
تابی چہرہ اٹھائے اس کی جانب تک رہی تھی۔ اس کی نگاہیں پھسل کر تابی کے لبوں پر آٹھہری تھیں۔ وہ کنفیوز سی ہوگئی۔
اگر بھوک لگ رہی ہے تو اٹھومیرے پاس فالتو وقت ہرگز نہیں ہوتا۔ میرے لمحے لمحے کی قیمت ہوتی ہے۔ وہ کیوں مائل ہو رہا تھا اس اجنبی لڑکی کی طرف۔ اپنے آپ پرآتا غصہ اس نے لڑکی پرنکالا۔
پاپا! مجھے بھی بھوک لگی ہے۔ میڈو کی آواز پر شمیل نے اپنی تمام تر توجہ اپنے بیٹے پرمرکوز کردی۔
دودھ پیوگے۔ وہ پیار سے بولا۔
نہیں میں آنٹی کے ساتھ کھانا کھائوں گا۔ وہ مچل گیا۔
اس وقت! کیا تم مجھے جا ن بوجھ کر تنگ کرنا چاہ رہے ہو۔ وہ بری طرح چڑ گیا۔ اس لڑکی کے آنے سے ہرچیز اپنے محور سے ہٹ رہی تھی۔ پہلے میڈو نے کبھی ایسی کوئی بے وقت فرمائش نہ کی تھی۔
میں دودھ کی بوتل بنا کرلاتاہوںتم چپ چاپ سوجائو اور محترمہ آپ بھی آجائیں بچے کے آرام کاو قت ہے۔ وہ بنا دونوں کو دیکھے نیچے چلا گیا۔
ہونہہ بچے کے آرام کا وقت ہے۔ تابی نے منہ بنا کرشمیل کی نقل اتاری تو رونے کی تیاری کرتے میڈو کو ہنسی آگئی۔
چلو جی آئونیچے چلیں۔ بھوک کا بھی بھلا کوئی وقت ہوتا ہے۔ اس نے ایک نظر وال کلاک پر ڈالی۔
ارے میڈو یہ تو آپ کی سالگرہ کا دن شروع ہوچکا ہے۔ اب تو بھئی آج کے دن آپ کی ہر بات مانناپڑے گی ہے نا؟
کچن میں کھڑے شمیل کے لبوں پرہولے سے مسکراہٹ کھل گئی۔ ان کی ہنسی کی آواز اب اس تک بھی پہنچ رہی تھی۔
سینے کے بائیں حصے میںپڑے اس فالتو سے دل پرجمی برف پرسے ایک تہہ ہلکی سی پگھلی تھی شاید۔
کوئی بھوت‘ پریت ہی ہے یہ یقینا‘ ہم دونوں باپ بیٹے کے حواسوں پر چھاگئی ہے۔وہ دونوں اب ہنستے ہوئے اس کے سامنے تھے۔ اس نے جل کر سوچا۔پھرخودبخود ہی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر دوڑ گئی۔
اک عرصہ بعد اس کے گھر میں معصوم سی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی۔
وہ دونوں کسی بات پر بے تحاشہ ہنستے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ شمیل نے جھٹ چہرہ سپاٹ کرلیا۔
میں نے منع کیاتھا اس کو نیچے آنے سے۔ شمیل کی سخت آواز پردونوں کی ہنسی کو بریک لگ گئی۔ میڈو نے ڈر کر تابی کے سینے میں منہ چھپالیا۔
جناب گھنٹہ ہوا میڈو کی سالگرہ کا دن شروع ہوچکا ہے۔ اس لئے اب آپ کا حکم نہیں چلے گا۔ وہ دھڑلے سے بولتی میڈو کو کائونٹر کے پاس پڑے اونچے سے اسٹول پر بٹھا کر فرج میں جھانکنے لگی۔
جی‘ تو کیا کھائوگے‘ انڈے‘ بریڈ‘ سالن یا پھر؟ وہ پوچھتی جارہی تھی۔ شمیل کو یوں نظر انداز کیا جارہا تھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔
آنٹی! میں آئس کریم کھائوں گا۔ اس پر چاکلیٹ ساس ڈال کر اچانک میڈو کی فرمائش آئی۔
ہرگز نہیں۔ اس سے پہلے کہ تابی اس کی یہ فرمائش بھی پوری کرتی شمیل فریزر کے دروازے کے آگے کھڑا ہوگیا۔
بچے کے دانت تباہ ہوجائیں گے۔ تمہارا دماغ تو ٹھکانے ہے آخر یہ ہو کیا رہا ہے اس گھر میں؟ اس کاموڈ پھر آف ہو رہا تھا۔ تابی نے پروا کئے بنا اسے کھینچ کر پرے کیا اور آئس کریم نکال لی۔ شمیل تو اتنا حیرت زدہ تھا اس کی اس جرأت پر کہ کچھ کہہ ہی نہ پایا۔
آپ کھائیں گے؟ وہ اب معصوم نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
مجھے کوئی شوق نہیں آدھی رات کوفضول حرکات کرنے کا۔ وہ چڑ رہاتھا۔
مرضی ہے بھئی۔ تابی شانے اچکا کر میڈو کی طرف بڑھ آئی۔ وہ مسلسل ہنس رہاتھا۔
پاپا! آپ بھی کھالیں نا۔ چاکلیٹ سے بھرے منہ کے ساتھ اس نے فرمائش کی۔
ارے اب تو ہمارے بیٹے نے فرمائش کردی اب تو کھانی ہی پڑے گی۔ تابی بڑا سا چمچ آئس کریم سے بھر کر شمیل کے قریب آگئی۔
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری مرضی میرے ساتھ نہیں چلے گی۔
میری کہاں یہ توآپ کے بیٹے کی مرضی ہے۔ وہ مسلسل قریب آرہی تھی۔
میں کہہ رہا ہوں باز آجائو۔ وہ اب چند قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ شمیل گھبرا گیا۔ اس پاگل لڑکی سے کچھ بعید نہ تھا۔
منہ کھول دیں ورنہ۔ اس نے گویا دھمکی دی اور چمچ اس کے منہ کے قریب کردیا۔
میڈو کا دل حلق میں آگیا تھا۔
اب آنٹی کی خیر نہیں اس نے ڈر کر سوچا۔
شمیل تابی کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا مگر اسے کیا پروا تھی۔ یک لخت شمیل نے اس کی کلائی تھام لی۔ اس نے گڑبڑا کر شمیل کی آنکھوں میں جھانکا اور سن سی رہ گئی۔ لمحے بیتے جارہے تھے‘ وہ جنبش ہی نہ کرپائی‘ سانس تیز ہو رہی تھی۔
شمیل ہولے سے اپنی کامیابی پرمسکرادیا۔ ایک طلسم ساجیسے ٹوٹا تھا۔ تابی کو ہوش آیاتھا۔
آئوچ!یکدم ایک ٹھنڈا گیلا سااحساس شمیل کو چھوگیاتھا۔ تابی نے آئسکریم کاچمچ اس پرالٹ دیاتھا۔
آئس کریم اب پگھل پگھل کر اس کی قمیص میں جارہی تھی۔ وہ ہاتھ چھڑا کر میڈو کی کرسی کے پیچھے چھپ گئی۔ دونوں ہنس ہنس کر بے حال ہو رہے تھے۔
میں معاف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اس نے چہرہ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے ہولے سے کہا۔وہ دونوں مسلسل ہنس رہے تھے۔ شمیل آہستہ آہستہ تابی کی طر ف بڑھنے لگا۔
نہیں پلیز‘ شمیل سوریپلیز میں نے تو مذاق کیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے میڈو کے پیچھے چھپ رہی تھی۔
پاپا! آنٹی کو تنگ نہ کریں میڈو کو خوشی کے ساتھ ساتھ ڈر بھی لگ رہاتھا۔
اب تم اپنی آنٹی کو نہیں بچاسکتے۔ وہ چند قدم مزید قریب آیا۔ تابی میڈو کے پیچھے سے نکل کر دروازے کی طرف بھاگی۔ میڈو بھی اتر کر اس کے پیچھے بھاگاتھا۔ شمیل ہنستا ہوا ان کے پیچھے لپکا۔ کچن سے نکلتے نکلتے اس نے فریزر سے برف نکال کر ہاتھ میں لے لی تھی۔
تابی لائونج کے صوفے کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی۔ جب اسے اپنی کمر میں یخ بستہ برف کااحساس ہوا۔ وہ چیخ اٹھی۔
میڈو! بچائو۔ وہ جلدی سے کھڑی ہوکربرف جھاڑنے لگی۔ میڈو کا ہنس ہنس کر براحال تھا۔ باپ کا یہ روپ انوکھا اور پیارا تھا۔ چھوٹا ساذہن خوش ہوگیا تھا۔ اس کی معصوم سی دعاپوری ہوچکی تھی۔
ہنستے ہوئے میڈو کوشمیل نے پیار سے گود میں اٹھالیا۔
آنٹی! پاپا کچھ نہیں کہیں گے‘ میرے پاپابہت پیار کرنے والے ہیں۔ شمیل نے اسے سینے سے لگالیا۔ تابی کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ ماحول بوجھل سا ہوگیا تھا۔ تابی نے جلدی سے اٹھ کر برف سے جان چھڑائی۔
اچھاجیبدلہ تو میں بھی لے سکتی ہوں مگر میں کیونکہ فیئری ہوں اس لئے ایسے نہیں کروں گی۔ چلو اب کیک کاٹ لیتے ہیں۔وہ مسکراتے ہوئے ان کے قریب آگئی۔
مگر آنٹی کیک تو ہے ہی نہیں۔
تو کیا ہوا‘ چل کرلے آتے ہیں۔وہ مزے سے کندھے اچکا کر بولی۔
اس وقت؟ اتنی رات کو؟ میڈو شاک میں تھا۔ اس نے جلدی سے پاپا کے تاثرات دیکھنا چاہے‘ جانتاتھا کہ باپ کو یہ سب ناپسند تھا۔ ہرچیز نوکر لے آتے تھے۔
کیوں شمیل چلیں گے نا؟ اس نے جیسے شمیل کو حیران کردیاتھا۔ وہ بس اثبات میں سرہلا کر رہ گیا۔یاہو! میڈو خوشی سے چلااٹھا۔ تابی مسکرادی۔ وہ اس کے گلے میں جھول سا گیاتھا۔ تابی کے گرد عجیب سااحساس پھیل رہاتھا۔ اس کا لمس تابی کے روم روم میں سما رہاتھا۔ وہ باپ کی گود سے اس کی گود میں بلاارادہ ہی آگیا تھا۔ شمیل محبت پاش نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہاتھا۔
چلیں۔ تابی نے دھیرے سے اس کو چھوا۔
ہیں؟ ہاں میں ذرا پرس لے آئوں۔
اپنے کمرے سے پرس لے کرمڑتے ہوئے نگاہ آئینے پرپڑگئی تھی۔
کیا یہ میرا ہی عکس ہے؟ وہ حیران سا دیکھتا رہ گیا۔ چہرے پر طمانیت کا احساس اجاگر تھا۔ ہمیشہ سے پڑی ہوئی تفکرات کی لکیریں معدوم سی تھیں۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ وہ نظریں چرا کر پلٹ کر سیڑھیاں اتر گیا۔

تھکا ہوا میڈو اس کی گود میں گھسا سوچکاتھا۔ اس کا معصوم نرم گرم سا جسم اور گاڑی کی ملائم سیٹ تابی کو لطافت کا احساس دلارہی تھی۔ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ شمیل نے کن اکھیوں سے پاس بیٹھی لڑکی کو دیکھا جس کے نام سے وہ اب بھی واقف نہ تھا۔ مگر جس کی وجہ سے برسوں کی جمی ہوئی برف کی تہہ اس کے دل کے آس پاس پگھل رہی تھی۔ احساسات کی بھرمار تھی۔ اس کا وجود خوبصورت احساسات کے ساتھ ان دکھوں کی جلن بھی محسوس کررہاتھا جو اس نے برسوں اس برف میں دفن کررکھے تھے۔ گزرے ہوئے برسوں کی تلخی اذیت اور مجبوریاں بھی ابھررہی تھیں۔ دل ایک با ر پھر ان احساسات کی اذیت سے دوچار ہورہاتھا۔
کیا وہ دوبارہ اس اذیت سے گزرنا چاہتاتھا؟ اتنے سالوں میں اپنے دل کے گرد بنایا یہ خول آج چٹخ رہاتھا۔ کیا وہ اس تکلیف سے پھر دوچار ہونے کی ہمت رکھتاتھا؟ اس نے خاموشی سے پاس بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔ کتنے سکون سے وہ شمیل کی متاع حیات کو گود میں لئے بیٹھی تھی۔ یکدم ہی سے اس لڑکی پرغصہ آگیا۔ کیوں آئی وہ ان کی زندگی میں‘ کیا حق تھا یوں اس کو بے چین کرنے کا؟ زندگی گزرہی رہی تھی جیسے تیسے۔ احساس منجمد تھا تو درد بھی تو محسوس نہ ہوتا تھا۔ اذیت کا احساس بھی نہ تھا۔ یہ چند گھڑیوں کا سکون اس کے لئے عمربھر کے عذاب کا درکھول رہاتھا۔ اس نے جھٹکے سے گاڑی کی اسپیڈ تیز کردی۔ تابی نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔
کیا ہوا؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ پائی۔
جو کچھ پچھلے گھنٹوں میں ہوا اس کی وجہ سے یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ تم اس گھر سے کچھ لے جائوگی۔ آج کی رات میں نے اپنے بیٹے کے نام کردی تھی۔ اب وہ سوچکا ہے۔ کل کے بعد یہ سب نہ ہوگا۔ تم بھی رات گزار کر چلتی بنو۔ اس کی کرخت آواز پرتابی نے لمبی سانس بھر کر چہرہ میڈو کے سرپررکھ دیا۔ وہ دائرہ گھوم کر پھر شروعات کے مقام پرآپہنچے تھے۔
جو کچھ مجھے اس گھر سے ملنا تھا شمیل صاحب وہ میں عرصہ ہوا لے چکی ہوں‘ اب اور کیا لینا تھا۔ آئی تو تھی کہ قرضہ چکا جائوں گی مگر مزید مقروض ہوکرجارہی ہوں۔ وہ دھیرے سے بولی۔ شمیل نے غور سے اسے دیکھا۔
کون ہو تم کیوں مجھے یوں اپنی جانب کھینچ رہی ہو۔ دوبارہ ان جذبوں سے روشناس کروارہی ہو جو میں کب کا بھول چکاہوں۔ مت کھینچو مجھے ان جذبات کے گرداب میں۔اب جوڈوبا تو ابھرنہ پائوں گا۔ وہ ٹوٹ رہاتھا۔
کیوں چھوڑ دیئے اپنے خواب ادھورے آپ نے؟ کہاں کچھ کھودیا جو یوں اکیلے پڑگئے آپ۔ کیا غم ہے جو اس دل کو ناسور بنا رہا ہے؟ نکال پھینکیں اس کوباہر۔ تابی کے الفاظ اس کے اندر تلاطم برپا کررہے تھے۔
کیا آپ سمن سے بے حد پیار کرتے تھے؟ وہ دل پر پتھر رکھ کر پوچھ بیٹھی۔ وہ سوال جس کا جواب سننے کا شاید اس میں حوصلہ بھی نہ تھا۔
پیار؟ شمیل نے عجیب نگاہوں سے لڑکی کو دیکھا۔ نفرت کرتاتھا میں اس سے‘ ہاںہاں نفرتبے انتہا نفرت وہ سرد لہجے میں بولا۔ اس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیاوہ سب جو مجھے پیارا تھا‘ میرے والدین‘ میری بہنیں‘ میری آزادی‘ میرا جنون‘ میری اپنی اولاد اوراور
وہ پھٹ پڑا تھا۔ برسوں کا لاوا ابل ابل کر نکل رہاتھا۔ وہ د م بخود سن رہی تھی۔
اور؟ وہ دھیرے سے بولی۔
اوراور میری تابیسنا تم نے اس نے مجھ سے میری تابی چھین لی۔ میری مصوری چھین لی۔ میری روح چھین لی۔ میر اسب کچھ چھین لیا۔ وہ سب کی نظر میں نازک تھی‘ بھولی تھی‘ معصوم تھی‘ جذباتی تھی اور میںمیں اس کے لئے قربان کردیا گیا مگر میں پھر بھی اسے خوش نہ رکھ سکاآہستہ آہستہ اس کی ہر تلخی زہر بن کرمیری رگوں میں اترگئی۔ وہ کرب میں مبتلا تھا۔ جانتی ہوجانتی ہو میں کتنا ذلیل شخَص ہوں؟ وہ جس دن مری سب افسوس کررہے تھے مجھ سے اور میںمیں نجات محسوس کررہاتھا‘ لعنت ہے مجھ پراف کس قدر گر گیاتھا میں۔ ایک عورت کی ذی روح کی موت پراپنی بیوی کی موت پر‘اپنی شریک حیات کی موت پر غم زدہ ہونے کے بجائے سکون محسوس کررہاتھا میرا بچہ ماں کے سائے سے محروم ہوگیا اور میں وہ تو جیسے اپنے آپ کو سزا دینے پرتلا ہوا تھا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ اس نے میری زندی اجیرن کردی ہے‘ تم کویقین ہے نا بولو تم کو تو مجھ پر یقین ہے ناکہ میں خوودغرض انسان نہیں وہ التجا کررہاتھا۔ تابی صرف اثبات میں سرہی ہلاسکی۔
اس کو ہر اس چیزسے نفرت تھی جو مجھے اس سے کچھ لمحوں کے لئے بھی دور کردیتی تھی۔ میری مصوری سے نفرت تھی۔ وہ میں نے چھوڑ دی۔ میری ہر عادت سے نفرت تھی‘ مجھے اپنا آپ بدلناپڑا‘ میرے بزنس سے چڑ تھی‘ اسے میں نے ہرممکن کوشش کی کہ اس کو زیادہ سے زیادہ وقت دے سکوں‘ حتیٰ کہ اسے میرا میڈو کے ساتھ وقت گزارنا بھی ناگوار گزرتاتھا اور میں نے اپنے بچے کو چھوڑ دیااپنے میڈو سے جداہوگیا اف میں کتنا ناکام انسان ہوں۔ اس نے اپنا سر تھام لیا تھا۔
بس کردیں پلیز شمیل۔ تابی نے بالکل قریب اس کے کندھے کو چھوا۔ شمیل تڑپ کر پرے ہوگیا۔ اس لڑکی کے ہاتھ کا لمس اس کو اس کے لڑکی ہونے کااحساس دلارہاتھا۔اور شمیل یہ سب محسوس نہیں کرنا چاہتاتھا۔ وہ تو کچھ بھی محسوس نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مجھے تنہا چھوڑ دو خدارا چلی جائو یہاں سے۔ تابی گھبرا کرچند قدم پیچھے ہٹ گئی تووہ سنبھل گیا۔
سوریمیرا مطلب تم کوپریشان کرناہرگز نہ تھا۔ تم اوپر کمرے میں چلی جائو اور ریسٹ کرلو۔ وہ کنپٹیوں کو دباتے ہوئے بولا۔
کس کمرے میں؟
اوپرمیڈو کے کمرے سے ذرا آگے والے کمرے میں۔ وہ دھیرے سے زینہ چڑھ گئی۔

اندھیرے میں ڈوبا ہو اکمرہ اس کے سامنے تھا۔
اس نے ٹٹول ٹٹول کر دیوار پرلگے بٹن کو دبایا۔ مدھم سی پیلی روشنی کمرے کے ایک کونے میں پھیل گئی۔ شاید کمرے کے کونے میں اس ہلکی روشنی کے بلب کے اور کوئی بلب نہ تھا۔ تابی اندر بڑھ آئی۔
ایک نظر کمرے کے گرد گھمائی تو دنگ رہ گئی۔
مختلف انداز میں بنائی تصاویر جابجا پورے کمرے میں بے ترتیبی سے بکھری ہوئی تھیں۔ جیسے کسی نے ایک عرصہ سے ان کوچھوا تک نہ ہو۔ ہر چیز پرگردپڑی ہوئی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے شمیل کی دنیا میں قدم رکھنے لگی۔ ہر سیدھی ہوتی تصویر اس کے لئے ایک نیاجہان کھول رہی تھی۔ شمیل نے توجیسے اپنی روح ان تصاویر میں ڈال دی تھی۔ مختلف مناظر یوں تصویر میں ڈھلے ہوئے تھے گویا کسی کے دل کے تمام موسم ان میں اتار دیئے گئے ہوں۔
تابی دم بخود سی ایک ایک تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ یہ سب کیا تھا؟ اگر شمیل اتنی خوبصورت تصاویر بناسکتاتھا تو آج اس کا نام ملک کے مایہ ناز مصوروں میں کیوں نہ تھا۔ اس کی روح کیوں تشنہ تھی؟ وہ اس قدر تلخ کیوں تھا؟ وہ کنفیوز سی آہستہ آہستہ تمام تصاویر سے ہوتی ہوئی کمرے کے کونے تک پہنچ گئی تھی۔ اس کمرے کے حصہ میں کافی اندھیرا تھا۔ وہ شاید اس تصویر کو کبھی دیکھ ہی نہ پاتی اگر اس کاپائوں تصویر کے فریم سے نہ ٹکراجاتا۔اس نے کپڑے سے ڈھکی ہوئی یہ تصویر بھی سیدھی کردی۔
وہ زندگی کا یہ لمحہ کبھی بھول بھی پائے گی کہ نہیں وہ نہیں جانتی تھی۔
پانچ سالہ تابی کی شکل کینوس پرابھر کر عجیب یاس اور درد کامنظرپیش کررہی تھی۔ تصویر نامکمل تھی۔ چہرے کے نقوش واضح نہ تھے۔ بس آنسوئوں کی نمی سے چمکتی آنکھیں پوری وضاحت کے ساتھ پینٹ ہوئی تھیں۔ ایک ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا ہوا تھا۔ باقی تصویر ادھوری تھی۔ وہ دل پرہاتھ رکھے یک ٹک تصویر کو دیکھتی چلی گئی۔ کتنی خوبصورتی سے اس نے پانچ سالہ تابی کی تمام تر حسرتوں کو ان نگاہوں سے ظاہرکردیاتھا۔
کس کی اجازت سے اس کمرے میں آئی ہو تم۔ شمیل کے سخت لہجے پروہ بری طرح چونک کرمڑی۔ الزام دیتی نگاہوں سے وہ خود کو واقعی چور سمجھنے لگی۔
وہمیں
سیدھی کی ہوئی تصویر پراب صاف روشنی پڑرہی تھی۔ پیلے بلب کی روشنی میں تصویر واضح نظرآرہی تھی۔ ادھوری تصویر اب شمیل کی نگاہوں کے سامنے تھی۔
وہ دو قدم اورآگے بڑھ آیا تھا۔
شمیل! آپ نے اتنے خوبصورت شاہکار یوں کیوں چھپا رکھے ہیں؟ یہ تو آپ کے ارمان ہیں‘ آپ کے خواب ہیں کیوں ان کو یوں پس پشت پھینک رکھا ہےکیوں؟ آخر کیوں؟ تابی شمیل کی خاموشی محسوس کئے بنا بولے چلی گئی۔ وہ جوپچھلے اتنے گھنٹوں میں نہ بول پائی تھی اب چپ نہیں رہ سکی تھی۔
شمیل اب بھی اسے عجیب نگاہوں سے گھورے چلا جارہاتھا۔
کیوں ہے یہ سب ایک پردے کی اوٹ میں؟ کیوں ہے یہ ادھوری؟ بتائیں کیوں چھوڑ دیا آپ نے اس کو ادھورا۔ وہ تقریباً چیخ پڑی تھی۔ وہ اب اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ خاموش بہت خاموش۔
بتائیں‘ کیوں چھوڑا ہے آپ نے اس کو ادھورا؟ تابی اپنی تکمیل چاہتی تھی۔ اپنے وجود کا ادھورا پن مکمل کرنا چاہتی تھی۔
تابی؟ وہ اسے گھورے جارہاتھا۔تم تابی ہو؟ وہ ہولے سے بڑبڑایا۔ جیسے اپنے آپ سے پوچھ رہا ہو۔ یکدم تابی کو ہوش سا آگیا۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
تم تابی ہی ہو میری تابی۔ وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔
میں وہ تابی بوکھلا کر رہ گئی۔ مگر وہ سن ہی کب رہاتھا۔ دھند کا دبیز پردہ جیسے یک دم ہی ہٹ چکاتھا۔
یوں میرے بارے میں سب کچھ جاننا‘ مجھے یوں پہچاننا‘ میرے تمام خواب‘ میری تمام حقیقتوں سے واقف اور کون ہوسکتا ہے؟ یہ تم ہی ہوتیرا آئینے جیسا چہرہ‘ یہ نین‘ یہ صورت وہ خودکلامی میں تھا۔ اس کے قریببہت قریب اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اب وہ تھامے کھڑا تھا۔ تم میری تابی ہونا؟ میری گڑیا؟شمیل کی آواز اس کے الفاظ تابی کی روح تک کو سیرا ب کرگئے تھے۔ اس کا تن اور من سب محبت میں پور پور بھیگ رہاتھا۔ وہ مبہوت کھڑی تھی۔
بولو تابیکچھ تو بولو۔ وہ دھیرے سے بولا۔ تابی صرف اثبات میں سرہلا کررہ گئی۔
اوہ میری تابی۔ شمیل نے کھینچ کر تابی کو اپنے سینے میں چھپالیا۔ تابی سمٹ کر رہ گئی مگر وہ کچھ نہیں سوچ رہاتھا۔ اس کی بانہوں میں اس وقت پانچ سالہ تابی تھی‘ شمیل کے لمس میں پاکیزہ محبت کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ تو اپنے ماضی کے سپنوں کواپنی یادوں کے اثاثے کو اپنی بانہوں میں سمیٹے ہوئے تھا‘ اس احساس سے بالاتر ہو کر کہ اس کے سینے سے لگی‘ اس کی بانہوں میں سمٹی وہ ایک لڑکی تھی‘ لطیف اور خوبصورت جذبوں سے گندھی ہوئی لڑکی کوئی پانچ سالہ بچی نہیں۔
اوہ تابی تابیدیکھو تمہارا شمیل کہاں کھوگیا۔ ان راہوںمیں گم ہوگیا‘ تم نے کبھی پکارا کیوں نہیں؟ اگرپکارا ہوتا تو کیا میں تم تک نہ آتا؟ کہاں چلی گئی تھیں مجھے چھوڑ کر؟ بولو؟ کیوں گئی تھی؟ یہ بھی نہ جانا کہ تمہارا شمیل کن حالات سے کن قیامتوں سے گزر گیا۔
وہ تڑپ رہاتھا‘ بلک رہاتھا‘ اپنے زخم اس کے سامنے رکھ رہاتھا۔ ایک عجیب بے بسی کا عالم تھا۔ تابی جنبش بھی نہ کرپائی تھی۔
بہت درد ہوتا ہے تابیبہت درد ہوتا ہے۔ تابی روپڑی۔ وہ ہرچیز سے بے نیاز ساتھا۔ ایک برف کی لہر تھی شمیل کے تمام وجود کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھی۔ ایک سرد چادر اس کے دل کے چاروں اطراف تنی ہوئی تھی۔ اس کو گرمی چاہئے تھی‘ وہ زندگی کی حرارت کی بھیک مانگ رہاتھا۔ تابی اس کے دکھ پر سسک اٹھی تھی۔ وہ شاید بول بول کر تھک گیا تھا۔ اس نے اپنا سر اپنی بانہوں میں سمٹے ہوئے وجود کے سرپررکھ دیاتھا۔ چند لمحے یوں ہی بیت گئے تھے۔ تابی نے کسمسا کر اپنا وجود ہولے سے اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی۔ لاکھ وہ اس کے نسوانی وجود سے غافل تھا‘ مگر وہ تو مجسم لڑکی تھی۔ کب تک یوں بے جان گڑیا کی مانند اس کی بانہوں کے گھیرے میں کھڑی رہتی۔ شرم وگھبراہٹ سے اس کا وجود سنسناہٹ میں مبتلا تھا۔ پورا وجود پسینہ پسینہ ہو رہاتھا‘ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔
آہستہ آہستہ شمیل کو اس کے کانپتے وجود کا احساس ہوا تھا۔ وہ اپنے حواسوں میں لوٹ رہاتھا۔ اس کی بانہوں میں گھرا وجود اب ایک نرم ونازک لڑکی کا روپ اختیار کررہاتھا۔ اس نے لمحے بھر کو تابی پر ایک نگاہ ڈالی اور گھبرا کر اسے چھوڑ دیا۔ اب وہ اس سے دور کھڑا تھا۔ پشت تابی کی طرف کرکے۔ شمیل نے پریشانی سے اپنے الجھے ہوئے بالوں کومزید انگلیوں سے الجھادیا۔
تابی بھی اب شرمندہ شرمند ہ سی نگاہیں جھکائے کھڑی تھی۔
آئی ایم سوری۔ وہ بول رہاتھا۔ تابی خاموش تھی۔ کہنے کو رہا ہی کیاتھا؟
تم نے بتایاکیوں نہیں؟ یک دم وہ پلٹ کر بولا۔ کیا تم بھی باقی سب کی طرح بے حس ہوگئی تھیں؟
میں تم سے پوچھتا رہامگر تمبتائو تابی کیا تم بھی ان سب جیسی بن گئی ہو۔ کیوں چھپایا تم نے مجھ سے اپنا آپ؟ کیوں کیا تم نے ایسا؟ جانے کتنے ہی سال میں نے تمہارا انتظار کیا۔ کتنا عرصہ تم کو اس رات کی رانی کے کنج کے پیچھے چھپے دیکھا۔ کتنا عرصہ اس وقت کاانتظار کیا جب تم وہاں سے نکل کر میری دنیا میں قدم رکھو چاہتاتو تم کوہاتھ تھام کر اپنے تک کھینچ لاتا اور تم چلی آتیں مگر میں چاہتاتھا کہ تم اپنی ذات کی تکمیل کرکے مجھ تک آئو۔ اور آج جب تم نے میرے گھر میں قدم رکھا تو مجھے اتنی بڑی خوشی سے محروم رکھا۔ تم بھی اور سب کی طرح میری اتنی سی خوشی کوپورانہ کرسکیں۔ تم بھی وہ یکدم چپ ہوگیا تھا۔ تابی ششدر سی سب کچھ سن رہی تھی۔ اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ شمیل اس کی موجودگی سے اتنے سال تک آگاہ تھا۔
وہ اب بھی خاموش تھی۔
اب بھی خاموش ہونا کتنی کٹھور ہوتم تم کو کھو کر میں پل پل جیا اور پل پل مرا مگر تم نے محسوس نہیں کیااب بھی میرا امتحان لے رہی ہوکیا؟
نہیں شمیل‘ پلیز ایسے مت بولیں۔ میں آپ کے قابل کہاں تھی۔ وہ سسک اٹھی۔
وہ اب غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ نگاہوں کے زاویے بدلے تو تابی پزل سی ہوگئی۔ تپش کا احساس تابی کے رخسار دہکا گیا۔ بھیگی پلکیں رخساروں پر جھک گئی تھیں۔ چند لمحوں پہلے والی بچپن کی جنونی کیفیت سے نکل کر وہ اب کن نظروں سے اسے تک رہاتھا۔ تابی نے انگلیاں مروڑیں۔
تم کیوں آئیں یہاں؟ ماضی کے دھندلکوں سے نکلا تو اس نے اس کابھرپور سراپا دیکھا۔ گہری جانچتی نگاہیں اب اسے ایک لڑکی کے روپ میں دیکھ رہی تھیں۔ بچپن والی تابی اس نئے روپ میں مدغم ہوچکی تھی۔
وہمیڈو وہ ہکلائی۔
میڈو کانام مت لائوبیچ میں۔ آج جب تم اس رات کی رانی کے پاس آئی تھیں توکیا میڈوکے بارے میں جانتی تھیں؟ وہ جرح کررہاتھا۔
نہیں۔ تابی جھوٹ نہیں بول پائی۔
توپھر جب اتنے سال نہیں آئیں تو پھر آج کیوں آئیں؟ و ہ جانے کیا سننا چاہ رہاتھا۔
میں نہیں جانتی۔وہ بے بسی سے لب کاٹ کررہ گئی۔
تابی۔ وہ مڑ کر اس کی طرف بڑھ آیا تھا۔ محبت لٹاتی نگاہیں تابی کا احاطہ کئے ہوئے تھیں۔ تابی ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔
تابیاوہ میری تابیوہ جذبات سے بوجھل آواز میں سرگوشی کررہاتھا۔ اب میں تم کو کہیں نہیں جانے دوں گا۔ دوبارہ تم کوکھو کر میں زندہ نہ رہ پائوں گاتابی۔ وہ اس کے بہت پاس ہوکربولاتھا۔
شمیل! اس تصویر کو پورا کردیں۔ یہ کب سے ادھوری ہے۔ وہ ہولے سے بولی۔ چہرہ حیا کی لالی سے سرخ تھا۔ شمیل مسکرادیا۔دل ایک دم جھوم سااٹھا تھا۔
کیا مصور کے ساتھ رہ لوگی۔ وہ دونوں پاس پاس بیٹھے تھے۔ شمیل اسے چھیڑ رہاتھا۔
سوچ لو؟ وہ شرارتی ہوا۔
رہ لوں گی۔ تابی ہولے سے ہنسی۔ دونوں یوں تھے جیسے کبھی بچھڑے ہی نہ ہوں۔ بیچ کے بیتے ماہ وسال جانے کہاں گم ہوگئے تھے۔
آہم بدلے میں کیاملے گا۔ ادھوری تصویر مکمل کرنے کے پیسے لگیں گے۔ شمیل شوخ ہوا۔ اچانک دل ایک نئی طرز پر دھڑکنا شروع ہوگیا تھا۔ تابی کے پیار کی حرارت اس کے دل کے گرد جمی برف کو پگھلا گئی تھی۔
وہ تو میں میڈو کو پہلے ہی دے چکی۔ تابی اس کی حیرت پر کھلکھلا کر ہنس دی۔
کیا دے دیا؟ پیسے؟ ارے وہ کب؟ شمیل واقعی حیران ہوا۔
آپ کے دیئے ہوئے پانچ سو روپے میں نے لاکٹ میں رکھے ہوئے تھے۔ وہ نگاہیں جھکا کر بولی۔
کیا؟ وہ تم نے ا ب تک سنبھال کررکھے ہوئے تھے؟ اتناپیار کرتی ہو تم مجھ سے؟ شمیل بے یقینی سے اسے تک رہاتھا۔
عشق کیا ہے میں نے۔ وہ جیسے ہولے سے گنگنائی۔
شمیل نے اس کے نازک سے ہاتھ اپنے مضبوط مردانہ ہاتھوں میں تھام لئے۔
ہوں۔
اپنے احساس سے چھو کر صندل کردو
کہ میں صدیوں سے ادھورا ہوں مجھے پورا کردو

نہ تمہیں ہوش رہے نہ مجھے ہوش رہے
اس قدرٹوٹ کے چاہو کہ پاگل کردو
شمیل کی سرگوشی تابی کے کانوں میں رس گھول رہی تھی!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close